Ayahs 18:29–31ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد وحی الہی یعنی قرآن پاک کی تلاوت کا حکم دیا یہ ایک ایسی قطعی اور یقینی کتاب ہے جس کے کلمات کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، اگر کوئی شخص اس پر اعتقاد رکھنے اور اس پر عمل کرنے کی بجائے اس کے خلاف چلے گا تو مجرم بن جائے گا اور کسی مجرم کے لیے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں ہے اللہ نے ان مجرمین کا بھی رد فرمایا جو اپنے مالی تفوق کی بناء پر غریب ایمانداروں کو حقیر سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھنا بھی گورار نہیں کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ایسے مخلص ایمانداروں سے علیحدگی اختیار نہ کریں بلکہ انہیں اپنے پاس بٹھائیں اور خود ان کی مجلس میں بیٹھیں جو صبح وشام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور ان کامنتہائے مقصود رضائے الہی ہے ایسے لوگوں سے اپنی نگاہ شفقت نہ ہٹائیں ، آپ اہل ثروت کو اسلام کی رونق کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ دین اسلام کی اصل رونق تو انہی غرباء کے دم قدم سے ہے ، جو مخلص مسلمان ہیں اور جنہیں کم تر سمجھا جاتا ہے ، حضور ﷺ کا ارشاد مبارک تو یہ (1) (مسلم ص 8 ، ج 1 (فیاض) ہے ” بداء الاسلام غریبا وسیعود غریبا فطوبی للغربآء “۔ یعنی اسلام کے اولین ماننے والے غریب لوگ ہی تھے اور آخر میں بھی دین غریبوں میں ہی لوٹ آئے گا ، اس لیے غریب لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں فرمایا جن لوگوں کے دل ہماری یاد سے غافل ہیں وہ اپنے مادی وسائل میں ہی سرمست ہیں آپ ایسے لوگوں کی بات نہ مانیں اور جو لوگ حد سے بڑھے ہوئے ہیں ، آپ انکی طرف بھی توجہ نہ دیں ۔
(انسان فاعل مختار ہے)
اب اگلی بات اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہے (آیت) ” وقل الحق من ربکم “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے وحی الہی ، کتاب ، دین ، شریعت ، احکام سب تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں ان میں کسی نبی کا ذاتی دخل نہیں ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ پس جس کا جی چاہے ایمان قبول کرلے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ پکڑ لے اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کردیا ہے اور اب وہ کسی کو صحیح راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کرتا (آیت) ” ان لویشآء اللہ لھدی الناس جمیعا “۔ (الرعد۔ 31) اگر اللہ چاہے تو سب کو ہدایت دے کر تیر کی طرح سیدھا کر دے مگر یہ چیز اس کی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اس کا اصول یہ ہے (آیت) ” لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی “۔ (البقرۃ ، 256) دین میں جبر نہیں ہے ہدایت اور گمراہی کا راستہ واضح ہوچکا ہے ، اللہ نے اسے انسانوں کے اختیار پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ نے اپنے نبی کو بھی کہہ دیا (آیت) ” لست علیھم بمصیطر “۔ (الغاشیۃ ، 22) آپ لوگوں پر دراوغہ تو نہیں ہیں جو انہیں ایمان لانے پر مجبور کردیں گے آپ تبلیغ دین کا کام کرتے ہیں ، اور قبولیت ہدایت کی ذمہ داری انہی کو سونپ دیں ، وہ خود اس کے ذمہ دار ہیں ، اگرچہ ہر چیز کی توفیق اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے ، ایمان لانے کی توفیق بھی اللہ کی طرف سے ہی ملتی ہے اور انسان کفر بھی اللہ کی دی ہوئی طاقت سے ہی اختیار کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس حد تک اختیار دے دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرلے ، اللہ تعالیٰ انسان کو تمام قوی عطا کر کے اور اپنی معرفت کے تمام ذرائع مہیا کرکے اس کا امتحان لینا چاہتا ہے اور امتحان کے لیے ضروری ہے کہ جس کا امتحان مطلوب ہے اس کو خاص حد تک اختیار بھی دیا جائے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے کسب اعمال انسان کے اپنے اختیار میں رکھا ہے فرمایا (آیت) ” ماکسبت وعلیھا ما اکتسبت “۔ (البقرۃ 286) انسان کے لیے اس کی اپنی اچھی کمائی ہی مفید ہوگی اور اس کا برا عمل اسی کے خلاف جائے گا ، لہذا اب یہ اس کی اپنی مرضی ہے کہ ایمان لے آئے یا کفر کا راستہ اختیار کرلے ۔
(ظالموں کے لیے آگ)
البتہ اللہ نے اس سے بھی آگاہ فرما دیا (آیت) ” انا اعتدنا للظلمین نارا “۔ یقینا ہم نے تیار کر رکھی ہے ظالموں کے لیے آگ ، جو لوگ ظلم کا راستہ اختیار کریں گے ، کفر وشرک کے راستہ پر چلیں گے اور عقل کے خلاف کام کریں گے تو پھر ان کی قسمت میں دوزخ کی آگ ہوگی جس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ دنیا کی آگ سے ستر گنا تیز ہوگی (آیت) ” احاط بھم سرادقھا “۔ گھیرا ہے ان کو اس آگ کے پرودوں نے سرادق پردوں کو کہ جاتا ہے جیسے خیمہ یاقنات کے پردے ہوتے ہیں یہ پردے تو کپڑے کی چند تہوں کے ہوتے ہیں مگر ترمذیہ شریف کی روایت میں آگ کے پردوں کی موٹائی چار دیواروں کے برابر ہوگی اور ان میں سے ہر دیوار اتنی موٹی ہے کہ انسان چالیس سال تک چلتا رہے تو اسے طے نہ کرسکے اس سے اندازہ لگا لیں کہ اللہ کے نافرمانوں کو گھیرنے والی آگ کی تپش کتنی تیز ہوگی ۔
فرمایا (آیت) ” وان یستغیثوا “۔ اور اگر اہل دوزخ فریاد کریں گے کہ ہمیں کھانے پینے کے لیے کچھ عطا کیا جائے ، یغاثوا بماء کالمھل “ تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی اس پانی کے ساتھ جو گار یا تلچھٹ کی طرح ہوگا ، ” مھل “ اس تلچھٹ کو کہتے ہیں جو زیتون کے تیل کے نیچے جمع ہوجاتی ہے ، اس کا اطلاق پگھلے ہوئے تانبے پر بھی ہوتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخیوں کو دیا جانے والا پانی سخت گرم ہوگا (آیت) ” یشوی الوجوہ “ جونہی وہ چہروں کے قریب لائیں گے وہ انہیں جلا ڈالے گا ، سورة محمد میں فرمایا کہ دوزخیوں سے کہا جائے گا (آیت) ” سقوا مآء حمیما “۔ لو یہ کھولتا ہوا پانی پی کر اپنی پیاس بجھا لو ، مگر جونہی وہ اس کا ایک گھونٹ حلق سے نیچے اتاریں گے (آیت) ” فقطع امعآء ھم “۔ (آیت 15) تو وہ انکی آنتیں کاٹ کر نیچے پھینک دے گا ، پھر ان کو دور سے جنتیوں کا حال بھی دکھایا جائے گا کہ دیکھو وہ کیسے آرام میں ہیں جہاں انہیں ہر طرح کی نعمت میسر ہے ، سورة اعراف میں ہے کہ دوزخ والے جنتیوں سے کہیں گے کہ اللہ کے عطا کردہ پانی میں سے ہمیں ایک گھونٹ ہی پلا دو ، تو ادھر سے جواب آئے گا (آیت) ” ان اللہ حرمھما علی الکفرین “۔ (آیت ، 50) جنت کا کھانا پینا اللہ نے کافروں پر حرام کردیا ہے وہ تو اس کی بوتک نہیں پاسکتے ، بہرحال فرمایا کہ انہیں اس قسم کا گرم پانی دیا جائے گا (آیت) ” بئس الشراب “ جو بہت ہی برا مشروب ہوگا (آیت) ” وسآء ت مرتفقا “۔ اور بہت ہی برا آرام ہوگا ، آرام کیا ہوگا ، وہاں تو ہر قسم کا دکھ تکلیف اور مصیبت ہی ہوگی ۔
