Ayahs 19:34–40ربط آیات :
گذشتہ آیات میں حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا اور پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کی غیر معمولی طریقے سے ولادت کا بیان آیا ، اس ضمن میں حضرت مریم (علیہ السلام) کی پریشانی کا حال بیان ہوچکا ہے پھر ہو اپنے بچے کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئیں تو انہوں نے سخت طعن ملامت کی کہ تیرے والدین تو بڑے صالح لوگ تھے ، تم یہ بغیر نکاح کے بچہ کیسے لے آئی حضرت مریم (علیہ السلام) نے خود جواب دینے کی بجائے بچے کی طرف اشارہ کی کہ سارا معاملہ خود اسی سے پوچھ لو ، اللہ نے بچے کو قوت گویائی عطا فرمائی تو بچہ نے بول کر کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنا کر بھیجا ہے ، مجھے نماز اور زکوۃ کی تاکید کی گئی ہے میں اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کرنے والا ہوں ، مجھ پر سلامتی ہے پیدائش کے دن ، ، موت کے دن اور دوبارہ اٹھانے کے دن ۔
(عیسی ابن مریم ؓ)
یہاں تک کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام تھا اب اگلی دو آیات میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت پر خود اللہ تعالیٰ نے تبصرہ کیا ہے اور اس کے بعد پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کا بیان ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ذلک عیسیٰ ابن مریم “۔ یہ ہیں عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) جنہوں نے گذشتہ آیات میں اپنا تعارف خود کرایا ہے کہ وہ عیسیٰ ابن مریم ہیں آپ کے ابتدائی دور میں بھی لوگ آپ کو اسی نام سے پکارتے تھے اس کی مثال سورة مائدہ میں موجود ہے کہ آپ کے حورایوں نے آپ کو اسی طرح خطاب کیا (آیت) ” اذ قال الحواریون یعیسی ابن مریم “۔ (آیت 12) اور قیامت کو بھی آپ کو اسی نام سے پکارا جائے گا (آیت) ” واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم “۔ (آیت 116) اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ وجہ یہی ہے کہ آپ کی پیدائش میں والد کا توسط نہیں ہے اور آپ صرف حضرت مریم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قول الحق الذی فیہ یمترون “۔ سچی بات یہی ہے جس میں لوگ جھگڑا کرتے ہیں ، جھگڑا کرنے والے انتہائی درجے کے دو گروہ پیدا ہوگئے یہودیوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اور حضرت مریم (علیہ السلام) کو متہم کیا ، انہیں دجال ، کذاب اور مفتری تک کہا اس کے برخلاف نصاری نے آپ کو تعریب میں مبالغہ کرکے الوہیت کے درجے تک پہنچا دیا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں گروہ گمراہ ہو کر جہنم واصل ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ تو قابل ملامت ہیں اور نہ وہ خود خدا ہیں بلکہ حق بات یہ ہے کہ وہ مریم (علیہ السلام) کے بیٹے اور اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ انہوں نے خود اقرار کیا (آیت) ” انی عبداللہ “ کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، خود اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو یہی خطاب دیا (آیت) ” ان ھو الا عبد انعمنا علیہ ‘۔ (الزخرف ، 59) وہ ایک بندے تھے جن پر ہم نے انعام کیا ، غرضیکہ مسیح (علیہ السلام) کی صحیح حیثیت یہی ہے کہ وہ اللہ کے بندے تھے ، اس سے ان دونوں انتہا پسند فرقوں کا رد بھی ہوگیا ۔
(اولاد سے پاک اللہ)
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من ولد “۔ اللہ کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کوئی اولاد بنائے ، اس کی ذات ایسی کمزوریوں سے پاک ہے اللہ کی نہ تو حقیقی اولاد ہے اور نہ مجازی حقیقی اولاد جنس سے ہوتی ہے ، اگر خدا کی اولاد مانی جائے تو پھر خدا کی جنس بھی ماننی پڑے گی (الیعاذ باللہ) اس طرح خدا تعالیٰ قدیم نہیں رہے گا بلکہ مرکب ہو کر حادث ہوجائے گا حالانکہ خدا تو غیر مرئی ہے ، قدیم اور ازلی ہے اور اس کی کوئی جنس نہیں تو گویا خدا کی حقیقی اولاد نہیں تسلیم کیا جاسکتی ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی مجازی اولاد بھی نہیں مانی جاسکتی ، مجازی اولاد کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا بنا لیا ہے اور اس کو تصرف کا اختیار دے دیا ہے اب اس کو اختیار ہے کہ لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتا پھرے حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے کسی کو متصرف فی الامور نہیں بنایا ، تمام امور کا تصرف وہ خود کرتا ہے وہ خود تدبیر کنندہ ہے کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام ہو یا بڑی سے بڑی سکیم وہ ہر کام براہ راست خود کرتا ہے لہذا یہ مجازی اولاد اور تصرف والا عقیدہ بھی مشرکانہ عقیدہ ہے ۔
یہ غلطی لوگوں کو اس وجہ سے ہوئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرلیا دنیا کے حکام اعلی ، صدر یا بادشاہ ، انتظامی امور کے لیے اپنی گورنر یا نائب مقرر کرکے انہیں بعض اختیارات تفویض کردیتے ہیں تاکہ امور سلطنت خوش اسلوبی سے انجام دیے جاسکیں برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ، مختار ازلی ، قدیم اور بےمثل ہے ، وہ ہر کمزوری اور عیب سے پاک ہے اسے کسی کام کے انجام دینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی ، لہذا وہ احتیاج سے بھی پاک ہے تو ایسی صورت میں اسے اپنا نائب بنانے اور اختیارات تفویض کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ اولاد بقائے نسل کے لیے ہوتی ہے انسان فطرتی طور پر یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ اس کے بعد اس کی نسل قائم رہے مگر اللہ تعالیٰ کو نہ تو کوئی احتیاج ہے اور نہ اسے بقائے نسل کی ضرورت ہے ، وہ خود ازلی اور ابدی ہے ، نہ اس پر فنا ہے اور نہ اسے بقائے نسل کی ضرورت ہے لہذا اللہ تعالیٰ کی اولاد تجویز کرنا لاحاصل ہے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ اولاد ضعف ، بڑھاپے اور بیماری میں خدمت کرتی ہے ، انسان اس بات کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ مشکل وقت میں اس کی اعانت کرنے والا کوئی ہو ، مگر اللہ تعالیٰ ان تمام نقائص سے مبرا ہے نہ اس پر ضعف طاری ہوتا ہے ، نہ بڑھاپا اور نہ وہ نعوذ باللہ بیمار ہوتا ہے لہذا ان کاموں کے لیے نہ وہ محتاج ہے اور نہ ہی اسے اولاد کی کوئی ضرورت ہے وہ تو خود غنی ہے جب کہ باقی ساری مخلوق اس کی محتاج ہے (آیت) ” واللہ الغنی وانتم الفقرآء “۔ (محمد۔ 38) ” سبحنہ “ اسکی ذات پاک ہے وہ بےنیاز ہے (آیت) ” اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون “۔ جب وہ کوئی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے ، ہر کام اس کے قبضے اور اختیار میں ہے تو جب چاہے اور جیسے چاہے اسے انجام دے ، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی ، وہ قدرت رکھتا ہے کہ بغیر باپ کے بیٹا پیدا کر دے اور اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایسے ہی پیدا فرمایا ۔
