17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 17:97–100

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

اور جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو بہکا دے پس ہرگز نہ آپ پائیں گے ان کے لیے کوئی کارساز اس کے سوا اور ہم اکٹھا کریں گے ان کو قیامت والے دن چہروں کے بل اندھے ، بہرے اور گونگے بنا کر ، ٹھکانا ان کا جہنم ہوگا ، جب کہ وہ بجھنے لگے گی ، ہم زیادہ کردیں گے ان کو ، بھڑکا دیں گے اس کو ۔

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

یہ ہے بدلہ ان کا اس وجہ سے کہ انہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کے ساتھ ، اور کہا انہوں نے کہ کیا جب ہم ہوجائیں گے ہڈیاں اور چورہ چورہ تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے نئی پیدائش میں ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ بیشک اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو کیا وہ قادر نہیں ہے اس بات پر کہ پیدا کرے ان جیسے اور بنائی ہے اس نے ان کے لیے ایک مدت کوئی شک نہیں اس میں پس انکار کیا ظلم کرنے والوں نے ، سوائے ناشکر گزاری کے (اور کچھ نہیں) ۔

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے ، اگر تم مالک ہوتے میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے تو البتہ تم روک رکھتے اس کو خرچ ہونے ڈر سے ، اور ہے انسان بہت تنگدل واقع ہوا۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں بایں وجہ شک اور پھر انکار کرتے تھے کہ ایک انسان رسول نہیں ہوسکتا ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر زمین میں فرشتے بستے ہوتے تو ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مگر زمین چونکہ نوع انسانی سے آباد ہے تو یقینی بات ہے کہ ایک انسا ہی ان کے لیے نمونہ بن سکتا ہے اور وہی ان کی راہنمائی کا فریضہ ادا کرسکتا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوا دیا کہ اگر تم میری نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہو تو اس کا وبال تمہیں پر پڑے گا البتہ اگر تم میری رسالت کی گواہی نہ بھی دو تو اس کے لیے میرا اللہ ہی گواہ کافی ہے ، وہ تو یقینا گواہی دیتا ہے کہ میں اس کا سچا رسول ہوں اور اس کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کے حالات سے خوب واقف ہے اور وہ ہر ایک کے عقیدے ، عمل اور حالات کے مطابق باز پرس کرے گا ۔ (مکی سورتوں کے مضامین) آج کی آیات میں ہدایت اور گمراہی کا فلسفہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی سمجھایا ہے کیونکہ کفار ومشرکین جس طرح انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی رسالت کا انکار کرتے تھے ، اسی طرح وقوع قیامت اور محاسبہ عمل کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے دراصل تمام مکی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے چار بنیادی اصولوں کا ذکر کیا ہے یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور وحی الہی کی صداقت وحقانیت ، سورة بنی اسرائیل ہجرت سے ڈیڑھ دو سال پہلے نازل ہوئی ، اس لیے اس میں ہجرت اور فتح مکہ کا اشارۃ ذکر کردیا گیا ہے ، پانچ نمازوں کی فرضیت کا ذکر بھی اسی سورة مبارکہ میں آیا ہے اس کے علاوہ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اسلام کے اجتماعی نظام کے وہ پندرہ اصول بیان کردیے گئے ہیں جنہیں منشور اسلام (MANIFESTO OF ASLAM مینی فسٹوآف اسلام) کا نام دیا جاسکتا ہے ، اور دیگر مکی سورتوں کی طرح چار بنیادی اصول بھی اس سورة مبارکہ میں بیان کردیے ہیں ، چناچہ آج کے درس میں معاد کا بیان اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ (ہدایت اور گمراہی کا قانون) اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں ہدایت اور ضلالت کا قانون بیان فرمایا ہے (آیت) ” ومن یھد اللہ فھوالمھتد “۔ جسے اللہ تعالیٰ راہ دکھا دے ، یہی ہدایت پانے والا ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یضلل فلن تجدلھم اولیاء من دونہ “۔ اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا وے تو آپ ہرگز نہ پائیں گے ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی کارساز جو ان کو راہ دکھا سکے ، گویا اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ راہ راست انہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو ہدایت کے طلبگار ہوتے ہیں اور جو لوگ ضد ، تعصب اور عناد پر اڑے رہتے ہیں ، ان کو صراط مستقیم نہیں ملتا ، اللہ تعالیٰ کا اس سلسلہ میں قانون یہ ہے (آیت) ” فاولئک ھم الکفرون “۔ (المائدہ : 44) یہی لوگ کافی ہیں (آیت) ” فاولئک ھم الظلمون “۔ (المائدہ : 45) یہی لوگ ظالم ہیں (آیت) ” فاولئک ھم الفسقون “۔ (المائدہ ، 47) یہی لوگ نافرمان ہیں ، اس قسم کے جو لوگ کفر وشرک کی گندگی کو ہی پسند کرتے ہیں ، اللہ کہتا ہے (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ (النسآئ۔ 115) وہ جدھر جانا چاہتے ہیں ، ہم انہیں ادھر ہی جانے دیتے ہیں ، اور جو لوگ منصف مزاج ہوتے ہیں ، ان کے دل میں ہدایت کی تڑپ ہوتی ہے ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ (العنکبوت “۔ 69) جو ہمارے لیے کوشش کرتا ہے ، ہم اسے اپنے راستے کی طرف راہنمائی کردیتے ہیں ، ہدایت الہی انسان کی اولین ضرورت ہے ، اسی لیے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں یہ دعا کرتے ہیں (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “۔ (الفاتحہ ، 5) اے مولا کریم ! ہمیں سیدھی راہ دکھا دے اور جو دکھلائی ہے اس پر ہمیں چلاتا رہ ، اس جملے میں دکھانے اور چلانے کے دونوں مفہوم پائے جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے راہ راست کی تشریح قرآن میں بیان کردی ہے اور مزید تشریح اپنے پیغمبر کے ذمے لگا دی ہے ۔ بہرحال گمراہی کا ٹھپہ انہی پر لگتا ہے جو متعصب ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم “۔ (البقرۃ ، 7) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ، (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “۔ (النسآئ 155) ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر سربمہر کردیا ہے ایسے لوگ (آیت) ” صم بکم عمی فھم لا یعقلون “۔ (البقرۃ ۔ 171) بہرے گونگے اور اندھے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ، حالانکہ اللہ نے انہیں عقل و شعور جیسا عظیم جوہر عطا فرمایا ہے ۔ (گمراہوں کے لیے سزا) فرمایا جس کو اللہ گمراہ کر دے (آیت) ” ونحشرھم یوم القیمۃ علی وجوجھم عمیا وبکما وصما “۔ ہم ان کو قیامت والے دن ان کے چہروں کے بل اس حالت میں اٹھائیں گے کہ وہ اندھے ، گونگے اور بہرے ہوں گے ، یاد رہے کہ نافرمانوں کی یہ حالت سارے عرصہ محشر کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص وقت کے لیے ہوگی تاکہ ان لوگوں کو ذلیل ورسول کیا جاسکے ، سورة طہ میں ہے کہ جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا ، اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی ، (آیت) ” ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی “۔ (آیت : 124) اور قیامت کو ہم اسے اندھا کر کے اٹھائیں گے (آیت) ” قال رب لم حشرتنی اعمی وقد کنت بصیرا “۔ (آیت 125) وہ کہے گا ، پروردگار ! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا ، میں تو دنیا میں بینا تھا ‘ (آیت) ” قال کذلک اتتک ایتنا فنسیتھا ، وکذلک الیوم ننسی “۔ (آیت 126) اللہ فرمائے گا اسی طرح تیرے پاس ہماری آیتیں آئیں تو تو نے ان کو بھلا دیا اسی طرح آج ہم تمہیں بھلا دیں گے ، اس کے بعد میدان حشر میں ایسا وقت بھی آئے گا کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) ” لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطآء ک فبصرک الیوم حدید “۔ (ق ، 22) تو اس دن سے غافل رہا تھا ، اب ہم نے تجھ سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ، جب اس کی آنکھیں کھلیں گی ، تو نگاہ اتنی تیز ہوگی کہ فرشتے ، جن ، عرش الہی ، عالم بالا ، جنت ، دوزخ وغیرہ جو اب تک نظروں سے پوشیدہ تھے ، سب نظر آنے لگیں گی ، چہروں کے بل چلنے سے متعلق ترمذی شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ روایت بھی منقول ہے ۔ ” یحشرالناس یوم القیمۃ ثلثۃ اصناف صنفا مشاۃ وصنفا رکبانا وصنفا علی وجوھھم قیل یا رسول اللہ کیف یمشون علی وجوھھم قال ان الذی امشاھم علی اقدامھم قادر علی ان یمشیھم علی وجوھھم اما انھم یتقون بوجھوھم کل حدب وشوک “۔ ترجمہ : قیامت کے دن لوگ تین گروہوں میں اٹھائے جائیں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ، ایک سواروں کی اور ایک منہ کے بل چلنے والوں کی ، عرض کیا گیا ، یا رسول اللہ ! یہ منہ کے بل کس طرح چلیں گے ؟ آپ نے فرمایا جس اللہ نے انہیں پاؤں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قدرت رکھتا ہے معلوم ہونا چاہئے کہ یہ لوگ اپنے منہ کے ذریعے ہی زمین کے ہر روڑے اور کانٹے سے بچیں گے ، ایک حدیث میں چہروں کے بل گھسیٹنے کے الفاظ آتے ہیں ، فرمایا ان کو ہم قیامت کے دن چہروں کے بل اندھے ، گونگے ، اور بہرے کرکے اٹھائیں گے (آیت) ” ماوھم جھنم “۔ ان لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا ، (آیت) ” کلما خبت زدنھم سعیرا “ جب بھی جہنم کی آگ ذر بجھنے لگے گی ہم مزید ٹھرکا دیں گے یہ ایسے ہی ہوگا جیسے انسانی کھال کے متعلق فرمایا (آیت) ” کلما نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (النسائ 56) جب جہنمیوں کی پہلی کھال جل جائے گی ، تو ہم انہیں دوسری کھال پہنادیں گے ، فرمایا (آیت) ” ذلک جزآء ھم بانھم کفروا بایتنا “۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا آیات سے مراد معجزات اور احکام بھی ہیں ، آیت کا اطلاق ، دلیل ، معجزہ اور نشانی پر بھی ہوتا ہے انہوں نے بعض معجزات کو جادو کہ کر انکار کردیا اور واقعہ معراج کے ساتھ تمسخر اڑایا ، احکام الہی پر غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ، دنیا میں کفر وشرک پر اڑے رہے لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آخرت میں یہ سزا تجویز فرمائی کہ انہیں اندھا ، بہرہ اور گونگا کرکے منہ کے بل اٹھایا جائے گا اور جہنم کی آگ کو ان کے لیے مزید تیز کردیا جائے گا ۔ (قیامت کا انکار) وقوع قیامت کے متعلق کفار ومشرکین کا رد عمل یہ تھا (آیت) ” قالوآء اذا کنا عظاما ورفاتا “ کہتے تھے کیا جب ہم مر کر ہڈیاں اور چورہ چورہ ہوجائیں گے ، گوشت پوست گل سڑ جائے گا ، اور صرف ہڈیاں باقی رہ جائیں گی ، ان ہڈیوں کے متعلق بھی آتا ہے (آیت) ” ء اذا کنا عظاما نخرۃ “۔ (النزعت ‘ 11) کہ جب یہ ہڈیاں بھربھری ہوجائیں گی زندگی کے کوئی آثار باقی نہیں رہیں گے (آیت) ” ء انالمبعوثون خلقا جدیدا “۔ تو کیا اس وقت ہم پھر نئی پیدائش میں اٹھائے جائیں گے ؟ بعض اس حالت کو اس طرح بھی بیان کرتے تھے (آیت) ” ء اضللنا فی الارض “۔ (السجدہ 10) جب ہم مٹی میں رل مل جائیں گے ہمارے ذرات منتشر ہوجائیں گے تو کیا ہمیں دو بار زندہ کیا جائے گا ، کہتے تھے یہ تو خلاف عقل بات ہے ہم نے تو آج تک مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ جی اٹھتے نہیں دیکھا ، اس طرح وہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے ، اللہ نے جواب میں فرمایا (آیت) ” اولم یروا ان اللہ الذی خلق السموت والارض “۔ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے ہیں (آیت) ” قادر علی ان یخلق مثلھم “۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسے دوبارہ پیدا کردیے ، اللہ نے ان کی توجہ آسمان و زمین ، چاند اور سورج جیسے بڑے بڑے سیاروں کی طرف دلائی ہے جس زمین پر چلتے پھرتے ہیں اس کا قطر چوبیس ہزار میل ہے اور سورج کے مقابلے میں تو اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ، ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ شعری سیارہ سورج سے بھی بیس گناہ بڑا ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی اشیاء پیدا کر رکھی ہیں تو انسان جیسی چھوٹی سی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کون سی مشکل بات ہے ؟ سورة انعام میں اللہ کا فرمان ہے کہ ہر شخص کے لیے ایک مدت مقرر ہے اور اسی طرح پوری کائنات کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے جب مقررہ وقت آئیگا تو ہر چیز فنا ہوجائے گی ، پھر مقررہ وقت پر اللہ تعالیٰ انسان کو دوبارہ اٹھائیگا ، یہاں بھی فرمایا (آیت) ” وجعل لھم اجلا لاریب فیہ “۔ اللہ تعالیٰ نے سب کے لیے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک وشبہ نہیں محاسبے کی منزل آکر رہے گی (آیت) ” فابی الظلمون الا کفورا “۔ مگر ظالم لوگ ہی اس منزل کا انکار کرتے ہیں ، ہر منصف مزاج آدمی قیامت کو برحق تسلیم کرتا ہے ، ظالم لوگ اکثر وبیشتر کفر وضلالت ہی کا شکار رہتے ہیں ۔ (اللہ کی رحمت کے خزانے) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک اور اعتراض کا جواب دیا ہے ، وہ لوگ حضور ﷺ کو محض اس لیے رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ آپ کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا ، سورة الزخرف میں ہے موجود ہے کفار ومشرکین کہتے تھے (آیت) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم “ ۔ یہ قرآن حکیم طائف اور مکہ کی دو بڑی بستیوں کے کسی صاحب حیثیت آدمی پر کیوں نہ نازل ہوا ؟ کیا اس منصب کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ جس کے پاس نہ مال ہے اور نہ باغ نہ کوئی کوٹھی ہے ، نہ فوج اور نہ نوکر چاکر ، بھلا یہ کیسے رسول ہو سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” لوانتم تملکون خزآئن رحمۃ ربی “۔ اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے (آیت) ” اذا لامسکتم خشیۃ الانفاق “ تو تم اس خزانے کو خرچ ہوجانے کے خوف سے روک رکھتے یعنی تم رحمت کے ان خزانوں کو خرچ ہی نہ کرتے ، یہ تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اپنی رحمت کے خزانوں کو وا کر رکھا ہے ، نبوت و رسالت بھی اس کی رحمت کا ایک خزانہ ہے ، وہ جہاں چاہتا ہے اسے خرچ کرتا ہے ، (آیت) ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “۔ (الانعام 124) وہی بہتر جانتا ہے کہ رسالت کا مستحق کون ہے اور پھر وہ جس کو اہل سمجھتا ہے اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھ دیتا ہے ، اس ضمن میں وہ امیر غریب یا دنیاوی مال و دولت کا کچھ لحاظ نہیں کرتا تمہارے پاس اگر دنیا کا مال و دولت اور بادشاہی بھی آجائے تو اسے اپنے خاندان میں ہی تقسیم کردیتے ہو ، اس کا فائدہ دوسروں کو نہ پہنچ سکے حالانکہ اللہ کا فرمان یہ ہے (آیت) ” نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا “۔ (الزخرف ، 32) دنیا کی زندگی میں لوگوں کے درمیان معیشت ہم تقسیم کرتے ہیں جب رزق کی تقسیم بھی ہم نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے ، تو نبوت و رسالت جیسی عظیم چیز کو ہم کسی دوسرے پر کیسے چھوڑ سکتے ہیں ، اس رحمت کو بھی ہم خود ہی مستحق شخصیت کو عطا کرتے ہیں سورة الحجر میں فرمایا (آیت) ” وان من شیء الا عندنا خزآئنہ وما ننزلہ الا بقدر معلوم “۔ (آیت 21) ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے خاص انداز میں نازل فرماتے ہیں ، چناچہ سلسلہ نبوت و رسالت کی آخری کڑی کے لیے اللہ تعالیٰ کی نظر انتخاب حضور خاتم النبیین ﷺ پر پڑی اور اس نے آپ کو تمام انبیاء ومرسلین میں فضیلت بخشی حتی کہ آپ کے لیے مقام محمود کا ذکر بھی اسی سورة میں ہوچکا ہے تو اللہ کے نزدیک نبوت و رسالت کے لیے میعار مال و دولت یا اعلی خاندان نہیں بلکہ اعلی اخلاق ، بلند کردار اور کمال صلاحیت ہے ، اس نے انہیں اوصاف کی بناء پر حضور ﷺ کو اپنی آخری نبی منتخب فرمایا ہے لہذا کفار ومشرکین کو اس تقسیم خداوندی پر اعتراض کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ (انسان کی تنگدلی) فرمایا ، انسان کی حالت تو یہ ہے (آیت) ” وکان الانسان قتورا “ کہ وہ بڑا تنگدل واقع ہوا ہے انسان فطرۃ خود غرض ، اقتدار پسند مفاد پرست اور حریض واقع ہوا ہے ، یہ دنیا کے مال وجاہ ہی کو پسند کرتا ہے حالانکہ اللہ کا فرمان یہ ہے کہ دنیا تو ہم نیک وبد سبھی کو دیتے ہیں دنیا کا حاصل ہوجانا کچھ وقعت نہیں رکھتا ، اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کی علامت ہے ، انسان کی کامیابی اور ابدی فلاح کا دارومدار اس کی دیانت وامانت ، اخلاق اور عقیدے پر ہے اور ہی وہ چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نظر انداز کرجاتے ہیں ، رشتہ کرنا ہو تو ہمیشہ مال و دولت اور جاہ واقتدار پر نظر ہوتی ہے ، اخلاق ودیانت اور ایمانداری کو کوئی نہیں پوچھتا ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے ، ” لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناح بعوضۃ ما سفی کافرا منھا شربۃ “۔ اگر اللہ کے نزدیک پوری دنیا کی حیثیت ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا مگر دنیا میں کامیابی کا معیار تو اللہ نے انبیاء کے ذریعے ظاہر کیا ہے مگر اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا ، انسان واقعی تنگدل واقع ہوا ہے ، وہ اس دنیا کی رنگینیوں میں ہی پھنس کر رہ جاتا ہے اور آخرت کو بھول جاتا ہے ۔
Ayahs 17:101–104

