Ayahs 16:1–4(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔
اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔
(مضامین سورة )
گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم :
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے :
قل انی انا النذیر المبین “۔ آپ کہہ دیں کہ میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ، تو اس سورة میں اللہ نے ڈر کی تفصیل بیان فرمائی ہے ، اور مجرمین کو واضح طور پر خبردار کردیا ہے کہ وہ اپنی فکر کرلیں ، ان کی گرفت آنے والی ہے ۔
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اور وحی الہی کی صداقت ، توحید باری تعالیٰ ، مسئلہ رسالت اور وقوع قیامت اور اس کے ساتھ مجرموں کی سزا کا ذکر کیا ہے ، اس سورة مبارکہ میں حلت و حرمت کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں ، انسان کی طرف سے از خود حرام کردہ چیزوں کی تردید اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے کا حکم ہے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کا کام اور اس کی صفت ہے اور یہ بات ایمان کی شرائط میں داخل ہے حضور ﷺ کے صحابی نعمان بن قوقل ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ، اگر میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کروں ، نماز ادا کروں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہوں جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، مجبوری کی حالت میں بعض اوقات حرام چیزیں بھی مباح ہوجاتی ہیں ، تو اس سورة میں اللہ نے اضطرار کے مسائل بھی بیان فرمائے ہیں اس کے علاوہ سورة ابراہیم کی طرح اس سورة میں بھی ملت ابراہیمی کی تصریح کی گئی ہے ، غلامی اور آزادی کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے تاہم زیادہ تر توحید کے دلائل اور شرک کی مختلف صورتوں کی تردید کی گئی ہے ۔
حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا عالمی پروگرام پیش کیا ہے ، جسے اہل اسلام فخر کے ساتھ دینا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں یہ وہی عالمی پروگرام ہے جس کی ایک آیت آپ ہر خطبہ میں سنتے رہتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم :
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے :
ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ، یہ اسی سورة مبارکہ کی آیت ہے ، جسے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے خطبہ جمعہ میں شامل کیا تھا ، ہر جماعت اور حکمت کا ایک منشور ہوتا ہے ۔ جس کے مطابق کوئی نظام چلانا مقصود ہوتا ہے چناچہ اس سے اگلی سورة بنی اسرائیل میں اللہ نے منشور اسلام (MANIFESTO OF ASLAM مینی فسٹوآف اسلام) بھی پیش کیا ہے اس سے اگلی دونوں سورتوں میں اللہ نے دور جدید کے فتنوں یعنی عیسائیت اور دجالیت کا رد فرمایا ہے اس میں طریقہ تبلیغ بتایا ہے اور اقتصادی مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کی تلقین اور نقض عہد سے منع فرمایا ہے ،۔
(عذاب الہی کی آمد)
تمہید کے طور پر بعض سورتوں کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی تعریف سے ہوتی ہے اور بعض کی ابتداء میں حروف مقطعات آتے ہیں تاہم اس سورة مبارکہ میں چونکہ انذار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جس سے مجرموں اور نافرمانوں کی تنبیہ مطلوب ہے ، لہذا اس سورة کی ابتداء بلا تمہید براہ راست کی گئی ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم :
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے :
اتی امر اللہ “ اللہ کا حکم آن پہنچا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی لوگوں کو قیامت اور محاسبہ اعمال سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ ، اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ان کو سزا دینے والا حکم آپہنچا ہے ۔
(عذاب الہی کی آمد)
یہ عذاب الہی کی آمد کی وعید ہے جو کہ مستقبل میں نازل ہونے والا ہے مگر اس آیت کریمہ میں اتی ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی یہ ہونا چاہئے کہ اللہ کا حکم آچکا ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جو واقعہ مستقبل میں یقینی طور پر پیش آنے والا ہوتا اسے مضارع کی بجائے ماضی کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے چناچہ قیامت اور جنت ، دوزخ کے اکثر واقعات ماضی کے صیغے کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کل ما ات “۔ ہر چیز جو یقینی طور پر آنے والی ہے ، وہ اتنی ہی اٹل ہوتی ہے جیسے وہ آچکی ہے چونکہ قیامت اور جزائے عمل لازمی طور پر واقع ہونے والے ہیں اس لیے اللہ نے انہیں ماضی میں بیان کیا اور مطلب یہی ہے کہ اللہ کا حکم عنقریب آنے والا ہے : (آیت) ” فلا تستعجلوہ “۔ لہذا جلدی نہ کرو ، وہ آیا ہی چاہتا ہے ۔
(غلبہ اسلام کی پیش گوئی)
حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) کی تفسیر کے مطابق امر اللہ سے مراد اسلام کی فتح ، اس دنیا میں مخالفین کی تذلیل اور آگے چل کر سخت عذاب ہے ، اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر پیش گوئی کردی ہے کہ اس وقت تو کافر لوگ اہل ایمان کو تنگ کر رہے ہیں ، ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے مگر ان کی فتح اور کفار کی شکست عنقریب واقع ہونے والی ہے ، اسی غلبہ اسلام کے ساتھ اسلام کا عالمی پروگرام بھی منسلک ہے ، یہ ایسا پروگرام ہے جو اسلام کے سوا کسی مذہب کے پاس نہیں ہے اور اس پروگرام کے ذریعے پوری دنیا کی اصلاح مقصود ہے ۔
(نزول وحی)
