Ayah 17:1(نام اور کوائف)
اس کا نام سورة بنی اسرائیل ہے ، اس میں بنی اسرائیل کا تھوڑا سا حال بیان ہوا ہے اور اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام رکھا گیا ہے یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں ، یہ سورة 1533 کلمات اور 6400 حروف پر مشتمل ہے ۔
(فضائل سورة )
اس سورة مبارکہ کی بڑی فضیلت آئی ہے بخاری شریف میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کا سورة بنی اسرائیل ، کا سورة بنی اسرائیل ، سورة کہف اور سورة مریم کے متعلق بیان (1) (بخاری ص 683 ج 2 (فیاض) ہے ” انھن من العقاق الاول “ یہ عمدہ سورتیں میرا پرانا مال ہیں یعنی میں نے انہیں بہت پہلے یاد کرلیا تھا ، ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ تقریبا ہر رات سورة زمر اور سورة بنی اسرائیل کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ، بعض اور سورتوں کی تلاوت کا ذکر بھی ملتا ہے تاہم ان دوسورتوں کو خصوصیت حاصل ہے ،
(مضامین سورة )
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة مبارکہ میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ کی توحید کا اثبات اور شرک کی تردید ، رسالت بطور جزو ایمان قرآن پاک کی حقانیت وصداقت اور معاد یعنی قیامت کا ذکر اس سورة کے مضا میں ہیں اس سورة میں اخلاقی تعلیم کا ذکر بھی ہے جو کہ انسان کی ترقی کے لیے ضروری ہے سورة ہذا کا ایک اہم مضمون واقعہ معراج ہے جس کا ذکر اسکی پہلی آیت میں کیا گیا ہے اور پھر کچھ ضمنا تذکرہ ساٹھویں آیت میں ہے ۔
اس سورة مبارکہ کی آیات بائیس تا چالیس میں اسلامی ریاست کا منشور (MANIFESTO مینی فسیٹو) پیش کیا گیا ہے اگرچہ اسلامی ریاست کی داغ بیل تو مدنی زندگی میں جا کر پڑی مگر یہ امر واقع ہے کہ حکومتیں یا باجماعتیں اپنا منشور اقتدار میں آنے سے پہلے ہی شائع کردیتی ہیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان کا آئندہ پروگرام کیا ہے اسی طریقے پر اسلامی سلطنت کا منشور بھی ریاست کے قیام سے پہلے ہی نازل کردیا گیا ۔
اس سورة کا ربط پہلی سورة کے ساتھ بھی ہے ، سورة النحل کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو کفار کی ناپسندیدہ حرکات پر صبر کرنے کا درس دیا تھا تو اب اس سورة مبارکہ میں حضور ﷺ کا واقعہ معراج بیان کرکے اللہ نے واضح فرمایا ہے کہ آپ کس قدر بلند مرتبت ہیں جو کہ صبر ہی کا نتیجہ ہے ۔
(زمانہ واقعہ معراج)
واقعہ معراج یقینا مکی زندگی میں پیش آیا ، مگر سنہ کے تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض مفسرین 4 نبوی کا ذکر کرتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ہجرت سے ایک سال قبل پیش آیا تاہم راجح بات یہ ہے کہ واقعہ معراج نبوت کے دسویں سال یا گیارہویں سال میں پیش آیا ، اس لحاظ سے یہ واقعہ ہجرت سے تین سال قبل کا ہے ۔
اس سال کئی دیگر اہم واقعات بھی پیش آئے مثلا حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ ؓ کی وفات اسی سال میں ہوئی ، آپ کے چچا ابو طالب بھی اسی برس فوت ہوئے اگرچہ وہ ایمان نہیں لائے مگر انہوں نے حضور کی ہمیشہ حمایت کی مشرکین کی طرف سے تکالیف حد سے بڑھ گئیں ، تو آپ کو طائف کا سفر بھی اسی سال اختیار کرنا پڑا ، حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ چونکہ نماز پنجگانہ واقعہ معراج میں فرض ہوئیں ، اس لیے حضرت خدیجہ ؓ پانچ نمازیں ادا نہیں کرسکیں ، اس زمانے میں صرف تین نمازیں تھیں ، رات کی نماز صرف حضور ﷺ پر فرض تھی اور باق صرف دو نمازیں فجر اور عصر فرض تھیں جیسا کہ سورة طہ میں ہے (آیت) ” قبل طلوع الشمس وقل غروبھا “۔ یعنی ایک طلوع سورج سے پہلے اور ایک سورج کے غروب ہونے سے پہلے ۔
(مکمل واقعہ معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اہل سنت والجماعت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ واقعہ معراج محض خواب کا واقعہ نہیں جسے روحانی معراج تسلیم کرلیا جائے بلکہ آپ کو یہ معراج روح اور جسم دونوں کے ساتھ ہوا خواب میں دیکھا جانے والا کوئی بھی واقعہ کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی اعتراض کرتا ہے ، مگر معراج النبی ایک ایسا حیرت انگیز واقعہ ہے جسے سن کر مشرکین نے فورا اعتراضات شروع کردیے کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ایک شخص رات کے تھوڑے سے حصے میں زمین وآسمان کے درمیان پچاس ہزار سال کی مسافت طے کرے ، اس زمانے میں بھی جسمانی معراج کا انکار کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں ، بعض لوگ ملحد ہیں جو کہ نافرمانوں کی بدتر قسم ہے اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو غلط فہمی کی بناء پر جسمانی معراج کا انکار کرتے ہیں اس کی بنیاد احادیث کے بعض الفاظ میں جن سے شبہ پیدا ہوتا ہے تاہم جمہور کے نزدیک یہ جسمانی اور روحانی مکمل معراج تھا جس کی تفصیلات خود حضور ﷺ نے مختلف اوقات میں بیان فرمائیں اس واقعہ کے راوی چالیس پینتالیس صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں جنہوں نے اس واقعہ کے مختلف حصے بیان کئے ہیں اور اب محدثین کرام نے تمام تفصیلات کو یکجا کردیا ہے ، بخاری ، مسلم ، ترمذی ، مسنداحمد وغیرہ ساری معتبر کتابوں میں اس واقعہ کا باب باندھا گیا ہے اور حضور ﷺ کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔
(آغاز واقعہ معراج)
جس رات واقعہ معراج پیش آیا ، اس رات حضور ﷺ اپنی چچا زاد بہن ام ہانی ؓ کے ہاں مقیم تھے ان کا مکان خانہ کعبہ کے بالکل قریب تھا ، اور آپ اکثر وہاں تشریف لایا کرتے تھے ، چونکہ آپ کا گھر وہاں سے ذرا دور تھا ، اس لیے آپ بعض اوقات اپنی بہن کے ہاں ٹھہر جاتے ، تاکہ رات کو خانہ کعبہ میں عبادت کرسکیں ، بعض روایات میں آپ کے اپنے گھر کا ذکر بھی آتا ہے کہ آپ وہاں مقیم تھے مگر محدثین کرام فرماتے ہیں کہ ام ہانی کے گھر والی روایت صحیح ہے ، اور آپ نے چچا کے گھر کو اپنے ہی گھر پر محمول کیا ہے بعض روایات میں حطیم کے قیام کا ذکر بھی آتا ہے ، یہ بھی درست ہے کیونکہ آپ کے بیان کے مطابق فرشتے آپ کو ام ہانی کے گھر سے بیدار کرکے حطیم میں لے آئے تھے وہیں شق صدر ہوا اور پھر وہیں سے آپ سفر معراج پر روانہ ہوئے ۔
