Ayahs 19:73–76ربط آیات :
گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ، غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، قیامت اور محاسبہ اعمال کے متعلق شک کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے سرکشوں اور ان کو گمراہ کرنے والے شیاطین کو اکٹھا کرے گا ، پھر تمام نافرمانوں کو جہنم میں داخل کرے گا اللہ سب کے حالات کو بہتر جانتا ہے اور اس نے یہ قطعی فیصلہ کر رکھا ہے کہ تمام انسان جہنم پر سے گزریں گے مشرک اور کافر تو جہنم میں گر جائیں گے لیکن اہل ایمان اسے عبور کرکے جنت میں پہنچ جائیں گے ، اب آج کی آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان آیات میں بھی کفار ومشرکین اور جزائے عمل کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال کو دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے منکرین اور اہل ایمان کا تقابل کرکے ایمان والوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے ۔
(معیار فضیلت)
اب اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر کے فرمایا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت “۔ جب ہماری واضح آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں (آیت) ” قال الذین کفروا للذین امنوا ای الفریقین خیرا مقام واحسن ندیا “۔ تو کفر کرنے والے ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ دونوں فریقوں میں مکان کے لحاظ سے کون بہت ہے اور مجلس کے اعتبار سے کون اچھا ہے ، اس آیت کریمہ میں پہلی بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ ان کو واضح آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان آیات سے مراد اللہ تعالیٰ کے احکام ، اللہ کی قدرت کے دلائل ، معجزات اصول اور مسائل ہیں ، یہ ایسی چیزیں ہیں جو حق و باطل کو بالکل واضح کرتی ہیں ، ان آیات سے اہل ایمان کی سچائی اور کفار کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے تو ایسی آیات سن کر کافر لوگ اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم واقعی اللہ کے پسندیدہ لوگ ہو تو پھر دنیا میں تمہاری حال اس قدر خراب کیوں ہے ، پھر وہ اپنی خوشحالی اور اہل ایمان کی غربت کا تذکرہ کرکے کہتے ہیں کہ اگر ہم اتنے ہی برے ہیں تو پھر اللہ نے ہمیں اتنی نعمتیں کیوں دے رکھی ہیں ۔
ان لوگوں نے اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ کے اللہ کے ہاں کامیابی کے لیے دو چیزوں کو معیار بنایا ہے ، ایک اچھا مکان اور دوسری اچھی مجلس ہے ، ظاہر ہے کہ کفار میں بڑے بڑے دولت مند لوگ تھے ، جو عالیشان مکانوں میں رہتے تھے ، ان کے پاس نوکر چاکر تھے ، ان کے مکانات تمام ضروریات زندگی سے بھرے ہوئے تھے ، ان کے برخلاف اہل ایمان کی اکثریت غریب لوگوں پر مشتمل تھی جن میں سے بعض کو معمولی جھونپڑی بھی نصیب نہیں تھی ، چناچہ کافر لوگ اپنے مکانوں پر فخر کرتے تھے اسی طرح ان کی مجلسیں بھی پر رونق ہوتی تھیں وہاں پر ہر طرح کا سامان موجود تھا ، مشرکین نے قصی ابن کلاب کے مکان کو اپنا پارلیمنٹ ہاؤس بنا رکھتا جہاں مجلسیں جمتی تھیں اور مشورے ہوتے تھے وہاں پر قالین تھے کرسیاں اور صوفہ سیٹ تھے اور وہ وہاں تکئے لگا کر بیٹھتے تھے ایمان والے بھی اپنی مجالس مشاورت قائم کرتے تھے مگر ان کے پاس نہ تو کوئی اچھا مکان تھا اور نہ اس میں اشیائے ضرورت تھیں مجلس میں بیٹھنے کے لیے کھجور کے پتوں کی چٹائیاں ہوتی تھیں ، قالین اور کرسیاں کا نام تک نہ تھا ، اگر کوئی چارپائی ہے تو اس پر دری تک نہ ہوتی ، کافر لوگ انہی چیزوں کا موازنہ کرکے ایمان والوں سے کہتے تھے کہ ذرا بتاؤ تو سہی کہ تم اور ہم میں کون سا فریق مکان اور مجلس کے لحاظ سے بہتر ہے ؟ ۔
اہل ایمان میں غریب غرباء لوگ تھے ، کچھ غلام تھے اور کچھ کمزور تھے جن کی دنیوی لحاظ سے کوئی وقعت نہیں تھی چناچہ مالدار کا فر غریب مسلمانوں کی مجلس میں بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے ، گذشتہ سورة کہف میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ کہتے تھے کہ ہم آپ کی مجلس میں اس وقت بیٹھیں گے جب آپ ان غریب لوگوں کو وہاں سے اٹھا دیں گے ، وہ اہل ایمان مگر نادار لوگوں کی ہم نشینی کو اپنی توہین سمجھتے تھے مگر اللہ نے حضور ﷺ کو ان کی بات ماننے سے منع فرما دیا (آیت) ” ولا تعد عینک عنھم “۔ (الکہف ، 28) آپ اپنی نگاہ شفقت ان غریب اہل ایمان سے نہ ہٹائیں آپ دنیا کی زندگی کی رونق چاہتے ہیں تو ایسی چیز کی ضرورت نہیں ہے آپ ایسے لوگوں کی بات نہ مانیں جن کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، اور وہ سرکشی میں مبتلا ہیں۔
بہرحال کفار نے ایک بات تو یہ کی کہ مکانیت اور مجلس کے لحاظ سے ہم اہل ایمان پر فوقیت رکھتے ہیں اور دوسری یہ کہ جب ہم اس دنیا میں تم سے اچھے ہیں تو اللہ کے نزدیک بھی ہماری حالت اچھی ہے ہم اس کے محبوب ہیں وہ ہم پر خوش ہے جس کی وجہ سے وہ ہمیں نواز رہا ہے دنیوی لوازمات پر فخر کرنا سرکش لوگوں کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے فرعون اور نمرود نے بھی یہی کیا تھا اور آج کے دولت مند بھی اسی بیماری میں مبتلا ہیں ، یہ لوگ نادار اور خصوصا ایمان والوں کو کوئی وقعت نہیں دیتے ، وہ کمال صرف اپنے لیے مخصوص کرتے ہیں ، ایماندار مگر کمزور لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں دنیا کا مال وجاہ صرف اپنا حق سمجھتے ہیں ۔
