Ayahs 18:102–108(خدا کی رحمت کا ذکر)
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء اور اولیاء کا ذکر فرما کر ان کے ایک مشترکہ نظریہ کو بیان کیا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار تھے اور انہوں نے اپنی ہر کارگزاری کو رحمت خداوندی پر محمول کیا اس سورة میں پہلا واقعہ اصحاب کہف کا بیان ہوا ہے ، وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور اس کے دوست تھے جنہوں نے عقیدہ توحید پر قائم رہنے کے لیے اپنے گھر بار چھوڑ کر غار میں پناہ لی ، انہوں نے اپنی قوم سے علیحدہ ہوتے وقت یہی کہا تھا کہ ہمارا تعلق صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ ہے (آیت) ” ینشرلکم ربکم من رحمتہ “۔ وہ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا اور تمہارے معاملہ میں تمہارے لیے آسانی پیدا کردیے گا ۔
آگے اسی سورة میں اللہ نے مومن اور کافر بھائی کا ذکر کیا ہے کافر مالدار اور دو باغوں کا مالک تھا جب کہ مومن آدمی نادار تھا پھر ایک دن باغ والے نے دیکھا کہ اس کی ہر چیز تباہ ہوچکی ہے تو مومن بھائی نے اس سے کہا کہ تو نے اپنے خالق کے ساتھ کفر کیا اور اس کی عطا کردہ نعمت کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے اسے اپنی عقل اور محنت کا ثمرہ سمجھا ، اسے اللہ کی رحمت پر محمول نہ کیا تجھے چاہئے تھا کہ جب باغ میں داخل ہوتے تو یوں کہتے ” ماشآء اللہ لا قوۃ الا باللہ “ میں اگرچہ تم سے مال میں کم ہوں مگر مجھے اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ وہ مجھے بہتر بدلہ دیگا ۔
اس کے بعد اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے ان دونوں ساتھیوں کے سامنے جن میں تین واقعات کا ظہور ہوا ان کی حقیقت موسیٰ (علیہ السلام) پر واضح نہیں تھی لہذا وہ ہر بار خضر (علیہ السلام) کو ٹوکتے رہے ، پھر جب انکی جدائی کا وقت آیا تو خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تینوں واقعات کی حقیقت اور حکمت سے آگاہ کیا اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جو کچھ مجھ سے سرزد ہوا ، اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ ” رحمۃ من ربک “ تیرے رب کی رحمت اور مہربانی سے ہوا ہے سکندر ذوالقرنین بھی اللہ کے نیک بندوں میں سے تھے اللہ نے انہیں دنیا کی سلطنت عطافرمائی اور انہوں نے مغرب ، مشرق اور شمال کا سفر اختیار کیا پھر جب انہوں نے ایک قوم کی فرمائش پر اقوام یاجوج وماجوج سے بچاؤ کے لیے دیوار بنا دی تو اس فعل کو بھی اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا (آیت) ” ھذا رحمۃ من ربی “۔ یہ تو میرے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے میرے ہاتھوں سے مفسدوں کا راستہ بند کروا دیا ۔
(کفار کا زعم باطل)
اب آگے اللہ نے توحید کی بات سمجھائی ہے کہ جب اللہ کے مقربین انبیاء اور اولیاء اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں تو ان کافروں نے اللہ کو چھوڑ کر غیروں کو اپنا دوست اور کار ساز کیسے بنا لیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افحسب الذین کفروا “۔ کیا کافر لوگ یہ گمان کرتے ہیں (آیت) ” ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآئ “۔ کہ میرے بندوں کو میرے سوا اپنا کارساز بنا لیں گے فرمایا یہ گمراہ کن اور باطل عقیدہ ہے اس سورة میں مذکورہ انبیاء اور اولیاء کا حال دیکھ لو وہ تو کسی کی حاجت روائی اور مشکل مشکل کشائی نہیں کرتے تھے مگر مشرک لوگ انہی انبیاء اور اولیاء کو دنیا میں اپنا کارساز سمجھتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی صفات میں شریک سمجھتے ہیں ۔