فرمایا ” سبحنہ “ پاک ہے اس کی ذات (آیت) ” و تعلی عما یشرکون “ وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اللہ کا شریک بناتے ہیں ، وہ قادر مطلق اور معبود برحق ہے اور اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ، اس کی برتری اسی بات سے ظاہر ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے اپنے فرشتوں کے ذریعہ وحی نازل فرمائی ، چونکہ انسان اللہ تعالیٰ سے براہ راست رابطہ قائم کرکے احکام حاصل نہیں کرسکتے ، اس لیے اللہ نے کفر ، شرک اور معاصی سے بچنے کا پروگرام فرشتوں کے ذریعے ارسال کیا ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ینزالملئکۃ بالروح من امرہ “۔ وہ ملائکہ کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اتارتا ہے ، یہاں پر روح سے مراد وحی ہے جیسے قرآن پاک ، خود قرآن کو بھی وحی کہا گیا ہے ، اور ایک روح وہ بھی ہے جس پر انسانی زندگی کا مدار ہے ، اسی کے ذریعے انسان میں عقل و شعور پیدا ہوتا ہے ، اگر انسان کے جسم سے روح خارج ہوجائے تو موت واقع ہوجاتی ہے ، جس طرح انسان کو روح کے ذریعے ظاہری حیات نصیب ہوتی ہے ، اسی طرح کلام پاک اور وحی الہی کے ذریعے انسانوں کے دل زندہ ہوتے ہیں ، ان کے دلوں میں ایمان ، توحید اور نیکی پیدا ہوتی ہے گویا وحی الہی انسان کی روحانی حیات کا ذریعہ ہے ، اس کی وساطت سے انسان کا اعتقاد درست ہوتا ہے ، اور ابدی حیات نصیب ہوتی ہے دل میں پاکیزہ اخلاق وجذبات ابھرتے ہیں ، انسان کا قلب اللہ کی تجلیات کا مورد بنتا ہے ، اور انسان کی اصلاح ہوتی ہے ۔
(رسالت کا انتخاب)
فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنی وحی دے کر نازل فرماتا ہے حضرت جبریل امین اس اعلی منصب پر فائز ہیں جن کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت ہوتی ہے اور یہ وحی کس پر نازل ہوتی ہے ؟ (آیت) ” علی من یشآء من عبادہ “۔ اپنے بندوں میں سے جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے مطلب یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا انتخاب کسی شخص کی کوشش ، محنت عبادت و ریاضت کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ یہ انتخاب خود اللہ جل جلالہ کا اپنا ہوتا ہے ، سورة انعام میں گزر چکا ہے (آیت) ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کی صلاحیتوں کو جانتا ہے اور پھر وہ حکمت اور مصلحت کے مطابق ان میں سے نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے ، سورة حج میں موجود ہے (آیت) ” اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس “۔ فرشتوں اور انسانوں میں سے اللہ ہی اپنے رسول منتخب فرماتا ہے ، گویا پیغام رسانی کے لیے فرشتوں کا انتخاب اور نبوت و رسالت کے لیے انسانوں کا انتخاب دونوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی ان کا فیصلہ کرتا ہے ، پیغام رسانی کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ پر ختم کردیا ہے ، اللہ تعالیٰ کا آخری اور ابدی پروگرام قرآن پاک کی صورت میں آچکا ہے ، اب اگر اس کائنات کی مجموعی عمر دس لاکھ سال بھی ہو تو بھی کسی دوسرے پروگرام کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نیا نبی آئے گا ، اب تاقیام قیامت یہی دین باقی رہے گا ۔
(دعوت توحید)
فرمایا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے (آیت) ” ان انذروا “۔ کہ لوگوں کو خبر کر دو ، ڈرا دو (آیت) ” انہ لا الہ الا انا “۔ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، نہ کوئی میری عبادت میں شریک ہے اور نہ توحید میں ، میں ہی خالق اور مالک ہوں ، میں ہی قادر مطلق ، مختار مطلق اور علیم کل ہوں ، تمام بنی نوع انسان کی ضروریات کو جاننے والا میں ہوں ، نفع نقصان کا مالک میں ہوں ، میرے سوا نہ کوئی مشکل کشا ہے اور نہ حاجت روا اور نہ بگڑی بنانے والا ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان بھی میرے سوا کوئی نہیں لہذا (آیت) ” فاتقون “۔ مجھ ہی سے ڈرتے رہو ، اگر تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو میری گرفت سے بچ نہیں سکتے ۔
(تخلیق انسانی بطور دلیل)
فرمایا (آیت) ” خلق السموت والارض بالحق “۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ، کائنات کا پورا نظام کوئی کھیل تماشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں اللہ نے انہیں مخلوق کی مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے ، اور پھر اس ساری تخلیق کا نتیجہ بھی سامنے آنے والا ہے لہذا اس ذات سے ڈر جاؤ ، اور وہ ذات ایسی ہے (آیت) ” تعلی عما یشرکون “۔ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں ، بار بار یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ وہی ذات اعلی وارفع ہے ، اس کے مقابل کی کوئی چیز نہیں ، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک اور شفیع نہ بناؤ ، کسی کو مشکل کے وقت میں مت پکارو ، حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف اسی سے چاہو ، وہی ذات بلندو برتر ہے ، باقی ہر چیز ہیچ ہے ۔
آسمان و زمین کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی وحدانیت کی بیرونی نشانیاں پیش کردیں ، اب انسان کو خود اس لیے وجود کی اندرونی نشانیوں کی طرف پیش کردیں ، اب انسان کو خودو اس کے وجود کی اندرونی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” خلق الانسان من نطفۃ “۔ اللہ نے انسان کی نسل میں (آیت) ” مآء مھین “۔ یعنی حقیر پانی سے چلائی ایسا حقیر پانی کہ اگر کپڑے یا جسم کو لگ جائے تو دھونا یانہانا لازم ہوجاتا ہے ، یہ ایسی نجاست ہے جسے انسانی مزاج برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں مگر یہی حقیر مادہ انسانی تخلیق کا ذریعہ ہے ۔
فرمایا کہ جب انسان اس حقیر مادہ سے پیدا ہوگیا ، (آیت) ” فاذا ھو خصیم مبین “۔ تو اچانک کھلے طور پر جھگڑنے والا بن گیا ، اب یہ توحید الہی کا انکار کرتا ہے اور شیطان کی پیروی میں شرکیہ امور کی ترجمانی کرتا پھرتا ہے غیر اللہ کی نذر ونیاز کے حق میں باطل دلائل پیش کر کے جھگڑا کرتا ہے کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اپنی تخلیق سے اللہ کی وحدانیت کو سمجھنے کی بجائے شرک کے حق میں دلائل دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بغاوت پر اتر آتا ہے ۔