(شق صدر)
حضور ﷺ کا بیان ہے کہ فرشتوں نے ام ہانی کے مکان کی چھت پھاڑ کر مجھے وہاں سے نکالا اور پھر خانہ کعبہ کے حطیم والے حصہ میں لے آئے ، پھر میرے سینہ کو چاک کیا ، قلب مبارک کو نکالا ، اسے سونے کے طشت میں رکھ کر آب زم زم سے دھویا ، اسے علم و حکمت سے بھر دیا اور پھر اپنے ٹھکانے پر واپس رکھ دیا مسلم شریف کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آپ کا شق صدر کیا گیا اس وقت آپ زمین پر نہیں تھے بلکہ فرشتوں نے آپ کو ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا ، (آیت) ” ثم انزلت “ پھر جب وہ اپنا کام مکمل کرچکے تو مجھے نیچے اتار دیا گیا ۔
حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں شق صدر کا واقعہ چار دفعہ پیش آیا ہے پہلا واقعہ چار پانچ سال کی عمر میں پیش آیا جب کہ آپ اپنی رضاعی والدہ حلیمہ سعدیہ ؓ کے ہاں زیر پرورش تھے اس عمر میں بچہ عام طور پر لہو ولعب کی طرف مائل ہوتا ہے مگر آپ کو چونکہ منصب نبوت عطا ہونے والا تھا اس لیے ابتداء ہی سے آپ کی تربیت مقصود تھی تاکہ آپ کھیل کود کی طرف زیادہ توجہ نہ دیں پھر دوسری دفعہ شق صدر اس وقت پیش آیا جب آپ کی عمر مبارک بارہ تیرہ سال کی تھی آغاز شباب میں اکثرنوجوانوں کے خیالات منتشر ہوجاتے ہیں مگر آپ ﷺ کو چونکہ ایک عظیم ذمہ داری سونپی جارہی تھی ، لہذا شق صدر کے ذریعے آپ کے قلب مبارک سے وہ تمام چیزیں دور کردی گئیں جن سے لغزش پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے ۔
منصب نبوت بڑا بوجھل معاملہ ہے ، اللہ نے سورة مزمل میں فرمایا (آیت) ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “۔ ہم آپ پر ایک بوجھل بات ڈالنے والے ہیں یعنی وحی الہی کا بوجھ اتنا شدید ہوتا تھا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ شدید سردی میں حضور ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگتے تھے ، تو اس بوجھ کو برداشت کرنے کے لیے آپ کا تیسری دفعہ سینہ چاک کیا گیا اور پھر چوتھا شق صدر سفر معراج پر روانہ ہونے سے قبل حطیم میں کیا گیا تاکہ آپ پیش آمدہ عجیب و غریب واقعات کو برداشت کرسکیں ۔
(مسجد حرام سے مسجد اقصی تک)
حضور ﷺ نے بیان فرمایا کہ شق صدر کے بعد میرے پاس حطیم کے مقام پر ایک جانور لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا یہ سفید رنگ کا جانور اتنا تیز رفتا رتھا کہ اس کا ایک ایک قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا ، مجھے اس جانور پر سوار کرایا گیا ، جبرائیل ﷺ ہمراہ تھے ہمارا سفر مسجد اقصے کی طرف شروع ہوا جب مدینہ طیبہ کے مقام پر پہنچے تو مجھے سواری سے نیچے اترنے کا حکم ہوا چناچہ جس جگہ اس وقت مسجد نبوی ہے وہاں میں نے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر میرا گذر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر پر ہوا ، آپ کی قبر سرخ ٹیلے کے پاس ہے مجھے دکھایا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) قبر میں کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے ہیں ، حدیث (مسلم 268 ج 2 ونسائی ص 242 ج 1 ومسند احمد 148 ج 3 (فیاض) میں یہ الفاظ آتے ہیں ” رایت موسیٰ قائما یصلی فی قبرہ “۔ فرماتے ہیں کہ پھر میرا گذر طور کے مقام پر ہوا ، جہاں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تکلم فرمایا تھا میں نے وہاں پر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر مدین کا مقام آیا جہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے ڈر سے مصر سے نکل کر قیام کیا تھا وہاں بھی دو رکعت نماز ادا کی ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جائے ولادت بیت اللحم پہنچے اور دور رکعت نماز ادا کی پھر بیت المقدس پہنچے اور میں نے جانور کو پتھر کے اس کڑے کے ساتھ باندھ دیا جہاں دیگر انبیاء اپنی سواری کے جانور باندھا کرتے تھے ، اس مقام پر بھی میں نے دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی ۔
فرماتے ہیں کہ اس وقت وہاں مسجد کی شکل و صورت نہ تھی کیونکہ اصل مسجد اور ہیکل سلیمانی کو بخت نصر نے تباہ وبرباد کردیا تھا اور اب وہاں اجڑھی ہوئی مسجد کے صرف کھنڈرات باقی تھے ، فتنہ بخت نصر کے سو سال بعد بنی اسرائیل پھر وہاں پہنچے اور وہ جگہ آباد کی ، اس کے بعد رومیوں نے اس مسجد کو تہس نہس کردیا ، مسجد کی تعمیر کی سہ بارہ کوشش کی گئی مگر کامیابی نہ ہوسکی اور واقعہ معراج کے وقت عمارت کی بجائے محض ایک ٹیلہ سا باقی رہ گیا تھا بیت اللہ شریف کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آتا رہا ہے ، اس کی اصل عمارت کی تعمیر حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیث (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوئی ۔ پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تجدید کی بہرحال مسیح (علیہ السلام) کے زمانہ میں بیت المقدس کے ارد گرد عمارات موجود تھیں مگر خود مسجد ویران ہوچکی تھی ، تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کے زمانے میں فلسطین فتح ہوا تو ہیکل سلیمانی کی از سر نو تعمیر کی گئی ، بیت اللہ کے قبلہ مقرر ہونے سے پہلے بیت المقدس ہی قبلہ تھا اور اسی کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی تھی ،
(آسمانوں کی سیر)
