17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 17:31–33

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور نہ قتل کرو اپنی اولادوں کو فقر کے خلاف سے ہم انہیں روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی ، بیشک ان کا قتل کرنا بڑی خطا ہے ۔

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور نہ قریب جاؤزنا کے بیشک یہ بےحیائی کی بات ہے اور برا راستہ ہے ۔

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور نہ قتل کرو کسی نفس کو ، جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص قتل کیا گیا مظلوم ، پس بیشک ہم نے بنایا ہے اس کے سرپرست کے لیے غلبہ پس وہ نہ اسراف کریں قتل میں ، بیشک وہ ہے مدد کیا گیا ۔

ربط آیات : اس سے پیشتر اسلامی نظام معاشرت کے چھ اصول بیان ہوچکے ہیں ، یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر استقامت ، مال باپ کے ساتھ حسن سلوک ، قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی ، فضول خرچی سے اجتناب اور اگر کسی وقت مالی حال کمزور ہو تو مستحقین کو نرمی سے جواب دہی بخل سے اجتناب اور اخراجات میں میانہ روی کو اپنانا ، سب کچھ بیک وقت خرچ کرنے کو بھی غیر مستحسن فرمایا کہ ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔ (7) (قتل اولاد کی ممانعت) اب آگے کچھ منہیات آرہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے چناچہ ساتویں اصول کے طور پر مفلسی کے خوف سے قتل اولاد سے منع فرمایا گیا ہے ، قرآن کریم میں اولاد کا قتل دو وجوہ کی بنا پر بیان کیا گیا ہے ، گذشہ سورة النحل میں لڑکیوں کے قتل کا ذکر ہوچکا ہے (آیت) ” واذا بشر احدھم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم “۔ عرب کے بعض قبائل میں یہ رواج تھا کہ جب انہیں بچی کی پیدائش کی خبر سنائی جاتی تو نام نہاد و غیرت کی وجہ سے ان کے چہرے سیاہ ہوجاتے اور وہ سوچنے لگتے کہ اس کو کس موقع پر اور کس طریقے سے قتل کردیا جائے تاکہ شادی کے قابل ہو کر ہمارے لیے باعث ننگ نہ بنے چناچہ بعض تو پیدا ہوتے ہی دائی کے ذریعہ اسے زندہ دفن کرا دیتے یا کچھ بڑی ہونے پر خود گڑھا کھود کر اس میں دھکا دیتے یا کسی اونچی جگہ سے گرا کر ہلاک کردیتے اللہ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن (آیت) ” واذا الموء دۃ سئلت ، بای ذنب قتلت “۔ (التکویر) زندہ درگور ہونے والی بچیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا ، اس وقت اس قبیح فعل کے مرتکبین کا حشر قابل دید ہوگا ، حضور ﷺ کا بھی ارشاد مبارک ہے ” الوائدۃ والموء دۃ فی النار “۔ یعنی بچی کو جن کر قتل کروانے والی ماں اور قتل کرنے والی دائی دونوں جہنمی ہیں ۔ قتل اولاد کی دوسری وجہ جو یہاں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں ، ذرائع آمدنی مخدوش ہیں تو ایسے میں اولاد (لڑکا یا لڑکی) کی پرورش کیسے ہوگی ، ان کی ضروریات زندگی کون بہم پہنچائے گا ، لہذا بہتر یہی ہے کہ انہیں پیدا ہوتے ہی قتل کردیا جائے ، اللہ نے اسی فعل سے منع فرمایا ہے (آیت) ” ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “۔ اپنی اولادوں کو مفلسی اور تنگدستی کی وجہ سے قتل نہ کرو ، روزی کی بہم رسانی تمہاری ذمہ داری نہیں ہے بلکہ (آیت) ” نحن نرزقھم “ ہر نومولود بچے کو روزی ہم پہنچاتے ہیں نہ صرف انہیں بلکہ (آیت) ” وایاکم “ تمہاری روزی بھی ہمارے ذمہ ہے تم سمجھتے ہو کہ اپنی روزی خود کماتے ہو ، نہیں ، بلکہ تمام وسائل رزق اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہیں ، وہ وسائل مہیا کرتا ہے تو تمہاری روزی کا انتظام ہوتا ہے ، اگر وہ تمہیں کچھ نہ دینا چاہے تو تمہاری تمام ترمحنت اور تگ ودو کے باوجود تمہیں کچھ نہیں مل سکتا ، اللہ تعالیٰ نہ صرف تمام انسانوں کا روزی رساں ہے بلکہ ہر جانور ، چرند ، پرند ، کیڑے موڑے ، مچھلیوں اور منڈکوں تک کا سامان زیست وہی بہم پہنچاتا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وکاین من دآبۃ لاتحمل رزقھا ، اللہ یرزقھا وایاکم “۔ (العنکبوت) کتنے ہی جانور ہیں جو اپنی روزی اپنی بشت پر نہیں لادے پھرتے ، بلکہ اللہ انکو بھی روزی دیتا ہے اور تمہیں بھی ، اللہ تعالیٰ کو جب تک کسی جاندار کی زندگی منظور ہوتی ہے وہ اس کی روزی کا بندوبست کرتا رہتا ہے ، لہذا تم اپنی اولاد کو فقر کے ڈر سے قتل نہ کیا کرو ، صحیحین کی روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا ” ای ذنب اعظم “ حضرت سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا ” ان تجعل للہ ندا وھو خلقک “۔ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا شریک بناؤ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے ، ابن مسعود ؓ نے پھر عرض کیا ، حضور ! اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ان تقتل ولدک مخافۃ من یطعمہ “۔ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ اس کی خوراک کا بندوبست کون کرے گا ، گویا شرک کے بعد دوسرے نمبر پر قتل اولاد کا جرم ہے ، انہوں نے تیسری مرتبہ عرض کیا ، حضرت ! اس کے بعد کون سا گناہ ہے تو رحمت عالم نے فرمایا ” ان تزنی حلیلۃ جاء ک “ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے بدکاری تو ویسے بھی بہت بری حرکت ہے مگر پڑوسی کے حق میں ڈاکہ ڈالنا تو بہت ہی معیوب ہے کیونکہ اللہ نے ہمسایہ کے بڑے حقوق رکھے ہیں ۔ فرمایا ہم ان مولودوں کو بھی روزی پہنچاتے ہیں اور تمہیں بھی یاد رکھو (آیت) ” ان قتلھم کان خطا کبیرا “۔ بیشک قتل اولاد تو بہت بڑا جرم ہے اللہ تعالیٰ نے یہ ساتواں اصول بیان کردیا کہ تنگدستی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ۔ (برتھ کنٹرول) جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ قرآن پاک نے قتل اولاد کی دو صورتیں بیان فرمائی ہیں ، ایک بچیوں کا قتل تاکہ ان کا کوئی داماد نہ بن سکے اور دوہرا تنگدستی کے ڈر سے عام قتل ، اب آج کے زمانے میں نسل کشی کے کچھ دیگر ذرائع بھی معرض وجود میں آچکے ہیں جنہیں استعمال کیا جا رہا ہے ، ان میں مانع حمل ادویات یا اسقاط حمل ادویات شامل ہیں عورتوں کے رحم کا اپریشن کنٹرول کی یہ ساری قسمیں شریعت کے نزدیک جرم ہیں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت تو یہ ہے کہ نسل انسانی کو نکاح کے ذریعے زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے جو کوئی اللہ کی اس مصلحت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور انسانی آبادی کو محدود کرنا چاہتا ہے وہ ملعون ہے اس پر خدا تعالیٰ اور ملاء اعلی کی لعنت برستی رہے گی اس خلاف فطرت کاروائی کے حق میں آج بھی یہی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ دنیا کی آبادی وسائل رزق کی نسبت زیادہ بڑھ رہی ہے اگر یہ اسی طرح بڑھتی رہی تو ان کی خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کیسے مہیا ہوں گی چناچہ خاندانی منصوبہ بندی کا کام کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ اقوم متحدہ کے تحت پوری دنیا میں ہو رہا ہے ، جس کے لیے یہ عالمی ادارہ امداد بھی مہیا کرتا ہے دراصل اس قسم کی منصوبہ بندی میں شرک کا پہلو بھی نکلتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی صفت رزاقیت کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ان بیوقوفوں سے کوئی پوچھے کیا روزی تمہاری منصوبہ بندی سے حاصل ہوتی ہے ؟ وسائل رزق تو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ (آیت) ” ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین “۔ (الذریت) رزاق تو وہ رب العزت ہے جو زور آور اور مضبوط ہے دنیا بھر میں خوراک کی کمی کا تعلق آبادی کی کثرت سے نہیں بلکہ وسائل رزق کے غلط استعمال سے ہے وسائل خود غلط استعمال کرتے ہیں مگر دعوی یہ ہے کہ ہماری پلاننگ سے لوگوں کو معیشت حاصل ہوتی ہے ۔ (8) (زنا کی ممانعت) اب اللہ نے آٹھواں اصول یہ بیان فرمایا ہے (آیت) ” ولا تقربوالزنی “ زنا کا ارتکاب تو بڑی بات ہے ، اس کے قربی بھی نہ جاؤ یعنی زنا کے جملہ لوازمات سے بھی دور رہو تاکہ اس قبیح فعل کی نوبت ہی نہ آئے فرمایا یہ اس لیے (آیت) ” انہ کان فاحشۃ “ کہ یہ بڑی بیحیائی کی بات ہے (آیت) ” وسآء سبیلا “۔ اور بہت برا راستہ ہے اس کے ارتکاب سے نسب ‘ اخلاق اور دین سب تباہ ہوجاتے ہیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ برے راستے سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے کی عورت پر غلط نگاہ ڈالے گا تو کوئی دوسرا اس کی عورت کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا اور اس طرح یہ ایک غلط روش چل نکلے گی ، جس کا نتیجہ بہت ہی برا برآمد ہوگا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قبیلہ ہذیل کے ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر زنا کی اجازت طلب کی ایک شاعر نے اسے اس طرح بیان کیا ہے ” ’ ضلت ھذیل سالت ، رسول اللہ ﷺ فاحشۃ “۔ یعنی ہذیل گمراہ ہوگیا کہ اس نے حضور ﷺ سے فحش بات کی اجازت طلب کی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے نہایت سختی کے ساتھ اس شخص کو خاموش کرنا چاہا نبی رحمت ﷺ نے اس شخص کو شفقت کے ساتھ اپنے پاس بٹھا کر فرمایا ، کیا تم یہ حرکت اپنی ماں ، بیٹی ، بہن ، خالہ پھوپھی کے ساتھ واقع ہونا پسند کرتے ہو ، اس نے عرض کیا حضور ﷺ ! یہ تو میں ہرگز پسند نہیں کرتا ، آپ نے فرمایا کہ اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنی کسی عزیزہ کے ساتھ یہ قبیح حرکت پسند نہیں کرتے ، تو تم اس پر کیوں اصرار کرتے ہو ؟ وہ شخص سمجھ گیا اور اپنا مطالبہ واپس لے لیا ، پھر حضور ﷺ نے اس شخص کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اس کے گناہ کو معاف کردے اور اس کے اعضائے مستورہ کی حفاظت فرما کہتے ہیں کہ وہ شخص اس کے بعد ہمیشہ کے لیے حیادار بن گیا حضور ﷺ کی دعا اور نصیحت کا یہ اثر ہوا کہ وہ اپنی نگاہ ہمیشہ نیچی رکھتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے قضائے شہوت کے لیے جائز ذرائع یعنی نکاح کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور ساتھ وعید بھی کردی ہے (آیت) ” فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون “۔ (المعارج) جو شخص اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تلاش کرے گا تو پھر تعدی کرنے والے بن جاؤ گے ہر چیز بگڑ جائے گی ، اللہ کے نزدیک بھی ذلت ہوگی اور قانون کی نگاہ میں بھی مجرم ہوں گے حضرت بریدہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں زنا کار پر لعنت بھیجتے ہیں ، خاص طور پر الشیخ الزانی (معمر زناکار) کے متعلق فرمایا کہ ان لوگوں کی شرمگاہوں سے ایسی سخت بدبو اٹھے گی جس سے اہل دوزخ بھی پناہ مانگیں گے حضرت انس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص زنا کا ارتکاب اور اس پر اصرار کرتا ہے وہ شخص ایسا ہے کعبادوثن پہلے بت پرست ہو گویا زنا کا جرم بت پرستی جیسا بڑا جرم ہے تاوقتیکہ کوئی شخص اس سے تائب نہ ہوجائے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ جب کوئی آدمی اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو ایمان اس کے جسم سے نکل کر اس کے اوپر سائبان کی طرح لٹکتا رہتا ہے پھر جب وہ اس فعل سے الگ ہوجاتا ہے تو واپس آجاتا ہے غرضیکہ آٹھویں اصول میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے قریب بھی جانے سے منع فرمایا ۔ (9) (قتل ناحق کی ممانعت) اب نواں اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے (آیت) ” ولا تقتلوالنفس التی حرم اللہ الا بالحق “۔ خدا تعالیٰ کی حرام کردہ کسی جان کو قتل نہ کرو سوائے حق کے ، قتل ناحق بھی اکبر الکبائر یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے ہے دنیا میں اس کے بہت برے اثرات پھیلتے ہیں ، بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوجاتی ہیں ، باوسائل لوگ بےوسیلہ ہوجاتے ہیں ، اور معاشرے میں قسم قسم کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں قرآن وحدیث نے اس کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی کلمہ گو آدمی کا قتل جائز نہیں ماسوائے اس کے کہ وہ شادہ شدہ زانی ہو ، مرتد ہوجائے یا قصاص میں قتل کردیا جائے شریعت نے شادی شدہ زانی کی سزا سنگساری مقرر کی ہے ارتداد کے متعلق سورة مائدہ میں ہے (آیت) ” ولا ترتدوا علی ادبارکم فتنقلبوا خسرین “۔ اپنے دن سے مت پھرو ورنہ سخت نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” التارک لدین المفارق للجماعۃ “۔ جو دین کو چھوڑ کر مرتد ہوجاتا ہے ، وہ جماعت المسلمین سے الگ ہوجاتا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ” من بدل دینہ فاقتلوہ “ جس نے اپنا دین تبدیل کرلیا اس کو قتل کر دو اور پھر قصاص میں قتل کیے جانے کا قانون تو واضح ہے (آیت) ” ان النفس بالنفس “۔ (المائدہ 45) کہ جان کے بدلے جان ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان تین قسم کے قتل حق کے علاوہ ناحق قتل سے منع فرما دیا ہے ۔ قتل حق کی بعض دوسری صورتیں بھی شریعت مطہرہ نے بیان فرمائی ہیں مثلا سرکش باغی ، اور ڈاکو کے متعلق فرمایا (آیت) ” انما جزآؤ الذین یحاربون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فسادا ان یقتلوا “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ “۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ برسر پیکار ہوتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں انہیں قتل کیا جائے یا سولی پر چڑھا جائے اور ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دیے جائیں ، اسی طرح جنگ کے دوران کفار کو قتل کرنا بھی روا ہے بعض ائمہ مجتہدین کے نزدیک بلاعذر تارک نماز کو تعزیری طور پر قتل کیا جائیگا البتہ امام ابوحنیفہ (رح) ایسے شخص کے لیے قید کی سزا کے قائل ہیں ، اسی طرح اغلام باز کو بھی سزائے موت دی جاسکتی ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جادو کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچانے والا آدمی بھی واجب القتل ہے ترمذی شریف کی روایت (1) (ترمذی ص 230) (فیاض) میں یہ الفاظ آتے ہیں ” حد الساحر ضربۃ السیف “۔ جادوگر کی تعزیر یہ ہے کہ تلوار کے ساتھ اس کا سرقلم کردیا جائے ، کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کو بھی تعزیرا قتل کیا جاسکتا ہے یہ سب تعزیری قتل بھی قتل حق کا حصہ ہیں ، البتہ اس کے علاوہ کسی جان کو تلف کرنا قتل ناحق ہوگا ۔ (قتل ناحق پر وعید) حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” لزوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل رجل مسلم “۔ (ترمذی ص 259 ج 2 کتاب الدیات) یعنی پوری دنیا کی تباہی ایک طرف اور ایک مومن کا قتل ناحق ایک طرف ہے گویا ساری دنیا کی تباہی ایک قتل ناحق کے برابر ہے ابن ماجہ ، ترمذی ، نسائی شریف کی روایت میں آتا ہے ” لوان اھل السموت واھل الارض “۔ اگر تمام آسمانوں اور زمین والے مل کر کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں اوندھے منہ گرائے گا ایک قتل ناحق کے بدلے تمام روئے زمین وآسمان کے بسنے والوں کو ماخوذ کیا جاسکتا ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی آتا ہے کہ ابلیس ہر صبح اپنے لشکر کو مختلف اطراف میں روانہ کر کے کہتا ہے کہ جو شخص کارہائے نمایاں انجام دے گا میں اسے تاج پہناؤں گا اور اس کی عزت افزائی کروں گا ، سب شیطان چلے جاتے ہیں ہیں ، پھر واپس آکر ان میں سے ایک کہتا ہے کہ میں ایک مسلمان کو گمراہ کرتا رہا حتی کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، بڑا شیطان کہتا ہے کہ تم نے بڑا اچھا کام کیا مگر ہو سکتا ہے کہ یہ پھر نکاح کرلے ۔ لہذا یہ کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے ، پھر دوسرا شیطان آکر کہتا ہے کہ میں فلاں شخص کو برابر وسوسہ اندازی کرتا رہا ، یہاں تک کہ وہ شخص اپنے والدین کا نافرمان ہوگیا ، بڑا شیطان کہتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ شخص تائب ہو کر پھر والدین کا فرمانبردار بن جائے ، لہذا یہ بھی کوئی بڑا کام نہیں ہے ایک اور شیطان یہ رپورٹ پیش کرتا ہے کہ وہ فلاں شخص کے پیچھے متواتر لگا رہا اس کو گمراہ کرتا رہا حتی کہ اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، بڑا شیطان خوش ہو کر کہتا ہے ” نعم انت “ تم نے بہت اچھا کام کیا اور اس کے سر پر تاج رکھ دیتا ہے ، پھر ایک اور شیطان آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو ورغلایا ، اس کو گمراہ کیا حتی کہ اس نے ناحق قتل کردیا ، سردار شیطان اس پر بھی بڑا خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے ” نعم انت “ تم بڑے قابل ہو ، شیطان اس کو بھی تاج پہنا دیتا ہے ، غرضیکہ یہ دو جرم شرک اور قتل ناحق شیطان کو بہت پسند ہیں کیونکہ ان میں بنیادی خرابیاں پائی جاتی ہیں جن کا اثر سارے معاشرے پر پڑتا ہے ۔ سب باغیوں نے حضرت عثمان ؓ کے گھر کا گھیراؤ کرلیا ، تو انہوں نے مکان کی چھت سے ان لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ حضور ﷺ نے تین قتل جائز قرار دیے تھے یعنی شادی شدہ زانی مرتد اور ناحق قاتل ، لوگو ! تم جانتے ہو کہ میں ان میں سے کسی جرم میں ملوث نہیں ، پھر تم کیوں میرے قتل کے درپے ہو ، انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے ان میں سے کوئی جرم نہیں کیا مگر آپ کو چھوڑیں گے نہیں ، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ پھر تم گواہ ہوجاؤ کہ تم مجھے ناحق قتل کرنا چاہتے ہو ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس کی حرام کردہ کسی جان کو مت قتل کرو ۔ (موجودہ دور میں قتل عام) ہمارے دور میں قتل ناحق ایک معمول بن چکا ہے چھوٹی چھوٹی باتوں حتی کہ ایک آنے کے تنازعہ پر بھی قتل ہوجاتا ہے جائیداد کے مسئلہ میں بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل بھی واقع ہوا ہے ، ایوب کے زمانے میں اسمبلی میں جرائم کی رپورٹ پیش ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ تین سال کے عرصہ میں پورے ملک میں سولہ ہزار قتل ہوئے یہ بھی کہ ایک سال میں ایک ضلع میں ایک ہزار قتل ہوئے ان حالات میں معاشرہ میں امن وامان کیسے قائم رہ سکتا ہے ؟ قتل کو روکنے کا صحیح طریقہ قانون قصاص ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ولکم فی القصاص حیوۃ یاولی الالباب “ (البقرہ ۔ 179) اے صاحب عقل لوگو ! قصاص میں ہی تمہارے لیے زندی ہے اگر قتل پر شرعی تعزیر جاری ہوگئی چوری اور زنا کی حد جاری ہوگی تو ان جرائم کا لامحالہ خاتمہ ہوجائے گا اور لوگوں کو امن و سکون کی زندگی میسر آسکے گی ، (10) (اسراف فی القتل) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن قتل مظلوما “۔ جو آدمی مظلومیت کی حالت میں قتل کیا گیا (آیت) ” فقد جعلنا لولیہ سلطنا “۔ پس بیشک ہم نے اس کے سرپرست کے لیے غلبہ بنایا ہے (آیت) ” فلا یسرف فی القتل “۔ بس وہ قتل میں اسراف نہ کریں ، مطلب یہ کہ اگر ایک آدمی قتل ہوا ہے تو اسکے بدلے میں دو یا زیادہ آدمی قتل نہ کیے جائیں ، بلکہ قاتل کو ہی قتل کیا جائے غیر مستحق کو سزا دینا کبیرہ گناہ ہے ۔ (آیت) ” ان کان منصورا “۔ بیشک مظلوم مدد کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے مقتول کے ورثاء کو قصاص کا حق دیا ہے اور اگر قصاص ممکن نہ ہو تو دیت کا حق ہے اگر یہ بھی ادا ہوجائے تو آئندہ کے لیے قتل و غارت گری رک جاتی ہے ، قتل خطا میں دیت کا بوجھ قاتل کے پورے خاندان ، دوست احباب اور محلے داروں پر ہوتا ہے لہذا ایک دفعہ کی ادائیگی کے بعد وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور آئندہ کے لیے قتل کی روک تھام کا انتظام کرلیتے ہیں بہرحال قتل ناحق کو روکنے کے لیے قانون قصاص ودیت ہی کار آمد ہیں ، مظلوم کی مدد کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسلامی حکومت قانون شریعت کے مطابق اس کی ضرور مدد کریگی ، اس کے علاوہ جماعت المسلمین کی ہمدردیاں اور مدد بھی مظلوم کے ساتھ ہوگی ، لہذا قتل کے معاملہ میں اسراف نہیں کرنا چاہئے یہ دسواں اصول ہوگیا ۔
Ayahs 17:34–35