یہ انذار کا مسئلہ بھی ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی بیرونی اور اندرونی دو دلیلیں بیان کی ہیں ، آسمان و زمین کی پیدائش میں غور کرکے بھی انسان معرفت الہی حاصل کرسکتا ہے اور خود اپنی تخلیق پر غور کرے تو پھر بھی اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں رہتا ، یہ تو عقلی دلائل ہیں ، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کر اور کتب سماویہ نازل کرکے انسان کے لیے اپنی وحدانیت کے نقلی دلائل بھی مہیا کردیے ہیں ، اللہ نے دنیا کے ہر خطے میں اپنے نبی بھیجے ہیں اور ہر ایک نبی نے یہی تعلیم دی (آیت) ” لا الہ الا انا فاعبدون “۔ (الانبیائ) خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی لیے وہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، میری توحید میں کسی کو شریک نہ بناؤ انسان کی اپنی عقل سلیم تسلیم کرتی ہے کہ یہ بات سچی ہے لہذا اسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں ۔
Ayahs 16:5–9(ربط آیات)
سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر بطور دلائل قدرت کے کیا ، خدا تعالیٰ کی ذات کو ہر قسم کے شریکوں سے بلندو برتر قرار دیا ، اس کے بعد اللہ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اسے حقیر قطرہ آب سے پیدا کرکے کتنا کمال عطا کیا ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ انسان اپنی اصلیت کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کی قدرت کی طرف عدم توجہی کی بنا پر اس کی توحید میں جھگڑا کرنے لگتا ہے اور شرکیہ عقائد اور باطل رسوم کے حق میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
(مویشیوں کے فوائد)
اب اللہ نے مویشیوں کا ذکر کرکے اپنی قدرت کے بعض دلائل پیش کیے ہیں ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” والانعام خلقھا “۔ اور مویشیوں کو پیدا کیا ، ان مویشیوں سے کون سے مویشی مراد ہیں ، اس کا ذکر سورة الانعام اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے ، سورة الانعام میں ہے (آیت) ” ثمنیۃ ازواج “ یہ آٹھ جوڑے ہیں جو عام طور پر انسانوں کے قریب رہتے اور ان سے مانوس ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور یہ ان کا دودھ ، گوشت کھال اور ہڈیاں استعمال میں لاتے ہیں اور یہ جانور اونٹ (نر اور مادہ) گائے بیل (نر اور مادہ) بھیڑ (نر اور مادہ) اور بکری (نر اور مادہ) ہیں ، یہ مویشی طاقت میں انسان سے کہیں بڑھ کر ہیں مگر اللہ نے ان کے اذہان میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں ایک تین سال کا بچہ بھی اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دے تو سو اونٹ اس کے پیچھے چل پڑے گا ، بعض اوقات یہی جانور خلاف معمول جب بگڑ جاتے ہیں تو تباہی مچا دیتے ہیں ، اونٹ کے متعلق تو خاص طور پر مشہور ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑتا بہرحال اللہ نے ان آٹھ قسم کے مویشیوں کا ذکر کیا ہے اور انسان کو یاد دلایا ہے کہ ان جانوروں کو اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بھی اس کی وحدانیت کی ایک دلیل ہے ۔
ان جانوروں کے علاوہ بعض دوسرے جانور بھی ہیں جو انسان سے مانوس نہیں ہیں ان میں جنگلی جانور ، نیل گائے ، ہرن جنگلی گدھے وغیرہ بھی ہیں جو اگرچہ مفید ہیں مگر انہیں آسانی سے قابو نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ نے ایسے جانوروں کی قربانی جائز قرار نہیں دی ، بلکہ قربانی کے لیے وہی آٹھ جوڑے مقرر کیے ہیں جو ہمیشہ انسانوں کے قریب رہتے ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں ۔
(اون اور گوشت)
فرمایا اللہ نے مویشیوں کو پیدا کیا (آیت) ” لکم فیھا دفئ “۔ ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے ، اونٹ اور بھیڑ بکری کی اون سے گرم لباس تیار ہوتے ہیں جو موسم سرما میں انسان کے لیے کارآمد ہوتے ہیں ، انسانی لباس میں دھسہ ، کوٹ ، کمبل ، سویٹر وغیرہ اون سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ اور جانوروں سے حاصل ہوتی ہے ، اسی طرح ان جانوروں کی کھال سے پوستین ، موزے اور صدری وغیرہ بنتے ہیں ، وہ انسانوں کے لیے گرمی پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ ان جانوروں میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے (آیت) ” ومنافع “ اور بہت سے فائدے ہیں ، اس کے بعد ان جانوروں کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے (آیت) ” ومنھا تاکلون “۔ ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو ، مذکورہ آٹھ قسم کے جانوروں کا گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے ، اس لیے شریعت میں اپنی جانوروں کا گوشت حلال ہے جن میں کسی قسم کا جسمانی یا روحانی ضرر نہ ہو ، مردار خنزیر ، نذر بغیر اللہ ، بلی کتے وغیرہ اور پنچہ مار کر شکار کرنیوالے پرندوں کو اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ ان میں جسمانی یا روحانی ضرر پایا جاتا ہے اور یہ انسان کے لیے غیر مفید ہیں ،
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے پاکیزہ اخلاق یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت پر غذا کا اثر ہوتا ہے ۔ چناچہ جس قسم کے جانور کا گوشت کھایا جائے گا ، انسانی اخلاق پر اسی قسم کے اثرات مرتب ہوں گے ، جن آٹھ جانوروں کا گوشت اللہ نے حلال قرار دیا ہے ، وہ انسان کے پالتو جانور ہیں ، اس لیے ان کا گوشت بھی انسانی مزاج کے مطابق ہے ان کی پیدائش کا بھی اللہ نے وسیع انتظام فرمایا اور ہر روز لاکھوں جانور ذبح ہو کر استعمال ہوتے ہیں ان کے علاوہ اگر کوئی شخص بھیڑیے کا گوشت کھائے گا تو اسی قسم کی پھاڑ والی خصلت پیدا ہوگی ، خنزیر ، کتا ، بلی وغیرہ ، کے گوشت سے اسی قسم کے اخلاق پیدا ہوں گے ، بہرحال فرمایا کہ مویشیوں میں انسان کے لیے یہ دو بڑے فائدے ہیں کہ ان کے ذریعے گرمی کا سامان مہیا ہوتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔
(دودھ کی نعمت)
