16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:96–100

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

اور جو تمہارے پاس ہے ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ، اور البتہ ہم ضرور بدلہ دیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے صبر کیا ، ان کا اجر بہتر ہوگا ان کاموں کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے ۔

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جس شخص نے اچھا کام کیا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو ، پس ہم زندگی بسر کرائیں گے پاکیزہ ، اور ہم ضرور بدلہ دیں گے ان کو ان کے بہتر کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے ۔

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

پس جب تو قرآن کریم پڑھے تو پناہ مانگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شیطان مردود سے ۔

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

بیشک وہ (شیطان) کہ نہیں ہے اس کا تسلط ان لوگوں پر جو ایمان لائے اور جو اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں ۔

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

بیشک اس کا زور ان لوگوں پر ہے جو کہ اس کے ساتھ دوستانہ رکھتے ہیں اور جو اس کی وجہ سے شرک کرنے والے ہیں ۔

(فانی اور باقی مال) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی سخت تلقین فرمائی تھی اپنی قسموں کے ذریعہ حقیر مال حاصل کرنے کی مذمت بیان فرمائی ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مال کی حقیقت بیان فرمائی ہے جو عہد شکنی کے ذریعے کمایا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ”۔ ماعندکم ینفد جو کچھ تمہارے پاس ہے ، وہ تو ختم ہوجائے گا ، جس مال کی خاطر تم نے جھوٹی قسمیں اٹھائیں اور پھر عہد کو توڑا ، وہ تمہارے پاس نہیں رہے گا مفسرین کرام فرماتے کہ لفظ ما عام ہے اور اس سے صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر چیز زندگی صحت ، زمین ، مکان ، باغات ، کھیتیاں کارخانے وغیرہ اس میں شامل ہیں تمہیں اس دنیا سے بالآخر جانا ہے اور پھر تمہارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے (آیت) ”۔ وما عند اللہ باق “۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے ، ہر چیز کا والی اور وارث اللہ ہی ہے ، انسان کا ایمان ، نیکی ، اخلاص ، خضوع ، طہارت ، اعمال صالحہ سب اللہ کے پاس محفوظ رہتے ہیں ، ان میں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی لہذا دنیا کی ناپائیدار چیزوں کی خاطر ہیرا پھیری کرنے کی بجائے نیکی کو اپنا شعار بنا لو یہی چیز باقی رہنے والی ہے جو تمہیں کام دیگی ۔ صبر بھی ملت ابراہیمی کا اہم اصول اور نیکی کی بات ہے اللہ نے فرمایا (آیت) ”۔ ولنجزین الذین صبروا اجرھم “۔ ہم صبر کرنے والوں کو ضرور ان کا اجر عطا کریں گے ، جنہوں نے ایفائے عہد کے لیے تکالیف برداشت کی ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ انہیں اجر دے گا (آیت) ”۔ باحسن ماکانوا یعملون “۔ ان بہتر کاموں کے بدلے میں جو وہ انجام دیتے رہے اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ہم صبر کرنے والوں کو ان کا کارکردگی کا بہتر سے بہتر بدلہ دیں گے گویا ان کا بدلہ ان کے اعمال سے بہر صورت بہتر ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے (آیت) ”۔ من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “۔ (الانعام) ہر نیکی کا کم از کم بدلہ دس گنا ہے تو معلوم ہوا کہ ہر نیکی کا بدلہ اس نیکی سے بہتر ہوگا اور نیکی میں جس قدر اخلاص بڑھتا جائیگا اسی قدر اجر میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا ۔ (حیات طیبہ) فرمایا (آیت) ”۔ من عمل صالحا من ذکر اور انثی “ جس شخص نے نیک اعمال کیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت نیک اعمال کے صلے میں مرد وزن میں کوئی تفاوت نہیں ہر صنف کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا نزول قرآن کریم کے زمانے میں بعض عورتوں کے دل میں خیال پیدا ہوا تھا کہ ہر میدان میں مرد ہی پیش پیش ہیں اور ہر مقام پر اللہ نے انہیں کا تذکرہ کیا ہے حالانکہ ہم بھی نصف انسانیت میں ہیں ، ان کے اس تردد کے جواب میں اللہ کے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے ، اس کی اولین مثال تو یہی آیت ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ دونوں صنفوں میں سے کوئی بھی ہو ، اس کے اچھے اعمال کا بہتر بدلہ دیا جائے گا ، سورة نساء میں (آیت) ”۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا ، وللنسآء نصیب مما اکتسبن “۔ یعنی مردوں کے لیے بھی ان کی کمائی میں سے حصہ ہے اور عورتوں کے لیے بھی ان کی کمائی میں سے حصہ ہے یعنی ان میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا ، آیت زیر درس کی طرح کی آیت سورة نساء میں بھی موجود ہے (آیت) ”۔ ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی “۔ یعنی عمل صالح ہونا چاہئے خواہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے ، اللہ تعالیٰ سب کو جنت میں داخل کریگا سورة الاحزاب میں اللہ نے مردوں اور عورتوں کا ان کی تعریفوں کے ساتھ اکٹھا ذکر کیا ہے إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِیْنَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِیْنَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِیْنَ فُرُوجَہُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللَّہَ کَثِیْراً وَالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اللَّہُ لَہُم مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً ۔ ان صفات کے حاملین تمام مردوں اور عورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے ۔ فرمایا جس نے بھی نیک کام کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، شرط یہ ہے (آیت) ” وھو مومن “۔ کہ اسے ایمان کی دولت حاصل ہو ، اگر ایمان کی بنیاد موجود ہوگی تو اعمال صالحہ پھل لائیں گے ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ کہ ہم انہیں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے یعنی اس دنیا میں وہ اچھی زندگی بسر کریں گے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ حیات طیبہ سے مراد محض خوشحالی کی زندگی نہیں جس میں مال و دولت اور ظاہری آرام و راحت میسر ہو کیونکہ یہ چیزیں تو بعض اوقات پکے سچے ایمانداروں کو بھی حاصل نہیں ہوتیں پاکیزہ زندگی سے مراد یہ ہے کہ انسان کو رزق حلال اور قناعت نصیب ہو ، مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ” قد افلح من اسلم ورزق کفافا وقنعہ اللہ بما اتاہ “۔ تحقیق وہ شخص کامیاب ہوگیا ، جس کو حقیقت اسلام حاصل ہوگئی ، جسے بقدر کفاف روزی میسر آگئی اور جسے اللہ نے عطا کردہ روزی پر قناعت نصیب فرما دی ، یہی حیات طیبہ ہے کہ زبان پر اللہ کا ذکر ہو ، دل میں اللہ کی محبت اور سکون حاصل ہو ، فرائض کو ادا کرتا ہو اور مستقبل کے متعلق اچھا عقیدہ رکھتا ہو ، جب کسی شخص کو رزق حلال میسر آجائے گا تو اسے اطاعت میں حلاوت ، سکون اور مزہ آئے گا ، جو شخص قناعت کرتا ہے اور اللہ کے ہر فیصلے پر راضی ہوتا ہے اسے نیک کام کرنے کی توفیق ملتی ہے اور صحیح معنوں میں اللہ بھی اس پر راضی ہوتا ہے ، یہی حیات طیبہ ہے ۔ سعدی صاحب (رح) نے ایک نیک آدمی کا واقعہ ذکر کیا ہے کہ چیتے کا زخم خوردہ دریا کے کنارے بیٹھا شکر خداوندی بجا لاتا تھا ، کسی نے کہا کہ اتنی تکلیف کے باوجود اللہ کا شکر کس بات پر ادا کرتے ہو تو کہنے لگا ” الحمد للہ بہ مصیبت گرفتار آمدم نہ بہ معصیت “۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مصیبت میں تو گرفتار کیا ہے مگر معصیت سے محفوظ رکھا ہے ، حضرت مولانا شیخ الہند (رح) مالٹا جیل میں انگریزوں کے اسیر تھے ، ہر روز دس پارے تلاوت بھی کرتے تھے کثرت سے درود شریف بھی پڑھتے اور ساتھ ساتھ اللہ کا شکر بھی ادا کرتے کہ اس نے مصیبت میں مبتلا کیا ، کہیں معصیت میں مبتلا نہیں کردیا ، آپ نے جان پر کھیل کر انگریزوں کے خلاف فتوی دیا جس کی پاداش میں آپ کو سخت ترین تکالیف برداشت کرنا پڑیں ، مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی ، بہرحال ایمان سے خالی لوگوں کو اگر دنیا میں آرام و راحت بھی میسر آجائے تو یہ حیات طیبہ نہیں بلکہ حیات خبیثہ ہوگی کہ جلدی ہی وہ جہنم کے کندہ ناتراش بننے والے ہیں ۔ فرمایا ہم اعمال صالحہ انجام دینے والے مومنوں کو حیات طیبہ سے نوازیں گے ۔ (آیت) ” ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانون یعملون “۔ اور ہم ان کو ضرور بدلہ دیں گے ان کے بہتر کاموں کا جو وہ کیا کرتے تھے اس سے مراد جنت کی زندگی ہے کہ وہ بھی بہترین حیات طیبہ ہوگی یہ ایسی زندگی ہوگی جس کو موت نہیں ، ایسا غنا ہوگا جس کے بعد فقر نہیں ، ایسی صحت ہوگی جس کے بعد بیماری نہیں اور ایسی سعادت ہوگی جس کے بعد شقاوت نہیں ہوگی ، غرضیکہ دنیا میں اگر مصائب وآلام بھی ہوں تو پھر بھی مومن کی زندگی پاکیزہ زندگی ہوگی اللہ نے اسے اطاعت کی توفیق دی ، وہ فرائض ادا کر رہا ہے ، یہی حیات طیبہ ہے ، اس کے برخلاف ایمان سے محروم غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کی زندگیاں برے کاموں میں صرف ہو رہی ہیں ، ہمیشہ جاہ واقتدار کے بھوکے رہتے ہیں ، نہ اللہ کے ساتھ کوئی تعلق قائم ہے اور نہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ہے ، نہ فرائض کی ادائیگی ہوتی ہے اور نہ آخرت پر ایمان ہے ، ایسے لوگ ناپاک زندگی بسر کر رہے ہیں ، انہیں حیات طیبہ حاصل نہیں ہو سکتی ۔ (تلاوت سے پہلے تعوذ) گذشتہ درس میں اللہ کا یہ احسان ذکر ہوچکا ہے (آیت) ” ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شی “۔ ہم نے یہ قرآن پاک نازل فرمایا جس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے ، اب اگلی آیت میں اس عظیم کتاب کے آداب کے سلسلے میں فرمایا ہے (آیت) ” فاذا قرات القران “۔ جب آپ قرآن کریم کی تلاوت کریں (آیت) ” فاستعذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ تو سب سے پہلے اللہ کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ طلب کریں ، قرآن کریم کی تعلیم و تعلم اور اس کی تلاوت چونکہ اعلی وارفع کام ہے اس لیے شیطان اس میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتا ہے شیطان نہیں چاہتا کہ کوئی مسلمان تلاوت قرآن کی سعادت حاصل کرے ، اس لیے فرمایا کہ تلاوت شروع کرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ پناہ مانگ لیا کرو ، نماز کی روح رواں بھی تلاوت قرآن پاک ہی ہے ، حدیث شریف میں تعوذ کے مختلف کلمات آئے ہیں جیسے (آیت) ” اعوذ باللہ من لشیطن الرجیم “۔ یا استعیذ باللہ من الشیطن الرجیم “۔ نماز میں سورة فاتحہ کی تلاوت سے پہلے تعوذ ضروری ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) اور دیگر فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ ہر حصہ نماز کی پہلی رکعت میں تعوذ اور بسم اللہ الرحمن الرحیم “ دونوں سنت ہیں جب کہ باقی رکعتوں میں صرف بسم اللہ مستحب ہے تاہم امام شافعی (رح) ہر رکعت کی ابتداء میں تعوذ اور بسم اللہ کو ضروری قرار دیتے ہیں قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے تعوذ تو اس آیت میں آگیا ہے ، اس کے علاوہ بھی بعض مقامات پر تعوذ کی تعلیم دی گئی ہے ، مثلا بیت الخلا (1) (بخاری ص 936 ج 2) میں جاتے وقت ” اعوذ باللہ من الخبث والخبائث “ کے الفاظ سکھلائے گئے ہیں مباشرت سے پہلے بھی شیطان سے تعوذ کرلینا چاہئے (2) (بخاری ص 776 ج 2 ومسلم ص 463 ج 1) اللھم جنبنا الشیطن “۔ اے اللہ ! ہم سے شیطان کو دور رکھ ، اسی طرح ہر نیک کام کی ابتداء میں تسمیہ کا حکم دیا گیا ہے کپڑا پہنتے وقت ، کھانا کھاتے وقت سواری پر سوار ہوتے وقت ، باہر قدم رکھتے وقت بسم اللہ پڑھ لینی چاہئے کہ یہ باعث برکت اور مسنون ہے ۔ (شیطانی غلبہ) فرمایا تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے پناہ پکڑ لیں مگر یاد رکھیں ” انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا “۔ بیشک اس کا غلبہ ایمان والوں پر نہیں ہوگا ۔ اور ان پر بھی نہیں ہوگا (آیت) ” وعلی ربھم یتوکلون “۔ جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں گویا کہ کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤد نہیں چلتا ، دوسری جگہ آتا ہے کہ جب شیطان ان سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو انہیں فورا سمجھ آجاتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” انما سلطنہ علی الذین یتولونہ “ شیطان کا غلبہ تو ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جو اس کی رفاقت کرتے ہیں ، وہ اسی کے وسوسے میں پھنسے رہتے ہیں اور پھر برائیوں کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں گویا تمام معاصی شیطان کی دوستی اور رفاقت کی وجہ سے سرزد ہوتی ہیں ۔ فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر بھی قائم ہوجاتا ہے (آیت) ” والذین ھم بہ مشرکون “۔ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے ہوتے ہیں ، شری کہ رسوم ادا کرتے ہیں اور شیطان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں پھر وہ جدھر چاہے انہیں لیے پھرتا ہے بہ کا ترجمہ دو طریقے سے کیا جاتا ہے ایک یہ کہ بہ سے مراد اللہ کی ذات ہے یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شرک کرتے ہیں ، وہ شیطان کے جال میں پھنس جاتے ہیں نیز بہ کی ” ب “ سببیہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے یعنی جو لوگ شیطان کے سبب کی وجہ سے شرک کرتے ہیں ان پر بھی شیطان کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے حقیقت بھی یہی ہے کہ لوگ شیطان کی وسوسہ اندازی اور اغوا کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور جو ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ، ان پر شیطان کا کچھ اثر نہیں ہوتا ۔
Ayahs 16:101–105