مسجد اقصی میں کچھ دیر قیام کے بعد آسمانوں کا سفر شروع ہوا ، پہلے آسمان پر حضرت آدم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی جبرائیل نے تعارف کرایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں ، میں نے سلام کیا ، انہوں نے مرحبا کہہ کر جواب دیا پھر دوسرے آسمان پر پہنچے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تیسرے آسمان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) اور چوتھے پر حضرت ادریس (علیہ السلام) ملے پھر پانچویں آسمان پر حضرت ہارون (علیہ السلام) اور چھٹے پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی اور آخر میں ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ملے تمام نبیوں کے ساتھ سلام و جواب کا تبادلہ ہوا ، اور پھر وہیں مجھے بیت المعمور بھی دکھایا گیا ، جس طرح زمین پر انسانوں کے لیے خانہ کعبہ ہے ، اسی طرح آسمانوں پر فرشتوں کا قبلہ بیت المعمور ہے ، وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں مگر کسی فرشتے کو ایک سے زیادہ مرتبہ طواف کا موقع نہیں ملتا اس کے بعد حضور ﷺ کو سدرۃ المنتہی کے مقام تک لے جایا گیا ، جس کے پاس ہی جنت الماوی ہے ، پھر اسی مقام پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا ظہور ہوا جسے روئیت باری تعالیٰ سے تعبیر کیا جاتا ہے آپ ﷺ نے جنت اور دوزخ کی سیر کی جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا اس کے علاوہ ہزاروں خارق عادت واقعات پیش آئے ۔
اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تین خاص چیزیں عطا فرمائیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کی امت پر پچاس نمازیں فرض کیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) کے مشورہ سے آپ ان میں تخفیف کی درخواست کرتے رہے اور پھر آخر میں پانچ نمازیں رہ گئیں اس کے متعلق کہا گیا ہے ” ذلک خمس وذلک خمسین “۔ یعنی ادا کرنے میں تو پانچ نمازیں ہیں مگر درجے کے اعتبار سے پچاس ہی ہیں ، بہرحال آپ کو پہلا تحفہ پانچ نمازوں کا ملا ، دوسرا تحفہ سورة بقرہ کی آخری دو آیات (آیت) ” امن الرسول “۔ سے لیکر (آیت) ” علی القوم الکفرین “۔ تک اور تیسری خاص چیز اللہ کا یہ فرمان ہے کہ حضور ﷺ کی امت کا جو شخص شرک میں ملوث نہیں ہوگا میں اس کی غلطیاں معاف فرما دوں گا ۔
(تعجب انگیز واقعات)
اس تعجب انگیز واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” سبحن الذی اسری بعبدہ “۔ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت لیے گئے ، ظاہر ہے کہ حضور ﷺ خود بخود تو معراج کے سفر پر نہیں گئے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کا انتظام فرمایا وہ تمام قوتوں کا مالک اور قادر مطلق ہے ، تمام عیوب ونقائص سے پاک ہے ، لہذا وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اپنے بندے کو روح اور جسم دونوں کے ساتھ بلند سے بلند تر مقام تک لے جائے ، اب منکرین اور ملحدین جو بھی تاویلیں کریں ، اللہ تعالیٰ نے لفظ سبحان کے ذریعے سب کا قلع قمع کردیا ہے ، اتنا تیز رفتار جانور بھی اللہ تعالیٰ ہی مہیا کرسکتا ہے اور پھر خاص بات یہ ہے کہ اتنے طویل سفر کے لیے لمبے چوڑے وقت کی ضرورت نہیں پڑی بلکہ فرمایا ” لیلا “ یہ سب کچھ رات بھر میں ہوگیا اور ” لیلا “ کو نکرہ لانے کا مطلب یہ ہے کہ پوری رات میں بھی نہیں ، بلکہ رات کے تھوڑے سے حصے میں یہ سارا واقعہ پیش آیا لفظ اسرای خود باب افعال ہے جو متعدی ہے ، پھر اس کے آگے ب لگا کر معیت کا معنی لیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو رات کے تھوڑے حصے میں لے گیا (آیت) ” من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی “۔ مسجد حرام سے مسجد اقصے یعنی دور والی مسجد کی طرف اقصی کا معنی دور ہوتا ہے چونکہ بیت المقدس خطہ عرب سے دور ہے اس لیے اسے مسجد اقصے کا نام دیا گیا ہے ۔
(بابرکت ماحول)
فرمایا مسجد اقصی وہ مسجد ہے (آیت) ” الذی برکنا حولہ “۔ جس کے اردگرد ہم نے برکات رکھی ہیں اس میں ظاہری اور باطنی دو قسم کی برکات شامل ہیں ، ظاہری طور پر یہ خطہ سرسبز و شاداب ہے ، یہاں پر نہریں ، چشمے اور باغات ہیں ، نیز یہ مقام ہزاروں انبیاء کا قبلہ رہا ہے اور ان کی وہاں قبریں بھی موجود ہیں ، یہاں پر خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ، لہذا یہ ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے بابرکت مقام ہے ، مفسرین یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لیجانے میں یہ حکمت بھی ہے کہ حشر کا میدان اسی مقام پر قائم ہوگا ، اس لیے حضور ﷺ کو سب چیزوں سے متعارف کرا دیا گیا ، پھر آپ کے توسط سے آپ کی امت کو بھی ان چیزوں سے آگاہ کیا گیا ۔
اس واقعہ کو بیان کرنے ایک مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا (آیت) ” لنریہ من ایتنا تاکہ ہم اپنے نبی کو اپنی قدرت کی نشانیاں اور کمالات دکھائیں ، ظاہر ہے کہ اللہ نے آپ کو عالم بالا اور عالم ملکوت کی بہت سی جگہوں کی سیر کرائی اور اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیاں دکھائیں (آیت) ” انہ ھو السمیع البصیر “۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا اور ہر چیز کو دیکھتا ہے ، اس نے اس واقعہ کے ذریعے اپنے نبی کا مرتبہ بلند فرمایا اور اس ایک آیت میں آپ کے فضائل حمیدہ کا تذکرہ کردیا گیا ، اگلی دو آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے اور پھر روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہوجاتا ہے ۔
Ayahs 17:2–3ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا اس سورة مبارکہ کی پہلی اور ساٹھویں آیات معراج نبوی سے متعلق ہیں اور اس واقعہ کا بعض حصہ سورة النجم میں بھی بیان کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ واقعہ معراج کی باقی تفصیلات صحیح احادیث میں مذکور ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ فضیلت بخشی کہ آپ کو معراج کی بلندیوں تک لے گیا اور مقصد معراج کے متعلق فرمایا تاکہ ہم اپنے پیغمبر کو اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دکھائیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس رات ایسی بہت سی نشانیاں دکھائیں جن میں آپ کی امت کے لیے تربیت کا پروگرام موجود ہے ، آپ کو جنت اور دوزخ کی سیر کرائی گئی اور امت کی تعلیم کے لیے بعض احوال بتلائے گئے جبرائیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دکھایا گیا ، انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ مختلف آسمانوں پر ملاقات کرائی خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) سے دو بار ملاقات ہوئی ، ایک دفعہ قبر میں نماز پڑھتے دکھایا گیا اور دوسری دفعہ نماز میں تخفیف کے سلسلہ میں آپ سے بار بار گفتگو ہوئی ۔
