16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:41–44

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اللہ کے واسطے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا ، البتہ ہم ضرور ان کو ٹھکانا دیں گے دنیا میں اچھا ، اور البتہ آخرت کا اجر بہت بڑا ہے اگر یہ لوگ جائیں ۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے مگر مردوں کو ہم وحی بھیجتے تھے ان کی طرف ، پس پوچھو ، یاد رکھنے والے لوگوں سے اگر تم نہیں جانتے ۔

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(ہم نے بھیجا ان کو ) کھلی نشانیوں اور صحیفوں کے ساتھ ، اور اتار آپ کی طرف ذکر تاکہ آپ بیان کردیں لوگوں کے لیے وہ چیز جو اتاری گئی ہے ان کی طرف ، اور تاکہ وہ لوگ غور وفکر کریں ۔

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اس باطل عقیدے کا رد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے یعنی وہ ہمیں زبردستی شرک سے روک دیتا اور اگر نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس کی پسند کا کام کر رہے ہیں ، پھر اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجنے کا ذکر کیا جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت کی پرستش سے اجتناب کریں ، اس کے بعد اللہ نے نافرمانوں کے انجام کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو لو کہ جھٹلانے والوں کا کتنا عبرتناک انجام ہوا ۔ پھر گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بیان فرمایا اور آپ کو خطاب کیا کہ آپ کی شدید خواہش کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ، یہ ضدی لوگ ہیں جو قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ نہ قیامت آئے گی اور نہ مردے دوبارہ زندہ ہوں گے حالانکہ وقوع قیامت اور جزائے عمل برحق ہے ، قیامت والے دن کافر جان لیں گے کہ وہ اپنے دعوے میں جھوٹے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا ذکر بھی کیا کہ وہ جب چاہے کسی چیز کو ہوجانے کا حکم دے تو وہ فورا ہوجاتی ہے ۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کا ذکر کرکے ان کے اجر عظیم کی بات کی ہے چناچہ اس سلسلہ میں جن اہل ایمان نے ابتدائی دور میں تکالیف اٹھائی تھیں اور پھر ہجرت کی تھی ، اللہ ان کی تعریف فرمائی ہے ، دنیا میں ان کو اچھا ٹھکانا اور آخرت میں بہتر اجر وثواب عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ (مہاجرین کی حوصلہ افزائی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والذین ھاجروا فی اللہ “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے ہجرت کی ، یعنی انہوں نے اپنا گھر بار اور ہرچیز کسی مالی مفاد یا دیگر مقصد کے حصول کے لیے نہیں بلکہ دین پر عملدرآمد کے راستے میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے چھوڑی ، اسلام کے ابتدائی دور میں ہجرت کرنا مسلمانوں پر فرض تھا ، اس دور میں مکہ کے اندر اہل ایمان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، اپنے دینی شعائر پر کھلے عام عمل درآمد کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ، لہذا ان حالات میں ان کا مکہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانا ضروری ہوگیا ، چناچہ مکی زندگی میں مسلمانوں نے دو مرتبہ ہجرت کی ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ طیبہ کی طرف ، حبشہ کی طرف یکے بعد دیگرے دو جماعتیں گئیں ، ایک چھوٹی تھی اور ایک بڑی ، پھر جب خود حضور ﷺ مدینہ شریف پہنچ گئے تو حبشہ جانے والے لوگ بھی مدینہ آگئے بعض لوگ کم وبیش چودہ سال تک حبشہ میں مقیم رہے اور جب مدینہ میں مسلمانوں کے پاؤں جم گئے ، بدر ، احدم اور احزاب کے واقعات ہوچکے بلکہ بعض تو خیبر کی لڑائی کے موقع پر حبشہ سے مدینہ طیبہ آئے ۔ (ہجرت کے وسیع معانی) حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ دیکھو ! ظاہری ہجرت تو یہ ہے کہ انسان اپنا وطن ، گھر بار ، کاروبار چھوڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے مگر ہجرت کا ایک باطنی پہلو بھی ہے ، فرمایا (1) (بخاری ص 16 ج 1) المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ھجر مانھی اللہ عنہ “۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے اسی طرح حضور ﷺ نے ایمان کی تعریف بھی فرمائی ، فرمایا ایمان کا ظاہری معنی تو یہ ہے کہ انسان اللہ کی وحدانیت ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن اور تقدیر کی تصدیق کرے ، اور حقیقی مومن وہ ہے ” من امن بوائقہ “۔ جارہ جو اپنے پڑوسی کو امن وامان میں رکھتا ہے ۔ اور اسے تکلیف نہیں پہنچاتا ، اسی طرح جہاد کا باطنی معنی یہ بیان کیا (1) (ترمذی ص 252) والمجاھد من جاھد نفسہ “۔ یعنی مجاہد حقیقت میں وہ ہے جس نے اپنے نفس سے جہاد کیا ، وہ اپنے نفس پر اس طرح کنٹرول کرتا ہے کہ اس پر شیطان کے وساوس اثر انداز نہیں ہو سکتے ، بہرحال حضور نے مہاجر کی ایک تعریف یہ بھی بیان کی کہ جو شخص اللہ کی ممنوعہ چیزوں کے قریب نہیں جاتا ، وہی حقیقی مہاجر ہے ۔ (ہجرت کی اقسام اور مسائل) مفسرین کرام نے ہجرت کی بہت سی اقسام بتائی ہیں ، پہلی قسم اپنے ایمان اور جان ومال کی حفاظت سے متعلق ہے اور اس کی آگے چھ قسمیں ہیں مثلا انسان کسی ایسے دارالکفر میں رہتا ہے ، جہاں دینی فرائض ادا کرنے پر پابندی ہو تو ایسی صورت میں ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے تاکہ وہ دارالاسلام میں پہنچ کر اپنے دینی فرائض کی کما حقہ ادائیگی کرسکے ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ دارالبدعت سے ہجرت کرنا بھی ضروری ہے ، اگر کوئی شخص ایسی جگہ مقیم ہے جہاں اہل بدعت کا غلبہ ہے یا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو سب وشتم کیا جاتا ہے تو ایک سچے مومن کے لیے رہنا درست نہیں بلکہ وہاں سے نکلنا فرض ہوجاتا ہے طلب رزق حلال بھی فرائض میں داخل ہے ، اگر کسی شخص کو کسی مقام پر رزق حلال میسر آنے کی کوئی صورت نہیں تو اس کا بھی فرض ہے کہ وہ اس جگہ سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلا جائے ، جہاں سے حلال رزق میسر آسکتا ہو۔ بعض اوقات جسمانی اذیت سے بچاؤ کے لیے بھی ہجرت کرنا ضروری ہوجاتا ہے ، اس کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں موجود ہے کفار ان کے جانی دشمن بن چکے تھے ، لہذا انہیں کہنا پڑا (آیت) ” انی مہاجر الی ربی “۔ (العنکبوت) کہ میں تو اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں ، اسی طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) کو علم ہوا کہ فرعونی انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں (آیت) ” فخرج منھا خائفا یترقب “۔ (القصص) تو آپ وحشت کی حالت میں وہاں سے نکل گئے ۔ بعض اوقات آب وہوا کی ناموافقیت کی وجہ سے امراض لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بھی ترک وطن جائز ہوتا ہے جب مسلمان ہجرت کرکے مدینہ پہنچے تو بعض لوگوں کو وہاں کی آب وہوا موافق نہ آئی تو وہ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ، اس پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو فلاں دیہات میں چلے جانا چاہئے ، جہاں کی آب وہوا ان کے لیے نسبتا بہتر ہے اور وہاں انہیں اونٹوں کا دودھ بھی میسر ہوگا ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر کسی مقام پر چوری ، ڈاکے وغیرہ کا مستقل خطرہ ہو اور حفاظت مال کی کوئی صورت نظر نہ آتی ہو ، تو ایسی جگہ سے دارالامن کی طرف ہجرت کر جانا جائز ہے ۔ یہ تو حفاظتی نقطہ نظر سے ہجرت کی اقسام تھیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات طلب اور جستجو کے لیے بھی ہجرت کرنا پڑتی ہے خدا تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (النحل) زمین میں چل پھر کر آثار قدیمہ کو دیکھو اور غور کرو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ، تو اس حکم کی تعمیل میں عبرت حاصل کرنے کے لیے نکلنا بھی ہجرت ہی کی ایک قسم ہے ، اسی طرح انسان حج اور عمرے کے لیے نکلتا ہے ، یہ فرض اور واجب میں داخل ہے جہاد کے لیے ترک وطن فرض ہے ، بعض اوقات پر واجب ہوتا ہے اور بعض اوقات مستحب ، تبلیغ بھی جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے ، یہ سفر بھی حالات کے مطابق کبھی فرض عین ، کبھی فرض کفایہ کبھی واجب اور کبھی مستحب ہوتا ہے ، اسی طرح تجارت کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی ہجرت میں داخل ہے ، سورة بقرہ میں (آیت) ” لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم “۔ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو ، بعض اوقات حصول علم کے لیے ہجرت کرنا فرض عین ہوتا ہے اور بعض اوقات فرض کفایہ ، علاوہ ازیں متبرک مقامات منجملہ بیت اللہ شریف ، مسجد اقصی ، اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے جانا کہ وہاں پر عبادت کرنے کا ثواب زیادہ ہوتا ہے ، یہ بھی ہجرت میں داخل ہے پھر سرحدوں کی حفاظت یعنی رباط کے لیے ہجرت کرنا پڑتی ہے ، یہ بھی بعض اوقات فرض عین اور بعض اوقات فرض کفایہ ہوتی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دوست احباب یا عزیز و اقارب کی ملاقات کے لیے وطن چھوڑ کر جانا بھی ہجرت ہی کی ایک قسم ہے ۔ (مہاجرین کے لیے اجر) فرمایا جنہوں نے اللہ کی خاطر ہجرت کی (آیت) ” من بعد ماظلموا “ بعد اس کے ان پر ظلم کیا گیا ، تو ایسے لوگوں کا صلہ یہ ہوگا (آیت) ” لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ “۔ کہ انہیں ہم دنیا میں ضرور اچھا ٹھکانا دیں گے ، چناچہ جب مسلمان بیحد تکالیف برداشت کرنے کے بعد مدینہ طیبہ پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت اچھا ٹھکانا عطا کی اور قلیل عرصہ میں انہیں ہر چیز عطا کردی ، حکومت بھی دی ، مال و دولت سے بھی نوازا ، مکانات اور کاروبار عطا کئے ، عزت بخشی حتی کہ مدینہ منورہ مرکز اسلام بن گیا اور اس طرح مہاجرین کے نقصان اور ان کی جسمانی اور ذہنی تکالیف کا ازالہ ہوگیا۔ فرمایا یہ تو دنیا میں عطا کیا (آیت) ” والاجرالاخرۃ اکبر “۔ اور آخرت کا اجر وثواب تو بہت بڑا ہے جو آگے چل کر حاصل ہوگا اور جس کے مقابلے میں پوری دنیا کا سازوسامان بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، بہرحال فرمایا کہ ہجرت کی تکالیف برداشت کرنے والوں کو اللہ اچھا بدلہ عطا فرمائیگا مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کو اس کی تکالیف ومصائب کا ازالہ اس دنیا میں ضرور ہی کردیا جائے ، اس بات میں شک نہیں کہ ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مجموعی حیثیت سے بہت کچھ دیا ، مگر ایسے مسلمان بھی تھے جو ہجرت کے بعد بےسروسامانی کی حالت میں ہی اس دنیا سے جلدی رخصت ہوگئے اور انہوں نے خوشحالی کا دور نہ دیکھا حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ہجرت کے بعد جو لوگ لمبی مدت تک زندہ رہے انہوں نے بڑے فائدے اٹھائے مگر بعض ایسے بھی تھے جو اسلام کے غلبے کا پورا پھل نہ کھا سکے اور جلدی ہی اللہ کے پیارے ہوگئے بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ جن کا پھل دنیا میں بھی پک چکا تھا اور انہوں نے اس سے خوب فائدہ اٹھایا ، اسی لیے مہاجرین کے متعلق حضور ﷺ کا حکم تھا کہ جب وہ مکہ مکرمہ آئیں تو وہاں تین دن سے زیادہ قیام نہ کریں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی موت کا وقت وہیں آجائے اور انکی ہجرت نامکمل رہ جائے ، ایک صحابہ قیام مکہ کے دوران اونٹنی سے گر کر ہلاک ہوگیا ، تو حضور ﷺ نے بڑے افسوس کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اے اللہ ! میرے جن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے ہجرت کی ہے ، ان کی ہجرت کو نافذ فرما یعنی ان کی ہجرت باطل نہ ہوجائے ، مکہ کی سرزمین میں فوت ہو کر دفن ہونا اگرچہ نیت کے اعتبار سے نہ بھی ہو ، مگر پھر بھی ان کے اجر وثواب میں کمی کا امکان تو ہے حضور ﷺ فرمایا کرتے تھے ” ان شان الھجرۃ کبیر “۔ ہجرت کا معاملہ بہت بڑا ہے جس کسی نے جتنی زیادہ تکالیف برداشت کیں ، اس کے لیے اتنا ہی زیادہ وجر وثواب ہے ، آپ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہہ ہجرت کے بعد کسی مہاجر کی موت مدینہ کی بجائے مکہ میں ہو ، فرمایا آخرت کا اجر تو بہت زیادہ ہے (آیت) ” لوکانوا یعلمون “۔ اگر لوگوں کو اس کا علم ہو ۔ فرمایا یہ اجر مہاجرین کے لیے ہے (آیت) ” الذین صبروا “۔ جنہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا ، ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور زبان پر حرف شکایت نہ لائے حضرت صہیب ؓ ہجرت کرکے مدینہ جانا چاہتے تھے مگر کافر ان کے راستہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے اور انہیں مکہ سے نکلنے نہیں دیتے تھے ، پھر آپ نے کافروں سے سودے بازی کی اور اپنا سارے کا سارا اثاثہ ان کے سپرد کرکے بےسروسامانی کی حالت میں مدینہ منورہ پہنچے حضرت عمر ؓ نے دیکھا تو فرمایا کہ صہیب ؓ نے سب کچھ لٹا کر بھی بڑا نفع کمایا ہے ، حضرت عمر ؓ اور حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ صہیب ؓ وہ شخص ہے ” لولم یخف اللہ لم یعص “۔ یعنی اگر اسے اللہ کا خوف نہ بھی ہوتا ، تب بھی وہ نافرمانی نہ کرتا “۔ حضرت صہیب ؓ اتنے پاکیزہ دل انسان تھے ، بہرحال مہاجرین نے کفار کے ہاتھوں بڑے دیکھ سہے ، بعض کے بچے رکھ لیے گئے اور بعض کی بیویوں کو روک لیا گیا ، مگر اسلام کے ان شیدائیوں نے ہر قسم کی مالی جسمانی اور ذہنی تکالیف برداشت کیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے ہجرت کی اور پھر ان تکالیف پر صبر کیا فرمایا (آیت) ” وعلی ربھم یتوکلون “۔ انہوں نے بھروسا بھی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی کیا ، اگر اللہ پر بھروسا نہ ہوتا تو اتنی تکالیف کیسے برداشت کرسکتے ، انہوں نے صبر کیا اور اللہ پر بھروسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی قدر دانی کی اور انعامات سے نوازا ۔ (رسول مرد ہوتے ہیں) گذشتہ رکوع میں گزر چکا ہے (آیت) ” ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا “۔ یعنی ہم نے ہر امت میں ایک رسول مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو ہماری توحید کی دعوت دے اب آج کی اگلی آیت میں رسول کی ایک خاص صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ رسول صرف مرد ہوتے ہیں ، اور اللہ نے کسی عورت کو کبھی رسول بنا کر نہیں بھیجا ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا “۔ ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجا مگر مردوں کو یعنی منصب رسالت کے لیے اللہ نے ہمیشہ مردوں ہی کا انتخاب کیا ہے اگرچہ بعض عورتوں کو بھی اللہ نے بڑی فضیلت عطا فرمائی ہے ، اور ان کا ذکر قرآن پاک میں بھی کیا ہے جیسے حضرت مریم (علیہا السلام) اور فرعون کی بیوی ، مگر اللہ نے منصب رسالت ونبوت کسی عورت کو عطا نہیں فرمایا ، تو مردوں کو رسول بنایا اور ساتھ (آیت) ” نوحی الیھم “۔ ان کی طرف وحی بھی کی ، اور وحی کا تذکرہ بھی گذشتہ رکوع میں ہوچکا ہے کہ ہر نبی اور رسول نے اپنی امت کو یہی دعوت دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ لوگو ! عبادت اللہ کی کرو اور طاغوت سے بچ جاؤ نبی ہمیشہ توحید کی دعوت اور شرک سے منع کرتے رہے ہیں اور اسی بات کا تذکرہ اللہ نے یہاں اجمالا کیا ہے ۔ آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے فرمایا کہ بعثت رسل میں اگر تمہیں کچھ شک وتردد ہے یا ان کی تعلیمات کے متعلق تسلی کرنا چاہو ۔ (آیت) ” فاسئلوا اھل الذکر “۔ تو پوچھ لو یاد رکھنے والوں سے (آیت) ” ان کنتم لا تعلمون “۔ اگر تم خود نہیں جانتے ، مطلب یہ اگر انبیاء کی تاریخ تم نہیں جانتے تو ان صاحب علم لوگوں سے دریافت کرلو جن کو انبیاء کے واقعات یاد ہیں ، اہل کتاب اور بعض دوسرے لوگوں میں بھی بعض اہل علم ہمیشہ رہے ہیں جو اخبار ماضیہ کا علم رکھتے تھے وہ سابقہ امتوں اور ان کے انبیاء کے حالات وواقعات سے واقف ہوتے تھے ، لہذا فرمایا کہ ہماری بات کی تصدیق تم ایسے لوگوں سے کرسکتے ہو ، جو تمہیں بتائیں گے کہ واقعی اللہ نے ہر امت ، گروہ اور قوم میں انبیاء مبعوث فرمائے جنہوں نے اپنی اپنی اقوام کو اللہ کی طرف دعوت دی اور کفر وشرک سے منع کیا ، (تقلید کی ضرورت) اس حصہ آیت سے مفسرین نے یہ بات بھی اخذ کی ہے کہ اس آخری امت میں مسائل دینیہ سے ناواقف لوگوں کو اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہئے اور ان سے مسئلہ پوچھ کر اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے تقلید اسی بات کا نام ہے کہ نہ جاننے والے جاننے والوں سے دریافت کرکے عمل پیرا ہوں ، اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ اہل علم پر مکمل اعتماد کرکے ان کی بات کو بلادلیل تسلیم کرلیا جائے ، جو چیزیں قرآن وسنت میں صراحتا مذکور ہیں ان پر تو من وعن عمل کرنا ہی ضروری ہے اور وہاں کسی تقلید کی ضرورت نہیں ہوتی ، البتہ جن مسائل کے متعلق قرآن وحدیث میں صراحت موجود نہ ہو ، ان کو معلوم کرنا ہر آدمی کا کام نہیں بلکہ وہ تو مجتہد حضرات ہی کرسکتے ہیں جنہیں اللہ نے غیر معمولی استعداد اور صلاحیت عطا فرمائی ہے اسی طرح بعض چیزوں میں تعارض پایا جاتا ہے ، اور اس کو دور کرنا بھی ہر ایک کا کام نہیں ہے بلکہ یہ بھی مجتہد ہی کرسکتا ہے ، غرضیکہ ایسے مسائل میں کسی مجتہد کی طرف رجوع کرنا ہی تقلید کہلاتا ہے ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ عوام کے لیے اس قسم کی تقلید وجوب کا درجہ رکھتی ہے کیونکہ وہ کود ایسے مسائل کے حل کی استعداد نہیں رکھتے اور بعض اوقات بڑے بڑے صاحب علم لوگ بھی بعض مسائل کے حل کرنے میں عاجز آجاتے ہیں ، وہ کسی تعارض کو دور نہیں کرسکتے یا کسی مسئلے میں استنباط سے عاجز آجاتے ہیں ، مثلا امام رازی (رح) ، امام غزالی (رح) ، امام شاہ ولی اللہ وغیرہم قرآن وسنت کو بخوبی جاننے کے باوجود فروعات میں آئمہ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کے مقلد تھے ، کہتے تھے کہ ہم بھی قرآن وسنت کو جانتے ہیں مگر جو کچھ ائمہ سلف جانتے تھے ، ہماری رسائی وہاں تک نہیں ہے ، اور جس طرح وہ اجتہاد کرسکتے تھے ، ہماری وہ طاقت نہیں ، چناچہ یہ بزرگ بھی ائمہ سلف پر اعتماد کرتے تھے ، امام شاہ ولی اللہ (رح) حنفی مسلک رکھتے تھے جب کہ امام رازیرحمۃ اللہ علیہ اور امام غزالی (رح) شافعی تھے اسی طرح امام ابن تیمیہ (رح) حافظ الحدیث ہونے کے باوجود امام احمد کے مقلد تھے غرضیکہ یہ تقلید بری نہیں ہے بلکہ جس اندھی تقلید کی مذمت قرآن میں کی گئی ہے ، وہ مشرکانہ تقلید ہے جو اللہ تعالیٰ کے صریح حکم کے خلاف ہو اور مقلدین محض آباؤ و اجداد کی رسم کے طور پر اسے سینے سے لگائے ہوئے ہوں اور اس کے مقابلے میں صریح حکم بھی ٹھکرا دیں ، ایسی تقلید حرام ہے ۔ (فقہی اختلاف کی حیثیت) اس وقت جو فقہی ، اختلاف حنفی ، مالکی ، شافعی ، ظاہری وغیرہ پائے جاتے ہیں ان کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ فرقہ واریت کی زد میں آتے ہیں یہ تو محض فہم و دلیل کی بات ہوتی ہے جسے مناظر قسم کے لوگ خواہ مخواہ طول دیکر ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں فروعی اختلاف کی مثال حرمت سود کے متعلق دی جاسکتی ہے ظاہر ہے کہ سود کی حرمت ، قرآن پاک سے ثابت ہے مگر حضور ﷺ نے اس ضمن میں صرف چھ چیزوں کا ذکر کیا ہے ، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان چھ چیزوں کے علاوہ بھی کوئی چیز سود میں آتی ہے یا نہیں ، پھر آئمہ کرام اس بات پر بھی بحث کرتے ہیں کہ سود کی حرمت مذکورہ چھ چیزوں کی ذات تک محدود ہے یا یہ حرمت ان میں موجود کسی علت کی وجہ سے پائی جاتی ہے اب اگر وجہ حرمت علت ہے تو اس کی تلاش کی جائیگی ، اب علت کی جستجو میں چاروں آئمہ کا آپس میں اختلاف ہے کیس نے کسی چیز کو علت قرار دیا ہے اور کسی نے کسی چیز کو ، مگر سود کی حرمت کے متعلق سارے متفق ہیں اور اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ، اختلاف صرف اس بات میں ہے کہ سود کیوں حرام ہے اور ایسا اختلاف ہرگز معیوب نہیں ، اس معاملہ میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا بیج نہیں بونا چاہئے کوئی شخص اپنے مسلک کو بیشک ترجیح دے مگر دوسرے کو غلط نہ کہے اور نہ ہمارے دور کی طرح پہلے مناظرہ بازی اور پھر فتوی بازی کرے ، جب کسی معاملہ میں اجتہاد کیا جائے گا تو وہاں اختلاف کا پیدا ہونا فطری بات ہے تاہم عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک امام کا اتباع کرلیں ، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے بیماری کی حالت میں کوئی مریض شہر کے مختلف ڈاکٹروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیتا ہے کہ وہ اس کا بہتر طور پر علاج کرسکتا ہے ، اگرچہ شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر اسباب کی دنیا میں طبیب کی طرف رجوع کرنا بھی ضروری ہے ، اب اگر کوئی مریض ایک ڈاکٹر پر قناعت کرنے کی بجائے وقفہ وقفہ سے مختلف ڈاکٹروں سے علاج کرائے گا ، تو اس سے مرض پر منفی اثرات پڑنے کا بھی خطرہ ہوگا ، لہذا مریض کو کسی ایک ڈاکٹر پر ہی اکتفا کرنا بہتر ہوگا ، بالکل یہی حال تقلید کا ہے کہ کسی ایک امام کے انتخاب پر قانع ہوجائے اور پھر فروعات میں اس کے فتوی کے مطابق عمل کرے ۔ فرمایا ہم نے آپ سے پہلے بھی مردوں کو رسول بنا کر بھیجا (آیت) ” بالبینت “۔ کھلی نشانیوں کے ساتھ یعنی ہم نے ان رسولوں کو احکام اور معجزات عطا فرمائے (آیت) ” والزبر “ اور صحیفے یعنی چھوٹی کتابیں بھی عطا فرمائیں ، صحیفہ چھوٹی کتاب کو کہا جاتا ہے تاہم اللہ نے چار بڑی کتابیں بھی اپنے منتخب رسولوں کو عطا کیں اور پھر سب سے آخر میں (آیت) ” وانزلنا الیک الذکر “۔ اے نبی آخر الزمان ! آپ کی طرف ذکر نازل فرمایا ، ذکر کا معنی نصیحت ہے اور یہ قرآن پاک کا ایک نام بھی ہے ، ظاہر ہے قرآن پاک سے بڑھ کر کون سی نصیحت ہو سکتی ہے ، تو فرمایا ہم نے آپ کی طرف قرآن پاک کو نازل فرمایا (آیت) ” لتبین للناس مانزل الیھم “۔ ؛ تاکہ آپ لوگوں کے سامنے وہ چیز بیان کردیں جو ان کی طرف نازل کی گئی ہے ، مطلب یہ کہ نبی کی زبان سے قرآن پاک کی تبیین وتشریح بھی ضروری ہے ۔ (تشریح بذریعہ سنت) اس امت آخر الزمان کے لیے قرآن کریم کو اساسی قانون کی حیثیت حاصل ہے جب کہ سنت اس کی تبیین ہے ، اللہ نے اپنے نبی کی زبان اور اس کے عمل سے جس چیز کو ظاہر کیا ہے ، وہ سنت ہے بعض گمراہ فرقے نبی کو محض ڈاکیے سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے کہ نبی اللہ کا پیغام پہنچا کر پھر لاتعلق ہوجاتا ہے ، نہیں بلکہ قرآن کی تشریح وتبیین بھی نبی کا کام ہے ، چناچہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) لکھتے ہیں ، پس صحیح حدیث شرح ہے قرآن کی ، امام شافعی (رح) اور شاہ ولی اللہ (رح) نے بھی یہی فرمایا ہے کہ صحیح حدیث قرآن کی شرح ہیں ، البتہ غلط اور موضوع احادیث ناقابل عمل ہیں جنہیں محدثین عظام نے چھانٹ کر علیحدہ کردیا ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ میرا مسلک یہ ہے کہ قرآن پاک کی تشریح کے لیے میں سب سے پہلے قرآن کو دیکھتا ہوں کیونکہ بعض چیزوں کی تشریح خود قرآن پاک کرتا ہے ، اگر ایک مقام پر کسی بات میں اجمال ہے تو دوسرے مقام پر تفصیل مل جاتی ہے ، اگر کوئی چیز قرآن پاک سے نہ ملے تو پھر میں سنت ثابتہ کی طرف رجوع کرتا ہوں ، وہاں سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے ، اور اگر وہاں بھی کوئی چیز ثابت نہ ہو تو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کا اتفاق ہو ، تو میں اس کا اختیار کرلیتا ہوں اور اگر ان میں اختلاف ہو تو پھر میں ازخود ترجیح دیتا ہوں اور زیادہ راجح چیز کو اپنا لیتا ہوں ، یہ تین چیزیں مسلم الاصول ہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے بعد ہم کسی کی پروا نہیں کرتے بلکہ خود اجتہاد کرتے ہیں کہ اسی میں خیریت ہے ۔ امام ابن تیمیہ (رح) بھی اپنے فتوی میں لکھتے ہیں ” فالسنۃ تفسر القران وتبینہ “۔ یعنی سنت ہی قرآن کی تفسیر کرتی ہے اور اس کو بیان کرتی ہے جو لوگ سنت کا انکار کرتے ہیں ، وہ قرآن کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟ ان کا انکار سنت محض اس لیے ہوتا ہے تاکہ وہ قرآن پاک کی مانی تفسیر کرسکیں ، چناچہ پرویز کہتا ہے کہ جو نماز ہم ادا کرتے ہیں ، یہ درست نہیں ہے جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہو ، اس کے مطابق جب پرویزیوں کی حکومت قائم ہوگی اور پھر وہ نماز کا طریقہ وضع کریں گے تو اس کے مطابق نماز درست ہوگی ، ہماری موجودہ نماز بیکار محض ہے ، (نعوذ باللہ) حالانکہ تمام سلف صالحین آئمہ کرام ، بزرگان دین ، محدثین ، مفسرین وغیرہم اسی نماز پر اتفاق کرتے اور پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں ، نماز اسلام کے فرائض اربعہ میں سے اہم فرض ہے جس کے ارکان میں کسی کو اختلاف نہیں مگر منکرین سنت کے نزدیک یہ نماز ایک رسم سے زیادہ کچھ نہیں ۔ فرمایا ہم نے آپ کی طرف قرآن پاک نازل فرما کر آپ کو تشریح کا حکم بھی دے دیا ہے ، اب یہ لوگوں کا فرض ہے (آیت) ” ولعلھم یتفکرون “۔ کہ اس کلام الہی میں غوروفکر کریں کہ جن احکام الہی کی اللہ کے نبی نے تفصیل بیان کردی ہے ، اس پر کس طریقے سے عمل کرنا ہے قرآن میں غور وفکر کی دعوت خود قرآن پاک نے متعدد مقامات پر دی ہے ، اب یہ اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر کس حد تک عمل درآمد کرتے ہیں ۔
Ayahs 16:45–50

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

کیا نڈر ہوگئے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کمائی ہیں برائیاں کہ اللہ تعالیٰ دھنسا دے ان کو زمین میں ، یا آئے ان کے پاس عذاب جہاں سے ان کو پتہ بھی نہ ہو۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا پکڑ لے ان کو چلنے پھرنے میں پس نہیں وہ عاجز کرنے والے ۔

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا پکڑے ان کو خوف کے بعد پس بیشک تمہارا پروردگار البتہ بہت نرمی کرنے والا اور مہربان ہے ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں ان کا سایہ ڈھلتا ہے (مائل ہوتا ہے) دائیں طرف اور بائیں طرف سجدہ کرتے ہوئے اللہ کے سامنے اور وہ عاجز ہوتے ہیں ۔

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں وہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں جاندار اور فرشتے ، اور وہ تکبر نہیں کرتے ۔

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

خوف کھاتے ہیں اپنے پروردگار کا اوپر سے ، اور کرتے ہیں وہ جو کچھ ان کو حکم دیا جاتا ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ سے پیوسہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا اور پھر گذشتہ درس میں ان مومن مہاجرین کی حوصلہ افزئی فرمائی جن پر بڑے مظالم ڈھائے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کے دامن کو نہ چھوڑا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی بہتر ٹھکانا میسر آئے گا اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسالت کے سابقہ بیان کے تسلسل میں فرمایا کہ ہر قوم میں مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا ، اگر منکرین توحید و رسالت کو اس بارے میں کوئی شک وتردد ہے تو وہ تاریخی واقعات کو یاد رکھنے والوں سے تصدیق کرلیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ سے قبل اللہ نے اپنے رسولوں کو کھلی نشانیاں یعنی معجزات اور صحیفے دے کر بھیجا اور پھر آخر میں حضور ﷺ پر ذکر یعنی قرآن کریم نازل فرمایا ، آپ کو اس بات کا پابند کیا کہ آپ اس قرآن پاک کی تشریح وتبیین کا کام بھی انجام دیں ، چناچہ حضور ﷺ نے یہ فریضہ بطریق احسن انجام دیا اور یہی ” سنت “ ہے ، پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کو بھی حکم دیا کہ وہ اس قرآن پاک میں غور وفکر کریں تاکہ صحیح نتیجے پر پہنچ سکیں ۔ (منکرین کے لیے سخت وعید) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین قرآن و رسالت کو ان کی ریشہ دوانیوں پر سخت تنبیہ فرمائی ہے اور بعض سزاؤں کا ذکر کرکے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افامن الذین مکروا السیات “۔ کیا یہ لوگ بےخوف ہوگئے ہیں ” امن “ کا معنی امن میں ہوجانا ، نڈر یا بےخوف ہوجانا ہے ، فرمایا جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ، انبیاء کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ، اللہ کے پروگرام کو ناکام بنانا چاہتے ہیں ، اس کی توحید کی مخالفت کرتے ہیں ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہلاکت کے درپے ہیں ، اور اہل ایمان کو ان کے دین سے روکنا چاہتے ہیں ، تو کیا یہ اللہ کے عذاب سے بالکل بےخوف ہوچکے ہیں ؟ پھر آگے اللہ تعالیٰ نے عذاب کی وہ مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں جن میں یہ لوگ گرفتار ہو سکتے ہیں ۔ (1) (زمین میں دھنس جانا) فرمایا اللہ کے عذاب کی پہلی صورت یہ ہے (آیت) ” ان یخسف اللہ بھم الارض “۔ کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے ، ان لوگوں کو کچھ احساس نہیں کہ خدا کی پیدا کردہ جس زمین پر یہ لوگ چلتے پھرتے ہیں اور کاروبار کرتے ہیں اللہ چاہے تو اسی زمین میں ان کو غرق کر دے ، اس قسم کی مثال دنیا میں پہلے ہی قائم ہوچکی ہے جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو مع اس کے مال و دولت اور خزانوں کے زمین میں دھنسا دیا ، اس قسم کے واقعات ہر زمانے میں پیش آتے رہے ہیں ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نہایت غروروتکبر کی حالت میں پل پر سے گزر رہا تھا ، اس کی گردن اکڑی ہوئی تھی اور وہ متکبرانہ چال سے چل رہا تھا ، کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حالت میں اسے زمین کے اندر دھنسا دیا ، یہ شخص تب سے زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہے اور اس کا قدم اس وقت کہیں ٹکے گا جب قیامت برپا ہوجائے گی اللہ نے اس کے تکبر کی اتنی سخت سزا دی ، 1949 ء ؁ میں اخبارات میں پڑھا تھا کہ مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور کی ایک بستی میں بچے سکول میں پڑھ رہے تھے کہ اس دروان سارا سکول زمین کے اندر دھنس گیا 1923 ء ؁ میں جاپان میں زبردست زلزلہ آیا تھا زمین میں بڑی بڑی دارڑیں پڑگئی تھی ، اور اس حادثے میں تین لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے ، ابھی پندرہ بیس سال کا عرصہ گزرا ساحلی کنارے پر آباد بارہ ہزار کی آبادی بدرتہ کا یہ پرفضا شہر پورے کا پورا تباہ ہوگیا تھا ، ایسا زبردست زلزلہ آیا کہ کوئی چیز باقی نہ بچی ۔ (2) (بیرونی ذرائع سے عذاب) اللہ نے عذاب کی دوسری صورت یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” اویاتیھم العذاب من حیث لا یشعرون “۔ یا ان پر ایسی جگہ سے عذاب لے آئے جہاں سے ان کو خبر بھی نہ ہو ، بعض اقوام کو ایسے ذرائع سے بھی سزا ملتی رہی ہے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے ، مثال کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھوں مکہ والوں پر میدان بدر میں جو آفت آئی ، وہ اس کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے تھے ، وہ مکہ سے سامان ضرب وحرب سے لیس ایک ہزار فوج لے کر نکلے تھے ، کھانے پینے اور رنگ و سرود کے تمام سامان موجود تھے ، وہ ایک ہی جست میں مسلمانوں کو ختم کردینا چاہتے تھے ، مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا ، اللہ تعالیٰ نے مٹھی بھر بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا ، ستر مارے گئے جن میں بڑے بڑے ائمہ کفر تھے اور اتنے ہی قیدی بنے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ کیا یہ لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس ایسی جگہ سے عذاب لے آئے جو ان کے گمان میں بھی نہ ہو ۔ (3) (چلتے پھرتے گرفت) سزا کی تیسری شکل اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” اویاخذھم فی قتلبھم “ یا ان کو چلنے پھرنے کے وقت ہی پکڑ لے ، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ جب چاہے اپنی مخلوق کی گرفت کرلے ، کوئی آسمانی آفت نازل ہوجائے ، حادثہ پیش آجائے یا کوئی طوفان بادوباراں آجائے اور یہ چشم زدن میں ماخوذ ہوجائیں ایسے لوگوں کو اپنی فکر کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ ان کی گرفت ان کے بستر پر بھی کرسکتا ہے ، اور چلتے پھرتے ، کاروبار کرتے ، چشن مناتے یا لہو ولعب میں مصروف ہونے کی صورت میں بھی وہ گرفت کرنے پر قادر ہے ، لہذا انہیں اللہ کی پکڑ سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ (آیت) ” فماھم بعجزین “ وہ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں وہ اللہ کی گرفت کو ٹال نہیں سکیں گئے ۔ (4) (عذاب بعد ازخوف) چوتھی صورت عذاب کی یہ بیان فرمائی (آیت) ” اویاخذھم علی تخوف “۔ یا انہیں خوف دلانے کے بعد پکڑے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی دوسری قوم یا فرد کو مبتلائے بلادیکھ کر خوف پیدا ہوتا ہے اور پھر آخر میں خود خوف زدگان کی باری بھی آجاتی ہے اور وہ بھی عذاب کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اکثر مفسرین ” تخوف “ کا معنی خوف دلانا ہی کرتے ہیں مگر حضرت عمر ؓ کو اس لفظ کے صحیح معانی کے تعین میں تردد تھا ، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا ، لوگو ! مجھے بتلاؤ کہ تخوف کا کیا معنی ہے ؟ بعض نے جن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بھی شامل ہیں فرمایا کہ اس کا معنی تنقص یعنی کسی چیز کو کم کردینا یا گھٹا دینا ہے ، آپ نے فرمایا کیا تم اس کا ثبوت عربوں کے کسی کلام سے پیش کرسکتے ہو ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ، ہاں قبیلہ ہذیل کے عمر رسیدہ شاعر ابو کبیر ہذلی نے یہ شعر کہا ہے ۔ تخوف رحل منھا تامکا قردا کما تخوف عودا نبعۃ السفن : کجاوے نے اس اونٹنی کے مضبوط کوہان کو اس طرح گھٹا دیا ہے جس طرح کمان کی لکڑی کو ریتی گھٹا دیتی ہے ، ظاہر ہے کہ دوران سفر بھوک پیاس کی وجہ سے باربرداری کا جانور کمزور ہوجاتا ہے اونٹ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ دس دس بیس بیس دن تک بھوک پیاس کی شدت برداشت کرسکتا ہے ، جب اونٹ کی خوردہ غذا ختم ہوجاتی ہے تو اس کے جسم کی چربی پگھل پگھل کر غذا بنتی رہتی ہے جس کی وجہ سے اس کی کوہان کمزور ہو کر کم ہوجاتی ہے ، مطلب یہ کہ اس شعر میں تخوف کو گھٹانے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے ۔ (زمانہ جاہلیت کے اشعار) اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” علیکم بدیوانکم “۔ تم اپنے دیوان کو لازم پکڑو ، لوگوں نے دریافت کیا ، حضرت ! ہمارا دیوان کونسا ہے تو آپ نے فرمایا کہ یہ زمانہ جاہلیت کے اشعار ہیں ان کو سیکھا کرو ، اور پڑھا کرو ” فان فیہ تفسیر کتابکم ومعانی کلامکم “ کہ اس سے تمہاری کتاب کی تفسیر اور تمہارے کلام کے معانی سمجھ میں آتے ہیں ، چناچہ عربی شعرا کا قدیم کلام اب بھی درسوں میں پڑھا جاتا ہے ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے اشعار پڑھنا جائز ہے ، اگرچہ ان میں بداخلاقی ، جنگ وجدال اور فتنہ و فساد کا ذکر ہی کیوں نہ ہو ، ان کا فائدہ یہ ہے کہ کلام الہی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ قرآن پاک اس وقت کی ترقی یافتہ عربی زبان میں نازل ہوا تھا بعض عربی الفاظ کے معانی سمجھنے میں بھی دقت آتی ہے مثلا یہ کہ کسی لفظ کا مادہ کیا ہے اور عربی محاورے میں یہ کس طرح استعمال ہوتا ہے اور پھر اس کا معنی کیا بنتا ہے ، چناچہ اس پر علمائے کرام اور مفسرین نے کتابیں لکھی ہیں ۔ فرمایا ، یاد رکھو (آیت) ” فان ربکم لرء وف رحیم “۔ بیشک تمہارا پروردگار بڑا نرم اور مہربان ہے ، اس کی شفقت کا تقاضا ہے کہ وہ بعض اوقات مجرموں کو مہلت دیتا رہتا ہے اور امہال و تدریج سے کام لیتا ہے ، ورنہ حقیقت یہ ہے (آیت) ” ان بطش ربک لشدید “۔ (البروج) بیشک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے ، جب وہ کسی کو پکڑنے پر آتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں ، یہ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کو تنبیہ فرمائی ہے کہ انہیں اس بات سے خوف کھانا چاہئے کہ کسی نہ کسی صورت میں ان پر خدا تعالیٰ کی گرفت نہ آجائے ۔ (سائے کا سجدہ) آگے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور معبودیت کی طرف توجہ دلائی ہے (آیت) ” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیئ “۔ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیزیں پیدا کی ہیں (آیت) ” یتفیؤا ظللہ عن الیمین والشمائل وسجدا للہ “۔ ان کے سائے ڈحل جاتے ہیں دائیں اور بائیں طرف اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے (آیت) ” وھم دخرون “۔ اور وہ عاجز ہوتے ہیں ۔ ہم روز مرہ زندگی میں پہاڑوں ، درختوں ، ٹیلوں اور عمارات کے سایوں کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں دن کے پہلے حصے میں تمام چیزوں کے سائے گھٹتے رہتے ہیں ، دوپہر کو ایک خاص نہج پر پہنچ کر رک جاتے ہیں ، اور پھر آہستہ آہستہ بڑھنے لگتے ہیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ دوپہر کے وقت جب سورج سر پر آتا ہے تو ہر چیز کا سایہ ٹھہر جاتا ہے ، اور جب دن ڈھلتا ہے تو سایہ جھکتے جھکتے شام تک زمین پر پڑجاتا ہے ، ان سایوں کی سجدہ ریزی بالکل اسی طرح ہے جس طرح کوئی آدمی پہلے قیام کرتا ہے پھر رکوع میں جاتا ہے اور پھر سجدہ میں گر پڑتا ہے اسی طرح ہر ایستادہ چیز پہاڑ ، درخت عمارات وغیرہ اپنے سایوں کے ذریعے سجدہ ریز ہوتے ہیں ، اور پھر یہ ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے یہ سایہ کسی ملک میں کسی موسم میں دائیں طرف جھکتا ہے اور کہیں بائیں طرف ۔ ہماری آخری شریعت میں اللہ کے سوا کسی کے سامنے سجدہ روا نہیں خواہ وہ سجدہ عبادت ہو یا سجدہ تعظیمی عبادت کا سجدہ تو قطعی حرام اور کفر ہے خواہ وہ کسی کے سامنے بھی کیا جائے ، البتہ سجدہ تعظیمی جو بادشاہوں یا دیگر بڑے لوگوں کے سامنے کیا جائے وہ حرام ہے مگر کفر نہیں ہوتا ۔ (ہر چیز سجدہ ریز ہے) اس کے بعد اختیاری اور غیر اختیاری دونوں قسم کے سجدے کے متعلق فرمایا (آیت) ” وللہ یسجد مافی السموت وما فی الارض “۔ آسمانوں اور زمین کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں ، زمین میں (آیت) ” من دآبۃ “۔ چلنے پھرنے والے جاندار ہیں ، اور آسمان پر (آیت) ” والملئکۃ “۔ فرشتے ہیں ، البتہ انسانوں کے متعلق دوسرے مقام پر فرمایا ہے کہ ان کے دو گروہ ہیں ، ایک گروہ اپنے اختیار اور رضا ورغبت سے اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے جب کہ دوسرا نافرمانوں اور کافروں کا گروہ ہے جو تکبر کرتا ہے اور سجدہ نہیں کرتا ، باقی تمام چیزیں خدا تعالیٰ کے سامنے منقاد ہیں ، وہ سب عاجزی کرنے والی ہیں ، جانور ، چرند ، پہاڑ وغیرہ ، سب اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں (آیت) ” وھم لا یستکبرون “۔ اور وہ تکبر نہیں کرتے بلکہ عاجزی کرتے ہیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ مغرور لوگوں کے لیے زمین پر سررکھنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور انہیں ذلیل ہونا پڑتا ہے ، حالانکہ انسان کی بڑائی اپنے پروردگار کے سامنے تواضع ، اخبات اور خشوع و خضوع کے اظہار میں ہی ہے ، ملائکہ کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے ، کہ فرشتوں کی وجہ سے ” اطت السمائ “۔ آسمان چرچراتا ہے جس طرح نیا کجاوہ جانور پر رکھا جائے تو وہ چرچراتا ہے ، اسی طرح آسمان بھی چرچراتا ہے کیونکہ آسمان پر ایک بالشت بھی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو یا کسی دوسری عبادت میں مصروف نہ ہو تو فرمایا کہ نہ تو جانور تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی فرشتے بلکہ وہ خدا کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ (فرشتوں کا تعمیل کا حکم) فرشتوں کے متعلق خاص طور پر فرمایا (آیت) ” یخافون ربھم “۔ وہ اپنے پروردگار سے خوف کھاتے ہیں ڈرتے ہیں (آیت) ” من فوقھم “ اپنے اوپر سے کہ کہیں خدا تعالیٰ کی گرفت نہ آجائے (آیت) ” ویفعلون ما یؤمرون “۔ اور کرتے ہیں جو کچھ انہیں حکم دیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کے حکم سے سرمو سرتابی نہیں کرتے ، اسی طرح جانور اور دوسری چیزیں بھی اپنے طبعی فرائض انجام دیتے رہتے ہیں ، یہ صرف انسان اور جنات ہیں جو مکلف مخلوق ہیں ، انہی میں سے بعض لوگ تکبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل سے گریز کرتے ہیں ۔ سجدہ کی مختلف قسمیں ہیں جیسے سجدہ عبادت (نماز) سجدہ شکر اور سجدہ تلاوت ہے ، سجدہ تلاوت وجوب کا درجہ رکھتا ہے ، اس آیت کے اختتام پر بھی پڑھنے اور سننے والوں پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے ، یہ قرآن پاک کے کل چودہ مقامات میں سے ایک ہے ، جہاں پہنچ کر سجدہ کرنا لازم آتا ہے ، اگر کوئی آیت سجدہ پڑھتے یا سنتے وقت سجدہ کرنے کی حالت میں ہے یعنی باوضو ہے تو فورا سجدہ کرلے وگرنہ طہارت حاصل کرنے کے بعد سجدہ کرے کیونکہ طہارت سجدہ کے لیے شرط ہے ۔
Ayahs 16:51–56

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے نہ بناؤ دو معبود بیشک وہ ایک ہی معبود ہے پس خاص مجھ سے ہی ڈرو ۔

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور اسی کے لیے ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں ، اور اسی کے لیے ہے اطاعت دائمی ، کیا تم اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو۔

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو کچھ تمہارے پاس نعمت ہے پس وہ اللہ کی طرف سے ہے ، پھر جب تم کو پہنچتی ہے تکلیف تو اسی کے سامنے چلاتے ہو ۔

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ دور کردیتا ہے تم سے تکلیف کو تو اچانک ایک گروہ تم میں سے اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے والا ہوتا ہے ۔

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ (نتیجہ یہ ہو) یہ ناشکری کریں اس چیز کے ساتھ جو ہم نے ان کو دی ہے پس فائدہ اٹھا لو ، پس عنقریب تم جان لو گے ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں یہ لوگ اس کے لیے کہ جس کو نہیں جانتے ، حصہ ، اس میں سے جو ہم نے ان کو روزی دی ہے ، اللہ کی قسم تم سے ضرور سوال کیا جائے گا ان باتوں کے بارے میں جو تم افتراء کیا کرتے تھے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعثت انبیاء کا ذکر فرما کر مشرکین کے اعتراضات کا مسکت جواب دیا ، ہر نبی نے اپنی امت کو یہی تعلیم دی (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، پھر اللہ نے مختلف طریقوں سے توحید کے دلائل سمجھائے ، اور آخر میں فرمایا کہ کائنات میں خدا کی پیدا کردہ تمام چیزیں جو جسم رکھتی ہیں ، اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں جس کی صورت یہ ہے کہ ہر ایستادہ چیز کے سائے زمین پر سجدہ کرتے ہیں ، فرمایا آسمانوں کی ہر مخلوق خواہ وہ فرشتے ہوں یا جانور سب اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ، اس کے برخلاف صرف انسانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اکٹر دکھاتا ہے اور اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے گریز کرتا ہے ، اب آج کی آیات میں بھی اللہ نے توحید پر مضبوطی سے جمے رہنے کی تلقین کی ہے ، اور شرک کی بعض صورتوں کا رد فرمایا ہے ۔ (عقیدہ اثنینیت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقال اللہ لا تتخذوا الھین اثنین “۔ اللہ نے فرمایا دو معبود مت بناؤ ، جملہ مشرکین میں سے مجوسیوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو دو معبودوں کا قائل ہے ، اس باطل عقیدہ کا ذکر سورة انعام کی ابتداء می بھی ہوچکا ہے کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (آیت) ” وجعل الظلمت والنور “۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ روشنی یا نیکی کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے جبکہ تاریکی یا برائی کا پیدا کنندہ دوسرا خدا ہے ، خدا تعالیٰ نے وہاں پر اس باطل عقیدے کا رد فرمایا تھا کہ اندھیروں اور روشنی کا خالق خدائے واحد ہے ، نہ کوئی یزدان ہے اور نہ اہرمن بلکہ اللہ ہی وحدہ لاشریک ہے جو ہر چیز کا خالق ومالک ہے ، اب آج کے درس میں بھی اسی قسم کے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ دو معبود نہ بناؤ ، یہاں پر ” الھین “ کا معنی دو معبود ہیں اور آگے پھر ” اثنین “ کی تاکید بھی فرما دی ہے کہ اللہ کی وحدانیت کے مقابلے میں اثنیت کی گنجائش ہی نہیں ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے (آیت) ” انما ھو الہ واحد “۔ وہ تو ایک ہی معبود برحق ہے اور اسی نے فرمایا (آیت) ” فایای فارھبون “ کہ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو ، میرے علاوہ نہ کوئی نفع نقصان کا مالک ہے اور نہ کوئی کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتا ہے خدا تو ایک ہی ہے اور باقی ساری اس کی مخلوق ہے اور مخلوق میں سے کسی کو الہ کے درجے پر پہنچا دینا تو بغاوت اور سخت ظلم ہے ، غرضیکہ اس آیت کریمہ میں اللہ نے دو خداؤں والے عقیدہ کی تردید فرمائی ہے ۔ (عقیدہ تثلیث) عقیدہ اثنیت کے علاوہ عقیدہ تثلیث والے اس وقت اربوں کی تعداد میں دنیا میں موجود ہیں ، عیسائی تین خداؤں کو مانتے ہیں جس کی تردی سورة مائدہ میں آچکی ہے ، (آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ “۔ تحقیق ان لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا جنہوں نے کہا کہ اللہ تینوں میں تیسرا ہے ، یہ لوگ باپ ، بیٹا اور روح القدس تین خدا مانتے ہیں ، باپ سے مراد اللہ تعالیٰ ، بیٹے سے مراد مسیح (علیہ السلام) اور روح القدس سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں ، ایک عقیدے کے لحاظ سے باپ بیٹا اور مریم تین خدا بنتے ہیں ۔ مگر اللہ نے وہاں پر اس عقیدے کی سختی سے نفی فرمائی ہندوؤں میں آریہ سماجی مسلمانوں کے عقیدہ توحید سے کسی قدر متاثر ہوئے اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ سناتن دھرمی تو غلط ہیں جو کروڑوں معبودوں کو مانتے ہیں کیونکہ یہ عقیدہ عقل کے خلاف ہے ، مگر وہ خود بھی تثلیت میں آکر پھنس گئے ، عیسائیوں کی طرح انہوں نے بھی تین خدا بنا لیے ایک پر ماتما (خدا) دوسرا روح اور تیسرا مادہ ۔ انہوں نے ان تینوں کو قدیم تسلیم کیا ، بخاری شریف کی رویت میں آتا ہے (آیت) ” کان اللہ ولم یکن معہ شی ئ “۔ یعنی ابتدا میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی اور اس کے ساتھ دوسری کوئی چیز نہیں تھی ، نہ روح تھی اور نہ مادہ ، یہ مخلوق ہے جسے خدا نے اپنی صفت اور تجلی سے ظاہر کیا ، اس وقت نہ کوئی فرشتہ تھا ، نہ جن اور نہ انسان ، صرف اللہ کی ذات اور اس کے ساتھ اس کی صفات تھیں ، اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی ، توآریہ سماجیوں نے روح اور مادہ کو قدیم کیسے تسلیم کرلیا ، ہندوؤں کے لاکھوں کروڑوں معبودوں کا انکار کرنے کے باوجود بھی یہ لوگ عقیدہ تثلیث کی بناء پر مشرک کے مشرک ہی رہے ۔ (کروڑوں معبود) جیسا کہ پہلے عرض کیا ہندوؤں کی ایک کثیر آبادی لاکھوں اور کروڑوں دیوتاؤں کو مانتی ہے ، پرانے مصریوں می بھی شرک کی بیشمار قسمیں رائج تھیں ، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی کوئی حقیر سے حقیر چیز بھی ایسی نہیں جس کی مشرکوں نے پوجا نہ کی ہو گوبر کے پجاری آج بھی موجود ہیں جو اسے پوتر سمجھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں ، ناگ پنچھمی والے سانپ کی پرستش کرتے ہیں ، بلی کو معبود ماننے والے مشرک بھی دنیا میں موجود ہیں ، سورج ، چاند اور ستارے تو بڑی بڑی چیزیں ہیں جن کے پجاری بابلی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور کے کلدانی بھی تھے ، پھر پتھر کے دیوتاؤں کو ماننے والوں کی بھی کمی نہیں ، حتی کہ شولنگ کے پجاری بھی ہیں جو آلہ تناسل کو پوجتے ہیں ۔ یہ شرک کی مختلف قسمیں ہیں جبکہ اللہ نے فرمایا کہ معبود تو صرف ایک اللہ ہے خالق صرف وہ ہے ، باقی سب مخلوق ہے ، وہی قادر مطلق ، علیم کل ، ہمہ دان ، ہمہ بین ، اور ہمہ تو ان ہے ، فرمایا جب وہ ایک ہی خدا ہے تو پھر اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور خالص اسی سے ڈرو ، (دائمی اطاعت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولہ ما فی السموت والارض “۔ اسی اللہ تعالیٰ کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں ، ہر چیز خلفا (پیدائش کے لحاظ سے) ملکا (ملکیت کے لحاظ سے) اور تصرفا (تصرف کے لحاظ سے) اسی مالک الملک کی ہے ، ہر شے کا خالق ، مالک اور مدبر وہی ہے ، سورة الم سجدہ میں ہے (آیت) ” یدبر الامر من السمآء الی الارض “۔ حظیرۃ القدس کی بلندیوں سے لے کر زمین تک اور تحت الثری تک تدبیر کرنے والا وہی ہے ، وہ کلی اختیارات کا مالک ہے ، اس کا کوئی نائب نہیں جو کسی کی حاجت روائی کرتا ہو (آیت) ” ولہ الدین واصبا “۔ اور اسی کے لیے ہے دائمی اطاعت واصب کا معنی دائم اور لازم ہوتا ہے جیسا کہ سورة الصفت میں شیاطین کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولھم عذاب واصب “۔ یعنی ان کے لیے دائمی عذاب ہوگا ، غرضیکہ فرمایا کہ دائمی اطاعت بھی اسی وحدہ لاشریک کی ہے ، ملائکہ ہوں یا ارض وسما کی تمام چیزیں ، تکوینی طور پر اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کرتے ہیں عقل کے دائرے میں رہ کر انسانوں میں سے بہت سے لوگ ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں (آیت) ” وکثیر حق علیہ العذاب “۔ (الحج) اور بہت سے ایسے ہیں جن پر سزا ثابت ہوچکی ہے کیونکہ وہ توحید کو تسلیم کرنے کے باوجود شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ، اسی لیے فرمایا (آیت) ” افغیر اللہ تتقون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتے ہو ؟ جن کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے ، ان سے خواہ مخواہ ڈرتے ہو ، حالانکہ نہ انہوں نے کوئی چیز پیدا کی ہے ، نہ ان کے پاس تصرف ہے اور نہ وہ سب چیزوں کا علم ہی رکھتے ہیں ، بھلا ان سے تم کیوں خوف کھاتے ہو ؟ (انعامات الہیہ) فرمایا (آیت) ” وما بکم من نعمۃ “۔ تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے (آیت) ” فمن اللہ “ وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے ، نعمت حسی ہو یا معنوی ، مادی ہو یا روحانی ، ظاہری ہو یا باطنی ، سب اسی کی طرف سے ہے سورة لقمان میں ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسمان و زمین کی ہر چیز مسخر کردی ہے (آیت) ” واسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ “۔ اور اپنی تمام ظاہری اور باطنی نعمتوں کو تم پر کام بنایا ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے اندر لاتعداد نعمتیں رکھی ہیں مگر انسان کسی ایک نعمت کا بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتا ، اسی طرح بیرونی انعامات کا بھی کوئی شمار نہیں اللہ نے انسان کو وجود دیا ، صحت ، تندرستی اور عمردی ، اولاد ، زمین ومکان ، تجارت سرمایہ ، عزت ، اقتدار اور سوسائٹی میں اعلی مقام عطا کیا ، یہ سب کچھ منجانب اللہ ہے اور اس میں کسی دوسری ذات کا کوئی حصہ نہیں ، اسی لیے فرمایا کہ تمہارے پاس موجود ہر نعمت اللہ ہی کی عطا کردہ ہے ۔ (مصیبت میں رجوع الی اللہ) فرمایا (آیت) ” ثم اذا مسکم الضر “۔ پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے (آیت) ” فالیہ تجرؤن “۔ تو تم اسی کے سامنے چلاتے ہو ، اور رو کر دعائیں کرتے ہو ، جب مریض کے سرہانے کھڑے سارے ڈاکٹر عاجز آجاتے ہیں کسی کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی تو پھر لامحالہ انسان خدا تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ مولاکریم ! ظاہری اسباب تو ختم ہوچکے ہیں اب تو ہی شفا دے سکتا ہے ، مگر دیکھو (آیت) ” ثم اذا کشف الضر عنکم “۔ جس وقت خدا تعالیٰ تم سے وہ تکلیف دور کردیتا ہے (آیت) ” اذا فریق منکم بربھم یشرکون “۔ تو اچانک تم میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے ، جب تکلیف دور ہوجاتی ہے تو پھر وہی غیر اللہ کی نذر ونیاز شروع ہوجاتی ہے اور انسان انہی خیالات میں گم ہوجاتا ہے جن میں تکلیف آنے سے پہلے ڈوبا ہوا تھا ، ایسا لگتا ہے کہ اسے کوئی تکلیف آئی ہی نہیں ، اس نے خدا تعالیٰ کو پکارا ہی نہیں اور نہ اسے خدا نے کسی مصیبت سے رہائی دی ہے مطلب یہ کہ مطلب نکل جانے کے بعد لوگ پھر وہی شرکیہ رسوم ادا کرنے لگتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احسانات کو بھول جاتے ہیں ، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے (آیت) ” لیکفروا بما اتینہم “۔ کہ جو کچھ ہم نے انکو دیا ہے اس کی ناقدردانی ہوگی ، اللہ نے عقل ، صحت علم ، مال و دولت سب کچھ دیا مگر اس کا نتیجہ ناقدری کی صورت میں تو نہیں نکلنا چاہئے تھا ، انسان کو شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ نے تمام نعمتیں عطا کیں پھر تکلیف کو دور کیا مگر انسان نے پھر اسی کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس کی نعمتوں کی ناشکری کی ، فرمایا ” فتمتعوا “ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا لو ، مگر کب تک ؟ (آیت) ” فسوف تعلمون “۔ تمہیں بہت جلد پتہ چل جائے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے ۔ (شرکاء کا حصہ) آگے اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” ویجعلون لما لا یعلمون نصیبا مما رزقنھم “۔ ہماری دی ہوئی روزی میں سے ایسی چیزوں کے لیے حصہ ٹھہراتے ہیں جن کے متعلق انہیں کچھ علم نہی نہ کوئی تحقیق ہے ، نہ سند ہے اور نہ ذلیل مگر مختلف اشیاء میں سے ان کے نام کا حصہ ضرور نکالتے ہیں ، یہ مضمون سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے (آیت) ” وجعلوا للہ مما ذرا من الحرث والانعام نصیبا “۔ کہ انہوں نے کھیتی کی پیداوار اور مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کا مقرر کر رکھا ہے (آیت) ” فقالوا ھذا للہ بزعمھم وھذا لشرکآئنا “۔ اور پھر بزعم خود کہتے ہیں کہ یہ حصہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے شرکاء کا ہے ، اس طرح وہ غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کی نذر ونیاز کرتے ہیں ، گائے بھینس کا دودھ تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے ، مگر مشرک لوگ اسے شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی گیارہویں کے نام پر دیتے ہیں ، بکرا یا دنبہ بھی خدا تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے ، وہ داتا صاحب کی نیاز کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے یہی تو اللہ تعالیٰ عطا کردہ روزی میں سے غیر اللہ کا حصہ نکالنے والی بات ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے مشرکانہ عقیدے کی سخت تردید فرمائی ہے ۔ (نذر لغیر اللہ) نذر لغیر اللہ کی کئی مثالیں روز مرہ مشاہدے میں آتی ہیں ایک دفعہ ہوائی اڈے سے تانگے پر سوار ہوئے ایک پہلوان صاحب نے ایک موتا تازہ دنبہ بھی تانگے میں سوار کرایا ، گوجرانوالہ کی طرف آتے ہوئے میں نے پوچھا کہ قربانی کا موسم تو نہیں ہے ، پھر یہ دنبہ کہاں لے جارے ہو ، کہنے لگے یہ داتا صاحب کی نیاز ہے ، میں نے کہا ، اللہ کے بندے ! اللہ کی نیاز کہو ، کہنے لگے ، اللہ کیا اور داتا کیا ، ایک ہی بات ہے ، بعض لوگ شرک میں اتنے پختہ ہوتے ہیں مسعود سالار غازی کے نام کی گائے تو ہندوستان میں مشہور ہے ، شیخ سدھو کا بکرا بھی دیا جاتا ہے ، دہلی والے بی بی کی صنحک دیتے ہیں ایک بڑے کھلے برتن میں کھانا رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے صرف عورتیں ہی کھائیں گی ، مرد نہیں کھا سکتے ، اور عورتوں میں بھی دو خصمی عورت (دوسرے نکاح والی) نہیں کھا سکتی ، امام جعفر کے کو نڈے بھی تیار کیے جاتے ہیں جنہیں صرف چھت کے نیچے ہی کھایا جاتا ہے اس قسم کی نذرولغیر اللہ مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے دی جاتی ہے ۔ حیدر آباد دکن کے ایک بزرگ نے جہاد میں شہادت کا مرتبہ حاصل کیا تھا ان کی قبر پر لوگ درخواستیں پیش کرتے ہیں ، میں نے خود وہاں درخواستوں کا اتنا انبار دیکھا کہ جس سے پورا ٹرک بھر جائے ، شاید لوگ سمجھتے ہیں کہ اس بزرگ نے وہاں کلرک مقرر کر رکھے ہیں جو لوگوں کی درخواستیں ان کے پاس پیش کرتے ہیں بعض لوگ قبر پر قرآن خوانی کرتے ہیں کہ بزرگ خوش ہو کر ہمارا مقصد پورا کر دے گا ، قبروں کو غسل دیا جاتا ہے ، ان پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں ، وہاں کی خاک کو منہ اور آنکھوں پر ملا جاتا ہے ، کوئی قبر کو چوم رہا ہے ، کوئی وہاں ناک رگڑ رہا ہے اور کوئی اس پر سر رکھے ہوئے ہے بعض لوگ قبروں سے پتھر ، کنکر وغیرہ اٹھا کرلے جاتے ہیں کہ ان سے شفایابی ہوتی ہے ، صوبہ سرحد میں قبروں پر جھنڈے لہرانے کا عام رواج ہے جن پر بڑی مقدار میں کپڑا لگایا جاتا ہے ، حالانکہ یہی کپڑا کسی غریب کے تن ڈھانپنے کے کام آسکتا ہے ، یہ سب خدا کی عطا کردہ چیزوں میں سے غیروں کا حصہ مقرر کرنے کی مثالیں ہیں ۔ (لازمی بارہ پرس) اللہ نے فرمایا کہ مشرک لوگ یہ سب شرکیہ باتیں کرتے ہیں مگر انہیں یہ بھی علم نہیں کہ یہ رسم کیوں ادا کی جاتی ہے اور ا س کاموجد کون ہے مگر یاد کر کھو ! ” تاللہ “ اللہ کی قسم ‘ اللہ نے خود اپنی قسم اٹھا کر فرمایا ہے (آیت) ” لتسئلن عما کنتم تفترون “۔ کہ جو کچھ تم افتراء کرتے ہو ، اس کے متعلق ضرور سوال کیا جائے گا ، قیامت والے دن تمہیں جواب دینا ہوگا کہ یہ شرکیہ رسم تم نے کہاں سے نکالی اور تمہارے پاس اس کی کیا دلیل تھی ، کیا کسی امام نے یا بزرگ نے کہا تھا کہ غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اس کی نیاز دیا کرو ، ظاہر ہے کہ اس قسم کی ساری کاروائیاں افتراء کے زمرے میں آتی ہیں اور انہیں ایصال ثواب یا صدقہ نہیں کہا جاسکتا ، یہ تو غیروں کی نیاز ہے جنہیں نافع اور ضارسمجھ کردی جاتی ہے فوت شدگان کے لیے صدقہ خیرات اور استغفار کرنا تو جائز ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کا ثواب مرنے والوں کو پہنچائے اور یہ ملت ابراہیمی کا مسلمہ اصول ہے ، مگر نذر ونیاز کی مروجہ شکلیں شرک ہیں یا بدعت ، ایسی چیزوں کے حق میں شریعت کا حکم موجود نہیں ، فرمایا اس بارے میں قیامت کے دن تم سے ضرور باز پرس ہوگی ۔