Ayahs 19:51–57ربط آیات :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے انکے اور انکے والد کے درمیان مکالمے کا ذکر کیا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت نرم طریقے سے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی مگر والد نے بڑی سختی سے ڈانٹ دیا ، اور کہا کہ یہاں سے چلا جا ورنہ تمہیں سنگسار کر دوں گا ، چناچہ آپ اپنے آبائی وطن سے ہجرت کر گئے ، اس دوران میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی آپ کے شامل حال ہوئی اللہ آپ کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا عظیم المرتب پوتا عطا فرمایا ، یہ دونوں اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیتے تھے ، کفر وشرک کی تردید کرتے تھے اور لوگوں کو ان سے باز رہنے کی تعلیم دیتے تھے ، اللہ تعالیٰ ہاں ان کا بڑا مرتبہ ہے دنیا کی تمام بڑی بڑی اقوام ان کی تعریف کرتی ہیں اور ان کا ذکر خیر نیکی کے ساتھ ہوتا ہے ۔
(موسی (علیہ السلام) کا تذکرہ)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا ہے آپ انبیائے بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی اور رسول تھے آپ بھی توحید کے قائل تھے اور اللہ تعالیٰ ہی سے اپنی حاجتیں طلب کرتے تھے اور اسی کی رحمت پر بھروسہ رکھتے تھے ، آپ کی کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں تھے کہ آپ کو ہی معبود بنا لیا جائے ، آگے بعض دوسرے انبیاء کا بھی مجموعی طور پر ذکر آرہا ہے جن کے حالات پر اللہ تعالیٰ نے تبصرہ فرمایا ہے اور ان کے مشن کا ذکر کیا ہے ۔
تو یہاں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے (آیت) ’ واذکر فی الکتب موسیٰ “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کتاب یعنی قرآن پاک میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کریں (آیت) ” انہ کان مخلصا “ بیشک آپ منتخب شدہ برگزیدہ تھے سورة الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات اس طرح بیان کی ہے (آیت) ” یموسی انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی “۔ (ایت 44) اے موسیٰ (علیہ السلام) ! بیشک میں نے تجھے اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ منتخب کیا ہے اللہ نے آپ کو شرف تکلم بخشا ، اور فرمایا کہ آپ اسی انعام پر اکتفا کریں اور بالمشافہ دیکھنے کی خواہش نہ کریں ۔
مخلصا کی دو قراتیں ہیں ۔ اگر ” مخلصا “ پڑھا جائے تو یہ فاعل کا صیغہ بنتا ہے اور اس کا معنی ہوگا نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والے ، آپ کی عبادت بالکل خالص تھی اور اس میں شرک یاریا کا شائبہ تک نہیں تھا کیونکہ اخلاص اور برگزیدگی جبھی پیدا ہوتی ہے جب یہ چیزیں نہ ہوں سورة المؤمن میں اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” فادعوہ مخلصین لہ الدین “۔ (آیت : 65) تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اس اللہ تعالیٰ کو پکارو ، اس لفظ کی دوسری قرات ” مخلصا “ جس کا معنی منتخب شدہ برگزیدہ اور یہ مفعول کا صیغہ ہے ۔
ّ (نبی اور رسول میں فرق)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت اور نبوت کی گواہی بھی دی (آیت) ” وکان رسولا نبیا “۔ اور آپ اللہ کے رسول اور نبی تھے رسول وہ ہوتا ہے جسے اللہ نے مستقل شریعت ، کتاب یا صحیفہ عطا کیا ہو ، اور نبی وہ ہوتا ہے جس کے لیے مستقل شریعت نازل نہیں ہوتی بلکہ وہ سابقہ شریعت ہی کی تبلیغ کرتا ہے بنی اسرائیل کے ہزاروں انبیاء صرف تورات کی تعلیم دیتے رہے ، تاہم وحی الہی نبی اور رسول ہر دو پر نازل ہوتی ہے ۔
رسول اور نبی میں ایک اور امتیاز یہ ہے کہ رسول کا اطلاق انسانوں کے علاوہ ملائکہ پر بھی ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ ملائکہ کو بھی رسول بنا کر بھیجتا ہے (آیت) ” اللہ یصطفی من الملکئۃ رسلا ومن الناس “ (الحج 75) اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں میں سے اپنے رسول منتخب فرماتا ہے ، البتہ نبی کا اطلاق صرف انسانوں پر ہوتا ہے اور وہ بھی اللہ کا پیغام لاتے ہیں ، علم کلام والے نبی کی تعریف یوں کرتے ہیں ” انسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما اوحی الیہ “۔ یعنی بنی وہ ہوتا ہے جس کی طرف وحی کی جاتی ہے ایک صورت میں رسول عام ہے کہ اس کا اطلاق فرشتوں اور انسانوں دونوں انواع پر ہوتا ہے اور نبی خاص ہے کہ یہ صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں ، دوسری صورت میں نبی عام ہے کہ اس کا اطلاق نبی اور رسول دونوں پر ہوتا ہے جسکی طرف وحی کی جاتی ہے اور رسول خاص ہے کہ یہ لفظ صرف صاحب کتاب اور صاحب شریعت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سابقہ کتب کی تبلیغ کرنے والے انبیاء پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ۔
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تقرب الی اللہ)
اللہ نے فرمایا (آیت) ” ونادینہ من جانب الطور الایمن “۔ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کوہ طور پر ان کی دائیں جانب سے یہاں پر لفظ ایمن کا تعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے نہ کہ پہاڑ سے کیونکہ پہاڑ کا تو دایاں بایاں پہلو نہیں ہوتا ، تو جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دائیں طرف سے آواز دی ، یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب آپ مدین سے واپس مصر آرہے تھے ، اس کی تفصیلات اگلی سورة میں تفسیری روایات کے حوالے سے آئیں گی ، تو فرمایا ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا (آیت) ” وقربنہ نجیا “۔ اور ہم نے انہیں قریب کیا سرگوشی کے لیے اللہ تعالیٰ نے درمیان والے بہت سے حجابات اٹھا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے اتنا قریب کرلیا کہ آپ عالم بالا میں قضا وقدر کے دفتر میں ملائکہ کے قلموں کے چلنے کی آواز سن رہے تھے یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا انتہائی عروج تھا اور پھر کیا ہوا (آیت) ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ (النسآء 164) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام کیا جب کہ درمیان میں کوئی واسطہ نہیں تھا ۔
(ہارون (علیہ السلام) تذکرہ)