(خادمہ فرعون کا مقام)
امام ابن کثیر (رح) نے ایک روایت بیان کی ہے کہ جنت کی سیر کے دوران حضور ﷺ کا گزر ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں بڑی زبردست خوشبو آرہی تھی آپ ﷺ کے دریافت کرنے پر بتلایا گیا کہ یہ بنت فرعون کی خادمہ کا مقام ہے ایک موقع پر یہ خادمہ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کر رہی تھی کہ کنگھی اس کے ہاتھ سے گر پڑی جسے اس خادمہ نے بسم اللہ پڑھ کر اٹھا لیا فرعون کی بیٹی بڑی حیران ہوئی کہ کیا اس کے باپ کے علاوہ کوئی اور بھی خدا ہے جس کا نام اس خادمہ نے لیا ہے بات فرعون تک پہنچی تو اس نے خادمہ کو بلاکر پوچھا کہ کیا تم میرے علاوہ کسی دوسرے کو بھی خدا تسلیم کرتی ہو ، خادمہ نے جواب دیا کہ ہاں ، ہم تو اس اللہ کو معبود مانتے ہیں جو ہمارا تمہارا اور سب کا معبود ہے ، فرعون جو اس وقت تک بلاشرک غیر خدائی کا دعویدار تھا خادمہ کی صاف گوئی پر سخت برہم ہوا اور حکم دے دیا کہ اس کے سارے خاندان کو ہلاک کردیا جائے ، اس کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ تانبے کے بنے ہوئے بیل کے مجسمہ کو خوب تپایا جائے اور پھر اس کے خاندان کے ایک ایک فرد کو اس کے پیٹ میں جھونک دیا جائے پہلے ایک شیر خوار بچے کو اس کی ماں کی آنکھوں کے سامنے اس آگ میں جھونکا گیا ، پھر اس کی ماں کی باری آئی تو وہ ہچکچائی ، اس پر اس بچے نے بول کر کہا کہ ماں ! بلاتردد اس آگ میں داخل ہوجاؤ کہ تم حق پر ہو ، اسی طرح خاندان کے تمام افراد کو آگ میں ڈال کر ہلاک کردیا گیا ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بتلایا گیا کہ یہ اس خاندان کا مقام ہے جہاں سے اتنی خوشبو آرہی ہے ۔
(امام الانبیاء کا اعزاز)
پچھلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے مختلف آسمانوں پر مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ملاقات کی ، پھر جب آسمانوں کی سیر کے بعد واپس بیت المقدس پہنچے تو دیکھا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نماز پڑھ رہے ہیں ۔ ابھی میں نے اتنا ہی خیال کیا تھا کہ ان کی امامت کون کرائے گا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے پکڑ کر آگے مصلے پر کھڑا کردیا پھر میں نے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو نماز پڑھائی ، حدیث کے الفاظ میں ” فاممتھم “۔ یعنی میں نے ان کی امامت کرائی یہ بھی حضور ﷺ کا بہت بڑا اعزاز ہے کہ آپ امام الانبیاء ہیں ۔
(موسی (علیہ السلام) کے لیے تورات)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر توراۃ ملنے کا تذکرہ مختلف سورتوں میں کیا گیا ہے یہاں بھی اس واقعہ کا مختصر ذکر ہے ، واقعہ معراج سے اس کا ربط یوں ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تورات عطا کی تھی ، اسی طرح اللہ نے اپنے پیغمبر آخرالزماں کی عزت افزائی کے لیے معراج کے موقع پر بلند تیرین مقام تک پہنچایا تو اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر تورات کے نزول کا ذکر فرمایا (آیت) ” واتینا موس الکتب “۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا فرمائی ، تورات کا ذکر دراصل نزول قرآن کی تمہید ہے جس کا ذکر اسی رکوع کے آخر میں بایں الفاظ آرہا ہے (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوم “۔ اللہ کی یہ آخری کتاب قرآن مجید بہترین راستہ کی طرف راہنمائی کرتی ہے ، اسی طرح تورات کے متعلق یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی (آیت) ” وجعلنہ ھدی البنی اسرآئیل “۔ اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا ۔
(آسمانی کتب کا لب لباب)
اور واضح کردیا کہ اس کی تعلیمات کا لب لباب یہ ہے (آیت) ” الا تتخذوا من دونی وکیلا “۔ کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، قرآن پاک کی تعلیم بھی یہی ہے ، ابتدائی زمانے کی سورة مزمل میں فرمایا (آیت) ” لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا “۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں لہذا کارساز بھی اسی کو پکڑو ، گویا اللہ کی توحید ہی تمام کتب سماویہ کا نچوڑ ہے خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھا جائے ، اس کے علاوہ کوئی کسی کی بگڑی نہیں بنا سکتا ، نہ کوئی مافوق الاسباب تصرف کرسکتا ہے کوئی نافع اور ضار نہیں ، خدا کے سوا قادر مطلق اور عالم الغیب بھی کوئی نہیں ، کوئی اس لائق نہیں کہ اسے اپنی حاجات میں غائبانہ طور پر پکارا جائے ، تو تورات میں بنی اسرائیل کو یہی بات سمجھائی گئی ہے تحریف شدہ تورات میں اب بھی اس قسم کی آیات موجود ہیں کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارا غیور خدا ہوں ، میرے ساتھ کسی کو عبادت میں شریک نہ بنانا ، اسی مسئلہ میں آکر اکثر لوگ پھسل جاتے ہیں ، اس وقت دنیا کی چار ارب آبادی کفر وشرک میں مبتلا ہے یاد رکھو ، خدا کا شریک بنانا سب سے بڑا گناہ ہے ، دنیا میں بمشکل پانچواں حصہ ایسا ہوگا جو توحید کا مانتا ہے ، مگر اس کے ماننے والوں کی اکثریت بھی کسی نہ کسی طرح شرک میں ملوث ہے اور خالص توحید کو ماننے والے بہت کم ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو کار ساز نہ بناؤ ۔
(نوح (علیہ السلام) کی شکر گزاری)
آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی ہے (آیت) ” ذریۃ من حملنا مع نوح “۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کرایا تھا بنی اسرائیل کو خطاب ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے اور طوفان نوح سے بچ جانے والے لوگ ہیں اور نوح (علیہ السلام) (آیت) ” انہ کان عبدا شکورا “۔ اللہ کے شکر گزار بندے تھے وہ اور آپ کے ماننے والے اسی شکر گزاری کی بنا پر بچ گئے اور پھر ان سے آگے نسل انسانی چلی اور جو لوگ مشرک اور ناشکر گزار تھے ان کو اللہ نے پانی میں غرق کردیا ، لہذا اے بنی اسرائیل ! خبردار ہو کہ اگر تم نے بھی اللہ ناشکری کی تو تمہارا انجام بھی قوم سے مختلف نہیں ہوگا لہذا شکر گزاری کو اپنا وطیرہ بنا لو ، اس شکر گزاری کا پہلا فرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے نہ عبادت میں ، نہ پکار میں اور نہ نذر ونیاز میں شکر ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق ارشاد خداوندی ہے (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید “۔ (ابراھیم) اگر میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں مزید عطا کروں گا ، اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر عذاب بھی بڑا سخت ہے بہرحال شکر کی اولین شرط توحید باری تعالیٰ کو تسلیم کرنا ہے ۔
نوح (علیہ السلام) کی شکر گزاری کا عالم یہ تھا کہ آپ کوئی چھوٹا یا بڑا کام اللہ کے ذکر اور اس کی تعریف کے بغیر نہیں کرتے تھے ، آپ نے لمبی عمر پائی پھر تکالیف اٹھائیں مگر ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھا اور اللہ تعالیٰ کا ہر حالت میں شکر ادا کرتے رہے شفاعت والی حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور عرض کرے گے ” انت اول الرسل الی اھل الارض “۔ آپ اہل زمین کی طرف مبعوث ہونے والے اولین رسول ہیں ، ” وقد سماک اللہ عبدا شکورا “۔ اور اللہ نے آپ کا لقب شکر گزار بندہ رکھا ہے لہذا آپ ہماری اللہ کے ہاں سفارش کریں مگر آپ کہیں گے کہ میں اس مقام کا اہل نہیں ہوں ” اذھبوا الی غیری “ کسی دوسرے کے پاس جاؤ ، بہرحال اللہ نے نوح (علیہ السلام) کو عبدشکور کہا ہے اور بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ تم اس جلیل القدر نبی کی اولاد میں سے ہو ، لہذا تمہیں عبرت حاصل ہونی چاہئے کہ طوفان نوح میں صرف وہی لوگ بچ سکے جو اپنے نبی کے متبع اور شکر گزار تھے ۔
(شکر کی تعریف)
جس طرح صبر ، اللہ کا ذکر اور شعائر اللہ کی تعظیم اصول دین میں سے ہے اسی طرح شکر بھی دین کا اہم جزو ہے جس کی بڑی تلقین کی گئی ہے ، بزرگان دین فرماتے ہیں کہ عام لوگوں کا شکر زبان سے ہوتا ہے ، عابد لوگوں کا اعمال سے اور عارف لوگوں کا شکر استقامت احوال سے ہوتا ہے ، حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ میں ابھی سات آٹھ سال کی عمر میں تھا کہ مجھے میرے استاد اور ماموں حضرت سری (رح) نے پوچھا ، بیٹا ، شکر کیا ہوتا ہے ، فرماتے ہیں کہ حضرت استاد کی صحبت سے اتنا فیض حاصل ہوچکا تھا کہ میں نے جواب دیا حضرت ! شکر یہ ہے کہ اللہ کی کسی نعمت کو معصیت میں نہ لگایا جائے ، سری صاحب (رح) نے فرمایا تمہیں یہ بات کہاں سے معلوم ہوئی کہنے لگے آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے غرضیکہ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کو اگر معصیت کے کام میں لگا دیا تو یہ اس نعمت کی ناشکر گزاری ہوگی ۔
ایک شخص نے حضرت سہل (رح) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا حضرت میرے ساتھ بہت برا سلوک ہوا چور گھر میں داخل ہو کر سارا مال ومتاع لوٹ کرلے گئے ہیں ، آپ نے جوابا فرمایا ، خدا کا شکر کرو کہ تمہارے مال کا ہی نقصان ہوا ہے ، اگر شیطان تمہارے دل میں داخل ہو کر توحید ہی کو خراب کر دے ، تو تم کیا کرو گے ؟ لہذا ایمان سلامت بچ جائے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو ،
ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کی خدمت میں ایک وفد آیا وفد میں سے ایک نوجوان نے گفتگو شروع کی تو آپ نے فرمایا ، بھائی ، کسی بڑے آدمی کو بولنے دو ، وہ نوجوان کہنے لگا کہ اگر بات چیت کا دارومدار صرف بڑوں پر ہی ہے تو پھر آپ مسند خلافت پر کیسے متمکن ہیں جب کہ آپ سے بڑی عمر کے بہت سے لوگ موجود ہیں ، اس پر آپ نے اسے گفتگو جاری رکھنے کی اجازت دیدی ، وہ نوجوان بولا ، ہم نہ تو کسی چیز کے حصول کے لیے آئے ہیں اور نہ ہی ہمیں کسی قسم کا خوف یہاں تک کھینچ لایا ہے جہاں تک ہمارے حق کا تعلق ہے ، وہ تو ہمیں ہمارے علاقے میں ہی مل جاتا ہے کیونکہ ؤپ کسی کا حق ضائع نہیں کرتے ، اور خوف ہمیں اس لیے نہیں کہ آپ کے عدل نے اسے یقینی بنا دیا ہے ، ایک چیز سے آپ کے فضل نے ہمیں فائدہ پہنچایا ہے اور دوسری چیز عدل نے ہمیں مامون کیا ہے ، حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے پوچھا ، پھر آئے کس لیے ہو ؟ کہنے لگے کہ ہم آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق بخشی ہے کہ آپ خلیفہ عادل ہیں اور تمام مخلوق کی آرام و آسائش کا خیال رکھتے ہیں ۔
(اللہ کے شکر گزار بندے)
بزرگان دین فرماتے ہیں کہ کوئی شخص صحیح معنوں میں اللہ کی کسی نعمت کا شکر ادا کر ہی نہیں سکتا مگر اللہ تعالیٰ تھوڑے سے شکر پر ہی راضی ہوجاتا ہے ، اللہ نے آل داؤد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” اعملوا ال داؤد شکرا وقلیل من عبادی الشکور “۔ (سبا) اے داؤد (علیہ السلام) کے گھر والو اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ میرے بندوں میں شکر گزار بندے بہت قلیل تعداد میں ہیں ، ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ شدید سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے اور رات کی نماز میں طویل قیام کی وجہ سے حضور ﷺ کے پاؤں پھٹ جاتے تھے اور ان میں ورم آجاتا تھا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑی فضیلت عطا فرمائی ہے حتی کہ سورة فتح میں آپ کی اگلی پچھلی تمام لغزشوں کی معافی کا اعلان فرما دیا ہے ، پھر آپ اس قدر تکلیف کیوں اٹھاتے ہیں کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے ہیں ، آپ ﷺ کا جواب یہ تھا (آیت) ” افلا اکون عبدا شکورا “۔ کیا میں اللہ کا شکرگرازبندہ نہ بنوں ؟