یہاں پر عبادی کا لفظ آیا ہے اور بندوں میں انبیاء اولیاء فرشتے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگ آتے ہیں ، اللہ نے اپنے بندوں کے لیے بھی عباد کا لفظ ہی استعمال کیا ہے سورة بنی اسرائیل کی ابتداء میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” فاذا جآء وعد اولیھما بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید فجاسوا خلل الدیار “۔ پس جب ان میں سے پہلے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے تمہارے اوپر سخت لڑائی والے بندے بھیجے ، غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ کیا کافر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ میرے کسی بھی بندے کو اپنا کار ساز اور حمائتی بنا لیں گے فرمایا ان کا یہ خیال درست نہیں ہے ، نیک لوگوں کا حال تو اس سورة مبارکہ میں بیان ہوچکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحمت پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں مگر ان کی پرستش کرنے والے انہی کو اپنا حمایتی اور کارساز سمجھتے ہیں ایک وقت آنے والا ہے جب عابد اور معبود سب اللہ کی بارگار میں پیش ہونگے اس وقت معبودوں کی حالت یہ ہوگی (آیت) ” سیکفرون بعبادتھم ویکونون علیھم ضدا “۔ (مریم ، 82) کہ وہ عبادت کرنے والوں کی عبادت سے انکار کردیں گے اور انکے دشمن بن جائیں گے وہ اللہ کے دربار میں عرض کریں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ ہمیں اپنا معبود بنا لو ، ہم سے حاجتیں طلب کرو اور ہمیں نذر ونیاز پیش کرو ، درحقیقت انہوں نے شیطان کا اتباع کیا اور اپنے نفس کی پیروی کی ۔
(نذرونیاز میں شرک)
دیکھیں ! اصحاب کہف کا ذکر ہوچکا ہے انہوں نے اللہ کی رحمت کے بھروسے پر غار میں پناہ لی مگر اب لوگ انہی کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے ہیں ، بعض علاقوں میں مشرک اصحاب کہف کے نام کی نیاز دیتے ہیں ، سات روٹیاں اصحاب کہف کی اور آٹھویں ان کے کتے کی مشہور ہیں جو نیاز میں دی جاتی ہیں ، اگر ایصال ثواب مقصود ہو تو پھر تو کوئی حرج نہیں اور اگر ان کو حاجت روا سمجھ کر نیاز دی جاتی ہے تو یہی شرک بن جاتا ہے کیونکہ اللہ کے مقرب ترین بندے بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے اور نہ وہ کسی کی مشکل کشائی کرسکتے ہیں ، یہ تو محض وسوسہ اندازی اور گمراہی ہوتی ہے ، فرمایا جو لوگ میرے بندوں میں سے میرے سوا کسی کو اپنا کارساز بنائیں گے (آیت) ” انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلا “۔ بیشک ہم نے ایسے کافروں کے لیے جہنم کی آگ بطور مہمانی تیار کر رکھی ہے ان کو وہاں پر کوئی راحت نہیں ہوگی بلکہ طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔
(خاسر ترین لوگ)
فرمایا اے پیغمبر ! ﷺ ” قل “ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا “۔ کیا میں تمہیں بتلاؤ کہ ایسے لوگ اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ خسارے میں ہیں اور وہ کون لوگ ہیں ۔
(آیت) ” الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا “۔ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ہی گم ہوگئی یعنی دنیا میں جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی وہ یہی بھٹک کر رہ گئی ، (آیت) ” ضل سعیھم “ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ، ایک یہ کہ ان کی ساری کاوش صرف دنیا طلبی کے لیے تھی اور آخرت سے انکو کوئی غرض نہ تھی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں جو بھی عمل اختیار کیا وہ ضائع ہوگیا ۔
ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا کی اکثر آبادی مع ارباب اقتدار دنیا کی بہتری کے لیے ہی ساری تگ ودو کر رہے ہیں ، روسی تو ویسے ہی منکر خدا ہیں اور وہ عقیدہ خدا کو ” افیون “ سے تعبیر کرتے ہیں ان کے نزدیک یہ مادی دنیا ہی اول وآخر ہے خدا تعالیٰ ، اس کے رسول ، اس کی کتابیں ، وقوع قیامت اور جزا وسزا سب بناوٹی باتیں ہیں اور لوگوں کو دھوکا دینے کے لیے وضع کی گئی ہیں ، سرمایہ داری نظام میں بھی عام لوگوں کو پھنسایا جاتا ہے اور امیر لوگ غریبوں کا خون چوستے رہتے ہیں وہ بھی محض سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے اور دنیا میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرنے کے لیے جائز وناجائز ذرائع اختیار کرتے ہیں ، آخرت کا تصور ان کے ہاں بھی برائے نام ہی ہے ، جو لوگ چاروناچار خدا کا نام لیتے بھی ہیں ان میں سے بھی کچھ مشرک ہیں اور کچھ تثلیث کے قائل ہیں امریکہ ہو یا برطانیہ ، فرانس ہو یا جرمنی کسی کا منتہائے مقصود آخرت اور رضائے الہی نہیں بلکہ ان کی ساری بھاگ دوڑ ، علم وہنر ، سائنس اور ٹیکنا لوجی محض دنیا کی خاطر ہے وہ ہمیشہ معیاری خوراک ، معیاری لباس ، معیاری رہائش اور معیاری سواری کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ، ان کے تمام منصوبے ، تمام کارخانے اور تمام کمپنیاں دنیا کے آرام و راحت کے سامان مہیا کرنے پر کام کر رہے ہیں (آیت) ” ذلک مبلغھم من العلم “۔ ان کے علم کی انتہا دنیا تک محمد ود ہے نہ ہو کسی برزخ کے قائل ہیں نہ آخرت کے ، نہ کسی نبی کو مانتے ہیں اور نہ کسی آسمانی کتاب کو چین اور روس کے اکثر لوگ تو سرے سے منکر خدا ہیں ، باقیوں میں سے بھی اکثر محلد ہیں ، خاص طور پر امریکہ تو ملحدین کا گڑھ ہے کمیونسٹ تو کارل مارکس کی کتاب کو ہی صحفیہ آسمانی سمجھتے ہیں جس میں صرف معاشی بہتری کے اصول بتلائے گئے ہیں اور اس سے آگے کچھ نہیں ، اسی لیے تو حضور ﷺ نے دعا (1) (ترمذی ص 504) (فیاض) میں سکھلایا ” اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا “۔ اے اللہ ! ہمارا منتہائے مقصود اور مبلغ علم صرف دنیا کو ہی نہ بنا کہ ہم دنیا کے علاوہ آخر سے آنکھیں موند لیں قرآن پاک نے کفار ومشرکین اور دہریوں کی یہی صفت بیان کی ہے (آیت) ” ان ھؤلاء یحبون العاجلۃ ویذرون وراء ھم یوما ثقیلا “۔ (الدھر : 27) یہ جلدی والی یعنی دنیا کی زندگی کو ہی پسند کرتے اور آگے آنے والے بوجھل دن یعنی قیامت کو پس پشت ڈال دیتے ہیں فرمایا کہ یہ لوگ اعمال کے لحاظ سے سخت خسارے میں ہیں کیونکہ جس مادی دنیا کے پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ تو جلد ہی ختم ہوجائے گی اور پھر سوائے خدا تعالیٰ کی گرفت کے ان کے لیے کچھ نہیں ہوگا ۔
(اعمال کا ضیاع)
خسارے کی دوسری صورت اعمال کا ضیاع ہے جیسا کہ اگلی آیت میں آرہا ہے (آیت) ” فحبطت اعمالھم “۔ ان کے تمام اعمال ہی ضائع ہوگئے ، انہوں نے دنیا میں اچھے کام بھی کیے صدقہ خیرات کیا ، غریبوں اور محتاجوں کی خبر گیری کی سرائیں اور ہسپتال بنوائے ، کنوئیں لگوائے اور دیگر رفاعہ عامہ کے کام انجام دیے مگر ان کے کفر وشرک نے ان تمام نیکیوں کو ضائع کردیا کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل کارآمد نہیں اس مضمون کو سورة الغاشیہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ “۔ (آیت 3 ، 4) بڑی بڑی عبادتیں اور ریاضتیں کر کرکے تھک چکے ہوں گے مگر بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کیے جائیں گے کیونکہ کفر وشرک کی وجہ سے ان کے اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے مشرک کی نمازیں ، روزے ، حج ، زکوۃ صدقہ و خیرات سب برباد ہوجائیں گے کیونکہ اصول یہ ہے (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلاکفران لسعیہ “۔ (الانبیائ 94) جو بھی اچھے اعمال انجام دے گا ، بشرطیکہ وہ مومن ہو تو اس کی محنت کی ناقدری نہیں کی جائے گی ، ایمان بطور شرط ہے اگر ایمان ہی نہیں تو کوئی عمل بھی قابل قبول نہیں ، اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ نماز کے لیے طہارت اور استقبال قبلہ شرائط ہیں اگر کوئی شخص بغیر طہارت کے نماز پڑھتا ہے یا قبلہ کی طرف رخ نہیں کرتا تو وہ ہزار رکعت بھی پڑھ جائے کچھ فائدہ نہیں ہوگا اسی طرح جس شخص میں ایمان کی شرط مفقود ہے ، کفر وشرک میں ملوث ہے ، اس کی کوئی عبادت و ریاضت یا عوامی بہبود کے کام کچھ مفید نہیں ہوں گے اس کے باوجود ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا “۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں فرمایا (آیت) ” اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقاء ہ “۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ، آیات سے اللہ تعالیٰ کے تمام احکام ، کتب ، معجزات ، انبیاء بعث بعد الموت وغیرہ مراد ہیں ، ان لوگوں نے کسی حقیقت کو تسلیم نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فحبطت اعمالھم “۔ کہ انکے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے ، (آیت) ” فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزنا “۔ ہم انکے لیے قیامت جو الے دن میزان بھی قائم نہیں کریں گے ، وزن کرنے کی ضرورت تو تب پیش آئے گی جب برائیوں کے ساتھ نیک اعمال بھی ہوں گے ، اور اگر نیک اعمال ان کے کفر وشرک کی وجہ سے پہلے ہی ضائع ہوچکے ہیں تو اب ترازو لگانے کا کیا مطلب ؟ ان کے لیے جہنم کا حکم ہوجائے گا ، (آیت) ” فیؤخذ بالنواصی والا قدام “۔ (الرحمن : 41) لہذا انہیں سر اور پاؤں سے پکڑ کر گھیسٹ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اعمال تولے جائیں گے مگر وہ بالکل بےوزن ہوں گے اور ان کا کوئی اچھا نتیجہ مرتب نہیں ہوگا ، وزن کے متعلق حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت والے دن بڑے موٹے تازے لوگ آئیں گے ، خوب کھا پی کر جسم کو پالا پوسا ہوگا ، مگر اللہ کی میزان میں ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوگا ۔
(تمسخر کرنے والوں کیلئے سزا)
فرمایا (آیت) ” ذلک جزآء ھم جھنم بما کفروا “۔ ان کے کفر کے وجہ سے ان کا بدلہ جہنم کی آگ ہوگی ، اور اس وجہ سے بھی (آیت) ” واتخذوا ایتی ورسلی ھزوا “۔ کہ انہوں نے میری آیتوں اور میرے رسولوں کو تمسخر کا نشانہ بنایا ٹھٹھا اور تمسخر کی قباحت کا ذکر موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آچکا ہے ایک شخص کے قتل پر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ٹکڑا مردے پر مارو تو وہ تمہیں اپنے قاتل کی نشاندہی کر دے گا ، تو قوم کہنے لگی (آیت) ” اتتخذنا ھزوا “۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے (آیت) ” قال اعوذ باللہ ان اکون من الجھلیں “۔ (البقرۃ ۔ 67) پناہ بخدا کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گویا ٹھٹھا مذاق تو نادانوں کا کام ہے میں ایسا کام کیوں کروں گا ، سورة توبہ میں اللہ نے منافقوں کے متعلق بھی فرمایا ہے (آیت) ” قل اب اللہ وایتہ ورسولہ کنتم تستھزء ون “۔ (التوبۃ ، 65) اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے کہہ دیں بھلا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہو ، یہ تو گناہ کبیرہ ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے ، آج پوری دنیا میں دیکھ لیں ہنسی مذاق کو کتنا عروج حاصل ہے تمام فلمیں ، ڈرامے ، ناول ، اخباری کارٹون وغیرہ کی بنیاد تمسخر پر ہی تو قائم ہے ہر کام میں دوسروں کو خوش کرنے کے لیے نقالی کی جاتی ہے خاص طور پر کارٹوں سازی ایسی قباحت ہے جس سے بڑے سے بڑا آدمی بھی محفوظ نہیں ، اخبار نویس قانون طور پر مجاز ہیں کہ وہ کسی بھی آدمی کا کارٹون کا شکار بنا سکتے ہیں ، فلم سازوں نے تو پیغمبروں کی نقالی کرنے میں بھی پش وپیش نہیں کیا ، کہیں حضرت شمعون کی فلمبندی ہو رہی ہے تو کوئی سلیمان (علیہ السلام) کا پارٹ ادا کر رہا ہے کہیں امیر حمزہ ؓ کا پارٹ ادا کیا جارہا ہے اور کوئی حضرت عمر ؓ کے روپ میں ظاہر ہو رہا ہے ، اسلام کے اولین جانثاروں کو ناول میں پیش کرنے پر سلمان رشدی کے خلاف ساری دنیا میں کیوں شور اٹھا ، یہ نقالی اور ہنسی مذاق کا نتیجہ ہے ، جس نے دنیا کو اس حد تک پہنچا دیا ہے ۔
(نیک لوگوں کے لیے جنت الفردوس)
اب نیک لوگوں کا حال بھی سن لیں (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال انجام دیے ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ پر مداومت اختیار کی جہاد میں حصہ لیا ، صدقہ خیرات ، محتاجوں کے حقوق ادا کیے مظلوموں کی اعانت کی حرام و حلال میں امتیاز برقرار رکھا ، خدا کی کتاب کو پڑھا ، اس کے نظام کے قیام کی کوشش کی ، تعلیم وتبلیغ میں حصہ لیا مساجد اور مدارس قائم کیے ۔
