Ayahs 19:16–21ربط آیات :
پہلے رکوع میں حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر ہوا انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے پاس بےموسم پھل دیکھے تو اللہ کی بارگاہ میں اولاد کے لیے درخواست کی حالانکہ وہ جس بڑھانے کو پہنچ چکے تھے وہاں عادۃ اولاد ہونے کا امکان نہیں ہوتا ، اللہ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور یحی (علیہ السلام) جیسا عظیم الشان فرزند عطا کیا جس کا نام بھی اللہ خود تجویز فرمایا اور اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں تھا ۔ آپ کی پیدائش اللہ کی قدرت کا عظیم نمونہ تھی یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے زکریا (علیہ السلام) پر کی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یحی (علیہ السلام) کی حیثیت اور ان کی فضیلت کا ذکر کیا ، اللہ نے آپ کو بچپن میں ہی علم و دانش کی دولت عطا فرمائی آپ اللہ کے اطاعت گزار بندے اور اخلاق عالیہ کے حامل تھے ، انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورے طریقے سے ادا کیا ، ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بشارت سنائی کہ ان پر پیدائش کے وقت ، موت کے وقت اور دوبارہ جی اٹھنے کے موقع پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے ۔
(حیرت انگیز واقعات)
گذشتہ سورة میں اصحاب کہف ، موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) اور سکندر ذوالقرنین کے حیرت انگیز واقعات کا ذکر ہوچکا ہے ، یہ واقعات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے معمولی چیزیں ہیں کیونکہ وہ قادر مطلق ہے اور کوئی بھی کام کرنے پر قدرت رکھتا ہے ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی قادر مطلق ہے اور کوئی بھی کام کرنے پر قدرت رکھتا ہے ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی بھی ساتھ رہی ہے اصحاب کہف نے بھی اللہ کی رحمت کا ذکر کیا ، پھر خضر (علیہ السلام) کے ہاتھ پر جو محیرالعقول واقعات پیش آئے تھے ، آپ نے انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی پر محمول کیا ، اس کے بعد سکندر ذوالقرنین نے جو سد سکندری تعمیر کی ، اسے بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ منسلک کیا ، اس اب اس سورة میں حضرت زکریا (علیہ السلام) یحی (علیہ السلام) حضرت ؓ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حیرت انگیز واقعات کا تذکرہ ہو رہا ہے یہ واقعات بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی کا نمونہ ہیں ۔
ان واقعات کی تفصیل بیان کر کے دواصل اللہ تعالیٰ نے عقیدہ انبیت کا رد فرمایا ہے اور مسئلہ توحید سمجھایا ہے ، شرک کی بدترین قسم خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنے کی خاص طور پر نفی کی ہے آگے حضرت مریم (علیہ السلام) کا واقعہ ہو رہا ہے ، جو کہ دراصل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی تمہید ہے یہ واقعات بعض دوسری سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں خاص طور پر سورة آل عمران تو حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد عمران کے نام پر ہی موسوم ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے خاندان عمران اور مسیح (علیہ السلام) کے متعلق تفصیلات بیان فرمائی ہیں ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) کا تذکرہ)
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی آخر الزمان سے خطاب کرکے فرمایا ہے (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ آپ کتاب میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر کریں ، کتاب سے مراد یہاں قرآن پاک ہے جو کہ حضور ﷺ پر نازل ہو رہا تھا ، لہذا اللہ تعالیٰ نے اسی کتاب میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا واقعہ نازل فرمایا اور اپنی نبی کو اس کا ذکر کرنے کے لیے کہا ، اس سے پہلے یحی (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی کتاب کا ذکر آچکا ہے (آیت) ” ییحی خذالکتب بقوۃ “۔ یعنی اے یحی (علیہ السلام) اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑ لو ، وہاں پر کتاب سے مراد تورات تھی کیونکہ اس دور میں تورات ہی کے احکام نافذ العمل تھے اور حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحی (علیہ السلام) اسی کی تبلیغ و اشاعت پر مامور من اللہ تھے ، تاہم اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم میں باقی کتب سماویہ کی نسبت علوم ومعارف کے زیادہ خزانے موجود ہیں ، یہ کتاب ہر قسم کے تغیر وتبدل سے محفوظ ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اٹھا رکھی ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی جامع ترین کتاب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ۔
مریم کا معنی خادم ہوتا ہے آپ کی والدہ نے منت مانی تھی کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کر دے تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیں گی ، مگر اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی بجائے بیٹی عطا فرمائی تو عمران کی بیوی نے کہا کہ میرے ہاں تو بیٹی پیدا ہوئی ہے (آیت) ” ولیس الذکر کالانثی “ اور بیٹا اور بیٹی برابر تو نہیں ہوتے (آیت) ” وانی سمیتھا مریم “۔ (ال عمران ، 36) اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ، اس نے جو بزرگی ، کرامت اور شرف اس لڑکی کو بخشا وہ عام لڑکوں کو بھی کم نصیب ہوتا ہے ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کتاب میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا تذکرہ کریں ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) کی علیحدگی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اذانتبذت من اھلھا مکانا شرقیا “۔ جب مریم (علیہ السلام) علیحدہ ہوئیں اپنے گھر والوں سے ایک مشرقی مکان میں یہ واقع یروشلم شہر میں ہی پیش آیا مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کی عمر 13 یا 15 سال کی تھی جب آپ کو پہلی دفعہ حیض آیا آپ کو بڑی تشویش لاحق ہوئی حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کے لیے بیت المقدس میں الگ کمرہ مخصوص کر رکھا تھا ، جہاں وہ عبادت و ریاضت میں مصروف رہتیں ، جب انہیں حیض کی شکایت پیدا ہوئی تو ان کو وہاں رہنا ممکن نہ رہا ، چناچہ وہ بیت المقدس سے مشرقی جانب بیت اللحم میں منتقل ہوگئیں ، جہاں مسیح (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی تھی یہ وہی جگہ ہے جس کی طرف رخ کرکے عیسائی نماز پڑھتے ہیں ۔