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشمار انعامات سے نوازا ہے ، اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو انسان کے ایک ایک بال کے ساتھ اس قدر نعمتیں ہیں کہ وہ عمر بھر ان کا شکریہ ادا نہیں کرسکتا ، باقی نعمتوں کا تو اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ، اللہ نے وجود بخشا ہے ، جسمانی اور دماغی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں ۔ مال واسباب ، زمین مکان ، ملازمت ، اور اولاد عطا کی ہے ، مگر انسان نعمتوں کا شکریہ کیسے ادا کرسکتا ہے ؟ ان نعمتوں کے شکریہ کی صورت یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں کو اطاعت کے کاموں میں لگائے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پختہ یقین رکھے ، شرک کفر اور معاصی سے بیزار رہے ۔
آثار میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے پیغمبر ! ﷺ میں تو تیرا شکریہ کسی طرح بھی ادا نہیں کرسکتا کیونکہ شکریہ ادا کرنا بھی تیری ایک نعمت ہے ، اور جب بھی میں شکر ادا کرتا ہوں تو ایک اور نعمت تلے دب جاتا ہوں ، اللہ نے فرمایا ، اے داؤد ! اب تم نے مقام شکر کو پالیا ہے انسان کی طرف سے عجزوانکساری کا اظہار ہی بہت بڑا شکر ہے ، اگر اور کچھ نہیں تو انسان کو زبان سے تو بہرحال اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب کوئی بندہ کھانا کھاتا ہے یا مشروب پیتا ہے اور پھر (آیت) ” الحمد للہ “ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے میرا شکریہ ادا کیا ہے ۔
Ayahs 17:4–8ربط آیات :
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں واقعہ معراج کا ذکر ہوا ، پھر دوسری آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کرنے کا ذکر ہوا جسے اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سامان ہدایت بنایا ، پھر اللہ نے تمام کتب سماویہ مع تورات کی غرض وغایب یہ بیان فرمائی کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا ، اور میرے ساتھ کسی طرح بھی شرک نہ کرنا ، پھر بنی اسرائیل کو خدا تعالیٰ نے اپنی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا ، دیکھو ! تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) اللہ کے شکر گزار بندے تھے ، اللہ نے ان کو شکر گزاری کی وجہ سے طوفان سے محفوظ رکھا اور تمام ناشکر گزاروں کو غرق کردیا گویا بنی اسرائیل کا آگاہ کیا اور دوسرے لوگوں کو متنبہ کیا کہ ناشکر گزاری کا نتیجہ بہت برا ہوتا ہے لہذا اس سے بچنا چاہئے ۔
اب آج کے درس میں اللہ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل کو بذریعہ وحی آگاہ کردیا گیا تھا کہ تم دنیا میں دو مرتبہ سخت سرکشی اختیار کرو گے اور دونوں مرتبہ تمہیں سزا دی جائے گی ، چناچہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کا یہ حال اپنی امت کے سامنے بیان کرکے اپنی امت کو بھی خبردار کردیا کہ اگر تم بھی بنی اسرائیل کے نقش قدم پر چلو گے ، انہی کے غلط عقیدے اور غلط رسوم اپناؤ گے ، غلط اعمال انجام دو گے ، تو پھر تمہارا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔
(فساد اور سرکشی)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقضینا الی بنی اسرآئیل فی الکتب قضینا “۔ کا لغوی معنی فیصلہ کرنا ہے ، جب کہ مراد یہ ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بذریعہ کتاب آگاہ کیا (آیت) ” لتفسدن فی الارض مرتین “۔ کہ تم فساد کرو گے زمین میں دو دفعہ یعنی بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا کرو گے (آیت) ” ولتعلن علوا کبیرا “۔ اور بہت بڑی سرکشی اختیار کرو گے جس کے نتیجے میں دونوں مرتبہ تمہیں خدا کی جانب سے سخت سزا دی جائیگی ، چناچہ ان واقعات کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے (آیت) ” فاذا جآء وعد اولھما “۔ پھر جب ان دو میں سے پہلا وعدہ آگیا یعنی بنی اسرائیل کے فساد اور سرکشی کا وقت آگیا ، اور وہ خدا تعالیٰ کے احکام کو ٹھکرانے لگے ، اپنے انبیاء کی نافرمانی کرکے انہیں ایذا پہنچانے لگے حتی کہ بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو ناحق قتل بھی کردیا اور پھر جو لوگ انہیں حق کی بات بتانے کو کوشش کرتے ، انہیں اچھی باتوں کا حکم کرتے اور بری باتوں سے منع کرتے ، یہ ان کو بھی برداشت نہ کرتے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی زمین پر نیکی مغلوب اور برائی غالب آگئی تو پہلے وعدے کا وقت آگیا ، اور پھر اس کے نتیجے میں (آیت) ” بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید “۔ ہم نے بھیجے تمہارے اوپر اپنے بندے جو سخت لڑائی والے تھے یعنی ہم نے تم پر تم سے بھی زیادہ سخت آدمی مسلط کردیے جن کے ذریعے تمہیں سخت ترین سزا دی ، ان بندوں سے مراد کلدانی اور آشوری نسل کے لوگ ہیں جو بابل پر حکمران تھے ، اور جن کا سرغنہ بخت نصر وغیرہ تھے ، یہاں پر عبادا کا لفظ تشریح طلب ہے ، عبد کا لفظ عام طور پر فرمانبردار بندے پر بولا جاتا ہے جیسا کہ اسی سورة کی پہلی آیت میں گزر چکا ہے (آیت) ” اسری بعبدہ “۔ اپنے بندے کو سیر کرائی ، یا سورة فرقان کی ابتداء میں ہے (آیت) ” نزل الفرقان علی عبدہ “۔ ہم نے قرآن پاک اپنے بندے پر نازل فرمایا تاہم اوقات عبد کا اطلاق کافر اور نافرمان بندے پر بھی ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی تو آخر اسی خالق کی مخلوق ہیں ، تو یہاں پر جن سخت لڑائی والے بندوں کی بنی اسرائیل پر مسلط کرنے کا ذکر ہے ، وہ اسی دوسری قسم کے نافرمان بندے تھے ۔
بہرحال فرمایا کہ جب پہلی مرتبہ بنی اسرائیل نے زمین کی پرامن فضا کو مکدر بنایا اللہ کے قوانین کو توڑا برائی کا ارتکاب کیا ، حلال و حرام کی تمیز ختم کردی ۔
