Ayahs 17:9–11ربط آیات :
سورة ہذا کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے معراج جیسی عظیم نعمت کا ذکر کیا جو اس نے اپنے مقرب بندے اور آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر کی ، پھر اللہ نے یہ احسان بھی جتلا یا کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ، پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کی شکر گزاری ہی کا ذکر کیا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو نجات دی ، اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں اور ناشکر گزاروں پر آنے والے مصائب وآلام کا تذکرہ بھی اشارۃ کیا ، نوح (علیہ السلام) کی قوم انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخالفت ، کفر وشرک پر اصرار اور قیامت کے انکار کی وجہ سے ہلاک کی گئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اسرائیل کی سرکشی کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے دو دفعہ سرکشی اختیار کی تو اللہ نے انہیں دونوں دفعہ ان پر جابر حکمرانوں کو مسلط کو کے ذلیل ورسوا کیا ، اللہ تعالیٰ انہیں بار بار سمجھاتا رہا کہ اگر سرکشی سے باز آجاؤ اور نیکی کا راستہ اختیار کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہوگا ورنہ تمام کافروں ، مشرکوں اور مجرموں کے لیے آخرت کا عذاب یعنی جہنم کا قید خانہ تو موجود ہے ، درمیان میں ایمان والوں کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ اگر تم بھی بنی اسرائیل کے راستے پر چلو گے تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا ۔
(قرآن بطور راہ ہدایت)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں بنی اسرائیل کو کتاب ہدایت عطا کرنے کا تذکرہ ہوچکا ہے ، وہاں میں عرض کردیا تھا کہ یہ تذکرہ دراصل قرآن کریم کے متعلق آج کی آیت کی تمہید تھا ، چناچہ آج کے درس کی پہلی آیت میں قرآن پاک کے متعلق ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوم “۔ بیشک یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راستے کی طرف جو سب سے زیادہ سیدھا اور درست ہے گویا قرآن حکیم تورات سے بھی زیادہ فضلیت والی کتاب ہے ، تورات صرف بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھی جب کہ یہ کتاب اللہ نے تمام بنی نوع انسان کے لیے اتاری ، یہ کتاب انسان کی فکر ، اس کے اعضا ، جوارح اور تمام قوی کو ایسی شاہراہ پر لگاتی ہے جس پر چل کر انسان ہمیشہ کے لیے فلاح پاسکتے ہیں۔
اقوم “ کا معنی درست اور سیدھی راہ ہے ” للتی “ کا صلہ راستہ بھی ہو سکتا ہے اور ملت بھی مفسرین کرام فرماتے ہیں قرآن راہ ہدایت ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کی درستگی کا سامان مہیا کرتا ہے یا یہ اس ملت کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ درست ہے اور وہ ملت ابراہیمی یا ملت اسلام ہے ملت اسلامیہ ایسی ملت ہے جس مقابلے کی کوئی ملت ، مذہب اور طریقہ نہیں ہے ۔
(اہل ایمان کے لیے بشارت)
اب یہود ونصاری کا فرض بھی یہ ہے کہ وہ اسی راستے کو اختیار کریں جس کے بغیر فلاح کی کوئی صورت نہیں ، اس راستے پر چلنے والے مومنین کے متعلق فرمایا (آیت) ” ویبشرالمؤمنین “ ۔ قرآن حکیم اہل ایمان کو بشارت سناتا ہے ترغیب وترہیب بھی دین کے اہم مقاصد میں سے ہے ، جہاں قرآن پاک برائیوں کے انجام سے ڈرتا ہے وہاں نیکیوں کے انجام کے خوشخبری بھی سناتا ہے ، تو یہ خوشی کی بات ہے کہ قرآن ایمان لانے والوں کو خوشخبری سناتا ہے ، اور ایمان لانے والے کو خوشخبری سناتا ہے ، اور ایمان لانے والے کون ہیں (آیت) ” الذین یعملون الصلحت “۔ جو فکر کی درستگی کے بعد نیک اعمال انجام دے رہے ہیں فکر تو انہوں نے ایمان لا کر درست کر ی ، اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا ، خدا کی صفات ، انبیاء کی رسالت ، ملائکہ اور کتب سماویہ پر ایمان لائے ، اور صالحات میں ہر قسم کی نیکیاں شامل ہیں ، بنیادی طور پر نماز روزہ ، زکوۃ ، حج اور جہاد نیک اعمال ہیں ان کے علاوہ ہر وہ عمل جسے شریعت نے اچھا عمل تسلیم کیا ہے وہ بھی نیک عمل ہوگا ، پھر یہ ہے کہ نیک اعمال قلوب سے بھی ہو سکتے ہیں ، جیسے کسی دوسرے کے بارے میں اچھی نیت رکھنا اور اس کے متعلق اچھا گمان کرنا نیکی میں داخل ہے (آیت) ” قولوا للناس حسنا “۔ (البقرہ) یعنی زبان سے اچھی بات نکالنا بھی نیک عمل ہے ، اس کے علاوہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نیکی میں داخل ہے فرمایا ایمان لانے کے بعد جو نیک اعمال انجام دیتے ہیں (آیت) ” ان لھم اجرا کبیرا “۔ بیشک ان کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے اس کے نتیجے میں وہ لوگ خوش کام اور فائز المرام ہوں گے قرآن ان کو بشارت دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائیں گے ۔
(ترغیب کے بعد ترہیب)
ترغیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں ترہیب بھی بیان فرمائی ہے ، اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر کر کے نافرمانوں کی سزا کا بھی ذکر کرکے نافرمانوں کی سزا کا ذکر بھی کیا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان الذین لایؤمنون بالاخرۃ “۔ اور جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ، قرآن ان کو خبردار کرتا ہے ، ظاہر ہے کہ جو شخص آخرت کے محاسبے کو ہی تسلیم نہیں کرتا ، وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتا ، تو ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اعتدنا لھم عذابا الیما “۔ ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے ، یہ نہایت ہی خطرناک اور دکھ دینے والا عذاب ہے غرضیکہ ترغیب وترہیب کا کام صرف قرآن پاک نہیں کرتا بلکہ خود انبیاء کرام بھی یہ فریضہ ادا کرتے ہیں ، خود قرآن پاک کا بیان ہے ” (آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین “۔ (النسائ) ہم نے رسولوں کو خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والے بنا کر بھیجا ہے تاکہ لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے ۔
(اپنے حق میں بدعا)