مشرقی مکان کی مختلف تاویلات کی گئی ہیں ، اس سے بیت المقدس بھی مراد ہو سکتا ہے کہ یہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے اپنے گھر سے مشرقی جانب تھا اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بیت المقدس ہی میں مشرق ہی کے کسی کمرے میں چلی گئی ہوں ، یا پھر بیت المقدس سے باہر ذرا فاصلے پر بھی مشرق کی طرف کوئی جگہ ہو سکتی ہے جہاں حضرت مریم (علیہ السلام) چلی گئیں ، کیونکہ انہیں ایام ماہواری شروع ہوچکے تھے اور انہوں نے غسل بھی کرنا تھا ۔
پھر کیا ہوا ؟ (آیت) ” فاتخذت من دونھم حجابا “۔ انہوں نے گھر والوں سے ورے ایک پردہ لگا لیا تاکہ غسل کرسکیں ، قرآن میں تو صرف گھر والوں سے علیحدگی ہی کا ذکر ہے تاہم مفسرین فرماتے ہیں کہ انہوں نے غسل کرنے کے لیے پردہ لگا لیا ۔
(تنہائی میں فرشتے کی آمد)
جب حضرت مریم (علیہ السلام) بالکل تنہائی میں چلی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فارسلنا الیھا روحنا “۔ ہم نے ان کی طرف اپنا فرشتہ بھیجا روح سے مراد فرشتہ ہے اور روح الامین جبرائیل (علیہ السلام) کا لقب ہے جیسے فرمایا (آیت) ” نزل بہ الروح الامین “۔ (الشعراء 193) قرآن پاک روح الامین کی وساطت سے نازل ہوا ، بہرحال ، اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو حضرت مریم (علیہ السلام) کے پاس بھیجا (آیت) ” فتمثل لھا بشرا سویا “۔ پس وہ ایک مکمل انسان کی شکل و صورت میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے سامنے آکھڑا ہوا (آیت) ” سویا “ سے مراد یہ ہے کہ وہ شکل و صورت ، رنگ ڈھنک غرضیکہ ہر لحاظ سے ایک خوبصورت انسانی شکل میں وارد ہوئے ،
جس طرح جنات کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ جس شکل میں چاہیں متشکل ہو سکتے ہیں اسی طرح فرشتے بھی جس صورت میں چاہیں اپنے آپ کو تبدیل کرسکتے ہیں ، احادیث میں کثرت سے آتا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اکثر آپ کے پاس آپ کے ایک صحابی حضرت دحیہ ابن خلیفہ کلبی ؓ کی شکل میں آتے تھے ، حضرت دحیہ ؓ قبیلہ کلب کے سردار تھے ، بڑے لمبے چوڑے قد کاٹھ کے وجیہہ انسان تھے ، حضور ﷺ نے آپ کو قیصر روم کے پاس اپنا نامہ مبارک دے کر بھیجا تھا ، بہرحال حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دحیہ کلبی ؓ کی شکل میں متشکل ہر کر حضور ﷺ کے پاس آتے تھے ، لوگ سمجھتے تھے دحیہ کلبی ؓ بیٹھے ہیں مگر ان کے جانے کے بعد پتہ چلتا کہ وہ تو جبرائیل (علیہ السلام) تھے اور فلاں آیات نازل ہوئی ہیں ، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا تھا بلکہ بعض اوقات جبرائیل (علیہ السلام) کسی اجنبی شخص کی شکل و صورت میں بھی آتے تھے چناچہ ارکان اسلام والی مشہور حدیث میں آتا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک خوبصورت وجیہہ شکل انسان کی شکل میں آئے ، ان کے کپڑے بالکل سفید اور بالکل سیاہ تھے ، اجنبی ہونے کے باوجود ان پر سفر کے آثار نظر نہیں آتے تھے انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی مجلس میں حضور ﷺ سے گفت و شنید کی اور پھر چلے گئے ان کے جانے کے بعد آپ ﷺ نے بتلایا کہ وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے اور تمہیں دین سکھانے کے لئے آئے تھے ۔
محدث عبد الغنی نابلسی (رح) اور بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت مریم (علیہ السلام) کے سامنے حضور خاتم النبیین ﷺ کی شکل میں آئے تھے ان کا استدلال یہ ہے کہ سویا سے ایسی شخصیت مراد ہے جو پوری نوع انسانی میں ہر لحاظ سے معتدل ہو اور یہ صفت صرف حضور ﷺ میں پائی جاتی ہے کہ آپ اعدل البشر ہیں ، آپ اپنے قوی واعضا اور شکل و صورت میں سب سے زیادہ معتدل ہیں شیخ ابن سینا (رح) کا بھی یہی قول ہے کہ پوری کائنات میں اپنے جسم اور قوی کے اعتبار سے معتدل ترین شخصیت حضور ﷺ کی ہے ، ہر انسان کے قوی کم وبیش ہوتے ہیں کسی میں بلغم کی زیادتی ہوتی ہے اور کسی میں خشکی کی ، کسی میں سودا کا مادہ زیادہ ہوتا ہے تو کسی میں صفرا کا ، مگر حضور ﷺ کے تمام اخلاط معتدل تھے اور اللہ نے آپ کو بہترین شکل و صورت اور معتدل ترین اخلاط پر پیدا فرمایا تھا ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) سے گفتگو)
جب حضرت مریم (علیہ السلام) نے اس تنہائی میں ایک شخص کو اپنے سامنے موجود پایا تو سخت گھبرائیں ، یہ ان کے لیے بڑی آزمائش کا وقت تھا اور آپ کو اپنی عفت و پاکدامنی کا پاس تھا ۔ (آیت) ” قالت “ فورا بولیں (آیت) ” انی اعوذ بالرحمن منک “ میں تجھ سے خدائے رحمن کی پناہ میں آتی ہوں ، (آیت) ” ان کنت تقیا “۔ اگر تو متقی ہے ، یہ محاورہ ایسا ہی ہے ، جیسے کوئی کہتا ہے کہ یہ کام نہ کر اگر تو مومن ہے ، تو مریم (علیہ السلام) نے بھی یہ کہا کہ اگر تو متقی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتی ہوں ، بھلا تو اس تنہائی میں کیسے یہاں آگیا ؟ بعض فرماتے ہیں کہ (آیت) ” ان کنت “ میں ان نافیہ ہے اور اصل میں یہ ہے (آیت) ” ماکنت تقیا “ یعنی تو متقی نہیں ہوتا جو اس تنہائی میں آوارد ہوا بہرحال نفی کا معنی ہو یا اثبات کا مطلب ایک ہی ہے کہ اگر تیرے دل میں خوف خدا ہے تو فورا یہاں سے چلا جا ، اللہ تعالیٰ مجھے اپنی امان میں رکھے حضرت مریم (علیہ السلام) پر گھبراہٹ کا عالم تھا اور اسی حالت میں ان کی زبان سے یہ کلمات ادا ہوئے ۔