(صراط مستقیم)
اگلی آیت میں پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلام ہے جس میں آپ نے صراط مستقیم کی تشریح کی ہے ارشاد ہے (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم “ بیشک میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہی ہے ” فاعبدوہ “ پس اسی کی عبادت کرو (آیت) ” ھذا صراط مستقیم “۔ سیدھا راستہ یہی ہے ، اسی مضمون کو اللہ نے سورة مائد ہمیں عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا ہے (آیت) ” وقال المسیح یبنی اسرائیل اعبدواللہ ربی وربکم انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علی الجنۃ وماوہ النار “۔ (آیت۔ 72) اے بنی اسرائیل ! میرے اور تمہارے پروردگار صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کیونکہ جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا ، مسیح (علیہ السلام) تو جب تک دنیا میں رہے یہی تعلیم دیتے رہے اللہ وحدہ لا شریک کی طرف دیتے رہے شرک سے منع کرتے رہے مگر تم نے انہی کو اللہ کا شریک بنا دیا اور انہی الوہیت کے درجے پر پہنچا دیا ۔
بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق حضور خاتم النبیین ﷺ کی ذات سے ہے سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) پر اپنی مہربانی کا ذکر فرمایا ، اس سے پہلے سورة کہف میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف ، حضرت خضر (علیہ السلام) اور سکندر ذوالقرنین پر اپنی مہربانی کا تذکرہ کیا وہاں پر نزول قرآن کا ایک مقصد بھی یہ بیان کیا گیا تھا (آیت) ” وینذرالذین قالوا اتخذا اللہ ولدا “۔ (آیت۔ 4) تاکہ ان لوگوں کو ڈرایا جائے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے لیے اولاد کا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسی سلسلے کے ساتھ یہ بات بھی مربوط ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے نہ اس کی کوئی حقیقی اولاد ہے اور نہ مجازی ، اس کو اولاد کی ضرورت بھی نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ میرا اور تمہارا سب کا پروردگار اللہ وحدہ لاشریک ہے لہذا عبادت بھی اسی کی کرو ، اور یہی سیدھا راستہ ہے ، یہی بات تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کہتے رہے اور یہی تعلیم آسمانی کتب اور صحائف نے دی ۔
(باہمی اختلاف)
آگے پھر مسیح (علیہ السلام) کے تذکرے میں فرمایا کہ ان کے رفع الی السماء “ کے بعد (آیت) ” فاختلف الاحزاب من بینھم “۔ کئی گروہ اور فرقے بن گئے جنہوں نے آپس میں مسیح (علیہ السلام) کی ذات اور حیثیت کے بارے میں اختلاف کیا ، چار فرقے تو بڑے مشہور ہیں جن کا ذکر اکثر مفسرین کرتے ہیں ان کے علاوہ بھی بہت فرقے معرض وجود میں آئے فرمایا (آیت) ” فویل للذین کفروا من مشھد یوم عظیم “۔ پس ہلاکت ہے کفر کرنے والوں کے لیے بڑے دن کی حاضری کے وقت بڑے دن سے مراد قیامت کا دن ہے جب کافروں کا بہت برا حال ہوگا ۔
جن مختلف فرقوں کا ذکر کیا گیا ہے ، ان میں سے اکثر گمراہ فرقے ہوئے جنہوں نے مسیح (علیہ السلام) کی محبت میں غلو کرکے پہلے خدا کا بیٹا اور پھر تینوں میں سے تیسرا کہہ دیا ، تاہم ان میں حق کے ساتھ مشابہت رکھنے والے لوگ بھی موجود تھے ، توحید اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق صحیح عقیدے کی بات صحیحین میں حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔
من شھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ وان عیسیٰ عبداللہ ورسولہ وکلمتہ القاھا الی مریم وروح منہ والجنۃ حق والنار حق ادخلہ اللہ الجنۃ علی ماکان من العمل “۔
ترجمہ : جس شخص نے یہ گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا حکم ہیں جو اللہ نے مریم (علیہ السلام) کی طرف ڈالا اور اس (اللہ) کی طرف سے روح ہیں نیز جنت برحق ہے اور دوزخ بھی برحق ہے فرمایا ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بہرحال جنت میں داخل کرے گا اگرچہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں ۔
غرضیکہ اللہ کے تمام انبیاء اور رسول اس کے بندے ہیں نہ تو ان کی حیثیت کو کم کرنا چاہئے جیسا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر الزام تراشی کو اور نہ ان کو ان کی حیثیت سے بڑھانا چاہئے جیسا کہ نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کا بیٹا بنا دیا ، خود حضور ﷺ کا بھی ارشاد مبارک ہے ۔ ” لا تطرونی کما اطرت النصاری عیسیٰ ابن مریم انما انا عبد فقولوا عبداللہ ورسولہ “۔ لوگو ! میرے بارے میں غلو سے کام نہ لینا جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق غلو کیا تھا میں تو اللہ کا بندہ ہوں لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہو ، بہرحال ہمارے لیے ضروری ہے کہ اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفے ﷺ کے متعلق یہی عقیدہ رکھیں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی کلمات ہر نماز کی تشہد میں شامل ہیں ” اشھد ان لا الہ اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ ظاہر ہے ان کلمات کی ادائیگی کے بغیر نماز ہی مکمل نہیں ہوتی ، لہذا ہر شخص کا یہی عقیدہ ہونا چاہئے اور یہی صراط مستقیم ہے ۔
(سماعت و بصارت سے عاری)
