Ayahs 17:23–25ربط آیات :
دیگر مکی سورتوں کی طرح سورة بنی اسرائیل میں بنیادی طور پر چار بنیادی باتیں بیان کی گئی ہیں یعنی قرآن پاکی صداقت وحقانیت ، توحید باری تعالیٰ ، رسالت اور وقوع قیامت ، ان مضامین کے علاوہ سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں معراج کا واقعہ بیان ہوا ہے ، چونکہ یہ سورة واقعہ معراج کے بعد نازل ہوئی ، اس لیے اس میں آگے چل کر ہجرت کے متعلق بھی ذکر آتا ہے ، توحید باری تعالیٰ کا تذکرہ گذشتہ آیت میں بھی آچکا ہے ، (آیت) ” لاتجعل مع اللہ الھا اخر “ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بناؤ اب یہاں سے شروع کرکے پورے دو رکوع میں سورة کا مرکزی مضمون بیان ہو رہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہاں پر پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جو اسلامی معاشرہ کی بنیاد ہیں ، ان اصولوں پر کاربند ہو کہ اسلام کا اجتماعی نظام ٹھیک طور پر قائم ہو سکتا ہے اسلامی نظام خلافت کے لیے یہ اصول منشور کی حیثیت رکھتے ہیں ان اصولوں کی پابندی کے بغیر صحیح اسلامی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا اور نہ لوگوں کو ظلم وتعدی اور برائیوں سے روکا جاسکتا ہے ۔
قرآن کی بعض سورتوں میں اسلام کے معاشرتی نظام کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے ، مثلا سورة نور میں نظام عفت وعصمت سمجھایا گیا ہے اور سورة حجرات میں مسلمانوں کی معاشرتی تنظیم کے موٹے موٹے اصول بیان کیے گئے ہیں وہاں پر اللہ تعالیٰ نے بارہ اصول بیان کیے ہیں جن پر عمل درآمدہ سے آپس کے حالات درست رہ سکتے ہیں پھر سات حوامیم سورتیں ہیں جن میں اللہ نے مسلمانوں کا اعتقادی نظام سمجھایا ہے ان سورتوں کو لباب القرآن بھی کہا جاتا ہے تو اس سورة میں اللہ نے وہ پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جو اسلامی ریاست کا منشور ہیں اور جن پر ہمارے نظام خلافت کی بنیاد ہے ۔
(1) (توحید فی العبادت)
ان میں پہلا اصول توحید فی العبادت ہے ، یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مختلف عنوانات کے تحت بیان فرمایا ہے ، یہاں ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “۔ اور تیرے پروردگار نے فیصلہ کیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اگر توحید کو عبادت میں تسلیم کرلیا جائے تو پھر باقی باتوں میں بھی اسے مان لیا جائے گا جو شخص عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرے گا ، وہ شرک کی جملہ اقسام سے محفوظ رہے گا جن کا تذکرہ اللہ نے تعالیٰ نے سورة انعام میں فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ کو شرک ہرگز پسند نہیں اس لیے اللہ نے پہلا اصول یہی بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے ، سورة بینہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ اور ان کو تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت کو صرف اسی کے لیے خاص اسی کے لیے خاص کرنے والے ہوں ، اسی کی غلامی اختیار کریں ، یہ اٹل اصول ہے جو تمام اقوام وملل میں یکساں رہا ہے ، صابی قوموں کے لیے بھی یہی قانون تھا اور اب حنیفی اقوام بھی اسی قانون کی پابند ہیں ، جب یہ اصول تمام اقوام عالم کے لیے ہے تو پھر یہود ونصاری اس سے کیوں بدکتے ہیں انہیں بھی توحید فی العبادت کو بلا چون و چراں تسلیم کرلینا چاہیے ، قرآن پاک کی اکثر سورتوں میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ مستحق عبادت صرف اللہ کی ذات ہے کیونکہ الوہیت کی صفات اس کے سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتیں ، اسی لیے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں اقرار کرتے ہیں کہ اے پیغمبر ! ﷺ (آیت) ” ایاک نعبد وایاک نستعین “۔ ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں ، جب خالق ، مالک ، پروردگار ، علیم کل ، مختار مطلق نافع ، ضار اور مافوق الاسباب متصرف اللہ اللہ کے سوا کوئی نہیں تو پھر عبادت کے لائق بھی صرف وہی ذات ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خالقیت الوہیت اور تصرف کی صفات کا ذکر کرنے کے بعد الوہیت کا مسئلہ سمجھایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ایسا کرنا بغاوت ، سرکشی ظلم اور کفر ہے ۔
عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کو کہا جاتا ہے جو اس اعتقاد پر مبنی ہو کہ جس ذات کی تعظیم کر رہا ہوں وہ نفع ونقصان کی مالک ہے اور اس کے پاس تصرف ہے ، یہ تعظیم رکوع و سجود کی شکل میں ہوتی ہے یا نذر ونیاز کی صورت میں یا محض مافوق الاسباب پکارنے کی صورت میں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے (آیت) ” فلا تدعوا مع اللہ احد “۔ (الجن) اللہ کے سوا کسی کو (مافوق الاسباب) نہ پکارو ، (آیت) ” فادعوا اللہ “ صرف اللہ ہی کو پکارا ، سورة النمل میں ہے (آیت) ” امن یجیب المضطراذا دعاہ “۔ کون ہے جو مضطرب کی دعا کو سنتا ہے (آیت) ” ء الہ مع اللہ “۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی الہ ہے ، غرضیکہ اللہ نے اسلامی ریاست کے منشور کی پہلی شق یہی بیان فرمائی کہ عبادت صرف اللہ کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت مختصہ میں کسی کو شریک نہ بناؤ ، یہود ونصاری حلت و حرمت کے معاملے میں شرک میں مبتلا ہوئے ، انہوں نے اپنی طرف سے بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام ٹھہرا لیا حالانکہ یہ منصب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا ہے مگر انہوں نے یہ منصب انسانوں کو سونپ دیا الغرض ! اللہ نے پہلی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے ۔
