18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 18:1–3

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ، وہ جس نے اتاری ہے اپنے بندے پر کتاب ، اور نہیں رکھی اس (کتاب) میں کوئی کجی ۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

وہ مستقیم ہے تاکہ ڈرائے سخت گرفت سے جو اس (خدا تعالی) کی طرف سے ہے اور خوشخبری دے ایمان والوں کو جو اچھے اعمال انجام دیتے ہیں ، کہ ان کے لیے بدلہ ہے اچھا ۔

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

رہنے والے ہوں گے اس کے اندر ہمیشہ ۔

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ میں اصحاب کہف والرقیم کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس سورة کا نام ہی سورة الکہف ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی قریب قریب وہی ہے جو سورة بنی اسرائیل کا ہے گویا یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی اس سورة مبارکہ کی ایک 110 سو دس آیات اور بارہ رکوع ہیں ، یہ سورة 1567 کلمات اور 6460 حروف پر مشتمل ہے ۔ (گذشتہ سورة کے ساتھ ربط) یہ سورة مبارکہ گذشتہ سورة بنی اسرائیل کے ساتھ مربوط ہے گذشتہ سورة کی آیت روح کے متعلق مفسرین کرام کا یہ بیان نقل کیا جا چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، جن میں سے ایک روح ، دوسرا اصحاب کہف اور تیسرا ذوالقرنین کے متعلق تھا ، یہود ومشرکین کا خیال تھا کہ آپ ﷺ ان سوالات کا جواب نہیں دے سکیں گے تو ان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے لیے موقع میسر آجائے گا ، مگر اللہ تعالیٰ نے ان تینوں سوالوں کے جواب دے کر مخالفین کے منہ بندکر دیے ۔ گذشتہ سورة کی ابتداء میں واقعہ معراج کا ذکر ہے جب کہ آگے چل کر روح کا بیان ہے ، ان دونوں واقعات کو بھی آپس میں مناسبت ہے اس لیے انہیں ایک سورة میں بیان کیا گیا ہے جس طرح واقعہ معراج انسانی فہم وعقل سے بالاتر ہے ، اسی طرح روح کی حقیقت کو بھی انسانی عقل سے دریافت نہیں کیا جاسکتا ، یہ ان دونوں میں مماثلت ہے ، دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ تیسری اور چوتھی صدی کے مشہور منطقی ابن سینا کے بقول ۔ حبطت الیک من المحل الارجع ورقاء ذات تعزز وتمنع ۔ روح تو ایک کبوتری کی مثال کی مثال ہے جو اونچے مقام سے آئی ہے اور بڑی عزت اور حفاظت والی ہے اور معراج کے واقعہ میں حضور ﷺ کو اس مادی دنیا سے عروج حاصل ہوا اور آپ عالم بالا میں روح کے مقام حظیر ۃ القدس تک پہنچے تو اس طرح واقعہ معراج اور روح کو آپس میں گہری مناسبت ہے ۔ روح کا جواب تو سابقہ سورة میں آگیا ، اب باقی دو سوالوں کا جواب اس سورة مبارکہ میں آرہا ہے یعنی اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے واقعات یہودیوں کا دعوی تھا کہ وہ بڑے عالم فاضل ہیں اور آسمانی کتابوں کا علم جانتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے گذشتہ سورة میں یہ کہہ کر ان کا منہ بند کردیا ، (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “ تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے لہذا تم اپنے علم پر مت اتراؤ ، اب اسی سورة میں ایک تیسرا واقعہ موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا بھی بیان ہوا ، یہ واقعہ بھی انسان کی کم علمی پر دلالت کرتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک نہایت ہی معمولی درجہ کی لغزش ہوگئی تھی جس کی بناء پر اللہ نے فرمایا تھا کہ تم سفر اختیار کرو ، اور دو دریاؤں کے سنگم پر ہمارے ایک بندے سے جا کر ہلو ، آپ کی تربیت مقصود تھی ، لہذا آپ نے بڑا لمبا سفر اختیار کیا اور بڑی مشقت برداشت کی اور اس طرح اللہ نے آپ کو امتحان میں ڈال دیا ، اس سورة میں یہ واقعہ اجمالا بیان کیا گیا ہے تاہم صحیحین میں حضور ﷺ نے اس کی تمام جزئیات بیان کردی ہیں ۔ (مضامین سورة ) دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی چار بنیادی حقائق ، توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت کی بیان کیا گیا ہے ، اصحاب کہف ، اور ذوالقرنین کے واقعات کے علاوہ اس سورة میں یاجوج ماجوج کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے اور اشارتا دجال کے خروج کا ذکر بھی آگیا ہے اس کے علاوہ مومن اور کافر باغ والوں کا ذکر ہے اس سورة میں موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کا واقعہ بھی ہے جس کا ذکر میں نے ابھی کیا ہے ۔ اس سورة مبارکہ کی ابتداء نزول قرآن کے ذکر سے ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو بہت بڑی نعمت قرار دیا ہے ، اس لیے سورة فاتحہ انعام اور فاطر کی طرح اس سورة کو بھی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا سے شروع کیا گیا ہے اس کتاب کے انعام الہی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی روح اور جسم دونوں کی تکمیل ہوتی ہے ، گویا قرآن پاک ان چیزوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جن کے ساتھ روح اور جسم کی سعادت وابستہ ہے اس کتاب میں اللہ نے توحید کے اسرار بیان فرمائے ہیں ، خدا تعالیٰ کی تنزیہہ و تقدیس اور اس کی صفات کمال و جلال کا ذکر ہے قضا وقدر کے مسائل بیان ہوئے ہیں ، ملائکہ اور عالم بالا کی تفصیلات واحوال بھی اسی کتاب کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں انسان کو مکلف بنانے والے احکام وقوانین اسی کتاب مقدس میں بیان ہوئے ہیں ثواب اور عتاب کا سلسلہ بیان ہوا ہے اس کتاب میں دعوت الی التوحید کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے جو کسی دوسری آسمانی کتاب میں نہیں ملتا ۔ اس سورة مبارکہ میں شکر گزاروں اور ناشکر گزاروں کی مثالیں بھی بیان کی گئی ہیں گذشتہ سورة میں بھی اللہ نے اپنے شکر گزار بندوں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور خود حضور خاتم النبیین ﷺ کی شکر گزاری کا تذکرہ فرمایا تھا ، جب کہ اس سورة میں اصحاب کہف ، ذوالقرنین ، موسیٰ اور حضرت (علیہ السلام) اور باغ والے مومن کا ذکر ہوا ہے بہرحال ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی فوز و فلاح کا دارومدار اس بات پر ہے کہ اس کا تعلق اپنے خالق ومالک کے ساتھ درست رہے اگر یہ تعلق درست نہیں ہے تو کبھی فلاح نصیب نہیں ہو سکتی ، غرضیکہ یہ سب باتیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں اس سورة مبارکہ میں آرہی ہیں ۔ (ہماری اور دجالی تہذیب) اس سورة میں دجال کے خروج کا ذکر آرہا ہے تو اس لحاظ سے دجالی تہذیب کا بیان خالی از دلچسپی نہیں ہوگا قرب قیامت میں سائنسی ترقی انتہائی عروج پر ہوگی ، اس دور کو مولانا مناظر احسن گیلانی ہماری تہذیب (DONKEY CULTURE ڈن کی کلچر) سے تعبیر کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ جس طرح گدھے کے پیش نظر صرف دو چیزیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ اور شہوت ، اسی طرح موجودہ تہذیب کی منتہائے مقصود بھی یہی دو چیزیں ہیں اس دنیا میں ایک طرف کارل مارکس کا فلسفہ ہے کہ دنیا میں مسئلہ صرف پیٹ کا ہے ، اور کچھ نہیں ، اس بناء پر اس نے مزدور طبقے کو گمراہ کرکے کمیونزم کی راہ ہموار کی ہے اور دوسری طرف یورپ کا فرائیڈ ہے جس نے جنسی نفسیات (SEXUALISM سیکشولزم) پر ہی سار زور بیان صرف کر کے دنیا کو اول وآخر اسی چیز کو سمجھ لیا ہے تو اس طرح گویا آج کی ہماری تہذیب کے پیش نظر صرف پیٹ ہے یا شہوت ۔ بہرحال جب یہ حماری تہذیب اپنے انتہائی عروج پر ہوگی تو اس وقت دجال کا خروج ہوگا اور دجالی تہذیب شروع ہوجائے گی ، دجال اپنے زمانے میں وہ تمام کام بغیر آلات کے انجام دے گا جو اس وقت سائنس دان اور انجنیئر آلات کے ذریعے انجام دیتے ہیں حدیث میں دجال کے گدھے کا ذکر بھی آتا ہے ، وہ چالیس دن میں گدھے پر سوار ہو کر تمام روئے زمین کا گشت کرے گا ، خدائی کا دعوی کرے گا ، اس کے پاس خزانے ہونے گے جس کو چاہے گا دے گا ، وہ جسے چاہے گا زندہ رکھے گا ، اور جسے چاہے گا ہلاک کر دے گا ، اس کے ہاتھ پر بڑے بڑے کرشمے ظاہر ہوں گے جن کی وجہ سے وہ خدائی کا دعوی کرے گا اور لوگ اس کے پیچھے لگ جائیں گے دجال جب چاہے گا بارش برسا دے گا اور جب چاہے گا زمین سے خزانے نکال دے گا ، آج زمین سے مع دنیات لوہا ، کوئلہ ، سونا ، چاندی ، گیس ، تیل وغیرہ نکالنے کے لیے بڑی بڑی مشینوں کے ذریعے سخت محنت کرنا پڑتی ہے ، مگر دجال بغیر آلات کے آنا فانا یہ چیزیں نکال کر دکھا دیگا ، وہ زمین سے کہے گا ” اخرجی کنوزک “ یعنی اپنے خزانے باہر نکال دے تو وہ فورا اگل دے گی ، بہرحال یہاں پر ضمنا حماری تہذیب اور دجالی تہذیب کا ذکر بھی ہوگا ۔ (فضائل سورة ) مستدرک حاکم میں صحیح حدیث کا مضمون یہ ہے ” من قراء سورة الکھف یوم الجمعۃ اضآء لہ من النور مابینہ وبین الجمعتین “۔ جس شخص نے جمعہ کے دن سورة کہف کی تلاوت کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے دوسرے جمعے تک نور ہی نور بنا دے گا بعض روایات میں آتا ہے کہ جس جگہ پر اس سورة کی تلاوت کرے گا ، وہاں سے مکہ مکرمہ تک اس کے لیے نور ہی نور ہوگا ، بعض روایات میں آتا ہے کہ ایسے شخص کے لیے زمین سے آسمان تک روشنی ہی روشنی ہوگی ۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے ” من حفظ عشرایت من اول سورة الکہف عصم من فتنۃ الدجال “ یعنی جو شخص سورة کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر کے انہیں ورد بنالے گا ، وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ ہوجائے گا ، ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ جب دجال کو دیکھو تو اس کے سامنے سورة کہف پڑھو ، وہ تمہیں شر نہیں پہنچا سکے گا ، دوسری روایت میں ہے ” من قراء العشر الاخرۃ عصم من فتنۃ الدجال “ جس شخص نے سورة کہف کی آخری دس آیتیں پڑھیں وہ فتنہ دجال سے محفوظ رکھا جائے گا ، ترمذی شریف کی ایک روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ، ” من قرا ثلاث ایت من اول الکہف عصم من فتنۃ الدجال “۔ جس شخص نے سورة کہف کی ابتدائی تین آیتیں پڑھیں وہ بھی دجال کے فتنہ سے مامون ہوگا ، یہ ادنی درجہ ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ کم از کم جمعہ کے دن ان کو ورد زبان بنا لے ، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص (آیت) ” قل لق کان البحر “۔ ۔۔ سے لیکر سورة کہف کی آخری دو آیات سونے سے پہلے پڑھ لے گا ، وہ جب چاہے گا اللہ اسے نیند سے بیدار کر دیگا ، (نزول کتاب کی نعمت) جیسا کہ پہلے عرض کیا ، اس کتاب حکیم کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا سے ہوتی ہے (آیت) ” الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب “ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، یعنی شکر اور تعریف کا مستحق وہی اللہ ہے جس نے اپنے کامل بندے پر کتاب نازل فرمائی اور کتاب بھی ایسی (آیت) ” ولم یجعل لہ عوجا “۔ کہ اس میں کسی قسم کی کجی نہیں رکھی عبارت صاف اور سلیس ہے کلام فصیح وبلیغ اور اس کی تعلیم انقلابی ہے ، یہ افراط وتفریط سے پاک اعتدال پسند کلام ہے ہر زمانے کے ہر انسان اور ہر زبان بولنے والے پر اس کا یکساں اطلاق ہوتا ہے ، یہ عقل سلیم کے عین مطابق ہے ، اور اس میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہے یہ کتاب حقائق حقہ اور ثابتہ پر مشتمل ہے اور اس میں کوئی تعارض نہیں پایا جاتا ، حقیقت یہ ہے کہ حقیقی کتاب کہلانے کی مستحق یہی کتاب ہے کیونکہ (آیت) ” لاریب فیہ “۔ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ (یہ کتاب قیم ہے) فرمایا اس کتاب مبین کی پہلی صفت تو یہ بیان ہوئی کہ اس میں کوئی کجی نہیں اور دوسری صفت یہ ہے کہ یہ کتاب ” قیما “ یعنی مستقیم ہے جو کہ صراط مستقیم کی تشریح و توضیح بیان کرتی ہے ، بعض کہتے ہیں کہ قیم کا معنی یہ ہے کہ اس میں کوئی تعارض اور تناقض نہیں پایا جاتا بلکہ یہ بالکل سیدھی کتاب ہے یہ بھی اس کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل ہے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ولوکان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “۔ (النسائ 82) اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی غیر کا کلام ہوتا تو لوگ اس میں یقینا بہت زیادہ اختلاف اور تعارض پاتے مگر ایسا نہیں ہے ، یہ ایسا معجز کلام ہے کہ تمام انس وجن مل کر اس جیسی ایک سورة بھی نہیں پیش کرسکتے یہ کتاب قیم یعنی سیدھی ، محکم اور اختلاف سے پاک ہے ۔ بعض قیم کی تشریح اس طرح بیان کرتے ہیں ” قیما بمصلح العباد “ یعنی یہ اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کو قائم کرنے والی کتاب ہے بعض کہتے ہیں کہ قیم کا معنی محافظ اور نگران ہے یعنی اللہ کی یہ آخری کتاب سابقہ تمام کتب سماویہ کی محافظ اور نگران ہے یعنی اللہ کی یہ آخری کتاب سابقہ تمام کتب سماویہ کی محافظ اور نگران ہے ، ان کی تمام صحیح باتوں کو تسلیم کرتی ہے اور ناجائز طریقے سے شامل کی گئی غلط باتوں کا انکار کردیتی ہے ، یہ کتاب انسان کے دینی اور دنیاوی ہر دو اقسام کے مقاصد کو قائم کرتی اور ان کے بارے میں صحیح صحیح تعلیم دیتی ہے ۔ (مقصد نزول کتاب) فرمایا ہم نے یہ کتاب اپنے بندے پر نازل فرمائی جس میں کوئی کجی نہیں ہے یہ قیم ہے ، اور اس کے نزول کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لینذر باسا شدیدا من لدنہ “۔ تاکہ وہ بندہ اس سخت گرفت سے لوگوں کو ڈرائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ کامل ترین بندے پر اتاری ہے ، یہ کتاب انسانیت کی روحانی اور مادی تکمیل کا ذریعہ ہے ، لہذا جو بھی اس پر ایمان لائے گا وہ خود بھی عالم اور کامل بن جائے گا اور پھر دوسروں کی تکمیل کا بھی ذریعہ بنے گا ، اسی لیے فرمایا کہ اس کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ کفر ، شرک ، معاصی ، اور تکذیب کے مرتکبین کو خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جائے ، (مومنین کے لیے بشارت) فرمایا اس کتاب کے نزول کا دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” ویبشرالمؤمنین “۔ وہ اللہ کا بندہ اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دے (آیت) ” الذین یعلمون الصلحت “۔ جو فکر کی طہارت کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض نماز ، روزہ زکوۃ اور حج ، صدقہ خیرات ، جہاد ، قربانی پر عامل ہوتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لیے بشارت ہے (آیت) ” ان لھم اجرا حسنا “۔ کہ بیشک ان کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے ، سورة یونس میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” ان لھم قدم صدق عندربھم “۔ ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں سچائی کا پایہ ہے اور یہ ایسا بہتر بدلہ ہے (آیت) ” ماکثین فیہ ابدا “۔ کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور وہاں سے کبھی بھی نکالے نہیں جائیں گے ، دنیا کی نعمتوں کے زائل ہونے کا تو ہر وقت خطرہ ہوتا ہے ، ایک شخص آج دولت مند ہے توکل قلاش بھی ہو سکتا ہے ، آج صحت مند ہے تو کل بیمار بھی ہو سکتا ہے مگر اہل ایمان کی نعمتوں میں نہ کمی آئے گی اور نہ ان کے چھن جانے کا خطرہ ہوگا ، بقول سعدی صاحب (رح) دنیا کی ہر نعمت کو استعمال کرو کیونکہ ایک دن نعمت بھی ختم ہوجائے گی اور انسان خود بھی باقی نہیں رہے گا ، مگر آخرت میں خطرے والی کوئی بات نہیں ہوگی ، نہ موت کا خطرہ نہ نعمت کے چھن جانے کا ڈر اسی لیے فرمایا کہ اہل ایمان کو خوشخبری سنا دو کہ آخرت میں ان کے لیے اچھا بدلہ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔
Ayahs 18:4–8

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ڈرائے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنائی ہے ۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم اور نہ ان کے آباؤ اجداد کو ، یہ ایک بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے نہیں کہتے یہ مگر جھوٹ۔

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

پس شاید آپ اپنا گلا گھونٹ ڈالیں گے ان کے پیچھے اگر یہ ایمان نہ لائے اس بات پر افسوس کرتے ہوئے ۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

بیشک ہم نے بنایا ہے جو کچھ ہے زمین پر اس کے لیے رونق ، تاکہ ہم آزمائیں کہ کون ان میں زیادہ اچھا عمل کرنے والا ہے ۔

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور بیشک ہم بنانے والے ہیں جو کچھ اس (زمین) پر ہے ایک چٹیل میدان۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کے نزول کا ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر ایک عظیم المرتب کتاب نازل فرمائی جس میں کسی قسم کی غلطی تضاد ، تخالف یا خلاف واقع بات نہیں ہے ، یہ کتاب سابقہ کتب سماویہ اور اللہ کے بندوں کی مصلحتوں کی محافظ اور نگران ہے ، نزول کتاب کا مقصد اللہ نے یہ بیان فرمایا ، تاکہ اللہ کا بندہ اللہ کی طرف سے آنے والی سخت گرفت سے لوگوں کو آگاہ کرے اور اہل ایمان کو خوشخبری دے کہ اعمال صالحہ انجام دینے والے لوگوں کے لیے اچھا اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ (تخویف برائے تجویز کنندگان اولاد) اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے نزول کتاب کا دوسرا مقصد بیان کیا ہے (آیت) ” وینذرالذین قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ کہ وہ ڈر سنائے ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے پہلی وعید عام لوگوں کے لیے تھی کہ سب کو اللہ کی گرفت سے ڈرا دیا جائے اور یہ خصوصی تخویف صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں ان میں اول نمبر نصاری ہیں ، یہ باپ ، بیٹا اور روح القدس کے عقیدے والے تثلیث پرست لوگ ہیں ، دنیا میں ان کی کثیر آبادی ہے اور یہی لوگ حماری تہذیب یعنی پیٹ اور شہوت کے امام ہیں ، ان میں سے بعض تو تثلیث کے قائل ہیں جو کہتے ہیں (آیت) ” ان اللہ ثالث ثلثۃ “ (المائدہ۔ 73) یعنی خدا تعالیٰ تینوں میں تیسرا ہے اور بعض نے یوں کہہ دیا (آیت) ” ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “۔ (المائدۃ ۔ 72) خدا تو بعینہ مسیح ابن مریم ہے ، یہ ہندوؤں کے اوتار والا عقیدہ ہوگیا کہ خدا تعالیٰ بعض شخصیتوں میں حلول کرجاتا ہے ، پھر عیسائیوں نے یہ بھی کہا (آیت) ” وقالت النصری المسیح ابن اللہ “۔ (التوبۃ ، 30) یعنی مسیح (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے ، اور اس طرح انہوں نے خدا تعالیٰ کا جزو مان لیا۔ دوسرا گروہ جنہیں ڈرانا مقصود ہے ، وہ یہودیوں کا ہے انہوں نے بھی خدا کا بیٹا تجویز کیا (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ابن اللہ “۔ (التوبۃ ، 30) یہودیوں نے کہا کہ عزیر (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے اور اس طرح وہ بھی عقیدہ ابنیت میں ملوث ہوگئے ، یہودی سارے تو اس عقیدے کے قائل نہیں ، تاہم ایک عزیری فرقہ ہے جو آپ کو خدا کا بیٹا مانتا ہے ، حضرت عزیر (علیہ السلام) بابل میں قید کردیے گئے ، پھر جب کافی عرصہ کے بعد آپ باہر آئے تو تورات معدوم ہوچکی تھی ، چناچہ انہوں نے تورات حرفاحرفا لوگوں کے سامنے پیش کردی اس پر وہ لوگ کہنے لگے کہ یہ کام خدا کا بیٹا ہی کرسکتا ہے ، چناچہ انہوں نے یہی عقیدہ واضع کرلیا ،۔ بعض وحدت الوجودی بھی عقیدہ حلول کے قائل ہیں ، وہ کائنات کی تمام چیزوں کو خدا تعالیٰ کا مظہر یا اوتار مانتے ہیں لہذا یہ بھی مشرک ہیں ، البتہ وحدت الوجود کا صحیح عقیدہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کا قیم صرف خدا تعالیٰ ہے چناچہ خواجہ علی ہجویری (رح) اپنی کتاب کشف المجوب میں بیان کرتے ہیں کہ صوفیا کے بارہ فرقے ہیں ، ان میں سے دو فرقے گمراہ ہیں جو خدا تعالیٰ کو انسانی روپ میں مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی شکل میں حلول کر آیا ہے اس کے علاوہ باق دس فرقے حق پر ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی اولاد تجویز کرنے والوں کے لیے اس کتاب کے ذریعے خاص طور پر تخویف دلائی گئی ہے چونکہ اس ضمن میں بدترین عقیدہ نصاری کا ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء ، کے کچھ عرصہ بعد پولس نے وضع کیا تھا ، لہذا سب سے زیادہ تخویف بھی انہی کے حصے میں آتی ہے اس وقت نصاری کی اپنی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور اگر اس میں یہودیوں کے عزیری فرقہ اور ہندؤوں کے اوتاری فرقہ کو بھی شامل کرلیا جائے تو پھر تعداد بہت بڑھ جاتی ہے حقیقت یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی اپنی تعلیم یہ ہے (آیت) ” یبنی اسرآء یل اعبدوا اللہ ربی وربکم انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوہ النار “۔ (المائدۃ 72) اے لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا ، غرضیکہ یہ اولاد تجویز کرنے والے نصاری ہوں یا یہودی ، حلولی ہوں یا اوتاری یا اشتراکی سب مشرک ہیں اور اللہ نے نزول کتاب کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ کا کامل ترین بندہ ایک تو عام لوگوں کو آنے والے عذاب سے ڈرا دے اور دوسرا خاص طور پر ان لوگوں کو ڈرائے جنہوں نے اللہ کے لیے اولاد تجویز کرکے شرک کا ارتکاب کیا ہے ۔ (کفارکا غلط عقیدہ) نصاری میں مشرکانہ عقائد کا حال یہ ہے کہ ان کے جہال لوگ تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کی حقیقی اولاد مانتے ہیں اور جو اہل علم ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا نے آپ کو بیٹا بنا کر ہر قسم کے اختیارات دے دیے ہیں ، وہ مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں جس کو چاہیں عطا کردیں اور جس سے چاہیں چھیں لیں ، وہ نافع اور ضار ہیں ، ان کو ہر چیز پر تصرف حاصل ہے اس طرح یہ دونوں گروہ شرک کے مرتکب ہوئے اور سب سے بڑھ کر انہوں نے یہ عقیدہ ایجادکر لیا کہ مسیح (علیہ السلام) سولی پر چڑھ کر ساری نسل انسانی کے لیے کفارہ بن گئے ہیں اور نجات اسی کو حاصل ہوگی جو اس عقیدہ پر ایمان لائے گا ، ایسا شخص دنیا میں کچھ بھی کرتا پھرے ، وہ جنت میں پہنچ جائے گا ، یہ خلاف فطرت اور نامعقول عقیدہ ہے اور اس عقیدے نے بھی دنیا کو تباہ وبرباد کیا ہے ، بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کسی دوسرے کو ملے ، قرآن پاک میں اس بات کی بار بار وضاحت کی گئی ہے (آیت) ” لا تزر وازاۃ وزراخری “۔ (بنی اسرائیل ۔ 15) کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا بلکہ ہر شخص کو اپنے اعمال کی جوابدہی خود کرنا ہوگی حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ” لاتجنی علیہ ولا یجنی علیک “ تیرا بوجھ بیٹا نہیں اٹھائے گا اور بیٹے کا بوجھ تجھ پر نہیں ڈالا جائے گا ، یہ اولاد ماننے والوں کے لیے خاص انداز ہوگیا ۔ (مسلمانوں کے غلط عقائد) ہم اہل کتاب اور دیگر مشرکین کی بات تو کرتے ہیں مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ مسلمان خود شرک میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوچکے ہیں جن کو اللہ کی آخری کتاب میں سابقہ اقوام کے شرک سے خبردار کیا گیا اور ڈرانے کا حکم دیا گیا ، عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھ لیا تھا ، تو آج کا نام نہاد مسلمان اولیاء اللہ سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی آس لگائے بیٹھا ہے ، ان کے نام کی نذریں مانی جاتی ہیں ، ان کے مزاروں پر چڑھاوے چڑھتے ہیں قبروں کو غسل دیا جاتا ہے ، اور ان کی چادر پوشی کی جاتی ہے ، ان کو نافع اور ضار سمجھا جاتا ہے گویا اللہ نے تصرف کی ساری چابیاں اولیاء اللہ کو منتقل کردی ہیں یہ شرک ہے جو بدترین گناہ ہے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان) شرک بہت بڑا ظلم ہے ، عیسائیوں اور ہندوؤں نے اللہ کے بندوں کو خدا کا جزو مان لیا (آیت) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزئا “۔ (الزخرف ، 15) مشرکین عرب کا ایک گروہ کہتا تھا کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجعلوا بینہ وبین الجنۃ نسبا “۔ (الصفت۔ 158) انہوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان رشتہ داری قائم کرلی ، آج مسلمانوں نے بھی ” نور من نور اللہ “۔ کا عقیدہ وضع کرکے سابقہ مشرکین کے قدم پر قدم رکھ دیا شرک ہی ایک ایسا بدترین گناہ ہے جس کو مٹانے کے لیے اللہ نے ایک لاکھ سے زیادہ انبیاء مبعوث فرمائے ۔ (بلادلیل دعوی) فرمایا جو لوگ اللہ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں (آیت) ” مالھم بہ من علم ولا لابآء ھم “۔ ان کے پاس اس دعوی کے لیے کوئی علم نہیں ہے یعنی نہ ان کے پاس کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی نہ صرف انہوں نے بلکہ ان کے آباؤ اجداد نے بھی بلادلیل یہ عقیدہ قائم کر رکھا تھا ، بھلا خدا تعالیٰ کو اولاد کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ کیا وہ نسل کا بھوکا ہے کہ بڑھاپے میں اولاد کام آئے گی یا وہ محتاج ہے کہ اولاد اس کی خدمت کرے گی ؟ خدا تعالیٰ تو ان چیزوں سے منزہ ہے ۔ وہ خود مدبر اور متصرف ہے گذشتہ سورة کی آخری آیت میں بھی گزر چکا ہے کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے کوئی اولاد نہیں بنائی اور اس کی بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ، سورة یوسف میں موجود ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ تو محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں (آیت) ” ما انزل اللہ بھا من سلطن “۔ (آیت ۔ 40) اللہ نے اس کے لیے کوئی دلیل نہیں اتاری اور تمہارا دعوی بالکل باطل ہے ، فرمایا (آیت) ” کبرت کلمۃ تخرج من افواھم “۔ خدا کی اولاد ٹھہرانے والی ایک بڑی بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے ان کے پاس محض یہی باطل دلیل ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد ایسی ہی کرتے ہیں ، حالانکہ اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” اولوکان ابآؤ ھم لا یعقلون شیئا ولا یھتدون “۔ (البقرۃ : 17) اگرچہ ان کے آباؤ و اجداد عقل و شعور اور ہدایت سے خالی ہوں مگر یہ انہی کا اتباع کیے جا رہے ہیں ، سورة الانبیاء میں اللہ نے فرمایا ہے کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیا ہے اے پیغمبر ” (آیت) ” قل ھاتوا برھانکم “۔ (آیت۔ 24) ان سے کہہ دیجئے کہ لاؤ اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے مگر وہ دلیل کہاں سے لائیں گے حقیقت یہ ہے (آیت) ” ان یقولون الا کذبا “۔ ان کا اولاد تجویز کرنے کا دعوی نرا جھوٹ ہے کسی کو کدا کا بیٹا بنانا اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہنا سراسر جھوٹ ہے اللہ نے خود عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا (آیت) ” انی عبداللہ “۔ (مریم ، 30) میں تو خدا تعالیٰ کا بندہ ہوں ، بیٹا نہیں اور جن کو یہ خدا کی بیٹیاں سمجھتے ہیں “ (آیت) ” بل عباد مکرمون “۔ (الانبیاء ، 26) وہ تو اللہ کے مکرم بندے ہیں فرشتے خدا کی عبادت گزار مخلوق ہے ، وہ خدا کے سامنے عاجزی کرتے ہیں ہیں اور اسی سے ترقی درجات کی درخواست کرتے ہیں ، جس طرح شجر ، حجر ، جن انسان اور جانور اللہ کے محتاج ہیں اسی طرح فرشتے بھی اس کے محتاج ہیں تو فرمایا ابنیت کا گندہ عقیدہ سراسر جھوٹ ہے ۔ (حضور ﷺ کے لیے تسلی) اگلی آیت میں حضور ﷺ کو تسلی دی گئی ہے ، آپ ﷺ لوگوں کو شرک میں مبتلا دیکھ کر ہر چند سمجھانے کی کوشش کرتے ، جب آپ کی تبلیغ کا ان پر کوئی اثر نہ ہوتا تو آپ کو سخت صدمہ پہنچتا ، بعض اوقات آپ اس صدمہ سے نڈھال ہوجاتے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی (آیت) ” فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا “۔ شاید آپ ان کے پیچھے اپنا گلا گھونٹ لیں ، اس بات پر افسوس کرتے ہوئے کہ یہ لوگ قرآن پر ایمان کیوں نہیں لاتے ، ” ھذا الحدیث “۔ سے مراد اللہ کا مقدس کلام قرآن پاک ہے ۔ حضور ﷺ مشرکین کی شرک پر ہٹ دھرمی اور پھر ان کی جہنم رسیدگی پر بڑا کڑھتے تھے مگر اللہ نے تسلی دی (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “۔ (البقرۃ ۔ 119) اہل دوزخ کے متعلق آپ سے کوئی پرس نہیں ہوگی کہ یہ لوگ کیوں جہنم کا ایندھن بنے ، بلکہ خود ان سے دریافت کیا جائے گا (آیت) ” ما سلککم فی سقر “۔ (المدثر ، 42) کہ تم جہنم میں کس وجہ سے آئے ؟ اللہ نے حضور ﷺ سے فرمایا (آیت) ” بلغ ما انزل الیک من ربک “ (المائدۃ 67) آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں جہاں تک راہ راست پر لانے کا تعلق ہے (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء “ (القصص ، 56) آپ اپنی پسند کے مطابق کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دے ۔ کسی کو منزل مقصود تک پہنچانا آپ کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے یہ تسلی کا مضمون ہوگیا ۔ (زمینی رونق برائے آزمائش) فرمایا (آیت) ” انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا “۔ بیشک ہم نے زمین پر کی ہر چیز کو اس کے لیے رونق بنایا ہے ، زمین پر موجود پھل پھول ، نباتات ، حیوانات ، جمادات ، مع دنیات ، زر و جواہر سب کچھ اس کی زینت اور رونق ہے اور یہ چیزیں پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لنبلوھم ایھم احسن عملا “۔ تاکہ ہم تم کو آزمائیں کہ اس رونق میں پھنس کر کون اچھے عمل کرتا ہے اور کون ایسا ہے جو آخرت سے روگردانی کرتا ہے توحید خداوندی سے منہ موڑتا ہے اور برے عقائد کون اختیار کرتا ہے اس لیے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ تم میں سے زیادہ عقل مند وہ آدمی ہے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچتا ہے اور اس کی اطاعت میں جلدی کرتا ہے حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ دنیا میٹھی بھی اور سرسبز بھی ، اللہ تعالیٰ نے باغات ، کھیت اور چراگاہیں پیدا کرکے تمہیں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے (آیت) ” فینظر کیف تعملون “۔ پھر وہ دیکھتا ہے کہ تم کیسے کام انجام دیتے ہو ، نیکی کی طرف راغب ہوتے ہو یا لہو ولعب میں الجھ کر رہ جاتے ہو حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا ” الا فاتقوا لدنیا واتقوالنساء “ خبردار ! دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچتے رہو ، فرمایا بنی اسرائیل میں گمراہی کا فتنہ عورتوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ، ان فتنوں میں مبتلا ہو کر اپنے اعلی مقصد کو نہ بھول جانا ، خدا کی توحید اور آخرت سے بیگانہ نہ ہوجانا ، اللہ تمہیں آزمانا چاہتا ہے ۔ اور یہ بھی یاد رکھو ، (آیت) ” وانا لجعلون ما علیھا صعیدا جرزا “۔ اور بیشک ہم بتانے والے ہیں جو کچھ اس زمین پر ہے چٹیل میدان جب قیامت برپا ہوگی تو زمین میں کوئی اونچ نیچ ، ٹیلہ ، پہاڑ ، درخت ، دریا ، سمندر وغیرہ نہیں ہوگا بلکہ ہر چیز فنا ہوجائے گی ، اور زمین چٹیل میدان رہ جائے گی ، مطلب یہ ہے کہ یہ زمین اور اس کی تمام رونقیں عارضی ہیں اور ایک دن فنا ہونے والی ہیں ، لہذا ان میں پھنس کر اللہ کی یاد کو نہ بھلا بیٹھنا ورنہ سخت نقصان اٹھاؤ گے ، یہ تو سب کچھ تمہاری آزمائش کے لیے ہے ۔