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے دیں موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں واضح پس آپ پوچھ لیں بنی اسرائیل سے جب کہ وہ (موسی علیہ السلام) ان کے پاس آئے پس کہا فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہ میں گمان کرتا ہوں تیرے بارے میں اے موسیٰ ! کہ تو سحر زدہ ہے ۔

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

کہا (موسی (علیہ السلام) نے) البتہ تحقیقی تو جانتا ہے کہ انہیں اتارا ان نشانیوں کو مگر آسمان و زمین کے پروردگار نے بصیرت کے لیے اور میں گمان کرتا ہوں تیرے بارے میں اے فرعون ! کہ تو ہلاکت زدہ ہے ۔

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

پس ارادہ کیا فرعون نے کہ اکھاڑ دے قدم ان کے زمین سے پس ہم نے غرق کیا فرعون کو بمع اس کے ساتھیوں کے سب کے سب ۔

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور کہا ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل (علیہ السلام) سے کہ رہو تم زمین میں پس جب آئے گا آخرت کا وعدہ تو ہم لے آئیں گے تم سب کو سمیٹ کر ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار ومشرکین کے تعصب ، ضد اور عناد کا ذکر کیا کہ وہ بیہودہ فرمائشیں کرتے تھے ، اللہ کی توحید کا انکار کرتے تھے رسالت ونبوت پر اعتراضات کرتے تھے اور معاد کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، ان اعتراضات کا جواب گذشتہ درس میں دیا جا چکا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں اور فرعون اور قوم فرعون کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے اس سے اہل ایمان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح قوم فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کی واض ح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائی تھی ، اسی طرح مشرکین اپنی مطوبہ نشانیاں پا کر بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی استعداد کو جانتا ہے ، ان کی حالت تو یہ ہے کہ حسب فرمائش اگر ان کے آباؤ و اجداد کو زندہ کرکے ان کے سامنے لا کھڑا کریں تو تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے یہ ضدی اور عنادی لوگ ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو کبھی راہ راست کی طرف ہدایت نہیں دیتا بلکہ یہ گمراہی کی راہ پر ہی گامزن رہتے ہیں ۔ (موسی (علیہ السلام) کے نو معجزات) تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح نشانیاں عطا فرمائیں ، موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام معجزات کی تعداد تو بہت زیادہ ہے تاہم نو وہ بڑے بڑے معجزات ہیں جن کا ذکر سورة اعراف میں موجود ہے ، ان معجزات میں (1) یدبیضا (2) عصا (3) قحط سالی (4) پھلوں میں کمی (5) طوفان (6) ٹڈی دل ( 7) جوئیں (8) مینڈک اور (9) خون شامل ہیں ، ان میں سے یدبیضا اور عصا وہ معجزات ہیں جو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دے کر فرعون کے پاس بھیجا ۔ (دیگر نشانیاں) اس کے علاوہ موسیٰ (علیہ السلام) کی لکنت کا معجزہ بھی قرآن پاک میں مذکور ہے سورة طہ میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا (آیت) ” واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی “۔ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھنے لگیں چناچہ اللہ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی سورة یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی مذکور ہے (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالھم “۔ اے اللہ ! فرعونیوں کے مال کو مسخ کر دے یا بالکل مٹا دے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی ، امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) سے تابعین میں سے محمد ابن کعب (رح) مفسر قرآن نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ان میں سے زبان کی لکنت اور طمس مال کا ذکر بھی کیا ، پھر آپ نے خادم سے ایک تھیلا لانے کو کہا ، اس کے تھیلے میں کچھ انڈے اور اخروٹ تھے جو دو ٹکڑے ہوچکے تھے مگر پتھر بن چکے تھے ، اس کے علاوہ تھیلے میں سے کچھ لوبیا ، چنے اور مسور برآمد ہوئے یہ سب چیزیں سنگریزوں میں تبدیل ہوچکی تھیں ، انہوں نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا کا یہ ایک نمونہ ہے جو خاندانی طور پر ان کے پاس پہنچا ہے گویا اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے اموال کو اس طرح مسخ کردیا یا مٹا دیا کہ کھانے پینے کی چیزیں استعمال کے قابل نہ رہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعض دیگر نشانیوں میں ارتفاع طور بھی ہے سورة البقرۃ میں موجود ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ورفعنا فوقکم الطور “۔ (آیت 93) ہم نے پہاڑ کو ان کے سروں پر معلق کردیا اور کہا کہ توبہ کرو ، ورنہ یہ پہاڑ تمہیں پیس ڈالے گا ، اسی طرح بادلوں کے سائے کی نشانی بھی قرآن میں مذکور رہے (آیت) ” وظللنا علیکم الغمام وانزلنا علیکم المن والسلوی “ (البقرہ ، 57) میدان تیہ کی چالیس سالہ نظر بندی کے دوران جب بنی اسرائیل کے خیمے پھٹ گئے تو اللہ نے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا ، اور انہیں من وسلوی میں جیسی بلا مشقت اور تروتازہ غذا بہم پہنچائی تفسیری روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا اور انہیں من وسلوی جیسی بلامشقت اور تروتازہ غذا بہم پہنچائی تفسیری روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے روشنی کا انتظام بھی فرمایا دیا ، رات کو روشنی کا ایک مینار چمکتا تھا جس کی روشنی بنی اسرائیل کے تمام خیموں تک پہنچتی تھی جب بنی اسرائیل نے پانی کی درخواست کی تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ اس پتھر پر لاٹھی مارو (آیت) ” فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا “۔ تو اس میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے ، اور پھر بنی اسرائیل کے لیے سمندر میں راستے بنا دیے (آیت) ” فانجینکم واغرقنا ال فرعون “۔ فرمایا اس طرح ہم نے تمہیں نجات دی اور فرعونیوں کو غرق کردیا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بہت سی نشانیاں ظاہر فرمائیں جن میں نو بڑی بڑی تھیں ، اللہ نے اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ (دس احکام) حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر یہودیوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا کہ آپ ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) کی نو واضح نشانیوں کے متعلق بتائیں تو آپ نے ان نشانیوں کے بجائے دس احکام کا ذکر فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہ ا کہ ان میں سے نو احکام ہمارے اور بنی اسرائیلیوں کے درمیان مشترکہ ہیں جب کہ دسواں حکم صرف ان کے لیے تھا ، فرمایا دس احکام یہ ہیں (1) شرک نہ کرو (2) چوری نہ کرو (3) زنانہ کرو (4) ناحق خون نہ کرو ، (5) جادو نہ کرو (6) سود نہ کھاؤ (7) بیگناہ کو حاکم سے سزا نہ دلواؤ (8) پاکدامن عورتوں پر تہمت نہ لگاؤ (9) جہاد سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو (10) ہفتے کے دن کی تعظیم کرو بنی اسرائیل کو ہفتے کے دن صرف عبادت کرنے کا حکم تھا ، اس دن تجارت ، ملازمت ، کھیتی باڑی ، محنت مزدوری وغیرہ کرنے کی ممانعت تھی ، بعض محدثین نے اس حدیث کو مجروح قرار دیا ہے تاہم صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث قابل اعتماد ہے جسے امام ترمذی (رح) اور بعض دوسرے محدثین نے بھی نقل کیا ہے ۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یہودیوں نے تو نو نشانیوں کے متعلق پوچھا تھا مگر حضور ﷺ نے جواب میں دس احکام کا ذکر کیسے فرمایا ؟ محدثین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا یہ جواب علی طریق اسلوب الحکیم تھا یعنی مخاطب کو حکمت کے طریقے پر بات سمجھائی گئی تھی حضور ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تم نو نشانیوں کو معلوم کرکے کیا کرو کے ، ان کی بجائے یہ دس احکام سیکھو جن پر عمل کرنا ضروری ہے اور جن کی وجہ سے انسان کو نجات نصیب ہو سکتی ہے ۔ (موسی (علیہ السلام) اور فرعون میں مکالمہ) آگے اللہ نے بنی اسرائیل کو تنبیہ کرنے کے لیے فرمایا ہے (آیت) ” فسئل بنی اسرائیل اذ جآء ھم “۔ پس آپ پوچھ لیں بنی اسرائیل سے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے (آیت) ” فقال لہ فرعون “ تو فرعون نے آپ سے کہا (آیت) ” انی لاظنک یموسی مسحورا “۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں تو تجھے سحر زدہ گمان کرتا ہوں ، کسی نے تجھ پر جادو کردیا ہے جو تو ایسی بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے سوا کوئی اور خدا بھی ہے جس کی بادشاہی پوری کائنات پر ہے ، نیز یہ کہ تم خدا کا فرستادہ رسول ہے ، قیامت آنے والی ہے اور محاسبہ اعمال کا وقت آئے گا سورة الشعرآء میں فرعون کے یہ الفاظ بھی موجود ہیں ، (آیت) ” ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون “۔ (آیت 27) یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ، یہ (معاذ اللہ) دیوانہ ہے ایک جگہ پر مھین کا لفظ بھی آتا ہے یعنی یہ ایک حقیر آدمی ہے اس کی ساری قوم ہماری غلام ہے ، بھلا یہ ہم پر کیسے فوقیت رکھتا ہے ، فرعون کے اس بہتان کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے نرمی اختیار نہیں کی بلکہ فرعون کو ترکی بہ ترکی جواب دیا (آیت) ” قال لقد علمت ما انزل ھؤلآء الا رب السموت والارض “۔ فرمایا ، اے فرعون ! تو خوب جانتا ہے کہ یہ نشانیاں آسمان و زمین کے پروردگار نے نازل فرمائی ہیں اور میرے ہاتھ پر ظاہر کی ہیں ، ایسی نشانیاں ہیں جو ” بصآئر بصیرت پیدا کرنیوالی ہیں ، ان نشانیوں کے ذریعے انسانوں کے دلوں میں روشنی کی کرن پیدا ہوتی ہے اور وہ حق سمجھنے لگتے ہیں ، یہ نشانیاں دیکھ کر انسان اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” وانی لاظنک یفرعون مثبورا ‘ ۔ بیشک میں تو تجھے ہلاکت زدہ خیال کرتا ہوں اگر تو اتنی واضح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتا تو ضروری ہے کہ تو عنقریب ہلاک ہونے والا ہے ۔ (فرعون کا تذبذب) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس وقت فرعون عجیب تذبذب کا شکار تھا ایک طرف اسے اپنی سلطنت ، فوج ، حواریوں اور سرمائے پر غرور تھا جس کے ذریعے وہ ہر مخالف طاقت کو کچلنے کے لیے تیار تھا ، مگر دوسری طرف وہ بنی اسرائیل کی کثرت تعداد سے خائف بھی تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں آپ کے خاندان کے صرف بہتر (72) افراد مصر میں آباد ہوئے تھے مگر فرعون کے زمانے تک ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار ہوچکی تھی ، سورة النمل میں موجود ہے (آیت) ” وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا “۔ (آیت 14) فرعونیوں نے بظاہر تو موسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا مگر ان کے دل تسلیم کرچکے تھے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے ، یہ انسانی کام نہیں ہے ، سمجھتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سچی ہے مگر ان کا غرور وتکبر تسلیم کرنے سے قاصر تھا اس سے پہلے کاہن بھی بتا چکے تھے کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری سلطنت کے خاتمے کا باعث بنے گا چانچہ اس نے بنی اسرائیل کے نوے ہزار بچوں کو ذبح بھی کروا دیا مگر اس کے دل میں خوف بدستور موجود تھا چناچہ ایسا ہی ہوا اللہ اس بچے کی پرورش خود فرعون کے گھر میں ہی کروائی ، بالاخر اس بچے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کا مقابلہ کیا اور وہ مع لشکر سمندر میں غرق ہوگیا ۔ (فرعونیوں کی غرقابی) بہرحال فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے خوف سے (آیت) ” فاراد ان یستفزھم من الارض “۔ ارادہ کیا کہ بنی اسرائیل کے قدم اپنی سرزمین سے اکھاڑ دے ، اور انہیں ملک بدر کر دے مگر دوسری طرف وہ یہ بھی دیکھتا تھا کہ بنی اسرائیل کی اتنی بڑی تعداد ان کی غلام ہے ، کھیتی باڑی ، تجارت اور محنت مزدوری کرتی ہے وہ کماتے ہیں اور ہم کھاتے ہیں اگر ان کو مصر سے نکال دیا گیا تو ہمارا سارا معاشی نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا ، یہی وجہ ہے کہ جب موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون سے کہا کہ ہم تیری طرف رب العالمین کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں (آیت) ” ارسل معنا بنی اسرائیل “۔ (الشعراء 17) بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے تو اس نے صاف انکار کردیا تھا ۔ بہرحال فرعون تذبذب کا شکار تھا فرمایا ابھی اس نے ارادہ کیا کہ بنی اسرائیلیوں کے پاؤں زمین سے اکھیڑ دے (آیت) ” فاغرقنہ ومن معہ جمیعا “۔ پس ہم نے اس کو اور اسکے تمام ساتھیوں کو غرق کردیا ، امراء وزراء ، مصاحب حواری وغیرہ سب کو بحر قلزم میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جیسا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ، اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے سمندر میں بارہ راستے بنا دیئے تھے جن کے ذریعے انہوں نے سمندر کو پار کرلیا ، مگر جب انہوں راستوں سے فرعونیوں نے گزرنے کی کوشش کی (آیت) ” فغشیھم من الیم فاغشیھم “۔ (طہ ، 78) پھر پانی نے انہیں اس طرح گھیر لیا کہ کچھ نہ پوچھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کرنے کے تمام فرعونی پانی کی لہروں کی نذر ہوگئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا ۔ (حشر میں اجتماع) جب فرعون مع اپنے لشکروں کے ہلاک ہوگیا (آیت) ” وقلنا من بعدہ لبنی اسرآئیل “۔ کو اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا (آیت) ” اسکنوا الارض “۔ تم سب زمین میں رہو ، اس سے مراد سرزمین شام و فلسطین ہے مصر سے نکل کر اور بحرقلزم کو عبور کرکے بنی اسرائیل صحرائے سینا میں پہنچ چکے تھے ، اس لیے واپس مصر جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ، پھر یہ لوگ چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے ، موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) یہی فوت ہوئے یہاں رہتے ہوئے بنی اسرائیل کو ستر سال گزر گئے اور ان کی پرانی نسل ختم ہوگئی پھر نئی نسل نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین حضرت یوشع بن نون (علیہ السلام) کی قیادت میں سرزمین شام و فلسطین کو فتح کیا اور اس میں آباد ہوگئے ۔ فرمایا تم یہیں آباد رہو (آیت) ” فاذا جاء وعد الاخرۃ جئنا بکم لفیفا “۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آپہنچے گا ، تو ہم تم سب کو لپیٹ کرلے آئیں گے یعنی میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرلیں گے ، واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح قوم فرعون نے ضد اور تعصب کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا اور پھر ہلاک ہوئے اس طرح رسالت اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لائے بلکہ بنی اسرائیل کی طرح نشانیاں ہی طلب کرتے رہے تو ان کا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔
Ayahs 17:105–109