شیطان کا یہ ذہن آج بھی کار فرما ہے دولت مندوں میں کوئی شاذ ونادر ہی ہوگا جو غریب کو حقیر نہ سمجھتا ہو بلکہ انہیں قابل احترام سمجھتا ہو ، پرانے زمانے میں لوگ ناداروں مگر اہل ایمان کو استہزاء کرتے تھے ، قرآن پاک میں موجود ہے (آیت) ” واذا مروا بھم یتغامزون “۔ (المطففین : 30) جب اہل ایمان کے قریب سے گزرتے تو آنکھوں سے اشارے کرتے کہ یہ دیکھو جنت کے والی اور حوروں کے خاوند جا رہے ہیں جن کے پاس نہ رہنے کو مکان اور نہ پہننے کو لباس ہے ، دو وقت کی روٹی تک نصیب نہیں مگر دنیا وآخرت میں کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔
(سابقہ اقوام کا انجام)
بہرحال اللہ نے مشرکین کے باطل خیال کا حکیمانہ طریقے پر جواب دیا ہے ، کافر کہتے تھے کہ جب ہم دنیوی اعتبار سے اہل ایمان سے آسودہ حال ہیں تو پھر اللہ کے بھی محبوب ہیں تو اللہ نے فرمایا ، ذرا غور تو کرو ، (آیت) ” وکم اھلکنا قبلھم من قرن “۔ اور ہم نے اس سے پہلے بہت سی قومیں ہلاک کیں ، (آیت) ” ھم احسن اثاثا ورء یا “۔ جو سازوسامان اور خوش منظری میں ان سے زیادہ اچھے تھے مطلب یہ کہ تم اپنی خوشحالی مال و دولت اور جاہ واقتدار پر اترا رہے ہو پہلی قوموں کے لوگ تم سے زیادہ آسودہ حال تھے مگر ان کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ نے انہیں تباہ وبرباد کردیا ، دوسری جگہ قرآن پاک میں ہے کہ یہ تو سابقہ اقوام کے عشر عشیر بھی نہیں ، دنیا میں قدیم مصریوں ، آشوری اور کلدانی تہذیبوں ، پرانے رومیوں اور ایرانیوں کو دنیا میں کتنا عروج حاصل ہوا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں سازوسامان اور لاؤ لشکر سمیت تباہ وبرباد کردیا ، اگر فضیلت کا معیار یہی چیزیں ہوتی تو پرانی قومیں کیوں ہلاک ہوتیں ؟ اس سے معلوم ہوا کہ یہ چیزیں اچھائی اور خدا تعالیٰ کا پسندیدہ ہونے کا معیار نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فجعلنھم احادیث ومزقنھم کل ممزق “۔ (سبا ، 19) ہم نے ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے ، اب وہ افسانوں کا حصہ بن چکے ہیں ، اور تاریخ میں ان کے حالات پڑھے جاتے ہیں دنیا میں ان کو وجود ختم ہوچکا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں اچھائی کا معیار ایمان اور نیکی ہے خدا کے پسندیدہ لوگ وہی ہیں جو اس معیار پر پورا اترتے ہیں ۔
(گمراہی میں اضافہ)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے کافروں کے لیے پہلا جواب تو الزامی تھا اور اب دوسرا جواب تحقیقی آرہا ہے فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں (آیت) ” من کان فی الضللۃ “ جو شخص گمراہی میں بھٹک رہا ہے (آیت) ” فلیمددلہ الرحمن مدا “ چاہئے کہ دراز کرے اسے خدائے رحمان دراز کرنا ، اس حصہ آیت میں اگرچہ امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے خبر ہے مطلب یہ ہے کہ جو شخص گمراہی میں پھنسا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو گمراہی میں دراز کرے گا اور اسے مہلت دے گا ، اس کا قانون ہے کہ وہ دنیا میں نافرنوں کو ترقی اور عروج دے کر مہلت دیتا ہے ، برائی کرنے والوں کو برائی میں بڑھاتا ہے اور انہیں سنگین سے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کا موقع دیتا ہے ، اور پھر ایسے جرائم کی سزا بھی ویسی ہی سخت دیتا ہے بعض اوقات دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے تاہم خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اگر دنیا میں نہ بھی ملے تو آخرت کی سزا تو لازما ملے گی ۔
(عذاب یا قیامت)
فرمایا اللہ تعالیٰ انہیں گمراہی میں مزید بڑھائے گا (آیت) ” حتی اذا راوا مایوعدون “۔ حتی کہ جب وہ دیکھیں گے اس چیز کو جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور وہ چیز کیا ہے ؟ (آیت) ” اما العذاب “ یا تو وہ عذاب ہوگا یعنی دنیا میں ہی محاسبے کا وقت آجائے گا ، یہ ظاہری سازوسامان نابود ہوجائے گا ، اور ساری ترقی اور عروج زوال میں بدل جائے گا ، صحت کی بجائے بیماری آجائے گی ، اقتدار کی بجائے ، ماتحتی اور آزادی کی بجائے غلامی میں جکڑ دیے جائینگے یہ دنیا کی سزا کا نمونہ ہے جو انفرادی طور پر بھی آتا ہے اور پوری قوم بھی اس کا شکار ہوجاتی ہے ۔
اگر اس دنیا میں سزا سے بچ بھی گئے تو پھر (آیت) ” واما الساعۃ “ قیامت تو ضروری آنے والی ہے ، اس کے محاسبے سے تو کسی طور نہیں بچ سکتے وہاں تو یقینا سزا میں مبتلا ہوں گے ، اس دنیا میں کیا ہوا ، استہزا ، تکبر ، توحید کی مخالفت ، شرک اور کفر کی حمایت قیامت کو ضروری رنگ لائے گی اور اس کے مرتکبین ضرور عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ فرمایا (آیت) ” فسیعلمون من ھو شر مکانا “۔ پس وہاں پر یہ لوگ جان لیں گے کہ مکان کے اعتبار سے کون زیادہ برا ہے ، وہاں پتہ چلے گا کہ مکانیت اور سازو سامان کے لحاظ سے ایمان والے برے ہیں یا کافر زیادہ برے ہیں اور وہاں یہ بھی پتہ چل جائے گا (آیت) ” واضعف جندا “ اور جتھے کے لحاظ سے کون کمزور ہے ، اس دنیا میں تو غرباء کو مذاق کرتے تھے کہ ان کے پاس نہ کوئی نوکر چاکر ہے ، نہ بادی گارڈ اور نہ کوئی فوج ، مگر قیامت کے دن وہ جان لیں گے آج کس کا لشکر کمزور ہے اور کس کا طاقتور ، اس دن اہل ایمان یقینا طاقتور ہوں گے اور کفار ومشرکین ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے ، ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔
(ہدایت میں اضافہ)
فرمایا اس کے برخلاف (آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “۔ اللہ تعالیٰ ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے ہدایت کو زیادہ کرتا ہے انسان کی کامیابی کے لیے ہدایت ہی واحد ذریعہ ہے ، اگر انسان راہ راست پر گامزن ہوجائے گا ، ہدایت چونکہ ترقی کی بنیاد ہے ، اس لیے اہل ایمان کی ترقی جاری رہتی ہے ، اس کے برخلاف کفر کرنے والے تنزل کی طرف جاتے ہیں ، وہ آج نہیں توکل ضرور تباہی کے گڑھے میں گریں گے ، اہل ایمان کی ترقی اس دنیا کے بعد عالم برزخ اور حشر تک مسلسل بڑھتی رہیگی اور وہ کامیابی کی منازل طے کرتے رہیں گے مولانا رومی نے کہا ہے ۔
