Ayahs 17:41–48(قرآن بطور نصیحت)
اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیں ، مگر حقیقت یہ ہے (آیت) ” وما یزیدھم الا نفورا “۔ کہ اس تمام تر تشریح کے باوجود متعصب ، ضدی اور عنادی لوگوں کی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور قرآن پاک سے کچھ نصیحت حاصل نہیں کر پاتے ۔
(توحید کی دلیل)
ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” لوکان معہ الھۃ “۔ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہوتے (آیت) ” کما یقولون “ جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ظاہر ہے کہ مشرک لوگ ایک خدا پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے ، حالانکہ گذشتہ پندرہ اصولوں کے اول وآخر میں یہی بات سمجھائی گئی ہے (آیت) ” ولا تجعل مع اللہ آخر یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ ٹھہراؤ اگر ایسا کرو گے تو ملامت شدہ اور دھکیلے ہوئے بن جاؤ گے اور پھر جہنم میں پھینک دیے جاؤ گے مگر یہ لوگ اپنی بدعقیدہ سے باز آنے والے نہیں ۔ الہ کا معنی معبود برحق ہے جس میں صفات کمال پائی جائیں اور جو حاضر ناظر مختار کل ، علیم کل ، قادر مطلق ، خالق ، مربی ، نافع وضار ، مدبر اور تمام علوی اور سفلی کائنات کا متصرف ہو ، ظاہر ہے کہ یہ صفات خدا تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتیں ، انبیاء اولیاء شہداء ملائکہ اور جنات میں سے کوئی بھی ان صفات کا حامل نہیں ، اگر یہ صفات کمال خدا کے سوا کسی دوسری ذات میں مانی جائینگی تو انسان مشرک بن جائے گا ۔
فرمایا اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور الہ بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں (آیت) ” اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا “۔ تو یقینا وہ عرش والے کی طرف راستہ تلاش کرتے کیونکہ ہر الہ کی یہی خواہش ہوتی کہ وہ ہی غالب آجائے اور دوسرے سب مغلوب ہوجائیں ، سورة انبیاء میں اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” لوکان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ اگر کائنات ارض وسما میں اللہ کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو کائنات میں فتنہ برپا ہوجاتا اور سکون باقی نہ رہتا ، شیخ سعدی نے بھی تو کہا ہے کہ ایک گودڑی میں دس درویش تو آرام کرسکتے ہیں مگر ایک سلطنت میں دو بادشاہ نہیں سما سکتے ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کو مغلوب کر نیکی کوشش کرے گا اس طرح ملک میں فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوگا جب ایک چھوٹی سی سلطنت کا یہ حال ہے تو پوری کائنات میں ایک سے زیادہ الہ کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس طرح تو نظام ہی قائم نہیں رہ سکتا ۔
(خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید)
فرمایا (آیت) ” سبحنہ “ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے (آیت) ” و تعلی عما یقولون علوا کبیرا “۔ اور بلند ہے ان باتوں سے جو یہ مشرکوں کا یہ دعوی بالکل باطل ہے کہ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرے معبود بھی ہیں وہ تو ایک الہ پر اکتفا ہی نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحدا ، ان ھذا لشیء عجاب “۔ کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا لیا ہے ، یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ جو کام اتنے خدا مل کر کرتے ہوں ، وہ اکیلا ہی انجام دے دے ،
فرمایا ، وہ شرک سے پاک وحدہ لاشریک ہے ، وہ اس قدر عظمتوں کا مالک ہے (آیت) ” تسبح لہ السموت السبع والارض ومن فھین “۔ کہ ساتوں آسمان ، زمین اور ان کے درمیان موجود ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے ، مفسرین کرام فرماتے کہ یہ تسبیح حالی بھی ہو سکتی ہے اور قالی بھی ، حالی تسبیح غیر اختیاری ہوتی ہے اور اس سے مراد یہ ہے شجر وحجر ، ذرات ، پہاڑ ، دریا ، چاند سورج ستارے غرضیکہ ہر چیز کا وجود اس کے اوصاف اور اس کی حالت بتلاتی ہے ، کہ اس کا پیدا کرنے والا کوئی ہے ” وفی کل شیء لہ ایۃ ، تدل علی انہ واحد “۔ ہر چیز میں ایسی نشانی موجود ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے ، اس جہان کو عالم اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے کی علامت ہے اسے دیکھ کر انسان کا ذہن فورا اس کے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے عالم علم کے مادے سے بھی ہو سکتا ہے اور اسے بھی یہی مراد ہے بہرحال تسبیح حالی تو ہر چیز میں پائی جاتی ہے حتی کہ مشرکوں ، کافروں اور دہریوں کا وجود بھی حالی تسبیح کر رہا ہے ، سورة النحل میں بھی گذر چکا ہے کہ کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوق میں ایسی چیزیں نہیں دیکھیں “ (آیت) ” یتغیؤا ظللہ “۔ جن کے سائے دائیں بائیں لوٹتے رہتے ہیں اور خدا کے سامنے (آیت) ” سجدا للہ وھم داخرون “۔ عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں اگر کوئی شخص اپنے دل و دماغ اور زبان سے اللہ کی توحید کا انکار ہی کیوں نہ کرتا ہو مگر اس کا وجود اور اعضاء خدا تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہے ہیں مگر اس تسبیح کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، گویا کہ ہر چیز کا حال ہی خدا تعالیٰ کی قدرت تامہ ، حکمت بالغہ اور اس کی عظمت ووحدانیت کی دلیل ہے ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تسبیح قالی سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید اپنی زبان سے بھی کرتی ہے چناچہ یہاں پر بھی یہی بات بیان کی گئی ہے (آیت) ” وان من شیء الا یسبح بحمدہ “۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید بیان کرتی ہے (آیت) ” ولکن لا تفقھون تسبیحھم مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھنے سے قاصر ہو ، عام طور پر شجر وحجر اور دیگر بےجان چیزوں کی تسبیح انسان نہیں سنتے مگر بعض اوقات معجزہ یا کرامت کے طور پر ایسا ہو سکتا ہے حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے ہاتھوں میں سنگریزے تھے جن سے اس طرح تسبیح کی آواز آرہی تھی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے بخاری شریف کی روایت میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ دسترخوان پر کھانا تناول فرما رہے تھے اور کھانا اللہ کی تسبیح پڑھ رہا تھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہتا جاتا تھا ، اسی طرح شیخ ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے درختوں کی تسبیح سنی ہے ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ مینڈک کو نہ مارو کیونکہ ان کی ٹرٹراہٹ دراصل اللہ تعالیٰ کی تسبیح ہوتی ہے ،
مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ایک دیہاتی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس نے بڑا فیشنی لباس پہن رکھا تھا اس نے عام مجلس سے یوں خطاب کیا کہ تمہارے یہ صاحب (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چرواہوں کو تو بڑا بلند کر رہے ہیں مگر باعزت لوگوں کو ذلیل کر رہے ہیں ، حضور ﷺ نے اس کے لباس کا کپڑا ہاتھ میں لے کر کہا کہ تمہارا یہ لباس عقلمندوں کا لباس معلوم نہیں ہوتا ، پھر آپ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب نوح (علیہ السلام) کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر کہا میں تمہیں دو باتوں کا حکم دینا چاہتا ہوں اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں منہیات یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور تکبر نہ کرنا ، اور اوامر یہ ہیں کہ ہر وقت ” لا الہ الا اللہ “ پڑھتے رہا کرو کیونکہ یہ ایسی تسبیح ہے کہ ایک پلڑے میں یہ ہو اور دوسرے پلڑے میں پوری ارض وسما ہو تو پھر بھی یہ بھاری ہے اور دوسرا حکم یہ ہے کہ ہر وقت سبحان اللہ وبحمدہ کا ورد رکھا کرو ، کیونکہ کائنات کی ہر چیز اسی کلمہ سے خدا تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتی ہے اور اسی کی بدولت انہیں روزی ملتی ہے ،
باقی رہ گیا ہر چیز کی تسبیح کے الفاظ کا سمجھنا تو یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے ، سورة النور میں اللہ تعالیٰ ارشاد ہے کہ زمین وآسمان کا ہر شخص اور پر پھیلائے ہوئے پرندے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ سب اپنی نماز اور تسبیح کو جانتے ہیں (آیت) ” کل قد علم صلاتہ وتسبیحہ “۔ اور اس مقام پر یہ بھی فرمایا کہ ارض وسما کی ہر چیز تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم اسے سمجھ نہیں سکتے ۔
فرمایا (آیت) ” انہ کان حلیما غفورا “ دیکھو ! وہ اللہ تعالیٰ کس قدر بردبار اور بخشنے والا ہے وہ نافرمانوں کو مہلت دیتا رہتا ہے فوری گرفت نہیں کرتا مگر اس کا قانون یہ ہے کہ وہ کسی مجرم کو سزا دیے بغیر چھوڑے گا نہیں جب پکڑے گا تو پھر پورا پورا مؤاخذہ کرے گا ۔
(قرآن کی برکات سے محرومی)
فرمایا (آیت) ” واذا قرات القرآن جعلنا بینک وبین الذین لایؤمنون بالاخرۃ حجابا مستورا “۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے درمیان اور آخرت کے منکرین کے درمیان ڈھانپنے والا پردہ ڈال دیتے ہیں یہ انکی گمراہی اور غفلت کا پردہ ہوتا ہے ، کوئی بات ان کے ذہن میں نہیں بیٹھتی ان کی ضد ، عناد ، ہٹ دھرمی ، اور تعصب کی وجہ سے پردہ پڑا ہوا ہے ، اور قرآن کریم کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ، فرمایا (آیت) ” وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ “۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس بات سے کہ وہ قرآن کو سمجھ سکیں ، وہ اس کے مفہوم پر مطالب کو سمجھنے سے عاری ہوچکے ہیں (آیت) ” وفی اذانھم وقرا “۔ اور ان کے کانوں میں بوجھ پڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے کان بند ہوچکے ہیں اور وہ کچھ سنتے ہیں نہیں ، اور پھر خاص طور پر فرمایا (آیت) ” واذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ ولوا علی ادبارھم نفورا “۔ جب آپ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر کرتے ہیں تو یہ لوگ پشت پھیر کر بھاگ جاتے ہیں ، عتبہ شیبہ ، اور ابوجہل ، جیسے لوگ قرآن کو سننے کے لیے بھی تیار نہ ہوتے تھے ، اسی لیے فرمایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” نحن اعلم بما یستمعون بہ اذ یستمعون الیک “۔ ہم خوب جانتے ہیں اس بات کو جس کے واسطے وہ سنتے ہیں جب کہ وہ کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اگر وہ سنتے بھی ہیں تو کس لیے یہ لوگ محض اعتراض کرنے اور قرآن پاک کی تردید کرنے کے ارادے سے کسی وقت اس کا کچھ حصہ سن لیتے ہیں یہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ ان کے زعم کے مطابق اسلام کی کوئی کمزوری ان کے ہاتھ میں آجائے جسے اچھال کر وہ دین کے خلاف پراپیگنڈا کرسکیں فرمایا (آیت) ” واذ ھم نجوی “ جب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں دین حق اور پیغمبر اسلام کے خلاف مخفی مشورے کرتے ہیں تو ہم ان کو جانتے ہیں ان کی کوئی حرکت اور کوئی ارادہ ہمارے علم سے مخفی نہیں ، ہم ان کی ایک ایک بات نوٹ کر رہے ہیں اور اس کا انہیں پورا پورا بدلہ دیں گے ۔
(سحر زدگی کا الزام)
فرمایا ان کی دین دشمنی کی حد یہ ہے (آیت) ” اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا “۔ کہ ان ظالموں نے مسلمانوں کو یہ بھی کہہ دیا کہ تم تو ایک سحر زدہ آدمی کی پیروی کر رہے ہو العیاذ باللہ نبی کی شان میں اس قدر گستاخی کی کہ اس پر جادو کا اثر ہے جس کی وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے ، کہتا ہے کہ مرنے کے بعد پھر سب لوگ زندہ کیے جائیں گے ابھی اگلے درس میں آرہا ہے (آیت) ” وقالواء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا “۔ کہتے تھے جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے ، تو کیا پھر دوبارہ پیدا کیے جائیں گے یہ تو عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے ، منکرین نے اکثر انبیاء کو ساحر کہا ، خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تو قرآن میں موجود ہے ، اسی طرح حضور ﷺ کو بھی کبھی ساحر کہ کبھی دیوانہ کبھی کاہن اور کبھی شاعر۔