(ایمانداروں کے لیے اجر)
یہ تو کفر ، شرک اور ظلم کا راستہ اختیار کرنے والوں کا ذکر تھا ، اب ذرا اہل ایمان کے انعامات بھی سن لیں ، قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ ترغیب اور ترہیب ساتھ ساتھ چلتی ہیں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “۔ جو لوگ اس دنیا میں رہ کر ایمان لے آئے انہوں نے اللہ کی وحدانیت کو اپنے دولوں میں جگہ دی ، اللہ کے انبیاء ، اس کی کتابوں اور قیامت کی تصدیق کی ، اس کے فرشتوں پر ایمان لائے اور اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر چل نکلے ، اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” وعملوا الصلحت “ انہوں نے نیک اعمال بھی انجام دیے حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کے مطابق نجات کا مدار دو چیزوں پر ہے ایک ایمان اور دوسری اعمال صالحہ ، ایمان کی حقیقت تو واضح ہوگئی ، اور اعمال صالحہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ نہایت غور وخوض کے بعد بھی اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بنیادی طور پر اعمال صالحہ میں چار عبادات داخل ہیں یعنی نماز ، روزہ ، زکوۃ ، اور حج ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد جو آدمی یہ چار عبادات ادا کرے گا ، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ، البتہ فقہائے کرام نے پانچویں نمبر پر جہاد کو بھی شامل کیا ہے ، یہ پانچ بنیادی عبادات ہیں باقی تمام مالی بدنی ، قولی ، اور فعلی عبادات ان کے ضمن میں آجاتی ہیں ۔
فرمایا ، جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دے (آیت) ” انا لا نضیع اجر من احسن عملا “۔ تو ہم نہیں ضائع کرتے بدلہ اس شخص کا جس نے اچھا عمل کیا ، اچھا عمل چھوٹے سے چھوٹا بھی ہوگا تو قیامت کے دن پیش کیا جائے گا فرمایا (آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ “۔ (الزلزال ، 7) ہر شخص اپنا قلیل ترین اچھا عمل بھی پا لیگا اور اسی طرح پر برا عمل بھی محفوظ ہے (آیت) ” ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “۔ (الزلزال ، 8) اور وہ اپنا ذرے کے برابر برا عمل بھی دیکھ لیگا ، بہرحال اہل ایمان اور اعمال صالحہ کے مرتکبین کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک لھم جنت عدن “ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے لیے باغات ہیں رہائش کے ، سرسبز و شاداب باغات کے اندر ہی ان کے رہنے کے لیے علیشان محلات ہوں گے جن میں زیب وزینت اور آرام و آسائش کے تمام سامان مہیا ہوں گے ، (آیت) ” تجری من تحتھم الانھر “۔ ان کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ، باغات اور نہروں کا تصور انسانی زندگی کے لیے پورے آرام و راحت کا تصور پیش کرتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ آخرت کی زندگی میں انہیں ہر طرح کا آرام اور سکون حاصل ہوگا ۔
(سنہری کنگن)
زیب وزینت کی اشیاء میں سے زیورات کو خاص اہمیت حاصل ہے اور جتنی لوگ جنت میں زیورات سے محروم نہیں رہیں گے فرمایا (آیت) ” یحلون فیھا من اساور من ذھب “۔ ان کو جنت میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے ، اس دنیا میں تو مردوں کے لیے سونا اور ریشم حرام ہیں ، لیکن جنت میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جنتیوں کو یہ چیزیں مہیا فرمائے گا بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردوں کا کنگن پہننا تو اس دنیا کے لحاظ سے بھی کوئی اچھی چیز معلوم نہیں ہوتا ، مگر اللہ نے اس کا اپنی نعمت کے طور پر ذکر کیا ہے ، مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تو دنیا کے مختلف زمان ومکان میں رواج کی بات ہے بعض مقامات پر اس کا رواج ہے اور بعض پر نہیں ہے ، قدیم زمانے میں بادشاہوں کے کنگن ، ہار ، انگوٹھیاں اور تاج پہننے کا ذکر ملتا ہے اور انہیں معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا ، کسری کا تاج جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا تھا ، اس پر زروجواہر کا کام کیا ہوا تھا اور وہ بڑا قیمتی تاج تھا ، اس کے ہیروں اور جواہرات کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ، بڑے قیمتی قالین میسر آئے تھے ، مگر حضرت عمر ؓ نے کاٹ کر ان کے مصلے بنا دیے اور مجاہدین میں تقسیم کردیے آپ نے ایسی چیزوں کے لیے کوئی عجائب گھر نہیں بنایا کہ وہاں یادگار کے طور پر رکھ دی جائیں ، اسلام میں یہ تصور نہیں ، اور جہاں اس قسم کا تصور پایا جاتا ہے ، اس کی انتہاء یہ ہے کہ میسور کے کسی میوزیم میں کسی صورت کا پاخانہ بھی رکھا ہوا ہے ، بہرحال زیورات پہننے کا رواج بعض جگہوں پر ہوتا تھا ، اور بعض مقامات پر ایسا تصور نہیں تھا اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ جنت میں جانے والا ہر شخص بادشاہ ہوگا اسے بادشاہوں والی تمام سہولتیں حاصل ہوں گی اگر دنیا کے بعض بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ جنتیوں کو بھی یہ نعمتیں عطا کرے گا ۔
(بہترین لباس)
اچھے سے اچھا لباس بھی انسان کی پسندیدہ چیزوں میں سے ہے اللہ تعالیٰ اہل جنت کو بہترین لباس بھی عطا فرمائے گا ، فرمایا (آیت) ” ویلبسون ثیابا خضرا من سندس واستبرق “ وہ پہنائے جائیں گے لباس باریک اور موٹی ریشم ، سرسبز و شاداب باغات میں ان کے مکان ہوں گے اور پھر لباس بھی سبز رنگ ہی کا ہوگا ، جو ان کی زینت میں مزید اضافے کا باعث بنے گا ، سندس باریک ریشم کو استبرق موٹی ریشم کو کہتے ہیں اگرچہ دنیا میں مردوں کے لیے ریشم پہنا بھی جائز نہیں مگر جنت میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یہ چیز عطا کرے گا فرمایا (آیت) ” متکئین فیھا علی الارآئک “۔ جنتی لوگ جنت میں صوفہ سیٹوں پر تکیہ لگا کر بیٹھیں گے ارء ک ، اریکہ کی جمع ہے جس سے بیٹھنے کی آرام دہ چیزیں مراد ہیں ، لہذا اس کا ترجمہ کرسی ، صوفہ سیٹ بنچ یا پلنگ وغیرہ کیا جاسکتا ہے ۔