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ووھبنا لہ من رحمتنا اخاہ ھرون نبیا “۔ ہم نے اپنی رحمت خاصہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنایا موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی (آیت) ” واجعل لی وزیرامن اھلی ھرون اخی “۔ (طہ ، 29۔ 30) میرے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو میرا معاون بنا دے کیونکہ وہ زبان میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا کی اور پھر ان دونوں کو فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف مامور کیا کہ جا کر انہیں خدا کا پیغام سنائیں دونوں بھائی اپنی قوم بنی اسرائیل کی طرف بھی نبی تھے اور ان کی تعلیم وتربیت بھی انہی کے ذمے تھی اللہ تعالیٰ نے دونوں کو بڑی بزرگی اور شان عطا فرمائی یہ بھی لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف دیتے تھے اور کفر وشرک کی مذمت بیان کر کے لوگوں کو باز رہنے کی تلقین کرتے تھے ۔
(اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ)
پہلے ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کا ذکر گذشتہ رکوع میں ہوچکا ہے اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ مستقل عنوان کے تحت کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذکر فی الکتب واسمعیل “۔ اور آپ کتاب یعنی قرآن حکیم میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کریں ۔
حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے متعلق بیان ہوچکا ہے کہ آپ حضرت ابراہیم کی بڑی بیوی حضرت سارہ ؓ کے بطن سے تھے ، اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ہاجرہ ؓ تھیں جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہجرت کرکے مصر پہنچے تو مصر کے بادشاہ نے حضرت ہاجرہ ؓ لونڈی حضرت سارہ ؓ کو خدمت کے لیے دی تھی آپ نے یہ لونڈی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بخش دی جنہوں نے ان سے نکاح کرلیا اور اللہ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند عطا کیا البتہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پہلے پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اس کے چودہ سال بعد تولد ہوئے پھر آگے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے اتنی کثیر اولاد پیدا کی کہ پورا عرب وعجم ان سے بھر گیا عرب کے لوگ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے ، اللہ نے آپ کا تذکرہ کرکے مشرکین عرب کو تنبیہ کی کہ دیکھو تمہارے آباؤ اجداد ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تو اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دیتے تھے مگر تم شرک میں کیسے مبتلا ہوچکے ہو ؟
(وعدے کی سچائی)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی یہ صفت بیان کی ہے (آیت) ” انہ کان صادق الوعد “۔ بیشک آپ بڑے سچے وعدے والے تھے (آیت) وکان رسولا نبیا “۔ اور آپ اللہ کے رسول اور نبی تھے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام تو بلاشبہ وعدے کے سچے ہوتے ہیں مگر عام مومنوں میں بھی صفت پائی جانی چاہئے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” العدۃ دین “۔ یعنی وعدہ ایک قرض ہوتا ہے جس کا چکانا ضروری ہے ، وعدہ کرکے خلاف ورزی کرنا منافق کی نشانی ہے کیونکہ منافق کی ایک نشانی یہ ہے ” اذا وعدا خلف “ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص نے اسماعیل (علیہ السلام) سے کسی مقام پر ملنے کا وعدہ کیا ، آپ وہاں پہنچ گئے مگر وہ شخص نہ آیا حتی کہ مختلف روایات کے مطابق آپ کو وہاں پر تین دن ، ایک ماہ یا سال بھر انتظار کرنا پڑا پابندی عہد کی یہ عمدہ مثال ہے ۔
ابوداؤد شریف میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ قبل از نبوت حضور ﷺ کی لین دین کے معاملہ میں عبداللہ ابن ابو رحمۃ اللہ علیہلحمساء نامی شخص سے بات چیت ہوگئی ، اس نے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریں میں ابھی فلاں چیز لے کر آتا ہوں اتفاق کی بات کہ وہ شخص اپنا وعدہ بھول گیا ، تین دن کے بعد اسے وعدہ یا آیا اور وہاں پہنچا تو حضور ﷺ کو اپنا منتظر پایا آپ نے فرمایا اے نوجوان ! تو نے حضور ﷺ کو اپنا منتظر پایا آپ نے فرمایا اے نوجوان ! تو نے ہمیں مشقت میں ڈال دیا ، اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بھی وعدے کے بڑے پکے اور سچے تھے ۔
وعدہ اللہ سے کیا ہو یا مخلوق سے اس کا ایفا ضروری ہے تاجروں کو اپنے وعدے کا ضرور پاس کرنا چاہئے اور یہی ذمہ داری کار پردازان حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اندرونی اور بیرونی معاہدات پر عمل درآمد کریں ، اخلاق کا دارومدار ایفائے عہد پر ہے اور یہی کامیابی کی ضمانت ہے وعدہ خلافی کرنے والا منافق ہمیشہ ذلیل و خوار ہی ہوتا ہے ، تو اللہ نے فرمایا کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سچے وعدے والے اور اللہ کے رسول اور نبی تھے ۔
(نماز اور زکوۃ کی تاکید)
فرمایا (آیت) ” وکان یامر اھلہ بالصلوۃ والزکوۃ “ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کی تاکید کرتے تھے اہل سے مراد پوری قوم بھی ہو سکتی ہے کہ سب کو نماز پڑھنے اور زکوۃ ادا کرنے کی تعلیم دیتے تھے ، یہ دونوں بنیادی عبادات ہیں ، نماز کے ذریعے تعلق باللہ استوار ہوتا ہے اور زکوۃ کے ذریعے مخلوق خدا کے ساتھ تعلقات کی استواری ہوتی ہے اور یہ نفس کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہے ایک مومن اور غیر مومن کے درمیان یہی عبادات علامات فارقہ بھی ہیں ، سورة التوبہ میں ہے (آیت) ” فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین “۔ (آیت۔ 11) کفار ، مشرکین اور منافقین کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوۃ ادا کرنے لگین تو وہ تمہارے دینی بھائی بن گئے ، اب جھگڑے ختم ہوگئے ، ان سے جنگ کرنے کی ضرورت نہیں مطلب یہ کہ جو شخص ان دو عبادات ، نماز اور زکوۃ کی ادائیگی شروع کر دے وہ جماعت المسلمین کا ممبر بن گیا ، اگر یہ عبادات انجام نہیں دیتا تو پھر دین کے ساتھ اس کی وفاداری مشکوک ہے ۔
(اللہ کے پسندیدہ بندے )
(آیت) ” وکان عند ربہ مرضیا “۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اپنے پروردگار کے ہاں پسندیدہ شخصیت تھے ، ظاہر ہے کہ آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے ، وعدے کے سچے اور اعلی اخلاق کے مالک تھے ، صرف خدا کی عبادت کرتے تھے اور لوگوں کو بھی توحید کی دعوت دیتے تھے ، نماز اور زکوۃ کی پابندی کی تعلیم دیتے تھے ، یہ سب باتیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ ہیں گویا آپ اللہ تعالیٰ کے منظور نظر تھے مراد یہ ہے کہ عربوں کو بھی لازم ہے کہ وہ انہی کا طریقہ اختیار کریں جن کی وہ اولاد ہیں کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اپنا لیں ، کتنی بری بات ہے کہ اپنی نسبت تو ان پاک ہستیوں کی طرف کرتے ہیں مگر ان کے طریقے کے سراسرا خلاف چلتے ہیں ۔
(حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ)
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا ہے (آیت) ” واذکر فی الکتب ادریس “۔ اور آپ کتب یعنی قرآن میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کریں حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ آپ نوح (علیہ السلام) سے پہلے تھے یا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بنی سرائیل میں سے ہوئے ہیں ، بائیبل میں آپ کا لقب اخنوخ بیان کیا گیا ہے ، صاحب مدارک (رح) اور امام بغوی (رح) وغیرہ لکھتے ہیں کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور آپ پر کئی صحیفے بھی نازل ہوئے یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے بنی نوع انسان کی سہولت کے لیے کئی چیزیں ایجاد کیں ، مثلا سب سے پہلے قلم کے ساتھ لکھنا انہوں نے شروع کیا ، کپڑے سینے کی سوئی اور جنگی اوزار انہی کی ایجاد ہیں ، انہوں نے ترازو بھی بنایا آپ علم فلکیات میں بھی دسترس رکھتے تھے ، دنیا میں ریاضی کا نظام بھی اللہ نے آپ ہی کے ذریعے جاری کیا ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” انہ کان صدیقا نبیا “۔ بیشک وہ صدیق اور نبی تھے ۔
(آپ کا مرتبہ عالیہ)
(آیت) ” ورفعنہ مکانا علیا “۔ ہم نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کو بڑا بلند مقام عطا فرمایا ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ (آیت) ” مکانا علیا “ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ ہی آسمان پر اٹھا لیا تھا ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ شب معراج میں چوتھے آسمان پر حضور ﷺ کی ملاقات حضرت ادریس (علیہ السلام) سے بھی ہوئی تھی ، اسرائیلی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی کسی فرشتے کے ساتھ دوستی ہوگئی تھی اور فرشتہ انہیں اپنے پروں میں چھپا کر آسمانوں پر لے گا پھر جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ملک الموت آپ کو زمین پر تلاش کرنے لگا مگر اس میں ناکام ہوا پھر اس کی ملاقات اس فرشتے سے ہوگئی فرشتے نے ملک الموت سے دریافت کیا کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی زندگی کا کتنا حصہ باقی ہے تو اس نے کہا کہ میں تو انہیں کی تلاش میں ہوں کیونکہ ان کا وقت قریب آچکا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ان کی روح چوتھے آسمان پر قبض کروں فرشتے نے اپنے پر کھولے تو حضرت ادریس (علیہ السلام) وہاں موجود تھے چناچہ ان کی روح وہیں قبض کی گئی ، اس روایت کو کعب احبار نے بیان کیا ہے مگر یہ یقینی بات نہیں ہے صرف آپ کا چوتھے آسمان پر ہونا صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
(آیت) ” مکانا علیا “۔ سے شرف اور بزرگی بھی مراد ہوسکتی ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی جو نوع انسانی میں بلند ترین مرتبہ ہے آپ پر صحیفے بھی نازل ہوئے تو گویا آپ عالی مرتبت ہیں اس آیت میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا اجمالی بیان ہے ، تاہم آپ کا مجموعی تذکرہ جس میں آپ کی تبلیغ اور مشن کا ذکر ہے بعد میں آئے گا ۔
Ayahs 19:58–62ربط آیات :
گذشتہ دروس میں بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے فرزند اسحاق (علیہ السلام) اور پوتے یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر ہوا پھر موسیٰ (علیہ السلام) کا خاص طور پر اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ضمنا ذکر آیا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے صادق الوعد ہونے کا ذکر کیا آپ کو نبی اور رسول بھی کہا گیا ہے رسول وہ ہوتا ہے جس پر مستقل کتاب یا شریت نازل ہو ، مگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے متعلق مفسرین کرام عام طور پر کسی کتاب کا ذکر نہیں کرتے ، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو رسول کس بناء پر کہا گیا ہے اس سلسلہ میں مفسر قرآن حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بیان کرتے ہیں کہ رسالت کے لیے جدید شریعت یا کتاب ہونا ضروری ہے جدید شریعت یا تو نبی کے لحاظ سے ہوتی ہے یا پھر امت کے لحاظ سے نبوت کے لحاظ سے تو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو جدید شریعت نہیں ملی بلکہ آپ اپنے باپ اور عظیم رسول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کی ہی تبلیغ کرتے تھے ، تاہم آپ کے مخاطبین ضرور جدید لوگ تھے یہ بنی جرہم کے لوگ تھے جو اصلا یمن کے باشندے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کو موجودہ مکہ مکرمہ کے مقام پر چھوڑ گئے تھے جہاں آب زم زم کا چشمہ بھی جاری ہوچکا تھا عرب کی سرزمین میں پانی کی سخت قلت ہے قوم بنی جرہم کا ایک تجارتی قافلہ اس مقام کے قریب سے گزرا تو انہیں یہاں پانی کا احسان ہوا جب انہوں نے حضرت ماجرہ ؓ سے وہاں آباد ہونے کی درخواست کی تو آپ نے قبول کرلی اور یہ لوگ آباد ہوگئے اور اسی خاندان میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی شادی بھی ہوئی ، چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) انہیں جدید لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے ، اس لیے آپ رسول بھی ہیں اور نبی بھی ، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں کے علاوہ بھی حضرت اسماعیل کی طرف کچھ صحیفے نازل ہوئے ہوں جن سے ہم مطلع نہیں بہرحال اللہ نے آپ کو نبی اور رسول کہا ہے ۔
گذشتہ درس میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کے متعلق گزر چکا ہے (آیت) ” ورفعنہ مکانا علیا “ اس سے آپ کا درجہ اور شرافت مراد ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت کے بلند درجے پر فائز فرمایا عربی زبان میں ان الفاظ کا درجے اور مرتبے کے لیے استعمال ہونا ہونا پرانی شاعری میں بھی ملتا ہے حضور ﷺ کے صحابی اور شاعر نابغہ جہدی ؓ نے اپنے خاندان کی شرافت اور بزرگی کا تذکرہ اس شعر میں کیا ہے ۔
بلغنا السمآء مجدنا وثنآء نا
وانا لنرجوا فوق ذلک مظھرا ‘ :