حدیث میں حضور ﷺ پر سحر کا اثر ہونے کا ذکر ملتا ہے یہودیوں نے دھاگے میں گیارہ گرہیں لگا کر اسے ایک پرانے کنویں میں دفن کردیا جس کی وجہ سے آپ بیمار بھی ہوگئے ، یہ بات یاد رہے کہ بنی کو جسمانی بیماری تو لاحق ہو سکتی ہے مگر آپ کے دل و دماغ پر جادو کا اثر نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ منصب نبوت کے منافی ہے ، بہرحال اللہ نے فرشتہ بھیج کر جادو کے اثر کو زائل کرنے کا نسخہ بھی بتا دیا ، حضور ﷺ نے جادو کا سامان بھی اس جگہ سے نکلوا لیا ، آپ سورة الفلق اور سورة الناس کی گیارہ آیات ایک ایک کرکے پڑھتے جاتے تھے اور ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی اور اس طرح آپ جادو کے اثر سے بالکل پاک ہوگئے ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ لفظ مسحور ، سحر سے نہیں بلکہ سحر سے ہے جس کا مطلب پھپھڑا رکھنے والا انسان ہے مشرک لوگ یہ غلط پراپیگنڈا کرتے تھے کہ مسلمان ایک انسان کی پیروی کر رہے ہیں حالانکہ ان کے خیال کے مطابق انسان پیغمبر نہیں ہو سکتا بہرحال سحر کا معنی کھانے پینے والا انسان ہے عربی کا ایک شاعر بھی اس لفظ کو اس طرح استعمال کرتا ہے ۔
ارانا موضعین لا مرغیب
ونسحر بالطعام وبالشراب :
ہم اپنی سواریاں ایک امر غیب کے لیے دوڑا رہے ہیں اور ہمیں کھانے پینے کی چیزوں کی غذا دی جا رہی ہے گویا ہم پر اکل وشرب کا سحر چل رہا ہے لبید یا امیہ بن ابی الصلت میں سے کسی ایک کا یہ کلام بھی ہے ۔
ان تسئلینا فیم نحن فاننا
عصافین من ھذا الانام المسحر :
اگر تو ہمارے بارے میں پوچھے کہ ہم کیا ہیں تو ہم اس دنیا کے پرندوں جیسے ہیں جنہیں خوراک دی جاتی ہے ۔
بہرحال مسحور سے مراد سحر زدہ بھی ہو سکتا ہے اور کھاتا پیتا انسان بھی ، مشرکین کسی انسان کو نبی ماننے کے لیے قطعا تیار نہ تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے ہم انسانوں کی طرف انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجتے ہیں اور اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے ہوتے (آیت) ” لنزلنا علیھم من السمآء ملکا رسولا “۔ تو ہم آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے اللہ تعالیٰ نے بشریت اور انسانیت کا اعلان خود حضور ﷺ کی زبان سے بی کروا دیا (آیت) ” قل انما انا بشر مثلکم “۔ (الکہف) میں تو تمہارے جیسا ہی انسان ہوں البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شرف بخشا ہے ، مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے نبی اور معصوم بنایا ہے میری اتباع کا حکم دیا ہے بلکہ ہر نبی نے اپنی امت کے لوگوں سے یہی کہا (آیت) ” فاتقوا اللہ واطیعون “۔ (الشعرآئ) لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو میں تمہارے سامنے نمونہ بن کر آیا ہوں بہرحال مشرک لوگ پراپیگنڈا کرتے تھے کہ مسلمان ایک سحر زدہ اور انسان کا اتباع کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انظرکیف ضربوا لک الامثال “۔ دیکھو ! یہ لوگ کس طرح آپ کے سامنے مثالیں بیان کرتے ہیں حقیقت میں (آیت) ” فضلوا “ یہ گمراہ ہوچکے ہیں (آیت) ” فلا یستطیعون سبیلا “۔ اور اب راستہ پانے کی طاقت نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ کسی متعصب ضدی اور عنادی آدمی کو صراط مستقیم نصیب نہیں ہوسکتا ۔
Ayahs 17:49–52ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا مشرکین حضور ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، بھلا ہم اس کی اتباع کیوں کریں کبھی کہتے کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نعوذ باللہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا رد فرمایا اور مشرکوں کو غلط ذہنیت کو واضح کیا کہ یہ لوگ محض ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسے اعتراض کرتے ہیں پھر اللہ نے مسئلہ توحید کے ضمن میں فرمایا اگر ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی کیا اور توحید و رسالت دوسرے دینی حقائق مختلف عنوانات کے تحت سمجھائے ۔
(کیا دوبارہ زندگی ممکن ہے)
مسئلہ توحید کے بعد اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے معاد کا مسئلہ بیان فرمایا ہے بنیادی عقائد میں توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت جیسے اہم مسائل شامل ہیں اور مکی سورتوں میں عام طور پر انہی مسائل کو مختلف پیرایوں میں بیان کیا گیا ہے اب بعث بعد الموت کے مسئلہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت کے ساتھ مدلل طور پر بیان فرمایا ہے ، پہلے مشرکین کا اعتراض نقل کیا ہے اور اس کے بعد اس کا شافی جواب ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” وقالو “ یہ کفار ومشرکین کہتے ہیں (آیت) ” ء اذا کنا عظاما “۔ جب ہم مر کر ہڈیاں ہوجائیں گے ، ” ورفاتا “۔ اور بوسیدہ ہو کر بالکل چورہ چورہ بن جائیں گے (آیت) ” ء انا لمبعوثون خلقا جدیدا “۔ تو کیا ہم نئی پیدائش میں دوبارہ اٹھائے جائیں گے ، ظاہر ہے کہ جب کوئی انسان مٹی میں دفن ہوجاتا ہے تو اس کا گوشت پوشت بہت جلد گل سڑ کر ضائع ہوجاتا ہے ، اور باقی ہڈیاں رہ جاتی ہیں جو گوشت کی نسبت زیادہ سخت ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ ہڈیاں بھی بوسیدہ ہو کر بھر بھری ہوجاتی ہیں اور ذرا سا چھونے سے بھی ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں اور اس طرح انسان کا پورا جسم مٹی میں مل کر نابود ہو اجاتا ہے سورة النزعت میں (آیت) ” ء اذا کنا عظاما نخرۃ “۔ کے الفاظ آتے ہیں جب ہم کھوکھلی ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا پھر زندہ کیے جائیں گے ؟ اسی بات کو سورة السجدہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” ء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید “۔ کیا جب ہمارے جسم کے ذرات منتشر ہو کر بکھر جائیں گے اور ہم مٹی میں رل مل جائیں گے تو پھر دوبارہ زندہ ہوں گے ؟