(2) (والدین سے حسن سلوک)
توحید فی العبادت کے بعد اللہ نے دوسرا اصول یہ بیان فرمایا ہے ، (آیت) ” وبالوالدین احسانا “ اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو ، اس میں فعل محذوف ہے اور دراصل پورا جملہ یوں ہے (آیت) ” واحسنوا بالوالدین احسانا “۔ یعنی احسان کرو اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا ، انسان کو اولین قرب والدین سے ہوتا ہے ، ان کی گود میں پرورش پاتا ہے وہی اس کی تربیت کرتے ہیں ، لہذا انسانی معاشرے میں حقوق کا سلسلہ والدین سے شروع ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے یہ قانون بنی اسرائیل سمیت تمام شرائع میں مشترک رہا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اور والدین کے ساتھ احسان کرو ، سورة بقرہ میں بھی یہی الفاظ آتے ہیں کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ اور والدین کے ساتھ احسان کرو ، احسان کا مطلب یہ ہے کہ قولی ، فعلی کسی طریقے سے بھی ایذاء نہ پہنچائی جائے کہ یہ حرام ہے ، اگر والدین محتاج ہیں تو ان کی مالی معاونت کی جائے اگر محتاج نہیں تو ان کا ادب واحترام اور دیگر خدمت انجام دی جائے کسی جائز کام میں ان کی مخالفت نہ کی جائے ، آگے اللہ تعالیٰ نے بعض حدود وقیود بھی بیان فرمائے ہیں کہ اگر والدین کفر ، شرک یا بدعت پر لگانا چاہیں ، یا شریعت کے خلاف کسی کام کا حکمدیں تو ان کی بات نہ مانیں ، (آیت) ” وصاحبھما فی الدنیا معروفا “۔ (لقمان) البتہ دنیا میں رہ کر ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے ۔
والدین سے نیک سلوک کرنے کے سلسلے میں ان کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء ؓ کی والدہ صلح حدیبیہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ آئیں ، اس وقت حضرت صدیق ؓ اسے طلاق دے چکے تھے اور وہ شرک پر ہی قائم تھی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ میری مال آئی ہے اور وہ مشرکہ ہے تو کیا اس حالت میں میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا ” صلی امک “ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اس کی خدمت تواضع کرو ، کپڑے دو ، کرائے کے پیسے دو وغیرہ وغیرہ مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لیے مشرک والدین کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنے کا حکم ہے ۔
فرمایا (آیت) ” اما یبلغن عندک الکبر احدھما اوکلھما “۔ اگر پہنچ جائیں تمہارے سامنے وہ بڑھاپے کو ایک یا دونوں (آیت) ” فلا تقل لھما اف “۔ تو انکو اف تک بھی نہ کہو ، ہماری زبان میں اسے لفظ ہوں پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے ، یہ بھی ادنی درجے کا لفظ ہے اور ا سے بےادبی کا پہلو نکلتا ہے ، لہذا اتنا بھی نہ کہو (آیت) ” ولا تنھر ھما “ اور ان دونوں یعنی والدین کو ڈانٹو بھی نہ ان سے گستاخی کی کوئی بات نہ کرو بلکہ (آیت) ” وقل لھما قولا کریما “۔ ان کے ساتھ نہایت ہی ادب سے بات کرو ، اگر والدین غصے میں بھی ہوں ، ناراض ہوں ، جب بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو ہمارے ملک میں بعض بدبخت ایسے بھی ہیں جو والدین کا گالیاں دینے کے علاوہ مار پیٹ سے بھی گریز نہیں کرتے بعض والدین کو قتل بھی کردیتے ہیں ایک شخص نے اپنی سوتلی ماں کو گلوشاہ کے میلے میں آٹھ سو روپے میں بیچ ڈالا بڑے بڑے خاندانوں کی عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ بیٹا لندن سے پڑھ کر آیا ہے تو بیوی کی بات ہی چلتی ہے ، ہمیں پوچھتا ہی نہیں حتی کہ کھانے پینے تک کے لیے نہیں پوچھتا بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے والدین کو گھر سے نکال دیا بعض نے صرف زمین خاطر باپ کو قتل کردیا ، باپ نے دوسری بیوی کی تو بیٹا ناراض ہوگیا کہ اب جائداد میں اور بھی حصے دار بن جائیں گے ، حالانکہ شریعت نے تو نکاح ثانی کی ترغیب دی ہے جب کہ آدمی خرچہ اٹھا سکتا ہو مگر اولاد کی ناہنجاری ہے جو والدین کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں ۔
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) کی والدہ آخر تک سکھ مت پر رہیں آپ دیوبند سے فارغ ہو کر آئے تو ماں کو اپنا پاس بلا لیا ان کی پوری پوری خدمت کرتے ناراض ہو بھی جاتی تو خدمت گزاری میں فرق نہ آتا اگر ماں آپ کو جوتے بھی مارتی تو آپ اف نہ کرتے یہ اسلامی تعلیمات کی برکات ہیں ، جب ماں دین پور میں فوت ہوئی تو مولانا اس کابل میں تھے ، ایک دفعہ ماں نے کہا کہ میں نے دان میں گائے دینی ہے تو نے اسے گائے بھی خرید کردی تاکہ وہ اپنی رسم پوری کرلے غیر مسلم ہونے کے باوجود آپ نے ماں کی اتنی خدمت کی یہ سعادت مند لوگوں کی نشانی ہوتی ہے اسی لیے فرمایا کہ ماں باپ بوڑھے ہوجائیں تو ان کا زیادہ خیال رکھو ، بعض اوقات طبیعت میں چڑ چڑا پن آجاتا ہے اس کو برداشت کرتے ہوئے ان سے نیک سلوک کرو۔
(والدین کے لیے دعا)