ہم تو آسمان کی بلندیوں تک پہنچ چکے ہیں اپنی بزرگی اور رونق کی وجہ سے اور ہم اس سے آگے کے مظہر یعنی جلوہ گاہ کے بھی امیدوار ہیں یہ شعر سن کر حضور ﷺ نے فرمایا اے ابولیلی این المظہر وہ مظہر کہاں ہے جس کے تم امیدوار ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ وہ جنت ہے جس کے ہم طالب ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ، اگر اللہ نے چاہا تو تم وہاں تک بھی پہنچ جاؤ گے ، بہرحال یہ درجے اور مرتبے کی بلندی ہے جو حضرت ادریس (علیہ السلام) کے حصے میں آئی بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آپ پر تیس صحیفے نازل ہوئے آپ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اجداد میں سے تھے جب حضرت ادریس (علیہ السلام) کی عمر ساٹھ برس ہوئی تو آپ کے ہاں فرزند پیدا ہوا جس کا نام متوشلخ تھا یہ نوح (علیہ السلام) کے دادا تھے اس کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) مزید تین سو سال تک بقید حیات رہے ۔ اس طرح انہوں نے تین سوساٹھ سال کی عمر پائی ، پھر یا تو انہیں آسمان پر اٹھالیا گیا تھا اور وہیں ان کی وفات ہوئی اور یا پھر زمین پر ہی فوت ہوئے ۔
(انعام یافتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام)
ان چند انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کرنے اور ان کی خصوصیات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” اولئک الذین انعم اللہ علیہم “۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ” من النبیین من ذریۃ “ آدم یہ لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں سے تھے یعنی سب کے سب حضرات زکریا ، یحی ، ابراہیم ، اسحاق ، یعقوب ، اسماعیل ، موسیٰ ، ہارون ، اور ادریس (علیہم السلام) اللہ کے برگزیدہ نبی تھے اور پھر اس سورة کے آخری حصے میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا ذکر بھی آئے گا ، فرمایا یہ سارے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے انسان اور بشر تھے اور یہ ان میں سے بھی تھے (آیت) ” وممن حملنا مع نوح “ جن کو ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے کشتی میں سوال کیا اس وقت روئے زمین پر تمام نافرمان نابود کردیے گئے اور صرف وہی بچے ، جو کشتی نوح پر سوار ہوگئے ، پھر آگے دنیا کی آبادی کشتی میں سوار نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حام ، سام اور یافث سے ہوئی ابراہیم (علیہ السلام) اور سارے عرب سام کی اولاد میں سے تھے غرضیکہ فرمایا کہ یہ نبی ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا ۔
اور پھر ان میں سے بہت سے (آیت) ” ومن ذریۃ ابراہیم واسرآء یل “۔ حضرات ابراہیم اور یعقوب (علیہما السلام) کی اولاد میں سے تھے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ فرزند تھے جن سے آگے بارہ قبیلے بنے اور شام و فلسطین میں پھیل گئے ، ادھر اسماعیل کے بھی بارہ بیٹے تھے آپ کی نسل پورے میں پھیل گئی ، ان سب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے متعلق فرمایا (آیت) ” وممن ھدینا “ کہ یہ ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کی (آیت) ” واجتبینا “ جن کو ہم نے پسند کیا اور برگزیدہ بتایا ، فرمایا ان سب کی حالت پر تھی (آیت) ” اذا تتلی علیھم ایت الرحمن “ کی جب ان کو خدائے رحمن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں (آیت) ” خروا سجدا وب کیا “۔ تو روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ۔
ان تمام مذکورہ انبیاء میں سے کوئی بھی الہ نہیں تھا ، نہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کی الوہیت کا درس دیا ، بلکہ وہ سب کے سب اللہ وحدہ لاشریک کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے تھے اور اپنی اپنی اقوام کو یہی درس دیتے رہے ، مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ ان کے بعد لوگوں نے انہی کو معبود بنا لیا ، عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کا درجہ دے دیا ، یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور ابراہیم (علیہ السلام) کو تمام اختیار سونپ دے کہنے لگے کہ آپ دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوجائیں گے ، اور کسی ختنہ شدہ یہودی کو دوزخ میں نہیں گرنے دیں گے ، انہوں نے اللہ کی صفات میں ان انبیاء کو شریک کرلیا حالانکہ وہ سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے والے تھے اور اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا ، اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کو بچپن سے ہی بڑی بڑی آزمائشوں میں ڈالا اور پھر ان کو سرخرو کیا ، یہ ساری بات اللہ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بیان فرمائی ہے ۔
(نالائق جانشین)
آگے اللہ تعالیٰ نے وہ وجہ بیان کی ہے جس کی بناء پر لوگوں نے اللہ کے برگزیدہ انبیاء کو الوہیت کے منصب پر فائز کردیا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فخلف من بعدھم خلف “۔ پھر ان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد ایسے نالائق لوگ آئے ، ” خلف “ نالائق کو کہتے ہیں جو جانشینی کا حق ادا نہ کرسکے ، یہ ایسے ہی ہے جیسے ہندی میں لائق بیٹے کو سپوت اور نالائق کو کپوت کہا جاتا ہے ، تو ان کے بعد نالائق آئے (آیت) ” اضاعوا الصلوۃ “ جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا ، اور وہ ایسی عبادت کو چھوڑ بیٹھے جس کے ذریعے تعلق باللہ استوار ہوتا ہے ، اس کے علاوہ (آیت) ” واتبعوا الشھوت “۔ انہوں نے خواہشات کی پیروی کی اور اچھے برے میں تمیز نہ کی ، آج کل پوری دنیا میں یہ بیماری عام ہے ہر کوئی کھیل تماشے ، لہو ولعب ، زیب وزینت اور آرام و آسائش کے پیچھے بھاگ رہا ہے کافر تو ویسے ہی محاسبہ اعمال کو تسلیم نہیں کرتے اب مسلمان بھی ان کی دیکھا دیکھی اسی روش پر چل نکلے ہیں ، بہت قلیل نمازی وہ گئے ہیں ، ورنہ اکثریت بےنمازوں کی ہے تو اللہ نے فرمایا کہ پھر ایسے نالائق لوگ آئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات کے پیچھے چل پڑے ، فرمایا (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ یہ لوگ عنقریب گمراہی کے نتیجے کو پہنچیں گے ، غی جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے اگر یہ معنی کیا جائے تو مطلب ہوگا کہ ایسے نالائق جہنم کی وادی غی میں پہنچیں گے جو اللہ نے گمراہوں کے لیے مقرر کر رکھی ہے غرضیکہ گمراہی کا نتیجہ یقینا ان کے سامنے آنے والا ہے ۔
(نیک لوگوں کے لیے جنت)