لوگوں کو ان کے انجام سے ڈرانا حضور ﷺ کے فرض منصبی میں داخل ہے چناچہ جب آپ مشرکین کی توجہ اس طرف دلاتے کہ مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہاری حاضری ہوگی اور اس دنیا میں کیے گئے ہر نیک وبد عمل کا حساب دنیا ہوگا ، تو وہ لوگ دوسری زندگی کا انکار کردیتے اور کہتے کہ آج تک تو ہم نے اپنے آباؤ اجداد میں سے کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے یا حساب کتاب دیتے نہیں دیکھا آپ تو (نعوذ باللہ ) دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہیں ، بھلا جو جسم گل سڑ کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوگیا ، اس کو دوبارہ زندگی کیسے حاصل ہوگی ۔
(ہاں ! اسکی دلیل)
آگے اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کا مدلل جواب دیا ہے ارشاد ہوگا ہے ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان مشرکوں سے کہہ دیں کہ انسان جسم کی ہڈیاں گوشت سے سخت مگر کائنات میں پائی جانے والی بعض چیزوں سے نرم بھی ہیں ، دنیا میں ان ہڈیوں سے بھی سخت چیزیں موجود ہیں ، فرمایا ان کے اعتراض کا یہ جواب دیں (آیت) ” کونوا حجارۃ او حدیدا “۔ تم پتھر بن جاؤ یالوہا ، پتھر بڑی مضبوط چیز ہے جو مٹی میں گلتا سٹرتا نہیں اور لوہا اس سے بھی سخت ہے جو پتھر کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے لوہے کے نام پر قرآن پاک میں سورة الحدید بھی موجود ہے اللہ تعالیٰ نے بطور احسان فرمایا ہے (آیت) ” انزلنا الحدید فیہ باس شدید ومنافع للناس “۔ ہم نے نہایت سخت لوہا پیدا کیا جس میں تمہارے لیے بہت سے فائدے ہیں اگر دیکھا جائے تو آج دنیا میں ایک تہائی تمدن کا انحصار لوہے پر ہے ضروریات زندگی میں لوہے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کوئی کل پرزہ اور مشین لوہے کے بغیر نہیں بن سکتی اور یہی مشینیں ضروریات کی لاکھوں چیزیں پیدا کر رہی ہیں ، لوہا مع دنیات کی صورت میں زمین سے نکالا جاتا ہے پھر اسے صاف کرکے اس سے مختلف چیزیں تیار کی جاتی ہیں ۔
فرمایا تم پتھر جیسی ٹھوس اور بےجان چیز بن جاؤ یا لوہے جیسی سخت اور زندگی سے بعید چیز بن جاؤ (آیت) ” او خلقا مما یکبر فی صدورکم “۔ یا کوئی اور چیز بن جاؤ جو تمہارے دلوں میں ان سے بھی زیادہ دشوار ہے گوشت پوست اور ہڈیوں میں تو جان موجود تھی اب ان کو دوبارہ زندہ کرنا شاید آسان ہو مگر پتھر ، لوہے یا کسی دیگر چیز کو تو زندگی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ، اگر تم یہ کچھ بن جاؤ (آیت) ” فسیقولون من یعیدنا “۔ تو یہ لوگ فورا کہہ دیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ لوٹائے گا ؟ جب ہمارا تعلق زندگی سے مطلقا منقطع ہوجائے گا تو پھر وہی زندگی کیسے لوٹ کر آئے گی جب کہ ہمارا گوشت پوست اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی میں مل چکے ہوں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں ، (آیت) ” الذی فطرکم اول مرۃ تمہیں وہی ذات دوبارہ زندہ کرے گی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا ، سورة بقرہ میں ہے (آیت) ” کنتم امواتا فاحیاکم “۔ خدا نے تمہیں موت سے زندگی بخشی ، تم کچھ نہیں تھے ، اللہ نے تمہیں جیتا جاگتا انسان بنایا ، تم اپنے آغاز سے واقف ہو کہ اللہ نے تمہیں بغیر مادے ، آلے اور نمونے کے پیدا کیا ، اب اپنا انجام میں دیکھ لو گے کہ وہ تمہیں کیسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھاتا ہے دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا کہ انسان کو پیدائش اگر مشکل ہوتی تو پہلی دفعہ ہوتی ، جب کہ اس کانمونہ تک موجود نہیں تھا ، اب جب کہ وہ ایک معقول زندگی گزار کر موت سے ہمکنار ہوا ہے ، اس کو دوبارہ پیدا کرنا تو نسبتا آسان ہے تم مٹی تھے ، قطرہ آب تھے ، جماد لا یعقل تھے مگر اللہ نے ت میں زندگی بخشی مکمل انسان بنایا تو اب اسی خالق ومالک کے لیے دوبارہ زندہ کرنا کون سا مشکل کام ہے ؟
(وقوع قیامت کا وقت)
فرمایا ، اے پیغمبر ! ﷺ جب دوبارہ جی اٹھنے کی یہ ٹھوس دلیل آپ ان کے سامنے پیش کریں گے تو وہ لاجواب ہوجائیں گے (آیت) ” فسینغضون الیک رء وسھم “۔ اور تعجب ، انکار اور استبعاد کی بنا پر سر ہلا دیں گے پھر اور تو کچھ بن نہیں پڑے گا ، (آیت) ” ویقولون متی ھو “۔ صرف اتنا کہہ سکیں گے کہ اگر آپ کے دعوے کے مطابق دوبارہ زندگی لازمی ہے تو یہ کب ہوگا ؟ ہم نے آج تک تو کسی کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا نہیں ، آخر یہ سارا معاملہ کب پیش آئے گا ، اللہ جواب میں فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان کو بتا دیں (آیت) ” عسی ان یکون قریبا “۔ ممکن ہے کہ وہ وقت قریب ہو جب تم سب دو بار اٹھائے جاؤ گے ، یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ اس نے قیامت کے وقت کو ظاہر نہیں کیا ورنہ کائنات کا سارا نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے ، وقوع قیامت کے متعلق قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے کہ اس کے وقت کے متعلق اللہ تعالیٰ ہی کو علم ہے ، اور اس نے یہ علم کسی دوسری ذات کو نہیں دیا البتہ حضور ﷺ نے بعض نشانیوں کا ذکر کیا جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوں گی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی یہی فرمایا تھا کہ قیامت آنے والی ہے (آیت) ” اکاد اخفیھا لتجزی کل نفس بما تسعی “۔ (طہ) مگر میں اس کے وقت کو مخفی رکھوں گا تاکہ ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ مل سکے ، قیامت کو قریب اس لیے بھی فرمایا کہ آئندہ آنے والی چیز دن بدن قریب ہی ہوتی ہے کیونکہ اسے بہرحال آنا ہے ، البتہ گزرا ہوا وقت دن بدن بعید ہوتا چلا جاتا ہے کیونکہ اسے لوٹ کر نہیں آنا ہوتا ، فرمایا شاید کہ قیامت قریب ہی ہو اور تم ضرور اسے پالو گے ۔