فرمایا بڑے دن کی حاضری میں تباہی اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا فرمایا (آیت) ” اسمع بھم وابصر یوم یاتوننا “۔ یہ لوگ خوب سنتے اور خوب دیکھتے ہوں گے جس دن ہمارے پاس آئیں گے قیامت والے دن ان پر ہر چیز واضح ہوجائے گی مگر اب ان کی حالت یہ ہے کہ نہ تو خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں اور نہ کوئی صحیح کلام سنتے ہیں آج یہ سماعت و بصارت دونوں چیزوں سے عاری ہیں اور انہوں نے غلط عقیدے بنا رکھے ہیں ، کوئی ابنیت والا عقیدہ رکھتا اور کوئی تینوں میں سے تیسرا کہتا ہے کسی نے شرک اور تشبیہ والا عقیدہ بنا رکھا ہے اللہ نے فرمایا آج تو یہ حق بات کو سننے اور دیکھنے سے عاری ہیں مگر بڑی حاضری کے دن سب کچھ سنیں گے اور دیکھیں گے اس دن ان پر ہر چیز عیاں ہوجائے گی فرمایا (آیت) ” لکن الظلمون الیوم فی ظلل مبین “۔ آج کے دن لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوں گے ، ظالم کون ہیں ؟ ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ظلم کفر اور شرک ہے جیسا اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرہ : 254) کفر کرنے والے ظالم ہیں نیز یہ بھی فرمایا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان ، 13) شرک سب سے بڑا ظلم ہے اب پوری دنیا میں دیکھ لیں پانچ ارب کی آبادی میں سے کم وبیش چار ارب انسان کفر وشرک میں مبتلا ہیں اس وقت نہ کوئی بات سنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں نہ تو عقلی دلیل کو مانتے ہیں اور نہ نقلی کو ، بلکہ اپنے باطل عقائد میں ہی مگن ہیں ۔
(یوم حسرت)
اللہ نے فرمایا اے پیغمبر ! ﷺ (آیت) ” وانذر ھم یوم الحسرۃ اذ قضی الامر “۔ آپ ان کو حسرت کے دن سے ڈراویں جس دن کو معاملے کا فیصلہ کیا جائے گا وہ حسرت کا دن قیامت کا دن ہوگا ، اس دن حساب کتاب ہونے کے بعد اہل ایمان جنت میں جائیں گے اور کافر ومشرک جہنم واصل ہوں گے پھر گنہگار مگر اہل ایمان اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں آجائیں گے اور ابدی دوزخی وہیں رہ جائیں گے پھر اس وقت جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ” یوتی بالموت “ موت کو یاک جانور کی شکل میں لایاجائے گا اسے دوزخ اور جنت کے درمیان نمایا جگہ پر کھڑا کیا جائے گا جہاں سے جنتی اور دوزخی اسے دیکھ سکیں گے پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ یہ کیا ہے ؟ سب کہیں گے ، موت ہے پھر اس جانور یعنی موت کو ذبح کردیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائیے گا کہ موت کو موت آچکی ہے اب ” خلود ولا موت “۔ اب تم ہمیشہ یہیں رہو گے اور کسی کو موت نہیں آئے گی پھر اہل دوزخ سے بھی اسی طرح خطاب کیا جائے گا یہی وہ دن ہے جسے حسرت کا دن کہا گیا ہے ، جتنا افسوس اس دن ہوگا ، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ہوگا ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہیں یوم حسرت سے ڈراویں (آیت) ” وھم فی غفلۃ “ یہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں (آیت) ” وھم لا یؤمنون “۔ اور ایمان قبول نہیں کرتے ، ان کو خبردار کردیں کہ آگے حسرت کا دن آنے والا ہے اس دن کی حسرت سے بچنے کے لیے آج اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قبول کرلو ۔
طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” لیست حسرۃ علی اھل الجنۃ الا علی ساعۃ مرت بھم ولم یذکروا اللہ فیھا “۔ اہل جنت کے لیے اس سے زیادہ حسرت کسی بات پر نہیں ہوگی کہ انہوں نے فلاں وقت پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کیوں نہ کیا ، اگر فارغ وقت میں اللہ تعالیٰ کا مزید ذکر کرتے تو آج مزید درجات بلند ہوتے ، ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہر مرنے والا آدمی نادم ہوگا ، خواہ نیک ہو یا بد عرض کیا ” مماند مہ حضور ! ندامت کس وجہ سے ہوگی ؟ فرمایا نیک آدمی کو اس وجہ سے ندامت ہوگی کہ اس نے اور زیادہ نیکیاں کیوں نہ حاصل کرلیں ، اور برا اس وجہ سے نادم ہوگا کہ اس نے زندگی میں برائیوں سے بچنے کی کوشش کیوں نہ کی چونکہ اس دن ہر آدمی حسرت کرے گا ، اس لیے بھی اس دن کو حسرت کا دن کہا گیا ہے ۔
فرمایا (آیت) ” انا نحن نرث الارض ومن علیھا “۔ ہم وارث ہیں پوری زمین کے اور جو کچھ اس کے اوپر موجود ہے ، یہ دنیا چند دن کا کھیل ہے یہاں کی چیز فنا ہونے والی ہے پھر یہاں پر نہ کوئی انسان ہوگا ، اور نہ کوئی چیز اس وقت ساری زمین اللہ کی ملکیت ہوگی (آیت) ” والینا یرجعون “۔ اور سب ہماری طرف ہی لوٹائے جائیں گے نیک وبد سب میدان حشر میں جمع کیے جائیں گے اور ہم ہر ایک کے ساتھ اس کی فکر اعتقاد اور عمل کے مطابق سلوک کریں گے ۔
Ayahs 19:41–45ربط آیات :
دوسرے رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم (علیہ السلام) کا ذکر بھی اسی طرح کیا تھا (آیت) ” واذکر فی الکتب مریم “۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان پر کی گئی اپنی خاص مہربانی کا تذکرہ فرمایا ، یہ واقعہ بطور تمہید تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا ذکر کرکے مسئلہ توحید سمجھایا اور شرک کا رد کیا درمیان میں فرمایا (آیت) ” ماکان للہ ان یتخذ من والد سبحنہ “۔ (آیت 35) اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے لیے بیٹا بنانے سے پاک ہے مسیح (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہی تعلیم دی (آیت) ” وان اللہ ربی وربکم فاعبدہ “۔ (آیت ۔ 36) میرا اور تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اسی کی عبادت کرو ، اور یہی سیدھا راستہ ہے ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے نصاری کے عقیدہ ولدیت کی نفی فرما دی ۔
(ملت ابراہیمی میں بگاڑ)
عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد آگے بعض دیگر انبیاء کا ذکر بھی آرہا ہے جن میں سرفہرست حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں آپ کی عزت و توقیر نہ صرف مسلمان کرتے ہیں بلکہ یہود ونصاری بھی آپ کی عظمت کے قائل ہیں ، خاص طور پر مشرکین عرب کو تو اس بات پر فخر تھا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں مگر بڑے افسوس کا مقام ہے کہ یہ تمام گروہ آپ کی تعلیمات پر قائم نہ رہے بلکہ آپ کے دین اور ملت کو ہی بگاڑ دیا یہودی کہتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے پر ہیں ، نصاری بھی یہی دعوی کرتے تھے اور مشرکین عرب تو خاص طور پر ملت ابراہیمی پر ہونے کے دعویدار تھے اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے خود بھی قائل تھے اور دوسروں کو بھی توحید کی دعوت دیتے تھے آپ شرک اور بت پرستی کے سخت خلاف تھے اور ہر موقع پر اس کی مذمت کرتے تھے حنیفیت کا دور آپ ہی سے شروع ہوا ، اس لیے آپ تمام ائمہ حنیفیت کے امام تھے آپ کی حنیفیت کی گواہی خود قرآن پاک نے جگہ جگہ دی ہے ۔ (آیت) ” ابن ابرھیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا ، ولم یک من المشرکین “۔ (النحل ، 120) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا اور اللہ کی اطاعت کرنے والے اور ایک طرف لگنے والے تھے ، اور مشرکوں میں سے نہیں تھے سورة آل عمران میں ہے (آیت) ” ما کان ابرھیم یھودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما وما کان من المشرکین “۔ (آیت) ” 27) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ ایک طرف لگنے والے حنیف تھے اور مشرکوں میں سے نہیں تھے ، اب یہود ، نصاری اور مشرکین کو سوچنا چاہئے کہ وہ کس بنا پر اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں ، اللہ کے فرمان کے مطابق ان تینوں میں سے کوئی گروہ بھی آپ کے طریقے پر نہیں ہے ان سب نے غلط عقائد وضع کیے اور پھر شرک میں مبتلا ہوگئے ۔
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ)
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ اس طرح کیا ہے (آیت) ” واذکر فی الکتب ابرھیم “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ اس کتاب یعنی قرآن پاک میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کریں جو کہ مؤحدین کے پیشوا اور تمام حنفا کے امام تھے آپ کی حیثیت اور مرتبے کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” انہ کان صدیقا نبیا “۔ بیشک آپ بڑے راست باز اور اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ، اللہ نے آپ کو اپنا خلیل بنایا جیسا کہ سورة النساء میں موجود ہے (آیت) ” واتخذ اللہ ابرھیم خلیلا “۔ (آیت ، 125) اللہ نے آپ کو بہت سی آزمائشوں میں ڈالا ، اور ہر امتحان میں کامیاب ہوئے چناچہ اللہ نے آپ کو عمومی امامت بھی عطا فرمائی (آیت) ” انی جاعلک للناس امام “۔ (البقرہ ، 124) میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صدیقیت کا بطور خاص ذکر کیا ہے صدیق مبالغے کا صیغہ ہے یعنی بہت زیادہ راست باز ، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبی بھی بنایا ہے اس بات کی وضاحت اس لیے ضروری تھی کہ ہر نبی صدیق تو ہوتا ہے مگر ہر صدیق نبی نہیں ہوتا کیونکہ صدیقیت کا درجہ نبی سے کم ہے ، صدیق سے مراد وہ شخص ہے جو عقیدے ، عمل ، اخلاق ، وعدے ، اور نیت میں سچائی اختیار کرے اللہ کے نبیوں میں تو یہ صفت لازمی طور پر ہوتی ہے ، پھر آپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین درجہ بدرجہ صدیقیت کے درجے پر فائز ہیں ، اگرچہ حضور ﷺ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین صدیق ہیں ، تاہم ان میں سے خلفائے راشدین کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد سب سے بڑے صدیق ہیں ، حضرت ابوبکر صدیق کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے صدیق کا لقب عطا فرمایا آپ کی بیٹی اور حضور کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ بھی صدیقہ ہیں ، بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” انا صدیق الاکبر لا یقولھا بعد الا کذبا “۔ یعنی میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد جو بھی صدیق اکبر ہونے کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا ، ظاہر ہے کہ خلفائے راشدین کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درجات بھی متفاوت ہیں ، پہلے نمبر پر حضرت ابوبکر ؓ صدیق اکبر ہیں ، پھر عمر فاروق ؓ پھر عثمان غنی ؓ اور چوتھے نمبر پر حضرت علی ؓ صدیق اکبر ہیں ، اس کے بعد جو شخص صدیق اکبر ہونے کا دعویدار ہوگا ہو واقعی جھوٹا ہوگا ، کیونکہ یہ مرتبہ خلفائے راشدین پر ختم ہوچکا ہے ۔
(صابیت اور حنفیت کا دور)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے صابیت کا دور تھا یہ دور آدم (علیہ السلام) کے فرزند شیث (علیہ السلام) یا ادریس (علیہ السلام) سے شروع ہوا اس دور میان بابل بڑا مشہور شہر تھا جو کہ ساٹھ مربعہ میل میں پھیلا ہوا تھا یہ شہر آشوری اور کلدانی تہذیبوں کا مرکز رہا مگر اب ٹیکسلا کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے ، بغداد سے ساٹھ ستر میل دور اس شہر کے مکین صابی لوگ تھے ، امام جلال الدین سیوطی (رح) اپنی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرۃ “ میں لکھتے ہیں کہ صابیت کے چار اصول مسلم تھے یعنی توحید ، طہارت ، صوم اور صلوۃ مگر آہستہ آہستہ یہ اصول ختم ہوگئے ، یہ لوگ زیادہ تربت پرستی اور ستارہ پرستی میں مبتلا تھے ستاروں میں الوہیت کا کرشمہ مانتے تھے ، انہوں نے ستاروں کے نام پر عبادت خانے بنا رکھے تھے ، چناچہ رومی ، یونانی ، برصغیر کے ہندو اور پرانے چینی بدھ وغیر سب صابی تھے ، مگر انہوں نے صابی ملت کے اصل اصولوں کو بگاڑ دیا ۔
پھر مسیح (علیہ السلام) سے 2160 سال قبل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بعثت کے ساتھ دور حنیفیت شروع ہوا ، آپ نے شرک کی بیخ کنی کی اور لوگوں کو توحید سے روشناس کرایا آپ نے 170 برس عمر پائی اور اس دوران میں بڑے بڑے انقلاب دیکھے آپ پر بڑی آزمائشیں آئیں اور آپ ہر آزمائش میں کامیاب ہوئے آپ کے ہاتھوں لگایا ہوا توحید کا پودا آہستہ آہستہ کملانے لگا حتی کے آپ کے ماننے والے خود یہود ونصارے نے حنیفیت میں خرابیاں پیدا کردیں اور ان میں توحید کی بجائے شرک در آیا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہوں نے ملت ابراہیمی کو دوبارہ زندہ کیا اور لوگوں کو ایک خدا کی طرف متوجہ کیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پھر خرابیاں شروع ہوگئیں مسلمانوں میں بھی گمراہ فرقے پیدا ہوگئے اور خالص توحید میں شرک کی پھر ملاوٹ ہونے لگی ۔
