18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 18:80–82

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور بہرحال وہ لڑکا پس تھے اس کے ماں باپ دونوں ایماندار پس ہم نے معلوم کیا کہ ڈال دے گا وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں ۔

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

پس ارادہ کیا ہم نے کہ تبدیل کر دے ان کے لیے ان کا پروردگار بہتر اس سے پاکیزگی میں اور زیادہ قریب شفقت میں ۔

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور بہرحال دیوار ، پس تھی وہ دو یتیم لڑکوں کی شہر میں ، اور تھا اس کے نیچے خزانہ ان کا ، اور ان دونوں کا باپ نیک آدمی تھا پس ارادہ کیا تیرے پروردگار نے کہ وہ دونوں پہنچ جائیں اپنی جوانی تک اور نکال لیں اپنے خزانے کو یہ سب مہربانی ہے تیرے پروردگار کی طرف سے اور نہیں کیا میں نے یہ کام اپنی مرضی سے ، یہ ہے حقیقت اس چیز کی کہ نہیں رکھتے تھے آپ اس پر صبر کی طاقت۔

ربط آیات : خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کے تیسرے اعتراض پر کہا (آیت) ” ھذا فراق بینی وبینک “۔ اب میرے اور تمہارے درمیان جدائی ہے ، البتہ پیش آمدہ تینوں واقعات کی حقیقت میں آپ پر واضح کیے دیتا ہوں ، کشتی کے واقعہ کے متعلق فرمایا کہ وہ چند مساکین کی کشتی تھی جو کشتی کے ذریعے محنت مزدوری کرکے اپنی اور اپنے معذور بھائیوں کی پیٹ پروری کرتے تھے ، ان کی کشتی کو عیب دار بنانے کی وجہ یہ تھی کہ آگے ایک ظالم بادشاہ تھا جو تمام صحیح سلامت کشتیوں کو بیگار میں پکڑ رہا تھا تو میں نے اس کشتی کو اس لیے توڑ دیا تاکہ یہ ظالم بادشاہ کے ہاتھوں غصب ہونے سے بچ جائے اور ان مساکین کا ذریعہ روزگار برقرار رہے ۔ (قتل غلام کی حکمت) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضرعلیہ السلام کا دوسرا واقعہ ایک بچے کے قتل کا تھا ایک بڑا اچھا بچہ دوسرے بچوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا ، جب ان دونوں حضرات کا وہاں سے گذر ہوا تو خضر (علیہ السلام) نے اس بےگناہ بچے کا سرپکڑ کر دھڑ سے علیحدہ کردیا ، یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) سخت گھبرائے اور بےاختیار ان کی زبان سے نکلا کہ تو نے ایک معصوم بچے کو قتل کردیا ہے ، اس واقعہ کی حکمت یوں بیان کی گئی ہے ، (آیت) ” واما الغلم فکان ابوہ مؤمنین “۔ اور بیشک وہ بچہ کہ اس کے ماں باپ ایماندار لوگ تھے (آیت) ” فخشینا “ ہم نے خطرہ محسوس کیا (آیت) ” ان یرھقھما طغیانا وکفرا “۔ کہ وہ ان دونوں کو سرکشی اور کفر میں ڈال دے گا ، اس بچے کے ساتھ والدین کو بڑی محبت ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ بڑا ہو کر وہ ان کے لیے وبال جان بن جائے گا اور یہ بات خود ان کے حق میں نقصان دہ ہوگی (آیت) ” فاردنا ان یبدلھما ربھما خیرا منہ زکوۃ واقرب رحما “۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ تبدیل کر دے ، ان دونوں یعنی والدین کے لیے اس لڑکے سے بہتر پاکیزگی کے اعتبار سے اور شفقت ومہربانی میں زیادہ قربت کے لحاظ سے مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اس بچے کی بجائے اس کے والدین کو دوسرا بہتر بیٹا عطا کرے اور اللہ کے حکم سے اس بچے کو راستے سے ہٹا دیا جائے اس بچے کے قتل کی یہ حکمت بیان کی ، دنیا میں نیک وبد ہر طرح کے بچے پیدا ہوتے رہتے ہیں جو والدین کی نیک نامی کا باعث بھی بنتے ہیں اور بعض اپنے والدین کے لیے بدنامی اور تکلیف کا ذریعہ بھی بنتے ہیں ، اس قسم کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ بچوں کی وجہ سے والدین کو آرام و راحت یا تکلیف و پریشانی اٹھانا پڑی ، تاہم اس بچے کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت تھی کہ وہ اس کے والدین کو اس کے شر سے بچانا چاہتا ہے ۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے (آیت) ” اما الغلم فطبع کافرا “۔ اس بچے کی استعداد اور صلاحیت اس قسم کی تھی کہ وہ بڑا ہو کر کافر ہی ہوتا ، لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت میں بچے کی بہتری اسی میں تھی کہ بچے کو مکلف ہونے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے تاکہ یہ کفر وسرکشی کی سزا سے بچ جائے اور ماں باپ کے حق میں بھی یہی بہتر تھا کیونکہ وہ بچے کے کفر کی وجہ سے خود بھی کفر ، یں پڑنے والے تھے مگر اللہ نے انہیں بچا لیا ۔ انسان کی سرشت کے متعلق صاحب تفسیر مظہری اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا ظہور اللہ تعالیٰ کے کسی اسم اور صفت کے نتیجے میں ہوتے ہے ، بعض لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت علم غالب ہوتی ہے اور وہ شخص عالم فاضل ظاہر ہوتے ہیں ، اسی طرح جس شخص میں صفت رحم کا غلبہ ہوتا ہے وہ بڑے رحمدل واقع ہوتا ہے گویا ایسے اشخاص کا مبداء تعین اللہ کی کوئی نہ کوئی صفت ہوتا ہے ، اس مقتول بچے کا مبدا تعین اللہ کی صفت مضل تھا لہذا اس سے بڑا ہو کر اسی صفت کا ظہور متوقع تھا یہ بچہ جوان ہو کر یقینا کفر وگمراہی میں مبتلا ہوتا اور چونکہ والدین کو اس کے ساتھ بڑی محبت تھی ، اس لیے ہو بھی اس کے پیچھے لگ کر کفر وضلالت کا شکار ہوجاتے ، لہذا اس کے قتل میں اللہ کی یہی حکمت کار فرما تھی کہ بچہ اور والدین دونوں سزا سے بچ گئے اور اس صفت مضل والے بچے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے انہیں مومن بچہ عطا کردیا ۔ (بچے کا نعم البدل) بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقتول بچے کی جگہ اس کے والدین کو نیک اور اطاعت گزار بچہ عطا فرمایا تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ بچے کی جگہ اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی صالحہ بچی عطا فرمائی جب یہ بچی جوان ہوئی تو اس کا نکاح اللہ کے ایک نبی کے ساتھ ہوا ، اور پھر اس سے آگے ایک نبی پیدا ہوا جس کی وجہ سے اللہ کی مخلوق میں سے ایک امت کو ہدایت نصیب ہوئی ، بعض مفسرین تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اس بچی کی نسل میں سے اللہ تعالیٰ نے ستر نبی پیدا فرمائے ، یہ تھا اس مقتول بچے کا نعم البدل جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ارادہ کیا کہ ان کا پروردگار ان کے لیے پاکیزگی اور شفقت کے اعتبار سے بہتر بچہ تبدیل کر دے ۔ (لفظ خشینا کی تشریح) گذشتہ آیت کریمہ میں لفظ ” خشینا “۔ اس لحاظ سے بحث طلب ہے کہ یہ خضر (علیہ السلام) کی طرف منسوب ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف اگر یہ خضر (علیہ السلام) کا کلام ہو تو ظاہر ہے کہ انہیں خدشہ محسوس ہوا کہ یہ بچہ جوان ہو کر سرکشی اور کفر میں مبتلا ہوجائے گا ، لہذا انہوں نے اس کو راستہ سے ہٹا دیا چونکہ (آیت) ” خشینا “ اور اس آیت کا لفظ ” اردنا “ جمع کے صیغے ہیں لہذا ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف معلوم ہوتی ہے ویسے یہاں پر ادب کا تقاضا بھی ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ، جہاں کشتی کو عیب ناک بنانا مقصود تھا وہاں خضر (علیہ السلام) نے اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ” اردت “ واحد کا صیغہ استعمال کیا کہ میں نے ایسا ارادہ کیا اور یہاں پر چونکہ فی الجملہ فساد والی اور فی الجملہ اصلاح والی دونوں باتیں ہیں ، لہذا یہاں پر ” فاردنا “ جمع کا استعمال کیا ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ (آیت) ” خشینا “ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اندیشہ کیا کہ بچہ والدین کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا ، یہاں پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ خوف کا اطلاق مخلوق پر ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ تو ڈر خوف سے پاک ہے چناچہ مفسرین کرام خشیت کا اطلاق علم پر کرتے ہیں کیونکہ علم کا نتیجہ ہی خشیت ہوتا ہے اس لحاظ سے خشینا کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم جانتے تھے کہ یہ بچہ جوان ہو کر والدین کو سرکشی میں ڈال دے گا ، اس لیے ہم نے ارادہ کیا کہ اس کو ہٹا کر اس کا بہتر نعم البدل عطا کیا جائے امام ابن جریر (رح) اور صاحب مجمع البحرین وغیرہ کہتے ہیں (آیت) ” فخشینا “۔ کا معنی ” فکرھنا “ ہے یعنی ہم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر اپنے ماں باپ کو سرکشی میں مبتلا کر دے لہذا ہم نے اس کی بجائے مومن بچہ عطا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ (موسی (علیہ السلام) کے لی کے تنبیہ) کسی شخص کا قتل بہت بڑا گناہ ہے مگر خضر (علیہ السلام) کے ہاتھوں بچے کا قتل موسیٰ (علیہ السلام) کے بھی حسب حال ہے ایسا ہی قتل آپ کے ہاتھوں سے بھی ہوا تھا جب ایک قبطی ایک بنی اسرائیل سے جھگڑ رہا تھا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو ایک مکا مارا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا ، اگرچہ یہ قتل خطا تھا ، مگر فرعون کے مظالم کے خوف سے موسیٰ (علیہ السلام) گھبرا گئے اور مصر چھوڑ کر مدین چلے گئے تو ا س بچے کے قتل کا واقعہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تنبیہ بھی ہے کہ آپ نے بھی تو ایک قبطی کو قتل کردیا تھا ، پھر بھلا خضر (علیہ السلام) کے ہاتھوں قتل ہونے پر کیسے اعتراض کردیا ؟ آگے سورة القصص میں آتا ہے کہ قتل کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا (آیت) ” ھذا من عمل الشیطن “۔ یہ تو شیطانی حرکت ہے ارادہ تو ایک مظلوم کے ساتھ خیر خواہی کا تھا مگر قتل ہوگیا ، خضر (علیہ السلام) نے اس بچے کو بھی اس کے والدین اور خود اس کی خیر خواہی کے طور پر قتل کیا تھا مگر یہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فورا اعتراض کردیا اور انہیں اپنا قتل یاد نہ آیا بہرحال اس واقعہ میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت اور تنبیہہ مقصود تھی ۔ (دیوار کی درستگی کی حکمت) تیسرا واقعہ ایک بستی میں دیوار کی درستگی کے متعلق تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) اس بستی میں پہنچے تو انہیں بھوک لگ رہی تھی انہوں نے بستی والوں سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا اسی بستی میں ایک شکستہ دیوار پر نظر پڑی جو گرنا ہی چاہتی تھی ، خضر (علیہ السلام) نے ہاتھ سے پکڑ کر اس دیوار کو سیدھا کردیا ، یہ دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) خاموش نہ رہ سکے اور فورا بول اٹھے ، آپ نے ان بےمروت لوگوں کے ساتھ یہ احسان کیسے کردیا جنہوں نے آپ کو کھانا بھی مہیا نہیں کیا آپ تو اس دیوار کی درستگی پر اجرت لے سکتے تھے ، اس پر خضر (علیہ السلام) نے دیوار کی درستگی کی یہ حکمت بیان کی (آیت) ” واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ “۔ اور بہرحال وہ دیوار شہر میں دو یتیم بچوں کی ملکیت تھی (آیت) ” وکان تحتہ کنزلھما “۔ اور اس دیوار کے نیچے ان یتیموں کا خزانہ تھا ، تفسیر یہی ہے کہ سونا چاندی زیر زمین دفن تھا ، بعض کہتے ہیں کہ وہاں کوئی تختی مدفون تھی جس پر نصیحت کی بعض باتیں لکھی ہوئی تھی ، بہرحال وہ مالی لحاظ سے یا پند ونصائح کے اعتبار سے قیمتی چیز تھی ، راجح بات یہی ہے کہ سونا یا چاندی تھی یا سونے کی تختی تھی اگر وہ دیوار گر جاتی تو خزانہ ظاہر ہوجاتا اور یتیم بچوں کا مال گاؤں کے دوسرے لوگ ہتھیا لیتے ۔ اور دوسری بات یہ تھی (آیت) ” وکان ابوھما صالحا “۔ اور ان دو یتیموں کا باپ نیک آدمی تھا اسکی نیکی کے صلہ میں (آیت) ” فاراد ربک ان یبلغا اشدھما “۔ پس تیرے پروردگار نے ارادہ کیا کہ دونوں بچے سن بلوغت کو پہنچ جائیں (آیت) ” ویستخرجا کنزھما “۔ اور وہ اپنا خزانہ خود نکال لیں ، ” اشد “ کی ایک منزل تو بلوغت ہے جب آدمی ذرا سیانا ہو کر شرعی طور پر مکلف ہوجاتا ہے البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں پچیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد یتیم کا مال اس کے سپرد کردینا چاہئے خواہ وہ بےسمجھ ہی ہو ، بعض کہتے ہیں کہ چالیس سال کی عمر تک انتظار کرنا چاہئے کیونکہ انسان کو عقل اور قوت اس عمر میں جا کر حاصل ہوتی ہے ۔ سونا چاندی زمین میں پیدائشی طور پر پایا جائے یا بعد میں دفن کیا گیا ہو ، کنز ہی کہلاتا ہے پھر جو وہ برآمد ہوجائے تو اس پر زکوۃ کا خاص حکم لاگو ہوتا ہے جسے خمس کہا جاتا ہے یعنی کل مال کے چار حصے خزانے کے مالک کے ہوں گے اور پانچواں حصہ بطور زکوۃ ادا کیا جائے گا ۔ (والدین کی نیکی کا صلہ) جیسا کہ اس واقعہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے یتیم بچوں کے خزانہ کی حفاظت کا بندوبست ان کے باپ کی نیکی کے صلہ میں کیا یہی قانون ہمارے لیے بھی نافذ العمل ہے ، اگر کوئی نیکی آدمی ہو تو اس کی اولاد کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہئے ایک حدیث میں آتا ہے کہ نیک آدمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے اہل خاندان بلکہ اردگرد کے رہنے والے لوگوں کی بھی حفاظت کرتا ہے ایک خارجی اور امام حسین ؓ کی کسی موقع پر تفت و شنید ہوگئی ۔ امام حسین ؓ نے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان یتیم بچوں کے مال کی حفاظت کیوں کی تو خارجی نے جواب دیا کہ ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ، امام حسین ؓ نے فرمایا کہ ان یتیموں کے والدین کی نسبت میرے والدین نیکی میں بڑھے ہوئے ہیں ، پھر تم ان کی مخالفت کیوں کرتے ہو اور ہمارا خیال کیوں نہیں رکھتے ؟ اس شخص سے کچھ جواب نہ بن پڑا تو کہنے لگا ، تم خاندان قریش کے قریش کے لوگ بڑے جھگڑالو واقع ہوئے ہو ۔ (خضر مامور من اللہ تھے ) فرمایا ان یتیم بچوں کے ساتھ خضر (علیہ السلام) کی خیرخواہی (آیت) ” رحمۃ من ربک “۔ تیرے پروردگار کی مہربانی تھی ، (آیت) ” وما فعلتہ عن امری “۔ اور خیر خواہی کا یہ کام میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا ، بلکہ یہ تو میں نے اللہ کے حکم سے کیا ہے کیونکہ اس کے حکم کا پابند ہوں اسی طرح کشتی کی شکستگی اور بچے کے قتل میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کا حکم کار فرما تھا کیونکہ میں تو مامور من اللہ ہوں ، اس کے بعد خضر (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” ذلک تاویل مالم تسطع علی صبرا “۔ یہ ہے حقیقت ان امور کی جن پر صبر کرنے کی آپ طاقت نہیں رکھتے تھے اگرچہ یہ تینوں کام بظاہر خلاف واقع تھے مگر ان کی حقیقت کو اللہ ہی جانتا تھا اور اسی کے حکم سے میں نے یہ کام انجام دیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کے علوم میں فرق تھا صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے کہا ” یا موسیٰ انی علی علم من علم اللہ علمنیہ لا تعلمہ انت وانت علی علم من علم اللہ علمک اللہ لا اعلمہ “۔ اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک علم دیا ہے جسے آپ نہیں جانتے ، اور اللہ نے آپ کو ایک علم دیا ہے جسے میں نہیں جانتا یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے جسے جو چاہے دے دے دونوں انبیاء کے محکمے الگ الگ تھے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو شریعت کا علم عطا فرما تھا جب کہ خضر (علیہ السلام) کے پاس تکوینیات کا محکمہ تھا اور آپ اسی سلسلہ میں اپنا فرض ادا کر رہے تھے ۔
Ayahs 18:83–88