اے برادر بےنہایت درگ ہے ست
ہر کہ بروے می رسی بروے مایست :
یہ بےنہاتی بارگاہ ہے ، جہاں بھی پہنچو وہاں رکو نہیں بلکہ ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کرو ، جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات غیر متناہی ہیں اسی طرح اس کے انعامات بھی غیر محدود ہیں ، اہل ایمان کے انعام واکرام میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا ، اللہ نے سورة العنکبوت میں فرمایا (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ (آیت ۔ 69) جو شخص ہماری طرف آنا چاہتا ہے ہم اس کے لیے ہدایت کے راستے واضح کردیتے ہیں ، وہ ان راستوں پر چل کر ترقی کی منزلیں طے کرتا رہتا ہے اسی لیے فرمایا کہ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کے لیے ہدایت میں اضافہ کرتا ہے ۔
(باقی رہنے والی نیکیاں)
فرمایا (آیت) ” والبقیت الصلحت خیرعند ربک “۔ اور باقی رہنے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک بہتر ہیں ، امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ باقی رہنے والی نیکیوں میں ایمان ، اعمال صالحہ ، عبادات اربعہ ، تسبیح ذکر ، جہاد وغیرہ شامل ہیں ، حضرت ابوالدرداء ؓ اور ابو ذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، اے ابو الدرداء ؓ جس طرح ہوا خشک پتوں کو گرا دیتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل ” سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ انسان کی خطاؤں کو گرا دیتی ہیں ، لہذا جب تک تمہیں موت نہ آجائے ان اور اد کو ترک نہ کرنا ، ابو الدرداء ؓ حلفا کہتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کی اس نصیحت پر بھی عمل کروں گا اور دوسرے لوگوں کو بھی ان کی افادیت سے آگاہ کروں گا ، الغرض ، نماز ، روزہ حج ، زکوۃ تلاوت ، ذکر درود شریف سب باقیات الصالحات میں جن کو اختیار کرنا کامیابی کی ضمانت ہے
سورة الکہف میں بھی باقیات کا تذکرہ ہوچکا ہے (آیت) ” المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا ، والبقیت الصحت خیر عند ربک “۔ (آیت : 46) مال اور اولاد تو دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے ربے کے ہاں بہتر ہیں اس مقام پر باقیات الصالحات سے مراد انسان کی بیٹیاں ہیں جنہیں وہ ایمان کے تقاضوں کے مطابق پالتا ہے اور جب جوان ہوجاتی ہیں تو اچھی جگہ ان کا نکاح کردیتا ہے عربی کے اکثر بچیوں کو حقیر جانتے تھے ، آج بعض لوگ بیٹی کی پیدائش پر یاس و حسرت کا نمونہ بن جاتے ہیں اور انہیں اپنی معیشت پر بوجھ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ باقیات الصالحات ہیں ، ان کی اچھی تربیت کرو ، تعلیم دلواؤ ، ان سے پیار کرو کہ یہ تمہاری باقی رہنے والی نیکیاں ہیں ، فرمایا باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں تیرے پروردگار کے پاس (آیت) ” ثوابا “ بدلے کے اعتبار سے (آیت) ” وخیر مردا “۔ اور انجام کے اعتبار سے مردا کا معنی لوٹ کر جانا ہے ، اور مراد انجام ہے کہ انجام کے لحاظ سے باقی رہنے والی نیکیاں بہتر ہیں ، اس ان کا اجر عظیم حاصل ہوگا ، اس کے برخلاف کافروں اور مشرکوں کے لیے وہاں کچھ نہیں ہوگا وہ اس دنیا میں رہ کر دنیا کے سازو سامان ہی کے دلدادہ تھے جو انہیں یہیں حاصل ہوگیا ، اب آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔
Ayahs 19:77–82ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا جو اہل ایمان کو طعن دیتے تھے اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے پاس زندگی کا سارا سازو سامان ہے جب کہ مسلمانوں کے پاس کچھ نہیں ہمارے گھر بہتر ہیں ، اور ہماری مجلسیں اچھی ہیں ، نوکر چاکر ہیں اور پشت پر دوست احباب ہیں ، پھر وہ اہل ایمان سے کہتے کہ بتاؤ ہماری حالت اچھی ہے یا تمہاری ، اللہ نے ایسے بیہودہ خیالات کا رد فرمایا اور اس کا الزامی اور حکیمانہ جواب بھی دیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے ہدایت کے سامان کی زیادتی کا ذکر فرمایا ، اور باقی رہنے والی نیکیوں کے اچھے بدلے کا تذکزہ فرمایا اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے بیہودہ خیالات کا مزید رد فرمایا ہے ۔
(شان نزول)
آج کی آیات کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام نے صحیحین کی حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ حضور ﷺ کے ایک صحابی خباب ابن ارت ؓ غلامی سے آزاد ہوئے تھے ، لوہاروں کا کام کرتے تھے اور تلواریں وغیرہ بناتے تھے مالی حالت نہایت کمزور تھے انہوں نے عاص ابن وائل کا کچھ کام کیا اور ان سے مزدور لینے کے لیے گئے یہ شخص قبیلہ سہم کا سردار تھا اور بڑا مغرور تھا ، کہنے لگا کہ میں تمہاری مزدوری اس وقت دوں گا جب تم اپنے نبی محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کر دو گے ، یعنی تم دین اسلام سے مرتد ہوجاؤ ، حضرت خباب ؓ نے فرمایا کہ میں تو سچے دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں اگرچہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوجاؤ ۔
عاص نے کہا کہ تمہارا عقیدہ ہے کہ ہر شخص مرنے کے بعد دو بار زندہ ہوگا اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اچھا توق پھر جب میں قیامت میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو تمہاری مزدوری اس وقت ادا کروں گا ، اس طرح گویا اس نے عقیدہ بعث بعد الموت کے ساتھ استہزا کیا ، یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں ۔