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ، اور یہ ہے کہ (آیت) ” ویدع الانسان بالشر دعآء ہ بالخیر “۔ اور مانگتا ہے انسان برائی کو جیسا کہ وہ مانگتا ہے بھلائی کو ، بھلائی تو ہر آدمی چاہتا ہے اور ہر وقت اسے طلب بھی کرتا رہتا ہے ، مگر بعض اوقات اپنے منہ سے برائی بھی مانگ لیتا ہے ، اس کی مثال خود قرآن پاک نے بھی پیش کی ہے مشرکین مکہ میں سے بعض ایسے بھی تھے جو کہتے تھے (آیت) ” اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم “۔ (الانفال) اے اللہ ! اگر محمد کا لایا ہوا دین تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسایا کوئی ہم پر درد ناک عذاب بھیج دے ، انسان کی بیوقوفی کا اندازہ لگائیں کہ ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر دور نکل جاتے ہیں کہ خود اپنی زبان سے عذاب کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں کہتے تھے کہ توحید ، رسالت اور معاد کے متعلق حضور ﷺ کا نظریہ درست ہے ، تو ہم اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ، بیشک تو ہمیں نیست ونابود ہی کیوں نہ کر دے اسی سورة میں آگے کفار کا بھی اسی قسم کا بیان آرہا ہے ، وہ کہتے تھے (آیت) ” اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا “۔ بیشک ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے ، ہم اس دین کو ماننے کے لیے تیار نہیں ، انسان کا بھلائی کی بجائے برائی کا طلب کرنا نہایت ہی قبیح بات ہے ، اسی لیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ غصے کی حالت میں جلد بازی میں اپنے یا اپنے اہل و عیال یا اپنے مال کے لیے بددعا نہ کر بیٹھو حدیث شریف کے الفاظ ہیں لا تدعوا علی انفسکم ولا اموالکم ولا علی اھلکم “۔ (مسلم) بعض گھڑیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں دعا قبول ہوجاتی ہے ، اگر ایسے ہی وقت میں تمہاری زبان سے کوئی بددعا نکل گئی تو تمہیں نقصان پہنچ جائے گا اور پھر تم کف افسوس ملنے لگو گے ، لہذا اپنے یا دوست احباب یا اولاد یا مال کے خلاف بددعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ چیز عجلت میں داخل ہے ۔
(حضور ﷺ کی خصوصیت)
دعا کے بارے میں صرف پیغمبر خدا ﷺ کو خصوصیت حاصل ہے ، آپ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے پروردگار سے یہ شرط طے کر رکھی ہے کہ میں بھی انسان ہوں کبھی غصہ بھی آجاتا ہے ، لہذا اگر میں کسی کے حق میں بددعا کروں جس کا وہ مستحق نہ ہو ، تو میری بددعا کو اس کے حق میں رحمت اور پاکیزگی بنادے ، تو حضور ﷺ کی دعا صرف اسی شخص کو لگے گی جو اس کا مستحق ہوگا ، امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے ایک قیدی کو حضرت سودہ ؓ کے سپرد کیا ، جب اس قیدی کو رسیوں سے جکڑا گیا تو وہ کر اہنے لگا ، حضرت سودہ ؓ کے دریافت کرنے پر قیدی نے بتایا کہ اس کی رسی سخت کسی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اسے تکلیف ہے آپ نے اس پر رحم کرتے ہوئے رسی کو ذرا ڈھیلا کردیا ، پھر یہ ہوا کہ جبھی اس قیدی نے موقع پایا رسی کاٹ کر بھاگ گیا اس بات کی خبر حضور ﷺ تک پہنچی تو آپ نے حضرت سودہ ؓ کو بلا کر دریافت کیا ، انہوں نے پوری بات بیان کردی کہ میں نے اس پر رحم کرتے ہوئے اس کی رسی ڈھیلی کردی تھی جس کی وجہ سے قیدی بھاگ گیا ، اس پر حضور ﷺ کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا ” اللھم اقطع یدھا “۔ اے اللہ سودہ ؓ کے ہاتھ کاٹ دے کہ اس نے قیدی کے ساتھ کیوں رعایت کی ، یہ بددعا سن کر حضرت سودۃ ؓ سخت پریشان ہوئیں ، اپنے ہاتھوں کی طرف بار بار دیکھتی تھیں کہ کہیں حضور کی بددعا کی زد میں تو نہیں آگئیں ، آپ ﷺ نے فرمایا ، سودہ ؓ ! یہ بددعا نہیں لگے گی کوئی غیر مستحق شخص اس کی زد میں نہیں آئے گا اسی طرح ایک دفعہ حضور ﷺ نے امیر معاویہ ؓ کو طلب فرمایا تو آپ کو بتایا گیا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں ، دوبارہ بلایا تو پھر بھی یہی جواب ملا کر کھانا کھا رہے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا ” ما اشبع اللہ بطنہ “۔ اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ، یہ بددعا بھی ان کو نہیں لگی کیونکہ وہ اس کے مستحق نہیں تھے ۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا حضور ﷺ نے فرمایا ، اللہ کے بندے ! دائیں سے کھاؤ ، وہ کہنے لگا کہ میرا دایاں ہاتھ اٹھتا ہی نہیں ، اس نے تکبر سے یہ بات کی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا دایاں ہمیشہ کے لیے شل ہو کر رہ گیا ، کیونکہ حضور نے بددعا فرمائی تھی لا رفعھا اللہ “ اللہ تعالیٰ تیرے اس ہاتھ کو نہ ہی اٹھائے ، یہ شخص تکبر کی بنا پر بددعا کا مستحق ٹھہرا۔
حضور ﷺ نے نمازی کے آگے سے گزرنے کی سخت وعید فرمائی ہے آپ کا ارشاد ہے کہ کوئی شخص چالیس سال تک اپنی جگہ کھڑا رہے تو یہ نماز کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے بعض نے اسے چالیس ہفتے یا چالیس ماہ پر بھی محمول کیا ہے تاہم نمازی کی نماز میں خلل ڈالنا سخت معیوب ہے ، حضور ﷺ نماز ادا فرما رہے تھے کہ ایک شخص نے اسی طرح نماز میں خلل ڈالا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ شخص ہمیشہ کے لیے معذور ہوگیا ۔
(انسان جلد باز ہے)
بہرحال فرمایا کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ غصے کی حالت میں جلد بازی کرتے ہوئے اپنے لیے ، اہل و عیال یا مال کے متعلق بددعا کرے فرمایا کتنی بری بات ہے کہ انسان اپنے لیے اسی طرح شر کو طلب کرتا ہے جس طرح کو خیر کو مانگتا ہے (آیت) ” وکان الانسان عجولا “۔ اور حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا جلد باز ہے ، وہ جلد بازی میں بہت کچھ کر بیٹھتا ہے ، کافر لوگ اس جلد بازی کے نتیجے میں ہی اپنے لیے بددعا کر بیٹھتے ہیں ، قرآن پاک کا انکار جلد بازی کی وجہ سے ہی کرتے ہیں واقعہ معراج کی تکذیب بھی جلد بازی کا نتیجہ تھا ، لہذا انسان کی جلد بازی اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے ۔
Ayahs 17:12–15ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کا ذکر ہوا کہ یہ سب سے سیدھے راستے اور سب سے درست ملت کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، یہ قرآن اہل ایمان کو بشارت دیتا ہے اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کو عذاب کی وعید سناتا ہے پھر فرمایا انسان جلد بازی میں آکر شر کی دعا کرتے ہیں حالانکہ یہ ان کے لیے مناسب نہیں ، آج کے درس میں اللہ نے اپنی پہچان ، توحید اور وقوع قیامت کے سلسلے میں اپنی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا ہے ، اگر ان میں تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے ، انہی نشانیوں سے قیامت پر یقین بھی پختہ ہو سکتا ہے ۔
(لیل ونہار کا نظام)