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور لوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ کہ دیجئے کہ میں پڑھ کر سناتا ہوں تمہیں اس کا کچھ ذکر ۔

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

بیشک ہم نے قدرت دی اس کو زمین میں اور دیا ہم نے اس کو ہر ایک چیز سے سامان ۔

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

پس چلا وہ ایک رستے پر ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ پہنچا سورج غروب ہونے کی جگہ پر ، تو پایا اس کو کہ وہ غروب ہوتا ہے ایک سیاہ ندی میں ، اور پایا اس نے اس کے پاس ایک قوم کو ، ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! یا تو ان کو سزا دو اور یا ان میں نیکی پکڑو ۔

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

اس نے کہا جس شخص نے ظلم کیا پس عنقریب ہم اس شخص کو سزا دیں گے پھر وہ لوٹایا جائے گا اپنے پروردگار کی طرف ، وہ اس کو سزا دیگا سخت سزا ۔

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو شخص ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا پس اس کے لیے بدلہ ہے اچھا اور ہم بھی کہیں گے اس کے لیے اپنا معاملہ میں آسانی کی بات ۔

(تین واقعات تین اصول) یہ بات گذشتہ سورة اور اس سورة کے مضامین کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہے کہ مشرکین مکہ نے یہودیوں کے ایماء پر حضور ﷺ سے تین سوال کیے تھے ، پہلا سوال روح کے بارے میں تھا ، جس کا مختصر جواب اللہ تعالیٰ نے سورة بنی اسرائیل میں دیا ہے باقی دوسوالات اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق تھے جن میں سے اصحاب کہف کی تفصیل اسی سورة کی ابتدا میں بیان ہوچکی ہے اور ذوالقرنین کے متعلق بعض انکشافات اب آرہے ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة میں مذکورہ تین واقعات میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے تین بنیادی قوانین بیان فرمائے ہیں ، اصحاب کہف کے واقعہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں استقلال کا قانون سمجھایا ہے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے والے اصحاب کہف اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے اور نہایت بےسروسامانی کی حالت میں ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ، اس میں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر ایماندار شخص کو اصحاب کہف کے واقعہ سے استقلال کی تعلیم حاصل کرکے ایمان کے سلسلہ میں ہمیشہ مستقل مزاج رہنا چاہئے جس طرح اللہ نے اصحاب کہف کی حفاظت فرمائی اسی طرح وہ ہر استقلال اختیار کرنے والے شخص کی مدد فرمائے گا ۔ دوسرا واقعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر (علیہ السلام) کا بیان ہوا ہے جس میں ہمارے لیے صبر کی تقلین ہے انسان کو چاہئے کہ ناقابل فہم اور ناقابل برداشت امور میں صبر کا دامن تھامے رکھے ، مذکورہ واقعہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑی پریشانی اٹھانا پڑی ، انہوں نے ہر چند برداشت کرنے کی کوشش کی مگر وہ خضر (علیہ السلام) کی رفاقت کو قائم نہ رکھ سکے ، خضر (علیہ السلام) نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میری معیت میں عجیب و غریب واقعات دیکھ کر صبر نہیں کرسکیں گے ، چناچہ ان تین واقعات کے علاوہ موسیٰ (علیہ السلام) مزید معلومات حاصل نہ کرسکے اور دونوں حضرات میں جدائی واقع ہوگئی گویا اس واقع میں ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ ہم صبر کا دامن کبھی نہ چھوڑیں ، اسی طرح ذوالقرنین کے واقعہ میں ہمیں شکر کی تلقین کی گئی ہے جس طرح ذوالقرنین نے خدا تعالیٰ کی طرف سے انعامات پاکر اس کا شکر ادا کیا اسی طرح ہمیں بھی ہمیشہ شکر کا الترام کرنا چاہئے ۔ (ذوالقرنین کا تعارف) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویسئلونک عن ذلقرنین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ لوگ آپ سے ذوالقرنین کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کون تھا اور اس نے کیا کارگزاری انجام دی ؟ ذوالقرنین کی شخصیت کے متعلق لوگوں کے نظریات مختلف ہیں بعض نے کہا کہ ذوالقرنین سے مراد سکندر یونانی ہے جس نے تیس پینتس برس کی عمر میں آدھی دنیا کو فتح کرلیا تھا تاریخ میں اس کا ذکر کثرت سے ملتا ہے اس کا وزیر ارسطاطالیس (ارسطو) تھا ، یہ بہت بڑا حکیم تھا ، منطق کا موجد تھا ، اخلاق اور سیاسیات میں اس کی تصنیفات بڑی مشہور ہیں ، ارسطو افلاطون کا شاگرد تھا یہ سکندر ابن فیلقوس مسیح (علیہ السلام) سے تقریبا سوا تین سو سال پہلے گزرا ہے تاریخ میں آتا ہے کہ یہ ٹیکسلا اور پھر جہلم تک بھی آیا تھا اس شخص پر ذوالقرنین کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ آدمی مشرک تھا جب کہ جس ذوالقرنین کا ذکر قرآن پاک نے کیا ہے وہ مومن اور نیک آدمی تھا ، اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا تھا اس نے خانہ کعبہ کا طواف بھی کیا ، یہ سب تفسیری روایات میں آتا ہے قرآن وحدیث سے یہ تفصیلات نہیں ملتیں ، اس قیاس کی بناء پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ذوالقرنین سے مراد سکندر یونانی نہیں بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے قریب پیدا ہونے والا سکندر اول ہے ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ذوالقرنین سے مراد ایرانی سلطنت کا بانی کے خسرو ہے جسے سائرس بھی کہا جاتا ہے ، یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کے قریب گزرا ہے اس کو ذوالقرنین اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس نے فارس اور میڈیا کی دو سلطنتوں کو یکجا کردیا تھا مفسرین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس شخص کی پیش گوئی پہلے انبیاء کی کتابوں میں بھی موجود تھی ، وہاں بھی اسے دو سینگوں والا ہی کہا گیا تھا ، گویا یہ ایسا بادشاہ ہوگا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کرسکے گی ، بعض مفسرین فریدون بادشاہ کا نام بھی لیتے ہیں جس کا ذکر فارسی تاریخ میں ملتا ہے بعض کہتے ہیں کہ ذوکا لقب عام طور پر یمن کی قوم تبع کے ساتھ لگتا ہے ، لہذا ہو سکتا ہے کہ اسی قوم کا کوئی بادشاہ ہو ، ان تمام شواہد کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ ذوالقرنین سے مراد سکندر یونانی نہیں بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کا سکندر اول ہے بعض نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شاید یہ بنی تھا مگر اکثر مفسرین نے اسے نبی کی بجائے نیک اور صالح انسان کہا ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دنیا میں چار بادشاہ ایسے گز رہے ہیں جنہیں مجموعی طور پر ساری دنیا پر تسلط حاصل رہا ہے ان میں سے دو بادشاہ کا فر اور دو ایماندار تھے پہلا بادشاہ ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے کا نمرود تھا اور دوسرا بخت نصر تھا جس نے یہودیوں پر غلبہ حاصل کیا تھا یہ دونوں کافر تھے ، البتہ ایماندار بادشاہوں میں ایک سکندر ذوالقرنین ہیں جن کا ذکر ہو رہا ہے اور دوسرے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے مثالی حکومت کے لیے اس طرح دعا کی تھی (آیت) ” ھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی (ص ، 35) یا اللہ ! مجھے ایسی حکومت عطا فرما ، جو میرے بعد کسی دوسرے کے حصے میں نہ آئے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی ہی سلطنت عطا فرمائی ۔ (قرنین کی وجہ تسمیہ) قرنین کا لغوی معنی دو سینگ ہیں ، اس کی ایک وجہ تو پہلے بیان ہوچکی ہے کہ اس شخص نے فارس اور میڈیا کی دوسلطنتوں کو جوڑ کر ایک کردیا تھا بعض فرماتے ہیں کہ ذوالقرنین کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ شخص دنیا کے دونوں مشرقی اور مغربی کناروں تک پہنچا ، اس لیے ذوالقرنین کا لقب دیا گیا ۔ (ذوالقرنین پر انعامات) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویسئلونک عن ذالقرنین “۔ آپ سے ذوالقرنین کے متعلق پوچھتے ہیں ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ساتلوا علیکم منہ ذکرا “۔ میں تم کو اس کا کچھ حال پڑھ کر سناتا ہوں ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” انا مکنا لہ فی الارض “۔ ہم نے اسے زمین میں ٹھکانا دیا ، یعنی اس کو خوب اقتدار عطا کیا (آیت) ” واتینہ من کل شیء سببا “۔ اور اسے ہر قسم کا سازو سامان بھی وافر دیا ، سبب سے مراد رسی بھی ہوتی ہے اور وسیلہ یا تعلق بھی ، اس سے راستہ بھی مراد لیا جاتا ہے ، آگے راستہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ، اس کا اطلاق سامان پر بھی ہوتا ہے ، اس میں علم بھی داخل ہے کیونکہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس چیز کے ذریعے انسان اپنے مقصود تک پہنچتا ہے وہ سبب کہلاتا ہے اور اس میں روپیہ پیسہ ، آلات اور علم بھی شامل ہے ، مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو وہ تمام ضروریات فراہم کردی تھیں جن کے ذریعے اتنی وسیع سلطنت کا انتظام وانصرام کیا جاسکتا تھا ، بہرحال (آیت) ” کل شیء سے مراد کائنات کی ہر بڑی چھوٹی چیز مراد نہیں بلکہ وہ تمام اشیاء مراد ہیں جو اس زمانے کی ضروریات مملکت کے لیے مطلوب تھیں ۔ (مغربی سفر) جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ذوالقرنین نے اپنی زندگی میں تین طویل سفر کیے ، یہاں پر پہلے مغربی سفر کا ذکر ہورہا ہے ، (آیت) ” فاتبع سببا “ پھر وہ ایک راستے پر چلا (آیت) ” حتی اذا بلغ مغرب الشمس “ یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کی جگہ پر پہنچا (آیت) ” وجدھا تغرب فی عین حمئۃ “۔ تو اسے ایک سیاہ ندی میں غروب ہوتا پایا ، وہاں کا پانی اور مٹی سیاہ رنگ کی تھی ، بعض نے اس سے بحرہ اسود مراد لیا ہے جس کی سرحد روس اور ترکی کے ساتھ ملتی ہے اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ سورج سیاہ دلدل میں ڈوب رہا ہے ایک قرات میں ” عین حامئۃ “ بھی پڑھا گیا ہے جس کا مطلب گرم چشمہ ہے ۔ دراصل سورج تو کہیں غروب نہیں ہوتا بلکہ اپنی منزل پر چوبیس گھنٹے اور بارہ مہینے رواں دواں رہتا ہے ، اللہ نے سورج اور چاند کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” کل فی فلک یسبحون “ (یونس ۔ 40) سب اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں بات یہ ہے کہ زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے آجاتا ہے ، وہاں سورج طلوع ہوتا نظر آتا ہے اور جو حصہ زمین سورج کی دوسری طرف جا رہا ہوتا ہے ، موجود ہو اسے وہیں سورج طلوع اور غروب ہوتا نظر آئے گا اگر وہ کسی صحرا میں ہے تو وہ سورج کو زمین میں غروب ہوتا پائے گا اور اگر وہ سمندر کے کنارے پر ہے یا سمندر میں سفر کر رہا ہے کررہا ہے تو اسے سورج پانی میں ڈوبتا نظر آئے گا جب حاجی کراچی اور جدہ کے درمیان ہفتہ بھر کا بحری سفر اختیار کرتے ہیں تو وہ ہر روز سورج کو سمندر سے طلوع ہوتا اور اسی میں غروب ہوتا دیکھتے ہیں بہرحال ذوالقرنین مغرب کی طرف چلتے چلتے ایسے مقام تک پہنچ گیا ، جہاں کوئی ندی تھی یا بحر اسود تھا اس نے دیکھا کہ سورج پانی میں غروب ہو رہا ہے ” حما “ سے دلدل بھی مراد لی جاتی ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہاں سیاہ رنگ کی دلدل ہو۔ (مفسد قوم سے سلوک) جب ذوالقرنین اس مقام پر پہنچا (آیت) ” ووجدعندھا قوما “۔ تو وہاں اس نے کچھ لوگوں کو پایا یہ لوگ ایماندار نہیں تھے بلکہ سرکش اور فسادی تھے ان کی زبان اور معاشرت بھی مختلف تھی ، مفسریں فرماتے ہیں کہ یہ وحشی قسم کے لوگ تھے جو چمڑے کا لباس پہنتے تھے اور عقیدے کی برائی میں مبتلا تھے جب وہاں پہنچے تو اللہ نے فرمایا (آیت) ” قلنا یذا القرنین “ ہم نے کہا اے ذوالقرنین ! (آیت) ” ام ان تعذب “ یا تو تم ان کو سزا دو (آیت) ” واما ان تتخذ فیھم حسنا “۔ اور یا ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، مفسد لوگوں کو ان کو ان کی بری کار گزاری کی سزا بھی دی جاسکتی ہے اور بعض اوقات اگر ان کے ساتھ حسن سلوک اختیار کیا جائے تو تب بھی وہ برائی سے باز آجائے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اختیار دیدیا کہ ان کے ساتھ جو چاہو سلوک کرو (آیت) ” قال ذوالقرنین “۔ نے کہا (آیت) ” اما من ظلم “ جو شخص ظلم کرے گا (آیت) ” فسوف نعذبہ “۔ تو ہم اس کی سزا دیں گے کفر شرک ، ظلم اور تعدی کرنے والوں کو سزا دی جاسکتی ہے ، یہ اصول بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ تعدی کرنے والوں کو معاف نہ کیا جائے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اجتماعی نظام کے لیے ضروری ہے کہ اچھے لوگوں کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اور بدمعاشوں کی سرکوبی کی جائے اگر ایسا نہیں ہوگا تو نظام سلطنت بگڑ جائے گا اور ملک میں بدامنی پیدا ہو جائیگی ، البتہ انگریزی قانون میں اس اصول کی پانبدی نہیں کی جاتی ، وہاں تو مفاد کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس طرف ہے بعض اوقات مفاد کی خاطر غنڈوں کو بھی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے بہرحال سکندر ذوالقرنین نے کہا کہ ہم ہر ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دیں گے (آیت) ” ثم یرد الی ربہ “ پھر وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جاے گا ، (آیت) ” فیعذبہ عذابا نکرا “۔ پھر وہ اس کو سخت سزا دے گا جب آخرت میں خدا کی عدالت میں پیش ہوگا تو وہاں کا عذاب بھی چکھنا پڑیگا ذوالقرنین نے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی پر تو ہم سزا دیں گے مگر حقیقی اور آخری سزا خدا تعالیٰ دے گا ۔ (اہل ایمان کے لیے جزائ) ذوالقرنین نے یہ بھی (آیت) ” واما من امن “۔ اور جو شخص ایمان لائے گا (آیت) ” وعمل صالحا “۔ اور اچھے اعمال انجام دے گا ، اچھے اعمال میں نماز ، روزہ ، زکوۃ ، اور حج عبادات اربعہ ہیں ، اس کے علاوہ جہاد ، قربانی ، صدقہ ، خیرات ، سماحت ، عدل وغیرہ سب نیک افعال ہیں جن کو انجام دینے سے انسان نجات کا مستحق بنتا ہے ، تاہم ان سب اعمال کا مدار ایمان پر ہے کہ انسان اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے اس کے رسولوں ، ملائکہ کتب کو برحق مانے ، تقدیر اور معاد پر یقین کرے ایسا شخص مومن ہوگا اور اعمال صالحہ کی انجام دی پر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر اجر کا مستحق ہوگا ، فلہ جزآء الحسنی “ اس کے لیے اچھا بدلہ ہوگا اس کا احترام کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا (آیت) ” وسنقول لہ من امرنا یسرا “۔ اور ہم اپنے معاملہ میں اس کے لیے آسان بات کہیں گے نیک اور ایماندار آدمی کے ساتھ حسن سلوک ہی روا ہے ، ایسے شخص کے ساتھ بدسلوکی کرنا ظلم کے مترادف ہے چناچہ سکندر ذوالقرنین نے بھی یہی کہا کہ ایماندار اور نیک آدمی کے ساتھ ہم بھی آسانی کریں گے اور سرکش کو ضرور سزا دیں گے ۔
Ayahs 18:89–94

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر وہ چلا ایک راستے پر ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ پہنچا سورج نکلنے کی جگہ پر پایا اس نے سورج کو کہ طلوع کرنا ہے ایسے لوگوں پر کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے لیے اس (سورج) کے درے کوئی حجاب۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

اسی طرح تھا (یہ معاملہ) اور تحقیق ہم نے احاطہ کیا اس چیز کا جو اس کے پاس تھی خبر ۔

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر وہ چلا ایک راستے پر ۔

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ پہنچا دو پہاڑوں کے درمیان پایا ان دونوں کے درے ایک قوم کو ، نہیں قریب تھے کہ وہ سمجھے بات کو ۔

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

انہوں نے کہا ، اے ذوالقرنین ! بیشک اقوام یاجوج ماجوج فساد کرتے ہیں زمین میں ، پس کیا ہم مقرر کردیں آپ کے لیے کوئی خراج ، اس پر کہ آپ بنا دیں ہمارے درمیان اور ان کے درمیان ایک رکاوٹ ۔