(دوبارہ زندگی پر حمد)
فرمایا (آیت) ” یوم عدعوکم “۔ جس دن اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرکے اپنی طرف بلائے گا سورة المعارج میں ہے کہ جب قیامت کا بگل بجے گا تو لوگ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑتے ہوئے آئیں گے ، (آیت) ” کانھم الی نصب یوفضون “۔ جیسے شکاری شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں ، غرضیکہ جب اللہ تعالیٰ تمہیں بلائے گا ۔ (آیت) ” فتستجیبون بحمدہ “۔ تو جواب دو گے اس کی تعریف کے ساتھ اس وقت تمہاری زبانوں سے بےاختیار اللہ تعالیٰ کی حمد بیان ہوگی اس وقت تمہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر یقین آئے گا ، مگر اس وقت الحمد للہ کہنا کچھ مفید نہیں ہوگا ، البتہ اہل ایمان اللہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کریں گے (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “۔ (فاطر) اس خدا تعالیٰ کا شکر ہے جس نے آج ہمارے تمام غم واندوہ دور کردیے حدیث میں آتا ہے ” لیس علی اھل لا الہ الا اللہ وحشۃ فی الموت ولا فی القبور ولا حین یخرجون “۔ (اوکما قال) یعنی اہل ایمان کلمہ طیبہ پڑھنے والوں پر نہ تو موت کے وقت وحشت ہوگی ، نہ قبروں میں اور نہ قبروں سے دوبارہ نکلتے وقت ان کی زبانوں پر ” لا الہ الا اللہ “۔ کے الفاظ ہوں گے اور وہ نہایت اطمینان کے ساتھ میدان محشر کی طرف روانہ ہوں گے ، ایسے لوگ خوشی خوشی حمد وثنا کا یہ ترانہ بھی گائیں گے (آیت) ” الحمد للہ الذی اذھب عنا الحزن “۔ اس اللہ کی سب تعریفیں ہیں جس نے ہم سے غم کا بوجھ اتار دیا ۔
(دنیا کی قلیل زندگی)
فرمایا آج تو تم دوبارہ زندگی کو بعید سمجھتے ہو اور اس کا ذکر حقارت کے ساتھ سر ہلاکر کرتے ہو اور پوچھتے ہو کہ وہ کب آئیگی مگر اس دن تم غیر ارادی طور پر اللہ کی تعریف کرو گے (آیت) ” وتظنون ان لبثتم الا قلیلا “ اور تم اس دن گمان کرو گے کہ تم دنیا میں بہت تھوڑا عرصہ مقیم رہے جب مستقبل کی دائمی زندگی نظر آئے گی تو دنیا کے سو سال بھی معمولی ساعرصہ معلوم ہوں گے ، سورة الاحقاف میں آتا ہے کہ کہیں گے (آیت) ” لم یلبثوا الا ساعۃ من نھار “۔ یعنی دنیا میں ایک دن کا تھوڑا سا حصہ ٹھہرے ، سورة النزعت میں ہے (آیت) ” لم یلبثوا الا عشیۃ اور ضحھا “۔ پچھلے پہر یا پہلے پہر کا تھوڑا سا وقت دنیا میں قیام کیا ، کفر وشرک اور معاصی میں گزرا ہوا یہ وقت بالکل قلیل محسوس ہوگا ، آگے دائمی زندگی نظر آئے گی جس میں نہ عذاب میں تخفیف ہوگی ، اور نہ موت آئیگی فرمایا آج تم یوں تمسخر کرتے ہو لیکن اس دن یہ حالت ہوگی کہ جب اللہ تعالیٰ بلائے گا تو حمد کے ترانے گاتے ہوئے آؤگے اور اس دنیا کی زندگی کو بالکل قلیل گمان کرو گے ۔
Ayahs 17:53–55ربط آیات :
گذشتہ آیات میں عقیدے کے بارے ہیں اہم مضامین کا ذکر ہوچکا ہے ، اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، کفار کی مذمت بیان فرمائی اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات کے جوابات دیے اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بیان کیا کہ لوگ اس کو بعید خیال کرتے ہو مگر ممکن ہے یہ قریب ہی ہو پھر فرمایا جب قیامت برپا ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کو بلائے گا تو یہ خدا کی تعریف کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کرنے اور اس کی حمد بیان کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
(شائستہ بات)
اب آج کی آیات میں حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے اہل ایمان کو اچھا اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے مشرکین اکثر ناشائستہ باتیں کرتے تھے اور عمل سے بھی مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے اور عمل سے بھی مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے ، ان حالات میں خدشہ تھا کہ کہیں مسلمان بھی مشرکین کے جواب میں غیر اخلاقی اور ناشائستہ راستہ اختیار نہ کرلیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اخلاقی تعلیم کا پابند بنایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقل لعبادی “۔ اور اے پیغمبر ! ﷺ آپ میرے بندوں سے کہہ دیں (آیت) ” یقولوا التی ھی احسن “۔ کہ وہ ایسی بات کریں جو بہتر ہے ، اخلاق کے منافی ناشائستہ بات یا گالی گلوچ سے اجتناب کریں اور اس ضمن میں مشرکون کی روش اختیار نہ کریں ، اللہ تعالیٰ نے سورة الانعام میں گالی گلوچ کی صریح الفاظ میں ممانعت کردی ہے (آیت) ” ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم “۔ غیر اللہ کو پکارنے والے مشرکین کو گالی گلوچ نہ دو ‘ اور نہ ان کے معبودوں کے متعلق کوئی ایسی بات کرو ، کہیں وہ تمہارے معبود برحق کو گالیاں نہ دینے لگیں اور تم اس قبیح حرکت کا ذریعہ بن جاؤ ، سورة آل عمران میں ہے کہ اہل ایمان ! تم اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے بڑی تکلیف دہ باتیں سنو گے (آیت) ” وان تصبروا وتتقوا فان ذلک میں عزم الامور “۔ (آیت 186) اور برائی کا جواب برائی سے دینے کی بجائے اگر تم صبر کرو گے اور تقوے کا راستہ اختیار کرو گے تو یہ پختہ بات ہے اور اسی کا نتیجہ اچھا ہوگا ۔
(شیطان دشمن انسان)