نشانات قدرت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کی دونشانیوں کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وجعلنا الیل والنھار ایتین “۔ اور بنایا ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں ، ان نشانیوں کی دو خصوصیات یہ بیان فرمائیں (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “۔ پھر ہم نے محو کردیا ، مٹا دیا ، دھیما کردیا ، رات کی نشانی کو ، یعنی رات کے وقت وہ آب وتاب نہیں ہوتی جو دن کے وقت ہوتی ہے اور دن کی نشانی کے متعلق فرمایا (آیت) ” وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ “۔ اور بنایا ہم نے دن کی نشانی کو روشن ، دن کے وقت سورج کی روشنی خوب ہوتی ہے رات کو دھیمی سی روشنی چاند اور ستاروں کی ہوتی ہے جب کہ دن کے وقت سورج دنیا کو منور کردیتا ہے ۔ رات اور دن کی مصروفیت بھی الگ الگ ہیں اور ان میں تفاوت ہی کاروبار کی تقسیم اور اوقات کار کے تعین کا ذریعہ ہے کہ سورة الانعام میں ہے (آیت) ” وجعل الیل سکنا “۔ رات انسانوں اور حیوانوں کے آرام کے لیے بنائی ہے تاکہ اس دروان میں وہ تھکاوٹ کر دور کرکے اپنی قومی کو بحال کرسکیں ، اللہ تعالیٰ نے رات کو اسی لیے دھیما بنایا ہے کہ آرام و سکون میں تیز روشنی موزوں نہیں ہوتی ، اسی طرح دن کے متعلق سورة النباء میں فرمایا (آیت) ” وجعلنا النھار معاشا “۔ اور ہم نے دن کو ذریعہ معاش بنایا ، رات کے آرام کے ہے انسان دن کے وقت کاروبار میں مصروف ہوجاتے ہیں اور یہ کام سورج کی تیز روشنی میں ہی انجام دیا جاسکتا ہے ، چناچہ لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں دوکانداری کرتے ہیں ، کوئی مزدوری کرتا ہے ملازمت اختیار کرتا ہے ، یہ سب کچھ دن کے وقت ہوتا ہے جس سے انسان روزی کماتے ہیں ، جانور اور پرندے بھی اپنے اپنے ٹھکانوں سے روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا یہ نظام انسانوں اور حیوانوں کی مصلحت اور ضروریات کے مطابق رکھا ہے ۔
(روحانی کمال اور زوال)
جس طرح رات اور دن کا نظام مختلف اغراض ومقاصد کے لیے قائم ہے ، اسی طرح اللہ نے روحانیت کا نظام بھی قائم کیا ہے بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو اختیار کرنے سے انسان کی روح میں روشنی پیدا ہوتی ہے جو اسے درجہ کمال تک پہنچاتی ہے ، اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو روح انسانی کو تاریک بنا دیتی ہیں اور انسان خسارے میں مبتلا ہوجاتا ہے ، چناچہ ایمان اور کفر اسی نظام کا حصہ ہیں ، ایمان کی بدولت انسان میں روشنی پیدا ہوتی ہے اور اسے کمال حاصل ہوتا ہے جب کہ کفر اختیار کرنے سے تاریکی جنم لیتی ہے جس طرح رات کی تاریکی دن کی روشنی میں تبدیل ہوتی ہے تو انسان کو معیشت کے اسباب حاصل ہوتے ہیں ، اسی طرح کفر وشرک کی تاریکی میں اللہ تعالیٰ انبیاء کو مبعوث کرکے اور کتابیں نازل فرما کر روحانی روشنی کا بندوبست کرتا ہے جو بنی نوع انسان کی کامیابی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔
(رزق حلال کی تلاش)
فرمایا ہم نے دن کو روشن نشانی بنایا (آیت) ” لتبتغوا فضلا من ربکم تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو لفظ فضل اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتا ہے ، اس میں رزق حلال بھی داخل ہے اور انسان کا ہر کمال فضل ہی کا حصہ ہے ، اس کے علاوہ عبادت ، ریاضت ، علم ، اچھا اخلاق وغیرہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو دن کی روشنی میں حاصل ہوتا ہے اور اللہ نے دن کو اپنی نشانی کے طور پر متعارف کرایا ہے ۔
(ماہ وسال کی گنتی)
فرمایا دن رات کے تغیر وتبدل کا ایک مقصد یہ بھی ہے (آیت) ” ولتعلموا عددالسنین والحساب “۔ تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو ظاہر ہے کہ ماہ وسال کی شناخت دن رات کے تغیر وتبدل سے ہی ہوتی ہے پہلے ایک دن بنتا ہے ، پھر ہفتہ ، پھر مہینہ اور پھر سال ، مختلف امور کی انجام دی کے لیے اللہ نے جو نظام الاوقات مقرر کیا ہے وہ سورج کے حساب سے ہوگا یا چاند کے حساب اسے اور پھر اس کے مطابق روزانہ ، ماہانہ اور سالانہ امور انجام دیے جاتے ہیں ، گویا دن رات کا ایک مقصد ماہ وسال کی گنتی کا حساب قائم کرنا بھی ہے ۔
اس کے ساتھ اللہ نے یہ بھی فرما دیا (آیت) ” وکل شیء فصلنہ تفصیلا “۔ اور ہم نے ہر چیز کی تفصیل کھول کر بیان کردی تاکہ انسان اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر اور سمجھ کر حقیقت کو معلوم کرسکیں ، ایمان کی دولت حاصل کرسکیں اور نیکیاں کما سکیں ، لیل ونہار کا جو وقفہ انسان کو مل رہا ہے ، اسے اس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے سورة الفرقان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وھو الذی جعل الیل والنھار خلفۃ لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا “ جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا ہے یا اللہ کا شکر گزار بندہ بننا چاہتا ہے اس کے لیے اللہ نے رات اور دن کو آگے پیچھے آنے والا بنا دیا ہے دن رات کا تغیر وتبدل عقلمندوں کے لیے بہت بڑا موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ان میں غور وفکر کرکے صحیح نتیجے پر پہنچ جائے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ رات کے وقت میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے دن کے وقت موقع ہوتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلیں ، اس طرح دن میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے رات کو معافی مانگتے اور تلافی کرنے کا موقع ہوتا ہے اور اس طرح انسان اپنی حالت کو درست کرسکتا ہے ۔
(انسان کا نامہ اعمال)
دن رات کی نشانیوں کے تذکرے اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بیان کے بعد اللہ نے انسان کی توجہ اس کی آخرت کی طرف دلائی ہے اور بتا دیا ہے کہ دنیا کی کارگزاری یہیں پر ختم نہیں ہوجائے گی ، بلکہ اس کا حتمی نتیجہ آخرت میں نکلنے والا ہے ، اس دنیا میں انجام دیا جانے والا ہر اچھا یا برا عمل محفوظ کیا جارہا ہے اور اس کی صورت یہ ہے (آیت) ” وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “۔ ہم نے ہر انسان کے ساتھ اس کا طاہر یعنی اعمال نامہ اس کی گردن میں لازم کردیا ہے ، لغوی طور پر طائر کا معنی پرندہ اور شگون بھی ہوتا ہے ، تاہم یہاں پر اس سے مراد ہر انسان کانامہ اعمال ہے جو اس کی زندگی پھر مرتب ہوتا ہے اور پھر موت کے وقت اس کی گردن میں لٹکا دیا جاتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ونخرج لہ یوم القیمۃ کتبا “۔ جسے ہم قیامت کے دن ایک نوشتے کی صورت میں نکالیں گے (آیت) ” یلقہ منشورا “۔ جسے وہ کھلاہوا پائے گا ، اس کتاب میں ہر انسان اپنی سعادت یا شقاوت کی ہر چیز موجود پائے گا ، یہ اس کے اعمال کا نتیجہ ہے یا اس کی شومئی قسمت کہ اس کا ہر عمل اس کے گلے کا ہار بن چکا ہوگا اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس وقت ہر خواندہ اور ناخواندہ آدمی اس کو خود پڑھ سکے گا اور پھر حیرت کے ساتھ کہے گا (آیت) ” مالھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا “۔ (الکہف) یہ عجیب کتاب ہے جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز کو شمار کر رکھا ہے ، حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائے گا اے ابن آدم ! ” انما ھی اعمالکم احصیھا لکم “۔ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں نے تمہارے لیے شمار اور محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے ، اگر اس نامہ اعمال کو اچھا پاؤ تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اگر اسے اپنے خلاف پاؤ تو اپنے آپ کو ملامت کرو کہ یہ تمہاری اپنی ہی کمائی ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کا ہر عمل نکلتا بھی اس کے نفس سے ہی ہے اور پھر لوٹ کر نفس کی طرف ہی چلا جاتا ہے اور پھر اس کو شمار کرکے محفوظ کرلیا جاتا ہے ۔