ان دوبڑے فوائد کے درمیان اللہ نے ایک اور چیز کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ومنافع “۔ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں ، مثلا سب سے اہم چیز ان جانوروں کا دودھ ہے جو بچپن سے لے کر آخر عمر تک انسانی غذا کا حصہ ہے پھر دودھ سے حاصل ہونے والا دھی اور گھی بھی بہت بڑی مقدار میں انسانی استعمال میں آتا ہے ، خاص طور پر بچوں اور بیماروں کے لیے یہ چیزیں انتہائی مفید ہیں ، جنہیں اللہ نے ان جانوروں کے ذریعے بہم پہنچایا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک ایسی چیز جو بیک وقت کھانے اور مشروب کا کام دے وہ دودھ کے علاوہ کوئی نہیں ، اسی لیے حضور ﷺ نے امت کو سکھلایا ہے کہ جب بھی کوئی نعمت استعمال کرو تو اس کا شکریہ ادا کرو اور دعا کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما ، مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو تو ” اللھم زدنا منہ “ کی دعا کرو یعنی اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں اضافہ فرما ، گویا دودھ سے بہتر چیز کی دعا نہیں کی گئی ، دودھ کے علاوہ ان جانوروں کی چربی اور ہڈیاں بھی انسانی فائدی کی مختلف چیزوں میں استعمال ہوتی ہیں ، تو فرمایا ان جانوروں میں تمہارے لیے دیگر فوائد بھی ہیں ۔
(خوبصورتی کا ذریعہ)
فرمایا (آیت) ” ولکم فیہا جمال “۔ ان میں تمہارے لیے خوبصورتی ہے (آیت) ” حین تریحون “۔ جب کہ وہ جنگلوں سے چر کر پچھلے پہر گھر واپس آتے ہیں (آیت) ” وحین تسرحون “۔ اور جس وقت صبح کے وقت چرنے کے لیے باہر جاتے ہیں مطلب یہ کہ مویشیوں کی آمد ورفت بھی تمہارے لیے خوشنمائی کا باعث ہے یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے پہلے جانوروں کے چرنے کے لیے جانے اور پھر واپس آنے کا ذکر ہونا چاہئے مگر اس آیت کریمہ میں پہلے واپس آنے اور بعد میں گھر سے جانے کا ذکر کیا ہے ، ایسا کیوں ؟ اس ضمن میں امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ خوبصورت حالت کا پہلے ذکر کیا ہے اور نسبتا کم خوشنمائی کا بعد میں جس وقت جانور گھر سے چرنے کے لیے جنگل کی طرف نکلتے ہیں تو بسا اوقات گوبر سے لتھڑے ہوئے اور کسی قدر بھوکے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ خوبصورت نظر نہیں آتے ۔ البتہ جب جنگل سے چرچگ کر شام کو واپس آتے ہیں تو دن بھر پھرنے سے ان کی غلاظت وغیرہ بھی دور ہوچکی ہوتی ہے اور پیٹ بھی بھرے ہوتے ہیں ، اس لیے زیادہ خوشنما نظر آتے ہیں تو یہاں پر اللہ نے زیادہ خوشنمائی کی حالت کو پہلے ذکر کیا ہے ۔
(جانوروں کے حقوق)
اپنے جانوروں کو اچھی حالت میں دیکھ کر انسان کا جی خوش ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے بشرطیکہ اس میں تکبر کا پہلو نہ ہو ، خوبصورت جانور دیکھ کر انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر وہ ان پر غرور کرنے لگے گا تو یہ اس کے حق میں حرام ہوگا اور اسے اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر محمول کیا جائے گا ، پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر ان جانوروں کے بھی بعض حقوق رکھے ہیں ، فرضی حق میں زکوۃ ہے جو سال بھر میں ایک دفعہ ادا کی جاتی ہے بشرطیکہ جانور نصاب کو پہنچ جائیں اس کے علاوہ انسان پر ایک اخلاقی حق بھی عائد ہوتا ہے کہ اگر جانور دودھ دینے والا ہے تو اس میں سے غریبوں اور محتاجوں کو بھی حصہ دیا جائے ، ک کوئی بیمار ہے بچہ ہے جسے دودھ کی ضرورت ہے تو اسے مایوس نہ کیا جائے اس طرح اگر کسی کے پاس گھوڑا ہے تو اس کا حق بھی ادا کرے ، کسی ضرورت مند پڑوسی یا عزیز کو سواری کے لیے ضرورت ہے ، تو انکار نہ کرے ، یہ حق محض گھوڑے کی سواری تک محدود نہیں سواری کی کوئی قسم کار ، موٹر سائیکل یا سائیکل کی سواری موجود ہے تو حاجتمند کو بوقت ضرورت پیش کرنا ، اس سواری کا حق ادا کرنا ہے ، بہرحال فرمایا کہ اپنے جانوروں کا حق ادا کرو جس دن انہیں گھاٹ پر لے جاتے ہو ۔
ّ (باربرداری کا کام)
اللہ تعالیٰ نے جانوروں کا ایک یہ فائدہ بھی بیان فرمایا ہے (آیت) ” و تحمل اثقالکم الی بلدلم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس “۔ یہ جانور ایسے شہروں تک تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں ، جہاں تم اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے ، باربرداری کا کام خالی سفر سے بھی زیادہ مشکل ہے ، اللہ کے پیدا کردہ جانور نہ صرف انسانوں کے لیے سواری کا کام دیتے ہیں بلکہ ان کی باربرداری بھی کرتے ہیں ، اگر باربرداری کے ذرائع نہ ہوں تو انسان سخت مشکل میں پڑجائیں ، اونٹ اور بیل وغیرہ باربرداری کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں اور انسان کی بڑی خدمت انجام دیتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ان ربکم لرء وف رحیم “۔ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور بڑا مہربان ہے جس نے تمہیں جانوروں کی خدمات مہیا کر کے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں اب تمہارا بھی فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ صرف اسی کی عبادت کرو ، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ۔
(ناخوردنی جانور)
فرمایا (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر “۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو بھی پیدا کیا ہے (آیت) ” لترکبوھا “۔ تاکہ ان پر سواری کرو ، (آیت) ” وزینۃ “ اور یہ تمہارے لیے زینت کا سامان بھی ہیں ، یہ جانوروں کا ایسا گروہ اللہ نے ذکر کیا ہے ، جن کا گوشت تو نہیں کھایا جاتا ، البتہ یہ انسان کی دیگر خدمات ضرور انجام دیتے ہیں ، خالص النسل گھوڑے کی حلت کے متعلق البتہ دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں اور اس میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ، اسی اختلاف کی بنا پر امام ابوحنیفہ (رح) گھوڑے کے گوشت کو حرام بھی نہیں کہتے اور اسے بہتر بھی نہیں سمجھتے ، گھوڑے کے متعلق حلت و حرمت دونوں قسم کی روایات کی موجودگی میں اس پر مکروہ کا حکم لگایا جاتا ہے ، البتہ گھوڑے کی اعلی خدمات کا اعتراف حضور کے ارشاد مبارک سے ملتا ہے ، کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں اللہ نے بہتری لکھی ہوئی ہے ، یہ جانور قیامت تک کار آمد رہیں گے ، چناچہ گھوڑا سفر میں سواری کا کام دیتا ہے اور جنگ کے دوران بھی بڑ مفید ثابت ہوتا ہے خچر بھی بڑا مفید جانور ہے ، یہ گدھے اور گھوڑی کا مرکب ہوتا ہے مگر اس کی نسل آگے نہیں چلتی ، یہ بڑا طاقتور جانور ہے اور بار برداری میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، باربرداری اور سواری کے لیے گدھا بھی بڑا کار آمد جانور ہے ، تاہم اس کی حماقت بڑی مشہور ہے ، اس کا گوشت بھی حرام ہے کہ اس سے حماقت پیدا ہونے کا خطرہ ہے ، البتہ سواری کے طور پر خود حضور ﷺ نے اسے استعمال کیا ہے ، بہرحال یہ سارے جانور انسان کے خادم اور خدا کی قدرت کے نمونے ہیں ۔
