Ayahs 18:50–53ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مومن اور مشرک آدمی کی بات ذکر فرمائی پھر دنیا کی بےثباتی کا ذکر کیا اور مال واولاد کو دنیا کی زینت کا سامان بتلایا ، پھر قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز نامہ اعمال میں درج ہوگی ،
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ دولت مند مشرک آدمی اپنے مال و دولت اور کثرت اولاد کی بناء پر اپنے مومن اور نادار بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس طرح غرور وتکبر کا مرتکب ہوتا تھا ، مومن آدمی نے اسے سمجھایا کہ خدا تعالیٰ قادر ہے وہ اگر چاہے تو تیرے باغ ، مال اور اولاد کو ضائع کر دے اور تجھے قلاش بنا دے ، لہذا اس عارضی مال واولاد پر تکبر نہیں کرنا چاہئے کہ یہ تو بڑی ہی نادانی کی بات ہے ۔
اسی تکبر ہی کے ضمن میں اب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کا ذکر کیا ہے اس نے بھی تکبر کی بنا پر ہی سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اور بالآخر ذلیل و خوار اور ہمیشہ کے لیے مردود ٹھہرا اللہ تعالیٰ نے ضمنا یہ بات بھی سمجھا دی ہے کہ کفر وشرک اور معصیت کے مرتکب لوگ ہمیشہ شیطان کے چنگل میں آجاتے ہیں حالانکہ شیطان اور اس کی ذریت بنی نوع انسان کی دشمن اور انہیں ہر طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ عام گناہ سے تو انسان کسی وقت بھی توبہ کرلیتا ہے لیکن جو گناہ تکبر کی بناء پر کیا جاتا ہے ، اس سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملتی لہذا آپ نے فرمایا کہ ایسے شخص سے بھلائی کی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔
(ابلیس سے دوستی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم “۔ اس بات کو اپنے دھیان میں لاؤ جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرو (آیت) ” فسجدوا الا ابلیس “۔ پس انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے (آیت) ” کان من الجن “۔ ابلیس جنات میں سے تھا (آیت) ” ففسق عن امر ربہ “۔ پس اس نے اپنے پروردگار کے حکم کی نافرمانی کی ، اور آدم کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کردیا ، سورة بقرہ میں آتا ہے (آیت) ” ابی واستکبر وکان من الکفرین “۔ (آیت : 24) اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں میں ہوگیا ، اللہ نے تعالیٰ نے ابلیس کی کارگزاری کا ذکر کرکے انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا (آیت) ” افتتخذونہ وذریتہ اولیآء من دونی “۔ کیا تم ایسے راندہ درگاہ کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا اپنا رفیق اور دوست بناتے ہو ؟ (آیت) ” وھم لکم عدو “۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، یہ تو بڑی ہی نادانی کی بات ہے فرمایا (آیت) ” بئس للظل میں بدلا “۔ ظالموں کے لیے بہت برا بدلا ہے ، ابلیس خود تو اپنے تکبر کی وجہ سے جہنم واصل ہوا ، اس کی دوستی کا دم بھرنے والے بھی اسی قبیل کے ظالم ہیں اور ظالموں کا بدلہ ہمیشہ برا ہوتا ہے فارسی والے بھی کہتے ہیں ۔
بقول دشمن پیمان دوست بشکستی
بہ ہیں از کہ بریدی دبا کہ پیوستی :
تو نے دشمن کے کہنے پر اپنے دوست کے عہد و پیمان کو توڑا ذرا دیکھ تو سہی کہ تم کس سے کٹ گئے اور کس سے کٹ گئے اور کس کے ساتھ جڑ گئے خدا تعالیٰ سے قطعی تعلقی کرکے ابلیس کی دوستی اختیار کرنا کس قدر باعث نقصان ہے ۔
(سجدہ سے انکار)
ابلیس ، ابلاس یا بلس مایوسی کا معنی دیتا ہے ، اس میں ذلیل اور مغموم ہونے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے ، دوسری جگہ کافروں کے لیے مبلسون کا لفظ بھی آتا ہے یعنی جب ان سے کچھ بن نہیں پڑے گا تو غمگین ہو کر خاموش ہوجائیں گے تاہم اس کا زیادہ تر معنی رحمت سے بعد کرتے ہیں چونکہ ابلیس اللہ کی رحمت سے دور اور مایوس ہوچکا ہے ، اس لیے اس کو یہ نام دیا گیا ہے ۔
ابلیس تمام شیطانوں کا سردار تھا ، اگرچہ اس کا تعلق جنات کی نوع سے ہے مگر یہ فرشتوں کے درمیان رہتا تھا اور انہی کے ساتھ رل مل چکا تھا ، اللہ کی بڑی عبادت کرتا تھا ، خواجہ شمس الدین یحیٰ منیری (رح) ساتویں صدی کے بزرگ ہیں جنہوں نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ ابلیس نے ساتھ لاکھ سال عبادت کی ، فضا میں اس کو اقتدار حاصل تھا ، جہاں چاہتا بلا روک چلا جاتا مگر جیسا کہ سورة اعراف میں موجود ہے ، جب اسے سجدے کا حکم دیا گیا تو اس نے غرور وتکبر کی بناء پر کہہ دیا کہ میں آدم (علیہ السلام) کے سامنے کیسے سربسجود ہو سکتا ہوں جب کہ میں اس سے افضل ہوں (آیت) ” خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “۔ (آیت : 12) مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا جب کہ آدم کو مٹی سے ، آگ مٹی سے برتر ہے ، لہذا میں آدم کے سامنے سجدہ نہیں کرسکتا ، جہاں تک فرشتوں اور ابلیس کے باہمی تعلق کی بات ہے ، ابلیس فرشتہ تو نہیں تھا ، بلکہ جنات میں سے تھا اکثر مقامات پر سجدہ کے لیے ” للملئکۃ کا لفظ آتا ہے یعنی اللہ نے فرشتوں کا حکم دیا تھا کہ سجدہ کرو مگر ساتھ ہی ابلیس کے انکار کا ذکر آتا ہے حالانکہ وہ فرشتہ نہیں تھا ، سورة اعراف کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بھی سجدے کا حکم دیا تھا ، اللہ نے اسے مخاطب کرکے فرمایا (آیت) ” مامنعک الا تسجد اذ امرتک “۔ (آیت : 12) اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے سجدے سے منع کیا جب کہ میں نے تمہیں اس کا حکم دیا تھا ۔
اس آیت کریمہ میں ابلیس کی کارگزاری میں فسق کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہم نے ” نافرمانی “ کیا ہے فسق کا معنی اطاعت سے باہر نکل جانا ہے اور ا س کا اطلاق کفر ، نفاق اور باقی گناہوں پر بھی ہوتا ہے کافروں ، یہودیوں اور منافقوں کو فاسق کہا گیا ہے ، اور جس شخص عقیدہ صحیح ہو مگر گنہگار ہو ، اس کو بھی فاسق کہا گیا ہے ، فسق کی اصطلاح عام ہے اور موقع کی مناسبت سے اس کو مختلف معانی پر محمول کیا جاتا ہے ، ویسے عربی لغت میں جب مغز چھلکے سے باہر نکل جائے تو اس کو فسق کہتے ہیں یعنی اس کا خروج ہوگیا ، اسی لحاظ سے جب کوئی شخص اپنے رب کی اطاعت سے باہر نکل جاتا ہے تو اس پر فسق کا اطلاق ہوتا ہے ۔
(ملائکہ کے طبقات)