والدین کے متعلق مزید فرمایا (آیت) ” واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ “۔ اور ان کے سامنے عاجزی کا بازو جھکا دو نیاز مندی سے گویا ماں باپ کے ادب واحترام کو ہر طریقے سے ملحوظ رکھو ، اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے لیے بارگاہ رب العزت میں دعا بھی کرو (آیت) ” وقل رب ارحمھما کما ربینی صغیرا “۔ اے پیغمبر ! ﷺ میرے ماں باپ پر اس طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تھی اور مجھ پر مہربانی کرتے رہے ، اولاد کے لیے والدین کی شفقت میں ماں کا حق فائق ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کسی نے دریافت کیا حضور ! میں والدین میں سے کس کے ساتھ نیک سلوک کروں ، تو آپ نے فرمایا ، ماں کے ساتھ ، اس شخص نے دوبارہ اور سہ بارہ دریافت کیا تو حضور ﷺ نے یہی جواب دیا کہ ماں کے ساتھ پھر چوتھی دفعہ فرمایا ، باپ کے ساتھ ، باپ کے مقابلے میں ماں زیادہ عاجز اور زیادہ شفیق ہوتی ہے ، وہ بچے کی پرورش میں زیادہ تکلیف اٹھاتی ہے اس لیے حسن سلوک میں اس کو اولیت دی گئی ہے ، اس کے بعد دوسرے قرابتداروں کی باری آتی ہے کہ ان سے بھی حسن سلوک کیا جائے ۔
(رجوع الی اللہ)
(آیت) ” وربکم اعلم بما فی نفوسکم “۔ اور تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے تمہاری نیکی اور صلاحیت تمہارا اخلاص اور نفاق ، تمہاری فرمانبرداری اور نافرمانی ، اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان تکونوا صالحین “۔ یعنی اگر تم صلاحیت اور نیکی کے حامل ہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں شامل حال ہوں گی (آیت) ” فانہ کان للاوابین غفورا “۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ رجوع رکھنے والوں کے لیے بہت بخشنے والا ہے ، اللہ کی طرف رجوع کرنا انبیاء کی لغات میں سے ہے ، حضرت داؤد (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” انہ اوب “۔ (یس) حضرت ایوب (علیہ السلام) کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” نعم العبد انہ اواب “۔ وہ بہت اچھے بندے اور اللہ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) ” ان ابرھیم لحلیم اواہ منیب “۔ (ہود) بیشک آپ بردبار نرم دل اور رجوع الی اللہ والے تھے۔
(صلوۃ الاوابین)
حضور ﷺ نے بعض لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا ” تلک صلوۃ الاوابین حین تومض الفصال “۔ یہ رجوع الی اللہ رکھنے والوں کی نماز ہے اور یہ اس وقت ادا کی جاتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں ریت میں گرم ہونے لگتے ہیں یعنی اس نماز کا وقت کا وقت نو ، دس ، بجے دن ہے ، اس نماز کی کم از کم دو اور زیادہ آٹھ یا بارہ رکعت بھی پڑھی جاسکتی ہیں ، حضور ﷺ (مسلم ص 249 ، ج 1) اکثر چار رکعت ادا فرماتے تھے ۔ فتح مکہ (2) (مسلم ص 249 ج 1 (فیاض) والے دن آپ نے آٹھ رکعت ادا فرمائیں ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو لوگ مغرب کے بعد نماز پڑھتے ہیں فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں ، یہ بھی اوابین کی نماز ہے مگر حدیث میں یہ خطاب چاشت کی نماز کو دیا گیا ہے ،
بہرحال اللہ نے یہ دوسرا اصول بیان فرمایا کہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اجتماعی منشور کا پہلا اصول توحید فی العبادت تھا ، اب دوسرا اصول والدین سے حسن سلوک ٹھہرا۔
Ayahs 17:26–27ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی جن اصولوں پر گزارنے کی تلقین فرمائی ہے ، ان میں سے پہلے دو اصول گذشتہ درس میں بیان ہوچکے ہیں یعنی عبادت صرف اللہ کی اور والدین سے حسن سلوک ، اب آج کے درس میں تیسرا اور چوتھا اصول آرہا ہے تیسرا اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو ۔ اور چوتھا یہ کہ فضول خرچی سے اجتناب کرو۔
(3) (قرابتداروں کا حق)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وات ذالقربی حقہ “۔ اور قرابت والے کو اس کا حق دے دو ، والدین کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرابتداروں کے حق کو فائق رکھا ہے ، قرابتداروں میں قریبی عزیز بھی ہیں ، جیسے بھائی ، بہن ، چچا ، ماموں ، خالہ ، بھانجا وغیرہ اور دور کے قرابتدار بھی چھوٹے بچوں کی پرورش کے قانون میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” وعلی الوارث مثل ذلک “۔ (البقرہ 233) یتیم بچے کی پرورش کی ذمہ داری اللہ نے متوفی کے وارث پر ڈالی ہے کہ وہ قریبی عزیز ہے ، بعض مفسرین نے یہ بھی فرمایا ہے یہاں پر قرابت دار سے مراد حضور ﷺ کے قرابتدار ہیں ، یہ بات قرین قیاس نہیں کیونکہ حضور ﷺ کے قرابتداروں کے لیے اللہ نے خمس میں حصہ مقرر کردیا تھا ، (آیت) ” فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی “۔ الخ الآیۃ (الانفال 41) آپ کے قرابتداروں کی اعانت ضروری تھی کیونکہ وہ آپ کے معاون ہوتے تھے حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے اقرباء کا تعاون تو ختم ہوگیا تاہم بطور مسکین اور محتاج ان کا حصہ بدستور موجود ہے البتہ اس مقام پر قرابتداروں سے مراد عام مسلمانوں کے قریبی عزیز ہیں اور آیت زیر درس کا حکم بھی ہر مومن کے لیے ہے کہ وہ قرابتداروں کا حق ادا کرے ۔
(اخلاقی یا وجوبی حق)