بہرحال قیامت کے دن جب انسان کا نامہ اعمال اس کی گردن سے نکال کر اس کے سامنے کیا جائے گا تو حکم ہوگا (آیت) ” اقرا کتبک “۔ اپنا نوشتہ خود پڑھ لو کفی بنفسک الیوم علیک حسبیبا “۔ آج کے دن تمہار اپنا نفس ہی تمہارے محاسبے کے لیے کافی ہے اس اعمالنامہ کو پڑھنے کے لیے کسی منشی کی ضرورت نہیں تم خود اسے پڑھو۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کی پیشانی پر لفظ ” کافر “ لکھا ہوگا ، ہر ایماندار اس کو پڑھ لے گا مگر کوئی بےایمان کافر ، مشرک اسے نہیں پڑھ سکے گا ، اسی طرح ہر آدمی اپنا اعمالنامہ خود پڑھے گا جس میں اس کا ہر نیک و بدعمل درج ہوگا ، اور وہ اسی سے اپنی جزا یا سزا کو معلوم کرسکے گا ،
فرمایا ، ہمارا اصول یہ ہے (آیت) ” من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ “۔ جس نے ہدایت پائی تو اس نے اپنے ہی نفس کے لیے ہدایت پائی اس سے اسی کو فائدہ ہوگا (آیت) ” ومن ضل فانما یضل علیھا “۔ اور جو کوئی گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی اسی کے نفس پر پڑتی ہے ، اس کا نقصان خود اس کو ہوتا ہے (آیت) ” ولا تزروازرۃ وزر اخری “۔ اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا نیکی یا بدی جو بھی کی ہے اس کا بوجھ خود ہی اپنی گردن پر اٹھانا پڑے گا اس وقت نہ کوئی رشتہ دار مدد کرسکے گا نہ کوئی مزدور ہوگا جو کسی کا بوجھ اٹھا لے ۔
(اتمام حجت)
اللہ نے ایک اور بھی اہم بات یہاں بیان فرمائی ہے (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ ہم کسی قوم کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ ہم رسول نہ بھیج دیں کسی مجرم کو سزا دینے سے پہلے اتمام حجت ضروری ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنے پیغمبر بھیجے ، کتابیں نازل فرمائیں اور پھر مبلغین کے ذریعے اپنا پیغام تمام لوگوں تک پہنچایا ، اگر اب بھی کوئی شخص ایمان کی بجائے کفر اور نیکی کی بجائے برائی کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے اس پر حجت تمام ہوچکی ہے ، سورة النسآء میں اللہ کا فرمان موجود ہے کہ ہم نے بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے رسول مبعوث فرمائے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ تاکہ رسولوں کے آنے کے بعد لوگوں کے لیے ، اللہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے ، رسول کے آنے کے بعد عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی فرمایا کل کو کوئی یہ نہ کہے (آیت) ” ما جاء نا من بشیر ولا نذیر “۔ (المائدہ) کہ ہمارے پاس بشارت دینے والا اور ڈرانے والا کوئی نہیں آیا اللہ نے فرمایا (آیت) ” فقد جآء کم بشرونذیر “۔ (المائدہ) تمہارے پاس بشیر اور نذیر آچکے ہیں ، اگر اب بھی کفر ، شرک ، معاصی سے باز نہیں آؤ گے تو پھر کوئی عذر قابل قبول اور مسموع نہیں ہوگا ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی صورت نوعیہ کا تقاضا ہے کہ اس کی ہر نیکی اور بدی کی جزا یا سزا ملے اس کے علاوہ فرشتوں کی دعا یا بدعا بھی انسان کے حق میں موثر ہوتی ہے کیونکہ فرشتے نیکی کرنے والے کے لیے دعا اور برائی کے مرتکب کے لیے لعنت بھیجتے ہیں ۔ نیک عمل کرنے والوں کے حق میں قرآن بھی شہادت دیتا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولوں کی بعثت اور شرائع کے نزول کے بعد حجت تمام ہوگئی ہے ، لہذا اب ہر شخص کو جزا یا سزا ضرور ملے گی ۔
(مکلف کی بحث)
مفسرین کرام اس بارے میں بحث کرتے ہیں کہ جو لوگ فترت کے زمانے میں فوت ہوجاتے ہیں ، یعنی وہ زمانہ جب کوئی رسول نہیں آیا جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضور ﷺ کا درمیانی زمانہ اسی طرح کافروں اور مشرکوں کے فوت ہونے والے چھوٹے بچوں کے متعلق کیا حکم ہے کہ ان کی گرفت ہوگی یا نہیں ، اگرچہ اس ضمن میں اختلاف پایا جاتا ہے تاہم صحیح بات یہی ہے کہ رسول سے مراد ایک تو باہر کا رسول ہے جو اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے اور ایک انسان کے اندر کا رسول اس کی عقل ہے ، اگر کسی قوم یا فرد کے پاس باہر کا رسول نہیں تو اس کے پاس اندر کا رسول یعنی عقل تو موجود ہے جسے بروئے کار لا کر نیکی وبدی اور حق و باطل میں تمیز کی جاسکتی ہے ، اگر کوئی شخص عقلمند ہے تو وہ مکلف ہے اور نیکی یا بدی کی جزا یا سزا کا مستحق ہے ، البتہ اگر کوئی شخص عقل و شعور سے ہی محروم ہے تو وہ مکلف نہیں ، چناچہ دیوانے احمق اور بےعقل آدمی عذاب کے مستحق نہیں ، چھوٹے بچے جو سن شعور کو پہنچنے سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں ، وہ بھی غیر مکلف ہیں اور سزا کے حقدار نہیں ہیں ۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ قیامت والے دن اللہ کی بارگاہ میں عذر پیش کریں گے ، مثلا بہرہ آدمی کہے گا مولا کریم ! تو نے مجھے سماعت کی نعمت سے محروم رکھا ، تیرے انبیاء اور کتابیں آئیں مگر بہرہ ہونے کی وجہ سے ان کی بات سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکا ، لہذا اس مجبوری کی بناء پر مجھے سزا نہیں ملنی چاہئے ، دیوانہ آدمی عذر پیش کرے گا کہ مولا کریم ! تیرا دین آیا مگر میری حالت یہ تھی کہ لوگ مجھے پتھر مارتے تھے ، میں شعور سے خالی تھا بوڑھا آدمی کہے گا کہ میرے قوی مضمحل ہوچکے تھے اور میں تیرے احکام پر عمل کرنے سے قاصر تھا ، فترت کے زمانے کے لوگ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی رسول آیا ہی نہیں لہذا ہمیں راہ ہدایت کیسے معلوم ہوتی ، روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اسی وقت آزمائش کرے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارے پاس ایک فرشتہ بطور رسول بھیجتا ہوں ، پھر ایک فرشتہ آکر ان کو کہے گا کہ میں خدا کی جانب سے تمہارے پاس قاصد آیا ہوں تمہارے لیے حکم یہ ہے ہے کہ تم اس جہنم میں چھلانگ لگا دو پھر جو شخص اس حکم کی تعمیل میں جہنم میں کود جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والا بنا دے گا ، اور جو حکم کی تعمیل نہیں کرے گا ، وہ ناکام ونامراد ٹھہرے گا ۔
امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایک عاقل بالغ شخص کسی ایسی جگہ پر ہے جہاں کوئی دوسرا انسان نہیں پہنچ سکا کسی پہاڑ کی چوٹی ہے یا صحرا کا کوئی گوشہ ہے جہاں اس کی ہدایت کے لیے کوئی سامان نہیں پہنچا تو فرماتے ہیں کہ اگر ایسا شخص کفر یا شرک کا ارتکاب کرے گا تو ماخوذ ہو کر جہنم رسید ہوگا ، کیونکہ اللہ نے اسے عقل و شعور جیس نعمت عطا کی ہے ، وہ قدرت کی نشانیاں دیکھ کر اس کی وحدانیت کو پہچان سکتا ہے ، لہذا اس کا کفر وشرک قابل مواخذہ ہوگا ، البتہ حلال و حرام کی تمیز میں یا نماز ، روزہ ، حج زکوۃ وغیرہ کی عدم ادائیگی میں وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہوگا کیونکہ یہ چیزیں بتانے والا اس کے پاس کوئی نہیں پہنچ سکا ، مطلب یہ کہ عقل و شعور بھی انسان کو مکلف بنانے کے لیے کافی ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا ، آگے آؤ ، وہ آگے آگئی ، پھر فرمایا پیچھے ہٹ جاؤ تو وہ پیچھے ہٹ گئی اللہ نے فرمایا ” بک اخذوبک امنع “ میں تیری وجہ سے مؤاخذہ کروں گا ، اور تیری وجہ سے روکوں گا ، گویا جس شخص میں عقل نہیں وہ ناقابل مؤاخذہ ہے ، چھوٹے بچوں کا بھی یہی معاملہ ہے ، شعور کے تین درجے ہوتے ہیں ، سات سال ، دس سال اور پھر بارہ چودہ سال ، لیکن جب تک اس میں پوری عقل نہیں آتی ، وہ قابل مؤاخذہ نہیں ہوتا ، ایسے لوگوں سے مؤاخذہ کرنا اللہ تعالیٰ کے قانون عدل کیخلاف ہے کیونکہ وہ ابھی تک مؤاخذے والی شرط پوری نہیں کرتے ، غرضیکہ جب دنیا میں رسولوں کے ذریعے حجت تمام ہوجائے اور انسان کے داخلی نظام میں عقل بھی مکمل ہو تو پھر انسان قابل مؤاخذہ ہوجاتا ہے ، اور اسی بات کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم اس وقت تک کسی کو سزا نہیں دیتے جب تک رسول مبعوث کرکے اپنی حجت تمام نہیں کرلیتے ۔
Ayahs 17:16–17ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ کے نیک بندوں پر انعامات اور نافرمانوں کی گرفت کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے تیار کیے جانے والے اعمالنامے اور قیامت کے دن ان کے ظہور کا تذکرہ فرمایا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہدایت یا گمراہی انسان کے اپنے ہی فائدے یا نقصان کے لیے ہے ، ہر شخص کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا اور کوئی دوسرا شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ، اللہ نے ایک اصولی بات یہ بھی بیان فرمائی کہ ہم کسی فرد یا قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے جب تک ان کے پاس اپنا رسول بھیج کر اتمام حجت نہ کریں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے سزا سے متعلق اپنی سنت بیان کی ہے اس سلسلے میں بعض واقعات کی طرف اشارہ بھی ہے اور مشرکین عرب اور بعد میں آنے والوں کے لیے وعید بھی ہے کہ اگر وہ بھی کفر شرک اور برائی سے باز نہ آئے تو ان کا حشر بھی پہلی نافرمان قوموں سے مختلف نہیں ہوگا ۔
(ہلاکت کا فلسفہ)
اب اللہ تعالیٰ نے انسان کی بداعمالیوں پر اس کی ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذا اردنا ان نھلک قریۃ “۔ جب ہم کسی بستی ، شہر ، علاقے یا ملک کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ، (آیت) ” امرنا مترفیھا “۔ تو ہم اس بستی کے آسودہ اور خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں ، یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ناز ونعمت میں پرورش پاتے ہیں ، انہیں تمام سہولتیں یا افراط میسر ہوتی ہیں اور عیش و آرام میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ، ہم ان کو حکم دیتے ہیں ۔
(آیت) ” ففسقوافیھا “۔ تو وہ اس بستی میں فسق کرتے ہیں (آیت) ” فحق علیھا القول “ پھر اس پر بات ثابت ہوجاتی ہے ، خدا کی گرفت آتی ہے اور وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ۔
اس آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود خوشحال لوگوں کو فسق کا حکم دیتے ہیں ، پھر جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں تو ان پر جرم ثابت ہوجاتا ہے اور وہ سزا میں مبتلا کردیے جاتے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کسی کو فسق کا حکم دیتے ہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ان اللہ لا یامر بالفحشآء “۔ (الاعراف) کہ وہ کبھی بھی بیحیائی کا حکم دیتے مفسرین اس کی توجہیہ یوں بیان کرتے ہیں کہ حکم دو قسم کا ہوتا ہے ، ایک تشریعی اور دوسرا تکوینی ، تشریعی حکم ہمیشہ شریعت اور قانون کے مطابق ہوتا ہے ، اور نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہوتا ہے نہ کہ برائی کے ارتکاب کا ، اور تکوینی حکم کائنات میں طبعی طور پر جاری ہوتا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ نیکی یا برائی کا ارتکاب اللہ نے بندے کے اختیار میں دے دیا ہے ، لہذا کوئی انسان جب بھی کسی اچھائی یا برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالتا بلکہ اس کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا کردیتا ہے ، یہی تکوینی حکم ہے ، جو بندہ خود اپنے ارادے اور اختیار سے انجام دیتا ہے اور اللہ اس کی توفیق کو سلب نہیں کرتا ، سورة النساء میں موجود ہے ” نولہ ما تولی “ کوئی شخص جدھر جانا چاہتا ہے ہم اسی طرف اس کا رخ موڑ دیتے ہیں ، حالانکہ ہم چاہیں تو اس سے برائی کرنے کی توفیق ہی سلب کرلیں ، مگر ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ تکوینی حکم کے ذریعے انسان کو آزماتا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ انسان کو کھلی چھٹی دے دیتا ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف) اب جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے کفر کا راستہ اختیار کرلے ، البتہ فرمایا کہ جو شخص کفر کا طریقہ اپنائے گا تو اس کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے غرضیکہ یہاں پر ” امرنا “ اور ” ففسقوا “ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یا قوم نافرمانی کا راستہ اختیار کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توفیق کو سلب نہیں کرتے بلکہ اسے اپنی مرضی کے مطابق چلنے دیتے ہیں ۔