فرشتے اللہ تعالیٰ کی برگزیدہ اور پاکیزہ مخلوق ہیں ، حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ” خلقت الملئکۃ من نور وخلقت الجآن من مارج من نار “۔ فرشتوں کو نورانی مادے سے پیدا کیا گیا جب کہ جنات کو آگ کے شعلے سے ، شعلہ دراصل آگ اور ہوا دو عناصر کا مجموعہ ہوتا ہے مگر اس میں آگ کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اسی حدیث میں آتا ہے ” خلق ادم مما وصف لکم اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اس مادے سے پیدا فرمایا جس کو تمہارے سامنے بیان کردیا گیا ہے یعنی (آیت) ” خلقہ من تراب “ نے اس کو مٹی سے پیدا فرمایا ، اسی لیے انسان کو خاکی کہا گیا ہے کہ یہ خاک کی پیدوار ہے انسان کو وجود بہت سے عناصر کا مجموعہ ہے تاہم اس میں مٹی غالب ہے لہذا اس کی تخلیق مٹی کی طرف ہی منسوب کی جاتی ہے ۔
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور پھر اس کے ساتھ فرشتوں اور ابلیس کا ذکر قرآن پاک کے مختلف مقامات پر مختلف عنوانات سے آیا ہے ، ملائکہ کے ساتھ اجمعین کا لفظ بھی آیا ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا ، تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور بعض دوسرے محقق مفسرین فرماتے ہیں کہ سجدہ پر مامور فرشتوں سے مراد علیین کے ملائکہ نہیں بلکہ ملائکہ عنصریین “ ہیں جیسا کہ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں پہلے درجے میں ملاء اعلی کے فرشتے ہیں جن کی آگے دو جماعتیں ہیں ملا اعلی کے باہر (آیت) ” حافین حول العرش “۔ فرشتے ہیں جو عرش کے گرد طواف کرتے رہتے ہیں پھر آسمانوں والے ، اس کے بعد فضا میں رہنے والے اور پھر ارضی فرشتے ہیں ، بہرحال جن فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا وہ ملائکہ عنصریین ہیں فرشتوں کے مختلف طبقات کا مادہ تخلیق بھی الگ الگ ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملاء اعلی کے فرشتوں کی تخلیق ایسے لطیف مادہ سے ہوئی ہے ، جیسے وہ آگ تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر نظر آئی تھی ، جب آپ اس کے قریب گئے تو معلوم ہوا کہ یہ آگ نہیں بلکہ کوئی لطیف چیز ہے یہ حجاب نوری تھا یا حجاب ناری تھا ، بہرحال شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم مثال کے فرشتوں کو لطیف عناصر سے پیدا فرمایا پھر باقی نچلے طبقات کے فرشتوں کو مزید لطیف مادے سے تخلیق ہوئی آگے جنات کے بھی مختلف طبقات ہیں شیاطین کی تخلیق سنڈاس جیسے گندے مادے سے ہوئی ، جہاں گندگی پھینکی جاتی ہے ا س جگہ پر تعفن پیدا ہو کر جو بخارات اٹھتے ہیں شیاطین کا مادہ تخلیق ایسا ہی غلیظ ہوتا ہے ۔
(ابلیس کی وسوسہ اندازی)
فرمایا کیا تم ابلیس اور اس کی ذریت کو اپنا رفیق بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے کھلے دشمن ہیں ابلیس اپنے پورے لاؤ لشکر سمیت انسانوں کو ورغلانے کے لیے حملہ آور ہوتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ابلیس سمندر پر اپنا تخت بچھا کر اپنے حواریوں کو جمع کرتا ہے اور پھر انہیں کائنات میں گمراہی پھیلانے کے مختلف امور پر مامور کرتا ہے ، اس حدیث میں دو باتوں کا خاص طور پر ذکر ہے ، ابلیس کی ذریت میں سے جب کوئی آکر یہ رپورٹ پیش کرتا ہے کہ میں فلاں میاں بیوی کے دلوں میں وسوسہ اندازی کرتا رہا حتی کہ ان کے درمیان جدائی ڈال دی تو ابلیس بہت خوش ہوتا ہے اور اپنے حواری کو شاباش دیتا ہے کہ تو میرا اچھا بیٹا ہے ، تو نے اپنا فرض محنت کے ساتھ نبھایا پھر دوسرا شیطان آکر یہ رپورٹ دیتا ہے کہ میں فلاں شخص کے پیچھے پڑا رہا حتی کہ اس سے شرک کا ارتکاب کرانے میں کامیاب ہوگیا اس پر بھی ابلیس بہت مسرور ہوتا ہے اور کہتا ہے ” انت “ انت “ تو ٹھیک اور کامیاب ہے ، غرضیکہ ابلیس نے گمراہی کے لیے مختلف محکمے قائم کر کے وہاں پر مختلف شیاطین کو مقرر کردیا ہے ان میں بعض خصوصی ماہرین (SPECIALIST سپیشلسٹ) بھی ہوتے ہیں جو اپنی کمال مہارت سے لوگوں کو گمراہ کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
(شیاطین کے مختلف نام)
حدیث شریف میں مختلف کاموں پر مامور شیاطین کے مختلف ناموں کو ذکر ملتا ہے مثلا جو شیطان وضو کے دوران وسوسہ اندازی کرتا ہے اس کو والہان کہا گیا ہے ، اور جو شیطان نماز کے دوران وسوسہ ڈالتا ہے وہ خنزب کہلاتا ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں مجاہد (رح) ، حسن (رح) ضحاک (رح) ، قتادہ (رح) وغیرہ جلیل القدر بزرگ ہوئے ہیں جنہوں نے قرآن پاک کی بڑی خدمت کی ہے ، ان میں سے حضرت مجاہد (رح) کا بیان ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے تیس 30 مرتبہ قرآن پاک کی تفسیر پڑھی ، آپ کا بیان ہے کہ شیاطین کی بہت سی قسمیں ہیں ، چناچہ امام طبری (رح) نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ بازار میں اپنا جھنڈا گاڑھنے والے شیطان کا نام زلنبور ہے ، یہ شیطان تاجروں سے جھوٹے وعدے اور جھوٹی قسمیں دلواتا ہے ، سودے میں دھوکہ فریب کرواتا ہے ، مال کے عیب کی ستر پوشی کرواتا ہے ، اپنے کام میں ماہر ہونے کی بناء پر وہ تاجروں کو ہر ممکن طریقہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
فرماتے ہیں کہ جو شیطان کسی شخص کو مصیبت کے وقت گمراہ کرتا ہے وہ ثبر کہلاتا ہے ، ایسے مواقع پر وہ لوگوں کو رونے پیٹنے ، جزع وفزع اور واویلا کرنے کی تعلیم دیتا ہے ، اسی طرح زنا پر ابھارنے والے شیطان کا نام اعور ہے ، اور جو جھوٹی خبروں کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے وہ مسوط کہلاتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے گھر والوں کو سلام نہیں کرتا اس پر داسم نامی خاص قسم کا شیطان داخل ہوجاتا ہے جب کوئی شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام نہیں کہتا تو شیطان کہتا ہے کہ اب مجھے گھر میں داخل ہونے کا موقع مل گیا ہے ، پھر اگر وہ گھر میں اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے ، اب مجھے یہاں رات گزارنے کا موقع بھی مل گیا ہے پھر وہ اہل خانہ کے قلوب میں اپنے اثرات ڈالتا رہتا ہے اور انہیں ہر طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
(اللہ تعالیٰ کی بےنیازی)
اللہ نے فرمایا کہ تم اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ اور نہ اس کے وسوسے میں آؤ بلکہ ان سے بچنے کی کوشش کرو ، تم خواہ مخواہ ان کو کار گزار سمجھتے ہو حالانکہ (آیت) ” ما اشھدتھم خلق السموت والارض “ میں نے تو انہیں آسمان و زمین کی تخلیق کے وقت حاضر نہیں کیا تھا (آیت) ” ولا خلق انفسھم “۔ اور نہ انہیں ان کی اپنی جانوں کی پیدائش کے وقت حاضر کیا تھا کہ دیکھ لو میری تخلیق میں کوئی نقص تو نہیں رہ گیا فرمایا ایسی بات نہیں ہے (آیت) ” وما کنت متخذ المضلین عضدا “۔ اور نہ میں شیاطین جیسے گمراہوں کو اپنا معاون بنانے والا ہوں ، مجھے کسی امدادی کی ضرورت نہیں ہے جو میری تخلیق کی تصدیق کرے ، کیا اللہ تعالیٰ (العیاذ باللہ) محتاج ہے کہ ایسے مواقع پر شیاطین سے مدد طلب کرے وہ تو بےنیاز ہے اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ، تو کیا وہ ایسے باغیوں ، سرکشوں اور نافرمانوں سے مدد چاہے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بےعقلی کی باتیں ہیں بھلا تم لوگ کیوں شیطان کے بہکاوے میں آتے ہو اور اسے اپنا دوست بناتے ہو ؟