عام آئمہ کرام اور مفسرین عظام فرماتے ہیں کہ یہاں پر جس حق کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے ، یہ اخلاقی حق ہے اور اس کی حیثیت نفل کی ہے ، کیونکہ قرضی حق زکوۃ کی صورت میں ادا ہوجاتا ہے ، تاہم امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ قرابتداروں کا یہ حق وجوبی حق ہے ، اگر کسی صاحب استطاعت مومن کے اقربا روز مرہ کے نان ونفقہ سے بھی محتاج ہیں تو اس شخص پر اپنے اقربا روز مرہ کے نان ونفقہ سے بھی محتاج ہیں تو اس شخص پر اپنے اقربا کا نفقہ اٹھانا واجب ہوجاتا ہے جب تک کہ وہ خود مکتفی نہ ہوجائیں ، اسی طرح اگر نابالغ بچے زیر کفالت ہیں تو ان کے سن بلوغت تک پہنچنے تک انکی معاونت ضروری ہے ، یا اگر لڑکی ہے تو اس کی شادی ہونے تک اس کے اخراجات برداشت کیے جائیں ، اگر کوئی عزیز نابینا ہے ، لنگڑا ہے ، خود کمانے کے قابل نہیں ہے ، اس کی کوئی جائداد بھی نہیں ہے تو اس کی کفالت بھی صاحب حیثیت عزیز کے ذمہ واجب ہوگی ، اس نفقہ میں روٹی ، کپڑا ، رہائش اور دیگر ضروریات زندگی شامل ہیں ۔
(زکوۃ کے علاوہ حقوق)
قرآن پاک سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے مستحقین کے لیے زکوۃ کے علاوہ بھی کچھ حقوق رکھے ہیں مثلا سورة المعارج میں ہے (آیت) ” والذین فی اموالھم حق معلوم ، للسائل والمحروم “۔ دولت مند مسلمانوں کے مال میں اللہ ان محتاجوں اور محروموں کا حق بھی رکھا ہے جو وسائل معیشت سے محروم ہیں ، اللہ کا یہ بھی فرمان ہے (آیت) ” واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل ، والسآئلین وفی الرقاب “۔ (البقرہ 177) ایماندار لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو خوشی سے اقرباء یتامی ، مساکین ، مسافروں سائلین اور قیدیوں پر خرچ کرتے ہیں ، یہ خرچ زکوۃ کے علاوہ ہے کیونکہ زکوۃ کی ادائیگی کا حکم اس سے متصل علیحدہ دے دیا گیا ہے (آیت) ” اقام الصلوۃ واتی الزکوۃ “۔ کہ ایماندار لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ بھی ادا کرتے ہیں بہرحالی یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے ” ان فی المال حقا سوی الزکوۃ “ کہ اللہ نے زکوۃ کے علاوہ بھی محتاجوں کے حقوق رکھے ہیں ۔
بہرحال یہ نفلی یا اخلاقی حقوق ہیں ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اونٹوں کی زکوۃ ادا کرو ، جو ایسا نہیں کرے گا قیامت والے دن یہی اونٹ اس کو روندیں گے اور اس کو کاٹیں گے اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا ” ومن حقھا حلبھا یوم وردھا “۔ یعنی اونٹوں میں ایک حق یہ بھی ہے کہ جس دن تم انہیں پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاؤ تو وہاں پر موجود غرباء و مساکین کو اونٹنیوں کا دودھ دوھ کر پلاؤ ، عرب میں عام طور پر پانچویں دن جانوروں کو پانی پلانے کے لیے لے جایا جاتا تھا اور اس موقع پر غریب لوگ بھی جمع ہوتے تھے ، فرمایا ان کا حق بھی ادا کرو جو کہ زکوۃ کے علاوہ ہے اس طرح اگر کسی کے پاس سواری کے لیے گھوڑا ، گدھا یا خچر ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان کی پشت میں بھی اللہ کے مستحقین کا حق رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت کسی محتاج کو سواری کے لیے دے دیا جائے سواری کے جانوروں کا دوسرا حق ان کی گردن پر ہے اور اس سے مراد زکوۃ ہے جو نصاب کے مطابق ادا کی جائیگی سواری کے جانوروں پر قیاس کرتے ہوئے سواری کی دوسری اشیاء سائیکل ، موٹر سائیکل ، گاڑی وغیرہ بھی اس مد میں آتی ہیں ان میں بھی اللہ نے یہ رکھا ہے کہ کسی ضرورت مند کو سواری کے لیے دی جائے ۔
(مساکین اور مسافروں کا حق)
اللہ نے پہلا حق قرابتداروں کا بیان فرمایا ، دوسرے نمبر پر فرمایا (آیت) ” والمسکین “ مسکینوں کو بھی ان کا حق ادا کرو ، مسکین اور فقیر میں تھوڑا سا فرق ہے مسکین وہ شخص ہے کہ جس کے پاس کچھ نہ کچھ موجود ہو مگر اس سے اس کی جائز ضروریات بھی پوری نہ ہوتی ہوں ، مثلا کوئی شخص کثیر العیال ہے ، محنت مزدوری کرتا ہے مگر اس سے بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں ہوتیں ، مکان کا کرایہ ادا کرنا مشکل ہوتا ہے یا بچوں کو دودھ میسر نہیں ، بچے تعلیم کے قابل ہیں مگر اس کے لیے کم از کم اخراجات کا متحمل بھی نہیں ہو سکتا ، ایسے آدمی کی اعانت بھی ضروری ہے ۔
فرمایا وابن السبیل “۔ اور مسافروں کو بھی اس کا حق ادا کرو جو آدمی سفر کے دوران کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے ، وہ اگرچہ مسکین نہیں مگر حالات کی مجبوری کی وجہ سے اس کی معاونت بھی ضروری ہے ، یہ اتنا ضروری ہے کہ اللہ نے مسافر کے لیے زکوۃ میں بھی حصہ رکھا ہے کہ بوقت ضرورت اس کی مدد زکوۃ کے مال سے بھی کی جاسکتی ہے ، اگر یہ تمام حقوق ادا کیے جائیں تو معاشرے میں خرابی پیدا نہ ہو ، عدم ادائیگی حقوق ہی فتنوں کی بنیاد بنتی ہے ، اس کی وجہ سے حسد ، بغاوت اور اشتراکیت جنم لیتی ہے جب صاحب مال اور اپنے مال اپنے مال کے حقوق ادا نہیں کرتے ، تو مستحقین کو سخت تکلیف اٹھانا پڑتی ہے جس کی وجہ سے ان میں برے اخلاق جنم لیتے ہیں ، ان میں حسد کی آگ اس حد تک بھڑک اٹھتی ہے کہ اگر ہمارے پاس کچھ نہیں تو ان کے پاس بھی کچھ نہیں رہنا چاہئے جس کا نتیجہ اشتراکیت کے حق میں نکلتا ہے ایجی ٹیشن شروع ہوجاتے ہیں اور دنیا میں انقلاب انقلاب کی نعرہ بازی شروع ہوجاتی ہے اگر سرمایہ دارانہ اور اشتراکی دونوں نظام اسلامی نظام معیشت سے متصادم ہیں مگر وقتی طور پر لوگوں کا رجحان کسی ایک طرف ہوجاتا ہے اور پھر جب اس کی قباحتیں نظر آتی ہیں تو دوسری طرف دیکھنا شروع کردیتے ہیں اصل بات حقوق کی ادائیگی ہے جو اسلام پیش کرتا ہے ، اگر ہر حقدار کو اس کا حق ملتا رہے تو امیر و غریب کی خلیج کبھی وسیع نہ ہو بلکہ ہر شخص مطمئن ہو اور اپنے اپنے دائرہ کار میں محنت کرکے روزی کمائے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زکوۃ کی ادائیگی دو طرح سے مفید ہے ، پہلی بات یہ ہے کہ ہر سال زکوۃ ادا کرنے سے انسان کے دل سے بخل کا مادہ دور ہوتا ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ محتاجوں کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں ۔
