17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 17:56–58

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ بلاؤ تم ان کو جن کو تم اللہ کے سواء خیال کرتے ہو پس نہیں مالک وہ تکلیف دور کرنے تم سے اور نہ تبدیل کرنے کے ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کو یہ پکارتے ہیں ، وہ تو تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون ان میں سے زیادہ قریب ہو اور امید رکھتے ہیں ان کی رحمت کی اور خوف کھاتے ہیں اس کے عذاب سے بیشک تیرے پروردگار کا عذاب ڈرنے کے قابل ہے ۔

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اس کو ہلاک کرنے والے ہیں قیامت سے پہلے ، یا اس کو سزا دینے والے ہیں سخت سزا یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی کہ وہ مشرکین سے عداوت کی بناء پر اپنی زبانوں سے کوئی غلط بات نہ نکالیں ، بلکہ ہمیشہ اچھی بات کریں شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان جھگڑا کرکے اپنا الو سیدھا کرے کیونکہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے ، فرمایا شیطان کے پیچھے لگتے کی بجائے ہمیشہ سچی بات کریں پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ہر شخص ضرور ہی ہدایت قبول کرے ، آپ کا کام تبلیغ کرنا اور لوگوں کو سمجھانا ہے آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بعض پر فضیلت بخشی ہے خاص طور پر داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کیا کہ انہیں خلافت عطا کی صاحب نبوت اور صاحب جہاد بنایا اور اسی طرح نبی آخر الزمان کو صاحب کتاب و جہاد بنایا ، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضور خاتم النبیین ﷺ امور خلافت انجام دینے کے باوجود اللہ کے سب سے زیادہ عبادت گزار بندے تھے ، دنیا کے کام ان کے تعلق باللہ میں حائل نہیں ہوئے ۔ (آیت) ” معبودان باطلہ کی بےبسی) اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے معبودان باطلہ کی پرستش کرنے اور اس کی اپنی حاجات میں پکارنے والے مشرکین کا رد فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل ادعوا الذین زعمتم من دونہ “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان مشرکین سے کہہ دیں کہ اللہ کے سوا تم جن کے متعلق گمان کرتے ہو ، کہ وہ تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں ، انکو پکارو ، ان کی مدد کے لیے بلاؤ اور پر دیکھ لو۔ (آیت) ” فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا “۔ کہ وہ اس بات کے مالک نہیں ہیں کہ تم سے کوئی تکلیف دور کرسکیں یا اسے تبدیل کرسکیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ تمہارے معبود خواہ فرشتے ہوں ، جنات ہوں ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہوں یا اولیاء کسی کو بھی پکار کر دیکھ لو ، وہ تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکیں گے ، فرشتے تو اللہ کی پاک مخلوق ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک حد تک اختیار بھی دے رکھا ہے مگر وہ بھی وہی کام کرتے ہیں جس کا اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیتا ہے ، خود بخود وہ کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں کرسکتے یہی حال انسانوں اور جنوں کا ہے ، وہ بھی مافوق الاسباب کسی کی مدد نہیں کرسکتے کہ کسی بیمار کو شفاء عطا کردیں کسی ملزم کو بری کرا دیں یا کسی کو حادثے سے بچا سکیں ، نفع ونقصان تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، وہ چاہے گا تو تکلیف کو دور کر دے گا اور چاہے گا تو نقصان میں ڈال دے گا البتہ جن کو تم پکارتے ہو وہ کوئی تکلیف دور کرنے یا اسے تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہیں تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو مصیبت میں کمی کردی یا ایک کی تکلیف دوسرے پر ڈال دیں فرمایا یہ ان کے بس کی بات نہیں جب فرشتوں ، انسانوں اور جنوں کو یہ اختیار حاصل نہیں جن کو اللہ نے کسی حد تک اختیار بھی دیا ہے تو پھر پتھروں ، درختوں اور بتوں سے یہ کسی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں جو کہ خود بےجان اور حرکت کرنے سے بھی عاجز ہیں ، بھلا وہ ان کے کام کیسے آسکتے ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” اولئک الذین یدعون “ جن کو یہ لوگ اپنی حاجتوں میں پکارتے ہیں ، انکی حالت تو یہ ہے (آیت) ” یبتغون الی ربھم الوسیلۃ “۔ وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ایھم اقرب “ کہ کون ان میں زیادہ قریب ہو ، بخاری شریف میں موجود ہے کہ دور جاہلیت میں بعض مشرکین جنات کی پوجا کرتے تھے اور ان کو اپنی حاجات میں پکارتے تھے جب حضور ﷺ کی بعث ہوئی تو یہ جن تو مسلمان ہوگئے مگر مشرک لوگ بدستور ان کی پرستش کرتے رہے اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ! جن کو یہ مشرک پکارتے ہیں وہ تو ایمان لے آئے ہیں اور خدا کے قریب کے لیے وسیلہ کے متلاشی ہیں ، مگر یہ مشرک لوگ ابھی تک انہی کی پوجا کیے جا رہے ہیں یہ کتنی حماقت کی بات ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرب کا بہترین وسیلہ ایمان اور نیک اعمال ہیں تو جن کو مشرک پکارتے ہیں ، وہ کود ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دے رہے ہیں تاکہ اللہ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل ہوجائے ، بعض مفسرین (آیت) ” ایھم اقرب “۔ کا یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ جو زیادہ مقرب ہیں وہ بھی مزید تقرب حاصل کرنے کے لیے وسیلہ ڈھونڈ رہے ہیں مگر یہ بدبخت انہیں کی پوجا کیے جا رہے ہیں ، جب مقربین بھی وسیلہ کے متلاشی ہیں تو دور والوں کا کیا حال ہوگا وہ تو قرب الہی کے زیادہ محتاج ہیں ، ایسے لوگوں کو حاجات میں پکارنا تو ویسے ہی قرین قیاس نہیں ۔ فرمایا اللہ کے یہ مقربین اس کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں (آیت) ” ویرجون رحمتہ “۔ اور ساتھ ساتھ رحمت خداوندی کی امید بھی رکھتے ہیں کہ وہ ضرور انہیں اپنی رحمت سے نوازے گا (آیت) ” ویخافون عذابہ “ اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے خوفزدہ بھی ہیں کیونکہ (آیت) ” ان عذاب ربک کان محذورا بیشک تیرے پروردگار کا عذاب ایسی چیز ہے کہ اس سے خوف ہی کھانا چاہئے ۔ (وسیلہ کے مختلف معانی) وسیلہ کا لفظ سورة المائدہ میں بھی موجود ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ “ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جاؤ اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو ، وسیلہ کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ، مثلا اس سے وہ چیز مراد ہوتی ہے جس کے ذریعے دوسرے کا قرب حاصل کیا جائے ، وسیلہ کا ایک معنی حاجت بھی ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد حضرت نافع (رح) نے آپ سے سوال کیا کہ حضرت وسیلہ کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا حاجت انہوں نے پھر دریافت کیا کہ کیا عربی زبان میں اس کا کوئی ثبوت موجود ہے آپ نے فرمایا ، ہاں ! کیا تم نے زمانہ جاہلیت کے عربی شاعر ابن شداد کا یہ یہ شعر نہیں پڑھا ؟ ان الرجال لھم الیک وسیلۃ ان یاخذوک تکحلی وتخضبی : عشق و محبت کے تعلق سے شاعر عورت کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ مردوں کو تیری حاجت ہے لہذا تم آنکھوں میں سرمہ اور ہاتھوں میں مہندی لگا کر بن سنور کر رہا کرو ، ان معانی میں (آیت) ” وابتغوا الیہ الوسیلۃ “ کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنے رب کے ہاں حاجت طلب کرو۔ وسیلہ کا ایک معنی درجہ اور مرتبہ بھی ہے جیسا کہ آذان کے بعد والی دعا میں سکھایا گیا ہے ” ات محمد الوسیلۃ ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ۔ اے پیغمبر ! ﷺ نبی رحمت کو اعلی ترین مرتب عطا فرما حضرت مولانا شیخ الاسلام فرماتے ہیں کہ وسیلہ حق تعالیٰ کے مقامات قرب میں سے بلند ترین مقام کا نام ہے ۔ (توسل بالاعمال) ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آیا دعا میں کسی کا توسل جائز ہے یا نہیں ، توسل دو قسم کا ہے توسل بالاعمال یہ ہے کہ انسان اپنے نیک اعمال کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرے کہ مولا کریم ! میں نے فلاں نیک کام تیری رضا کی خاطر کیا تھا ، اگر تجھے یہ منظور ہے تو اس کی برکت سے میرا فلاں کام کر دے ، یا فلاں تکلیف رفع کرے دے ، بخاری شریف کی روایت میں تین آدمیوں کا ذکر آتا ہے جو کسی غار میں پھنس کر رہ گئے تھے ، غار کے منہ پر ایک بڑا پتھر آگرا تھا جس کی وجہ سے باہر نکلنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا جب وہ لوگ ظاہری اسباب سے بالکل مایوس ہوگئے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے ایک ایک نیک عمل کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے رہائی کی دعا کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور اس پتھر کو غار کے منہ سے سرکا دیا اور وہ تین آدمی باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے یہ توسل بالاعمال ہے اور سب کے نزدیک جائز ہے ۔ (توسل بالذات (1) جائز وسیلہ) اپنی دعا میں کسی کی ذات کا وسیلہ پیش کرنا دو طرح سے ہے ایک طریقہ وہ ہے جو مشرک لوگ اختیار کرتے ہیں وہ اپنے معبودان باطلہ کو اللہ کی بارگاہ میں اس طرح وسیلہ بناتے ہیں کہ خدا تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ، یہ معبود ہمارا کام ضرور بنا دیں گے ، اس قسم کے تسل کو شفیع غالب یا شفیع قاہر کا عقیدہ کہا جاتا ہے جسے مشرک اختیار کرتے ہیں اور یہ باطل اور ناجائز ہے مشرک اپنے معبودان کے متعلق کہتے تھے (آیت) ” مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ (الزمر) ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کا قرب دلا دیں ، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ یہ معبود ہماری حاجتیں اللہ سے پوری کرا دیتے ہیں ، یہی عقیدہ یہودیوں کا بھی تھا وہ بھی کہتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کسی ختنہ شدی یہودی کو دوزخ میں نہیں گرنے دیں گے ، بلکہ اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے اس قسم کا عقیدہ امت مسلمہ کے بعض فرقوں میں بھی پایا جاتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ امام حسین ؓ کا نعرہ مار لینے ان کا جلوس نکالنے اور ماتم کرنے سے ہی نجات حاصل ہو جائیگی انہیں نہ نماز کی فکر ہے ، نہ روزے کی ، نہ حج کی اور نہ زکوۃ کی ، وہ امام حسین ؓ کی خود ساختہ محبت کی بناء پر ہی جنت کے وارث بننا چاہتے ہیں بعض اپنے پیروں کے متعلق بھی اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کا عرس کرلو ختم دلادو اور قوالی کرا دو تو بات بن جائے گی ، باقی کسی فرض واجب کی ضرورت نہیں یہ جبری شفاعت والا مشرکین کا عقیدہ ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرتے ہیں کہ جب طرح کوئی بادشاہ اپنے امیر وزیر یا مصاحب کی بات کو نہیں ٹال سکتا کہ ایسا کرنے سے ملک میں بغاوت کا خطرہ ہوتا ہے ، اسی طرح (نعوذ باللہ) وہ اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے مقربین کے سامنے مجبور سمجھتے ہیں کہ وہ انکی سفارش کو رد نہیں کرے گا ، حقیقت پر ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، اس کی مشیت میں کوئی دم نہیں مار سکتا بلکہ اس کا فرمان تو یہ ہے (آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “۔ (البقرۃ) اس کے حکم کے بغیر تو کوئی ذات اس کے سامنے سفارش کرنے کی جرات بھی نہیں کرسکتی چہ جائیکہ اس سے کوئی بات زبردستی منوا سکے ۔ (2) (جائز وسیلہ) البتہ ذات کا ایک توسل جائز بھی ہے مثلا کوئی شخص مستعان اور معبود صرف ذات حق کو سمجھتے ہوئے یوں کہے کہ اے اللہ ! ملائکہ ، انبیاء یا اولیاء کے وسیلہ سے میری یہ حاجت پوری کر دے ، کسی نبی ، ولی والے سے براہ راست طلب کرنا تو بلاشبہ شرک ہے مگر ان کا محض وسیلہ ڈالنا روا ہے ، حضرت شاہ اسماعیل شہید (رح) نے تقویۃ الایمان میں لکھا ہے کہ لوگ یہ وظیفہ پڑھتے ہیں ’ یاشیخ عبدالقادر جیلانی شیئا اللہ “ یعنی اے پیر عبدالقادر جیلانی خدا کے واسطے سے ہمیں کوئی چیز دے دے فرماتے ہیں یہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے سامنے وسیلے کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ، شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اگر اس وظیفہ کو الٹ دیا جائے اور یوں کہا جائے ، یا اللہ شیئالشیخ عبدالقادر جیلانی “ یعنی اے اللہ ! شیخ عبدالقادر جیلانی کے وسیلہ سے ہماری حاجت پوری کردے تو یہ درست ہوگا ، اسی طرح کوئی شخص کہتا ہے کہ اے اللہ ! سید علی ہجویری (رح) کی برکت سے میرا یہ کام کر دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سید تیرا ایک مقبول بندہ تھا میں ان کو اپناہادی و راہنما سمجھ کر ان سے محبت کرتا ہوں ، میری ان سے محبت اور تعلق ہی میرا عمل ہے جس کا میں وسیلہ پیش کر رہا ہوں ، لہذا میری مراد پوری فرما دے اس وسیلہ کو علماء دیوبند بالاتفاق جائز قرار دیتے ہیں ، مولانا حسین علی (رح) واں بھچراں والے فرماتے ہیں کہ کسی نیک آدمی کی ذات کے ساتھ جو تعلق ہوتا ہے ، وہ ایمان اتباع اور محبت کی وجہ سے ہوتا ہے ، اور یہی محبت اور حسن عقیدت اللہ کی بارگاہ میں بطور وسیلہ پیش کرنا بالکل درست ہے اور یہ دراصل اعمال ہی کا وسیلہ ہوتا ہے ۔ اب ذات کا وسیلہ کسی نیک اور مقرب ہستی کی زندگی میں بھی روا ہے اور وفات کے بعد بھی ، زندگی میں نبی یا ولی یا کسی بزرگ سے دعا کرائی جائے گی اور اس کی وفات کے بعد محض توسل پیش کیا جائے گا بعض لوگ کہتے ہیں کہ وسیلے کی کیا ضرورت ہے ؟ بھئی درست ہے بیشک براہ راست دعا مانگو ، لیکن اگر کوئی درمیان میں وسیلہ ڈالتا ہے تو اس میں حرج کیا ہے ؟ دیکھو ! حضرت مجدد الف ثانی (رح) کی دعاؤں میں یہ الفاظ موجود ہیں ” بحرمت النبی وآلہ “ یعنی اے اللہ ! نبی اور آپ کی آل کی حرمت سے ہماری فلاں مراد پوری کردے ، بخاری شریف میں حضرت عمر ؓ کا یہ عمل موجود ہے کہ قحط کے زمانے بارش کی دعا کے لیے حضرت عباس ؓ کا وسیلہ پکڑا ، عرض کیا ، اے اللہ ! پہلے ہم نبی کریم ﷺ کا توسل پکڑتے تھے آپ کی زندگی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کیا کرتے تھے ، اب وہ ہم میں موجود نہیں لہذا ہم تیرے نبی کے چچا کا توسل کر رہے ہیں ، لہذا باران رحمت نازل فرما ، بعض کہتے ہیں کہ یہ تو زندگی میں توسل ہے ، وفات کے بعد کیے جائز ہوا ؟ تو عرض ہے کہ ترمذی شریف کی صحیح حدیث میں عثمان ابن حنیف ؓ کی روایت موجود ہے کہ انہوں نے اس طرح دعا کی اے اللہ ! میں تیرے نبی رحمت کا واسطہ پیش کرتا ہوں کہ ان کی وجہ سے میری حاجت پوری فرما البتہ کسی نبی یا ولی سے اللہ کے علاوہ براہ راست طلب کرنا شرک میں داخل ہے ان کو یہود ومشرکین کی طرف شفیع قاہر ماننا بھی سراسر گمراہی ہے ۔ (ہر بستی کی ہلاکت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان من قریۃ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیمۃ “ اور کوئی بستی نہیں ہے مگر ہم اسے قیامت سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس ہلاکت کا مطلب یہ ہے کہ یا تو ہم سزا کے طور پر قحط ، وبا ، طوفان یا زلزلہ وغیرہ بھیج کر کسی بستی کو ہلاک کردیں گے یا پھر ساری بستیاں طبعی طور پر ہلاک ہوجائیں گی ، صحیح حدیث میں آتا ہے ” اخر البلدان خرابا المدینۃ “ یعنی قیامت سے پہلے سب سے آخر میں ختم ہونے والی بستی مدینہ میں ہوگی فرمایا چرواہے اپنی بکریاں شہر کی طرف لا رہے ہوں گے شہر میں انسانوں کی بجائے درندے ہوں گے ، قیامت کا طوفان برپا ہوچکا ہوگا اور وہ بھاگ بھاگ کر شہر کی طرف آ رہے ہوں گے ، وہ چرواہے ثنیۃ الوداع کے مقام پر پہنچیں گے تو وہیں گر کر ہلاک ہوجائیں گے مطلب یہ کہ سزا کے طور پر یا طبعی طور پر ہر بستی ہلاک ہوگی اور مدینہ طیبہ سب سے آخر میں ہلاک ہوگا ۔ بعض مشرکوں کا یہ عقیدہ ہے کہ فلاں فلاں بستیوں کے ” شاہ ولایت “ ہیں جو ہماری مصیبتوں کا ٹالتے رہتے ہیں بعض جنات کے متعلق ایسا عقیدہ رکھتے ہیں ، یہ سب غلط ہے کوئی شاہ ولایت کسی کا ددکھ دور نہیں کرسکتا اور نہ آنے والی مصیبت ٹال سکتا ہے ، بین الاقوامی جنگوں میں کتنی تباہی آتی ہے مگر کوئی شاہ ولائت اس کے آڑے نہیں آتا ، پہلی اور دوسیر جنگ عظیم میں ملکوں کے ملک تباہ ہوگئے فرانس ، جرمنی ، روس اور بلجئیم وغیرہ کی اینٹ سے اینٹ بج گئی جب امن ہوا تو پھر آباد ہوئے اب دنیا میں اگلی جنگ اٹیمی جنگ ہوگی ، خدا جانے دنیا کا کتنا حصہ تباہ ہوگا جنگ قحط سالی ، زلزلہ وغیرہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا ہوتی ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ملکوں کے ملک تباہ کردیتا ہے اس قسم کی سزائیں ملتی رہتی ہیں اور پھر آخر میں طبعی طور پر تمام بستیاں ختم ہوجائیں گی ۔ فرمایا کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں (آیت) ” اومعذبوھا عذابا شدیدا “۔ یا اسے سخت سزا میں مبتلا کردیں فرمایا (آیت) ” کان ذلک فی الکتب مسطورا “۔ یہ سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ ہر شہر اور بستی کے لوگ ایک ایک بزرگ کو پوجتے ہیں کہ ہم اس کی پناہ میں ہیں جیسا کہ میں نے ابھی شاہ ولایت کا تصور عرض کیا ، مگر وقت آنے پر کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکے گا (آیت) ” لا عاصم الیوم من امر اللہ “۔ (ھود) کوئی کسی کو مصیبت سے نہیں بچا سکتا سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ خود مہربانی فرمائے ،
Ayahs 17:59–60

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور نہیں روکا ہمیں کہ ہم بھیجیں نشانیاں مگر (اس چیز نے) کہ جھٹلایا ہے ان (نشانیوں) کو پہلے لوگوں نے اور دی تھی ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی ، روشن نشانی پس ظلم کیا انہوں نے اس کے ساتھ اور نہیں بھیجتے ہم نشانیاں مگر خوف دلانے کے لیے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

اور جب کہ دیا ہم نے آپ کے لیے کہ بیشک آپ کا پروردگار احاطہ کرتا ہے لوگوں کو ، اور نہیں بنایا ہم نے وہ دکھلاوا جو دکھایا تھا آپ کو مگر لوگوں کی آزمائش کے لیے ، اور (ایسا ہی) وہ درخت جس پر پھٹکار کی گئی ہے قرآن میں اور ہم خوف دلاتے ہیں ان کو اور نہیں زیادہ ہوتی ان کے لیے مگر سرکشی بہت بڑی ۔