اس کے جواب میں ” قال “ فرشتے نے کہا ، (آیت) ” انما انا رسول ربک “ گھبراؤ نہیں ، میں تو تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں ، میں انسان نہیں بلکہ فرشتہ ہوں ، اور میرے یہاں آنے کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لاھب لک غلما زکیا “۔ تاکہ میں تجھے ایک پاکیزہ بچہ عطا کروں مجھے اللہ نے اس کام پر مامور کیا ہے ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو سخت استعجاب ہوا ” قالت “ کہنے لگیں (آیت) ” انی یکون لی غلم “ کہاں سے ہوگا بچہ میرے لیے (آیت) ” ولم یمسسنی بشر “ کیونکہ مجھے تو آج تک کسی مرد نے نہیں چھوا (آیت) ” ولم اک بغیا “۔ اور نہ ہی میں بدکار ہوں ، بچہ پیدا ہونے کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ، کہ یا تو عورت کسی مرد کی منکوحہ ہو اور پھر دونوں کے ملاپ کے نتیجہ میں حمل قرار پائے یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ یہ بدکاری کا نتیجہ ہو ، مگر مریم کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین تو دونوں چیزوں سے پاک تھیں ، لہذا انہیں بچے کی بشارت پر سخت حیرانگی ہوئی کہ میرے ہاں کیسے بچہ پیدا ہوگا ۔ جب کہ اس کے لیے ظاہری اسباب تو موجود ہی نہیں ہیں تب فرشتے نے جواب دیا (آیت) ” قال کذلک “ کہا یونہی ہوگا ، اللہ تعالیٰ کی منشا یہی ہے کہ بغیر ظاہری اسباب کے ہی تمہیں بچہ عطا کرے (آیت) ” قال ربک “ تیرے پروردگار نے فرمایا ہے (آیت) ” ھو علی ھین “ کہ ایسا کرنا میرے لیے بالکل آسان ہے میری قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے کوئی چیز بعید نہیں ، میں ہر چیز کرنے پر قادر ہوں ، لہذا بغیر ظاہری اسباب کے بچہ عطا کرسکتا ہوں ۔
(اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ)
سورة آل عمران میں یہ ذکر آچکا ہے (آیت) ” ان مثل عیسیٰ عنداللہ کمثل ادم “۔ (آل عمران ، 59) اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال حضرت آدم (علیہ السلام) کی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محض مٹی سے پیدا کیا ، جب کہ وہاں انسان کی پیدائش کے لیے روایتی اسباب نہیں تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کی بغیر باپ کے پیدائش پر تعجب کرتے ہو مگر آدم (علیہ السلام) کی پیدائش پر تعجب نہیں کرتے عیسیٰ (علیہ السلام) تو پھر بھی ماں کے بطن سے پیدا ہوئے مگر آدم (علیہ السلام) کے لیے تو یہ ذریعہ بھی موجود نہیں تھا ، نہ ماں نہ باپ بلکہ مٹی کا مجسمہ بنا کر اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونکی اور آدم (علیہ السلام) کو وجود بخشا انسان کی اصل خاکی ہے اور خاک میں عجز ونیاز مندی کا عنصر غالب ہے لہذا انسان کو غرور وتکبر میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے ، انسان کا انسان ہونا ہی اس کے لیے بہت بڑی بات ہے ۔
میرے مالک نے میرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا ، سو مجھے انسان کیا ۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ ملاحظہ کیجئے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کیا ، پھر حضرت حوا ؓ کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے ماں کے واسطہ کے بغیر پیدا فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور نسل انسان کی بقاء کا عام اصول یہ ہے کہ یہ نسل ماں باپ دونوں کے توسط سے آگے بڑھتی ہے خدا قادر مطلق ہے اس نے زکریا (علیہ السلام) کو ایک سو بیس سال کی عمر میں فرزند عطا کیا حالانکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی یہ بھی خدا کی قدرت کا ایک نمونہ اور اس کی رحمت کی ایک نشانی ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ اے مریم (علیہ السلام) ! بغیر کسی مرد کے ہاتھ لگائے تجھے بچہ عطا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے لہذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے ۔
(نشان قدرت)
فرمایا بچہ عطا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے ۔ (آیت) ” ولنجعلہ ایۃ للناس “۔ تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں ، سورة المؤمنوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ “۔ (آیت 50) ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو تمام جہاں کے لیے ایک نشانی بنا دیا ان دونوں کی پوری زندگی کے حالات ہی ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر قائم کردیا ، تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ پر ایمان لائیں فرمایا یہ صرف نشانی نہیں بلیہ (آیت) ” ورحمتہ منا “ ہماری جانب سے مہربانی بھی شامل حال ہے ، حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحی (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی کہ انہیں برگزیدہ بنایا اور ان پر طرح طرح کے انعامات کیے اللہ تعالیٰ نے خود مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ میں بھی کمال درجے کا مادہ ترحم ودیعت فرمایا تھا (آیت) ” وکان امرا مقضیا “۔ اور یہ ایک طے شدہ فیصلہ تھا اللہ تعالیٰ کی حکمت میں یہ طے شدہ بات تھی کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو اس طریقے سے بغیر باپ کے بیٹا عطا کرنا ہے جو کہ اللہ کا جلیل القدر صاحب کتاب رسول ہوگا ۔ اب اگلی آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور دیگر حالات بیان ہو رہے ہیں ۔
Ayahs 19:22–26ربط آیات :
پہلے حضرت مریم (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، پھر جب وہ جوان ہوگئیں ، تو اللہ کی طرف سے فرشتہ انسانی شکل میں متمثل ہو کر تنہائی میں ان کے سامنے آگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کو بڑا استعجاب ہوا اور انہوں نے خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کی ، فرشتے نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا فرستادہ ہوں اور تجھے ایک بچہ عطا کرنا چاہتا ہوں ، اس پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو مزید تعجب ہوا کہ نہ تو ان کا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی مقاربت ، وہ بدکار بھی نہیں ہیں ، تو پھر بچہ کیسے ہوگا ، اللہ تعالیٰ کے فرشتے نے کہا کہ بچہ پیدا کرنا تیرے پروردگار کے لیے نہایت آسان ہے ، وہ قادر مطلق ہے اور ہر چیز کام کرنے پر مکمل اختیار رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے لیے ایک نشانی بنانا چاہتا ہے یہ اس کی مہربانی سے ہوگا جو کہ فیصلہ شدہ امر ہے ۔
(استقرار حمل)
