Ayahs 19:88–95ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت کو پیش آنیوالے حالات کا تذکرہ بھی فرمایا اور ساتھ ایمان والوں کا انجام بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ کے حضور میں وفد کی شکل میں باعزت طور پر پیش ہوں گے برخلاف اس کے کافر اور مشرک مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کرلے جایا جائے گا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی ۔
(عقیدہ ابنیت)
آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے عقیدہ ابنیت کی تردید فرمائی ہے ، سورة بنی اسرائیل کے آخر میں اور سورة کہف میں بھی یہی تذکرہ ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا “۔ (بنی اسرائیل ، 111) اللہ نے کسی کو اولاد نہیں بنایا نہ حقیقی اور نہ مجازی اس کی نہ تو جنس سے کوئی اولاد ہے اور نہ اس نے کسی کو منہ بولا بیٹا بنایا ہے ، حقیقی اولاد اس لیے نہیں کہ اے نسب باقی رکھنے کا شوق نہیں اور مجازی اولاد اس لیے نہیں کہ اس کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ، وہ قادر مطلق اور تمام قوتوں کا سرچشمہ ہے ، وہ تمام نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے ، لہذا اسے کسی قسم کی اولاد کی بھی حاجت نہیں ، یہ بات سورة کہف کی ابتدائی آیات میں بھی بیان ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے مقاصد میں سے ایک یہ مقصد بھی بیان کیا ہے (آیت) ” وینذر الذین قالو اتخذ اللہ ولدا “۔ (آیت ۔ 4) تاکہ یہ ان لوگوں کو ڈراوے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے پھر پیچھے اسی صورت میں بھی گزر چکا ہے ، (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من ولد سبحنہ “۔ (آیت : 36) خدا تعالیٰ کی ذات اس بات سے پاک ہے کہ ہو کسی کو اپنا بیٹا بنائے اور اس باطل عقیدے میں عیسائیوں کی اکثریت مبتلا ہے کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بتلاتے ہیں اسی طرح یہودیوں کا عزیزی فرقہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتا ہے ، یہ دونوں غلط ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے (آیت) ” ذلک قولھم بافواھھم “۔ (التوبۃ : 30) یہ محض ان کے مونہوں کی باتیں ہیں ، ان میں حقیقت کچھ نہیں ہے مشرکین عرب بھی اس باطل عقیدہ میں ملوث تھے سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے ، یہ عقیدہ ہندوستان کے پرانے مشرکوں میں بھی پایا جاتا تھا ، اور آج بھی ہے دیوی دیوتا کا عقیدہ کم وبیش یہی ہے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، اللہ نے اس باطل عقیدے کا واضح طور پر رد فرمایا ہے ۔
(حجاب سوء معرفت)
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اکثر لوگ تین قسم کے حجابات یعنی حجاب طبع ، حجاب رسم اور حجاب سوء معرفت میں مبتلا رہتے ہیں حجاب طبع یہ ہے کہ انسان مادیت میں ہی پھنس کر اپنے جسم کو ہی سنوارنے میں مصروف رہے اس کے پیش نظر اور کچھ نہ ہو ، حجاب رسم سے مراد یہ ہے کہ انسان قوم ، ملک ، علاقہ ، برادری وغیرہ کے رسم و رواج کا بندہ ہو کر رہ جائے اور آخرت سے بالکل آنکھیں بند کرے ، اس کی فکر ہی نہ ہو ، تیسرا حجاب سوء معرفت ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے مگر غلط طریقے سے ، اسے اللہ کی صحیح معرفت نہیں ہے مثلا یہودونصاری ، ہندو ، سکھ وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کو کسی نہ کسی نام سے پہچانتے ہیں مگر ان کی پہچان صحیح نہیں ہے ۔ (آیت) ” وما قدروا اللہ حق قدرہ “۔ (انعام : 91) انہوں نے اللہ کو اس طرح نہیں پہچانا جس طرح اس کو پہچاننے کا حق تھا یہی حاجت سوء معرفت ہے ،
