17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 17:66–69

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو چلاتا ہے تمہارے لیے کشتیوں کو سمندر میں تاکہ تم تلاش کرو اس کے فضل سے ، بیشک وہ تمہارے ساتھ مہربان ہے ۔

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب پہنچتی ہے تمہیں تکلیف سمندر میں تو گم ہوجاتے ہیں وہ جن کو تم پکارتے ہو ، مگر اسی کی ذات ہوتی ہے پس جب کہ اس نے نجات دی تم کو خشکی کی طرف تو تم اعراض کرتے ہو اور ہے انسان ناشکر گزار ۔

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم بےفکر ہوگئے ہو اس بات سے کہ وہ دھنسا دے تم کو خشکی کے کنارے پر یا بھیج دے تم پر آندھی ، پھر تم نہ پاؤ اپنے لیے کسی کو کارساز ۔

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

کیا تم بےفکر ہوگئے ہو اس بات سے کہ لوٹا دے تمہیں دوبارہ اسی (سمندر) میں پس بھیج دے تم پر سخت ہوا ، پس غرق کر دے تم کو اس وجہ سے کہ تم نے کفر کیا پھر نہ پاؤ گے تم اپنے لیے ہمارے برخلاف کسی کو مطالبہ کرنے والا۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا مضمون بیان فرمایا پھر شیطان کی نافرمانی اور وسوسہ اندازی کا ذکر ہوا کہ جس کے ذریعہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اب آج کی آیات میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے بحری نقل وحمل کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور دوسرے اسی مناسبت سے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے وعید بھی فرمائی ہے کہ اگر تم کفر پر اصرار کرتے رہے یا اس کی نعمتوں کی ناشکر گزاری کی تو وہ تمہیں خشکی پر بھی سزا دینے پر قادر ہے ۔ (بحری سفر کے ذرائع) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر “۔ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لیے کشتیاں اور جہاز سمندر میں چلاتا ہے کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز بنانے کا طریقہ بھی اللہ ہی نے انسانوں کو سکھلایا اور پھر ہواؤں کے زور پر ان کو چلانا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہی ہے پرانے زمانے میں بادبانی جہاز ہوتے تھے جو ہوا کے رخ پر چلتے تھے ، اب ترقی کے زمانے میں تیل اور بھاپ کے ذریعے ہزاروں ٹن وزنی جہاز سمندر کی سطح پر تیرتے ہوئے نظر آتے تھے ، البتہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے اور اوپر سے بارش میں بھی اپنا جاہر دکھاتی ہے تو بڑے جہاز بھی تنکے کی طرح ہچکولے کھانے لگتے ہیں ، بڑی بڑی موجیں اٹھتی ہیں اور تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود جہاز کے حادثے کا شکار ہوجانا خارج از امکان نہیں ہوتا ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی شفقت کا نتیجہ ہے کہ اسی (80) اسی (80) ہزار ٹن وزنی جہاز اپنے بوجھ سے دگنا وزن اٹھا کر سمندر کے سینے کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اس زمانے میں بھی جہازوں میں آگ لگ جانے اور ان کی غرقابی کی داستانیں اخبارات کے صفحات پر آتی رہتی ہیں ، آمد ورفت کے جہاں دیگر ذرائع میں ترقی ہوئی ہے وہاں بحری جہازوں کی نقل و حرکت بھی بہت بڑھ گئی ہے اور یہ جہاز لاکھوں ٹن وزنی سامان ایک برا اعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچا رہے ہیں تاہم یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کا مرہون منت ہے ۔ (فضل ربی کی تلاش) فرمایا تمہارا پروردگار تمہارے لیے دریاؤں اور سمندر روں میں کشتیاں چلاتا ہے جس سے مقصود یہ ہے (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو تمام جائز امور کے لیے بحری سفر کرنا فضل ربی میں شامل ہے ، مثلا علم کے حصول کے لیے سفر کرنا ، حج وعمرہ جیسی عبادات ، دین کی تبلیغ اور فریضہ جہاد کی ادائیگی کے لیے سفر اسی مد میں آتا ہے ، نیک لوگوں کی ملاقات اور بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے تجربات حاصل کر نیکی غرض سے جانا بھی فضل ربی کی تلاش میں شامل ہے ، البتہ ان تمام امور میں جو کام سرفہرست ہے وہ تجارت کے ذریعے رزق حلال کی تلاش ہے لوگ روزی کے حصول کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کرتے ہیں تاکہ اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکیں آج کل یہ کام زیادہ تر حکومتی سطح پر ہو رہا ہے ، ایک ملک دوسرے ملک کو کوئی سامان دے رہا ہے اور کچھ سامان اس سے لے رہا ہے بین الاقوامی طور پر بڑے بڑے تجارتی معاہدے ہوتے ہیں جن کے تحت کروڑوں ٹن وزنی سامان ایک ملک سے دوسرے ملک کو منتقل ہوتا ہے اگرچہ اب سامان کی نقل وحمل کے لیے بڑے بڑے ہوائی جہاز بھی استعمال میں لائے جا رہے ہیں مگر بھاری سامان کا بیشتر حصہ آج بھی سمندری راستوں سے ہی پہنچتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل حال نہ ہو اور حالات ناسازگار ہوجائیں تو جہازوں کی آمد ورفت میں آج بھی خلل پڑجاتا ہے ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہ کشتیاں اور جہاز اللہ تعالیٰ ہی چلاتا ہے تاکہ تم اپنے لیے رزق حلال تلاش کرسکو (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “۔ بیشک وہ تمہارے ساتھ بڑا ہی مہربان ہے دریاؤں اور سطح سمندر پر دوڑتی ہوئی کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز اس مالک الملک کی کار سازی ہی کانمونہ ہیں ۔ (طوفان میں اللہ کی یادآوری) اب اگلی آیت میں بحرسفر ہی کے تناظر میں مشرکین کا رد کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذ مسکم الضر فی البحر “ جب سمندر میں سفر کرکے دوران تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے طوفان آجاتا ہے کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے (آیت) ” ضل من تدعونی الا ایاہ “۔ تو وہ تمام گم ہوجاتے ہیں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو جن غیر اللہ کو اپنی حاجات میں پکارتے ہو ، نذر ونیاز دیتے ہو ، جن کی دہائی دیتے ہو اور جن کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہو ، مصیبت کے وقت وہ سب بھول جاتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک ہی یاد رہ جاتا ہے جو کہ حقیقی کارساز اور مصیبت سے نجات دینے والا ہے ۔ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ بھی دشمن اسلام تھا ، مکہ فتح ہوا تو وہ جان کے خوف سے بھاگ گیا ، جدہ پہنچ کر جہاز میں سوار ہوگیا تاکہ کہیں حبشہ وغیرہ کی طرف چلا جائے ، اتفاق کی بات کہ دوران سفر سمندر میں زبردست طوفان برپا ہوا جس میں جہاز پھنس گیا ، ملاحوں نے کہا کہ ان حالات میں اگر اللہ چاہے تو جہاز بچ سکتا ہے وگرنہ اور کوئی ہستی نہیں جو اس مشکل وقت میں کام آسکے یہ سن کر عکرمہ کے دل پر چوٹ لگی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اگر سمندر میں اللہ کے سوا کوئی کار ساز نہیں تو خشکی پر اس کے سوا کون مدد کو پہنچ سکتا ہے اور پھر ہم لات ، منات اور عزی وغیرہ کی پرستش کس لیے کرتے ہیں ، اس نے دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ اگر اللہ نے اس طوفان سے بچا لیا تو پھر سیدھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا کیونکہ یہی وہ نکتہ ہے جو وہ سمجھاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی کارساز و مددگار نہیں کوئی نافع اور ضار نہیں اور نہ ہی کوئی عبادت کے لائق ہے ، مجھے امید ہے کہ میں محمد کو مہربان اور شفیق پاؤں گا ، خدا کی قدرت جہاز بچ گیا ، جہاز سے اتر کر عکرمہ سیدھا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لیے چل پڑا اس کی بیوی پہلے مسلمان ہوچکی تھی ، اس نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عکرمہ کے لیے امان چاہی آپ نے قبول کرلی اور اپنی خاص نشانی بھی اس کو دی کہ جاؤ جا کر اپنے خاوند کو لے آؤ ، الغرض ! بیوی راستے میں ہی مل گئی جو انکو لیکر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئی ، آپ نے دیکھا تو عکرمہ کو خوش آمدید کہا ” مرحبا بالراکب المھاجر “ فرمایا تم ہجرت کرکے آرہے ہو ہم تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں حضرت عکرمہ ؓ نے سچے دل سے اسلام قبول کیا اور اسلام کی خدمت میں پیش پیش رہے جہاد میں بھی بڑھ کر حصہ لیتے رہے حتی کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں عجمیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے ، (نجات ملنے پر دوبارہ شرک) فرمایا مصیبت کے وقت تو تم خالص اللہ ہی کو پکارتے ہو کہ اس کے سوا کوئی نجات دہندہ نہیں (آیت) ” فلما نجکم ‘ ’ جب تمہیں مشکل سے نجات حاصل ہوجاتی ہے (آیت) ” الی البر “ سمندر کی تاریکیوں سے نکل کر خشکی پر پہنچ جاتے ہو (آیت) ” اعرضتم “۔ تو پھر وہی اعراض کرنے لگتے ہو مالک حقیقی ، وحدہ لاشریک سے منہ موڑ کر پھر غیر اللہ کو پکارنے لگتے ہو مالک حقیقی ، وحدہ لاشریک سے منہ موڑ کر پھر غیر اللہ کو پکارنے لگتے ہو ، انہیں کی نذر ونیاز شروع کردیتے ہو اور پھر شرکیہ رسوم ادا کرنے لگتے ہو ، فرمایا (آیت) ” وکان الانسان کفورا “۔ انسان تو بڑا ہی ناشکر گزار ہے ، یہ اپنے محسن حقیقی کی قدر نہیں کرتا جب یہ موت کی آغوش کے قریب ہوتا ہے تو اسی کو پکارتا ہے مگر جب وہ اپنی رحمت سے مصیبت کو دور کردیتا ہے تو اس نجات کو غیروں کے ساتھ منسوب کرنے لگتا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پرانے زمانے کے مشرکوں کا یہ حال تھا کہ مصیبت کے دوران جب تمام ظاہری اسباب منقطع ہوجاتے تو وہ خالص اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے تھے کہ سب سے بڑا وہی ہے اور اس مصیبت سے نجات دے سکتا ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے کے مشرکین ان سے بھی گئے گزرے اور بدنصیب ہیں کہ مصیبت کے وقت بھی غیروں کو پکارتے ہیں ، کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کو پکار رہا ہے کوئی علی ہجویری (رح) کو آوازیں دے رہا ہے کوئی خواہ اجمیری (رح) کی طرف نظریں جمائے بیٹھا ہے ، کوئی بہاؤ الحق زکریا (رح) کی درگاہ پر حاضر ہے اور کوئی شہباز قلندر (رح) کی نذر مان رہا ہے یہ سارے بزرگ تو اللہ کے برگزیدہ بندے تھے ، وہ تو خود اللہ سے مدد طلب کرتے رہے ، وہ خود خدا تعالیٰ کے تقرب چاہنے والے تھے ، ایسے میں بھلا ، انبیاء ، ملائکہ ، جنات اور اولیاء تمہاری کیا مدد کریں گے ، وہ خود اسی سے دعا کرتے رہے ، پریشانی میں ڈالنا اور اس سے نجات دینا صرف اللہ کا کام ہے ، لہذا اسی کو پکارنا چاہئے اور اسی سے مدد طلب کرنی چاہئے ، اللہ کا فرمان ہے کہ جس دن قیامت برپا ہوگی ، اللہ کے سوا تمام معبود دشمن بن جائیں گے جب لوگ ان سے مدد کی درخواست کریں گے کہ ہم دنیا میں تمہاری پرستش کرتے رہے ، اب ہمارا کام بناؤ تو وہ صاف جواب دے دیں گے ، (آیت) ” ماکنتم ایانا تعبدون “۔ (یونس ، 28) تم ہماری عبادت کہاں کرتے تھے تم تو اپنے نفس اور شیطان کے پیچھے لگے ہوئے تھے ہم نے تمہیں کب کہا تھا کہ ہماری پوجا کرو اور ہماری نذر ونیاز دو ، وہ سب ان کے خلاف گواہی دیں گے ، اللہ کے فرشتے ، انبیاء اور اولیاء اللہ کے حضور ﷺ نہایت عاجزی سے عرض کریں گے ، پروردگار ! ہم نے دنیا میں تیرے سوا کسی کو کارساز نہیں بنایا تو ہم ان سے اپنی کارسازی کیسے منوا سکتے تھے غرضیکہ حقیقی کا رساز اللہ تعالیٰ ہی ہے ، وہ نافع وضار ہے ، اس نے اپنے اختیارات کسی کو تفویض نہیں کئے ، نہ حقیقی طور پر اور نہ مجازی طور پر اس کی کوئی اولاد نہیں ، وہ غنی اور صمد ہے ، ساری مخلوق اس کی محتاج ہے (آیت) ” یایھا الناس انتم الفقرآء الی اللہ ، واللہ ھو الغنی الحمید “۔ (فاطر ، 15) اے لوگو ! تم سب اللہ کے فقیر ہو نبی ، ولی ، فرشتے ، جنات ، اپنی حیات میں بھی اس کے محتاج ہیں ، اور بقائے حیات میں بھی اسی کے محتاج ہیں ، غنی اور تعریفوں والا صرف وہی ہے ۔ (خشکی پر سزا) آگے اللہ نے وعید کے طور پر فرمایا (آیت) ” افامنتم ان یخسف بکم جانب البر “۔ کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے ہو کہ خشکی کے کنارے پر دھنسا دیے جاؤ ، جب خدا کا قہر نازل ہو تو تم خواہ جنگل میں ہو یا صحرا میں یا زمین کے کسی بھی خطے میں ، وہ تمہیں ہلاک کرنے پر قادر ہے ، اس نے قارون کو اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا تھا ، اللہ نے قوم فرعون اور قوم نوح کو پانی میں ڈبو کر زمین دھنسا دیا ، اس قسم کے واقعات زلزلے کی صورت میں آج بھی دنیا میں پیش آتے رہتے ہیں ، 1923 ء میں جاپان میں زبردست زلزلہ آیا تھا جس کی وجہ سے زمین میں ہزار ہزار میل لمبی دراڑیں پڑگئی تھی اور لوگ زمین میں زندہ دھنس گئے تھے ، اس سانحہ میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ انسان موت کی آغوش میں چلے گئے اور اتنے ہی زخمی بھی ہوئے ، اس وقت مصری شاعر شوقی نے کہا تھا ۔ قف بتوکیو وطف علی یوکوھا ما وسل القریتین کیف القیمۃ : ٹوکیہ اور یوکوہا کی حالت پر افسوس ہے ، دو بستیوں سے پوچھو کہ قیامت کیسی ہوتی ہے ، ان پر زلزلے کی صورت میں قیامت وارد ہوچکی ہے ، جب قیامت کبری کو پوری کائنات درہم برہم ہوجائے گی تو ایسی ہی حالت ہوگی ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے (آیت) ” او یرسل علیکم حاصبا “۔ یا تم پر تندوتیز آندھی بھیج دے جو پتھر برسانے والی ہو ، جس طرح کہ اس نے قوم لوط پر پتھروں کی بارش کی (آیت) ” ثم لا تجدوا لکم وکیلا “۔ پھر تم نہ پاؤ گے اپنے لیے کوئی کارساز جو تم سے اس طوفان کو دور کرکے تمہاری جانوں کو بچا سکے ۔ (سمندری طوفان) فرمایا (آیت) ” ام امنتم ان یعیدکم فیہ تارۃ اخری “۔ کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ اسی سمندر میں لے جائے جہاں سے اس نے تمہیں نجات دی تھی (آیت) ” فیرسل علیکم قاصفا من الریح “ پھر وہ تم پر سخت ہوا بھیج دے جو توڑنے والی ہو ، قصف کا معنی توڑنا ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اتنی تیز ہوا تم پر بھیجے کہ تم آپس میں ٹکڑا ٹکڑا کر ٹوٹ پھوٹ جاؤ اور بالآخر ہلاک ہوجاؤ ، (آیت) ” فیغرقکم بما کفرتم “ ۔ پھر وہ تمہارے اس کفر کی وجہ سے تمہیں وہیں سمندر میں غرق کر دے ، یہاں پر کفر سے مراد کفران نعمت ہے کہ تم نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدردانی نہ کی ، ہر چیز کا عطا کرنے والا وہ ہے مگر تم نے غیروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان کے آگے دست سوال دراز کیا ، فرمایا جب خدا تعالیٰ سزا دینے کا فیصلہ کرے (آیت) ” ثم لا تجدوا لکم علینا بہ تبیعا “۔ پھر نہ پاؤ گے تم اپنے لیے ہمارے خلاف کسی کو باز پرس کرنے والا جو پیچھے لگا ہوا ہو ، مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی کو اپنے انعامات سے نوازے یا کسی کو سزا میں مبتلا کردے ، اس سے باز پرس کرنے والا کوئی نہیں کہ ایسا کوئی نہیں کہ ایسا کیوں کیا ، محاسبہ کرنے اور باز پرس کرنے والی ذات تو خود خدا تعالیٰ کی ہے بھلا اس سے کون پوچھ سکتا ہے کہ مولا کریم ! تو نے فلاں فیصلہ کیوں اور کیسے کیا ؟ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ناشکر گزاری اور غفلت کے پیش نظر اپنی وحدانیت کا اثبات اور شرک کا ابطال ایک دوسرے عنوان کے ساتھ کردیا ہے کہ کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ کسی وقت بھی کسی قسم کی سزا دینے پر قادر ہے ۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے عزت بخشی ہے اولاد آدم کو اور ہم نے ان کو سواری دی ہے خشکی اور سمندر میں اور ہم نے روزی دی ہے ان کو پاکیزہ (اور عمدہ سے عمدہ ) چیزوں سے اور ہم نے ان کو فضیلت بخشی ہے بہت سی مخلوق پر جس کو ہم نے پیدا کیا ہے بڑی فضیلت

ربط آیات : پہلے اللہ نے شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات بیان کیا ، پھر انسان کی عاجزی اور بےچارگی کا ذکر کیا کہ مصیبت کے وقت وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کو پکارتے ہیں مگر جب وہ مصیبت دور ہوجاتی ہے تو دوبارہ شرکیہ کام کرنے لگتے ہیں اللہ نے فرمایا ہے کہ انسان بہت ہی ناشکر گزار ہے اس کے بعد اللہ نے وعید سنائی کہ لوگوں کو اس بات سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی میں دھنسا دے یا دوبارہ سمندر میں جانے پر مجبور کر دے اور وہیں ان کو ڈبو دے ، اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہوگا ۔ (شرف انسانیت) گذشتہ سے پیوستہ درس میں گزر چکا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا ” ء رایتک ھذا الذی کر مت علی “۔ مجھے بتلا ؤ کہ کیا تم نے اس شخص (آدم علیہ السلام) کو مجھ پر فضیلت بخشی ہے ، اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر تو مجھے قیامت تک مہلت دے دے تو میں اس کی اولاد کو گمراہ کرتا رہوں گا ، شیطان کے اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آج کی آیت کریمہ میں اولاد آدم کی فضیلت کا ذکر فرمایا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کرمنا بنی آدم “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے اولاد آدم کو عزت اور بزرگی بخشی ہے آیت کے آگلے حصے میں اللہ نے اس فضیلت کی بعض باتوں کا ذکر بھی فرمایا ہے ۔ (فضیلت عامہ) اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو فضیلت بخشی ہے ، وہ دو قسم سے ہے فضیلت عامہ تو عام بنی نوع انسان کو حاصل ہے جس میں اہل ایمان اور کافر مشرک سب شامل ہیں ، جب کہ فضیلت خاصہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کو عطا فرمائی ہے ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسی عظیم نعمت عطا کر کے اسے باقی مخلوق پر فضیلت بخشی ہے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ نے عقل کو پیدا کر کے فرمایا سامنے آؤ وہ سامنے آئی ، پھر اللہ نے فرمایا پیچھے ہٹ جاؤ وہ پیچھے ہٹ گئی پھر اللہ نے فرمایا میں جو کچھ بھی انسان کو دوں گا تیری وجہ سے ہی دوں گا اور تیری وجہ سے ہی مؤاخذہ کروں گا تو گویا انسان عقل کی وجہ سے ہی مکلف ہے فرشتے اگرچہ ہٹ گئی پھر اللہ نے فرمایا میں جو کچھ بھی انسان کو دوں گا تیری وجہ سے ہی دوں گا اور تیری وجہ سے ہی مؤاخذہ کروں گا ، تو گویا انسان عقل کی وجہ سے ہی مکلف ہے فرشتے اگرچہ اللہ کی مقدس ترین مخلوق ہیں اور صاحب عقل بھی ہیں مگر ان میں شہوت کا مادہ مفقود ہے جس کی وجہ سے ان کا محاسبہ بھی نہیں ہے کیونکہ ان کی طرف سے اللہ کی نافرمانی کا کوئی امکان نہیں ۔ امام ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو اس لیے فضلیت بخشی ہے کہ اسے زبان حاصل ہے جسکی بنا پر یہ گفتگو کرتا اور اپنا مافی الضمیر بیان کرسکتا ہے پرانے یونانی منطقی انسان کو حیوان ناطق یعنی بولنے والا جاندار کہتے تھے یہ ایسا کمال ہے جو کسی دوسری مخلوق چرند ، درند ، پرند وغیرہ کو حاصل نہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) انسان کی تعریف زیادہ بہتر طریقے پر کرتے ہیں ” الذی یتفکر ویعمل بالالات “۔ یعنی انسان وہ ہستی ہے جو غور وفکر کرتی ہے اور کام کاج کے لیے آلات استعمال کرتی ہے ، اب خوردونوش میں ہاتھوں کا استعمال بھی انسان کی ہی خصوصیت ہے ، دیگر جانور اور پرندے اپنی خوراک منہ سے کھاتے ہیں جب کہ یہ شرف صرف انسان کو حاصل ہے کہ وہ ہاتھوں سے پکڑ کر خوراک منہ میں ڈالتا ہے ، عبداللہ بن عباس ؓ کی توجہیہ ہے ۔ صاحب ” کتاب الخراج “ امام ابو یوسف خلیفہ ہارون الرشید عباسی کے دور میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز تھے ، آپ متقی محدث اور فقیہہ تھے ، ایک دفعہ ہارون الرشید نے کھانے کی مجلس قائم کی جس میں امام صاحب (رح) بھی مدعو تھے ، خلیفہ نے کھانے کے ساتھ دسترخوان پر چمچے بھی رکھوائے تاکہ حسب ضرورت مہمان انکو بھی استعمال کرسکیں جب امام صاحب (رح) نے یہ دیکھا تو خلیفہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کے جد امجد حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے تو یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے انسان کے لیے انگلیاں بنائی ہیں اور ہم نے اولاد آدم کو فضیلت بخشی ہے لہذا انگلیوں کے ساتھ کھانا کھانا ہی انسان کا کمال ہے اور چمچوں کا استعمال محض تکلف ہے خلیفہ ہارون الرشید پر اس نصیحت کا اس قدر اثر ہوا کہ اس نے فورا دسترخوان سے چمچے اٹھوا دیے ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرماتے تھے کیونکہ ساری انگلیوں کا استعمال حرص کی علامت ہے ۔ (انسان کے جسمانی کمالات) انسان کے شرف کی یہ وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جسمانی اور روحانی کمالات عطا فرمائے ہیں ، انسان کا اولین جسمانی کمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا ، سورة ص میں اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی “ اے ابلیس ! جس ہستی کو میں نے اپنے دست قدرت سے بنایا اس کے سامنے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا ، حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن العاص کو روایت میں جسے امام طبرانی (رح) نے بیان کیا اور امام ابن کثیر (رح) نے نقل کیا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے ۔ ” ان الملئکۃ قالت یاربنا اتیت بنی ادم الدنیا یاکلون فیھا ویشربون ویلبسون ونحن نسبح بحمدک ولا ناکل ولا نشرب ولا نلھون کما جعلت لھم الدنیا فاجعل لنا الاخرۃ قالء اجعل صالح ذریۃ من خلقت بیدیہ کمن قلت لہ کن فیکون “۔ بیشک فرشتوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ! اولاد آدم کو تو نے دنیا عطا کی ، وہ دنیا میں کھاتے پیتے اور لباس پہنتے ہیں اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور نہ کھاتے ہیں اور پیتے ہیں اور نہ کھیل کود کرتے ہیں تو جس طرح تو نے اولاد آدم کے لیے دنیا بنا دی اس طرح ہمارے آخرت بنا دے ، اللہ نے فرمایا کیا میں اپنے ہاتھ سے پیدا کردہ ہستی کی نیک اولاد کو ان کے برابر کر دوں جن کو میں نے کن ” ہوجاؤ “ تو وہ ہوگئے ؟ اللہ نے نوع انسانی کے متعلق یہ بھی فرمایا ہے (آیت) ” ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشآء “۔ (آل عمران) خدا تعالیٰ وہ ہے جو شکم مادر میں تمہاری تصویر بناتا ہے جس طرح چاہے ، انسان کی شکل و صورت قطرہ آب پر بن جاتی ہے کیا یہ کم شرف انسانیت ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حسن صورت بھی عطا فرمائی ہے روئے زمین کی تمام مخلوق میں انسان خوبصورت ترین ہستی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورة التین میں فرمایا ہے (آیت) ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم “۔ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت عطا کی ، اس کا یہ بھی احسان ہے کہ انسان کو سیدھا قد عطا کیا ، حالانکہ مخلوق میں سے کچھ جاندار ٹیڑھے ہیں کچھ چار پاؤں پر جھکے ہوئے ہیں اور کچھ بالکل زمین کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو پاؤں دیے اور اس کا سراونچا رکھا حکماء کہتے ہیں کہ سر کی بلندی کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا مقصد بھی بلند ہے یعنی خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچنا انسانی جسم کے اعضا کی جوڑ بندی بھی کمال درجے کی ہے ہر عضو اپنی اپنی جگہ کمال طریقے سے موزوں کیا ہے اور اس کا رخ بھی سامنے کی طرف کردیا ہے ، انسان میں موجود روح الہی اور نفس ناطقہ بھی کمال درجے کی چیز ہے ، غذا کے معاملے میں بھی انسان کو دوسری مخلوق پر فوقیت حاصل ہے ، یہ اناج اور پھل کا مغز استعمال کرتا ہے جب کہ چھلکا وغیرہ دوسرے جانوروں کی خوراک بنتا ہے اللہ نے انسان کا سلسلہ تولید بھی کمال درجے کا مقرر کیا ہے ، انسان کو یہ سارے شرف حاصل ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو کمال درجے کا متمدن بنایا ہے ، یہ نظافت پسند ہے اور طہارت اس کی فطرت میں داخل ہے جانور کے آگے گندی جگہ پر بھی چارہ رکھ دیا جائے تو کھا لیتا ہے مگر انسان کسی گندے برتن میں بھی کھانا پسند نہیں کرتا ، حضور ﷺ چمڑے کا دسترخوان زمین پر بچھا کر کھانا کھاتے تھے ۔ انسان کو دوسری مخلوق پر اس لحاظ سے بھی شرف حاصل ہے کہ اللہ نے اس میں فہم ، تمیز اور تحقیق وتجسس کا مادہ بھی رکھا ہے جس کی وجہ سے چیزوں کی حقیقت کو سمجھتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو مزید شرف اس لحاط سے دیا ہے کہ اسے دوسری چیزوں پر تسلط حاصل ہے ، انسان تمام جانوروں ، درختوں ، ہواؤں ، پتھروں اور پانیوں سے کام لیتا ہے اللہ نے اسے حکومت کر نیکی استعداد بھی بخشی ہے انسان اپنے لیے معیشت کی تدبیر بھی کرتا ہے اور آخرت کی تدبیر بھی انسان عقل وفہم کی بناء پر اچھے اعتقادات اور عمدہ اخلاق بھی حاصل کرسکتا ہے ۔ اللہ نے انسان کی روح میں نور معرفت کا مادہ بھی رکھا ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے ، البتہ یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کے نتیجے میں اس نور معرفت کو ضائع کردے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے اکثر لوگ فائدہ نہیں اٹھاتے ، اللہ نے انسان کو یہ فضیلت بھی عطا کی ہے کہ اسے لکھنا پڑھنا سکھایا جس سے دوسرے جاندار بےبہرہ ہیں ظاہری شکل و صورت میں اللہ نے مردوں کے لیے داڑھی اور عورتوں کے لیے بالوں میں حسن رکھا ہے انسان کے مزاج میں اعتدال رکھا ہے جو کسی دوسری ہستی میں نہیں ہے ، انسان کو صنعت وحرفت کی اعلی درجے کی استعداد عطا کی ہے جس کی بناء پر لاکھوں اور کروڑوں اشیاء تیار کرتا ہے یہ عام فضیلت کی باتیں ہیں جن میں مومن ، کافر یا برے بھلے کی تمیز نہیں ہے ۔ (انسان کے روحانی کمالات) اللہ تعالیٰ نے انسان میں بہت سے روحانی کمالات بھی رکھے ہیں مثلا اولین کمال یہ ہے کہ اس نے انسان کا ڈھانچہ بنا کر اس میں جان پھونکی ، پھر اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے اس کی تمام اولاد کو نکال کر ان سے عہد لیا (آیت) ” الست بربکم قالوا بلی “۔ (الاعراف) بھلا بتلاؤ تو کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ تو سب روحوں نے بیک زبان کہا کیوں نہیں ؟ مولا کریم تو ہی ہمارا رب ہے ، پھر اللہ نے یہ روحانی شرف بھی بخشا کہ بنی نوع انسان میں نبوت کا سلسلہ رکھا اللہ نے ان کی طرف اپنے رسول اور کتابیں بھیجیں ، خدا کے مقرب بندے اولیاء بھی ان کی روحانی تربیت کے لیے آتے رہے ۔ اللہ نے انہیں ایمان اور اسلام کی دولت سے مشرف کیا ، آداب اور اخلاق سکھائے ، عالم بالا اور عالم لاہوت کی طرف ترقی عطا فرمائی ، حظیرۃ القدس اور مقام علیین تک رسائی نصیب فرمائی ، اور اس طرح بنی نوع انسان خصوصا اہل ایمان کو عزت بخشی ، قرآن میں اللہ نے ایمانداروں کو خیرالبریہ یعنی مخلوق کا بہترین حصہ اور کافروں کو شرالبریہ یعنی بدترین مخلوق قرار دیا ہے ۔ اب اللہ نے تو فرمایا ہے کہ ہم نے اولاد آدم کو عزت اور شرف بخشا ہے مگر شیطان لعین ہے جس نے سب سے پہلے اولین انسان یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی توہین کی اور کہا کیا اس مٹی کے پتلے کو تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے ؟ (آیت) ” قال انا خیر منہ “۔ میں اس سے برتر ہوں کیونکر مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے جب کہ آدم کو خاک سے ، اس کے بعد کافروں نے اللہ کے پاک نبیوں کا انکار کیا ، بڑی حقارت سے کہتے تھے (آیت) ” ابشر یھدوننا “۔ (التغابن) کیا یہ انسان ہماری راہنمائی کرے گا ، ہم نہیں مانتے ، حالانکہ بشر کو اللہ تعالیٰ نے بڑا شرف عطا کیا ہے ، خاص طور پر اگر اسے ایمان کی دولت حاصل ہے تو وہ سب سے برتر ہے ، تاہم رسولوں کی بشریت کا انکار مشرکانہ عقیدہ ہے ۔ (انسان کے لیے سواری کا انتظام) آگے اللہ تعالیٰ نے انسان پر ایک اور احسان کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” وحملنھم فی البر والبحر “۔ اور ہم نے انہیں خشکی اور تری میں سواری مہیا کی ، جانوروں کی سواری صرف انسان ہی کے لیے اللہ بنائی ہے ، خود جانور ایک دوسرے کی سواری نہیں بنتے ، انسان کے نقل وحمل کے لیے خشکی پر اونٹ ، گھوڑے ، خچر اور گدھے وغیرہ ہیں جب کہ سمندروں اور دریاؤں میں سفر کے لیے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی چھوٹی کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز بنا دیے ہیں ، جن کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے ، آج کے زمانہ میں زمینی سفر کے لیے بیشمار قسم کی سواریاں موجود ہیں بائیسکل ، موٹر سائیکل کار ‘ ریل گاڑی اور بڑی بڑی بسیں انسان کی خدمت کے لیے موجود ہیں اب تو ہوا کو بھی اللہ نے ہر انسان کے لیے مسخر کردیا ہے (آیت) ” تصریف الریح والسحاب المسخربین السمآء والارض “۔ (البقرۃ ۔ 164) پہلے زمانے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی مثال موجود ہے کہ انہیں ہواؤں پر مکمل تسلط حاصل تھا آپ کا تخت اور فوج بغیر پٹرول کے ہوا کے دوش پر سفر کرتا تھا آج یہ سہولت تمام لوگوں کو حاصل ہے ، اب ہوائی سفر دنیا کا تیز ترین سفر ہے جسے فوجی اعتبار سے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے بری بحری اور ہوائی سفر کی سواریاں مہیا فرمائی ہیں ، یہ بھی اس کے شرف کی علامت ہے ۔ (پاکیزہ روزی) فرمایا اللہ نے انسان کو اس لحاظ سے بھی برتری عطا فرمائی ہے (آیت) ” ورزقنھم من الطیبت “۔ کہ اسے پاک ستھری اور عمدہ روزی عطا کی جو کسی دوسرے جاندار کو میسر نہیں ، ہر سبزی ، پھل اور اناج کا بہترین گودا انسان کی خوراک ہے جب کہ چھلکا اور بھوسہ وغیرہ جانوروں کی خوراک بنتا ہے فرمایا (آیت) ” وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا “۔ اور ہم نے اپنی بہت سی پیدا کردہ مخلوق پر انسان کو فضیلت بخشی ، بہت بڑی فضلیت ، ظاہر ہے کہ اللہ نے انسان کو حسن صورت ، عقل اور تدبیر سے نوازا ، دنیوی اور اخروی مفاد کو سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی ، دوسری مخلوق اس کے تابع کردی ہر قسم کی سواری مہیا کی ، آرائش و آرام کے لیے عمدہ لباس ، اعلی مکانات اور باغات عطا فرمائے ، پھر آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں سے سجدہ کروایا ، یہ سب شرف انسانی کی علامات ہیں ، جو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمائیں ،۔ (حقیقی شرف) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس تمام تر عزت وشرف کے باوجود انسان کو حقیقی عزت و تکریم اس وقت حاصل ہوگی جب وہ اپنے خالق ومالک کے قانون کی پابندی اختیار کرے گا ، اللہ کے ہاں کامیابی انہی کو حاصل ہوگی ، جو اللہ تعالیٰ پر صدق دل سے ایمان لائیں گے ، قیامت پر یقین رکھیں گے ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا اتباع کریں گے ، اور اس کے احکام کا اتباع کریں گے فرمایا جو ایمان اور نیکی سے خالی ہوں گے (آیت) ” ثم رددنہ اسفل سفلین “۔ (التین) وہ نہایت ہی پستی میں چلے جائیں گے ۔ حضرت مولانا شیخ الاسلام حاشیے میں لکھتے ہیں کہ مفسرین نے اس موقع پر یہ بحث بھی چھیڑی ہے کہ فرشتوں اور بشر میں افضل کون ہے ؟ فرماتے ہیں کہ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ ہی نہیں کرتی ، تاہم امام ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے پیروکار کہتے ہیں کہ انسانوں کے رسول فرشتوں کے رسولوں سے بہتر ہیں یعنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام جبرائیل ، میکائیل وغیرہ سے افضل ہیں ، اور عام ایماندار عام فرشتوں سے افضل ہیں ، اس کے علاوہ عام مخلوق سے باقی فرشتے افضل ہیں مطلب یہ ہے کہ عام انسانوں میں سے بھی جو ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں وہ عام فرشتوں سے برتر ہیں ، اور جن کو ایمان نصیب نہیں ہوا ، ان سے عام فرشتے افضل ہیں ۔
Ayahs 17:71–72

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

(اس دن کو دھیان میں لاؤ ) جس دن ہم بلائیں گے ہر ایک گروہ کو ان کے امام کے ساتھ پس جس کو دیا گیا اس کا اعمالنامہ اس کے دائیں ہاتھ میں پس یہی لوگ ہیں جو پڑھیں گے اپنے اعمالنامے ، اور نہیں ظلم کیا جائے گا ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ۔

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس دنیا کی زندگی میں اندھا ہوا پس وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا ، اور بہت زیادہ گم کردہ راہ ہوگا۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں باقی مخلوق پر انسان کی فطری برتری کا ذکر تھا ، اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور اس کے لیے بری اور بحری سواریاں مہیا کیں ۔ اب انسان کو فضاؤں پر بھی تسلط حاصل ہے اور انہیں ہوا کے دوش پر تیز ترین سفر کی سہولتیں حاصل ہیں ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو روزی کے طور پر پاکیزہ اور عمدہ چیزیں عطا فرمائیں اور اس طرح اللہ کی مخلوق میں سے اکثریت پر اسے فضیلت عطا فرمائی اب اصل سوال یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو عزت افزائی کی ہے اس نے اپنے آپ کو کس حد تک اس کا اہل ثابت کرکے اسے قائم رکھا ہے ، آگے محاسبے اور جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے اس وقت پتہ چلے گا کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات سے فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو ان نوازشات کا اہل ثابت کیا ہے یا اس نے اپنے آپ کو ذلیل ورسوا کرلیا ہے ، آج کی آیات اسی موضوع سے متعلق ہیں ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” یوم ندعوا کل اناس بامامھم “۔ اس وقت کی دھیان میں لاؤ جب ہم ہر گروہ اور فرقے کو اس کے امام کے ساتھ پکاریں گے ، اس وقت سے مراد وہ وقت ہے جب سب لوگ میدان حشر میں جمع ہوں گے اور محاسبہ اعمال شروع ہونے والا ہوگا ، اس وقت اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو اپنی اپنی جماعت کے قائدین کے ساتھ آواز دیں گے کہ فلاں گروہ اور اس کے راہنما ادھر آجائیں اور فلاں فرقہ والے اپنے لیڈر سمیت اس طرف ہوجائیں ۔ مفسرین کرام نے لفظ ” امام “ کی مختلف تفسیریں کی ہیں جو سب کی سب درست ہیں بعض فرماتے ہیں کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے جس کا تسلسل آیت کے آگلے حصے میں بھی برقرار ہے ، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمام لوگ اپنے اپنے اعمالناموں کے ساتھ بلائے جائیں گے ، بعض مفسرین امام سے نبی مراد لیتے ہیں کہ ہر امت کو اپنے اپنے نبی کی قیادت میں طلب کیا جائے گا ، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” انی جاعلک للناس امام “ (البقرۃ ، 124) میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ، اسی طرح گویا میدان حشر میں اس طرح آواز دی جائے گی ” اے نوح (علیہ السلام) کی امت ” اے ابراہیم (علیہ السلام) کی امت “ اے محمد ﷺ کی امت “ اللہ کے دربار میں اپنے انبیاء سمیت پیش ہوجاؤ ۔ بعض فرماتے ہیں کہ امام سے مراد کتب سماویہ ہیں ہر امت کو ان کی کتاب کے ہمراہ پکارا جائے گا ” یا اھل التورۃ ، یا اھل الانجیل یا اھل الزبور ، اور یا اھل القران ادھر آکر اپنا اپنا محاسبہ پیش کرو۔ امام اس ہستی کو بھی کہتے ہیں جس کی اقتدا کی جائے اور جو کسی امت یا گروہ کا پیشوا ہو ، اس کی مثال حضور ﷺ کی سکھلائی ہوئی ختم قرآن کی دعا میں موجود ہے ، اے اللہ ! قرآن پاک کی برکت سے میری قبر میں انس کا سامان پیدا کر دے ، اے اللہ ! قرآن پاک کی برکت سے مجھ پر رحم فرما ” واجعلہ لی اماما ونورا وھدی ورحمۃ “ اور اسے میرے لیے امام ، نور ، ہدایت اور روشنی بنا دے ، اس دعا میں گویا قرآن پاک کو بھی امام کہا گیا ہے ، حضرت علی ؓ کی روایت کے مطابق امام سے مراد امام زماں یعنی اپنے اپنے دور کے پیشوا اور لیڈر بھی ہو سکتے ہیں اور ہر دور کے پیشوا سچے بھی ہو سکتے ہیں ، اور جھوٹے بھی امام ضلالت یعنی لوگوں کو گمراہ کرنے والے پیشوا بھی مراد لیے جاسکتے ہیں جیسے شیطان کا اتباع کرنے والوں کو اس کے نام پر پکارا جائے گا کہ ادھر آ کر اپنا حساب کتاب چکاؤ ، یہ بڑا خوفناک منظر ہوگا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ امام ، ام کی جمع ہے جیسے خفاف خف کی جمع ہے اور ام کا معنی چونکہ ماں ہے لہذا امام کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی ماؤں کے نام پر پکارے جائیں گے ، یہ تفسیر مرجوع نہیں ہے کیونکہ زیادہ قوی روایات کے مطابق لوگوں کو باپ کے نام پر آواز دی جائے گی ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اچھے نام رکھا کرو اور برے اور شرکیہ نام سے پرہیز کرو البتہ جس کا باپ نہیں ہوگا ، اسے ماں کے نام سے پکارا جائے گا ، جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (آیت) ” یعیسی ابن مریم “۔ کہہ کر بلایا جائیگا ، اسی طرح آدم (علیہ السلام) کا نہ باپ ہے اور نہ ماں ، لہذا انہیں قدم کے نام سے پکارا جائے گا یعنی اے آدم (علیہ السلام) ادھر متوجہ ہوں ، حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ ارشاد ہوگا ، جنتیوں اور دوزخیوں کو الگ الگ کر دو ، آدم (علیہ السلام) عرض کریں گے ، مولا کریم ! دوزخی کتنے ہیں اور جنتی کتنے ؟ ارشاد ہوگا کہ ایک ہزار افراد میں سے نو سو (999) نناوے دوزخی ہیں جب کہ صرف ایک جنتی ہے ، بہرحال مفسرین نے لفظ امام کی مختلف تفسرین کی ہیں ۔ (اعمالناموں کی تقسیم) آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فمن اوتی کتبہ بیمینہ “۔ جس کو اس کی کتاب یعنی اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں مل گیا (آیت) ” فاولئک یقرء ون کتبھم “۔ پس وہ اپنے اپنے اعمال نامہ پڑھیں گے اور بڑے خوش ہوں گے ، سورة الحاقہ میں آتا ہے کہ ایسے لوگ اپنا اعمالنامہ دوسروں کو دکھا کر کہیں گے (آیت) ” ھآؤم اقرء واکتبیہ) دیکھو یہ اعمال نامہ پڑھو مجھے حساب کتاب کے عمل پر یقین تھا ، وہ آدمی سمجھے گا کہ مجھے پروانہ نجات مل گیا ، حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ میدان حشر میں اعمالنامے اڑیں گے اور اڑ کر کسی کے دائیں ہاتھ میں اور کسی کے بائیں میں پہنچیں گے کسی شخص کو اس کا اعمالنامہ سامنے سے ملے گا اور کسی کو پیچھے سے ۔ حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان میں سے ایک شخص کا قد دراز فرمائیں گے ، اس کا چہرہ نورانی ہوگا اور اس کا اعمالنامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دے دیا جائے گا ، وہ اعمالنامہ لے جب اپنی جان پہچان والے لوگوں کے پاس پہنچے گا ، تو وہ بھی اسے دیکھ کر خوش ہوں گے وہ شخص ان سب کو خوشخبری دے گا کہ تم بھی میری طرح خوش نصیب ہو جنہیں ان کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں ملنے والے ہیں اور یہ کامیابی کی علامت ہے اس کے برخلاف جس شخص کو اعمالنامہ بائیں ہائیں ہاتھ میں ملے گا اس کا چہرہ سیاہ اور شکل منحوس ہوجائے گی ، جب وہ اپنے لوگوں کے قریب پہنچے گا تو وہ کہیں گے کہ تم منحوس ہو ، ہمارے قریب نہ آنا وہ کہے گا کہ میں تو منحوس ہوں مگر تمہارے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہونے والا ہے غرضیکہ اعمالناموں کی تقسیم کی یہ کیفیت بھی بیان کی گئی ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ حشر میں بعض مواقع ایسے بھی آئیں گے جب کوئی کسی کی طرف دھیان نہیں کرے گا اور سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی جن کو ان کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ملیں گے ، وہ بڑے خوش ہوں گے اور دوسروں کو بھی دکھائیں گے مسلم شریف کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو جو لوگ جس جس معبود کی پوجا کرتے تھے ، ان کے پیچھے لگ جاؤ وہ سب اپنے اپنے معبود کے پیچھے قطار بنا لیں گے جو انہیں لے کر سیدھا جہنم میں پہنچا دے گا سورج ، چاند درخت اور پتھروں کے پجاریوں کے معبود ان کے سامنے متشکل ہو کر آئیں گے اور جہنم تک پہنچا دیں گے جن لوگوں نے اپنے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی پرستش کی ان سے دوسرے طریقے سے بات کی جائیگی ، یہودی اور عیسائی شدت پیاس کی وجہ سے پانی طلب کریں گے تو انہیں سراب دکھایا جائیگا کہ جاؤ ادھر پانی ہے جب وہ پانی کی تلاش میں اس طرح جائیں گے تو آگے جہنم ہوگا ۔ فرمایا کہ جن کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، وہ اسے پڑھ کر خوش ہوجائیں گے (آیت) ” ولا یظلمون فتیلا “۔ اور ان پر دھاگہ برابر بھی زیادتی نہیں کی جائے گی ہر شخص کو اس کے عقیدہ اور عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائیگی فتیل اس بتی کو بھی کہتے ہیں جو چراغ میں ڈالی جاتی ہے ، اور کھجور کی گٹھلی کی دارڑ میں جو باریک سا دھاگہ ہوتا ہے اسے بھی فتیل کہتے ہیں تو فرمایا ایک باریک دھاگے کے برابر بھی کسی سے ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ (حشر میں اندھا پن) فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ومن کان فی ھذہ اعمی “۔ جو شخص اس دنیا میں اندھا رہا (آیت) ” فھو فی الاخرۃ اعمی “۔ وہ آخرت میں بھی اندھا ہی اٹھایا جائے گا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس اندھا پن سے مراد ظاہری آنکھوں کی بینائی سے محروم نہیں ، کیونکہ یہ محض عوارض کی بنا پر ہوتا ہے ، بلکہ اندھے سے مراد وہ آدمی ہے جو اس دنیا میں ہدایت کے راستے سے محروم رہا ، اللہ نے دنیا میں ہدایت کے تمام اسباب مہیا کردیے تھے انسان کو عقل اور سمجھ عطا کی ، اس کی راہنمائی کے لیے کتابیں اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام مبعوث فرمائے ، ہادی اور منذر بھیجے پڑھانے اور سکھلانے والے بھیجے ، اس کے باوجود جو شخص دنیا میں ہدایت کے راستے کو نہ پاسکا ، وہ اگرچہ ظاہری آنکھیں رکھتا ہے مگر اس کے دل کی آنکھیں نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ بصیرت سے محروم ہے ۔ سورة حج میں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور “۔ انکی ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے سینوں میں رکھے ہوئے دل اندھے ہوتے ہیں ۔ بہرحال اللہ نے دنیا میں ہدایت کے تمام وسائل مہیا کردیے ہیں تاکہ کل کو کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے پتہ نہیں چلا یا مجھے کسی نے سمجھایا نہیں اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اردگرد ہزاروں اور لاکھوں ایسی نشانیاں بکھیر دی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لاسکتا ہے ، اس کے باوجود جو شخص اس دنیا میں راہ ہدایت سے محروم رہا وہ آخرت میں امن وسلامتی کے راستے سے محروم رہ جائے گا ، اس کے سامنے تباہی ، بربادی ، اور جہنم کا راستہ ہوگا اور نجات کے راستے کی طرف سے اندھا ہی رہے گا ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص یہاں پر ہدایت کی راہ سے اندھا رہا ، وہ آخرت میں بہشت کو راہ سے اندھا رہے گا ، بہشت کی راہ اس سے بہت دور ہوگی جہاں وہ کبھی نہیں پہنچ سکے گا ۔ فرمایا ایسا شخص آخرت میں اندھا ہوگا (آیت) ” واضل سبیلا “۔ اور بہت زیادہ گم کردہ راہ ہوگا ، جب تک انسان اس دنیا میں موجود ہے ، اس کے پاس تلافی کے ذرائع موجود ہیں ، وہ توبہ کرکے اور ایمان صالح سے مالا مال ہو کر راہ ہدایت حاصل کرسکتا ہے مگر آخرت میں پہنچ کر یہ امکان بھی ختم ہوجائے گا ، وہاں پر انسان کی عملی دنیا ختم ہوچکی ہوگی اور وہ صرف جزا کے عمل سے گزرے گا ، پچھلی سورة النمل میں گزر چکا ہے کہ جس دن ہم ہر امت سے گواہ اٹھائیں گے اس دن کافروں کو بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی (آیت) ” ولا ھم یستعتبون “۔ اور نہ انہیں کوئی موقع دیا جائیگا کہ وہ اپنے پروردگار کو مناسکیں ، اس وقت وہ شخص پریشانی میں مبتلا ہوں گے ، ایسے لوگوں کے لیے اسی دنیا میں موقع ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں ، وگرنہ آخرت میں وہ بہت ہی گمر کردہ راہ ہوں گے ۔
Ayahs 17:73–77

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اور بیشک قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کو فتنے میں مبتلا کریں اس چیز سے جس کو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ تو افتراء کرے ہم پر اس کے علاوہ دوسری بات اور اس وقت البتہ بنالیں گے یہ تجھ کو اپنا دوست ۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو البتہ تحقیق قریب تھا کہ آپ ان کی طرف مائل ہوجاتے تھوڑا سا میلان ۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

اس وقت ہم چکھاتے آپ کو دگنی سزا دنیا کی زندگی میں اور دگنی سزا دوسری زندگی میں ، پھر آپ نہ پاتے اپنے لیے ہمارے اوپر کسی کو مددگار ۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کے قدم ہلا دیں زمین سے تاکہ یہ آپ کو اس سے نکال دیں اور اس وقت یہ نہیں ٹھہریں گے آپ کے پیچھے مگر بہت تھوڑا۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

یہ دستور ہے اس ان کا جن کو ہم نے بھیجا آپ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے اور نہ پائیں گے آپ ہمارے دستور میں کوئی تفاوت ۔

ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، پھر انسان کی برتری اور عزت واحترام کو بیان کیا اس کے بعد محاسبے کا ذکر کیا کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اپنے پیشواؤں سمیت بلائے گا اس دن بہت ہی خوفناک منظر ہوگا ، لوگوں کو اعمالنامے دیے جائیں گے جنہیں وہ پڑھیں گے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس دنیا کی زندگی میں ہدایت کے راستے سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی ہدایت کے راستے سے اندھا رہے گا ، اور گم کردہ راہ بن کر بہت دور جا پڑے گا ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کی عداوت کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں مگر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ (مشرکین کی سازشانہ شرائط) مفسریں کرام فرماتے ہیں کہ طائف کے مشرکین کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور انہوں نے آپ پر ایمان لانے کے لیے چند شرائط پیش کیں پہلی شرط یہ تھی کہ آپ ہمیں تمام عربوں پر امتیازی حیثیت دلائیں دوسری بات یہ کہ مکہ اور طائف کے درمیان واقع ہماری ” وادی وجہ “ کو مکہ معظمہ کی طرح حرام قرار دیں تاکہ یہاں پر عبادت اور اجر وثواب بڑھ جائے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں زکوۃ کی ادائیگی سے متثنی قرار دیا جائے ، اور یہ بھی کہ ہم تمہارے ساتھ کسی جنگ میں شریک نہیں ہوں گے جہاں تک ہمارے معبودوں کی بات ہے ہم انہیں اپنے ہاتھ سے نہیں توڑیں گے ، ان معبودوں کو مکمل طور پر ترک کرنے کیلئے ایک سال کی مہلت دی جائے ، اس دوران ہم انکی عبادت تو نہیں کریں گے مگر ان کے سامنے پیش کیے جانے والے نذرانے وصول کرنے کے حقدار ہوں گے انہوں نے یہ بھی کہا کہ رکوع و سجود کی ادئیگی ہم پر گراں گزرتی ہے لہذا ہمیں نماز سے بھی مستثنی قرار دیا جائے ۔ (حضور ﷺ کا جواب) وفد طائف کی یہ شرائط سن کر حضور ﷺ نے فرمایا ” لا خیر فی دین لا رکوع ولا سجود فیہ “ یعنی جس دین میں رکوع اور سجود نہیں ہے ، اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، یہ تو کمال درجے کی عبادت ہے لہذا تمہیں نماز سے مستثنی قرار نہیں دیا جاسکتا ، بتوں کو اپنے ہاتھوں سے نہ توڑنے کے متعلق آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں ، انہیں توڑنے کے لیے دوسرے لوگ کافی ہیں ، اس زمانے میں اکثر وبیشتر ایسا ہوا تھا کہ اسلام قبول کرنے والوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے عبادت خانے گرائے اور ان کی جگہ مسجدیں تعمیر کیں اور بتوں کو اپنے ہاتھوں سے توڑا تاہم حضور ﷺ نے طائف والوں کی یہ بات قبول کرلی کہ وہ خود بت نہیں توڑیں گے ، اسی طرح آپ نے مشرکین کے دوسرے مطالبات یعنی عربوں میں امتیازی حیثیت دلانے ، وادی کو حرام قرار دینے اور زکوۃ کی ادائیگی سے استثنا بھی مسترد کردیے ۔ دراصل مشرکین چاہتے تھے کہ حضور ﷺ سے ” کچھ لو اور کچھ دو “ کے اصول پر سمجھوتہ ہوجائے ، وہ اپنی چرب زبانی اور سازش کے ذریعے پیغمبر اسلام کو دین کے اصولوں سے ہٹانا چاہتے تھے اس قسم کی سازش کا ذکر سورة القلم میں بھی موجود ہے (آیت) ” ودوا لوتدھن فیدھنون “۔ وہ چاہتے ہیں کہ تھوڑا سا آپ ڈھیلے پڑجائیں اور کچھ وہ نرم ہوجائیں ، کہتے تھے آپ ہمارے معبودوں کے خلاف بدگوئی نہ کریں تو ہم آپ کی مخالفت نہیں کریں گے ، کفار ومشرکین آپ ﷺ کی سیادت تسلیم کرنے کی پیش کش بھی کرتے تھے ، اچھے سے اچھا رشتہ لا کردینے کا لالچ دیتے تھے ، مال و دولت ڈھیر کردینے کی بات کرتے تھے مگر آپ نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر آپ سورج کو میرے ایک ہاتھ پر رکھی دیں اور چاند کو دوسرے ہاتھ پر تو پھر بھی میں تمہاری بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گا بلکہ اپنے پروردگار کی طرف سے عاید کردہ فریضہ تبلیغ ادا کرتا رہوں گا ۔ انہی حالات وواقعات کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” وان کا دو لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک “۔ اور بیشک قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کو فتنہ میں ڈال دیں اس چیز سے جس کو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے یعنی وہ اپنی کمال ہوشیاری اور چرب زبانی سے آپ سے کوئی چیز منوالیں اور اس طرح آپ (آیت) ” لتفتری علینا غیرہ “۔ ہم پر قرآن کے علاوہ کوئی دوسری بات افتراء کردیں ، مثلا یہ کہ آپ طائف والوں کی وادی کو حرم قرار دینے پر آمادہ ہوجائیں یا انہیں نماز اور زکوۃ سے مستثنی کردیں تو فرمایا کہ اگر آپ انکی کوئی بات مان لیں تو پھر (آیت) ” واذا لاتخذوک خلیلا “۔ وہ لوگ آپ کو اپنا دوست بنا لیں گے اور آپ سے مراسم قائم کرلیں گے ، فرمایا یہ بات درست نہیں ہے بلکہ آپ اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہیں اور ان مشرکین کی سازشوں کا شکار نہ ہوں ۔ (حضور ﷺ کی ثابت قدمی) ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” ولولا ان ثبتنک “۔ اور اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے (آیت) ” لقد کدت ترکن الیھم شیئا قلیلا “ تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف تھوڑا سا مائل ہوجاتے ، رکون کا معنی ہوتا ہے کسی ایک طرف کو جھک جانا یا مائل ہوجانا ، دوسرے مقام پر ہے (آیت) ” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “۔ (ھود) اے ایمان والو ! ظالموں کی طرف مت جھکو ، اگر ایسا کرو گے تو تم بھی جہنم کی آگ کے مستحق بنا جاؤ گے ، اس میں حضور ﷺ کی تعریف کا پہلو بھی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو عصمت کا درجہ عطا کیا ہے ، اگر آپ کا جھکاؤ اس طرف ہوتا بھی تو بہت ہی قلیل ہوتا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ اگر جھکاؤ ہو ہی جاتا ہے تو پھر (آیت) ” اذا الذقنک ضعف الحیوۃ وضعف الممات “۔ ہم آپ کو چکھاتے دگنی سزا دنیا کی زندگی میں بھی اور دوسری زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ خاص لوگوں کو تنبیہ بھی زیادہ ہوتی ہے ، ذرا ذرا سی بات پر گرفت ہوجاتی ہے حالانکہ ایسی معمولی باتوں پر عوام سے باز پرس نہیں کی جاتی اس قسم کی مثال سورة الاحزاب میں بھی موجود ہے اللہ کے نبی کی ازواج مطہرات خواص میں سے ہیں ، اس لیے ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” ینسآء النبی لستن کا حد من النسآئ “ ، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو ، اس لیے (آیت) ” من یات مکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین “۔ اگر تم میں سے کوئی غیر اخلاقی بات کرے گی تو اس کو دگنی سزا دی جائیگی ۔ اس مقام پر بھی نبی کریم ﷺ سے خطاب کرکے یہی بات بیان کی گئی ہے کہ اگر آپ کا جھکاؤ دوسری طرف ہوجاتا تو ہم آپ کو دگنی سزا دیتے (آیت) ” ثم لا تجدلک علینا نصیرا “۔ پھر آپ اپنے لیے ہمارے اوپر کوئی مددگار بھی نہ پاتے ، ایسی صورت میں کوئی بھی آپ کی داد رسی کرنے والا نہ ہوتا ، اللہ تعالیٰ نے یہ تنبیہ بھی فرما دی ، ظاہر ہے کہ جب پیغمبر بھی غلطی سرزد ہونے پر گرفت میں آسکتے ہیں تو عام مسلمانوں کو تو زیادہ محتاط رہنا چاہئے اور اللہ کی پکڑ سے خوف کھانا چاہئے حضرت شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ ان آیات کو تلاوت کرتے وقت دو زانو ہو کر انتہائی خشیت کے ساتھ اللہ کی شان جلال وجبروت میں غور کرنا چاہئے اور وہی درخواست کرنی چاہئے جو خود نبی کریم ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں پیش کی تھی ” اللھم لا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین “۔ اے اللہ ! آنکھ جھکنے کے برابر بھی مجھے میرے نفس کی طرف نہ سونپ ، میری ہر وقت دستگیری فرما تاکہ غلطیوں سے محفوظ رہوں اور نیکی کے راستے پر استقامت نصیب ہو گویا اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی درجے کی عاجزی اختیار کرنی چاہئے ۔ (ہجرت کے بعد تباہی) آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور اصول بیان فرمایا (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک من الارض “۔ اور قریب تھا کہ یہ لوگ آپ کے قدم زمین سے متزلزل کردیں استفزاز کا معنی ہلادینا جھنجھوڑ دینا اور کمزور کرکے کسی چیز پر قابو پالینا ہوتا ہے جیسے کسی دیوار یا درخت کو جھٹکے دے کر کمزور کرلیا جاتا ہے اور پھر اسے گرا لیا جاتا ہے ، فرمایا مشرکین بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا چاہتے ہیں ، (آیت) ” لیخرجوک منھا “۔ تاکہ آپ کو مکہ کی بستی سے نکال دیں فرمایا اگر انہوں نے یہ کام کیا (آیت) ” واذا لا یلبثون خلفک الا قلیلا “۔ تو پھر یہ بھی آپ کے بعد نہیں ٹھہر سکیں گے مگر بہت تھوڑا عرصہ مطلب یہ ہے کہ اگر مشرکین نے آپ کو ہجرت پر مجبور کردیا تو پھر وہ خود بھی زیادہ عرصہ مکہ میں قیام نہیں کرسکیں گے ، اگلی آیت میں بھی یہ اصول بیان کیا جا رہا ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے ہیں ان میں یہی دستور رہا ہے کہ جب انہوں نے اللہ کے نبیوں کو نکل جانے پر مجبور کردیا تو پھر ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگیا اور وہ دنیا میں باقی نہیں رہے سورة الانفال میں گزر چکا ہے کہ مشرکین نے اپنے حق میں بددعا کی اگر محمد ﷺ کا دین سچا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا ، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم “۔ جب تک آپ ان کے درمیان موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نہیں بھیجے گا ۔ بالآخر وہ وقت بھی آگیا جب قریش مکہ کی ایذا رسانیاں حد سے بڑھ گئیں مسلمانوں کی دو جماعتیں حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھیں ، باقی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا ، پھر حضور ﷺ کے قتل کی سازش بھی کی گئی تو آپ کو مجبورا مکہ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی ، پھر دنیا نے دیکھا کہ اللہ کے نبی کو مکہ چھوڑے ابھی ڈیڑھ برس بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ معرکہ بدر واقع ہوا ، حضور ﷺ نے جماعت المسلمین سے فرمایا ، اے ایمان والو ! آج مکہ کے سارے جگر گوشے میدان بدر میں جمع ہوگئے ہیں ، آج اللہ ان سے انتقام لے گا حضور ﷺ نے ائمۃ الکفر کی موت والی جگہ کی نشاندہی بھی کردی کہ فلاں فلاں جگہ پر فلاں فلاں کافر جہنم رسید ہوگا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے ان سے ایسا انتقام لیا کہ ان کی موت نشان زدہ جگہ سے ایک انچ بھی ادھر ادھر واقع نہ ہوئی ، کافروں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسلمانوں کو اتنی کمزور اور بےسروسامان جماعت اسلحہ سے لیس بڑی تعداد پر غالب آجائے گی ، مگر یہ اللہ کا وعدہ تھا جو پورا ہو کر رہا ۔ (حضور ﷺ کے لیے تسلی) فرمایا (آیت) ” سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا “۔ یہ ان رسولوں کا دستور ہے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا جب کسی رسول کی قوم نے اپنے نبی کو ہجرت پر مجبور کیا اور اسے اپنی بستی سے نکال دیا تو پھر وہ لوگ خود بھی عذاب الہی کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے مشرکین مکہ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا جب انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کر یا تو خود بھی تباہی سے دوچار ہوئے اور پھر آہستہ آہستہ اتنے کمزور ہوگئے کہ فتح مکہ کے دن وہ مکمل طور پر ملیا میٹ ہوگئے ، فرمایا یہ ہمارے پہلے رسولوں کا دستور ہے (آیت) ” ولا تجد لسنتنا تحویلا “۔ اور آپ ہمارے اس دستور میں کوئی تفاوت یا تبدیلی نہیں پائیں گے آپ کے لیے بھی یہی قانون ہے جب یہ لوگ آپ کو نہیں رہنے دیں گے تو پھر ان کا رہنا بھی ناممکن ہوجائے گا ، اور یہ تباہ وبرباد ہو کر رہیں گے ۔