(مال واولاد پر فخر)
ان آیات کا اطلاق صرف عاص بن وائل پر ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کا مصداق ہر وہ شخص ہے جو مال اور اولاد پر فخر کرتا ہے اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتا اللہ کے نبیوں کے میں دولت مند لوگ ہمیشہ ہی کہا کرتے ہیں (آیت) ” نحن اکثر اموالا واولادا “ (سبا۔ 25) ہمارے پاس مال اور اولاد زیادہ ہے (آیت) ” وما نحن بمعذبین “۔ (الشعرآء 138) بھلا ہمیں کون سزا دے سکتا ہے ، چناچہ عاص بن وائل نے بھی حضرت خباب ؓ سے از راہ تمسخر کہا کہ اپنی مزدور قیامت کے دن مجھ سے وصول کرلینا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” افرء یت الذی کفر بایتنا “۔ کیا آپ نے اس شخص کی طرف دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا (آیت) ” وقال لاوتین مالا وولدا “۔ اور اس نے یوں کہا کہ میرے پاس قیامت والے دن مال بھی ہوگا اور میرے ساتھ میری اولاد بھی ہوگی لہذا تم اپنا حساب وہاں چکا لینا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اطلع الغیب “ کہا اس شخص نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے کہ دوبارہ اٹھائے جانے پر اس کے پاس اسی طرح مال و دولت ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے ، امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ غیب تو خدائے واحد وقہار کے ساتھ خاص ہے ، اس کے سوا کوئی غیب دان نہیں مگر اس شخص نے غیب کی بات کیسے معلوم کرلی مطلب یہ کہ اس شخص کا دعوئے غلط ہے کیا پتہ قیامت والے دن اس کی کیا حالت ہوگی ،
فرمایا کی اس کو غیب کا علم ہے (آیت) ” ام اتخذ عند الرحمن عھدا “ ۔ یا اس نے خدائے رحمان کے ساتھ کوئی عہد کر رکھا ہے کہ وہ آخرت میں بھی اسے مال اور اولاد عطا کرے گا ، فرمایا (آیت) ” کلا “ خبردار ! یہ سب دعوے غلط ہیں ، نہ تو اس کے پاس علم ہے اور نہ وہ غیب کی بات جانتا ہے علم تو وحی کے ذریعہ اللہ کے نبیوں کو حاصل ہوتا ہے مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کے نافرمان لوگ ہیں ، ان کو غیب کا علم کہاں سے حاصل ہوگیا فرمایا یہ شخص اپنے دعوی میں تو جھوٹا ہے البتہ (آیت) ” سنکتب مایقول “ ہم ضرور لکھ لیں گے جو کچھ وہ کہتا ہے ، ہمارے فرشے اس کی ہر حرکت اور قول کو نوٹ کر رہے ہیں ، اس کو ایک تو نافرمانی کی سزا ملیگی اور دوسرا وہ غلط دعوے کی وجہ سے بھی مستحق سزا ٹھہریگا کہ اس نے ایسی بیہودہ بات کیوں کی ، اتنی اکڑ دکھائی اور ایک مزدور کا حق مارا بلکہ اسے کفر کرنے پر مجبور کیا اس نے اللہ کی توحید اور رسول کی رسالت کا بھی انکار دیا تو اللہ نے فرمایا کہ ہمارے فرشتے اس کے نامہ اعمال میں یہ سب کچھ ضرور درج کرینگے (آیت) ” ونمد لہ من العذاب مدا “ اور ہم دراز کریں گے اس کے لیے سزا کو دراز کرنا ایسا شخص ہماری سزا سے بچ نہیں سکے گا ۔
ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا (آیت) ” ونرثہ مایقول “ اور جو کچھ وہ کہتا ہے اس کے وارث ہم ہوں گے مطلب یہ کہ یہ شخص تو عنقریب مرجائے گا پھر اس کے ساتھ مال و دولت کے وارث ہم ہوں گے جس پر آج یہ فخر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا قانون ہی یہ ہے (آیت) ” وللہ میراث السموت والارض “۔ (آل عمران ۔ 180) زمین وآسمان کی ساری وراثت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہے انسان اس دنیا سے خالی ہاتھ جاتے ہیں ان کا سارا سازوسامان یہیں رہ جاتا ہے ، ایمان اور اعمال صالحہ کے علاوہ انسان کے ساتھ کچھ نہیں جاتا باقی چیزیں تو وبال جان بن جائیں گی ، فرما ای (آیت) ” ویاتینا فردا “ اور ہمارے پاس یہ اکیلا ہی آئے گا اس شخص کو مال اور اس کی اولاد ساتھ نہیں جائے گی جو کسی مشکل میں بھی اس کی مدد کرسکیں ، عاص ابن وائل کے دو بیٹے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا اور اس لحاظ سے بھی یہ اکیلا رہ گیا عاص بن وائل کی طرح بعض دوسرے متکبر لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں اللہ نے ان سب کا رد فرمایا ہے ۔
(جبری سفارش)
اگلی آیات میں پھر توحید کا بیان ہے اللہ نے شرک کا رد فرمایا ہے اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واتخذ من دون اللہ الھۃ “۔ انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنالیا ہے دون کا معنی سوا بھی ہوتا ہے اور درے بھی ، گویا انہوں نے اللہ کے سوا غیروں کو اپنا کارساز ، حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا ہے ، کہتے ہیں کہ بڑا خدا تعالیٰ تو اپنی جگہ موجود ہے اور ہم اس کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس کے ماتحت کچھ چھوٹے چھوٹے معبود بھی ہیں جو سفارش کرکے اللہ تعالیٰ سے کام کروا دیتے ہیں کہتے تھے ہم خداوند تعالیٰ سے اپنا تعلق براہ راست نہیں جوڑ سکتے لہذا درمیان میں یہ معبود ہمارا وسیلہ ہیں جو ہماری بات کو آگے پہچانتے ہیں یہ جبری سفارش کا تعلق ہے جو بدترین قسم کا شرک ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا نظام بھی دنیا کے بادشاہوں جیسا ہے اگر بادشاہ کسی سے ناراض ہوجائے تو اسے راضی کرنے کے لیے یا کسی مطلب براری کے لیے کسی وزیر یا بادشاہ کے مقرب کی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے سامنے بھی سفارشی کام آتے ہیں خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض یہ اس کے سفارشی ضرور ہی اسے منوا لیتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ سفارش قبول کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، مگر نادان یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا کے بادشاہ تو مجبور ہوجاتے ہیں کہ انہیں اپنے امیروں ، وزیروں یامصاحبوں کی طرف سے بغاوت کا خطرہ ہوتا ہے یا وہ کسی سازش کا شکار ہوجانے سے ڈرتے ہیں ، اور سفارش قبول کرنے پر مجبور ہوتے ، مگر اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق اور ہر چیز کا متصرف ہے ، اسے کسی کام کے لیے کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی اسے اپنی مخلوق کی طرف سے کسی بغاوت کا خطرہ نہیں بھلا وہ کسی کی سفارش قبول کرنے پر کیسے مجبور ہوگا ، یہ تو مشرکین کی خام خیالی ہے ، وہ اپنے شرکاء کے متعلق کہتے تھے (آیت) ” ھؤلآئشرکآء نا عنداللہ “۔ (یونس ، 18) یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارش ہیں ، پھر جب ان سے کہا جاتا کہ تم ان کے نذرونیاز کیوں دیتے ہو تو یہی جواب دیتے (آیت) ” مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ (الزمر ، 3) ہم تو ان کی عبادت محض کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا قرب دلا دیں گے ، اس قسم کا عقیدہ یہود ونصاری میں بھی پایا جاتا ہے یہود کا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور کسی ختنہ شدہ یہودی کو دوزخ میں نہیں گرنے دیں گے بلکہ جنت میں پہنچا کر چھوڑیں گے اسی طرح عیسائی بھی یہی کہتا ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کو مان لو ، ان کے کفارہ بن جانے کے عقیدہ کو تسلیم کرلو تو پھر تم جنت میں ضرور پہنچ جاؤ گے خواہ کچھی بھی کرتے پھرو اللہ تعالیٰ نے اس جبری سفارش کا رد فرمایا ہے (آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “۔ (البقرہ۔ 255) کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے پوری کائنات اللہ کی مخلوق میں سے مقرب ترین ہستی حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں مگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کریں گے روایات میں آتا ہے کہ قیامت والے دن حضور ﷺ مقام محمود پر خدا کے سامنے دنیوی مدت کے اعتبار سے دس سال تک سجدے میں پڑے رہیں گے ، خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کریں گے تو اس کے بعد جا کر آپ کوئی سفارش بھی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ جبری سفارش کا عقیدہ تسلیم کرلیا جائے وہ قادر مطلق اور علیم کل ہے ، وہ جو چاہے سو کرے (آیت) ” لارآد لحکمہ “۔ اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا سفارش بھی اسی کے حق میں قبول ہوگی جس کا عقیدہ پاک ہوگا ، مشرک اور منافق کے حق میں سفارش نہیں ہوگی ، اس معاملے میں اللہ کے نبی ، فرشتے اولیاء اور شہداء سب بےبس ہوں گے سفارش اس کے حق میں ہوگی جو ایماندار ہوگا مگر اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا کا مستحق ہوگا ۔
(شرک کا مزعومہ فائدہ)
فرمایا ان لوگوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیا ہے جس سے ان کا مقصود یہ ہے (آیت) ” لیکونوا لھم عذا “ تاکہ یہ شرکا ان کے لیے عزت کا باعث بن جائیں مطلب یہ کہ انہیں ہر کام میں کامیابی حاصل ہو اور ان کی مرادیں پوری ہوتی رہیں ، چناچہ مشرکین نے مختلف امور کے لیے مختلف معبود بنا رکھے تھے ، کہتے تھے فلاں بت کی نیاز دی جائے تو مقدمے میں بری ہوجاتے ہیں ، فلاں معبود بیماری میں شفا دیتا ہے اور فلاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ دلانے میں پیش پیش ہے چناچہ یہ لوگ ان معبودوں کی تعظیم کرتے ان کے لیے نذر مانتے اور چڑھاوے چڑھاتے کوئی اقتدار کی خاطر کسی معبود کے آگے جھک جاتا ، کوئی محبت کا دیوتا سمجھ کر اس کی خدمت کرتا اور کوئی دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے نذر مانتا حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے پانچ مشہور بت ود ، سواع ، یغوث ، یعوق اور نسر تھے ان کو مشرکوں نے خود ہی محکمے تفویض کر رکھے تھے کہ یہ اولاد دیتا ہے یہ جنگ میں کامیابی دلاتا ہے اور یہ فلاں حاجت پوری کرتا ہے وغیرہ وغیرہ ،
قبر پرستوں کا بھی یہی معمول ہے قبروں پر سجدہ کرتے ہیں ان کی تعظیم کرتے اور ان کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، اب تو قبر پرستی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کی قبروں پر بھی پھول چڑھائے جاتے ہیں ، حکومتوں کے درمیان یہ رواج بن چکا ہے کہ باہر سے کوئی بڑا آدمی آتا ہے تو وہ مسٹر جناح اور علامہ اقبال کی قبر پر پھول چڑھاتا ہے اور ہمارے اکابر بیرون ملک جاتے ہیں تو پتھر کے مجسموں پر پھول چڑھاتے ہیں ہمارے صدر صاحب آج کل رنگون گئے ہوئے ہیں انہوں نے بدھ کے مجسمے پر پھولوں کی چادر چڑھائی ، یہ اسلام کے داعی ہیں اگر ایسا شرکیہ فعل نہ انجام دیں تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی ہر امیر ، وزیر حضرت علی ہجویری (رح) کی قبر چادر چڑھانا ضروری سمجھتا ہے کہ مشرک لوگ خوش ہوجائیں کہ وزیر بھی ہمارا ہم مسلک ہے ، غیر آدمی کوئی ایسا کام کرے تو شور مچ جاتا ہے مگر صدرہ صاحب کو کوئی نہیں پوچھتا کہ کیا کر رہے ہو کیا یہی اسلام ہے کیا یہ غیر اللہ کی تعظیم نہیں ہے ؟ کیا اس فعل کے بغیر غیر ممالک سے دوستی نہیں ہو سکتی مگر یہ ایسا شرکیہ رواج قائم ہوگیا ہے جس سے بچنا محال ہو رہا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دوسروں کو اس لیے معبود بناتے ہیں تاکہ ان کی عزت کا سامان ہو اور ان کی مرادیں پوری ہوتی رہیں ، حالانکہ ان کے پاس مراد پوری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔
(معبوداں باطلہ انکار کردیں گے)