(شرکاء کی بےبسی)
اللہ نے اگلی آیت میں فرمایا (آیت) ” ویوم یقول نادوا شرکآء ی الذین زعمتم “۔ اور جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ بلاؤ میرے ان شریکوں کو کہ جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں تم ان کے نام کی دہائی دیتے تھے اور انہیں نذرانے پیش کرتے تھے ذرا ان کو اس مصیبت کے وقت بلاؤ فدعوھم پس وہ ان کو بلائیں گے آوازیں دیں گے کہ آج ہماری مدد کرو (آیت) ” فلم یستجیبوا لھم “۔ مگر وہ باطل معبود ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیں گے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا بینھم موبقا “ ہم بنا دیں گے ان کے درمیان ہلاکت کی جگہ وہ تابع اور متبوع دونوں ہلاکت کے مقام میں دھکیل دیے جائیں گے ، دونوں گروہوں کو سزا کے ایک ہی مقام پر رکھا جائے گا ۔
فرمایا یہ ایسا وقت ہوگا (آیت) ” ورا المجرمون النار “۔ کہ مجرم لوگ دوزخ کی آگ کو دیکھیں گے (آیت) ” فظنوا انھم مواقعوھا “۔ اور انہیں یقین ہوجائے گا کہ وہ اس آگ میں پڑنے والے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ جہنم کی آگ چالیس سال کی مسافت سے نظر آجائے گی تو اپنی کرتوتوں کی وجہ سے مجرمین کو یقین آجائے گا کہ اب اس سے بچ نہیں سکتے ، (آیت) ” ولم یجدواعنھا مصرفا “۔ اور وہ اس سے پھرجانے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے ، دوزخ سے بچ کر وہ کسی دوسری جگہ پناہ نہیں لے سکیں گے بلکہ انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی آگ میں رہنا ہوگا ۔
Ayahs 18:54–59ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مال اولاد کو دنیا کی زندگی کی رونق سے تعبیر کیا تھا اور تلقین کی تھی کہ ان چیزوں میں منہمک ہو کر اپنے مقصود حقیقی سے غافل نہ ہوجانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں باقیات الصالحات ہی بہتر ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کا ذکر اور تسبیح کے کلمات ، تمام عبادات اور نیکی کے کام باقیات الصالحات میں داخل ہیں ، مفسر قرآن اور مشہور تابعی حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ نیکی نیتی بھی باقیات الصالحات میں شامل ہے ۔
اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی گمراہی کا ذکر کیا اور انسانوں کو آگاہ کیا کہ ابلیس اور اس کی اولاد تمہاری دشمن ہے ، انہیں اپنا دوست مت بناؤ ابلیس نے تکبر کی بنا پر خدا تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس پر محرومی اور لعنت پڑی ، اس سے پچھلی آیت میں محاسبہ اعمال کا ذکر بھی ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر شخص کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا ” یا ملٓئکتی اقیموا عبادی علی اطراف انامل اقدامھم للحساب “۔ اے میرے فرشتو ! میرے بندوں کو پاؤں کی انگلیوں پر حساب کتاب کے لیے کھڑا کر دو ، حشر کے میدان میں اتنا ہجوم ہوگا کہ پاؤں رکھنے کی جگہ بھی نہیں ہوگی اور لوگ پاؤں کی انگلیوں پر کھڑے ہوں گے ۔
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کا ذکر فرمایا ہے ، یہ تذکرہ اس سورة میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ہوچکا ہے سورة کی ابتداء میں فرمایا سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ،
(آیت) انزل علی عبدہ الکتب “۔ جس نے اپنے بندے پر یہ قرآن پاک نازل فرمایا جس میں کوئی کجی نہیں ہے ۔ یہ کتاب خلاف واقع امور سے پاک ہے اور اس کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان کو بشارت سنائی جائے اور عام لوگوں کو خدا تعالیٰ کی شدید گرفت سے ڈرایا جائے ، پھر اللہ نے چوتھے رکوع میں فرمایا اے پیغمبر ! ﷺ آپ اس کتاب کو لوگوں کے سامنے پڑھ کر سنائیں یہ ایسی کتاب ہے (آیت) ” لا مبدل لکلمتہ “۔ کہ اس کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اس کا قانون اور ضابطہ بالکل اٹل ہے ۔
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نتائج اعمال کا ذکر بھی کیا ہے پھر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے فرائض کا ذکر کیا ہے جس سے عام لوگوں کے فرائض کا بھی پتہ چلتا ہے ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہلاکت کے اسباب کا ذکر بھی کیا ہے کہ انسان ظلم کرنے کی وجہ سے تباہ ہوتے ہیں ۔
(قرآن پاک اور انسان)
قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذا القرآن للناس من کل مثل “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں پھیر پھیر کر بیان کی ہیں ، ہر طریقے سے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت ، اس کی قدرت کاملہ اور محاسبہ اعمال کی بات سمجھائی ہے مگر (آیت) ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا “۔ مگر انسان اکثر جھگڑالو واقع ہوا ہے ، یہ دلائل قدرت ، اللہ کی کتاب ، انبیاء اور اس کے ملائکہ کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا بلکہ بات بات میں جھگڑے پر اتر آتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک رات حضور ﷺ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے گھر تشریف لے گئے ، وہ آرام کر رہے تھے آپ نے فرمایا ، تم رات کے وقت نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ اس پر حضرت علی ؓ کی زبان سے یہ ادا ہوا کہ حضرت ! ہماری جانیں اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ، حدیث کے الفاظ ہیں (آیت) ” ان نفوسنا بید اللہ “۔ لہذا اگر خدا چاہے تو ہمیں رات کو بیدار کردیتا ہے اور ہم نماز ادا کرلیتے ہیں ، ورنہ سوئے رہتے ہیں ، آپ غصے کی حالت میں واپس آگئے ، آپ اپنی ران پر افسوس کی وجہ سے ہاتھ مار رہے تھے ، اس وقت آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے (آیت) ” وکان الانسان اکثر شیء جدلا “۔ انسان عام طور جھگڑالو واقع ہوا ہے ، دراصل حضور ﷺ کو حضرت علی ؓ کا جواب پسند نہیں آیا تھا ، انہوں نے یہ فلسفہ قائم کیا تھا کہ ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں اور اگر وہ اٹھا دیتا تو نماز پڑھ لیتے ہیں ، ورنہ نہیں ، ان کا جواب تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ اگر اللہ کی توفیق شامل ہوگی تو ضرور رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں گے ، لمبا چوڑا فلسفہ چھانٹنے کی ضرورت نہ تھی ، بہرحال فرمایا کہ انسان جھگڑالو واقع ہوا ہے حالانکہ ہم نے اس کے سامنے ہر قسم کی مثالیں بیان کرکے بات واضح کردی ہے ۔