شراب ، جوا ، فراڈ اور فحاشی سے اجنتاب سے اجتناب کیا ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے (آیت) ” کانت لھم جنت الفردوس نزلا “۔ جنت الفردوس میں مہمانی ہوگی ، فردوس ، رومی یا حبشی زبان کا لفظ ہے ، جس کا معنی باغ ہے عربی زبان میں باغ کے لیے بستان اور جنت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں حضور ﷺ نے فردوس کو جنت کا اعلی طبقہ قرار دیا ہے اسی لیے فرمایا کہ جب اللہ سے مانگو ” فاسئل اللہ الفردوس “ تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو ، اسی طبقہ سے تمام نہرین جاری ہوتی ہیں جو جنت کے دوسرے طبقات میں پہنچتی ہیں اسی جنت الفردوس کے اوپر رحمان کا عرش ہے جس کی تجلی اعظم یہاں پڑتی رہتی ہیں ، فرمایا اہل ایمان کی مہمانی جنت الفردوس میں ہوگی (آیت) ” خلدین فیھا “۔ جنتی لوگ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ، (آیت) ” لایبغون عنھا حولا “ وہ وہاں سے کسی تبدیلی کے خواہش مند نہیں ہوں گے یعنی جنت الفردوس ایسا مقام ہوگا اور وہاں ایسی آسائشیں حاصل ہوں گی کہ دل میں کبھی اکتاہٹ پیدا نہیں ہوگی کہ جنتی کسی دوسری جگہ کی خواہش کرے اور اللہ تعالیٰ کا یہ بھی وعدہ ہے کہ جنتی وہاں سے نکالے بھی نہیں جائیں گے ان کا داخلہ کسی خاص مدت کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہوگا ۔
Ayahs 18:109–110(کلمات علم و حکمت)
اس سورة کی ابتداء توحید کے بیان سے ہوئی تھی اور اب آخر میں بھی اللہ نے توحید ہی کا ذکر کیا ہے کیونکہ اکثر لوگ اسی مسئلہ میں ٹھوکر کھاتے ہیں اور پھر شرک میں مبتلا ہو کر آخرت برباد کرلیتے ہیں ابتدائے سورة میں عقیدہ ابنیت کی تردید کی گئی تھی اور آخر میں کلمات علم و حکمت کا بیان ہے اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا تذکرہ ہے گذشتہ درس کے آخر میں نیکوکاروں کے انعامات کے ضمن میں جنت الفردوس کا تذکرہ تھا کہ جنتی لوگ وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور وہاں سے کسی تبدیلی کے خواہشمند نہیں ہوں گے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں خدا تعالیٰ کے کلمات علم و حکمت اور اس کی صفات کمال کا ظہور ہوگا لہذا وہاں کے رہنے والوں کے مزاج میں کبھی اکتاہٹ پیدا نہیں ہوگی بلکہ وہ کمال اطمینان اور سکون کے ساتھ وقت گزاریں گے ۔
اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ۔ ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں (آیت) ” لوکان البحر مدادا لکلمت ربی “ ، اگر سمندر سیاہی بن جائے میرے رب کے کلمات کے لیے (آیت) ” لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی “۔ تو سمندر ختم ہوجائے گا پیشتر اس کے کہ میرے پروردگار کے کلمات ختم ہوں مفسرین کرام فرماتے کہ یہاں پر کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات ہیں ہیں اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے (آیت) ” واللہ بکل شیء علیم “ کیونکہ وہ ہر شے کو جانتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکمت کے کلمات بھی بےانتہا ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ اگر تمام سمندروں کا پانی سیاہی بن جائے اور اس سیاہی کے ساتھ میرے رب کے کلمات شروع کردیے جائین تو اتنی بڑی مقدار میں سیاہی بھی ختم ہو جائیگی جدید تحقیق کے مطابق کل دنیا پر تین حصے سمندر ہے جس کا کل رقبہ 14 کروڑ مربع میل بنتا ہے اور صرف ایک حصہ خشکی ہے ، فرمایا اس سمندر کے علاوہ (آیت) ” ولو جئنا بمثلہ مددا “۔ اگر ہم اتنی سیاہی کی امداد کے لیے اس جیسا وسیع و عریض سمندر اور لے آئیں تب بھی اللہ کے علم و حکمت کے کلمات تحریر کرنے کے لی سیاہی کم پڑجائے گی ، اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت کے کلمات اور اس کی صفات کا ظہور ہمیشہ ہوتا رہے گا جس کی وجہ سے جنتی لوگ جنت میں کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کریں گے انہیں ہر وقت وارد ہونے والی صفات و تجلیات کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل ہوتی رہے گی اور سکون و راحت کا زیادہ سے زیادہ سامان ملتا رہے گا ۔