(مستقبل کی سواریاں)
اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ایک بڑا بامعنی جملہ یہ فرمایا ہے (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “۔ اور اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے یا پیدا کرے گا ، وہ چیزیں بھی جو تم نہیں جانتے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جملے سے وہ تمام سواریاں مراد ہیں جو نزول قرآن کے زمانے میں اس کے اولین مخاطبین کی نظروں سے اوجھل تھیں ، یا آئندہ قیامت تک معرض وجود میں آتی رہیں گی ، اس وقت جانوروں سے کھینچی جانے والی ، بجلی پٹرول اور بھاپ سے چلنے والی اتنی سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں جن کا اس زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا چھکڑا ، ٹرک ، موٹر کار بس ، ریل گاڑی ، سائیکل موٹر سائیکل ، ہوائی جہاز اور بحری جہاز کی بیشمار قسمیں انسانوں اور ان کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی نظر آتی ہیں ، تیز ترین سواریوں نے دنیابھر کو سیکڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اب تو کرہ ارضی سے نکل کر انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ تمام چیزیں پیدا فرما کر بنی نوع انسان پر بڑا احسان کیا ہے ورنہ انسانی زندگی میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہوتی ، اگرچہ ان تمام مشینی ذرائع کو ایجاد کرنے کا سہرا بظاہر خود انسان کے سر ہے مگر اس کے علاوہ خام مال کی بہم رسانی اور انسانی اعضاء قوی کی عطائیگی اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے ، فضا میں پرواز کا شوق ایک اندلسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا جس نے اپنے بازؤں پر گدھ کے پر باندھ کر اڑنے کی کوشش کی مگر گر کر زخمی ہوگیا ، اس کا جذبہ زندہ رہا ، لوگ تجربات کرتے رہے حتی کہ آٹھ سو سال کے تجربات کے بعد اس صدی کے آغاز یعنی 4 ، 19 ء میں ہوائی جہاز کی پہلی پرواز کامیابی سے ہمکنار ہوئی ، بہرحال اس دور میں بجلی ، ڈیزل اور پٹرول سے چلنے والی بیشمار گاڑیاں منظر عام پر آچکی ہیں اور ایجادات کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بھی پیدا کریگا جنہیں تم نہیں جانتے ۔
یہ تو مادی زندگی کی سواریوں کا تذکرہ تھا حضور ﷺ نے اگلے جہان کی سواری کا تصور بھی دیا ہے ، ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! جنت میں ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے کیا انتظام ہوگا ، آپ نے فرمایا ، وہاں تمہیں سرخ یاقوت کا گھوڑا ملے گا ، جس کی رفتار اتنی تیز ہوگی کہ اس دنیا کی جدید ترین گاڑی اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی ، اور پھر یہ ہے کہ وہاں پر کسی حادثے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، جنتی آدمی کروڑوں میلوں کا سفر آسانی سے بلاخوف وخطر کرسکے گا ، فرمایا وہاں تمہیں ایسی سواری میسر ہوگی ۔
(مستقیم اور منحنی راستے)
آگے اللہ نے انسانی کی روحانی زندگی کو خوشگوار بنانے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے روحانی راستوں کا ذکر بھی کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “۔ اور اللہ تک ہی پہنچتا ہے سیدھا راستہ ، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پرچلو گے تو یہ زندگی بھی خوشگوار گزرے گی اور آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہوجائے گی ، مگر یاد رکھو ، (آیت) ” ومنھا جآئر “۔ ان میں بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں ، اگر ان پر چل نکلے ، کفر ، شرک ، بدعت ، معصیت اور گمراہی کے راستے اختیار کرلیے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے مقام تک نہیں پہنچ سکو گے ، اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے راستے واضح کردیے ہیں ، اب یہ انسان کی اپنی صوابدید ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف) کہ وہ ایمان کا راستہ قبول کرتا ہے یا کفر کا ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سمجھ ، کتب سماویہ ، بنی اور مبلغ جیسے سارے وسائل مہیا کردیے ہیں اب مستقیم یا منحنی راستہ اختیار کرنا اس کا اپنا کام ہے ، (آیت) ” ولو شآء لھدکم اجمعین “۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو زبردستی ہدایت کے راستے پر ڈال دیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے ، وہ انسانوں کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ سیدھا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ٹیڑھا اور پھر اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ آخرت کی کامیابی صراط مستقیم کو اختیار کرنے پر منحصر ہے اور جو شخص دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، اس کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے ۔
Ayahs 16:10–14) ربط آیات (