(ذوالقرنین کا مشرقی سفر) ذوالقرنین کے تین سفروں میں مغربی سفر کا حال گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے اب آج کے درس میں مشرقی اور شمالی سفر کا حال بیان ہو رہا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا جو کہ مشرق کی طرف تھا تفسیری روایات کے مطابق یہ سفر بارہ سال میں مکمل ہوا ۔ واللہ اعلم کم وبیش عرصہ بھی ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو خاص فضیلت بخشی تھی اور خصوصی قوت بھی عطا فرمائی آپ سے بعض امور معجزانہ طور پر بھی سرزد ہوئے ، اس لیے عین ممکن ہے کہ یہ سفر کم ترعرصہ میں طے ہوگیا ہو اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق بخشی تھی بہرحال انہوں نے مشرق کی طرف سفر اختیار کیا (آیت) ” حتی اذا بلغ مطلع الشمس “۔ یہاں تک کہ جب وہ سورج نکلنے کی جگہ پر پہنچا ، (آیت) ” وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا سترا “۔ وہاں اس نے پایا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتا ہے کہ نہیں بنایا ہم نے ان کے اور سورج کے درے کوئی حجاب مطلب یہ ہے کہ وہ قوم بالکل بےحجاب تھی انہوں نے کوئی مکان نہیں بنا رکھے تھے اور نہ وہ کسی پہاڑ وغیرہ کی آڑ میں زندگی بسر کرتے تھے ، سورج کی تپش براہ راست ان لوگوں کے اجسام پر پڑتی تھی ہو سکتا ہے کہ مغربی لوگوں کی طرح یہ مشرقی لوگ بھی غیر متمدن ہوں ، مغربی لوگوں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو اختیار دے دیا تھا کہ اختیار دے دیا تھا کہ چاہے تو ان کو سزا دے دے یا ان کے ساتھ رعایت برتے ، اسی طرح ہو سکتا ہے کہ مشرق کے رہنے والے بھی غیر متمدن ہوں اور مکان وغیرہ بنانے کی وہ ضرورت ہی محسوس نہ کرتے ہوں یا مکانیت کا وہاں رواج ہی نہ ہو ، بعض کہتے ہیں کہ اس قوم کے لوگوں نے زیر زمین پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں جب سورج کی دھوپ تیز ہوتی تو ان پناہ گاہوں میں چلے جاتے ، بعض کہتے ہیں کہ شدت کی گرمی کے دوران یہ لوگ پانی میں داخل ہوجاتے ، جیسے بھینسیں وغیرہ پانی میں چلی جاتی اور جب دھوپ کی شدت میں کمی واقع ہوتی تو پھر باہر نکل آتے ، یہ سب غیر یقینی باتیں ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، صحیح بات اتنی ہی ہے جو قرآن وسنت سے ثابت ہے اللہ نے فرمایا ” کذلک “ معاملہ ایسا ہی تھا (آیت) ” وقد احطنا بما لدیہ خبرا اور تحقیق ہم نے ذوالقرنین کے ساتھ پیش آنے والے تمام حالات کا احاطہ کر رکھا ہے وہ سب کچھ ہمارے علم میں ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے ان حالات وواقعات کی مزید تفصیل نہیں بتائی ، مشرق اور مغرب میں ذوالقرنین جن مقامات تک پہنچا ، اللہ نے تمام علاقوں پر آپ کو تسلط عطا کیا تھا آپ کے لقب ذوالقرنین کی ویک وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ آپ دنیا کے دونوں کناروں تک پہنچے قرن کا معنے سینگ بھی ہوتا ہے اور کنارہ بھی ۔ (ذوالقرنین کا شمالی سفر) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم اتبع سببا “۔ پھر وہ ایک راستے پر چلا یعنی تیسرا سفر اختیار کیا مفسرین اور مؤرخین اپنے اندازے سے بتاتے ہیں کہ یہ سفر بجانب شمال تھا (آیت) ” حتی اذا بلغ بین السدین “۔ یہاں تک کہ جب وہ دو پہاڑوں کے درے میں پہنچا (آیت) ” وجد من دونھما قوما “۔ تو اس نے پہاڑوں کی اس طرف ایک قوم کو پایا (آیت) ” لا یکادون یفقھون قولا “۔ وہ ذوالقرنین ان لوگوں کی بات سمجھتے تھے اور نہ وہ لوگ ذوالقرنین کی زبان سے واقف تھے ، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں ذوالقرنین اور اس قوم کے درمیان مکالمے کا ذکر فرمایا ہے ۔ (ترجمان کی ضرورت) ظاہر ہے کہ یہ بات چیت کسی ترجمان کی وساطت سے ہوئی ہوگئی مختلف زبانیں جاننے والوں کے درمیان ترجمانی کا طریقہ قدیم زمانے سے رائج ہے اسکی مثال حضور ﷺ کے زمانہ میں بھی ملتی ہے ، آپ نے دعوت اسلام کے جو خطوط 7 ھ ؁ میں مختلف سلاطین کو بھیجے تھے ان میں ایک خط قیصر روم کے نام بھی تھا جو حضور کے صحابی حضرت دحیہ ابن خلیفہ کلبی ؓ کے ہاتھ بھیجا گیا ، حضور ﷺ نے دحیہ کلبی ؓ کو رخصت کرتے وقت ہدایت کی تھی کہ یہ خط براہ راست قیصر کے پاس نہ لے جانا بلکہ اسے گورنر بصرہ کو پیش کرکے کہنا کہ ہمارا یہ خط قیصر روم تک پہنچا دو ، دحیہ ؓ نے ایسا ہی کیا گورنر نے وہ خط آگے قیصر کو پہنچایا ، اس دوران قیصر اپنی نظر پوری کرنے کی خاطر عبادت کے لیے پاپیادہ بیت المقدس گیا ہوا تھا واپسی پر اسے خط پیش کیا گیا اور خط پڑھنے کے لیے ترجمان کی خدمات حاصل کی گئیں ، پیشتر اس کے کہ قیصر اس خط کے مندرجات سے آگاہی حاصل کرتا اس نے حکم دیا کہ اس کے علاوقے میں اگر کوئی عرب شخص موجود ہو تو اسے بھی پیش کیا جائے تاکہ وہ اس سے خط بھیجنے والے کہ متعلق کچھ معلومات حاصل کرسکے بادشاہ کے کارندے فورا قریبی شہروں میں روانہ ہوگئے تاکہ کسی عرب باشندے کو تلاش کرسکیں اور وقت ابو سفیان ؓ جو ابھی تک اسلام نہیں لائے تھے ، ایک تجارتی قافلے کے ساتھ موجود تھے ، شاہ کے کارندے ان کو ساتھ لے گئے اور بادشاہ کے دربار میں پیش کردیا ، بادشاہ نے ابو سفیان کی عزت افزائی کی ، ان کو آگے بٹھایا اور ان کے ساتھیوں کو پیچھے جگہ دی پھر ترجمان کو بلایا گیا جو عربی اور رومی زبانوں سے واقف تھا اور ساری گفتگو اس کے ذریعے ہوئی قیصر روم نے ان اجنبیوں سے پوچھا کہ تم میں مدعی نبوت کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والا کوئی آدمی بھی ہے تو ابوسفیان ؓ نے کہا کہ ہاں میں انہیں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ، ہمارے پڑدادا ایک ہی تھے نیز ابوسفیان کی بیٹی بھی حضور ﷺ کے نکاح میں تھی ، لہذا قربت کا یہ بھی ایک ذریعہ تھا ، بہرحال یہ ساری گفتگو ترجمان کے ذریعے ہوئی ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ذوالقرنین اور اس شمالی قوم کے درمیان گفتگو بھی کسی ترجمان کے ذریعے ہی ہوتی ہوگی ، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے تھے ۔ (ذوالقرنین اور قوم کا معاملہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قالوا یذالقرنین “۔ ان لوگوں نے کہا اے ذوالقرنین ! (آیت) ” ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض “۔ بیشک اقوام یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرنے والے ہیں دراصل یاجوج ماجوج دو پہاڑوں کے درے سے اس طرح آباد تھے اور یہ قوم ادھر تھی یاجوج ماجوج درے سے گزر کر اس قوم کی طرف آجاتے تھے اور یہاں آکر قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتے فصلیں تباہ کردیتے اور جو کچھ ہاتھ آتا لے کر اپنے علاقے میں چلے جاتے یہ قوم کمزور تھی اور یاجوج ماجوج کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ تھی لہذا یہ ان سے بڑے تنگ تھے انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے ذوالقرنین کے سامنے اس طرح درخواست پیش کی ، کہنے لگے اے ذوالقرنین ! یہ فسادی لوگ ہیں (آیت) ” فھل نجلع لک خرجا علی “۔ کیا ہم آپ کے لیے کوئی خراج یا ٹیکس مقرر کردیں جو آپ کو باقاعدگی سے ادا کرتے رہیں اس کام کے عوض (آیت) ” ان تجعل بیننا وبینھم سدا “۔ کہ تو ہمارے اور یاجوج ماجوج کے درمیان اس پہاڑ درے میں رکاوٹ کھڑی کردے تاکہ یہ لوگ ہماری طرف آکر ہمیں تنگ نہ کریں ، ذوالقرنین نے ان کی یہ درخواست قبول کرلی اور دو پہاڑوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جس کا ذکر اگلے درس میں آئے گا ، انشاء اللہ ۔ (اقوام یاجوج ماجوج) قرآن پاک میں یاجوج وماجوج کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے پہلا مقام تو یہی سورة الکہف ہے اور دوسرا مقام سورة الانبیاء میں ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے قیامت کی نشانی کے طور پر یاجوج ماجوج اقوام کا تذکرہ کیا ہے مفسرین اور مؤرخین نے ان اقوام کے متعلق بہت کچھ لکھا ہے مگر صحیح بات وہی ہے جو یا قرآن پاک میں آگئی ہے یا حضور ﷺ کے ارشادات میں ملتی ہے ، باقی باتیں تو بالکل ڈھکوسلے ہیں ، یا پھر غیر یقینی ہیں ، تاہم اتنا یقینی ہے کہ یاجوج وماجوج کا تعلق نسل انسانی سے ہے کعب احبار کی روایت کے مطابق ان اقوام کا سلسلہ نسب حضرت آدم (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے مگر ان کا تعلق حضرت حوا سے قائم نہیں ہوتا ، زیادہ صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافث کی اولاد سے ہیں اور اس طرح ان کا سلسلہ نسب آدم اور حوا دونوں تک پہنچتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت سے پہلے ساری دنیا پر یاجوج ماجوج کا غلبہ ہوگا یہ لوگ بڑی تباہی مچائیں گے ، حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق کسی وبائی مرض (طاعون وغیرہ میں) مبتلا ہو کر ایک دم ہی ہلاک بھی ہوجائیں گے ، کتاب الایمان میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ عام انسانوں اور اقوام یاجوج ماجوج کی آبادی کا تناسب ایک اور نو سو نناوے (999) کا ہے یہ تمام لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جہنمی ہوں گے ۔ اس آیت میں مذکور دو پہاڑوں اور ان کے درمیان درے کے مقام وقوع کے متعلق بھی بڑا اختلاف پایا جاتا ہے ، بعض کہتے ہیں کہ بحراخضر کے قریب یہ وہ جگہ ہے جو باب الابواب یا در بند کے نام سے مشہور ہے اس زمانے میں بند کی تعمیر بعض دوسرے بادشاہوں سے بھی ثابت ہے جیسے چینیوں نے پندرہ سو میل لمبی مشہور دیوار چین تعمیر کرلی تھی ، بہرحال یاجوج ماجوج اور ان پہاڑوں کے محل وقوع کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا صحیح بات یہ ہے کہ یہ اقوام اس وقت نظروں سے اوجھل ہیں اور ان کا ظہور قیامت کے قریبی زمانے میں ہوگا ، اس زمانے میں لوگ کہتے ہیں کہ آج کے سائنسی دور میں دنیا کا کوئی گوشہ نظروں سے اوجھل نہیں رہا مگر یاجوج وماجوج کہیں نظر نہیں آئے ، تو یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مخفی رکھنا چاہے تو وہ قادر مطلق ہے ایسا کرسکتا ہے تفسیری روایات کے مطابق یاجوج ماجوج چار ہزار اقوام پر مشتمل ہیں ، ان میں سے ہر مرنے والا شخص اپنے پیچھے کم از کم ایک ہزار قابل جنگ آدمی چھوڑ جاتا ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان اقوام کی تعداد کس قدر کثرت میں ہے اب اگلی آیات میں ذوالقرنین کے بند باندھنے کا ذکر آرہا ہے ۔
Ayahs 18:95–101