البتہ گمراہی سے بچ نکلنے والے نیک لوگ بھی ہوں گے (آیت) ” الا من تاب وامن “ ہاں وہ جو تائب ہوگئے ار اللہ کی وحدانیت پر ایمان لے آئے ۔ (آیت) ” وعمل صالحا “ اور کچھ نیک اعمال بھی انجام دیے (آیت) ” فاولئک یدخلون الجنۃ “ یہی لوگ ہیں جو یقینا جنت میں داخل ہوں گے ایسے باغات جو رہائش کے قابل ہوں گی ، نیک لوگ ان میں داخل ہوں گے (آیت) ” ولا یظلمون شیئا “۔ اور ان پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائیگی بلکہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا فرمایا (آیت) ” جنت عدن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب “۔ ان چیزوں کا اللہ نے اپنے بندوں کے ساتھ بغیر دیکھے ودہ کر رکھا ہے ، لوگوں نے مذکورہ جنت کو دیکھا نہیں مگر انہوں نے جنت اور دوزخ کو برحق تسلیم کیا ہے لہذا انہیں یہ انعام ضرور ملے گا ، (آیت) ” انہ کان وعدہ ماتیا “۔ بیشک تیرے پروردگار کا یہ وعدہ سامنے آنے والا ہے یعنی یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا ۔
فرمایا ان بہشتوں کی کیفیت یہ ہوگی (آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا “۔ کہ یہاں کے رہنے والے یہاں کوئی بیہودہ بات نہیں سنیں گے (آیت) ” الا سلما “ وہاں تو سلامتی ہی سلامتی کی آوازیں آئیں گی ، فرشتے بھی سلام کریں گے اور جتنی بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے ، اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام ہوگا (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “۔ (یسین) کسی نے جنت کی تعریف یوں کی ہے ۔
بہشت آنجا کہ آزارے نہ باشد کسے رابا کسے کارے نہ باشد :
وہاں ہر شخص مطمئن ہوگا ، ہر شخص باعزت ہوگا کسی کو تحقیر وتذلیل نہیں ہوگی نہ کوئی ذہنی کوفت ہوگی اور نہ جسمانی اذیت پہنچے گی ۔
فرمایا (آیت) ” ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا “۔ اہل جنت کے لیے صبح وشام بہترین روزی کا انتظام ہوگا عام طور پر لوگ دنیا میں بھی صبح اور شام کھانا کھاتے ہیں ، تو بہشت میں بھی نیک آدمیوں کو انہی اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر محنت ومشقت بہترین روزی میسر ہوگی ، دنیا میں تو گزر اوقات کے لیے ہزار جتن کرنے پڑتے ہیں ، پریشانیاں اٹھانا پڑتی ہیں اور پھر کہیں دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے مگر جنت میں اللہ تعالیٰ بغیر محنت کے باعزت روزی عطا فرمائیگا ، اہل جنت کی خواہش کا احترام کیا جائے گا اور ان کی من پسند مہمان نوازی کی جائیگی ۔
Ayahs 19:63–65ربط آیات :
حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق عقیدہ الوہیت کے بطلان کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا اور پھر آخر میں ان سب کا مشترکہ مسلک بیان فرمایا یہ سب اللہ تعالیٰ کے ہدایت یافتہ اور برگزیدہ بندے تھے ابتداء میں حضرت زکریا (علیہ السلام) اور یحی (علیہ السلام) کا ذکر ہوا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا تذکرہ ہوا ، ان سب پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدائے رحمان کے ان برگزیدہ بندوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیات تلاوت کی جائیں تو یہ روتے ہوئے سجدہ میں گر پڑتے ، یہ تمام حضرات اللہ کے سامنے عاجزی کرتے تھے اور اسی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے ، یہ لوگ شرک سے بیزار تھے اور لوگوں کو بھی توحید کی دعوت دیتے تھے ، پھر بعد میں آنے والوں نے مسیح (علیہ السلام) کو الہ بنا لیا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کو بھی اللہ تعالیٰ کی صفت الوہیت میں شریک کرلیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پہلے لوگ تو اچھے تھے مگر بعد میں آنے والے لوگ نالائق ثابت ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کردیا ، اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑگئے پھر اللہ نے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دینے والوں کے بدلے اور ان کے مقام کا ذکر بھی کیا ۔
(تلاوت)
گذشتہ درس میں یہ آیت گزر چکی ہے کہ رحمان کے بندوں کے سامنے اللہ کی آئتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں سجدہ اللہ تعالیٰ کی سامنے انتہائی عاجزی ، نیاز مندی ، انکساری ، خشوع و خضوع کا اظہار ہوتا ہے ، امام ابوبکر جصاص (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت سے سجدہ تلاوت کے وجوب کی دلیل ملتی ہے قرآن پاک کے کل چودہ مقامات سجدہ میں سے ایک یہ بھی ہے آیات سجدہ کو پڑھنے اور سننے والوں پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے قاری تو فورا سجدہ کرلے گا اور سامع اگر طہارت سے نہیں تو بعد میں طہارت کر کے سجدہ کرے کیونکہ یہ اس کے ذمے واجب ہے امام مالکرحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے ائمہ کرام کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے ۔
(جنت متقین کے لیے ہے)
آج کی پہلی آیت میں بھی جنتیوں کے استحقاق کے متعلق ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا “ یہ وہ جنت ہے کہ جس کا ہم وارث بنائیں گے اپنے بندوں میں سے اور بندے وہ ہوں گے (آیت) ” من کان تقیا “ جو پرہیزگار ہوں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ متقی سے مراد ایسا شخص ہے جو کفروشرک سے بچنے والا ہو ، اس درجے کا اتقا ہر شخص کے لیے لازم ہے ورنہ جنت کا داخلہ ممکن نہیں ہوگا اس کے بعد کبائر وصغائر اور شکوک و شبہات سے بچنا اعلی درجہ اور کامل الایمان ہونے کی دلیل ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کی تعریف یوں کرتے ہیں ” محافظت برحدود شرع “ یعنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی حفاظت کا نام تقوی ہے ، ان حدود سے مراد عقیدے اعمال ، اخلاق اور شریعت کی تمام حدود ہیں ، ان کی حفاظت کا نام ہی تقوی ہے اور اللہ تعالیٰ نے جنت کا وارث متقین کو بنایا ہے ۔
(جنت کی وراثت کا فلسفہ)
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ جنت کی وراثت دو وجوہ سے ہے پہلی بات ہے کہ جنت تمام نسل انسانی کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی وراثت ہے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد آپ کو اور آپ کی زوجہ کو جنت کی سکونت عطا کی اور فرمایا (آیت) ” وکلا منھا رغدا حیث شئتما “۔ تم دونوں اس میں رہ کر جہاں سے چاہو خوب کھاؤ پیو ، البتہ ایک درخت کے قریب نہ جانا ، آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کو جنت تو مل گئی گئی مگر حکمت خداوندی کہ ان سے ایک لغزش ہوگئی جس کی بناء پر انہیں جنت سے نکلنا پڑا اللہ نے فرمایا (آیت) ” قلنا اھبطوا منھا جمیعا “۔ تم یہاں سے نکل جاؤ ادھر شیطان کو بھی جنت سے نکال دیا پھر آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے فرمایا (آیت) ” فاما یتنکم منی ھدی فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (البقرۃ ۔ 28) پھر جب تمہارے پاس میرے طرف سے ہدایت یعنی رسول اور کتابیں آئیں تو جو کوئی ان کو اتباع کرے گا اس کے لیے کوئی خوف وغم نہیں ہوگا ، اللہ نے یہ بھی بتلا دیا کہ اے اولاد آدم (آیت) ” ولکم فی الارض مستقرومتاع الی حین “۔ (آیت۔ 26) تمہیں اس زمین پر ٹھہرنا ہوگا ، اور ایک خاص مدت تک فائدہ اٹھانا ہوگا ، اس کے بعد پھر اللہ کے دربار میں پیش ہوجاؤ گے اب تمہارے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی وارثت کا مستحق وہی شخص ہوگا جس نے میری ہدایت کو اختیار کر کے میری توحید کو تسلیم کیا اور نیک اعمال انجام دے ، گویا جنت کی وارثت اس شرط کے ساتھ مشروط کردی گئی ۔