فرمایا آج تو یہ لوگ دوسروں کو معبود بنا رہے ہیں مگر قیامت کے روز کیا ہوگا (آیت) ” کلا “ خبردا ! ” سیکفرون بعبادتھم “۔ یہ معبود مشرکین کی طرف سے عبادت کا انکار کردیں گے ، اللہ کے نیک بندے عرض کریں گے مولا کریم ! ہم نے تو انہیں کیا کہا تھا کہ ہماری عبادت کریں ، انہوں نے ہماری تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ، اور ہماری قبروں کو پختہ بنایا ان پر چادریں چڑھائیں اور ان پر جانور ذبح کیے اسی طرح فرشتے بھی اپنی عبادت سے انکار کریں گے اور کہیں کہ پروردگار ! ہم تو تیرے سوا کسی کو کارساز اور مشکل کشا نہیں سمجھتے ہم نے تو انہیں ہر گزر نہیں کہا تھا کہ ہمیں حاجت روا سمجھ کر ہماری پرستش کرو ، یہ سب ان کے اپنے ذہن کی خلفشار ہے پھر وہ مٹی اور پتھر کے بت بھی انکار کردیں گے جن کی یہ مشرکین پوجا کرتے رہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ مجسمے بھی اسی طرح کلام کریں گے جس طرح انسان کے ہاتھ پاؤں قیامت کے روز گواہی دیں گے ، یہ بت کہیں گے کہ خداوند کریم ! ہم تو بےجان اور بےاختیار تھے ہم نے تو نہیں کہا کہ ہماری پوجا کرو انہوں نے خود ہی ہماری نذر ونیاز دینا شروع کردی اور مشکل میں ہمیں پکارنا شروع کردیا ، یہ خود ہی اس قبیح حرکت کے ذمہ دار ہیں فرمایا (آیت) ” ویکونون علیھم ضدا “۔ قیامت کے دن معبودان ان مشرکین کے مخالف ہوجائیں گے ، ان کے خلاف گواہی دیں گے اور یہ لعنت کے مستحق ٹھہریں گے ۔
Ayahs 19:83–87ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا عقیدہ اور ان کی بیہودہ گفتگو کا رد فرمایا ، اس کے علاوہ اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے واضح کیا کہ مشرکین اپنے معبودان کو باعث عزت سمجھتے تھے وہ ان کے مخالف بن جائیں گے اور ان کی عبادت سے انکار کردیں گے ، نیز مشرکین کو ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب اللہ نے مشرکین اور کفار کی گمراہی کے اسباب کا تذکرہ کیا ہے اور بتلا دیا ہے کہ جملہ اسباب ضلالت میں سے سب سے بڑا سبب انسانوں پر شیطان کا تسلط ہے ۔
(شیاطین کا تسلط)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم تر انا ارسلنا الشیطین علی الکفرین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم نے کافروں پر شیطانوں کو مسلط کیا ہے ، ” ارسلنا “ کا عام فہم معنی تو بھیجنا ہوتا ہے تاہم اس مقام پر مسلط کرنا مراد ہے ، اور پھر شیطانوں کا کافروں پر یہ اثر ہوتا ہے (آیت) ” تؤزھم ازا “ کہ وہ انکو ابھارتے رہتے ہیں یعنی کافروں کو کفر اور شرک پر اکساتے رہتے ہیں ، وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں اور لوگ کفر شرک ، بدعات اور معاصی کو اختیار کرنے لگتے ہیں ایسے افعال کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے کہ لوگ ضد عناد اور تعصب کا شکار ہوجاتے ہیں اہل ایمان کو حقیر سمجھتے ہیں کمزوروں کی تذلیل کرتے ہیں قیامت کا انکار کرتے ہیں اور شرکیہ رسومات کو بڑے زور شور سے ادا کرتے ہیں اور اسے کار ثواب سمجھتے ہیں یہ سب کچھ شیطان کے اغواء کرنے سے ہوتا ہے اللہ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیص لہ شیطنا فھولہ قرین “۔ (الزخرف ، 26) ، جو شخص خدائے رحمان کی یاد سے روگردانی کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ شیطان مقرر کردیتا ہے جو اس کا ساتھی بن کر گمراہ کرتا رہتا ہے لوگ زندگی کے آخری لمحات تک یہی سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا اچھا اور کار ثواب کر رہے ہیں حالانکہ وہ غلط ہوتا ہے اور پھر مرنے کے بعد اس کا بڑا افسوس ہوگا اللہ کی یاد سے غفلت کا یہی نتیجہ ہوتا ہے ۔
ذکرالرحمان سے خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کا کلام یعنی قرآن پاک دونوں مراد ہیں قرآن سے اعراض بھی شیطان کے تسلم کا ذریعہ بنتا ہے جب انسان اپنی فطرت کو ترک کرکے اللہ کی یاد اور اس کے کلام سے اعراض کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے گویا گمراہی کے اسباب میں سے شیطان کا اغوا سب سے بڑا سبب ہے ، اللہ تعالیٰ نے شیطان کے متعلق فرمایا ہے ۔ (آیت) ” انہ لکم عدومبین “۔ (البقرہ : 168) یہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، اور یہ خطرناک بھی ہے کیونکہ (آیت) ” انہ یرکم ھو وقبیلہ من حیث لا ترونھم “۔ (الاعرف 27) وہ اور اس کا سارا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھ رہا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھ سکتے ، وہ تمہاری نگاہوں سے چھپ کر تم پر حملہ آور ہو رہا ہے اور تمہیں کچھ خبر نہیں ، آدم (علیہ السلام) کو روئے زمین پر اتارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آدم ! (آیت) ” ان ھذا عدولک ولزوجک “۔ (طہ ، 117) شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے اس سے خبردار رہنا کہیں تمہیں جنت سے نہ نکلوا دیے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ” رب اقلیم استولی علیہ الشیطان “۔ بعض ملک ایسے ہوتے ہیں جن پر شیطان کا غلبہ ہوتا ہے ، ساری کی ساری قوم شیطان کے اغوا اور تسویل میں مبتلا ہوتی ہے ، اور سب اس کے کہنے میں آکر کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی میں غرق ہوتے ہیں شیطان کے تسلط سے یہی مراد ہے اس کے ذریعہ وہ لوگوں کو غلط کاموں پر ابھارتا رہتا ہے ۔
(دیگر اسباب ضلالت)