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

کہا (ذوالقرنین نے) جو اللہ نے مجھے قدرت دی ہے وہ بہتر ہے پس تم تعاون کرو میرے ساتھ جسمانی محنت کے ساتھ تاکہ میں بنادوں تمہارے درمیان اور محنت کے ساتھ تاکہ میں بنادوں تمہارے درمیان اور ان (مفسد یاجوج و ماجوج) کے درمیان ایک دیوار۔

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

لاؤ دو مجھے لوہے کے تختے ، یہاں تک کہ جب برابر کردیا دو پہاڑوں کے درمیان بالائی حصے تک ، تو کہا اس نے پھونکو اس کو ، یہاں تک کہ جب کردیا اس کو آگ (کی طرح) تو کہا لاؤ میرے پاس کہ ڈال دوں میں اس پر پگھلا ہوا تانبا۔

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پس نہ طاقت رکھی انہوں نے کہ چڑھ جائیں اس پر اور نہ طاقت رکھی انہوں نے اس میں سوراخ کرنے کی ۔

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

کہا اس نے کہ یہ مہربانی ہے میرے رب کی پس جب آئے گا میرے رب کا وعدہ ، کر دے گا اس کو گرا کر ٹکڑے ٹکڑے ، اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے ۔

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

اور ہم چھوڑیں گے بعض کو اس دن کہ وہ ایک دوسرے میں گھس رہے ہوں گے اور پھونکا جائے گا صور میں ، پس ہم جمع کریں گے ان سب کو ۔

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور ہم پیش کریں گے جہنم اس دن کافروں کے لیے پیش کرنا ۔

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

وہ کہ جن کی آنکھوں میں پردے تھے میرے یاد سے اور وہ نہیں سن سکتے تھے (ہماری آیات) ۔