جنت کی وراثت سے متعلق حدیث شریف میں دوسری بات یہ آتی ہے کہ ہر شخص کے لیے دو ٹھکانے ہیں ایک جنت میں اور دوسرا دوزخ میں جب کوئی شخص جنت میں جائے گا تو اس کا جہنم والا ٹھکانا کافروں کو مل جائے گا جو کہ ان کی وراثت سمجھا جائے گا اور جب کوئی شخص جہنم میں جائیگا تو اس کا جنت والا ٹھکانا اہل ایمان کو مل جائے گا اور یہ ان کی وراثت ہوگا ، غرضیکہ جنت کی وراثت کا یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے اور یہ اسے حاصل ہوگا جو متقی ہوگا ۔
(نزول ملائکہ کا اشتیاق)
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما نتنزل الا بامر ربک “۔ اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے پروردگار کے حکم سے ، گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہم صرف متقیوں کو ہی جنت کا وارث بناتے ہیں اب تفصیلا یہ فرما دیا کہ ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے اس سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ آیت بھی اللہ بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یا یہ کسی اور کی طرف منسوب ہے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ بعض اوقات قرآن پاک کے سیاق وسباق کو سمجھنا اس لیے دشوار ہوجاتا ہے کہ لوگ کلام کے مرجع کو نہیں سمجھ پاتے ، یہاں بھی ایسا ہی معاملہ ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ بات براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی زبان سے کہلوایا ہے کہ ہم تیرے پروردگار کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے ۔
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ حضور ﷺ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی آمد کا بڑا شوق رہتا تھا اور جب کبھی ان کے آنے میں دیر ہوجاتی تو آپ کا اشتیاق مزید بڑھ جاتا ، بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ کسی نے سوال کیا جس کا جواب آپ کو وحی الہی کے ذریعہ مطلوب ہوتا تو جب بھی آپ جبرائیل کے منتظر رہتے چناچہ گذشتہ سورة میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ساتھ سازباز کر کے آپ ﷺ سے اصحاب کہف ، روح اور ذوالقرنین کے متعلق سوالات کیے تھے جن کے جوابات اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل اور سورة کہف کے ذریعے دیے ایسے مواقع پر جب جبرائیل (علیہ السلام) کی آمد معمول سے مؤخر ہوجاتی تو حضور ﷺ پریشان ہوجاتے ایسے ہی ایک موقع پر آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا ” الا تزور اکثر مما تزور “۔ اے جبرائیل ! آپ عام معمول سے زیادہ کیوں نہیں نازل ہوتے ؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور دیگر فرشتوں کا یہ جواب ارسال کیا ہم نہیں اترتے مگر تیرے پروردگار کے حکم سے مطلب یہ کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو اس کا پیغام لے کر حاضر ہوجاتے ہیں ۔
ا س قسم کی مثال سورة الصفت میں بھی ملتی ہے (آیت) ” وما منا الا لہ مقام معلوم ، وانا لنحن الصآفون “۔ (آیت : 164 ، 165) اللہ نے فرشتوں کی طرف سے یہ کلام پہنچایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کا مقام مقرر ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور صف بستہ حاضر رہتے ہیں ہم عبادت الہی اور تفویض شدہ ڈیوٹی میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے اور اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔
اس سے ملائکہ کو معبود ماننے والوں کا رد بھی ہوگیا جو فرشتے خود اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں وہ معبود کیسے ہوسکتے ہیں لہذا جو کوئی فرشتوں کو الہ مان کر ان سے حاجت طلب کرے گا وہ مشرک بن جائے گا ، آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لہ مابین ایدینا وما خلفنا “۔ سب کچھ اسی اللہ تعالیٰ کا ہے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے (آیت) ” وما بین ذلک “ اور جو کچھ درمیان میں ہے گویا ہر طرح کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، سامنے سے مراد مستقبل ، پیچھے سے مراد ماضی اور درمیان سے مراد زمانہ حال بھی ہو سکتا ہے مطلب یہ ہے کہ ہمارے ماضی ، حال اور مستقبل اور ہمارے تمام اطراف کے اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ، وہ اپنے اختیارات کو جس طرح چاہے استعمال کرے ، ہم سارے فرشتے اللہ کے حکم کے مطیع ہیں اور اسی کے حکم سے نازل ہوتے اور وحی لاتے ہیں ، لہذا جلدی یا بدیر آنے میں ہمارا کوئی بس نہیں ہے (آیت) ” وما کان ربک نسیا “۔ اور ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ کو کسی حکم کا انتظار ہو اور اللہ تعالیٰ پیغام دینا ہی بھول جائے بلکہ وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق جب چاہتا ہے ہمیں پیغام دے کر آپ کی طرف بھیج دیتا ہے ۔
(عبادت خداوندی پر استقامت)
فرمایا (آیت) ” رب السموت والارض وما بینھما “۔ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں ، زمین اور درمیانی فضا کا تربیت کنندہ ہے ہر چیز کو حد کمال تک پہنچانا اسی کے اختیار میں ہے آپ کا کام یہ ہے (آیت) ” فاعبدہ “۔ کہ عبادت اسی کی کریں ، جب وہ لاشریک ہے تو پھر عبادت کا مستحق بھی وہی ہے ، ساتھ یہ بھی فرمایا (آیت) ” واصطبر لعبادتہ “۔ آپ اسی کی عبادت پر قائم رہیں یعنی خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں ، اگر ایسا کریں گے تو یقینا گرفت ہو کہ سزا ہوگی تمام فرشتے اور تمام انبیاء اسی ذات کی عبادت کرنے والے ہیں لہذا آپ بھی اسی قائم رہیں اس سے عبادت پر صبر کرنا بھی مراد لیا جاسکتا ہے ظاہر ہے کہ عبادت کے لیے بھی مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے ، نماز کے لیے سردی گرمی میں وضو کرنا لمبا قیام ، رکوع اور سجود کرنا ، وقت کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھنا مشقت طلب امور ہیں ، اسی طرح روزے میں بھوک پیاس برداشت کرنا ، حج کے سفر میں مشکلات سے دو چار ہونا اور مال خرچ کرنے میں بڑی تکلیف اٹھانا پڑتی ہیں جن پر صبر کی ضرورت بھی ہوتی ہے ، لہذا عبادت پر صبر کی تلقین بھی مناسب حال ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جنت کے اردگرد ناگواریوں اور مشکلات کی باڑ لگا دی گئی ہے ، لہذا ان دشواریوں کو عبور کرکے ہی انسان جنت میں پہنچ سکتا ہے یہ بھی ایک مشکل کام ہے جس پر استقامت اور صبر کے لیے کہا گیا ہے ۔