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اور سچائی کے ساتھ ہم نے اس (قرآن) کو اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ ہی یہ نازل ہوا ہے اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو (رسول بناکر) مگر خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا ۔

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ پڑھیں آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر ، اور اتارا ہے ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارنا

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (اے لوگو ! ) ایمان لاؤ اس کے ساتھ یا نہ ایمان لاؤ بیشک وہ لوگ جن کو دیا گیا ہے ہے علم اس سے پہلے جب پڑھا جاتا ہے ان کے پاس قرآن تو گر پڑتے ہیں وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں ۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار ، بیشک وعدہ ہمارے رب کا البتہ پورا ہو کر رہے گا ۔

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور گرتے ہیں وہ ٹھوڑیوں کے بل ، وہ روتے ہیں ، اور زیادہ ہوتی ہے ان میں عاجزی ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا تذکرہ فرمایا ، جس طرح فرعون کی قوم موسیٰ (علیہ السلام) سے نشانیاں طلب کرتی تھی ، اسی طرح مشرکین حضور ﷺ سے اپنیمن مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، دونوں اقوام محض ضد اور عناد کی بنا پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرتی تھیں ، ورنہ حقیقت میں وہ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے تھے ، فرعون نے بنی اسرائیل کے زمین سے قدم اکھاڑ کر انہیں ذلیل کرنا چاہا مگر اللہ نے اس کو مع اس کے لاؤلشکر کے غرق کردیا پھر بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ تم اسی زمین میں رہو ، یہاں تک کہ جب قیامت کے وعدے کا وقت آجائے گا تو اللہ تعالیٰ تم سب کو سمیٹ کر میدان حشر میں اکٹھا کرلے گا یہ واقعہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو بھی اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اگر فرعونیوں کی طرح وہ بھی ضد اور عناد کا مظاہرہ کریں گے ، بیہودہ فرمائشیں کریں گے تو ان کا حشر بھی فرعون اور اس کی قوم سے مختلف نہ ہوگا ۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا تذکرہ فرمایا ہے مکی سورتوں کا یہ خاصہ ہے کہ ان میں بالعموم توحید کا اثبات اور شرک کی تردید بیان کی گئی ہے رسالت ونبوت کا ذکر ہے ، قیامت اور محاسبہ اعمال کا بیان ہے اور قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے ، مشرکین مکہ قرآن پاک کے منجانب اللہ ہونے پر شک کرتے تھے ، اس لیے اللہ نے اس شک کو رفع کیا ہے اور ساتھ تھوڑا سارسالت کا بیان بھی کیا ہے ، اس کے بعد آخری دو آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی توحید کا ذکر ہے ۔ (نزول قرآن بالحق) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وبالحق انزلنہ “ اور ہم نے اس قرآن پاک کو حق وصداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے (آیت) ” وبالحق نزل “ اور حق وصداقت کے ساتھ ہی یہ نازل ہوا ہے ، حق کے ساتھ نازل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کلام خداوندی ہے اس کو نازل کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات بھی برحق ہے اور اس طرح یہ کلام بھی برحق ہے اور دوسری بات یہ کہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نزول میں کسی قسم کا تغیر وتبدل واقع نہیں ہوا فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی منشاء کے عین مطابق اس کو اتارا ہے اور راستے میں اس کی حفاظت کا انتظام بھی فرمایا ہے ، بعض دوسری سورتوں میں آتا ہے کہ جب وحی الہی نازل ہوتی ہے ، تو عالم بالا سے لے کر نبی کے قلب مبارک تک فرشتوں کی قطاریں لگ جاتی ہیں تاکہ اس میں شیطان کسی قسم کی دخل انداز نہ کرسکے اور پھر اللہ نے اس قرآن کو اپنے پیغمبر کے قلب سے آپ کی زبان پر جاری کیا اور پھر آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس کو باکل اسی طرح سنا جس طرح خود آپ نے سنا تھا اور اسی طرح سمجھا جس طرح آپ نے سمجھا تھا غرضیکہ اللہ نے قرآن پاک کے نزول کے بعد اس کو ہر قسم کے تغیر وتبدل سے بھی محفوظ فرمایا ۔ ّ (حفاظت قرآن کی گارنٹی) اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھائی ہے فرمایا (آیت) ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون “ (الحجر ۔ 9) اس قرآن کو ہم نے ہی نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں اللہ نے دوسری کتب سماویہ کی حفاظت کا ذمہ خود نہیں لیا تھا ، بلکہ یہ ذمہ داری خود اہل کتاب پر ڈلی گئی تھی مثلا تورات کے متعلق سورة مائدہ میں موجود ہے کہ ہم نے تورات کو نازل فرمایا جس میں ہدایت اور نور ہے ، اللہ نے نبی اور درویش لوگ اور عالم اسی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ، (آیت) ” بما استحفظوا من کتب اللہ “ اس وجہ سے کہ انہیں اللہ کی کتاب پر نگران بنایا گیا تھا ، مگر تورات انجیل اور دیگر صحائف کے حاملین اپنی کتابوں کی حفاظت نہ کرسکے اور ایسا میں ہزاروں تغیر وتبدل واقع ہوئے ، بہت سی صحیح باتوں کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا اور بہت سی نئی اور غلط باتیں ان میں داخل ہوگئیں حتی