جائز ناجائز کی پروانہ کی ، باطل رسوم کے پیچھے چلنے لگے ، کفر وشرک اور بدعات کو اپنا لیا ، جملہ معاصی ، زنا ، قتل ، چوری ، خیانت کا ارتکاب کرکے فساد فی الارض کا ذریعہ بنے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد تو یہ ہے (آیت) ” ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا “۔ (الاعراف) پرامن زمین کی فساد میں تبدیل نہ کرو ، تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے بخت نصر جیسے جابر ، ظالم اور مستبد بادشاہ کو بنی اسرائیل پر مسلط کردیا کیونکہ اسکا عام قانون یہ ہے (آیت) ” وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا “۔ (الانعام) اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں ، جو حاکم اپنی رعایا پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں ان کی سرکوبی کے لیے ان پر ان سے زیادہ جابر لوگ مسلط کردیے جاتے ہیں ۔
(بخت نصر کی کاروائی)
اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے بخت نصر جیسے ظالم بادشاہ کو بابل سے اٹھا کر شام و فلسطین میں بنی اسرائیل پر حملہ کرا دیا جس نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے (آیت) ” فجاسوا خلل الدیار “۔ بابلی فوجیں بنی اسرائیل کے شہروں میں گھس گئیں مگر ان کی مزاحمت کی کسی کو ہمت نہ پڑی انہوں نے قتل و غارت گری کا ایسا بازار گرم کیا کہ گلیوں میں خون کی ندیاں بہ گئیں تاریخ میں چالیس ہزار یا ستر ہزار بنی اسرائیلیوں کے قتل کی روایات ملتی ہیں ، انہوں نے نہ صرف انسانوں کو قتل کیا بلکہ بیت المقدس کو تباہ وبرباد کردیا اور وہاں کی کتابیں جلادیں ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں بیت المقدس کی تعمیر جنات نے کی تھی اور اس میں قیمتی زروجواہرات نصب کیے گئے تھے کہتے ہیں کہ یہ قیمتی سامان ایک لاکھ ستر ہزار بیل گاڑیوں پر لاد کرلے جایا گیا ، پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ قابل کار آدمیوں کو غلام اور بیشمار عورتوں کو لونڈیاں بنا کرلے گئے ، بہرحال بنی اسرائیل کی سرزنش کا یہ پہلا وعدہ پورا ہوا ، اور ان پر انحطاط اور غلامی کا یہ دور تقریبا ستر سال تک قائم رہا ، کہتے ہیں کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے تقریبا چار سو سال بعد یہ واقعہ پیش آیا (آیت) ” وکان وعدا مفعولا “۔ اور اس طرح اللہ کا وعدہ پورا ہوگیا ۔
(بنی اسرائیل کی آزادی)
پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایک دفعہ پھر مہربانی فرمائی اور اس کا ذریعہ ایرانیوں کو بنایا ، بعض ایرانی بادشاہ اٹھے اور انہوں نے بابلیوں کو شکست دے دی شام و فلسطین پر تلسط جمایا ، اپنی قدرے انصاف پسندی کا ثبوت دیا اور نہ صرف بنی اسرائیل کو آزاد کردیا ، بلکہ ان کا بچا کھچا سامان بھی واپس کردیا ، اللہ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا (آیت) ” ثم رددنا لکم الکرۃ علیھم “۔ اے بنی اسرائیل ! پھر ہم نے پلٹا دی تمہارے لیے باری ان پر یعنی تم پھر اپنی اصلی حالت میں آگئے (آیت) ” وامددنکم باموال وبنین “۔ اور مال و دولت اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کی ، تمہیں دوبارہ عروج حاصل ہوگیا مال و دولت کی فراوانی ہوگئی بیشمار لوگ قتل ہوچکے تھے ان کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اللہ نے اولاد بھی کثرت سے عطا کی جس کی نتیجہ یہ ہوا کہ مال وجاہ کے علاوہ (آیت) ” وجعلنکم اکثر نفیرا “۔ ہم نے تمہاری تعداد میں بھی اضافہ کردیا اور تمہاری قومی زندگی پوری طرح بحال ہوگئی ، اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک اور موقع فراہم کیا اور فرمایا (آیت) ” ان احسنتم “۔ اگر تم نیکی کا کام کرو گے (آیت) ” احسنتم لانفسکم “۔ تم اپنے ہی لیے کرو گے ، یعنی اس کا فائدہ خود تمہیں ہی پہنچے گا (آیت) ” وان اساتم فلھا “۔ اور اگر تم کوئی برائی کا کام کرو گے تو اس کا وبال تمہی پر پڑے گا ، مطلب یہ ہے کہ اچھائی یا برائی کا نتیجہ تمہارے ہی حق میں اچھا یا برا نکلے گا ، اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری نیکی کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تمہاری ہی برائی کا اس پر کوئی اثر ہے ۔
(ٹیٹس رومی کا حملہ)
غرضیکہ بنی اسرائیل ایک دفعہ پھر خوشحالی کی زندگی بسر کرنے لگے مگر دنیا کے عیش و آرام میں پڑ کر خدا تعالیٰ اور اس کے احکام کو دوبارہ بھول گئے ، خدا تعالیٰ کی اطاعت کی بجائے نافرمانی کرنے لگے ، کفر ، شرک ، اور معصیت میں مبتلا ہوگئے ، اور ایک دفعہ پھر ان کی وہی حالت ہوگئی جو پہلی سزا کے وقت تھی ، بنی اسرائیل پر پہلا وعدہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آیا تھا ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کے ذریعے انہیں تباہ وبرباد کیا ، پھر دوسرا وعدہ مسیح (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کے چالیس ، ستر یا ایک سوستر سال کے بعد رونما ہوا اس وقت تک بنی اسرائیل میں مسیحی بھی داخل ہوچکے تھے ، یہودی تو پہلے ہی موجود تھے ، انہوں نے حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحیٰ کو نہایت بےدردی سے قتل کیا حتی کہ مسیح (علیہ السلام) کو بھی برداشت نہ کرسکے اور انہیں بھی سولی پر لٹکانے کی کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچا لیا اور اپنی طرف آسمان پر اٹھا لیا ۔
بہرحال اس دور میں بنی اسرائیل کی سرکشی ایک دفعہ پھر حد سے بڑھ چکی تھی جس کی وجہ سے اللہ کا غضب دوبارہ بھڑکا ، اسی دور کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاذا جآء وعد الاخرۃ “۔ پھر جب دوسرا وعدہ آگیا (آیت) ” لیسواء وجوھکم “۔ تو وہ بگاڑیں گے تمہارے چہروں کو (آیت) ” ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ “۔ اور وہ مسجد میں داخل ہوں گے جیسا کہ پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے (آیت) ” ولیتبروا ماعلوا تتبیرا “۔ تاکہ وہ اس چیز کو تباہ وبرباد کردیں جس پر انہیں نے غلبہ پایا ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل پر یہ دوسری تباہی ٹیٹس رومی کے ذریعے آئی ، روم کا یہ بادشاہ نہ یہودی تھا اور نصرانی جب اس نے دیکھا کہ بنی اسرائیل عیش و آرام میں پڑ ہوئے ہیں تو اسے موقع مل گیا ، اس نے بیت المقدس پر حملہ کرکے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ، بیشمار یہودی اور نصرانی قتل ہوئے اور اس طرح اللہ کا دوسرا وعدہ پورا ہوگیا ، ٹیٹس رومی کے لشکری دوبارہ اسی طرح بیت المقدس میں داخل ہوئے ، جس طرح پہلی مرتبہ بخت نصر کے سپاہی داخل ہوئے تھے اور اس پر قابض ہوگئے ۔