سورة کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کا ذکر کرکے اپنے انبیاء کو حکم دیا (آیت) ” ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ یعنی لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو پھر اللہ تعالیٰ نے نشانات قدرت کا ذکر کیا جن میں ہر نشانی اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، ارض وسما کی تخلیق ، حقیر قطرہ آب سے انسان کی پیدائش ، مویشیوں سے حاصل ہونے والے فوائد اور ان سے زینت کا سامان پیدا کرنے کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی رافت اور شفقت کی طرف اشارہ کیا ، پھر یہ پیش گوئی کردی کہ سواری کے لیے ان جانوروں کے علاوہ اللہ تعالیٰ اور بھی بہت سی چیزیں پیدا کرتا رہے گا ، جسے تم اس وقت نہیں جانتے ان مادی لوازامات کے ساتھ ساتھ اللہ نے انسان کی روحانی اور اخروی زندگی کا سامان بھی پیدا فرمایا ، اس نے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی کہ جس پر چل کر انسان اللہ کی رحمت کے مقام تک پہنچ سکیں گے ، فرمایا اگر انسان غور وفکر کرے تو یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں ۔
(پانی کی ضرورت)
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی مادی ضروریات سے متعلق بعض انعامات کا ذکر کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی انزل من السمآء مآء لکم “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے تمہارے لیے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا یہ پانی بھی اللہ کی عظیم نعمت اور اس کی قدرت کی نشانی ہے ، سماء کا لفظ بادل پر بھی بولا جاتا ہے ، چناچہ گذشتہ سورة الحجر میں گزر چکا ہے کہ ہم نے بوجھل ہوائیں بھیجیں (آیت) ” فانزلنا من السمآء مآء “۔ اور بادلوں سے پانی برسایا ، ہوائیں بوجھل بادلوں کو اٹھا کرلے جاتی ہیں ، اور پھر جہاں مشیت ایزدی ہوتی ہے وہاں بارش برستی ہے ، بہرحال السمآء سے محض بادل بھی مراد نہیں بلکہ اس لفظ میں عالم بالا کا حکم بھی شامل ہے ، بادل زمین اور آسمان کے درمیان فضا میں چلتے ہیں ، اور حکم الہی کے مطابق بارش برساتے ہیں ۔
فرمایا اس نے تمہارے لیے آسمان سے پانی نازل فرمایا (آیت) ” منہ شراب “۔ جو تمہارے لیے بطور مشروب ہے انسانی زندگی کا انحصار بہت حد تک پانی پر ہے ، میڈیکل سائنس والے کہتے ہیں کہ انسانی جسم میں چلنے والے خون میں اسی فیصدی پانی اور بیس فیصدی غذائیت ہوتی ہے ۔ انسان جو بھی خوراک کھاتا ہے وہ جگر میں پہنچ کر خود میں تبدیل ہوجاتی ہے ، انسانی جسم میں جگر اتنی بڑی فیکٹری ہے کہ اس مادی دنیا میں اتنا بڑا کوئی کارخانہ نہیں ہے ، اس قدرتی فیکٹری میں اللہ کے لاکھوں کروڑوں فرشتے مصروف کار ہیں جو غذائوں کو خون میں تبدیل کرتے ہیں ، پھر اس خون کو قلب میں بھیج کر سارے جسم میں پھیلا دیتے ہیں ، اور اس طرح استعمال شدہ غذا جسم کے ہر حصہ میں پہنچتی ہے ، جسم کا ہر عضو اس میں سے اپنی ضرورت کی غذا حاصل کرلیتا ہے اور غلیظ مادہ دوسرے راستے سے پھیپھڑے میں آجاتا ہے وہاں پر اسے تازہ ہوا (آکسیجن) میسر آتی ہے تو مادے کا بعض حصہ صاف ہوجاتا ہے اور گندہ دخان باہر نکل جاتا ہے ، بہرحال پانی اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ، ہمارے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) اپنا تجربہ بیان کرتے ہیں کہ حجاز میں سفر کے دوران بعض ایسے مواقع بھی آئے کہ ایک لوٹا پانی سے سات سات آدمیوں نے وضو کیا ، پانی کی قدر ان خطوں میں ہے ، جہاں اس کی قلت ہے ہمارے ہاں تو پانی کی فراوانی ہے اور قدر نہیں ہے ، وضوء اور غسل پر گھڑوں پانی استعمال کیا جاتا ہے ، نلوں اور ٹیوب ویلوں نے پانی کی اتنی افراط کردی ہے کہ ہر روز کثیر مقدار میں پانی ضائع ہوتا ہے لوگ پانی استعمال کرنے کے بعد ٹونٹی کو بند کرنے کی تکلیف نہیں کرتے ، جس کی وجہ سے منوں اور ٹنوں وزنی پانی ضائع ہوتا ہے حالانکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ پانی کو ضائع ہونے سے بچاؤ ” ان کنت علی شط النھر “۔ یعنی اگرچہ تم نہر کے کنارے پر ہی کیوں نہ ہو ، وہاں بھی پانی کا اسراف درست نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنا چاہئے ، اسی لیے اعضائے وضو کو تین دفعہ سے زیادہ بلاضرورت دھونا اسراف میں داخل ہے جو شخص ایسا کرتا ہے ” فعصی وتعدی “ اس نے برائی اور تعدی کی انسان کی سعادت مندی اسی میں ہے کہ حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہی ہر کام انجام دے ، اگر کوئی حصہ عضو خشک رہ گیا ہو یا وضو کی تکمیل کا تیقن نہ ہو تو تین سے زیادہ بار بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ، بہرحال پانی جیسی نعمت کو ضائع نہیں کرنا چاہئے اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ تمہارے پینے کی چیز ہے ۔
(نباتات کے لیے پانی)
اللہ تعالیٰ نے پانی کا پہلا فائدہ تو یہ بتایا ہے کہ یہ انسانوں کے لیے اور دیگر جانداروں کے لیے مشروب ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ (آیت) ” ومنہ شجر فیہ تسیمون “۔ اسی پانی سے درخت ، پودے ، گھاس پھونس اور جڑی بوٹیاں بھی اگتی ہیں جن میں تم جانور چراتے ہو جانور بھی انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہیں ، جانوروں کا گوشت انسانی جسم کو لحمیات (پروٹین) مہیا کرتا ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت جلد جزو بدن بن جاتا ہے ، تو جانوروں کا مدار حیات بھی اللہ نے پانی پر رکھا ہے پانی جانوروں کے لیے بطور مشروب بھی ضروری ہے اور ان کی خوراک کا دارومدار بھی پانی پر ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ینبت لکم بہ الزرع “۔ اللہ تعالیٰ اسی پانی کے ذریعے تمہارے لیے کھیتی اگاتا ہے ، پہلے پانی کا ذکر بطور انسانی مشروب کے کیا گیا تھا ، اب اسے انسانی خوراک کا ذریعہ بھی بتلایا گیا ہے کہ پانی کے ذریعے ہی کھیتی باڑی ہوتی ہے ، اناج اور غلہ پیدا ہوتا ہے ، پھل پیدا ہوتے ہیں جو انسان کی خوراک بنتے ہیں (آیت) ” والزیتون “ اور زیتون بھی پانی کے ذریعے ہی پیدا ہوتا ہے اس درخت کا پھل بھی کارآمد ہے اور اس کا تیل تو کثرت سے استعمال ہوتا ہے ، حضور ﷺ نے بھی زیتون کی تعریف فرمائی (1) (تفسیر مظہری ص 524 ج 6) ہے ” کلوا الزیت وادھنوا “۔ زیتون کو کھاؤ بھی اور اس کی مالش بھی کرو ، انسانی بدن کی جلدی بیماریوں کے لیے زیتون کا تیل بڑا مفید ہے ، اسکے علاوہ یہ کھانا پکانے میں گھی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے ، اللہ نے اسے بڑا بابرکت درخت بنایا ہے جس کے لیے اللہ کے نبیوں نے برکت کی دعائیں کی ہیں ۔