زندگی میں آرام و راحت کی چیزوں میں بیوی بھی شامل ہے ، چناچہ جنت میں اہل جنت کو پاک بیویاں بھی حاصل ہوں گی ، سورة الدخان میں ہے (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ (آیت ، 54) ہم پاکیزہ حوریں ان کے نکاح میں دے دیں گے ، یہ تو ساری مادی نعمتوں کا ذکر ہے ، اللہ نے فرمایا جنتیوں کے لیے اس سے بڑھ کر نعمتیں بھی موجود ہوں گی ، یہ لوگ پاکیزہ مجلسوں میں شریک ہوں گے ، انہیں خدا تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا ، جو بلند ترین نعمت ہے ، وہاں پر ہر قسم کی اشیاء کے بازار ہوں گے جنتی جو چیز پسند کرے گا بلاقیمت میسر ہوگی ۔
آخر میں فرمایا (آیت) ” نعم الثواب “ یہ کتنا اچھا بدلہ ہے ، خدا تعالیٰ اس کے انبیاء کتب اور معاد پر ایمان لانے اور نیک اعمال انجام دینے والوں کے لیے نہایت ہی اچھا بدلہ ہے (آیت) ” وحسنت مرتفقا “۔ اور کتنا ہی اچھا آرام ہے ، ان نعمتوں کے تصور سے ہی کتنی راحت ہوتی ہے ، پھر جب یہ فی الواقع مل جائیں گی تو کتنا آرام و سکون میسر ہوگا ، غرضیکہ اللہ نے کفار ومشرکین کا حال بھی بیان کردیا ہے اور پھر اہل ایمان کا ذکر بھی ہوگیا ہے اللہ نے دونوں کا مواز نہ کر کے ترغیب وترہیب کی بات مکمل کردی ہے ۔
Ayahs 18:32–36ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان فرمایا ، پھر وحی الہی کی قطعیت کو بیان فرما کر اس کے اتباع کا حکم دیا ، کافر ، مشرک ، مشرک مغرور اور متکبر لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں کی مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کا رد فرمایا کمزور ایمانداروں کو حقیر سمجھنے والوں مذمت کو مذمت کی اور پیغمبر اسلام کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو صبح اور پچھلے پہر اپنے پروردگار کو یاد کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، فرمایا ان پر اپنی نگاہ شفقت رکھیں ، آپ ان لوگوں کی بات نہ مانیں جنہیں اللہ نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے ، جو اپنی خواہشات پر چلتے ہیں اور ان کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے ایمان لانا یا نہ لانا انسانوں کی اپنی مرضی پر موقوف ہے جو ایمان لائے گا اس کو اچھا بدلہ نصیب ہوگا اور جو کفر کا راستہ اختیار کرے گا ، اس کے لیے اللہ نے سزا بھی تیار کر رکھی ہے ان کے لیے جہنم کی آگ ہوگئی جسے پردوں نے گھیر رکھا ہوگا ، ظالموں کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگا جو پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا ، اس کے بعد اللہ نے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دینے والے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ ان کو ان کے اعمال کا بہتر بدلہ ملے گا ، خدا تعالیٰ انہیں ایسے باغوں میں جگہ دے گا ، جو رہائش کے قابل ہوں گے اور انکے سامنے نہریں جاری ہوں گی ، زیب وزینت کے لیے انہیں سونے کے کنگن اور باریک و دبیز ریشم کا لباس پہنایا جائے گا وہ لوگ نہایت ہی عمدہ تختوں پر بیٹھ کر آرام کریں گے ۔
کنگن کا ذکر حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ اگر جنت کا ادنی سے ادنی زیور اس دنیا میں ظاہر کردیا جائے تو وہ دنیا کے تمام اعلی سے اعلی زیورات پر غالب آجائے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ جنتیوں کے کنگن ایسے نفیس ہوں گے کہ اگر ان میں سے صرف ایک کنگن اس دنیا میں ظاہر کردیا جائے تو اس کے مقابلے میں سورج کی روشنی ماند پڑجائے ، ترمذی شریف کی روایت (1) (ترمذی ص 255 و بخاری ص 392 ج 1) (فیاض) میں آتا ہے کہ جنت کی عورتوں کا ایک دوپٹہ ” خیر من الدنیا وما فیھا “ دنیا اور اس کے تمام خزانوں سے قیمتی ہوگا ۔
(دو شخصوں کی مثال)
کفار کی سزا اور اہل جنت کے انعامات کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جن دو شخصوں کی مثال بیان کی جارہی ہے ، یہ واقع میں بھی ہو سکتے ہیں اور محض تمثیل بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بعض چیزیں تمثیل کے ساتھ بھی سمجھائی ہیں ، مثلا داؤد (علیہ السلام) کے واقعہ میں ننانوے اور سو دنبیوں کا قصہ ایک تمثیل بات ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جن دو شخصوں کی مثال یہاں بیان کی گئی ہے ان کا نمونہ خود مکہ میں موجود تھا ، ایک دولت مند کافر تھا جب کہ اس کا مومن بھائی غریب آدمی تھا ، بعض فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں ایک دولتمند شخص فوت ہوگیا جس نے اپنے پیچھے دو لڑکے چھوڑے ، دونوں وارثان نے باپ کی جائیداد تقسیم کرلی اور ہر ایک کے حصے میں چار چار ہزار دینار آئے ان میں سے ایک بھائی کافر تھا جس نے اپنی رقم سے دو باغ خریدے جن کی مثال اللہ نے اس مقام پر بیان فرمائی ہے ، دوسرا شخص مومن تھا ، اس نے اپنا سارا حصہ اللہ کی راہ میں صرف کردیا اس کا ذکر بھی اگلے درس میں آرہا ہے ۔
(دو باغوں کا مالک)
ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر ! ﷺ (آیت) ” واضرب لھم مثلا رجلین “۔ آپ ان لوگوں کے سامنے دو شخصوں کی مثال بیان کریں ان مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو یہ مثال سنائیں تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں ، فرمایا ان دو آدمیوں میں سے (آیت) ” جعلنا لاحدھما جنتین من اعناب “۔ ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے (آیت) ” وحففنھما بنخل “۔ اور ان دونوں کو ہم نے کھجور کے درختوں کی باڑھ سے گھیر لیا تھا ، باغوں کی حفاظت کے لیے اکثر لوگ ان کے ارد گرد دیوار کھینچ لیتے ہیں ، خاردار تار لگا دیتے ہیں یا کانٹے دار جھاڑیاں اگا دیتے ہیں مگر ان دو باغوں کے اردگرد اللہ نے کھجور کے درخت پیدا کردیے تھے جو بیک وقت باغ کے لیے باڑھ کا کام بھی دیتے اور خود بھی اعلی قسم کا پھل دیتے ، کھجور کے درخت عام طور پر لمبے ہوتے ہیں اور زمین پر ان کے سائے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا ، لہذا ان کے نیچے خالی جگہ پر کاشتکاری بھی ہو سکتی ہے ، اسی لیے اللہ نے فرمایا (آیت) ” وجعلنا بینھما زرعا “۔ اور ہم نے دونوں باغوں کے درمیان کھیتی کا انتظام بھی کردیا تھا غرضیکہ باغوں کے مالک کو بیک وقت تین فوائد حاصل تھے ، اصل باغات انگوروں کے تھے ، ان کے اردگرد کھجور کے درخت بطور باڑھ تھے اور خود بھی پھل دیتے تھے اس کے علاوہ باغات کے درمیان خالی جگہ پر کاشتکاری بھی ہوتی تھی ۔
