16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:15–21

وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ اَنْهٰرًا وَّ سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 16:15 in the Quran reader

اور رکھ دیے اس نے زمین میں بوجھل پہاڑ تاکہ زمین تمہارے مضطرب نہ ہو اور (اس نے چلا دیں) نہریں ، اور (بنا دیے ) راستے تاکہ تم راہ پاؤ ۔

وَ عَلٰمٰتٍ١ؕ وَ بِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 16:16 in the Quran reader

اور کئی علامتیں (اس نے رکھ دیں) اور ستاروں کے ذریعے بھی یہ لوگ راہ پاتے ہیں ۔

اَفَمَنْ یَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا یَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:17 in the Quran reader

بھلا وہ ذات جو پیدا کرتی ہے اس کی طرح ہوگی جو نہیں پیدا کرسکتا ، کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ۔

وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:18 in the Quran reader

اور اگر تم شمار کرو اللہ کی نعمتوں کو تو نہیں شمار کرسکتے ان کو ، بیشک اللہ تعالیٰ البتہ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے ۔

وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 16:19 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جس کو تم ظاہر کرتے ہو ۔

وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَؕ Open ayah 16:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا دوسروں کو ، وہ نہیں پیدا کرسکتے کوئی چیز بھی ، اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں ۔

اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ١ۚ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ١ۙ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ۠ Open ayah 16:21 in the Quran reader

