18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 18:13–15

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم بیان کرتے ہیں آپ کے اوپر حال ان (اصحاب کہف) کا حق کے ساتھ ، بیشک وہ چند نوجوان تھے جو ایمان لائے اپنے رب پر اور ہم نے زیادہ دی ان کو ہدایت ۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور مضبوط کردیا ہم نے ان کے دلوں کو جب وہ کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ہرگز نہیں ہم پکاریں گے اس کے سوا کسی اور کو الہ البتہ تحقیق ہم کہیں گے اس وقت بات زیادتی والی ۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

یہ ہماری قوم ہے جنہوں نے بنا لیا ہے اس (اللہ) کے سوا دوسروں کو معبود کیوں نہیں لاتے وہ اس پر کوئی کھلی دلیل پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو افتراء باندھے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا اجمالی ذکر کیا کہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں یہ کوئی واحد حیرت انگیز نشانی نہیں بلکہ کائنات میں اس قسم کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ پر یقین آتا ہے ، فرمایا یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے غار میں پناہ پکڑی اور اپنے رب سے دعا کی کہ اے پروردگار ! ہمیں اپنی جانب سے مہربانی عطا فرما اور ہمارے معاملے میں درستگی پیدا فرما دے اللہ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے کانوں پر تھپکی دے کر سال ہاسال تک سلائے رکھا ، پھر مدت مدید کے بعد انہیں نیند سے بیدار کیا تاکہ واضح ہوجائے کہ ان کے غار میں ٹھہرنے کی مدت کے بارے میں کون سا گروہ زیادہ یاد رکھتا ہے ۔ (چندایماندار نوجوان) اب آج کے درس سے اصحاب کہف کا واقعہ تفصیل کے بیان کیا جارہا ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” نحن نقص علیک نباھم بالحق “۔ ہم بیان کرتے ہیں آپ پر ان کا حال تحقیق کے ساتھ یعنی ہم صحیح صحیح واقعات کو بیان کرتے ہیں اور اس میں صرف وہی حصہ بیان ہوگا جو لوگوں کے لیے باعث عبرت اور مفید ہو ، عام قصے کہانیوں کی طرف تمام جزئیات کو بیان کرنا قرآن کریم کا موضوع نہیں ہے ، فرمایا (آیت) ” انھم فتیۃ “۔ بیشک وہ چند نوجوان تھے ، جو اپنے ظالم ، مشرک اور بت پرست حاکم سے تنگ آچکے تھے ، اس زمانے میں قیصر روم ڈسیئس کا تسلط شام تک تھا ، یہ شخص لوگوں سے زبردستی بت پرستی کراتا اور غیر اللہ کے نام کی قربانیاں کراتا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا ، اس پر تشدد کرتا عام مشہور یہی ہے کہ چند نوجوان بھی اسی ظالم بادشاہ کی سلطنت میں ملک شام میں رہتے تھے اور جس پہاڑ کی غار میں انہوں نے پناہ لی تھی ، اس کا نام قاسون تھا اور وہ بھی اسی علاقہ میں تھا ، اگرچہ بعض یہ واقعہ ایشیائے کوچک ، بعض اندلس اور بعض عقبہ کا بتاتے ہیں ، تاہم زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ شام کا علاقہ تھا ، یہ غار آج بھی موجود ہے جس کی زیارت کے لیے لوگ جاتے ہیں ۔ بہرحال یہ چند نوجوان تھے (آیت) ” امنوا بربھم “ ۔ جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے ، انہوں نے کفر ، شرک اور غیر اللہ کی نذر ونیاز دینے سے بیزاری کا اظہار کردیا تھا اور اس طرح صحیح دین کو اختیار کرلیا تھا ، یہ سب اچھی حیثیت کے لوگ تھے بعض خود سرکاری ملازم تھے اور بعض اعلی عہدیداروں کی اولاد میں سے تھے ، یہ لوگ کسی سفر پر گئے ، تو وہاں انہیں کوئی نیک آدمی مل گیا جس نے ان کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے صحیح دین سے روشناس کرایا اور اس طرح یہ لوگ کفر اور شرک کا راستہ چھوڑ کر ایمان کے راستے پر گامزن ہوچکے تھے ، اس وقت سریانی زبان رائج تھی جس کا رسم الخط عربی تھا ، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہندی اور سنسکرت دو مختلف زبانیں ہیں ، مگر ان کا رسم الخط ملتا جلتا ہے ، اصل انجیل بھی سریانی زبان میں تھی جو اب معدوم ہوچکی ہے اور اب انجیل کے محض تراجم ہی ملتے ہیں جو دنیا کی مختلف زبانوں میں کیے گئے ہیں ، بہرحال امام جلال الدین سیوطی (رح) اور دیگر مفسرین کرام نے اسی سریانی زبان میں ان نوجوانوں کے بھی نقل کیے ہیں جو حسب ذیل ہیں ۔ (1) یملیخا ، (2) مکس مینا (3) مثلینا (4) مرنوش (5) برنوش ، (6) شاذنوش (7) مرطوش ، ان کے کتے کا نام قطمیر یا قطمور تھا البتہ قدیم ترین مفسر قرآن امام ابن جریر طبری (رح) نے حسب ذلیل آٹھ نام لکھے ہیں ۔ (1) مکسل مینا ، (2) محسمیلنا (3) یملیخا (4) مرطوس (5) کشوطوش ، (6) بیرونس (7) دینموس ، (8) یطونس تالوس ، یام مشہور ہی ہے کہ یہ چھ نوجوان تھے جو اپنی بستی سے نکل کھڑے ہوئے ، ساتوں ایک چرواہا تھا جو ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور آٹھواں ان کا کتا تھا ۔ (جوانی کا بہترین دور) حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی میں جوانی کا دور ہی ایسا زمانہ ہے جس میں انسان کچھ کرسکتا ہے ، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کے تین دور بیان فرمائے ہیں یعنی بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ، بچپن کا زمانہ پختگی کا زمانہ ہوتا ہے اور انسان ناسمجھی کی وجہ سے کوئی اہم کام انجام نہیں دے سکتا ، بڑھاپا ضعف اور کمزوری کا دور ہوتا ہے اس لیے اس دور میں انسان کوئی انقلابی قدم نہیں اٹھا سکتا ، البتہ جوانی کا دور ہی قوت کا دور ہوتا ہے جس میں انسان انقلابی اقدام کرسکتا ہے بشرطیکہ اس کا فکر صحیح حضور ﷺ پر پہلے ایمان لانے والے بھی نوجوان ہی تھے جنہوں نے پوری دنیا میں اسلامی انقلاب برپا کردیا ، اسلام کے ابتدائی دور میں جو بوڑھے آدمی ایمان لائے ان کی تعداد اٹھارہ اور تین کے درمیان ملتی ہے حدیث شریف میں جن سات آدمیوں کو قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا ان میں ” شاب انشا فی عبادۃ اللہ “ بھی ہے یعنی وہ نوجوان جس کا وقت زیادہ تر عبادت الہی میں گزرا ہے ، فارسی والے بھی کہتے ہیں ۔ درجوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبری وقت پیری گرگ ظالم می شود پیرہیزگار۔ رجوع الی اللہ کا اصل وقت جوانی کا زمانہ ہے اور یہ اللہ کے نبیوں کا شیوہ ہے وگرنہ بوڑھا ہو کر تو ظالم بھیڑیا بھی اللہ اللہ کرنے لگتا ہے حافظ نے جوانی کے عالم کو اس طرح محسوس کیا ہے ۔ رندی وخرافاتی ورعدہ شباب اولی : یعنی رندی اور خرافاتی بھی جوانی کی عمر میں ہی ممکن ہے بڑھاپے اور بچپن میں تو کچھ نہیں ہو پاتا۔ جگر مراد آبادی بھی کہتا ہے ۔ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے جئے جا رہا ہوں میں : جوانی کا دور ختم ہوا تو سمجھو کہ زندگی ختم ہوگئی کیونکہ بڑھاپے میں ضعف اور امراض کے سوا کیا رہ جاتا ہے ؟ حضرت خواجہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی (رح) کے مرید اور بڑے پائے کے عالم اور شاعر عراقی کہتے ہیں ، افسوس کہ ایام جوانی بگزشت سرمایہ وعیش جاودانی بگزشت خفتم بکنار جوئے چنداں ! کر جوئے من آب زندگانی بگزشت : افسوس کہ جوانی کا عالم گزر گیا ، حقیقت یہ ہے کہ عیش و عشرت کا زمانہ چلا گیا ، میں ندی کے کنارے ایسا غافل ہو کر سویا کہ زندگی کا پانی ہی ختم ہوگیا یعنی زندگی ختم ہوگئی اور میں غفلت میں پڑا رہا ۔ (ہدایت میں اضافہ) بہرحال ان چند اہل ایمان نوجوانوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ جب انہوں نے کفر اور شرک ترک کرکے ایمان کا راستہ اختیار کرلیا (آیت) ” وزدنھم ھدی “۔ تو ہم نے ان کے لیے ہدایت کا سامان زیادہ کردیا ، ظاہر ہے کہ جو شخص کفر وشرک کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی میں آتا ہے اور پھر اس راستے پر آنے والے تمام مصائب وآلام کو برداشت کرتے ہوئے صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے ایمان میں مزید اضافہ کردیتا ہے ۔ سورة محمد میں موجود ہے (آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم “۔ جو لوگ ہدایت کا راستہ پکڑتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت میں اضافہ کرتے اور انہیں تقوی کا راستہ عطا کرتے ہیں ۔ ان نوجوانوں نے بھی اپنا تعلق اللہ کے ساتھ مضبوط کرلیا تھا ، پھر انہوں نے بادشاہ کی کوئی پروا نہ کی ، بت پرستی کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا اور دل میں تہیہ کرلیا کہ ہم مخلوق کی خاطر اپنے خالق کو ناراض نہیں کریں گے ان کے دل خشیت الہی اور تقوی سے معمور تھے ، اللہ نے انہیں صبر و استقلال عطا فرمایا اور وہ حق کی بات پر ڈٹے رہے ، اسی بات کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” وربطنا علی قلوبھم “۔ ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جس شخص کا تعلق اللہ کے ساتھ درست ہوجائے ، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط کردیتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے متعلق سورة القصص میں موجود ہے (آیت) ” لولا ان ربطنا علی قلبھا “۔ اگر ہم ان کے دل کو مضبوط کرتے تو قریب تھا کہ وہ اس معاملہ کو ظاہر کر دیتیں ، مگر جس کا تعلق اللہ کے ساتھ درست ہوجائے ، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط کردیتے ہیں آپ پر کڑی آزمائش آئی بچے کو صندوق میں بند کرکے پانی میں بہادیا ، مگر ثابت قدم رہیں اور راز کو ظاہر نہ کیا ۔ (نوجوانوں کی حق گوئی) بہرحال یہ نوجوان دین حق پر قائم رہے ، ا ن کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی جب ان کے ایمان کا چرچا ہونے لگا تو انہیں پکڑ کر بادشاہ کے سامنے پیش کردیا گیا ، ان کے لے یہ سخت آزمائش کا وقت تھا اللہ نے فرمایا (آیت) ” اذ قاموا “ جب وہ کھڑے ہوئے یعنی بادشاہ کے دربار میں جوابدہی کے لیے پیش ہوئے (آیت) ” فقالوا “ تو انہوں نے کہا (آیت) ” ربنا رب السموت والارض “۔ ہمارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ، ہم کسی دوسری ذات کو رب ۔۔۔۔۔ کرنے کے لیے تیار نہیں ، کہنے لگے (آیت) ” لن ندعوا من دونہ الھا “۔ ہم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو ہرگز معبود نہیں پکاریں گے اگر ہم نے کسی دوسری ذات کو بھی معبود مان لیا (آیت) ” لقد قلنا اذ شططا “ تو ہم بہت زیادتی والی بات کریں گے ، ہم تو اللہ کے سوا کسی کو حاجت روا اور مشکل کشا ماننے کے لیے تیار نہیں ، خالق ، مالک ، متصرف ، عالم الغیب صرف وہی ہے ، کہنے لگے کتنے افسوس کا مقام ہے (آیت) ” ھؤلآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ “۔ یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا طرح طرح کے معبود بنا رکھے ہیں ، یہ لوگ اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے مختلف آستانوں کا رخ کرتے ہیں مگر ہمارا تو معبود ایک ہی ہے ۔ فرمایا (آیت) ” لو لا یاتون علیھم بسلطن بین “۔ یہ لوگ کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے جس سے ثابت ہو کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا بھی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے حقیقت یہ ہے کہ اس بارے میں کوئی دلیل موجود ہی نہیں ، یہ کہاں سے لائیں گے ؟ صرف سنی سنائی اور جہالت کی باتیں تو ہو سکتی ہیں معقول دلیل کوئی نہیں ہوسکتی ان کے پاس زیادہ سے زیادہ یہ دلیل ہے کہ ہم تو اس بات کا اتباع کرتے ہیں (آیت) ” ما الفینا علیہ ابآء نا “۔ (البقرۃ : 17) جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ، ہمارے قبیلہ اور برادری کے لوگ ایسا ہی کرتے تھے کیا وہ سارے بیوقوف تھے ؟ فلاں غیر اللہ کی نیاز دیتا ہے فلاں قبروں پر چادریں چڑھاتا ہے ، لہذا ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں ، یہی اندھی تقلید ہے جو کہ انسانوں کے لیے تباہ کن ہے تقلید عقل ، بصیرت اور فطرت انسانی کے خلاف ہے ، غرضیکہ کفر ، شرک اور رسومات باطلہ پر کوئی بھی عقلی یا نقلی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ، تو ان نوجوانوں نے بھی یہی کہا کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود بنانے میں کوئی دلیل نہیں ہے ، اگر ہے تو لائیں ۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کی ہزاروں دلیلیں موجود ہیں جو انسانی عقل کی کسوٹی پر پوری اترتی ہیں ، سابقہ اقوام اور آسمانی کتابوں سے منقول دلیلیں بھی ہیں اور روز مرہ مشاہدے میں آنے والی دلیلیں بھی موجود ہیں ، فرمایا یہ لوگ کیوں نہیں کھلی دلیل لاتے (آیت) ” فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ پس اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے کفر ، شرک کرنا خدا پر افتراء باندھنا ہے ، دوسری جگہ موجود ہے کہ اگر ارض وسما میں کوئی دوسرا الہ ہوتا تو خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا ، مگر ایسا تو نہیں ہے (آیت) ” ام تنبئونہ بما لا یعلم “۔ (الرعد : 33) کیا تم اللہ کو وہ بات بتانا چاہتے ہو جو اس کے علم میں نہیں ، جو چیز خدا کے علم میں نہیں ، اس کا وجود کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے ، یہ سب افتراء علی اللہ ہے ، اس کے علاوہ غیر اللہ میں الوہیت ثابت کرنا ، یا خدا تعالیٰ کی صفت خاصہ کسی دوسری ذات میں ماننا ، قیامت کا انکار کرنا ، نبوت کا جھوٹا دعوی کرنا سب اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے ، اسلام نے ایسی تمام چیزوں کا علاج سبحان اللہ کے لفظ سے تجویز کیا ہے ، فرمایا (آیت) ” سبحن اللہ عما یشرکون “۔ (الحشر ، 23) خدا کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے جن کو وہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں ہر وقت ” لا الہ الا اللہ “ کا ورد رکھو ، اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار کرو ، اس کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرو کہ شرک کا ارتکاب خدا پر جھوٹ باندھنے والی بات ہے ۔