بعض مفسرین اس کا دوسرا معنی بھی کرتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے دولت مند لوگوں کو ” اطاعت “ کا حکم دیتے ہیں ، ہم ان کی طرف اپنے نبی بھیجتے ہیں ، ان کے نائبین اور مبلغین ان کے پاس پہنچ کر انہیں اطاعت اور نیکی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں ، اس کے باوجود جب وہ قوم یا بستی کے لوگ نافرمانی کرتے ہیں ، اللہ کی اطاعت کی طرف نہیں آتے (آیت) ” فدمرنھا تد میرا “۔ تو پھر ہم اس بستی کو ملیامیٹ کردیتے ہیں ، اسے جڑ بنیاد سے اکھاڑ دیتے ہیں اور اس طرح انہیں نافرمانی کی سزا مل جاتی ہے ۔
(آسودہ حالی اور مخالف اسلام)
اس آیت کریمہ میں آسودہ حال لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے تشریعی اور تکوینی احکام ہر قسم کے لوگوں پر نافذ العمل ہوتے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر خوشحال لوگوں کا تذکرہ اس لیے کیا گیا ہے کہ دین کی مخالفت میں عام طور پر یہی لوگ پیش پیش ہوتے ہیں اور پھر ان کی اقتداء میں دیگر لوگ بھی اسی راستہ پر چل نکلتے ہیں ، عربی محاورہ ہے کہ اگر حاکم کی اصلاح ہوجائے تو رعیت خود بخود سدھر جائے گی اور اگر کسی قوم یا ملک کا سرپرست ہی بگڑ جائے تو سارے لوگ ہی ایسے ہوجائیں گے ، بات تو بڑے لوگوں کی چلتی ہے اور باقی ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہوتے ہیں ، فساد فی الارض کی ابتداء ہمیشہ روسا کی طرف سے ہوتی ہے ، تاریخ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اٹھا کر دیکھ کر کمزور لوگ تو اکثر ایمان لاتے رہے ہیں مگر مخالفت بڑوں نے ہی کی ، یہ لوگ خدا اور رسول کی اطاعت کو اپنی چودھراہٹ کے منافی سمجھتے ہیں ، ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے دین کی اطاعت شروع ہوجائے گی تو پھر چودھریوں کی بات کون سنے گا ، تو جب بھی ان آسودہ حال لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا جاتا ہے تو یہ مخالفت پر اتر آتے ہیں اگر ان کو کوئی وعید سنائی جائے تو کہتے ہیں ، (آیت) ” نحن اکثر اموالاو اولادا “۔ (سبا ، 35) ہمارے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے ہماری کثیر اولاد ہے ہمیں کس بات کا ڈر ہے ہم کسی قیامت اور محاسبے کے عمل کو تسلیم نہیں کرتے (آیت) ” وما نحن معذبین “۔ (الشعرا) ہمیں کون سزا دیگا ، فرمایا ایسے ہی لوگوں کو ہم اطاعت وفرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں ، تو وہ فسق کا راستہ اختیار کرتے ہیں ، خروج عن الطاعۃ کے مرتکب ہوتے ہیں ، فسق کا اطلاق نافرمانی کے علاوہ کفر ، نفاق اور معصیت پر بھی ہوتا ہے ، احکام شریعت کے خلاف چلنے والا شخص فاسق کہلاتا ہے پھر جب فسق کی بات ثابت ہوجاتی ہے تو ایسے لوگوں کو ملیامیٹ کردیا جاتا ہے ۔
(امر کے دیگر معانی)
بعض مفسرین ” امرنا “ کی بجائے ” امرنا “ قرات کرتے ہیں جس کا معنی حاکم بنانا ہے ، اگر اس قرات کو پیش نظر رکھا جائے تو آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جب ہم کسی بستی کے آسودہ حال لوگوں کو وہاں کا امیر یا حاکم بنا دیتے ہیں تو وہ اطاعت کا راستہ پکڑنے کی بجائے عیاشی ، فحاشی اور بدکاری کے راستے پر چل پڑتے ہیں جس کے نتیجے میں ان پر خدا کی طرف سے عذاب آتا ہے یہ لوگ عام طور پر معاصی کی سکی میں بناتے ہیں اور نیکی کے کام نہیں کرتے ۔
چوتھی تفسیر کے مطابق ” امر یا امر کا معنی زیادہ کرنا بھی ہوتا ہے ، یعنی ہم جس بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں ، وہاں کے آسودہ حال لوگوں کی تعداد میں اضافہ کردیتے ہیں ، اس سلسلے میں مکہ والوں کا حال دیکھ لیں ، قوم عاد ، قوم ثمود ، قوم فرعون ، قوم لوط ، قوم تبع ، اور سبا والوں کا حال دیکھ لیں یہ سب خوشحال اور آسودہ حال لوگ تھے ، بڑی بڑی عمارات اور بڑے بڑے باغات کے مالک تھے ، ان کی تہذیبوں کے نشانات آج بھی ٹیکسلا ، منجودھاڑو ، اجینٹا ار آلورہ میں دیکھے جاسکتے ہیں ، ان کے بارے میں سورة العنکبوت میں فرمایا ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا اور انہیں صراط مستقیم سے روک دیا (آیت) ” وکانوا مستبصرین “۔ دنیا کے معاملات میں بڑے ہوشیار تھے ، اپنے فن میں بڑے ماہر تھے مگر معاد کے معاملہ میں فرمایا (آیت) ” انھم کانوا قوما عمین “۔ (الاعراف) بالکل اندھے تھے ۔
(رفاہیت بالغہ)
فرمایا جب ان کی ہلاکت کا وقت آتا ہے تو ہم ان کو زیادہ کردیتے پھر وہ کھیل کود ، رسم و رواج ، گانے بجانے اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھر ان پر تباہی مسلط کردی جاتی ہے ، پرانی قومیں اسی اصول کے تحت نیست ونابود ہوئیں اور پھر آخر میں مکہ والوں کا زمانہ آیا ان کو یاد دلایا گیا کہ پہلی قوموں کے مقابلے میں تم عشر عشیر کے حامل بھی نہیں ہو جب وہ نہ رہے تو تم کیسے بچ سکتے ہو تم اپنی معمولی طاقت پر کیوں اتراتے ہو اور اللہ کی نافرمانی کیوں کرتے ہو ، بہرحال اللہ نے دولت مندوں کو مترف کہا ہے قرآن میں اتراف کی مذمت بیان کی گئی ہے اور سابقہ قوموں کا حال بیان کرکے مکہ والوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اپنی آسودہ حالی کا غلط مطلب نہ لیں ، سورة الواقعہ میں اللہ نے واضح فرمایا ہے (آیت) ” انھم کانوا قبل ذلک مترفین ، وکانوا یصرون علی الحنث العظیم “۔ اس سے پہلے یہ لوگ آسودہ حال تھے ، مگر گناہ عظیم پر اڑے ہوئے تھے ، اسلامی نظام میں انتہائی آسودہ حالی کو رفاہیت بالغہ کا نام دیا گیا ہے ، اسلام افراط وتفریط سے ہٹ کر میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے ، نہ تو بالکل یموست والی اور نہ تکشف والی حالت اختیار کرنے کی اجازت ہے بہترین مکان ، بہترین لباس اور بہترین غذا رفاہیت بالغہ کی تعریف میں آتا ہے جو کہ اتراف کا نتیجہ ہے اس کی بجائے عام نوعیت کی چیزیں استعمال کرنی چاہئیں جن سے نہ تو فقر ظاہر ہوتا ہو اور نہ غرور وتکبر جھلکتا ہو امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے حجۃ اللہ البالغہ میں باب باندھ کر فارسیوں اور رومیوں کا ذکر فرمایا ہے وہ چاہتے تھے کہ ان کے پاس محلات باغات ، اچھی سواریاں اور نوکر چاکر ہوں ، پھر اس مقصد کے حصول کے لیے انہیں ٹیکس لگانے پڑتے تھے ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ایک طبقہ امراء کا وجود میں آتا اور دوسرا طبقہ گدھوں کی طرح بن کر رہ جاتا جنہیں کام کے علاوہ عبادت و ریاضت کا وقت بھی نہیں ملتا تھا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے رومیوں اور ایرانیوں کی جڑ بنیاد ہی اکھاڑ دی اور اپنے نبی بھیج کر دونوں تہذیبوں کو ختم کردیا اور انبیاء کی وساطت سے اسلامی تہذیب کو پیش کیا تو فرمایا کہ جب ان پر فسق ثابت ہوجاتا ہے تو ہم انہیں جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں ۔
(سامان عبرت)