کہ اب ان کتابوں کا اصلی شکل میں وجود تک باقی نہیں رہا ، صرف انجیل ہی کو دیکھ لیں ، ایک کی بجائے ایک سو بیس (120) انجیلیں بنیں اور پانچ تو اس بھی موجود ہیں ، جن میں چار بائیبل کا حصہ ہیں اور پانچویں پر بناس علیحدہ ہے اسی طرح بائیبل کے پہلے پانچ ابواب تورات کا حصہ ہیں ، اس میں بھی ہزاروں تغیر واقع ہوچکے ہیں ، اور اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ بعینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں ، برخلاف اس کے اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم کا نزول سخت حفاظت انتظامات میں ہوا ، اور پھر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لے رکھا ہے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ نے آپ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے ” یقرء نائما ویقظان “ کہ آپ اس کو حالت نیند میں بھی پڑھتے تھے اور حالت بیداری میں بھی ، حضور ﷺ کو یہ خاص شرف حاصل تھا کہ سوتے ہوئے بھی آپ کی زبان پر قرآن کے الفاظ جاری رہتے تھے ، پھر آپ کی برکت سے آپ کے بعض امتی پر بحالت نیند قرآن کی تلاوت کرتے رہتے ہیں ، سورة العنکبوت میں ہے کہ (آیت) ” بل ھو آیت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم “۔ یہ ایسی آیتیں ہیں جنہیں اللہ نے اہل علم کے سینوں میں محفوظ کردیا ہے آج دنیا میں ایک کروڑ کی تعداد میں حفاظ موجود ہیں جنہیں کتاب الہی حرف بحرف زبانی یاد ہے یہی اس قرآن کی حفاظت کی دلیل ہے خدانخواستہ اگر اس کے تمام نسخوں کو آگ میں جلایا جائے یا سمندر میں پھینک دیا جائے تو پھر بھی یہ کتاب ختم نہیں ہوگی بلکہ حفاظ کی مدد سے حرفا بحرفا ، دوبارہ تیار ہوجائے گی ، اسی لیے یہ بات بالکل برحق ہے کہ اس کتاب کو نہ آگ جلا سکتی ہے اور نہ اسے پانی دھو سکتا ہے (آیت) ” تنزیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین “۔ (السجدہ ، 3) یہ رب العلمین کی طرف سے نازل کردہ ایسی کتاب ہے جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشیں کر لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو مادی اور روحانی طور پر تکمیل انسانیت کا ذریعہ بنایا ہے انسان کو مادی اور روحانی طور پر کامل بنانے کے لیے صرف قرآن ہی کی راہنمائی کی ضرورت ہے اس سے ہٹ کر کوئی شخص درجہ کمال حاصل نہیں کرسکتا ، قرآن کے علاوہ ہر ذریعہ غلط اور بےبنیاد ہوگا ۔ (تبشیر اور انذار کا فریضہ) قرآن کریم کی صداقت بیان کرنے کے بعد اللہ نے نبوت و رسالت کا تذکرہ فرمایا ہے (آیت) ” وما ارسلنک الا مبشر ونذیرا “۔ اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا ، آپ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ کی رحمت کے مقام کی خوشخبری دیتے ہیں اور کفر ، شرک اور معصیت کا راستہ اپنانے والوں کو سخت عذاب سے ڈراتے ہیں اللہ نے خود حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا (آیت) ” وما انا الا نذیر مبین “۔ (الاحقاف ۔ 9) میں تمہیں واضح طور پر آگاہ کرنے والا ہوں کہ اگر غلط راستے کو نہیں چھوڑو گے تو آگے مصیبت آنیوالی ہے تبشیر اور انذار قرآن کے دو بڑے مقاصد ہیں تاکہ نیکی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور برائی کرنے والوں کو خبر دار کردیا جائے یہ فریضہ صرف خاتم النبیین ﷺ ہی کے ذمہ نہیں تھا بلکہ تمام انبیاء رسل کے متعلق فرمایا (آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین “۔ (النساء ، ) کہ وہ مبشر اور منذر ہوتے ہیں تاکہ اللہ کی طرف سے حجت تمام ہوجائے اور کوئی یہ نہ کہ سکے کہ ہمارے پاس کوئی مبشر اور منذر نہیں آیا ۔ ّ (قرآن کا بتدریج نزول) قرآن پاک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ نے اسے یکبارگی نازل نہیں فرمایا بلکہ (آیت) ” وقرانا فرقنہ لتقراہ علی الناس علی مکث “۔ ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں ، اور یہ اس لیے (آیت) ” لنثبت بہ فؤادک ورتلنہ ترتیلا “۔ (الفرقان 32) تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو ثابت اور مضبوط رکھیں ، اور اسی واسطے ہم اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے پڑھتے رہتے ہیں ، اللہ نے خود حضور ﷺ کو بھی یہی حکم دیا (آیت) ” ورتل القران ترتیلا “۔ (المزمل ، 4) اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو ، (آیت) ” ونزلنہ تنزیلا “۔ اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ہے حضرت شاہ عبدالقادر (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں ” اتارتے اتارتے اتارا ہے “ چونکہ اس قرآن کے ذریعے تمام دنیا کے انسانوں کی ہدایت مطلوب تھی اس لیے اللہ نے اس کے اولین مخاطبین کو قرآن خو پڑھایا ، نزول قرآن کے تئیس (23) سالہ عرصہ میں اللہ کے نبی نے قرآن کو خوب پڑھایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اسے مکمل طور پر محفوظ کرلیا ، اس کو آہستہ آہستہ بتدریج اتارنے کی یہی حکمت ہے ۔ (فتنہ مرزائیت) اسماء الرجال والے لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کے دس ہزار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حافظ قرآن تھے جب مسلیمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تو اس کے خلاف جہاد کرنا پڑا جس میں گیارہ یا بارہ سو حفاظ شہید ہوگئے آج مرزائیت کا فتنہ بھی مسیلمہ کذاب سے کم نہیں ، لوگ اسے معمولی سمجھتے ہیں مگر یہ بہت بڑا فتنہ ہے مرزائی کلیدی عہدوں پر فائز ہیں اور یہ اندر اندر سازشوں کے ذریعے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر لگے ہوئے ہیں یہ فتنہ اب سے کم وبیش اسی سال قبل انگریز نے پیدا کیا تھا اور اس کا علاج وہی ہے جو حضرت صدیق اکبر ؓ نے مرتدوں کے خلاف کیا تھا ۔ طبری کی روایت کے مطابق مسیلمہ کذاب کی لڑائی میں ستائیس ہزار آدمی مارے گئے ایک روایت میں چالیس ہزار کا ذکر بھی آتا ہے جب جا کر وہ فتنہ ختم ہوا ، فرمایا ہم نے قرآن پاک کو آہستہ آہستہ نازل کیا تاکہ یہ اچھی طرح ضبط ہوجائے اور اس کو سیکھنے والے آگے باقی دنیا کے لوگوں کو بھی پڑھا سکیں بہرحال دین کی اصل بنیاد قرآن پاک ہے اور حدیث رسول اس کی شرح ہے ۔ (سجدہ تلاوت) فرمایا (آیت) ” قل امنوا بہ اولا تؤمنوا “۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اے لوگو ! تم اس کتاب الہی پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ مگر حقیقت یہی ہے (آیت) ” ان الذین اوتوا العلم من قبلہ “۔ کہ جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا (آیت) ” اذا یتلی علیھم “۔ جب ان کے پاس یہ قرآن پڑھا جاتا ہے (آیت) ” یخرون للاذقان سجدا “۔ تو وہ فورا ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ یہ پروردگار عالم کی طرف سے کلام برحق ہے اہل کتاب میں سے جو منصف مزاج آدمی ہیں وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور یہ آئیتیں سن کر وہ بھی سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ، اس سے قرآن پاک وہ آیات مراد ہیں جن کی تلاوت وسماعت پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ سجدہ واجب ہے جب کہ بعض دیگر آئمہ اسے سنت مؤکدہ کہتے ہیں ۔ (تکمیل رسالت کا وعدہ) فرمایا (آیت) ” ویقولون “۔ ایسے منصف مزاج لوگ یوں کہتے ہیں (آیت) ” سبحن ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا “۔ پاک ہے ہمارا پروردگار بیشک ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ، یہ وعدہ اللہ نے تورات میں کیا تھا کہ ” اے موسیٰ “ میں تیرا بھائی بندوں میں سے تیرے جیسا ایک رسول برپا کروں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا ، بھائی بندوں سے مراد بنی اسماعیل ، کلام سے مراد قرآن حکیم اور رسول سے مراد حضور خاتم النبیین ﷺ ہیں چناچہ اللہ نے اس عظیم المرتبت ہستی کو دنیا میں مبعوث فرمایا اور اس پر اپنا کلام یعنی قرآن پاک نازل فرمایا ۔ پھر انہیں علم کے متعلق فرمایا (آیت) ” ویخرون للاذقان یبکون “۔ اور گر پڑتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے وہ خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کے پیش نظر عاجزی کا اظہار کرتے ہیں پہلے فرمایا سجدہ کرتے ہوئے گر پڑتے ہیں اور دوسری مرتبہ فرمایا کہ روتے ہوئے گر پڑتے ہیں دونوں سے مراد خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار ہی ہے ۔ (خشیت الہی کا صلہ) ابن ماجہ شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص خوف خدا سے روتا ہے ، اس پر خشیت طاری ہوجاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلتے ہیں ” وان کان مثل راس الذباب من خشیۃ اللہ “ اور یہ آنسو اگرچہ مکھی کے سرکے برابر ہی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا ، ترمذی شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بھی موجود ہے کہ وہ آدمی ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا ” من بکی من خشیۃ اللہ “۔ جو اللہ کے خوف سے رو پڑا ، فرمایا کہ یہ شخص دوزخ میں نہیں جائے گا یہاں تک کہ جانور کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ تھنوں میں واپس چلا جائے ، اور جس اللہ کے بندے کے جسم پر اس کے راستے میں نکلے ہوئے گرد و غبار پڑگیا ، اس جسم پر دوزخ کی آگ اور دھواں حرام ہوگیا ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ دو قسم کی آنکھیں ایسی ہیں جنہیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی ، ایک وہ آنکھ جو خشیت الہی سے روتی ہے اور دوسری وہ جو اللہ کے راستہ میں پہرہ دیتی ہے ، ایک دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جو آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر نہیں پڑتی ، اس آنکھ پر بھی دوزخ کی آگ حرام ہے ۔ (تلاوت قرآن پر رقت) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے وقت رونا امر مستحب ہے صحیح حدیث میں آتا ہے کہ نماز کے دروان قرآن پڑھتے ہوئے حضور ﷺ کی ہچکی بندھ جاتی ، آپ خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کی وجہ سے اتنا روتے تھے کہ آپ کے سینہ مبارک سے جوش نکلتا تھا حضرت عبداللہ بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ صبح کہ نماز پڑھا رہے تھے اور آپ کی زبان پر یہ آیت تھی (آیت) ” قال انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “۔ (یوسف ۔ 86) اگرچہ میں پچھلی صف میں تھا مگر قرآن پڑھتے وقت آپ کی ہیچکیوں کی آواز سن رہا تھا ۔ فرمایا ایسے لوگ قرآن پاک کی آیات کو سن کر روتے ہیں (آیت) ” ویزیدھم خشوعا “۔ (السجدۃ) اور ان کی عاجزی میں اضافہ ہوجاتا ہے یہی صفت اللہ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بھی بیان فرمائی ہے کہ خدا کے سامنے عاجزی کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کی عظمت و جلال کے پیش نظر روتے ہیں ۔