اب آج کی ابتدائی آیت میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے استقرار حمل کا ذکر ہے البتہ درمیان میں ایک چیز محذوف ہے جس کا ذکر سورة الانبیاء میں اللہ نے اس طرح کیا ہے ۔ (آیت) ” فنفخنا فیھا من روحنا “۔ (الانبیاء 91) ہم نے اس میں اپنی روح پھونکی جس سے حمل قرار پا گیا یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قدرت تامہ کا ظہور تھا کہ محض پھونک مارنے سے ح مل ہوگیا ، یہاں پر اسی بات کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” فحملتہ “ پس حضرت مریم (علیہ السلام) حاملہ ہوگئیں ، اب حمل کی مدت کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے ، سات ، آٹھ ، یا نو ماہ کا حمل عام طور پر ہوتا ہے اور عام مفسرین اسی بات کے قائل ہیں کہ حضرت مریم (علیہ السلام) نے حمل کی مدت معمول کے مطابق پوری کی البتہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حمل کی مدت معمول سے ہٹ کر تھی ، ان کی تحقیق کے مطابق نفخہ جبرائیلیہ سے حمل قرار پایا اس کے فورا بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے پیٹ میں بچے کی تصویر بنائی اور چند گھنٹوں کے اندر اندر بچہ مکمل طور پر تیار ہو کر ولادت کے قابل ہوگیا امام جزری (رح) نے المثل السائر میں اس بات کو پوری یقین کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حمل قرار پانے کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزر تھا کہ زچگی کی حالت طاری ہوگئی اور ولادت کا وقت قریب آگیا ، اب حضرت مریم (علیہ السلام) کو طبعی طور پر پریشانی لاحق ہوئی ایسی حالت میں انہوں نے اپنی جائے قیام پر رہنا پسند نہ کیا ، لہذا وہ کسی دور مکان میں چلی گئیں ، تاکہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں ۔
(زچگی کی حالت)
اسی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا (آیت) ” فانتبذت بہ مکانا قصیا “۔ حضرت مریم (علیہ السلام) بچے کو پیٹ میں اٹھائے کسی دور مکان میں چلی گئیں بعض فرماتے ہیں کہ آپ بیت اللحم میں چلی گئیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اسی مقام پر ہوئی تھی اور یہ جگہ بیت المقدس سے آٹھ میل کی مسافت پر ہے ، بعض فرماتے ہیں کہ اپنے مکان سے کہیں دور کسی جنگل یا پہاڑ میں چلی گئیں ، انہوں نے تنہائی کی جگہ تلاش کرلی جہاں کوئی مرد یا عورت نہیں تھی اسی حال میں (آیت) ” فاجاء ھا المخاض الی جذع النخلۃ “ درد زہ نے انہیں کھجور کے ایک تنے کی طرف جانے پر مجبور کردیا ، مخض دراصل پیٹ میں بچے کی حرکت کو کہتے ہیں جب وہ ولادت کے قریب ہوتا ہے ظاہر ہے کہ یہ عورت کے لیے اضطراری حالت ہوتی ہے اور اس حالت میں بعض اوقات عورت اپنے ہاتھوں یا پیشانی کے ساتھ کسی جگہ سے ٹیک لگاتی ہے کیونکہ بچے کی پیدائش کے وقت زور لگتا ہے ، اسی وقت عورت کو بڑی تکلیف ہوتی ہے جسے بعض عورتیں برداشت نہ کرکے موت کے منہ میں بھی چلی جاتی ہیں اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ زچگی کی حالت میں وفات پانے والی ایماندار عورت شہادت کا درجہ پائیگی ، بہرحال دردزہ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو مجبور کیا اور وہ خشک کھجور کے ایک تنے کے پاس چلی گئیں ، آپ پر سخت اضطراری حالت تھی اور اسی حالت میں آپ نے کہا (آیت) ” قالت یلیتنی مت قبل ھذا “ ۔ کاش کہ یہ معاملہ پیش آنے سے پہلے میں مر چکی ہوتی ، (آیت) ” وکنت نسیا منسیا “۔ اور میں بھولی بسری ہوجاتی یعنی میرا نام ونشان تک باقی نہ ہوتا ۔
(موت کی تمنا)
حضرت مریم (علیہ السلام) کی طرف سے یہ موت کی تمنا تھی جو کہ عام حالات میں جائز نہیں ہے ، اس ضمن میں حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیاوی غم کی وجہ سے اضطراری حالت میں ایسی بات زبان سے نکل جانا عیب کی بات نہیں ہے ، تاہم حضرت مریم (علیہ السلام) کے ہاں بچہ کیسے پیدا ہوگیا ، حضرت مریم (علیہ السلام) کا خیال تھا کہ وہ لوگوں کی طعنہ زنی پر صبر نہیں کرسکیں گی ، اور بےصبری بجائے خود ایک مصیبت ہے لہذا اس مصیبت درمصیبت سے بہتر ہے کہ اسے موت ہی آجائے کیونکہ موت واقع ہونے سے بظاہر ہر قسم کی تکالیف ختم ہوجاتی ہے ، اور انسان کسی بات کا مکلف نہیں رہتا ، امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کو اپنی تکلیف کا احساس نہیں تھا اور نہ وہ اس وجہ سے موت مانگ رہی تھیں ، انہیں تو خدا تعالیٰ کا پیغام فرشتے کے ذریعے پہنچ چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس طریقے سے بیٹا عطا کرنا چاہتا ہے لہذا وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر پر راضی تھیں اور وہ سمجھتی تھیں کہ انکامعاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ٹھیک ہے البتہ انہیں فکر اس بات کی تھی کہ لوگ ان پر بلاوجہ طعنی زنی کرکے گناہ میں مبتلا ہوں گے اور آپ نہیں چاہتی تھیں کہ وہ لوگوں کے لیے گناہ کا باعث بنیں ، اس بات کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتی ہے انہوں نے بتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی تھی (آیت) ” رب انھن اضللن کثیرا من الناس “ اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے حالانکہ بت تو بےجان ڈھانچے تھے ، وہ بھلا کسی کو کیا گمراہ کرتے ، دراصل لوگ خود بتوں کی پوجا کر کے اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر گمراہی میں پڑتے تھے ، تاہم اس گمراہی کا سبب تو یہی بت تھے اسی لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا (آیت) ” واجنبی وبنی ان نعبد الاصنام “۔ (ابراہیم ، 35) اے اللہ ! مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے محفوظ رکھ ، بہرحال مقصد یہ ہے کہ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کو گمراہی کا سبب قرار دیا ، اسی طرح حضرت مریم (علیہ السلام) نے بلانکاح بچے کی پیدائش کو لوگوں کے گناہ میں مبتلا ہونے پر محمول کیا اور اس واسطے موت کی تمنا کی تاکہ گناہ میں آلودگی کا سبب ہی ختم ہوجائے ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) کے لیے تسلی)
