18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 18:65–70

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

پس پایا ان دونوں نے ایک بندے کو ہمارے بندوں میں سے کہ دی تھی ہم نے اس کو رحمت اپنی طرف سے ، اور سکھلایا تھا ہم نے اس کو اپنے پاس سے ایک علم ۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے کہا کیا میں تیری پیروی کروں اس شرط پر کہ سکھائے تو مجھے اس میں سے کہ سکھلائی گئی ہے تجھے بھلائی ۔

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

کہا اس شخص نے بیشک تو ہرگز طاقت نہیں رکھتا میرے ساتھ صبر کی ۔

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور کیسے صبر کرسکے گا تو اس بات پر کہ جس کی خبر کا تجھے احاطہ نہیں ۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

کہا (موسی (علیہ السلام) نے) آپ پائیں گے مجھے اگر اللہ نے چاہا صبر کرنے والا ، اور میں نہیں نافرمانی کروں گا آپ کے حکم کی ۔

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس (خضر علیہ السلام) نے کہا کہ اگر تو میری پیروی کرتا ہے تو نہ پوچھنا مجھ سے کسی چیز کے بارے میں یہاں تک کہ میں خود ظاہر کروں تیرے سامنے اس کا ذکر ۔

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک معمولی سی لغزش ہوگئی تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ابتلا میں ڈال دیا اور فرمایا کہ ہمارے بندوں میں سے ایک ایسا بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، مولا کریم ! میں تیرے اس بندے تک کیسے رسائی حاصل کرسکتا ہوں تاکہ اس سے کچھ حاصل کرسکوں اللہ نے حکم دیا کہ آپ فلاں سفر پر روانہ ہوجائیں اور ایک تلی ہوئی مچھلی اپنے ہمراہ لے لیں جب مقام پر وہ مچھلی گم ہوجائے گی ، میرا خاص بندہ تمہیں وہیں مل جائے گا ، چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ایک شاگرد اور خادم حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کو ہمراہ لیا اور سفر پر روانہ ہوگئے ، پھر ان دونوں نے ایک پتھر کے پاس آرام کیا ، موسیٰ (علیہ السلام) سو رہے تھے ، جب کہ آپ کے خادم بیدار تھے ، اس کے سامنے تلی ہوئی مچھلی تھیلے سے کود کر سمندر میں چلی گئی ، جب موسیٰ (علیہ السلام) بیدار ہوئے تو انہوں نے آگے چلنے کا حکم دیا ، مگر خادم مچھلی کی گمشدگی کے متعلق آپ کو مطلع کرنا بھول گیا اور وہ آگے چل پڑے ۔ حدیث شریف میں ان کے اگلے سفر کے متعلق آتا ہے ” بقیۃ یومھما ولیلتھما “ کہ ان دونوں نے دن کا باقی حصہ اور پھر اگلی رات بھر سفر کیا ، اس دروان وہ سخت تھک چکے تھے ، صبح ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ناشتہ کرنے کا ارادہ کیا اور خادم سے توشہ لانے کے لیے کہا ، حضرت یوشع (علیہ السلام) کو اس وقت یاد آیا کہ ان کی مچھلی تو وہیں سمندر میں چلی گئی تھی ، جہاں انہوں نے گذشتہ روز دوپہر کو آرام کیا تھا ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مچھلی والا واقعہ بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اسی جگہ کے تو ہم متلاشی تھے ، چناچہ وہ اپنے قدموں کے نشانات پر واپس لوٹ پڑے ۔ (حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات) جب وہ دونوں ساتھی واپس اس پتھر کے قریب پہنچے ، جہاں انہوں نے آرام کیا تھا (آیت) ” فوجدا عبدا من عبادنا “۔ تو انہوں نے پایا ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو (آیت) ” اتینہ رحمۃ من عندنا “۔ جسے ہم نے اپنی مہربانی عطا فرمائی تھی (آیت) ” وعلمنہ من لدنا علما “۔ اور جسے ہم نے اپنی طرف سے خاص علم یعنی علم لدنی عطا فرمایا تھا ، بہرحال جب پہلی ملاقات ہوئی ” فسلم “ موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کو سلام کہا ، خضر (علیہ السلام) نے جواب دیا ” انی بارضک سلام وانی بارضی سلام “۔ یہاں تمہاری اس سرزمین میں یا میری اس سرزمین میں سلام کہاں یعنی یہاں پر سلام کرنے کا کونسا موقع ہے یہاں تو کوئی آبادی ہی نہیں ہے ، بالکل ویران جگہ ہے اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں گردونواح میں سب کفار ومشرکین آباد ہیں تو یہاں کیسے سلام ہوا ؟ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے خضر (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا ” من انت “ کہ تو سلام کرنے والا کون آدمی ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” انا موسیٰ “ یعنی میں موسیٰ ہوں خضر (علیہ السلام) نے پھر پوچھا (علیہ السلام) اموسی بنی اسرآئیل “ کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ ؟ تو آپ نے کہا ، ہاں ۔ حافظ ابن حجر (رح) اس جملے پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں ” فیہ دلیل علی ان الانبیاء ومن دونھم لا یعلمون من الغیب الا ما علمھم اللہ لو کان الخضر یعلم کل غیب یعرف موسیٰ قبل ان یسئلہ “۔ یعنی انبیاء اور اولیاء وغیرہ غیب کی اتنی ہی بات جانتے ہیں جتنی اللہ انہیں بتلا دیتا ہے اگر خضر (علیہ السلام) غیب دان ہوتے تو موسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر پوچھے ہی پہچان لیتے ۔ یہاں پر بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا ان آیات میں مذکور موسیٰ وہی ہیں جو اللہ کے صاحب کتاب نبی ہیں ؟ قرآن میں تو مزید تصریح موجود نہیں ۔ البتہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے سامنے ذکر کیا کہ ” نوف بکالی “ کہتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ خضر (علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی تھی ، وہ بنی اسرائیل والے اللہ کے جلیل القدر نبی نہیں تھے بلکہ موسیٰ ابن میشا تھے ، اگرچہ ان کا تعلق بھی بنی اسرائیل سے تھا مگر یہ صاحب تورات موسیٰ نہیں تھے ، یہ سن کر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ” کذب عدواللہ “ دشمن خدا نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ میرے سامنے ابی ابن کعب ؓ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کرنے والے صاحب تورات موسیٰ ہی ہیں ۔ (خضر (علیہ السلام) کی شخصیت) دراصل آپ کا اصل نام بلیا ، کنتی ابو العباس اور لقب خضر تھا آپ کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے ، بلیا بن ملکان بن فالغ بن عامر بن شالخ بن ارفخشذ بن سام بن نوح ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح یہ بھی سامی نسل سے تعلق رکھتے تھے ، ان کا زمانہ بھی حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کے قریب ہی ہے خضر کا معنی ہرا بھرا یا سرسبز و شاداب ہوتا ہے ، بخاری شریف میں اس کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ خضر (علیہ السلام) صاف چٹیل زمین پر بیٹھتے تو سرسبز ہوجاتی ، حدیث کے الفاظ ہیں ” فصارت خضرآئ “۔ دوسری وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے ” اذا صلی اخضرما حولہ “۔ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ کا اردگرد سرسبز ہوجاتا تاریخی روایات کے مطابق خضر (علیہ السلام) فریدوں کے زمانہ میں ہوئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ آپ ذوالقرنین یعنی سکندر اعظم کے وزیر تھے تاہم یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا سوائے اس بات کے جو حضور ﷺ نے بیان کردی ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) انسانوں میں سے نہیں بلک ملائکہ میں سے تھے مولانا مودودی صاحب (رح) نے اسی قول کو اختیار کرکے غلطی کا ارتکاب کیا ہے امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ ملائکہ میں سے ہونے کا نظریہ غلط ہے خضر (علیہ السلام) انسان تھے اور سلسلہ نسب رکھتے تھے جیسا کہ بیان ہوچکا ہے ، امام نووی (رح) سے بھی یہی بات منقول ہے اور حدیث شریف سے بھی یہی متبادر ہوتا ہے ۔ (حیات خضر (علیہ السلام) حیات خضر کے مسئلہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے ، بعض کہتے ہیں کہ آپ وفات پا چکے ہیں ، اشکال یہ ہے کہ اگر آپ زندہ ہوتے تو ان کا فرض تھا کہ وہ حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ کی مدد کرتے مگر اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا ، دوسری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرما دیا تھا کہ اس وقت روئے زمین پر موجود لوگوں میں سے ایک سو سال گزرنے کے بعد کوئی بھی باقی نہیں ہوگا لہذا اگر خضر (علیہ السلام) آپ کے زمانہ میں بھی زندہ تھے تو سو سال کے بعد تو لامحالہ ان کی زندگی باقی نہیں رہی تاہم محدثین کرام اس کی توجیہہ یہ بیان کرتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) تو زمین کی بجائے فضا اور پانی پر بھی جاتے تھے اور ہو سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے مذکورہ فرمود کے وقت آپ زمین پر موجود ہی نہ ہوں ، اس سلسلہ میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ آسمان پر زندہ ہیں ، لہذا ان پر حضور ﷺ کی پیش گوئی کا اطلاق نہیں ہوتا ، بایں ہمہ امام احمد (رح) امام بخاری (رح) ، ابن تیمیہ (رح) ابن قیم (رح) ، مجدد الف ثانی (رح) وغیرہ کہتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) کا دنیا کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ البتہ اکثر علماء صوفیا اور نیکی والے لوگ ، محدث ابن صلاح (رح) ، امام نووی (رح) اور محدثین کہتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) زندہ ہیں ، بعض شروح میں لکھا ہوا ہے کہ قرب قیامت میں دجال ایک شخص کو قتل کرنے کے بعد پھر زندہ کرے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا اب مجھے خدا تسلیم کرتا ہے یا نہیں وہ شخص جواب دے گا کہ اب مجھے حق الیقین ہوگیا ہے کہ تو دشمن خدا دجال ہے اس گواہی کو ” اعظم شھادۃ عند اللہ “ کہا گیا ہے یعنی یہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑی گواہی ہوگی ، یہ شہادت دینے والا خضر (علیہ السلام) ہی ہے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دجال کو قتل کرنے کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے اسی طرح اگر اس نے اس عظیم شہادت کے لیے خضر (علیہ السلام) کو اپنی قدرت سے زندہ رکھا ہو تو کون سی عجیب بات ہے ۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) سمندروں پر زندہ ہیں اور آبی راستوں کے بھٹکے ہوئے مسافروں کو راہ بھی دکھاتے ہی ، اسی طرح حضرت الیاس (علیہ السلام) کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور ان کا گزران جنگلوں میں ہے ، وہ بھی بعض اوقات بھولے بسروں کی راہنمائی کرتے ہیں ، تاہم یہ باتیں کسی حدیث سے ثابت نہیں ہیں ، حضرت مجدد الف ثانی (رح) بعض نیک لوگوں کی حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کی یہ توجیہہ بیان کرتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) دنیا کا دور تو ختم کرچکے ہیں البتہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان کی مثالی صورت ظاہر کردیتا ہے لہذا ممکن ہے کہ وہ مثالی صورت میں بھولے بھٹکوں کی راہنمائی کرتے ہوں مثالی صورت خواب میں بھی نظر آسکتی ہے اور بیداری میں بھی بعض اوقات نیک آدمی خواب میں نظر آتے ہیں اور کوئی اچھی بات بھی بتلا دیتے ہیں حالانکہ اس بندے کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون ہے جس طرح اللہ تعالیٰ خواب میں مثالی وجود دکھانے پر قادر ہے اسی طرح بیداری میں بھی ایسا ہو سکتا ہے ۔ (خضر (علیہ السلام) کا علم) جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ خضر (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور علم معرفت بواطن رکھتے تھے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو باطنی امور کا علم عطا فرمایا تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا علم ظاہری عوامل یعنی حلال و حرام اور عبادات کے متعلق ہے جب کہ خضر (علیہ السلام) کا علم باطنی امور کے بارے میں تھا ، چناچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو مؤخر الذکر نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) ” انت علی علم “ تم ایک ایسے علم پر ہو جسے میں نہیں جانتا اور میں ایک ایسے علم پر ہوں جسے آپ نہیں جانتے غرضیکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا علم دین ، شریعت اور ظاہری احکام کے متعلق تھا جب کہ خضر (علیہ السلام) کو اللہ نے تکوینی امور کا علم عطا کیا تھا ۔ مسلم شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک خارجی نے بذریعہ خط آپ سے دریافت کیا کہ جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا جائز ہے یا نہیں ، آپ نے جواب دیا کہ اگر تم وہ علم رکھتے ہو ، جو خضر (علیہ السلام) رکھتے تھے تو بیشک عورتوں اور بچوں کو قتل کرسکتے ہو ورنہ کسی عورت اور بچے کا قتل روا نہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ خضر (علیہ السلام) بعض باطنی امور کے متعلق قطعی علم رکھتے تھے جن کا ظاہری احکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں اللہ نے مجھے ” وعائین من العلم “ کے دو برتن عطا کیے ہیں ان میں سے ایک علم کو تو میں نے پھیلا دیا ہے جس کا تعلق عقائد ، حلال و حرام اور عبادات سے ہے اور اگر میں دوسرے علم کو بھی ظاہر کر دوں ” لقطع بلعوم “ تو یہ گردن کٹ جائے ، اس خاص علم کی پیش گوئیاں اور باطنی باتیں ہرگز برداشت نہیں ہو سکیں گی حضرت علی ؓ سے بھی منقول ہے ” یا رب جوھر علم لوابوح لقیل انت ممن یعبد الوثن “ علم کے بہت سے جوہر ایسے ہیں کہ اگر میں ان کو ظاہر کر دوں تو تم مجھ پر کفر کا فتوی لگا دو گے ” ولا ستحل رجال المسلمون دمی یرون اقبح ما یاتونہ حسنا “۔ اور کئی مسلمان میرے خون کو حلال سمجھنے لگیں گے جو خود برے سے برا عمل کرتے ہیں اور اسے اچھا خیال کرتے ہیں ۔ (علم لدنی) علم فرشتے کے ذریعے بھی سکھلایا جاسکتا ہے ، اشارے سے بھی ایسا ہوتا اور علم قلب میں ڈالا جاسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ذرائع سے اپنے بندوں کو علم عطا کرتا ہے ، علم لدنی وہ علم ہے جس میں اچھے کام کی توفیق یاخذ لان یعنی رسوا کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے ایسا علم بغیر کسب اور تلقین کے حاصل ہوتا ہے اور اسے علم وہبی بھی کہتے ہیں اس کو کشف اور الہام کے ساتھ بھی تعبیرکر سکتے ہیں تاہم خضر (علیہ السلام) کا علم انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام والا علم تھا اگرچہ آپ تشریعی نبی تھے بلکہ اللہ نے تکوینیات کے سلسلے میں کچھ علوم سکھائے تھے ، اس علم کے متعلق مولانا رومیرحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں ۔ علم چوں بردل زند یارے شود علم چوں برگل زندی بارے شود : جس علم کی چوٹ دل پر لگتی ہے وہ انسان کے لیے مفید ہوتا ہے اور جس علم کا تعلق مٹی یا جسم سے ہوتا ہے وہ انسان کے لیے بطور بوجھ ہی ہوتا ہے دوسرے شعر میں ہے ۔ علم را برتن زنی مارے بود : جس علم کی چوٹ دل کی بجائے جسم پر پڑتی ہے ، وہ علم انسان کے لیے بطور سانپ کے ہوتا ہے کہ اس سے نقصان کی توقع ہی کی جاسکتی ہے بہرحال علم لدنی وہ ہے جس سے قلب کی صفائی ہو اور تعلق باللہ درست ہوجائے ، اس قسم کا علم انبیاء کو تو قطعی نص سے ہوتا ہے البتہ کسی حد تک اولیاء اللہ کو بھی حاصل ہوتا ہے ، شاعر لوگ کہتے ہیں کہ اگر انسان کو سربلندی اور تفوق کا باعث بننے والا علم حاصل نہ ہو تو وہ خسارے میں رہتا ہے اردو زبان کے شاعر آزاد کا شعر بھی ہے ۔ سب صنعتیں جہاں کی آزاد ہم کو آئیں ملتا وہ یار جس سے ایسا ہنر نہ آیا : شیخ ابن عربی نے بھی کہا ہے ” مالذۃ العیش الا صحبۃ الفقرآء ھم السطین والسادات والامرآء “۔ فقراء کی صحبت کے بغیر کمال درجے کی مجلسی زندگی حاصل نہیں ہوسکتی یہی لوگ جو سلاطین بھی ہیں ، سادات بھی ہیں اور امراء بھی ہیں ان کے قلوب پر ہمیشہ اللہ کی تجلیات نازل ہوتی رہتی ہیں اور انہی کو علم لدنی حاصل ہے اگر ان لوگوں کی رفاقت نصیب ہوجائے تو بڑے کمال کی بات ہے ۔ (خصوصی سفر) مجاز کی زبان میں ذوق نے بھی کہا ہے ۔ کسی ہمدم دیرینہ سے ملنا بہتر ہے ملاقات مسیحا وخضر سے ۔ اس کا ظاہر معنی تو کفر پر دلالت کرتا ہے اگر کسی دراز مدت اور دراز عمر آدمی سے انسان ملتا رہے تو اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان کو ہمدم دیرینہ حاصل ہو ، خضر (علیہ السلام) کی عمر بڑی لمبی ہے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی بھی ، لہذا یہاں صرف مجازی معنی لیا گیا ہے ، اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ مطلقا عالم ، شیخ یا بزرگ کی ملاقات کے لیے جاناجائز ہے حدیث شریف میں آتا ہے ” لا تشدوالرجال الا الی ثلثۃ مساجد “۔ تین مسجدوں کے علاوہ کجاوے نہ کسو اور وہ تین مسجدیں مسجدالحرام ، مسجد بیت المقدس ، اور مسجد نبوی ہیں مطلب یہ ہے کہ ان مساجد کے علاوہ کسی جگہ کے لیے سفر اختیار نہ کرو ، کیونکہ یہ تین مقامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخصوص ہیں اور حضور ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ ان مقامات پر نماز پڑھنے کا اجر بہت زیادہ ہے ، عام مساجد کی نسبت مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ گنا ہے جس جب کہ بیت المقدس اور مسجد نبوی میں ادا کی جانے والی نماز کا ثواب پچاس پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے ، ان کے علاوہ کسی دوسری مسجد کے لیے کوئی نص موجود نہیں لہذا ہم نہیں کہہ سکتے کہ کسی فلاں مسجد میں نماز کی ادائیگی زیادہ اجر کا باعث ہوگی ، گویا کسی مکان کی طرف اس نیت سے سفر نہ کیا جائے ہاں ! کسی اچھے مقصد کے لیے سفر کرنا درست ہے اور منجملہ اس میں شیخ کی ملاقات بھی شامل ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش نظر بھی یہی مسئلہ تھا انہوں نے صاف کہا ، اے پروردگار ! اس بندے کے ساتھ ملاقات کی کیا صورت ہو سکتی ہے تو اللہ نے وہ نشانی بھی بتلا دی جہاں ملاقات ممکن تھی آپ نے کہا میں وہاں ضرور جاؤں گا یہاں تک کہ اس سے ملاقات ہوجائے یا میں مدت دراز تک چلتا رہوں ، فارسی والے بھی کہتے ہیں ۔ دست از طلب نہ دارم تاکام من برآید یاتن رس بجاناں یا جاں زتن برآید : مطلب یہ ہے کہ میں اپنی مطلوبہ چیز سے دست کش نہیں ہوں گا چاہے میرے جسم سے جان ہی نکل جائے ۔ (پیٹ اور معرفت الہی) شیخ عبدالعزیز دباغ (رح) مادر زاد ولی اور باطنی نسبت کے باکمال بزرگ تھے ، اللہ نے آپ کی زبان پر بڑی بڑی باتیں جاری کیں ، سید احمد شہید بریلوی (رح) کی طرح زیادہ لکھے پڑھے نہیں تھے مگر اللہ نے بڑا روشن دل عطا فرمایا تھا یہی حال حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کا ہے ظاہری علم کم تھا مگر مولانا گنگوہی (رح) اور مولانا نانوتوی (رح) جیسے لوگ آپ کے مرید تھے ، اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ صدی میں پوری دنیا میں اتنا بڑا ولی اللہ نہیں گزرا تو یہ بات غلط نہیں ہوگی بہرحال شیخ عبدالعزیز دباغ (رح) نے ایک نکتہ بیان کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ جس مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مچھلی گم ہوئی اسی مقام پر ان کا مطلوب حاصل ہوا مچھلی پیٹ کا معاملہ تھا ، تو جہاں پیٹ کا معاملہ ختم ہوا وہاں معرفت حاصل ہوگئی ، اسی طرح فرماتے ہیں کہ جب تک انسان کے ساتھ پیٹ کا دھندا غالب ہوگا ، خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی ۔ (تعلیم و تعلم کے لیے شرائط) بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کی خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوگئی (آیت) ” قال لہ موسیٰ “۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی آمد کا مقصد بیان کیا (آیت) ” ھل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا “۔ کیا میں اس شرط پر آپ کی پیروی کرسکتا ہوں کہ آپ اللہ کی سکھلائی ہوئی چیز میں سے کچھ مجھے بھی سکھلائیں ؟ خضر (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” قال انک لن تستطیع معی صبرا “۔ کہ تو میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکے گا ، پھر بےصبری کی وجہ بھی بیان کی (آیت) ” وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبرا “۔ بھلا آپ اس چیز پر کیسے صبر کرسکیں گے جس خبر کا آپ کو احاطہ ہی نہیں ، مطلب یہ کہ جس بات کی حقیقت کا آپ کو علم ہی نہیں آپ اس میں ضرور بےصبری کا اظہار کرتے ہوئے دخل اندازی کریں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے یقین دلایا (آیت) ” قال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا “۔ آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے یعنی میں آپ کے معاملہ میں مداخلت نہیں کروں گا اور دوسری بات یہ (آیت) ” ولا اعصی لک امرا “۔ اور میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی بھی نہیں کروں گا ، اس قدر تسلی دلانے کے بعد خضر (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ساتھ رکھنے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم میں سے کچھ سکھانے کے لیے آمادہ ہوگئے مگر اس شرط کے ساتھ (آیت) ” قال فان اتبعتنی فلا تسئلنی عن شیء حتی احدث لک منہ ذکرا “۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا اگر آپ میری پیروی کرتے ہیں تو آپ مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کریں گے حتی کہ میں خود ہی اسے تمہارے سامنے ظاہر کر دوں ۔ مطلب یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حصول مقصد کے لیے استاد اور شاگرد کے درمیان بعض شرائط طے ہوگئیں ، موسیٰ (علیہ السلام) کی شرط تھی کہ وہ خضر (علیہ السلام) کی معیت کے دوران صبر کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور ان کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گے ، ادھر خضر (علیہ السلام) کی شرط یہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے کسی چیز کے متعلق کوئی سوال نہیں کریں گے حتی کہ وہ خود ہی ان کو بیان کردیں ، اس سے معلوم ہوا کہ استاد اور شاگرد کے درمیان شرائط پر تعلیم و تعلم کا انتظام کرنا درست ہے استاد کہے کہ میں ان شرائط کے تحت پڑھاؤں گا اور شاگرد کہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے میری شرائط یہ ہون گی ، بہرحال ملاقات کے بعد ان دونوں صاحبان کے درمیان رفاقت اور تعلیم کی شرائط طے ہوگئیں اور وہ اپنے سفر پر روانہ ہوگئے جس کا ذکر اگلی آیات میں آرہا ہے ۔
Ayahs 18:71–78