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جس وقت ہم تبدیل کردیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ ، اور اللہ بہتر جانتا ہے جو کچھ بھی وہ اتارتا ہے ، تو کہتے ہیں (یہ نافرمان لوگ) کہ بیشک تو افتراء کرنے والا ہے، نہیں ، بلکہ اکثر ان میں سے بےسمجھ ۔

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ اتارا ہے اس کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ ، ، تاکہ ثابت کرے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور یہ ہدایت اور خوشخبری ہے فرمانبرداروں کے لیے ،

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ بیشک یہ لوگ کہتے ہیں کہ سکھلاتا ہے اس کو ایک انسان اس شخص کی زبان جس کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں عجمی ہے ، اور یہ قرآن عربی اور صاف زبان میں ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو انہیں ایمان لاتے اللہ کی آیتوں پر ، اللہ ان کو راہ نہیں دیکھتا اور ان کے لیے عذاب الیم ہے ۔

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

بیشک افتراء باندھتے ہیں جھوٹ وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہی لوگ ہیں جھوٹے ۔

ربط آیات گذشتہ درس میں آداب تلاوت قرآن سکھائے گئے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ تلاوت کرتے وقت شیطان مردود سے اللہ کے ساتھ پناہ پکڑ لیں تاکہ آپ اس کے وسوسے سے بچ جائیں ، فرمایا شیطان کا تسلط ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستانہ رکھتے ہیں اور پھر اسی کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والے کامل الایمان لوگوں پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا ۔ اب آج کی آیات میں قرآن پاک ہی سے متعلق مشرکین کے بعد شکوک و شبہات کا دلائل کے ساتھ ازالہ کیا گیا ہے ، اس طرح گویا ان آیات کا گذشتہ مضمون کے ساتھ ربط ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے بغیر ایمانیات اور دین کے صحیح اصول معلوم نہیں ہو سکتے حالانکہ ایک مومن ان کا محتاج ہے اس طرح فروعی مسائل کا حل بھی قرآن کریم کو پڑھے بغیر معلوم نہیں ہو سکتا ، چناچہ یہی بات آگے اسی رکوع میں آرہی ہے کہ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، تم اپنی زبان سے کسی شے کو حلال و حرام قرار نہیں دے سکتے ، غرضیکہ اللہ کا یہ پاک کلام زندگی کے ہر موڑ پر ہماری راہنمائی کرتا ہے اور یہ راہنمائی اسکی تلاوت سے ہی حاصل ہو سکتی ہے ۔ (نسخ آیات) تیسری بات یہ ہے کہ اللہ کے اس اعلی وارفع کلام کا ہر قسم کی تحریف اور شک وشبہ سے پاک ہونا ضروری ہے ، اگر اسی میں شک پیدا ہوگیا تو پھر اس کے احکام پر عمل درآمد کیسے ہوگا اور اس کی تلاوت سے صحیح نتیجہ کیسے مرتب ہوگا ، چونکہ مشرکین مکہ قرآن پاک کے متن میں بعض اعتراضات کرتے تھے اس لیے اللہ نے ان کا مدلل جواب دیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذا بدلنا ایۃ مکان ایۃ “۔ اور جب ہم تبدیل کرتے ہیں ایک آیت کو دوسری آیت کی جگہ یعنی کسی حکم کی تبدیلی پر (آیت) ” قالوا انما انت مفتر “۔ کافر اور مشرک لوگ کہتے ہیں کہ تو تو افتراء کرتا ہے ، یعنی جھوٹ باندھتا ہے کہ فلاں حکم فلاں کے ساتھ بدل گیا ہے ، بھلا اللہ تعالیٰ کو اپنا حکم بدلنے کی کیا ضرورت تھی کیا اللہ کو پہلے معلوم نہیں تھا کہ کون سا ح کم اس کی مخلوق کے لیے موزوں ہے العیاذ باللہ اس سے تو اللہ تعالیٰ پر جہالت صادق آتی ہے ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے درمیان آیت فرمایا (آیت) ” واللہ اعلم بما ینزل “۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جس چیز کو وہ نازل کرتا ہے اسے اپنے پہلے حکم کا بھی اچھی طرح علم ہے اور وہ اس کی حکمت اور مصلحت کو بھی جانتا ہے نیز وہ اپنے نئے حکم یا آیت کی حکمت ومصلحت سے بھی خوب واقف ہے ، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا جس طرح زمانہ اور واقعات بدلتے رہتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے احکام بھی بدلتے رہتے ہیں ۔ (نسخ آیات کی حکمت) اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مریض کو کسی وقت میں کسی دوا کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ کچھ وقت کے بعد اس کی حالت کے مطابق دوا تبدیل کرنا پڑتی ہے کبھی سرد دوا مناسب حال ہوتی ہے اور کبھی گرم ، گویا تبدیل کرنا پڑتی ہے ، کبھی سرد دوا مناسب حال ہوتی ہے اور کبھی گرم ، گویا مریض کے مرض میں تبدیلی کے ساتھ طبیب دوا بھی تبدیل کرتا رہتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی انسانی معاشرے کے حالات و ضروریات سے واقف ہے اس لیے وہ ان کے مناسب حال ہی احکام نازل فرماتا ہے ، پھر جب معاشرے میں قدرے تبدیل آجاتی ہے اور اسے دوسرے احکام کی ضرورت ہوتی ہے تو پہلے احکام منسوخ کر کے دوسرے جاری کردیے جاتے ہیں ، اب اللہ کی آخری شریعت پیغمبر آخر الزمان پر مکمل ہوچکی ہے ، اب یہ دوامی احکام ہیں جن میں تغیر وتبدل کی کوئی گنجائش نہیں ، لہذا جب تک دنیا کا یہ نظام قائم ہے ، یہ احکام بھی بدستور نافذ العمل رہیں گے ۔ نزول قرآن کے زمانہ میں بعض احکام میں تغیر وتبدل ہوتا رہا ہے مکی زندگی میں جو حکم تھا وہ مدنی زندگی میں جا کر تبدیل ہوگیا مثلا کفار ومشرکین کے ساتھ جنگ کے متعلق مکی زندگی میں قانون یہ تھا ، (آیت) ” کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ (النسائ) یعنی لڑائی سے ہاتھ روکے رکھو ، نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ، اس وقت جماعت المسلمین کمزور تھی ، اس لیے عدم جنگ میں ہی مسلمانوں کی مصلحت تھی ، پھر جب مدنی دور میں مسلمانوں نے طاقت جمع کرلی اور وہ علی الاعلان جنگ کرنے کے قابل ہوگئے تو اللہ کا حکم آگیا (آیت) ” قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر “۔ (التوبۃ) جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے ان کے خلاف اعلان جنگ کر دو گویا یہود ونصاری کفار اور مشرکین سب کے ساتھ لڑائی لڑنے کا حکم دے دیا گیا کہ اس وقت مصلحت کا یہی تقاضا تھا ۔ سورة بقرہ میں آتا ہے (آیت) ” ما ننسخ من ایۃ اوننسھا نات بخیرمنھا اومثلھا “۔ جب ہم کوئی حکم منسوخ کرتے ہیں یا فراموش کردیتے ہیں تو اس کے بدلے میں اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسا حکم لے آتے ہیں ، بہتر سے مراد یہ ہے کہ نیا حکم اپنی نوعیت اور اجر وثواب کے اعتبار سے بہتر ہوتا ہے ایسے حکم پر عمل پیرا ہونے میں بھی تسہیل کا پہلو نمایاں ہوتا ہے ، لہذا ہم اسے تبدیل کردیتے ہیں (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون “۔ مگر اکثر لوگ بےسمجھ ہوتے ہیں جو اس کی حکمت اور مصلحت کو نہیں جانتے ۔ (نزول قرآن کی غرض) ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے (آیت) ” نزلہ روح القدس من ربک بالحق “۔ اس کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے حق کے ساتھ اتارا ہے بزعم خویش یہ افتراء اور جھوٹ نہیں ہے ، اور اس کی غرض وغایت یہ ہے (آیت) ” لیثبت الذین امنوا ‘۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو پختہ کر دے چناچہ تلاوت قرآن سن کر ایمان والوں کے دل مضبوط ہوجاتے ہیں ، ان کا ایمان پختہ ہوجاتا ہے ، وہ اس پر یقین رکھتے ہیں اور اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں ، فرمایا قرآن ” وھدی “ واضح ہدایت ہے جو انسان کی زندگی کے ہر موڑ پر راہنمائی کرتا ہے ، انسانوں کی سمت درست کرتا ہے اور انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے (آیت) ” وبشری للمسلمین “۔ یہ مسلمانوں کے لیے خوشخبری کا ذریعہ ہے ، اس پر ایمان لانے اور عمل کرنے والوں کے لیے دائمی اور بہتر زندگی کی بشارت بھی ہے ، سورة یونس میں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا گیا ہے (آیت) ” ان لھم قدم صدق عند ربھم “ ان کیلئے انکے رب کے پاس سچائی کا پایا ہے ایمان لانے والے سچائی کے پائے ہیں قدم رکھتے ہیں اور اس پر عمل کرنیوالوں کو خوشخبری دی جاتی ہے ، یہ تسلی کا مضمون بھی ہوگیا ۔ (روح القدس) اس آیت کریمہ میں روح القدس کا لفظ توجہ طلب ہے اس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جن کے واسطہ سے قرآن کریم حضور ﷺ کے قلب مبارک پر نازل ہوا ، سورة الشعرآء میں موجود ہے (آیت) ” انہ لتنزیل رب العلمین ، نزل بہ الروح الامین ، علی قلبک لتکون من المنذرین “۔ اس قرآن کریم کو روح الامین نے رب العالمین کی طرف سے آپ کے قلب مبارک پر نازل فرمایا تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں ، شاعر اسلام حضرت حسان بن ثابت ؓ کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ مشرک لوگ شاعر اسلام اور پیغمبر اسلام کی ہجو کرتے تھے اس پر آپ ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ ان کے اشعار کا جواب دو ، اللہ تعالیٰ تمہاری تائید روح القدس کے ساتھ کرے گا چناچہ حضرت حسان ؓ مشرکوں کو شعروں میں جواب دیا کرتے تھے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ روح القدس کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ ملاء اعلی کے تمام گروہ کسی خاص امر کی طرف توجہ کرتے ہیں ، اسی کا نام روح القدس کی تائید ہے ۔ (نزول قرآن پر اعتراض) فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم “۔ ہم خوب جانتے ہیں (آیت) ” انھم یقولون انما یعلمہ ‘ بشر “۔ کہ کافر ومشرک لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن پاک حضور ﷺ کو کوئی انسان سکھاتا ہے ، اس کا پس منظر یہ ہے کہ جبر ، یسار یعیش یا بلعام نامی ایک رومی غلام تھا ، اس کا پہلا مذہب عیسائیت تھا انجیل پڑھا کرتا تھا ، پھر اس نے اسلام قبول کرلیا ، یہ شخص رات کے وقت کبھی کبھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ سے دین سیکھتا بعض اوقات حضور ﷺ خود بھی اس کے پاس تشریف لے جاتے اس پر مشرکین نے یہ پراپیگنڈا شروع کردیا کہ یہ عجمی شخص آپ کو باتیں سکھاتا ہے جسے آپ قرآن کے نام پر پیش کردیتے ہیں ، (اس کا جواب) اس بہتان کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” الذین یلحدون الیہ اعجمی “۔ یہ لوگ جس شخص کی طرف قرآن کو منسوب کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے یعنی وہ شخص تو عربی زبان پر ہی قادر نہیں ، (آیت) ” وھذا لسان عربی مبین “۔ اور اللہ کا ہر کلام فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا وہ شخص جو خود اپنا مافی الضمیر بھی ٹھیک طریقے سے عربی زبان میں بیان نہیں کرسکتا وہ قرآن پاک جیسا معجز کلام کیسے گھڑ سکتا ہے یہ ان لوگوں کا صریح جھوٹ اور بہتان ہے ، اس کلام کو سن کر تو عرب کے بڑے بڑے ادیب اور شعراء انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں ، بھلا اس رومی عجمی کی کیا حیثیت ہے کہ اسے اعلی وارفع کلام کی تعلیم دے سکے ، قرآن کریم نے تو واضح چیلنج دے رکھا ہے کہ اگر تمہیں اس کلام میں کوئی شک ہے (آیت) ” فاتوا بسورۃ من مثلہ “۔ (البقرہ) تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کرلے آؤ ، اس چیلنج کو قبول کرنے سے تو عرب کے بڑے بڑے شاعر بھی عاجز آگئے چہ جائیکہ اس کا مصنف کوئی عجمی آدمی ہو ۔ (منکرین قرآن کے لیے سزا) فرمایا (آیت) ” ان الذین لا یؤمنون بایت اللہ “۔ بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے (آیت) ” انما یفتری الکذب الذین لا یؤمنون بایت اللہ “۔ بیشک وہی لوگ جھوٹ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ایسے لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ اس نے قرآن خود گھڑ لیا ہے یا اسے کسی عجمی نے سکھا دیا ہے ، یہ مفتری لوگ ہیں (آیت) ” واولیک ھم الکذبون “ اور حقیقت میں یہی لوگ جھوٹے ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس اعتراض کا رد فرمایا ہے کہ قرآن خدا کا کلام نہیں ہے اور یہ کہ اسے کسی غیر عربی نے سکھایا ہے ، فرمایا یہ ایمان سے خالی لوگوں کا کام ہے اور یہی چیز فساد کی جڑ ہے جو انہیں غلط پراپیگنڈے پر آمادہ کرتی ہے ۔
Ayahs 16:106–110

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا اللہ کے ساتھ بعد ایمان لانے کے مگر وہ شخص کہ جس کو مجبور کیا گیا اور اس کا دل مطمئن تھا ایمان کے ساتھ لیکن (گناہ اس پر ہے) جس نے دل کھول کر کفر کیا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا اس قوم کو جو کفر کرنے والی ہو ۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر ، اور یہی لوگ غافل ہیں ۔

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

ضرور بر ضرور بیشک یہ لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر بیشک تیرا پروردگار ، ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہجرت کی بعد اس کے کہ ان کے فتنے میں ڈالا گیا ، پھر انہوں نے جہاد کیا اور صبر کیا ، البتہ اس کے بعد بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں رسالت کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا ، یہ اللہ کا کلام ہے ، جسے جبرائیل امین نے اللہ کی جانب سے پیغمبر ﷺ پر نازل فرمایا مشرکین بہتان لگاتے تھے کہ قرآن پاک منجانب اللہ نہیں بلکہ ایک عجمی شخص سے سیکھ کر آپ اسے لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اللہ نے جواب میں فرمایا کہ قرآن حکیم تو فصیح وبلیغ عربی زبان میں ہے بھلا ایک عجمی آدمی یہ کیونکر پیش کرسکتا ہے حالانکہ وہ تو اپنا مافی الضمیر بھی عربی زبان میں پوری طرح بیان نہیں کرسکتا ، اللہ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسا افتراء وہی لوگ باندھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اکراہ واضطرار کی حالت کے مسائل کا تذکرہ کیا ہے ، اگرچہ کلمہ کفر کسی حالت میں بھی پسندیدہ نہیں ہے ، تاہم اگر کوئی شخص مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کی خاطر اپنی زبان پر کلمہ کفر لاتا ہے تو وہ شخص کافر یا مرتد نہیں ہوجاتا بشرطیکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ، ایسے شخص کو کفر کا کلمہ کہنے کی وقتی طور پر رخصت ہوگئی ۔ (وقتی طور پر رخصت) تاریخ اسلام ان واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں مشاہیر اسلام نے بیشمار ذاتی قربانیاں دے کر کلمہ حق کو بلند رکھا حضرت عمار بن یاسر ؓ کا واقعہ مشہور ہے ، کفار نے آپ کو کلمہ کفر کہنے پر مجبور کیا ، حتی کہ جان سے مار دینے کی دھمکی دی آپ نے مجبور کی حالت میں کفار کی بات مان لی جان چھڑا کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا ماجرا کہہ سنایا ، آپ نے فرمایا (آیت) ” کیف تجد قلبک “۔ تمہارے دل کی کیفیت کیسی ہے زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے باوجود دل دین پر مطمئن ہے یا نہیں ؟ انہوں نے عرض کیا حضور ! دل تو بالکل مطمئن ہے ، فرمایا کوئی بات نہیں (آیت) ” ان عادوا فعد “۔ اگر دوبارہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے گا اور کافر تمہیں مجبور کردیں تو تم اسی طریقے سے اپنی جان بچا سکتے ہو ، امام ابوبکر جصاص (رح) اپنی تفسیر ” احکام القرآن “ میں رقم طراز ہیں کہ خواہ جان کا خطرہ ہو یا جسم کے کسی عضو کے کٹ جانے کا ڈر ہو ، متعلقہ شخص کو کفار کی بات ماننے کی صرف رخصت ہے ، البتہ بلند درجہ یہ ہے کہ انسان حق کی بات پر ڈٹ جائے خواہ اس کے لیے شہادت ہی کیوں نہ قبول کرنی پڑے ۔ (دین کی خاطر قربانیاں) حضور ﷺ کے صاحب عزیمت صحابہ میں سے حضرت بلال ؓ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، آپ کو کفار نے مجبور کیا ” ارجع “ یعنی اسلام کو چھوڑ کر پرانے دین میں واپس آجاؤ ، آپ نے جواب دیا ” لا ارجع “ یعنی میں واپس نہیں پلٹوں گا ، کفار کفر کا کلمہ کہلوانا چاہتے تھے مگر آپ احد احد ہی پکارتے رہے ، آپ کو گرم ریت پر لٹا کر اوپر پتھر رکھا تھا گیا ، آپ کے جسم کو گرم سلاخوں سے داغا گیا ، مگر آپ اللہ اللہ کا ورد ہی کرتے رہے اور کلمہ کفر زبان پر نہ لائے آپ نے فرمایا کہ کفار اللہ کے نام سے چڑتے ہیں ، اگر مجھے کوئی کلمہ بھی معلوم ہو جس سے یہ چڑتے ہیں تو میں وہ بھی زبان پر لانے سے نہیں رکوں گا ، حضرت بلال ؓ نے کمال عزیمت کا مظاہرہ کیا ، سخت ترین جسمانی سزائیں برداشت کیں مگر کفر کا کلمہ نہ کہا ، اگرچہ آپ شہید نہیں ہوئے مگر آپ نے دین کی خاطر سردھڑ کی بازی لگا دی ، حضرت عمار ؓ کے والد حضرت یاسر ؓ کا بھی یہی حال تھا ، وہ سخت ترین سزائیں برداشت کرتے ہوئے شہید ہوگئے ، مگر کفر کا کلمہ اپنی زبان پر نہ لائے ، آپ کی والدہ حضرت سمیہ ؓ کی دونوں ٹانگیں دو مختلف اونٹوں کے ساتھ باندھ دی گئیں ، پھر ابوجہل نے ان کے مقام مخصوصہ میں نیزہ مار کر آپ کو ہلاک کردیا اور اللہ نے انہیں بلند ترین مرتبہ عطا فرمایا ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ خلافت میں حضرت خبیب ابن زید انصاری ؓ کسی طرح مسیلمہ کذاب کے ہاتھ آگئے مسیلمہ کذاب کہنے لگا کیا تم محمد ﷺ کی رسالت کو مانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا ، وہ اللہ کے رسول ہیں اور میں اس کی گواہی دیتا ہوں ، پھر مسیلمہ کذاب نے پوچھا کہ میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کیا مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہو ؟ حضرت خبیب ؓ نے فرمایا کہ یہ بات تو میں سننے کے لیے بھی تیار نہیں چہ جائیکہ تمہاری رسالت کا اقرار کروں کہنے لگا میں تمہارا ایک ایک عضو کاٹ کر ہلاک کر دوں گا ، فرمایا تو جو چاہے کر ، غرضیکہ آپ کا جوڑ جوڑ کاٹ کر آپ کو شہید کردیا گیا ، مگر آپ کلمہ کفر زبان پر نہ لائیے ۔ حضرت خبیب ؓ کا واقعہ بھی بڑا مشہور ہے ، کافروں نے کفر کا کلمہ کہلوانا چاہا سولی پر چڑھانے کی دہمکی دی مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور فرمایا اللہ کے راستے میں اسی کی عطا کردہ جان قربان کردینا کوئی بڑی بات نہیں ، میں اس کے لیے تیار ہوں ، چناچہ آپ کو سولی پر لٹکا کر شہید کردیا گیا ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضرت خبیب ؓ اور حضرت زید ابن دسنہ ؓ کو کافروں نے ایک ہی دن شہید کیا شہادت سے پہلے انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں سلام بھیجا کہ اے اللہ ! ہمارا سلام ہمارے پیارے نبی ﷺ تک پہنچا دے جب یہ پیغام حضور ﷺ کو ملا تو آپ نے دونوں کے لیے وعلیکم السلام کہا ۔ (عبداللہ بن حذیفہ ؓ کا ایمان) امام ابن کثیر (رح) نے حافظ ابن عساکر (رح) کے حوالہ سے اپنی تفسیر میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حذیفہ سہمی ؓ اور آپ کے بعض ساتھی رومیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے ان کے قیدی بن گئے ، انہیں بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ، تو اس نے آپ کو دین سے پھیرنے کے لیے لالچ دینے کی کوشش کی ، کہنے لگا اگر دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرلو تو میں تمہیں نہ صرف اپنی حکومت میں شریک کرلوں گا ، بلکہ ” ازوج بنتی “۔ اپنی بیٹی کا نکاح بھی تجھ سے کر دوں گا ، آپ نے فرمایا اگر تم اپنا سارا ملک اور پورا عرب بھی مجھے دیدو تو میں آنکھ جھپکنے کی مقدار بھی محمد ﷺ کے دین سے پلٹنے کے لیے تیار نہیں ہوں ، بادشاہ نے حکم دیا کہ آپ کو سولی پر چڑھا کر ہلاک کردیا جائے ، آپ نے فرمایا ، اللہ کے راستے میں ہلاک ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ، میں اس کے لیے تیار ہوں ، پھر بادشاہ نے تانبے کی ایک بہت بڑی دیکھ منگوائی بعض روایات میں تانبے کا بنا ہوا گائے کا بہت بڑا مجسمہ بھی آتا ہے ، بہرحال اس دیگ یا گائے میں تیل یا کوئی اور چیز ڈال کر اسے خوب گرم کیا گیا ، پھر آپ کے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو اس تیل میں پھینک دیا گیا ، دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جسم جل کر کوئلہ بن گیا اور اس کی ہڈیاں زائل ہونے لگیں ، اس کے بعد پھر حضرت عبداللہ ؓ سے کہا کہ مان جاؤ ورنہ تمہارا بھی یہی حشر ہونے والا ہے آپ نے فرمایا کہ میں ایک لحظہ بھر کے لیے بھی دین حق کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں بادشاہ نے پھر حکم دیا کہ اسے سولی پر چڑھا کر اسکے دائیں بائیں تیر چلاؤ ، مگر آپ پھر بھی اپنے ایمان پر قائم رہے ، بادشاہ نے سولی سے اتروا لیا اور کہا کہ اسے تپتی ہوئی دیگ میں پھینک دو آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بادشاہ نے اپنے پاس بلایا اور کہنے لگا کہ شاید تم اپنا دین چھوڑ کر نصرانی بننے پر تیار ہوگئے ہو ، حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا میں اپنی جان کے اتلاف کے تصور سے نہیں روتا ، بلکہ اس لیے رو رہا ہوں کہ اللہ نے مجھے ایک ہی جان دی ہے جو میں اس کے راستے میں قربان کررہا ہوں اگر میری ہزار جانیں بھی ہوتیں تو ایک ایک کرکے اللہ کے نام پر قربان کردیتا ، اس پر بادشاہ نے اپنے قریب بلا کر کہا کہ اگر تم میری پیشانی کو بوسہ دے دو تو تمہیں رہا کر دوں گا ، ۔ فرمایا اس کام کے عوض میں اپنے سارے ساتھیوں کی رہائی چاہتا ہوں ، بادشاہ نے یہ شرط قبول کرلی ، حضرت عبداللہ ؓ نے بادشاہ کی پیشانی کو بوسہ دیا اور پھر اپنے لشکر کے ہمراہ رہائی پاکر واپس آگئے حضرت عمر ؓ کے سامنے سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا لوگو ! سب سے پہلے میں عبداللہ ؓ کی پیشانی کو بوسہ دیتا ہوں تم بھی ایسا کرو ، پھر سب لوگوں نے آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا ۔ (اضطراری حالت کے مسائل) اب مسئلے کی نوعیت یہ ہے کہ عزیمت تو اسی میں ہے کہ انسان کفر کا کلمہ کہنے کی بجائے شہادت قبول کرے ، مگر مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنی ” تفسیر مظہری “ میں لکھتے ہیں کہ تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب جان جانے کا خطرہ ہو تو انسان کلمہ کفر زبان سے ادا کرسکتے ہے بشرطیکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ، یہ اجازت ہے اگرچہ عزیمت اس کے خلاف ہے ، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو مجبور کیا جائے کہ دوسرے مسلمان کا مال تلف کر دو ورنہ جان سے مار دیے جاؤ گے یا تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں گے ، تو ایسے شخص کے لیے گنجائش ہے کہ وہ دوسرے بھائی کا مال تلف کر کے اپنی جان بچا لے ، ایسی صورت میں اگر انصاف والی حکومت ہوگی تو مجبور کرنے والے شخص سے ضمانت لی جائیگی ، اگر یہ ممکن نہ ہو تو مال تلف کرنے والا مسلمان بھی مال کا ازالہ کرسکتا ہے مگر اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالے ، ہاں اگر کوئی دوسرے مسلمان کی جان تلف کرنے پر مجبور کرے تو پھر مسئلہ یہ ہے کہ مجبور آدمی اپنی جان کو دوسرے کی جان پر ترجیح نہ دے بلکہ خود ہلاک ہوجائے اور دوسرے مسلمان کی جان کے درپے نہ ہو ، اسی طرح اگر کسی کو مجبور کیا جائے کہ فلاں عورت سے زنا کرو ورنہ تمہاری جان مار دی جائے گی تو اس کی بھی اجازت نہیں ، اللہ کے نزدیک مسلمان عورت کی عزت وآبرو بڑی اہم ہے ، لہذا ایسا شخص اپنی جان پر کھیل کر مسلمان عورت کی عزت کو بچا لے ۔ (عزیمت اور رخصت) ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” من کفر باللہ من بعد ایمانہ “۔ جس ن کفر کیا اللہ کے ساتھ ایمان لانے کے بعد (آیت) ” الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان “۔ مگر وہ جس کو مجبور کیا گیا حالانکہ اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن تھا (آیت) ” ولکن من شرح بالکفر صدرا “۔ لیکن گناہ اس پر ہے جس نے سینہ کھول کر کفر کیا (آیت) ” فعلیھم غضب من اللہ “۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے (آیت) ” ولھم عذاب عظیم “۔ اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے مطلب یہ ہے کہ مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے تو کلمہ کفر کہا جاسکتا ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو مگر جو کوئی دل کی گہرائی سے کلمہ کفر ادا کرے ، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت سزا کا مستوجب ہوگا ۔ فرمایا (آیت) ” ذلک بانھم استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ “۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کیا اور کفر کا کلمہ زبان سے ادا کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے (آیت) ” وان اللہ لا یھدی القوم الکفرین “۔ کہ اللہ تعالیٰ کافر قوم کو راہ نہیں دکھاتا صراط مستقیم اسی کے حصے میں آتا ہے جس میں طلب اور خواہش ہو ، اور جو کوئی کفر پر مصر ہو اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی ، ایسے لوگوں کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم “۔ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے ، ان کے دل سیاہ ہوچکے ہیں ، (آیت) ” وسمعھم “۔ اور ان کے کان بندہو چکے ہیں کہ حق بات کو سنتے ہی نہیں ، سنتے ہیں تو گوارا نہیں کرتے (آیت) ” وابصارھم “۔ اور ان کی آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں سورة بقرہ میں ہے (آیت) ” وعلی ابصارھم غشاوۃ غرضیکہ وہ حق بات کو دیکھنے سے قاصر ہیں ، یہ ان کے کلمہ کفر کہنے کی وجہ سے ہے فرمایا (آیت) ” واولئک ھم الغفلون “۔ اور یہی لوگ غافل ہیں دنیا کی زندگی کو پسند کرکے خواہشات نفسانیہ پر چلنے والے لوگ اللہ تعالیٰ اور آخرت سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں (آیت) ” لاجرم انھم فی الاخرۃ ھم الخسرون “۔ ضرور برضرور یعنی یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ یہ لوگ آخرت کی زندگی میں نقصان اٹھانے والے ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” ثم ان ربک للذین ھاجروا من بعدھا فتنوا “۔ پھر بیشک تمہارا پروردگار فتنے میں ڈالے گئے مہاجرین (آیت) ” ثم جھدوا وصبروا “۔ پھر جنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور مصائب وآلام پر صبر کیا (آیت) ” ان ربک من بعدھا لغفور رحیم “۔ بیشک تمہارا پروردگار ان لوگوں کے لیے البتہ بہت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے ، اگر ان سے کوئی معمولی لغزش ہو بھی گئی ، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور وسیع رحمت سے ان کو معاف فرما دیگا ، ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں ہوگا ، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کمزور لوگوں کو تسلی بھی دیدی ہے ۔
Ayahs 16:111–114