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اذ قال لابیہ “۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا یہاں پر باپ کے نام کی تصریح تو نہیں ہے تاہم سورة انعام میں موجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) واذ قال ابرھیم لابیہ اذر “۔ (آیت ، 74) کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تم بتوں کو معبود بناتے ہو میں تو تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں ، شیعہ اور بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں بلکہ چچا تھا اور آپ کے باپ کا نام تارخ تھا ، ان کا استدلال یہ ہے کہ آزر تو بہت بڑا مشرک تھا جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے تمام آباؤ و اجداد مومن تھے ، لہذا آزر آپ کا باپ نہیں ہے ان حضرات کا یہ نظریہ بلادلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی “۔ (الانعام ، 95) یعنی اللہ تعالیٰ مردوں سے زندہ اور زندوں سے مردہ نکالتا ہے ، مقصد یہی ہے کافروں سے مؤحد اور مومنوں سے کافر پیدا ہوتے ہیں ، لہذا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے عظیم پیغمبر کا مشرک باپ سے پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ آزر اور تارخ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں اصل تارخ ہی ہے مگر بت پرستوں کے پروہت ہونے کی بنا پر آزر لقب تھا ۔
(باپ سے خطاب)
تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا ” یابت “ اے میرے باپ عربی محاورے میں یہ لفظ محبت کے انداز میں استعمال ہوتا ہے جیسے ” یبنی “ یعنی اے میرے بیٹے ، حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اسی لفظ سے خطاب کرکے کہا کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کہ یہ ظلم عظیم ہے ، خود حضور ﷺ حضرت انس ؓ کو ” یبنی “ کہہ کر خطاب فرماتے تھے حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ حضور سے بار بار پوچھتے کہ حضور ! دجال کے فتنے میں کیا بنے گا تو آپ نے فرمایا ” یبنی “ اے میرے بیٹے خوف نہ کھاؤ دجال تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا غرضیکہ ” یبنی “ کی طرح ” یابت “ میں بھی محبت والفت پائی جاتی ہے ، یہ بالکل ایسے ہی جیسے اردو میں ” ابا جی “ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یوں کہا (آیت) ” لم تعبد مالا یسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا “۔ آپ ان کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو نہ دیکھتے ہیں ، نہ سنتے ہیں اور نہ آپ کے کسی کام آسکتے ہیں ؟ ان بتوں کو تو خود آپ ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھتے ہیں ، یہ تو اپنے آپ چل پھر بھی نہیں سکتے بھلا یہ آپ کے کسی کام آئیں گے ، یہ تو بڑی بےعقل کی بات ہے کہ خود اپنے ہاتھوں سے تراش کر انہیں کو معبود بنا لیں اور ان سے حاجتیں طلب کرنے لگیں حقیقت یہ ہے کہ کوئی سننے اور دیکھنے والا بھی معبود نہیں بن سکتا ، فرشتے اللہ کی مقرب مخلوق ہیں ، جو دیکھتے اور سنتے ہیں اور اللہ نے انہیں کسی حد تک اختیار بھی دے رکھا ہے مگر معبود وہ بھی نہیں بن سکتے کیونکہ معبود ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ خالق ہو ، ازلی اور ابدی ہو اور کسی کا محتاج نہ ہو ۔
(ساری مخلوق محتاج ہے)
مگر امر واقع یہ ہے کہ ساری کی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے (آیت) ” یسئلہ من فی السموت والارض “ (الرحمن ، 29) آسمان و زمین کی ہر چیز اسی مالک الملک کے در کی سوالی ہے سب محتاج ہیں اور اسی سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں کوئی زبان حال سے مانگ رہا ہے اور کوئی زبان قال سے ، درختوں کی زبان حال سرسبزی اور شادابی طلب کر رہی ہے ، پھتر ہوا اور پانی سب اپنی ضروریات طلب کر رہے ہیں ، جانور ، چرند اور پرند سب اسی کے سامنے دامن پھیلائے ہوئے ہیں اور انسان تو ہیں ہی محتاج ، دینے والا صرف ایک ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کس چیز کی ضرورت ہے اور کتنی ضرورت ہے اس کا فرمان ہے (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشآء “۔ (الشوری ، 27) اگر اللہ تعالیٰ رزق کے دروازے سب پر یکساں کھول دے تو سب سرکش ہوجائیں ، وہ ایک خاص اندازے کے مطابق رزق نازل فرماتا ہے ، اس کی مصلحت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” یدبر الامر من السمآء الی الارض “۔ (السجدۃ ، 5) آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر کام کی تدبیر وہ خود کرتا ہے ، اس نے کسی کو اختیار نہیں دیا کہ فلاں کام تم کرلیا کرو اور فلاں میں انجام دے لوں گا ، ہمیں تو یہی دعا سکھلائی گئی ہے ” یا مصرف القلوب صرف قلوبنا الی طاعتک “۔ اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے ، ایمان اور اخلاص کی طرف پھیرنا بھی تیرا ہی کام ہے (1) (حصن حصین ص 473) (فیاض) لہذا تو اپنی رحمت سے ہمیں نیکی پر مستحکم رکھ ۔
(صنم اور وثن)
اس آیت کریمہ میں ابراہیم نے اپنے باپ کو ان بتوں کی پوجا سے منع کیا جو نہ دیکھتے ہیں ، نہ سنتے ہیں اور کسی کام آسکتے ہیں ، یہ بت دو قسم کے ہوتے تھے ، ایک قسم کے بت صنم کہلاتے تھے ، یہ جو پتھروں یا لکڑی کو تراش کر کسی خاص شکل میں بنائے جاتے تھے اور وثن ان بتوں کو کہتے تھے جو ان گھڑے ہوتے ہوتے تھے اور کسی خاص شکل پر متشکل نہیں ہوتے تھے کسی وضع قطع کے پتھر یا لکڑی کو معبود تسلیم کرکے اس کی پوجا شروع کردی ، پھر ان کی نذر ونیاز بھی کرتے تھے ، ان کے آگے کھانا مٹھائی اور دودھ وغیرہ رکھتے تھے اور ان کی تعظیم کرتے تھے انہی بتوں کی پوجا سے ابراہیم (علیہ السلام) نے روکا ۔
حدیث شریف میں صلیب کے نشان کو بھی وثن سے تعبیر کیا گیا ہے جب عدی ؓ بن حاتم طائی حضور کی خدمت میں پہلی دفعہ پیش ہوئے تو ان کے گلے میں صلیب لٹک رہی تھی ، آپ نے فرمایا ” الق عنک ھذا الوثن “ یہ وثن یعنی بت اپنے گلے سے اتار دو ، عیسائی صلیب کی تعظیم کرتے ہیں ۔
جب مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خاطر لڑتے ہیں جب کہ عیسائیوں کے ہاں فتح کا میعار صلیب ہوتا ہے ، وہ صلیب کی بلندی چاہتے ہیں لہذا یہ ان کا معبود ہے اور یہ صریح شرک ہے ۔
بعض لوگ زندہ ہستیوں کی پرستش کرتے ہیں اور بعض اصحاب قبول کو پوجتے ہیں لوگوں میں خدا کے انبیاء ، ملائکہ ، جنات اور شیاطین کے پجاری بھی موجود ہیں ، بہرحال یہاں پر شرک کی جس قسم کو ذکر ہے وہ پتھر یا لکڑی کے مجسمے ہیں ،
