18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 18:21–22

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے مطلع کیا (اصحاب کہف کے بارے میں) دوسرے لوگوں کو تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے اور بیشک قیامت کہ نہیں شک اس میں ، جب کہ وہ جھگڑا کرتے تھے اپنے درمیان اپنی بات پر تو انہوں نے کہا کہ تعمیر کرو ان کے اوپر ایک عمارت ان کا رب خوب جانتا ہے ان کی حالت کو ، کہا ان لوگوں نے جو غالب تھے اپنے معاملے میں کہ ہم ضرور بنائیں گے ان کے اوپر ایک مسجد ۔

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

کہتے ہیں لوگ کہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا ، اور بعض کہتے ہیں کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا ، یہ سب باتیں بغیر نشانے کے تیر چلانے والی بات ہے اور کہتے ہیں کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا (اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے ، میرا پروردگار خوب جانتا ہے ان کی گنتی کو نہیں جانتے ان کو مگر بہت تھوڑے لوگ پس نہ جھگڑا کریں آپ ان کے بارے میں مگر سرسری جھگڑا اور نہ دریافت کریں آپ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اصحاب کہف کے بہت سے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کے بچاؤ کی خاطر اپنے شہر سے بھاگ کر غار میں پناہ گزین ہوگئے ، پھر اللہ نے ان پر تین سو سال تک کے لیے نیند طاری کردی ، دوران نیند بھی ان کا حال ذکر کیا ، پھر جب بیدار ہوئے تو انہیں بھوک محسوس ہوئی ، چناچہ انہوں نے کچھ سکے دیگر اپنے ایک ساتھی کو شہر میں بھیجا تاکہ کھانے پینے کی چیزیں لے آئے ، اور ساتھ اسے تاکید کردی کہ شہر میں جا کر نہایت احتیاط سے کام لینا کہ کہیں ان کا راز ہی فاش نہ ہوجائے کہنے لگے کہ اگر لوگوں کو تمہاری موجودگی کا پتہ چل گیا تو پھر دین بدل لینے کی وجہ سے یا وجہ تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے دین میں واپس آجانے پر مجبور کردیں گے اور ایسی صورت میں تم ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجاؤ گے ۔ جب اصحاب کہف میں سے ایک آدمی شہر پہنچا تو اس نے وہاں کی ہر چیز میں اجنبیت محسوس کی ، اسے شہر کی بیشتر چیزیں بدلی ہوئی معلوم ہوئیں اور کوئی شناسا چہرہ بھی نظر نہ آیا جب اس نے کھانا خریدنے کے لیے سکہ پیش کیا تو لوگوں کو شک گزرا کہ اس شخص کو کہیں سے برانا دفینہ مل گیا ہے جو یہ قیصر ڈسئیس کے زمانے کا سکہ لے آیا ہے جسے گزرے ہوئے تین سو سال بیت چکے ہیں اور اس عرصہ میں کئی سلطنتیں اور نسلیں بدل چکی ہیں ، چناچہ جب شہر کے لوگوں نے سختی کے ساتھ پوچھ گچھ کی تو اس نے انہیں حقیقت حال سے آگاہ کردی اسے بادشاہ وقت کے سامنے پیش کیا گیا ، بادشاہ صحیح الخیال تھا اس نے اس شخص کو تسلی دی اور پھر خود غار میں جا کر اصحاب کہف سے گفتگو بھی کی یہاں پر مؤرخین اور مفسرین میں بہت سے اختلافات میں لہذا یقین سے کوئی بات نہیں کی جاسکتی ، تاہم بادشاہ اور لوگوں پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہی لوگ ہیں جو تین سو سال قبل روپوش ہوگئے تھے ان کے نام اور کوائف وغیرہ سرکاری ریکارڈ میں محفوظ تھے ، اس دفتر سے بھی ان کی تصدیق ہوگئی ، سب لوگوں کے لیے یہ بڑا حیرت انگیز واقعہ تھا مگر اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز بعید نہیں ، اسی لیے تو اللہ نے ابتدائے سورة میں ہی واضح کردیا ہے کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحاب کہف کا واقعہ بڑے اچنبھے کی بات ہے ؟ حالانکہ اللہ کی قدرت کے اس کے علاوہ بھی بیشمار واقعات ہیں جو انسانی عقل سے باہر ہیں ، لہذا یہ کوئی اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں ہے ۔ (وقوع قیامت پر دلیل) دراصل اس زمانے میں لوگوں میں وقوع قیامت کے متعلق اختلاف پایا جاتا تھا ، بعض وقوع قیامت پر ایمان رکھتے تھے اور بعض اس کا انکار کرتے تھے ، بادشاہ بھی اس معاملہ میں متردد تھا اور اس ضمن میں کسی حتمی دلیل کا متلاشی تھا ، اسی دوران میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو تین سوسالہ نیند سے بیدار کردیا ، شہر کے لوگ ان کے حالات پر مطلع ہوئے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو بیان کیا ہے ک جس طرح لمبی نیند طاری کرنا اور اس سے بیدار کردینا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے ، اسی طرح لوگوں کا اصحاب کہف کے حالات پر مطلع ہونا بھی نشانات قدرت میں سے ہے ، فرمایا (آیت) ” وکذالک اعثرنا علیھم “ اور اسی طریقے سے ہم نے ان پر مطلع کردیا (آیت) ” لیعلموا ان وعداللہ حق “ تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اصحاب کہف کا لمبی نیند سے بیدار ہوجانا اس بات کی دلیل تھی کہ جس طرح وہ تین سو سال کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، اسی طرح مرنے کے بعد سب لوگ ایک دن دوبارہ جی اٹھیں گے (آیت) ” وان الساعۃ لاریب فیھا “۔ اور بیشک وقوع قیامت میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے وہ ضرور برپا ہوگی موت کے بعد دوبارہ زندگی کا واقعہ سورة البقرہ میں بھی گزر چکا ہے بنی اسرائیل میں ایک قتل ہوگیا مگر قاتل کا پتہ نہیں چلتا تھا ، پھر اللہ کے حکم سے ایک گائے ذبح کر کے گوشت کا ایک ٹکڑ امقتول کے جسم پر لگایا گیا تو اس سے زندہ ہو کر اپنے قاتل کی نشاندہی کردی ، اس موقع پر بھی اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” کذلک یحی اللہ الموتی ویریکم ایتہ “۔ (البقرۃ ۔ 73) اسی طرح اللہ تعالیٰ قیامت کو سب مردوں کو زندہ کر دے گا اور وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم غور وفکر کرو بہر حال اللہ تعالیٰ نے اصحاب کفہ کو بیدار کرکے یہ دلیل قائم کردی کہ اسی طرح قیامت کو بھی سب لوگ دوبارہ جی اٹھیں گے ۔ (اصحاب کہف کی یادگار) اب جب کہ اصحاب کہف کا سارا بھید کھل گیا اور جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ وہ زیادہ دیر تک زندہ نہ رہے بلکہ اللہ نے ان کو موت دے دی ، تو لوگوں نے انکی یادگار قائم کرنے کا فیصلہ کیا ، اس ضمن میں مختلف آراء تھیں ، کچھ لوگ ان کے نام پر عجائب گھر بنانا چاہتے ہوں گے بعض کوئی خصوصی طرز کی عمارت تعمیر کرنے کے حق میں ہوں گے اور بعض کوئی کتبے وغیرہ کندہ کرنا چاہتے ہوں گے ، بہرحال اللہ نے اس بات کو اس طرح بیان فرمایا ہے ۔ (آیت) ” اذ یتنازعون بینھم امرھم “۔ جب وہ اس معاملہ میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو (آیت) ” فقالوا ابنوا علیھم بنیانا “۔ تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر یادگار کے طور پر عمارت تعمیر کردی جائے ، (آیت) ” ربھم اعلم بھم “۔ اللہ تعالیٰ ان کی حالت کو خوب جانتا ہے پھر کیا ہوا ؟ (آیت) ” قال الذین غلبوا علی امرھم “۔ اس وقت جو لوگ اس معاملہ میں غالب تھے یعنی صائب الرائے لوگوں نے یہ کہا (آیت) ” لنتخذن علیھم مسجدا “۔ کہ ہم تو اس مقام پر یادگار کے طور پر عبادت خانہ تعمیر کریں گے ، اصحاب کہف بڑے برگزیدہ لوگ تھے جنہوں نے اپنا ایمان بچانے کے لیے تکلیف اٹھائیں اللہ نے ان کو بڑا شرف عطا کیا اور ان کو تین سو سال کے بعد دوبارہ زندہ کرکے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھلایا لہذا ان کی شایان شان یہ ہے کہ یہاں پر مسجد تعمیر کی جائے ، جہاں پر لوگوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا فریضہ انجام دیا کریں ، اور انہیں پتہ چلے کہ ایمان بہت بڑی حقیقت ہے اور اسی کی بدولت اللہ نے ان لوگوں کو عالمی مرتبہ عطا کیا ۔ (قبر پر تعمیر وغیرہ کا مسئلہ) قبروں کو پختہ کرنے ان پر عمارات تعمیر کرنے اور وہاں پر نماز پڑھنے سے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” ولا تجلسوا علی القبور ولا تصلوا الیھا “۔ یعنی نہ تو قبروں پر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو (مسلم شریف) بیٹھنے کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں ، مثلا وہاں پاؤں رکھ کر نہ بیٹھو کہ یہ بےادبی میں داخل ہے دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہاں بول وبراز کے لیے مت بیٹھو کہ اس سے گندگی پھیلتی ہے ، یہ بھی سخت مکروہ ہے ، دوسری حدیث (مسلم ص 312 ج 1 (فیاض) میں آتا ہے ” نھی رسول اللہ ﷺ ان یجصص القبر وان یبنی علیہ وان یقعد علیہ “۔ حضور ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ قبر کو پختہ بنایا جائے (یہ اسراف ہے اور مکروہ تحریمی ہے) قبر پر عمارت (گنبد وغیرہ) بنائی جائے اور اس پر بیٹھا جائے ۔ حضور ﷺ مرض الوفات میں مبتلا تھے آپ نے کمبل اوڑھا ہوا تھا ، تلخی کی وجہ سے آپ کبھی کمبل چہرے سے ہٹا لیتے اور کبھی منہ پر لے لیتے ہیں جب آپ منہ ننگا کرتے تو فرماتے ” لعنۃ اللہ علی الیھود والنصاری اتخذوا قبور انبیائھم مساجد یحذرما صنعوا “۔ (صحیحین) یہود ونصاری پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا حضور ﷺ اپنی امت کے لوگوں کو اس کارگزاری سے ڈراتے کہ کہیں وہ بھی ایسا ہی نہ کرنے لگیں ، امام احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ترمذی وغیرہ نے یہ حدیث بھی نقل کی ہے ” لعن رسول اللہ ﷺ زائرات القبور والمتخذین علیھا المساجد والسرج “۔ حضور ﷺ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو قبروں پر جاتی ہیں اور ان لوگوں پر بھی لعنت کی ہے جو قبروں کو سجدہ گاہ بناتے ہیں اور ان پر چراغاں کرتے ہیں ۔ مسند احمد میں یہ روایت بھی موجود ہے ” ان من شرار الناس من تدرکھم الساعۃ وھم احیآء والذین یتخذون القبور مساجد “۔ لوگوں میں زیادہ شریر قسم کے لوگ وہ ہوں گے جو قیامت برپا ہونے کے وقت زندہ ہوں گے کیونکہ نیک لوگ تو پہلے ہی ختم ہوچکے ہوں گے اور قیامت اس وقت آئے گی جب صرف برے لوگ ہی دنیا میں رہ جائیں گے ، فرمایا ، دوسری آئے گی جب صرف برے لوگ ہی دنیا میں رہ جائیں گے ، فرمایا ، دوسری قسم کے شریر لوگ وہ ہوں گے تو قبروں کو سجدہ گاہ بنالیں گے ، اسی لیے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قبروں کے قریب مسجدیں نہیں بنانی چاہئیں اور بعض کہتے ہیں کہ قبروں کے نزدیک مسجدیں بنانے کی ممانعت نہیں بلکہ قبروں پر سجدہ کرنے کی ممانعت ہے مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اور مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ عام قبرستان یا کسی بزرگ کی قبر کے قریب مسجد بنانا صرف اسی صورت میں روا ہوگا جب کہ لوگوں کے شرک میں مبتلا ہوجانے کا خدشہ نہ ہو ، اگر اس قسم کا احتمال ہو کہ مسجد بنانے سے وہاں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوں گی ، تو پھر ایسی جگہ پر مسجد بنانا روا نہیں ہوگا ، اسی لیے قبرستان میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، اگر قبر سامنے نظر آرہی ہو تو ایسی جگہ پر نماز نہیں پڑھنی چاہئے ، فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایسی جگہ پر نماز پڑھنے کی نوبت آ ہی جائے تو نمازی اور قبر کے درمیان سترہ ہونا چاہئے تاکہ قبر نظر نہ آئے ، اور اگر نماز باجماعت ادا کرنا ہو تو صرف امام کے آگے سترہ کافی نہیں ہوگا ، بلکہ ہر نمازی کے آگے سترہ ضروری ہے کیونکہ قبرستان کا معاملہ بڑا نازک ہے ، اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں کوئی خرابی نہ پیدا ہوجائے اور آیندہ آنے والے لوگ اسے وجہ جواز نہ بنالیں ۔ اصحاب کہف اللہ کے نیک بندے تھے مگر مشرکین نے ان کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیا ، چناچہ بعض علاقوں میں اصحاب کہف کی نذر کے طور پر سات روٹیاں اور آٹھویں روٹی کتے کے نام پر دی جاتی ہے جس طرح گیارہویں شریف اللہ کے نام کی بجائے حضرت پیران پیر (رح) کے نام کی دی جاتی ہے ، اس طرح بعض لوگوں نے اصحاب کہف کی نیاز شروع کردی ، اسی قسم کی خرابیاں ہیں جو بزرگوں کے نام سے منسوب کردی جاتی ہیں ، بہرحال اس وقت کے معتبر آدمیوں نے کہا کہ ہم اصحاب کہف کی یادگار کے طور پر یہاں پر عبادت گاہ تعمیر کریں گے ۔ (اصحاب کہف کی تعداد) اصحاب کہف کی تعداد کے متعلق بھی اختلاف رہا ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں اصولی تعلیم بیان کردی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” سیقولون ثلثۃ رابعھم کلبھم ‘۔ لوگ کہتے ہیں کہ اصحاب کہف تعداد میں تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا ، (آیت) ” ویقولون خمسۃ سادسھم کلبھم “۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا ، فرمایا (آیت) ” رجما بالغیب “۔ یہ تو بغیر نشانے کے تیر چلانے والی بات ہے رجم کا معنی پتھر یا تیر چلانا اور بالغیب سے مراد بغیر دیکھے ہے گویا اصحاب کہف کی تعداد کے متعلق مختلف باتیں کرنا بغیر یہ دیکھے تیر چلانے والی بات ہے کہ وہ نشانے پر لگتا بھی ہے یا نہیں ، ہمارے محاورے میں اسے ” اندھے کیوئیں میں ڈول ڈالنا “ بھی کہتے ہیں مطلب یہ کہ اس قسم کی باتیں لا ابالی میں کہی جاتی ہیں ۔ اب آگے اسلوب کلام بدل گیا ہے رجما بالغیب کی بات ختم ہوگئی ، (آیت) ” ویقولوں سبعۃ وثامنھم کلبھم “۔ اور کہتے ہیں کہ اصحاب کہف تعداد میں سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا ، فرمایا اے پیغمبر ! ﷺ (آیت) ” قل ربی اعلم بعدتھم “۔ آپ کہہ دیں کہ میرا رب ہی ان کی تعداد کو بہتر جانتا ہے (آیت) ” ما یعلمھم الا قلیل “۔ انہیں نہیں جانتے مگر بہت تھوڑے لوگ ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں بھی ان تھوڑے لوگوں میں شامل ہوں جو اصحاب کہف کی تعداد کو جانتے ہیں گویا انہوں نے بھی اس آخری بات کو اختیار کیا ہے کہ وہ سات نیکو کار آدمی تھے اور آٹھواں ان کے ساتھ کتا تھا ۔ اس مقام پر تعلیم یہ دی گئی ہے (آیت) ” فلا تمارفیھم الا مرآء ظاھرا “۔ آپ نہ جھگڑا کریں ان کی تعداد کے بارے میں مگر سرسری ، اس معاملہ میں زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے جب بھی ذکر ہو تو اتنی ہی بات کافی ہے جتنی اللہ نے وحی کے ذریعے بتلائی ہے اس سے زیادہ بحث مباحثہ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے اور ساتھ یہ بھی خیال رکھیں (آیت) ” ولا تستفت فیھم منھ احدا “ اور اصحاب کہف کے بارے میں یہود ونصاری اور مشرکین سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے پاس کوئی یقینی علم نہیں ہے بلکہ وہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں ، سب سے یقینی علم وحی الہی کا ہے جو آپ کے پاس ہے آپ اسی پر اکتفا کریں اور ان لوگوں سے مزید کچھ نہ پوچھیں ۔ ویسے بھی یہ لوگ کیا حق رکھتے ہیں کہ اصحاب کہف کے متعلق ان سے دریافت کیا جائے جب کہ یہ تو مشرک ہیں اور اصحاب کہف موحد اور اللہ کے نیک بندے تھے ، انہوں نے ایمان اور توحید کی خاطر قوم اور وطن کو چھوڑا اور غار میں روپوش ہوگئے ، ان مشرکین کو اصحاب کہف کے بارے میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے ، ان کے تو راستے ہی الگ الگ ہیں ۔ اللہ نے پہلے ہی فرما دیا (آیت) ” انھم فتیۃ امنوا بربھم وزدنھم ھدی “۔ (آیت 13) وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر صحیح ایمان لائے ، وہ شرک سے بیزار تھے ، اللہ نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا اور ان کی ہدایت میں اضافہ کیا ، بھلا یہود ونصاری کا ان سے کیا تعلق ؟ عرب کے مشرکین تو ویسے ہی کافر تھے ، یہودونصاری بھی عقیدہ ولدیت میں مبتلا ہو کر مشرک بن گئے ، اسی لیے تو فرمایا کہ قرآن اور اس سورة کا ایک مقصد یہ بھی ہے (آیت) ” وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ (آیت ، 4) تاکہ اس کے ذریعے یہود ونصاری کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے ۔ فرمایا نہ جھگڑا کریں آپ اصحاب کہف کے بارے میں مگر سرسری اور نہ ہی یہود ونصاری یا مشرکین سے اس بارے میں کچھ دریافت کریں ان میں سے کسی کو بھی صحیح بات معلوم نہیں ہے ، یہ سب بےتکی باتیں کرتے ہیں ، ان میں سے حقیقی علم کسی کے پاس نہیں ہے حقیقی علم وہی ہے جو اللہ نے آپ کو وحی کے ذریعے بتلا دیا ہے ۔
Ayahs 18:23–26

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور نہ کہیں آپ کسی چیز کے بارے میں کہ کرنے والا ہوں میں اس کو کل ۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر یہ کہ اللہ چاہے ، اور یاد کریں آپ اپنے پروردگار کو جب آپ بھول جائیں اور آپ کہیں کہ امید ہے کہ راہنمائی فرمائے گا ، میرا پروردگار اس سے زیادہ قریب تر نیکی کے راستے کی ۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور ٹھہرے وہ (اصحاب کہف) اپنے غار میں تین سو سال ، اور زیادہ کیا انہوں نے نو ۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جتنی دیر وہ ٹھہرے ، اسی کے لیے ہے غیب آسمانوں کا اور زمین کا وہ خوب دیکھتا ہے اور سنتا ہے نہیں ہے ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز ، اور نہیں شریک بناتا وہ اپنے فیصلے میں کسی کو ۔

(شان نزول) گذشتہ آیت میں اصحاب کہف کی تعداد کا ذکر تھا اس بارے میں زیادہ کرید کرنے سے منع فرمایا گیا کہ ایسے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سونپنا ہی زیادہ مناسب ہے ، آج کے درس میں اصحاب کہف کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کا بیان ہے البتہ درمیان میں ایک بات نصیحت کے طور پر فرمائی گئی ہے کہ کسی کام کا ارادہ کرتے وقت ساتھ انشاء اللہ کہہ کر اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہئے کیونکہ اس کی منشاء کے بغیر کوئی کوئی انجام نہیں دیا جاسکتا ، اسی بات کا تعلق اصحاب کہف کے واقعہ کے ساتھ بھی ہے گذشتہ دروس میں بیان کیا جا چکا ہے کہ مشرکین نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے روح ، اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تین سوال کیے تھے ، حضور ﷺ نے خیال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے جوابات سے جلدی ہی آگاہ کر دیگا ، لہذا آپ نے مشرکین سے فرمایا کہ ان سوالات کا جواب کل دوں گا ، مگر ساتھ انشاء اللہ نہ کہا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف روایات کے مطابق چند دن یا پندرہ دن یا اٹھارہ دن کے لیے وحی کا سلسلہ منقطع رہا اور آپ مشرکین کے سوالات کا جواب نہ دے سکے ، اس پر انہوں نے آپ کے خلاف پراپیگنڈا کرنا شروع کردیا تمسخر اڑایا اور طعنہ زنی کہ کہ آپ کا ” کل “ کب آئے گا ؟ آج کی پہلی دو آیات کا تعلق اسی واقعہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ضمن میں نصیحت فرمائی ہے ۔ (مشیت الہی کے ساتھ وابستگی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولا تقولن لشایء انی فاعل ذلک غدا “۔ آپ کسی چیز کے بارے میں یوں نہ کہیں کہ میں اسے کل کرنے والا ہوں ” الا ان یشآء اللہ “ بلکہ یوں کہیں کہ اگر اللہ نے چاہا گویا اپنے مستقبل کے فعل کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کردینا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو میں فلاں کام انجام دوں گا سورة تکویر میں بھی اللہ نے واضح فرما دیا ہے (آیت) ” وما تشآءون الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (التکویر ، 29) تمہارے چاہنے سے کوئی بات نہیں بنتی جب تک کہ اللہ نہ چاہے ، انسان کوئی بھی پلاننگ کرے ، جب تک اللہ کی مشیت نہیں ہوگی ، کوئی کام بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا لہذا اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ ہی منسلک کرنا چاہئے ۔ انشاء اللہ کے ساتھ بعض فقہی مسائل بھی وابستہ ہیں ، مثلا کسی شخص نے کسی کام کے لیے قسم اٹھائی اور ساتھ انشاء اللہ کہہ دیا تو اس نے وہ کام اللہ کے سپرد کردیا ، اب اگر وہ اپنی قسم پوری نہیں کر پاتا تو حانث ہو کر ماخوذ نہیں ہوگا کیونکہ یہ سمجھا جائے گا کہ اس کام کی تکمیل میں اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل نہیں تھی ، اور اگر بغیر انشاء اللہ کے قسم اٹھالی ہے تو عدم تکمیل پر حانث سمجھا جائے گا اور اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑیگا حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں انہوں نے قسم اٹھائی کہ میں ایک ہی رات میں تمام بیویاں کے پاس جاؤں گا اور ان سے پیدا ہونے والے تمام بچوں کو اللہ کی خاطر جہاد میں لگاؤں گا ، آپ نے ساتھ انشاء اللہ نہ کہا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تکمیل عمل کے باوجود صرف ایک بیوی کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور وہ بھی فالج زدہ جس سے جہاد میں شمولیت کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی (آیت) ” والقینا علی کرسیہ جسدا ثم اناب “۔ (ص ، 34) اسی بات کی طرف اشارہ ہے یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر سلیمان قسم اٹھاتے وقت انشاء اللہ کہہ دیتے تو آپ کی مراد پوری ہوتی سو بچے پیدا ہوتے جو سارے کے سارے خدا کے راستے میں جہاد کرتے مگر اس بھول کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہو سکے غرضیکہ کوئی بھی کام ہو اسے انشاء اللہ کہہ کر مشیت ایزدی کے ساتھ منسلک کردینا چاہئے ۔ (انشاء اللہ کے فقہی مسائل) مفسرین ، مجتہدین اور فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ کسی کام کا رادہ کرنے کے کتنی دیر بعد تک انشاء اللہ کہنا کار آمد ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت مجاہد ؓ ، سعید بن جبیر (رح) ابو العالیہ (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ کسی کام کا ارادہ کرنے کے ایک سال بعد تک بھی اگر کسی شخص انشاء اللہ کہہ دیتا ہے تو اسے اس کام کے ساتھ منسلک سمجھا جائے گا ، البتہ امام حسن بصری (رح) امام طاؤس (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں کسی کام کا ارادہ کیا ہے اگر اسی مجلس کے دوران انشاء اللہ کہہ دے تو درست ہے ، ورنہ مجلس برخواست ہونے کے بعد انشاء اللہ کہنا اس کام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھے گا ، علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ (رح) امام ابراہیم نخعی (رح) ، عطا (رح) اور امام شعبی (رح) وغیرہ فرماتے ہیں کہ انشاء اللہ صرف اسی صورت میں درست تسلیم ہوگا جب یہ کسی کام کا ارادہ کرنے کے ساتھ متصلا کہہ دیا جائے ، اگر انشاء اللہ کا لفظ وقفے کے ساتھ کہا تو یہ معتبر نہیں ہوگا ۔ امام صاحب (رح) کے کسی مخالف نے خلیفہ منصور کے پاس شکایت کی کہ آپ کے جد امجد حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کسی کام کے ارادے سے ایک سال بعد تک بھی انشاء اللہ کہنے کو روا سمجھتے تھے ، مگر امام ابوحنیفہ (رح) اس کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ صرف وہی انشاء اللہ معتبر ہوگا جو کسی کام کے ارادے سے متصلا کہا گیا ہو ، خلیفہ نے امام صاحب (رح) کو طلب کرکے وضاحت چاہی تو آپ نے فرمایا ہاں میرا مسلک یہی ہے جو آپ نے بیان کیا ہے ، مگر آپ جس بات پر اصرار کر رہے ہیں وہ آپ کے خلاف جاتی ہے ، وجہ یہ ہے کہ لوگ جب آپ کے ہاتھ پر بیعت کرکے آپ کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں تو اس کے ساتھ انشاء اللہ تو نہیں کہتے ، لہذا یہ حتمی بات ہوتی ہے اور اس کے خلاف کرنے سے آدمی قابل مؤاخذہ ہوجاتا ہے ، اگر انشاء اللہ کہنا عہد کے ایک سال بعد تک مؤخر کیا جانا روا سمجھا جائے تو پھر لوگ آپ کی بیعت کرنے کے بعد گھر جا کر انشاء اللہ کہہ سکتے ہیں اور اس طرح وہ کسی وقت بھی اس بیعت سے نکل سکتے ہیں اور آپ انہیں اس بیعت پر قائم رہنے کے لیے مجبور نہیں کرسکتے اور آپ انہیں اس بیعت پر قائم رہنے کے لیے مجبور نہیں کرسکتے کیونکہ انہوں نے انشاء اللہ کہہ کر معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ، لہذا اللہ چاہے گا تو وہ آپ کی اطاعت میں رہیں گے ، ورنہ نکل جائیں گے یہ بات خلیفہ کی سمجھ میں آگئی اور اس نے شکایت کنندہ کو دربار سے نکال دیا کہ تم فضول باتیں کرتے ہو ۔ (بھول جانے کی صورت میں) غرضیکہ جس کا کام بھی ارادہ کیا جائے یا کوئی قسم اٹھائی جائے تو اسے انشاء اللہ کے ساتھ فورا منسلک کردینا چاہئے ، اگر ایسا کرے گا تو وعدہ خلافی کی صورت میں جھوٹا نہیں ہوگا ، اور قسم کی صورت میں حانث نہیں ہوگا ، اللہ نے حضور ﷺ کو بھی یہی بات سکھائی کہ آپ یوں نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کروں گا بلکہ ساتھ انشاء اللہ کہہ کر اسے اللہ کی مشیت پر موقوف کردیا کریں کیونکہ قادر مطلق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس کی منشاء ہوگی تو کوئی کام پایہ تکمیل تک پہنچے گا ، ورنہ نہیں اللہ تعالیٰ نے ساتھ یہ بھی فرمایا (آیت) ” واذکر ربک اذا نسیت “ اور اگر آپ عین موقع پر انشاء اللہ کہنا بھول جائیں تو جس وقت یاد آئے اسی وقت اعادہ کرلیں بھول جانے کا قانون یہ ہے کہ یاد آوری کے بعد ان الفاظ کو ادا کرلے بھول کر نماز چھوڑ دینے کے متعلق بھی یہی حکم ہے کہ جس وقت یاد آئے فورا ادا کرلے ، اگر نماز کا وقت ابھی باقی ہے تو وہ نماز ادا تصور ہوگی اور اگر وقت گزر چکا ہے تو پھر قضا کے حکم میں آئیگی اگر کوئی شخص سو گیا ہے اور نماز کا وقت نکل گیا ہے تو بیداری پر فورا ادا کرلے ، اس قسم کا واقعہ خود حضور ﷺ کے ساتھ بھی دوران سفر دو یا زیادہ مرتبہ پیش آیا ۔ ایک مقام پر قافلے نے رات گزارنے کا ارادہ کیا ، رات کو پہریدار بھی مقرر کیے جو صبح نماز کے وقت جگا دیں مگر پہریدار خود بھی سو گئے جس کی وجہ سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی نماز فجر قضا ہوگئی ، چناچہ آپ نے یہ نماز بعد میں پڑھی انشاء اللہ کہنے کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ اگر بھول گیا تو جب یاد آئے فورا کہہ لے ۔ (نبوت و رسالت کی دلیل) اور دوسری بات یہ (آیت) ” وقل عسی ان یھدین ربی لاقرب من ھذا رشدا “۔ کہ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ امید ہے کہ میرا پروردگار راہنمائی فرمائے گا ، اس سے زیادہ قریب تر نیکی کے راستہ کی دراصل یہ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی صداقت کی دلیل بیان کی جا رہی ہے آپ کا اصحاب کہف کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کردینا ہی آپ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہود ومشرکین نے یہ سوال کرکے آپ کا امتحان لینا چاہا تھا جب آپ نے صحیح جواب دے دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بتلانے سے ہی آپ نے اصحاب کہف کا واقعہ بیان کیا ہے ، یہ تو سینکڑوں سال پرانا واقعہ تھا ، اللہ تعالیٰ قریبی زمانہ کے کسی واقعہ کو بھی آپ کی رسالت کی دلیل کے طور پر پیش کرسکتا تھا ، چناچہ حضور ﷺ کی ہجرت کا واقعہ ایسا ہے جو اس سورة کے نزول سے کچھ عرصہ بعد پیش آیا جس طرح اصحاب کہف تین سو نو سال تک غار میں پناہ گزیں رہے اسی طرح حضور ﷺ سفر ہجرت کی ابتداء میں تین دن تک غار ثور میں رکے رہے ، تمام تر کوشش کے باوجود کفار آپ کو تلاش نہ کرسکے ، تین دن کے بعد آپ غار ثور سے نکل کر مدینہ کے راستے پر چل نکلے ، تو گویا یہ تین دن کا واقعہ تین سو سالہ واقعہ سے تو قریب تر ہے اور حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل ہے ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ، مخالفین کی ایذا رسانیاں اور اللہ کے بندوں کی روپوشی اور گرفتاری کے واقعات دنیا میں ہمیشہ رونما ہوتے آئے ہیں ، جب انگریزوں نے ظلم وستم کی انتہاء کردی اور ہمارے بزرگوں کی گرفتار کا حکم دیا تو اس قسم کے کئی واقعات پیش آئے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کو سزائے موت کا حکم ہوچکا تھا ، آپ روپوش ہوگئے اور پھر مکہ مکرمہ ہجرت کر گئے ، مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) بھی تین دن تک روپوش رہنے کے بعد باہر نکل آئے اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی اور وہ گرفتار نہیں کیے جاسکے ، مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) آٹھ نوماہ تک قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرکے رہا ہوئے حاجی صاحب نے انگریزوں کے ساتھ آخری ٹکر لی تھی مگر اللہ تعالیٰ کو برصغیر میں انگریزوں کا اقتدار مزید سو سال تک منظور تھا اس لیے آپ کو کامیابی نہ ہوسکی ۔ ّ (غار میں ٹھہرنے کی مدت) انشاء اللہ کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد آگے پھر اصحاب کہف کا ذکر ہے اس آیت کریمہ میں ان کے غار میں قیام کی مدت کا تذکرہ ہے فرمایا (آیت) ” ولبثوا فی کھفھم ثلث مائۃ سنین “۔ وہ اپنی غار میں تین سو سال ٹھہرے رہے (آیت) ” وازدادوتسعا “۔ اور زیادہ کیا ، انہوں نے اس پر نوسال ، اس طرح کل تین سو نو سال ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان کے غار میں رہنے کی مدت تو تین سو سال ہی تھی البتہ بعض لوگوں نے بیان کرنے میں نو سال کا اضافہ کردیا ، یہ حضرات نو سال کو مبالغہ آرائی پر محمول کرتے ہیں تاہم زیادہ تر مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ نوسال کا فرق شمسی اور قمری سالوں کے لحاظ سے ہے ، اصحاب کہف شمسی سال کے حساب سے تین سو سال ٹھہرے ، جب کہ قمری سالوں کے حساب سے ان کی تعداد تین سو نو سال بن جاتی ہے کیونکہ ہر شمسی صدی میں قمری لحاظ سے تین سال بڑھ جاتے ہیں ۔ فرمایا قل اے پیغمبر ! ﷺ آپ جواب میں کہہ دیں ، (آیت) ” اللہ اعلم بما لبثوا “۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ اصحاب کہف کتنی مدت ٹھہرے رہے ، تاریخی اور تفسیری روایات میں تو بہت سی باتیں ملتی ہیں جن کی صحت کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا ، لہذا اللہ نے جتنی بات بنا دی ہے وہی درست ہے ، اس بات کا تعلق علم غیب سے ہے جو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہاں پر بھی اللہ نے وضاحت فرمادی ہے ، (آیت) ” لہ غیب السموت والارض “ آسمانوں اور زمین کو غیب اسی کے پاس ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات سے تو کوئی چیز پردہ غیب میں نہیں ہے البتہ جو چیز آسمانی مخلوق کی نظروں میں غیب ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے اور جو اشیاء زمینی مخلوق انسان ، جن ، فرشتوں وغیرہ کی نظروں میں غیب ہے اللہ تعالیٰ ان سے بھی خوب واقف ہے ، اسی لیے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کا غیب اسی کے لیے ہے ، اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، ذرے ذرے کا علم صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہے کیونکہ (آیت) ” ان اللہ بکل شیء علیم “۔ علیم کل صرف وہی ذات ہے ۔ (خدائی بصارت اور سماعت) فرمایا (آیت) ” ابصربہ “ اللہ تعالیٰ خوب دیکھتا ہے (آیت) ” واسمع “ اور وہ خوب سنتا ہے ، خدا تعالیٰ کا دیکھنا اور سننا بھی عجیب و غریب ہے جو انسان کی عقل میں نہیں آسکتا ، انسانوں اور دوسری مخلوق کو دیکھنے کے لیے آنکھوں اور سننے کے لیے کانوں کی ضرورت ہوتی ہے ، ایتھر اور دیگر مادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جن کے ذریعے کوئی آواز کان تک پہنچتی ہے ، اسی طرح دیکھنے کے لیے روشنی کا ہونا اور پھر کسی چیز کا نگاہ کے سامنے ہونا ضروری ہے مگر اللہ تعالیٰ ہر قسم کے آلے سے پاک ہے اللہ تعالیٰ سننے کے لیے نہ کانوں اور دیگر لوازمات کا محتاج ہے اور نہ دیکھنے کے لیے اسے روشنی کی ضرورت ہے وہ ہر چیز پر حاوی اور محیط ہے ، اس لیے وہ ہر چیز کو ہر آن سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے ، اس کے دیکھنے اور سننے کی کیفیت انسانی فہم میں نہیں آسکتی ، فرمایا (آیت) ” مالھم من دونہ من ولی “ بندوں کے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز نہیں ہے جو اسکی بگڑی بنا سکے ، اس کے علاوہ تصرف کی مالک کوئی ذات نہیں ، وہی کارساز مطلق ہے اس صفت کو کہیں ولی کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے اور کہیں وکیل کے ساتھ ہر چیز کا ولی اور وکیل فقط اللہ تعالیٰ ہے ، اسی لیے فرمایا (آیت) ” لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا “۔ (المزمل ، 9) اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا اسی کو اپنا کارساز بناؤ ، ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، نافع وضار ، علیم کل ، قادر مطلق ، متصرف اور مدبر صرف وہی ہے اچھی اور بری پوری مخلوق میں اس کے سوا کوئی کارساز نہیں ۔ (بلاشرکت غیرے فیصلہ) فرمایا (آیت) ” ولا یشرک فی حکمہ احدا “۔ وہ اپنے فیصلے اور حکم میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کرتا ، وہ کسی کا محتاج نہیں ، لہذا ہر چیز کا فیصلہ بھی وہ خود کرتا ہے ، گذشتہ سورة میں بھی گزر چکا ہے کہ اس کا کوئی معاون اور مددگار نہیں ہے ، اور آگے اس سورة میں بھی آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی معاملہ میں کوئی معاون نہیں اور نہ ہی اس کو ضرورت ہے اس کا ہر فیصلہ اپنی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ، اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں کسی دوسری ذات کو شریک بنائے گا تو وہ مشرک بن جائے گا کیونکہ یہ بات (آیت) ” ان الحکم الا اللہ “۔ (الانعام ، 57) کے خلاف ہے حکم صرف اللہ کا ہوتا ہے ، وہ جو بھی فیصلہ کرے اس میں کسی مخلوق کو شریک نہیں بناتا ، وہ خود مختار ہے اور ہر فیصلہ کرنے پر مکمل قدرت رکھتا ہے ، اصحاب کہف کا واقعہ اس کی مشیت اور فیصلے کی مثال ہے ، اس کے سوا کون ہے جو کسی جاندار کو سینکڑوں سال تک بغیر کھائے پئے زندہ رکھ سکے ؟ یہ تو اللہ نے اپنی قدرت کی نشانی ، ظاہر فرمائی ہے ، وہ ایسا احکم الحاکمین ہے جو اپنے فیصلے میں کسی کو شریک نہیں کرتا ۔
Ayahs 18:27–28

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

آپ پڑھیں اس چیز کو جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی کتاب نہیں ہے کوئی تبدیل کرنے والا اس کے کلمات کو ، اور ہرگز نہ پائیں گے آپ اس کے سوا کوئی جائے پناہ ۔

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور آپ صبر کریں اور روکے رکھیں اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے پروردگار کو صبح اور پچھلے پہر چاہتے ہیں اس کی رضا اور نہ آپ دور کریں اپنی آنکھوں کو ان سے کیا آپ دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہیں ؟ اور آپ نہ مانیں بات اس شخص کی جس کے دل کو ہم نے غافل کردیا ہے اپنی یاد سے ، اور اس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہے ۔