(عیسائیوں اور مسلمانوں کا قبضہ)
ٹیٹس رومی کے حملہ کے سو یا ڈیڑھ سو سال بعد نصرانیوں کے دن پھرے قسطنطین نے عیسائیت اختیار کرلی جس کی وجہ سے عیسائیت کو حوصلہ ملا ، مگر یہودی اسی طرح ذلیل و خوار ہی رہے اور ہیکل مقدس بھی ویران ہی پڑا رہا ، اس کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور خلافت میں شام و فلسطین پر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا ، اس وقت تک بیت المقدس کی عمارات کھنڈر میں تبدیل ہوچکی تھی ، تاہم اس مقام کو ہیکل مقدس ہی کہا جاتا تھا جس وقت واقعہ معراج پیش آیا ، اس وقت بھی بیت المقدس ویران حالت میں ہی تھا ، پھر جب مسلمانوں کا قبضہ ہوا تو بیت المقدس کی دوبارہ تعمیر ہوئی اور تقریبا اسی سال تک یہ مقدس مقام مسلمانوں کے قبضہ میں ہی رہا اور اس کے بعد پھر عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا ۔
اب اس وقت بیت المقدس یہودیوں کے قبضہ میں ہے چار بڑی طاقتوں نے ملی بھگت کے ذریعے فلسطین میں اسرائیلی ریاست قائم کردی ہے اور فلسطینوں کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے ، مسلمان بیت المقدس کی حفاظت نہیں کرسکے ، اب ان کی بھی وہی حالت ہوچکی ہے جو کسی وقت یہودیوں کی تھی ، اب یہودی بیت المقدس کی جگہ پرانا ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں ، دنیا میں پچاس کے قریب مسلمان ریاستیں ہیں مگر ان کی بےبسی کا یہ عالم ہے کہ اپنے مقدس مقام کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں ، بیت اللہ شریف کی حفاظت تو اللہ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے لہذا وہاں کسی غیر مسلم کا قبضہ نہیں ہونے دیا ، مگر بیت المقدس کو یہ گارنٹی حاصل نہیں ہے لہذا یہ باربار بستا اور اجڑتا رہا ہے ، یہودیوں کے دور میں بیت المقدس کی دو دفعہ بےحرمتی ہوئی اور اب مسلمان بھی اس کی حفاظت نہیں کرسکے ۔
(مسلمانوں کی حالت زار)
حقیقت یہ ہے کہ اب مسلمانوں میں بھی یہودیوں والی بیماریاں پیدا ہوچکی ہیں ، دعوی کچھ ہے اور عمل کچھ اور ، عراق ، شام ، ایران ، اردن وغیرہ نام تو اسلام کا لیتے ہیں ، مگر حقیقت کچھ نہیں ، آج دنیا بھر کے مسلمان سرکشی اور فساد فی الارض کا ارتکاب کر رہے ہیں ، ان کیا س سے بڑی ذلت کیا ہوگی کہ ان کے قبلہ اول کی تذلیل ان کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی ہے ، مسلمان دین کو چھوڑ کر عیاشی اور آرام طلبی میں مبتلا ہوچکے ہیں یہودی بھی اللہ کے نبیوں کی مخالفت کرتے تھے ، جب انہیں شرک ، بدعت اور معاصی سے منع کیا جاتا تو مخالفت پر اتر آتے ، آج مسلمانوں کو بھی نہی عن المنکر کیا جائے تو وہ بھی آمادہ برفساد ہوتے ہیں اور سرکشی اختیار کرتے ہیں ، اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہے لہذا اپنی کثیر تعداد کے باوجود بیت المقدس کی حفاظت نہیں کرسکے حالانکہ یہ ان کی ذمہ داری تھی ، اگرچہ ملت ابراہیمیہ کا عظیم قبلہ تو بیت اللہ شریف ہی ہے مگر اللہ نے بیت المقدس کو بھی محترم قرار دیا ہے وہ سارے انبیاء کا قبلہ رہا ہے ، وہاں پر ایک نماز پڑھنے کا اجر دوسری جگہ کی نسبت پچاس ہزار گنا زیادہ ہے مگر اب مسلمان اس سے محروم ہوچکے ہیں ۔
(سامان عبرت)
بہرحال اللہ نے اشارتا یہ بات سمجھا دی ہے کہ اے لوگو ! اگر اب بھی تم برائیوں سے باز آجاؤ ، اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے لگو تو پھر (آیت) ” عسی ربکم ان یرحمکم “۔ شاید کہ تمہارا پروردگار تم پر رحم فرما دے ، تمہیں کھویا ہوا وقار پھر سے حاصل ہوجائے ، یہودیوں کا حال تمہارے سامنے ہے بخت نصر اور ٹیٹس رومی کے بعد ان کی تیسری شامت اس وقت آئی جب اللہ نے اپنا آخری نبی مبعوث فرمایا ، اس وقت یہودیوں کی کثیر تعداد خطہ عرب خصوصا مدینہ طیبہ کے اطراف میں آبادتھی ، انہوں نے نہ صرف پیغمبر آخر الزماں کا انکار کیا بلکہ ان کے پیروکاروں کے خلاف سازشیں کی ، مشرکین عرب کا ساتھ دیا ، مگر اللہ نے تیسری مرتبہ بھی ان کو ذلیل و خوار کیا ، سرزمین عرب پر مسلمانوں کو تسلط حاصل ہوا تو کچھ یہودی مارے گئے اور باقی جلاوطن ہوئے عرب سے باہر جا کر بھی ذلیل و خوار ہی ہوتے رہے ، اللہ نے فرمایا کہ اگر اب بھی سابقہ واقعات سے عبرت حاصل کرنے کی بجائے (آیت) ” ان عدتم عدنا “۔ اگر تم پھر برائیوں کی طرف پلٹ آئے ، اصلاح کی بجائے فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ، اللہ کی آخری کتاب اور اس کے آخری نبی پر ایمان نہ لائے تو ہم بھی پلٹ کر تمہیں وہی سزا دیں گے جو پہلے دیتے رہے ، چناچہ ان کو تیسری مرتبہ مسلمانوں کے ہاتھوں سزا ملی مگر آج مسلمانوں پر بھی یہودیوں والی حالت طاری ہوچکی ہے وہی مغلوبیت ، وہی مظلومیت ، وہی مذہب سے بیگانگی ، لہو ولعب ، اور عیش و آرام سے لگاؤ الا ما شاء اللہ کچھ لوگ اب بھی ہدایت پر ہیں ، مگر عربی کا مقولہ ہے ” الشاذ کا لمعدوم “ یہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔
فرمایا جو قوم راہ راست پر نہیں آئے گی ، کفر ، شرک ، معاصی اور فساد فی الارض کا ارتکاب کرتی رہے گی (آیت) ” وجعلنا جھنم للکفرین حصیر “۔ ہم نے کافروں کے لیے گھیرنے والا جہنم تیار کر رکھا ہے جس کا خاتمہ کفر پر ہوگا ، خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا کوئی دوسرا کافر ہو ، وہ بہرحال جہنم میں جائے گا ، یہ آخرت کی سزا کی طرف اشارہ ہے کہ صرف دنیا کی سزا کافی نہیں بلکہ آخرت کی دائمی سزا بھی کافروں کے لیے تیار ہے بنی اسرائیل کا یہ واقعہ بیان کرکے اللہ نے مسلمانوں کو بھی خبردار کردیا ہے کہ جو کوئی یہودیوں والی خصلتیں اختیار کریگا اس کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا ۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کے نزول کو بطور تمہید بیان کیا ہے اب آگے اصل بات قرآن کریم کے بارے میں ہوگی ۔