فرمایا (آیت) ” کلتا الجنتین اتت اکلھا دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے (آیت) ” ولم تظلم منہ شیئا “۔ اور نہیں کم کرتے تھے اس میں سے کوئی چیز موسم کے مطابق دونوں باغ خوب پھل دیتے تھے فرمایا (آیت) ” وفجرنا خللھما نھرا “۔ اور ان دونوں کے درمیان ہم نے نہر جاری کردی تھی ، پھل ، اناج اور سبزی کا دارومدار پانی پر ہوتا ہے اللہ نے وہ بھی مہیا کردیا تھا ، خود انسانوں اور جانوروں کے پینے کے لیے بھی پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے نہر جاری کر کے یہ ساری ضرورتیں پوری کردی تھیں بعض مفسرین نے اس نہر کا تعین بھی کیا ہے فرماتے ہیں کہ یہ نہر فلسطین میں رملہ نامی بستی کے قریب سے گزرتی تھی اس نہر کے کنارے وہ بستی ہے جس میں یہ دو شخص رہتے تھے ۔
فرمایا (آیت) ” وکان لہ ثمر “۔ باغوں کے مالک کے ہاں دوسرے پھل بھی تھے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ثمر سے مراد محض پھل نہیں بلکہ دوسرے ذرائع آمدنی بھی ہو سکتے ہیں ، انسان تجارت کرتا ہے صنعت وحرفت کا پیشہ اختیار کرتا یا کوئی دیگر کام کرتا تو وہ اس کا ذریعہ آمدنی ہوتا ہے اور اسے کسی شخص کا حاصل یا پھل بھی کہہ سکتے ہیں اس کی مثال مکہ کے بعض دولت مندلوگ ہیں جن کے طائف میں بھی باغات تھے اور وسیع تجارتی کاروبار بھی تھا ، انہوں نے لاکھوں دنیا کی سرمایہ کاری کر رکھی تھی ، اس کے علاوہ ان کے بکریوں کے ریوڑ تھے کام کاج اور خدمت کے لیے غلام تھے ، آرام و آسائش کا پورا سامان اور رفاہیت حاصل تھی ، اللہ نے اولاد بھی کثرت سے عطا فرمائی تھی جیسے ولید بن مغیرہ کے دس بیٹھے تھے جن پر وہ فخر کیا کرتا تھا سورة القلم میں اللہ نے اس کی مذمت بیان فرمائی ہے (1) ( قرطبی ص 73 ج 19 و خازن ص 175 ج 7 (فیاض) ان میں سے تین بیٹے اسلام لائے ایسی ہی چیزوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ اس کے لیے پھل تھا ۔
(صاحب مال کا تکبر)
فرمایا (آیت) ” فقال لصاحبہ وھو یحاورہ “۔ اس نے اپنے بھائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا (آیت) ” انا اکثر منک مالا واعز نفرا “۔ میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور تعداد میں بھی غالب ہوں ، میری اولاد ہے لونڈیاں اور غلام ہیں ، نوکر چاکر ہیں ، برخلاف اس کے تمہارے پاس کچھ بھی نہیں اس قسم کی باتیں وہ لوگوں کے سامنے فخریہ طور پر کیا کرتا تھا قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر موجود ہے کہ اکثر نافرمان ، کافر اور مشرک لوگ ایسی ہی چیزوں پر فخر کرتے ہیں تو اس شخص نے بھی اپنے مال اور اولاد پر تکبر کا اظہار کیا ۔
(آیت) ” ودخل جنتہ “۔ اسی حالت میں وہ اپنے باغ میں داخل ہوا (آیت) ” وھو ظالم لنفسہ “ اس حال میں وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا کفر اور شرک بجائے خود ظلم ہے جسے اس شخص نے اختیار کر رکھا تھا اس کے علاوہ اس کے دماغ میں غرور وتکبر کا نشہ بھی موجود تھا اور وہ اپنے غریب مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا ، خدا کی قدرت پر یقین نہیں رکھتا تھا اور اپنی بڑائی کا اظہار کرتا تھا ، یہ ساری چیزیں اپنی جان پر ظلم کرنے کے مترادف ہیں کیونکہ آخرت میں ان کا وبال اسی کی جان پر پڑے گا ، بہرحال اسے اپنے مال واولاد پر بڑا فخر تھا قال کہنے لگا (آیت) ” ما اظن ان تبید ھذہ ابدا من نہیں گمان کرتا کہ یہ سب کچھ کبھی ہلاک بھی ہوجائے گا ، اس کے زعم میں یہ بات تھی کہ جب تک میں موجود ہوں میرا یہ مال واولاد اور باغات بھی موجود ہیں ۔
(قیامت کا انکار)
وہ شخص قیامت کا بھی منکر تھا ، کہتا تھا (آیت) ” وما اظن الساعۃ قائمۃ “ میں تو خیال نہیں کرتا کہ قیامت بھی واقع ہوگی وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال سب بناوٹی باتیں ہیں جن کی کچھ حقیقت نہیں ، اس نے اللہ کے تمام انعامات کو اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف منسوب کرنے کی بجائے ، اسے اپنے ذاتی کمال کا نتیجہ جانا ، البتہ وہ اپنے پروردگار کو مانتا تھا جیسا کہ اگلے جملے سے واضح ہے ، کہنے لگا (آیت) ” ولئن رددت الی ربی “۔ اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا (آیت) ” لاجدن خیرا منھا منقلبا “۔ تو وہاں پر مجھے اس سے بھی بہتری حاصل ہوگی ، جس طرح یہاں باغات اور مال و دولت حاصل ہے ایسے ہی آخرت میں بھی یہ چیزیں بلکہ اس سے بہتر چیزیں حاصل ہوں گی ، یہ بھی شرک کی ایک بدترین قسم ہے کہ دنیا کے لوازمات کو خدا تعالیٰ کی عطا سمجھنے کی بجائے اسے اپنی عقل وعلم ‘ ہنر ، سائنس اور ٹیکنا لوجی کا کمال سمجھا جائے ، یہی الحادی شرک قارون میں بھی پایا جاتا تھا ، جس نے کہا تھا (آیت) ” انما اوتیتہ علی علم عندی “۔ (القصص ، 78) میرے یہ تمام مال وخزانے میرے علم کی وجہ سے ہیں ، مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے جو میں نے اس کے نام پر اس میں سے خرچ کروں ، آجکل اکثر تاجروں کا بھی یہی حال ہے وہ ہیرا پھیری کرکے مال کماتے ہیں اور پھر اس کو اپنا کمال سمجھتے ہیں نہ وہ اسے اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھتے ہیں اور نہ اس کے قائم کردہ حقوق کی پابندی کرتے ہیں ۔
بہرحال آج کے اکثر مشرکوں کا بھی یہی حال ہے وہ اس دنیا کی حالت کو ہمیشگی پر محمول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یہاں آسودہ حال ہیں تو آخرت میں بھی ایسے ہی ہوں گے غرضیکہ اس مالدار شخص نے اپنے غریب بھائی کے ساتھ فخر وتکبر کی بات کی اور اس کو حقیر جانا اب اگلے درس میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے مسلمان بھائی کا جواب ذکر کیا ہے اور اس شخص پر جو آزمائش ڈالی تھی اس کو بیان کرکے مالدار شخص کی حسرت کو بیان کیا ہے ۔
Ayahs 18:37–44ربط آیات :
اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کے سلسلے میں ایک دولت مند مشرک اور ایک ایماندار مومن کی مثال بیان فرمائی ہے امیر آدمی نے اپنے باغ میں داخل ہوتے وقت کہا کہ یہ تو کبھی فنا نہیں ہوگا ۔ قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے اور اگر یہ برپا بھی ہوگئی تو میں اس دنیا کی طرح وہاں بھی خوشحال ہی رہوں گا ، وہ شخص اپنے باغ اور مال و دولت کو اپنا ذاتی کمال سمجھتا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تھا ، پھر اس نے اپنے غریب مگر مومن بھائی کو طعن کیا کہ میں تم سے مال اور تعداد میں بہتر ہوں وہ غریب مومن اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرچکا تھا مگر امیر آدمی اپنے مال و دولت پر اترا رہا تھا ۔
(مومن بھائی کا جواب)
غریب بھائی نے امیر بھائی کی بات کو توجہ سے سنا (آیت) ” قال لہ صاحبہ وھو یحاورہ “۔ اور اپنے بھائی کو جواب کہا (آیت) ” اکفرت بالذی خلقک من تراب “۔ کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے پیدا کیا مٹی سے (آیت) ” ثم من نطفہ “ اور پھر قطرہ آب سے بنی نوع انسان کے جد امجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے ہی پیدا فرمایا جیسا کہ اس کا ارشاد ہے (آیت) ” خلقہ من تراب “ (آل عمران : 59) اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا ، اور پھر باقی نوع کو قطرہ آب سے پیدا کیا ، دوسری جگہ (آیت) ” مآء مھین “ ۔ یعنی حقیر پانی کے الفاط بھی آتے ہیں ، مٹی ایک گرد و غبار ہے جس سے اللہ تعالیٰ اناج پیدا کرتا ہے جو انسان کی خوراک ہے اور اسی گردوغبار سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے مٹی سے پیدا ہونے والا انسان جب مٹی کی پیداوار بطور غذا استعمال کرتا ہے تو اس سے مادہ تولید پیدا ہوتا ہے جس سے نسل انسانی آگے چلتی ہے ،
مومن بھائی نے کہا ، کیا تو اس ذات کے ساتھ کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر قطرہ آب سے پیدا کیا ، اور پیدا کرکے یونہی نہیں چھوڑ دیا (آیت) ” ثم سوک رجلا “۔ بلکہ تجھے مکمل مرد کی صورت میں برابر کردیا ، ذرا اپنے اعضاء کی طرف تو دھیان دے (آیت) ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم “۔ (التین ، 4) ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت دیکر پیدا ، اس کے تمام اعضاء اور قد کاٹھ کو موزوں کرکے حسین جمیل انسان بنا دیا ، یہ موزونیت اور حسن ہی انسان کو باقی مخلوق سے ممتاز کرتا ہے اور کہنے لگا تو ایسے پروردگار کا انکار کرتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ سارا مال و دولت تیری اپنی کمائی ہے تو اللہ تعالیٰ کا احسان نہیں مانتا تو جو چاہے اپنا عقیدہ وضع کرلے (آیت) ” لکنا ھو اللہ ربی “۔ مگر میں تو یہی کہوں گا کہ میرا رب تو وہی اللہ ہے (آیت) ” ولا اشرک بربی احدا “۔ میں تو اس کے ساتھ کسی کو شریک بنانے کے لیے تیار نہیں ۔ ” لکنا ، دراصل لکن انا اقوال ہے ، اسی لیے اس کا ترجمہ کیا گیا کہ میں تو کہتا ہوں کہ وہ اللہ ہی میرا رب ہے جو تمام قوتوں کا سرچشمہ خالق ، ربوبیت کا مالک ، مدبر اور متصرف ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے مخلوق کو جب کوئی چیز ملتی ہے ، تو وہ محض اس کی ہوشیاری اور ہنرمندی سے نہیں بلکہ مشیت ایزدی سے ملتی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما تشآء ؤ ن الا ان یشآء اللہ ء اللہ رب العلمین “۔ (التکویر ، 29) تمہاری چاہت اس وقت تک بار آور نہیں ہو سکتی جب تک اللہ تعالیٰ نہ چاہے جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے بہرحال مومن بھائی نے اپنے عقیدے کا اظہار کردیا ، کہ میرا رب اللہ ہے میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہیں بناتا ، نہ صفت میں ، نہ عبادت میں ، نہ نذر ونیاز میں اور نہ مشیت میں ۔
پھر مومن بھائی نے اپنے کافر بھائی کو نصیحت بھی کی اور کہ (آیت) ” ولولا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے کیوں نہ کہا ، ” جو اللہ چاہے ، نہیں طاقت مگر اللہ ہی کے ساتھ ، تم تو اپنے باغ ، اولاد اور مال و دولت کو دیکھ کر کہتے تھے کہ کبھی ہلاک نہیں ہوں گے اور کم از کم میری زندگی تک یونہی رہیں گے تم قیامت کا بھی انکار کرتے تھے تم نے ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیوں نہ کیا کہ وہ چاہے گا تو سب کچھ ہوگا ، اور تمام قوتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
ان کلمات کی فضلیت کے ضمن میں حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں عرض اور جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ اور وہ ہے (آیت) ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ یعنی برائی سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق نہیں ہے جب تک اللہ نہ چاہے ، ایک روایت میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر انعام کرے تو اسے یوں کہنا چاہئے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ یہ کلمات کہنے سے اللہ تعالیٰ اسے حوادثات اور پریشانیوں سے محفوظ رکھے گا ، کیونکہ یہ بندہ اخلاص کے ساتھ عقیدہ توحید پر کاربند ہے اور سارے معاملات کو اللہ تعالیٰ کی طرف تفویض کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ پر توکل کا یہ کمال درجے کا کلمہ ہے ، امام مالک (رح) کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا ” ماشآء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ بعض کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے مکان کی پیشانی پر یہ کلمہ کندہ کرایا ہوا تھا کسی نے آپ سے کہا ، حضرت ! قرآن میں تو یہ کلمہ باغ کے بارے میں آیا ہے اور آپ نے اسے اپنے مکان پر لکھ دیا ہے ، فرمایا ، میرا یہ گھر اور میری اولاد میرا باغ ہی تو ہے میں ان سب کو اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ، میں اس کی توحید کا قائل ہوں اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ۔
(مومن کا حسن ظن)
اب اس مومن شخص نے اپنے بھائی کے طعن میں کا جواب بھی دیا کہا (آیت) ” ان ترن انا اقل منک مالا وولدا “۔ اگر تو دیکھتا ہے کہ میں تجھ سے مال اور اولاد میں کم ہوں تو کوئی بات نہیں ہے کیونکہ (آیت) ” فعسی ربی ان یؤتین خیرا من جنتک “۔ مجھے امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرمائیگا کیونکہ میرا مال اسی کی راہ میں خرچ ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ قادر مطلق اور مہربان ہے ، میں اس کی توحید کا قائل اور اس کی عبادت کرنے والا ہوں ، میں قیامت پر یقین رکھتا ہوں ، لہذا مجھے وہ بہتر بدلہ عطا فرمائیگا ۔