(تہذیب انسانی)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مختلف مثالیں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فطرت انسانی کی اصلاح ہوجائے اور نہ اس وقت تک ممکن نہیں ، جب تک انسان کفر ، شرک ، ظلم اور بداخلاقی سے باز نہ آجائے ، شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) فرماتے ہیں ، کہ اگر انسان کے باطن میں شرک کی نجاست موجود ہے تو نئے اور اچھے کپڑے پہننے کا کیا فائدہ ؟ آپ نے یہ بھی فرمایا ” اذا اخرجت زور دخل نور “ انسان کی فطرت میں اس وقت تک نور داخل نہیں ہوتا جب تک کہ اس سے جھوٹ خارج نہیں ہوجاتا گویا انسان کی تہذیب اور شائستگی اس وقت ممکن ہوگی جب اس سے شرک ، ظلم اور بداخلاقی دور ہوجائے گی ، اس سلسلہ میں قرآن پاک انسان کی راہنمائی کرتا ہے کہ انسان کس طرح مہذب بن سکتا ہے جب بھی اللہ کی کتاب نے لوگوں کو مہذب بنانے کی کوشش کی انہوں نے احکام الہی کو ماننے کی بجائے بیہودہ فرمائشیں شروع کردی ، مثلا متکبر مشرک کہتے تھے کہ ہم آپ کی مجلس میں اس وقت تک نہیں بیٹھ سکتے جب تک آپ ان غریب اور حقیر اہل ایمان کو یہاں سے اٹھوا نہ دیں اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ ایسی بات ہرگز نہ کریں ، ان کا تو کام ہی حجت بازی ہے اور یہ جھگڑالو لوگ ہیں ، آسانی سے ماننے والے نہیں ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اکابرین نے بھی یہی عذر پیش کیا تھا کہ ہم ان کمین لوگوں کے ساتھ آپ کی مجلس میں نہیں بیٹھ سکتے ، مگر نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میں ان مخلص اہل ایمان کو اپنی مجلس سے دور کر دوں تو میں ظلم کرنے والا بن جاؤں گا ، فرمایا ہمیں تو اللہ نے ظلم کے خلاف ہی مبعوث فرمایا (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 337) (فیاض) ہے بھلا ہم خود کیسے ظلم کرسکتے ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا ایک مقصد ” رفع التظالم من بین الناس “ یعنی لوگوں کے درمیان سے ظلم کو ہٹانا بھی ہے پہلے درجے میں کفر اور شرک کا ارتکاب ظلم ہے اور پھر مخلوق کے ساتھ ہر قسم کی زیادتی بھی ظلم میں داخل ہے ، غرضیکہ انسانی تہذیب اس وقت مکمل ہوگی جب ان تمام قباحتوں کا قلع قمع ہو کر انسان میں اچھے خصائل پیدا ہوجائیں ۔
(ایمان لانے میں رکاوٹ)
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان نہ لانے کی وجوہات بیان فرمائی ہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما منع الناس ان یؤمنوا “۔ اور نہیں روکا لوگوں کی ایمان لانے سے (آیت) ” اذ جآء ھم الھدی “۔ جب کہ ان کے پاس ہدایت آگئی ، ایک تو ایمان لانے سے روکا اور دوسرا (آیت) ” ویستغفروا ربھم “۔ اپنے پروردگار سے بخشش مانگنے سے بھی روکا ، ایمان اور بخشش طلبی سے روکنے کی دو وجوہات اللہ بیان فرمائی ہیں پہلی یہ ہے (آیت) ” الا ان تاتیھم سنۃ الاولین “۔ کہ ان کے پاس پہلے لوگوں کا دستور آجائے پہلے لوگوں کا دستور یہ رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا ، اللہ کے انبیاء کا تمسخر اڑایا کتب سماویہ کو تسلیم نہ کیا اور معاد کا انکار کردیا پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور انہیں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے ناپید کردیا ، گویا وہ ایمان لانے کے لیے عذاب کے منتظر ہیں ۔
فرمایا ایمان نہ لانے کی دوسری وجہ یہ ہے (آیت) ” اویاتیھم العذاب قبلا “۔ کہ یا عذاب بالکل ان کے سامنے آجائے یعنی وہ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ ان پر عذاب نازل ہوجائے تو پھر وہ ایمان لائیں ، اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں ، حقیقت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب آجاتا ہے تو اس وقت کا ایمان لانا مفید نہیں ہوا کرتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو کر رہتا ہے غرضیکہ اللہ نے مکذبین کی یہ خصلت بیان کی ہے کہ وہ ایمان لانے اور بخشش طلب کرنے کے لیے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ یا تو ان پر یکدم عذاب آجائے اور یا پھر وہ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لے آئیں فرمایا یہ ان کی خام خیالی ہے ایسی صورت میں وہ خدا کی سزا سے بچ نہیں سکتے ۔
(انبیاء کا فرض منصبی)
آگے ارشاد ہے (آیت) ” وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین “۔ اور نہیں بھیجتے ہم رسولوں کو مگر اس لیے کہ وہ فرمانبرداروں کو اچھے انجام کی خوشخبری سنا دیں اور نافرمانوں کو ان کے لیے برے انجام سے ڈرادیں ، تمام کافر ، مشرک ، بداعمال اور بداخلاق لوگ جان لیں کہ وہ نہایت ہی برے انجام سے دوچار ہونے والے ہیں انبیاء کا فرضی منصبی یہ ہے نہ کہ لوگوں کی بیہودہ فرمائشیں پوری کرنا ، فرمایا کافروں کا حال یہ ہے ، (آیت) ” ویجادل الذین کفروا بالباطل “۔ اور کافر لوگ باطل کو ساتھ لے کر جھگڑا کرتے ہیں (آیت) ” لید حضوا بہ الحق “۔ تاکہ اس باطل کے ذریعے حق کو گرا دیں ، کفار کی اس کارگزاری کے ثبوت میں تاریخ عالم گواہ ہے جب اللہ کے انبیاء ان کے پاس آتے رہے تو یہ لوگ ان کو جھٹلاتے رہے ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مذمت کی ، ان کے معجزات کو سحر کہہ کر رد کردیا (آیت) ” واتخذوا ایتی وما انذروا ھزوا “۔ اور میری آیتوں اور ڈرانے والی چیز یعنی خدا کی گرفت اور عذاب کے ساتھ ٹھٹھا کیا ، اس کی مثالیں قرآن میں جگہ جگہ موجود ہیں مشرکین مکہ کہتے تھے (آیت) ” ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء (انفال ، 32) اے اللہ ، اگر محمد کا دین برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے ، ہم تو اس دین کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں قیامت کے متعلق کہتے ” متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین “۔ (الملک ، 25) اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا عذاب آیا اور وہ خدا کی زمین سے ناپیدا ہوگئے ۔
