16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:88–89

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ہے اور روکا ہے اللہ کے راستے سے ہم زیادہ کریں گے ان کے لیے عذاب کے اوپر عذاب ، اس وجہ سے کہ وہ فساد کرتے تھے ۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس وقت کو اپنے خیال میں لاؤ ) جس دن ہم اٹھائیں گے ہر ایک امت سے گواہ ان پر انہی میں سے ، اور لائین گے ہم آپ کو گواہ بنا کر ان لوگوں پ ر اور اتاری ہے ہم نے آپ پر کتاب جو کھول کر بیان کرتی ہے ہر چیز کو ، اور ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے فرمانبرداروں کے لیے ۔

(ربط آیات) شرک اور مشرکین کے روکے بعد اللہ نے عذاب کی وعید سنائی اور مشرکین و کفار کے متعلق فرمایا کہ جب وہ عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر نہ تو اس میں تخفیف ہوگی اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائیگی اور اللہ تعالیٰ راضی کرسکیں ، مشرک لوگ اپنے معبودوں کو دیکھ کر اقرار کریں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے رہے مگر وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ ہمیں معبود مان کر ہماری عبادت کرنے لگو ، یہ تو خود ہی من مانی کرتے رہے فرمایا اس وقت ان کی تمام خود ساختہ کاروائیاں گم ہو کر رہ جائیں گی ، (اسلام کے راستے میں رکاوٹ) اسی عذاب کی وعید کے تسلسل میں ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” الذین کفروا “ وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ، کفر ، شرک ، نفاق وغیرہ قرآن پاک کی اصطلاحات ہیں ، کفر کا لغوی معنی چھپانا یا انکار کرنا ہے ، مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان کی بات کو چھپانا اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا اور پھر اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ (آیت) ” وصدوا عن سبیل اللہ “ اللہ کے راستے سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اصل میں یہی فعل فساد کی بنیاد بنتا ہے ، خود بھی اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا اور پھر دوسروں کے راستے میں بھی رکاوٹ بنے سورة انعام میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ “ خود بھی ایمان سے دور رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں ، اسلام کے راستے سے روکنا صرف مشرکین مکہ تک ہی محدود نہ تھا بلکہ ہر دور میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے فرعون بھی روکتا تھا ، قوم نوح اور قوم شعیب بھی اسی ڈگر پر چلتی تھی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم سے اسی طرح خطاب کیا تھا (آیت) ” ولا تقعدوا بکل صراط توعدون وتصدون عن سبیل اللہ من امن بہ وتبغونھا عوجا “۔ (الاعراف) ہر راستے پر مت بیٹھا کرو کہ جو شخص ایمان لاتا ہے تم اسے ڈراتے ہو اور راہ خدا سے روکتے ہو اور اس میں کجی تلاش کرتے ہو۔ دنیا کی کافر قوتیں آج بھی لوگوں کو اسلام کے راستے سے روکنے کوشش کر رہی ہیں ، عیسائی مشنریاں اسی کام پر لگی ہوئی ہیں نہایت گہری سازش کے ذریعہ لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس معاملہ میں برطانوی ، روسی ، فرانسیسی ، جرمنی عیسائی سب اکھٹے ہیں انگریزوں نے اپنے عروج کے دو سوسالوں میں اس معاملہ میں بڑی پیش رفت کی انہوں نے پس ماندہ اقوام کو لالچ دے کر عیسائیت کی طرف راغب کیا ، دنیا میں یہ کتاب موجود ہے ، دنیا مہذب نہیں بن سکتی ان کا اول وآخر مقصد قرآن پاک کو دنیا سے ختم کرکے دین اسلام سے لوگوں کا تعلق ختم کرنا ہے مگر اس عظیم کتاب کا محافظ خود اللہ تعالیٰ ہے ، اسی لیے پوری کوشش کے باوجود دنیا کی کوئی طاقت قرآن کریم کا ایک حرف بھی آگے پیچھے نہیں کرسکی ، چہ جائیکہ اسے نابود کردیا جاتا ، وہ جانتے ہیں کہ ان کی عیاشی ، فحاشی ، عریانی اور بےحیائی کی قاطع یہی کتاب ہے ، جب تک یہ ختم نہ ہو ان کی قبیح تہذیب پروان نہیں چڑھ سکتی ، یہ اتنے گندے لوگ ہیں کہ مرد وزن کی مرضی سے کیے گئے زنا کو زنا ہی نہیں سمجھتے ان کے نزدیک زنا صرف وہ جو بالجبر کیا جائے ، لواطت ان کے ہاں کوئی جرم نہیں اور دنیا کی ہر برائی ان کے ہاں جدید فیشن میں داخل ہے ۔ غرضیکہ کبھی خوشنما تہذیب کی آڑ میں لوگوں کو دین سے روکا جاتا ہے کبھی پیسے کے لالچ کے ذریعے ، کبھی سکول اور ہسپتال قائم کرکے اور کبھی قرآن اور دین کے ہمدرد بن کر اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، روسی اور چینی تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، مسلمانوں کو سرعام عبادت سے روکتے ہیں ایسا پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والے شک میں پڑجائیں اور آہستہ آہستہ دین سے بیزار ہوجائیں ، ادھر مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنی تاریخ تک پڑھنے کے لیے تیار نہیں اگر وہ ایسا کرتے تو غیر مسلم یلغار کا جواب دے سکتے مگر انہیں تو اسلامی مشاہیر کی بجائے یہودی ، عیسائی اور اشتراکی مشاہیر پر فخر ہے اور انہی کے گن گاتے ہیں ، یہ سارے جال مسلمانوں کی اپنے دین سے متنفر کرنے کے لیے پھیلائے جا رہے ہیں مگر مسلمان غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں اور کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں پچاس سے زیادہ اسلامی ریاستیں ہیں ، ان کے پاس وسائل کی کمی نہیں ، وہ بھی سکول ، کالج اور ہسپتال قائم کرکے عیسائی مشنریوں کا دروازہ بند کرسکتے ہیں وہ بھی پس ماندہ طبقوں کی دستگیری کرسکتے ہیں ، مگر اس کے لیے جذبہ ایمانی کی ضرورت ہے جو مسلمان میں مفقود ہے ، یہی وجہ ہے کہ دوسروں کو اسلام کے خلاف سازش کرنے کا موقع مل جاتا ہے ، مجوسیوں ، منافقوں اور یہودیوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں بڑی رخنہ اندازی کی ، انہوں نے اسلام کے اندر داخل ہو کر اسلام کو کمزور کیا ، فرقہ بندی کی اور مسلمانوں کو آپس میں لڑایا ، وہ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کا تعلق قرآن پاک سے جس قدر کمزور ہوگا ، اسی قدر مخالفت قوتوں کو کامیابی حاصل ہوگی ، بہرحال غیر مسلم اقوام نے ہمیشہ دین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے اور آج بھی کر رہے ہیں ۔ (مفسدین کے لیے سزا) فرمایا جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکا (آیت) ” زدنھم عذابا فوق العذاب “۔ ہم بڑھائیں گے ان کے لیے عذاب پر عذاب (آیت) ” بما کانوا یفسدون “۔ اس وجہ سے کہ وہ فساد کرتے تھے ، عذاب پر عذاب یعنی دوہرا عذاب اس لیے کہ انہوں نے خود بھی کفر کا راستہ اختیار کیا اور دوسروں کے راستے میں بھی رکاوٹ ڈالی لہذا ایک عذاب تو ان کے اپنے کفر کا ہوگا اور دوسرا لوگوں ک بہکانے کا اسلام کا بنیادی قانون تو یہی ہے کہ ہر مجرم کو اس کے گناہ کی ایک ہی سزا دی جائے مگر یہ لوگ چونکہ دوسروں کی گمراہی کے ذمہ دار بھی ہیں لہذا دوہری سزا کے مستحق ہوں گے ، حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1) (ترمذی ص 95 ج 2) ہے کہ جو کوئی اچھا راستہ قائم کرتا ہے اس کے اپنے عمل کا ثواب بھی ملے گا ، اور اس پر عمل کرنے والے لوگوں کے برابر ایک ایک مزید ثواب بھی اسے حاصل ہوگا ، اسی طرح برا راستہ قائم کرنے والا ، معاصی اور بدعات کی راہ نکالنے والا اس کردہ جرم کا مجرم بھی ہوگا اور پھر اس بری رسم پر چلنے والے ہر شخص کے بدلے ایک ایک گناہ اس ایجادہ کنندہ کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا رہیگا آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کا اولین قتل ناحق کیا تھا ، اب قیامت تک جنتے بھی قتل ناحق ہوں گے ان میں ہر قتل کا ایک گناہ آدم (علیہ السلام) کے اس بیٹے کے رجسٹر میں بھی درج ہوتا رہے گا جو اولین قتل ناحق کا مرتکب ہوا ۔ غرضیکہ کفر ، شرک ، معاصی اور خدا کی شریعت کی خلاف ورزی زمین میں فساد ہے ، ان امور سے زمین بگڑتی ہے ، انسانی سوسائٹی میں خوف وہراس اور بےاطمینانی پیدا ہوتی ہے ، زمین کی اصلاح اطاعت سے ہوتی ہے اور اس کا بگاڑ معاصی سے ہوتا ہے تو فرمایا کہ زمین میں فساد برپا کرنے والوں کو دگنا عذاب دیا جائے گا ۔ (انبیاء کی گواہی) قیامت کے دن ہر فسادی کے خلاف گواہ پیش کرنے کی بات گذشتہ درس میں بھی گزر چکی ہے اگلی آیت میں اسے پھر دوہرایا جا رہا ہے (آیت) ” ویوم نبعث فی کل امۃ شھیدا علیھم من انفسھم “۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب قیامت کے ہم ہر امت پر خود انہی میں سے گواہ پیش کریں گے ، ہر امت کا نبی اپنی امت کے خلاف گواہی دیگا کہ اس امت نے کس طرح اس کی بات کو ٹھکرایا اور تکالیف پہنچائیں ، اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا ، اغیار کی پوجا کرتے رہے شیطان کے نقش قدم پرچلتے رہے پھر اس گواہی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ ہر امت کے متعلق فیصلہ کریں گے ، فرمایا یہ تو سابقہ امتوں کی بات ہے اے پیغمبر آخر الزمان ، (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھؤلاء “۔ ہم آپ کو اس آخری امت کے لوگوں پر بطور گواہ لائیں گے ، آپ بھی اپنی کے حق میں یا ان کے خلاف گواہی دیں گے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا اس وقت کتنا خوفناک منظر ہوگا اور کتنی پریشانی کا عالم ہوگا جب محاسبے کی منزل آئے گی اور اللہ کی بارگاہ میں گواہیاں پیش ہوگی ، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نبی کا اتباع اختیار کرے تاکہ قیامت کے دن اس کی بہتر گواہی کا مستحق بن سکے ،۔ (قرآن بطور تبیان) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ونزلنا علیک الکتب “۔ اور ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف کتاب (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “۔ جو ہرچیز کو کھول کا بیان کرتی ہے یعنی ہر چیز کی بہت زیادہ وضاحت کرتی ہے ، ایک سطحی نظر میں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں ہر چھوٹی بڑی چیز کی وضاحت تو نہیں ہے ، پھر تبیان سے کیا مراد ہے ، تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کسی چیز کو کسی مقام پر اجمال کے ساتھ بیان کیا ہے اور کہیں تفصیل موجود ہے ، بعض مقامات پر نبی کریم ﷺ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل سے کسی حکم کی جزئیات سے آگاہ کردیں گے لہذا نبی کی وضاحت بھی قرآن پاک کی طرف سے ہی وضاحت سمجھی جائے گی ، اس کے علاوہ اگر کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں بالوضاحت موجود نہیں مگر اس پر مسلمانوں کا اجماع ہوگیا ہے تو وہ بھی منجانب اللہ ہی سمجھا جائے گا اور قرآن پاک کے تبیان ہی میں شمار ہوگا ، سورة النساء میں موجود ہے کہ جو شخص ہدایت کا راستہ واضح ہوجانے کے باوجود مومنوں کے راستے کے علاوہ کوئی دوسراراستہ اختیار کرے گا تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے ، جدھر وہ جانا چاہتا ہے اور اس کا ٹھکانا بالاخر جہنم ہوگا یہاں (آیت) ” غیر سبیل المؤمنین “۔ کا یہی مطلب ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں خصوصا خیرالقرون کے مسلمانوں کے متفقہ راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے ، گویا اجماع امت کے فیصلہ بھی قرآن پاک کے تبیان ہی کا حصہ شمار ہوگا ۔ زمانے کے ساتھ ساتھ نئے نئے پیدا ہونے والے مسائل کے حل وعقد کے لیے اللہ نے اجتہاد واستنباط کا اصول بھی بیان کیا ہے جگہ جگہ (آیت) ” فاعتبروا یاولی الابصار “ کے الفاظ آتے ہیں یعنی اے صاحب عقل وبصیرت لوگو ! کہیں فرمایا ’ (آیت) ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسائ) اگر کوئی مشکل پیش آئے گی تو اجتہاد واستنباط کرنے والے آپ کو بتائیں گے ، لہذا ان کی طرف رجوع کرو کہ یہ بھی بتیان میں داخل ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کا نظریہ یہ ہے کہ شریعت کے چار اصول ہیں یعنی کتاب اللہ سنت رسول اللہ ، اجماع صحابہ اور قیاس اگر پہلی تین چیزوں سے مسئلہ حل نہ ہو تو ائمہ مجتہدین کے قیاس کو دیکھ لو ، ان میں پہلے دو اصول یعنی قرآن اور سنت مثبت ہیں اور یہ کسی چیز کو ثابت کرتے ہیں البتہ دوسرے دو اصول یعنی اجماع اور قیاس مظہر ہیں ، یہ کسی چیز کا قطعی ثبوت نہیں مگر یہ کسی چیز کو ظاہر کردیتے ہیں ، امام ابوبکر جصاص (رح) ، امام شافعی (رح) شاہ ولی اللہ (رح) اور مولانا گنگوہی (رح) امام ابن تیمیہ (رح) وغیرہم فرماتے ہیں کہ ہر مسئلہ کی اصل بنیاد تو قرآن پاک ہی ہے اور سنت بھی قرآن کی شرح ہی ہے ، تاہم امام ابوبکر جصاص (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ کائنات کے ہر مسئلہ کے بارے میں اللہ کا حکم موجود ہے ، اس حکمیا تو خود اللہ کی کتاب نے واضح کیا ہوگا ، یا اس کا بیان اللہ کے نبی کی زبان سے ہوا ہوگا ، یامومنین کے انفاق اس پر شاہد ہوگا ، یا پھر ائمہ مجتہدین اس دلیل کو واضح کریں گے جس پر اس مسئلہ کی بنیاد ہوگی فرماتے ہیں کہ قرآن پاک ہر مسئلہ کی جزئیات بیان نہیں کرتا بلکہ اس میں اصول وقوانین موجود ہیں جن کی روشنی میں ہر جزو کا حل پیش کیا جاسکتا ہے ۔ (ہدایت رحمت اور خوشخبری) فرمایا ، اللہ کی یہ کتاب ” وھدی “ ہدایت ہے اور ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرتی ہے ، پھر جب لوگ اس ہدایت پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں تو فرمایا یہی کتاب ” ورحمۃ “ باعث رحمت بن جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مہربانی شامل حال ہوجاتی ہے ، اس کے علاوہ اللہ کا یہ کلام (آیت) ” وبشری للمسلمین “۔ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں اعلی مقام حاصل ہوگا ، سورة یونس میں بھی موجود ہے کہ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے (آیت) ” ان لھم قدم صدق عند ربھم “۔ تمہارے پروردگار کے پاس تمہارا سچائی کا قدم پڑ رہا ہے ، لہذا گھبراؤ نہیں تم اچھے ٹھکانے پر پہنچ جاؤ گے ، اگر ایمان میں استقامت حاصل رہی قرآن پر عمل کرتے رہے اور معاصی سے بچتے رہے ، کفر شرک اور بدعات سے پرہیز کیا تو تمہارے لیے خوشخبری ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے ہاں کامیاب ہوجاؤ گے ۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل کرنے کا احسان کرنے کا ، اور قرابت داروں کو دینے کا ، اور منع کرتا ہے بےحیائی سے ، نامعقول باتوں سے اور سرکشی سے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑ لو ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی گواہی کا ذکر کیا ، قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ کی بارگاہ میں شہادت دیں گے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا پیغام اپنی اپنی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ کی بارگاہ میں شہادت دیں گے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا پیغام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیا ، اور پھر آخر میں حضور ﷺ بھی اپنی آخری امت پر بطور گواہ پیش ہوں گے گذشتہ آیت میں اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کو واضح طور پر بیان کرتی ہے ، نیز فرمایا کہ یہ کتاب فرمانبرداروں کے لیے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے ۔ (جامع ترین آیت) گذشتہ درس میں (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “۔ کا ذکر ہوچکا ہے ، کہ قرآن پاک میں ہرچیز کی اساسی تعلیم موجود ہے ، چناچہ آج کی آیت اس دعوے کی دلیل کا ایک عمدہ نمونہ ہے ، اس مختصر سی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے چھ باتوں کا ذکر کیا ہے جن میں سے تین مثبت ہیں اور تین منفی ، کائنات میں کوئی اچھی یا بری چیز ایسی نہیں ہے جو ان چھ چیزوں سے باہر ہو ، اسی لیے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں ” اجمع ایۃ فی القران “۔ یعنی یہ آیت قرآن کریم کی جامع ترین آیت ہے ، اگر انسان اسی ایک آیت پر عمل کرے تو اس کی فلاح کے لیے یہی آیت کافی ہے ۔ اس آیت کی جامعیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی حضرات صرف یہی آیت کریمہ سن کر ایمان لائے ، حضرت عثمان ابن مظعون ؓ ابتدائی دور میں ہی اسلام لے آئے ، یہ حضور ﷺ کے رضاعی بھائی بھی ہیں ، مدینہ طیبہ پہنچ کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین میں سے سب سے پہلے فوت ہونے والے بھی آپ ہی ہیں ، آپ خود بیان کرتے ہیں کہ ابتداء میں میں اسلام قبول کرنے سے ہچکچاتا تھا ، ایک دفعہ حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھا تھا کہ آپ پر خاص کیفیت طاری ہوئی ، آپ نے دو دفعہ اوپر دیکھا پھر نگاہ مبارک نیچے کی طرف کرلی ، اس کے بعد آپ نے سلسلہ گفتگو پھر شروع کردیا ، کہتے ہیں کہ میں نے اس کیفیت کے متعلق حضور ﷺ سے دریافت کیا تو آپ نے یہی آیت پڑھ دی جو اس کیفیت کے دوران نازل ہوئی تھی ، اتنی جامع کمالات آیت سن کر میں فورا ایمان لے آیا ۔ اکثم بن سیفی ؓ اپنی قوم کے سردار تھے ، حضور ﷺ کے دعوی نبوت کے متعلق سنا تو دو آدمیوں کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تاکہ آپ کے حالات معلوم کیے جاسکیں ، یہ دونوں بڑے سمجھدار آدمی تھے ، آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سوال کیا ” من انت وما انت “ یعنی آپ کون ہیں اور کیا ہیں ؟ پہلے سوال (آپ کون ہیں) کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا ” انا محمد ابن عبداللہ “ یعنی میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں ، البتہ دوسرے سوال (آپ کیا ہیں) کے جواب میں فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں ، پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی (آیت) ” ان اللہ یامر۔۔۔۔۔۔۔ الایۃ “۔ یہ سن کر وفد بڑا متاثر ہوا اور انہوں نے واپس جا کر اکثم سے کہا کہ ہم نے اس شخص سے دو سوال کیے پہلے سوال کا مقصد آپ کا نسب نامہ معلوم کرنا تھا کیونکہ عرب لوگ نسب پر بڑا فخر کرتے تھے مگر آپ نے اس سوال پر زیادہ توجہ نہیں دی ، بلکہ مختصر جواب دیا کہ میں محمد ابن عبد اللہ ہوں ، البتہ دوسرے سوال کا جواب آپ نے تفصیل کے ساتھ دیا اور یہ آیت بھی پڑھی ، وفد نے سفارش کی کہ آپ اپنے دعوی نبوت میں سچے ہیں ، لہذا آپ کی دعوت قبول کر لینی چاہئے چناچہ آیت متذکرہ کا مضمون سن کر اکثم کہنے لگے کہ میں دیکھتا ہوں کہ پیغمبر اسلام تمام عمدہ باتوں اور اعلی اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور تمام رذیل اخلاق و اعمال سے روکتے ہیں کہنے لگے ، اے لوگو ! میں تمہیں مشورہ دیتا ہوں کہ آپ کے ماننے میں جلدی کرو ” فکونوا فی ھذا الامر رء وسا ولا تکونوا اذنابا “۔ اس معاملے میں سر یعنی سردار بن کر پہل کرو اور پیچھے رہنے والے دم چھلے نہ بنو ، دین کی قبولیت میں جلدی کرنا بڑی سعادت کی بات ہے ابوسفیان ؓ اپنے خاندان سمیت فتح مکہ کے دن اسلام لائے اور دین کے زبردست حامی بن گئے ، آپ نے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں انجام دے مگر افسوس کیا کرتے تھے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے میں بڑی دیر کردی ۔ (اسلام کا عالمی پروگرام) درحقیقت یہ آیت کریمہ اسلام کے عالمی پروگرام پر مشتمل ہے ، اسی لیے حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) کے زمانے سے یہ آیت جمعہ کے خطبہ میں پڑھی جاتی ہے مولانا عبید اللہ سندھی (رح) نے بھی قرآن پاک کی بہت زیادہ خدمت کی ہے آپ نے زندگی کا پیشتر حصہ جلاوطنی میں گزارا مگر قرآن پاک کی بہت زیادہ خدمت کی ہے آپ نے زندگی کا پیشتر حصہ جلاوطنی میں گزارا مگر قرآن پاک کو سینے سے لگائے رکھا اور جہاں بھی گئے قرآن پاک پڑھاتے رہے ، تو آپ نے پنتالیس (45) برس تک قرآن کی تعلیم دی اور سات (7000) ہزار علماء نے آپ سے اکتساب فیض کیا ، روس گئے تو وہاں پر دیگر لوگون کے علاوہ موسیٰ جار اللہ جیسے بڑے عالم نے آپ سے قرآن پڑھا ، چار سال تک ترکی میں رہے تو ارباب حکومت کو خبردار کیا تو الحاد کے سیلاب میں بہتے جا رہے ہو۔ آؤ میں تمہیں قرآن پاک کی چالیس سورتوں کا ایسا خلاصہ بتاتا ہوں کہ اس کو اپنے پروگرام میں شامل کرلو گے تو بےدینی سے بچ جاؤ گے ، مگر مصطفے کمال نے آپ کی دعوت کی طرف توجہ نہ دی ترکی سے آپ مکہ مکرمہ آگئے اور بارہ برس تک لوگوں کو قرآن پاک تفسیر پڑھاتے رہے جب وطن واپس آئے تو فرمایا کہ بڑھاپے کی اس عمر میں کوئی شخص حرم شریف کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر میرے سینے میں قرآن کریم کا ایک پروگرام ہے میں چاہتا ہوں کہ یہ پروگرام موت سے پہلے تمہیں بھی بتا دوں ، آپ نے فرمایا کہ سورة النحل کی یہ آیت (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ “۔ اسلام کا عالمی پروگرام ہے مسلمانوں کا یہ فخریہ پروگرام ہے جو کسی دیگر قوم کے پاس نہیں ہے ، اس کو لے کر آگے بڑھو تو فلاح و کامیابی تمہارے قدم چومے گی مگر افسوس کا مقام ہے کہ خود مسلمان اس پروگرام کو پس پشت ڈال چکے ہیں اور اس کی بجائے عیسائیوں ، یہودیوں اور دہریوں کا پروگرام اپنانے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں مشرقی لوگ اب مغربی ممالک کے پروگرام کے مطالعہ کے لیے جاتے ہیں ان کی مشیر یہاں آتے ہیں تو اپنے پروگرام کی روشنی میں یہاں کے لیے سکی میں بناتے ہیں جنہیں ہم خوشی سے قبول کرتے ہیں ، ہم غیر مسلم اقوام کی شاگردی اختیار کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اغیار کے پروگرام پر عمل کرکے ہی ترقی یافتہ بن سکتے ہیں ہم نے وہ عالمی پروگرام ترک کردیا ہے جس پر عمل پیرا ہونے پر اللہ نے پہلے بھی اقوام عالم میں سربلند کیا تھا اور آئندہ کے لیے بھی ہماری عزت ووقار کا دارومدار اسی پروگرام پر ہے ۔ (تین مثبت چیزیں (1) عدل) اس پروگرام کے پہلے حصے میں تین مثبت چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل “۔ اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے ، یہ پہلی چیز ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ایک بزرگ محمد ابن کعب قرظی (رح) سے کہا کہ بھائی ذرا عدل و انصاف کی تعریف تو کرو کیونکہ اس آیت کریمہ میں اللہ نے سب سے پہلا حکم عدل کا دیا ہے ، کہنے لگے آپ نے یہ بڑا مشکل سوال کیا ہے تاہم سن لو ! عدل کا مفہوم یہ ہے ” کن لصغیر ابا “ یعنی چھوٹے شخص کے لیے باپ کی طرح شفیق اور رحمدل بن جاؤ ، اور بڑے شخص کے لیے بیٹے کی مانند مؤدب ہوجاؤ کیونکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے ” من لم یؤقر کبیرنا ولم یرحم صغیرنا فلیس منا “۔ یعنی جو بڑے کا ادب اور چھوٹے پر رحم نہیں کرتا ، وہ ہماری پارٹی کا آدمی نہیں ہے ، فرمایا جو تمہارے برابر ہو ، اسے بھائی کی مانند سمجھو کیونکہ ” المرء اکثر لاخیہ “ عربی لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو بھائیوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہوتی ہے ، جس شخص کے جتنے بھائی ہوں گے ، اتنے ہی اس کے بازو ہوں گے اور اسے قوت حاصل ہوگی ، روح المعانی والے کہتے ” وکذلک للنسآء “ اور عورتوں کے حق میں بھی ایسے ہی بن جاؤ ان کو بھی نظر انداز نہ کرو ، ان کے حق میں بھی شفقت و مہربانی کا اظہار کرو ، محمد بن کعب قرظی (رح) نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ! کسی مجرم کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہ دو حتی کہ کسی کے حق میں ایک کوڑا بھی زیادہ نہیں ہونا چاہئے ، فرمایا یہ سب چیزیں عدل و انصاف میں داخل ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) (ہمعات ص 89 وحجۃ اللہ البالغۃ ص 53 ج 1) فرماتے ہیں کہ چار اصول ایسے ہیں جن کی تعلیم تمام انبیاء نے دی ہے ، ہماری شریعت میں بھی یہ اصول رائج ہیں ، غرضیکہ تمام آسمانی شرائع کا لب لباب یہ چار اصول ہیں ، پہلا اصول طہارت یعنی پاکیزگی ہے ، دوسرا اخبات یعنی عجز و انکساری ہے ، تیسرا اصول سماحت یعنی رذیل اخلاق سے پرہیز ، اور چوتھا اصول عدل ہے ، اجتماعی معاملات عدل کے بغیر درست نہیں ہو سکتے ، عدل کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” اذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل “۔ (النسآئ) جب تمہیں لوگوں پر حاکم بنایا جائے تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو ، نیز فرمایا (آیت) ” واذا اقلتم فاعدلوا “۔ (الانعام) جب بات کرو تو انصاف کی کرو اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” اعدلو ، ھو اقرب للتقوی “۔ (المآئدۃ) عدل کیا کرو کہ یہ تقوی سے قریب تر عمل ہے ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ معاملہ اپنوں کا ہو یا بیگانوں کا ہاتھ سے نہ چھوڑو چاہے تمہیں کتنا بھی نقصان اٹھانا پڑے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ عدل کرنے والوں کو قیامت کے دن کستوری کے میزوں پر بٹھایا جائے گا یہ ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے انصاف کرتے وقت اپنے بیگانے کا لحاظ رکھا ، نہ دوست اور دشمن کا فرق کیا حقدار کو حق ادا کرنا ، معاشرے میں عدل اور توازن قائم رکھنا بڑا مشکل کام ہے آج دنیا میں عدل ملتا نہیں بلکہ خریدنا پڑتا ہے ، عدالتیں بڑی مہنگی ہیں ، عدلیہ کی فیس اور وکیلوں کا معاوضہ ادا کرنا کمزور آدمی کے بس کی بات نہیں ، مالدار لوگ سرمائے کے بل بوتے پر اپنا ہر جائز اور ناجائز مقصد حاصل کرلیتے ہیں منصف اور وکیل متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ، اس لیے غریب آدمی کو انصاف نہیں ملتا کہاں اسلام کا نظام عدل ہو جو حاکم اور محکوم ، بڑے اور چھوٹے ، آقا اور غلام ، گورے اور کالے ، اپنے اور بیگانے میں کوئی امتیاز روا نہ رکھے ، عدل کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے تمام عقائد ، اعمال ، اخلاق معاملات اور جذبات انصاف کے ترازو میں تلے ہوئے ہوں ، افراط وتفریط کی وجہ سے کوئی پلڑا جھکنے یا اٹھنے نہ پائے ، سخت سے سخت دشمن کے ساتھ بھی معاملہ کرے تو انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ، انسان کے ظاہر و باطن یکساں ہوں ، جو بات اپنے لیے ناپسند کرے وہ بھائی کے لیے بھی پسند نہ کرے ، امام بیضاوی (رح) لکھتے ہیں کہ عدل میں سب سے پہلے توحید کا درجہ ہے کیونکہ توحید تعطیل اور تشریک کے درمیان والا راستہ ہے ایک طرف تعطیل ہے یعنی خدا تعالیٰ کو محض معطل تصور کرلیا جائے کہ وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا ، اسکی کوئی صفت نہیں ، وہ کسی کا حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ، بس محض نام کا خدا ہے (نعوذ باللہ) اور دوسری طرف عبادت ، ریاضت اور صفات میں غیروں کو شریک بنایا جائے ، ان دونوں خرابیوں کے درمیان توحید ہی نقط عدل ہے اور اسی کو اختیار کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا بھی عین عدل ہے ، اس کے برخلاف عبادت میں اس قدر غرق ہو کہ انسان راہب بن کر دنیا میں ترک کر دے ، یہ افراط ہوگا دوسری صورت یہ ہے کہ انسان خدا کی عبادت سے بالکل ہی منہ موڑ جائے اور بالکل بیکار ہو کر بیٹھ جائے ، یہ تفریط ہوگی تو گویا صحیح طریقے سے عبادت کرنا بھی عدل کے زمرہ میں آتا ہے ، اسی طرح سخاوت یا جود ہے جو بخل اور اسراف کے درمیان عدل کی منزل ہے ، انصاف کی بات یہی ہے کہ انسان بخل اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے اعتدال کی راہ اختیار کرے جسے جود کا نام دیا گیا ہے ۔ (2) (احسان) تین مثبت چیزوں میں دوسری چیز فرمایا ” والاحسان “ وہ احسان ہے ، ایک حدیث کی اصطلاح میں اعلی درجے کی عبادت کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ، کہ احسان اب چیز کا نام ہے تعبیر کیا گیا ہے حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ احسان اس چیز کا نام ہے ” ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یعامک “۔ کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طریقے سے کر کہ گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ صورت حال پیدا نہ ہو سکے تو کم از کم اتنا تو تصور کرلے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے یہ تو احسان کا معنی ہے ، البتہ اس مقام میں احسان سے مراد نیکی ، ہمدردی ، فیاضی ، اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح ، ان کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ (آیت) ” واللہ یحب الحسنین “۔ (آل عمران) قارون سے بھی لوگوں نے کہا تھا (آیت) ” احسن کما احسن اللہ الیک “۔ (القصص) تم بھی لوگوں پر احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے مگر وہ کہنے لگے (آیت) ” انما اوتیتہ علی علم عندی “۔ میں نے یہ دولت اپنے علم وہنر کی بنا پر جمع کی ہے ، اس میں اللہ کے احسان کی کیا بات ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا ۔ احسان کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان خود نیکی اور بھلائی کا پیکر بن کر دوسروں کا بھلا کرے ، اگر خود نیک عمل نہیں کرتا تو دوسروں کو تبلیغ کرنے کا کیا اثر ہوگا ؟ اگرچہ دوسروں کو نیکی کی تلقین کرنا بجائے خود اچھی بات ہے اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ بڑی کمزور بات ہے کہ خود تو فرائض کا تارک مگر دوسروں کو حکم دیتا ہے ، یا خود سنت پر عمل نہیں کرتا مگر دوسروں کو اس کی تلقین کرتا ہے اچھا نتیجہ اسی وقت نکلے گا جب خود عامل بن کر دنیا کے سامنے آئے گا ، اگر قول وفل میں تضاد پایا گیا تو دنیا ایسی نیکی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگی آج بھی یورپ ، امریکہ اور جاپان وغیرہ کے لوگ مبلغ کے کردار کو دیکھتے ہیں ، جس شخص کا کردار درست ہوتا ہے اس کی بات بھی آگے چلتی ہے ۔ بہرحال نیکی کا پیکر بن کر دوسروں کا بھلا چاہنا بہت بڑی بات ہے سورة الرحمن میں موجود ہے (آیت) ” ھل جزآء الاحسان الا الاحسان “ احسان کا بدلہ تو احسان ہی ہے یعنی نیکی کا بدلہ نیکی ہے ، اور یہ نیکی اپنے ، بیگانے دوست اور دشمن سب کے ساتھ ہونی چاہئے یہی احسان کی منزل ہے ۔ (3) (قرابتداروں کا حق) فرمایا تیسری مثبت چیزیہ ہے (آیت) ” وایتآی ذی القربی “۔ قرابت داروں کا حق ادا کرنا ہر شخص کے ساتھ اچھا سلوک کرنا احسان کی منزل ہے جبکہ قرابت داروں کا حق ڈبل ہوتا ہے ۔ ایک دین کا رشتہ ہوتا ہے اور دوسرا قرابت کا لہذا دوسرے لوگوں کی نسبت ان کا حق فائق ہوتا ہے ، اسی لیے اس آیت کریمہ میں احسان کے بعد حق قرابت کو علیحدہ عنوان کے ساتھ بیان کیا ہے کہ قرابت داروں کے حقوق بھی ادا کرو ، رشتہ دار خواہ مخالفت ہوں یا موافق ان کا خیال رکھو ، اگر محتاج ہیں تو ان کی اعانت کرو ، شریعت میں صلہ رحمی کی بڑی تاکید آئی ہے ، لہذا اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آؤ معاشرے کی اصلاح کے لیے یہ بہت بڑا اصول ہے ۔ (تین منفی چیزیں (1) فحاشی) تین مثبت چیزیں بیان کرنے کے بعد اللہ نے تین منفی چیزوں سے منع فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وینھی عن الفحشآء “۔ اللہ تعالیٰ تمہیں بےحیائی سے روکتا ہے ، حضرت شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ تین قوتیں ایسی ہیں جو ساری خرابیوں کی جڑ ہیں ، پہلی قوت بہیمیہ شہوانیہ ہے ، دوسری قوت بہیمیہ شیطانیہ ہے ، اور تیسری غضبیہ سبعیہ ہے یہ تینوں قوتیں فحاشی سے تعلق رکھتی ہیں جن کا منشا شہوت اور بہیمیت کی زیادتی ہوتا ہے عریانی ، زنا ، لواطت ، گالی گلوچ ، رقس و سرود ، بداخلاق ڈرامے وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو انسانیت شہوانیت میں اضافہ کرتی ہیں ، فحاشی قول کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور عمل کے ذریعے بھی ، اگر انسان کا عقیدہ اور اخلاق خراب ہوجائے تو عرب لوگ اس کو بھی فحاشی سے تعبیر کرتے ہیں ، عربوں کے نزدیک بخل بھی اسی زمرے میں آتا ہے ، مگر آج پوری دنیا عریانی کی لپیٹ میں ہے اور اس سے اجتناب کرنے کی بجائے اس پر فخر کیا جاتا ہے نیم برہنہ تصاویر ، ناچ اور گانا وغیرہ بداخلاقی کی باتیں ہیں جن سے خدا نے منع کیا ہے جو شخص فحاشی کی باتوں میں ملوث ہوگا ، وہ فلاح نہیں پاسکتا۔ (2) (منکر) دوسری منفی بات ” والمنکر “ ہے اس میں وہ تمام بری چیزیں آجاتی ہیں جن سے شریعت بھی منع کرتی ہے اور عقل بھی برا مناتی ہے ہر نامعقول بات جو فطرت سلیمہ اور عقل صحیحہ کے خلاف ہو منکر کی تعریف آتی ہے ، اس کا منشاء قوت بہیمیہ اور قوت شیطانیہ کا غلبہ ہوتا ہے ، اللہ نے ایسی تمام چیزوں سے منع فرمایا ہے ۔ (3) (سرکشی) تیسری ممنوع چیز کے متعلق فرمایا (آیت) ” والبغی “ یہ بغاوت اور سرکشی ہے ۔ جس سے اللہ نے منع فرما دیا ہے ہر قسم کا ظلم ، زیادتی ، تعدی مار پیٹ گالی گلوچ چھینا چھپٹی ، بےعزتی ، قانون شکنی ، چوری ڈاکہ وغیرہ بغی کی تعریف میں آتے ہیں ان سے بچنا چاہئے ۔ الغرض تین کام کرنے اور تین کام نہ کرنے کا بیان فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اہل اسلام کا اجتماعی پروگرام واضح کردیا اور آخر میں فرمایا ” یعظکم اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے اور سمجھاتا ہے (آیت) ” لعلکم تذکروں “ تاکہ تم نصیحت پکڑ لو اور اوامر ونواہی کو سمجھ جاؤ اور پھر ان پر عمل پیرا ہوجاؤ ۔
Ayahs 16:91–95

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور پورا کرو اللہ کے عہد کو جب کہ تم عہد کرو ، اور نہ توڑو تم قسموں کو ان کے پختہ کرنے کے بعد اور تحقیق ٹھہرایا تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر ضامن ، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور نہ ہو اس عورت کی طرح کہ جس نے توڑ دیا اپنا کا تا ہوا مضبوطی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے بناتے ہو ، تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کا ذریعہ ، اس لیے کہ ایک گروہ زیادہ بڑھا ہوا ہوتا ہے دوسرے سے بیشک اللہ تعالیٰ تم کو آزماتا ہے اس کے ساتھ ، اور وہ کھول دیگا تمہارے سامنے ان باتوں کو جن میں تم اختلاف کرتے تھے ۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو کردیتا تم کو ایک ہی امت لیکن وہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہے اور تم سے سوال کیا جائے گا ان کاموں کے بارے میں جو تم کیا کرتے تھے ۔

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور نہ بناؤ تم اپنی قسموں کو فساد اور خرابی کا ذریعہ اپنے درمیان پس پھسل جائیں گے قدم پختہ ہونے کے بعد اور چکھو گے تم سزا میں اس وجہ سے کہ تم نے روکا اللہ کے راستے سے اور تمہارے لیے عذاب عظیم ہوگا ۔

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور نہ خریدو اللہ کے عہد کے ساتھ قیمت تھوڑی بیشک جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم جانتے ہو ۔

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوستہ درس میں قرآن کریم کی جامعیت کا ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کو (آیت) ” تبیانا لکل شیئ “ بنایا ہے یعنی اس کتاب میں بنیادی طور پر ہر چیز کی وضاحت موجود ہے ، اس کے بعد گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جامع ترین آیت (آیت) ” ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ میں تین مثبت اور تین منفی اشیاء کا ذکر فرمایا یعنی تین کام کرنے کا حکم دیا اور تین سے منع فرما دیا ، کرنے والے امور میں عدل واحان اور قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ہے اور روکنے والے کام بےحیائی ، برائی اور سرکشی ہیں ، یہ آیت کریمہ قرآن کے تبیان کی بہترین مثال ہے کہ کوئی اچھی یابری چیز ایسی نہیں جو ان چھ باتوں سے باہر ہو ، اس کی تشریح سابقہ درس میں عرض کردی گئی تھی یہ آیت خطبہ جمعہ میں بھی پڑھی جاتی ہے ۔ (تحریف معنوی کی جسارت) قرآن پاک کی اس عظیم آیت کے معانی بدلنے میں بعض فرقوں نے پوری پوری کوشش کی ہے ، مثلاروافض کی بدنصیبی ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے مثبت چیزوں کو تو اپنے اصلی معانی پر محمول کیا ہے ، جب کہ منفی چیزوں میں اس طرح معنوی تحریف کی ہے کہ ” فحشاء “ سے مراد ابوبکر ؓ منکر سے مراد حضرت عمر فاروق اور بغی سے مراد حضرت عثمان ؓ ہیں (العیاذباللہ) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں بزرگ ترین ہسیتوں سے منع کیا ہے اور اس طرح لوگوں کو ان حضرات سے متنفر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تحریف معنوی میں قادیانی بھی روافض سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے از خود ایک بستی آباد کی جس کا نام ربوہ رکھا ، پھر جاہلوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہہ دیا کہ دیکھو اس بستی کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے ، سورة المؤمومنون میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک انعام یاد دلایا ہے (آیت) ” وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ واوینھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین “۔ ہم نے مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کو اپنی نشانی بنایا اور انہیں جائے قرار اور جاری پانی ولی جگہ پر پناہ دی ، قادیانی طبقہ کہتا ہے کہ یہاں پر ابن مریم سے مراد خود ان کا گروہ ہے ، کہتے ہیں کہ دیکھو قرآن پاک میں ہمارا ذکر ہے ہم دریائے چناب کے کنارے پر ربوہ میں آباد ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے عقیدے اور ایسی تحریف سے اپنی پناہ میں رکھے ، کہاں ابن مریم اور آپ کی والدہ اور کہاں قادیانی فتنہ اور اس کا خود ساختہ ربوہ ۔ (عہد کی پابندی) بہرحال اللہ تعالیٰ نے تین مثبت اور تین منفی چیزوں کا حکم دینے کے بعد عہد و پیمان پر قائم رہنے کا حکم بھی دیا ہے عہد و پیمان ایک انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی کرتا ہے اور اپنے ہم جنس بندوں کے ساتھ بھی ، دونوں قسم کے عہد کا مطلب یہ ہے کہ جو عہد و پیمان اللہ کے نام پر ، اس کو حاضر ناظر جان کر یا اس کے نام کی قسم اٹھا کر کیے جائیں ، ان کو پورا کیا جائے ، پھر یہ ہے کہ عہد عمومی بھی ہوتے ہیں اور خصوصی بھی ، عمومی عہد یہ ہے کہ جب ایک مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتا ہے اور اللہ کی وحدانیت اور حضور ﷺ کی شریعت کی پابندی اپنے ذمے لازم قرار دیتا ہے ، تو اب اس کا فرض ہے کہ اس عہد کو پورا کرے اور اس کے خلاف نہ چلے خصوصی معاہدات وہ ہوتے ہیں جو ایک انسان کسی دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے ، اس کا پورا کرنا بھی ضروری ہے ورنہ انسان اخلاقی طور پر منافق ہوگیا ۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم “۔ اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو (آیت) ” ولا تنقضوالایمان بعد توکیدھا “۔ اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد مت توڑو۔ (آیت) ” ولقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا “۔ اور تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر کفیل یا ضامن بنایا ہے ، یعنی خدا تعالیٰ کو گواہ بنا کر عہد کی پابندی کا وعدہ کیا ہے ، تو پھر اپنے وعدے کی پوری پوری پاسداری کرنا اور عہد شکنی کے لیے کسی حیلے بہانے کا سہارا نہ لینا (آیت) ” ان اللہ یعلم ما تفعلون “۔ بیشک اللہ تعالیٰ تماہری کارگزاری کا جانتا ہے ۔ عہدشکنی کی مثال اللہ نے اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” ولا تکونوا کا لتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا “۔ اور اس عورت کی طرح نہ ہوجانا جو اپنے کا تے ہوئے سوت کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے مشہور ہے کہ مکہ کی ایک صاحب مال عورت دن بھر سوت کا تتی اور شام کو ان کہتی ہوئی ایٹوں کو توڑ ڈالتی بعض کہتے ہیں کہ وہ عورت سال کا اکثر حصہ سوت کا تتی رہتی کہ جب کپڑا بنانے کا موسم آئے گا تو اس سے کپڑا بنوا کر کسی کو تحفہ میں دے دوں گی ، جب وہ موسم آتا تو کپڑا بنوانے کی بجائے سوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیتی ، یہ ایسی بیوقوف عورت تھی تو اللہ نے فرمایا کہ عہد و پیمان کی مثال کہتے ہوئے سوت جیسی ہے ، پیمان کو پختہ کرنے کے بعد توڑ ڈالنا کہتے ہوئے سوت کو ضائع کردینے کے مترادف ہے ۔ (عہد شکنی کی ممانعت) ارشاد ہوتا ہے تتخذون ایمانکم دخلا بینکم “ تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد اور خربی کا ذریعہ بناتے ہو ۔ (آیت) ” ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ “۔ اس واسطے کہ ایک گروہ دوسرے سے بڑھا ہوا ہوتا ہے پہلے تم ایک گروہ سے معاہدہ کرتے ہو پھر دیکھتے ہو کہ دوسرا گروہ اس سے بڑھا ہوا ہے تو پہلے گروہ کا عہد و پیمان توڑ کر دوسرے گروہ کے ساتھ سمجھوتا کرلیتے ہو ، فرمایا یہ بہت بری بات ہے ، عہد و پیمان پر سختی سے قائم رہو ، عہدشکنی منافق کی صفت ہے ” اذا عاھد غدر “ جب وہ عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ، اس کے برخلاف مومن کے لیے حکم یہ ہے (آیت) ” اوفوا بالعقود “۔ (المائدہ) عہد کو پورا کرو ، عہد شکنی کے نتائج بڑے خراب نکلتے ہیں ، انسان سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور وہ ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے ، صاحب تفسیر حسینی لکھتے ہیں کہ مکی زندگی میں بھی بعض لوگوں نے حضور ﷺ کی حمایت کا عہد کیا تھا ، اس وقت مسلمانوں کی حالت بڑی کمزور تھی ۔ جب انہوں نے قریش کا پلہ بھاری دیکھا تو آپ سے کیے گیے معاہدہ کی کچھ پرواہ نہ کی اور قریش کی حمایت کا فیصلہ کرلیا ، اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے عہد شکنی کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے برخلاف اس کے اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں نے عہد و پیمان کی سختی سے پابندی کی جس کی وجہ سے ان کا اعتماد بحال ہوا اور اسلام کو ترقی حاصل ہوئی ۔ (اغیار کی عہد شکنی) انگریزوں نے اپنے دورعروج میں مختلف اقوام سے جو معاہدے کیے ان کی پابندی نہیں کی ، پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں نے ترکوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا مگر جب انگریزوں کو فتح حاصل ہوگئی تو معاہدے کی تکمیل میں لیت ولعل کرنے لگے ، جب ان کی توجہ اس طرح دلائی گئی تو برطانیہ کے وزیر جنگ لارڈ جارج نے برملا کہہ دیا کہ اس قسم کے معاہدے پورا کرنے کے لیے نہیں بلکہ محض وقت گزاری کے لیے جاتے ہیں ، امریکہ پاکستان کا شروع سے حلیف ہونے کا دعوی کرتا رہا ہے مگر جب بھی ضرورت پڑی اس نے وعدہ ایفا نہ کیا ، پاک ہند 1965 ء اور 1971 ء کی جنگوں میں امریکہ نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی ملک دولخت ہوگیا ، مگر یہ جہاز ہی دوڑاتا رہا ہے اور عملی طور پر معاہدے کا حق ادا نہ کیا ، یہ منافق قسم کے لوگ ہیں ، جو بھی ان پر اعتماد کرے گا دھوکا کھاجائے گا ، امریکہ اور برطانیہ عربوں کے ساتھ دوستی کا دم بھرتے ہیں مگر دلی ہمدردی اسرائیل کے ساتھ ہے ، اسرائیل کو ایٹمی طاقت بنانے والے یہی لوگ ہیں ، ورنہ اس کی کیا حیثیت ہے ؟ بہرحال غیر مسلم اقوام کے برخلاف اسلام ہر قسم کے عہد کو پورا کرنے کی تعلیم دیتا ہے خواہ اس میں کتنا بھی نقصان کیوں نہ ہو ، اسی لیے فرمایا اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کا ذریعہ بناتے ہو کہ ایک قوم کے ساتھ معاہدہ کرتے ہو اور پھر دوسری طرف پلہ بھاری دیکھ کر ادھر ہوجاتے ہو ، یہ ہرگز روا نہیں ۔ فرمایا (آیت) ” انما یبلوکم اللہ بہ “۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس قسم کے واقعات سے آزماتا ہے کہ یہ وعہد و پیمان میں کس قدر پختہ ہیں اور اپنی بات پر کس حد تک ثابت قدم رہتے ہیں ، فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون “۔ اور قیامت والے دن اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیگا جن میں تم اختلاف کرتے ہو ، اس وقت حقیقت حال پورے طریقے سے واضح ہوجائے گی ، ۔ (گمراہی اور ہدایت کا راستہ) یہ اللہ تعالیٰ کی کمال حکمت ہے کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ، کوئی مومن ہے کوئی کافر اور کوئی نیک اور کوئی بد ، فرمایا (آیت) ” ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت یا گروہ بنا دیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے سورة الانعام میں گزر چکا ہے (آیت) ” ولوشآء اللہ لجمعکم علی الھدی “۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ، مگر یہ جبری ہدایت ہوتی جو اس کے منشاء کے خلاف ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی خود انسان کی صوابدید پر رکھی ہے ، ایمان وہی قابل قبول ہوگا جو وہ اپنی رضا ورغبت سے اختیار کرے گا ، اور اگر کفر کا راستہ اختیار کرے گا تو عند اللہ ماخوذ ہوگا ۔ فرمایا اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی گروہ میں شامل کردیتا مگر (آیت) ” ولکن یضل من یشآئ “۔ بلکہ وہ جسے چاہتا ہے گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ، اور گمراہ وہی ہوتا ہے جو ہٹ دھرمی اور ظلم و زیادتی کی بناء پر اپنی استعداد کو خراب کرلیتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے واضح طور پر اعلان فرما دیا ہے (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الفسقین “۔ (الصف) اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “۔ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو راہ راست پر نہیں لاتا (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الکفرین “۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ہدایت نصیب نہیں کرتا ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “۔ (النسائ) اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر ٹھپے مار دیے ہیں ، سورة مطففین میں ہے (آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون “۔ ان کی کارکردگی کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے اللہ تعالیٰ بلاوجہ کسی کے دل پر مہر لگا کر اسے ہدایت سے محروم نہیں کردیتا اور نہ اسے ایمان سے محروم کرتا ہے ، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کے منافی ہے ، بلکہ اللہ تعالیٰ ہدایت کی ساری باتیں واضح کرنے کے بعد گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اسی طرف ڈال دیتا ہے ۔ فرمایا اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے (آیت) ” ویھدی من یشآء “۔ اور جسے چاہتا ہے ہدایت کے راستے پر ڈال دیتا ہے اور اس کی اصل مشیت ہدایت کی طرف ہی ہوتی ہے ، جو شخص ہدایت کا متلاشی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے نصیب کردیتا ہے ، بلکہ اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی “۔ (محمد) جو ہدایت کے راستے کی طرف آنا چاہتے ہیں ، اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ فرماتا ہے ، اور رجوع کرنے والے کو زیادہ بڑھا دیتا ہے فرمایا (آیت) ” ولتسئلن عما کنتم تعملون “۔ اور تم سے سوال کیا جائے گا ان کاموں کے متعلق جو تم کرتے تھے ، آگے منزل آنے والی ہے جب کوئی عذر نہیں سنا جائے گا ، لہذا کسی کے ساتھ بدعہدی نہیں کرنی چاہئے ، بلکہ ہر مومن اور کافر کے عہد کو پورا کرنا چاہئے ۔ (بدعہدی ذریعہ فساد ہے) فرمایا (آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم “۔ اپنی قسموں کو اپنے درمیان فساد کا ذریعہ نہ بناؤ ، پہلے قسم اٹھا کر پختہ عہد کرلیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی ، یہ اخلاقی طور بڑی معیوب بات ہے ، اگر ایسا کرو گے (آیت) ” فتزل قدم بعد ثبوتھا “۔ تو قدم مضبوط ہونے کے بعد پھر پھسل جاؤ گے ، اس کا نتیجہ بداعتمادی کی صورت میں نکلے نکلے گا ، کوئی تمہارا حامی نہیں ہوگا ، اگر تم عہد کی پابندی نہیں کرو گے تو لوگوں کو دین سے بیزار کرنے کا ذریعہ بنو گے اور اس طرح تمہاری یہ بدعہدی گمراہی کا ذریعہ بنے گی قرن اول کے مسلمانوں کی طرح اگر عہد پر قائم رہو گے ، ذاتی اور اجتماعی معاملات میں صلح وجنگ کے معاملات میں اگر بدعہدی نہیں کرو گے تو ساری دنیا اسلام کی برتری کی قائل ہوگی اور دین کو سچا مذہب تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیگی ۔ فرمایا بدعہدی کا نتیجہ یہ بھی ہوگا (آیت) ” وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل اللہ “۔ اور تم اس وجہ سے سزا کا مزا چکھو گے کہ تم نے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا (آیت) ” ولکم عذاب عظیم “۔ اور تم بہت بڑے عذاب کے مستحق بن جاؤ گے ، تمہیں دنیا میں بھی ناکامی ہوگی اور آخرت میں سخت سزا سے دوچار ہو گے ، دنیا میں بھی ناکامی ہوگی اور آخرت میں سخت سزا سے دوچار ہو گے دنیا کے حقیر مال کی خاطر کی گئی بدعہدی دنیا میں بھی کام نہیں آئے گی ۔ فرمایا ولا تشتروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا “۔ اور نہ خرید واللہ کے عہد کے ساتھ تھوڑی قیمت ، اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر عہد کیا مگر اس عہد کو توڑ کر حقیر مال کو قبول کرلیا ، یہ بڑا ہی خسارے کا سودا ہے ، اگر تم اپنے عہد و پیمان پر قائم رہتے ، (آیت) ” انما عند اللہ ھو خیرلکم “۔ تو اللہ کے ہاں اس کا نتیجہ تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔ (آیت) ” ان کنتم تعلمون “۔ اگر تم جانتے ہو ، عہد و پیمان کی پختگی کی صورت میں تم پر دنیا میں بھی لوگ اعتماد کرتے تمہیں یہاں بھی بھلائی حاصل ہوتی ، اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی بہتر اجر پاتے کاش کہ تمہیں اس بات کا علم ہوتا ۔