17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

اور سوال کرتے ہیں یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں ، آپ کہہ دیجئے روح میرے رب کے امر سے ہے اور نہیں دیا گیا تم کو علم میں سے مگر بہت تھوڑا حصہ ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا کہ یہ روحانی بیماریوں کے لیے شفا بخش اور اللہ کی مہربانی اور رحمت کا ذریعہ ہے ، ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ قرآن پاک کی شفا اور رحمت سے مستفید ہونے کے لیے استعداد اور صلاحیت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ظالموں کے حق میں یہ نقصان ہی کو زیادہ کرتا ہے ، اللہ نے انسان کی ناشکری کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ محاسبہ اعمال یقینا ہوگا اللہ تمام انسانوں کے اعمال اور کوائف سے باخبر ہے اور وہ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کے راستے پر چل رہا ہے اور کون گمراہی میں متبلا ہے ، اب آج کی آیت کریمہ میں روح کا ذکر ہے اس کے بعد پھر قرآن کریم کا ذکر آئے گا اور پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کے بیہودہ اعتراضات اور بےجا فرمائشوں کا ذکر ہوگا ۔ (شان نزول) آج کی آیت کریمہ کا موضوع روح ہے (آیت) ” ویسئلونک عن الروح “۔ اے پیغمبر ! ﷺ یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق دریافت کرتے ہیں ، سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سوال پوچھنے والے کون لوگ ہیں ، یہ سورة مکی زندگی میں ہجرت سے دو سال قبل نازل ہوئی جب کہ حضور ﷺ کا واسطہ مشرکین مکہ سے تھا جو کہ اس قسم کے پیچیدہ سوالات پوچھنے کہ اہل نہیں تھے ، چناچہ اس آیت اور بعض دیگر آیات کی شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے اپنا ایک اعلی وفد نضر بن حارب کی قیادت میں یہودیوں کے پاس مدینہ اس غرض سے بھیجا کہ وہ ان سے بعض ایسے مشکل سوالات پوچھ کر آئیں جو حضور ﷺ کے سامنے پیش کیے جائیں اور آپ ان کا جواب نہ دے سکیں ، اس طرح مشرکین اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے لیے مواد حاصل کرنا چاہتے تھے ، نضر ایک جہاں گشت آدمی تھا اور بادشاہوں کی مجالس کے آداب سے واقف تھا وہ اپنے وفد کے ہمراہ مدینہ پہنچا اور یہودی علماء کے سامنے اپنا مدعا بیان کیا ، یہودیوں نے اس مقصد کے لیے تین سوال پیش کیے ان میں سے ایک سوال تو روح کے متعلق تھا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں آگیا ہے دوسرا سوال اصحاب کہف اور تیسرا ذوالقرنین بادشاہ کے متعلق تھا جن کا ذکر اگلی سورة کہف میں آرہا ہے ، یہودیوں کا خیال تھا کہ حضور ﷺ ان سوالات کا جواب نہیں دے سکیں گے اور اگر ان میں سے بعض کا جواب دے بھی دیا تو آپ کے جواب کو درست تسلیم کرلیا جائے گا ، مذکورہ وفد نے مکہ واپس آکر یہ تینوں سوالات حضور ﷺ کے پاس کیے جن میں دو کا جواب اللہ نے آگلی سورة میں تفصیل کے ساتھ دے دیا البتہ روح سے متعلق سوال کا جواب اس مختصر سی آیت میں اجمالی طور پر ہی دیا چونکہ روح کا ذکر تورات میں بھی اجمالی طور پر ہی آیا ہے ، اس لیے یہودی قرآن پاک کئے اس مختصر جواب سے بھی مطمئن تھے ۔ (روح کے مختلف معانی) قرآن پاک میں لفظ ” روح “ کے مختلف معانی آتے ہیں روح کا اطلاق خود قرآن پاک پر کیا گیا ہے (آیت) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “۔ (الشوری ، 52) اسی طرح ہم نے اپنے حکم میں سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ، اسی طرح تورات کو بھی روح کہا گیا ہے ، اس کے علاوہ روح کا اطلاق جبرائیل (علیہ السلام) پر بھی کیا گیا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” نزل بہ الروح الامین “۔ (الشعرآئ۔ 193) اس قرآن پاک کو روح الامین کے ذریعے نازل کیا گیا ، تاہم صحیح بات یہ ہے کہ اس مقام پر روح سے مراد روح انسانی ہے ، جس کے داخل ہونے سے انسانی جسم کو حیات ملتی ہے اور جس کو علیحدگی سے انسان پر موت طاری ہوجاتی ہے ، تخلیق آدم کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں انسان کو مٹی سے پیدا کرنا والا ہوں ، پس جب میں اس کو برابر کرلو (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ اور جب میں اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں ، تو تم اس کے سامنے سجدے میں گر پڑو ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے تمام افراد میں روح ڈالی ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ روح انسانوں کے علاوہ ملائکہ اور خبات میں بھی ڈالی گئی ہے ، اگرچہ ان کی روح انسانی روح کی نسبت نہایت لطیف ہے ۔ (انسانی روح) انسان کی پیدائش کے متعلق اللہ نے سورة المومنون میں یہ طریقہ بتلایا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر اس کو ایک جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا ، پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا ، پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر ہڈیوں پر گوشت پوست چڑھایا اور پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب قرار حمل پر چار ماہ گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں جو شکم مادر میں بچے میں روح ڈال دیتا ہے ، اس کی مثال بالکل ایسی سمجھ لیں کہ اگر کسی شخص کوئی کوئی مشین لگانی ہو ، تو پہلے اس کے لیے مکان کا بندوبست کرتا ہے پھر مشین فٹ کرنے کی جگہ منتخب کرتا ہے ، اور وہاں پر مشین کا ایک ایک پرزہ جوڑتا چلا جاتا ہے ، جب مشین کے سارے پر زرے فٹ ہوجاتے ہیں تو پھر آخر میں اسے بجلی کا کنکشن دے دیا جاتا ہے ۔ جس سے اس مشین کے پرزے حرکت میں آجاتے ہیں اور مشین اپنا کام شروع کردیتی ہے ، اسی طرح جب شکم مادر میں انسانی ڈھانچہ تیار ہوجاتا ہے تو پھر اس میں روح ڈال دی جاتی ہے جس سے انسانی اعضاء کا م کرنے لگتے ہیں اور انسان میں شعور ، علم اور عقل پیدا ہوتی ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسانی روح کی آمد سے پہلے انسانی اعضاء کی تیاری کے مختلف مراحل پر بھی ایک روح کار فرما ہوتی ہے ، جو روح حیوانی کہلاتی ہے تاہم انسانی روح چوتھے چلے میں ہی داخل ہوتی ہے جو زندگی پھر انسان کے ساتھ رہتی ہے اس مقام پر یہی روح مراد ہے ۔ (روح پر نظریاتی بحث) (روح کی حقیقت پر قدیم زمانے سے حکماء نے بڑا کلام کیا ہے اس کو سمجھنے سمجھانے کے لیے مضامین اور بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں جدید یورپ میں روحانی سوسائٹیاں معرض وجود میں آچکی ہیں جن کے اراکین مختلف عملیات اور طریقوں سے مردہ روحوں کے ساتھ تعلق جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن ابھی تک کسی کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ، قدیم یونانی ، رومی اور ہندوستانی لوگوں نے روح پر بڑی بڑی بحثیں کی ہیں ، صوفیائے کرام نے بھی اس بارے میں کافی کلام کیا ہے شیخ ابن عربی (رح) کی کتابوں میں روح اور نفس کے بارے کثرت سے باتیں ملتی ہیں ، عبدالکریم جیلی (رح) نے ” الانسان الکامل “ نامی کتاب لکھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور عالم بالا کی باتوں کے بارے میں کثفی انداز میں کلام کیا ہے ۔ روح کی حقیقت کے بارے میں بعض بڑے بڑے علماء نے بھی کلام کیا ہے ، ان میں امام غزالی (رح) ہیں جنہوں نے روح کے متعلق چھوٹی سی کتاب لکھی ہے ، پھر چھٹی صدی کے عظیم مفسر امام رازی (رح) ہیں جنہوں نے ” کتاب النفس و الاخلاق “ تحریر کی ہے ، اس میں انہوں نے انسانی روح اور اخلاق کے متعلق ایک چھوٹی سی کتاب لکھی ہے ، پھر چھٹی صدی کے عظیم مفسر امام رازی (رح) ہیں جنہوں نے ” کتاب النفس والا خلاق “ تحریر کی ہے ، اس میں انہوں نے انسان روح اور اخلاق کے متعلق بحث کی ہے ، اسی طرح امام ابن تیمیہ (رح) کے شاگرد امام ابن قیم (رح) نے بھی بڑی مفید کتابیں لکھی ہیں ، آپ نے ” زاد المعاد “ کے نام سے سیرت پر بہترین کتاب لکھی ہے ، آپ نے تفسیر علم حقائق اور سلوک کے موضوعات پر بھی کتابیں لکھی ہیں ، موضوع زیر بحث پر آپ نے ” کتاب الروح “ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تحریر کی ہے جس میں انہوں نے روح کے بارے میں قدیم وجدید محققین کے نظریات کا تجزیہ کیا ہے ۔ آخر میں امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنی مختلف کتابوں میں روح کے متعلق جامع کلام کیا ہے ، آپ کی عادت ہے کہ کسی ایک موضوع کو کسی ایک مقام پر ہی بیان کرکے نہیں چھوڑ دیتے بلکہ اس کا تذکرہ مختلف کتب میں مختلف مقامات پر کرتے چلے جاتے ہیں ان کی کتابیں مشکل ضرور ہیں مگر علم کا بیش بہا خزانہ ہیں آپ کے بڑے فرزند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ میرے والد ماجد کی کتابوں کے ساتھ جو شخص نسبت رکھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ ضرور فیضیاب کرتا ہے ، کہتے ہیں کہ میرے والد کی کتابیں نور اور حکمت سے پر ہیں ، پچاس ساٹھ چھوٹی موٹی کتابوں میں قرآن کریم کا ترجمہ ، اصول تفسیر ، شرح حدیث موطا وغیرہ میں علم و حکمت کا سب سے بڑا مخزن آپ کی عظیم کتاب ” حجۃ اللہ البالغہ “ ہے جس میں اسلام کی مکمل تشریح اور حکمت آگئی ہے گذشتہ بارہ صدیوں میں ایسی عمدہ کتاب ضبط تحریر میں نہیں آئی بہرحال آپ نے روح کے موضوع پر بھی عمدہ اور جامع کلام کیا ہے ۔ (روح کی مادیت پر بحث) امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ قدیم حکماء نے روح کے موضوع پر بڑی بحث کی ہے ، ان کے زیر بحث یہ نکتہ بھی رہا ہے کہ روح متحیز ہے یا غیر متحیز یعنی یہ کسی جگہ مکان ، یا ٹھکانے میں رہتی ہے یا اسے اس کی ضرورت نہیں ، اس کے علاوہ روح کے متعلق یہ بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ یہ قدیم ہے یا حادث یعنی کیا روح خدا تعالیٰ کی طرح قدیم ہے یا اس کی مخلوق ، بعض گمراہ فرقے روح کو بھی قدیم مانتے ہیں حالانکہ قدیم ذات صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہے ، باقی سب حادث یا مخلوق ہے ، ہندوؤں میں آریہ سماج فرقہ ترقی یافتہ اور جدید فرقہ سمجھا جاتا ہے جب مسلمانوں نے ہندوؤں کی بت پرستی کے خلاف مدلل آواز اٹھائی تو آریہ سماجیوں نے تینیس (33) کروڑ دیوتاؤں کا تو انکار کردیا مگر تین معبودوں میں آکر وہ بھی پھنس گئے ، انہوں نے ایک خدا کی بجائے تین چیزوں کو قدیم مانا یعنی پر ماتما (خدا تعالی) روح اور مادہ ، یہ بھی عیسائیوں کی طرح باپ بیٹا اور روح القدس کی تثلیث میں پڑگئے ۔ اس سلسلہ میں قرآن پاک کی تعلیم یہ ہے کہ قدیم ذات وہ ہے جس کی کوئی ابتداء اور کوئی انتہا نہیں اور وہ صرف ذات خداوندی ہے اس کے علاوہ ہر چیز مخلوق ہے (آیت) ” اللہ خالق کل شیئ “۔ (الرعد) ہر چیز کا خالق ، بدیع اور فاطر وہی ہے اور اپنی تمام صفات کے ساتھ وہی قدیم بھی ہے ، اس کے علاوہ کوئی چیز قدیم نہیں ، اس کے علاوہ ہر چیز حادث ہے جس پر فنا لازم ہے (آیت) ” کل من علیھا فان ، ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام “۔ (الرحمن) اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے کچھ چیزیں فنا ہوچکی ہیں اور کچھ آگے چل کر فنا ہوجائیں گی ، ازلی ، ابدی ، دائمی اور سرمدی ذات صرف ذات خداوندی ہے ، بہرحال قدیم حکما نے اس بارے میں طویل بحثیں کی ہیں کہ روح قدیم ہے یا حادث ، انسان کے بعد روح باقی رہتی ہے یا نہیں اور پھر یہ بھی کہ روح کی سعادت اور شقاوت کیا ہے ۔ جہاں تک مادے کا تعلق ہے پرانے سائنس دان بھی اس کی قدامت کے حامی تھے ، وہ کہتے تھے کہ مادے کو نہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ فنا کیا جاسکتا ہے ، مگر اب بیسویں صدی میں جرمنی کے سائنسدان ائن سٹائن نے اس نظریے کو بھی غلط ثابت کردیا ہے ، اس نے ثابت کیا ہے کہ مادہ کوئی چیز نہیں ، مادے کو قوت میں اور قوت کو مادے میں تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے ، اب تمام سائنسدان اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں ، چناچہ ایٹم بم کی تھیوری اسی بنیاد پر قائم ہوئی ہے غرضیکہ مادے اور روح کی قدامت میں بھی غلط ثابت ہوچکی ہے ، قدیم صرف ذات خداوندی ہے ، جو ازلی اور ابدی ہے ۔ (شاہ ولی اللہ (رح) کا نظریہ) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ روح ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق ہر ادنی ، اعلی ، پڑھا لکھا اور ان پڑھ جانتا ہے ، کہ جب یہ انسان کے جسم میں موجود ہوتی ہے تو انسان حرکت کرتا ہے ، کھاتا ، پیتا ، بولتا سنتا اور کاروبار کرتا ہے ، اور جب یہ روح انسان جسم سے نکل جاتی ہے تو انسان بےجان ہوجاتا ہے مگر فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ روح کی حقیقت کو کوئی نہیں جانتا ، اس نظریے کی دلیل میں کوئی قرآنی نص موجود نہیں ، البتہ حضرت اعمش (رح) کی قرات میں جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے ، اس آیت کے الفاظ (آیت) ” وما اوتیتم من العلم کو من العلم “۔ کو ، (آیت) ” وما اوتوا من العلم “۔ بھی پڑھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روح کے متعلق سوال کرنے والوں اور امت محمدیہ سمیت تم سب لوگوں کو اس کا بہت کم علم دیا گیا ہے ، روح کی تفصیلات کے ضمن میں شریعت بھی خاموش ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ اس سے کوئی بھی واقف نہیں ، شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس معاملہ میں شریعت کی خاموشی اس وجہ سے ہے کہ عام لوگوں کو روح کو علم نہیں حاصل کرنا چاہئے ، اور نہ اس کے درپے ہونا چاہئے کیونکہ ہر شخص میں ہر چیز کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ، عام لوگوں کو اجمالی طور پر صرف اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ روح اللہ تعالیٰ کے امر میں سے ایک چیز ہے ، البتہ خواص کو اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اس بناء پر آپ نے روح کی تشریح بیان کی ہے ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ روح انسانی تین چیزوں کا مرکب ہے ان میں سے ایک چیز بمنزلہ سواری کے ہے جس پر آسمانی روح آکر سوار ہوتی ہے اس کو نسمہ کہا جاتا ہے اور اس کا ذکر حدیث شریف میں بکثرت آیا ہے ، جیسے والذی خلق وبرء النسمۃ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور نسمے کو بھی بنایا ، نسمے سے عام طور پر روح مراد لیتے ہیں اور تعبیر میں نفس ناطقہ ، روح الہی یا روح انسانی بھی کہتے ہیں ، یہ نسمہ جسم انسانی میں اس طرح سرایت کیے ہوئے ہے جس طرح گلاب کے پھول میں اس کا عرق ہوتا ہے یا کوئلہ میں آگ ہوتی ہے نسمہ ایک لطیف بخار یا دھواں سا ہے ، جب تک یہ بخار آدمی کے جسم میں موجود ہو ، اس کی حرکت جاری رہتی ہے اور جب یہ بخار ختم ہوجائے تو آدمی بھی ختم ہوجاتا ہے ، یہ بخار یا حرارت انسان کی غذا سے پیدا ہوتا ہے خوراک انسانی معدے میں جا کر ہضم ہوتی ہے ، پھر یہ جگر میں جا کر خون میں تبدیل ہوجاتی ہے جس میں انسانی جسم کی نشونما کی ضروریات کے تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں ، پھر جگر ، قلب اور دماغ تینوں کی شراکت سے نسمہ پیدا ہوتا ہے جس کا مکمل جوش قلب میں ہوتا ہے ، لطیف بخار کی آمیزش والا خون قلب میں پہنچ کر پمپ ہوتا ہے اور پھر سارے جسم میں پھیل جاتی ہے ، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ روح انسانی کا تیسرا جزو نفس ناطقہ ہے جس طرح ہر انسان میں ایک روح پائی جاتی ہے ، اسی طرح پوری کائنات کی بھی ایک روح ہے جس کو نفس کل کہا جاتا ہے نفس ناطقہ دراصل نفس کل کا عکس ہوتا ہے یہ نفس کل حنطیرۃ القدس میں مجموعہ انسانیت کا ایک نمونہ (ماڈل) ہے جس کا عکس نفس ناطقہ کے نام سے انسانی روح کا تیسرا جزو بنتا ہے ، اس طرح روح سماوی اور نفس ناطقہ دونوں اجزاء نسمہ سے آکر مل جاتے ہیں ، اور روح انسانی وجود میں آجاتی ہے ۔ (روح اعظم کے ساتھ تعلق) روح الہی کے متعلق ضعیف حدیثوں میں آتا ہے جیسا کہ امام رازی (رح) نے بیان فرمایا ہے کہ اس کے ستر ہزار منہ اور ستر ہزار زبانیں ہیں دوسری روایت میں ایک ہزار منہ اور ایک ہزار زبانوں کا ذکر بھی ملتا ہے ، یہ سب انسانیت کا ایک نمونہ ہے جسے انسان اکبر یا روح اعظم بھی کہا جاتا ہے ، جب شکم مادر میں انسان کا چھوٹا سا ڈھانچہ تیار ہوجاتا ہے تو پھر روح اعظم کا ایک عکس اس کے ساتھ آکر مل جاتا ہے ، ہر انسان میں روح اعظم کے عکس در آنے کی مثال ایسی ہے جیسے کسی چیز کے سامنے آئینہ رکھ دیا جائے تو اس چیز کا عکس اس آئینے میں آجائے گا ، اب اگر اس آئینے کے سامنے مزید ہزار آئینے بھی رکھ دیے جائیں تو ہر آئینے میں اس چیز کا عکس پہنچ جائے گا ، اس طرح روح الہی کا عکس ہر انسان میں اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ آجاتا ہے ، اس طرح نفس ناطقہ کا عکس بھی اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ انسانی جسم میں نسمہ کے ساتھ آکر مل جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اس قدر پیچیدہ کی ہے کہ کوئی دوسری مخلوق اس قدر پیچیدہ نہیں ، روح انسانی کے جزونسمہ کے آگے پھر تین شعبے بن جاتے ہیں جن کو نفس ، قلب اور عقل کہا جاتا ہے ، شیطان اپنا اثر نفس کے ذریعے اثر انداز ہوتے ہیں اور عقل کا رخ خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم کی طرف ہوتا ہے ۔ (تجلی اعظم کا عکس) انسان کے پانچ بڑے بڑے لطائف کو تو تمام حکماء تسلیم کرتے ہیں یعنی نفس ، قلب ، عقل ، روح اور سر ، اس کے بعد تمام لطائف بڑے غامض ہیں ، مثلا سر کے بعد خفی آتا ہے ، اس کے بعد اخفی ، پھر انانیت کبری ، ، پھر نور القدس اور پھر حجر بخت ، اس کی مثال ایسے ہے جیسے کسی شخص کو بہت سے پردوں والا لباس پہنا دیا جائے ایک پردہ اتاریں گے تو دوسری چیز سامنے آئے گی اور اس طرح چلتے چلتے آخر میں حجربحت آتا ہے ، یہ اتنا لطیف ہوتا ہے کہ اس میں تجلی اعظم کا عکس پڑتا ہے ، اس لیے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ہر انسانی قلب میں تجلی اعظم کا عکس پڑتا ہے ، یہ اس زندگی میں تو محسوس نہیں ہوتا ، مگر مرنے کے بعد جب اس عکس کی کشش تجلی اعظم کی طرف ہوگی تو انسان اسے شدت سے محسوس کرے گا ، اگر اس نے آخرت کے لیے تیاری کر رکھی ہے تو اسے سرور اور راحت حاصل ہوگی اور اگر کچھ تیاری نہیں کی تو یہی کشش اس کے لیے عذاب بن جائے گی ۔ روح الہی کو روح ملکوت بھی کہتے ہیں یہ تمام مجموعہ انسانیت کا ایک عکس ہے جس کا نمونہ حظیرۃ القدس میں رکھا ہوا ہے ، ہر انسان روح کا تجلی اعظم کے ساتھ تعلق اسی کے واسطے سے ہوتا ہے ، سعید روح سے شاہ صاحب (رح) یہی مراد لیتے ہیں کہ اس روح میں تجلی اعظم کا پورا نمونہ پایا جاتا ہے ، اس نمونہ میں جتنی کمی ہوگی اتی ہی اس روح کی سعادت میں کمی واقع ہوجائے گی ، بہرحال تجلی اعظم کے عکس کو روح الہی ، روح سماوی ، روح انسانی ، روح ملکوتی روح قدسی یا امر ربی کہا جاتا ہے ۔ (روح کے متعلق کم علمی) تو روح کے متعلق سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت) ” قل الروح من امر ربی “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کے امر سے ایک حقیقت ہے ، (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “۔ اور تم کو اس کا بہت کم علم دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے تفصیل بیان نہیں فرمائی مگر اجمالی طور پر ساری بات ذکر کردی ہے جیسا کہ شان نزول کے ضمن میں عرض کیا گیا تھا کہ مشرکین کے وفد نے یہودیوں کے ایما پر حضور ﷺ سے تین سوال پوچھے تھے ان میں سے دو سوالوں کا تفصیلی جواب سورة الکہف میں آرہا ہے جب کہ تیسرے سوال یعنی روح کی حقیقت کے متعلق اجمالی طور پر ہی جواب دیا کیونکہ عام لوگوں کے فہم اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت نہی رکھتے ، انہیں صرف اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ انسان اپنے جسم میں روح کی موجودگی کی وجہ سے حس و حرکت کرتا ہے ، چلتا پھرتا ہے اور دنیا کے کام کاج انجام دیتا ہے اور جب روح انسانی جسم سے خارج ہوجاتی ہے تو جسم بےجان ہوجاتا ہے ، عام لوگ اتنی بات ہی سمجھ سکتے ہیں اس لیے اسے امر ربی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
Ayahs 17:86–89

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

ترجمہ اور اگر ہم چاہیں تو لے جائیں (سلب کرلیں) اس چیز کو جو وحی بھیجی ہے ہم نے آپ کی طرف پھر نہ پائیں گے آپ اپنے لیے ہمارے اوپر کوئی دلیل ۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

لیکن یہ مہربانی ہے تیرے پروردگار کی طرف سے بیشک اس کا فضل آپ پر بہت بڑا ہے ۔

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اگر اکھٹے ہوجائیں انسان اور جنات سارے اس بات پر کہ وہ لائیں اس قرآن کی مثل تو نہیں لاسکیں گے ۔

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

اس کی مثل اگرچہ بعض ان کے بعض کے مددگار ہوں اور البتہ تحقیق ہم نے پھیر پھیر کر بیان کی ہیں لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں پس انکار کیا ہے اکثر لوگوں نے مگر ناشکر گزاری ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں روح کے متعلق سوال اور اس کا جواب تھا ، مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں دریافت کیا تھا ، جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ روح میرے پروردگار کے امر سے ایک حقیقت ہے ہے مگر تمہیں تو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے ، اس لیے تم اسے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے ۔ بعض لوگ غرور وتکبر کی وجہ سے کہتے ہیں کہ انسان تمام چیزوں پر حاوی ہے حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے انسان جتنا کچھ جانتا بھی ہے ، اس میں بھی بعض اوقات اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے ، انسان کے دماغ میں کچھ ہوتا ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ، اس لیے بعض آثار میں یہ دعا بھی آتی ہے ، ” اللھم ارنا الاشیاء کماھی “ یعنی اے اللہ ہمیں چیزوں کی حقیقت اسی طرح دکھا جس طرح وہ واقع میں ہیں ، انسانی بہت سی چیزوں کی اصلیت سے ناواقف ہیں کیونکہ ان کا علم قلیل ہے ۔ (وحی الہی کی ضرورت) دنیا کا ہر علم ناقص ہے اور اس میں شک وشبہ کی گنجائش ہے صڑف وحی الہی ہی علم کا قطعی ذریعہ ہے جس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ، بعض اوقات کسی چیز کو سمجھنے میں بھی غلطی ہو سکتی ہے ، اسی لیے امام مجدد (رح) فرماتے ہیں کہ بزرگان دین کو کشف کے ذریعے حقیقت اخذ کرنے یا اسے سمجھنے میں غلطی ہو سکتی ہے ، یا اگر اسے اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو اس کے بیان کرنے میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے اسی لیے آپ فرماتے ہیں کہ کشف کو قطعی چیز تسلیم نہیں کیا جاسکتا ، البتہ وحی الہی ایسی چیز ہے جسے اللہ کا نبی نہ تو اخذ کرنے میں غلطی کرتا ہے نہ سمجھنے میں اور نہ آگے بیان کرنے میں ، وحی علم کا اٹل ذریعہ ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کو قدر کرنی چاہئے ، ۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولئن شئنا لنذھبن بالذی اوحینا الیک “۔ اگر ہم چاہیں تو لے جائیں یا سلب کرلیں اس چیز کو جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے (آیت) ” ثم لا تجدلک بہ علینا وکیلا “۔ پھر آپ نہ پائیں گے اپنے لیے ہمارے اوپر کوئی کارساز مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز کو سلب کرلے تو کس کی طاقت ہے کہ اللہ کے ہاں وکالت کرکے واپس لے سکے ؟ (آیت) ” الا رحمۃ من ربک “۔ ہاں ! یہ تیرے پروردگار کی مہربانی ہے کہ وہ اپنی عطا کردہ نعمت کو چھینے گا نہیں یہ خدا تعالیٰ کا فضل عظیم ہے کہ اس نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور وحی الہی کے ذریعے عظیم الشان کتاب عطا فرمائی ، لہذا اس کی قدر کرنی چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، اگر انسان اس نعمت کی ناقدری کرتے ہوئے اس سے مستفید نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اسے واپس بھی لے سکتا ہے لہذا عام لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اگر ہم نے اس وحی الہی کی قدر نہ کی تو پھر صحیح پروگرام اور کہاں سے مل سکے گا ، اللہ نے سورة مرسلات میں اسی بات کا تذکرہ کیا ہے (آیت) ” فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ قرآن پاک کے بعد اور کون سی کتاب آئیگی جس پر تم ایمان لاؤ گے ؟ مطلب یہ کہ یہی اللہ کی آخری کتاب اور آخری پروگرام ہے ، یہ اس کی رحمت اور مہربانی کا نمونہ ہے ، ا سے اللہ نے شفا اور رحمت سے تعبیر کیا ہے لہذا اس کی حتی المقدور قدر کرنی چاہئے ۔ (قرآن کا اٹھ جانا) امام بغوی (رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگو ! قرآن کو سیکھو اور اس پر عمل کرو قبل اس کے کہ اسے اٹھا لیا جائے ، قرب قیامت میں ایک ایسا وقت آئے گا ، جب قرآن حکیم اٹھالیا جائے گا ، اس کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کے اٹھائے جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن کے الفاظ اٹھالیے جائیں گے بلکہ صحیحین کی روایت کے مطابق ” ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ولکن یقبض العلمائ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے نہیں اٹھائے گا بلکہ نیک اور اچھے علماء کو اٹھا لے گا ، جب دین کا صحیح علم رکھنے والے نہیں ہوں گے تو لوگ جاہلوں کو عالم ، مفتی اور قاضی کا درجہ دیں گے ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ بغیر علم کے فتوی دیں گے ، خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے اور اس طرح دنیا سے علم کو چھین لیا جائیگا ۔ (ذہاب علم) حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے کوئی بات بیان کی اور پھر فرمایا کہ ایسا اس وقت ہوگا ” حین ذھاب العلم “۔ جب علم چلا جائے گا حضور ﷺ کے ایک صحابی زیاد ابن لبید ؓ نے عرض کیا ، کہ علم کیسے چلا جائیگا جب کہ ہم ان سے قرآن پڑھتے ہیں اور آگے دوسروں کو پڑھاتے ہیں آپ نے فرمایا تیری ماں تجھے گم پائے زیاد میں تو تجھے مدینے کا سمجھدار آدمی سمجھتا تھا مگر تم نے تو بےسمجھی کی بات کی ہے کیا تم یہود ونصاری کا حال نہیں دیکھتے ؟ ان کے پاس کتابیں موجود ہیں مگر وہ ان پر عمل نہیں کرتے ، ایسے علم کا کیا فائدہ ؟ یہی ذہاب علم ہے ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں ” تعلموا العلم “ لوگو ! علم سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاؤ ” تعلموا الفرائض “ فرائض سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھلاؤ ” فیقبض العلم “ کیونکہ علم قبض کرلیا جائے گا اور فتنے برپا ہوں گے جہالت برپا ہوگی حتی کہ دو آدمی ایک فریضہ میں جھگڑا کریں گے مگر ان کو بتلانے والا کوئی نہیں ہوگا آپ نے یہ بھی فرمایا ” انی امرء مقبوض “ میں تمہارے درمیان ہمیشہ نہیں رہوں گا ، بلکہ مجھے بھی اٹھالیا جائے گا ۔ تو قاضی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ علم چھن جانے کی صورت یہ ہوگی کہ سب سے پہلے لوگوں میں سے علم اٹھا لیا جائے گا ان سے عمل کی توفیق ہی سلب ہو جائیگی جیسا کہ آج کل نظر آرہا ہے علم بہت ہے کتابوں کی لائبریریاں بھری ہوئی ہیں مگر عمل مفقود ہے آپ دیکھ لیں ہر سال سیرت طیبہ پر ہزاروں کتابیں شائع ہوتی ہیں ان پر انعامات بھی تقسیم ہوتے ہیں مگر کروڑوں کی آبادی میں ان کتابوں پر عمل کرنے والے دس آدمی بھی نہیں ملیں گے تو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق سب سے پہلے عمل کی توفیق سلب کرلی جائے گی ، اس کے بعد اچھے اچھے علما اٹھا لیے جائیں گے اور تیسرا مرحلہ قرب قیامت میں پیش آئے گا ، لوگ سو کر اٹھیں گے تو علم کی کوئی بات سینوں میں محفوظ نہیں ہوگی اور کتابوں کے حروف مٹ چکے ہونگے ۔ بہرحال پہلی چیز یہ ہے کہ علم کے مطابق عمل بھی ہو ، جب تک انسانوں کے پاس قرآن پاک موجود ہے ، اس کو غنیمت سمجھتے ہوئے اس کو قدر کرنی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر ہم چاہیں تو وحی کے ذریعے نازل کردہ چیز قرآن کو چھین لیں اور پھر آپ کو ایسا کوئی وکیل بھی نہیں ملے گا ، جو اس نعمت کو واپس دلا سکے ہاں ، یہ تیرے رب کی مہربانی ہے کہ قرآن پاک تمہارے درمیان موجود ہے (آیت) ” ان فضلہ کان علیک کبیرا “۔ بیشک یہ اللہ تعالیٰ کا آپ پر بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے یہ سب نعمتیں آپ کی عطا کی ہیں ۔ (صداقت قرآن) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت وصداقت پرچیلنج کیا ہے اور اس کا ذکر قرآن میں تین مرتبہ آیا ہے ، پہلا چیلنج اس آیت میں ہے (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں کہ اگر تمام انسان اور جنات اس بات پر اکھٹے ہوجائیں کہ وہ اس قرآن جیسا کوئی قرآن لے آئیں گے تو وہ نہیں لاسکیں گے اس جیسا (آیت) ” ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا “۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ بن جائیں وہ سب مل کر پوری کوشش کر کے دیکھ لیں ، قرآن پاک کی مثل پیش نہیں کرسکیں گے ۔ یہ تو پورے قرآن کے متعلق چیلنج ہے اس کے بعد اللہ نے دوسرا چیلنج کیا (آیت) ” قل فاتوا بعشر سور مثلہ “۔ (ھود ۔ 13) آپ کہہ دیں کہ قرآن پاک کی سورتوں میں سے اس جیسی دس سورتیں ہی لے آؤ ، جب یہ چیلنج بھی کسی نے قبول نہ کیا تو اللہ نے تیسرا چیلنج کیا کہ اگر تمہیں ہماری نازل کردہ کتاب میں کوئی شک ہے (آیت) ” فاتوا بسورۃ من مثلہ “۔ (البقرہ ، 23) تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کرلے آؤ اگر تم سچے ہو ، تاریخ گواہ ہے کہ چودہ صدیوں سے یہ چیلنج کسی نے قبول نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قرآن پاک کی کسی سورة کی مثال پیش کرسکا ہے یہی اس کی حقانیت اور صداقت کی دلیل ہے ۔ (قرآن کے علوم ومعارف) بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کی مثل لانے کا چیلنج اس کی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے ہے کہ ایسی فصاحت وبلاغت کسی دوسرے کلام میں نہیں پائی جاتی ، تاہم امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ قرآن کا یہ چیلنج نہ صرف فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے ہے بلکہ اس کے علوم ومعارف ، اس کی حکمتیں اور مصلحتیں ، اس کے نظام اور پروگرام ہر اعتبار سے یہ چیلنج قائم ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ سارے انسان بلکہ ساری مخلوق مل کر بھی قرآن کی حکمتوں اور مصلحتوں کی مثال پیش نہیں کرسکتی آپ فرماتے ہیں کہ میں قرآن کی کسی آیت پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس کے تحت علوم ومعارف کا وسیع سمندر نظر آتا ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا کلام ہے جس طرح اللہ کی ذات بےمثل ہے اسی طرح اس کی صفات بھی بےمثال ہیں ، انسان اللہ تعالیٰ کی صفت قرآن پر کبھی حاوی نہیں ہو سکتا ، بلکہ اس میں جتنا غور وفکر کرے گا ، اس کے علم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ دعا سکھلائی ہے (آیت) ” قل رب زدنی علما “۔ (طہ ، 114) اے پروردگار ، میرے علم میں اضافہ فرما ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا پیش کردہ لائحہ عمل بےمثال ہے دنیا میں جتنے بھی انسانی ہاتھوں سے قوانین ودساتیر بنتے ہیں وہ کچھ عرصہ بعد فیل ہوجاتے ہیں اور انہیں یا تو منسوخ کرنا پڑتا ہے ، یا پھر ان میں ترمیم کی ضرورت پیش آتی ہے ، وقت کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین کی خامیاں منظر عام پر آتی رہتی ہیں جن کی بناء پر ان کی تبدیلی لازمی ہوجاتی ہیں ، اس کے برخلاف ہر عیب اور نقص سے پاک اگر کوئی قانون ہے تو وہ صرف اللہ کی کتاب قرآن پاک کے اوراق میں محفوظ ہے ، یہ ایسا پروگرام ہے جس میں قیامت تک کسی تغیر وتبدل کی ضرورت پیش نہیں آئے گی لہذا ہمارا فرض ہے کہ اس کتاب کی قدر دانی کریں ، اس کے احکام کو سمجھیں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوجائیں ، ہماری فلاح و کامیابی کا راز اسی بات میں ہے ۔ ّ (قرآن پاک کی مثالیں) فرمایا (آیت) ” ولقد صرفنا للناس فی ھذا لقران من کل مثل “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں پھیر پھیر کر مثالیں بیان کی ہیں حکمت اور عقل کی گہری باتوں کو سمجھانے کے لیے مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور قرآن پاک نے اپنے علوم ومعارف کے ابلاغ کے لیے یہی طریق کا ر اختیار کیا ہے ، قرآن پاک کی ایک ایک مثال میں سینکڑوں علوم پنہاں ہوتے ہیں ، اسی لیے تو اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” وتلک الامثال نصربھا للناس ، وما یعقلھا الا العلمون “۔ (العنکبوت ، 43) یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں مگر ان کو اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں ، اللہ نے توحید کی بات مثال کے ذریعے سمجھائی ہے اسی طرح کفر اور شرک کی برائی کو بھی مختلف طریقوں سے سمجھایا ہے قیامت کا وقوع ، محاسبے کا عمل اور حکمت کی باریک باتیں اللہ نے مثالوں کے ذریعے واضح کی ہیں ۔ فرمایا اس کے باوجود (آیت) ” فابی اکثر الناس الا کفورا “۔ پس انکار کیا ہے اکثر لوگوں نے مگر ناشکری ، چاہئے تو یہ تھا کہ لوگ اس اعلی وارفع پروگرام کو فورا قبول کرلیتے مگر ہر دور میں اکثریت ناشکر گزاروں کی ہی رہی ہے آج بھی پوری دنیا میں دیکھ لیں کہ کل آبادی کی کتنی اکثریت کفر اور شرک میں مبتلا ہے اور کتنی برائیوں میں ڈوبی ہوئی ہے ، اور پھر یہ بھی دیکھ لیں کہ نیکی کے راستے پرچلنے والے کتنے لوگ ہیں ، آپ تجزیہ کرکے دیکھ لیں نیکوں کاروں کی تعداد بہت قلیل نظر آئے گی اکثر لوگ قرآن پاک کی حقیقت سے مستفید نہیں ہوتے ۔
Ayahs 17:90–96

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور کہا (کفر کرنے والوں نے) ہم ہر گز نہیں ایمان لائیں گے آپ پر یہاں تک کہ آپ جاری کردیں ہمارے لیے زمین سے چشمہ ۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا ہو آپ کے لیے باغ کھجوروں اور انگور کا پس چلائیں آپ نہروں کو ان کے درمیان چلانا۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا گرا دیں آسمان ، جیسا کہ آپ خیال کرتے ہیں ، ہم پر کوئی ٹکڑا یا لائیں آپ اللہ اور فرشتوں کو سامنے ۔

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

۔ یا ہو آپ کے لیے کوئی گھر سنہری ، یا چڑھ جائیں آپ آسمان پر ، اور ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے آپ کے اوپر چڑھنے سے حتی کہ اتار دیں آپ ہمارے اوپر ایک کتاب جس کو ہم پڑھیں ، (اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں ، پاک ہے میرا پروردگار نہیں ہوں میں مگر ایک انسان اور خدا کا فرستادہ رسول ۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

اور نہیں روکا لوگوں کو ایمان لانے سے جب کہ ہدایت ان کے پاس آئی مگر اس بات نے کہ انہوں نے کہا ، کیا اللہ نے انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے ۔

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، اگر ہوتے زمین پر فرشتے چلتے ، بسنے والے تو یقینا ہم اتارتے ان پر آسمان کی طرف سے فرشتے رسول بنا کر ۔

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کافی ہے اللہ تعالیٰ گواہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان بیشک وہ اپنے بندوں کے تمام حالات کے ساتھ خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا اللہ تعالیٰ نے چیلنج کردیا کہ سارے انسان اور جنات مل کر بھی قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے قرآن حکیم وحی الہی ، اللہ تعالیٰ کی صفت اور اس کا اتارا ہو اکلام ہے ، اس میں ماننے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے ، البتہ جو لوگ اس کا انکار کریں گے ، ان کے لیے سراسر خسارہ ہی خسارہ ہے ، اللہ نے فرمایا کہ اکثر لوگ سوائے ناشکر گزاری کے کچھ نہیں کرتے حالانکہ قرآن کریم نے مختلف عنوانوں ، مثالوں اور طریقوں سے اللہ کی وحدانیت ، رسالت انبیاء اور وقوع قیامت کے متعلق بات سمجھا دی ہے اب آج کی آیات میں کفار ومشرکین کے تعصب ، عناد ، ہٹ دھرمی اور حق ناشناسی کا بیان آرہا ہے ۔ (شان نزول) آج کی آیات کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ رسالت ونبوت کا دعوی کرتے ہیں مگر ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ آپ ہمارے معبودوں کی عبیب جوئی کرتے ہیں اور ہمارے بزرگوں کو بیوقوف بتاتے ہیں ، اس طرح آپ نے ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے ہمارے لیے مشکلات اور پریشانیوں کا سامان پیدا کردیا ہے کہنے لگے کہ آپ کی ان سرگرمیوں کے بدلے میں ہم آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہیں ، اگر آپ کو سرمایہ کی ضرورت ہے تو ہم بہم پہنچا سکتے ہیں ، اچھے رشتہ کی ضرورت ہو تو ہم انتظام کردیتے ہیں اور اگر آپ قیادت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں مگر آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں ، انہوں نے یہ بھی پیش کش کی کہ اگر آپ ہمارے بزرگ قصی ابن کلاب کو زندہ کردیں اور وہ آپ کی رسالت کی تصدیق کر دے تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے مشرکین نے بعض نشانیاں ظاہر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ، جن کا ذکر ان آیات میں آرہا ہے ، ان پیش کشوں اور مطالبات کے جواب میں اللہ کے رسول نے فرمایا ، لوگو ! میں نے تمہارے سامنے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ میں فلاں فلاں کام کرسکتا ہوں ، بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ رسول ہوں اور تمہیں اس کے عذاب سے ڈراتا ہوں ، اگر تم میری بات مان لو گے تو یہ دنیا وآخرت میں تمہاری خوشی قسمتی کی علامت ہوگی اور اگر انکار کر دو گے تو میں صبر کرونگا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ کر دے ۔ (مشرکین کے بےجا مطالبات) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقالوا “ اور کفار ومشرکین نے کہا (آیت) ” لن نؤمن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا “۔ ہم ہرگز آپ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ ہمارے لیے زمین میں چشمہ جاری کردیں ، مکہ کا گردونواح سنگلاخ پہاڑوں اور بےآب وگیاہ رتیلی زمین پر مشتمل ہے ، اگر آپ یہاں پر چشمہ جاری کردیں تو کھیتی باڑی ہونے لگے گی اور ہم خوشحال ہوجائیں گے لہذا آپ پانی کا بندوبست کردیں تو ہم مان جائیں گے اور یہ نہ ہو سکے تو کم از کم آپ اپنی حیثیت کو ہی نمایاں کر کے دکھادیں (آیت) ” اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب “۔ آپ کا کھجوروں اور انگور کا باغ ہونا چاہئے ۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ آپ اعلی حیثیت کے مالک ہیں ، (آیت) ” فتفجرالانھر خللھا تفجیرا “۔ اور محض خشک باغ نہیں ہونا چاہئے بلکہ آپ اس میں نہریں بھی جاری کردیں تاکہ دیکھنے والا واقعی مرعوب ہو سکے ، مگر آپ کی مالی حالت تو ہم سے بھی گئی گزری ہے ، لہذا ہم آپ کی سیادت کیسے قبول کرلیں ۔ کہنے لگے ، آپ ہمیں اکثر بن دیکھے عذاب سے خوفزدہ کرتے رہتے ہیں اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو ہم پر کوئی عذاب لے آئیں اور اس کی صورت یہ ہے او تسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا “۔ کہ جیسا کہ آپ خیال کرتے ہیں ، ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرا دیں تاکہ ہمیں پتہ چل جائے کہ خدا کی گرفت واقعی آسکتی ہے ، کفار نے کہا ، اگر یہ بھی نہیں کرتے (آیت) ” او تاتی باللہ والملئکۃ قبیلا “۔ تو پھر اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئیں جو گواہی دیں کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں ، ہم اس طرح بھی آپ کی بات مان جائیں گے ، کہنے لگے ، اور کچھ نہیں تو کم از کم یہ تو ہو (آیت) ” اویکون لک بیت من زخرف “۔ کہ آپ کا اپنا گھر ہی سونے کا بنا ہوا ہو ، اس پر سونے کی چھت ہو یا اگر سونے چاندی کا میٹریل استعمال نہ ہوا ہو تو اس پر سونے کا ملمع کیا ہوا ہو جس سے پتہ چلے کہ آپ منفرد حیثیت کے ملک ہیں آپ کی عظمت اس طرح بھی دنیا کے سامنے واضح ہو سکتی ہے ، کہا (آیت) ” او ترقی فی السمآء “ یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں ۔ (آیت) ” ولن نؤمن لرقیک “ اور ہم محض آپ کے آسمان تک پہنچ جانے کی وجہ سے ہی ایمان نہیں لے آئیں گے (آیت) ” حتی تنزل علینا کتبا نقرؤہ “۔ یہاں تک کہ آپ ہم پر ایک کتاب اتاریں جسے ہم خود پڑھ سکیں ، آپ معراج کا دعوی کرتے ہیں کہ ساتویں آسمانوں ، جنت اور دوزخ کی سیر کی ، بھلا ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے لکھی لکھائی کتاب لے آؤ تو ہم پھر آپ پر ایمان لے آئیں گے ۔ (نبی کی حیثیت) کفار ومشرکین کی فرمائشوں اور مطالبات کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کا یہ واضح فیصلہ موجود ہے (آیت) ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الاباذن اللہ “۔ (المومن ، 78) کسی نبی یا رسول کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ از خود کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرے ، مگر اللہ کے حکم سے اللہ کا نبی کبھی دعوی نہیں کرتا کہ وہ یہ کرسکتا ہے یا وہ کرسکتا ہے بلکہ وہ تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند ہوتا ہے لہذا مشرکین کے مطالبات ان کی ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر تھے بعض اوقات مشرکین دین دشمنی میں اس حد تک بڑھ جاتے تھے کہ خود اپنے لیے بددعا کرنے لگتے تھے ، سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ انہوں نے کہا (آیت) ” ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم “۔ اے اللہ ! اگر محمد ﷺ کا دین سچا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا کوئی درد ناک عذاب بھیج دے حقیقت یہ ہے کہ ان ظالموں کی نظر اس دنیا سے آگے جاتی ہی نہیں تھی ، ان آیات میں متذکرہ مطالبات کا تعلق بھی دنیا کے مال ومتاع ہی سے ہے کہ آپ کے لیے باغ ہو ، سنہری گھر ہو ، مکہ کی زمین قابل کاشت بن جائے حالانکہ اللہ کے نبیوں نے دنیا کی اعلی حیثیت کا کبھی دعوی نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو ہمیشہ ایمان اور نیکی کی دعوت دی ہے ، اگر اس پر عمل پیرا ہوجاؤ گے تو دنیا بھی سدھر جائے گی اور آخرت میں بھی نجات مل جائے گی ، دنیا داری اور سرمایہ داری عارضی اشیاء ہیں اور ختم ہونے والی ہیں ، اس میں نقصان کا پہلو زیادہ ہے اکثر لوگ دنیاوی وسائل کو غلط طور پر استعمال کرکے غلط نتائج اخذ کرتے ہیں ، مشرکین مکہ کی بیہودہ فرمائشیں انکار کا ایک بہانہ تھیں ، اللہ نے بنی اسرائیل کا ذکر قرآن میں بار بار کیا ہے ، وہ بھی اس طرح ایمان کو ٹالنے کے لیے فضول مطالبات کرتے رہتے تھے ، ایمان لانا ان کا مقصود ہی نہیں تھا یہی حال اللہ نے کفار ومشرکین کا بھی بیان فرمایا ہے ۔ بہرحال اللہ نے اپنی نبی کی حیثیت کو خود بنی کی زبان سے واضح فرما دیا (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان کفار ومشرکین سے کہہ دیں ” سبحان ربی “ میرا پروردگار ہر عیب نقص اور کمزوری سے پاک ہے (آیت) ” ھل کنت الا بشرا رسولا “۔ میں تو محض ایک انسان اور خدا کا فرستادہ ہوں میں نے نہ تو الوہیت کا دعوی کیا ہے اور نہ میں فرشتہ ہوں میں اپنی جانب سے کوئی بات نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم کی خود تعمیل کرتا ہوں اور تم تک بھی پہنچاتا ہوں ، میں انسان ہوں اور انسان نہ تو عالم الغیب ہوتا ہے اور نہ مختار مطلق لہذا میں تمہارے مطالبات پورا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں (آیت) ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔ (البقرۃ ۔ 