(آیات الہی سے اعراض)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنھا “۔ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جسے اس کے پروردگار کی آیتوں کے ساتھ نصیحت کی جائے تو وہ ان سے اعراض کرے ، آیات میں احکام ، دلائل ، معجزات اور نشانیاں سب کچھ شامل ہے جس شخص کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی یہ تمام چیزیں پیش کی جائیں اور وہ پھر بھی ان سے اعراض کرے تو وہ بڑا ہی ظالم اور نامراد ہے ایسے شخص کا حال یہ ہے (آیت) ” ونسی ما قدمت یدہ “۔ کہ وہ بھول چکا ہے جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اس نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ میں اعمال کے ذریعے کیا چیز آگے بھیج رہا ہوں اس نے اپنی برائی پر کبھی نگاہ ہی نہیں ڈالی اور اس طرح آیات الہی کو فراموش کردیا ، درحقیقت یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو تعصب اور عناد کی بناء پر ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انا جعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقہوہ وفی اذانھم وقرا “۔ ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں جس کی وجہ سے یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوچکے ہیں اور انکے کانوں میں بوجھ ہیں اللہ نے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم “۔ (البقرۃ ، 7) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں سورة نساء میں ہے (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں ، سورة المطففین میں فرمایا (آیت) ” بل ران علی قلوبھم “ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے (آیت) ” ماکانوا یکسبون “ اس وجہ سے جو وہ کماتے تھے ، وہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے تھے شرکیہ رسوم میں ڈوبے ہوئے تھے لہذا ان کے دل اس طرح خراب ہوگئے جس طرح زنگ لوہے کو کھا جاتا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” وان تدعھم الی الھدی “۔ اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف دعوت دیں (آیت) ” فلن یھتدوا اذا ابدا “۔ تو وہ کبھی ہدایت قبول نہیں کریں گے یہ آیات الہی سے اعراض کا نتیجہ ہے کہ وہ ہدایت سے یکسر محروم ہوچکے ہیں ۔
(قانون امہال و تدریج)
فرمایا (آیت) ” وربک الغفور ذوالرحمۃ “۔ تیرا پروردگار بخشش کرنے والا اور رحمت والا ہے یہ اس کی رحمت ہے کہ مجرموں کو پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ موقع دیتا رہتا ہے ، اس کے ہاں قانون امہال و تدریج کام کرتا ہے ، فرمایا (آیت) ” لویؤاخذھم بما کسبوا “۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بری کمائی کی وجہ سے انہیں پکڑنا چاہئے (آیت) ” لعجل لھم العذاب “۔ تو ان کے لیے جلدی عذاب لے آئے مگر یہ اس کی بخشش اور رحمت ہے کہ وہ مہلت دیتا رہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میں گرفت کرنے پر آتا ہوں تو اس طریقے سے پکڑتا ہوں جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا فرمایا ، (آیت) ” ان کیدی متین “۔ (اعراف 183) میری تدبیر بڑی مضبوط ہے ، اس سے کون باہر نکل سکتا ہے ؟ سورة البروج میں ہے (آیت) ” ان بطش ربک لشدید “۔ بیشک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ، سورة الرحمن میں جنوں اور انسانوں سے خطاب کرکے فرمایا (آیت) ” ان استطعتم ان تنفذوا من اقطار السموت والارض فانفذوا “۔ اگر تم زمین وآسمان کے کناروں سے نکل جانے کی طاقت رکھتے ہو تو بھاگ کر دکھاؤ مگر تم نہیں بھاگ سکتے ۔
فرمایا ، اگر اللہ تعالیٰ ان کی کارگزاری کی وجہ سے انہیں پکڑنا چاہے تو فورا عذاب نازل کردے (آیت) ” بل لھم موعد “۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے ، پھر جب وہ وقت آجائے گا تو وہ گرفت میں آجائیں گے (آیت) ” لن یجدوا من دونہ موئلا “۔ اور وہ اللہ کے سوا کہیں جائے پناہ بھی نہیں پاسکیں گے ہر فرد ، جماعت ، گروہ ، قوم ، ملک اور بستی کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت مہلت ملتی رہتی ہے پھر مقررہ وقت پر گرفت آجاتی ہے اور لوگ صفحہ ہستی سے مٹا دیے جاتے ہیں ۔
(ظالموں کی ہلاکت)
ارشاد ہوتا ہے ذرا دیکھو تو سہی (آیت) ” وتلک القری اھلکنھم لما ظلموا “۔ یہ ہیں بستیاں جن کو ہم نے ہلاک کیا جب کہ انہوں نے ظلم کیا ، پانچویں رکوع میں مالدار مشرک کا ذکر ہوچکا ہے جس کے دو باغات تھے جن پر وہ غرور کرتا تھا اور انہیں اپنے کمال کا صلہ سمجھتا تھا وہ اپنے باغ میں داخل ہوا (آیت) ” وھو ظالم لنفسہ “ اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا ، اس کا ظلم یہی تھا کہ وہ مادیت کے شرک میں مبتلا تھا ، وہ اپنی جائداد کو ہی اول وآخر سمجھتا تھا اور خدا تعالیٰ کی ذات پر اسے قطعا اعتماد نہیں تھا ، چناچہ جب وہ اپنے باغ میں داخل ہوا تو کہنے لگا (آیت) ” ما اظن ان تبید ھذہ ابدا “۔ مجھے یقین ہے کہ یہ باغ کبھی ضائع نہیں ہوگا بلکہ ہمیشہ ایسے ہی رہے گا ، اس کے برخلاف مومن کا عقیدہ یہ ہے کہ (آیت) ” ماشآء اللہ ، لا قوۃ الا باللہ “۔ ہوتا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ چاہے کیونکہ اس کی توفیق کے بغیر کوئی طاقت نہیں ، تمام قوتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان بسیتوں کے مکینوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے ہلاک کیا ، سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر ہے جیسے فرمایا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان ، 3) شرک ظلم عظیم ہے نیز فرمایا (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرۃ ، 254) کافر ہی ظالم ہیں کفر وشرک کے بعد پھر حق تلفی ایذاء رسانی قتل تمام بڑے بڑے جرائم ظلم میں داخل ہیں ۔
فرمایا بستیوں کی ہلاکت ان کے ظلم کی وجہ سے ہوتی ہے مگر یہ اندھا دھند ہوتی بلکہ (آیت) ” وجعلنا لمھلکھم موعدا “۔ ان کی ہلاکت کے لیے ہم نے ایک وعدہ یعنی وقت مقرر کر رکھا ہے اس وقت سے پہلے ہم کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتے ، اس سے معلوم ہوا کہ ہلاکت کا ایک قانون تو وہ تھا جو سابقہ اقوام پر نافذ العمل تھا کہ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو پھر آخر میں یکدم عذاب آیا اور ساری قوم ہلاک ہوگئی (آیت) ” فھل تری لھم من باقیہ “۔ (الحاقۃ 8) کے مصداق ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ، ہلاکت کا دوسرا طریقہ امہال و تدریج کا قانون ہے کہ جہاں ظلم و زیادتی ہوگی وہاں تباہی آئیگی ۔
(مسلمانوں کی حالت زار)