بعض فرماتے ہیں کہ کلمات سے مراد خدا تعالیٰ کی حمد وثنا کے کلمات بھی ہو سکتے ہیں ، سورة لقمان میں موجود ہے (آیت) ” ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ ابحر مانفدت کلمت اللہ “۔ (آیت ۔ 27) اگر روئے زمین کے تمام درخت قلمیں بن جائیں اور سارا سمندر سیاہی بن جائے پھر اس کے بعد اس جیسے سیاہی کے سات سمندر اور بھی مل جائیں تو اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی ایک بات بھی ابھی ختم نہیں ہوگی کہ تمام سمندر ختم ہوجائیں گے ۔
ّ (بشریت رسول)
اگلی آیت میں پہلے رسالت اور پھر توحید اور معاد کا ذکر آرہا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” انما انا بشرمثلکم “۔ لوگو ! میں بھی تمہارے جیسا انسان ہی ہوں مجھ میں تمام انسانی لوازمات اور ضروریات پانی جاتی ہیں ، لیکن اللہ نے مجھے یہ امتیاز بخشا ہے (آیت) ” یوحی الی “۔ کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے اور یہ سب سے بڑی اعزاز ہے جو بعض انسانوں کو خالق ارض وسما کی طرف سے نصیب ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ جس ہستی کو رسالت ونبوت کے لیے منتخب فرماتا ہے اس کی طرف وحی بھی نازل فرماتا ہے اور اس کو شریعت کا قطعی اور یقینی علم بھی عطا کرتا ہے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا گیا کہ جب حضور ﷺ گھر میں ہوتے تو آپ کیا کام کرتے تھے ام المؤمنین نے جواب دیا ” کان رسول اللہ ﷺ بشرا من البشر “ یعنی حضور ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے آپ انسانوں والے کام کرتے تھے آپ کپڑے دھو لیتے یا مکان کی صفائی کرلیتے ، بکری کا دودھ دوھ لیتے جوتے کو ٹانکا لگا لیتے ، کپڑے میں کوئی تکلیف دہ چیز کانٹا وغیرہ ہوتا تو اسے نکال دیتے اور پھر آرام بھی فرماتے ۔
حضور ﷺ کا تعلق نوع انسانی کے ساتھ تھا ، آپ کسی دوسری جنس میں سے نہیں تھے ، اسی مقام پر آکر لوگوں دھوکا کھاتے اور بھٹک جاتے ہیں اور آپ کو نوع انسانی سے ہی خارج کردیتے ہیں ، بحیثیت انسان آپ کی بیویاں تھیں ، اولاد تھی ، والدین اور آباؤ اجداد تھے آپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے البتہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت زیادہ فضیلت عطا فرمائی (آیت) ” وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (النسائ : 113) اور یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم تھا تاہم آپ نسل انسانی میں سے تھے ملائکہ ، جنات یا کسی دوسرے مخلوق میں سے نہیں تھے ، انسان ہونا باعث شرف ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا (آیت) ” انی خالق بشرا من طین “۔ (ص ، 71) میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ، لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کو انسان کہنے سے (نعوذ باللہ) اس کی توہین ہوجاتی ہے ، بھائی ! ایسی بات نہیں ہے انسان انسان میں بڑا فرق ہے ایسے لوگوں کے سامنے اپنے جیسے انسانوں کانمونہ ہوتا ہے جو ہر لمحہ نافرمانی کرتے اور فسق وفجور میں مبتلا ہوتے ہیں اگر حضور ﷺ کو بھی ایسا ہی انسان تصور کیا جائے تو بلاشبہ باعث توہین ہوگا ، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خاص امتیاز بخشا ہے اللہ کا ہر نبی معصوم عن الخطا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ نہ سرزد ہونے دیا جائے ، اگر کوئی معمولی سی لغزش ہو بھی جائے تو فورا تنبیہ ہوجاتی ہے مگر تمام انبیاء انسان ہی ہوتے ہیں اور حضور خاتم النبیین ﷺ تو سید البشر اور سید الانبیاء ہیں ۔ آپ پوری نوع بشر کے امام ہیں ، آپ کو نسل انسانی سے خارج کر کے ” نور من نور اللہ “ کا عقیدہ رکھنا غلط ہے اور یہ خدا کا جزو بنانے کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وجعلوا لہ من عبادہ جزائ ، ان الانسان لکفور مبین “۔ (الزخرف ، 15)