(قطعی علم بذریعہ وحی)
ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی بات تو یہ کی کہ باپ کو بتوں کی پوجا سے منع کیا اور دوسری بات یہ کہ ” یابت “ اے میرے باپ (آیت) ” انی قد جآءنی من العلم مالم یا تک “۔ تحقیق میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں ہے لہذا میں تجھے کہتا ہوں (آیت) ” فاتبعنی اھدک صراط سویا “۔ کہ میری اطاعت کر میں تجھے سیدھا راستہ دکھاؤں گا اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوئی کہ تبلیغ دین کے لیے نہایت ہی نرم رویہ بلکہ محبت کا سا انداز اختیار کرنا چاہئے تمام انبیاء (علیہ السلام) نے یہی طریقہ اختیار کیا ، اور اگر کہیں سخت رویہ اختیار کیا ہے تو بالکل ناگریز حالات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ہے کہ اللہ نے دونوں کو فرعون کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا اور ساتھ نصیحت کی (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “۔ (طہ ، 44) اور اس سے نرم لہجے میں بات کرنا بہرحال تبلیغ دین کے لیے نرم رویے کی ضرورت ہے ،
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس قطعی اور یقینی علم ہوتا ہے جو باقی مخلوق کے پاس نہیں ہوتا ، اس سے مراد وحی الہی ہے چناچہ امام بخاری (رح) نے اپنی صحیح بخاری کی ابتداء ہی وحی الہی سے کر کے باپ ہی اس طرح باندھا (1) (بخاری ص 1 ج 1) (فیاض) ہے ” کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ﷺ “ یعنی حضور ﷺ پر وحی کی ابتدا کیسے ہوئی ، مقصد یہ کہ وحی الہی ہی قطعی ذریعہ علم ہے ، اس کے علاوہ باقی تمام ذرائع ظنی ہیں ، علم سائنس مشاہدات پر مبنی ہونے کے باوجود خطا سے خالی نہیں ، کوئی چیز ایک شخص کے مشاہدے میں کچھ آتی ہے جب کہ دوسرا شخص کچھ اور ہی سمجھتا ہے ، اسی طرح کشف میں بھی غلطی کا امکان ہے غلطی سے مبرا صرف وحی الہی ہے ، اس کو سمجھنے میں نبی کوئی غلطی نہیں کرتا اور نہ ہی اسے آگے بیان کرنے میں کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے اسی لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے لہذا آپ میری بات مانیں ، میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا ۔
(اہل علم کا اتباع)
اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اہل علم کا اتباع ضروری ہے سورة النحل میں اللہ تعالیٰ ارشاد ہے (آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (آیت 43) جو چیز تم خود نہیں جانتے اسے جاننے والوں سے پوچھ لو ، لہذا عوام کا فرض ہے کہ وہ اہل علم کا اتباع کریں اس زمانے میں نام نہاد علماء گمراہی کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ بی اے میں تھوڑی سی عربی پڑھ لی تو پرویز کی طرح عالم بن بیٹھے ان کو تو علم کی ہوا بھی نہیں لگی ، سلف نے حصول علم کے لیے مشقتیں برداشت کیں ، ہزاروں اساتذہ سے فیض حاصل کیا ، عمروں کے طویل حصے علم حاصل کرنے میں لگا دیے ابو قاری کا حال دیکھ لیں ، صرف کے ایک صیغہ میں غلطی کر بیٹھے استاد صاحب نے کہا بڑے افسوس کی بات ہے کہ اتنی سخت غلطی کی اٹھ کر چلے گئے اور زندگی کے مزید چالی سال فن میں صرف پر لگا دیے جب بالکل کامل ہوگئے تو پھر پڑھانے کے بیٹھے امام شافعی (رح) کا قول ہے کہ میں نے دوران تعلیم سولہ سال تک رات بھر ایک گلاس پانی تک نہیں پیا کہ کہیں مطالعہ میں خلل نہ آجائے ۔
ّشیطان کی عبادت)
ابراہیم (علیہ السلام) نے مزید فرمایا (آیت) ” لاتعبد الشیطن “ اے میرے باپ ، شیطان کی عبادت نہ کریں عبادت صرف رکوع و سجدہ کا نام ہی نہیں بلکہ شیطان کا حکم ماننا اس کی عبادت کرنے کے مترادف ہے ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے (آیت) ” لا تتبعوا خطوت الشیطن “۔ (البقرہ : 168) شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، جو شخص خدا تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کر اپنی عقل یا خواہش پر چلتا ہے وہ حقیقت میں شیطان کے نقش قدم پر ہی چلتا ہے ، رسومات کی اتباع بھی شیطان کی پیروی ہے ، اللہ تعالیٰ نے تجارت ، سیاست اور معیشت کے تمام قوانین واضح کردیے ہیں جو بھی ان کی خلاف ورزی کرے گا وہ شیطان کا متبع ہوگا ۔
فرمایا اے باپ ! شیطان کی عبادت نہ کرنا کیونکہ (آیت) ” ان الشیطن کان للرحمن عصیا “۔ شیطان تو رحمان کا نافرمان ہے ، اس نے تو روز اول سے کہہ دیا تھا (آیت) ” فبما اغویتنی لاقعدن لھم صراطک المستقیم “۔ (الاعراف ، 16) تو نے مجھے گمراہ ٹھہرا ہی دیا ہے تو اب میں بھی تیرے سیدھے راستے میں بیٹھ کر ان کو گمراہ کروں گا شیطان تو پہلے دن سے مرد وقرار دیا جا چکا ہے ، بقول حضرت یحی منیری (رح) شیطان نے سات لاکھ سال عبادت کی مگر ایک انکار کر کے راندہ درگاہ ٹھہرا اللہ نے فرمایا (آیت) ” فاخرج فانک رجیم “۔ (ص 77) یہاں سے نکل جاؤ تم مردود ہو ، شیطان کے متعلق سورة الکہف میں بھی گزر چکا ہے ۔ (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ اولیآء من دونی وھم لکم عدو “۔ (ایت ، 150) کیا تم شیطان اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو ، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، وہ ہر مقام پر وسوسہ انداز کرکے تمہیں پھسلانا چاہتے ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ شیطان تو رحمان کا نافرمان ہے اس کی عبادت نہ کرو ۔
(عذاب الہی کا خوف)
پھر فرمایا (آیت) ” یابت انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن “۔ اے میرے باپ ، مجھے ڈر ہے کہ تمہیں خدائے رحمان کی طرف سے عذاب نہ پہنچ جائے (آیت) ” فتکون للشیطن ولیا “۔ پس تم شیطان کے دوست بن کر رہ جاؤ گے اور خدائے رحمان سے کٹ جاؤ گے ، یہاں پر اللہ تعالیٰ کے اسم رحمان کا ذکر کیا ہے جبار اور قہار کا نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ بلاشبہ بڑا رحم کرنے والا ہے ، مگر جب کوئی شخص اس کی حکم عدولی کرکے توحید کو چھوڑ دیتا ہے ، اور شیطان کا اتباع کرنے لگتا ہے ، تو پھر رحمان سزا بھی دیتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ اے باپ مجھے خطرہ ہے کہ تم کہیں شیطان کے دوست نہ بن جاؤ ۔ اب باپ کا جواب اور اس کی کارگزاری کا بیان اگلی آیات میں آرہا ہے ۔
Ayahs 19:46–50ربط آیات :
پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور انکے عقیدے کا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور اس ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی اختصار کے ساتھ بیان ہوا ، آپ نے اپنے باپ کو نہایت نرم اور محبت آمیز لہجے میں سمجھایا کہ تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو یہ نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ کسی کام آسکتے ہیں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے پاس قطعی علم آچکا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے لہذا آپ میری بات مانیں میں آپ کو سیدھا راستہ دکھاؤں گا ، اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر بیٹا اہل علم ہے تو باپ کو اس سے سیکھنے میں عار نہیں محسوس کرنی چاہئے بلکہ یہ تو فضیلت کی بات ہے کہ باپ نے اپنے قابل بیٹے سے سیکھا یہ چیز عقل کے عین مطابق ہے اور ایسا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو یہ بھی کہا خدا کے سچے قانون کو چھوڑ کر توحید کو تر کرنا اور شرک کو اختیار کرنا شیطان کی عبادت کرنے کے مترادف ہے ، لہذا آپ شیطان کی پرستش نہ کریں شیطان تو خدائے رحمان کا نافرمان ہے اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر آپ نے شیطان کا اتباع ترک نہ کیا ، تو سزا کے مستحق ہوں گے ۔
(باپ کا جواب)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس محبت آمیز رویہ کا جواب آپ کے باپ نے یوں دیا (آیت) ” قال اراغب انت عن الھتی یابراہیم “۔ کہنے لگا ، اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے اعراض کرنے والا ہے ؟ عربی زبان میں اگر رغبت کے بعد نی آئے تو اس کا معنی ہوتا ہے کسی چیز میں رغبت کرنا اور اگر یہ لفظ عن کے ساتھ آئے تو اس کا معنی اعراض کرنا جاتا ہے جیسے ” ومن یرغب عن ملۃ ابرھیم الا من سفہ نفسہ “۔ (البقرۃ : 130) کون ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت سے اعراض کرے مگر وہی جس نے اپنے نفس کو بیوقوف بنا لیا یعنی ملت ابراہیمی کے خلاف وہی شخص ہوگا جو بےعقلی سے کام لے گا صحیح الفطرت اور عقل سے کام لینے والا آدمی ملت ابراہیمی سے انحراف نہیں کرسکتا ۔
(سنگساری کی دھمکی)
پھر باپ نے سختی کی ساتھ سرزنش کی اور کہنے لگا ، تو میرے بتوں سے اعراض کرتا ہے اور ان کی توہین کرتا ہے ، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا (آیت) ” لئن لم تنتہ “۔ اگر تو اس حرکت سے باز نہیں آئے گا میرے معبودوں کے خلاف بداعتمادی پھیلاتا رہے گا (آیت) ” لارجمنک “۔ تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا ، امام ابن جریر طبری (رح) فرماتے ہیں کہ لفظ رجم کا اطلاق زبانی سب وشتم پر بھی ہوتا ہے یعنی میں تجھے گالیاں دوں گا تاہم جمہور مفسرین کے نزدیک رجم کا معنی سنگسار کرنا ہی ہے جو کہ ذلت ناک سزا تصور ہوتی ہے اور زانی محصن کو دی جاتی ہے جب کہ وہ زنا کا خود اقرار کرے یا چار گواہ چشم دید گواہی دیں یہی سزا اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو دی تھی اور ان پر آسمان سے پتھر برسائے تھے ۔
باپ نے یہ بھی کہا (واھجرنی ملیا) مجھ سے دور ہوجاؤ ایک زمانے تک مطلب یہ کہ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا ، عرصہ دراز کے لیے مجھ سے علیحدہ ہوجاؤ ، عالم اور جاہل میں یہی فرق ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کو نہایت نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی جب کہ باپ نے جواب میں نہایت سخت رویہ اختیار کیا جاہل لوگ نرمی کی بات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ خود سب ودشنام اور مار دھاڑ پر اتر آتے ہیں ۔
(سلامتی اور مغفرت کی دعا)
اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے گالی کا جواب دعا کے دعا دیا (آیت) ” قال سلم علیک “۔ کہنے لگے اے باپ ! تجھ پر سلامتی ہو ، اس کو سلام متارکت کہتے ہیں جیسے سورة فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی یہ صفت بھی بیان کی ہے (آیت) ” واذا خاطبھم الجھلون قالوا سلما “۔ (آیت ، 63) کہ جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ سلام کہہ کر نکل جاتے ہیں ، اور کہتے ہیں کہ تم اپنے طریقے پر رہو ، ہم تم سے علیحدہ ہوتے ہیں کیونکہ جہالت کا جواب جہالت سے دینے کی اجازت نہیں ہے ، اور ساتھ ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے ساتھ ہمدردی کا پورا پورا حق بھی ادا کردیا ، کہنے لگے (آیت) ” ساستغفر لک ربی “۔ میں اپنے پروردگار سے تیرے لیے بخشش کی دعا کروں گا کیونکہ (آیت) ” انہ کان بی حفیا “۔ میرا پروردگار میرے ساتھ بڑا مہربان ہے اور امید ہے کہ میری دعا رائیگاں نہیں جائے گی ،
مشرک کے لیے بخشش کی دعا کرنا درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم “۔ (التوبۃ ۔ 113) کسی نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکوں کے لیے دعائے مغفرت کریں ، اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں ، اس کے بعد کی یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ قطعی جہنمی ہیں ، مگر ابراہیم (علیہ السلام) نے نہ صرف باپ کے لیے دعا کا وعدہ کیا بلکہ فی الواقع دعا کر بھی دی (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی “۔ (ابراہم 41) اے پروردگار ! مجھے بھی بخش دے اور میرے والدین کو بھی ، اس بات کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی (آیت) ” ومان کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ فلما تبین لہ انہ وعدواللہ تبرا منہ “۔ (التوبۃ 114) ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنی باپ کے لیے دعائے مغفرت ایک وعدے کی بناء پر تھی جو انہوں نے کر رکھا تھا ، لیکن جب بعد میں واضح ہوگیا کہ وہ دشمن خدا ہے یعنی اس کا خاتمہ کفر پر ہی ہوگا ، تو آپ نے بیزاری کا اظہار کردیا ۔
حضور ﷺ کے چچا ابو طالب آپ کے محسن اور مربی تھے اور وہ مشرکوں کے مقابلے میں آپ کی بڑی حمایت کرتے رہے ، مگر ایمان قبول نہیں کیا جب اس کی وفات کفر کی حالت میں ہی ہوگئی تو حضور ﷺ کو بڑا صدمہ ہوا آپ نے فرمایا (آیت) ” ساستغفرلک ربی “۔ میں تیرے لیے اپنے پروردگار سے بخشش کی دعا کروں گا ، مگر فرمایا کہ پھر اللہ نے مجھے منع کردیا کیونکہ مشرکوں کے لیے دعا جائز نہیں ۔