اسباب ضلالت میں سے انسان کا نفس امارہ بھی ایک بڑا سبب ہے جو انسان کو برائیوں کی طرف راغب کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قول بھی نقل کیا ہے (آیت) ” وما ابریء نفسی ان النفس لامارۃ ، بالسوٓء “۔ (یوسف ، 53) میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا کیونکہ نفس برائی کی طرف آمادہ کرتا ہے نفس آزادی چاہتا ہے مگر شریعت نے ان پر کنٹرول کرنے کے لیے مختلف احکام عائد کیے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ نفس امارہ کی بجائے انسان کی عقل وخرد اور وحی الہی غالب ہو تاکہ وہ نیکی کی طرف مائل ہو سکے اور برائی سے بچ سکے بزرگان دین اسی نفس کے متعلق فرماتے ہیں ، ” ان عدوک الذی بین جنبیک “۔ تمہارا ایک بڑا دشمن وہ ہے جو تمہارے پہلو میں بیٹھا ہے تو گویا نفس امارہ بھی انسان کے لیے گمراہی کے اسباب میں سے ہے اس کے علاوہ زیب وزینت کے سامان اور لہو ولعب کے ذرائع بھی اسباب ضلالت میں سے ہیں عام طور پر لوگوں کا رجحان نیکی طرف بہت کم ہوتا ہے ، مگر کھیل تماشے اور برائیوں کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں ، بدعات بھی اسی قبیل سے ہیں جو انسان کے نفس کو خوش کرتے ہیں مگر حقیقت میں وہ گمراہی کی طرف جارہا ہوتا ہے ۔
مال و دولت بھی انسان کی گمراہی کا سبب بنتا ہے ، مالدار آدمی مغرور ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے انصاف کا دامن چھوٹ جاتا ہے حکومت اور اقتدار بی آدمی کو گمراہی کردیتا ہے ، اقتدار کے نشے میں چور آدمی حق وناحق کی پہچان سے عاری ہوجاتا ہے اور پھر من مانی کرنے پر اترآتا ہے ، پھر ظلم وجور کا دوردورہ ہوتا ہے اور انسان خواہشات کے پیچھے لگ جاتا ہے آج دنیا میں دیکھ لیں بڑی بڑی سلطنتیں اپنی طاقت کی وجہ سے شدید ترین گمراہیوں میں مبتلا ہیں ہر حکومت کے ڈکٹیٹر اور عہدیدار اقتدار کی وجہ سے ہی بےراہروی کا شکار ہو کر گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرتے ہیں۔
بہرحال اسباب ضلالت میں سے شیطان کا اغواء سب سے بڑا سبب ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ اس آیت میں کرکے انسان کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے حقیقت یہ ہے کہ اس اغواء سے بچنے والے اللہ کے خاص بندے ہی ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کے ذکر سے اعراض نہیں کرتے ، ایسے لوگوں پر شیطان کا تسلط قائم نہیں ہوتا ، ورنہ عالم لوگوں کا معاملہ یہ ہے (آیت) ” زین لھم الشیطن ما کانوا یعملون “۔ (الانعام ، 43) شیطان اس کے بدترین اعمال کو بھی مزین کر کے دکھاتا ہے ، ان کے فوائد بتلاتا ہے اور کہتا ہے کہ اسی میں تمہاری عزت ، وقار اور نیک نامی ہے انسان اس کے کہنے میں آجاتے ہیں اور پھر کھیل تماشے ، کفر ، شرک ، اور بدعات کی طرف مائل ہو کر شیطان کے پنجے میں جکڑے جاتے ہیں ۔
(سزا میں جلدی کی خواہش)
بعض اوقات حضور ﷺ کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ نافرمانوں کو جلدی سزا ملنی چاہئے کیونکہ جب تک ان کو موقع ملتا رہے گا وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے رہیں گے ، ایسے لوگوں کے لے سزا کی خواہش کوئی بری بات نہیں بلکہ انصاف کے عین مطابق ہے مگر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا ” فلا تعجل علیھم “۔ آپ ان پر جلدی نہ کریں بلکہ برداشت کریں کیونکہ ہم نے بھی ان کے خلاف پروگرام بنا رکھا ہے (آیت) ” انما نعدلھم عدا “ بیشک ہم شمار کر رہے ہیں انکے لیے شمار کرنا ، مطلب یہ کہ ایسے نافرمانوں کی زندگی کے دن ہم گن رہے ہیں حتی کہ ان کے ایک ایک سانس کا حساب ہمارے پاس موجود ہے اس وقت ہم انہیں قانون امہال کے تحت مہلت دے رہے ہیں انکی ایک ایک حرکت کو جانتے ہیں ، جب ہماری مہلت پوری ہوجائے گی تو پھر ہم انکی رسی کو کھینچ لیں گے لہذا آپ جلدی نہ کریں اور صبر سے کام لیں ۔
(متقین کی عزت افزائی)
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقین اور مجرمین کے انجام کا ذکر کیا ہے کہ مرنے بعد جب دوبارہ اٹھیں گے تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائیگا پہلے متقیوں کا ذکر ہے (آیت) ” یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا “۔ جس دن ہم متقیوں کو رحمان کی طرف اکٹھا کریں گے وفد کی صورت میں وفد (REPRESENTATIVE پریذینٹو) کسی قوم ، برداری یا حکومت کی طرف ہو ، قابل احترام سمجھا جاتا ہے ، وفد کے ارکان کسی خاص مقصد کیلے آتے ہیں لہذا ان کا خیر مقدم کرنے والے ان کی عزت افزائی کرتے ہیں ، ان کو اچھی جگہ اتارتے ہیں اور ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اسی طرح متقین بھی اللہ کے پاس وفد کی حیثیت سے جائیں گے اور عزت واکرام پائیں گے صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ قیامت کے دن تین گروہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے پہلا گروہ راغبین اور راہبین کا ہوگا ، یہ انبیاء اور مقربین کا گروہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف رغبت رکھنے والے اور اس کے عذاب سے ڈرنے والے ہوں گے ، دوسرا گروہ سواروں کا ہوگا ایک ایک اونٹ پر ایک ایک ، دو دو ، تین تین ، آدمی سوار ہوں گے حتی کہ دس تک کا ذکر بھی آتا ہے پھر تیسرا گروہ ذیل لوگوں کا ہوگا جو پیدل چل کر آئیں گے یہ جہنم کی آگ کے سزاوار ہوں گے ۔