20) ہرچیز پر قادر تو صرف اللہ ہے اور (آیت) ” یفعل مایرید “۔ (البقرۃ ، 253) وہی ذات ہے ، وہ جو چاہے کرسکتا ہے اس کے سامنے کوئی چیز محال نہیں ، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں تو انسان اور اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں ، آگے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے (آیت) ” وما منع الناس ان یؤمنوا اذ جآء ھم الھدی “۔ کہ جب بھی لوگوں کے پاس اللہ کی طرف سے ہدایت لے کر رسول آیا (آیت) ” الا ان قالوا ابعث اللہ بشرا رسولا “۔ تو انہوں نے محض اس بناء پر ایمان لانے سے انکار کردیا کہ کیا اللہ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے ان کے دماغ میں شیطان نے یہ بات ڈال رکھی تھی کہ انسان کیسے رسول ہو سکتا ہے جو کھاتا ، پیتا ، چلتا پھرتا ، بیوی بچے رکھتا اور کاروبار کرتا ہے وہ لوگ اپنے جیسے انسان کو رسول ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، یہی چیز ان کے ایمان لانے میں رکاوٹ تھی یہ نظریہ مشرکین مکہ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ سابقہ امتوں نے بھی اپنے انبیاء کا اسی بناء پر انکار کیا ، قوم ثمود کے متعلق سورة القمر میں ہے کہ انہوں نے کہا (آیت) ” ابشرا منا واحدا نتبعہ “۔ کیا ہم اپنے میں سے ایک انسان کی اتباع کرلیں انا اذا لفی ضلل وسعر “۔ اس طرح تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑگئے ۔ (ہم نوع رسول) بہرحال اللہ تعالیٰ نے بشریت رسول کے متعلق کفار مشرکین کے اعتراض کا جواب اس طرح دیا (آیت) ” قل لوکان فی الارض ملئکۃ یمشون مطمئنین “۔ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان سے کہہ دیں کہ اگر زمین میں انسانوں کی بجائے فرشتے چلتے پھرتے اور آباد ہوتے (آیت) ” لننزلنا علیھم من السمآء ملکا رسولا “۔ تو ہم ان کیطرف آسمان سے فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے ، مطلب یہ کہ جب زمین پر انسان آباد ہیں تو ان کی راہنمائی کے لیے انسانوں ہی سے رسولوں کا منتخب ہونا قرین قیاس ہے بھلا انسانوں کے پاس فرشتہ کیسے رسول بن کر آسکتا ہے جبکہ دونوں کی انواع مختلف ہیں اور ان کے درمیان مناسبت ہی نہیں ، فرشتے اللہ کی پاک اور مقدس مخلوق ہیں ، ان کا مادہ تخلیق مختلف ہے ، ان میں عقل ضرور ہے مگر خواہشات نہیں ہیں یہ مکلف ہیں مگر لوازمات بہیمیہ سے خالی ہیں ، برخلاف اس کے انسان ناسوتی مخلوق ہے ، اس میں ملکیت بھی ہے اور بہیمیت بھی ، اللہ نے اسے ملکیت کو غالب بنانے کا حکم دیا ہے اور بہیمیت کو کمزور کرنے کی ہدایت کی ہے ، انسان کو مرتبہ زیادہ بخشا ہے ، مگر اس کی پیدائش بڑی پیچیدہ ہے ، غرضیکہ انسان فرشتے سے استفادہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ انکی انواع کی مختلف ہیں ، اس لیے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ معلم اور متعلم میں مناسبت ضروری ہے کہ اس کے بغیر فیض حاصل نہیں ہوسکتا ، مطلب یہ کہ انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بن کر آئے گا تو فیض حاصل ہوگا ، ورنہ نہیں ۔ سورة الانعام میں اللہ کا یہ فرمان موجود ہے کہ انسان اگر فرشتے سے استفادہ حاصل کرنا چاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں ، پہلی یہ ہے کہ ہم فرشتے کو انسانی صورت میں بھیجیں ، اگر ایسا ہوگا تو منکرین کا اعتراض اپنی جگہ قائم رہے گا کہ یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے ہم اس کی اتباع کیوں کریں ؟ اور اگر بصورت دیگر فرشتے کو اس کی اصل شکل و صورت میں بھیجیں تو انسان اس کو برداشت نہیں کرسکیں گے ، اس کی نورانیت ، چمک دمک اور شکل و صورت دیکھ کر انسان فورا دہشت زدہ ہو کر ہلاک ہوجائیں گے ، عام انسان فرشتے کو اصلی صورت میں دیکھ کر برداشت نہیں کرسکتا یہ حضور ﷺ کی خصوصیت ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کا دو مرتبہ ان کی اصل صورت میں مشاہدہ کیا آپ کی پہلی ملاقات غار حرا میں ہوئی جب آپ پر دہشت طاری ہوگئی اور آپ لرزتے کانپتے گھر آئے اور کپڑا اوڑھانے کے لیے کہا ، بڑی دیر کے بعد آپ کی دہشت دور ہوئی اور دوسری مرتبہ آپ کی ملاقات اس وقت ہوئی جس کا ذکر سورة النجم میں ہے ، بہرحال کوئی عام انسان فرشتوں سے براہ راست استفادہ نہیں کرسکتا ، لہذا انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ انسان ہی ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی رسول منتخب کرتا ہے جس کا اخلاق نہایت پاکیزہ ہوتا ہے اور اس کو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے کسی معصیت میں مبتلا نہیں ہونے دیتا ، حوائج بشری رسول کے ساتھ بھی لازم ہوتے ہیں موت وحیات کا وہ بھی پابند ہوتا ہے لہذا انسانوں کی طرف انسان ہی بطور رسول آتا ہے مشرکین کا مطالبہ بالکل بیہودہ اور عقل و فطرت کے خلاف ہے ۔ (اللہ بطور گواہ) فرمایا اگر اب بھی یہ لوگ انکار کریں اور بیہودہ مطالبات پیش کریں ، تو ” قل “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ کہہ دیں (آیت) ” کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم “۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے ، اگر تم میری نبوت و رسالت کی گواہی دینے کے لیے تیار نہیں تو اس کام کے لیے ، اللہ تعالیٰ کی گواہی ہی کافی ہے ، وہ گواہی دے رہا ہے کہ اس نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے ، حضور ﷺ سلسلہ رسل کی آخری کڑی ہیں اور سب سے زیادہ صاحب فضیلت ہیں اور یاد رکھو ! (آیت) ” انہ کان بعبادہ خبیرا بصیرا “۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام حالات ان کے کوائف اور داخلی ، خارجی ، اور ذہنی عوامل سے باخبر ہے ، وہ بصیر بھی ہے کہ ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے وہ کسی چیز سے غافل نہیں ، وہ ہر شخص کی نیت اور ارادے سے واقف ہے ، وہ جانتا ہے کہ کون حق کو قبول کرتا ہے اور کون اپنی ضد ، عناد اور تعصب پر اڑا رہتا ہے کوئی شخص اس کے محاسبے سے بچ نہیں سکتا ، اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ تنبیہ بھی فرما دی ۔