سابقہ اقوام کا ذکر کرکے اللہ نے خلاصہ یہ بیان فرمایا (آیت) ” ولکم اھلکنا من القرون من بعد نوح “۔ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا قرون ، قرن کی جمع ہے جس کا اطلاق دس ، چالیس ، ساٹھ ، اسی ، سو اور ایک سو بیس پر بھی ہوتا ہے ، قرن سے مراد ایک زمانے اور ایک تہذیب کے لوگ بھی ہوتے ہیں ، تو فرمایا ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد عاد ثمود جیسی کتنی ہی تہذیبوں کو ہلاک کردیا ، تمہیں ان کے حالات سے عبرت پکڑنی چاہئے ، جب وہ اپنے رسولوں کی تکذیب کرکے سزا سے نہیں بچ سکے تو تم اللہ کی گرفت سے کیسے بچ سکتے ہو ؟ اللہ کا آخری رسول آگیا ہے اب حجت تمام ہوچکی ہے ۔ (آیت) ” وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا “۔ تیرا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے ، اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، ہر شخص کا عقیدہ ، عمل اور اخلاص اس کے سامنے ہے اور وہ ہر ایک کا محاسبہ کریگا لوگوں کو تباہ حال اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ،
Ayahs 17:18–22ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے قوموں کو ہلاکت کا فلسفہ بیان فرمایا کہ پہلے ہم ان کی طرف رسول بھیج کر حجت تمام کرتے ہیں ، پھر جب بستی کو ہلاک کرنا مقصود ہوتا ہے ان کی طرف اپنا حکم بھیجتے ہیں ، جب وہ احکام الہی کا انکار کرتے ہیں تو ان پر بات ثابت ہوجاتی ہے تو وہ ہلاک دیے جاتے ہیں ، اللہ نے بطور مثال فرمایا کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کے بعد بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، وہ کفر ، شرک اور معاصی کا شکار ہوچکے تھے ، انبیاء کرام کی تکذیب کرتے تھے ان کے اس فسق کی وجہ سے اللہ نے انہیں سزا دی فرمایا تمہیں سابقہ اقوام کے حالات سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ،
(دنیا طلبی)
اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے کہ وہ کسی مجرم قوم کو فورا ہلاک نہیں کرتا بلکہ اس کی اصلاح کے لیے ایسے حالات اور اسباب پیدا کرتا ہے جن میں غور وفکر کرکے برائی کا راستہ چھوڑ کر نیکی کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اس کے برخلاف انسان عام طور پر جلد باز واقع ہوا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کی فرمائش فورا ہی پوری کردی جائے ، اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ قانون بیان فرمایا ہے ۔ (آیت) ” من کان یرید العاجلۃ “۔ جو شخص جلدی کی زندگی کا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے خود دنیا کو بھی عاجلہ کہا گیا ہے ، تو مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اسی دنیا میں مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس دنیا کی زندگی تو بالکل عارضی ہے ، اور اگر کوئی شخص اپنے لیے پوری دنیا بھی سمیٹ لیتا ہے تو آخرت کی دائمی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں اسی بات کو سورة الاعلی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا “۔ تم تو دنیا کی زندگی کے پیچھے بھاگ رہے ہو ، مگر حقیقت یہ ہے (آیت) ” والاخرۃ خیروابقی “۔ کہ آخرت ہی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، سورة الدھر میں ارشاد ہوا ہے (آیت) ” ان ھؤلآء یحبون العاجلۃ ویذرون ورآئھم یوم ثقیلا “۔ یہ لوگ جلدی کی زندگی یعنی اس دنیا کے مال ومتاع کو پسند کرتے ہیں اور قیامت کے بھاری دن کو پس پشت ڈال رکھا ہے ۔
تو فرمایا جو شخص اس جلدی والے گھر کو پسند کرتا ہے (آیت) ” عجلنا لہ فیھا ما نشآء “ تو ہم اس کے لیے اس میں جلدی کرتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جب کوئی دنیا طلب کرتا ہے تو ہم اپنی منشاء کے مطابق مطلوبہ چیز میں سے دے دیتے ہیں ، ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہم ہر طلب گار کو عطا نہیں کردیتے بلکہ ” لمن نرید “ اسے عطا کرتے ہیں جسے ہم چاہتے ہیں مطلب یہ کہ دنیا کے طالبین میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اتنا عطا کردیتا ہے ، ہر شخص کی ہر فرمائش پوری کرتا اللہ تعالیٰ کے لیے ضروری نہیں ، اسی سلسلہ میں عربی شاعر کہتا ہے ،
ما احسن الدین والدنیا اذا اجتمعا
واقبح الکفر والافلاس بالرجل “۔
یہ کتنی اچھی بات ہے کہ کسی شخص کو دین اور دنیا دونوں کی سعادت حاصل ہوجائے اور کتنی بات ہے کہ انسان کفر اور تنگدستی میں مبتلا ہوجائے ، ظاہر ہے کہ دین تو جبھی حاصل ہوگا جب وہ پورے حقوق ادا کرے گا اور اگر اس کے ساتھ دنیا میں بھی کشادگی حاصل ہوجائے تو بڑی خوش قسمتی کی بات ہے ۔
(تقسیم بہ منشائے خداوندی)
مگر دنیا میں رزق کی تقسیم کسی کی طلب پر موقوف نہیں ، بلکہ یہ مصلحت خداوندی کے تابع ہے ، سورة الشوری میں ہے (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر مایشآء “۔ اگر اللہ تعالیٰ روزی کے دروازے سب کے لیے یکساں کشادہ کردیتا تو سب کے سب بغاوت پر اتر آتے ، بلکہ اللہ تعالیٰ رزق کا نزول ایک خاص اندازے اور مصلحت کے مطابق کرتا ہے ، بعض اوقات خواہش کے مطابق یا اس سے زیادہ بھی مل سکتا ہے ، مگر یہ ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی حکمت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو دینا ہے اور کتنا دنیا ہے ۔
فرمایا جو شخص صرف دنیا کا طالب ہے اسے یہاں تو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے (آیت) ” ثم جعلنا لہ جھنم “۔ پھر ہم اس کے لیے جہنم تیار کرتے ہیں (آیت) ” یصلھا مذموما مدحورا “۔ جس میں داخل ہوگا اس حالت میں کہ مذمت کیا ہوا اور دھکیلا ہوا ہوگا اسے نہایت ذلت ورسوائی کے ساتھ گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا ،
(آخرت طلبی)
دنیا کے طالبین کا حال بیان کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ” ومن اراد الاخرۃ “ اور جو کوئی آخرت کا ارادہ رکھتا ہے یعنی آخرت میں بہتری چاہتا ہے اور وہ محض خواہش کا اظہار کرکے ہی نہیں بیٹھ جاتا بلکہ (آیت) ” وسعی لھا سعیھا “ آخرت کے حصول کے لیے حتی الامکان کوشش بھی کرتا ہے ، اور تیسری بات یہ کہ (آیت) ” وھو مومن “ وہ ہے بھی ایماندار ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہے ، اس کے رسولوں اور کتابوں کو تسلیم کرتا ہے اور معاد پر اس کی نظر ہے تو ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” فاولئک کان سعیھم مشکورا “۔ کہ ان کی سعی ضرور ٹھکانے لگے گی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی کوشش کو ضائع نہیں ہونے دیں گے ،