یہ تباہی مختلف خطوں میں جرم کی نوعیت کے مطابق مختلف طریقوں سے آتی ہے آج دنیا میں مسلمان ایسی ہی تباہی کا شکار ہو رہے ہیں ، افغانستان ، ایران ، عراق ، فلسطین ، قبرص ، فلپائن اور مصر کے مسلمانوں انہیں مظالم کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں ، یہ سب ہمارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ہم نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ، کفر وشرک کا راستہ اختیار کیا ، خدا کے نافرمانوں کا ساتھ دیا ، رسومات باطلہ کو اختیار کیا جس کے نتیجے میں بتدریج بربادی آئی ، ہم روز مرہ اسی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں گذشتہ پانچ سال میں افغانستان میں تیس لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں فلسطین میں بیس لاکھ آدمی مارے جا چکے ہیں ، اور باقی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی یہ خود ہمارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت ہیں ، بادشاہ ظالم اور عیاش ہیں ، انہوں نے اپنے معاملات میں کافروں کو دخیل بنا رکھا ہے امریکہ ، برطانیہ ، روس سب گندی سیاست چمکائے ہوئے ہیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ بےگناہ لوگوں کو کچل رہے ہیں ، اگر ہم ظلم سے باز آجائیں تو اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی کو ہلاک نہیں کرتا (آیت) ” واھلھا مصلحون “۔ جب تک لوگ اصلاح کنندہ ہوں جونہی ظلم کا دور دورہ ہوگا ، ہلاکت آئے گی ، اب اللہ کا یہی قانون ہے کہ ظلم کے نتیجے میں یہ لوگ فتنوں کا شکار ہو نگے اور ان پر ہلاکت وتباہی آئے گی ۔
Ayahs 18:60–64ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان نافرمانوں کا ذکر کیا جو قرآن کریم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں اور حق کو گرانے کے لیے باطل کو ہمراہ لے کر جھگڑا کرتے ہیں فرمایا یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ اپنے قانون کے مطابق مہلت دیتا ہے ، اللہ نے ہلاکت کا سبب ظلم و زیادتی کو قرار دیا ، قرآن پاک میں سابقہ اقوام ، عاد ، ثمودم ، قوم فرعون ، قوم لوط ، اہل مدین ، وغیرہ کا حال بھی مذکور ہے جب انہوں نے کفر وشرک کی انتہا کردی ظلم و زیادتی کو مستقل وطیرہ بنا لیا تو پھر اللہ کی گرفت آئی اور نافرمان لوگ صفحہ ہستی سے ناپید کردیے گئے گذشتہ آیات میں باغ والے مغرور شخص کا حال بھی بیان ہوچکا ہے جس پر بربادی آئی ، پھر اللہ نے ابلیس کے تکبر کا ذکر فرمایا مکہ والوں کے غرور کا حال بھی بیان ہوچکا ہے کہ وہ اہل ایمان کو حقیر سمجھتے تھے اور حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں تو ہم آپ کی بات سننے کے لیے تیار ہیں ۔
آج کی آیات کو بھی اس موضوع کے ساتھ مناسبت ہے حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے غرور وتکبر سے دور رہتے ہیں ، وہ تو اللہ کے سامنے ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور مخلوق کے ساتھ بھی تواضع سے پیش آتے ہیں ہاں اگر کسی لغزش کی بناء پر اس ضمن میں کچھ کوتاہی ہوجائے تو پھر وہ اس کی تلافی کرلیتے ہیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی ایک معمولی سی لغزش ہوگئی تھی جس سے کسی حد تک تکبر کی عکاسی ہوتی تھی تو اللہ نے اس پر فورا تنبیہ کردی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ابتلاء میں ڈال دیا ،
موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا جو واقعہ ان آیات میں بیان ہو رہا ہے وہ بلاشبہ عجیب و غریب اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے اس واقعہ کو اصحاب کہف کے واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا (آیت) ” ام حسبت ان اصحب الکھف والرقیم کانوا من ایتنا عجبا “۔ (آیت ۔ 9) کیا آپ سمجھتے ہیں کہ صرف اصحاب کہف کا واقعہ ہی ہماری قدرت کی نشانیوں میں عجیب و غریب واقعہ ہے نہیں بلکہ اس جیسے بھی بہت سے واقعات کائنات میں رونما ہوچکے ہیں ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا واقعہ بھی انہیں عجائبات قدرت میں سے ہے گویا اس واقعہ کا تعلق مذکورہ بالا آیت کے ساتھ بھی ہے ۔
(واقعہ کا پس منظر)
اس واقعہ کا پس منظر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کسی موقع پر اپنی قوم سے خطاب کر رہے تھے کہ کسی شخص نے سوال کیا کہ کیا اس وقت روئے زمین پر آپ سے کوئی بڑا عالم بھی موجود ہے ؟ آپ نے نفی میں جواب دیا ، اگرچہ یہ جواب صحیح تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) اپنے دور میں اللہ کے سب سے بڑے نبی اور صاحب کتاب رسول تھے اور اس لحاظ سے آپ اس وقت کے سب سے بڑے عالم بھی تھے کہ شریعت کا علم آپ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا ، تاہم اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ اس کا نبی اپنی زبان سے اپنے آپ کو سب سے زیادہ عالم تصور کرے ، اس شخص کے سوال کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو چاہئے تھا کہ وہ معاملے کو اللہ کی طرف سونپتے ہوئے کہتے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عالم کون ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہمارے بندوں میں ایک بندہ ایسا بھی ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے آپ پریشان ہوگئے اور اللہ سے عرض کیا ، اے پروردگار ! , (آیت) ” کیف السبیل الی لقیہ “۔ میں اس بندے سے کیسے ملاقات کروں تاکہ اس سے فیض حاصل کرسکوں ، تو اللہ نے فرمایا کہ فلاں سفر پر روانہ ہوجاؤ ، توشہ کے طور پر ایک بھونی ہوئی مچھلی لے لو ، جہاں وہ مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا بندہ تمہیں اسی جگہ مل جائے گا ۔
امام بیضاوی (رح) نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں اس واقعہ کا پس منظر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے مولا کریم ! ” ای عبادک احب الیک “۔ تیرے بندوں میں سے تجھے کون سا بندہ زیادہ محبوب ہے تو اللہ نے فرمایا ” الذی یذ کرنی ولا انسنی “۔ میرا محبوب بندہ وہ ہے جو میرا ذکر کرتا ہے اور مجھے کسی وقت فراموش نہیں کرتا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر عرض کیا ، اے پروردگار ” ای عبادک اقضی “۔ تیرے بندوں میں سے سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا کون ہے ؟ اللہ نے فرمایا ” الذی یقضی ولا یتبع الھوی “۔ جو فیصلہ کرتا ہے مگر خواہش کی پیروی نہیں کرتا ، ایسا جج جو رشوت کی بجائے حق و انصاف کے مطابق فیصلہ کرتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے تیسرا سوال یہ کیا اے پروردگار ! تیرے بندوں میں زیادہ علم والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” الذی یبتغی علم الناس الی علمہ “۔ یعنی وہ شخص جو لوگوں سے علم حاصل کرکے اپنے پاس موجود علم کے ساتھ ملا لیتا ہے تاکہ بوقت ضرورت وہ اس مجموعی علم سے مستفید ہو سکے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اہل علم بندے سے ملاقات کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ذریعہ یہ بتایا جو اس واقعہ میں بیان ہوا ہے بخاری اور مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم فلاں سفر پر روانہ ہوجاؤ اور اپنے ساتھ ایک تلی ہوئی مچھلی توشے کے طور پر لے لو ، جس مقام پر یہ مچھلی گم ہوجائے گی ، اسی جگہ پر تمہیں میرا وہ بندہ مل جائے گا جس کے علم کا تذکرہ ہوا ہے ۔