Ayahs 18:9–12

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ بیشک اصحاب کہف اور رقیم تھے ہماری آیتوں میں سے عجیب ۔

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب کہ پناہ پکڑی چند نوجوانوں نے غار کی طرف ، پس انہوں نے کہا ، اے ہمارے پروردگار ! دے دے ہمیں اپنی طرف سے مہربانی اور مہیا کر دے ہمارے لیے ہمارے معاملہ میں درستگی کی بات۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

پھر ہم نے تھپکی دے دی ان کے کانوں پر غار کے اندر کئی سال گنے ہوئے ۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر اٹھایا ہم نے ان کو تاکہ ہم معلوم کریں کہ دونوں گروہوں میں سے کون زیادہ یاد رکھنے والا ہے اس مدت کو جتنا وہ ٹھہرے ۔

ربط آیات : سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت وصداقت کو بیان کیا اور پھر اس کے ذریعے لوگوں کو ڈرانے کا حکم دیا ، ایک عام تخویف ہے کہ سارے کے سارے لوگ اللہ کے آنے والے عذاب سے ڈر جائیں اور دوسری تخویف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جو اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے ہیں اور عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر کو تسلی دی کہ جو لوگ گمراہی کو ترک کرکے ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، آپ ان کے لیے زیادہ فکر مند نہ ہوں ، بلکہ فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں باقی معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں اس کے بعد اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اس نے زمین بھر کی چیزوں کو باعث رونق اور زینت بنایا ہے تاکہ انسانوں کو آزمایا جاسکے کہ کون ان میں سے اچھی فکر اور اچھے اعمال اختیار کرتا ہے ، فرمایا ایک دن آنیوالا ہے ، جب زمین پر موجود درخت ، پہاڑ ، ندی ، نالے ، پھول ، پھل کچھ بھی نہیں رہے گا اور زمین محض ایک چٹیل میدان بن کر رہ جائے گی ۔ (بعض علمی مسائل) یہاں پر (آیت) ” صعیدا جرزا “۔ کے الفاظ آتے ہیں جس کا معنی ہم نے چٹیل میدان کیا ہے ، صعید دراصل مٹی کو کہتے ہیں جیسا کہ تیمم کے مسئلہ میں سورة المائدہ میں موجود ہے (آیت) ” فتیمموا صعیدا طیبا “۔ پس تیمم کرو پاک مٹی ہے یعنی جب پانی نایاب ہو یا کوئی شخص پانی کے استعمال پر قادر نہ ہو تو وہ مسنون طریقہ کے مطابق پاک مٹی سے طہارت حاصل کرکے نماز ادا کرسکتا ہے ، مفسر قرآن امام ابوبکر جصاص (رح) نے اس سے بعض علمی مسائل اخذ کیے ہیں فرماتے ہیں کہ مٹی تو فطرۃ پاک چیز ہے اور جب روئے زمین کی ہر چیز فنا ہو کر مٹی کا حصہ بن جائے گی تو وہ ہر چیز بھی پاکیزگی کے حکم میں داخل ہوجائے گی ، اسی لیے زمین کی جنس سے متعلقہ تمام اشیاء مثلا گرد و غبار ، پتھر ، اینٹ روڑا ، چونا ، ہڑتال ، ریت وغیرہ پر ہاتھ مار کر تیمم کیا جاسکتا ہے فرماتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوا کہ کسی چیز کی جنس کی تبدیلی کے ساتھ اس کا حکم بھی بدل جاتا ہے ۔ مثلا نجاست ایک ناپاک چیز ہے اور اگر یہی نجاست جل کر راکھ بن جائے تو جنس کی اس تبدیلی کے ساتھ ہی اس کا حکم بھی بدل جائے گا اب اگر نجاست کی راکھ کپڑے کو لکھ جائے یا پانی میں مل جائے تو کپڑے یا پانی پر پلیدی کا حکم نہیں لگے گا ، اسی طرح حرام جانور کی چربی بھی حرام ہے اور اس کی خریدو فروخت اور اس کا استعمال حرام ہے لیکن اگر ماسوائے خنزیر اسی چربی سے صابن بنا لیا جائے تو جنس کی تبدیلی سے صابن پلید نہیں ہوگا بلکہ قابل استعمال ہوگا شراب بھی قطعا حرام ہے اس کی کشیدگی ، خریدو فروخت اور پینا پلانا سب حرام ہے اور اگر اسی شراب کو سرکہ میں تبدیل کرلیا جائے تو حرمت کا حکم ساقط ہوجائے گا اور سرکہ استعمال کیا جاسکے گا ، (عجیب و غریب واقعہ) جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ان کا خیال تھا کہ آپ ان سوالوں کے جواب نہیں دے سکیں گے تو دین اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کا بہانہ مل جائے گا ، مگر اللہ تعالیٰ نے تینوں سوالوں کے جوابات دے یہود اور مشرکین کے منہ بند کردیے ، پہلا سوال روح کے متعلق تھا جس کا جواب گذشتہ سورة بنی اسرائیل میں گزر چکا ہے ۔ دوسرا سوال اصحاب کہف اور تیسرا ذوالقرنین کے متعلق تھا ان دونوں سوالوں کے جوابات اس سورة میں تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں اب بعض تمہیدی باتوں کے بعد آج کی آیات میں اصحاب کہف کا واقعہ پہلے اجمالا بیان کیا جا رہا ہے جس کی تفصیل اگلے دو رکوع میں آرہی ہے ، تو اس عجیب و غریب واقعہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ام حسبت “ کیا آپ خیال کرتے ہیں (آیت) ” ان اصحب الکھف والرقیم “۔ کہ بیشک اصحاب کہف وارقیم (آیت) ” کانوا من ایتنا عجبا “۔ ہماری آیتوں میں سے بڑے عجیب تھے ، واقعہ اصحاب کہف شروع کرنے سے پہلے اللہ نے اشارۃ بتلا دیا ہے کہ یہ واقعہ تمہیں بڑا عجیب و غریب معلوم ہوگا ، حالانکہ اچنبھے کا یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی لاکھوں واقعات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر ظاہر کیا ہے ، گذشتہ سورة میں واقعہ معراج بھی گزر چکا ہے جیسے کوئی انسان عقل کی کسوٹی پر نہیں جانچ سکتا ، اسی طرح اصحاب کہف کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے جو عام معمولات سے ہٹ کر ہے اور پھر اسی نوعیت کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا واقعہ بھی آرہا ہے اس قسم کے تمام واقعات اللہ تعالیٰ اس لیے ظاہر فرماتے ہیں کہ لوگ ان پر غور وفکر کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل کو سمجھ سکیں ، اور اس پر ایمان لاسکیں ۔ (اصحاب کہف والرقیم) کہف اور رقیم دو مختلف الفاظ ہیں ، کہف غار (CAVE کیو) کو کہتے ہیں ، چونکہ یہ چند نوجوان کسی پہاڑ کی غار میں پناہ گزیں ہوگئے تھے اس لیے انہیں اصحاب کہف کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ، البتہ لفظ رقیم کے معانی کے تعین میں مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام بخاری نے اپنی کتاب ” صحیح بخاری “ میں اس آیت کے ضمن میں ان تین آدمیوں کا حال بیان کیا ہے جن کو دوراں سفر بارش کی وجہ سے ایک غار میں پناہ لینا پڑی ، اسی دوران پہاڑ کے اوپر سے ایک بڑا سرک کر غار کے منہ پر آگیا جس سے غار کا منہ کلیتا بند ہوگیا ، اور اندر پناہ حاصل کرنے والوں کے لیے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ رہا ، پریشانی کے اس عالم میں ان تین آدمیوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں کیے گئے کسی نیک عمل کا واسطہ دیکر اللہ تعالیٰ سے رہائی کی دعا کرے ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا پہلے آدمی کی دعا پر اللہ نے وہ پتھر غار کے منہ سے تھوڑا سا سرکا دیا پھر دوسرے نے دعا کی تو پتھر کچھ مزید ہٹ گیا ، حتی کہ تیسرے آدمی کی دعا کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان محصورین کا راستہ کھول دیا اور وہ غار سے باہر آگئے ، امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ رقیم سے یہ اشخاص مراد ہیں گویا آپ کے نزدیک اصحاب کہف اور اصحاب رقیم دو مختلف گروہ ہیں اصحاب کہف وہ چھ آدمی تھے جو اپنے ایمان کو بچانے کے لیے غار میں چھپ گئے تھے اور جنہیں اللہ نے تین سو سال تک سلائے رکھا اور اصحاب رقیم یہ تین آدمی تھے جو غار میں پھنس کر رہ گئے تھے مگر اللہ نے انہیں رہائی دے دی ، تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف والرقیم ایک ہی گروہ ہے ان کو اصحاب کہف غار میں پناہ گزیں ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں اور رقیم انکی بستی کا نام تھا اس لیے اصحاب رقیم بھی کہلاتے ہیں بعض فرماتے ہیں کہ رقیم اس پہاڑ کا نام ہے جس کی غار میں یہ لوگ اتنا لمبا عرصہ سوئے رہے ، بعض کہتے ہیں کہ رقیم اس کتے کا نام تھا جو ان لوگوں کی پناہ گزینی کے دوران غار کے منہ پر بیٹھا رہا ۔ بعض فرماتے ہیں کہ رقیم بروزن فعیل ہے مگر مفعول کے معنی دیتا ہے ، اس طرح رقیم دراصل مرقوم ہے ، گویا اصحاب کہف کے نام کتبے پر مرقوم یعنی لکھے ہوئے تھے ، اس لیے انہیں اصحاب رقیم بھی کہا جاتا ہے کہتے ہیں کہ اصحاب کہف بڑی حیثیت کے لوگ تھے ، ا ن کا تعلق شاہی خاندان سے تھا یا حکومت وقت کے اعلی عہدیداروں کی اولاد تھے جب یہ لوگ اچانک لاپتہ ہوگئے تو ان کی تلاش کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر تمام سرکاری اور نجی ذرائع کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، چناچہ ان افراد کی نمایاں حیثیت اور واقعہ کی عجیب و غریب نوعیت کے پیش نظر حکومتی سطح پر ان لوگوں کے نام اور دیگر کوائف کسی کتبے پر لکھ کر سرکاری محافظ خانے میں محفوظ کردیے گئے ، اس طرح یہ لوگ اپنے نام مرقوم ہونے کی وجہ سے اصحاب رقیم کہلائے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ اصحاب کہف کے نام اور کوائف ان کی گمشدگی کے وقت لکھ کر محفوظ نہیں کیے گئے تھے بلکہ تین سو سال کے بعد جب یہ لوگ نیند سے بیدار ہوئے تو زمانہ بدل چکا تھا کئی سلطنتیں تبدیل ہوچکی تھیں جب اس عجیب و غریب واقعہ کا انکشاف ہوا تو اس وقت ان کے نام وغیرہ ایک کتبے پر لکھ کر اس غار کے دہانے پر رکھ دیے گئے جس میں وہ سوئے رہے ، اس لحاظ سے ان کو اصحاب رقیم کہا جاتا ہے بعد میں وہاں پر مسجد بھی تعمیر کردی گئی ، تو گویا اصحاب کہف والرقیم کا معنی ہے غار اور تختی والے ۔ (چند نوجوان) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ اجمالی طور پر اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” اذ اوی الفتیۃ الی الکھف “۔ جب کہ پناہ پکڑی چند نوجوانوں نے غار کے اندر ، یہ نوجوان تعداد میں چھ تھے اور ساتواں وہ چرواہا تھا جو راستہ چلتے انکے ساتھ شریک ہوگیا تھا اور آٹھواں اس چرواہے کا کتا تھا ، جب دوران سفر ان لوگوں کو چرواہے سے ملاقات ہوئی تو اس نے انکے حالات اور سفر کا مقصد معلوم کرنا چاہا ، پہلے تو وہ اپنے متعلق حقیقت حال واضح کرنے سے ہچکچائے مگر بعد میں چرواہے کے اصرار پر انہوں نے پوری بات کہہ دی ، چرواہے نے کہا کہ میں بھی تمہاری طرح صحیح عقیدے پر ہوں ، لہذا مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرلو ، چناچہ وہ بھی ساتھ چل دیا ، وہ لوگ چرواہے کے اس کتے کو بھگانا چاہتے تھے مگر کتا ان کا ساتھ چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھا جب ان لوگوں نے کتے کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا تو اللہ نے اسے قوت گویائی عطا فرمائی اور وہ کہنے لگا ، مجھے بھگاؤ نہیں ، میں بھی تم جیسے نیک لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں ، مجھے ہمراہ لے چلو جب تم آرام کیا کرو گے تو میں تمہاری پہریداری کیا کروں گا ، چناچہ سات وہ تھے اور آٹھواں یہ کتا بھی ان کے ہمراہ ہو لیا ، اس کا ذکر بھی آگے آرہا ہے ۔ ان نوجوانوں کی طرح بعض دیگر بڑے بوڑھے بھی دین حق پر قائم تھے مگر بادشاہ وقت کے ظلم وستم کو مد نظر رکھتے ہوئے نہ اس کے خلاف آواز بلند کرسکتے تھے اور نہ ہی وہاں سے ہجرت کرنے کی طاقت پاتے تھے ، بدعقیدگی اور ظلم وجور کی گندگی سے نکل جانے گا انقلابی قدم ان چند نوجوانوں کے ذریعے ہی آتا ہے پوری زندگی میں جوانی کا زمانہ ہی ایک قیمتی سرمایہ ہوتا ہے اور دنیا میں بڑے بڑے انقلاب نوجوانوں کے ہاتھوں ہی برپا ہوتے ہیں خود حضور ﷺ کے اولین جان نثاراں بھی زیادہ تر نوجوان لوگ ہی تھے بوڑھے لوگ خال خال ہی تھے جو اسلام کے ابتدائی دور میں آپ پر ایمان لائے تو یہی نوجوان قرآن پاک کے پروگرام کو لے آگے بڑھے ، اور دین کا پیغام دنیا بھر میں پھیلا دیا ۔ قرآن میں بہت سی جگہوں پر جوانی اور شباب کا ذکر ہے اگر نوجوانوں کی صحیح تربیت کی جائے اور انہیں صحیح لائن پر لگا دیا جائے تو یہ لوگ ملک وملت کا بہترین سرمایہ ثابت ہوتے ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ دور میں نوجوانوں کے معاملہ میں بالکل بےاعتنائی برتی جا رہی ہے انہیں صحیح تربیت دینے کی بجائے کھیل تماشے ، عریانی ، فحاشی اور فلم بینی پر لگایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی انقلابی صلاحیت آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے ۔ (اصحاب کہف کا زمانہ) واقعہ اصحاب کہف کی تفصیلات بیان کرنے کے باوجود قرآن پاک نے اس واقعہ کے زمانہ کا تعین نہیں کیا ظاہر ہے کہ قرآن کوئی تاریخ کی کتاب تو نہیں ہے جو ہر واقعہ کی جزئیات بھی بیان کرے ، پورے قرآن حکیم میں یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے علاوہ کسی بھی نبی کا واقعہ یا کوئی دیگر تاریخی واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیا گیا ، البتہ صرف وہ واقعات بیان کیے گئے ہیں جو بنی نوع انسان کے لیے عبرت اور بصیرت کا سامان پیدا کرسکیں ، بایں ہمہ بعض فرماتے ہیں کہ چونکہ یہود کو اس واقعہ کے ساتھ خاص لگاؤ ہے ، اس لیے یہ واقعہ مسیح (علیہ السلام) کے دور سے پہلے پیش آیا ہے ، اس واقعہ کے زمانہ کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ یہ انتوکس بادشاہ کا زمانہ تھا جو مسیح (علیہ السلام) سے 161 برس پہلے گزرا ہے یہ بڑا ظالم بادشاہ تھا اس نے بیت المقدس کو گرا کر یہاں مندر تعمیر کروایا ، جہاں پر بت پرستی ہوتی تھی ، یہ شخص خود بھی کفر وشرک میں ڈوبا ہوا تھا ، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کا واقعہ روم کے بادشاہ قیصر (DECIOS ڈیسس) کے دور میں پیش آیا جو مسیح (علیہ السلام) سے 251 برس بعد گزرا ہے ، یہ بھی بڑا ظالم بادشاہ مشہور تھا ، خاص طور پر مسیح (علیہ السلام) کے پیروکاروں پر ظلم وستم ڈھاتا تھا ، عربی زبان میں اس بادشاہ کا نام دقیانوس بتایا جاتا ہے ، اسی زمانے میں یہ چند نوجوان کہیں سفر پر گئے تو کسی مقام پر انہوں نے کسی نیک آدمی کا وعظ سنا تو اس سے متاثر ہو کر دین حق کو قبول کرلیا ، پہلے تو اپنے دین کو چھپاتے رہے مگر جب بادشاہ کا ظلم وستم حد سے بڑھ گیا تو یہ مجبور ہوگئے ، وہ بادشاہ لوگوں کو غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے پر مجبور کرتا تھا اور غیر اللہ کے نام کی قربانیاں بھی کرواتا تھا ، چونکہ یہ چند نوجوان ایسا کرنے کے لیے تیار نہ تھے لہذا انہوں نے بستی سے بھاگ جانے کا پروگرام بنایا اور اس طرح اس غار میں آکر چھپ گئے ان کو غار میں سوئے سوئے 309 سال گزر گئے اور اس طرح مسیح (علیہ السلام) کے بعد 560 سال کا عرصہ گزر چکا تھا حضور ﷺ کی ولادت باسعادت 571 ء میں ہوئی اور اس طرح اصحاب کہف آپ کی ولادت سے بیس سال پہلے نیند سے بیدار ہوئے مختلف زمانوں کا تعین مؤرخین کی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے مگر یقینی طور پر کسی زمانے کا تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس ضمن میں وحی الہی خاموش ہے اس ضمن میں امام جلال الدین سیوطی (رح) اپنی اصول تفسیر کی کتاب میں فرماتے ہیں ” ابھموا ما ابھم اللہ “ جس بات کو اللہ نے پردے میں رکھا ہے اسے پردے میں ہی رہنے دو ، اس کی تفصیل میں مت پڑو ، ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے جتنا اللہ نے اس واقعہ سے پردہ اٹھایا ہے ۔ (اصحاب کہف کا مقام) اس واقعہ کے مقام کے متعلق بھی مؤرخین اور مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ واقعہ شام کے علاقے میں پیش آیا ، مولانا الکلام آزاد (رح) نے پیٹرا (بطرا) کا نام لکھا ہے کہ اس مقام پر یہ واقعہ پیش آیا ، سید سلیمان ندوی نے بھی ایسا ہی اشارہ کیا ہے یہ خلیج عقبہ کے پاس کوئی جگہ تھی ، بعض مفسرین اسے اندلس کا واقعہ بیان کرتے ہیں کیونکہ وہاں کی تاریخ میں اس قسم کے واقعات ملتے ہیں ، بعض کہتے ہیں ایشائے کوچک میں افسوس کے مقام پر یہ واقعہ پیش آیا ، تاہم زیادہ گمان یہی ہے کہ یہ شام یا اس کے اطراف میں کوئی مقام ہے ، قرآن وحدیث میں اس کی کوئی تصریح موجود نہیں ہے ، البتہ دمشق سے بیس پچیس میل کی مسافت پر ایک غار ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہی اصحاب کہف کا مقام ہے لوگ اس غار کی زیارت کے لیے جاتے ہیں ، حضرت شیخ الحدیث بھی جب حج کر کے واپس آ رہے تھے تو دمشق پہنچ کر آپ نے بھی اس غار کی زیارت کی تھی ، وہاں پر کچھ قبریں ہیں ، کتبے بھی لگے ہوئے ہیں مسجد بھی ہے ، کہتے ہیں کہ یہ اصحاب کہف کی غار ہے ۔ واللہ اعلم ۔ (اصحاب کہف کی دعا) بہرحال اللہ نے فرمایا کہ جب پناہ پکڑی چند نوجوانوں نے پہاڑ کی غار میں (آیت) ” فقالوا “ تو انہوں نے یہ دعا کی ” ربنا من لدنک رحمۃ “ اے ہمارے پروردگار ، دے دے ہمین اپنی طرف سے مہربانی (آیت) ” وھی لنا من امرنا رشدا “ اور مہیا کر دے ہمارے لیے ہمارے معاملہ میں درستگی کی بات ، دراصل یہ تعلق باللہ کی درستگی کی بات ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مدار فوز و فلاح تعلق باللہ کی استواری پر ہی ہے ان لوگوں کا تعلق اللہ کے ساتھ صحیح تھا جبھی تو یہ محض دین حق کی حفاظت کے لیے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ گزیں ہوگئے تھے تو انہوں نے انتہائی بےکسی کی حالت میں اپنے مالک الملک کے حضور دعا کی ، ان کی بےبسی اور مجبوری کا حال اگلے رکوع میں بیان کیا جا رہا ہے ۔ (نیند اور بیداری) اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان کی دعا اس طرح قبول کی (آیت) ” فضربنا علی اذانھم فی الکھف سنین عددا “۔ ہم نے انکے کانوں پر تھپکی دیدی غار کے اندر سال ہاسال گنے ہوئے جس ماں بچے کو سلانے کے لیے تھپکی دیتی ہے اس طرح اللہ نے ان اصحاب کہف کو میٹھی نیند سلا دیا اور اس نیند کو اتنا طویل کردیا کہ جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی بعض لوگ کئی کئی دن تک بیہوش رہتے ہیں ، یہ بیہوشی ماہ دو ماہ یا سال دو سال تک بھی ہو سکتی ہے مگر تین سو نوسال تک سلائے رکھنا اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ہے ۔ فرمایا (آیت) ” ثم بعثنھم “ پھر ہم نے ان کو اٹھایا یعنی نیند سے بیدار کیا (آیت) ” لنعلم ای الحزبین احصی لما لبثوا امدا “ تاکہ ہم آشکارا کردیں کہ دونوں گروہوں میں سے مدت قیام کو زیادہ یاد رکھنے والا کون سا گروہ ہے ، اصحاب کہف کے قیام کی مدت میں بہت زیادہ اختلاف تھا حتی کہ خود ان کے اندر بھی دو گروہ بن گئے ، کسی نے کہا کہ ایک دن یا اس کا کم وبیش حصہ ٹھہرے ہیں اور کسی نے کچھ اور مدت بتائی ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ سلانے کے بعد ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ قیام کی مدت کے متعلق زیادہ صحیح گروہ کو واضح کریں ۔