آگے اللہ رب العزت کی صفت بیان کی گئی ہے (آیت) ” ھل تعلم لہ سمیا “ کیا تو اس کا کوئی ہم نام جانتا ہے ، سمیا کا معنی ہم نام ہونا تو یحی (علیہ السلام) کے ضمن میں پہلے بھی گزر چکا ہے (آیت) ” لم نجعل لہ من قبل سمیا “۔ اللہ نے یحی (علیہ السلام) کی ولادت کی خبر دی اور ساتھ فرمایا کہ اس نام کا پہلے کوئی بچہ نہیں ہوا ، اور سمیا کا معنی ہم مثل ہے ؟ یقینا نہیں ہے اللہ تعالیٰ تو ہر لحاظ سے بےمثل وبے مثال ہے (آیت) ” لیس کمثلہ شیء “۔ (الشوری ۔ 11) اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں بےمثل ہے ، اس کی مثال کوئی چیز نہیں ہے وہ وحدہ لا شریک ہے ، لہذا اس کی عبادت میں بھی کسی کو شریک نہیں کرنا چاہئے ، لہذا اسی کی عبادت پر قائم رہیں۔
Ayahs 19:66–72ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کا ذکر کرنے کے بعد ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے انعام کا ذکر کیا کہ وہ بہشتوں میں رہیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان بہشتوں کی خوبی اور فضیلت بھی بیان فرمائی ، یہ بہشت ان لوگوں کو ملے گی جو متقی یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بداعتقادی ، اور گناہوں سے بچنے والے ہوں گے ،
پھر اللہ نے فرشتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے بلکہ پروردگار کے حکم کے مطابق ہی ہمارا نزول ہوتا ہے اور ہم اللہ کی طرف سے مفوضہ کام پورا کرتے ہیں وہی پروردگار جو ارض وسما اور تمام چیزوں کا رب ہے اسی کی عبادت پر قائم رہنا چاہئے ، وہ بےمثل اور بےمثال ہے ۔
(بعث بعد الموت)
آگے اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کے نظریہ بعث بعد الموت کو بیان فرمایا ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ویقول الانسان “۔ اور انسان کہتا ہے ، یہاں پر انسان سے مراد کافر اور مشرک انسان ہیں وہ کہتے (آیت) ” ء اذا ما مت لسوف اخرج حیا “۔ کیا جب میں مرجاؤں گا تو پھر دوبارہ زندہ نکالا جاؤں گا ؟ یہ تو ناممکن ہے ، دراصل ایسا شخص وقوع قیامت کا انکار کرتا ہے اور محاسبے کے عمل پر یقین نہیں رکھتا ، سورة السجدۃ میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ایسے لوگ کہتے ہیں (آیت) ” ء اضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید “۔ (آیت ، 10) کیا جب ہم مر کر مٹی میں رل مل جائیں گے تو کیا پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟ یہ بات تو عقل سے بعید معلوم ہوتی ہے ، جب کوئی شخص محاسبے پر یقین نہیں رکھتا تو پھر وہ آزاد ہو کر کفر اور شرک کرنے لگتا ہے اللہ نے ایسے لوگوں کا رد فرمایا ہے اور پھر بعث بعدالموت ، کو ایک دلیل کے ذریعے سمجھایا ہے (آیت) ” اولا یذکر الانسان “۔ کیا انسان اس بات کو یاد نہیں رکھتا (آیت) ” انا خلقنہ من قبل “۔ کہ ہم نے اس سے پہلے بھی اسے پیدا کیا (آیت) ” ولم یک شیئا “۔ اور وہ کوئی (قابل ذکر) چیز نہ تھا ۔
کیا انسان اس حقیقت پر غور نہیں کرتا کہ جس اللہ نے اسے نیستی سے ہستی میں وجود بخشا جب کہ اس سے پہلے وہ کچھ نہیں تھا تو اس کے لیے دوبارہ پیدا کرنا کونسا امر محال ہے اگر اللہ تعالیٰ کے لیے تخلیق کرنا مشکل ہوتا تو پہلی دفعہ ہوتا وہ تو قادر مطلق ہے اس کے لیے نہ پہلی دفعہ پیدا کرنا مشکل تھا اور نہ اس کا اعادہ کرنا ، مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنی تخلیق کو تسلیم کرتے ہو تو اب دوبارہ پیدا کرنا کیسے محال ہوگا جب کہ اس کا نقش پہلے سے موجود ہے ۔
اس میں مادے کو ابدی ماننے والوں کا رد بھی ہوگیا ، ان کا یہ نظریہ غلط ثابت ہوگیا ہے کہ وہ مادہ ازل سے موجود ہے اور اس کے ساتھ تصویر آکر مل جاتی ہے تو انسان بن جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت تامہ اور حکم بالغہ سے انسان کو پیدا کیا ہے وہ جب چاہے گا اس کا اعادہ بھی کرے گا ۔
(محاسبہ اعمال)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کی بات کی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فوربک لنحشرنھم والشیطین “۔ تیرے پروردگار کی قسم ہم ضرور ان کو یعنی انسانوں اور شیطانوں کو اکٹھا کریں گے ، شیطان ہی انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا تھا کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے ، ہماری ہڈیاں بوسیدہ ہوجائیں گی تو پھر کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ، اس لیے فرمایا کہ ہم انسانوں اور شیاطین دونوں گروہوں کو جمع کرلیں گے ، (آیت) ” ثم لنحضرنھم “ پھر ہم ان کو حاضر کریں گے (آیت) ” حول جھنم جثیا “۔ جہنم کے گرد اس حالت میں کہ وہ گھنٹے ٹیکنے والے ہوں گے ، مطلب یہ کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر مجرموں کی حیثیت میں پیش ہوں گے ۔ (آیت) ” ثم لننزعن من کل شیعۃ “۔ پھر ہم ہر گروہ میں سے ایسے لوگوں کو الگ کرلیں گے (آیت) ” ایھم اشد علی الرحمن عتیا “۔ جو خدائے رحمان کے سامنے زیادہ سرکشی اور اکڑ دکھاتے تھے ، مجرموں کی درجہ بندی ہوگی اور ہر ہر قسم کے مجرمین کو الگ الگ گروہوں میں پیش کیا جائے گا پھر جو بدترین مجرم ہوں گے ، ان کی سزا بھی سخت ترین ہوگی ۔ (آیت) ” ثم لنحن اعلم بالذین ھم اولی بھا صلیا “۔ پھر ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو جہنم میں داخل ہونے کے زیادہ لائق ہیں چناچہ ہم ان کے ساتھ حسب حال سلوک کریں گے ۔
(جہنم میں ورود)
درمیان میں اللہ تعالیٰ نے ایک خاص منزل کا ذکر بھی فرمایا ہے (آیت) ” وان منکم الا واردھا “۔ اور تم میں کوئی بھی نہیں مگر وہ جہنم میں داخل ہونے والا ہے یعنی ہر شخص کو ایک دفعہ جہنم میں ضرور جانا ہوگا آج کی پہلی آیت (آیت) ” ویقول الانسان “۔ میں انسان سے مراد صرف نافرمان انسان ہیں مگر یہاں پر (آیت) ” ان منکم “۔ یعنی نفی اور اثبات لا کر ہر نیک وبدانسان کا احاطہ کیا گیا ہے سب کے سب جہنم میں وارد ہونے والے ہیں ، فرمایا یہ کوئی کچی بات نہیں ہے بلکہ (آیت) ” کان علی ربک حتما مقضیا “۔ یہ بات تیرے پروردگار پر قطعی طور پر فیصلہ کی ہوئی ہے ، مفسرین کرام تمام لوگوں کے ورود جہنم کی تفسیر دو طریقے سے کرتے ہیں ایک تفسیر تو یہ ہے کہ سب لوگ بعینہ جہنم میں داخل ہوں گے ، کافر ، مشرک ، اور نافرمان تو وہاں سزا پائیں گے لیکن اہل ایمان جہنم کے شر سے محفوظ رہیں گے ، اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے کہ جب وہ آگ میں ڈالے گئے تو اللہ نے ان کے لیے آگ کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دیا ، اسی طرح مومن بھی جہنم میں جائیں گے تو ضرور مگر آگ انہیں کوئی ضرر نہ پہنچائے گی اور پھر وہ اس سے نکل جائینگے ۔