یہ اسی حجاب کا نتیجہ ہے کہ انسان یا تو شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یا پھر عقیدہ تشبیہہ میں پھنس جاتا ہے شرک یہ ہے کہ اللہ کی کوئی صفت خاصہ مخلوق میں تسلیم کی جائے ، مثلا خدا تعالیٰ علیم کل ہے اگر یہ صفت کسی نبی ولی ، فرشتے یا جن وغیرہ میں مانی جائے گی تو آدمی مشرک ہوجائے گا خدا قادر مطلق ہے اگر یہی صفت مخلوق میں مان کر کوئی یہ کہے کہ فلاں دیوی دیوتا ، پیر یا بزرگ بھی مرادیں پوری کرسکتا ہے تو اس نے گویا خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ کی صفت مخلوق میں ثابت کی اور شرک میں مبتلا ہوگیا ۔
حجاب سوء معرفت کی دوسری شاخ عقیدہ تشبیہہ ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق کی کوئی صفت اللہ تعالیٰ میں ثابت کی جائے مثلا سلسلہ نسب کا قیام مخلوق کی صفت ہے ، اگر یہی صفت اللہ میں مانی جائے کہ اسے بقائے نسب کے لیے اولاد کی ضرورت ہے تو یہ عقیدہ رکھنے والا آدمی مشرک ہوجائے گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن روانہ کرتے وقت ان کے سپرد دو کام کیے ان کا ایک فرض بطور حاکم تھا اور دوسرا بطور مبلغ دین ، اسی تبلیغ کے متعلق حضور ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو نصیحت فرمائی کہ یمن کے یہود و نصاری کو سب سے پہلے توحید و رسالت کی دعوت دینا مسلم شریف کے الفاظ ہیں ” فاذا عرفوا “ یعنی جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں تو پھر انہیں بتلانا کہ اللہ نے ان پر دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، سال بھر میں ایک ماہ کے روزے ہیں ، صاحب نصاب پر سال مکمل ہونے پر زکوۃ واجب ہے اور زندگی بھر میں صاحب استطاعت پر ایک دفعہ بیت اللہ کا حج فرض ہے اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب بھی اللہ کو پہچانتے ہیں ، مگر ان کی پہچان درست نہیں ہے ، انہوں نے خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کی تو کیا پہچانا ؟ اللہ تعالیٰ تو ہر نقص ، کمزوری ، بیوی اولاد اور ایسی ہی دیگر چیزوں سے پاک ہے ، اس قسم کے نجس عقیدہ رکھنے والے کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی ، کامیابی تو جب حاصل ہوگی جب انسان شرک اور شتبیہہ سے پاک خالص توحید کا عقیدہ اختیار کرے گا ۔
(خدا اولاد سے پاک ہے)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقالوا اتخذ الرحمن ولدا “۔ ان مشرکوں نے کہا (ان میں یہود ونصاری اور عرب کے مشرکین سب شامل ہیں) کہ خدائے رحمان نے اولاد بنا لی ہے ، حالانکہ خدا تعالیٰ کی نہ حقیقی اولاد ہو سکتی ہے اور نہ مجازی حقیقی اس لیے نہیں کہ وہ ہم جنس ہوتی ہے ، ہر بچہ اپنے والدین کا ہم جنس اور مرکب ہوتا ہے اگر یہی تصور اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی کرلیا جائے تو پھر وہ بھی مخلوق کی طرح ہو کر بسیط نہیں رہے گا بلکہ حادث ہوجائے گا ، اور ایسی ذات الہ ہونے کے قابل نہیں ہو سکتی لہذا خدا تعالیٰ کے لیے حقیقی اولاد کا عقیدہ رکھنا بالکل کافرانہ عقیدہ ہے ۔
اسی طرح مجازی اولاد کا عقیدہ بھی باطل ہے ، عیسائی کہتے ہیں کہ اللہ نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنا پیارا یعنی بیٹا بنا لیا ہے اور پھر اس کو اختیا ردے دیا ہے کہ جو چاہے کرے ، پھر اس پر مستزاد یہ کہ اللہ کے نبی کو اللہ کا بندہ کہنے سے اس کی توہین ہوجاتی ہے حالانکہ یہ بھی بالکل غلط عقیدہ ہے ، ہر نبی انسان ہوتا ہے جو کہ اللہ کی بہترین مخلوق ہے مگر اس نے اپنی مخلوق میں کسی اعلی وادنی کو کوئی اختیار نہیں دیا وہ ہر کام اپنی مرضی اور ارادے سے کرتا ہے ، سورة سجدہ میں موجود (آیت) ” یدبر الامر من السمآء الی الارض “۔ (آیت : 5) آسمان کی بلندیوں سے لے کر انتہائی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر وہ خود کرتا ہے جو شخص تدبیر میں کسی مخلوق کو خدا کے ساتھ شریک کرتا ہے وہ مشرک یا کافر ہوگیا ، اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے ، وہ خالقیت واجب الوجود ہونے ، تدبیر اور عبادت میں یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں خالق اور واجب الوجود ہونے کو تو مشرک بھی مانتے ہیں یہ کہ صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ، البتہ تدبیر اور عبادت میں یہ لوگ دوسروں کو بھی شریک کرلیتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو بھی کچھ اختیارات دے رکھے ہیں جن کی بناء پر یہ لوگوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں چناچہ شرکاء کو خوش کرنے کے لیے معبودان کی تعظیم کی جاتی ہے ان کو نذرانے پیش کیے جاتے ہیں اور ان کو پکارا جاتا ہے ، اس طرح گویا عبادت میں بھی دوسروں کو شریک کیا جاتا ہے اور مشرک ہونے کی یہی بنیاد ہے ۔