بعض فرماتے ہیں کہ مشرکوں کی زندگی میں تو ان کے لیے دعائے مغفرت کی جاسکتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ انہیں ایمان کی توفیق عطا کر کے مغفرت کا اہل بنا دے ، مگر کفر وشرک کی حالت میں ہی مرنے کے بعد ان کے لیے دعا درست نہیں کیونکہ وہ ازلی جہنمی قرار پا گئے یہاں پر ایک اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض لوگوں کے والدین کافر اور مشرک تھے اور خود انہوں نے ایمان قبول کرلیا اب وہ بھی ہر نماز میں والدین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی “۔ اے اللہ مجھے بھی معاف کر دے اور میرے والدین کو بھی بخش دے ، اس ضمن میں صاحب کشاف بیان کرتے ہیں کہ ایسے شخص کی دعا کے مصداق ان کے قریبی والدین نہیں ہوں گے بلکہ ان کے مصداق پوری نسل انسانی کے والدین حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ ہوں گی جو کامل درجے کے مومن اور اولین والدین تھے ۔
(ابراہیم (علیہ السلام) کی علیحدگی )
بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے دعا کا وعدہ کیا اور پھر ان سے علیحدگی کا ارادہ بھی کرلیا ۔ کہنے لگے (آیت) ” واعتزلکم وما تدعون من دون اللہ “ میں تمہیں بھی چھوڑتا ہوں اور تمہارے معبودوں کو بھی جن کی تم پوجا کرتے ہو ۔ (آیت) ” وادعوا ربی “۔ اور میں تو صرف اپنے پروردگار کو ہی پکارتا ہوں جو قادر مطلق ، علیم کل ، مختار کل ، حاجت روا اور مشکل کشا ہے ، وہ ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان ہے ، اور خالق مدبر اور متصرف ہے ، میں تو صرف اسی کو پکارتا ہوں اور تمہارے معبودوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں وہ اللہ کے دشمن ہیں (آیت) ” وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضآء وبدا حتی تؤمنوا باللہ وحدہ “۔ (الممتحنۃ۔ 4) اور ہمارے اور تمہارے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی ہے جب تک کہ تم اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان نہ لے آؤ ، دوسری آیت میں ہے ابراہیم (علیہ السلام) نے کہ (آیت) ” انی ذاھب الی ربی “۔ (صفت ، 99) میں تو اپنے پروردگار کی طرف جا رہا ہوں ، سورة العنکبوت میں یوں آتا ہے (آیت) ” وقال انی مھاجر الی ربی “۔ (آیت ، 22) یعنی میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرکے جا رہا ہوں ، جہاں میرے مالک کا حکم ہوگا وہاں چلا جاؤں اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کو بہرحال چھوڑ رہا ہوں ۔
(آیت) ” عسی الا اکون بدعآء ربی شقیا “۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکارنے کی ساتھ محروم نہیں ہونگا ۔
اس زمانے میں عراق کا پورا علاقہ جس میں نمرود کی علمداری تھی کفر وشرک میں ڈوبا ہوا تھا ، بادشاہ سے لے کر ادنی سے ادنی چرواہے تک مشرک تھے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے والے ابراہیم (علیہ السلام) کے علاوہ آپ کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) تھے ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارہ ؓ بھی مومنہ تھیں البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ آپ کا نکاح اس ہجرت سے پہلے ہوچکا تھا یا ہجرت کے بعد شام پہنچ کر ہوا ، بہرحال تین افراد پر مشتمل یہ قافلہ عراق سے چل کر مصر اور پھر شام و فلسطین پہنچا راستے میں اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو نبوت بھی عطا فرمائی اور وہ شرق اردن کے علاقے میں مامور ہوئے ۔
(انعام بصورت اسحاق اور یعقوب علیہما السلام)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فلما اعتزلھم وما یعبدون من دون اللہ “۔ جب آپ قوم اور ان کے معبودوں کو چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ نے آپ پر اولاد کی صورت میں انعام کیا (آیت) ” وھبنا لہ اسحاق ویعقوب “ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) (بیٹا) اور یعقوب (علیہ السلام) (پوتا) عطا فرمایا (آیت) ” وکلا جعلنا نبیا “۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ اولاد عطا فرمائی بلکہ ہر ایک کو نبی بھی بنایا ، پھر ان کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یوسف (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی ہوئی ، اللہ تعالیٰ چار پشتوں میں نبی پیدا کئے ” الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم “۔ یعنی یوسف ابن یعقوب ابن اسحاق بن ابراہیم سارے کے سارے اللہ کے برگزیدہ بندے اور نبی ہوئے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے دو فرزند عطا کیے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) دونوں اللہ کے نبی ہوئے مگر اس مقام پر صرف اسحاق (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اگلے رکوع میں مستقل عنوان کے تحت آرہا ہے اس مقام پر چونکہ صرف یہودونصاری کا ردمطلوب تھا اس لیے یہاں پر انکے جد امجد حضرت اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کا ذکر کیا اور آگے جہاں مشرکین عرب کا رد مقصود ہے وہاں ان کے جدامجد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر آ رہا ہے ۔
فرمایا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب عطا فرمائے (آیت) ” ووھبنا لھم من رحمتنا “ اور ہم نے اپنی خاص مہربانی بھی ان کے شامل حال کی (آیت) ” وجعلنا لھم لسان صدق علیا “۔ اور ہم نے ان کے لیے سچائی کی بلند زبان بھی بنائی یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کے لیے ہمیشہ رحمت کی دعائیں ہوتی رہتی ہیں ہم ہر نماز میں پڑھتے ہیں اے اللہ ! رحمت بھیج حضرت محمد ﷺ پر اور آپ کی آل پر کما صلیت علی ابراہیم وعلی ابراہیم جیسا کہ تو نے رحمت بھیج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر ، اس سے زیادہ سچی اور بلند شہرت کیا ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ثنائے جمیل ، ذکر جمیل ، شہرت اور مہربانی خاص طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کو عطا فرمائی ، ان کو نبی اور رسول بنایا قوم تو ان کو برداشت نہ کرسکی مگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہمیشہ ان کے شامل حال رہی ۔