حضرت مریم (علیہ السلام) کی اس پریشانی کے عالم میں (آیت) ” فنادھامن تحتھا “۔ پس پکارا اس کو نیچے کی جانب سے بعض فرماتے ہیں کہ پکارنے والا وہی فرشتہ تھا جس نے پہلے بچے کی ولادت کی خوشخبری سنائی تھی مگر اب زچگی کی حالت میں وہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے سامنے نہیں آیا تھا ، بلکہ نیچے اوٹ میں رہ کر اس نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو آواز دی (آیت) ” الا تخزنی “۔ کہ اے مریم ، غمگین نہ ہو ، زچگی کی اس حالت میں تمہیں پریشانی ضرور ہے ایسے موقع پر عورتیں پاس ہوتی ہیں جو ضرورت کی اشیاء مہیا کرتی ہیں اور زچہ کی ڈھارس بندھاتی ہیں مگر تو یہاں بالکل اکیلی ہے ، اس لیے تشویش پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ اس تکلیف دہ وقت میں تمہارے پاس خورد ونوش کا بھی کوئی سامان نہیں ہے ، لہذا تمہاری تکلیف بجا ہے مگر تسلی رکھو اور خوف نہ کھاؤ ، جس خدا تعالیٰ نے تمہیں بغیر شادی کے بچہ عطا کیا ہے وہ تمہاری دیگر ضروریات کا بھی ضرور انتظام کریگا لہذا پریشانی کی بات اپنے ذہن سے نکال دو اور غم نہ کھاؤ بعض فرماتے ہیں کہ آواز دینے والا فرشتہ نہیں بلکہ گود سے نیچے اللہ نے خود مسیح (علیہ السلام) کو بلوا کر تسلی کا سامان پیدا کردیا تھا ۔
(خوردونوش کا سامان)
فرمایا غم نہ کھاؤ (آیت) ” قد جعل ربک تحتک سریا “۔ تحقیق تیرے پروردگار نے نیچے ایک چشمہ بنا دیا ہے اس مقام پر بظاہر پانی نہیں تھا مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے قریب ہی ایک خصوصی چشمہ جاری کردیا تاکہ وہ پانی کی ضروریات وہاں سے پوری کرسکیں ، بعض فرماتے ہیں کہ ” تحتھا “ میں ھا کی ضمیرکھجور کی طرف لوٹتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ فرشتے نے کھجور کی نچلی طرف سے آواز دی کہ اللہ نے چشمہ جاری کر کے پانی کا انتظام کردیا ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ سریا کا لفظ چشمہ کے لیے بھی آتا ہے اور سردار کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اگر یہ معنی لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیٹ سے ایک سردار یعنی مسیح (علیہ السلام) کو نکالا ہے لہذا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے تاہم اس مقام پر چونکہ سامان خورد ونوش کی ضرورت تھی اس لیے سریا کا معنی چشمہ ہی زیادہ مناسب حال ہے ۔
پھر فرشتے نے یہ بھی آواز دی (آیت) ” وھزی الیک بجذع النخلۃ “۔ اور اپنی طرح کھجور کے اس تنے کو ہلاؤ اس کا فائدہ یہ ہوگا (آیت) ” تسقط علیک رطبا جن یا “۔ ‘ تمہاری طرف تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گریں گی جن یا اس پھل کو کہتے ہیں جو پک کر برداشت کے قابل ہوجاتا ہے تو فرشتے نے کہا کہ ذرا اس کھجور کے تنے کو ہلاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری خوراک کا بندوبست کردیا ہے ، کھجوریں خود بخود تمہارے پاس آکر گریں گی ، اللہ تعالیٰ نے کھجور جیسی خوش ذائقہ اور مقوی جسم بہترین غذا بھی مہیا فرما دی ۔
(حرکت میں برکت)
اس مقام پر قابل غور یہ امر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور کے تنے کو ہلانے کا حکم کیوں دیا ؟ حالانکہ جو پروردگار معجزانہ طور پر پانی کا چشمہ جاری کرسکتا تھا وہ کھجوریں بھی خود بخود حضرت مریم (علیہ السلام) کے قریب اتار سکتا تھا مگر ہلانے کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی کہ حرکت میں برکت ہے تم تھوڑی سی کوشش کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری خوردنی ضروریات پوری کردے گا اس سے یہ قانون بھی سمجھایا گیا ہے کہ کسی آدمی کو بیکار نہیں رہنا چاہئے بلکہ گزر اوقات کے لیے حتی المقدور کوئی نہ کوئی کام کرنا چاہئے عالم اسباب میں بیکار محض بیٹھ رہنا درست نہیں ہے ۔
فرمایا تنے کو ہلانے سے کھجوریں گریں گی (آیت) ” فکلی “۔ ان کو کھاؤ (آیت) ” واشربی “۔ اور اس چشمے کا پانی پیو تاکہ تمہاری جسمانی قوت بحال ہو نیز (آیت) ” وقری عینا “۔ اس بچے کو دیکھ کر محبت سے اپنی آنکھیں بھی ٹھنڈی کرو ، تمہیں خوش ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ سے کمال درجے کا بچہ عطا کیا ہے جو بےمثال اور خدا کا نبی اور رسول ہے ۔
(چپ کا روزہ)
آگے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو طعن وتشنیع سے بچنے کی ایک ترکیب بھی بتائی (آیت) ” واما ترین من البشراحدا “۔ اگر تم آدمیوں میں سے کسی کو دیکھو تو اس سے کوئی بات نہ کرنا (آیت) ” فقولی “ بلکہ یوں کہنا (آیت) ” انی نذرت للرحمن صوما “۔ کہ میں نے خدائے رحمان کے لیے چپ کا روزہ رکھنے کی نذر مانی ہوئی ہے (آیت) ” اکلم الیوم انسیا “۔ لہذا آج میں کسی سے بات نہیں کروں گی ، مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر روزے کی نذر ماننے کا تو ذکر موجود ہے مگر بذات خود روزے کی نیت کا تذکرہ نہیں ہے ، اس کا جواب یہ فرماتے ہیں کہ نذر ماننے کے حکم میں روزے کی نیت کرنے کا حکم بھی شامل ہے اور مطلب یہ ہے کہ اے مریم (علیہ السلام) ! تم چپ کے روزے کی نیت کرلو ، اور پھر کہہ دنیا کہ میں آج کسی سے بات نہیں کروں گی کیوں میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے صبح سے شام تک یہ روزہ رکھنا ، پھر زچگی کی تکلیف کسی حد تک رفع ہو جائیگی جس میں قوت آئے گی تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرنا۔
چپ کا روزہ پرانی شریعت میں جائز تھا مگر جیسا کہ ابوداؤد شریف مسند امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دوسری کتب حدیث میں یہ حدیث موجود ہے ، ہماری شریعت میں چپ کا روزہ روا نہیں ہے ، اسی طرح صوم وصال یعنی مسلسل کئی کئی دن کا روزہ بھی ہماری شریعت میں جائز نہیں بلکہ ہر روزے کے لیے سحری اور افطاری ضروری ہے ، ابو داؤد شریف کی روایت میں یہ بھی ہے ” لایتم بعد بلوغ “ یعنی بالغ ہوجانے کے بعد یتیمی کا حکم باقی نہیں رہتا ، اسی طرح ہماری شریعت میں چپ کا روزہ بھی جائز نہیں ہے ۔
Ayahs 19:27–33ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر ہوا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال ذکر کیا اور پھر ان کو تسلی بھی دی جنگل یا پہاڑی غار میں ان کو کھانے پینے کی اشیاء اپنی قدرت تامہ سے مہیا کیں ، پھر یہ بھی فرمایا کہ اے مریم (علیہ السلام) اگر کسی شخص سے ملاقات ہوجائے تو کہنا کہ آج کے دن میں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ، لہذا کسی سے کلام نہیں کروں گی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کے مع بچے قوم کے پاس آنے اور مسیح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی ماں کی صفائی بیان کرنے کا ذکر فرمایا ہے ۔