(آیت) ” والنخیل “ کھجور کا درخت بھی پانی کا مرہون منت ہے یہ درخت بڑی لمبی عمر پاتا ہے اور پھل بھی بہت زیادہ دیتا ہے ، اس کا پھل جلدی خراب نہیں ہوتا ، اس لیے اگلا پھل آنے تک سارا سال استعمال ہوتا رہتا ہے ، ریگستانی علاقوں میں کھجور کی بڑی افادیت ہے جہاں یہ پھل خوراک کے طور پر بھی کھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں بڑی غذائیت ہے اور بطور تفریح تو یہ پھل بہرحال استعمال ہوتا ہے ، اس کے علاوہ (آیت) ” والاعناب “ انگور کی پیداوار بھی پانی ہی پر منحصر ہے یہ بھی بڑا عمدہ پھل ہے ، اس سے مشروب ، مربہ اور کئی قسم کی چیزیں تیار کر کے دیر تک محفوظ رکھی جاسکتی ہیں ، الغرض ، فرمایا (آیت) ” ومن کل الثمرات “۔ اللہ نے اس پانی کے ذریعے ہر قسم کے پھل پیدا کیے ہیں جو انسان کھاتے ہیں ان میں بڑی غذائیت اور توانائی ہوتی ہے بلکہ بعض پھل دیگر خوراک کو بھی ہضم کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ، تو اللہ نے یہ تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا فرمائی ہیں اور ان سب کا دارومدار پانی پر ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون “۔ اس میں غوروفکر کرنے والے لوگوں کے لیے نشانی ہے ، دیکھو ! ایک ہی پانی سے اللہ تعالیٰ بیشمار اقسام کا اناج پھل اور دوسری نباتات پیدا کرتا ہے ، یہی اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ، اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، دوسرے مقام پر آتا ہے کہ ایک ہی پانی سے پیدا ہونے والے پھلوں کے رنگ ، شکلیں خوشبو اور ذائقے کس قدر مختلف ہیں ، کیا یہ کسی مادے کی طاقت ہے یا نیچر کے مطابق خود بخود ہورہا ہے ؟ نہیں ، بلکہ یہ سارا کارخانہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سے چل رہا ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن میں غور وفکر کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں آتی ہے مگر اکثر لوگ ان چیزوں کی طرف دھیان ہی نہیں کرتے ، نعمتوں کا استعمال کرتے ہیں ، روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں مگر کبھی سوچا تک نہیں کہ آخر یہ سب کچھ کون کر رہا ہے ۔
(شمس وقمر کی ضیاپاشیاں)
آگے بعض دوسرے انعامات کا ذکر ہے (آیت) ” وسخرلکم اللیل والنھار “۔ اللہ نے تمہارے لیے رات اور دن کو مسخر کردیا ہے یعنی تمہارے کام پر لگا دیا ہے (آیت) ” والشمس والقمر “۔ اور سورج اور چاند کو بھی یہ چار چیزیں ایسی ہیں جن سے ہر انسان کو ہر وقت واسطہ رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے رات کو انسانوں اور جانوروں کے لیے آرام کا ذریعہ بنایا ہے جب کہ دن کے وقت لوگ کام کرتے ہیں اور روزی کماتے ہیں جانور ، پرندے اور چرندے بھی دن بھر اپنی روزی کے لیے تگ ودو کرتے ہیں اور رات کو آرام کرتے ہیں ، پورے نظام شمسی (SOLAR SYSTEM سولر سسٹم) میں سورج کو مرکزی حیثیت حاصل ہے دن رات کا تغیر وتبدل اسی کے ساتھ وابستہ ہے سورج تمام انسانوں اور جانوروں کے لیے روشنی بہم پہنچاتا ہے ان کے لیے گرمی مہیا کرتا ہے جس سے فصلیں اور پھل پکتے ہیں اور جانداروں کی خوراک بنتے ہیں ، اسی طرح چاند کی دہیمی روشنی رات کے اندھیروں میں بہت حد تک کام آتی ہے یہی مدھم روشنی پھلوں میں رس پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اور سمندروں میں مدوجزر پیدا ہوتے ہیں ۔
فرمایا (آیت) ” والنجوم مسخرت بامرہ “۔ ستارے بھی اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے مسخر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ستاروں اور سیاروں کا وسیع نظام پیدا کرکے ان سب کو اپنے اپنے کام پر لگا دیا ہے سائنسدانوں نے تجربات کے ذریعے بعض ستاروں اور سیاروں کی حرکات و سکنات کا پتہ چلایا ہے اور مزیدتجربات ہو رہے تاہم عام مشاہدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ ستارے ایک چال سے ایک خاص منزل کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ، پرانے زمانے میں لوگ سمندری اور صحرائی سفر کے دوران انہی ستاروں سے منزل کی طرف راہنمائی حاصل کرتے تھے ۔
فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون “۔ بیشک اسمیں نشانات ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل وفہم سے کام لیتے ہیں جو لوگ اپنی عقل سے کام نہیں لیتے ، ان کے لیے تمام مذکورہ نشانات کچھ مفید نہیں ہو سکتے ، لوگ ان پر سے صبح وشام گزر جاتے ہیں ، مگر ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتے ، سورة انفال میں موجود ہے کہ کافر لوگ ” الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ ایسے ہیں جو گونگے اور بہرے ہیں اور کچھ عقل نہیں رکھتے ، اگر عقل کو صحیح طریقے پر استعمال کرتے تو کفر اور شرک میں کیوں مبتلا ہوئے ، ان کی بےعقلی کا یہی ثبوت کافی ہے ، کہ اللہ کی قدرت کی کوئی نشانی انہیں نظر نہیں آتی ۔
مزید ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما ذرالکم فی الارض مختلفا الوانہ “۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے زمین میں جو چیزیں پھیلائی ہیں ، ان کے رنگ بھی مختلف ہیں ، انسانوں کو دیکھ لیں مختلف خطوں کے لوگوں کے رنگ ، وضع قطع اور قد کاٹھ مختلف ہیں ، پھل ہر قسم کے پائے جاتے ہیں ، مگر ان کی شکلیں ، رنگ ، ذائقہ اور بو مختلف ہے ، اللہ نے پھولوں کی بیشمار قسمیں پیدا کی ہیں ہر ایک کا رنگ اور بو جدا جدا ہے ، اناج اور سبزیاں کثیر تعداد میں پائی جاتی ہیں ، اور ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، یہ ساری چیزیں شاہکار قدرت ہیں (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون “۔ ان سب چیزوں میں بھی نشانیاں ہیں ، مگر ان لوگوں کے جو نصیحت پکڑتے ہیں ، غافل انسان ان چیزوں سے کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے ، جب کہ صاحب عقل و دانش انہی نشانات قدرت سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں ۔