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور نہ قریب جاؤ تم یتیم کے مال کے مگر اس (طریقے) کے ساتھ جو بہتر ہے ، یہاں تک کہ وہ پہنچ جائے جوانی کو ، اور پورا کرو عہد کو ہے سوال کیا گیا ۔

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور پورا کرو ماپ کو جس وقت تم ماپتے ہو اور وزن کرو سیدھے ترازو کے ساتھ ، یہ بہتر ہے اور اچھا ہے انجام کے اعتبار سے ۔

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاشرتی نظام کے جو پندرہ قوانین ان دو رکوعوں میں بیان فرمائے ہیں ان میں سے دس قوانین گذشتہ دروس میں بیان ہوچکے ہیں گذشتہ درس میں تین دفعات بیان ہوئی تھیں یعنی قتل ناحق ، زنا اور اسراف فی القتل کی ممانعت ۔ اب آج کے درس میں مزید تین اصول آرہے ہیں یعنی یتیم کے مال کی حفاظت ، ایفائے عہد اور ماپ تول میں دیانت ، اس کے بعد اگلے درس میں آخری دو اصول بیان ہو کر پندرہ کی گنتی پوری ہوجائے گی ، (11) (یتیم کے مال کی حفاظت) گیارہواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن “۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر درست طریقے سے جو بہتر ہے یتیموں کی پرورش نگہداشت اور حسن سلوک کے احکام سورة بقرہ ، سورة نساء ، اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان فرمائے جا چکے ہیں اور ان کا ایک حصہ یہاں بھی موجود ہے کمزور طبقات میں یتامی کی نگہداشت اور ان کے مال کی حفاظت کے متعلق بڑے سخت احکام نازل فرمائے ہیں جیسے سورة النساء میں ہے (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا وسیصلون سعیرا “۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں وہ گویا اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ ڈال رہے ہیں ، عنقریب ایسے لوگ جہنم میں داخل کیے جائیں گے ، سورة بقرہ میں یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ اس صورت میں ملانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ یتیم کا سرپرست یہ کام یتیم کی بہتری کو محلوظ خاطر رکھ کر کرے ، مثلا اپنے ساتھ کھیتی باڑی یا صنعت یا تجارت میں لگا دے کہ جس سے یتیم کا مال ضائع ہونے کی بجائے بڑھتا رہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” وان تخالطوھم فاخوانکم “۔ (البقرہ : 220) اگر تم نیکی نیتی سے ان کے مال کو ملاؤ گے تو وہ تمہارے بھائی ہیں ، ان کی ہمدردی کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرو تاکہ ان کا مال نہ صرف محفوظ رہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوتا رہے ، آج کے افراط زر کے دور میں اگر کوئی رقم جوں کی توں پڑی رہے تو خرچ نہ کرنے کے باوجود اس میں کمی واقع ہوتی رہتی ہے ، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں آئے دن اضافہ محفوظ رقم کی قوت خرید میں کمی کا باعث بنتا ہے ، لہذا اب یہ ضروری ہوگیا کہ نقد رقم کو کسی کاروبار میں لگایا جائے اگر اس کی قوت خرید میں اضافہ نہیں تو کمی بھی تو واقع نہ ہو ، غرضیکہ یتیموں کے مال کو ان کی بہتری کے لیے اچھے مصرف میں لگانے کی اجازت دی گئی ہے ، اسی طرح ان کے راشن کو سرپرست کے راشن میں ملا لینا کہ اس سے یتیم کے خرچہ میں بچت ہوگی یہ بھی درست ہے ، برخلاف اس کے اگر کوئی شخص یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ بدنیتی سے ملاتا ہے تاکہ یتیم کا مال خود ہضم کرسکے تو اس کی سختی سے مذمت بیان کی گئی ہے (آیت) ” ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم “۔ (النسآء 2) یتیموں کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ (آیت) ” واللہ یعلم المفسد من المصلح “۔ (البقرہ : 220) اللہ تعالیٰ فسادی اور اصلاح کنندہ کو خوب جانتا ہے ، اسے خوب علم ہے کہ کون یتیموں کا خیرخواہ اور کون ان کا بدخواہ ہے ، بعض ناہنجار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو یتیموں کے مال کو جلدی جلدی خرچ کرتے ہیں تاکہ ان کے سن بلوغت تک پہنچنے سے پہلے پہلے ہی ختم ہوجائے ، اسی لیے اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا “۔ (النسآ 60) یتیموں کا مال مت کھاؤ فضول خرچی کرکے اور جلدی کرکے کہ بالغ ہونے پر مال ان کے سپرد کرنا پڑیگا فرمایا اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنا (آیت) ” انہ کان حوبا کبیرا “۔ (النسائ 20) بڑے گناہ کی بات ہے جس کا بھگتان کرنا پڑے گا ۔ قرآن اولی میں یتمی کے مسائل زیادہ ترجہاد میں شہید ہوجانے والے لوگوں کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے شہدا کے بچوں کے ساتھ حسن سلوک اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ مسلمانوں میں جذبہ جہاد بیدار رہے ، اگر شہدا کے پس ماندگان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوگا تو جذبہ جہاد سست پڑجانے کا خطرہ تھا لہذا اللہ تعالیٰ نے یتیموں کی نگہداشت کے قانون پر سختی سے علمدار کا حکم دیا اس سلسلے میں حضور ﷺ نے ترغیب بھی دی ہے فرمایا ” خیر بیت من بیوت المسلمین فیہ یتیم یحسن علیہ “۔ مسلمانوں کے گھروں میں بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم زیر پرورش ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہو ، آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں برا گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم ہو مگر اس سے بدسلوکی کی جاتی ہو۔ (یتیم کا سن بلوغت) فرمایا یتیم کے مال کی اس وقت تک نگرانی کرتے رہو (آیت) ” حتی یبلغ اشدہ “۔ یہاں تک کہ وہ اپنی قوت کو پہنچ جائے ، یتیم کے قوت ، جوانی یا سن بلوغت تک پہنچنے کی مدت میں فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے ، بعض بچپن میں ہی باشعور ہوتے ہیں اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت جلدی حاصل کرلیتے ہیں البتہ بعض ناسمجھ بھی ہوتے ہیں اور ان کے مال کی نگہداشت کے لیے زیادہ عرصہ مطلوب ہوتا ہے ، اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سرپرست پچیس 25 سال کی عمر تک مال کی نگرانی کرے اور اس کے بعد مال یتیم کے حوالے کر دے بعض آئمہ اس سے بھی زیادہ عرصہ کے قائل ہیں تاکہ یتیم کا مال ضائع ہونے سے بچ جائے ہاں اگر بچہ باصلاحیت ہے اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے تو 14 ۔ 15 سال کی عمر میں بھی اس کا مال اس کے حوالے کیا جاسکتا ہے ، ” اشد “ کے لفظ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے اور یہ بھی آتا ہے کہ ” لایتم بعد البلوغ یعنی سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد یتیمی باقی نہیں رہتی ، چونکہ بعض لوگوں میں ضعف ہوتا ہے ، دماغی صلاحیت زیادہ نہیں ہوتی اس لیے یتیم کی عمر میں رعایت برتنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ (ابوذرغفاری ؓ کو نصیحت) حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ سے (1) (مسلم ص 121 ج 23 (فیاض) سے فرمایا ” انی ارک ضعیفا وانی احب لکم ما احب نفسی میں تجھے کمزور آدمی خیال کرتا ہوں ، اور میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں ، فرمایا ” لا تولین علی اثنین ولا تولین مال الیتیم “ کبھی دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور کسی یتیم کی سرپرستی قبول نہ کرنا ، حضرت ابوذرغفاری ؓ جسمانی لحاظ سے کمزور نہ تھے بلکہ آپ کی کمزور یہ تھی آپ کی طبعیت میں جوش غضب اور غصہ رہتا تھا اور آپ جذب والی کیفیت طاری رہتی تھی ۔ حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ حاکمیت کے لیے طبیعت میں ٹھہراؤ اور سوچ بچار کی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ آپ کی طبعیت میں جوش وغضب تھا ، تو ایسی حالت میں صحیح فیصلے کی توقع نہیں کی جاسکتی اس لیے فرمایا کہ تم حاکمیت کو قبول نہ کرنا اسی طرح یتیم کی پرورش اور اس کے مال کی حفاظت کے لیے بھی ٹھنڈے دل کی ضرورت ہوتی ہے ، ہو سکتا ہے کہ گرم طبعیت آدمی یتیم کی کوئی جائز ضرورت بھی پوری کرنے سے انکار کر دے یا طبعیت میں لا ابالی کی وجہ سے اس کا مال ہی ضائع کر دے ، اس لیے آپ نے ان دونوں چیزوںٗ سے منع فرما دیا ، البتہ جہاں تک حضرت ابوذر غفاری ؓ کے زہد وتقوی کا تعلق ہے حضور ﷺ نے آپ کی بڑی تعریف کی ہے ، فرمایا گرد آلود زمین اور نیلے آسمان کے درمیان ابوذر غفاری ؓ سے سچا کوئی آدمی نہیں اور یہ زہدوتقوی اور پرہیز گاری میں عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ بہرحال فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے کے ساتھ جو بہتر ہے ، معاشرے کی درستگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کمزور طبقات کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے اور اس معاملہ میں یتامی سرفہرست ہیں ۔ (1) (ایفائے عہد) اللہ نے بارہواں اصول یہ بیان فرمایا ہے (آیت) ” واوفوا بالعھد “ اور عہد کو پورا کرو کیونکہ (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “۔ بیشک عہد کے متعلق پوچھا جائے گا کہ تم نے پورا کیا یا نہیں قرآن پاک میں ایفائے عہد کی جگہ جگہ تاکید کی گئی ہے مثلا سورة مائدہ کی پہلی آیت میں فرمایا (آیت) ” اوفوا بالعقود “ اپنے عہدوں کو پورا کرو ، سورة الانعام میں ہے (آیت) ” وبعھد اللہ اوفوا “۔ کے ساتھ کیے گئے عہد کو پورا کرو اور یہاں منشور اسلامی میں اس کا بارہواں نمبر ہے عہدعام میں ہوتا ہے اور خاص میں بھی مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ ایک مومن آدمی جب اپنی زبان سے کلمہ شہادت ادا کرتا ہے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول سے عہد کرتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تعمیل کرے گا اور ان کی ہدایت کی پیروی کرے گا ، اللہ نے سورة الانعام اور دوسری سورتوں میں بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، رسالت اور قیامت سے متعلق عہد و پیمان کی باز پرس ہوگی ۔ انسان اللہ کے ساتھ بصورت نذر بھی عہد کرتا ہے کہ فلاں کام کروں گا اب یہ بھی اس کے ذمہ لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اس عہد کو پورا کرے روز مرہ زندگی میں انفرادی اور اجتماعی بیشمار قسم کے عہد و پیمان ایک دوسرے کے ساتھ کیے جاتے ہیں ، خرید وفروخت لین دین ، قرضہ ، امانت ، نکاح طلاق سب عہد میں جن کا ایفا ضروری ہے ، اسی طرح حکومتی سطح پر بھی ملکی جماعتوں یا غی ملکی حکومتوں کے ساتھ عہد کیے جاتے ہیں ، ان سب کا پورا کرنا لازم ہے ، بشرطیکہ جائز ہوں اور ان میں حلال و حرام یا حرام کو حلال نہ بنایا گیا ہو جو شخص جماعت یا حکومت عہد کی خلاف ورزی کرے گی ، وہ غدار سمجھی جائے گی اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان یہ ہے ” لا تغدروا “ غداری مت کرو کہ یہ بہت بڑا جرم ہے البتہ سورة انفال میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ کوئی عہد و پیمان کرنے کے بعد اگر تم سمجھتے ہو کہ اسے نبھا نہیں سکتے (آیت) ” بانبذ الیھم علی سوآء “ اگر دوسری قوم کی طرف سے بدعہدی کا خطرہ ہو تو آپ ان کے عہد کو ان کی طرف برابر سرابر پھینک دیں یعنی اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کردیں اور اس کے بعد جو کاروائی مناسب سمجھیں کریں بہرحال عہد کی پابندی ضروری ہے ، عہد شکنی نفاق کی علامت ہے ، حضور ﷺ نے (1) (الترغیب والترھیب ص 10 ج 4) فرمایا کہ عملی منافق کی ایک نشانی یہ ہے ” اذا عاھد غدر “۔ جب وہ عہد کرتا ہے تو غداری کرتا ہے ، اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے ، اور اگر اس سے جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے ۔ (13) (ماپ تول میں دیانت) اسلامی معاشرے کا تیرہواں اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے (آیت) ” واوفوا الکیل اذا کلتم “۔ اور پورا کرو ماپ کو جگ تم کوئی چیز ماپتے ہو ، اس میں کمی بیشی نہ کرو ، اور جب کسی چیز کالین دین بذریعہ وزن ہو ۔ (آیت) ” وزنوا بالقسطاس المستقیم “۔ تو سیدھے ترازو کے ساتھ پورا پورا وزن کرکے دو اس میں ڈنڈی مارنے کی قطعا اجازت نہیں ، ایسا کرنا خیانت ہے جو کہ حرام ہے ، قرآن پاک میں موجود ہے کہ بعض قومیں ماپ تول میں کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں جن میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے ایکہ اور مدین والے لوگ سرفہرست ہیں یہ لوگ بین الاقوامی شاہراہ پر آباد تھے تاجر پیشہ تھے ، مگر ماپ تول میں خیانت کرتے تھے مدینہ کے اطراف میں یہودی بھی تاجر پیشہ تھے اور یہ خرابی ان میں بھی پائی جاتی تھی ، اللہ تعالیٰ نے سورة المطففین میں سخت وعید فرمائی (آیت) ” ویل للمطففین “۔ ہلاکت ، تباہی اور بربادی ہے ماپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ، جب اپنا حق لینا ہو تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب لوگوں کا حق ادا کرنا ہو تو اس میں ڈنڈی مار جاتے ہیں ، یہ بڑی ہی قبیح حرکت ہے ۔ ترمذی شریف کی روایت (2) (ترمذی ص 196) (فیاض) میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ بازار میں تشریف لے گئے اور تاجروں سے یوں خطاب فرمایا ” ما معشر التجار قدولیتم امرین ھلکت فیہ الامم السابقۃ قبلکم “۔ اے تاجروں کے گروہ ! تمہیں دو چیزوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے کئی سابقہ اقوام ہلاک ہوئیں ، فرمایا وہ دو چیزیں (آیت) ” المکیال والمیزان “۔ ماپ اور تول ہیں ، سابقہ قومیں ان دو چیزوں میں کمی بیشی کی وجہ سے عذاب کی مستحق ٹھہریں ، لہذا تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ تم ان کے نقش قدم پر نہ چلنا اور کسی کا حق ضائع نہ کرنا ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ میں موجود ہے کہ جب آپ لوگوں کو اس قبیح فعل سے منع کرتے تو وہ کہتے اے شعیب (آیت) ” اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابآؤنا اوان نفعل فی اموالنا مانشؤا “۔ کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے آباؤ و اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا اپنے مالوں میں اپنی مرضی کا تصرف کرنا ترک کردیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا غضب نازل ہوا اور ساری قوم ہلاک ہوگئی ، ماپ تول میں کمی بیشی عام طور پر تاجر لوگوں کا کام ہے یہ دھوکہ دینے کے مترادف ہے جو کہ قطعی حرام فعل ہے ، جھوٹے دعوے اور جھوٹی قسمیں اٹھانے سے برکت اٹھ جاتی ہے اور مال کی تباہی قریب آجاتی ہے ، فرمایا جھوٹی قسم مال کو تو چلا دیگی مگر برکت کو بالکل مٹا دیگی ، ایسا سرمایہ غلط کاروبار میں ہوگا اور پھر مال حرام بود بجائے رفت “ والا مقولہ صادق آئے گا ، ہیرا پھیری اور دھوکے فریب سے کمایا ہوا پیسہ باطل رسوم اور لہو ولعب میں ہی ضائع ہوجاتا ہے ، لہذا لین دین اور تجارت میں دیانت کو برقرار رکھنا چاہئے کہ اسی میں انسانی حقوق کا تحفظ اور برکت ہے ۔ جب کوئی شخص حضور ﷺ کی موجودگی میں کوئی مال ماپتا یا تولتا تو آپ فرماتے ” زن وارجح “ یعنی تولو اور زیادہ ہی دو ، کم نہ دو اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے کہ ماپتے وقت پورا پورا اور وزن کرتے وقت سیدھے ترازو کے ساتھ کرو (آیت) ” ذلک خیر “ یہی بہتر ہے (آیت) ” واحسن تاویلا “ اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھا ہے ، اس طرح لوگوں کے حقوق ادا ہوتے رہیں گے کہ ان حقوق کی ادائیگی کے بعد ” بقیت اللہ خیرلکم ان کنتم مؤمنین “۔ (ہود) جو کچھ بچ جائے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو ، ایماندار تاجر کے متعلق حضور کا فرمان (1) (سنن دارمی ص 163 ج 2 و ترمذی ص 195 (فیاض) ہے ” التاجر الصدوق الامین مع النبین والصدیقین والشھدآء “ سچے اور امانت دار تاجر کا حشر نبیوں ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا تاجروں کا فرض ہے کہ وہ کاروبار میں دیانت وامانت کی پاسداری کریں کسی کو دھوکے سے ناقص مال فروخت کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ اگر کوئی نقص ان کے نوٹس میں آگیا ہے تو گاہک کو واضح طور پر بتلا دیں کہ بھائی اس مال میں یہ خامی ہے ، اسی لیے فرمایا کہ ماپ تول میں پورا پورا دنیا انجام کے اعتبار سے بہتر ہے ۔
Ayahs 17:36–40