(حضرت مریم (علیہ السلام) قوم کے پاس)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاتت بہ قومھا تحملہ “ پس آئی مریم (علیہ السلام) اپنی قوم کے پاس اپنے بچے کو گود میں اٹھائے ہوئے ، یہاں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ حضرت مریم (علیہ السلام) ولادت مسیح کے بعد کتنا عرصہ تک جائے ولادت پر مقیم رہیں ، البتہ بعض تفسیری روایات میں چالیس دن کا ذکر آتا ہے ، تفسیری روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد حضرت مریم (علیہ السلام) کی ملاقات سب سے پہلے اپنے چچا زاد بھائی یوسف نجار سے ہوئی ، یہ بھی بیت المقدس کے خادم اور صالح آدمی تھے انہوں نے بھی بچے کی پیدائش پر بڑا تعجب کیا اور حضرت مریم (علیہ السلام) سے سوال کیا ، کیا کوئی پودا یا اناج بغیر بیج کے پیدا ہوتا ہے اسی طرح کسی عورت کے ہاں بغیر مرد کے بچہ پیدا نہیں ہو سکتا ، حضرت مریم (علیہ السلام) نے اس کا جواب یہ دیا کہ تمہارا دعوے درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ جو چاہے اور جس طرح چاہے پیدا کرنے پر قادر ہے آخر اس نے دنیا میں پہلا پودا یا پہلا دانہ بھی تو بغیر بیج کے پیدا کیا تھا ، اسی طرح پہلا انسان بھی بغیر ماں باپ کے پیدا ہوا تو اب اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کونسی مشکل بات ہے کہ وہ چیز بغیر ظاہری وسیلہ کے پیدا فرما دے ، بہرحال اس جواب سے یوسف نجار کی تسلی ہوگئی ۔
جب حضرت مریم (علیہ السلام) بچے کو گودی میں اٹھائے اپنے خاندان یا قوم کے پاس آئی تو وہ دیکھ کر سخت پریشان ہوگئے اور سب نے بیک زبان کہا (آیت) ” قالوا یمریم لقد جئت شیئا فریا “۔ اے مریم (علیہ السلام) تو تو ایک اوپری یعنی نادر چیز لے آئی ہے ، کہنے لگے ابھی تک تیرا نکاح تو کسی سے ہوا نہیں پھر تو بچہ کہاں سے لے آئی ، انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا (آیت) ” یاخت ھرون “۔ اے ہارون کی بہن ! (آیت) ” ماکان ابوک امرا سوئ “۔ تیراباپ کوئی برا آدمی تو نہیں تھا (آیت) ” وما کانت امک بغیا “۔ اور تیری ماں بھی کوئی بدکار عورت نہیں تھی ، مگر تو نے یہ کیا گل کھلایا ، تیرے والدین تو نہایت پارسا تھے ان کی نیکی کا ہر طرف چرچا تھا مگر تو نے بدکاری کا ارتکاب کرکے اپنے نیک نام والدین کو بھی بدنام کردیا حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد عمران بیت المقدس کے امام اور نہایت صالح آدمی تھے ، وہ اگرچہ نبی نہیں تھے مگر ان کی نیکی لوگوں میں مسلم تھی ، ان کی والدہ بھی صاحب کرامت تھیں تو لوگوں نے ان نیک ماں باپ کا ذکر کرکے حضرت مریم (علیہ السلام) کو ملامت کی ۔
(ہارون کون تھے ؟ )
یہاں پر حضرت مریم (علیہ السلام) کو ہارون کی بہن کہہ کر خطاب کیا گیا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہارون کون ہیں ؟ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ یمن گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ سے کہا کہ تمہارے قرآن میں ہارون کو مریم (علیہ السلام) کی بہن کہا گیا ہے حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے درمیان تو ایک ہزار سال کا فاصلہ ہے اس وقت حضرت مغیرہ ؓ کو اس کا جواب چونکہ معلوم نہیں تھا ، اس لیے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب حضور ﷺ سے پوچھ کر بتاؤں گا صحیح روایت میں آتا ہے کہ جب اس (1) (قرطبی ص 100 ج 11) (فیاض) بات کا ذکر حضور ﷺ کے پاس ہوا تو آپ نے فرمایا ” انھم یسمون بانبیائھم والصالحین قبلھم “۔ یعنی لوگ اس وقت اپنے انبیاء اور پہلے نیک بزرگوں کے نام رکھتے تھے مطلب یہ کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے بھائی ہارون وہ نہیں تھے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بڑے بھائی اور نبی تھے بلکہ یہ کوئی دوسرے ہارون تھے جن کا نام حضرت ہارون (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا ہے ۔
بعض فرماتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد کا تعلق حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد سے تھا اور دستور یہ ہے کہ کسی سے تعارف کراتے وقت یا ویسے ہی فخریہ انداز میں خاندان کے کسی بڑے آدمی کے نام پر موسوم کیا جاتا ہے ، اس لیے لوگوں نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کی خاندانی نسبت سے حضرت مریم (علیہ السلام) کو ہارون کی بہن کہا ، اس کی مثال قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے (آیت) ” والی عاد اخاھم ھودا “۔ (ھود۔۔۔ 50) ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو مبعوث کیا وہ اس قوم کا بڑا آدمی تھا جو ہود (علیہ السلام) سے ہزاروں سال پہلے گزر چکا تھا مگر اس کی طرف نسبت کرکے آپ کو عاد کا بھائی کہا گیا ، ہوسکتا ہے کہ اس طرح حضرت مریم (علیہ السلام) کو حضرت ہارون کی بہن کہا گیا ہو ، قوم کا مطلب یہ تھا کہ تم اللہ کے جلیل القدر نبی ہارون (علیہ السلام) کی بہن یعنی اس کی اولاد سے ہو مگر تم نے یہ کیا غضب ڈھایا کہ کنواری ہو کر بچہ لے آئی ؟
بعض تاریخی محققین اور بائیبل کے عالم ایک دوسری توجیہہ بھی کرتے ہیں ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اگرچہ عمر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑے تھے مگر مرتبہ چھوٹے بھائی کا زیادہ ہے کہ اللہ نے انہیں کتاب تورات عطا فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) بمنزل وزیر کے تھے ، خلافت کا کام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد تھا اور آپ کے بعد آپ ہی کی نسل میں جاری رہا البتہ مذہبی رسومات اور عبادات کی پیشوائی حضرت ہارون سپرد تھی اور ان کے بعد بھی آپ کی نسل میں منتقل ہوتی رہی ، چناچہ بنی اسرائیل کے جن لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ، اور پھر قبولیت توبہ کے لیے ان کے قتل کا حکم اللہ نے دیا تو اس وقت پوجا نہ کرنے والوں کے ہاتھوں پوجا کرنے والوں کے قتل کی نگرانی بھی حضرت ہارون (علیہ السلام) کے سپرد تھی مطلب یہ کہ عبادات اور مذہبی رسوم کی ادائیگی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل میں چلی آرہی تھی اور اس زمانے میں یہ کام حضرت مریم (علیہ السلام) کے والد عمران کے سپرد تھا جو کہ بیت المقدس کے امام تھے ، اس لحاظ سے بھی حضرت مریم (علیہ السلام) کو ہارون کی بہن کا خطاب درست معلوم ہوتا ہے ۔