ربط آیات : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا کہ وہ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ، وہ نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں ، ان میں سے بعض وہ ہیں جو خود اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں پھر اللہ نے قیامت سے پہلے تمام بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا کہ انہیں سخت سزا دیں گے اور یہ بھی کہ اللہ کے علم میں یہ حتمی فیصلہ ہے کہ ایسا ضرور ہوگا اور نافرمانوں کو انکی نافرمانی کی ضرور سزا دی جائیگی ، (شان نزول) اب آج پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے جو حضور ﷺ سے طرح طرح کی نشانیاں اور معجزات طلب کرتے تھے اس آیت کے شان نزول میں طبرانی اور بعض دوسرے مفسرین نے حضرت سعید ابن جبیر ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہیں مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ خود بتلاتے ہیں کہ پہلی امت کے لوگوں نے اپنے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے مختلف قسم کے معجزات طلب کیے ، کسی نبی نے مادر زاد اندھوں کو بینا اور مردوں کو زندہ کیا اور کسی کی لاٹھی نے عجیب و غریب کام کیے لہذا آپ بھی ہماری خواہش کے مطابق یہ نشانی ظاہر کریں کہ وہ کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں مکہ کی سرزمین خشک پہاڑوں پر مشتمل ہے ان پہاڑوں کو ہٹا کر اس زمین میں چشمے اور نہریں جاری کردیں تاکہ ہم کھیتی باڑی کرسکیں ، اگر آپ ہماری یہ فرمائش پوری کردیں تو ہم لے آئیں گے اس کے علاوہ بعض دیگر نشانیوں کا ذکر بھی آگے اسی سورة میں آرہا ہے بہرحال ان لوگوں نے ایمان لانے کے لیے یہ پیشگی شرط عائد کردی ، چناچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ سے آپ پر وحی نازل ہوئی اور اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ﷺ میں اس بات پر قادر ہوں کہ انکی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کردوں ، لیکن آپ ان پر واضح کردیں کہ یہ نشانیاں پاکر بھی اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو پھر انکو میں اسی طرح ہلاک کردیا جائے گا جس طرح پہلی قوموں کو ہلاک کیا گیا ، دوسری بات یہ ہے کہ نشانیاں ظاہر کرنے کی بجائے میں ان کو مہلت دیتا ہوں اور ان کے لیے توبہ کھلا رکھتے ہوں تاکہ یہ ایمان لاسکیں اس پر حضور ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ مولا کریم ! نشانیاں ظاہر کرنے کے بعد ان کو ہلاک کرنے کی بجائے ان کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا رکھ ، شاید یہ ایمان لے آئیں ۔ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو بیان کیا ہے (آیت) ” وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بھا الاولون “۔ اور نہیں روکا ہمیں نشانیاں یا معجزات ظاہر کرنے سے مگر اس بات نے کہ ایسی ہی نشانیوں کو پہلے لوگوں نے بھی جھٹلا دیا ، اور اگر نشانیاں پانے کے باوجود ان لوگوں نے بھی تسلیم نہ کیا تو پھر انہیں بھی ہم ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑیں گے ، سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا اور یدبیضا وغیرہ کے معجزات ہیں جنہیں دیکھ کر فرعونی ایمان نہ لائے اور پانی میں غرق کردیے گئے اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مردوں کو زندہ کرنے کوڑھیوں کو ٹھیک کرنے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنے کے معجزات دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہ لائے اور طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوئے آگے خاص طور پر حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا ذکر آ رہا ہے کہ انہوں نے یہ معجزہ خود طلب کیا مگر اللہ کی اس نشانی کو خود ہی قتل کردیا جس کی وجہ سے سخت عذاب میں میں مبتلا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مشرکین کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کرنے سے ہمیں اس بات نے روک رکھا ہے کہ کہیں یہ بھی انکار کرکے عذاب کے مستحق نہ بن جائیں ۔ (ناقۃ اللہ کی نشانی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واتینا ثمود الناقۃ مبصرۃ “ اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی روشن نشانی ، اگر ” مبصرۃ “ سے پہلے ایۃ مخذوف سمجھ لیں تو مطلب ہوگا ، ایک ایسی نشانی جو بصیرت پیدا کرنے والی تھی ، ، مبصرۃ کا معنی بہت واضح اور روشن بھی ہوتا ہے ، گویا اونٹنی کی نشانی ایک ایسی منہ مانگی نشانی تھی جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ تھی (آیت) ” فظلموابھا “۔ مگر اس قوم نے اس اونٹنی کے ساتھ ظلم کیا اور اسے ہلاک کر ڈالا ، پھر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور تین دن کی مہلت کے بعد یہ قوم ہلاک ہوگئی دراصل قوم ثمود نے خود صالح (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ ہم آپ پر اس صورت میں ایمان لائیں گے کہ ہمارے سامنے اس چٹان سے دس ماہ کی گابھن اونٹنی پیدا ہو اور وہ ہمارے سامنے بچہ جنے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ فرمائش قبول فرمائی اور اس پتھر سے اتنی بڑی اونٹنی برآمد ہوئی جو نوے فٹ جگہ پر بیٹھتی تھی اس کا بچہ بھی کم وبیش اسی قد کاٹھ کا تھا یہ اونٹنی دودھ بھی بہت زیادہ دیتی تھی ، جس سے سب لوگ سیراب ہوتے تھے پانی بھی بہت زیادہ پیتی تھی ، چناچہ اس اونٹنی اور باقی جانوروں کے درمیان پانی کی باری تقسیم ہوچکی تھی ، سورة القمر میں موجود ہے (آیت) ” ان المآء قسمۃ بینھم “ ایک دن یہ اونٹنی چشمے کا سارا پانی پی جاتی تھی جب کہ دوسرے دن باقی سارے جانور پیتے تھے ، معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی اس اونٹنی کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے (آیت) ” ولا تمسوھا بسوٓء فیاخذکم عذاب قریب “۔ (ھود) اس اونٹنی کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ عذاب کے مستحق بن جاؤ گے ، مگر ان بدبختوں نے اللہ کی اس وعید کی پروانہ کی (آیت) ” وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض “۔ (النمل) شہر میں نو غنڈے آدمی تھے جنہوں نے فساد مچا رکھا تھا ، ان میں سے ان کے سرغنہ قیدار بن سالف نے تلوار کے ذریعے اللہ کی اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں جس سے وہ ہلاک ہوگئی اور پھر قوم پر خدا کا قہر نازل ہوگیا ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے قوم ثمود کو ایک واضح نشانی اونٹنی کی شکل میں دی مگر انہوں نے اس کے ساتھ بھی ظلم کیا ، اللہ نے یہ بات سمجھا دی کہ جب کوئی قوم منہ مانگی نشانی پا کر بھی ایمان نہیں لاتی تو پھر اس کا یہی حشر ہوتا ہے فرمایا ہمیں نشانیاں ظاہر کرنے سے اس بات نے روک رکھا ہے کہ پہلے لوگ بھی ان کی تکذیب کرکے ہلاک ہوئے ۔ (نشانی برائے تخویف) فرمایا (آیت) ” وما نرسل بالایت الا تخویفا “۔ ہم نہیں نشانی بھیجتے مگر خوف دلانے کی غرض سے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر جائیں ، حقیقت یہ ہے کہ نشانیاں طلب کرنا محض نہ ماننے کا بہانہ ہوتا ہے وگرنہ سچے لوگ بغیر نشانی دیکھے ہی ایمان لے آتے ہیں حضور ﷺ نے بعض دیگر مواقع پر بھی لوگوں کی تخویف کی ہے مثلا چاند اور سورج گرہن کے متعلق فرمایا ” ان الشمس والقمر ایتان من ایت اللہ لا ینخسفان لموت احد ولا لحیاہ فاذا رایتم ذلک فادعوا اللہ وکبروا وصلوا وتصدقوا “۔ (صحیحین) سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، ان کا گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتا ، لہذا جب تم ایسی چیز دیکھو تو اللہ تعالیٰ کو پکارو اس کی بڑائی بیان کرو ، نماز کی طرف رجوع کرو اور صدقہ خیرات کرو ، دوسری حدیث میں آتا ہے ” فافزعوا الی ذکر اللہ ودعآئہ واستغفارہ “ ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے ذکر ، دعا اور استغفار کی طرف جلدی کرو ، مطلب یہ کہ ایسی چیزیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلانے کے لیے ظاہر ہوتی ہیں کہ جب سورج اور چاند جیسی بڑی بڑی چیزیں بھی گہنا سکتی ہیں تو انسان تو ایک حقیر سی چیز ہے ، اس کی کیا حیثیت ہے ، لہذا ہر وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں اس کی گرفت نہ آجائے ، افسوس کا مقام ہے کہ جدید دنیا کے لوگ اللہ سے ڈرنے کی بجائے ایسے مواقع پر سورج یا چاند کی فوٹوا اتارنا شروع کردیتے ہیں ۔ جو کہ اللہ تعالیٰ سے بےخوفی کی علامت اور اس کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے فرمایا (آیت) ” واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس “۔ اور جب کہ ہم نے کہہ دیا کہ بیشک آپ کے پروردگار نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے یعنی وہ سب کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے اور جس طرح چاہئے ان کے ساتھ سلوک کرنے پر قادر ہے آپ گھبرائیں نہیں اللہ تعالیٰ ان مکذبین کو سزا دیے بغیر چھوڑے گا نہیں ۔ (واقعہ معراج بطور آزمائش) سورة ہذا کی پہلی آیت میں واقعہ معراج بیان ہوا تھا ، اب اس آیت کریمہ میں اس واقعہ کو مختلف انداز سے پیش کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما جعلنا الرء یا التی ارینک الا فتنۃ للناس “ اور نہیں بنایا ہم نے دکھلاوے کو جو آپکو دکھلایا گیا تھا مگر لوگوں کے لیے آزمائش ، دکھلاوے سے مراد واقعہ معراج اور اس سے متعلقہ تمام مشاہدات ہیں جو آپ کو رات کے ایک تھوڑے سے حصے میں کرائے گئے ، چونکہ مشرکین مکہ اس واقعہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور اس کے خلاف پراپیگنڈا کرتے تھے تو اللہ نے فرمایا یہ واقعہ ان کے لیے آزمائش کا سبب بنا گیا ، اسے اہل ایمان نے فورا تسلیم کرلیا مگر مخالفین الٹا طعنہ زنی کرنے لگے ، رویا کا اطلاق خواب پر بھی ہوتا ہے اور بیداری میں ظاہری آنکھ سے دیکھنے پر بھی ، مگر یہ ان پر اس سے مرادخواب نہیں بلکہ آنکھ سے دیکھنا ہے تفسیر در منثور اور تفسیر مظہری وغیرہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت منقول ہے ” رؤیا عین اریھا رسول اللہ ﷺ فی المعراج والاسری “ یعنی جو واقعہ اللہ نے معراج کی رات حضور ﷺ کو دکھایا وہ آنکھ کا دکھلاوا تھا نہ کہ خواب کا واقعہ ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت ، دوزخ ، سدرۃ المنتہی عالم بالا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے ملاقات وغیرہ حالت بیداری میں ظاہری آنکھ سے دکھلائیے تھے اس پر سب سے بڑا قرینہ یہ ہے کہ کسی چیز کا خواب میں دیکھنا تو کوئی حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ انسان خواب میں بہت کچھ دیکھنے کے باوجود اس پر تعجب نہیں کرتا ، اگر مشرکین اسے خواب کا واقعہ سمجھتے تو اتنا واویلا نہ کرتے ان کو تو مخالفت کا موقع ہی اس لیے ملا کہ حضور ﷺ نے تمام واقعات بالمشافہ دیکھنے کا دعوی کیا تھا ۔ بعض گمراہ فرقے بھی اسے خواب پر محمول کرتے ہیں ، ان کی دلیل یہ ہے ” رؤیا الانبیاء وحی “۔ یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے خواب سچے ہوتے ہیں چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب ہی میں بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم ہوا ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب من وعن سچا ثابت ہوا خود آنحضرت ﷺ کے بعض خوابوں کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے حضور ﷺ کے عمرہ کرنے کے متعلق سورة الفتح میں موجود ہے (آیت) ” لقد صدق اللہ رسولہ الرء یا بالحق “۔ اللہ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دیکھایا بہرحال معراج کا واقعہ خواب میں پیش نہیں آیا تھا ، بلکہ یہ ایک حقیقت تھی ، اس بارے میں پرویز ، سرسید اور اصلاحی وغیرہم کا استدلال درست نہیں ہے کیونکہ جمہور محدثین اور مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ واقعہ معراج حالت بیداری میں پیش آیا احادیث میں پنیالیس 45 صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے یہ واقعہ منقول ہے اور اس کا ذکر حضور ﷺ نے مختلف مجالس میں بار بار کیا ہے غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اس واقعہ کو آزمائش کا سبب بنا دیا کہ کون اس کی تصدیق کرتا ہے اور کون اس کا انکار کردیتا ہے ۔ (شجر ملعونہ) فرمایا ایک تو واقعہ معراج کو آزمائش بنایا اور دوسرا (آیت) ” والشجرۃ الملعونۃ فی القران “۔ اس درخت کو بھی ذریعہ آزمائش بنا دیا جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ملعون کا معنی اللہ کی رحمت سے دوری ہے اسے مراد تھوہر کا درخت ہے جس کے متعلق فرمایا (آیت) ” لا کلون من شجر من زقوم “۔ (الواقعہ) جھٹلانے والے گمراہ لوگوں کو کھانے کے لیے تھوہر دیا جائے گا ، بہت کڑوا اور بدبودار تھوہر ہوگا جسے اس دنیا کے تھوہر پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ، تھوہر کے درخت ، رحمت خداوندی سے اس لحاظ سے بھی دوری ہے کہ یہ درخت (آیت) ” فی اصل الجحیم “۔ جہنم کے گہرے گڑھے میں ہوگا ۔ جو خدا کی رحمت سے بہت ہی بعید ہوگا ، ملعون سے یہ مراد بھی لیا جاسکتا ہے کہ اس درخت کو کھانے والے لوگ ملعون ہوں گے اس لیے اسے شجر ملعونہ کہا گیا ہے ۔ ابوجہل اور اس کی پارٹی نے یہ اعتراض کیا تھا کہ مسلمان کہتے ہیں کہ جہنم آگ کا گڑھا ہوگا اور اس کے ساتھ وہاں پر درخت کی موجودگی کو بھی مانتے ہیں ، بھلا آگ اور درخت اکھٹے کیسے ہو سکتے ہیں ؟ پھر کہتے کہ ہم تو زقوم کھجور اور مکھن کے مرکب کو کہتے ہیں چانچہ وہ دونوں چیزیں منگواتے ۔۔۔۔۔۔ اور کھجوریں اور مکھن ملا کر کھاتے اور کہتے کہ ہم زقوم کھا رہے ہیں اس قسم کا تمسخر بھی کرتے ، جہاں تک آگ کے اندر درخت کی موجودگی کا تعلق ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے ہے وہ جو چاہے کرے اسے کون کسی کام سے روک سکتا ہے ؟ تاہم اس قسم کی بعض مثالیں دنیا میں موجود ہیں مثلا مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ ترکی کے بعض علاقوں میں سمندل نامی پرندہ ہوتا ہے جس کے جسم کی پشم سے کپڑا تیار کیا جاتا ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ اگر اس پرندہ کو آگ میں پھینک دیا جائے تو وہ جلنے سے محفوظ رہتا ہے اور یہ میں اس طرح خوش ہوتا ہے جس طرح مچھلی پانی میں ہوتی ہے آپ شترمرغ کو دیکھ لیں یہ جانور جلتا ہوا کوئلہ بلکہ لوہے کا سرخ گرم گولہ یا سلاخ نگل جاتا ہے اور پر کوئی منفی اثر نہیں ہوتا ، اسی طرح جہنم کی آگ میں درخت کا ہونا بھی بعید از قیاس نہیں ، جو لوگ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں ، وہ اللہ کی قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کرلیتے ہیں جب کہ اس کی وحدانیت کے منکر ہمیشہ شک وارتیاب میں پڑے رہتے ہیں خدا کی قدرت کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے متعلق فلسفہ تاریخ کے امام ابن خلدون کا کہنا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص سنار کے نرم ونازک کا نٹے پر پہاڑ کو تولنا چاہے ایسا ہی ان واقعات کو اپنے ترازو میں تولنا نہایت بےسمجھی کی بات ہے ، اگر یہ چیز عقل میں نہیں آتی تو اسے چھوڑ دو اس پر ایمان لانا ہی کافی ہے اسی لیے فرمایا کہ ہم نے واقعہ معراج اور تھوہر کے درخت کو لوگوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے ۔ (سرکشی میں اضافہ) فرمایا ہم اس قسم کے واقعات بیان کرکے اور لوگوں کو آزمائش میں ڈال کر (آیت) ” ونخوفھم “ ان کو خوف دلاتے ہیں مگر یہ مشرک ، کافر اور بدعقیدہ لوگ اس سے خوفزدہ نہیں ہوتے (آیت) ” فما یزیدھم الا طغیانا کبیرا “۔ بلکہ ان کی سرکشی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے تمام نشانیاں اور معجزات دیکھنے کے باوجود ان کے دل ، نیت اور عزائم فاسد رہتے ہیں ، جو کہ سرکشی میں مزید اضافہ کا باعث بنتے ہیں وہ ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں کوئی کاہن کہتا ہے کوئی شاعر اور کو جادوگر ، چاند کو دو ٹکڑے ہوتا دیکھا تو کہنے لگے (آیت) ” سحر مستمر “۔ (القمر) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے جو پہلے بھی ہوتا تھا اور اب بھی چلتا ہے ، فرمایا آپ فکر نہ کریں اللہ ان سب کا احاطہ کرنے والا ہے وہ ہر ایک کے ساتھ اس کی فکر ، عقیدے اور عمل کے مطابق سلوک کرے گا ۔
Ayahs 17:61–65

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور (اس بات کو بھی دھیان میں لاؤ ) جب کہا ہم نے فرشتوں سے کہ سجدہ کرو ، آدم (علیہ السلام) کے لیے کیا سجدہ کروں میں اس کے لیے جس کو پیدا کیا ہے تو نے مٹی سے ۔

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

اس نے کہا بھلا بتلائیں یہ شخص ہے جس کو تو نے بزرگی بخشی ہے مجھ پر اگر تو مہلت دے گا مجھے قیامت تک ، تو میں قابو کروں گا اس کی اولاد کو مگر بہت تھوڑے ۔

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

فرمایا (اللہ نے) جاؤ جو پیروی کریگا ان میں سے تیری پس بیشک جہنم تمہارا بدلہ ہوگا پورا پورا بدلہ ۔

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور قابو کرلو جس کو تم طاقت رکھتے ہو ان میں سے تم اپنی آواز کے ساتھ اور کھینچ کر لاؤ ان کے اوپر اپنے سوار اور پیدل ، اور شریک ہو ان کے ساتھ مالوں میں اور اولاد میں اور ان کو وعدہ دے ، اور نہیں وعدہ دیتا شیطان مگر دھوکے کا ۔

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

بیشک میرے بندے نہیں ہے تیرے لیے ان پر غلبہ اور کافی ہے تیرا پروردگار کار ساز۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔ (ابلیس کا انکار سجدہ اور چیلنج) گمراہ لوگوں کی گمراہی کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو خود ان کی ذات میں سرکشی کا مادہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوتے ہیں اور دوسری وجہ شیطان کی وسوسہ اندازی ہے جو لوگوں کے دلوں میں ڈالتا رہتا ہے ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کی سرکشی اور لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کا تذکرہ فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذ قلنا للملئکۃ اسجدوالادم “۔ اور اس بات کو دھیان میں لاؤ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدہ کریں (آیت) ” فسجدوا الا ابلیس “۔ تو ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے ، اس نے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی بلکہ اتراتے ہوئے بولا (آیت) ” قالء اسجد لمن خلقت طینا “۔ کیا میں ایسی ذات کے سامنے سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ دوسری جگہ ہے کہ پروردگار ! تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے ، تو بھلا میں اعلی ہو کر ادنی کے سامنے کیسے سجدہ کرسکتا ہوں ؟ پھر مزید حقارت سے کہا (آیت) ” قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی “۔ بھلا بتلائیں ، دیکھیں تو سہی کہ یہ شخص ہے جسے تو نے مجھ پر فضلیت بخشی ہے ” ارء یتک “ میں ک تاکید کے لیے ہے اور مطلب ہوتا ہے (آیت) ” اخبرنی “ مجھے بتلائیں ، خبردار کریں ، تو شیطان نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ بات کی ، پھر اس نے چلینج کردیا (آیت) ” لئن اخرتن الی یوم القیمۃ “۔ اے اللہ ! اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “۔ تو میں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو پوری طرح قابو میں کرلوں گا مگر بہت تھوڑے احتناک کا معنی استحصال بھی ہوتا یعنی اولاد آدم کی جڑ بنیاد اکھاڑ دوں گا ، جب کسی جانور کو قابو کرنے کے لیے اس کے نچلے جبڑے میں رسی ڈال دی جاتی ہے یا گھوڑے کو لگام دے دی جاتی ہے تو اسے بھی حنک کہا جاتا ہے شاہ عبدالقادر (رح) اس کا معنی ڈھانٹی لگانا کرتے ہیں جب گدھے کو کھانے پینے سے روکنا مقصود ہو تو اس کے منہ کے اردگرد رسی باندھ دی جاتی ہے ہندی محاورے میں اسے ڈھانتی لگانا کہتے ہیں ، مطلب یہی ہے کہ شیطان نے چلینج کردیا کہ اگر اسے قیامت تک مہلت دے دی جائے تو وہ اولاد آدم کو پوری طرح قابو میں کر لیگا اور اسے اللہ کے راستے کی طرف نہیں جانے دیگا ، سورة اعراف میں شیطان کا یہ بیان اس طرح منقول ہے (آیت) ” قال فبما اغویتنی لاقعدن لھم صراطک المستقیم “۔ اے مولاکریم ! چونکہ تو نے مجھے گمراہ ٹھہرا ہی دیا ہے تو اب میں اولاد آدم کے راستے میں بیٹھوں گا ، اور انہیں صراط مستقیم اختیار نہیں کرنے دوں گا ۔ (اللہ کی طرف سے مہلت) (آیت) ” قال اذھب “ اللہ نے فرمایا اچھا جاؤ (آیت) ” فمن تبعک منھم “۔ اولاد آدم میں سے جو کوئی تیری پیروی کریگا (آیت) ” فان جھنم جزاء کم جزآء موفورا “ تو جہنم تمہارا بدلہ ہوگا جو کہ پورا پورا بدلہ ہوگا ، تمہارے اعمال وکردار کی یہی سزا ہوگی ، فرمایا جاؤ تمہیں اجازت ہے (آیت) ” واستفزز من استطعت منھم “۔ تم ان میں سے جس پر طاقت رکھتے ہو قابو پالو ، انسانوں کو ورغلانے کی حتی الامکان کوشش کرلو ، ا استفزاز کا معنی ہلکا کرنا اور کمزور بنا کر قابو پالینا ہوتا ہے اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جسے کمزور خیال کرتے ہو اس پر قابو پالو۔ آگے اللہ تعالیٰ نے شیطان کی طرف سے اولاد آدم کو بہکانے کے لیے چار ذرائع کا ذکر فرمایا ہے یعنی آواز کے ذریعے ، اپنا لاؤ لشکر چڑھا کر ان کے مال واولاد میں شراکت کرکے اور ان سے جھوٹے وعدے کرکے فرمایا جاؤ تمہیں اجازت ہے ، ان تمام ذرائع سے اولاد آدم کو گمراہ کرکے دیکھ لو تمہیں اس کام کے لیے قیامت تک کے لیے مہلت دی جاتی ہے ۔ (غلبہ بذریعہ آواز) شیطان سے فرمایا ، ان پر قابو پالے ” بصوتک “ اپنی آواز کے ساتھ آواز سے مراد شیطان کی دعوت اور اس کی وسوسہ اندازی ہے اس کے علاوہ ہر برا نعرہ اور بری دعوت صوت شیطانی میں داخل ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے غنا اور آلات موسیقی بھی مراد ہیں اس زمانے میں ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعے گانے اور موسیقی کی آواز ہر گھر میں پہنچ رہی ہے کہتے ہیں کہ اس سے انسان کے فطری جذبے کی تسکین ہوتی ہے ، بھائی ! فطری باتیں بھی کسی حد تک ہوتی ہیں چوبیس گھنٹوں میں اٹھارہ گھنٹے تک گانے بجانے سے فطری تسکین حاصل کرتے رہے تو باقی امور اور آرام کے لیے کون سا وقت بچے گا ، ساز و آواز تو انسان کے بیہمانہ جذبات کو ابھار کر انسان کو گناہ کی طرف مائل کرتی ہے شعروشاعری جو گانے کی بنیاد ہے ، خود شیطان کا آلہ ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو شہوانیت کی طرف مائل کرتا ہے ، آگے سورة الشعرآء میں آئیگا (آیت) ” والشعرآء یتبعھم الغاون “۔ شاعروں کے اکثر پیروکار گمراہ لوگ ہوتے ہیں ، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرگردان پھرتے ہیں اور وہ کچھ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ، فرمایا (آیت) ” الا الذین امنوا “۔ البتہ وہ شعراء مستثنی ہیں جو ایمان لائے ، جنہوں نے نیک کام کیے اور جو خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہے ، ایسے لوگ تو ہزاروں میں اکا دکا ہی ملیں گے وگرنہ اکثریت کا تعلق پہلے گروہ سے ہی ہے اہل ایمان شعراء میں سے حضرت حسان بن ثابت ؓ کا نام سرفہرست ہے زمانہ جاہلیت میں تو ان کا کلام دیگر شعراء سے مختلف نہ تھا مگر اسلام کی دولت نصیب ہونے پر ان میں مکمل انقلاب پیدا ہوا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تعریف میں مستند شعر کہے بعد کے دور میں جامی اور سعدی جیسے شعراء پیدا ہوئے ، ہمارے دور میں اقبال کو یہ اعزاز حاصل ہوا وگرنہ عام طور پر تو دیوان شیطانی آواز سے ہی بھرے ہوئے ہیں وہی عشق و محبت کی داستانیں اور اخلاق سوز کلام ہر زبان اور ہر دور میں ملتا ہے یہی شیطانی آواز ہے ۔ بعض آثار میں آتا ہے کہ شیطان نے عرض کیا پروردگار ! کہ تو نے رسول بھیجے کتابیں نازل کیں تو اب میرا کیا بنے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے لیے یہ شعر و شاعری موجود ہے ، تو اس کے ذریعے اپنا کام کرتا رہ اور لوگوں کو ورغلاتا رہ ۔ شریعت محمدی نے گانے بجانے کو اس قدر مذموم قرار دیا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن پاک جیسی مقدس کتاب بھی گانے کی طرز پر پڑھے گا تو مکروہ تحریمی کا مرتکب ہو کر گنہگار ہوگا ، البتہ اچھی آواز اور خوش الحانی کے سات قرآن پاک کی تلاوت باعث اجر وثواب ہے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ایسی خوش الحانی عطا فرمائی تھی کہ جب آپ زبور کی تلاوت کرتے تھے تو آپ کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی تسبیح وتحمید میں شامل ہوجاتے تھے بہرحال شیطان کی دعوت وسوسہ اندازی اور پھر گانے بجانا ، آلات موسیقی اور شعر و شاعری شعبدہ بازی حربے ہیں جن کے ذریعے وہ اولاد آدم کو ورغلاتا ہے ۔ (لاؤ لشکر کا استعمال) اللہ نے فرمایا کہ تم اپنی آواز کا جادو جگا کر لوگوں کو گمراہ کرلو (آیت) ” واجلب علیھم بخیلک ورجلک “۔ اور سوار اور پیادے بھی ان پر کھینچ کرلے آؤ تاکہ اولاد آدم کو گمراہ کر کے صراط مستقیم سے ہٹا سکو ، جب دو قبلیلوں یا دو جماعتوں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو پھر ہر فریق اپنے تمام وسائل استعمال کرکے دشمن پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے گھڑ سوار بھی لے آتا ہے اور پیدل فوج کو بھی مارچ کا حکم دیتا ہے ، موجودہ زمانے میں ہوائی جہاز ، توپ خانہ ، بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک سبھی کچھ میدان جنگ میں جھونک دیا جاتا ہے تو اللہ نے شیطان کو بھی کہا کہ تم انسانوں کے خلاف جنگ میں پورے وسائل استعمال کرکے دیکھو لو ، اپنی تمام فوجوں کو ان پر چڑھا لاؤ اور پھر دیکھو کہ کون تمہارے پھندے میں پھنستا ہے ۔ (مال کی شراکت) اللہ نے شیطان سے فرمایا کہ اولاد آدم کو ورغلانے کے لیے تیرے پاس ایک حربہ یہ بھی ہے (آیت) ” وشارکھم فی الاموال “۔ کہ ان کے مالوں میں شراکت اختیار کر ، شیطان کی مال میں شراکت کا مطلب یہ ہے کہ مال حرام راستے سے حاصل کیا جائے اور حرام اور مکروہ راستے میں خرچ کیا جائے ، اسراف وتبذیر ، رسم رواج ، لہو ولعب ، کھیل تماشے ، سینما اور تھیڑ اور بدعات میں خرچ کرنا ، شیطان کو شریک کرنے کے مترادف ہے ، اسی طرح جو مال رشوت ، سمگلنگ ، خیانت ، ڈاکہ زنی اور حق تلفی کے ذریعے حاصل کیا جائے ، اس میں بھی شیطان کی شراکت ہوتی ہے ، کیونکہ وہی ایسے کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور ناجائز امور کو مزین کرکے دکھاتا ہے اللہ کے نبیوں نے تو یوں کہا ہے (آیت) ” بقیت اللہ خیرلکم ان کنتم مؤمنین “۔ (ھود 86) تمام حقوق ادا کرنے کے بعد جو مال بچ رہے تمہارے لیے وہی بہتر ہے ، اگر تم سچے مومن ہو ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” لا تاکلوا اموالکم بین کم بالباطل “۔ (البقرۃ) ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ غرضیکہ اسلام نے کسب اور خرچ دونوں جگہ پر پابندی لگائی ہے ، اور جو شخص اس پابندی کی پاسداری نہیں کرتا ، اس کے مال میں شیطان حصے دار ہوتا ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ جاؤ مال کے ذریعے بھی اولاد آدم کے ساتھ شریک ہوجاؤ ۔ (اولاد میں شراکت) پھر فرمایا (آیت) ” والاولاد “ تم اولاد میں بھی انسانوں کے ساتھ شراکت کرکے انہیں بہکانے کی کوشش کرلو ، امام بیضاوی (رح) اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ شیطان کی اولاد میں شراکت یہ ہے کہ وہ وسوسہ اندازی کرکے انسان کو حرام راستے سے اولاد پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، ظاہر ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد میں شیطان کی شراکت ہوگی اگر اولاد صحیح النسل بھی ہو تو ان کے مشرکانہ نام رکھ کر شیطان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ، اسی طرح بیٹے یا بیٹی کی پیدائش پر غیر اللہ کی نذر ونیاز دے کر شیطان کو اپنے ساتھ شریک کیا جاتا ہے ، بیٹا خدا نے دیا مگر نیاز علی ہجویری (رح) ، خواجہ اجمیری (رح) یا بہاؤ الحق زکریا ملتانی (رح) کی دی جارہی ہے بعض لوگ کسی بزرگ کے نام کی چوٹی بچے کے سر پر رکھ لیتے ہیں کبھی جسم پر کوئی خاص نشان لگا لیتے ہیں یہ سب شیطانی وسوسہ کا نتیجہ ہوتا ہے جو انہیں اس قسم کی شرکیہ اور بدعتیہ افعال پر ابھارتا ہے اور یہی شیطان کی شراکت ہے ۔ (شیطان کے جھوٹے وعدے) اللہ نے فرمایا لوگوں کو بہکانے کے لیے وعدھم ان سے جھوٹے وعدے بھی کرکے آزما لو ، شیطان بری چیزوں کے متعلق ایسا فلسفہ گھڑتا ہے اور انہیں ایسا مزین کرکے دکھاتا ہے کہ لوگ اس کی باتوں میں آجاتے ہیں کہتا ہے کہ ترقی اسی بات میں ہے کہ عورتیں بےپردہ ہوجائیں اور غیر مردوں کے ساتھ سرعام خلط ملط ہوں ، عزت اسی میں ہے کہ شادی بیاہ کی رسوم میں دل کھول کر اسراف کیا جائے ، تقرب الہی اور محبت رسول کا ذریعہ بدعات ہی رہ گئی ہیں شیطان اس قسم کے غلط کاموں پر لوگوں کو لگا کر وعدہ کرتا ہے کہ اسی میں تمہاری دنیا میں عزت ہے اور اسی کے ذریعے تم آخرت میں فلاح پاؤ گے مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” وما یعدھم الشیطن الا غرورا “۔ اور نہیں وعدہ دیتا انہیں شیطان مگر دھوکے کا جب شیطان جھوٹے وعدے کرتا ہے اور لوگوں کو سبز باغ دکھاتا ہے تو احمق لوگ ان کے فریب میں آجاتے ہیں ، مگر قیامت والے دن صاف مکر جائے گا اور کہے گا کہ میں نے تو تمہیں غلط راستے کی طرف صرف دعوت دی تھی مگر ساری غلط کاروائی تو تم نے خود کی میں نے تو وعدہ کیا تھا اور تم نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بات ٹھکرا کر میرے وعدے پر یقین کرلیا ، اب خود اپنے آپ کو ملامت کرو ، میں تم سے بری الذمہ ہوں بہرحال اللہ نے شیطان سے فرمایا کہ اولاد آدم کو اغوا کرنے کے یہ سارے ذرائع تمہارے پاس ہیں اب تو ان کو آزماتا رہ ۔ (عباد اللہ محفوظ ہونگے) مگر یاد رکھ (آیت) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن جو میرے خاص بندے ہیں ان پر تو غلبہ نہی پاسکے گا ، وہ تیرے جھانسے میں نہیں آئیں گے کیونکہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہر وقت درست ہوتا ہے وہ اپنے ایمان اور استقامت کی فکر کرتے رہیں گے اور شیطان ان پر غلبہ حاصل نہیں کرسکے گا کیونکہ ایمان ، ذکر الہی ، عبادت ، نیکی اور اطاعت ایسی چیزیں ہیں جو شیطانی اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں جب بھی شیطان وسوسہ اندازی کی کوشش کرتا ہے تو اللہ کے نیک بندے فورا متنبہ ہوجاتے ہیں ، اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” واما ینزغنک من الشیطن نزغ فاستعذ باللہ “ (الاعراف : 200) جب بھی شیطان چھیڑ چھاڑ کرے یعنی وسوسہ ڈالے تو فورا اللہ کی پناہ پکڑو اور (آیت) ” لاحول ولا قوۃ الا باللہ “۔ کہہ کر شیطان کی بات کو رد کر دو ۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” المؤمن لینضی شیطینہ کما ینضی احدکم بعیرہ فی السفر “۔ (اوکماقال) یعنی ایماندار آدمی اپنے شیاطین کو اس طرح کمزور اور لاغر کردیتا ہے جس طرح آدمی اپنے اونٹ کی سواری کو سفر کے دوران کمزور کردیتا ہے ، ظاہر ہے کہ پرانے زمانے میں اونٹوں کے ذریعے سینکڑوں میل کا سفر کیا جاتا تھا ، دوران سفر بھوک اور پیاس سے اونٹ کمزور ہوجاتے تھے حتی کہ ان کی چربی پگھل جاتی تھی ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عمر ؓ کے بارے میں شیطان تمہیں دیکھ کر گلی تبدیل کرلیتا ہے وہ تم سے اس قدر دہشت زدہ ہوجاتا ہے ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو اپنے تمام حربے استعمال کرے مگر میرے جو مومن بندے ہیں ، ان پر تو غلبہ حاصل نہیں کرسکے گا ، تیرا غلبہ ان لوگوں پر ہوگا جن کا ایمان کامل نہیں ، جو بہیمیت اور شہوت سے مغلوب ہیں جو کتاب الہی اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے اور جو روحانیت سے بےبہرہ ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” وکفی بربک وکیلا “۔ اور تیرا پروردگار ہی تیرے لیے کارساز کافی ہے ، اگر تم اللہ پر توکل کرو گے تو وہ ہر نہج پر تمہاری دستگیری کرے گا کیونکہ کارساز وہی ہے ۔