(4) (اسراف وتبذیر)
قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حقوق کی ادائیگی تیسرا اصول تھا اب چوتھا اصول یہ بیان فرمایا (آیت) ” ولا تبذر تبذیرا “۔ اور مال کو بیجا مت اڑاؤ ۔ فضول خرچی نہ کرو کیونکہ (آیت) ” ان المبذرین کانوا اخوان الشیطین “۔ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ، قرآن پاک میں فضول خرچی کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ایک اسراف اور دوسرا تبذیر ، بعض مفسرین دونوں الفاظ کو بالکل ہم معنی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض ان میں معمولی سا فرق بتاتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کسی جائے ضرورت پر ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اسراف ہے جیسے فرمایا (آیت) ” کلوا واشربوا ولا تسرفوا “۔ (الاعراف 31) کھاؤ پیو ، مگر اسراف نہ کرو ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا اسراف اور مکروہ تحریمی ہے حدیث شریف میں لباس کے متعلق بھی آتا ہے ” البسوما شئتم مالم یکن مخیلۃ ولا سرفا “۔ جس قسم کا لباس چاہو پہنو ، مگر اس میں نہ تو تکبر کا اظہار ہو اور نہ اسراف ہو ، شاہ عبدالقادر (رح) اسکی مثال یہ دیتے ہیں کہ مرد ریشمی لباس پہننے لگے یا ایسی وضع قطع کا لباس ہو جو تقوی اور پردے کے اعتبار سے مامعقول ہو ۔
دوسری چیز تبذیر ہے یعنی بالکل بےمحل خرچ کرنا جس کا کوئی جواز نہ ہو ، جوا ، شراب ، بدکاری ، لہو لعب ، فوٹو گرافی ، قبروں پر گنبد بنانا ان کو پختہ کرنا ، ان پر چراغاں کرنا ، بعض مواقع پر آتش بازی کرنا سب تبذیر میں شامل ہیں اسی طرح مذہبی تقریبات کے نام پر قبروں پر عرج منانا ، چادریں چڑھانا نذورنیاز دینا ، میلاد کی جھنڈیاں لگانا گیٹ بنانا ، قمقمے روشن کرنا بالکل بےمحل اخراجات ہیں اور تبذیر میں داخل ہیں ، عام شہری زندگی میں امیروں ، وزیروں کی آمد پر استقبالیہ محرابیں بنانا ، بڑے بڑے سٹیج تیار کرنا ، بینڈ باجے کا انتظام کرنا ، پرتکلف دعوتیں دینا قطعا جائز نہیں اور یہی تبذیر ہے ، مذہبی اور غیر مذہبی رسومات باطلہ کے رد میں حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے ” اصلاح الرسوم “ کے نام سے کتاب لکھی تھی جس میں انہوں واضح کیا ہے کہ ہمارے ملک میں کن کن تباہ کن رسومات کو پورا کیا جاتا ہے ، یہ ایسی چیزیں ہیں جو اسلامی تعلیمات قرآن وسنت ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور سلف صالحین کے طریقے کے بالکل خلاف ہیں ، فقہائے کرام انہیں مکروہ تحریمی میں شمار کرتے ہیں ، اسی طرح حضرت مولانا شیخ الحدیث کی کتاب ” راہ سنت “ بھی ہمارے دور کی بہترین کتاب ہے جس شادی اور غمی کی رسومات باطلہ کی تردید کی گئی ہے ان میں سے بعض اخراجات اسراف کی مد میں آتے ہیں اور بعض تبذیر میں مگر ہیں سارے کے سارے ناجائز اور حرام ۔
(آمدوخرچ پر پابندی)
شریعت نے آمد وخرچ دونوں چیزوں پر پابندی عاید کی ہے حلال اور جائز طریقے سے کماؤ اور حلال اور جائز طریقے پر خرچ کرو ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” کلوا مما فی الارض حللا طیبا “۔ (البقرہ : 167) زمین میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ ، نہ حرام کی کمائی کرو اور نہ اسے استعمال کرو اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ (البقرہ : 188) باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ ، حلال راستے سے کماؤ اور صرف کرتے وقت اس کے فرضی ، واجبی اور نفلی حقوق ادا کرو ، اقرباء پڑوسیوں ، غرباء مساکین اور یتیموں کا حق ادا کرو ، کسی ناجائز کام میں مال خرچ نہ کرو ، کسی باطل رسم و رواج میں مال خرچ کرنا حرام ہے ، اگر مستحقین کے حقوق ادا کرنے کی بجائے رسومات باطلہ پر بےدریغ روپیہ صرف کرو گے تو نچلے طبقے عسرت میں چلے جائیں گے اور یہ تمہارے لیے وبال جان ہوگا ولیمہ ایک سنت ہے ، مگر یہ بھی حسب استطاعت ہونا چاہئے ، نہ تو اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرے اور نہ ہی نام ونمود کی خاطر بڑھ چڑھ کر اسراف کرے سلف صالحین یہ سنت سادہ طریقے سے انجام دیتے رہے مگر اب تو امارت کی دوڑ لگی ہوئی ہے ، ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر نام پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس طرح کم حیثیت لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے آج کے دور میں سب سے بڑی لعنت کھڑے ہو کر کھانا ہے جو کہ اب وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے ، اس کی بجائے جائز امور میں خرچ کرو ، غریبوں محتاجوں کی اعانت کرو ، ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دو تبلیغ دین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو ، کرنے کے کام تو یہ ہیں ، نہ کہ برداری کی خاطر اپنی عاقبت کو تباہ کرلو ۔