فرمایا اگر مشرکین کی دیکھا دیکھی تم بھی ویسی ہی باتیں کرنے لگے تو اس سے شیطان کا کام بن جائے گا کیونکہ (آیت) ” ان الشیطن ینزغ بینھم “۔ شیطان تو ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے ، وہ تو چاہتا ہے کہ معاملہ مزید الجھ جائے اور فریقین کے درمیان فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے لہذا تمہارا کام یہ ہے کہ شیطان کو اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہونے دو یاد رکھو ! شیطان انسان دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا کیونکہ (آیت) ” ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا “۔ وہ تو انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس نے اس دشمنی کو بروئے کار لانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت لے رکھی ہے ۔
بہرحال فرمایا کہ مشرکین کی طعن وتشنیع ، تمسخر اور دل آزاری سے تنگ دل ہو کر ان کا رویہ نہ اختیار کرلو ، بلکہ بہتر بات کہو ، اور بہتر بات وہی ہے جس میں نصیحت کا پہلو نمایاں ہو ، آگے اللہ کا یہ فرمان بھی آرہا ہے کہ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ مشرک لوگ ضرور ہی ایمان لے آئیں ، دوسری جگہ موجود ہے کہ مشرکین کی تکلیف دہ باتوں کے مقابلے میں تم اگر اچھی بات کہو گے تو نتیجتا تمہارے اور ان کے درمیان دوستی کا امکان پیدا ہوگا اور اس طرح انہیں تمہاری بات سننے ، سمجھنے اور ایمان قبول کرنے کا موقع میسر آجائے گا اور اگر تم سختی سے بات کرو گے تو ان کی ضد اور عناد میں اضافہ ہو کر ہدایت سے محرومی کا سبب بن سکتا ہے ۔
(اچھی بات کیا ہے)
فرمایا ایک اچھی بات تو یہ ہے کہ مشرکین کی اشتغال انگیزیوں کے جواب میں تم اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھی بات کرو ، اور دوسری یہ کہ تم اپنی زبانوں سے ہر موقع اور محل پر اچھی اور بہتر بات ہی کہو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سب سے اچھی بات اللہ تعالیٰ وحدانیت اور پیغمبر خدا کی رسالت کو گواہی دینا ” شھادۃ ان الا الہ الا اللہ وان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ اس کے بعدامر بالمعروف یعنی نیکی کا حکم کرنا اور نہی عن المنکر یعنی برائی سے روکنا بھی اچھی بات میں شامل ہے ، بداخلاقی کے مقابلے میں اخلاق کا مظاہرہ کرو ، اور بدخواہی کے مقابلے میں خیر خواہی کی بات بھی اچھی بات ہے فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ربکم اعلم بکم “۔ تمہارا پروردگار تمہاری حالت کو خوب جانتا ہے اگر تمہاری حالت اچھی ہوگی تو اللہ تعالیٰ ضرور ہدایت نصیب کرے گا اور اگر حالت بری ہوئی تو وہ ہدایت سے محروم ہی رکھے گا سارا اختیار اس کے پاس ہے (آیت) ” ان یشایرحمک “ وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرمائے ، ایمان ، نیکی اور اطاعت کی توفیق فرمائے اعمال صالحہ انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے ، (آیت) ” اوان یشایعذبکم “ یا اگر چاہے تو تمہیں سزا دے دے یہ بھی اس کی طرف سے سزا ہی ہے کہ کسی شخص کی ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ہدایت سے محروم رکھے جیسے اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” ختم اللہ تعالیٰ قلوبھم “۔ (البقرۃ ، 7) اللہ نے کافروں کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں سورة النساء میں ہے (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “۔ (آیت 155) ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیے ہیں ، اب یہ ہدایت قبول نہیں کرسکیں گے سورة نساء ہی میں ہے کہ ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد جو شخص رسول دشمنی پر قائم رہتا ہے اور مومنوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرتا ہے (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ تو پھر جدھر وہ جانا چاہتا ہے ہم ادھر ہی کی توفیق دے دیتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا (آیت) ” ونصلہ جھنم وساء ت مصیرا “۔ (آیت) ’ کہ وہ جہنم میں داخل ہوں گے جو کہ بدترین ٹھکانا ہے ۔
(نبی کی ذمہ داری)
فرمایا اے نبی ﷺ (آیت) ” وما ارسلنک علیھم وکیلا “۔ ہم نے آپ کو ان کفار ومشرکین پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ضرور ہی انہیں راہ راست پر لے آئیں ، آپ کا یہ کام نہیں ہے بلکہ آپ کا کام یہ ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے راہ ہدایت پیش کریں ، ان کے لیے تعلیم وتبلیغ کا کام کریں ، کسی کو راہ راست پر لانا یا گمراہی میں مبتلا رکھنا اللہ کا کام ہے اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی ہدایت کے لیے نبی کو ذمہ دار نہیں بنایا تو امت کے لوگوں کو بھی زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے کہ فلاں شخص یا جماعت ہدایت کو قبول کیوں نہیں کرتے انہیں حتی الامکان کوشش کرکے نتیجہ اللہ جل جلالہ پر چھوڑ دینا چاہئے مگر مشکل یہ ہے کہ لوگ تبلیغ وتعلیم کے معاملے میں دو فیصد کام بھی انجام نہیں دے رہے ہیں ، عام لوگ ذاتی کاروبار اور معاملات میں مصروف ہیں اور دن کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی جا رہی ہے مشرک کافر تو دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اور وہ اس کے لیے تگ ودو میں لگے رہتے ہیں مگر مومن کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی ہے (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ “۔ (البقرۃ ۔ 201) اے پیغمبر ! ﷺ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی ، یہ دنیا تو آخرت کا ایک ذریعہ اور پل ہے جس سے گزر کر آخرت کی دائمی زندگی میں پہنچنا ہے ، یہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے ، اس سے غفلت برتنا تباہ کن ہے اور آخرت سے غافل ہونا ابدی خسران اور بدنصیبی کی علامت ہے ۔