(بدترین کلمہ)
انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے ، فرمایا (آیت) ” لقد جئتم شیئا ادا “۔ یہ تم ایک نہایت ہی ناگوار بات لائے ہو ، خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا بڑی ہی مکروہ بات ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ صابر اور کوئی نہیں ، دیکھو ! لوگ اس کے لیے اولاد جیسا گندا عقیدہ رکھتے ہیں ، مگر اس کے باوجود وہ نہیں فوری طور پر گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے حالانکہ یہ سخت گستاخی کا کلمہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو بےنیاز ہے (آیت) ” یایھا الناس انتم الفقرآء الی اللہ واللہ ھو الغنی الحمید “۔ (فاطر ، 15) وہ تو غنی ہے ، صمد ہے باقی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے ، فرمایا خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا اتنا برا کلمہ ہے (آیت) ” تکادالسموت یتفطرن منہ “۔ کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں ، (آیت) ” وتنشق الارض “۔ اور زمین شق ہوجائے ۔ (آیت) ” وتخر الجبال ھدا “۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں ۔ (آیت) ” ان دعوا للرحمن ولدا “۔ اس وجہ سے کہ یہ لوگ خدائے رحمان کے لیے اولاد پکارتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس قبیح کلمہ کا اتنا شدید اثر ہوسکتا ہے کہ اللہ کا غضب بھڑک اٹھے اور کائنات کی تمام چیزیں درہم برہم ہوجائیں ۔
فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” وما ینبغی للرحمن ان یتخذ ولدا “۔ خدائے رحمان کے لیے یہ بات ہرگز لائق نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے ، نہ تو اسے نسب کی ضرورت ہے اور نہ وہ (نعوذ باللہ) محتاج ہے کہ اسے امداد کی حاجت ہو ، لہذا اس کے لیے اولاد ثابت کرنا کسی طور پر مناسب نہیں ، تمام کائنات کی اللہ کے ساتھ نسبت باپ بیٹھے کی نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی ہے ، اللہ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا ۔
(ایک اشکال اور اس کا جواب)
اس مقام پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے ، سورة ابراہیم میں خبیث کلمہ کی ایک مثال بیان کی گئی ہے (آیت) ” ومثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ ، اجتثت من فوق الارض مالھا من قرار “۔ (آیت : 26) یعنی خبیث کلمے کی مثال خبیث درخت کی ہے جس کی جڑیں زمین کے اوپر ہی ہوں اور اس درخت کو پختگی حاصل نہ ہو ایسا پودا یا درخت معمولی سی ٹھوکر یا آندھی وغیرہ سے اکھڑ جاتا ہے گویا خبیث کلمہ بالکل ناپائدار ہوتا ہے مگر یہاں اس مقام پر اس کی شدت اس قدر بیان کی ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں ، اس تعارض کے متعلق امام محمد بن ابی بکر عبدا القادر رازی (رح) اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة ابراہیم میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کے مقابلے میں کلمہ شرک کو کلمہ خبیثہ کہہ کر اس کا ضعف بیان کیا ہے کہ شرک کی بات بالکل ناپائیدار ہوتی ہے ، اللہ نے ہر باطل بات کی متعلق فرمایا (آیت) ” ان الباطل کان زھوقا “۔ (بنی اسرائیل 81) باطل تو ایک کمزور اور مٹ جانے والی چیز ہے اور استحکام حق کو ہی حاصل ہوتا ہے ۔ البتہ اس سورة میں شرکیہ کلمہ کی شدت کو بیان کر کے درحقیقت اس کی قباحت کو بیان کیا ہے کہ خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا اتنی بری بات ہے کہ اس سے کائنات کا نظام ہی درہم برہم ہوجائے مطلب یہ ہے کہ سورة ابراہیم میں کلمہ خبیثہ کا ایک پہلو بیان کیا گیا ہے اور یہاں پر اس کا دوسرا پہلو خیال کیا گیا ہے ، لہذا دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔
(ساری مخلوق عاجز ہے)
فرمایا (آیت) ” ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا “۔ جو کچھ بھی آسمان اور زمین میں ہے سب اللہ کے سامنے عاجز بندہ ہو کر آئیں گے ، بیٹے اور غلام میں فرق ہے بیٹا مساوی اور ہم جنس ہوتا ہے جب کہ غلام عاجز اور محتاج ہوتا ہے فرمایا اللہ اور بندے کے درمیان عباد اور معبود کی نسبت ہے ، خدا معبود ہے باقی سب عابد ہیں ، وہ قادر ہے یہ اس کے عاجز بندے ہیں ، اور اولاد کا عقیدہ رکھنا اس تعلق کے منافی ہے ۔
فرمایا (آیت) ” لقد احصھم “۔ ہم نے تمام مخلوق کو گھیر رکھا ہے ، اس کا احاطہ کیا ہوا ہے (آیت) ” وعدھم عدا “ اور ہر ایک کو شمار کر رکھا ہے مخلوق کا ہر فرد ، ہر چیز ، اس کا ہر عمل اور نقل و حرکت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس نے شمار کر رکھا ہے جب قیامت کا دن آئے گا تو سب خدائے رحمان کے حضور پیش ہوجائیں گے اور ساتھ یہ بھی وضاحت فرما دی (آیت) ” وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فردا “ قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک خدا کے حضور تنہا پیش ہوگا ، اس دن نہ خاندان ساتھ ہوگا ، نہ برادری ، نہ باڈی گارڈ ہوں گے اور نہ مصاحب ، بلکہ ہر شخص اکیلا حاضر ہوگا ، اور یہ بھی ہے کہ اس دنیا کے لحاظ سے ہر اعلی وادنی کی پیشی برہنی حالت میں ہوگی ، لباس تو آگے چل کر قسمت سے نصیب ہوگا وہاں نفسا نفسی کا عالم ہوگا ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی اس وقت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ماننے والے سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ، بہرحال عقیدہ ابنیت کی تردید اللہ نے مسلسل تین سورتوں میں بیان فرما دی ہے ۔
Ayahs 19:96–98ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اولاد تجویز کرنے والوں کا رد فرمایا کفر کی یہ بدترین صورت ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور غضب کا ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کا غلط عقیدہ رکھنے والوں کو ہم نے شمار کر رکھا ہے پھر قیامت کے دن جب تن تنہا اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو انہیں اس باطل عقیدے کی قباحت کا احساس ہوگا ، اب آگے اللہ نے اہل ایمان کی فضیلت ، مرتبہ اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے اس کے ساتھ ساتھ بعض انعامات کا ذکر بھی کیا ہے جو اہل ایمان کی نصیب ہوتے ہیں ۔
(ایمان اصطلاح قرآن)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے جس طرح کفر ، شرک ، الحاد ، نفاق وغیرہ قرآن پاک کی اصطلاحات ہیں اسی طرح ایمان بھی قرآن وسنت کی ایک اصطلاح ہے ان سب اصطلاحات کے نیچے خاص معانی اور حقائق پائے جاتے ہیں متکلمین ، محدثین اور علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایمان کسی ایسی چیز کی دل سے تصدیق کرنے کا نام ہے جو قرآن وسنت سے قطعی طور پر ثابت ہے جو چیز اجمالی طور پر ثابت ہے اس پر اجمالی طور پر ہی ایمان لانا ضروری ہے اور جو تفصیل کے ساتھ معلوم ہے اس کی تفصیلی تصدیق ضروری ہے اسی کا نام ایمان ہے اور اس کے ارکان کا ذکر قرآن وحدیث میں موجود ہے ۔
(ارکان ایمان (1) توحید)