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

(خضر (علیہ السلام) اور موسیٰ علیہ السلام) دونوں چلے یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس (اللہ کے بندے) نے (کشتی) کو پھاڑ دیا کہا (موسی علیہ السلام) کیا تو نے اس کو پھاڑ دیا ہے تاکہ تو غرق کر دے اس میں موجود لوگوں کو ، البتہ تحقیق کی ہے تو نے ایک چیز بھاری ۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

کہا خضر (علیہ السلام نے) کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تو ہرگز صبرنہ کرسکے گا میرے ساتھ ۔

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

کہا (موسی (علیہ السلام) نے) نہ مؤاخذہ کریں مجھ سے اس (چیز) پر جو میں بھول گیا ہوں اور نہ ڈالیں آپ مجھ پر میرے معاملے میں دشواری ۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ دونوں ملے ایک لڑکے سے پس قتل کیا (خضر (علیہ السلام) نے) اس (لڑکے) کو کہا (موسی (علیہ السلام) نے) کیا تو نے قتل کردیا ہے ایک نفس بےگناہ کو بغیر کسی جان کے عوض البتہ تحقیق کی ہے آپ نے نامعقول بات۔

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

کہا (اس شخص نے) کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم ہرگز صبر نہیں کرسکو گے میرے ساتھ ۔

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

کہا (موسی (علیہ السلام) نے) اگر میں نے پوچھا آپ سے کسی چیز کے بارے میں اس کے بعد پس آپ مجھے اپنی رفاقت میں نہ رکھنا تحقیق پہنچ چکے ہیں آپ میری طرف سے عذر کو ۔

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پس چلے وہ دونوں یہاں تک کہ آئے ایک بستی والوں کے پاس ان دونوں نے ان سے کھانا طلب کیا پس انہوں نے انکار کیا اس بات سے کہ وہ انہیں مہمان بنائیں پس پائی اس (بستی) میں ایک دیوار جو گرنا چاہتی تھی پس اس (خضر علیہ السلام) نے اس کو سیدھا کردیا کہا (موسی (علیہ السلام) نے) اگر آپ چاہتے تو لے لیتے اس پر مزدوری ۔

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

کہا (خضر (علیہ السلام) نے) یہ ہے جدائی میرے اور تیرے درمیان میں تمہیں بتلا دونگا حقیقت اس چیز کی جس پر آپ صبر نہیں کرسکے ۔

