17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 17:78–79

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

قائم کریں آپ نماز کو سورج کے ڈھلنے سے رات کی تاریکی چھاجانے تک اور فجر کا قرآن پڑھنا بیشک فجر کا قرآن پڑھنا حاضری کا وقت ہے ۔

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات میں سے (کچھ وقت) پس آپ تہجد پڑھیں اس (قرآن) کے ساتھ یہ زائد ہے آپ کے لیے قریب ہے کہ کھڑا کرے گا آپ کو آپ کا پروردگار تعریف والے مقام پر ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا اور انسان کی تکریم کا مسئلہ بیان فرمایا ، پھر دنیا کی زندگی میں ہدایت اور گمراہی کی بات ہوئی اور مشرکین کی سازشوں کا بیان ہوا جس کے ذریعے حضور خاتم النبیین ﷺ کو راہ راست سے ہٹانا چاہتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ مشرکین اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی کہ اگر یہ لوگ آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیں گے تو پھر یہ بھی یہاں پر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوجائیں گے ۔ (اقامت صلوۃ) مشرکین مکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو سخت تکالیف پہنچا رہے تھے جس وجہ سے اہل حق کو پریشانی کا لاحق ہونا ایک قدرتی امر تھا ، آپ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس پریشانی کا حل تجویز کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اقم الصلوۃ “۔ آپ نماز قائم کریں ، مصیبت کے وقت نماز اور صبر کے ذریعے استعانت پکڑنے کا اصول سورة البقرۃ میں بھی بیان ہوچکا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ “۔ اے ایمان والو ! جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو صبر اور نماز کے ساتھ مدد حاصل کرو (آیت) ” ان اللہ مع الصبرین “۔ بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے صبر بھی ملت ابراہیمیہ کا بہت بڑا اصول ہے اور نماز کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے ” ام العبادات المقربۃ “۔ یعنی اللہ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے نماز سب سے اہم عبادت ہے ، نماز ، ذکر ، مناجات ، قلب وجسم کی عاجزی ، زبان کے ساتھ خدا تعالیٰ کے لیے کلمات تعظیم اور کلام الہی کی تلاوت کا مجموعہ ہے نماز کے ذریعے انسان کو بہت سے فوائد حاصل ہوتی ہے ہیں ، مثلا نماز کا قیام طہارت اور پاکیزگی پر قائم ہوتا ہے ، جو کہ بذاتہ ایک اعلی اخلاق ہے نماز آپس میں محبت اور مساوات پیدا کرنے کا ذریعہ ہے ۔ (آیت) ” وارکعوا مع الرکعین “۔ (البقرۃ) انسانی برادری کا کمال نمونہ پیش کرتا ہے ، اکیلے نماز پڑھنے کا ایک نماز کا ثواب ہوتا ہے جب کہ باجماعت نماز کا ثواب ستائیس گنا بڑھ جاتا ہے ، نماز میں وقت کی پابندی اور تنظیم جیسے زریں اصولوں پر عمل ہوتا ہے ، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پختہ ہوتا ہے ۔ (نمازوں کی تعداد) فرمایا ، نماز قائم کرو ، مگر کب ؟ (آیت) ” لدلوک الشمس الی غسق الیل “۔ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک ، دلوک کا معنی میلان ہونا یا ڈھلنا ہوتا ہے ، دوپہر کے وقت جب سورج پچھلے پہر کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کو سورج کا ڈھلنا یا زوال کہتے ہیں ظاہر ہے کہ زوال سے لے کر رات کی تاریکی تک مسلسل ایک ہی نماز تو نہیں ہو سکتی اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس عرصہ میں چار نمازوں یعنی ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کا اشارۃ ذکر کیا گیا ہے ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھی آثار میں منقول ہے کہ انہوں نے اس حصہ آیت سے چاروں نمازیں مراد لی ہیں تاہم قرآن پاک میں ہر نماز کے وقت کا فردا فردا ذکر بھی آیا ہے ، بہرحال اس آیت کے مطابق زوال کے وقت ظہر کی نماز ہوتی ہے اس کے بعد عصر کا وقت ہوتا ہے جس کی سخت تاکید کی گئی ہے کیونکہ یہ مشاغل دنیا کا وقت ہوتا ہے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ (البقرۃ) نمازوں کی حفاظت کرو اور خاص کر نماز وسطی یعنی عصر کی نماز کی اسی طرح (آیت) ” حین تمسون وحین تصبحون “۔ (الروم) میں شام اور صبح کی نمازیں آتی ہیں ، (آیت) ” وعشیا وحین تظھرون “۔ (الروم) میں عصر اور ظہر کی نمازوں کا ذکر ہے ، اسی طرح (آیت) ” قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا “۔ (طہ) میں فجر اور عصر کا ذکر ہے ۔ (نماز فجر) بہرحال اس حصہ آیت میں چار نمازیں آتی ہیں ، آگے فرمایا (آیت) ” وقران الفجر “۔ اور فجر کا قرآن یعنی نماز فجر بھی ، اس طرح گویا اس آیت کریمہ میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے ، پانچ نمازوں کی فرضیت معراج کی رات ہوئی اس سے پہلے (آیت) ” قبل طلوع الشمس وقبل الغروب ومن الیل “۔ (ق۔ 40) کے مطابق فجر ، عصر ، اور رات کی تین ہی نمازیں تھیں تاہم سورة بنی اسرائیل چونکہ واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی ، اس لیے اس میں پانچوں نمازوں کا ذکر آگیا ہے ۔ فرمایا فجر کا قرآن پڑھنا (آیت) ” ان قران الفجر کان مشھودا “۔ بیشک فجر کا قرآن پڑھنا حاضری کا وقت ہے ، اس وقت میں فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے (آیت) ” یتعاقبون فیکم لیلا ونھارا “۔ رات اور دن کے فرشتے آگے پیچھے آتے ہیں یعنی جن فرشتوں کی ڈیوٹی انسانوں کے اعمال کی حفاظت ہوتی ہے وہ فجر اور عصر کی نماز کے وقت ڈیوٹیاں تبدیل کرتے ہیں ، عصر کی نماز کے وقت دن کے فرشتے چلے جاتے ہیں اور رات والے آجاتے ہیں ، اسی طرح فجر کے وقت رات والے چلے جاتے ہیں اور دن والے آجاتے ہیں ، ہر جانے والا گروہ اللہ کی بارہ میں اس کے بندوں کی رپورٹ پیش کرتا ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے کہ فرشتو ! تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ تو نیک بندوں کے فرشتے کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں اس حالت میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں ، اسی طرح خدا کی یاد سے بےبہرہ لوگوں کے متعلق فرشتے رپورٹ پیش کرتے ہیں کہ مولا کریم ! تیرے فلاں فلاں بندے غفلت میں پڑے ہوئے تھے یا وہ برائی میں لگے ہوئے تھے ، غرضیکہ فجر کا وقت فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے ۔ نماز فجر کے ساتھ قرآن کا خصوصی ذکر اس وجہ سے ہے کہ سنت کے مطابق فجر کی نماز میں قرآن کی تلاوت قدرے زیادہ کی جاتی ہے حضور ﷺ بالعموم فجر کی نماز میں چالیس سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے گویا اس نماز میں باقی نمازوں کی نسبت قرات لمبی ہوتی ہے ۔ (بعض گمراہ فرقے) بعض گمراہ فرقے پانچ نمازوں کے قائل نہیں ہیں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو صرف فجر کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھتا تھا دریافت کرنے پر کہا کہ نماز صرف ایک ہی ہے بعض منکرین قرآن صرف دو نمازیں پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ (آیت) ” قبل طلوع الشمس وقبل غروبھا “۔ (طہ) کے مطابق صرف فجر اور عصر کی نمازیں فرض ہیں ، بعض لوگ تین نمازوں کے اور بعض چار کے قائل ہیں ، پرویز کہتا ہے کہ ہماری یہ نماز حقیقت میں حقیقی نماز ہی نہیں ہے اس کا نظریہ یہ ہے کہ جب ہماری حکومت قائم ہوگی اور وہ نماز کا حکم دیگی تو وہی حقیق نماز ہوگی اس نے یہ بات اپنی کتابوں اور رسالوں میں واضح طور پر لکھی ہے کہ ہماری موجودہ نماز محض رسمی نماز ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ عقیدہ اصلا کافرانہ ہے کیونکہ نماز وہی ہے جو حضور ﷺ نے ، اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پڑھی اور جس کی تلقین بھی کی یہی نماز تواتر کے ساتھ ثابت ہے جس کا بدعقیدہ لوگ انکار کر رہے ہیں ۔ (نبی کا قول وفعل بطور دلیل) نمازوں کی تعداد اور رکعات کے بارے میں حضور ﷺ کا قول اور عمل ہی ہمارے لیے حجت ہے اسی لیے تمام مذاہب حقہ پانچ نمازوں کی فرضیت کو تسلیم کرتے ہیں اسی طرح ہر نماز کی رکعات کی تعداد کے متعلق بھی کوئی اختلاف نہیں ، تمام اہل ایمان فجر کے دو ظہر کے چار ، عصر کے چار ، مغرب کے تین اور عشاء کے چار فرضوں کے قائل ہیں ، اس لیے شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے ، البتہ اس کی بعض ہیئات میں تھوڑا بہت اختلاف ہے اور ان میں سے بعض ہئیات سنن میں داخل ہیں اور بعض مستحبات میں جہاں تک فرائض اور واجبات کا تعلق ہے وہ اختلافات سے پاک ہیں ، اختلافی ہیئات میں رفع یدین ، آمین بالجہر ، ہاتھوں کا باندھنا وغیرہ شامل ہیں مگر ان مسائل میں ہر قسم کی روایات موجود ہیں اور ہر ایک کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنے کی گنجائش بھی ہے ، نماز کے بہت سے ارکان ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں نہیں مگر ہم وہ ارکان نبی کریم ﷺ کے قول اور عمل کے مطابق تواتر کے ساتھ ادا کر رہے ہیں ، لہذا کسی رکن کا قرآن میں عدم ذکر اس کی شرعی حیثیت کو مشکوک نہیں بنا سکتا ، حضرت عمران ابن حصین ؓ کے سامنے ایک شخص نے ذکر کیا کہ آپ لوگ مقام محمود والی آیت کی تشریح میں شفاعت والی حدیث پیش کرتے ہیں ، حالانکہ اس کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں ہے اس پر حضرت عمران ؓ ناراض ہوگئے ، اور فرمایا کیا تو نے قرآن پڑھا ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ ہاں پڑھا ہے ، آپ نے فرمایا کیا تو نے فجر کی دو ، مغرب کی تین اور ظہر عصر اور عشاء کی چار چار رکعتوں کا ذکر وہاں پڑھا ہے ؟ کہنے لگا ، نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر تم نے یہ تعداد رکعات کہاں سے لی ؟ فرمایا کیا تم نے یہ ساری باتیں ہم سے اخذ نہیں کیں ؟ اور ہم نے یہ عمل خود حضور ﷺ سے لیا پھر پوچھا کیا تو نے زکوۃ کا نصاب قرآن میں کہیں پڑھا کہ سونے چاندی پر اتنے فیصد اور مویشیوں پر اس حساب سے زکوۃ واجب ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا کہ قرآن میں تو یہ تفصیل نہیں ہے فرمایا پھر یقینا مقررہ نصاب ہم سے لیا ہے اور ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اخذ کیا تھا حضرت عمران ؓ نے اس شخص سے یہ بھی کہا کہ قرآن پاک میں (آیت) ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “۔ (الحج) اور چاہئے کہ اللہ کے قدیم گھر کا طواف کرو ، اب بتاؤ کہ طواف کے سات چکروں کا ذکر قرآن میں کہاں ہے ؟ اور پھر یہ بھی کہ طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دو رکعت پڑھو ، فرمایا کیا یہ ساری باتیں تم نے ہم سے اور ہم نے حضور نبی کریم ﷺ سے حاصل نہیں کیں ؟ وہ شخص کہنے لگا کہاں ایسا ہی ہے ، حضرت عمران ؓ نے فرمایا کہ قرآن میں یہ کہاں ہے ” لاشغار فی الاسلام “۔ یعنی اسلام میں وٹے سٹے کا نکاح جائز نہیں حالانکہ ہم سب اس حدیث کے قائل ہیں بعض آئمہ فرماتے ہیں کہ ایسا نکاح بالکل باطل ہے کیونکہ اس میں جانبین کی طرف سے دونوں رشتے طے کر کے درمیان سے مہر اڑا دیا جاتا ہے تاہم امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ نکاح تو ہوجائے گا مگر مہر مثل ادا کرنا پڑے گا ۔ تو یہ مسئلہ بھی ہمیں سنت میں ہی ملا ہے فرمایا ، اللہ نے اپنی پاک کتاب میں فرمایا ہے (آیت) ” وما اتکم الرسول فخذوہ ، وما نھکم عنہ فانتھوا “۔ (الحشر ، 7) جو کچھ اللہ کا رسول تمہیں دے دے اسے لے لو ، اور جس چیز سے روک دے اس سے رک جاؤ تو فرمایا جن چیزوں کی صراحت قرآن میں موجود ہے ہم نے یقینا انہیں اللہ کے رسول سے اخذ کیا ہے جس کا ثبوت آپ کی زبان اور آپ کا عمل ہے ۔ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو فرمایا وہاں پر اہل کتاب رہتے ہیں ، پہلے انہیں توحید و رسالت کی دعوت دینا اگر وہ تسلیم کرلیں تو پھر کہنا کہ اللہ نے رات دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ، واقعہ معراج میں جہاں نمازوں کی فرضیت کا ذکر ہے وہاں یہ الفاظ آتے ہیں ” ذلک خمس وذلک خمسین “۔ یعنی یہ ہیں تو پانچ نمازیں مگر ان کا اجر وثواب پچاس کے برابر ہیں کیونکہ ہر عمل کا کم از کم اجر دس گنا ہے بہرحال اس آیت میں اشارۃ پانچ نمازوں کا ذکر آگیا ہے ۔ ّ (نماز تہجد کی اہمیت) پانچ نمازوں کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں فرمایا (آیت) ” ومن الیل فتھجدبہ “۔ رات کے وقت آپ تہجد بھی ادا کریں فرمایا ” نافلۃ لک “ یہ آپ کے لیے زائد ہے ہجود کا معنی نیند کے بعد بیدار ہونے کے ہیں ، چونکہ یہ نماز پچھلی رات سو کر اٹھنے کے بعد ادا کی جاتی ہے ، اس لیے اسے نماز تہجد کہا جاتا ہے ، نماز کے فرضوں کے علاوہ سنن ، مستحبات اور نوافل وغیرہ کو نفل ہی کہا جاتا ہے ، کیونکہ یہ فرائض سے زائد ہوتے ہیں ، اسی بناء پر بعض محققین فرماتے ہیں کہ تہجد کی نماز فرض نہیں بلکہ نفل ہے تاہم اس کا اجر بہت زیادہ ہے ، صحیح روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ فرض نمازوں کے بعد افضل ترین نماز کون سی ہے ، تو آپ نے فرمایا ” رات کی نماز) بعض فرماتے ہیں ” نافلۃ لک “ میں ضمیر واحد کے ذریعے حضور ﷺ کو خطاب کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ فرض نمازوں کے علاوہ یہ نماز بھی محض آپ کے لیے بطور زائد فرض ہے جب کہ باقی لوگوں کے لیے نہیں اگر وہ بھی ادا کریں گے تو بہت زیادہ ثواب ہوگا ، اور اگر ادا نہ کریں گے تو باز پرس نہیں ہوگی ۔ صحیح احادیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ تہجد کی نماز میں طویل قیام اور لمبی قرات کرتے تھے حتی کہ موسمی اثرات کی وجہ سے کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں بعض اوقات متورم ہوجاتے تھے اور سردی کے موسم میں تو پاؤں بعض دفعہ پھٹ بھی جاتے تھے ، حضرت ام المؤمنین ؓ اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا حضور ! آپ تو گناہ سے بالکل پاک ہیں اور معمولی لغزشوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کا فرمان ہے ، ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی ہے (آیت) ” لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک وما تاخر “۔ (الفتح) تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف کردے ، تو پھر آپ اس قدر مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں کہ نماز میں کھڑے کھڑے آپ کے پاؤں مبارک سوج جاتے ہیں ، آپ ﷺ نے جواب دیا ، جب اللہ نے مجھ پر اتنی مہربانی فرمائی ہے ” افلا اکون عبدا شکورا “۔ تو کیا میں اس کا شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں ؟ بہرحال دونوں تفسریں آتی ہیں کہ یہ نماز سب کے لیے زائد ہے اور دوسری یہ کہ حضور ﷺ کے لیے فرض اور امت کے لیے نفل ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ ابتداء میں رات کی نماز سب کے لیے فرض تھی جیسا سورة مزمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا (آیت) ” یایھا المزمل ، قم الیل الا قلیلا “۔ اے کمبل اوڑھنے والے ، آپ رات کو قیام کریں مگر تھوڑا حصہ پھر دوسرے رکوع میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار ہوں گے اور دوسرا طبقہ وہ ہے جو زمین پر سفر کریں گے اور اللہ کا فضل تلاش کریں گے اور بعض جہاد کے لیے جائیں گے لہذا آپ قرآن میں سے اتنا حصہ پڑھیں جتنا آسان ہو ، فرماتے ہیں کہ بعد یہ فرضیت اٹھا دیں گئی ۔ (مقام محمود) فرمایا (آیت) ” عسی ان یبعثک ربک مقامامحمودا “۔ امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود (تعریفوں والے مقام) پر کھڑا کر دے گا مقام محمود کا ذکر احادیث میں کثرت سے آیا ہے یہ وہ جگہ ہے جسے شفاعت کبری مقام بھی کہا جاتا ہے ، حشر کے میدان میں لوگ پریشانی کے عالم میں مبتلا ہوں گے ، ہر شخص اپنے پسینے میں ڈوبا ہوا ہوگا لوگ چاہیں گے کہ اللہ تعالیٰ حساب کتاب شروع کریں تاکہ اس تلخی سے چھٹکارا پاسکیں ، اس کام کی سفارش کے لیے لوگ مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے پاس جائیں گے کہ آپ اللہ کے ہاں سفارش کرکے حساب کتاب شروع کرا دیں ، مگر ہر کوئی جواب دے دیگا ” اذھبوا الی غیری “ کسی دوسرے کے پاس جاؤ بالآخر لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے جو اس کام کا بیڑا اٹھانے پر تیار ہوجائیں گے آپ مقام محمود پر سجدہ ریز ہوجائیں گے بعض روایات کے مطابق آپ ایک ہفتہ اور بعض کے مطابق دو ہفتہ تک مسلسل سجدے میں پڑے رہیں گے بعض تفسیری روایات میں دس سال کا ذکر بھی آتا ہے ، بہرحال اس عرصہ میں آپ اللہ تعالیٰ کی ایسے کلمات کے ساتھ تعریف و توصیف بیان کریں گے جو اللہ تعالیٰ اس وقت آپ کو الہام کرے گا ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ” ارفع راسک یا محمد “۔ اے محمد ﷺ ! اپنا سرا ٹھائیے آپ سفارش کریں ، آپ کی سفارش قبول کی جائیگی ، اور آپ سوال کریں آپ کو دیا جائے گا ، یہی شفاعت کبری ہے جو پوری مخلوق میں آپ کے حصے میں آئیگی ، بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ امت کے حق میں بار بار سجدہ ریز ہو کر سفارش پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپ کی سفارش قبول کرتا رہے گا اور لوگ عذاب سے نکلتے رہیں گے بہرحال اسی مقام کے متعلق یہاں اشارہ ہے کہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کریگا ، لہذا اسی انعام کے شکریہ کے طور پر آپ رات کی نماز (تہجد) ادا کریں ۔ (اصلاح نفس) مفسرین کریم نماز تہجد کی ایک اور حکمت بھی بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اس کے ذریعے انسان کے نفس کی اصلاح ہوتی ہے جب تک اصلاح نفس نہ ہو ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلقات صحیح نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایسا شخص دنیا کے اجتماعی نظام کو ٹھیک کرسکتا ہے ، نماز تہجد تربیت کا پہلا مرحلہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ تربیت مکمل کرکے ہی دنیا کی فرمانروائی کے لیے نکلتے تھے ، اگر تعلق باللہ درست نہیں ہے تو اجتماعی نظام میں خود غرضی ، ظلم وجور اور فتنہ و فساد کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ؟ لوگ مادی لحاظ سے کتنی بھی ترقی کر جائیں حتی کہ دوسرے سیاروں تک پہنچ جائیں مگر اصلاح نفس کے بغیر کوئی بھی درست طور پر کام نہیں کرسکتا ، ایسے لوگوں کی قیادت میں عیاشی ، فحاشی ، حق تلفی اور کھیل تماشہ تو ہو سکتا ہے مگر لوگوں کو امن اور چین نصیب نہیں ہو سکتا ، اس کام کے لیے اصلاح نفس کی تربیت حاصل کرنا ہوگی جس کا پہلا درس نماز تہجد ہے ۔