(شیطانوں کے بھائی)
فرمایا بےجا مال مت اڑاؤ کیونکہ فضول شیطانوں کے بھائی ہیں امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ فضول خرچ دو طرح سے شیاطین کے بھائی ہیں اول یہ ہے کہ وہ شیطان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں وہ اپنے مال کو اللہ تعالیٰ کی مرضیات کے برخلاف شیاطین کی مرضیات پر خرچ کرتے ہیں ، لہذا شیطان کے بھائی ہیں اور بھائی بندی کی دوسری وجہ یہ ہے یہ کہ جب جزائے عمل کا وقت آئے گا تو فضول خرچ لوگوں کو رسیوں سے باندھ کر شیطانوں کے ساتھ ہی جہنم میں پھینک دیا جائے گا ، اور اس بات میں تو کوئی شک نہیں (آیت) ” وکان الشیطن لربہ کفورا “۔ کہ شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے ، اللہ نے اس کو طاقت عطا کی مگر اس نے اس طاقت کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی بجائے اسے غلط طریقے سے استعمال کیا اور اس طرح خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی ناقدری کی ، اور ناشکر گزار بن گیا ، بیجامال اڑانے والوں نے بھی اللہ کی اس نعمت کی قدر نہ کی اور مال کو فضول کاموں میں اڑا دیا ، لہذا یہ بھی شیطان کے بھائی ہیں جس کا راستہ انہوں نے اختیار کیا ، بہرحال خدا تعالیٰ کے عطا کردہ مال کو ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا یا بےمحل خرچ کرنا اسراف وتبذیر ہے اور یہ شیطان کے نقش قدم پر چل کر اس کا بھائی بننا ہے ۔
Ayahs 17:28–30ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جن پر اسلامی معاشرہ احسن طریقے سے چل سکتا ہے یہ گویا اسلامی ریاست یا خلافت کا منشور ہے ، اللہ نے پہلا اصول یہ بیان فرمایا کہ اس کی وحدانیت کو مانو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، دوسرا اصول یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کے ساتھ نرمی ، عاجزی اور تواضع سے پیش آؤ ، اور بڑھاپے کی حالت میں ان کے ساتھ خاص طور پر احسان کرو ، اگرچہ ان کے مزاج میں درشتگی بھی آجائے تو انہیں اف تک نہ کہو ، پھر فرمایا کہ ماں باپ کے لیے نہایت عاجزی سے دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تھی ۔
اللہ تعالیٰ نے تیسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ قرابتداروں مسکینوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرو ، ان میں فرضی واجبی اور نفلی تمام حقوق شامل ہیں ، پھر چوتھا اصول یہ بیان فرمایا کہ فضول خرچی نہ کرو ، معاصی کے امور میں ہرگز خرچ نہ کرو ، رسومات باطلہ اور بدعات کے راستے میں فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے پروردگار کا سخت ناشکر گزار ہے خدا نے اسے طاقت اور موقع دیا مگر اس نے اللہ کو ناراض کیا اور ہمیشہ کے لیے ملعون ومردود ٹھہرا ۔
(5) (رد جمیل )
اسلامی معاشرے کے تیسرے اصول میں اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے مالی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا تھا ، اب اس حکم کا دوسرا پہلو بھی بیان کیا ہے کہ اگر کسی وقت آپ اتنے صاحب استطاعت نہ ہوں کہ قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرسکیں ، تو پھر ان مستحقین سے کیسا سلوک کرنا چاہئے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واما تعرضن عنھم “ اور اگر آپ کسی وقت ان حقداروں سے اعراض کریں ، آپ کے پاس ادا کرنے کے لیے مال موجود نہیں ہے (آیت) ” فقل لھم قولا میسورا “۔ لو آپ ان کے لیے نرمی سے بات کریں اور معذرت کرلیں کہ وہ مالی اعانت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں جب ہوں گے تو پھر ان کی خدمت بجا لائیں گے ، مطلب یہ ہے کہ سائلین سے سختی سے پیش نہ آئیں ، مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے اس طریقہ تکلم کو رد جمیل سے تعبیر کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اجتماعی نظام میں پانچویں اصول کے طور پر متعارف کرایا ہے ، درمیان میں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ ان مستحقین سے اعراض کریں ، اس حالت میں (آیت) ” ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “۔ کہ آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تلاش میں ہیں یعنی مال کے حصول کی کوشش کی میں ہیں اور اس کی امید بھی رکھتے ہیں تو ان لوگوں سے نہایت نرمی سے گفتگو کریں کہ اگر اللہ نے مال دیا تو ضرور ان کا حق ادا کریں گے ۔
محتاجوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کی قطعا اجازت نہیں دی گئی ، سورة بقرہ میں جہاں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کا قانون بیان فرمایا ہے وہاں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قول معروف ومغفرۃ خیر من صدقۃ یتبعھا اذی “۔ (البقرہ ۔ 263) اچھی اور مغفرت کی بات کہہ کر خوش اسلوبی سے ٹال دینا اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے بعد سائل کو قولی یا فعلی طور پر ایذا پہنچائی جائے اور یہی رد جمیل ہے ۔
(حضور ﷺ کا اسوہ حسنہ)