(ماحول کا اثر)
ماہرین نفسیات بیان کرتے ہیں کہ انسان میں خاندان اور ماحول کے اثرات کسی نہ کسی حد تک ضرور پائے جاتے ہیں ، خاندان اور برادری یا اردگرد کا ماحول انسان کو ضرور متاثر کرتا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1) (بدوربازغہ ص 41) (فیاض) ” انما الاخلاق بالا حوال لا بالتعلم “۔ یعنی اخلاق ماحول سے پیدا ہوتے ہیں نہ کہ تعلیم سے جن گھروں میں یا گلی محلوں میں گالی گلوچ کی آوازیں آتی ہوں گی ، وہاں کے بچے بھی یہی کچھ سیکھیں گے ، اسی لیے اسلام نے سوسائٹی کو پاک رکھنے کا تاکیدی ، حکم دیا ہے ، جب تک ہمارا ماحول پاک نہیں ہوگا ۔ ہمارے اخلاق نہیں سنور سکتے ، لہذا سوسائٹی کا اچھا ہونا بڑا ضروری ہے ، سورة الفجر کے آخر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فادخلی فی عبادی ، وادخلی جنتی “۔ پہلے میرے بندوں میں شامل ہوجاؤ ، پھر جنت میں داخلہ ملے گا ، مطلب یہ ہے کہ جب تک سوسائٹی اچھے اور نیک لوگوں کی نصیب نہیں ہوگی اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں تو لوگوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ تمہارا خاندان اور سوسائٹی تو اچھی تھی مگر تم نے یہ غلط کام کیوں کیا ۔
(بچے کی شہادت)
مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت مریم (علیہ السلام) بچے کو لے کر مقام زچگی سے گھر کی طرف آرہی تھیں تو وہ لوگوں کے طعن وتشنیع سے سخت خائف تھیں ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی اور اس نے ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ گھبراؤ نہیں جس اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے وہ تمہارے دامن پر دھبہ نہیں آنے دے گا ، چناچہ انہیں تسلی تھی کہ اللہ تعالیٰ کوئی بہتر راستہ نکالے گا ، پھر جب قوم کے لوگوں نے سختی سے باز پرس کی (آیت) ” فاشارت الیہ “ تو مریم (علیہ السلام) نے اس بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ یہ سارا معاملہ مجھے پوچھنے کی بجائے اس بچے سے ہی دریافت کرلو ، اس پر لوگ مزید بدکے کہ یہ ہمیں بیوقوف بنا رہی ہے ” قالو “ کہنے لگے (آیت) ” کیف نکلم من کان فی المھد صبیا “۔ بھلا ہم گہوارے یعنی گود میں پڑے ہوئے بچے سے کیسے کرسکتے ہیں جسے ابھی تک اپنے آپ کا بھی شعور نہیں ہے ۔
ابھی یہ بات چیت ہو رہی تھی ، قال بچہ خود بخود بول اٹھا اور کہا (آیت) ” انی عبداللہ “۔ میں اللہ کا بندہ ہوں ، گویا مسیح (علیہ السلام) نے ماں کی گود میں پہلے ہی جملہ میں توحید باری تعالیٰ کا اعلان کر کے یہود ونصاری کے منہ بند کردیے مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں بعد میں دو انتہائی گروہ معرض وجود میں آئے ، یہودیوں نے تو مسیح (علیہ السلام) کو زانیہ کا بیٹا تک کہہ دیا اور اس طرح ان کی توہین کی ، دوسری طرف نصاری کا گروہ تھا جنہوں نے آپ کو خدا کا بیٹا تجویز کر کے الوہیت کے درجے پر پہنچا دیا اور اس طرح دونوں گروہ گمراہی کا شکار ہوگئے ، حالانکہ اگر غور کرتے تو مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے نکلا ہوا پہلا جملہ ہی حقیقت حال کی وضاحت کے لیے کافی تھا وہ اللہ کے مقرب بندے اور نبی تھے ، نہ تو وہ بدبخت تھے کہ زانیہ کے شکم سے پیدا ہوتے اور نہ وہ الوہیت کے مرتبے پر فائز تھے بلکہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے وہ باعزت تھے ، نہ کہ حقیر ۔
پھر فرمایا (آیت) ” اتنیہ الکتب “۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب یعنی انجیل عطا فرمائی ہے (آیت) ” وجعلنی نبیا “۔ اور مجھے نبی بنایا ہے اگرچہ نبوت کا ظہور اپنے مقررہ وقت پر جا کر ہوگا ، کتاب بھی اللہ تعالیٰ نے اسی وقت آپ کو نہیں دے دی تھی مگر نبوت اور کتاب کا فیصلہ مشیت ایزدی میں ہوچکا تھا جس کو اللہ نے بچپن میں ہی مسیح (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوا دیا اللہ کے دو نبی ایسے ہوئے ہیں جنہیں بچپن میں نبوت عطا ہوئی ، ایک یحی (علیہ السلام) جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور دوسرے مسیح (علیہ السلام) ۔
(بابرکت مسیح علیہ السلام)
اس موقع پر آپ نے چوتھی بات یہ فرمائی (آیت) ” وجعلنی مبرکا “۔ اللہ نے مجھے برکت والا بنایا ہے ، برکت میں تقدس کی زیادتی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور مبارک سے مراد ایسی ہستی ہے جس سے اللہ کی مخلوق کو بہت زیادہ فائدہ پہنچے ” ، وہ معلم الخیر “۔ یعنی خیر کی تعلیم دینے والا ہو اور ” نفاع “ یعنی بہت زیادہ نفع پہنچانے والا ہو ، صاحب کرامت ومعجزات ہو ، یہ سب چیزیں برکت میں داخل ہیں ، اصل میں برکت دہندہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جیسے فرمایا حضرت مریم (علیہ السلام) تبرک الذی بیدہ والمک “۔ (الملک۔ 1) بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں بادشاہی ہے نیز فرمایا (آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (مومنون ۔ 14) بابرکت ہے اللہ کی ذات جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے بہرحال مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے بابرکت بنایا ہے (آیت) ” این ما کنت “۔ میں جہاں کہیں بھی ہوں ، اللہ تعالیٰ کے فضل سے برکت والا ہوں ۔
(نماز اور زکوۃ کی تاکید)