(مچھلی بطور تازہ گوشت)
فرمایا (آیت) ” وھو الذی سخر البحر “۔ اور وہ وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے سمندروں اور دریاؤں کو مسخر کیا (آیت) ” لتاکلوا منہ لحما طریا “۔ تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ ، دریاؤں اور سمندروں کے کنارے بعض خطوں کی معیشت کا انحصار مچھلی کے شکار پر ہے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کی خاطر پانی میں تازہ گوشت پیدا کردیا ہے جو انسانی خوراک کا ایک اہم حصہ ہے ، اس طرح گویا اللہ نے سمندروں کو بھی انسان کی خدمت پر مامور کردیا ہے کہ وہ اس کی خوراک کے لیے مچھلی پیدا کریں ، مچھلی کا گوشت بھی اللہ نے عجیب نعمت پیدا کی ہے جس کا ذائقہ دوسرے گوشت سے مختلف ہے مگر اس میں بھی انسانی حیات کے لیے بہت سے پروٹین پائے جاتے ہیں ، اس کا تیل بڑی مفید چیز ہے جو اکثر دوائیوں میں استعمال ہوتا ہے اس کی چربی اور کانٹے بھی بڑی مفید چیزیں ہیں ، بہرحال مچھلی انسان کی حرارت اور توانائی کے لیے ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جسے اللہ نے اپنی قدرت کی نشانی کے طور پر ذکر کیا ہے ۔
(فقہی مسائل متعلقہ مچھلی)
چونکہ مچھلی کا گوشت عام جانوروں کے گوشت سے قدرے مختلف ہے ، اس لیے اس سے متعلقہ مسائل میں بھی فقہائے کرام کا اختلاف رہا ہے ، مثلا اگر کوئی شخص قسم اٹھاتا ہے کہ میں گوشت نہیں کھاؤں گا اور پھر وہ مچھلی کا گوشت کھا لیتا ہے تو امام سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ اس شخص کی قسم ٹوٹ جائے گی کیونکہ مچھلی کا گوشت بھی گوشت ہی ہے جسے اللہ نے لحما طریا “ یعنی تازہ گوشت فرمایا ہے ۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ عرف عام میں مچھلی کا اطلاق گوشت پر نہیں ہوتا اس لیے مچھلی کا گوشت کھانے سے اس شخص کی قسم نہیں ٹوٹے گی ، وہ مثال کے طور پر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے خادم کو گوشت لانے کا حکم دے اور وہ مچھلی لے آئے تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ عرف عام کے مطابق گوشت سے مراد بھیڑ بکری ، یا گائے اونٹ کا گوشت مراد لیا جاتا ہے ، اور مچھلی کا گوشت مطلوب ہو تو اسے مچھلی کے ساتھ خاص کیا جاتا ہے ، اس مسئلہ میں مزید تیقن پیدا کرنے کے لیے امام صاحب (رح) نے ایک آدمی کو امام سفیان ثوری (رح) کے پاس بھیجا کہ وہ جا کر ان سے دریافت کرے کہ اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ میں بساط پر نماز نہیں پڑھوں گا اور پھر وہ زمین پر نماز ادا کرے تو کیا اس کی قسم ٹوٹ جائے گی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ اس شخص نے بساط یعنی دری ، قالین ، یا چٹائی وغیرہ پر نماز نہ پڑھنے کی قسم اٹھائی ہے ، نہ کہ خالی زمین پر ، اس پر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اللہ نے سورة نوح میں زمین کو بھی بساط فرمایا ہے (آیت) ” وجعل الارض بساطا ‘ ؓ اس نے تمہارے لیے زمین کو بساط بنایا ہے ، اگر عرف عام میں بساط کو زمین پر قیاس نہیں کیا جاتا تو مچھلی کو گوشت پر کیسے محمول کیا جائے گا ؟ بہرحال اگرچہ مچھلی کا گوشت بھی گوشت ہی ہوتا ہے تاہم اسے جانور کے گوشت پر محمول نہیں کیا جاسکتا ۔
اس کی ایک مثال اس طرح بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ میں فلاں شخص سے بات چیت نہیں کروں گا ، اب اس شخص کے مرنے کے بعد اگر قسم اٹھانے والے شخص نے اس کو مخاطب کرلیا تو امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی کیونکہ عرف عام میں اس کلام کو کلام ہی نہیں کہا جاتا جو کسی کے ساتھ اس کے مرنے کے بعد کیا جائے گا ، ہاں اگر وہ اس کی زندگی میں اس سے کلام کرتا ، تو قسم ٹوٹ جاتی ، اسی طرح ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ مجھے بازار سے سری لادے ، تو اگر مامور مرغی یا چڑیا کی سری لے آئیگا تو وہ قابل قبول نہ ہوگی ، بلکہ عرف عام کے مطابق بھیڑ بکری یا گائے بھینس کی سری کو ہی سری پر محمول کیا جاتا ہے ۔
(سمندروں کے دیگر فوائد)
فرمایا دریاؤں اور سمندروں کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ وہ انسانوں کے لیے تازہ گوشت مہیا کرتے ہیں اور دوسرا یہ ہے (آیت) ” وتستخرجوا منہ حلیۃ تلبسونھا “۔ تاکہ تم ان میں سے پہننے کے لیے زیورات نکالو ، یہاں زیورات سے مراد مونگے اور موتی ہیں جنہیں عورتوں کے علاوہ مرد بھی پہن سکتے ہیں ، البتہ مع دنیات کے طور پر زمین اور پہاڑوں سے نکلنے والا سونا اور چاندی مرد کے لیے حلال نہیں ہے ، بہرحال سمندروں سے نکلنے والے زیورات پہنے جاتے ہیں ، پھر فرمایا (آیت) ” وتری الفلک مواخر فیہ “۔ اے مخاطب ! تم ان کشتیوں کو بھی دیکھتے ہو جو پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں ، آج کی دنیا میں چھوٹی چھوٹی بادبانی کشتیوں سے لے کر تیل سے چلنے والی کشتیاں ، سیٹمر اور بڑے بڑے بحری جہاز سمندر کی سطح پر دوڑتے نظر آتے ہیں ، جو انسان کی بڑی خدمت بجا لاتے ہیں مسافروں کی نقل و حرکت کے علاوہ لاکھوں ٹن وزنی سامان ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک منتقل ہوتا ہے ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے سمندوں اور دریاؤں کو انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے ۔
اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے (آیت) ” ولتبتغوا من فضلہ “۔ تاکہ تم اللہ کے فضل میں سے تلاش کرو ، فضل سے مراد ررزق حلال ہے جو بحری جہاز کے دو دراز کے سفر کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے ، ایک مومن رزق حلال حاصل کرنے کا پابند ہے کیونکہ رزق حرام سے تو عبادت بھی نامقبول ہوتی ہے ، اللہ کے فضل میں عبادت بھی داخل ہے کہ حج وعمرہ کے لیے ، دوست احباب اور عزیزوں سے ملاقات کے لیے بھی سفر اختیار کیا جاتا ہے ، (آیت) ” ولعلکم تشکرون “۔ اور تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو ، کہ اس نے تمہیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں ، یہ سب اللہ کی وحدانیت کے دلائل ہیں جو آگے بھی ذکر کئے جائیں گے ۔