ایک موقع پر حضور ﷺ کے پاس ایک محتاج آیا ، اس نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس وقت تو میرے پاس کوئی چیز موجود نہیں ہے لہذا تم میرے حوالے سے فلاں شخص سے جا کرلے لو میں بعد میں اس کو ادا کر دونگا حضرت عمر ؓ پاس بیٹھے تھے ، عرض کیا ، حضور ! جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں ہے اس کی ادائیگی کے لیے تو آپ مکلف نہیں ہیں پھر اتنا تکلف کیوں کرتے ہیں ، اس بات پر حضور ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا وہیں ایک انصاری نوجوان بھی بیٹھا تھا ، اس نے عرض کیا ” انفق ولا تخف من ذی العرش اقلا لا “۔ حضور ﷺ ! آپ خرچ کریں اور رب العرش سے کسی کمی کا خطرہ محسوس نہ کریں ، وہ اپنی رحمت سے بھیجتا رہے گا اور آپ خرچ کرتے رہیں گے یہ بات سن کر حضور ﷺ کی ناراضگی دور ہوگئی اور آپ خوش ہوگئے ۔
حضور ﷺ کے خلق عظیم کا تقاضا تھا کہ آپ کبھی بھی کسی سائل کو رد نہیں کرتے تھے یا تو خود دے دیتے تھے اور یا کسی دوسرے کے حوالے کردیتے تھے ، بعض اوقات آپ یہ بھی فرماتے کہ بھائی ! فلاں وقت آنا ، غرضیکہ آپ کسی سائل کو نفی میں جواب نہیں دیتے تھے عام لوگوں کے لیے بھی یہی قانون ہے کہ اگر کسی وقت پاس کچھ نہیں ہے تو رد جمیل سے کام لیتے ہوئے اچھے طریقے سے جواب دیں ۔
(6) (خرچ میں میانہ روی)
اب چھٹا اصول یہ بیان کیا جارہا ہے (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “۔ خرچ کرنے کے معاملہ میں اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ نہ جکڑ لیں یعنی بخل نہ کریں جو شخص مال کی موجودگی میں خرچ نہیں کرتا اس کا ہاتھ گویا اس کی گردن کے ساتھ بندھا ہوا ہے بخل پرلے درجے کی بداخلاقی اور تباہ کن معاشرتی بیماری ہے قرآن میں اس کو فحش بھی کہا گیا ہے غرضیکہ پہلی بات یہ ہے کہ بخل سے کام نہ لیں اور دوسری بات یہ کہ (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط “۔ اور اپنے ہاتھ کو پوری طرح پھیلا کر بھی نہ رکھیں کہ جو کچھ پاس ہے سب دے دیا اور پھر نادار ہو کر بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ کو یہ بھی پسند نہیں ، بلکہ میانہ روی پسند ہے کہ خرچ بھی کرو اور اپنی ضروریات کے لیے پاس بھی رکھو ، یہ عام لوگوں کے لیے قانون ہے ۔
(حضور کے لیے استثنائ)
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ اس قانون سے مستثنی ہے آپ کی عادت مبارکہ یہ تھی ” کان لایدخر لغد “ کہ آپ کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے تھے بلکہ سوہ کچھ آتا سب خرچ کردیتے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا بھی ہو تو میں ایک یا تین دینار واجب الادا سارا تقسیم کر دوں ، تمام مال مستحقین کو ادا کر دوں ، آپ کی اتباع میں بعض خواص بھی آپ کی سنت پر عمل کرتے تھے اور آپ قبول فرما لیتے تھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنا سارا ثاثہ بھی پیش کرکے مطمئن رہتے تھے اور حضور اسے قبول کرتے تھے البتہ عام لوگوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔
ایک دفعہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور انڈے کے برابر سونے کی ڈلی پیش کی کہ یہ صدقہ ہے اور کہا کہ بخدا میں اس کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں ، آپ نے وہی ڈلی زور سے اس شخص کی طرف واپس پھینکی کہ اگر اس کو لگ جاتی تو زخمی ہوجاتا فرمایا ت میں سے کوئی شخص اپنا سارا اثاثہ لے کر آجاتا ہے اور پھر پریشان ہو کر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے لگتا ہے ، یہ بات درست نہیں ہے پہلے اپنی ضروریات پوری کرو اور پھر صدقہ کرو ۔
ایک دفعہ ایک پھٹے پرانے کپڑوں والا خستہ حال آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے لوگوں کو ترغیب دلائی تو اس کے لیے کپڑے جمع ہوگئے ، حضور ﷺ نے اس کی حالت کے پیش نظر اس شخص کو دو کپڑے عطا فرمائے ، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ کی ترغیب دلائی اس پر وہی شخص اٹھا اور دو میں سے ایک کپڑا صدقہ میں پیش کردیا حضور ﷺ اس پر بھی ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اس شخص کی خاطر میں نے لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی ، لوگوں نے اس کے لیے کپڑے دیے اور اس نے ان میں سے ایک پھر واپس کردیا ہے ، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے ۔ اس کی اعانت کے لیے تو یہ ساری کاروائی ہوئی اور اس نے پھر احتیاج کی طرف قدم بڑھایا۔
بہرحال عام لوگوں کے لیے یہی قانون ہے کہ نہ تو بخل سے کام لیں اور نہ سب کچھ خرچ کر کے خود محتاج ہوجائیں ، اس کی بجائے درمیانہ راستہ اختیار کریں جسے اقتصاد کہا جاتا ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے ” الاقتصاد نصف المشعیۃ “ یعنی میانہ روی آدھی معیشت ہوتی ہے آپ ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے ” ما عال من اقتصد “ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ کبھی محتاج نہیں ہوگا ، ساری خرابی افراط وتفریط کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جس سے اجتناب کرکے میانہ روی اختیار کرنی چاہئے ۔
(منفق اور ممسک)
حدیث شریف میں آتا ہے کہ منفق (خرچ کرنے والے) اور ممسک (بخیل) کی مثال ایسی ہے جیسے دو آدمیوں کے گلے سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک دو جبے ہوں ، خرچ کرنے والے آدمی کا جبہ پھیلتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے پاؤں بھی اس میں ڈھک جاتے ہیں اس کے برخلاف بخیل آدمی کا جبہ کوشش کے باوجود پھیلتا نہیں بلکہ اسکی کڑیاں مزید مضبوط ہو کر جبہ سکڑ جاتا ہے ۔