(پل صراط کی منزل)
دوسری تفسیر کی مطابق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس ورود سے مراد داخلہ نہیں بلکہ اس پر سے گزر جانا ہے ، اور جملے کا پورا مطلب یہ ہے کہ جنت میں جانے والے دوزخ پر سے گزر کر جنت میں جائیں گے ، اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت میں طے ہوچکی ہے ، اس بات کی تفصیل پل صراط ولی احادیث میں موجود ہے پل صراط کا ذکر تو مرفوع حدیث میں موجود ہے مگر اس کی تفصیلات مرفوع روایات میں نہیں ملتیں مسلم شریف میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کا قول ہے کہ پلصراط تلوار سے تیز اور بال سے باریک ہوگی ۔ حضور ﷺ نے اس پر سے گزرنے والوں کی کیفیت بھی بیان کی ہے کہ بعض لوگ بجلی کی چمک کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیز ہوں کی طرح جائیں گے ، بعض تیز گھڑ سوار کی طرح ، بعض اونٹ سوار کی مانند بعض کم تیز سواریوں کی رفتار سے اور بعض پیدال کی چال چل کر پل صراط کو عبور کریں گے ، تفصیلات میں یہ بھی آتا ہے کہ پل صراط کے نیچے جہنم کے کناروں پر الٹے سیدھے چمٹے لگے ہوں گے جو گزرنے والوں کو اپنی طرف کھینچیں گے پھر ان میں سے جو لوگ اپنے عقیدے اور عمل میں کمزور ہوں گے وہ نیچے گرپڑیں گے اور ابدی سزا پائیں گے اور جو اہل ایمان گنہگار ہوں گے وہ گریں گے تو ضرور مگر پاک ہو کر نکل آئیں گے ، اور بعض ایسے بھی ہوں گے جو گرتے پڑتے زخمی ہو کر پل صراط کو عبور کرلیں گے ، یہ سارا عمل ہر شخص کے عقیدہ ایمان اور عمل کی کیفیت وکمیت کے مطابق ہوگا غرضیکہ اس آیت میں مذکورہ ورود سے جہنم کا داخلہ مراد نہیں بلکہ اس پر سے گزر جانا مقصود ہے یہ بڑی تشویشناک منزل ہے جس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر کر رکھا ہے ۔
(جہنم سے خروج)
حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ جو اہل ایمان جہنم میں گر جائیں گے ان کے حق میں مومن لوگ سفارش کریں گے پہلے درجے میں تو حضور ﷺ کی شفاعت ہوگی پھر تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی اپنی امتوں کے لیے سفارش کریں گے ، شہدا اور پھر ان کے بعد عام اہل ایمان بھی اللہ کے حضور سفارش کریں گے ، اللہ تعالیٰ ہر سفارش کنندہ کو اجازت دیں گے کہ اتنی تعداد میں وہاں سے لوگوں کو نکال لاؤ یہ ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کی آگ سے محفوظ ہوں گے پھر سب سفارشی اپنے اپنے بھائیوں ، دوستوں اور عزیز و اقارب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکال لیں گے ،
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قرب قیامت میں دین پر قائم رہنا اتنا مشکل ہوگا جتنا جلتے ہوئے کوئلوں کو ہاتھ میں پکڑنا ، پورا ماحول خراب ہوجائے گا ہر طرف خرابی ہی خرابی ہوگی اور صراط مستقیم پر چلنا دشوار ہوجائے گا البتہ گمراہی کے اسباب عام ہوں گے بعض لوگ بعض کے ساتھ تعلقات کی بناء پر گمراہ ہوجائیں گے اور بعض حرص لالچ اور اقتدار کی وجہ سے گمراہ ہوں گے اور کوئی بہکانے کی وجہ سے دین سے دور ہوجائیں گے غرضیکہ ہر طرف کانٹے ہی کانٹے بچھے ہوں گے ، کفر ، شرک ، بدعات ، اور معاصی عام ہوں گے ، ترغیب گناہ کی چیزیں قدم قدم پر ملیں گی ، جو ان تمام چیزوں سے بچ کر نکل جائے گا ، وہ پل صراط سے بھی آسانی کے ساتھ گزر جائے گا ۔
(آخرت کی فکرمندی)
حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ اکابر صحابہ میں سے ہیں آپ کا تعلق انصار مدینہ سے تھا شاعر بھی تھے آپ غزوہ موتہ میں شہید ہوئے ان کے متعلق آتا ہے کہ جب سونے کے لیے چارپائی پر آتے تو رونے لگتے ، بیوی نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع دے دی ہے کہ تم میں سے ہر ایک جہنم میں وارد ہوگا ، مگر وہاں سے نکلنے کے متعلق کچھ پتہ نہیں مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے ایک بزرگ ابو میسرہ (رح) کا ذکر کیا کہ وہ بھی سخت متفکر رہتے تھے ، کہا کرتے تھے لیت امی لم تلد ‘ کاش کہ میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا بیوی نے پوچھا اس طرح کیوں کہتے ہو تو کہنے لگے کہ جہنم میں وارد ہونے کا ذکر تو مجھے مل گیا ہے مگر وہاں سے نکلنے کا ذکر کہاں ہے ؟ اسی قسم کی فکر مندی حضرت ابوذر غفاری ؓ سے منقول ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اسی فکر کی وجہ سے کہا کرتے تھے کاش میں گھاس کا ایک تنکا ہوتا ، جسے جانور کھا کر ختم کر ڈالتے ، پتہ نہیں میں آخرت کی منزل میں کامیاب ہوتا ہوں یا نہیں حضرت عمر ؓ جب سورة الدھر کی ابتدائی آیت تلاوت فرماتے (آیت) ” ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیئا مذکورا “۔ تو کہتے ” لی تھا تمت “ مطلب یہ کہ جب وہ اللہ کے اس فرمان پر غور کرتے تھے کہ انسان پر ایک ایسا وقت بھی گزرا ہے جب وہ کوئی چیز نہ تھا ، تو حضرت عمر یوں کہتے کاش یہ بات پوری ہوجاتی اور میری کوئی حیثیت نہ ہوتی اور میں معدوم ہی رہتا ، اب جب کہ اللہ نے وجود بخش دیا ہے تو پتہ نہیں ہم اس زندگی کی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو سکیں گے یا نہیں ، میر تقی میر نے اس بات کو اس طرح بیان کیا ہے ۔
خوشا حال اس کا جو معدوم ہے
کہ احوال اپنا تو معلوم ہے :
نامعلوم ہمارا کیا حال ہوگا ، اور ہم کس منزل میں ہوں گے کتنا اچھا ہوتا کہ ہم عدم سے وجود میں نہ آتے اور معدوم ہی رہتے ۔
اللہ نے فرمایا (آیت) ” ثم ننجی الذین اتقوا پھر ہم نجات دیں گے ان لوگوں کو جو خدا سے ڈرتے رہے اور کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی سے بچتے رہے (آیت) ” ونذرالظلمین فیھا جثیا “۔ اور ظالموں کو اسی دوزخ میں چھوڑ دیں گے اوندھے منہ گرنے والے اگر کفر وشرک کی وجہ سے ظالم بنے ہیں تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں ہی رہیں گے اور اس سے کم تر گناہ میں ملوث رہے تو پاک ہو کر جہنم سے نکال لیے جائیں گے ، انہیں بہت سی منزلیں طے کر کے ہی اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچنا ہوگا ۔