ارکان ایمان میں سے اولین رکن اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا ہے زبان سے اس کا اقرار اور دل سے تصدیق ضروری ہے بعض ایسے گمراہ لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی تسلیم نہیں کرتے ، ان میں پرویز بھی شامل ہے ایسے لوگ لفظ اللہ کا معنی قانون کرتے ہیں حالانکہ یہ اسم ذاتی ہے اور اللہ کی ذات بےمثال ہے جس طرح اللہ کی ذات پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح اسکی صفات پر ایمان لانا بھی ضروری ہے بعض لوگ اور فرقے اسی نقطہ پر آکر گمراہ ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو موجود ہے مگر اس کی صفت کوئی نہیں ہے مگر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمام صفات کمال کو ثابت کیا جائے ، اللہ تعالیٰ کو تمام اچھی صفات سے متصف کرنا جزو ایمان ہے جب کہ وہ ذات تمام بری صفات سے پاک ہے ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہے نہ تو اس کی ذات میں کوئی شریک ہے نہ اس کی عبادت میں اور نہ اس کی صفات میں کوئی دوسرا شریک ہے ، اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کو بھی اس کا ہم پلہ سمجھے یا اس کی صفات اور عبادت میں کسی کو شریک سمجھے تو وہ ایمان سے خالی ہوگیا اس نے گویا ایمان کی اولین شرط کو ہی پورا نہیں کیا ۔
ّ (2) (رسالت)
ایمان کا دوسرا رکن رسالت پر ایمان لانا ہے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور خاتم النبیین ﷺ تک بہت سے نبی اور رسول مبعوث فرمائے ہیں یہ انسان ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو معصوم بناتا ہے ، ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہونے دیتا ، ان پر وحی کا نزول بہت بڑا اعزاز ہے ہمارا ایمان یہ ہے کہ (آیت) ” لانفرق بین احد من رسلہ “۔ (البقرہ : 285) ہم ان میں سے کسی میں بھی تفریق نہیں کرتے ، ہمارا سب پر ایمان ہے البتہ تفصیلی طور پر حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان ہے کہ جن پر سلسلہ نبوت ختم ہوچکا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں جس کے رکھنے سے قصر نبوت مکمل ہوگیا آپ نے فرمایا ” انقطعت النبوۃ ولا رسول بعدی “۔ نبوت ختم ہوچکی ہے اب میرے بعد اور کوئی رسول نہیں آئے گا ، قرآن پاک میں بھی آپ کو کو (آیت) ” خاتم النبین “۔ (الاحزاب ، 40) کا خطاب دیا گیا ہے تو رسالت پر ایمان لانا بھی ارکان ایمان میں سے ہے ۔
(3) (ملائکہ)
ملائکہ خدا تعالیٰ کی مجرد اور معصوم مخلوق ہے ، خدا تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان ملائکہ کا توسط ہے ، ان میں سے بعض کا مادہ تخلیق بہت لطیف نور ہے اور بعض اس سے کم تر ہیں ، فرشتوں کے مختلف طبقات ہیں ، جیسے ملاء اعلی کے فرشتے علیین کے فرشتے ، حاملین عرش حافین حول العرش ، پھر آسمانوں کے فرشتے اور پھر بحر وبر کے فرشتے ، اس دنیا میں فرشتے نظر نہیں آتے ، البتہ قیامت کو نظر آئیں گے ، ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1) (حجۃ اللہ لابالغہ ص 23 ، ج 1) (فیاض) کہ اللہ نے ملائکہ کو بنی نوع انسان کی مصلحت کے لیے انسان کی پیدائش سے کروڑوں اور اربوں سال پہلے پیدا کیا ، جبرائیل ، میکائیل وغیرہ فرشتوں کی پیدائش کے متعلق تو ہم تحدید نہیں کرسکتے کہ یہ کب پیدا ہوئے خدا تعالیٰ ازل میں جانتا تھا کہ نوع انسانی کی مصلحت فرشتوں پر موقوف ہے ، فرشتے وجود رکھتے ہیں ان میں روح بھی پائی جاتی ہے ان میں کمائی درجے کی عقل ہوتی ہے ، سرسید ، علامہ مشرقی ، اسی نکتے پر آکر گمراہ ہوئے انہوں نے فرشتوں کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا کہتے ہیں کہ اچھی صفت کا نام فرشتہ اور بری صفت کا نام شیطان ہے ۔ فرشتے ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں اور ایک لمحہ کے لیے بھی فرائض و عبادت سے غافل نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان کیا ہے (آیت) ” یسبحون الیل والنھار لا یفترون “۔ (الانبیاء ، 20) وہ رات دن اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں مگر تھکتے نہیں ، ان کے مقابلے میں اللہ نے انسان کو کمزور اور تھک جانے والا بنایا ہے سورة النساء میں موجود ہے (آیت) ” وخلق الانسان ضعیفا “۔ (آیت ۔ 28) بہرحال فرشتے اللہ کی معصوم مخلوق ہیں جن میں نہ معصیت کا مادہ ہے اور نہ شہوت کا انسانوں کی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کے انعام واکرام کے طالب ہوتے ہیں ان پر ایمان نہ لانے والا کافر شمار ہوگا ۔
(4) (کتب سماویہ)