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی علمیت کے معاملہ میں ذرا سی لغزش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمائش میں ڈال دیا ، اللہ نے فرمایا کہ تجھ سے زیادہ عالم ہمارا ایک بندہ ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے ملاقات کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فلاں سمت سفر اختیار کرو ہمارا وہ بندہ تمہیں مجمع البحرین کے قریب مل جائے گا ، اللہ تعالیٰ نے نشانی کے طور پر فرمایا کہ جہاں تمہاری تلی ہوئی مچھلی گم ہوجائے گی ، ہمارا وہ خاص بندہ اسی مقام پر مل جائے گا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کے ہمراہ سفر کیا ، جہاں پر مچھلی گم ہوئی تھی وہیں پر اللہ کے خاص بندے حضرت خضر (علیہ السلام) سے ملاقات بھی ہوگئی ، موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہ کر ان سے کچھ سیکھنا چاہا آپ نے یہ بھی کہا کہ میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا حضرت خضر (علیہ السلام) نے ساتھ رکھنے کے لیے یہ شرط پیش کی کہ آپ مجھے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کرینگے یہاں تک کہ میں خود تمہیں اس کی حقیقت سے آگاہ کر دوں حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ تم میرے ساتھ رہتے ہوئے صبر نہیں کرسکو گے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آپ مجھے انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں ۔ (موسی (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا سفر) اب موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) نے سفر کا آغاز کیا پہلے انہوں نے کشتی کے ذریعے بحری سفر کیا جس کے دوران ایک واقعہ پیش آیا اور انہوں نے خشکی کے راستے سفر اختیار کیا اس دوران ان کو دو واقعات پیش آئے ان تینوں واقعات کا ذکر آج کے درس میں آ رہا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فانطلقا “۔ پھر وہ دونوں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) چل پڑے ، یہ تثنیہ کا صیغہ ہے اور اس سے دونوں اصحاب مراد ہیں ، مگر ان کے ساتھ تیسرا آدمی حضرت یوشع بن نون بھی تو تھا ، مگر ان کی رفاقت کا قرآن پاک نے ذکر نہیں کیا ، اس ضمن میں مفسرین کرام کا اختلاف ہے ایک گروہ کہتا ہے کہ تیسرے آدمی بطور خادم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے شریک سفر تھے اور خادم اپنے آقا کے احکام کے تابع ہوتا ہے اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا گیا ، تعلیم و تعلم چونکہ انہی دو بزرگوں کے درمیان مقصود تھی ، لہذا ان دو کا ہی ذکر کیا گیا ہے ، البتہ امام بغوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کی ملاقات ہو کر ان کی ہم سفری کی شرائط طے ہوگئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم یوشع بن نون (علیہ السلام) کو اپنی قوم کے پاس واپس بھیج دیا تھا ، اب یہ دونوں بزرگ کتنا عرصہ اکٹھے رہے اور انہوں نے کتنا لمبا سفر اختیار کیا ، اس بات کا تو کوئی تذکرہ نہیں ملتا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور تھا ، ان کی رفاقت قائم رہی اور تعلیم کا سلسلہ جاری رہا ۔ (کشتی کا سفر) بہرحال وہ دونوں چل دیے ، پہلے کچھ خشکی کا سفر کیا ہوگا ، پھر آگے دریا آگیا ۔ (آیت) ” حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا “۔ حتی کہ جب وہ دونوں یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوئے تو خضر (علیہ السلام) نے اس کشتی کو پھاڑ دیا تفصیلات کے مطابق جب یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے پر پہنچے تو وہاں پر کشتی تیار تھی ، یہ بھی دریا عبور کرنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے کشتی والوں سے کشتی میں سوار کرانے کے لیے کہا مگر اہل کشتی متردد ہوئے بعض نے کہا کہ انہیں کشتی میں سوار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ معلوم نہیں ، یہ کس کردار کے لوگ ہیں ، تاہم بعض دوسروں نے کہا کہ یہ تو نورانی شکلوں والے اللہ کے نیک بندے ہیں ، انہیں ضرور سوار کرلینا چاہئے صحیحین کی روایت میں آتا ہے ۔ ” فعرف الخضر فحملوھم فی سفینتھم بغیر نول “ انہوں نے خضر (علیہ السلام) کو پہچان لیا اور انہیں بغیر کرایہ کشتی میں سوار کرلیا ، آگے اسی روایت میں آتا ہے ” ووقع عصفور علی حرف السفینۃ فغمس منقارہ فی البحر “ ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی ، پھر اس نے اپنی چونچ سمندر میں ڈالی تو خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا میرے اور تمہارے علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کے علم سے اس قدر ہے جتنی اس چڑیا کی چونچ کی تری کو سمندر سے اصل میں یہ خدا کی جانب سے تربیت تھی کیونکہ اسی مسئلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ابتلا آئی تھی کہ مجھ سے زیادہ عالم کوئی نہیں ہے غرضیکہ خضر (علیہ السلام) نے واضح کردیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ، میرا اور تیرا علم ” مثل ما نقص ھذا العصفور من ھذ البحر “۔ اتنا معمولی ہے جتنا اس چڑیا نے چونچ ڈبو کر اس سمندر میں کمی کردی ہے ۔ کشتی کو توڑنے کے متعلق بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے ” قد فلح لوحا من الواح السفینۃ بالقدوم “۔ خضر (علیہ السلام) نے کلہاڑا لے کر کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا مفسرین بیان کرتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) نے اس سوراخ میں شیشے کا پیوند لگا دیا تھا جس کی وجہ سے پانی کشتی میں نہیں آتا تھا بعض کہتے ہیں کہ یہ ان کا معجزہ تھا کہ کشتی میں سوراخ ہونے کے باوجود پانی اوپر نہیں چڑھتا تھا ، پھر جب خطرہ ٹل گیا تو خضر (علیہ السلام) نے اکھاڑا ہوا تختہ دوبارہ اسی جگہ نصب کردیا ۔ بہرحال جب خضر (علیہ السلام) نے تختہ اکھاڑ دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) سے صبر نہ ہوسکا اور وہ بول اٹھے (آیت) ” قال اخرقتھا التغرق اھلھا “۔ کیا تو نے کشتی کو پھاڑ دیا ہے تاکہ اس میں سوار لوگوں کو ڈبو دے ؟ ان لوگوں نے ہم پر بڑی مہربانی کی ، ہمیں کشتی میں سوار کرایا اور ہم سے کرایہ بھی نہ لیا ، مگر تم نے ان کے احسان کا یہ بدلہ دیا ہے کہ ان کی کشتی ہی توڑ دی ہے (آیت) ” لقد جئت شیئا امرا “۔ آپ نے تو بڑی مصیبت کھڑی کردی ہے ۔ (آیت) ” قال الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا “۔ خضر (علیہ السلام) نے کہا اے موسیٰ ! کیا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کرسکے گا ، اگرچہ دونوں حضرت کے درمیان معاہدہ میں یہ طے پا چکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوئی سوال نہیں کریں گے مگر انہوں نے بھول کر یہ سوال کردیا ، چناچہ جب خضر (علیہ السلام) نے انہیں معاہدہ یاد کرایا تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو کہنے لگے (آیت) ” قال لا تؤاخذنی بما نسیت “۔ میری اس بھول پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کرو (آیت) ” ولا ترھقنی من امری عسرا “۔ اور آپ میرے معاملے میں مجھ پر دشواری نہ ڈالیں ، مطلب یہ کہ بھول چوک معاف ہوتی ہے لہذا اس دفعہ آپ درگزر کریں اور مجھ پر سختی نہ کریں ۔ (عجیب و غریب ہرن) دونوں ساتھیوں نے کشتی کے ذریعے دریا پار کیا (آیت) ” فانطلقا “ پھر آگے چل دیے دریا سے پار صحرا تھا ، اس میں سفر شروع کردیا ، قوت القلوب والے کہتے ہیں کہ اس دوران میں موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں خیال آیا کہ اس لق ودق صحرا میں ہمارے کھانے پینے کا کیا انتظام ہوگا اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک ہرن دوڑتا ہوا ان کی طرف آرہا ہے آپ نے دل میں خیال کیا کہ اگر یہ ہرن شکار ہوجائے تو ہماری خوراک بن سکتا ہے جب وہ ہرن قریب آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہرن ذبح شدہ ہے اور اس کا گوشت دو حصوں میں منقسم ہے ایک حصہ کچا ہے جب کہ دوسرا روسٹ شدہ ہے خضر (علیہ السلام) نے تلاہوا گوشت اپنے سامنے کرلیا اور کچے کے متعلق موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم خود اسے بھون کر خوراک بنا لو ، مطلب یہ کہ تمہیں اس سفر میں کھانے سے متعلق طرح طرح کے خیالات آرہے تھے جب کہ میری یہ حالت نہ ہوئی مجھے تو اللہ نے بھونا ہو اگوشت بھیج دیا ہے اور تم خود اسے کھانے کے قابل بنالو ۔ (بچے کا قتل) وہ دونوں ساتھی سفر کرتے رہے (آیت) ” حتی اذا لقیا غلاما “۔ یہاں تک کہ ان کی ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی (آیت) ” قتلہ “۔ تو خضر (علیہ السلام) نے اس بچے کو قتل کردیا ، حدیث شریف میں اس قتل کے متعلق آتا ہے ” فاخذالخضر راسہ بیدہ فاقتلعہ بیدہ فقتلہ “۔ خضر (علیہ السلام) نے اس بچے کا سر پکڑ کر گردن سے اکھاڑ دیا ، یہ تو بہت ہی خطرناک معاملہ تھا ، ایک بےگناہ لڑکے کا سرتن سے جدا کردیا ، موسیٰ (علیہ السلام) یہ دیکھ کر رہ نہ سکے اور فورا بول اٹھے (آیت) ” قال اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس “۔ کیا تو نے ایک بےگناہ جان کو بغیر جان کے بدلے قتل کردیا ہے (آیت) ” لقد جئت شیئا نکرا “۔ تو نے تو بڑی نامعقول بات کردی ہے ، معصوم بچے کا قتل کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ لفظ ” غلام “ کے معانی میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس سے چھوٹا بچہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور نوجوان بھی ، امام حسن بصری (رح) اور مؤرخ کلبی وغیرہ کہتے ہیں کہ مقتول نوجوان تھا اور لوگوں کے گھروں میں اور مسافروں پر ڈاکے ڈالتا تھا ، تاہم مفسرین فرماتے ہیں (آیت) ” نفسا زکیۃ “۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چھوٹا بچہ تھا جو ابھی معصوم تھا کیونکہ جب جوان ہوجائے تو پھر زکیہ یعنی بےگناہ نہیں رہتا ، حدیث شریف میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں (آیت) ” اذا ابصر الخضر غلاما یلعب مع الغلمان “۔ خضر (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ایک بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا ہے تو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کا سر مروڑ دیا ، کھیل کود کا لفظ بھی بتلاتا ہے کہ وہ چھوٹا بچہ تھا ۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک بےگناہ بچے کے قتل پر اعتراض کیا قال تو خضر (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا “۔ کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ، انہوں نے دوسری مرتبہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی تھی ” قال “ کہنے لگے (آیت) ” ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصاحبنی “۔ اگر اس مرتبہ کے بعد میں نے آپ سے کوئی سوال کیا تو بیشک مجھے اپنی معیت میں نہ رکھنا (آیت) ” قد بلغت من لدنی عذرا “۔ تحقیق میرے طرف سے آپ عذر کو پہنچ چکے ہیں مطلب یہ کہ اب حجت تمام ہوچکی ہے ، اگر اب آپ مجھے اپنے جدا کردیں گے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا کیونکہ شرط کی خلاف ورزی میر ی طرف سے ہوئی ہے ، مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دفعہ بھول کر سوال کیا تھا آپ کا دوسرا اقرار تھا کہ اگر آئندہ ایسی غلطی ہوگی تو بیشک آپ مجھے علیحدہ کردیں اور پھر تیسری مرتبہ کا سوال جو آگے آرہا ہے وہ بالکل جدائی کی نیت سے تھا ۔ (ایک بستی میں ورود) ارشاد ہوتا ہے ” فانطلقا “۔ یہ دونوں ساتھی اور آگے بڑھ گئے (آیت) ” حتی اذا اتیا اھل قریۃ “۔ یہاں تک کہ جب وہ ایک بستی والوں کے پاس پہنچے (آیت) ” استطعما اھلھا “۔ تو اس بستی والوں سے کھانا طلب کیا ، سفر کرکے آرہے تھے ، بھوک سے نڈھال تھے ، لہذا گاؤں والوں سے کہا کہ وہ مسافر ہیں اور انہیں کھانے پینے کے لیے کچھ دیا جائے یہ کون سی بستی تھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، بعض نے انطاکیہ کا نام لیا ہے جو کہ علاقہ شام میں واقع ہے ، بہرحال جب انہوں نے کھانا مانگا (آیت) ” فابوان یضیفوھما “۔ تو بستی والوں نے ان دونوں کو مہمان بنانے سے انکار کردیا ، انہوں نے ان معزز مسافروں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا جو کہ ان کی کمینگی پر دلالت کرتا ہے کمینگی کسی کی ذات یا نسل سے نہیں بلکہ اخلاق سے ظاہر ہوتی ہے کمینے کام کرنے والے لوگ کمینے ہوتے ہیں ، خواہ وہ کسی ذات اور نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ اس بستی والوں کی عمومی حالت تھی ورنہ ان میں کوئی اکا دکا اچھا آدمی بھی ہوگا ، تفسیری روایات میں آتا ہے کہ اس بستی کی عورت نے ان مہمانوں کو کھانے کے لیے کچھ پیش کیا تھا اور ان بزرگوں نے اس عورت کے حق میں دعا بھی کی تھی ۔ بہرحال اس بستی میں ورود کے بعد (آیت) ” وجدافیھا جدارا “۔ ان دونوں نے ایک دیوار دیکھی (آیت) ” یرید ان ینقض “ جو گرا ہی چاہتی تھی بوسیدہ ہو کر ایک طرف کو جھک گئی تھی اور قریب تھا کہ وہ گر جائے (آیت) ” فاقامہ “ تو خضر (علیہ السلام) نے اس دیوار کو سیدھا کردیا روایات میں آتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے دیوار کو گرا کر دوبارہ تعمیر نہیں کیا تھا بلکہ کرامت کے طور پر اپنے ہاتھ سے سیدھا کردیا تھا ، یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) بولے (آیت) ” قال لوشئت لتخذت علیہ اجرا “۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے مگر آپ نے تو یہ بالکل مفت کام کردیا حالانکہ اس بستی والوں نے آپ کو کھانا بھی نہیں کھلایا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے معاہدہ کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی ہوچکی تھی ” قال “ اب خضر (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” ھذا فراق بینی وبینک “۔ اب میرے اور تیرے درمیان جدائی کی نوبت آچکی ہے ، آپ میرے ساتھ رہ کر میری باتوں کو برداشت نہیں کرسکتے لہذا آپ اپنی راہ پکڑیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر اب کی دفعہ سوال کروں تو بیشک آپ مجھے الگ کردیں ، چناچہ ایسا ہی ہوا ، البتہ خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” سانبئک بتاویل مالم تستطع علیہ صبرا “۔ میں عنقریب تمہیں ان چیزوں کی حقیقت سے مطلع کر دوں گا جن پر آپ صبر نہیں کرسکے ، تینوں چیزین تکوینی امور سے تعلق رکھتی تھیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے خضر (علیہ السلام) کو تو عطا کر رکھا تھا مگر موسیٰ (علیہ السلام) ان کی حقیقت سے واقف نہیں تھے ، اس لیے وہ بار بار سوال کرتے رہے ، ان تینوں کی حقیقت اللہ نے اگلی آیات میں خضر (علیہ السلام) کی زبان سے بیان فرمائی ہے ، حدیث شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ، کاش وہ کچھ دیر مزید صبر کرتے تو عجیب و غریب واقعات کا مشاہدہ کرتے ، تاہم وہ ان تین عجائبات کو دیکھنے کے بعد اپنے مقام کی طرف واپس روانہ ہوگئے ۔
Ayah 18:79