بعض مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اس کا جزو بنا لیا ہے بیشک انسان تو کھلا ناشکر گزار ہے اسی لیے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں یا مسیح اور عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہنا خدا کے لیے اولاد ثابت کرنا ہے اور یہی کفر کی بات ہے چناچہ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ سے بشریت کا اعلان کروا دیا ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی شبہ باقی نہ رہے ۔
(عقیدہ توحید)
فرمایا میری طرف وحی کی جاتی ہے (آیت) ” انما الھکم الہ واحد “۔ تمہارا معبود برحق صرف ایک ہی معبود ہے اسی نکتے پر آکر اکثر لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ہر توحید پرست نے غیر اللہ کو معبود بنانے کی مخالفت کی ہے ، اصحاب کہف نے بھی یہی کہا تھا (آیت) ” ھؤلاء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ “۔ (الکہف ۔ 15) یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں مگر ہم اس عقیدہ کو نہیں مان سکتے ، ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اس کی ذات ، صفات ، افعال اور عبادت میں کوئی بھی شریک نہیں (آیت) ” لیس کمثلہ شیئ “۔ (الشوری۔ 11) اس کی مثل کوئی چیز نہیں جو اللہ تعالیٰ کی کسی صفت خاصہ میں کسی دوسری ہستی کو شریک ٹھہرائے گا وہ کافر ومشرک ہو کر جہنم رسید ہوگا ، کوئی کسی کو عبادت میں شریک کرے یا کسی صفت میں یا اللہ تعالیٰ کی صفت مخلوق میں مانے غیر اللہ کو علم کل تسلیم کرے ، قدرت تامہ کا مالک سمجھے ، حاجت روا اور مشکل کشا مانے ، اس کے تقرب کی خاطر اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لیے نذر ونیاز پیش کرے ۔ اسے نافع اور ضار سمجھے ، وہ شخص شرک میں مبتلا ہوگیا ، عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کو کہا جاتا ہے ، یہ قولی بھی ہوتی ہے اور فعلی اور جسمانی بھی ، جو کوئی آدمی کسی غیر اللہ کو متصرف اور نفع نقصان کا مالک سمجھ کر اس کی عبادت کرے گا وہ مشرک ہوگا ۔
(شرک کی مختلف قسمیں)
اس وقت شرک کی بیشمار قسمیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنا ، اس کے تقرب کے لیے جانور ذبح کرنا ، اسے عالم الغیب سمجھنا سب شرک کی اقسام ہیں ، خدا کے سوا غیر کی قسم اٹھانا اور دل میں اس کی تعظیم کرنا ، کسی کے سامنے رکوع و سجود بجا لانا ، غیر اللہ کی حد سے زیادہ تعظیم کرنا سب شرک میں داخل ہے ، بچوں کے نام رکھنے میں بھی شرک ہوتا ہے ، اگر کسی کو غیر اللہ کے ساتھ منسوب کردیا تو یہ شرک ہوگا کیونکہ خالق صرف اللہ ہے ، اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اولیاء اللہ کی زندگی میں تو ان کی بات پر عمل نہیں کرتے مگر مرنے کے بعد ان کی قبروں کی پوجا شروع کردیتے ہیں ، ہر نیا وزیر سب سے پہلے حضرت علی ہجویری (رح) کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھاتا ہے تاکہ اس بزرگ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرسکے یہ بھی شرکیہ فعل ہے ، چادر چڑھا کر سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے کوئی بہت بڑا کام سرانجام دے دیا ہے ، بھائی اس سے نہ تو اس بزرگ کو کچھ فائدہ ہے اور نہ مخلوق خدا کو ، اگر ان بزرگوں سے محبت ہے تو ان کی تعلیمات پر عمل کرو اور ان کے لیے دعا کرو جو سنت طریقہ ہے ، چادر چڑھانے کی رسم ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ، بیرونی ممالک سے وفود آتے ہیں تو محمد علی جناح کی قبر پر پھولوں کی چادریں چڑھاتے ہیں ، جواب میں ہمارے وفود بھی بیرون ملک جا کر چادریں چڑھاتے ہیں خواہ وہ مشرکوں اور ملحدوں کی قبریں ہی کیوں نہ ہوں ، یہ باتیں شرک ہیں یا بدعت ہیں اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ شرک کی وبا دنیا میں بہت زیادہ پھیل چکی ہے اور لوگ ہیں کہ سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتے ۔