(باغ کی تباہی)
مومن بھائی نے یہ بھی کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارا مال ، اولاد اور باغ ہمیشہ تمہارے پاس رہیں گے ، تم اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا ، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، ہو سکتا ہے (آیت) ” ویرسل علیھا حسبانا من السمآء “ وہ بھیج دے گا اس (باغ) پر عذاب آسمان سے ، حسبانا کا لفظی معنی محاسبے والی چیز اور مراد کوئی آفت یا عذاب ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی ایسا طوفان ، آندھی یا بگولہ بھیج دے جس سے یہ سارا باغ تباہ ہوجائے (آیت) ” فتصبح صعیدا زلقا “۔ اور یہ جگہ چٹیل میدان بن کر رہ جائے ، اس قسم کی کارگزاری کا اشارہ اللہ نے ابتدائے سورة میں بھی دیا ہے (آیت) ” وانا لجعلون ما علیھا صعیدا جرزا “۔ ہم زمین کی تمام چیزوں کو ملیا میٹ کر کے چٹیل میدان بنانے والے ہیں ۔
اس مرد مومن نے اپنے بھائی کو اس طرح بھی خوف دلایا کہ باغ کے درمیان بہنے والی جس نہر پر تم غرور کر رہے ہو ، اللہ تعالیٰ چاہے تو (آیت) ” او یصبح مآؤھا غورا “۔ اس نہر کے پانی کو بہت گہرا کر دے اور وہ تمہارے باغات تک پہنچ ہی نہ سکے (آیت) ” فلن تستطیع لہ طلبا اور تو اسے تلاش کرنے کی طاقت بھی نہ رکھے پانی اتنی دور چلا جائے کہ تمہاری کوئی مشینری اور کوئی ٹیوب ویل اسے برآمد نہ کرسکے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے اور وہ سزا کے طور پر بھی ایسا کرنے پر قادر ہے اس قسم کا مضمون سورة الملک کی آخری آیات میں بھی بیان کیا گیا ہے (آیت) ” قل ارئیتم ان اصبح مآؤ کم غورا فمن یاتیکم بمآء معین “۔ بھلا دیکھو تو اللہ تعالیٰ تمہارے پانی کو بہت گہرا لے جائے ، تو پھر کون ہے جو تمہارے پاس صاف ستھرا اور شیریں پانی لے آئے ، بہرحال اس مرد مومن نے اپنے دوسرے بھائی کو خبردار کردیا کہ وہ مال و دولت پر اترائے نہیں کیونکہ جو خدا تعالیٰ یہ چیزیں دے سکتا ہے وہ واپس لینے پر بھی قادر ہے ۔
اور پھر ایسا ہوا ، خدا تعالیٰ نے ایسی افتاد بھیجی (آیت) ” واحیط بثمرہ “ اس کے پھل کو گھیر لیا گیا ، مطلب یہ کہ اس کا باغ تباہ وبرباد ہوگیا اور وہ شخص کف افسوس ملنے لگا (آیت) ” فاصبح یقلب کفیہ علی ما انفق فیھا “۔ اور وہ اپنے ہاتھ ملتا تھا اس چیز پر جو اس نے خرچ کیا تھا وہ شخص نہ صرف باغ کی برداشت سے محروم ہوگیا بلکہ اس نے باغ کی ترقی کے لیے جو سرمایہ کاری کی تھی وہ بھی ڈوب گئی ایسی ہی مثال اللہ نے سورة القلم میں بھی بیان فرمائی ہے ، وہاں باغ کے مالک کئی بھائی تھے جب پھل کی برداشت کا وقت آتا تو موقع پر غرباء بھی جمع ہوجاتے اور نہیں بھی کچھ حاصل ہوجاتا ، ان بھائیوں نے کہا کہ یہ غریب لوگ خواہ مخواہ ہمارے مال سے حصہ لے جاتے ہیں کیوں نہ ہم علی الصبح باغ کا پھل ایسے وقت میں اٹھا لیں کہ غرباء کو وہاں پر پہنچنے کا موقع ہی نہ ملے ، چناچہ وہ صبح صبح منہ اندھیرے باغ پر پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں باغ کا نام ونشان تک نہ تھا اور وہ کف افسوس ملتے رہ گئے جس باغ کا ذکر یہاں پر کیا گیا ہے اس کا بھی یہی حال ہوا ، اللہ نے باغ کی جگہ چٹیل میدان بنا دیا اور باغ کا مالک منہ دیکھتا رہ گیا ۔
انگوروں کی بیلیں عام طور پر لکڑی کے چھپروں یعنی فریموں پر چڑھا دی جاتی ہیں تاکہ ان کا پھل ٹھیک آئے اور محفوظ رہے ، مگر اس شخص کے باغ کی بیلیں (آیت) ” وھی خاویۃ علی عروشھا “۔ اپنے چھپروں پر گری پڑی تھیں ، کوئی ایسا طوفان بادوباراں آیا تھا کہ ساری چھتریاں ٹوٹ پھوٹ گئی تھیں ، اور بیلیں زمین پر آگری تھیں جس کی وجہ سے سارا پھل تباہ ہوچکا تھا ، (آیت) ” ویقول یلیتنی لم اشرک بربی احدا “۔ پھر وہ شخص کہنے لگا ، کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا مگر اب کیا ہو سکتا ہے ، اس کے غرور وتکبر کا نتیجہ ظاہر ہوگیا تھا ، قرآن پاک میں آتا ہے کہ اس طرح قیامت کو بھی مشرک لوگ افسوس کا اظہار کریں گے ، مگر اس وقت ان کا افسوس کرنا بےسود ہوگا ۔
فرمایا پھر اس شخص کا یہ حال تھا (آیت) ” ولم تکن لہ فئۃ ینصرونہ من دون اللہ “۔ اللہ کے سوا اس کی مدد کرنے والا کوئی گروہ نہ تھا ۔ (آیت) ” وما کان منتصرا “۔ اور نہ ہی وہ کسی طرح انتقام لینے کے قابل تھا ، بھلا خدا تعالیٰ سے کون انتقام لے سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے مؤحد اور مشرک کی مثال بیان کر کے شرک کا رد کردیا ہے ، خدا تعالیٰ کی مشیت کا انکار کرکے اپنے علم وہنر پر اترانے والوں کا یہی حال ہوتا ہے ، جو اللہ نے اس باغ والے کا بیان فرمایا ہے ۔
(حاصل کلام)
فرمایا (آیت) ” ھنالک الولایۃ للہ الحق “۔ اسی مثال مثال سے یہ بات سمجھ لو کہ سارا اختیار اللہ کے پاس ہے جو برحق ہے ولایت کا معنے اختیار اور تصرف ہے اور ولایت سے مراد حکومت یا اقتدار بھی ہوتا ہے یہ دونوں باتیں درست ہیں تمام اختیارات اور تصرف بھی اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اور حکومت اور اقتدار اعلی بھی خداوند قدوس ہی کا ہے اسی طرح اگر (آیت) ” الحق “ بڑھا جائے تو اس سے مراد اختیار ہے اور الحق پڑھا جائے تو حکومت ہے یہ دونوں قراتیں درست ہیں اور دونوں کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے ۔
فرمایا سارا تصرف اور حکومت اللہ کی ہے (آیت) ” ھو خیر ثوابا “۔ بدلہ دینے کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ، اپنے بندوں کے نیک اعمال کے بدلے میں کمی نہیں کرتا ، بلکہ بڑھا چڑھا کردیتا ہے (آیت) ” وخیر عقبا “ اور وہ انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں توحید پرست نیکوکاروں کا انجام بھی بہت اچھا ہوگا ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام میں داخل ہوں گے ۔