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور نہ پیچھے پڑو اس چیز کے جس کا تمہیں علم نہیں ہے بیشک کان ، آنکھیں ، اور دل ، ان سب سے سوال کیا جائے گا۔

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور نہ چلو زمین میں اتراتے ہوئے بیشک تم نہیں پھاڑ سکتے زمین کو اور نہیں پہنچ سکتے پہاڑوں کی بلندی تک ۔

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان ساری باتوں کی برائی تیرے رب کے نزدیک بہت ناپسندیدہ ہے ۔

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

یہ باتیں اس میں ہیں جو وحی کی ہے تیری طرف تیرے پروردگار نے حکمت سے اور نہ ٹھہرائیں اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود ، پھر ڈال دیے جاؤگے تم جہنم میں ملامت کیے ہوئے اور دھکیلے ہوئے ۔

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

کیا منتخب کیا ہے تم کو تمہارے پروردگار نے بیٹوں کے ساتھ اور بنائی ہیں اس نے فرشتوں سے بیٹیاں ، بیشک تم البتہ کہتے ہو ایک بہت بڑی بات ۔

(14) (تحقیق کی ضرورت) اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اب تک تیرہ اصول بیان کیے جا چکے ہیں اب چودھواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ، مطلب یہ ہے کہ بلا تحقیق کسی چیز کو نہ دل میں جگہ دو ، نہ زبان سے نکالو اور نہ اس پر عمل کرو حضور ﷺ کا فرمان (1) (مسلم ص 8 ج 1 (فیاض) ہے ’ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع “۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے چلا دے ، مثلا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کیے گواہی دے دے ، کسی پر تہمت لگا دے ، بغیر تحقیق کسی سے نفرت وعداوت رکھے یا ایذا پہنچائے ، رسومات باطلہ کی اندھی تقلید بھی اسی فہرست میں آتی ہے کیونکہ یہ بھی قوم ، برادری یا آباؤ اجداد سے منسوب بلاتحقیق کی جاتی ہے ، ان دیکھی اور ان سنی باتوں کو اس طرح بیان کرنا گویا کہ وہ چشم دید ہیں خلاف حق باتوں کی حمایت اور جھوٹا خواب بیان کرنا سب ایسی باتیں ہیں جو بلاتحقیق عمل درآمد متعلق پورا پورا علم حاصل کرے اور پھر اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرے محض اٹکل پچو اور غیر یقینی باتوں پر حکم دینا یا اس پر عمل کرنا ہرگز روا نہیں ، یہ تو جھوٹا ہونے کی علامت ہے اور وہ شخص اللہ کے ہاں ماخوذ ہوگا ۔ (کان آنکھ اور دل کے متعلق سوال) فرمایا (آیت) ” ان السمع والبصر والفؤاد “۔ بیشک کان ، آنکھ اور دل (آیت) ” کل اولئک کان عنہ مسئولا “۔ ان سب سے سوال کیا جائے گا ، انسان سے پوچھ گچھ ہوگی کہ اس نے اللہ کی ان نعمتوں کو غلط طور پر کیوں استعمال کیا وہم و گمان پر مبنی غلط باتیں کانوں میں کیوں ڈالیں ؟ آنکھ جیسی عظیم نعمت سے غلط چیزوں کو کیوں دیکھا اور دل تو بہت بڑی دولت ہے جو اللہ نے انسان کے سینے میں رکھی ہے ، اعتقاد ، اخلاق ، عزم اور قوت عملیہ کا مرکز دل ہی ہے ، اگر یہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگر جاتا ہے اور یہ درست ہو تو سارا جسم درست رہتا ہے ، اس کے متعلق بھی باز پرس ہوگی کہ اتنی بڑی نعمت کو غلط سوچ اور غلط کاموں پر کیوں لگایا ، سورة ہمزہ میں عذاب کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا (آیت) ” نار اللہ الموقدۃ التی تطلع علی الافدۃ “۔ جہنم کی آگ کا اثر سب سے پہلے دل پر ہوگا کیونکہ مرکز اخلاق اور ہر فعل کا منبع دل ہی ہے ، اس لیے سب سے پہلے یہی ماخوذ ہوگا ۔ کان سنتے ہیں ، آنکھ دیکھتی ہے جب کہ دل غور وفکر کرتا ہے محبت ونفرت دل میں ہی پیدا ہوتی ہے عزم و ارادہ اسی سے وابستہ ہے توحید اور ایمان کا مرکز بھی یہی ہے کفر ، نفاق ، بداخلاقی ، حسد اور کینہ بھی یہی جہنم لیتے ہیں اور بغض وعداوت کا منبع بھی دل ہی ہے ، اگر اعتقاد کے معاملے میں دل کو غلط طور پر استعمال کرے گا تو اللہ کا ارشاد ہے ، (آیت) ” اولئک کالانعام بل ھم اضل “۔ ایسے لوگ جانوروں کی مانند ہیں یا ان سے بھی بدتر ، اسی دل کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے والے کافروں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ان شرالدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (الانفال) یہ اندھی اور بہری بدترین مخلوق ہے جو عقل کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتی ، یہ ساری باتیں اللہ نے چودھویں اصول کے تحت بیان فرمائی ہیں ۔ (15) (اکڑ اور تکبر کی ممانعت) اللہ نے پندرہواں اصول یہ بیان فرمایا (آیت) ” ولا تمش فی الارض مرحا “۔ اور زمین میں اتراتے ہوئے مت چلو ، غرور اور اکڑ نہ دکھاؤ ، کیونکہ (آیت) ” انک لن تخرق الارض “ تم غرور وتکبر کر کے زمین کو نہیں پھاڑ سکتے ، اور نخوت کی بنا پر کتنا بھی سراونچا کرو (آیت) ” ولن تبلغ الجبال طولا “۔ تم پہاڑوں کی بلندی تک نہیں پہنچ سکتے تمہارا قد پانچ چھ فٹ سے زیادہ نہیں ہو سکتا ، لہذا تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ خدا کی زمین پر اکڑ کر اور گردن اونچی کرکے چلو ، عاجزی اختیار کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے نزدیک بھی قابل عزت ہوتا ہے ، مگر جو شخص غرور وتکبر کو اپناتا ہے اپنے آپ میں بڑا بننے کی کوشش کرتا ہے ، وہ اللہ اور اس کی مخلوق کے نزدیک ذلیل و خوار ہی ہوتا ہے ، ” من تواضع للہ رفعہ اللہ “ جو اللہ کی خاطر عاجزی کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا ” ومن تکبر کسرہ اللہ “۔ اور جو تکبر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی گردن توڑ دے گا اور کسی نہ کسی مرحلے میں وہ ذلیل ہو کر رہے گا ، اس کو دنیا میں بھی سزا ملے گی اور آخرت کا عذاب تو دائمی ہے ۔ قارون کے تکب کا ذکر خود قرآن میں موجود ہے ، اللہ نے اس کو خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا ، بخاری شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ ایک آدمی بڑی خوشنما قسم کی دو بڑی چادریں پہنے جا رہا تھا ، غالبا ایک تہبند کے طور پر استعمال کی ہوگی اور دوسری اوپر اوڑھی ہوگی تو اللہ نے اس کے تکبر کی وجہ سے اسے زمین میں دھنسا دیا ” وھو یتجلجل الی یوم القیمۃ “۔ اور وہ قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا ، جب قیامت برپا ہوگی تو اس کا قدم کہیں جا کر ٹکے گا ، اللہ نے عاد ، ثمود اور قوم فرعون جیسی متکبر قوموں کا ذکر بھی فرمایا ہے ان کے تکبر کی وجہ سے اللہ نے انہیں دنیا میں ہی سخت سزائیں دیں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے زمین پر اکڑ کر چلنے سے منع فرمایا ہے ، اس کے برخلاف اللہ کے نیک بندوں کی یہ صفت بیان کی ہے (آیت) ” وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا “۔ (البرقان) اور رحمان کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی اور وقار کے ساتھ چلتے ہیں ، حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ جس انسان میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا ، تکبر ہمیشہ حق کے مقابلہ میں ہوتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” الکبر بطرالحق وغمط الناس “۔ تکبر یہ ہے کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور دوسروں کو حقیر سمجھا جائے سچی بات کو بلاسوچے سمجھے ٹھکرا دیا اور چھوٹے آدمیوں کی بات کو کوئی حیثیت نہ دینا تکبر کی علامت ہے حق یہ ہے کہ سچی بات خواہ کسی اعلی کیطرف سے ہو یا ادنی کی طرف سے اس کو تسلیم کرنا چاہئے ، جو شخص تکبر کی وجہ سے حق بات کو ٹھکراتا ہے اور کسی کو حقیر سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دیتا ہے ۔ (اللہ تعالیٰ کی ناپسندگی ) زمین پر اترا کر چلنا منہیات میں داخل ہے ا س سے پہلے بھی بہت سی ممنوع باتوں کا ذکر ہوچکا ہے ، جیسے قتل اولاد ، قتل ناحق ، اسراف فی القتل ، زنا ، بدعہدی ، ماپ تول میں خرابی ، یتیم کا مال کھانا ، بلاتحقیق کسی چیز پر اعتقاد رکھنا ، زبان سے کہنا یا اس پر عمل کرنا ، ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کل ذلک کان سیئہ عند ربک مکروھا “۔ کہ ان کی برائی تیرے پروردگار کے ہاں سخت ناپسندیدہ ہے تیرا رب ان سے بیزار ہے ، لہذا ان سے بچنے کی کوشش کرو ، فرمایا (آیت) ” ذلک ما اوحی الیک رب من الحکمۃ “۔ یہ ساری باتیں ان میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ کی طرف وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہیں اور ہیں بھی یہ حکمت کی باتیں ان باتوں میں علم ، دانائی سمجھ اور فہم پایا جاتا ہے ، اللہ کے نزدیک حکمت بہت بڑی چیز ہے سورة البقرہ میں فرمایا (آیت) ” یؤتی الحکمۃ من یشآء ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے حکمت عطا کرے اور جسے حکم عطا کی جاتی ہے ، اسے بہت بڑی بھلائی حاصل ہوجاتی ہے ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ سنت ساری کی ساری حکمت ہے قرآن میں ان کی مختلف مقامات پر تشریح کی گئی ہے ، تو فرمایا کہ یہ جتنی باتیں بیان کی گئی ہیں ، یہ ان حکمت و دانش کی باتوں میں سے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہیں ۔ (شرک سے بیزاری) اب آخر میں اللہ تعالیٰ نے پھر وہی بات کی ہے جو ان پندرہ اصولوں کی ابتداء میں کہی گئی تھی یعنی شرک کی تردید ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولا تجعل مع اللہ الھا اخر “ اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کسی کو نافع اور ضار نہ سمجھو ، مشکل کشا اور حاجت روا تسلیم نہ کرو اگر ایسا کرو گے (آیت) ” فتلقی فی جھنم “ تو جہنم میں ڈال دیے جاؤ گے (آیت) ” ملوما مدحورا “ ایسی حالت میں کہ ملامت کیے ہوئے اور دھکیلے ہوئے ہوں شرک میں مبتلا ہونا سخت ترین جرم ہے ، اللہ نے اپنے پاک نبیوں کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین “۔ (الزمر) اگر شرک کرو گے تو تمہارے اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے ، ایمان اور اخلاص بڑی حقیقت ہے جس میں کسی صورت میں بھی خرابی نہیں آنی چاہئے ، اگر کفر ، شرک ، یا بدعقیدگی پیدا ہوگئی تو سارے نیک اعمال بھی ضائع ہوجائیں گے ، اللہ نے شرک کی تاکیدا دوبارہ تردید فرمائی ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کو الہ نہ بناؤ ورنہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا ۔ (شان خدا وندی میں گستاخی) آگے ایک بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا (آیت) ” افاصفکم ربکم بالبنین “۔ بھلا کیا منتخب فرمایا ہے تمہارے پروردگار نے تمہیں بیٹوں کے ساتھ یعنی تم اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہو (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “۔ اور اس نے فرشتوں میں سے اپنی بیٹیاں بنالی ہیں یہ دراصل مشرکین کے باطل عقیدے کا رد ہے جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں فرمایا کیسی بےعقلی کی بات ہے کہ لڑکیوں کو اپنے لیے تو پسند نہیں کرتے بلکہ اسے پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیتے ہیں مگر ان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے سے ذرا شرم نہیں کرتے ، یہ تو احمقانہ تجویز ہے ، فرشتے تو تذکیر وتانیث سے پاک اللہ کی مخلوق ہیں ، بھلا ان کو خدا کی بیٹیاں کیسے کہتے ہو ؟ فرمایا (آیت) ” انکم لتقولون قولا عظیما “۔ بیشک تم بہت بڑی ناشائستہ بات کہتے ہو ، خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اور خاص طور پر بیٹیوں کی نسبت اس کی طرف کرنا جنہیں تم خود حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو ، اللہ کے ساتھ بڑی بھاری گستاخی کی بات ہے ، دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے کہ خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا اس کی ناراضگی کا سبب ہے (آیت) ” تکاد السموت یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا “۔ (مریم) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں (آیت) ” ان دعوا للرحمن ولد “۔ (مریم) کہ انہوں نے خدا کے لیے بیٹا تجویز کیا ہے ، یہ تو بڑی گستاخی کی بات ہے اللہ نے مشرکین کے باطل عقیدہ بنات کا رد بھی فرما دیا ہے اور پہ کار بند رہنے کی تلقین کی ہے ،