Ayahs 18:16–18

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم ان (اپنی قوم) سے الگ ہوگئے ہو ، اور ان سے بھی جن کی یہ پوجا کرتے ہیں اللہ کے سوا تو اب رجوع کرو غار کی طرف پھیلائے تمہارے لیے تمہارا پروردگار اپنی رحمت سے اور بنا دے تمہارے لیے تمہارے معاملے میں نرمی ۔

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) تم دیکھو گے سورج کو کہ جس وقت وہ طلوع ہوتا ہے تو کترا جاتا ہے ان کے غار سے دائیں طرف ، اور جس وقت وہ غروب ہوتا ہے تو کترا جاتا ہے ان سے بائیں طرف اور وہ ایک کشادہ جگہ میں ہیں اس غار سے ، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جس کو اللہ ہدایت دے پس وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جس کو گمراہ کر دے ، پس ہرگز نہیں پائے گا تو اس کے لیے کوئی کارساز اور کوئی راہ راست پر لانے والا ۔

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور (اے مخاطب) تم گمان کرو گے ان (اصحاب کہف) کو کہ وہ بیدار ہیں حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم پلٹتے ہیں ان کو دائیں طرف اور بائیں طرف ، اور ان کتا پھیلائے ہوئے ہے اپنے پاؤں اس غار کی چوکھٹ پر ، اگر تم جھانک کر دیکھے ان پر تو البتہ پشت پھیر کر ان کی طرف سے بھاگے گا ، اور بھر جائے گا تیرا دل ان کی طرف سے رعب اور دہشت میں ۔

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے متعلق فرمایا کہ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا سامان زیادہ کردیا ، پھر ان کے دلوں کو مضبوط کردیا جب انکو مشرک اور ظالم بادشاہ کے سامانے پیش کیا گیا تو انہوں نے کھڑے ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے ، ہم اس کے سوا کسی دوسری ذات کو معبود ماننے کے لیے تیار نہیں اگر ہم ایسا کریں گے تو سخت زیادتی کرنے والے ہوں گے ، ہماری قوم کے جن لوگوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ، خدا تعالیٰ کی الوہیت میں دوسروں کو شریک بنانا افتراء علی اللہ ہے ، قیصر ڈلیسیس نوجوانوں کی یہ باتیں سن کر متعجب ہوا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو میری سلطنت میں میرے سوا کسی دوسرے کو معبود مانتے ہیں تاہم اس نے ان نوجوانوں کے متعلق اپنا فیصلہ التوا میں ڈال دیا ۔ (بادشاہ کے سامنے پیشی) اس التواء کے متعلق مفسرین نے مختلف باتیں بیان کی ہیں بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ نے ایک دن کی مہلت دی بعض تین دن اور بعض چند دن کا ذکر کرتے ہیں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ بادشاہ کہیں باہر دورے پر جا رہا تھا تو اس نے اپنی واپسی تک اپنا فیصلہ مؤخر کردیا تاکہ دیکھے کہ اس دوران میں یہ نوجوان اپنے عقیدے سے باز آتے ہیں یا نہیں بہرحال نوجوانوں کو بادشاہ کی غیر حاضری میں صلاح مشورہ کرنے کا موقع مل گیا ، چناچہ انہوں نے آپس میں طے کیا کہ اب ہمارا یہاں رہنا مناسب نہیں اگر اپنے عقیدہ توحید پر قائم رہتے ہیں تو بادشاہ قتل کرا دے گا ، اور اگر ہم بادشاہ کی بات مان کر اپنے عقیدے کو چھوڑ دیں تو پھر دائمی خسارے میں پڑجائیں گے اور ہمیں کبھی بھی فلاح نصیب نہیں ہوسکے گی ، لہذا بہتر ہے کہ ہم یہاں سے کہیں جا کر روپوش ہوجائیں تاکہ اپنا عقیدہ بھی بچا سکیں اور بادشاہ کے قہر سے بھی بچ جائیں بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب ان نوجوانوں نے بادشاہ کے بھرے دربار میں اپنے عقیدے کا اظہار کیا تو بادشاہ نے فوری طور پر ان کا سرکاری لباس اتروا دیا ، گویا ان کو سرکاری حیثیت سے معطل کردیا اور حتمی فیصلہ کے لیے چند دن کی مہلت دیدی ۔ (روپوشی کا منصوبہ) بہرحال موقع غنیمت جان کر یہ نوجوان وہاں سے بھاگ نکلے راستے میں ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوگئی ، اس نے ان کی پریشانی کو بھانپ لیا اور پوچھا کہ کیا بات ہے ، پہلے تو انہوں نے کچھ بتانے سے لیت ولعل کیا ، لیکن بالآخر انہوں نے دل کی بات کہہ دی کہ وہ اس طرح بھاگ کر آئے ہیں چرواہے نے کہا کہ میں بھی تمہارے عقیدے پر ہوں اور تمہارے ساتھ ہی چلنے کو تیار ہوں چناچہ اس نے بکریوں کا ریوڑ وہیں چھوڑا اور ان نوجوانوں کے ساتھ ہو لیا البتہ اس کا کتا بھی اس کے ہمراہ چل پڑا ، انہوں نے ہر چند کتے کو بھگانا چاہا ، مگر وہ کسی صورت میں ان کی ہمراہی چھوڑنے پر تیار نہ ہوا ، جب انہوں نے کتے کو زیادہ تنگ کیا تو اللہ نے اسے قوت گویائی عطا فرمائی اور وہ بول کر کہنے لگا کہ مجھے بھگاؤ نہیں ، میں بھی اللہ کے دوستوں کے ساتھ ہی رہنا پسند کرتا ہوں ، مجھے اپنے ساتھ لے چلو ، جب تم آرام کیا کرو گے تو میں تمہارا پہرہ دیا کروں گا ، چناچہ چرواہے کا کتاب بھی ان کے ساتھ ہو لیا ۔ (کتے کا شرعی حکم) شریعت نے کتے کو ناپسندیدہ جانور قرار دیا ہے ، حضور ﷺ نے سختی کے ساتھ فرمایا ہے کہ کوئی شخص بلاضرورت شوقیہ طور پر کتا نہ پالے کہ ایسا کرنے والے کی ہر روز دو قیراط نیکیاں کم ہوتی رہیں گی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دو بری مثالیں بیان فرمائی ہیں ، ایک گدھے کی اور دوسری کتے کی ، گدھے کی مثال تو یہودیوں کی بےعملی سے متعلق ہے کہ ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” کمثل الحمار یحمل اسفارا “۔ (الجمعہ) جیسے گدھے پر کتابیں لدی ہوئی ہیں ، جس طرح ایک گدھا کتابیں اٹھانے کے باوجود ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح یہودی اہل کتاب ہونے کے باوجود ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح یہودی اہل کتاب ہونے کے باوجود اس کتاب سے مستفید نہیں ہوتے ، اسی طرح کتے کی مثال حرص لالچ اور شہوت پرستی کی ظاہر کرتی ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک بڑا نیک آدمی تھا لیکن حرص اور شہوت پرستی کا اسیر ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابل آگیا ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” فمثلہ کمثل الکلب “۔ (الاعراف ، 176) ایسے شخص کی مثال کتے کی ہے کہ حرص کی وجہ سے ہر چیز کو سونگتا رہتا ہے اور شہوت کی وجہ سے ہر وقت ہانپتا رہتا ہے ۔ (آیت) ” سآء مثلا القوم الذین کذبوا بایتنا “۔ (الاعراف 177) یہ ایسے لوگوں کی بدترین مثال ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ۔ حضور ﷺ نے کتے کی ایک اور مثال بھی بیان فرمائی ہے کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز تحفہ کے طور پر دے دیتا ہے اور پھر اسے واپس لیتا ہے تو اس کی مثال ” کمثل الکلب یقیء ثم یعود “ کتے کی مثال ہے جو قے کر کے خود ہی چاٹ لیتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” لیس لنا مثل السوئ “۔ ہماری مثال بری نہیں ہونی چاہئے یعنی ہمیں کتے کی خصلت کو نہیں اپنانا چاہئے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ کتا ایک ایسا جانور ہے جس کو شیطان کے ساتھ بڑی مناسب ہے اسی لیے فرمایا کہ اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اس برتن کو مٹی سے خوب مانجو اور پھر تین دفعہ دھو ڈالو ورنہ برتن پاک نہیں ہوگا ، البتہ سات مرتبہ دھونا مستحب ہے ۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ کتا اگرچہ برا جانور ہے مگر بعض کتے اچھے بھی ہوتے ہیں ، اس کی مثال اصحاب کہف کے کتے کی ہے وہ اللہ کے دوستوں کی معیت میں رہا اور جو حیرت انگیز واقعات ان کے ساتھ پیش آئے وہ اس کتے کے ساتھ بھی پیش آئے اس کو بھی اللہ نے اصحاب کہف کی طرح لمبی زندگی عطا فرمائی ، شیخ سعدی (رح) نے گلستان میں مثال کے طور پر بیان کیا ہے ۔ پسرنوح بابدان بنشت خاندان نبوتش گم شد : سگ اصحاب کہف روز چند پئے نیکاں گرفت مردم شد : حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا بروں کی صحبت میں بیٹھا تو اپنے خاندان کی بدنامی کا باعث بنا ، جب کہ اصحاب کہف کا کتا نیک آدمیوں کے ساتھ رہا تو آدمیوں جیسی خصلت کا مالک بن گیا ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے والد شیخ عبد الرحیم (رح) اولیاء اللہ میں سے تھے راستے چلتے ہوئے کسی تالاب یا جوہڑ وغیرہ کے کنارے سے گزرنے لگے تو سامنے سے کتا آگیا آپ نے اس کتے کو قدرے حقارت کی نگاہ سے دیکھا اللہ نے اس کتے کو فورا گویائی عطا فرمائی اور اس نے کہا اللہ کے بندے ! تم مجھے حقیر سمجھتے ہو ، میں بھی تو تمہاری طرح اللہ کی مخلوق ہوں ، شاہ صاحب (رح) نے فورا توبہ کی ، آپ جوہڑ کے کنارے کھڑے ہوگئے اور پہلے کتے کو گزرنے کا راستہ دیا اور کہا کہ سلامتی کے ساتھ گزر جاؤ ، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے خنزیر آگیا آپ نے راستہ چھوڑ دیا اور کہا کہ سلامتی سے گزر جاؤ لوگوں نے کہا کہ حضرت ایسے برے جانور کے ساتھ آپ کا یہ حسن اخلاق ، فرمایا بیشک یہ اللہ کی نگاہ میں معتوب جانور ہے مگر میں اپنا اخلاق کیوں چھوڑوں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے ” لو سخرت بالکلب لخشیت ان اکون کلبا “۔ اگر میں کتے کے ساتھ تمسخر کروں تو مجھے ڈر ہے کہ خدا مجھے کتا ہی نہ بنادے ۔ (غار میں قیام) بہرحال کتا بھی اصحاب کہف کے ساتھ ہو لیا اور انہوں نے پہاڑ کی غار میں پناہ حاصل کی ، اللہ نے اس غار کا حال بھی بیان کیا ہے ، اللہ کے دوستوں کا اور اس کتے کا بھی ، اللہ نے اپنے دوستوں کو جو کرامت اور بزرگی بخشی اور ان کی حفاظت کا جو غیر معمولی انتظام فرمایا ، اللہ نے اس کا ذکر بھی کیا ہے ، غار میں پہنچ کر انہوں نے آپس میں طے کیا کہ انہوں میں سے ایک وقتا فوقتا بھیس بدل کر غار سے باہر جائے ، کھانے پینے کا سامان لائے اور ملکی حالات سے بھی آگاہی حاصل کرتا رہے ، چناچہ ان میں سے ایک زیادہ ہوشیار آدمی فقیروں کے لباس میں باہر نکلا ، شہر میں جا کر خوردونوش کا کچھ سامان خریدا ادھر ادھر کی کچھ باتیں سنیں اور پھر غار میں واپس آگیا ، ایسا کتنی مرتبہ ہوا ، اس کی کچھ تفصیل نہیں ملتی ، البتہ ایک دن اس آدمی نے واپس آکر بتایا کہ شہر میں ہماری روپوشی کا چرچا ہے ہماری وسیع پیمانے پر تلاش شروع ہوگئی ہے اور بادشاہ نے حکم دیا کہ ہمیں ہر صورت میں گرفتار کیا جائے ، ظاہر ہے کہ اس قسم کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تشویش کا باعث بنی ، وہ اسی فکر میں غلطان تھے ، کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لمبی نیند طاری کردی جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” فضربنا علی اذانھم “۔ ہم نے ان کے کانوں پر تھپکی دے دی اور وہ گہری نیند سو گئے ان کی یہ نیند سینکڑوں سال تک قائم رہی ان کا کتا بھی غار کے منہ پر پاؤ پھیلائے بیٹھا رہا اور اس پر بھی نیند طاری ہوچکی تھی ۔ (تلاش میں ناکامی) بادشاہ کے حکم کے مطابق اس کے کارندوں نے اللہ کے ان دوستوں کی وسیع پیمانے پر تلاش شروع کردی ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اس غار کے دہانے تک بھی پہنچ گئے انہوں نے اندر کسی کو موجودگی کا شبہ ہوا تو انہوں نے غار کے منہ پر دیوار تعمیر کر کے اسے بالکل بند کردیا ، مگر یہ روایت صحیح معلوم نہیں ہوتی ، اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے اصحاب کہف کی حفاظت کا انتظام اس طرح کردیا تھا کہ اس غار تک کوئی پہنچ ہی نہیں سکا ، اس قسم کے واقعات پہلے بھی گزر چکے ہیں ، مثلا اللہ تعالیٰ نے حضرت عزیر (علیہ السلام) پر سو سال تک موت طاری کرنے کے بعد اٹھایا اور اس عرصہ وہاں پر کسی کا گزر نہیں ہونے دیا ، یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے اور اس میں کسی انسان کا کوئی دخل نہیں ، ہجرت پر روانہ ہوتے وقت خود حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ تین دن تک غار ثور میں ٹھہرے رہے کفار نے آپ کی تلاش میں کونہ کونہ چھان مارا حتی کہ غار کے منہ تک پہنچ گئے اور غار کے اندر سے ان کے پاؤں نظر آرہے تھے ، مگر اللہ نے آپ کی حفاظت کا ایسا انتظام کردیا کہ کسی نے غار کے اندر جھانک کر دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی ، مکڑی کا جالا اور کبوتری کے انڈے غار کے منہ پر دیکھ کر کفار کہنے لگے کہ یہ جالا تو حضور ﷺ کے والد کی پیدائش سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے ، بھلا اس کے اندر کون جاسکتا ہے ، اس وقت حضرت صدیق کو کچھ پریشانی بھی لاحق ہوئی تاہم حضور ﷺ نے تسلی دی اور فرمایا (آیت) ” لاتحزن ان اللہ معنا “ (التوبۃ ، 40) غم نہ کریں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ۔ اسی طرح اللہ نے اصحاب کہف کی حفاظت کا انتظام بھی فرما دیا اور اس غار تک کسی متلاشی کی رسائی نہیں ہونے دی بادشاہ کی طرف سے تلاش کرتے کرتے خدا جانے سال یا دو سال گزر گئے ناکامی ہوئی آخر کار بادشاہ کے حکم سے ان گم شدگان کے نام اور کوائف ایک تختی پر لکھ کر سرکاری محافظ خانے میں محفوظ کردیے گئے کہ اس طرح چند نوجوان روپوش ہوگئے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ، ان کو اصحاب رقیم اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کے نام تختی پر لکھ کر محفوظ کردیے گئے تھے ۔ (اصحاب کہف کی مشاورت) آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کا ذکر کیا ہے ، جب ان نوجوانوں کو بادشاہ کے سامنے حاضری کے بعد کچھ مہلت میسر آئی تو انہوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا ، کہنے لگے ، (آیت) ” واذاعتزلمتوھم “۔ اور جب تم ان کفار ومشرکین سے کنارہ کش ہوچکے ہو (آیت) ” وما یعبدون الا اللہ “۔ اور ان سے بھی الگ ہوچکے جن کی یہ اللہ کے سوا پوجا کرتے ہیں تم نے اللہ کے سوا کسی دوسری ذات کو معبود بنانے سے انکار کردیا ہے تو اب تمہارا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں لہذا (آیت) ” فآوا الی الکھف “۔ کسی غار کی طرف رجوع کرو ‘ وہاں جا کر چھپ جاؤ اور پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو ، (آیت) ” ینشرکم ربکم من رحمتہ “۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی رحمت پھیلا دے گا کیونکہ تمہارے دل نور ایمان سے بھرے ہوئے ہیں اور اللہ نے تمہارے دلوں کو مضبوط کردیا ہے تمہیں اپنے مالک کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے وہ تم پر اپنی رحمت کا سایہ کرے گا (آیت) ” ویھیء لکم من امرکم مرفقا “۔ اور تمہارے معاملہ میں تمہارے لیے نرمی ، سکون اور آرام کی بات مہیا کرے گا لہذا کوئی فکر نہ کرو اور کسی غار میں چل کر پناہ حاصل کرلو ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور جیسا کہ میں نے تفصیل میں عرض کی وہ نوجوان اس غار میں روپوش ہوگئے ۔ (غار کی حالت) اب اس غار کی حات بھی اللہ بیان فرمائی ہے اے مخاطب (آیت) ” وتری الشمس اذا طلعت تزور عن کھفھم ذات الیمین “۔ تم دیکھو گے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو غار کی دائیں جانب کترا جاتا ہے ، امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ غار کا رخ مشرق مغرب کی بجائے شمالا جنوبا تھا ، یہی وجہ ہے کہ سورج کے طلوع و غروب کے وقت وہاں دھوپ کی تپش نہیں جاتی تھی اللہ نے غار کی کیفیت اس طرح کی بنائی تھی کہ جب سورج طلوع ہوتا تو دائیں طرف سے بقدر ضرورت روشنی تو اندر جاتی مگر دھوپ کی تمازت انہیں تکلیف نہیں پہنچاتی تھی اور سورج دائیں طرف کترا کر نکل جاتا تھا ، (آیت) ” واذا غربت تقرضھم ذات الشمال “۔ اور جب سورج غروب ہونے کے قریب آتا تو بائیں طرف کترا کر نکل جاتا اور غار کے مکینوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی تھی ، اللہ تعالیٰ نے غار کے اندر اس طرح آڑیں کھڑی کردی تھیں کہ تھوڑی سی دھوپ اندر پہنچی اور پھر جلدی ہی سامنے آڑآگہی اور سورج دائیں یا بائیں طرف کو ہو کر نکل گیا ، البتہ روشنی اور ہوا غار میں خوب پہنچ رہی ہے (آیت) ” وھم فی فجوۃ منہ “ اور وہ غار میں کشادہ جگہ پر لیٹے ہوئے تھے ، انہیں کوئی گھٹن وغیرہ محسوس نہیں ہوتی تھی اور پورے آرام اور سکون کے ساتھ محو خواب تھے ۔ (ہدایت اور گمراہی) فرمایا (آیت) ” ذلک من ایت اللہ “۔ یہ سب اللہ کی نشانیوں میں سے ہے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کی نشانیاں وقتا فوقتا ظاہر کرتا رہتا ہے تاکہ انہیں دیکھ کر لوگ اس کی وحدانیت کی پہچان سکیں اور راہ راست پر گامزن ہوجائیں ، فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” من یھد اللہ فھو المھتد “۔ ہدایت اسے نصیب ہوتی ہے ، جسے اللہ ہدایت عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ ہدایت اسے دیتا ہے جو اس کا طالب ہو ، (آیت) ” ومن یضلل فلن تجد لہ ولیا مرشدا “۔ اور جسے اس کی ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گمراہ کردے تو اس کے لیے نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ ہی کوئی راہ راست پر لانے والا ، جب تک اللہ کے ساتھ تعلق درست نہیں ہوگا کسی شخص کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی اور نہ وہ گمراہی سے بچ سکتا ہے لہذا ہر وقت اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق طلب کرنا چاہئے ، اصحاب کہف نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا ، اس سے توفیق مانگی تو اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا سامان پیدا کردیا ، یہ درمیان میں اللہ نے اصول بھی بیان فرما دیا کہ ہدایت اور گمراہی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے لہذا ہدایت کے لیے اسی کے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہئے ۔ (غار میں اصحاب کہف کی حالت) ارشاد ہوتا ہے اے مخاطب ، (آیت) ” وتحسبھم ایقاضا وھم رقود “۔ تم ان اصحاب کہف کو بیدار گمان کرو گے حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں ، اندر جھانک کر دیکھو تو ان کی آنکھیں کھلی نظر آئیں گی گویا کہ وہ جاگ رہے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ ایک ہی جگہ پر پڑے پڑے ان کے جسم گل سڑ سکتے تھے جس کا اللہ نے یہ انتظام فرمایا (آیت) ” ونقلبھم ذات الیمین وذات الشمال “۔ اور ہم انہیں پلٹتے ہیں دائیں طرف اور بائیں طرف ، مفسرین نے اس ضمن میں مختلف باتیں کی ہیں بعض کہتے ہیں کہ ہر دس سال کے بعد اللہ تعالیٰ اصحاب کہف کی کروٹیں بدل دیتا تھا ، بعض نے نوسال کا ذکر کیا ہے ، بعض نے سال بھر میں دو دفعہ اور بعض نے محرم کے دن کروٹیں بدلنے کا ذکر کیا ہے بہرحال یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان کو کس وقت کس چیز کی ضرورت تھی اور ان کی حفاظت کا کیا انتظام ضروری تھا ، امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت میں جب تک اصحاب کہف کو غار میں رکھنا مطلوب تھا ، اس وقت تک کسی شخص کو وہاں پہنچنے یا انہیں چھیڑنے کی توفیق نہیں دی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت ایسی بنا دی تھی کہ بال اور ناخن بڑھ چکے تھے ، اگر کوئی شخص انہیں ایک نظر دیکھ لیتا تو دہشت کے مارے وہاں ٹھہر نہ سکتا ، فرمایا ان کی حالت یہ تھی کہ تم انہیں بیدار سمجھو گے ، حالانکہ وہ تو سوئے ہوئے تھے اور ہم ان کی کروٹیں بدل رہے تھے ۔ اور ان کے ساتھ کتے کی حالت یہ تھی (آیت) ” وکلبھم باسط ذراعیہ بالوصید “۔ اور ان کا کتا اپنے اگلے بازو پھیلائے غار کی چوکھٹ پر تھا وہ اتنا دہشت ناک منظر تھا کہ فرمایا اے مخاطب ! (آیت) ” لواطلعت علیھم “۔ اگر تو ان کو جھانک کر دیکھے (آیت) ” لولیت منھم فرارا “۔ تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا (آیت) ” ولملئت منھم رعبا “۔ اور تیرا سینہ ان کے رعب سے بھر جائے گا اللہ نے انکی ایسی کیفیت بنا رکھی تھی کہ تم انہیں دیکھنے کی تاب نہ لاسکتے ۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اٹھایا ان کو تاکہ وہ سوال کریں آپس میں کہا ایک کہنے والے نے کہ تم کتنی دیر تک ٹھہرے ہو ، انہوں نے کہا کہ ہم ٹھہرے ہیں ایک دن یا دین کا بعض حصہ کہا انہوں نے تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے جتنی دیر تم ٹھہرے ہو پس بھیجو اپنے میں سے ایک کو یہ روپیہ دے کر شہر کی طرف پس دیکھے وہ کون سا کھانا پاکیزہ ہے ، پس لائے وہ رزق اس میں سے اور چاہئے کہ نرمی کرے اور نہ بتلائے تمہاریی بارے میں کسی کو ۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اس لیے کہ بیشک اگر وہ لوگ غالب آجائیں گے تم پر ، تو تم کو سنگسار کردیں گے یا لوٹا دیں گے تم کو اپنے دین میں اور پھر تم ہرگز نہیں فلاح پاسکو گے کبھی بھی ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی اپنی قوم سے علیحدگی کا حال ذکر کیا ، اللہ کے ان نیک بندوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم اپنے سچے دین پر قائم رہ کر ظالم بادشاہ کا تشدد برداشت نہیں کرسکتے ، لہذا بہتر ہے کہ ہم یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی پہاڑ کی غار میں روپوش ہوجائیں ، چناچہ اس منصوبہ کے تحت یہ لوگ شہر کے قریب ہی پہاڑ کی ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے ، وہ وقتا فوقتا اپنے میں سے ایک آدمی کو شہر بھی بھیجتے رہے تاکہ ایک تو وہ ان کے لیے خوردونوش کا سامان لاسکے اور دوسرے شہر کے حالات معلوم کرسکے ، چناچہ ان پر نیند طاری ہونے سے قبل جو شخص شہر سے ہو کر آیا اس نے بتایا کہ شہر میں سرکاری طور پر تمہاری تلاش شروع ہوچکی ہے ، مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں ، لہذا ہمارے لیے بڑا مشکل وقت آگیا ہے ، یہ سن کر وہ سخت پریشان ہوئے اور اسی دوران اللہ نے ان پر طویل نیند طاری کردی اور وہ تین سو نوسال تک سوئے رہے ۔ گذشتہ آیات ہی میں غار کے اندر کی کیفیت بھی بیان ہوچکی ہے غار کا رخ اس طرح تھا کہ جب سورج طلوع ہوتا تو غار کی دائیں طرف سے اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف سے ہو کر نکل جاتا جس کی وجہ سے غار میں پڑے ہوئے آدمیوں کو سورج کی شدت نہ پہنچتی اور اس طرح ان کے اجسام گلنے سڑنے سے محفوظ رہے ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم اصحاب کہف پر ایک نظر ڈالو تو معلوم ہوگا کہ وہ لوگ جاگتے ہیں حالانکہ وہ خوابیدہ ہیں ، ان کے جسموں کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ ان کی کروٹیں بھی بدلتا رہا ، اور ان کا کتاب بھی اگلے بازو پھیلائے غار کی چوکھٹ پر بیٹھا رہا ، اللہ تعالیٰ کو ان اصحاب کی حفاظت منظور تھی ، اس لیے سینکڑوں سال تک اس غار کی طرف کسی کو آنے کا موقع نہ دیا ۔ (نیند سے بیداری) اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی نیند سے بیداری کا حال بیان کیا ہے تین سو سال سے زائد عرصہ کے دوران بڑے تغیرات واقع ہوئے کئی نسلیں بدلیں ، سلطنتیں تبدیل ہوگئیں ، آبادیوں میں ردوبدل ہوگیا ، مگر ان اصحاب کو اس دوران بھوک اور پیاس کا احساس تک نہ ہوا ، حضرت عزیر (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ، وہ بھی سو سال تک سوئے رہے جب بیدار ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا کتنی دیر ٹھہرئے ہو ، کہنے لگے ایک دن یا اس کا کوئی حصہ فرمایا نہیں بلکہ سو سال گزر چکے ہیں ؤپ کو بھی اتنا عرصہ بھوک پیاس محسوس نہیں ہوئی تھی ، یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے ، وہ ایسا کرنے پر قادر ہے ، اس سلسلہ میں قادیانی حیات مسیح (علیہ السلام) پر اعتراض کرتے ہوئے سوال کرتے ہیں کہ جب آپ آسمانوں پر زندہ ہیں تو اس کے خورد ونوش اور بول وبراز کا کیا انتظام ہے ؟ یہ بالکل فضول اعتراض ہے جو اللہ اس زمین پر بعض لوگ کو بھوک پیاس کا احساس نہیں ہونے دیتا ، وہ آسمان پر ایسا کیوں نہیں کرسکتا ، عیسیٰ (علیہ السلام) تو دوسرے آسمان پر فرشتوں کی طرح اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہیں انہیں اس مادی جہاں والے کھانے پینے کی کیا حاجت ہوسکتی ہے ؟ قدیم ماہرین فلکیات بھی کہتے ہیں کہ تغیرات کا جہاں فلک قمر ہے ، تمام تغیرات چاند کی سطح سے نچلے حصے میں واقع ہوتے ہیں ، اس سے اوپر نہیں تاہم اگر اوپر بھی تغیر وتبدل واقع ہوتا ہو تو اللہ تعالیٰ کے لیے کون سی مشکل بات ہے کہ وہ کسی فرد کو تغیرات سے مستثنی کر دے ، اصحاب کہف اور عزیر (علیہ السلام) کے واقعات زندہ مثالیں موجود ہیں ، بہرحال نیند سے بیدار ہونے کے بعد جب اصحاب کہف اس مادی جہان میں واپس آئے تو انہیں بھوک بھی محسوس ہوئی چناچہ جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے ، انہوں نے سامان خورد ونوش حاصل کرنے کے لیے اپنے میں سے ایک آدمی کو شہر روانہ کیا ۔ (کتے کے خواص) تین سو سالہ خوابیدگی کے دوران جو حالات اصحاب کہف پر گزرے وہی حالات ان کے کتے پر بھی وارد ہوئے اور وہ ان کے ساتھ ہی محو خواب رہا اور غار کے دھانے پر بازو پھیلائے بیٹھا رہا ، جیسا کہ میں نے گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ کتا کوئی پسندیدہ جانور نہیں ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ شوقیہ کتا رکھنے والے کے اعمال سے ہر روز دو قیراط نیکیاں کم ہوتی رہتی ہیں ، البتہ حفاظت یا شکار کے لیے کتا پالا جائے تو اس کا حکم دوسرا ہے ویسے کتوں سے محبت کرنا اچھی بات نہیں ہے کیونکہ اسے شیطان کے ساتھ زیادہ مناسبت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ نمازی کے سامنے سے گدھا ، عورت یا کتا گزرے تو نماز میں خلل واقع ہوتا ہے لہذا نماز پڑھتے وقت حسب ضرورت اپنے سامنے سترہ رکھ لیا کرو ۔ کتا اگرچہ ناپسندیدہ جانور ہے مگر ذی روح ہونے کی حیثیت سے اس کی تکلیف کا احساس کرنا نیکی میں داخل ہے حضور ﷺ نے ایک واقعہ بیان فرمایا کہ کوئی شخص راستہ چل رہا تھا ، راستے میں اس نے ایک کنوئیں پر پیاس بجھائی ، پاس ہی ایک کتا بھی پیاس کے مارے ہانپ رہا تھا اس شخص کے پاس پانی نکالنے کے لیے کوئی ڈول وغیرہ تو نہیں تھا ، اس نے اپنے جوتے میں پانی نکال کر کتے کو پلا دیا اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ عمل قبول کیا اور اس شخص کو بخش دیا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے حضور سے دریافت کیا کہ اگر ہم جانوروں کے ساتھ نیکی کریں تو کیا ہمیں اس کا فائدہ ہوگا ؟ فرمایا ، ہر جگر رکھنے والی چیز کے ساتھ احسان کرو گے تو یہ صدقہ میں داخل ہوگا جب جانوروں کے ساتھ حسن سلوک سے نجات حاصل ہو سکتی ہے تو انسانوں کے ساتھ احسان کرنا تو بہت زیادہ مفید ہوگا ۔ (نیند کا عرصہ) الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کی نیند سے بیداری کو اس طرح بیان فرمایا (آیت) ” وکذلک بعثنھم “ اور اس طرح ہم نے ان کو اٹھایا یعنی نیند سے بیدار کیا ، اللہ تعالیٰ نے جس طرح انہیں اپنی قدرت کاملہ سے لمبی نیند سلا دیا تھا ، اسی طرح انہیں بیدار بھی کردیا ، (آیت) ” لیتسآء لوا بینھم “ تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے اس نیند کے متعلق سوال کریں چناچہ (آیت) ” قال قآئل منھم “ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا (آیت) ” لکم لبثتم “۔ بھلا بتاؤ تو تم یہاں کتنا عرصہ ٹھہرے ہو ، یعنی کتنی دیر سوئے ہو ۔ (آیت) ” قالوا لبثنا یوما او بعض یوم “ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایک دن یا دن کا کچھ عرصہ ٹھہرے ہیں ، ظاہر ہے کہ غار کے اندر جب ان پر نیند طاری ہوئی تو دن کا ابتدائی حصہ تھا اور جب وہ بیدار ہوئے تو دن کا آخری حصہ تھا ، بعض نے سمجھا کہ ابھی سورج غروب نہیں ہوا لہذا انہوں نے کہا کہ ہم ابھی پورا دن بھی نہیں سوئے اور جنہوں نے گمان کیا کہ سورج غروب ہوچکا ہے ، وہ کہنے لگے کہ ہم ایک پورا دن سوئے رہے ہیں ۔ قالو “ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملہ میں زیادہ بحث مباحثہ کی ضرورت نہیں (آیت) ” ربکم اعلم بما لبثتم “ تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنا عرصہ سوئے رہے ہو ، کہنے لگے اس معاملہ کو اللہ پر ہی چھوڑ دو ، (غیر ضروری تفصیلات) جیسا کہ کسی گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس قسم کے واقعات کی تمام جزئیات بیان نہیں فرمائیں بلکہ صرف اتنا حصہ ہی بیان کیا ہے جو انسانوں کی عبرت کے لیے کافی ہے ، اصحاب کہف کی تعداد کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حتمی بات بیان نہیں کی ، آگے آرہا ہے کہ لوگ ان کی تعداد کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں تاہم مفسرین نے مختلف شواہد کی بناء پر اصحاب کہف کا تعین کیا ہے مثلا بعض مفسرین نے ان کی سات تعداد کے متعلق یہ استدلال پیش کیا ہے کہ (آیت) ” قال قآئل منھم “ میں کہنے والا یعنی عرصہ نیند کے متعلق سوال کرنے والا ایک شخص ہے اور آگے جواب میں ” لبتنا “ جمع کا صیغہ ہے جو کم از کم تین افراد پر بولا جاتا ہے ، آگے پھر (آیت) ” قالوا ربکم اعلم میں جمع کا صیغہ ہے تو فرماتے ہیں کہ ایک سائل اور دو دفعہ تین تین آدمی جواب دینے والے ، کل مل کر سات بنتے ہیں ۔ لہذا اصحاب کہف کی تعداد سات ہے ۔ بہرحال تعداد کا تعین کوئی ضروری امر نہیں ہے جسمیں ضرور ہی کرید کی جائے ، اسی طرح کتے کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس پر بحث کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ، امام ابن جریر طبری (رح) اور امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ اس قسم کی غیر ضروری تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے عقیدے ، عزیمت اور استقامت کا ذکر کردیا ہے ہمارے لیے اتنی تفصیل ہی کافی ہے کہ یہ چند نوجوان تھے جنہوں نے کفر وشرک کو ترک کیا اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے غار میں پناہ حاصل کرلی ، اللہ تعالیٰ نے انکو عظیم بزرگی عطا فرمائی ۔ امام ابن کثیر (رح) نے تاریخ ابن عساکر (رح) کے حوالے سے امام حسن بصری (رح) کا قال نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے جو قربانی کے لیے مینڈھا پیش کیا گیا اس کا نام جریر تھا اس طرح سلیمان (علیہ السلام) کے ہدہد کا نام انفذ تھا ، اصحاب کہف کے کتے کا نام قطمیر بتایا جاتا ہے جس بچھڑے کی بنی اسرائیل نے پوجا کی تھی اس کا نام محمود تھا اسی طرح یہ روایت بھی مشہور ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہندوستان میں اور مائی حوا ؓ کو جدہ میں اتارا گیا ، پھر سانپ کو اصفہان میں اور شیطان کو بیسان میں نازل کیا گیا یہ سب سریانی یا عبرانی روایات ہیں جو قابل اعتماد نہیں ہیں ، ہمیں ایسی چیزوں کی تفصیل میں جانے کی کوئی ضرورت ہے اور نہ کوئی اس میں فائدہ ہے ، امام ابن کثیر (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” ما من شیء یقربکم من الجنۃ ویباعدکم من النار “ یعنی جنت سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے دور کرنے کوئی چیز نہیں جو میں نے تمہیں بتلا نہ دی ہو ، لہذا اب غیر ضروری باتوں میں کرید کرنے کی کوشش نہ کرو ۔ (کھانے کا انتظام) بہرحال نیند سے بیداری کے بعد اصحاب کہف کو بھوک محسوس ہوئی تو کہنے لگے (آیت) ” فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ “۔ اپنے میں سے کسی ایک کو یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو یہاں پر لفظ واحد کی بجائے احد استعمال کیا گیا ہے عربی زبان میں واحد کا اطلاق رئیس پر ہوتا ہے ، اگر لفظ واحد آتا تو مطلب ہوتا کہ اپنے میں سے بڑے آدمی کو بھیجو مگر احد سے مراد یہ ہے کہ اپنے میں سے کسی ایک آدمی کو بھیجو ورق چاندی کو کہتے ہیں وہ سکے کی شکل میں ہو یا ویسے ہی ڈلی ہو ، قدیم زمانے میں سونے کا دینار اور چاندی کا درہم ہوتا تھا اس لیے محض ورق سے مراد چاندی کا سکہ ہی لیا جاتا تھا ، پرانے زمانے میں تو یہ سکے خالص سونے چاندی کے ہوتے تھے ، برصغیر کا روپیہ بھی خالص چاندی کا ہوتا تھا مگر اب ان سکوں میں دیگر دھاتوں کی ملاوٹ بھی کردی گئی ہے اور دنیا بھر میں بڑی رقوم کے لیے سکوں کی بجائے کاغذی نوٹ استعمال ہوتے ہیں ، بہرحال انہوں نے کچھ سکے دے کر ایک آدمی کو کھانا لانے کے لیے بھیجا مفسرین فرماتے ہیں کہ گھروں سے نکلتے وقت یہ لوگ کچھ نقدی بھی ہمراہ لے گئے تھے تاکہ بوقت ضرورت کام آسکے چناچہ وہ طویل نیند سونے سے پہلے بھی اس پونجی کو استعمال کرکے کھانے پینے کی اشیاء منگواتے رہے اور بیدار ہونے کے بعد بھی انہوں نے ایسا ہی کرنا چاہا ۔ مفسرین کرام نے اس سے بعض ضمنی مسائل بھی اخذ کیے ہیں ، امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جس رقم سے اصحاب کہف کھانا وغیرہ لاتے تھے ظاہرہ ہے کہ وہ سب کی مشترکہ پونجی تھی اگر چہ ان کا حصہ اس میں برابر برابر نہ تھا ، اس سے معلوم ہوا کہ چند آدمی مل کر ایک فنڈ قائم کرسکتے ہیں جو سب کی طرف مشترکہ طور پر منسوب ہوگا ، اسی طرح وہ خورد ونوش میں بھی اشتراک کرسکتے ہیں اگرچہ ان میں سے ہر ایک ایک جتنا تو نہیں کھاتا ہوگا بلکہ ہر آدمی اپنی طلب کے مطابق کھانا کھاتا ہے تو اس طرح اگر کھانا کھانے میں کمی بیشی ہوجائے تو اس سے مشترکہ فنڈ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ، البتہ قحط کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اس معاملہ میں خاص ہدایات دیں ، آپ بعض آدمیوں کو اکٹھا کھانا کھاتے دیکھ کر تلقین فرماتے تھے ، کہ حضور ﷺ نے دو دو کھجوروں کا ایک ایک لقمہ بنانے سے منع فرمایا ہے تاکہ دوسرے کا حق ضائع نہ ہو ، ہاں اگر مل کر کھانے والے اجازت دے دی کہ ہر شخص کو حسب خواہش کم وبیش کھانے کی اجازت ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا ۔ بہرحال اصحاب کہف نے اپنے میں سے ایک کو وکیل بنا کر سکہ اس کے حوالے کیا کہ یہ لے کر شہر میں جائے (آیت) ” فلینتظر ایھا ازکی طعاما “۔ اور دیکھے کہ کون سا کھانا پاکیزہ ہے ازکی کا معنی اچھا اور صاف ستھرا بھی ہوسکتا ہے مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے مراد احل واطیب “ ہے یعنی جو حلال ہو ، یہ مومن آدمی ہیں اور حرام کھانا استعمال نہیں کرسکتے ، اگر غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا گوشت ہو تو وہ بھی مردار کے حکم میں آئے گا اور حلال نہیں ہوگا ، اسی طرح غصب شدہ مال سے حاصل کیا گیا یا چوری کا کھانا بھی درست نہیں ہوگا ، اسی لیے فرمایا کہ جا کر دیکھے کون سا کھانا حلال اور طیب ہے (آیت) ” فلیاتکم برزق منہ “ پس اس میں سے کچھ کھانا لے آئے ۔ اور ساتھ یہ بھی کہا ” ولیتلطف “ اور چاہیے کہ وہ آدمی نرمی اختیار کرے ، کوئی ایسی بات یا حرکت شہر میں جا کر نہ کرے جس سے ان کے راز فاش ہوجانے کا خطرہ ہو مطلب یہ تھا کہ ان کا نمائندہ ایسی تدبیر کی ساتھ اشیاء خریدے کہ کسی کو شبہ نہ پڑے اور لوگ اسے اجنبی مسافر ہی سمجھیں ، (آیت) ” ولا یشعرن بکم احدا “۔ اور اسے چاہئے کہ تمہارے متعلق کسی شخص کو کوئی خبر نہ دے سارا کام بڑی احتیاط سے کرے تاکہ ہماری روپوشی کے متعلق کسی کو علم نہ ہو سکے ، یہ حفاظتی تدابیر سمجھا کر ایک آدمی کو شہر میں بھیجا گیا ، کہتے ہیں کہ ان میں سے یملیخا زیادہ ہوشیار آدمی تھا اس لیے اس کام پر انہوں نے اس کو مامور کیا ، یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بیداری کے بعد انہوں نے اپنے اجسام میں کوئی غیر معمولی تغیر نہیں پایا تھا بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کے بال اور ناخن بہت بڑھ چکے تھے اگر ایسا ہوتا تو وہ ایک آدمی کو شہر بھیجنے سے پہلے اس بات کا ضرور نوٹس لیتے کہ اس حالت میں لوگ اسے دیکھیں گے تو ان کا راز کھل جائے گا ، انہوں نے کوئی ایسی چیز محسوس کیے بغیر اس طرح آدمی کو شہر بھیجا جس طرح وہ سونے سے پہلے بھیجتے رہے تھے ۔ (شہر میں پیش آمدہ حالات) جب یملیخا پونجی لے کر شہر پہنچا تو اسے وہاں پر اجنبیت محسوس ہوئی ، اس کی جانی پہچانی کوئی شکل و صورت وہاں نظر نہ آئی شہر کی ہئیت بھی بہت حد تک بدل چکی تھی وہ قدرے حیران ضرور ہوا ، تاہم اس نے اپنی مرضی کا کھانا خریدنے کے لیے جب دکاندار کو سکہ دیا تو اس نے کہا کہ یہ تو کھوٹا ہے اس نے دوسرا سکہ دیا تو وہ بھی ایسا ہی تھا تین سو سال میں بادشاہوں کے ساتھ سکے بھی تبدیل ہوچکے تھے ، سکے پر قیصر ڈیسئس کی تصویر دیکھ کر دکاندار مزید حیران ہوا ، اتنے میں بہت سے لوگ جمع ہوگئے ، بعض کہنے لگے کہ اس شخص کو کوئی پرانا خزانہ مل گیا ہے انہوں نے کہا کہ سچ سچ بتاؤ یہ سکے کہاں سے لیے ہیں ، ورنہ تمہیں پویس کے حوالے کردیا جائے گا یملیخا سخت پریشان ہوا اور اس کے دل میں آئی کہ اب اسے ظالم بادشاہ کے روبرو پیش ہونا پڑے گا اور ان کا راز کھل جائے گا اس شخص نے اپنے والدین اور بعض عزیزوں کے نام بھی لیے مگر تین سو سال پرانے آدمیوں کو اس وقت کون جانتا تھا بہرحال چاروناچار اس نے ساری بات کہہ دی اور لوگوں نے پکڑ کر اسے بادشاہ وقت کے سامنے پیش کردیا اس نے بادشاہ کو ساری بات بتا دی کہ وہ اور اس کے ساتھی فلاں غار میں پناہ گزیں ہیں ، اس پر سرکاری ریکارڈ سے وہ تختیاں نکالی گئیں جن پر ان کے نام اور کوائف درض تھے اور ان کی روپوشی کے بعد محفوظ کردی گئی تھیں ، بادشاہ عیسائی مذہب رکھتا تھا اور رحمدل بھی تھا ، وہ ساری بات سمجھ گیا کہ یہ وہ وہی لوگ ہیں جو تین سو سال پہلے ظالم اور مشرک بادشاہ کے ڈر سے غار میں چھپ گئے تھے ، بادشاہ نے اسے تسلی دی اور ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ، پھر بادشاہ کے کہنے پر وہ شخص غار کی نشاندہی کے لیے چل پڑا ، اس کے ساتھ لوگوں کا ایک بڑا ہجوم بھی تھا جب غار کے قریب پہنچے تو غار کے اندر موجود نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ان کا راز فاش ہوچکا ہے اور ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے چناچہ انہوں نے نماز شروع کردی اتنی دیر میں یملیخا خود غار کے اندر داخل ہوا اور اپنے ساتھیوں کو حالا ت سے آگاہ کیا اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ یہ لوگ ہمارے دشمن نہیں ہیں بلکہ ہماری زیارت کے لیے آئے ہیں ، (اصحاب کہف کی موت) اس کے بعد کی روایات میں اختلاف ہے عام مشہور یہ ہے کہ جب اصحاب کہف کو لوگوں نے آنے کی خبر ہوئی تو وہ وہیں لیٹ گئے اور اللہ نے اسی وقت ان پر موت طاری کردی ، اللہ نے اپنی قدرت کا نمونہ دکھانا تھا جو دکھا دیا ، اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے یہ بھی واضح کردی کہ بعض بعدالموت برحق ہے جس طرح اللہ نے ان لوگوں کو تین سو سال کے بعد دوبارہ کھڑا کردیا ، اسی طرح وہ پوری نوع انسانی کو قیامت کے دن زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا ۔ آگے اللہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اصحاب کہف نے اپنے راز کی پردہ پوشی کے لیے تمام تر حفاظتی تدابیر کیوں اختیار کیں اور اپنے ساتھی کو محتاط رویہ اختیار کرنے کی تلقین کی ، اس کی وجہ انہوں نے یہ بتلائی (آیت) ” انھم ان یظھروا علیکم “ اگر یہ لوگ تم پر غالب آگئے اور تم پکڑے گئے (آیت) ” یرجموکم “ تو وہ تمہیں سنگسار کردیں گے پتھر مار مار کر ہلاک کردینا سخت ترین سزا ہے جو شادی شدہ زانی کے لیے مقرر ہے کہنے لگے یا تو تمہیں یہ سزا دیں گے (آیت) ” اویعیدوکم فی ملتھم “ یا وہ تمہیں اپنے دین میں واپس لے جائیں گے ، یعنی تمہاری جان کی امان اسی صورت میں ممکن ہوگی کہ تم شرک اور کفر والا پرانا دین اختیار کرلو ، اور اگر ایسا کرو گے (آیت) ” ولن تفلحوا اذا ابدا “ تو تم کبھی فلاح نہیں پاسکو گے ، نجات سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاؤ گے ، اس لیے اپنے ساتھ سے کہا کہ نہایت حفاظتی تدابیر اختیار کرنا کہ کہیں پکڑے نہ جاؤ ۔