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں پر چھوٹے صحیفے اور بڑی کتابیں نازل فرمائی ہیں ، امام شافعی (رح) کے قول کے حوالے سے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کل چار بڑی کتابیں اور سو صحیفے نازل فرمائے ہیں کتابوں میں زبور ، تورات ، انجیل اور قرآن حکیم ہیں جب کہ قرآن میں ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) سلیمان (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) کے صحائف کا ذکر ملتا ہے بہرحال اللہ نے ابتداء سے لیکر حضور خاتم النبیین تک جتنی بھی کتب اور صحائف نازل فرمائے ہیں سب پر ایمان لانا ضروری کہے وہ برحق ہیں اور اللہ نے انہیں انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے قرآن پاک کے علاوہ باقی کتب وصحائف پر اجمالی ایمان لانا کافی ہے جب کہ قرآن پاک کے ہر ہر لفظ اور ہر ہر کلمے کو ماننا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک لفظ یا کسی ایک حکم کا انکار کرنے سے ایمان سلب ہوجائے گا ۔
(5) (یوم اخرت)
اس کے بعد قیامت کے دن پر ایمان لانا بھی ارکان ایمان میں سے ہے ، قرآن پاک میں اس کا ذکر (آیت) ” بالیوم الاخر “۔ کے نام سے بار بار آیا ہے ، قیامت کا دن اس جہاں کا آخری دن (LAST DAY لاسٹ ڈے) ہوگا ، جب ہم قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں ، مثلا مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ، پل صراط پر سے گزرنا ، حساب کتاب کی منزل ، میزان کا قیام وغیرہ ، حدیث میں آتا ہے کہ ہر انسان کو محاسبے کے عمل سے گزرنا ہوگا ، اس کو نیکی اور بدی کا پھل ملے گا جزا اور سزا کی جگہیں جنت اور دوزخ برحق ہیں ۔
اگرچہ آخرت کا دن بحیثیت مجموعی قیامت کا دن ہی ہے مگر انفرادی طور پر آخرت کا سلسلہ انسان کی موت کے ساتھ ہی شروع ہوجاتا ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے (1) (مرقاۃ شرح مشکوۃ ص 234 ج 1) (فیاض) ” من مات فقد قامت قیمتہ “۔ جو شخص مر گیا ، اس کی قیامت تو برپا ہوگئی ، عالم برزخ میں قبر عقبی کی پہلی منزل ہے آدمی کی موت کے ساتھ ہی مادی جہاں ختم ہو کر دوسرا جہاں شروع ہوگیا چناچہ قبر کا عذاب بھی برحق ہے مسلمہ عقیدے کی کتاب فقہ اکبر میں موجود ہے ” عذاب القبر حق “ ۔ یعنی قبر کا عذاب برحق ہے جو گنہگاروں کو ہوگا ان سب چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ، عذاب قبر کا انکار کرنے والے معتزلہ اور دوسرے فرقے گمراہ ہیں۔
(خلاصہ ایمان )
خلاصہ ایمان یہ ہے کہ قرآن وسنت سے یقینی طور پر ثابت چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے گویا توحید ، رسالت ، ملائکہ ، کتب سماویہ ، یوم آخرت ، تمام فرائض اور شریعت پر ایمان لانا ضروری ہے ، ایمان زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کا نام ہے کوئی شخص محض علم سے مومن نہیں ہوسکتا ، اس وقت دنیا میں بڑے بڑے سکالر موجود ہیں جو بیشمار چیزوں کو جانتے ہیں مگر وہ مومن نہیں کیونکہ وہ انکی تصدیق نہیں کرتے اسی طرح محض پہچاننے سے بھی آدمی مومن نہیں ہوسکتا ، یہودی اللہ کے آخری نبی کو اس کی نشانیوں سے پہچانتے ہیں جو انکی کتابوں میں موجود ہیں ، وہ قرآن کو بھی پہچانتے ہیں کہ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے مگر ان کی تصدق نہیں کرتے لہذا یہ بھی مومن نہیں تو ایمان قرآن کی اصطلاح ہے جو ان تمام چیزوں پر حاوی ہے جن کا میں نے اجمالا ذکر کردیا ہے ۔
(اعمال صالحہ)