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نوجوان)
اپنے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک نوجوان کا انتخاب کیا جو آپ کا ہم سفر ہو اور دوران سفر آپ کی خدمت کرسکے اس نوجوان کا نام یوشع بن نون تھا آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد تھے آپ کو اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی نبوت عطا فرمائی پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد آپ ان کے جانشین ہوئے بنی اسرائیل نے آپ کی قیادت میں جہاد کرکے فلسطین کو فتح کیا آپ افراہیم بن یوسف (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام تو نہیں لیا بلکہ فتی کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا عام فہم معنی نوجوان ہے ، اس لفظ کا اطلاق غلام اور لونڈی پر بھی ہوتا ہے جو کہ خدمت کے لیے ہوتے ہیں اور اگر یہ نوجوان بھی ہوں تو حق خدمت زیادہ بہتر طریقے سے انجام سکتے ہیں ۔
(مجمع البحرین کا سفر)
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کے واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” واذ قال موسیٰ لفتہ “ اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان یعنی حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) سے کہا (آیت) ” لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین “۔ میں نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگھم پر پہنچ جاؤں ، جہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سے ملاقات کی نشاندہی کی ہے میں وہاں ضرور جاؤنگا (آیت) ” اوامضی حقبا “۔ خواہ مجھے مدت دراز تک چلنا پڑے حقب لمبے زمانے کو کہتے ہیں ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ایک حقب اسی (80) سال کا ہوتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی مراد یہی تھی کہ مجھے کتنا لمبا سفر اختیار کرنا پڑے گا یا کتنی مدت تک چلنا پڑے ، میں اس اللہ کے بندے سے ضرور ملاقات کروں گا۔
دودریاؤں کے ملنے کی جگہ کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے بعض مفسرین نے اسے بحرروم اور بحرفارس پر محمول کیا ہے مگر اس روایت میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو سمندر تو آپس میں ملتے ہی نہیں کیونکہ ان کے درمیان خشکی حائل ہے ، چونکہ یہ دونوں قریب قریب ہیں ، اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس قربت کو ملاپ سے تعمیر کیا گیا ہو بعض مفسرین نے بحرین سے بحر قلزم اور اردن کا دریا مراد لیا ہے بعض کہتے ہیں کہ دو دریاؤں سے مراد میٹھا اور کڑوا پانی ہے اور جہاں پر یہ دونوں قسم کے پانی ملتے ہیں ، وہی مجمع البحرین ہے بعض حضرات نے اس کا مجازی معنی پہنائے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ بحریف سے مراد حقیقی دریا یا سمندر نہیں بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) ظاہری علم یعنی شریعت اور احکام الہی کے سمندر ہیں اور خضر (علیہ السلام) باطنی علم کے سمندر ہیں ، یہ دونوں حضرات جس مقام پر بھی ملیں کے وہی مجمع البحرین ہے آگے ذکر آئے گا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کی ملاقات ہوگئی تو خضر (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے موسیٰ (علیہ السلام) اللہ نے تجھے وہ علم دیا ہے جسے میں نہیں جانتا ہوں اور مجھے اس علم سے نوازا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہے ، بہرحال اس واقعہ سے علم کی فضیلت بھی واضح ہوتی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کا استقلال بھی ، انہوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے تازیست لمبے سفر پر روانہ ہونے کا مصمم ارادہ کرلیا ، اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں توشہ ساتھ رکھنا خلاف توکل نہیں بلکہ سنت انبیاء ہے نیز سفر میں اپنے شاگرد یا خادم کو خدمت کے لیے ساتھ رکھنا بھی جائز ہے ۔
(علمی سفر)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ سفر ” رحلۃ العلمیۃ “ یعنی علمی سفر تھا کیونکہ اپنے سے زیادہ عالم شخص سے اکتساب فیض کے لیے ملاقات کرنا چاہتے تھے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” من سلک طریقا یطلب العلم فیہ سلک اللہ بہ طریق الجنۃ “ جو شخص حصول علم کی خاطر کسی راستے پر چلتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جو لوگ خلوص نیت کے ساتھ علم دین حاصل کرنے کے لیے نکلتے ہیں ، ” ان الملئکۃ لتضع اجنحتھا “۔ اللہ کے فرشتے ان کے پاؤں کے نیچے پر بچھاتے ہیں ، تاریخ اسلام میں ایسے ایسے محدثین اور بزرگان کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے حصول علم کی خاطر چالیس چالیس ہزار میل کا سفر طے کیا ، یہ اس قدیم زمانے کا ذکر ہے جب اونٹ گھوڑے یا خچر وغیرہ کے علاوہ کوئی سواری میسر نہ ہوتی تھی بلکہ لوگ تو پاپیادہ ہی سفر کرتے تھے ، اس زمانے میں آج کی سہولتوں کی وجہ سے ایک گھرانے کی طرح سمٹ چکی ہے کراچی سے صرف اڑھائی گھنٹے میں جدہ اور چوبیس گھنٹے میں امریکہ پہنچ جاتے ہیں ، اب تو افریقہ کا ناقابل عبور وسیع و عریض صحرا بھی پانچ دس گھنٹوں میں عبور کرلیا جاتا ہے پرانے زمانے میں سفر کرنا جان جوکھوں کا کام تھا اس کے باوجود ہمارے بزرگوں نے بڑے طویل سفر اختیار کئے ، امام احمد (رح) عبدالرزاق (رح) ابن ھمام (رح) امام بخاری (رح) ، امام مسلم (رح) ، ابن ماجہ (رح) ، وغیرہم اس زمانے کے تمام متمدن شہروں میں حصول علم کے لیے پہنچے اور بہت سے اساتذہ سے فیض حاصل کیا ، کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے اٹھارہ سو اساتذہ سے علم حاصل کیا ، اسی طرح امام ابوحنیفہ (رح) نے کم وبیش چار ہزار اساتذہ سے فیض حاصل کیا جن میں بڑی بڑی جلیل القدر ہستیوں کے نام آتے ہیں ۔
(مچھلی کا واقعہ)
بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خادم حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوگئے ، (آیت) ” فلما بلغا مجمع بینھما “۔ پھر جب وہ دو دریاؤں کے ملاپ کی جگہ پر پہنچے (آیت) ” نسیا حوتھما “۔ تو وہ دونوں اپنی اس مچھلی کو بھول گئے جو انہوں نے بھون کر توشہ کے طور پر تھیلے میں رکھی ہوئی تھی ، یہاں پر بھولنے کی نسبت دونوں کیطرف کی گئی ہے حالانکہ مچھلی کے واقعہ کو صرف یوشع (علیہ السلام) ہی بھول گئے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ابھی اس واقعہ کا علم ہی نہیں تھا ، ہوا یہ کہ دونوں ساتھی ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چلتے رہے حتی کہ انہوں نے ایک بڑے پتھر یا چٹان کے قریب تھوڑی دیر کے لیے آرام کیا ، یوشع (علیہ السلام) تو وہیں بیٹھے رہے البتہ موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بعض روایات میں آتا ہے کہ سو گئے اور بعض میں آتا ہے کہ قضائے حاجت کے لیے ذرا دور چلے گئے اس دوران میں یہ واقعہ پیش آیا کہ تھیلے میں بند بھنی ہوئی مچھلی نے (آیت) ” فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا “۔ اپنا راستہ سمندر میں سرنگ کی صورت میں بنا لیا ، یعنی وہ مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں کود گئی اور جس جگہ سے پانی میں داخل ہوئی وہ جگہ سوراخ یا سرنگ کی شکل میں واضح طور پر نظر آرہی تھی ۔
وہ تلی ہوئی مچھلی زندہ کیسے ہوگئی ؟ اس کے متعلق قرآن پاک کی کسی آیت یا حضور ﷺ کے فرمان سے کچھ ثابت نہیں ، البتہ امام بخاری (رح) نے امام سفیان ثوری (رح) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ جس پتھر کے قریب ان دو ساتھیوں نے آرام کیا تھا ، وہاں آب حیات کا چشمہ تھا اس چشمہ کے متعلق مشہور ہے کہ جو شخص اس چشمہ کا پانی پی لے اسے حیات جاودانی حاصل ہوجاتی ہے ، پھر یہ بھی مشہور ہے کہ سکندر یہ پانی نہ پی سکا ، مگر حضرت خضر (علیہ السلام) کی قسمت میں تھا ، انہیں نصیب ہوگیا ، بہرحال اس چشمے کے پانی کا کوئی چھینٹا اس تلی ہوئی مچھلی پر پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کردیا اور وہ تھیلے میں سے کود کر سمندر میں چلی گئی ۔
یہ سارا واقعہ یوشع (علیہ السلام) کے سامنے پیش آیا مگر جب کچھ دیر آرام کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوئے یا وہ قضائے حاجت سے واپس آئے تو انہوں نے خادم کو کہا کہ چلو اپنا سفر دوبارہ شروع کردیں یہ وہ موقع تھا جب یوشع (علیہ السلام) کو چاہئے تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بتا دیتے کہ کھانے کے لیے رکھی ہوئی مچھلی سمندر میں کود گئی ہے ، مگر وہ بھول گئے اور دونوں ساتھی ایک دفعہ پھر سفر پر روانہ ہوگئے ۔
(کھانا طلبی)
فرمایا (آیت) ” فلما جاوزا “۔ جب وہ آگے بڑھے (آیت) ” قال لفتہ “۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان سے کہ ا (آیت) ” اتنا غدآء نا “۔ ہمارا کھانا لاؤ کہ بھول لگ رہی ہے (آیت) ” لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا “۔ تحقیق ہم نے اس سفر میں بڑی مشقت اٹھائی ہے ہم تھک چکے ہیں آؤ ناشتہ کرلیں ، اس موقع پر بزرگان دین نے یہ کلام کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب کوہ طور پر تشریف لے گئے تو وہاں تو آپ کو تھکاوٹ محسوس نہیں ہوئی تھی مگر اس سفر میں آپ نے تھکاوٹ کی شکایت کی ، اس کے جواب میں بزرگ فرماتے ہیں کہ کوہ طور کا سفر خالق کی طرف تھا اس لیے آپ نے وہاں تھکاوٹ محسوس نہیں کی جب کہ یہ سفر مخلوق کی طرف تھا اللہ کے خاص بندے سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے اس لیے یہاں تھکاوٹ محسوس ہوئی ۔
بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کھانا طلب کیا تو اس وقت خادم کو یاد آیا کہ کھانے کی مچھلی تو سمندر میں کود گئی تھی چناچہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جواب دیا (آیت) ” قال ارء یت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت “۔ حضرت دیکھئے ، ! جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں آپ کو مچھلی والی بات بتانا بھول گیا کہ وہ زندہ ہو کر پانی میں چلی گئی تھی پھر ساتھ ہی اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا (آیت) ” وما انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ “۔ دراصل مچھلی کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے بھلا دیا اور میں وہاں آپ کو یہ بات نہ بتا سکا ۔
اس آیت میں اس واقعہ کو بھلا دینے کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے حالانکہ حقیقت میں تو اللہ ہی نے بھلا دیا تھا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی اکثر وبیشتر باتیں شیطان کی طرف منسوب کی جاتی ہیں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر دوران نماز نکسیر پھوٹ پڑے یا عورت کو حیض شروع ہوجائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے حالانکہ نکسیر کا پھوٹنا تو کسی جسمانی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے اور حیض بھی ایک طبعی امر ہے جو وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے ، مگر اسے بھی شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے غرضیکہ جب بھی کسی مومن کے امر خیر میں خلل واقع ہوتا ہے تو اسے شیطان ہی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے لہذا یہاں پر مچھلی کے واقعہ کے نسیان کی نسبت شیطان ہی کی طرف کی گئی ہے اسی لیے فرمایا کہ مجھے شیطان نے مچھلی کا ذکر کرنا بھلا دیا ، (آیت) ” واتخذ سبیلہ فی البحر ، عجبا “۔ بات یہ ہے کہ مچھلی نے اپنا راستہ سمندر میں بنا لیا اور ہے یہ بڑی عجیب بات کہ تلی ہوئی مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں کود گئی ۔
قال : موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” ذلک ما کنا نبغ “۔ اللہ کے بندے ! یہی تو وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے سے ملاقات کے لیے یہی تو نشانی بتلائی تھی کہ جس مقام پر جا کر مچھلی گم ہوجائے گی ، میرے بندے سے تمہاری وہیں ملاقات ہوگی ، فرمایا ہمیں تو وہیں چٹان کے پر رک جانا چاہئے تھا ، ہم خواہ مخواہ آگے نکل آئے ، بہرحال (آیت) ” فارتدا علی اثارھما قصصا “۔ دونوں ہم سفر اپنے پاؤں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اسی جگہ پر پلٹ آئے نامعلوم وہ کتنا زائد سفر کرچکے تھے جہاں سے انہیں پھر واپس آنا پڑا ، آگے اس مقام پر اللہ کے بندے خضر (علیہ السلام) کی ملاقات کا ذکر آرہا ہے ۔