بہرحال فرمایا کہ کسی کو راہ راست پر لانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء “۔ (القصص) آپ اپنی خواہش پر کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ منزل مقصود تک پہنچانا اللہ کا کام ہے یہ اہل ایمان کے لیے تسلی بھی ہے کہ آپ تبلیغ وتعلیم کا کام کرتے رہیں ، انسانوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا برتاؤ کریں ، اگر یہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “َ (البقرۃ ، 119) جہنم والوں کے متعلق آپ سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیوں دوزخ میں گئے ؟ بلکہ یہ ان سے سوال ہوگا کہ تمہارا یہاں کیسے آنا ہوا ؟ تم سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے انہیں صحیح راستہ بتایا یا نہیں ، انہیں دین کو قبول کرنے ترغیب دی یا عمر بھر کھیل تماشے اور گانے بجانے میں ہی لگے رہے عمارات کی تزئین ہی کرتے رہے یا انسانیت کی بہتری کے لیے بھی کوئی کام کیا فرمایا (آیت) ” وربک اعلم بمن فی السموت والارض “ اور تیرا پروردگار آسمان و زمین کی تمام مخلوق ملائکہ ، جن اور انسان سب کی حالت کو خوب جانتا ہے ، جب اللہ ہی بہتر جانتا ہے تو پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون شخص اس قابل ہے کہ اسے ہدایت نصیب ہو اور کون ہے جو گمراہی کے قابل ہے ، بہرحال ہدایت اور گمراہی اللہ کے اختیار میں ہے اور وہی اس کا فیصلہ کرتا ہے یہ کسی نبی یا امتی کی ذمہ داری نہیں ہے ۔
(انبیاء کے درجات)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت بخشی ہے مشرکین کا اعتراض تھا کہ نبوت کا دعویدار تو ہمارے جیسا انسان ہے ہم اسے نبی کیسے مان لیں ، اگر اللہ کسی انسان کو ہی نبی بناتا تو کسی بڑے آدمی کو بناتا ، کہتے تھے (آیت) ” لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم “۔ (الزخرف ، 31) یہ قرآن مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں کے کسی سردار پر کیوں نہیں اترتا کیا ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی اس کام کے لیے رہ گیا ہے ، اس اعتراض کا ایک جواب تو پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر ایک کی حالت ، کیفیت اور استعداد کو جانتا ہے اور اسی کے مطابق کوئی فیصلہ کرتا ہے ، وہ جس کو چاہتا ہے اس کی استعداد کے مطابق منصب نبوت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے ، اس میں کسی دوسرے کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ، اور اب دوسرا جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ اللہ نے بعض انبیاء کو بعض پر ان کے کمال اور شرف کی بنا پر فضیلت بخشی ہے نبوت کی تقسیم کسی ظاہری تعلقات کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ روحانی اور نفسانی کیفیت کی بنیاد پر ہوتی ہے ، ظاہری طور پر خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے نبی کا تعلق ساری مخلوق سے ہوتا ہے ، مگر اس کے باوجود وہ اللہ کا نبی ہے ، کیونکہ اس کی روحانی ، اخلاقی اور نفسانی حالت کمال درجے کی ہے جیسے اللہ نے داؤد (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” یداؤد انا جعلنک خلیفۃ فی الارض “۔ (ص ، 26) اے داؤد (علیہ السلام) ! ہم نے آپ کو زمین میں خلافت عطا کی خلیفہ ہونے کے باوجود آپ بڑے عبادت گزار تھے اور اللہ نے آپ کو کمال درجے کی روحانیت بھی عطا فرمائی تھی آپ بطور خلیفہ جہاد بھی کرتے تھے اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ کتاب زبور کی تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیتے تھے ، آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے کبھی نصف رات عبادت کرتے تھے کبھی چھٹا حصہ اور کبھی تیسرا حصہ اور اس طرح آپ عبادت بھی کرتے اور آرام بھی کرتے ، اور جب جہاد کا موقع آتا ” وکان لا یفر اذا لاقی “۔ جب دشمنوں سے مڈبھیڑ ہوجاتی تو پھر پشت پھیر کر نہیں بھاگتے تھے بلکہ ثابت قدم رہتے تھے ۔
اب یہی چیز اللہ نے نبی آخر الزمان میں بھی رکھی ہے آپ جہاد بھی کرتے تھے اور قرآن کے ذریعہ تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں ۔ (آیت) ” وجاھدھم بہ جہادا کبیرا “۔ (الفرقان) آپ اس قرآن پاک کے ذریعے لوگوں کے ساتھ بڑا جہاد کریں جب تک دنیا میں کفر ، شرک اور گمراہی موجود ہے جہاد بذریعہ قرآن جاری ہے ، آپ خلیفۃ اللہ بھی ہیں اور خداداد استعدادا اور اعلی درجے کی انسانی کیفیت کی بناء پر تبلیغ دین کا کام بھی انجام دے رہیں اللہ نے دونوں صلاحیتیں آپ کو عطا فرمائی تھیں آپ کمال درجے کے عبادت گزار اور خوف خدا سے معمور تھے ، اللہ کے پانچ نبی حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضور خاتم النبیین ﷺ اولوالعزم رسول شمار ہوتے ہیں ، لہذا آپ ﷺ کو بھی حکم ہوا (آیت) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “۔ (الاحقاف ، 35) آپ بھی اولوالعزم رسولوں کی طرح صبر کا دامن تھامے رکھیں ، غرضیکہ اولوالعزم رسولوں میں سے بلند ترین مرتبہ حضور ﷺ کو حاصل ہے آپ صاحب کتاب ، صاحب جہاد ، صاحب عبادب اور صاحب معاملہ ہیں اللہ نے آپ کو تمام انبیاء پر فضلیت بخشی ہے اسی لیے تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے مگر ان کے درجات بہرحال متفاوت ہیں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” واتخذ اللہ ابرھیم خلیلا “۔ (النسآئ) اللہ نے آپ کو اپنا دوست بنایا ، اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ (النسآئ) اور موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف تکلم بخشا پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہوا (آیت) ” واتینا عیسیٰ ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس (البقرۃ ؛ 87) کہ ہم نے انہیں نشانیاں دے کر بھیجا اور روح القدس کے ساتھ ان کی تائید فرمائی ، اسی طرح نوح (علیہ السلام) کو بھی اللہ نے خاص فضلیت عطا فرمائی (آیت) ” ان اللہ اصطفی ادم ونوحا وال ابرھیم وال عمران علی العلمین “۔ (آل عمران) اللہ نے ان انبیاء کو جہاں بھر میں منتخب فرمایا اور پھر حضور خاتم النبیین ﷺ کو خلت (دوستی کے ساتھ محبوبیت کا درجہ بھی عطا فرمایا ” انا حبیب اللہ “ میں اللہ کا محبوب ہوں ، الغرض ! اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو بعض پر شرف عطا فرمایا ہے ، لہذا یہ مشرکین اعتراض کرنے والے کون ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ہم اس کی اتباع کیسے کریں ؟