فرمایا بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے (آیت) ” وعملوالصلحت “ اور انہوں نے نیک اعمال انجام دے ، نیک اور اچھے اعمال وہ ہیں جن کو قرآن اور شریعت اچھا کہتی ہے اور عقل سلیم جن کو مانتی ہے ، مثلا عبادات میں نماز ، روزہ ، حج زکوۃ ، اچھے اعمال ہیں اس کے علاوہ جہاد فی سبیل اللہ اسلام کی تبلیغ ، بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی صدقہ خیرات وغیرہ اچھے امور ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان لوگوں کی بڑی تعریف فرمائی ہے جو غرباء مساکین کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں (آیت) ” الذین ینفقون فی السرآء والضرآء “۔ (ال عمران ، 134) جو خوشحالی اور تنگدستی میں بھی خرچ کرتے رہتے ہیں ، علاوہ ازیں غلاموں کی آزادی بنی نوع انسان کو بداخلاقی اور بدعقیدگی سے بچانا وغیرہ سب نیک کام ہیں تاہم بنیادی طور پر عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ زکوۃ ، اور حج اعمال صالحہ ہیں ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایمان کے بعد جو شخص یہ اعمال انجام دے گا وہ جنت میں داخلہ کا مستحق ہے (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ “۔ الانبیاء 94) جو شخص نیک اعمال انجام دے گا بشرطیکہ وہ ایمان دار ہو ، عقیدہ فاسد نہ ہو ، کفر ، شرک نفاق ، الحاد میں ملوث نہ ہو تو اس کے اعمال کی قدر کی جائے گی ۔
(محبت کا انعام)
فرمایا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیے ، ان کا انعام یہ ہے (آیت) ” سیجعل لھم الرحمن ودا “۔ ان کے لیے خدائے رحمان عنقریب محبت کا سامان بنا دے گا ، ود کا معنی محبت ہے اور اسی لحاظ سے ودود خدا تعالیٰ کا صفاتی نام ہے یعنی محبت کرنے والا اس کی تفسیر میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو ایسی چیزیں عطا کرے گا جن سے وہ محبت کرتے ہیں یعنی جو چیزیں انہیں پسند ہیں ، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کے لیے دوسروں کے دلوں میں محبت ڈال دے گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی محبت ڈال دے گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل سے فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں ، پھر وہ دوسرے فرشتوں کے سامنے اعلان کرتے ہیں تو وہ بھی ایسے شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔ پھر وہی جذبہ زمین پر آتا ہے تو زمین پر موجود تمام باصلاحیت لوگ بھی ایسے شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں ، بعض کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جب اللہ تعالیٰ کسی نافرمانی کو مبغوض سمجھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے فرماتا ہے کہ میں اس شخص سے بغض رکھتا ہوں لہذا تم بھی اس سے بغض رکھو پھر یہی چیز نیچے زمین پر آتی ہے تو تمام باصلاحیت لوگ بھی ایسے نافرمان سے بغض رکھتے ہیں ۔
بہرحال محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے اللہ کریم نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی محبت کس طرح لوگوں کے دلوں میں ڈالی ہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین جب بیرونی سفر پر جاتے تھے تو عیسائی قومیں ان کے لیے اپنے شہروں کے دروازے کھول دیتی تھیں مسلمانوں کی عبادت کا طور طریقہ اور ان کا عدل و انصاف دیکھ کر غیر مسلم بھی ان سے محبت کرتے تھے جب مصر پر مسلمانوں کا حملہ ہوا تو انہوں نے آگے بڑھ کر استقبال کیا اور مسلمانوں سے کہ ہم تم سے جنگ نہیں کریں گے جب مسلمان کسی جگہ قیام کے بعد وہاں سے جاتے تو تو وہاں کے لوگ روتے تھے کہ ایسے اچھے لوگ ہم سے جدا ہو رہے ہیں غرضیکہ اللہ نے ان کے دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی محبت ڈال دی تھی اور جن کے دلوں میں خدا کی محبت پڑجاتی ہے وہ بھی کمال درجے کے لوگ ہوتے ہیں ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ میں اور میری والدہ مسلمان ہونے کے بعد چار سال تک حضور ﷺ کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم کرتے رہے ، پھر آپ سے عرض کیا حضور ﷺ ہمارے حق میں دعا فرمائیں ، آپ نے دعا فرمائی اے اللہ مومنین کے دل میں ابوہریرہ ؓ کے لیے محبت ڈال دے ابوہریرہ ؓ کا اپنا بیان ہے کہ حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے جو مومن مجھے دیکھتا مجھ سے محبت کرتا ، ہمارے لیے بھی حکم ہے کہ جب کسی بستی میں جائیں تو یوں دعا کریں ، ” اللھم حبب صالحیھا الینا وحببنا الیھم “۔ اے اللہ ! اس بستی کے نیک لوگوں کے لیے ہمارے دلوں میں محبت ڈال دے اور ان کے دلوں میں ہمارے لیے محبت پیدا کر دے ، اور محبت کا معیار یہ ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت ہوگی وہ ضرور نیک لوگوں سے محبت کریں گے ، اور جو خدا کی محبت سے خالی ہوں گے وہ نیک لوگوں سے بغض رکھیں گے ، کافر چونکہ خدا کی محبت سے محروم ہوتے ہیں اس لیے وہ انبیاء اور صالحین سے بغض رکھتے ہیں ، بہرحال نیک لوگوں کے لیے محبت خدا تعالیٰ کی طرف سے انعام ہے ۔