حضرت اسماء بنت ابوبکر ؓ (حضرت زبیر ؓ کی بیوی) نے عرض کی حضور ﷺ ہمارے پاس مال جمع تو ہوتا نہیں ، خاوند جو کچھ کمال کر لاتا ہے اس سے بمشکل گزر بسر ہوتی ہے بعض اوقات دروازے پر محتاج بھی آجاتے ہیں تو کیا میں اس معمولی مال میں کچھ خرچ کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا ، ہاں تم عرف کے مطابق بغیر اجازت خاوند خرچ کرسکتی ہو لیکن شرط ی ہے کہ (آیت) ” غیرمفسدۃ “۔ اپنے خاوند کے مال کو بگاڑنے والی نہ ہو ، معقول طریقے سے محتاجوں کی خدمت کرو ، کسی کو کھانا کھلا دیا ، کسی پڑوسی کو ہدیہ بھیج دیا وغیرہ وغیرہ فرمایا اگر تم ہاتھ روک لو گی تو اللہ تعالیٰ بھی ہاتھ روک لے گا ، اور اگر سمیٹ سمیٹ کر رکھو گی تو اللہ تنگی ڈال دے گا ۔
حدیث میں آتا ہے کہ رات گزار کر ہر صبح جب بندے صحت وسلامتی کے ساتھ بیدار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک فرشتے دعا کرتا ہے ” اللہم ات منفقا خلفا “۔ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کے خرچ کا بدلہ عطا کر یعنی اس جگہ مزید عطا فرما اور دوسرا فرشتہ کہتا ہے اللہم ات ممسکا تلفا اے اللہ ! بخیل کے مال کو تلف کردے ، امام ابن عربیرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسکا مطلب بھی یہ ہے کہ اس شخص کو خرچ کر نیکی توفیق عطا فرما ،
قرابت داروں ، محتاجوں ، یتیموں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرنا بڑا نیکی کا کام ہے تو حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” مایخرج رجل شیئا من الصدقۃ حتی یفک لحی سبعین شیطنا “۔ (مستدرک حاکم ومسند احمد) کوئی شخص صدقہ نہیں نکالتا جب تک کہ ستر شیطانوں کے جبڑے نہ ٹوٹ جائیں ، شیطان چاہتا ہے کہ کوئی شخص فی سبیل اللہ خرچ نہ کرے پھر جب خرچ کرنے والا خرچ کرتا ہے تو گویا وہ شیطانوں کے جیڑے توڑ کر ایسا کرتا ہے ،
بہرحال قانون یہ بیان فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ جکڑ کر نہ رکھو یعنی بخل نہ کرو ، اور نہ ہی ہاتھ کو اتنا کشادہ کر دو کہ سب کچھ خرچ کردینے کے بعد خود محتاج ہو کر بیٹھ جاؤ ، فرمایا (آیت) ” فتقعد ملوما محسورا “۔ پھر بیٹھ جاؤ گے ملامت کیے ہوئے اور تھکے ہارے ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ” ملوما “ کا تعقل پہلے حصے یعنی بخل کے ساتھ ہے کہ اگر بخل کرلو گے تم تم پر ملامت آئے گی کہ کتنا بخیل آدمی ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1) (مسنداحمد ص 308 ج 3 وکنز العمال س 357 ج 1 (فیاض) بھی ہے ” ای داء ادوء من البخل “ بخل سے بڑھ کر کون سی روحانی بیماری ہوسکتی ہے زہیر بن ابی سلمہ شاعر بھی کہتا ہے ۔
ومن یک ذا فضل فیبخل بفضلہ
علی قومہ یستغن عنہ ویذمم :
جو آدمی صاحب مال ہونے باوجود اپنی قوم کے مستحقین پر خرچ نہیں کرتا اس سے استغناء برتا جائیگا اور وہ لوگوں کی نگاہ میں ذلیل ہو کر رہ جائے گا
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ” محسورا “ کا تعلق ” ولا تبسطھا “ سے ہے یعنی اگر ہاتھ کو زیادہ کشادہ کر دو گے اور سب کچھ دے بیٹھو گے تو پھر تمہاری حالت تھکے ہوئے آدمی جیسی ہوجائے گی جو بےبس ہو کر رہ جاتا ہے لہذا خرچ بھی کرو اور اپنی جائز ضرورت کا بھی خیال رکھو ، شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ کسی محتاج کو دیکھ کر بےتاب نہ ہوجاؤ کیونکہ اس کی حاجت روائی تیرے ذمہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے مگر یہ باتیں اللہ نے اپنے پیغمبر کو فرمائی ہیں ، جو بیحد سخی واقع ہوئے تھے البتہ جس شخص سے مال نہ نکل سکے اس کو دینے کا پابند کیا ہے ، بخیل کی مذمت کی گئی ہے اور اس کو خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس طرح کوئی طبیب مریض کی حالت کے مطابق گرم طبیعت والے کو سرد اور سرد طبیعت والے کو گرم دوائی دیتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ بخیل کو خرچ کرنے اور کشادہ ہاتھ کو سنبھل کر چلنے کی نصیحت کرتا ہے ،۔
(مصلحت خداوند)
فرمایا (آیت) ” ان ربک یبط الرزق لمن یشآء ویقدر “۔ بیشک تیرا پروردگار کشادہ کرتا ہے روزی جس کی چاہے اور تنگ کرتا ہے جس کی چاہے ، اس کی مصلحت کو وہ خود ہی جانتا ہے کوئی دوسرا اس سے واقف نہیں ہوتا ، حدیث شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ میرے بعض بندے ہیں کہ ان کے ساتھ مالداری ہی زیادہ مناسب ہوتی ہے اگر میں ان کو مال نہ عطا کروں تو ان کا دین ہی بگڑ جائے ، فرمایا بعض آدمیوں کے ساتھ ناداری ہی زیادہ مناسب ہوتی ہے اگر میں ان کو مال دے دوں تو ان کا دین ہی بگڑ جائے لہذا میں اپنی حکمت کے مطابق کسی کو زیادہ دیتا ہوں اور کسی کو کم (آیت) ” انہ کان بعبادہ خبیرا بصیرا “ بیشک وہ اپنے بندوں کی خوب خبر رکھنے والا اور ہر ایک کی کیفیت نیت عمل اور ارادے پر نگاہ رکھنے والا ہے وہ ہر ایک کے حال کو بہتر سمجھتا ہے تنگی اور کشادگی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اس کی حکمت کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، تمہارا فرض یہ ہے کہ اس کے قوانین کی پابندی کرو کہ تمہاری بہتری اسی میں ہے ، اللہ نے مال دیا ہے تو بخل نہ کرو اور نہ اتنا خرچ کرو کہ خود نادار ہوجاؤ میانہ روی ہی تمہاری لیے دنیا اور آخرت میں بہتر ہے ۔