امام ابوبکر جصاص (رح) محمد ابن عجلان راوی سے حدیث نقل کرتے ہیں کہ ایک موقع پر انہوں نے ذکر کیا کہ جس میں یہ تین باتیں نہ ہوں وہ جنت میں کا مستحق نہیں ہوگا پہلی چیز نیت صحیحہ ہے دوسری چیز ایمان صادق ہے اور تیسری چیز عمل مصیب یعنی درست عمل ہے اور درست عمل وہی ہوگا جو سنت کے مطابق ہوگا اگر کوئی اچھا عمل بھی بدعت کے طریقے پر انجام دیا گیا تو وہ مفید نہیں ہوگا بلکہ الٹا وبال جان بن جائے گا ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ (آیت) ” وسعی لھا سعیھا “ میں یہ بات بھی داخل ہے کہ آخرت کے حصول کے لیے ایسی کوشش کرے جو اس کی شایان شان ہے تو پہلی شرط نیت صحیحہ ہے کیونکہ (1) (بخاری جلد 1 ص 2 ومسلم ص 140 ج 2 (فیاض) انما الاعمال بالنیات “۔ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے ، اگر نیت درست ہے تو عمل کا فائدہ ہوگا ورنہ نہیں ، وہاں پر صرف سچا ایمان قبول ہوگا ، جہاں کفر ، شرک ، نفاق ، شک کی آمیزش ہوگی ، وہ ایمان صادق نہیں ہوگا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون “۔ (الانعام) خدا کے عذاب سے امن ان لوگوں کو حاصل ہوگا اور ہدایت یافتہ وہ تصور کیے جائیں گے جو ایمان لائے اور پھر اس ایمان میں کفر وشرک کی ملاوٹ نہ ہونے دی ، اسی طرح درست عمل وہ ہے جو سنت کے مطابق ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” من عمل عملا لیس لیہ امرنا فھو رد “۔ یعنی جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے ، تو وہ ناقابل قبول ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” الدنیا دار من لا دارلہ “۔ یہ دنیا تو اس شخص کا گھر ہے جس کا حقیقت میں کوئی گھر نہیں ، انسان کی زندگی کب تک چلے گی آخر ختم ہو جائیگی اور اس کے ساتھ اس کا یہ گھر بھی ختم ہوجائے گا ، پھر فرمایا ” ومال من لامال لہ “ اور دنیا کا مال صرف اسی شخص کا ہے جس کا حقیقت میں کوئی مال نہیں ” وجمع من لا عقل لہ “ اور دنیا کی خاطر صرف وہ آدمی مال جمع کرتا ہے جو عقل سے خالی ہے آج کے دور کی تمام ترقی یافتہ اقوام کا منتہائے مقصود صرف دنیا ہے (آیت) ” ذلک مبلغھم من العلم “۔ ان کا مبلغ علم صرف دنیا تک محدود ہے انہیں برزخ یا آخرت کا کچھ خیال نہیں ، نہ خدا کی رضا مطلوب ہے ، نہ شرائع الہیہ کے اتباع کی خواہش ، ان کی ساری تگ ودو دنیوی زندگی کے لیے ہوتی ہے بہرحال فرمایا جو آخرت کا ارادہ کرتا ہے اس کے لیے کما حقہ کوشش کرتا ہے اور ہے بھی ایماندار ، تو اس کی کوشش کی قدر دانی کی جائے گی ۔
(عطائے الہی)
فرمایا ” کلا نمد “ ہم سب کو دیتے ہیں ” ھؤلاء وھؤلاء “ ان کو بھی اور ان کو بھی عطائے خداوندی سب کے لیے ہے ، اس سے نہ ایماندار محروم ہیں اور نہ کافر ، اللہ تعالیٰ اچھے لوگوں کی ضروریات بھی پوری کرتا ہے اور برے لوگوں کو بھی اور دیتا اتنا ہے جتنا مناسب سمجھتا ہے اور جو اسکی مصلحت کے مطابق ہوتا ہے یہ سب کچھ (آیت) ” من عطآء ربک “۔ تیرے پروردگار کی بخشش ہے (آیت) ” وما کان عطآء ربک محظورا “ اور تیرے رب کی بخشش روکی ہوئی نہیں ہے ، بلکہ وہ ہر وقت جاری وساری ہے وہ دیتا رہتا ہے مگر ساتھ یہ بھی سمجھا دیا کہ محض دنیا کے طالبین کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے اور جو کوئی آخرت کے لیے سعی کرے گا تو اس کی کوشش ضرور ٹھکانے لگے گی ،
(ایک دوسرے پر فضیلت)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض “۔ دیکھو ! ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضلیت بخشی ہے ، دنیا کی نعمتوں کے معاملے میں تو ایک دوسرے پر برتری حاصل ہے مال و دولت ، زمین ، مکان کارخانے وغیرہ ہر ایک کے پاس یکساں نہیں ، البتہ بعض چیزیں سب کو برابر مل رہی ہیں ، سورج ، چاند ، ہوا ، پانی ، گرمی ، سردی نباتات ہر نیک وبد کو یکساں میسر ہیں ، مگر ابدی نعمتیں صرف ایمان والوں کو حاصل ہوں گی ، اور یہ نعمتیں نیت صالحہ ، ایمان صادق اور سعی صحیحہ کے ساتھ مشروط ہیں ،
دنیا کے معاملہ میں حالات بالکل متفاوت ہیں اللہ نے بعض کو بعض پر برتری عطا فرمائی ہے ، مال و دولت ، جاہ و حشمت کے اعتبار سے ایک کو حاکم اور دوسرے کو محکوم بنایا ہے کوئی بڑا ہے کوئی چھوٹا ہے ، کوئی غنی ہے اور کوئی محتاج ہے ، کوئی صحت مند ہے اور کوئی بیمار ہے کوئی باوسائل ہے اور کوئی بےوسیلہ ہے ، اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے اپنے بندوں کو آزماتا ہے ، بہرحال دنیا کا یہ اونچ نیچ تو عارضی ہے (آیت) ” وللاخرۃ اکبر درجت “۔ اور آخرت کے درجے تو بہت بڑے ہیں ، دنیا میں تو زیادہ تفاوت نہیں ہے ، البتہ آخرت میں درجات و مراتب کے لحاظ سے بہت فرق ہوگا حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ درجات العلی یعنی بلند درجوں والے علیین والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے زمین پر کھڑا ہو کر افق سے گزرتے ہوئے بلند ترین سیارے کو دیکھا جاتا ہے حالانکہ وہ بھی بڑے اونچے درجوں میں ہوں گے اس طرح پستی والوں کے حال میں بڑا تفاوت ہوگا لیکن جو لوگ جنت میں پہنچ جائیں گے ، اللہ ان سب کو ایسا مطمئن کر دے گا کہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ اس سے بہتر اور کوئی نہیں ۔
فرمایا درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے (آیت) ” واکبر تفضیلا “ اور فضیلت کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اصل ایمان ، اعمال صالحہ اور اخلاق کے نتیجے تو وہیں چل کر ظاہر ہوں گے کہ کس شخص میں کس درجہ کا ایمان نیکی اور صلاحیت تھی دنیا کا تفاوت تو ہم دیکھ رہے ہیں ، مگر اس کے مقابلے میں آخرت کا تفاوت بہت بڑا ہوگا ، بہرحال آخرت بڑے درجوں اور فضیلت والی ہے ۔
(شرک سے بچاؤ )
آخرت کے اعلی درجات کی بات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کا انحصار توحید خالص پر ہے ۔ لہذا (آیت) ” لا تجعل مع اللہ الھا اخر “۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ ٹھہراؤ الہ وہ ہوتا ہے جو نافع اور ضار ہو ، تمام مافوق الاسباب پر تصرف رکھتا ہو علیم کل ، قادر مطلق ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان ہو چونکہ یہ صفات خدا تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتی اس لیے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اگر تم کسی دوسرے کو بھی معبود تسلیم کرو گے (آیت) ” فتقعد مذموما مخذولا “ تو تم بیٹھ جاؤ گے ندمت لیے ہوئے اور رسوا کیے ہوئے ، خدا کا شریک ٹھہرانے سے مجرم بن جاؤ گے ، اگر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو گے اسے مافوق الاسباب پکارو گے ، اس کے نام کی نذر ونیاز دو گے ، اس کی بھی ایسی ہی تعظیم کرو گے جیسی اللہ کی تعظیم ہے ، تو پھر تمہارا حشر بھی سابقہ کافر ومشرک قوموں سے مختلف نہیں ہوگا یہ آیت اگلے مضمون کی تمہید ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی عبادت کا حکم دے کر توحید کو واضح فرمایا ہے ۔