(بند باندھنے کی پیش کش) گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب سکندر ذوالقرنین انتہائی شمال میں ایک قوم کے ایک قوم کے پاس پہنچے تو ان لوگوں نے شکایت کی کہ اس پہاڑی درے سے اس طرف یاجوج وماجوج کی اقوام ہیں جو اس درے سے گذر کر ہمیں تنگ کرتے ہیں ، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان اس درے میں دیوار کھڑی کردیں تاکہ وہ ادھر نہ آسکیں ، انہوں نے اس کام کے لیے معاوضے کی پیشکش بھی کی ، اب آج کی آیات میں ذوالقرنین کا جواب آرہا ہے (آیت) ” قال مامکنی فیہ ربی خیر “۔ کہا کہ میرے لیے اللہ کی عطا کردہ قدرت بہتر ہے یعنی خدا تعالیٰ نے حکومت دی ہے ، مال واسباب عطا فرمائے ہیں لہذا مجھے تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے ، تم صرف یہ کرو (آیت) ” فاعینونی بقوۃ “۔ تم جسمانی مشقت میں میرے ساتھ تعاون کرو ، مجھے افرادی قوت کی ضرورت ہے جو مطلوبہ خام مال مہیا کر دے ، باقی سارا خرچہ میری حکومت برداشت کرے گی اور اگر تم افرادی قوت مہیا کر دو (آیت) ” اجعل بینکم وبینھم ردما “۔ تو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک بند باندھ دوں گا جس کو وہ مفسد قوم عبور نہیں کرسکے گی اور اس طرح تم ان کے شر سے محفوظ ہوجاؤ گے ، اس سے مفسرین کرام یہ بات بھی اخذ کرتے ہیں کہ کسی اچھی حکومت کے مناسب حال نہیں کہ وہ لوگوں سے بلاوجہ ٹیکس وصول کرکے اپنی عیاشی کے کاموں میں خرچ کرے ، بلکہ اچھی حکومت وہ ہے جو سکندر ذوالقرنین کی طرح لوگوں کی بےلوث خدمت کرے ۔ (بند کی تعمیر) ذوالقرنین نے ان لوگوں سے کہا کہ بند کی تعمیر کے لیے (آیت) ” اتونی زبرالحدید “۔ لاؤ میرے پاس لوہے کے تختے ، لوہا وہاں کسی جگہ پر موجود ہوگا جس کو لانے کا حکم دیا گیا ، چناچہ لوہا اس پہاڑ درے میں بھرنا شروع کیا گیا (آیت) ” حتی اذا ساوی بین الصدفین “َ یہاں تک کہ جب وہ انتہائی کناروں تک برابر ہوگیا مطلب یہ کہ لوگ لوہے کے تختے لا لا کر دو پہاڑوں کے درمیان درے کو پڑ کرتے رہے ، اس بات کی تصریح نہیں ہے کہ لوہے کے تختے انتہائی بلندی تک کس طرح جوڑے گئے کیا ان کے پاس کوئی خاص آلات تھے ، ہو سکتا ہے کہ سکندر ذوالقرنین نے کرامت کے طور پر خود اپنے ہاتھوں سے جوڑ دیے ہوں ، بہرحال حاصل وسائل کے ذریعے پورے درے کو تختوں سے پر کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایندھن کا انتظام بھی کیا گیا ، لوہے کے گرم کرنے کے لیے لکڑی ، تیل ، کوئلہ یا گندھک وغیرہ جو کچھ بھی مہیا تھا وہ بھی تختوں کے درمیان رکھ دیا گیا اور آگ تپانے کے لیے ان کے درمیان پھونکنیاں بھی لگائیں جب یہ سارا سامان تیار ہوگا (آیت) ” قال انفخوا “۔ تو ذوالقرنین نے کہا کہ آگ جلا کر ان کو پھونکو تاکہ آگ بھڑک اٹھے اور لوہا پگھل کر یکجان ہوجائے ، آج کل تو لوہے کو پگھلانے کے لیے فرنسیں (بھٹیاں) کام کر رہی ہیں مگر اس زمانے میں ذوالقرنین نے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا اور ایک کھلی جگہ میں لوہے کو اتنی آگ دی کہ اس کے تمام تختے پگھل کر یکجان ہوگئے ۔ فرمایا (آیت) ” حتی اذا جعلہ نارا “۔ یہاں تک کہ جب اس لوہے کو بالکل آگ کی طرح کردیا ” قال “ ذوالقرنین نے کہا (آیت) ” اتونی افرغ علیہ قطرا “۔ میرے پاس تانبہ لاؤ تاکہ میں اس لوہے پر ڈال دوں ، ظاہر ہے کہ تانبہ لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے اور اسے پگھلانے کے لیے درجہ حرارت بھی زیادہ درکار ہوتا ہے ، چناچہ جب لوہا گرم ہو کر پگھل گیا تو پھر اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دیا گیا جس سے لوہے کی وہ دیوار مزید مضبوط ہوگئی اور اس میں شگاف پڑنے کا اندیشہ تک نہ رہا جب یہ درہ لوہے کی مضبوط دیوار سے بند ہوگیا تو پھر شرپسند قوم یاجوج ماجوج کے کے دوسری طرف جانے کا امکان ختم ہوگیا ، کیونکہ اس درے کے اطراف میں بڑے دشوار گزار پہاڑ تھے جنہیں عبور نہیں کیا جاسکتا تھا سکندر ذوالقرنین نے یہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے کر درے سے اس طرف رہنے والے لوگوں کو مفسدین کے شر سے محفوظ کردیا ، اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” فما استطاعوا ان یظھروا “ اب اس مفسد قوم کے بس میں نہیں رہا تھا کہ وہ پہاڑ کے اوپر چڑھ سکتے (آیت) ” وما استطاعوا لہ نقبا “۔ اور نہ وہ طاقت رکھتے تھے کہ اس مضبوط بند میں شگاف ڈال سکتے ۔ یہ عظیم کام سرانجام دینے کے باوجود سکندر ذوالقرنین نے اسے اپنا کمال نہیں جتلایا بلکہ (آیت) ” قال ھذا رحمۃ من ربی “ کہا یہ تو میرے پروردگار کی مہربانی کا نتیجہ ہے ، میں نے یہ کام اس کی توفیق سے پورا کیا ہے اب یہ بند نہایت مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے (آیت) ” فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء “۔ مگر جب پروردگار کا وعدہ آجائیگا تو وہ اس کی تمام تر مضبوطی کے باوجود اس کو توڑ دے گا بند میں شگاف پڑجائیں گے اور یاجوج ماجوج کی قوم اپنے علاقے سے نکل کر پھیل جائیگی (آیت) ” وکان وعد ربی حقا “۔ اور میرے پروردگار کا وعدہ بالکل برحق ہے وہ پورا ہو کر رہے گا ۔ (یاجوج وماجوج کی تلاش) جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا اقوام یاجوج وماجوج کے متعلق مختلف نظریات پائے جاتے جاتے ہیں ، مولانا ابوالکلام (رح) کا رجحان یہ ہے کہ اسلام کے ایک ہزار سال گزرنے کے بعد یاجوج ماجوج کا اظہار تاتاریوں کی شکل میں ہوا یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جس نے پورے ایشیاء میں پھیل کر بڑی تباہی مچائی دمشق ، عراق ، اور خراسان وغیرہ میں تقریبا ایک کروڑ آدمیوں کو ذبح کر ڈالا لوٹ مار کی اور اس طرح جانی اور مالی نقصان کا باعث ہوا ، مولانا انور شاہ کشمیری صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یاجوج ماجوج سے روسی یا برطانوی اقوم مراد ہو سکتی ہے بعض نے منگول اور ترکوں کو یاجوج وماجوج قرار دیا ہے مگر یہ سب احتمالات ہیں ، یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا ، صحیح روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج وماجوج انسان ہیں ان کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے آدم (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے مگر حوا تک نہیں پہنچتا بائیبل کی بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کیا تو آدم (علیہ السلام) نے کہا کہ تو لعنتی ہوگیا ، اب تو اس زمین پر رہنے کے قابل نہیں رہا ، چناچہ وہ اس متمدن زمین سے نکل کر کہیں دوسری جگہ چلا گیا تھا ، اس کی بیوی اور اولاد کا بھی پتہ چلتا ہے ، اس کی اولاد کے اوصاف کا ذکر بعض انبیاء کے صحیفوں میں بھی کیا گیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ اقوام یاجوج وماجوج اسی نسل سے ہوں مگر یہ بھی کوئی معتبر بات نہیں ہے بہرحال احادیث سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ روسی برطانوی ترکی یا منگول اقوام پر منطبق نہیں ہوتیں اگرچہ ان اقوام نے بھی دنیا میں بڑا شروفساد پھیلایا ہے مگر یاجوج وماجوج کوئی اور ہی مخلوق ہے جو اس وقت کسی خطہ میں بند ہے اور اس کا ظہور قرب قیامت میں ہوگا ۔ اکثرلوگ سوال کرتے ہیں کہ اگر یاجوج وماجوج نامی واقعی کوئی اقوام ہیں تو پھر وہ کہاں ہیں ؟ اس ضمن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) کی بات زیادہ اوفق ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ اس سلسلہ میں بعض باتیں قرآن پاک سے ظاہر ہوتی ہیں اور بعض احادیث سے ، مثلا قرآن پاک سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین اللہ کا مقبول بندہ تھا وہ جلیل القدر بادشاہ تھا سد سکندری ایک آہنی دیوار تھی ، دو پہاڑوں کے درمیان درہ میں انتہائی بلندی تک بند باندھا گیا ، اس درے سے دوسری طرف اقوام یاجوج وماجوج کا مسکن تھا ، اس کے علاوہ حضور ﷺ کے فرمادات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے زمانہ میں اس بند میں تھوڑا سا سوراخ ہوگیا تھا ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش ؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے ” لا الہ الا اللہ ویل اللعرب من شرقد اقترب “۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، عربوں کے واسطے ہلاکت ہے کہ ایک شر ان کے قریب آچکا ہے ، آپ نے یہ بھی فرمایا ” فتح من ردم یاجوج وماجوج “ یعنی یاجوج وماجوج کے بند کو تھوڑا سا کھول دیا گیا ہے آپ نے ہاتھ کی انگلیوں سے دس کا اور ایک روایت کے مطابق نوے کا سوراخ بھی بنا کر دکھایا کہ اس دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے ام المؤمنین نے عرض کیا حضور ! ” انھلک وفینا صالحون “۔ کیا ہم ہلاک کردیے جائیں گے جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں گے آپ نے فرمایا کہ لوگ اس وقت ہلاک کردیے جائیں گے ” اذا کثر الخبث “ جب خباثت اور فتنہ و فساد بڑھ جائے گا چاہے ان میں نیک آدمی بھی موجود ہوں ترمذی شریف کی روایت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج وماجوج اس بند کو دن بھر توڑتے رہتے ہیں مگر جب رات ہوتی ہے تو وہ بند یا دیوار پھر ویسے کی ویسے مکمل ہوجاتی ہے ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول پر جب ان اقوام کے خروج کا وقت آئیگا تو ان وقت ان کی زبان سے نکلے گا کہ ہم انشاء اللہ کل اس دیوار کو توڑ دیں گے اور پھر اگلے دن دیوار میں شگاف پڑجائے گا ، اور یاجوج وماجوج وہاں سے نکل کھڑے ہوں گے یہ درجہ دوئم کی روایت ہے ۔ (یاجوج وماجوج کا خروج اور ہلاکت) بہرحال اقوام یاجوج وماجوج کا خروج قیامت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہوگا ، اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائیں گے ” انی اخرجت عبادا لی “۔ میں نے اپنے بندوں کو نکال دیا ہے اب کوئی بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، اس دوران میں یاجوج وماجوج ساری دنیا پر پھیل جائیں گے ، بڑا شروفساد ومچائیں گے ، سورة انبیاء میں موجود ہے (آیت) ” حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون “۔ (آیت 96) یاجوج وماجوج اقوام ہر اونچے پہاڑ اور ٹیلے سے اچھلتے کودتے چلے آئیں گے اور ساری متمدن دنیا میں پھیل جائیں گے ۔ یاجوج وماجوج کی علامات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ بیت المقدس کے قریب ایک پہاڑ پر آکر کہیں گے (آیت) ” قتلنا من فی الارض “۔ ہم نے زمین پر سب کو قتل کردیا ہے آؤ اب آسمان والوں کو بھی ختم کردیں ، پھر وہ بعض آلات کے ذریعے آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے جو خون آلود حالت میں واپس آئیں گے پھر یہ لوگ نعرہ ماریں گے کہ دیکھو ہم نے آسمان والوں کو بھی ختم کردیا ہے ، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوگا کہ آپ میرے کچھ خاص بندوں کو لے کر کوہ طور پر چلے جائیں اور دعا میں مصروف ہوجائیں ، عیسیٰ (علیہ السلام) ایسا ہی کریں گے اس دوران میں یاجوج وماجوج ساری دنیا میں پھیل چکے ہوں گے اور بڑا شروفساد برپا کریں گے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے نتیجے میں طاعون کی قسم کی وبائی مرض پیدا ہوگی جس سے یہ سارے یاجوج وماجوج ہلاک ہوجائیں گے ، ان کی لاشیں جگہ جگہ بکھری پڑی ہوں گی ، ان سے تعفن پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا ، اللہ کے حکم سے بڑے بڑے پرندے آئیں گے اور وہ لاشوں کو اٹھا کر کہیں لے جائیں گے پھر خوب بارش برسے گی جس سے تمام روئے زمین دھل جائے گی ، اور زمین ایک چٹیل میدان اور آئینے کی طرح صاف ہوجائے گی ، حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ یاجوج ماجوج کے بعد لوگ حج اور عمرہ بھی ادا کریں گے احادیث سے یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں سے بعض احادیث پہلے درجے کی ہیں اور بعض دوسرے درجے کی ہیں ۔ (حرف آخر) دراصل یاجوجیت اور ماجوجیت انکار خدا اور ظلم وتعدی کا نام ہے تاہم جن یاجوج وماجوج اقوام کا ذکر یہاں ہو رہا ہے انکی اکثریت کفر وشرک میں مبتلا ہوگی ، بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ان میں سے کچھ ایمان بھی لائیں گے تو شروفساد میں بھی مبتلا ہوں گے ، اقوام یاجوج وماجوج اور سد سکندری کے محل وقوع کے متعلق لوگوں نے بہت سے سوال کیے ہیں اور ان کے جواب بھی دیے گئے ہیں تاہم شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) کی بات توجہ طلب ہے فرماتے ہیں کہ اس ضمن میں پیدا ہونے والے مختلف سوالات اور ان کے جوابات کے باوجود اس کی حقیقت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ یہ قوم عام جنوں اور انسانوں کے درمیان ایک برزخی مخلوق ہو ، صاحب تفسیر روح المعانی علامہ آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمیں تو ان اقوام اور سد سکندر کا محل وقوع معلوم نہیں ہو سکتا ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان بڑے بڑے سمندر حائل ہوں لوگوں کا یہ دعوی کہ ہم ساری خشکی اور تری پر محیط ہوچکے ہیں ، درست نہیں ہو سکتا ہے کہ بعض مقامات اور اشیاء اب بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوں کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج سے پانچ سو سال پہلے تک ہمیں چوتھے براعظم کا علم نہیں تھا ، ساری متمدن دنیا امریکہ سے ناواقف تھی جس طرح پورا براعظم دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا اسی طرح وہ سکتا ہے کہ یاجوج وماجوج اور سد سکندری اب تک دنیا کی نظروں سے غائب ہو ، دنیا کے عجائبات میں سے آسٹریلیا کے شمال مشرقی ساحل پر واقع دیوار اعظم بھی ہے ایک ہزار میل سے زیادہ لمبی ایک ہزار فٹ اونچی اور بعض مقامات پر بارہ بارہ میل چوڑی اس دیوار پر برطانوی سائنسدانوں کی ایک ٹیم تحقیقات کر رہی ہے ان کی ایک سال کی رپورٹ سے سمندر کے عجیب و غریب اسرار منکشف ہوئے ہیں لہذا یہ کیسے دعوے کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ دنیا کے لوگ دنیا کی ہر خشکی اور تری سے مکمل طور پر واقف ہوچکے ہیں ، مطلب یہ کہ اپنی طرف سے کسی چیز کا تعین کرنا جس میں تمام علامتیں نہ پائی جائیں درست نہیں ہے ۔ (وقوع قیامت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وترکنا بعضھم یومئذ یموج فی بعض “۔ اور ہم چھوڑ دیں گے بعض کو اس دن کہ وہ ایک دوسرے میں گھس رہے ہوں گے ، بعض نے اس کو بھی یاجوج وماجوج پر محمول کیا ہے حالانکہ ان کے متعلق سورة انبیاء میں آچکا ہے کہ وہ ہر اونچے پہاڑ اور ٹیلے سے اچھلتے کودتے آئیں گے چناچہ صحیح بات یہ ہے کہ اس مقام پر آیت کا مصداق وقوع قیامت ہے جب پہلا بگل بجے گا تو دنیا کی ہر چیز فنا ہوجائے گی (آیت) ” ونفخ فی الصور “ پھر جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا (آیت) ” فجمعنھم جمعا “۔ تو ہم سب کو جمع کرلیں گے مخلوق زندہ ہو کر حساب کتاب کے لیے میدان محشر میں جمع ہوجائے گی ، اس وقت بڑا خلفشار ہوگا اور لوگ ایک دوسرے میں گھستے چلے جائیں گے ، ان کی مثال پروانوں کی ہوگی جن کی نہ کوئی مقرر رفتار ہوتی ہے اور نہ کوئی سمت متعین ہوتی ہے اسی طرح تمام لوگ افراتفری کے عالم میں بھاگیں گے اور ایک دوسرے میں گھسیں گے ۔ پھر کیا ہوگا ؟ (آیت) ” وعرضنا جھنم یومئذ للکفرین عرضا “۔ اللہ نے فرمایا اس دن ہم حق کو کافروں کے سامنے کردیں گے وہ کافر (آیت) ” الذین کانت اعینھم فی غطآء عن ذکری “۔ جن کی آنکھوں میں میری یاد سے پردے تھے انہوں نے دنیا میں کبھی مجھے یاد نہیں کیا تھا اس طرف سے ۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں اندھی ہوچکی تھیں یہ لوگ حساب کتاب کے بعد یقینا جہنم میں جائیں گے ان کی دنیا میں یہ حالت بھی تھی (آیت) ” وکانوا لا یستطیعون سمعا “۔ ان کو اچھی بات سننے کی توفیق بھی نہیں ملتی تھی ، یہ لوگ ہمیشہ غفلت میں پڑے رہے پیغمبروں کی تعلیم کو انہوں نے اپنے کانوں میں کوئی جگہ نہ دی لہذا اب یہ جہنم کا شکار ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے آنکھوں پر پردے پڑنے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ انسان آج تک یاجوج وماجوج کی اقوام کو نہیں دیکھ سکے کہ وہ کہاں ہیں جب اللہ کا حکم ہوگا تو وہ ظاہر ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بعید نہیں کہ وہ کسی چیز کو انسانوں پر ایک مدت تک مخفی رکھے اس نے حضرت عزیز (علیہ السلام) کو سو سال تک لوگوں کی نظروں سے اوجھل رکھا اور اصحاب کہف کو تین سونوسال تک غار میں سلائے رکھا اور اس عرصہ میں کسی انسان کی نظر ان پر نہیں پڑی ۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے یاجوج وماجوج کے خروج اور پھر ان کی ہلاکت کے بعد مسیح (علیہ السلام) مزید کچھ عرصہ دنیا میں رہیں گے اور پھر وفات پاجائیں گے ، نیک لوگ بھی کچھ مدت تک دنیا میں موجود رہیں گے ، پھر نہایت نرم ہوا چلے گی جو ہر نیک آدمی تک پہنچے گی اس سے نیکوکار لوگ مرتے چلے جائیں گے اور پھر روئے زمین پر بدترین قسم کے لوگ ہی رہ جائیں گے یہ گدھوں سے زیادہ بےشرم وبے حیا ہوں گے گلی کوچوں میں بدکاری کریں گے ، اس وقت قیامت کا بگل بجے گا اور وہ برپا ہوجائیں گے ۔