Ayahs 17:80–81

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے ، اے پروردگار ! داخل کردے مجھ کو داخل کرنا سچائی کے ساتھ اور نکال مجھ کو نکالنا سچائی کے ساتھ ، اور بنا دے میرے لیے اپنی طرف سے ایک غلبہ جو مددگار ہو۔

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجئے کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے بیشک باطل مٹنے والا ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے تعصب کا ذکر کرکے ان کا رد فرمایا ، پھر ان کی سازشوں اور ایذا رسانیوں کا علاج اقامت صلوۃ کی صورت میں تجویز فرمایا اللہ نے تہجد پڑھنے کی طرف رغبت دلائی تاکہ مخالفین کی حیلہ سازیں آپ اور آپ کے ساتھیوں پر اثر انداز نہ ہوسکیں ، اللہ نے اشارۃ پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا اور نماز تہجد کی خصوصی فضیلت بیان فرمائی پھر حضور ﷺ کے مقام محمود پر فائز ہونے کی بات کی ۔ اب آج کی دو آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا اشارہ دیا ہے کہ کفار ومشرکین کی بڑھتی ہوئی ایذارسانیوں کے پیش نظر آپ کو یہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی اور دوسری آیت میں اللہ نے فتح مکہ کی پیش گوئی فرمائی ہے ۔ (ہجرت انبیاء ) اکثر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو زندگی میں ہجرت کا مرحلہ پیش آیا ، جب قوم وملک کے تمام لوگ مخالف ہوگئے ، انہیں اتنی تکالیف پہنچائی گئیں کہ ان کا اپنے وطن میں رہنا محال ہوگیا تو پھر اللہ کے حکم سے نبی کو اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف پوری قوم اکھٹی ہوگئی حتی کہ باپ بھی دشمنوں کے ساتھ مل گیا تو آپ کو کہنا پڑا ، (آیت) ” انی ذاھب الی ربی سیھدین “۔ (الصفت) میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ، وہی مجھے راستہ دکھائیگا خود حضور ﷺ کے لیے بھی ایسے حالات پیدا کردیے گئے کہ آپ کا مکہ میں رہنا دوبھر ہوگیا اور اللہ نے آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ، یہ ہجرت تمام اہل ایمان کے لیے فرض قرار دے دی گئی تھی کیونکہ کفار کے ناکامی اور مسلمانوں کی کامیابی کا راز اسی میں پہناں تھا ، ایسی حالت میں ہجرت سے مستثنی صرف عورتیں اور بچے ہوتے ہیں یا وہ کمزور لوگ ہوتے ہیں جو سفر کرنے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں یا جن کو راستہ بتانے والا کوئی نہ ہو ، اور کوئی صاحب استطاعت آدمی ہجرت پر آمادہ نہیں ہوتا تو وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ۔ آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ہجرت کا حکم دینے کے بعد ہجرت کی دعا سکھلائی ہے ” وقل “ اور (اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” رب ادخلنی مدخل صدق “۔ اے پروردگار ! داخل کر مجھے داخل کرنا سچائی کا ، یہ اس آیت عام مفہوم ہے اور مطلب یہ ہے کہ مولا کریم ! جائے ہجرت یعنی مدینہ منورہ میں مجھے سچائی کے ساتھ داخل فرما (آیت) ” واخرجنی مخرج صدق “۔ اور نکال مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا ، یعنی مکہ مکرمہ سے میرا خروج بھی سچائی کے ساتھ ہو ، سچائی کے ساتھ داخل ہونے کا مطلب یہ ہے ہم ہجرت کر کے جہاں جا رہے ہیں وہاں حق وصداقت کا بول بالا ہو اور حق وصداقت ہی کو برتری حاصل ہو اسی طرح جس شہر سے ہم رخصت ہو رہے ہیں ، وہاں سے ہمارا خروج عزت وآبرو کے ساتھ ہو ، دشمن چونکہ بےآبروئی پر تلے ہوئے تھے اور جان کے درپے تھے ، اس لیے اللہ نے یہ دعا سکھلائی کہ مکہ سے نکلتے وقت ہمیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے بلکہ اپنی حفاظت میں ہمیں امن و سکون کے ساتھ نکال لے ۔ (دخول اور خروج کے دیگر معانی) اس مقام پر بعض مفسرین کرام نے دخول اور خروج کے بعد دیگر معانی بھی کیے ہیں ، مثلا امام بیضاوی (رح) نے اس ہجرت کی آخرت کی زندگی پر محمول کیا ہے اور دعا کا یہ معنی کیا ہے کہ اے پروردگار ، جب موت دے تو مجھے قبر میں سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور جب قیامت کو دوبارہ زندہ کرے تو اسی قبر سے نہایت عزت وآبرو کے ساتھ نکالنا ، علی ہذا القیاس خروج سے مراد اس دنیا سے خروج اور دخول سے مراد جنت کا داخلہ بھی ہو سکتا ہے سورة یونس میں اہل ایمان کے متعلق فرمایا (آیت) ” ان لھم قدم صدق عند ربھم “۔ ان کے لیے اپنے پروردگار کے ہاں سچائی کا پایا ہے ، سورة القمر میں بھی ہے (آیت) ” فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر “۔ یعنی وہ بڑے طاقتور بادشاہ یعنی رب العالمین کے پاس نہایت عزت واحترام کی جگہوں پر بیٹھیں گے ۔ اس دنیا سے سچائی کے ساتھ نکلنے سے مراد یہ ہے کہ انسان ، ایمان ، نیکی ، اطاعت ، حق کی بلندی و برتری کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو اس کا ہر قول وفعل اور ہر کوشش حق کی سربلندی کے لیے وقف ہو ، اس کے برخلاف برائی کے ساتھ نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی بھر کفر ، شرک اور معاصی میں پھنسا رہے اور اسی پر اسے موت آجائے ، اس کی ساری کاوش برائی اور باطل کے لیے ہوتی رہی ہو تو یہ نکلنا اس کے حق میں ہرگز مفید نہیں ہوگا ، لہذا اللہ تعالیٰ نے یہی دعا سکھلائی کہ دنیا سے رخصت ہوتے وقت ہمیں حق وصداقت کی حمایت میں رخصٹ کرنا تاکہ ہمارا دامن کفر ، شرک اور معصیت سے پاک ہو ۔ (ہجرت اور فتح مکہ) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت سے فتح مکہ کا اشارہ بھی ملتا ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے پروردگار ! ہمیں ہجرت کے لیے مکہ مکرمہ سے حق وصداقت کے ساتھ نکال اور پھر ہمیں عزت وآبرو کے ساتھ دوبارہ اسی مکہ مکرمہ میں داخل فرما ، چناچہ فتح مکہ کے موقع پر ایسا ہی ہوا ، دس ہزار قدسیوں کی یہ جماعت نہایت امن وسلامتی کے ساتھ فتح کا پرچم لہراتی ہوئی مکہ میں داخل ہوئی مکہ کی طرف جاتے وقت حضور ﷺ سواری پر سوار تھے اور سر پر خود پہن رکھا تھا ، شہر میں داخل ہوئے تو آپ نے خود اتار دیا اور سر پر پگڑی پہن لی ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت عزت ووقار کے ساتھ مکمہ معظمہ میں داخل کیا ، مکہ مکرمہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا داخلہ تین اطراف سے ہوا تھا ، آپ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو داہنے پہلو پر رکھا حضرت زبیر بن عوام ؓ کو بائیں پہلو پر اور حضرت ابوعبیدہ ؓ کو پیادے پر مقر ر کیا آپ نے حکم دیا کہ قریش میں سے جو کوئی مزاحمت کرے اسے کاٹ کر رکھ دیں ، چناچہ خالد بن ولید ؓ والے راستے پر تھوڑی سی مزاحمت ہوئی مگر وہ جلدی ہی ختم ہوگئی اور آپ امن وامان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئی ۔ (کوہ صفا پر اعلان حق) حضور ﷺ نے انصار کو کوہ صفا پر ملنے کی ہدایت فرمائی تھی یہ وہی مقام ہے جہاں پر آپ نے حق کا اولین اعلان فرمایا تھا آپ کی آواز پر چالیس آدمی اکھٹے ہوئے تھے اور آپ جب آپ نے توحید کی دعوت پیش کی تو ابولہب نے آپ کو گالیاں دی تھیں ، اور آپ کے پتھر مارے تھے آج ایک دفعہ پھر حضور ﷺ اسی مقام پر جلوہ افروز تھے اور آپ نے پھر اعلان حق فرمایا ” الحمد للہ الذی انجز وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ فلا شیئا بعدہ “۔ اس اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر ہے جس نے اپنا وعدہ پورا فرمایا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور تمام لشکروں کو اکیلے نے ہی شکست دے دی اور اس کے بعد کفار ومشرکین میں کوئی سکت باقی نہ رہی آپ نے یہ بھی فرمایا ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ “۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے ۔ بہرحال یہ اس دعا کی قبولیت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مکہ مکرمہ سے بھی اطمینان کے ساتھ نکالا ، مشرکین نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا مگر اللہ نے آپ کی حفاظت مکان میں بھی کی اور راستہ بھر بھی آپ کو محفوظ ومامون رکھا ، مدینہ طیبہ میں آپ کا داخلہ بڑی عزت واحترام کے ساتھ ہوا اور پھر اللہ نے آپ کو دوبارہ مکہ میں شان و شوکت کے ساتھ داخل فرمایا اس وقت تو لوگ اس دعا کو محض خوش فہمی پر محمول کرتے تھے مگر نو دس سال کے قلیل عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے حقیقت میں تبدیل کردیا ۔ (نفاذ قانون کی ذمہ داری) مکہ سے خروج اور پھر داخلے کی دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے یہ دعا بھی کہلوائی (آیت) ” واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا “۔ اور بنا دے میرے لیے اپنی طرف سے ایک غلبہ ، حکومت یا تسلط ، جو مددگار ہو ، مطلب یہ کہ مولا کریم ! مجھے ایسا غلبہ عطا فرما جس کے ساتھ تیری مدد شامل حال ہو ، حق کو برتری نصیب ہو اور مخالفین حق ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں ظاہر ہے کہ اس سے مراد اسلام کا ظاہری غلبہ ہے کیونکہ دنیا میں کوئی قانون اس وقت تک نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کے پیچھے قوت نافذہ موجود نہ ہو ، ایک روایت میں آتا ہے (آیت) ” ان اللہ لیضع بالسلطن مالم یضع بالقران “۔ یعنی اللہ تعالیٰ حاکم عادل کے ذریعے وہ نتیجہ برآمد کردیتا ہے جو محض قرآن سے حاصل نہیں ہوتا ، قرآن پاک تو قانون کی کتاب ہے مگر اسے جاری کرنے کے لیے جماعت اور امیر جماعت کی ضرورت ہے جس کے لیے حضور ﷺ سے دعا کرائی جا رہی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی جماعت پیدا ہوئی جو خود بھی قانون خداوندی پر عمل پیرا ہوئی اور دوسروں سے پابندی کرانے کا بھی بیڑا اٹھایا ، حضور ﷺ کی قیادت میں اسی جماعت نے کلمہ حق بلند کیا جب آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو آپ کے خلفائے راشدین کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس مشن کو آگے بڑھایا بہرحال یہاں پر سلطان نصیر کی دعا فرمائی جس کے ذریعے اقامت نظام حق کا فریضہ بھی ادا کیا جاسکے ۔ (اسلام کے خلاف سازش) اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام کو صحابہ جیسی جماعت نصیب ہوگئی ، جنہوں نے اسلام کے نظام عدل کو نافذ کرکے دکھایا مگر افسوس کا مقام ہے کہ تاتاریوں کے حملے کے بعد اہل اسلام کی جمعیت ختم ہو کر پوری امت مسلمہ انحطاط کا شکار ہوچکی ہے ، انگریز نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو بہت برے طریقے سے ختم کیا ، دنیا میں اسلامی خلافت کا رعب ودبدبہ تھا ، یہودی اور عیسائی اس کے نام سے ہی ڈرتے تھے ، انگریز بڑے سوچ وبچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ جب تک مسلمانوں کی اجتماعیت کو ختم نہیں کیا جاتا انہیں دنیا میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ، چناچہ انہوں نے پوری دنیا میں تمام غیر مسلم اقوام کے ساتھ مل کر ایسی منصوبہ بندی کی جس سے مسلمانوں کا نہ صرف شیرازہ بکھر گیا بلکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کے قابل بھی نہ رہے جب پاکستان بنا تو تیرہ کروڑ مسلمانوں کی اجتماعیت انگریزوں ، یہود اور ہنود کو پھر کھٹکنے لگی ، چناچہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک پاکستان کو دولخت نہیں کردیا ، اسلام دشمن طاقتیں تو مسلمانوں کو کبھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوتے نہیں دیکھ سکتیں ، ان کا خواہش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ مسلمان آپس میں دست و گریبان ہوتے رہیں اور ایک دوسرے کی مدد کے قابل نہ رہیں ، ایسے ہی حالات میں اللہ کے نبی نے اللہ کی بارگارہ میں دعا کی تھی کہ مولا کریم ! ہمیں غلبہ ، تسلط ، اور امیر میسر فرما جو مدد کرنے والا اور دین کے مشن کو آگے بڑھانے والا ہو ۔ (حق و باطل کی کشمکش) ہجرت کی طرف اشارہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کی خوشخبری بھی سنا دی ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقل جآء الحق “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں کہ حق آگیا (آیت) ” وزھق الباطل “۔ اور باطل چلا گیا (آیت) ” ان الباطل کان زھوقا “۔ بیشک باطل مٹنے والا ہی ہے ، چناچہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اس وقت کعبہ کی چھت ، دیواروں اور اردگرد تین سو ساٹھ (360) بت رکھے ہوئے تھے آپ اپنی چھڑی سے بتوں کو گراتے جاتے تھے اور زبان مبارک سے یہی الفاظ دہرائے جاتے تھے (آیت) ” جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا “۔ حق آگیا اور باطل چلا گیا ، بیشک باطل جانے والا ہی تھا ، اس موقع پر حضور ﷺ نے سورة سبا کے یہ الفاظ بھی دہرائے (آیت) ” جآء الحق وما یبدیء الباطل وما یعید “۔ حق آگیا اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دو بار پیدا کرے گا مطلب یہ کہ باطل بالکل ملیامیٹ ہوگیا ، اس طرح حضور ﷺ نے خانہ کعبہ کو بتوں کی نجاست سے پاک کردیا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے یہ آیت فتح مکہ سے نو یا دس سال پہلے نازل ہوئی تھی ، جب میں فتح مکہ کی بشارت تھی ، اس وقت تو کافروں نے اس آیت کا تمسخر اڑایا تھا مگر دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ نے حق کو کس طرح غلبہ عطا فرمایا ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ نے مکہ مکرمہ میں اسلام کو ایسا غلبہ عطا فرمایا کہ قیامت تک کے لیے اسے ایمان کا مرکز بنا دیا اب اس پر کوئی دوسری طاقت غلبہ حاصل نہیں کرسکتی دراصل بیت اللہ شریف کو یہ شرف تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں ہی حاصل ہوگیا تھا مگر درمیان میں چار پانچ سو سال کا عرصہ یہ ارض مقدس پھر شرک کا گڑھ بنی رہی ، اب اللہ نے حضور ﷺ کے دست مبارک سے اسے پاک صاف کیا اب قیامت تک اس کے تقدس میں فرق نہیں آئے گا اور یہ حرم مرکز ایمان اور مرکز توحید کے طور پر قائم ودائم رہے گا ۔
Ayahs 17:82–84

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

اور اتارتے ہیں ہم قرآن میں وہ چیز جس میں شفا ہے اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے ، اور نہیں زیادہ کرتا وہ ظالموں کے لیے مگر نقصان ۔

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

اور جس وقت ہم انعام کرتے ہیں انسان پر تو وہ اعراض کرتا ہے ، اور پہلو تہی کرتا ہے اور جب پہنچتی ہے اس کو برائی تو وہ مایوس ہوتا ہے ۔

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے ہر شخص عمل کرتا ہے اپنے طریقے پر پس تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو زیادہ سیدھے راستے پر ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرمایا مکی زندگی میں حضور ﷺ اور آپ کے رفقاء کو بیحد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرما کر یہ دعا سکھلائی کہ مولا کریم ! ہمیں حق وصداقت لیے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ فرما کر یہ دعا سکھلائی کہ مولا کریم ! ہمیں حق وصداقت کے ساتھ نکال اور حق وصداقت کے ساتھ ہی داخل فرما ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے یہ بھی کہلوایا کہ حق آگیا ہے اور باطل مٹ گیا ہے کیونکہ باطل مٹنے والی چیز ہی ہے یہ گویا فتح مکہ کی طرف اشارہ تھا ، چناچہ فتح مکہ کے روز آپ ﷺ اپنی چھڑی سے بتوں کو گراتے جاتے تھے اور یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے اور اس طرح آپ نے خانہ کعبہ کو بتوں کی نجاست سے بالکل پاک کردیا ، اب آج کی پہلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعہ حق آتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے اور یہی اس آیت کی گذشتہ آیت کے ساتھ مناسبت ہے جس طرح یہ قرآن دوسری کتب سماویہ کے برخلاف بتدریج نازل ہوا ، اسی طرح باطل بھی بتدریج مٹتا چلا گیا ، اس آیت کریمہ کا تعلق رکوع اول میں آمدہ آیت پاک (آیت) ” ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوم “ سے بھی ہے کہ یہ قرآن اس راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے اب اسی قرآن کی بعض صفات کا ذکر یہاں بھی ہو رہا ہے ۔ (قرآن بطور شفا) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وننزل من القران ما ھوشفآء “۔ اور ہم اتارتے ہیں قرآن کریم میں وہ چیز جس میں شفا ہے ، اس شفا کا تعلق دراصل روحانی بیماریوں کی شفا سے ہے ، جیسا کہ سورة یونس میں بھی گزر چکا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت (آیت) ” وشفآء لما فی الصدور “ اور دلوں میں موجود بیماریوں کی شفاء آچکی ہے اگرچہ قرآن پاک دوسرے درجے میں بسا اوقات ظاہری بیماریوں کے لیے بھی شفا بن جاتا ہے مگر اصلا اس کی شفا روحانی لوگوں کے لیے ہی ہے جب بھی قرآنی آیات نازل ہوتی ہیں تو وہ روحانی بیماریوں کی شفا کا سبب بنتی ہیں ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ روحانی بیماریوں کا تعلق عقیدے ، اخلاق اور اعمال سے ہوتا ہے ، قرآن پاک سب سے پہلے باطل عقیدے کی اصلاح کرتا ہے ، کفر شرک منافقت ، الحاد ، شک وغیرہ ایسی روحانی بیماریاں ہیں جن کا اثر انسان کی روح ، قلب ، جان اور دماغ پر پڑتا ہے ، گندہ عقیدہ انسان کے دل و دماغ کو ناپاک کردیتا ہے اور انسان کی فکر بھی نجس ہوجاتی ہے ، ا سی گندی فکر کی بناء پر اللہ نے فرمایا (آیت) ” انما المشرکون نجس “۔ (التوبہ ۔ 28) یعنی بیشک مشرک لوگ ناپاک ہیں ، اسی طرح منافقوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” فزادتھم رجسا الی رجسھم “۔ (التوبۃ ۔ 125) قرآنی آیات کی وجہ سے ان کی گندگی میں ہی اضافہ ہوتا ہے بہرحال اس نجاست سے مراد ظاہری نجاست نہیں بلکہ ان کے نفاق کی گندگی مراد ہے عقیدے سچے بھی ہوتے ہیں اور باطل بھی ، تو مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن پاک باطل عقیدے کی روحانی بیماری کے لیے بمنزلہ شفا کے ہے ۔ عقیدے کے دوسرے نمبر پر اخلاقی بیماریاں ہیں جن میں حسد ، بغض ، کینہ ، خیانت ، جھوٹ ، وغیرہ شامل ہیں ، قرآن پاک ان اخلاقی بیماریوں کو بھی شفا بخشتا ہے ، قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے سے ان تمام قبیح بیماریوں سے نجات حاصل ہوجاتی ہے ، اس کے بعد تیسرے نمبر پر وہ روگ ہیں جن کا تعلق عمل سے ہے ، ان بیماریوں میں چوری ، قتل ، ڈاکہ ، اغوا ، زنا ، کھیل تماشہ ، عریانی ، فحاشی ، ظلم ، غرور ، تکبر ، غیر اللہ کی عبادت ، خوشامد ، رسومات باطلہ وغیرہ آتی ہیں ، قرآن کریم ان تمام برے اعمال کی درستگی کے لیے لائحہ عمل بتاتا ہے جس پر عملدر آمد سے انسان غلط اعمال کی بیماریوں سے بھی شفا پا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اے لوگو ! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اختیار کرو ، اور ان کی نافرمانی کرکے (آیت) ” ولا تبطلوا اعمالکم “ (محمد 33) اپنے اعمال کو باطل نہ کرلو ، اور نیک اعمال کا ابطال اس وقت ہوتا ہے جب اس میں سے خلوص نکل جائے اور ریا داخل ہوجائے اس کے علاوہ وہ کام بھی باطل ہوگا جو اگرچہ بذاتہ اچھا ہے مگر حضور ﷺ کے طریقے کے خلاف انجام دیا گیا ہے ، آپ کا ارشاد ہے ” من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھورد “۔ جس شخص نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے تو اللہ کی بارگاہ میں وہ کام بھی مردود ہوگا اور وہ آدمی بھی غرضیکہ قرآن پاک غلط اعمال کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اس سلسلے میں بزرگان دین دو چیزوں کا ذکر کرتے ہیں یعنی تخلیہ اور تحلیہ ، تخلیہ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک تمام باطل عقائد ، باطل اخلاق ، اور باطل اعمال سے انسان کو پاک کرتا ہے اور تحلیہ یعنی صحیح عقائد ، صحیح اخلاق اور اعلی اعمال سے مزین کرتا ہے مطلب یہ کہ قرآن پاک گندی اور رذیل باتوں سے انسان کو پاک کرتا ہے اور تمام ابھی صفات کے ساتھ مزین کرتا ہے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ یہی قرآن کی شفا ہے ۔ (عقیدے کی درستگی) جسمانی اور روحانی بیماریوں سے شفایابی کے لیے ایک چیز قدر مشترک ہے کہ دونوں صورتوں میں پہلے فاسد مادے کو خارج کیا جائے گا تاکہ اس کی جگہ صالح مادہ پیدا ہو کر صحت کامل ہو سکے ، ڈاکٹر یا حکیم جب بھی کسی جسمانی بیماری کا علاج کرتے ہیں تو پہلے اسے مسہل دیا جاتا ہے جس سے تمام فاسد مادے انسانی جسم سے خارج ہوجاتے ہیں یہ مادے کبھی آنتوں کے ذریعے نکالے جاتے ہیں کبھی مثانے کے ذریعے کبھی پسینے کے راستے سے اور کبھی بلغم کی صورت میں ، بسا اوقات گندا خون نکالنے کے لیے بچھنے یا سنگیاں لگائی جاتی ہیں ، جب تمام گندا مواد نکل جاتا ہے تو پھر اس کو ایسی دوائی دی جاتی ہے جس کے ذریعے خون ، بلغم ، سودا ، اور صفرا میں اعتدال قائم ہو کر انسانی اعضا ٹھیک طور پر کام کرنے لگتے ہیں ، روحانی عوارض کے علاج کا بھی یہی طریق کار ہے جب تک انسان گندے عقائد گندے اخلاق اور گندے اعمال سے پاک نہ ہو اس میں اس میں اعلی عقائد اعلی اخلاق اور اعلی اعمال پیدا نہیں ہو سکتے ، اس لیے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور بزرگان دین سب سے پہلے عقیدے کی درستگی پر زور دیتے ہیں ، جب تک انسان کے دل و دماغ کو عقیدے کی نجاست سے پاک نہ کیا جائے ، ا س وقت تک صحیح عقیدہ ، اعلی اخلاق اور اعمال صالحہ پیدا نہیں ہوسکتے ، اللہ تعالیٰ نے ایمان یعنی عقیدے کو ہر حالت میں مقدم فرمایا ہے سورة الانبیاء میں ہے (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلاکفران لسعیہ “۔ جس شخص نے کوئی اچھا عمل کیا اس کی ناقدری نہیں کی جائیگی بلکہ اسے قبول کرکے اس کا اچھا بدلہ دیا جائے گا ، اگر ایمان ہی میں خرابی ہے ، اس میں شرک ریا یا نفاق کی ملاوٹ ہے تو ایسا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوگا ۔ اسی لیے اللہ نے ایمان اور عمل صالح کو آپس میں لازم وملزوم قرار دیا ہے اور جگہ جگہ فرمایا (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ (الکہف) بہتر جزا اور اعلی مقام ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ایمان وعقیدے کی درستگی کے ساتھ نیک اعمال انجام دیے (1) (بخاری ص 2 ج 1 (فیاض) ” انما الاعمال بالنیات “۔ عمل کا مدار تو نیت پر ہوتا ہے اور نیت تب درست ہوگی جب ایمان صحیح ہوگا ، اور ایمان کی درستگی کا معیار یہ ہے (آیت) ” فادعوہ مخلصین لہ الدین “۔ (المومن) کہ خالص اللہ کی اطاعت کا جذبہ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو پکارو ، اگر عقیدے اور نیت میں ذرا بھی فتور ہوگا تو ایسا عمل بیکار محض ہوگا چاہے وہ کتنا ہی بڑا عمل کیوں نہ ہو ، امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک ایمان میں شرک اور نفاق کی ملاوٹ ہوگی ، انسان میں اخلاص پیدا نہیں ہوسکتا اور جب تک اخلاص نہیں آئے گا کوئی عمل مقبول نہیں ہوگا ۔ (مکمل طہارت) قرآن پاک نہ صرف گندے عقائد کی اصلاح چاہتا ہے بلکہ انسانی زندگی کے ہر موڑ پر پیش آنے والے ہر قسم کے گندے رذایل سے انسان کی مکمل طہارت کا قائل ہے ، انسانی برادری میں ، ملکی بین الصوبائی اور بین الاقوامی تعلقات میں طہارت ضروری ہے ، زبان ، رنگ اور نسل کے معاملے میں قرآن انسان کو ہر قسم کے تعصب سے پاک کرنا چاہتا ہے قرآن کریم کے نزدیک ظلم و زیادتی کسی کے لیے بھی روا نہیں ، جن قوموں نے تعصب اور ہٹ دھرمی کو اختیار کیا ، اللہ نے ان کو مغضوب اور ملعون قرار دیا جب تک انسان کے اندر کسی قسم کے رذائل بھی موجود ہیں اسے شفا حاصل نہیں ہوسکتی ، مطلب یہ کہ روحانی بیماری سے نجات دلانا قرآن پاک کا موضوع ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مفسرین کی طرف سے مختلف آیات کے شان نزول بیان کرکے کی ضرورت نہیں ہے ان کی اصطلاح میں خود قرآن کا شان نزول بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ان کی اصطلاح میں خود قرآن کا شان نزول یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی کسی قسم کی برائی پائی جاتی ہے وہاں وہاں قرآن پاک کی وہ تمام آیات چسپاں ہوں گی جن میں برائی کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور جس جس مقام پر اچھائی کی ضرورت ہے وہاں قرآن پاک کے تمام اواہر فٹ آتے ہیں قرآن تو علی الاعلان کہتا ہے (آیت) ” ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا “۔ (الاعراف۔ 56) اصلاح کے بعد زمین میں فساد نہ پھیلاؤ اور فساد فی الارض میں لڑائی جھگڑا ، فتنہ و فساد ، قتل وخلفشار ، گالی گلوچ وغیرہ کے علاوہ کفر ، شرک ، نفاق ، بداخلاقی اور بدعملی بھی آتی ہے ، لہذا صحیح نتائج اخذ کرنے کے لیے ان تمام قبائح سے مکمل طہارت کی ضرورت ہے ۔ (رحمت خداوندی) فرمایا نزول قرآن میں ایک تو شفا ہے اور دوسری چیز فرمایا (آیت) ” وحمۃ اللمؤمنین “۔ اہل ایمان کے لیے رحمت ہے ، جب انسان صحیح ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی انجام دے رہا ہو تو پھر اللہ کی رحمت بھی اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے ۔ غور فرمائیں کہ یہاں پر رحمت کا تعلق صرف ایمان والوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے اس بات میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنی فطرت سلیمہ کو بگاڑ کر اللہ کی عطا کردہ صلاحیت ہی کو ختم کرلیتے ہیں ، ان کے لیے قرآن پاک میں کوئی شفا نہیں ہے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولا یزید الظلمین الا خسارا “۔ جو لوگ ظلم پر ڈٹے رہیں ان کے حق میں قرآن پاک نقصان ہی میں اضافہ کرے گا ان کے عقیدے میں یہود ونصاری اور منافقین کی طرح مزید بگاڑ پیدا ہوگا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا (آیت) ” فزادتھم رجسا الی رجسھم “۔ (التوبۃ) ان کی نجاست میں تو اضافہ ہی ہوتا رہے گا ، جب قرآن کی آیات نازل ہوتی ہیں تو یہ اہل ایمان کے لیے شفا کا کام دیتی ہیں ، ان کے دلوں میں سکون پیدا ہوتا ہے ، ان میں فضائل کی آمد ہوتی ہے اور ان کی روحانیت درجہ کمال تک پہنچ جاتی ہے ، اس طرح انسان نیکی اور اچھے اخلاق کے ساتھ مزین ہوجاتا ہے ، اس کے برخلاف جب یہی آیات ضدی عنادی اور ہٹ دھرم لوگ پر پیش کی جاتی ہیں تو ان کی گندگی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ کفر ، شرک ، نفاق ، مخالفت اور رسومات باطلہ پر مزید پختہ ہوجاتے ہیں ۔ (شہد میں شفا) اس آیت کریمہ میں تو قرآن کریم کو روحانی بیماریوں کے لیے شفا قرار دیا گیا ہے البتہ گذشتہ سورة النحل میں شہد کو انسان کی جسمانی بیماریوں کے لیے باعث شفا بتایا گیا تھا ۔ (آیت) ” فیہ شفاء للناس “۔ (آیت 69) روحانی اور جسمانی دونوں قسم کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اللہ کے نبی نے یہ نسخہ تجویز فرمایا ہے ” علیکم بالشفآئین “۔ لوگو ! شفا کی دو چیزوں کو لازم پکڑو ، ” القران والعسل “ ایک قرآن ہے جو روحانی بیماریوں سے شفا دیتا ہے اور دوسری شہد ہے جو جسمانی عوارض کے لیے باعث شفا ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا حضور ﷺ میرے بھائی کے پیٹ میں اسہال ہو رہے ہیں اس کے لیے علاج تجویز فرمائیں آپ نے فرمایا ، اس کو شہد پلاؤ ، حسب الحکم شہد پلایا گیا تو مریض کے اسہال میں اضافہ ہوگیا وہ شخص پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور مریض کی حالت بیان کی ، آپ نے فرمایا اسے شہد پلاؤ اس نے جا کر دوبارہ شہد پلائی تو اسہال پھر بھی بند نہ ہوئے حضور ﷺ نے تیسری اور چھوتی دفعہ بھی شہد استعمال کرنے کا حکم دیا اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اللہ کا کلام سچا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، محدثین فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ تیرے بھائی کے پیٹ میں گندے مواد بھرے ہوئے ہیں جب تک وہ خارج نہیں ہوں گے اسے شفا حاصل نہیں ہوسکتی تو بہر حال چوتھی دفعہ شہد پلانے سے مریض کے اسہال بند ہو کر اسے شفا حاصل ہوگئی ۔ (انسان کی احسان فراموشی) اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذا انعمنا علی الانسان اعراض ونا بجانبہ “۔ جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں کسی نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ اعراض کرتا ہے اور پہلوتہی کرتا ہے ، انسان کی عمومی فطرت ایسی ہی ہے کہ اللہ کی عطا کردہ نعمت کی قدر دانی نہیں کرتا ، اللہ نے آل داؤد کو شکر گزاری کی تلقین فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا (آیت) ” وقلیل من عبادی الشکور “۔ (سبا 13) کہ میرے شکر گزار بندے بہت قلیل ہیں ، لوگوں کی اکثریت اللہ کی طرف سے انعام پاکر غرور تکبر میں مبتلا ہوجاتی ہے اور اسے اپنی ذاتی قابلیت اور استعداد کا مرہون منت سمجھنے لگتی ہے ، قارون نے بھی تو یہی کہا تھا (آیت) ” انما اوتیتہ علی علم عندی “۔ (القصص 78) کر یہ سارے خزانے تو مجھے میرے علم وہنر کی وجہ سے حاصل ہوئے ہیں ، اس میں کسی کا مجھ پر کیا احسان ہے ، یہ تو میری اپنی کمائی ہے ، جب اس کی دیدہ دلیری اس حد تک بڑھ گئی تو اللہ نے اسے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا ، آج تاجروں اور صنعت کاروں کا بھی یہی حال ہے ہر شخص اپنے علم ، تجربے ، سائنس اور ٹیکنا لوجی کو آمدنی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور پھر اسے عیاشی ، فحاشی ، شراب نوشی اور دیگر معاصی پر خرچ کرنے لگتا ہے ، اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ جب ہم کسی انسان پر انعام کرتے ہیں تو وہ اس کو انعام الہی تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیتا ہے ۔ اس کے برخلاف (آیت) ” واذا مسہ الشرکان یؤسا “۔ جب اسے کوئی برائی پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے ، فرمایا ناشکری اور مایوسی دونوں حالتیں بری ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایمان داروں کے لیے وہ شکر کرتے ہیں اور جب مصیبت آتی ہے تو صبر کا دامن تھام لیتے ہیں اور جزع فزع نہیں کرتے ۔ فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں (آیت) ” قل یعمل علی شاکلتہ “۔ کہ ہر شخص اپنے ڈھب کے مطابق کام کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے فربکم اعلم بمن ھو اھدی سبیلا “۔ تمہارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ ہدایت کے راستے پر کون ہے ہر شخص اپنی فکر اور سمجھ کے مطابق اپنے کام میں مگن رہتا ہے مگر صحیح راستے پر کون ہے اور صحیح کام کون کر رہا ہے ، یہ اللہ کے علم میں ہے ، ہر انسان اس پر حاوی نہیں ہو سکتا ، انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ کی کتاب اور انبیاء کے طریق کار کے مطابق اپنے اعمال واخلاق کی افزائش کرے باقی اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کی کوشش مشکور ہوگی اور کس کی سعی میں کیا خرابی ہوگی ، تم حتی المقدور سیدھے راستے پر سفر جاری رکھو ۔