فرمایا میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود برحق صرف ایک ہی معبود ہے (آیت) ” فمن کان یرجوا لقآء ربہ “۔ پس جو کوئی مرنے کے بعد اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہے یا اس بات سے خوف کھاتا ہے کہ اس کے سامنے پیش ہو کر حساب کتاب دینا ہے (آیت) ” فلیعمل عملا صالحا “۔ پس اسے چاہئے کہ وہ نیک اعمال انجام دے (آیت) ” ولا یشرک بعبادہ ربہ احدا “۔ اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے اصول نجات یہی ہے ۔
(شرک خفی)
شرک کی جملہ اقسام میں سے ایک شرک خفی بھی ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مجھے اپنی امت کے لوگوں سے شرک خفی کا بڑا ڈر ہے عرض کیا گیا ، حضرت ! وہ کیا ہے ؟ فرمایا ریاء سے سارا عمل برباد ہوجاتا ہے ، جو شخص دوسرے لوگوں کو سنانے کے لیے کوئی کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بھی رسوا کرے گا اور جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو بھی رسوا کرے گا ، جس شخص نے دوسروں کی خاطر کوئی کام کیا اور رضائے الہی کو پیش نظر نہ رکھا ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا ” انا اغنی الشرکاء شرکا “ میں ان شریکوں کے شرک سے بےنیاز ہوں ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ جس نے غیر اللہ کی رضا کے لیے کوئی کام کیا میں اس سے کہوں گا کہ اس عمل کا ثواب اسی سے طلب کر جس کی رضا کی نیت سے کیا تھا میں تو اس کا کوئی اجر نہیں دوں گا غرضیکہ ریا شرک خفی یا شرک اصغر ہے جس سے اعلی ترین عمل بھی باطل ہوجاتا ہے ۔
(قبولیت عبادت کی شرائط)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قبولیت عبادت کی دو شرطیں ہیں ، پہلی شرط اخلاص ہے اور یہ توحید خالص کے بغیر انسان میں پیدا نہیں ہوتا اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” فادعوہ مخلصین لہ الدین “۔ (المؤمن۔ 65) پس تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اس کو پکارو ، نفاق سے بیزاری اور ایمان سے اخلاس پیدا ہوتا ہے ، فرمایا قبولیت عمل کی دوسری شرط یہ ہے کہ عمل حضور ﷺ کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو ” من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد “۔ جس شخص نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے تو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایسا عمل مردود ہے قبول نہیں ہوگا ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ عمل کرنے سے پہلے دریافت نہیں کرتے کہ اس عمل کی کیا حیثیت ہے بلکہ اپنی من مانی کرتے ہیں ، اگر لوگ صحیح طریقہ معلوم کرلیں تو فلاح حاصل کرلیں ۔
(فضائل سورة )
حضور ﷺ نے سورة الکہف کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے اگر بروز جمعہ پوری سورة کی تلاوت کی جائے تو اس کا بہت بڑا اجر ہے اگر یہ نہ ہو سکے تو دس آیات ابتدائی اور دس آیات آخری تلاوت کرنے والے کو بڑی نورانیت حاصل ہوگی صرف ابتدائی دس آیتیں یا کم از کم تین ابتدائی آیتیں بھی فتنہ دجال سے حفاظت کی ضامن ہوں گی ، بہت سے دجالی فتنوں میں سے سب سے بڑا فتنہ اس وقت برپا ہوگا جب دجال کا خروج ہوگا ، حضرت عمر ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص سونے سے قبل سورة الکہف کی آخری آیت تلاوت کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے سر سے لے کر پاؤں تک نورانیت عطا فرمائے گا اس روایت کو امام ابن کثیر (رح) نے بھی بیان کیا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اس روایت کو ” ازالۃ الخفا “ میں حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، بہرحال یہ سورة دجال اور دجالی فتنوں سے بچاؤ میں خاص اثر رکھتی ہے ، خاص طور پر دس ابتدائی اور دس آخری آیات ، اگر کوئی پوری سورة تلاوت کرے تو یہ اس کے حق میں بہت بہتر ہوگا ۔