Ayahs 18:45–49ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار مشرک اور ایک ایماندار غریب آدمی کی مثال بیان فرمائی ، ان کی آپس میں گفتگو کا تذکرہ ہوا مشرک بڑا مغرور تھا اور ایماندار آدمی کو قلت مال اور قلت اولاد کا طعنہ دیتا تھا ، ایماندار آدمی نے اس مشرک سے کہا کہ تو اس پروردگار کا انکار کرتا ہے جس نے تجھے پہلے مٹی سے بنایا اور پھر قطرہ آب سے تخلیق کی ، تجھے انسان بنایا اچھی شکل و صورت عطا فرمائی تو جو چاہئے عقیدہ اختیار کر مگر میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تمہارا فرض یہ تھا کہ باغ میں داخل ہوتے وقت تمہاری زبان پر یہ کلمات ہوتے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الا باللہ “۔ یعنی جو اللہ چاہے ، نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی عطا فرماتا ہے ، کہنے لگا تیرا فرض یہ تھا کہ تو خدا تعالیٰ کی توحید پر ایمان لاتا اور تمام قوتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہی کو جانتا ، اس کی بجائے تو نے سمجھا کہ میرا باغ ہمیشہ یونہی رہے گا اور قیامت کا کوئی تصور نہیں ہے بالفرض اگر قیامت آ بھی گئی تو میں آخرت میں بھی آسودہ حال ہی رہوں گا جیسا کہ اس دنیا میں ہوں اس مرد مومن نے کہا کہ خدا تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ اس باغ کو تباہ وبرباد کر دے ، جس پر تمہیں ناز ہے چناچہ ایسا ہی ہوا اللہ تعالیٰ نے باغ پر ایسی آفت نازل فرمائی کہ اسے ملیامیٹ کر کے رکھ دیا ، پھر وہ شخص اپنے کفر وشرک پر پچھتایا مگر وقت گزر چکا تھا کہنے لگا ، کاش میں شرک نہ کرتا ، مجھ پر میرا شرک ہی کی نحوست پڑگئی ہے پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اختیار ، حکومت اور تصرف تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ثواب کے اعتبار سے بھی اور انجام کے اعتبار سے بھی صرف اسی کی ذات بہتر ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ، انسان کو اسی پر ایمان رکھنا چاہئے اور اس کی توحید میں شرک کی ملاوٹ نہیں کرنی چاہئے کہ ایسا کرنا بہت بڑے ظلم کی بات ہے ۔
(دنیوی زندگی کی مثال)
مومن اور کافر کی مثال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دنیوی زندگی کی بےثباتی کی مثال بھی بیان کی ہے جس خاطر اکثر لوگ شرک میں مبتلا ہوتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واضرب لھم مثل الحیوۃ الدنیا کمآئ “۔ آپ ان کے سامنے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کریں جو کہ پانی کی مانند ہے اور پانی کی حقیقت یہ ہے (آیت) ” انزلنہ من السمآء “ جسے ہم نے آسمان کی طرف سے نازل کیا ، عربی زبان میں چھت ، فضا نیلگوں آسمان اور بادل وغیرہ سب پر سماء کا اطلاق ہوتا ہے بادل چونکہ اوپر فضا میں ہوتا ہے جس کے ذریعے بارش ہوتی ہے اس لیے یہاں پر سماء کا لفظ آیا ہے تاہم اس لفظ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بارش برسانے میں اوپر والے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا دخل ہوتا ہے اور اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا ۔
بہرحال اللہ نے دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی کی مثال پانی کے ساتھ دی ہے کہ ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمائی (آیت) ” فاختلط بہ نبات الارض “ پھر وہ پانی زمین کے پودوں کے ساتھ مل گیا ، پانی زمین میں خلط ملط ہوا تو ا س سے طرح طرح کی سبزیاں ، پھل اور اناج پیدا ہوا (آیت) ” فاصبح ھشیما “۔ پھر وہ خشک ہو کر چورہ چورہ ہوگیا ” تذروہ الریح “ جسے ہوائیں اڑالے جاتی ہیں ، جس طرح مینہ برسنے سے تروتازہ سبزہ پیدا ہوتا ہے ، پھر وہ اپنے وقت پر مرجھا جاتا ہے ، پھر خشک ہو کر ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں ، اور وہاں کچھ بھی نہیں رہتا ، اسی طرح انسان بڑا نرم ونازک حالت میں پیدا ہوتا ہے ، پھر جوان ہوتا ہے زندگی کی تمام آسائشیں حاصل کرتا ہے ، زندگی کے بہترین حصے سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے پھر بوڑھا اور کمزور ہوجاتا اور آخر مر کر مٹی میں مل جاتا ہے لہذا زندگی کی اس عارضی اور پر فریب تروتازگی پر مفتون نہیں ہونا چاہئے بلکہ اسے اپنے زوال سے بھی باخبر ہونا چاہئے ، زندگی ایک بالکل عارضی چیز ہے اگر اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آخرت کے لیے کوئی اچھا کام نہ کیا تو پھر آخرت کی دائمی زندگی میں ہمیشہ خسارا اٹھانا پڑے گا لہذا زندگی کی عارضی چیزوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے ،
(انسانی زندگی کی ناپائیداری)
شیخ سعدی (رح) نے اس عارضی زندگی کا نقشہ اپنے اشعار میں کچھ اس طرح کھینچا ہے ۔
خوش است وعمر دریغا کہ جاودانی نیست
بس اعتماد بریں پنج روز فانی نیست :
ترجمہ : عمر بہت اچھی چیز ہے لیکن افسوس کہ یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں ان پانچ فانی ایام پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے ۔
دل اے رفیق بریں کارواں سرائے بسند
کہ خانہ ساختن آئین کاروانی نیست :
ترجمہ : اے دوست ! اس فانی سرائے میں مستقل ٹھکانا پکڑنا عقلمندی کی بات نہیں ہے ، کیونکہ کاروانوں والے گھر نہیں بنایا کرتے ۔
جہاں برآب نہادست وزندگی برباد
غلام ہمت آنم کہ دل برونہ نہاد :
ترجمہ : خدا نے جہان کی بنیاد پر رکھی ہے جب کہ زندگی کی بنیاد ہوا پر ہے میں تو اس شخص کی ہمت کا غلام ہوں جس نے ان پر دل نہیں رکھا ۔
کس را بقائے دائم وعہد مقیم نیست
جاوید پادشاہی ودائم بقائے تست تو :
ترجمہ ؛ کسی کے لیے بقائے دائم اور عہد مقیم نہیں ہے ، اے پروردگار ہمیشہ رہنے والی بادشاہی اور دائم عہد صرف تیری ذات ہی کا ہے ،
بہرحال اللہ تعالیٰ نے دنیا کی زندگی کی مثال پانی کے ساتھ دے کر سمجھائی ہے (آیت) ” وکان اللہ علی کل شیء مقتدرا “۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جس طرح اللہ تعالیٰ سبزہ کو پیدا کرتا ہے ، پھر اسے خشک کرکے چورا چورا کردیتا ہے اور ہوائیں اسے اڑا لے جاتی ہیں اسی انسانی زندگی میں بھی اسی قسم کے مراحل آتے ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے ۔
(مال والاد بمقابلہ صالحات)