(قرآن عربی زبان میں)
اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” فانما یسرنہ بلسانک “۔ بیشک ہم نے اس قرآن پاک کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے حضور ﷺ عربوں میں پیدا ہوئے اور آپ کی مادری زبان عربی تھی حضور ﷺ کی ولادت سے تقریبا ڈیڑھ ہزار سال پہلے عربی زبان اپنے عروج پر تھی ، یہ انتہائی مختصر مگر فصیح زبان ہے جس میں دقیق سے دقیق مضمون بھی ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس میں بلند درجے کی شاعری پائی جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ بھی اس زبان کو فوقیت عطا فرمائی ہے ، یہ زبان ہمارے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن کریم اپنے آخری نبی کی مادری زبان عربی میں نازل فرمائی جس کو ہم صبح وشام پڑھتے ہیں ، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے محبت کیا کرو کیونکہ میں بھی رسول عربی ہوں اور قرآن پاک بھی عربی زبان میں ہے ۔
(تبشیر وانذار)
فرمایا قرآن پاک کو عربی زبان میں آسان کرنے کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لتبشربہ المتقین “۔ تاکہ آپ اس کے ذریعے متقین کو بشارت سنا دیں (آیت) ” وتنذر بہ قوما لدا “ اور آپ اس کے ذریعے جھگڑالو قوم کو ڈرا دین حضور ﷺ کے اولین مخاطبین عرب کے کفار ومشرکین جو سخت جھگڑالو قسم کے لوگ تھے تاہم جھگڑالو قوم میں یہودی اور عیسائی بھی داخل ہیں یہ بھی گذشتہ چودہ سو سال سے جھگڑا ہی کرتے چلے آرہے ہیں جو مسیح (علیہ السلام) کے نزول تک جاری رہے گا ، بہرحال دنیا کی ہر جھگڑالو قوم کی قرآنی تعلیمات کے ذریعے انذار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
(سابقہ اقوام کی ہلاکت)
فرمایا یہ لوگ کس خیال میں پڑے ہوئے ہیں ، جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آتی ہے تو پھر نافرمان بچ نہیں سکتے ، ذراز پر نی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں (آیت) ” وکم اھلکنا قبلھم من قرن “۔ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا یہ لوگ کفر وشرک میں پڑے ہوئے تھے اور غرور وتکبر میں مبتلا تھے لہذا ہماری گرفت سے بچ نہ سکے اور ہلاک ہوئے (آیت) ” ھل تحس منھم من احد “۔ کیا تم ان میں سے کسی ایک کو بھی محسوس کرتے ہو ؟ ان نے صرف کھنڈرات باقی ہیں یا تاریخ میں ان کا نام آتا ہے وگرنہ ان میں سے کوئی فرد واحد بھی باقی نہیں رہا اللہ نے سب کو ملیا میٹ کردیا ، سورة سبا میں ہے (آیت) ” فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق “۔ (آیت ۔ 19) ہم نے ان کے افسانے بنا دیے ، قصے کہانیوں میں ان کا ذکر ملتا ہے اور بالکل ریزہ ریزہ کردیا کہ ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہا ، یہ کلدانی ، بابلی ، قدیم مصری ، قدیم چینی ہڑپہ موہنجوڈرو اور ٹیکسلا والے الورا اور ایجنٹا کی تہذیبوں والے سب تباہ وبرباد ہوئے ، فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کو ذرا بھی محسوس کرتے ہیں (آیت) ” اوتسمع لھم رکزا یا ان کی کوئی معمولی سی بھنک یا اواز بھی سنتے ہیں ؟ ہم نے اس طرح فنا کردیا ہے کہ ان کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ، جب ان اقوام کا یہ حال ہوا تو عرب کے کافر ومشرکین کس کھاتے میں ہیں اگر یہ بھی انکار پر اصرار کرتے رہے اور اہل ایمان کو ستاتے رہے ، تبلیغ دین کے راستے میں روڑے اٹکاتے رہے تو ان کا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا ۔