(کتاب الہی کی حقانیت) اصحاب کہف کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وحی الہی یعنی قرآن پاکی اہمیت کا ذکر کیا ہے اور معترضین کے اعتراضات کا علاج تجویز کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واتل ما اوحی الیک من کتاب ربک “۔ آپ پڑھیں اس چیز کو جو وحی کی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی کتاب ، صحیح بات تو اسی کتاب میں ہوگی جو لوگ اس کے خلاف باتیں کرتے ہیں ، وہ یقینی نہیں ہیں قطعی اور یقینی علم نہ تو لوگوں کی سنی سنائی باتوں میں ہے ، نہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آپ اس کتاب پر اعتقاد رکھیں ، اس کی تلاوت کریں اور اسی کو اپنا نصب العین بنائیں ۔ قرآن پاک وحی جلی اور ہر چیز کی بنیاد ہے باقی تمام چیزیں اس کی تشریح و توضیح ہیں جو چیزیں اللہ نے اپنے پیغمبر کے قلب مبارک پر اتاریں ہیں وہ وحی خفی ہے اور اس کتاب کی تشریح ہے امام بن تیمیہ (رح) فرماتے ہیں ” والسنۃ تفسر القرآن وتبینہ “۔ سنت ایک ایسی چیز ہے جو قرآن پاک کی تفصیل بیان کرتی ہے گذشتہ سے پیوستہ درس میں اصحاب کہف کے متعلق اللہ کا فرمان گزر چکا ہے (آیت) ” فلا تمارفیھم “ آپ اس معاملہ میں ان لوگوں سے جھگڑا نہ کریں (آیت) ” ولا تستفت فیھم “۔ اور نہ ان میں سے کسی سے پوچھیں ، اصل بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتلائی ہے ، لہذا تمام معاملات میں اسی کتاب پر اعتماد ہونا چاہئے ۔ (کتاب الہی کی حفاظت) فرمایا اس کتاب کی حیثیت اس قدر قطعی اور یقینی ہے (آیت) ” لامبدل لکلمتہ “۔ کہ اس کے کلمات کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اس کتاب میں اللہ نے اپنے سچے دین کو غالب کرنے جو وعدہ فرمایا ہے وہ یقینا پورا ہو کر رہا ، حالانکہ مشرکین اور اہل کتاب ہمیشہ اس دین کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے ، دلیل اور برہان کے اعتبار سے تو یہ دین تمام ادیان پر ہر وقت غالب ہے تاہم اللہ نے سیاسی طور پر بھی دین اسلام کو دنیا میں غالب کرکے اپنے وعدے کی تکمیل کردی ، غیر مسلم اقوام نے اللہ کے اس آخری پیغام میں تغیر وتبدل کی لاکھ کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوسکی ، اس سلسلہ میں یہودی ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں ابھی قریبی زمانہ میں جب اسلام کی روشنی افریقی ممالک میں پھیلی تو قرآن پاک کے نسخوں کی ضرورت محسوس ہوئی یہودیوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قرآن حکیم کے تحریف شدہ نسخے وہاں پہنچائے تاکہ لوگوں کو ان کے ذریعے اسلام سے منحرف کیا جاسکے مگر ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوسکی اللہ تعالیٰ نے مصر کے ناصر مرحوم کو توفیق بخشی جس نے قرآن کریم کے صحیح نسخے چھپوا کر لاکھوں کی تعداد میں افریقی ممالک میں تقسیم کیے اور اس طرح یہودیوں کی سازش ناکام ہوگئی ، یہ لوگ تراجم میں گڑبڑ کرنے کی کوشش کرتے ہیں نیز تحقیق کے نام پر مسلمانوں میں قرآن پاک سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کر نیکی کوشش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ہر دور میں ایسے بندے پیدا کرتا رہا ہے جو اس قسم کی سازش کو بےنقاب کرکے قرآن کا اصل پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر آنے والے دور میں ایسے عادل لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو باطل پرستوں اور غالیوں کی غلط تاویلات کا تعاقب کرتے رہیں گے ، فرمایا کسی دور میں بھی گمراہ لوگوں کو ایسا غلبہ کبھی حاصل نہیں ہوگا کہ حق بالکل ہی معدوم ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھا رکھا ہے اور اس کا جو مفہوم حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے سمجھا وہ آج تک محفوظ ہے ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس کتاب کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ، قرآن پاک کی حفاظت کا انتظام اللہ نے مختلف طریقوں سے کر رکھا ہے ، اس کے الفاظ ، اعراب اور قرات کی حفاظت ہوئی ، ہر زمانے میں اس کی تفسیر و توضیح ہوتی رہی ، مسلمانوں نے صرف ونحو جیسے علوم ایجاد کیے جن کے ذریعے قرآن پاک کی ٹھیک ٹھیک وضاحت ہوتی رہی قرآن پاک کے کلمات اور صیغوں کی حفاظت ہوئی اور اس کی قرات میں کوئی خلل واقع نہ ہوا ، فقہ اور اصول فقہ جیسے علوم وفنون مدون ہوئے تاکہ قرآن پاک کے معانی ومطالب کو سمجھنے میں آسانی ہو ، فصاحت وبلاغت کے علوم کے ذریعے قرآن کی عبارت کو عمدگی سے سمجھنے میں مدد ملی ، پھر دین میں غلط باتوں کے در آنے کی نشان دہی ہوئی صحیح کو ضعیف سے ممتاز کیا گیا ، فقہائے کرام نے اجتہاد کے ذریعے مسائل کا استنباط کیا اور اس طرح قرآن حکیم کو صحیح طور پر سمجھنے میں مدد ملی ۔ قرآن پاک کے اصول ایسے پائیدار ہیں کہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” وذلک دین القیمۃ “۔ (البینۃ ۔ 5) یہ مضبوط اور مستحکم دین ہے اس میں ایسی کوئی لچک نہیں کہ کوئی شخص اس کی حرام کردہ چیز کو حلال یا حلال کو حرام کر دے ، اس کے بتائے ہوئے حلت و حرمت کے قوانین ایسے مضبوط ہیں کہ کوئی فرد واحد ، جماعت یا حکومت ان کو تبدیل نہیں کرسکتی ، اس سلسلے میں ساری مخلوق عاجز ہے اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ (اللہ کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں) فرمایا (آیت) ” ولن تجد من دونہ ملتحدا “۔ اور آپ ہرگز نہ پائیں گے اس کے سوا کوئی جائے پناہ ، اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی نافرمانی کرنے والے مجرمین کو کہیں پناہ نہیں مل سکتی ، ” ملتحدا “ لحد کے مادے سے ہے جس کا معنی بغلی قبر ہوتا ہے ، لحد دراصل قبر کا انتہائی کنارہ ہوتا ہے ، اور دین میں الحاد بھی انتہائی کنارہ ہی ہوتا ہے ، جب انسان گمراہی میں پہنچ جاتا ہے تو اس کا معنی وہ آخری کنارہ ہے جہاں کوئی انسان پناہ پکڑ لے مگر فرمایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے سوا کہیں سہارا اور پناہ گاہ میسر نہیں آسکے گی ، جس نے اللہ کی حکم عدولی کی اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اب اس کے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے ۔ (ضعفاء کی ساتھ ہم نشینی) کفار ومشرکین کمزور اور غریب مسلمانوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، ان کے ساتھ بیٹھنا اپنی توہین تصور کرتے تھے ، اس لیے وہ حضور ﷺ سے کہتے کہ جب تک سلمان فارسی ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ صہیب ؓ ، عمار بن یاسر ؓ وغیرہ جیسے غریب لوگ آپ کی مجلس میں موجود ہیں ہم آپ کے پاس نہیں بیٹھ سکتے ، اگر آپ ہمیں اپنی بات سنانا چاہتے ہیں تو ان غلاموں یا آزاد شدہ غلاموں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ان اولین جانثاران اسلام کی قدروقیمت سے آگاہ فرمایا اور ان ضعفا کی ہم نشینی کسی صورت میں بھی ترک نہ کر نیکی تلقین فرمائی ، ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی “۔ آپ صبر کریں اور اپنے آپ کو روکے رکھیں ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے پروردگار کو صبح وشام پکارتے ہیں یعنی اسلام کے ان جانثاروں کو اپنی مجلس سے الگ نہ کریں دوسرے مقام پر ہے کہ اگر آپ نے انکو الگ کیا تو آپ زیادتی کرنے والے ہوجائیں گے ، دیکھو ! نوح (علیہ السلام) کی قوم کے امراء نے بھی آپ کے متبعین کے متعلق یہی بات کی تھی (آیت) ” ما نرک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الرای “۔ (ھود۔ 27) ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے متبعین گھٹیا قسم کے لوگ ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ، آپ کا پیروکار کوئی بڑا آدمی تو نہیں ہے سب کمین لوگ ہیں ، بھلا ان کی موجودگی میں ہم آپ کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں وہاں بھی اللہ نے نوح (علیہ السلام) کی زبان سے یہی کہلوایا کہ میں ان غریب لوگوں کو اپنی مجلس سے دھکیل دوں گا تو میں ظلم کرنے والوں میں سے بن جاؤں گا ، یہاں بھی اللہ نے فرمایا کہ صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے والوں کو اپنی مجلس سے دور نہ کریں ، یہی لوگ آپ کا قیمتی سرمایہ ہیں جو اس وقت ایمان لائے جب مخالفت اور ایذاء رسانیوں کی تند وتیز آندھیاں چل رہی تھیں ۔ (رضائے الہی کی طلب) فرمایا یہ ایسے لوگ ہیں (آیت) ” یریدون وجھہ “ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہیں ، ان کے پیش نظر کوئی دنیاوی مقصد نہیں ہے بلکہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کی تلاش میں رہتے ہیں جو کہ بلند ترین مقام ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معزز ترین لوگ ہیں کیونکہ ان کا منتہائے مقصود اعلی ورافع ہے جس سے اللہ راضی ہوگیا اسے سب کچھ مل گیا ، (آیت) ” ورضوان من اللہ اکبر “۔ اللہ کی رضا تو سب سے بڑھ کر ہے کسی فرد جماعت یا قوم کی فلاح اسی میں ہے ۔ اکثر لوگ دنیا کی ترقی کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں ، اسلام اس کا مخالف تو نہیں لیکن دنیا میں منہمک ہو کر اگر انسان کا اصل مقصد ہی فوت ہوگیا تو پھر اس مادی ترقی کا کیا فائدہ ؟ لوگ امریکہ اور دوسرے امیر ملکوں پر رشک کرتے ہیں کہ انہیں دنیا کی تمام ضروریات بافراط میسر ہیں اور وہ عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں مگر اس چند روزہ زندگی کے بدلے اگر ابدی زندگی خراب ہوگئی تو بڑے ہی نقصان کا سودا ہے اگرچہ ترقی یافتہ لوگ بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں مگر ان میں بھی حقیقت کا فقدان ہوتا ہے کیا امریکہ اور برطانیہ میں غریب لوگ نہیں ہیں ؟ روس کا دعوی بھی غلط ہے کہ سب کو ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہیں ، وہاں بھی بعض کو اچھے مواقع مل جاتے ہیں اور بعض محروم رہ جاتے ہیں ۔ بعض عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور بعض تنگی میں گزر اوقات کرتے ہیں ان کے ضمیر کچلے ہوئے ہیں ، آزادی فکر حاصل نہیں وہ تو جانوروں کی طرح مجبور محض ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ قیصر و کسری کے زمانے میں انسانوں سے بیلوں اور گدھوں کی طرح کام لیا جاتا تھا مگر انہیں اتنا وقت نہیں تھا کہ اپنی عاقبت کے متعلق بھی کچھ سوچ سکیں ، جو وقت محنت مزدوری سے بچ جاتا ہے وہ لعب ولہو کی نذر ہوجاتا ہے ، اللہ کی رضا نہ ان کا مقصود ہے اور نہ وہ اس کے لیے کوشش کرتے ہیں بہرحال اللہ نے ان غریب اہل ایمان کی تعریف فرمائی ہے کہ وہ اللہ کی خوشنودی کے طلبگار رہتے ہیں ۔ (درمیانی حالت ہی بہتر ہے) حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں اللہ نے اجتماعی طور پر فرمایا ہے (آیت) ” یبتغون فضلا من اللہ ورضوانا “۔ (الفتح ، 29) کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصطلاح میں فضل کا معنی ارتفاق یعنی دنیوی زندگی اچھے طریقے سے بسر کرنے کا طور طریقہ ہے ، اور رضوان سے مراد خدا تعالیٰ کا قرب ہے جسے وہ مختلف طریقوں سے حاصل کرتے ہیں ، اسی طرح ایمانداروں کے پاس بہتر طور پر زندگی بسر کرنے کا طریقہ بھی ہونا چاہئے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی تیں حالتیں ہیں بالکل معمولی حالت میں تنگی کی زندگی بسر کرنے کو تقشف کہتے ہیں ، اس کو بھی پسند نہیں کیا گیا دوسری حالت رفاہیت بالغہ کی ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان کو انتہائی درجے کی خوشحالی حاصل ہو ، وہ بہترین مکان میں رہائش اختیار کرے بہترین لباس پہنے ، خوراک بھی بہترین ہو اور سواری بھی نہایت عمدہ ہو ، یہ حالت بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ” خیرالامور اوسطھا “ ۔ درمیانی حالت ہی اچھی ہے ، لباس ہر شخص کو ملنا چاہئے مگر نہ بہت کم تر اور نہ زیادہ شان و شوکت والا ، اگر جائز ذرائع سے کسی کو اچھا لباس میسر آتا ہے تو بیشک استعمال کرے مگر ہر وقت اچھے سے اچھے لباس ، مکان ، سواری اور عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہنا رفاہیت بالغہ اور ملوکیت کی علامت ہوگا ، اس سے غریبوں کا حق تلف ہو کر سوسائٹی میں بگاڑپیدا ہوتا ہے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ دنیا کے بہترین لوازمات حاصل کرنے کی بجائے انسان درمیانی حالت پر اکتفا کرے ، اجتماعی نظام اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جس بستی کی آبادی دس ہزار نفوس کی ہوجائے وہاں مختلف پیشوں (OCCUPATIONS (آکوپٹیشن) میں توازن قائم کرنا ضروری ہوجاتا ہے صحیح پیشوں کی حوصلہ افزائی اور غلط پیشوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے تاکہ معاشرے میں اونچ نیچ ختم ہو اور سب کو ترقی وتعلیم کے یکساں مواقع میسر ہوں انسانوں کو جانوروں کی طرح کام پر نہیں لگانا چاہئے بلکہ انہیں اتنا وقت ضرور ملنا چاہئے جس میں وہ اپنی عاقبت کی بہتری کے لیے سوچ وبچار کرسکیں (آیت) ” وتبتل الیہ تبتیلا “۔ (المزمل ، 8) اور کچھ دیر کے لیے اپنے پروردگار کے ساتھ بھی لو لگا سکیں ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ﷺ آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روک رکھیں جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے متلاشی رہتے ہیں ۔ (غرباء کی طرف نگاہ شفقت) اللہ نے اپنے پیغمبر کو یہ بھی فرمایا (آیت) ” ولا تعد عینک عنھم “۔ آپ اپنی نگاہ شفقت ایسے مخلص لوگوں سے دور نہ کریں بلکہ ہر وقت ان پر نگاہ شفقت رکھیں (آیت) ” نرید زینۃ الحیوۃ الدنیا “۔ کیا آپ دنیا کی زندگی چاہتے ہیں ؟ یہ مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصود اللہ کی رضا ہے اور اسی کی فکر کرنی چاہئے ، جب کبھی حضور ﷺ کے دل میں ذرا بھی خیال پیدا ہوا کہ ان ضعفاء کو تھوڑی دیر کے لیے علیحدہ کر کے امراء کو بھی اسلام کی حقانیت سے خبردار کیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کردی ، فرمایا آپ یہ نہ خیال کریں کہ امرا کے ایمان قبول کرلینے سے اسلام پر بڑی رونق آجائے گی نہیں بلکہ ایمان کی رونق تو اللہ تعالیٰ کی یاد سے آئے گی محض مال و دولت سے اسلام ترقی نہیں کرسکتا ، اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر حضور ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے ساتھ ہم نشینی کا مجھے حکم دیا گیا ہے چناچہ آپ ہمیشہ انہی لوگوں میں بیٹھنا پسند کرتے تھے ۔ ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں اس حدیث کو بیان کیا ہے جس کا ذکر امام ابن کثیر (رح) نے بھی کیا ہے ۔ لان اجالس قوم یذکرون اللہ عزوجل من صلوۃ الغداۃ الی طلوع الشمس احب الی مما طلعت علیہ الشمس “۔ ” یہ کہ میں بیٹھ جاؤں ان لوگوں کے ساتھ جو صبح کی نماز سے لے کر طلوع سورج تک اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہ میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ۔ ” ولان اذکر اللہ من صلوۃ العصر الی غروب الشمس احب الی من ان اعتق ثمنیۃ من ولد اسمعیل دیۃ کل واحد منھم اثنا عشر الفا “۔ یہ کہ نماز عصر سے لے کر غروب شمس تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کروں یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں اولاد سماعیل (علیہ السلام) سے آٹھ غلام آزاد کرو جن میں سے ہر ایک کی دیت بارہ ہزار ہو ۔ خدا تعالیٰ کا ذکر اتنی بلند چیز ہے اور یہ غریب لوگ ہی ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں رہتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ آپ ان کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کریں ، اور یہ نہ خیال کریں کہ بڑے لوگوں کو اہمیت دینے سے اسلام کی ترقی ہوجائے گی ، حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں پر اولین ایمان لانے والے ہمیشہ غریب لوگ ہی ہوئے ہی بڑے لوگ تو بالکل آخر میں آتے ہیں جب ان کے لیے فرار کے تمام راستے مسدود ہوجاتے ہیں ، ابو سفیان ؓ اور دیگر بڑے بڑے اکابرین فتح مکہ کے بعد ہی ایمان لائے ، اور جو لوگ روز اول سے تکالیف برداشت کر رہے تھے ان کا مرتبہ بہت زیادہ ہے ، وہ ہر امتحان میں کامیاب ہوئے ، مال وجان قربان کیا ، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں ، وطن چھوڑا مگر دین کو سینے سے لگائے رکھا ، اللہ انہی کے ساتھ ہم نشینی کی ہدایت کی ہے ۔ (یاد الہی سے غفلت) مزیدار ارشاہ ہوا (آیت) ” ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذ کرنا “۔ اور آپ اس شخص کی بات نہ مانیں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے یہ وہی لوگ ہیں جو حضور ﷺ کے بدترین دشمن تھے ، فرمایا ہم نے انہیں اپنی دیا سے غافل کردیا ہے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کی ضد اور عناد کی وجہ سے سزا کے طور پر انہیں اپنی یاد سے غافل کردیا ، یہودیوں کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” وجعلنا قلوبھم قسیۃ “۔ (المائدۃ ، 13) ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا ہے اور یہ حق کی طرف رجوع ہی نہیں کرتے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ اغفلنا کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کے دل کو غفلت کی طرف منسوب کردیا ہے عربی زبان میں یہ لفظ نسبت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کمیت شاعر نے کہا ہے ۔ طائفۃ قد اکفرونی بحبکم وطائفۃ قالوا مسیء ومذنب : تہاری محبت کی وجہ سے ایک گروہ نے مجھے کفر کی طرف منسوب کیا ہے اور دوسرے گروہ نے مجرم اور گنہگار کہا ہے جس طرح اکفرونی کا مطلب کفر کی طرف منسوب کرنا ہے اسی طرح اغفلنا ہے غفلت کیطرف منسوب کرتا ہے ۔ مثل السائر والے امام ابن جریر (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت) ” من اغفلنا “ کا معنی صادفنا قلبہ غافلا “ ہے یعنی جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا ہے غافل کیا نہیں بلکہ غافل پایا ہے ، غفل اس تیر کو بھی کہتے ہیں جس پر کوئی نشان نہ ہو ، زمانہ جاہلیت میں جوئے کے دن تیر استعمال کیے جاتے تھے جن میں سے سات تیروں پر ایک سے سات تک نمبر لکھے ہوئے تھے اور باقی تین تیر خالی ہوتے تھے وہ غفل کہلاتے تھے اور یہاں مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے اور ایمان سے غفل یعنی خالی بنادیا ہے آپ اس کی بات نہ مانیں بعض مفسرین اغفلنا کا معنی رسوا کردینا کرتے ہیں اور جملے کا مطلب یہ کہ جو شخص اللہ کی یاد سے غفلت برتتا ہے وہ ذلیل ورسوا ہوجاتا ہے ۔ (خواہشات کا اتباع) فرمایا ایسا شخص (آیت) ” واتبع ھوہ “ اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے وہ شخص حق کا متلاشی نہیں ہوتا ، نہ کسی صحیح اصول کا طالب ہوتا ہے بلکہ ہمیشہ اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل چاہتا ہے ، ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “۔ (البقرۃ ، 168) شیطا کے نقش قدم پر مت چلو ، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے عقائد باطلہ اور بدعات کی پیروی دراصل شیطان ہی کا اتباع ہے ، کیونکہ اللہ کی خوشنودی کا راستہ تو صرف وہی ہے جو حضور ﷺ نے بتلایا ہے ، ہر خوشی اور غمی میں وہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے ، اگر خواہشات کے پیچھے چلو گے تو تباہ ہوجاؤ گے اور خدا کی خوشنودی حاصل نہیں ہو سکے گی ، غرضیکہ فرمایا کہ آپ اس شخص کی بات نہ مانیں جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل پایا اور اس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ۔ فرمایا (آیت) ” وکان امرہ فرطا “ ایسے شخص کا معاملہ تو حد سے بڑھا ہوا ہے وہ افراط وتفریط کا شکار ہے جو کہ بڑی ہی مذموم چیز ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر خاتم النبیین کو بھی یہ ادب سکھلایا ہے اور پھر آپ کے واسطہ سے باقی امت کو بھی کہ وہ غریب اور نادار اہل ایمان کو حقیر نہ سمجھیں بلکہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار کریں ، ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں دولت مندوں کی خوشامد نہ کریں اور غرباء کو نظر انداز نہ کریں حضور ﷺ نے دعا میں بھی یہ الفاظ سکھلائے ہیں ” اللھم احینی مسکینا وامتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المسکین “ ۔ اے اللہ ! مجھے مسکین ہی زندہ رکھ اور مسکین کی حالت میں وفات دے اور امیر حشر بھی مسکینوں کے ساتھ ہی فرما ، آپ ﷺ نے ” حب المسکین “ کی بھی دعا فرمائی یعنی باری تعالیٰ مجھے مسکینوں کے ساتھ محبت رکھنے کی توفیق عطا فرما ، الغرض اللہ نے امراء کی نسبت غرباء کو ترجیح دی ہے اور انہیں کے ساتھ روابط قائم رکھنے کی تلقین فرمائی ہے ۔