اللہ نے فرمایا جس چیز پر تم زیادہ مفتون ہوتے ہو ، اس کی حقیقت بھی سن لو (آیت) ” المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی رونقیں ہیں (آیت) ” والبقیت الصلحت “۔ اور باقی رہنے والی نیکیاں ہیں (آیت) ” خیر عند ربک ثوابا “۔ جو بہت ہیں تیرے پروردگار کے پاس ثواب کے اعتبار سے (آیت) ” وخیر املا “۔ اور بہتر ہیں امید اور توقع کے اعتبار سے ، باقیات الصالحات کے سلسلے میں حدیث شریف میں کئی چیزوں کا ذکر آتا ہے ، مثلا اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کے کلمات ” سبحان اللہ والحمد للہ والا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ یا ” ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “۔ باقیات الصالحات میں شمار ہوتے ہیں ، ان کلمات کا ورد کرنے والے اور ان کے مصداق پر یقین رکھنے والے شخص کے لیے دائمی نیکیوں کا ذخیرہ بنتا رہتا ہے ۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ باقی رہنے والی نیکیوں میں دین کی تعلیم کسی اچھی رسم کا اجراء جس پر دوسرے بھی عمل کرکے فلاح پاسکیں ، مسجد کی تعمیر ، ضرورت کے مقام پر رفاہ عامہ کے لیے پانی کا انتظام کردینا سرائے تعمیر کرنا ، وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن کا اجر انسان کو مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ، اگر نیک اولاد پیچھے چھوڑی ہے تو وہ بھی باقیات الصالحات میں شمار ہوگی کہ یہ بھی صدقہ جاریہ ہے ، امام حسن بصری (رح) کی روایت کے مطابق اگر بیٹیوں کی اچھی تعلیم وتربیت کی جائے تو بھی والدین کے حق میں باقیات الصالحات ہیں حالانکہ بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ صلوۃ خمسہ روزے ، زکوۃ ، حج عمرہ ، جہاد سب باقیات الصالحات ہیں ، ان کے ضمن میں آنے والے سنن اور نوافل بھی اسی مد میں شمار ہوں گے ، بہرحال باقیات الصالحات وہ نیکیاں ہیں جن سے انسان کو دائمی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور جن سے اچھی توقع اور امید رکھی جاسکتی ہے ۔
(خدا کے حضور پیشی)
آج تو انسان غرور وتکبر کی بناء پر قیامت کا انکار کرتا ہے ، مگر اللہ نے فرمایا وہ وقت آنے والا ہے (آیت) ” ویوم نسیر الجبال “ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے ، پھر کوئی اونچ نیچ یا پہاڑی ٹیلہ نظر نہ آئے گا ، حتی کہ زمین پر کوئی درخت بھی باقی نہیں رہے گا ، اس وقت (آیت) ” وتری الارض بارزۃ “ تو دیکھے گا زمین کو کھلی ہوئی اور نمایاں سورة طہ میں ہے (آیت) ” لا تری فیھا عوجا ولا امتا “۔ (آیت ، 107) زمین میں نہ کوئی کجی ہوگی نہ کوئی ٹیلہ اور نہ گڑھا ، پوری کی پوری زمین ہموار ہو جائیگی ۔
فرمایا وحشرنھم “۔ اس دن ہم سب کو اکٹھاکر لیں گے (آیت) ” فلم نغادر منھماحدا “۔ اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے ، ہر ایک کو حساب کتاب کے لیے جمع ہونا ہوگا ۔ (آیت) ” وعرضوا علی ربک صفا “۔ اور سب کے سب تیرے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے قطار در قطار ، ہر گروہ کے لوگوں کی الگ الگ قطار ہوگی نمازیوں کی علیحدہ اور بےنمازوں کی علیحدہ ، چور ، شرابی ، زنا کار ، وغیرہ علیحدہ علیحدہ قطاروں میں پیش کیے جائیں گے ۔ اور اجتماعی فیصلے ہوں گے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) ” لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ “۔ تحقیق تم آئے ہو ہمارے پاس جیسا کہ ہم نے تم میں پہلی مرتبہ پیدا کیا ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح انسان پیدائش کی وقت بالکل برہنہ پیدا ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ کے حضور پیشی کے وقت بھی سب لوگ برہنہ جسم اور بےختنہ ہوں گے ،
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ! اس طرح تو بالکل بےپردگی ہوگی ، فرمایا عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اس وقت معاملات بڑے سنگین ہوں گے کسی کو کسی طرف دیکھنے کی ہوش ہی نہیں ہوگی ، بلکہ ہر شخص اپنی اپنی فکر میں غلطان ہوگا ، اور یہ فکر اسے دوسروں سے بےنیاز کر دے گی انہیں برہنگی کا احساس تک نہیں ہوگا ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حشر کے میدان میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا ، جب کفار نے آپ کو آگ میں پھینکا تھا تو آپ کا لباس بھی اتروالیا تھا ، اور رسیوں سے باندھ کر آگ میں پھینکا تھا حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ آپ کی اس تکلیف کی قدر دانی کریں گے اور آپ کو سب سے پہلے لباس پہنائیں گے ، البتہ ترمذی شریف کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضور ﷺ کی قبر مبارک شق ہوگی اور آپ کو باہر نکالا جائے گا ا س وقت نیک وبد اولیاء اور اتقیاء سب برہنہ ہوں گے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت سب سے پہلے جنت سے ایک سوٹ لا کر مجھے پہنایا جائے گا ۔
(نامہ اعمال بطور کھلی کتاب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” بل زعمتم ان لن نجعل لکم موعدا “۔ بلکہ تم گمان کرتے تھے کہ ہم تمہارے لیے وعدہ کا وقت ہرگز نہیں مقرر کریں گے ، لیکن دیکھ لو اب وعدے کا وقت آگیا ہے ، پھر (آیت) ” ووضع الکتب “۔ کتاب یعنی ہر شخص کا نامہ اعمال کھول کر سامنے رکھ دیا جائے گا جسے ہر شخص خود پڑھ سکے گا (آیت) ” فتری المجرمین مشفقین ممافیہ “۔ پھر تو دیکھے گا مجرموں کو بڑے خوفزدہ ہوں گے اس چیز سے جو ان کے نامہ اعمال میں درج ہے ، اپنی زندگی بھر کا ریکارڈ دیکھیں گے (آیت) ” ویقولوں یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا “۔ اور کہیں گے ، اے افسوس ، ہماری خرابی یہی کیسی کتاب ہے کہ نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی کو اس نے سب کچھ شمار کر رکھا ہے ، ہر چھوٹا بڑا اچھا یا براعمل عمل اس میں لکھا ہوا ہے ایک حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم ! یہ تیرے ہی اعمال ہیں جن کو میں نے شمار کرکے رکھا ہوا ہے ، اگر اپنے نامہ اعمال میں اچھائی پاؤ تو اللہ کا شکر ادا کرو ، اور اگر برائی پاؤ تو یہ تمہارے ہی اعمال ہیں ، ان کا بدلہ تمہیں مل کر رہے گا ،
فرمایا (آیت) ” ووجدوا ماعملوا حاضرا “۔ اور پائیں گے وہ اس چیز کو اپنے سامنے جو انہوں نے عمل کیا ، ہر شخص کا ضمیر اس بات پر شاید ہوگا کہ نامہ اعمال میں درج شدہ تمام اعمال اسی کے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا ” ولایظلم ربک احدا “۔ اور تیرا پروردگار کسی پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ کسی شخص کے برائی کا ارتکاب کیے بغیر اس کے نامہ اعمال میں ذرہ بھر بھی برائی درج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی معمولی سے معمولی نیکی بھی بغیر اجر دیے چھوڑی جائیگی ، ہر نیکی وبدی کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دنیا ہی عدل ہی اور اس کے خلاف کرنا ظلم ہے ، اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ قطعا زیادتی نہیں کرے گا ہر شخص کی نیکی اور بدی اس کے سامنے ہوگی اور وہ اس کے مطابق بدلہ پائیگا ۔