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن آئے گا ہر ایک نفس جھگڑا کرے گا اپنے نفس کی طرف سے وہ پورا پورا دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے عمل کیا ، اور پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور اللہ نے بیان کی ہے ایک مثال ایک ایسی بستی کی جو امن والی اور اطمینان والی تھی آتی تھی اس کی روزی کشادہ ہر طرف سے پس اس بستی والوں نے کفر کیا اللہ کی نعمتوں کے ساتھ پس چکھایا اللہ نے اس کو بھوک اور خوف کا لباس ، اس وجہ سے کہ جو کچھ وہ کرتے تھے ۔

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق آیا ان کے پاس رسول ان میں سے پس جھٹلایا انہوں نے اس کو پس پکڑا ان کو عذاب نے ، اور وہ ظلم کرنے والے تھے ۔

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس (اے لوگو ! ) کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے روزی دی ہے تم کو حلال اور پاک ، اور شکر کرو اللہ کی نعمت کا اگر تم خاص اسی کی عبادت کرنے والے ہو ۔

ربط آیات : پہلے قرآن حکیم کی صداقت وحقانیت کا بیان ہوا ، فرمایا قرآن پاک کی خود ساختہ یا کسی عجمی شخص کا سکھلایا ہوا کہنے والے جھوٹے ہیں ، نیز یہ کہ جس نے اپنے اختیار اور ارادے سے اپنی زبان سے کفر کی بات نکالی وہ خدا کے غضب اور لعنت کانشانہ بنے گا ، ہاں ! اضطراری حالت میں جب کہ جان جانے یا کسی عضو کے کٹ جانے کا خطرہ ہو ، تو جان بچانے کے لیے کلمہ کفر زبان سے ادا کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل مطمئن ہو ، اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ، اس لیے وہ کفر کی بات زبان پر لاتے ہیں ایسے لوگوں کو محاسبہ اعمال کی کچھ فکر نہیں ، یہ عنادی لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں ، کان بند ہیں ، اور آنکھوں پر پردے پڑچکے ہیں جس کی وجہ سے یہ لوگ نہ حق بات کو محسوس کرتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ اسے دیکھتے ہیں فرمایا حقیقت میں یہی لوگ غافل ہیں ۔ (ذاتی طور پر جوابدی) اس حقیر دنیا کی خاطر کفر اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے آخرت اور محاسبہ عمل کی منزل یاد دلائی ہے فرمایا (آیت) ” یوم تاتی کل نفس “۔ اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس آئے گا (آیت) ” تجادل عن نفسہا اپنے نفس کی طرف سے خود سوال و جواب کرے گا ، اس کی طرف سے کوئی وکیل ، بیرسٹر ، والدین ، بھائی بہن یا اولاد کو جواب دینے کی اجازت نہ ہوگی ، بلکہ اسے اپنے اعمال کا خود ہی جواب دینا پڑے گا ، حشر کے میدان میں ہر شخص کو اپنی پڑی ہوگی ، اور وہ ایک دوسرے کی طرف توجہ نہیں کرسکیں گے ، صحیح حدیث میں آتا ہے (آیت) ” یؤتی بجھنم “۔ جہنم کی ستر ہزار زنجریں ہوں گی اور ہر زنجیر کو کھینچنے والے ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے ، جو اسے کھینچ کر قریب لائیں گے ، اس وقت اس قدر دہشت کا سماں ہوگا کہ مقرب نبی بھی ” نفسی نفسی “ پکار رہے ہوں گے بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب محاسبے کی منزل آئے گی (آیت) ” لیس بینہ وبینہ ترجمان “۔ تو اس وقت اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا ، بلکہ ہر شخص کو براہ راست جواب دینا ہوگا ، سورة عبس میں فرمایا (آیت) ” لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ “۔ اس دن حالت یہ ہوگی کہ ہر شخص کو دوسرے سے مستغنی کر دے گی ، کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا ، ہر ایک کو اپنی فکر ہوگی کہ کسی طرح میں بچ جاؤں بہرحال فرمایا کہ اس دن کو یاد کرو جس دن ہر نفس اپنی طرف سے خود جوابدہی کرے گا ،۔ (پورا پورا بدلہ) (آیت) ” وتوفی کل نفس ما عملت “۔ اور ہر ایک کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے عمل کیا ، ہر نیکی اور ہر برائی کو پوری پوری جزا یا سزا ملے گی (آیت) ” وھم لا یظلمون “۔ اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی ، نہ تو کسی کی نیکی میں کمی کی جائے گی اور نہ کسی کی کوئی برائی دوسرے کے سر پر ڈلی جائے گی ، ہر ایک کے سامنے اس کا اپنا کیا ہوا آئے گا ، ہر شخص کا اپنا عقیدہ ، اخلاق اور عمل ہی کام آئے گا سورة مدثر میں ہے (آیت) ” کل نفس بما کسبت رھینۃ “۔ ہر شخص اپنی ہی کمائی میں پھنسا ہوا ہوگا جس سے نکل نہیں سکے گا ، اور کسی پر زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ٹھیک ٹھیک معاملہ کیا جاے گا ۔ (خوشحال بستی کی مثال) اگلی آیت میں اللہ نے ایک خوشحال بستی کی مثال بیان فرمائی ہے جس کے باشندوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی تو اللہ نے ان پر عذاب مسلط کردیا ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وضرب اللہ مثلا قریۃ “۔ اللہ نے ایک بستی کی مثال بیان فرمائی ہے (آیت) ” کانت امنۃ مطمئنۃ “۔ جو بالکل امن و اطمینان میں تھی ، مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس بستی سے مراد مکہ کی بستی ہے کیونکہ یہ سورة مکی ہے اور اس بستی کا ذکر ہے ، البتہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مثال کسی ایک بستی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر وہ بستی مراد کی جاسکتی ہے جہاں اس قسم کے حالات پائے جائیں ، بہرحال مکہ کی یہ بستی خوشحال بستی تھی ، تمام ضروریات زندگی آسانی کے ساتھ دستیاب تھیں ، امن و سکون تھا ، کوئی شخص متفکر نہیں تھا اور نہ کوئی پریشان حال تھا ، اشیائے خورد ونوش کی حالت یہ تھی (آیت) ” یاتیھا رزقھا رغدا من کل مکان “۔ اس کی کشادہ روزی ہر طرف سے آتی تھی غلہ ، پھل اور کھانے پینے کی دیگر چیزیں بافطراط موجود ہوتی تھیں ، جہاں تک اس بستی کے مامون ہونے کا تعلق ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی (آیت) ” رب اجعل ھذا بلدا امنا “۔ (البقرہ) مولائے کریم اس بستی کو امن والا بنا دے ، اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ (آل عمران) جو اس میں داخل ہوگا امن میں ہوجائے گا یہاں پر کوئی کسی کو تکلیف نہیں دیتا ، فتنہ فساد کا کوئی ڈر نہیں ، باوجود اس کے کہ یہ جگہ بےآب وگیاہ ہے ، نہ زمین ، نہ باغات ، نہ چشمے اور نہ ہریالی مگر وہاں پر سارا سال رزق کی فراوانی رہتی ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی (آیت) ” وارزق اھلہ من الثمرات “۔ (البقرہ) اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے روزی عطا فرما ، چناچہ دنیا کے کسی بھی خطے میں پیدا ہونے والے ہر قسم کے پھل اس بستی میں پہنچتے رہے ہیں ، اب بھی پہنچتے ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ پہنچتے رہیں گے ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس بستی کی کشادہ روزی ہر طرف سے آتی تھی ۔ (ناقدری کی سزا) مگر اس بستی والی کی حالت یہ تھی (آیت) ” فکفرت بانعم اللہ “۔ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی ، کفر کی معنی ایمان اور توحید کا انکار بھی ہے اور اس سے ناشکری اور ناقدری بھی مراد ہوتی ہے ، عام طور پر بھی انسان کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “۔ (ابراہیم) بیشک انسان بڑا ظالم اور ناشکر گزار ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں مگر وہ زبان سے الحمد للہ تک نہیں کہتا ، تو اس بستی کے لوگ بھی خدا تعالیٰ کے انعامات میں ڈوبے ہوئے تھے ، ان پر اللہ کے تین خاص انعامات تھے یعنی امن ، اطمینان اور کشادہ روزی مگر ان کی ناقدری کی وجہ سے (آیت) ” فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف “۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھایا ، ان کا وسیع رزق بھوک میں تبدیل ہوگیا ، اور امن و اطمینان کی بجائے ان پر خوف طاری ہوگیا (آیت) ” بما کانوا یصنعون “۔ اس وجہ سے کہ جو کچھ وہ کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی بری کارگزاری کی یہ سزا دی ۔ (انکار رسالت پر عذاب) پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے تین احسانات کا ذکر کیا اب چوتھے بڑے احسان کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منھم “۔ البتہ تحقیق اللہ کا عظیم الشان رسول ان کے پاس آیا ، جس کو وہ پہچانتے تھے کہ ان کے خاندان کا آدمی ہے ، صادق اور امین ہے ، راستباز اور نیک ہے ، اس کے اخلاق اتنے حمیدہ ہیں کہ کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا ، پھر جب اللہ کے اس رسول نے لوگوں کو پیغام سنایا (آیت) ” فکذبوہ “ تو انہوں نے اس عظیم الشان رسول کی تکذیب کی اور اسے اللہ کا رسول تسلیم کرنے سے انکار کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فاخذھم العذاب “۔ پس اللہ کے عذاب نے انہیں آپکڑا ، (آیت) ” وھم ظالمون “۔ درآنحالیکہ وہ ظلم کرنے والے تھے حضور ﷺ نے مکہ والوں کے لیے بددعا فرمائی اللھم اجعل علیھم سنین کسنی یوسف ۔ اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانے والے سال یعنی قحط ڈال دے اللہ نے مکہ والوں پر بھی قحط مسلط کردیا ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ ہر طرف خشکی تھی ، اوپر دھواں سا نظر آتا تھا کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا تھا ، حتی کہ لوگ چمڑا اور مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے ، اللہ نے ان کی کشادہ روزی کو ایسی تنگی میں بدل دیا ۔ ادھر امن امان کی حالت بھی بگڑتی چلی گئی ، جب انہوں نے اللہ کے نبی کو جھٹلا دیا ، اسے طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں تو وہ ہجرت پر مجبور ہوگئے اور بلآخر مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ کو دارالاسلام بنا لیا ، اللہ نے وہاں پر مسلمانوں کی مدد فرمائی ، انہوں نے طاقت جمع کی اور مکہ والوں پر مسلسل خوف کی حالت طاری ہوگئی اور جب تک مکہ فتح نہ ہوگیا ، ان کے دن کا سکون اور رات کا چین ختم ہو کر رہ گیا ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حالات صرف مکہ کی بستی تک ہی محدود نہیں بلکہ جس جگہ بھی اللہ کی نعمتوں کی ناقدری اور اللہ کیے رسولوں کا انکار ہوگا وہاں ایسے ہی حالات پیدا ہوں گے ، آگے سورة سبا میں اللہ تعالیٰ نے اہل سبا کا حال بھی بیان فرمایا ہے ، ان لوگوں کو بھی اللہ نے عیش و آرام کے بڑے سامان مہیا فرمائے مگر انہوں نے ناشکری کا اظہار کیا تو اللہ نے بہت بڑا سیلاب بھیجا جس کی وجہ سے ان کی زمینیں ، باغات اور کھیتیاں تباہ ہوگئیں اللہ نے زمین سے روئیدگی کی طاقت ہی سلب کرلی ، وہاں پر غلے اور پھلدار درختوں کی بجائے جنگلی بیر پیدا ہونے لگے ، ہر طرف کانٹے دار جھاڑیاں نظر آنے لگیں حالانکہ وہاں پر ڈیم کا پانی میسر تھا جس کی بناء پر میلوں لمبے باغات اور غلے کے کھیت ہوا کرتے تھے ، اللہ نے ہر چیز تباہ کردی اور فرمایا (آیت) ” وھل نجزی الا الکفور “۔ (سبا) ہم ناشکر گزاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ۔ (امن وامان کی ضرورت) انسانی زندگی کے لیے امن وامان بڑی ضروری چیز ہے ، اس کے بغیر کاروبار زندگی ٹھپ ہوجاتا ہے کارخانے ، زراعت ، صنعت وحرفت غرضیکہ کوئی چیز باقی نہیں رہتی ، دوسرے ملک کے ساتھ جنگ کی حالت ہو تو ہر وقت دشمن کا خوف رہتا ہے ، بمباری ہوتی ہے ، املاک تباہ ہوجاتی ہیں اور لوگ مرنے لگتے ہیں ، اندرونی طور پر بھی بدامنی ہو تو ہر وقت چوری ، ڈاکے کا خطرہ رہتا ہے ، لوگوں کی جان ، مال اور عزت غیر محفوظ ہوجاتی ہے ، آج دنیا میں ہر طرف بدامنی کی فضا پھیلی ہوئی ہے سرمایہ دارانہ نظام معیشت نے حرص اور لالچ کو جنم دیا ہے جس کی وجہ سے ہر شخص جائز اور ناجائز طریقے سے سرمائے کی فکر میں رہتا ہے خواہ اس میں دوسرون کو کتنا ہی نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے ، اشتراکی نظام اس سے بھی بدتر ہے جس میں کسی انسان کی عزت نفس محفوظ نہیں ہوتی ، انسانوں سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا ہے وسائل آمدن چند ہاتھوں میں محدود ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس طرح بدامنی اور بےچینی مسلسل سایہ فگن رہتی ہے اس کے برخلاف آسمانی شرائع ایسا نظام حیات قیام کرنا چاہتی ہیں ، جس میں کسی کی جان ومال اور عزت وآبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو ، ہر شخص کو اس کے حسب حال روزی میسر ہو اور پورا معاشرہ امن وامان دوستی اور اخوت کا گہوارہ ہو ، حدیث شریف میں حضرت حذیفہ ؓ کا بیان آتا ہے کہ ابتدائی دور میں مجھے بالکل اطمینان حاصل تھا ، میں کسی بھی آدمی سے بلاخوف وخطر معاملہ کرسکتا تھا ، لیکن بعد میں حالات تبدیل ہوگئے ، اب میں خاص خاص آدمیوں سے معاملات کرتا ہوں ، امن کے زمانہ میں میں سمجھتا تھا کہ اگر میں کسی مسلمان سے معاملہ کروں گا اور مجھے کوئی نقصان پہنچے گا ” لیردن الی دینہ “ تو اس مسلمان کا دین میرے اس نقصان کو برداشت نہیں کرے گا یعنی وہ مسلمان مجھے دھوکہ دینے یا نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرے گا کسی غیر مسلم یعنی یہودی ، عیسائی یا مشرک سے معاملہ کرتے وقت مجھے یقین ہوتا تھا کہ اگر مجھے نقصان ہوا ” لیردن الی سلطنہ “۔ تو حاکم اس نقصان کی تلافی کردے گا یعنی میں اگر حاکم وقت کے پاس شکایت کروں گا تو وہ میرے نقصان کو برداشت نہیں کریگا بلکہ میرا حق دلا دے گا مجھے بالکل اطمینان تھا اور اچھے نظام کا یہی خاصہ ہے ، اس کے برخلاف ہم برے نظاموں کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں ، نہ دن کو سکون اور نہ رات کو آرام ہر وقت دشمن چور ، ڈاکو ، پڑوسی کا خطرہ رہتا ہے کسی سے معاملہ کرتے وقت تسلی نہیں ہوتی ، یہ نظام معیشت کی خرابی ہے کہ نہ امن وچین حاصل ہے اور نہ کشادہ روزی نصیب ہے ، مکان خوراک ، لباس ، عزت نفس ، صحت ، تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے ، جو ہر آدمی کو حاصل ہونی چاہئیں مگر یہاں حالت یہ ہے کہ ایک طرف سربفلک عمارات اور پرتکلف زندگی ہے تو دوسری طرف دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں سر چھپانے کو سایہ نہیں اور علاج کے بغیر لوگ موت کی آغوش میں جا رہے ہیں ، ان حالات میں امن وامان کا تصور کہاں کیا جاسکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بڑے احسانات کیے ہیں مگر یہ ان کی قدر نہیں کرتے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو کر کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔ (حلال اور طیب روزی) اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فکلوا مما رزقکم اللہ حللاطیبا “۔ پس کھاؤ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں روزی دی ہے حلال اور پاکیزہ چیزیں ، حرام اور ناپاک کے قریب بھی نہ جاؤ ، حرام دین اور اخلاق کو بگاڑ دیتا ہے اللہ نے اپنے سارے نبیوں کو یہی تعلیم دی (آیت) ” کلوا مما فی الارض حللاطیبا “۔ (البقرہ) زمین کی پاک اور حلال چیزیں استعمال کرو ، نجس اشیاء کو استعمال نہ کرو ، ظاہری نجاست یہ ہے کہ کوئی چیز گل سڑ جائے اور اس میں بدبوپیدا ہوجائے ، ایسی چیز مضر صحت ہوگی اور مکروہ تحریمی کے حکم میں آئے گی اور باطنی نجاست یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا نام لے کر بکری ذبح کرے مگر ہو وہ چوری کی تو یہ طیب ہرگز نہیں ہو سکتی بلکہ ظاہری طور پر بےعیب ہونے کے باوجود نجس ہی رہے گی آگے اللہ نے محرمات کی مختلف اقسام بھی بیان فرمائی ہیں چوری ، ڈاکہ ، رشوت ، سمگلنگ کا مال کبھی پاک نہیں ہو سکتا ، لہو ولعب کی کمائی ، فوٹو سازی اور فلمی صنعت سے کمایا ہوا مال کیسے طیب ہو سکتا ہے ، کھیل تماشا ہو یا گانا بجانا سب حرام ذرائع آمدنی ہیں ان ذرائع سے حاصل کردہ مال حلال نہیں ہوگا اور پھر یہ ہے کہ حرام اور نجس مال کھانے والے کی نہ عبادت قبول ہوتی ہے اور نہ دعا ، ایسی چیزیں انسان کے لیے جہنم کا زاد راہ بنیں گی ۔ (شکر گزاری) ایک تو حلال اور پاکیزہ چیزیں کھانے کی تلقین کی اور دوسرا فرمایا (آیت) ” واشکروا نعمت اللہ ان کنتم ایاہ تعبدون “۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو ، اگر تم خالص اسی کی عبادت کرنے والے ہو ، اللہ کی نعمتوں کی قدر کا یہی مطلب ہے کہ ہر نعمت جائز اور حلال ذرائع سے حاصل کی جائے اور اس کا استعمال بھی جائز ہو ، فضول اور حرام کاموں پر مال ضائع نہ کیا جائے ، حلال و حرام میں امتیاز رکھا جائے اور اللہ کے قانون کی پابندی کی جائے ۔