پانچویں بات اللہ تعالیٰ نے بچے کی زبان سے یہ کہلوائی (آیت) ” واوصنی بالصلوۃ والزکوۃ “۔ اللہ نے مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید فرمائی ہے نماز اور زکوۃ دونوں عبادتیں ہیں ، ایک بدنی ہے اور دوسری مالی ، نماز سے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے اور زکوۃ مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی کا ذریعہ ہے جب تک انسان بقید حیات ہے اسے نماز معاف نہیں البتہ زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے جب کوئی شخص مالدار ہو اور اس کا مال نصاب کو پہنچ جائے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تو عمر بھر مکان نہیں بنایا ، نہ ان کے پاس مال واسباب تھا لہذا ان کے زکوۃ ادا کرنے کا تو امکان نہیں تھا البتہ زکوۃ ادا کرنے کی تعلیم آگے دی جاسکتی ہے تاکہ صاحبان نصاب اس کو ہر سال باقاعدگی سے ادا کرتے رہیں ، آگے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق بھی آتا ہے (آیت) ” وکان یامر اھلہ بالصلوۃ والزکوۃ “۔ (مریم ۔ 55) وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے تو اس جملے سے مسیح (علیہ السلام) کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ میں زکوۃ کی ادائیگی کی تلقین کرتا رہوں گا ، اس کے علاوہ نماز خود بھی پڑھونگا اور دوسروں کو بھی پڑھنے کا حکم دوں گا ، زکوۃ کا لغوی معنی طہارت اور پاکیزگی بھی ہوتا ہے اس لحاظ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز پڑھنے اور پاکیزگی اختیار کرنے کی تاکید کی ہے اور میں یہ فریضہ بجا لاتا رہوں گا (آیت) ” مادمت حیا “۔ جب تک زندہ ہوں ۔
(والدین کے ساتھ حسن سلوک)
عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپنے میں چھٹی بات یہ فرمائی (آیت) ” وبرا بولدتی “ میں اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کرنے والا ہوں ، پہلے یحی (علیہ السلام) کے واقعہ میں گزر چکا ہے (آیت) ” وبرا بوالدیہ “۔ (آیت ۔ 14) کہ وہ اپنے ماں باپ دونوں کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور یہاں پر صرف والدہ کا نام ہے کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ ہی نہیں تھا ، چناچہ یہ آیت اس بات پر واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا ، اس کے باوجود بعض گمراہ منجملہ سرسید ، پرویز اور حافظ وزیر آبادی وغیرہ مسیح (علیہ السلام) کا باپ ثابت کرنے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی قدرت ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی اس لیے محض اپنے ڈھکوسلے چلاتے ہیں رہتے ہیں ۔
طبی لحاظ سے بھی کسی شخص کی باپ کے بغیر پیدائش ناممکن نہیں ماہرین طب کہتے ہیں کہ مراد اور عورت دونوں کے مادہ منویہ میں مثبت اور منفی دونوں قسم کے مواد پائے جاتے ہیں اور یہی چیز پیدا ہونے والے بچے میں جنس کی تفریق کرتی ہے ، اگر مرد کی منفی صفت عورت کی مثبت صفت کے ساتھ مل جائے تو بچی پیدا ہوتی ہے اور اگر عورت کی منفی صفت مرد کی مثبت صفت کے ساتھ مل جائے تو بچہ پیدا ہوتا ہے ، اور اگر اللہ تعالیٰ عورت کی مثبت قوت میں اضافہ کر دے تو بغیر مرد سے ملے بھی بچہ پیدا ہو سکتا ہے ، گویا طبی طور پر بھی بغیر باپ کے بچے کی پیدائش عقل سے بعید نہیں ۔
پھر اگلی بات مسیح (علیہ السلام) نے یہ فرمائی (آیت) ” ولم یجعلنی جبارا شقیا “۔ اور اللہ نے مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ، میں ایسا شخص نہیں ہوں جو قول یا فعل سے والدین کی دل آزاری کروں ان کے ساتھ تلخ کلامی یا گالی گوچ پر اتر آؤں ، اس کے برخلاف انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے ، حقوق العباد میں سب سے پہلا حق والدین کا ہے کہ ان سے حسن سلوک کیا جائے گذشتہ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ (آیت 23) اور والدین کے ساتھ احسان کرو ۔
(جدید تہذیب اور والدین)
کتنے افسوس کی بات ہے کہ جدید تہذیب میں والدین کے حقوق بالکل فراموش کر دے گئے ہیں ، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بچے کی پیدائش کا موقع ہے تو عورت کو ہسپتال میں داخل میں داخل کر دو اور والدین بوڑھے ہوگئے تو انہیں دارالامان میں داخل کر دو ، اب اولاد والدین کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ یہ بات انسانی قدروں کے خلاف ہے جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان شفقت و محبت کا رشتہ ختم ہو رہا ہے ، والدین کی خدمت کرنے سے انسان میں اعلی اخلاق پیدا ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے والدین کے قدموں کے نیچے جنت رکھی ہے اس میں شک نہیں کہ جدید تہذیب نے بعد اچھے کام بھی کیے ہیں اور برے بھی مگر پاکیزہ اخلاق وجذبات کا تو جنازہ نکل چکا ہے ، اس تہذیب میں بوڑھے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی قدریں ختم ہوچکی ہیں حالانکہ اللہ نے اپنی وحدانیت کے بعد اسی بات کا حکم دیا ہے ۔
(مسیح (علیہ السلام) کے لیے سلامتی)
مسیح (علیہ السلام) نے اپنی ماں کی گود میں یہ بھی کہا (آیت) ” والسلام علی یوم ولدت “۔ اور سلامتی ہے مجھ پر جس دن کو میں پیدا ہوا (آیت) ” ویوم اموت “۔ اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہوں گا (آیت) ” ویوم ابعث حیا “۔ اور جس دن میں دوبارہ کھڑے کیا جاؤ گا ، انبیاء اور صالحین کے بارے میں سلامتی کا ذکر ہمیشہ ہوتا رہتا ہے ، ہر اچھے کام کی ابتداء میں (آیت) ” الحمد للہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی “۔ کہہ کر اللہ کی تعریف کی جاتی ہے اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے لیے سلامتی کی دعا مانگی جاتی ہے اللہ تعالیٰ ایسی ہستیوں کے دین اور ایمان کو ہر قسم کی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے ، اگرچہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو جسمانی تکالیف ضرور آتی ہیں مگر دینی اعتبار سے وہ ہمیشہ سلامتی میں ہوتے ہیں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس آخری امت کا اولین حصہ سلامتی والا ہے ابتدائے اسلام میں اگرچہ اہل ایمان کو بیحد تکلیف برداشت کرنا پڑیں ، مگر ان کا دین مکمل طور پر سلامت رہا ، اس کے بعد جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ، فتنے ابھرتے رہے ، اخلاق ، بگڑ گئے ، عقیدہ خراب ہوگیا سوسائٹی گندی ہوگئی اور پورا ماحول بد سے بدتر ہوتا چلا گیا غرضیکہ حضور کے فرمان کے مطابق سلامتی کے اعتبار سے امت کا اول حصہ ہی بہتر تھا ، وہ کون سی تکلیف ہے جو اہل ایمان نے اسلام کے اولین دور مکی زندگی میں برداشت نہیں کی ، انہیں ایک لمحہ کے لیے بھی سکون نصیب نہ ہوا مگر دینی لحاظ سے انہیں سوفیصد سلامتی حاصل تھی ۔