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

اور بہرحال کشی ، پس وہ تھی چند محتاجوں کی جو دریا میں کام کرتے تھے پس میں نے ارادہ کیا کہ میں اس کشتی کو عیب ناک بنا دوں ، اور تھا ان کے آگے ایک بادشاہ جو پکڑ لیتا تھا ہر (صحیح) کشتی کو بزور۔

ربط آیات : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا جو واقعہ بیان ہورہا ہے اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت مطلوب تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی لغزش پر انہیں آزمائش میں ڈال دیا ، انہیں لمبا چوڑا سفر اختیار کرنا پڑا ، پھر خضر (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو بعض شرائط کے تھت ان کی رفاقت منظور ہوئی ، مگر موسیٰ (علیہ السلام) ان شرائط پر قائم نہ رہ سکے ، خضر (علیہ السلام) کی معیت میں تین واقعات پیش آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) وعدہ کے مطابق خاموش نہ رہ سکے انہوں نے پہلا اعتراض بھول کر کیا تھا پر دوسرا اعتراض پر خود پیش کش کی کہ اس بار درگزر کیا جائے اور اگر آئندہ اعتراض کروں تو بیشک مجھے الگ کردیا جائے ، چناچہ تیسرے اعتراض پر خضر (علیہ السلام) نے صاف کہہ دیا کہ اب میرا اور تمہارا راستہ جدا جدا ہے البتہ میں ان تین چیزوں کی حقیقت واضح کیے دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکے آج کے درس میں کشتی والے واقعہ کی حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے جب کہ باقی دو واقعات کے متعلق حقیقت اگلے درس میں بیان کی جائے گی ۔ (واقعہ کشتی کی حیات موسیٰ سے مناسبت) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا سفر شروع کیا تو خضر (علیہ السلام) نے اچانک کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا جس سے کشتی کے مسافروں کی جانیں خطرہ میں پڑگئیں موسیٰ (علیہ السلام) اس پر صبر نہ کرسکے اور کہنے لگے (آیت) ” اخرقتھا لتغرق اھلھا “۔ کیا آپ نے کشتی کو اس لیے توڑ دیا ہے کہ اس کے مسافر غرق ہوجائیں ؟ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خود اپنے ذاتی واقعہ کو بھول گئے جو انہیں ابتدائی زندگی میں پیش آیا تھا اگر آپ اس واقعہ کو یاد کرلیتے تو پھر اس کشتی کے واقعہ پر بھی صبر کا دامن نہ چھوڑتے جس زمانے میں موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی اس دور میں فرعون بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کرا دیتا تھا کیونکہ اسے انہیں میں سے کسی کے ہاتھوں اپنی سلطنت کے چھن جانے کا خطرہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کے قتل کے خوف سے آپ کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہادیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہ صرف فرعون کے مظالم سے بچایا بلکہ آبی لہروں کے درمیان بھی آپ کی حفاظت کی ، آپ بڑے ہوئے اور پھر فرعون کے زوال کا باعث بنے تو یہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ تنبیہ مقصود تھی کہ آپ کشتی میں سوراخ دیکھ کر پریشان ہوگئے مگر آپ کو اس بات کا دھیان کیوں نہ آیا کہ جو خداوند کریم آپ کو دریار کی لہروں سے بچا سکتا ہے وہ اس کشتی کے سواروں کو بھی دریا سے پار لگانے پر قادر ہے لہذا آپ کو زیادہ فکر مند نہیں ہونا چاہئے ۔ (کشتی توڑنے کی حکمت) خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو توڑنے کی حکمت اس طرح بیان کی (آیت) ” اما السفینۃ وکانت لمسکین “۔ بہرحال کشتی چند مسکینوں کی تھی (آیت) ” یعملون فی البحر “ جو دریا میں محنت مزدوری کرکے گزر اوقات کرتے تھے (آیت) ” فاردت ان اعیبھا “ تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو عیب دار بنادوں یعنی اس کو صحیح سلامت نہ رہنے دوں کیونکہ (آیت) ” وکان ورآء ھم ملک “۔ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا (آیت) ” یاخذکل سفینۃ غضبا “۔ جو پکڑ لیتا تھا ہر کشتی کو بزور ان سے بیگار لیتا تھا اللہ کی مشیت یہ تھی کہ ان مساکین کی کشتی غصب ہونے سے بچ جائے لہذا خضر (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کشتی میں نقص پیدا کردیا تاکہ بادشاہ اسے نکمی سمجھ کر چھوڑ دے ، کسی دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے غصب کرلینا چوری ، ڈاکے اور خیانت کی طرح حرام ہے ، لہذا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ دوسرے آدمی کا مال چھین لے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو ، ہاں غیر مسلموں کے ساتھ جنگ میں جو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے وہ جائز ہے اسی طرح زمانہ امن میں غیر مسلم ذمی یا معاہد سے ان کی جان ومال کی حفاظت کے طور پر جو جزیہ لیا جاتا ہے وہ بھی حلال ہے ۔ (مسکین اور فقیر کی اصطلاحات) قرآن پاک میں فقیر اور مسکین کی ، اصطلاحات اکثر مقامات پر استعمال ہوئی ہیں ، تاہم مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ہر دو قسم کے لوگوں میں سے کون زیادہ محتاج ہے ، بعض فقیر کو زیادہ محتاج سمجھتے اور بعض مسکین کو لفظ مسکین کا اطلاق اس شخص پر ہوتا ہے جو بالکل تہی دست ہو سورة البلد میں موجود ہے (آیت) ” اومسکینا ذا متربۃ “۔ یعنی بالکل مٹی میں ملا ہوا جس کے پاس بالکل کچھ نہیں ، دوسری طرف فقیر کا لفظ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ ذریعہ آمدنی موجود ہو مگر وہ اس کی جائز ضروریات کے لیے ناکافی ہو ، بعض مفسرین ان اصطلاحات کے الٹ معنی کرتے ہیں یعنی فقیر وہ ہے جس کے پاس بالکل کچھ نہیں اور مسکین وہ ہے جس کے پاس تھوڑا بہت موجود ہے مگر اس کی گزراوقات نہیں ہوتی ، ان حضرات کی دلیل یہ ہے کہ فقر کا لغوی معنی ریڑھ کی ہڈی ہے ، اگر وہ ٹوٹ جائے تو آدمی بالکل ناکارہ ہوجاتا ہے ، لہذا فقیر وہ شخص ہے جو بالکل بےیارومددگار ہے اور جس کے پاس ایک وقت کا کھانا بھی موجود نہیں ہے بہرحال فقیر اور مسکین دونوں محتاج ہیں اسی لیے سورة توبہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے خرچ کی مدات بیان کی ہیں وہاں سب سے پہلے فقیر اور مسکین کو اس کا مستحق قرار دیا ہے (آیت) ” انما الصدقت للفقرآء والمسکین “۔ (آیت ، 6) (کشتی کی ملکیت) بعض مفسرین نے ان مساکین کی تفصیل بھی بیان کی ہے اور وہ اس کشتی کے ذریعے محنت مزدوری کرتے تھے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے کسی دوسرے شخص سے کرایہ پر لے رکھی ہو اور آمدن کا کچھ حصہ اصل مالک کو بھی ادا کرتے ہوں ، تاہم بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ کشتی خود انہی کی ملکیت تھی وہ دس بھائی تھے ان میں سے ۔ پانچ تندرست و توانا تھے اور کام کرتے تھے جب کہ پانچ بھائی لولے لنگڑے یعنی معذور تھے اور کام کاج کے قابل نہیں تھے ، لہذا سارے کے سارے بھائیوں کی گزران اسی کشتی کی آمدنی پر تھی ان حالات میں کشتی عیب دار کردینا ان سب بھائیوں سے ذریعہ روز گار چھینے کے مترادف تھا جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) کو سخت تشویش ہوئی اور انہوں نے فورا اعتراض کردیا ۔ (عیب ناکی کی مصلحت) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) کا کشتی کو عیب ناک بنادینا اس کو ہزار درستگی سے بہتر تھا کیونکہ مصلحت اسی میں تھی اگر یہ کشتی صحیح سلامت رہتی تو پکڑی جاتی اور وہ مساکین ذریعے آمدنی سے محروم ہوجاتے مفسرین کی روایت کے مطابق جب کشتی پکڑے جانے کی حد سے گزر گئی تو خضر (علیہ السلام) نے خود اپنے ہاتھ سے ٹوٹے ہوئے تختے کو پھر درست حالت میں کردیا ، آپ صاحب معجزہ اور مامور من اللہ تھے لہذا مصلحت خداوندی کے مطابق کشتی کا ٹوٹ جانا اور پھر خضر (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے درست ہوجانا کچھ عجیب بات نہیں بعض فرماتے ہیں کہ خضر (علیہ السلام) نے کشتی کا تختہ توڑ کر اس کی جگہ شیشے کا پیوند لگا دیا تھا تاکہ کشتی بظاہر ٹوٹی ہوئی نظر آئے مگر اس میں پانی داخل نہ ہو ، بہرحال کشتی کو عیب دار بنانے کی یہ وجہ تھی ۔ (اسلام اور جدید عصری تقاضے) مولانا سید مناظر احسن گیلانی (رح) ہمارے زمانے میں ذہین وفطین عالم گزرے ہیں آپ صوبہ بہار کے ایک گاؤں گیلان کے رہنے والے تھے اور بیس پچیس سال قبل وہی فوت ہوئے ، آپ حیدرآباد دکن میں اسلامیہ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے صدر تھے آپ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل تھے ، آپ نے کشتی کے واقعہ کے تناظر میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ جس کشتی کی عیب ناکی ہی اس کی سلامتی کی ضمانت بنی اس طرح متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جدید تعلیم سے بےبہرگی ہی دین کے حق میں مفید ثابت ہوئی ۔ قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن واحد یونیورسٹی تھی جس کے تعلیم یافتہ لوگ اسلامی ذہن رکھتے تھے ، یہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کاوش کا نتیجہ تھا ، وگرنہ دیگر تمام یونیورسٹوں (علی گڑھ ، کلکتہ ، لاہور وغیرہ) کے تعلیم یافتہ لوگ الحاد کا شکار ہی رہے ہیں ، اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو گذشتہ ڈیڑھ صدی میں برصغیر کے بعض خضر صفت لوگوں نے بےسروسامانی کی حالت میں دینی تعلیم کا بیڑہ اٹھایا اور کفر والحاد کے اندھیروں میں توحید وسنت کے چراغ روشن کیے ، اس سلسلہ میں اولین کوشش حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کی تھی جنہوں نے دارالعلوم دیوبند سے دینی مدارس کی ابتدا کی اور پھر اس کی شاخیں مراد آباد ، سہارنپور اور دہلی تک پھیلا دیں ، 1857 ء کی جنگ آزادی میں سب سے زیادہ نقصان بھی مسلمانوں کا ہی ہوا ، انگریزوں نے ان سے خوب انتقام لیا اور ہزاروں علمائے حق کو سولی پر لٹکا دیا ۔ مسلمانوں سے اقتدار چھین لیا گیا اور ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئی ان حالات میں بزرگان دین نے دینی مدارس قائم کرکے الحاد کے آگے بند باندھ دیا۔ یہ مدرسے خالص دینی تعلیم کے داعی تھے اور انہیں جدید علوم سے جان بوجھ کر الگ رکھا گیا ، یہ مدارس اس لحاظ سے عیب ناک تھے کہ ان کے فارغ التحصیل طلباء کے پاس حصول معیشت کے لیے کوئی ڈگری نہیں ہوتی تھی ، بانیان مدارس اچھی طرح جانتے تھے کہ جن مدارس میں حکومت کا عمل دخل شروع ہوجائے اور ان کے پیش نظر عصری تقاضے بھی ہوں ، وہاں دین کا پہلو کمزور ہوجاتا ہے ، ان کا تجربہ تھا کہ حکومت سے امداد حاصل کرنے والے مدارس کو انگریزوں نے جلد ہی زیر تسلط کرلیا اور پھر انہیں اپنے غلط مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ بنایا ، لہذا ان مدارس نے مالی وسائل کی پرواہ کیے بغیر دین کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا ، چناچہ گذشتہ ڈیڑھ صدی میں ان ٹوٹے پھوٹے شکستہ حالی اور عصری تقاضوں سے بےنیاز مدارس نے دین کی بےمثال خدمت کی ہے ، یہ انہیں بزرگوں کا کاوش کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں پانچ سات سو دینی مدارس کام کر رہے ہیں خود ہندوستان کے سیکولر سٹیٹ ہونے کے باوجود دہاں پر ایسے مدارس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے ، اسی طرح مسلم بنگال میں بھی یہ مدرسے دینی تعلیم کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں ، انگریزوں نے ایسے مدارس کی اس قدر حوصلہ شکنی کی کہ ایک عام پرائمری پاس تو ووٹر بن سکتا تھا مگر دینی مدرسے کے فارغ التحصیل کو ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا تھا 1945 ء میں اگرچہ میں دارالعلوم دیوبند کا سند یافتہ تھا مگر میں ووٹ کے حق سے اس لیے محروم رہا کہ نہ تو میرے پاس بائیس ہزار روپے کی جائداد تھی اور نہ پرائمری کی سند ۔ (دینی مدارس کی عیب ناکی) بہرحال جس طرح خضر (علیہ السلام) نے کشتی کو عیب دار بنا کر اللہ کے حکم سے اس پر کام کرنے والے مزدوروں کی معیشت کی حفاظت کی اسی طرح ہمارے بزرگوں نے دینی مدارس کو عصری تقاضوں سے الگ رکھ کر دین کی ایسی عملی خدمت کی جس کا بدل آج تک نہیں مل سکا ، پاکستان کی چالیس سالہ تاریخ میں یہاں کی کوئی حکومت بھی ان مدارس کا بدل پیدا نہیں کرسکی ان مدارس کے تربیت یافتہ لوگ سادہ زندگی بسر کرتے ہیں مصائب کو برداشت کرتے ہیں مگر مسلمانوں کی دینی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں ، یونیورسٹیوں میں جدید تعلیم حاصل کرنے والوں پر فورا جدت طاری ہوجاتی ہے اور وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ دین کے معاملہ میں ان پر انحصار کیا جاسکے وہ خود خلاف سنت کام کرتے ہیں لہذا ان کے پیچھے تو نماز بھی ادا نہیں کی جاسکتی بہرحال ان مدارس کے تربیت یافتہ لوگوں نے ہی دین کا علمی نمونہ پیش کیا ہے اور جدید عصری تقاضوں سے دور رہنا ہی دین کی حفاظت کا سبب بنا ہے ۔ اس وقت پاکستان میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور واحد یونیورسٹی ہے جس کے متعلق یہ دعوے کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیاد دینی تعلیم پر رکھی گئی ہے مگر گزشتہ بیس سال کے دوران اس یونیورسٹی نے بھی دین کا کوئی عملی نمونہ پیش نہیں کیا اس یونیورسٹی اور ملک کی باقی یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ لوگوں میں کوئی فرق نہیں ، وہاں بھی جدید علوم کے ساتھ ساتھ مخلوط تعلیم کا انتظام ہے ، لہذا ایسے ادارے سے دین کی خدمت کی توقع عبث ہے ، دین کے عملی نمونے کے لیے دارالعلوم دیوبند یا مظاہر العلوم سہارنپور کی طرز کے مدارس کی طرف ہی نظریں اٹھتی ہیں جو حکومت کی سرپرستی کے بغیر دین کی ترویج پر کمر بستہ ہیں جس طرح واقعہ خضر میں کشتی کی عیب ناکی اس کی ہزار درستگی سے بہتر تھی ، اسی طرح دینی مدارس کی جدید عصری تقاضوں سے علیحدگی کی عیب ناکی دین کے حق میں ہزار درجے بہتر ہے ۔