(زبور کا خصوصی ذکر)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو عطا کی گئی کتاب زبور خاص طور پر ذکر فرمایا (آیت) ” واتینا داؤد زبورا “ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ زبور کے ذکر کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس میں آخری دور کے نبی اور آپ کی امت کی خلافت ارضی کا ذکر ہے سورة الانبیاء میں ہے (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون “۔ (آیت : 105) ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ بات لکھ دی کہ زمین کے وراث میرے نیک بندے ہوں گے اور نیک بندوں کی تشریح میں حضور خاتم النبین ﷺ اور آپ کی امت کے لوگ آتے ہیں ، چناچہ اللہ نے اس پیشنگوئی کو خلافت راشدہ کی صورت میں پورا فرما دیا دن کو مستحکم کیا اور خوف کو امن میں تبدیل کردیا ، نظام اسلام کو تمام باطل قوتوں حتی کہ قیصر و کسری پر بھی غالب کردیا ، یہ سلسلہ صدیوں تک قائم رہا ، پھر مسلمانوں کی نالائقی کی وجہ سے ان پر زوال آگیا انہوں نے خلافت کو ترک کر کے ملوکیت اختیار کرلی تو ذلیل ہو کر رہ گئے جس بیماری کو مسلمانوں نے ختم کیا تھا خود اسی میں مبتلا ہو کر رسوا ہوئے مگر ان کی ترقی کا زمانہ بھی دنیا نے دیکھا ، بہرحال زبور میں مسلمانوں کے درخشاں مستقبل کی پیشین گوئی تھی ، اس واسطے اس کا خصوصی ذکر کیا ،
(تلاوت زبور اور قرآن)
اس مقام پر زبور کے خصوصی ذکر کی ایک وجہ یہ بھی مفسرین بیان کرتے ہیں کہ زبور اور قرآن کی تلاوت کے سلسلے میں دونوں کتابوں کو ایک خاص شان حاصل ہے زبور کی ایک سو پچاس سورتیں ہیں جن میں زیادہ تر خدا تعالیٰ کی حمد وثنا اور اخلاقی تعلیمات ہیں ، جب آپ زبور کی تلاوت خوش الحانی کے ساتھ کرتے تھے تو پہاڑ اور پرندے بھی آپ کے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے ، آپ کو تلاوت زبور کا اتنا ذوق وشوق تھا کہ خادم کو گھوڑا تیار کرنے کا حکم دیتے ، جب تک خادم گھوڑا اصطبل سے لا کر اس پر کاٹھی ڈالتا ، آپ اتنے عرصہ میں پوری زبور کی تلاوت فرما لیتے اللہ نے آپ کو یہ معجزہ عطا کیا تھا کہ چار پانچ منٹ میں پوری زبور پڑھ جاتے اسی طرح قرآن پاک کی تلاوت کے ضمن میں بھی بعض حضرت کو غیر معمولی توفیق حاصل رہی ہے ، جیسے حضرت عثمان ؓ ایک رات میں پورا قرآن پاک ختم کرلیتے تھے حضرت سیعد ابن جبیر (رح) خانہ کعبہ کے قریب نماز شروع کرتے تو ایک رکعت میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کرلیتے ، خواجہ نظام الدین اولیا (رح) نے قاضی حمید الدین ناگوری کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو طواف کر رہے تھے آپ انکی روحانیت سے متاثر ہوئے اور طواف میں ان کے نقش قدم پر چلنے لگے وہ بزرگ فرمانے لگے طواف میں میرے نقش قدم پر کیا چلتے ہو اگر کچھ کرنا ہے تو میرے والا کام کرو اور وہ کام یہ تھا کہ آپ رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو دو رکعت میں پورا قرآن پاک اور چار پارے تلاوت کر گئے حضرت شاہ اسماعیل شہید (رح) کو بھی اللہ خاص توفیق بخشی تھی کہ عصر اور مغرب کے درمیان پورا قرآن پاک تلاوت کرلیتے یا صبح کی نماز پڑھ کر بیٹھتے اور طلوع آفتاب تک تلاوت مکمل کرلیتے ، یہ ان بزرگوں کی خاص کرامت تھی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) ہر روز دس پارے تلاوت فرماتے تھے امام محمد (رح) کا بھی یہی دستور تھا حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی (رح) بھی دس پارے روزانہ پڑھتے ، ہمارے شیخ حضرت مدنی (رح) تمام تر مصروفیات کے باوجود رمضان میں ہر روز سات پارے تلاوت کرلیتے تاہم عام ایام میں نوافل میں دو اڑھائی پارے ضرور پڑھ لیتے تھے امام ابوحنیفہ (رح) ہر رات ایک قرآن نماز میں ختم کرتے ، البتہ رمضان المبارک میں ایک قرآن پاک دن کو اور ایک رات کو تلاوت کرتے حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) فرماتے ہیں کہ ایک بزرگ ایسے بھی گزرے ہیں جو کرامت کے طور پر ہر روز سات سو مرتبہ قرآن پاک ختم کرتے کسی نے پوچھا کہ پھر وہ خیال ہی کرتے ہوں گے ، تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ” ملفوظا لا موھوما “۔ یعنی وہم سے نہیں بلکہ لفظ بلفظ تلاوت فرماتے ہیں ظاہر ہے کہ جو بات عقل میں نہیں آسکتی اس کا تعلق کرامت سے ہوتا ہے بہرحال زبور اور قرآن میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں کتابوں کی تلاوت غیر معمولی طور پر قلیل وقت میں کرلی جاتی ہے ۔
تلاوت زبور کو واقعہ معراج سے بھی نسبت ہے جس طرح داؤد (علیہ السلام) زبور کی تلاوت چند منٹ میں مکمل کرلیتے تھے ، اسی طرح اللہ نے حضور ﷺ کو ارض وسما کی سیر بھی چند منٹ میں کرا دی ، اس کا ذکر اس سورة کی پہلی آیت میں گزر چکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے ، تو گویا زبور کے ذکر کی ایک مناسبت بھی ہوسکتی ہے ۔
(فضیلت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں احتیاط)
فرمایا کہ اللہ نے بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے تاہم حضور کا ارشاد مبارک ہے کہ کسی نبی کی فضیلت کا ذکر ا س انداز میں نہ کرو کہ کسی دوسرے نبی کی تحقیرکا پہلو نکلتا ہو ، حتی کہ آپ نے فرمایا ” لا تفضلونی بین الانبیآئ “۔ مجھے باقی انبیاء کرام پر اس انداز میں فضلیت نہ دو کہ کسی دوسرے نبی کی تحقیر ظاہر ہوتی ہو مثلا حضرت یونس (علیہ السلام) کی لغزش کے مقابلے میں حضور ﷺ کا ذکر کیا جائے کسی نبی کی شان میں تحقیر کا کوئی پہلو روا نہیں ایسا کرو گے تو ایمان سلب ہوجائے گا ہر نبی کا ادب واحترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے درجے اور مرتبے کے لحاظ سے بات کرنی چاہئے کسی ایک نبی کی تعریف اور دوسرے کی توہین کفر کی بات ہے ۔