خود حضور ﷺ بھی بیرونی وفود کی بڑی تکریم کیا کرتے تھے آپ نے اپنے آخری وقت میں یہ نصیحت فرمائی کہ باہر سے آنے والے وفود کے ساتھ اسی طرح حسن سلوک کرنا جس طرح میں کرتا ہوں طبقات ابن سعد میں ہے کہ 9 ھ میں حضور ﷺ کی خدمت میں کم وبیش ڈیڑھ سو وفود آئے ان میں سے اکثر وبیشتر نے اسلام قبول کیا بعض ہدایات حاصل کیں اور بعض محض زیارت کے لیے آئے قطع نظر اس کے کی کسی کا عقیدہ کیا ہے حضور ﷺ عرب کے مختلف گوشوں سے آنے والے وفود کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے اور حتی المقدور انکی خدمت تواضع کرتے ، قبیلہ ثقیف کے مشرکین کا ایک وفد حاضر ہوا تو آپ نے حکم دیا کہ ان کا خیمہ مسجدہ کے صحن میں لگا دیا جائے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ﷺ یہ تو ناپاک لوگ ہیں ان کا مسجد میں داخلہ کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا (1) ” انجاس علی انفسھم “ ان کی نجاست ان کے نفسوں میں بھری ہوئی ہے یہ زمین پر تو نہیں گرتی کہ مسجد ناپاک ہوتی ہو ان کو مسجد میں ٹھہرانے میں یہ مصلحت تھی کہ لوگ یہاں رہ کر ہمارے حالات کو اچھی طرح جان لیں گے اور ان کو ہماری نماز کا طریقہ بھی معلوم ہوجائے گا اور پھر اس کے ظاہری فوائد سے بھی آگاہ ہوں گے لہذا ان کو مسجد میں ٹھہرانا ہی بہتر ہے ، آپ کے حسن سلوک کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ مسیلمہ کذاب کا وفد بھی آیا تو حضور ﷺ نے ان لوگوں سے کوئی بدسلوکی نہیں کی بلکہ ان کے سوالات کے جوابات خندہ پیشانی سے دے بہرحال فرمایا کہ متقین حشر کے میدان میں وفد کی شکل میں نہایت عزت واحترام کے ساتھ جائیں گے ۔
(شفاعت سے محروم مجرمین)
اس کے برخلاف نافرمانوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ونسوق المجرمین الی جھنم وردا “۔ اور ہم مجرم لوگوں کو جہنم کی طرف پیاسے جانوروں کی طرح چلائیں گے ، جب جانور کئی دن سے پیاسے ہوں تو پھر انہیں ہانک کر جلدی جلدی پانی کے گھاٹ کی طرف لے جایا جاتا ہے مجرمین کو بھی سی طرح ہانک کر میدان حشر میں لایا جائے گا پھر حساب کتاب کی منزل آئیگی اور ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہوگا ، ایسے مجرموں کے متعلق فرمایا (آیت) ” لایملکون الشفاعۃ “ یہ کسی قسم کی شفاعت کے مالک نہیں ہوں گے کیونکہ کافر ، مشرک اور منافق کی کوئی بھی سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے حصے میں آئیگی ” من لایشرک باللہ شیئا “ جو اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتے یعنی جس کا ایمان صحیح اور عقیدہ پاک ہے بدعقیدہ کو شفاعت حاصل نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ نے شفاعت کا مرجع دو چیزوں کو قرار دیا ہے ایک یہ کہ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی کی شفارش نہیں ہوگی اور دوسری یہ کہ سفارش انہی کے حق میں ہوگی جن کو بات اللہ کو پسند ہوگی ، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایمان والی بات ہی پسند ہوگی ، ایمان لاؤ گے تو اللہ راضی ہوگا اور اگر نافرمانی کرو گے تو ناراض ہوگا ، نہ تو کسی بدعقیدہ آدمی کی بات کو اللہ پسند کرے گا اور نہ ان کے حق میں سفارش قبول کرے گا ، یہ بات اٹل ہے کہ اللہ مرضی اور اس کے اختیار سے ہی سفارش ہوگی (آیت) ” قل اللہ الشفاعۃ جمیعا “۔ (الزمر ، 44) شفاعت کا سارا اختیار اللہ کے پاس ہے نبی ، ملائکہ اور اس کے مقربین بھی اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کریں گے کیونکہ اللہ کا واضح فرمان ہے (آیت) ” من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ “ ۔ کون ہے اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ مگر یہودونصاری اور گلمہ گو پیرپرست جبری سفارش کا عقیدہ رکھتے ہیں رافضیوں کا عقیدہ ہے کہ امام حسین ؓ کا ماتم کرلینے سے ہی جنت کے حقدار ہوجائیں گے ، باقی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ، پیرپرست لوگ بیعت کرلینے اور عرس میں شریک ہوجانے کو ہی ذریعہ نجات سمجھتے ہیں ، مگر اس قسم کی جبری سفارش کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے ۔
(شفاعت کے حقدار)
فرمایا مجرم تو شفاعت کے مستحق نہیں ہوں گے (آیت) ” الا من اتخذ عندالرحمن عھدا “۔ البتہ سفارش کا حقدار وہ ہوگا جس نے خدائے رحمان کے پاس عہد قائم کرلیا جو شخص توحید و رسالت کے عقیدے پر پختہ یقین رکھے گا خدا تعالیٰ اس کو ضرور جنت میں پہنچائے گا یہی اس کا عہد ہے اسی کے حق میں سفارش ہوگی اور وہ نجات پائے گا ، امام رازی (رح) نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے عہد نامے والی روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو ہر روز صبح شام خدا تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کا عہد کرے ۔
” اللھم انی اعھد الیک فی ھذہ الحیوۃ الدنیا انی اشھد ان لا الہ الا انت وحدک لا شریک لک وان محمدا عبدک ورسولک فلا تکلنی الی نفسی فانک ان تکلنی الی نفسی طرفۃ عین تقربنی من الشر وتباعدنی من الخیر وانی لا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عھدا توفینیہ یوم القیمۃ انک لا تخلف المیعاد “۔ (قرطبی ص 154 ج 11)
ترجمہ : اللہ میں اس دنیا کی زندگی میں تجھ سے اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں پس تو مجھے میرے نفس کے سپرد نہ فرما کیونکہ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے گا تو مجھے برائی سے قریب کردے گا اور مجھے بھلائی سے دور کر دے گا ، مجھے بس تیری لیے اپنے ہاں (بخشش اور رحمت) کا عہد فرما اور اس کو قیامت کے دن پورا فرما یقینا تو وعدہ خلافی نہیں کرتا ۔
فرماتے ہیں کہ جب کوئی بندہ یہ عہد کرتا ہے تو اس کو لکھ کر عرش کے نیچے رکھ دیا جاتا ہے پھر قیامت والے دن اعلان ہوگا کہ جن کا عہد خدائے رحمان کے پاس موجود ہے وہ سامنے آجائیں ایسے ہی لوگوں کے حق میں سفارش مفید ہوگی اور مجرموں کے لیے کوئی سفارش نہیں ہوگی ان کو پیاسے جانوروں کی طرح ہانک کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اس کے برخلاف اہل ایمان کو عزت کے ساتھ وفد کی صورت میں خدا کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا اور آخر کار وہ اس کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچ جائیں گے ۔