وہ مردہ ہیں ، زندہ رہنے والے نہیں ، اور وہ نہیں سمجھتے کہ وہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی نازل فرما کر انہیں انذار کا حکم دیا ، اور فرمایا (آیت) ” انذروا انہ لا الہ الا انا “۔ لوگوں کو ڈرا دو اور خبردار کر دو میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دلائل قدرت بیان فرمائے اور مخلوق کو عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کیا جن میں ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، دلائل قدرت میں سے ارض وسما کی پیدائش ، انسان کی قطرہ آب سے تخلیق ، جانوروں کی پیدائش اور ان کے فوائد بارش کا نزول ، باغات اور نباتات کی تخلیق ، لیل ونہار اور شمس وقمر کی تسخیر ، ستاروں کی تسخیر ، سمندروں سے حاصل ہونے والے موتی اور تازہ گوشت اور پھر ان میں ہونے والی جہاز رانی اور ان کے ذریعے انسانوں کو ملنے والی سہولتوں کا ذکر ہوچکا ہے ، (زمین کا توازن) دلائل قدرت اور انعامات الہی ہی کے سلسلے میں اب اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والقی فی الارض رواسی “۔ اور اللہ تعالیٰ نے زمین میں بوجھل پہاڑ رکھ دیے ، عربی زبان میں عام طور پر پہاڑ کے لیے جبل کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور پختہ اور جمے ہوئے پہاڑ کے لیے راسیہ کا لفظ آتا ہے جس کی جمع یہاں پر رواسی آیا ہے ، زمین کی تخلیق کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ بوجھل پہاڑ اس لیے رکھ دیے ہیں ۔ (آیت) ” ان تمیدبکم “۔ تاکہ زمین تمہارے ساتھ حرکت نہ کرے ، اگر زمین مضطرب ہوجائے یعنی ڈولنے لگے تو انسانی زندگی کس قدر تلخ ہوجائے ، جب کبھی چند سیکنڈ کے لیے زلزے کے جھٹکے آتے ہیں تو انسان کس قدر پریشان ہوجاتے ہیں اور پوری زندگی معطل ہو کر رہ جاتی ہے ، تو فرمایا ان بوجھل پہاڑوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے پوری زمین مضطرب رہتی تو پوری نوع انسانی کے لیے زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر یہ احسان فرمایا ہے کہ اس نے زمین میں بڑے بڑے بوجھل پہاڑ نصب کردیے ہیں تاکہ زمین پر سکون رہے اور لوگوں کی زندگی میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔ پہاڑوں کے اس بنیادی فائدے کے علاوہ اللہ نے ان میں اور بھی بہت سے فوائد رکھے ہیں پہاڑوں میں موجود بیشمار قسم کی مع دنیات نمک ، لوہا تانبہ ، سونا ، چاندی ، تیل ، چشمے ، فلک بوس درخت ، اور لاتعداد جڑی بوٹیاں اور ایسی چیزیں جو انسان کی روز مرہ زندگی میں استعمال ہوتی ہیں اگر پہاڑ نہ ہوتے تو میدانی علاقوں کے باشندے ان چیزوں سے محروم رہتے اور خود انسانی زندگی مضطرب ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی کی خاطر ان پہاڑوں میں ہزاروں قسم کی چیزوں پیدا کرکے انسانی زندگی میں توازن پیدا فرما دیا ہے ۔ (سمندری اور زمینی راستے) آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور نعمت کا ذکر کیا ہے ” وانھرا “۔ اس نے تمہارے لیے نہریں ، دریا یا سمندر پیدا کردیے ، سمندروں اور ان کے فوائد کا ذکر گذشتہ درس میں بھی ہوچکا ہے ، وہاں پر (آیت) ” سخر البحر “ فرما کر اللہ نے ان میں چلنے والی کشیتوں کا ذکر کیا تھا اور یہاں پر ” انھرا “ کا لفظ آیا ہے اور مطلب وہی نہریں ، دریا یا سمندر ہیں جو انسانی خدمت پر مامور ہیں ، اس آیت کریمہ میں انہار کا ذکر آبی راستوں کی حیثیت سے کیا ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں ، (آیت) ” وسبلا “۔ اور اللہ نے راستے بھی پیدا فرمائے ہیں ، اس سے مراد زمینی راستے ہیں جن پر چل کر لوگ دور دراز کا سفر اختیار کرتے ہیں اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں ، یہ راستے ہموار زمین میں بھی ہوتے ہیں اور پہاڑوں میں بھی جن کے ذریعے نقل وحمل ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے تمہارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے (آیت) ” لعلکم تھتدون “۔ تاکہ تم راہ پاؤ یعنی اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکو۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” وعلمت “ ان راستوں پر اللہ تعالیٰ نے کئی نشانیاں بھی رکھ دیں تاکہ مسافر اپنی منزل کا تعین کرسکیں ، متمدن دنیا میں تو اب بڑی بڑی شاہراہیں ہیں اور ان پر جگہ جگہ میلوں کے نشانات ہیں جن سے مسافر راہنمائی حاصل کرتے ہیں ، تاہم قدرتی طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑوں ، درختوں دریاؤں اور عام نشیب و فراز کی صورت میں ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنی منزل کا تعین کرسکتے ہیں ، اس کے علاوہ (آیت) ” وبالنجم ھم یھتدون “۔ ستاروں کے ذریعے بھی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں اندھیری راتوں میں جب لق ودق صحرا کا سفر ہو یا سمندر کا تو پرانے زمانے میں لوگ ستاروں کی مدد سے ہی سمت معلوم کر کے راستوں کا تعین کرتے تھے اب تو سائنسی ترقی کی وجہ سے بہت سے آلات ایجاد ہوچکے ہیں اور سمندری یا ہوائی سفر میں منزل کے تعین میں کوئی دقت پیش نہیں آتی مگر پرانے زمانے میں ستارے ہی راستہ معلوم کرنے کا واحد ذریعہ تھے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بطور اپنے احسان کے کیا ہے ۔ (انعامات الہیہ) ان نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے ان پر اپنی وحدانیت کی دلیل قائم کی ہے ، ارشاد ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کو پانے کے بعد ذرا یہ تو بتاؤ (آیت) ” افمن یخلق کمن لا یخلق “۔ بھلا پیدا کرنے والی ذات اس کی مانند ہوگی جو کچھ پیدا نہیں کرتا ، ایک طرف خالق ہے جس نے خود انسان کو قطرہ آب سے پیدا فرمایا ہے اور پھر اس کی مصلحت کے لیے تمام چیزیں پیدا کی ہیں اور دوسری طرف تم ایک ایسی ہستی کو معبود بنا رہے ہو جو ایک پتہ اور ایک قطرہ آب پیدا نہیں کرسکتی ، اس کا اپنا وجود ذتی نہیں ، بلکہ وہ خود مخلوق ہے تو کیا خالق اور مخلوق برابر ہو سکتے ہیں ؟ اگر نہیں ہو سکتے تو پھر تم خالق کو چھوڑ کر مخلوق کو کیسے الہ مانتے ہو ، کتنے افسوس کا مقام ہے (آیت) ” افلا تذکرون “۔ کیا تم ان تمام تر دلائل سے نصیحت نہیں پکڑتے ، تم غور وفکر کرکے صحیح نتیجے تک نہیں پہنچتے کہ خالق اور مخلوق اور عابد اور معبود میں کتنا فرق ہے ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ (آیت) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا “۔ اگر تم انہیں شمار کرنا چاہو تو شمار بھی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ اللہ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرسکو ، فرمایا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ تم پر گرفت نہیں کرتا ، ان نعمتوں کو سلب نہیں کرتا کیونکہ (آیت) ” ان اللہ لغفور رحیم “۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے ، یہ اس کی رافت ورحمت کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے اطاعت گزاروں کے علاوہ نافرمانوں ، مشرکوں اور کافروں کو بھی روزی دے رہا ہے ، اس کی لاتعداد نعمتوں سے وہ بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں ، وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ۔ فرمایا یاد رکھو (آیت) ” واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون وہ جانتا ہے جس چیز کو تم چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو اس کی نگاہوں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہے ، وہ ظاہری اور باطنی احوال سے واقف ہے بلکہ تمہاری نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے اسے علم ہے کہ کون سا انسان اس کی عطا کردہ نعمتوں سے کس قدر مستفید ہو رہا ہے کون شخص اپنے قلب اور اعضاء جوارح سے اس کا شکریہ ادا کرتا ہے اور کون ناشکر گزاروں میں شامل ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون شخص ایمان لا کر اس کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے اور کون ہے جو کفر اور شرک میں مبتلا رہتا ہے ، اس دنیا میں تو وہ بلالحاظ اطاعت ونافرمانی سب کو اپنی نعمتیں عطا کر رہا ہے مگر ایک وقت آنے والا ہے جب محاسبے کی منزل آئیگی اور پھر ہر ایک کو اس کی کارگزاری کی بنا پر سزا یا جزا بھگتنا ہوگی ۔ (شرک کی تردید) دلائل توحید بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا ہے (آیت) ” والذین یدعون من دون اللہ “۔ جو لوگ اپنی حاجات میں اللہ کے سوا دوسروں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں یا ان کی عبادت کرتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” لا یخلقون شیئا “۔ بلکہ وہ تو خود پیدا کیے جاتے ہیں مطلب یہ کہ جن کی زندگی خود مستعار ہے ، اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے ، وہ اپنی ذات کے بھی مالک نہیں ہیں ، ان کو معبود کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے یہ مضمون سورة رعد میں بھی گزر چکا ہے ، اللہ نے استفہامیہ انداز میں فرمایا ہے کیا انہوں نے اس لیے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی خدا تعالیٰ کی تخلیق کی طرح کوئی تخلیق کی ہے ، پھر خود ہی اپنے پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے (آیت) ” قل اللہ خالق کل شیء وھو الواحد القھار “۔ آپ کہہ دیں کہ ہر چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہے اور وہ اکیلا بھی ہے اور غالب بھی ہے ، غرضیکہ ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں ، زمین ، آسمان ، شجر ، حجر ، جنت اور دوزخ سب مخلوق ہیں ، اور معبود وہی ہو سکتا ہے جو ان سب کا خالق ہے مگر انسان کی پستی کی انتہا ہے کہ وہ انسانوں کے علاوہ گائے کے گوبر ، بندر ، بلی ، پتھر ، اعضائے تناسل تک کی پوجا کررہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کائنات کی ہر چیز مخلوق ہے اور جو خود مخلوق ہے ، وہ معبود کیسے ہو سکتی ہے لہذا عبادت کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ، جو ہر چیز کی خالق ہے ۔ فرمایا یہ لوگ اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہیں (آیت) ” اموات غیر احیآئ “۔ وہ تو مردہ ہیں ، زندہ رہنے والے نہیں ، امام بیضاوی (رح) ، مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) ، حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اور دیگر مفسرین نے اموات کی یہ توجہیہ بیان فرمائی ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے سوا جن کی پوجا کرتے ہیں ، وہ تین لحاظ سے مردہ ہیں ، یا تو وہ دواما مردہ ہیں یعنی لکڑی ، پتھر یا مٹی کے بت ہیں جو مستقلا مردہ ہیں ، اور ان میں زندگی کے کبھی کوئی آثار نہیں پائے گئے ، یا وہ فی الحال اموات ہیں یعنی وہ انسان ہیں جو وفات پاچکے ہیں اور لوگ ان کی پوجا کر رہے ہیں ، ان سے اپنی حاجتیں طلب کرتے ہیں اور ان کے نام کا وظیفہ کرتے ہیں اور یہ دو صورتیں نہ بھی ہوں تو تیسری صورت یہ ہے کہ ہر چیز انجام کے لحاظ سے مردہ ہے کہ اسے بہرحال موت کا مزہ چکھنا ہے (آیت) ” من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام “۔ (الرحمن) یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی صرف رب ذوالجلال کی ذات ہے بہرحال فرمایا کہ کائنات کی ہر چیز مردہ ہے ۔ اور زندہ رہنے والی نہیں ، مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہو کر مردہ چیزوں کی پوجا کرتے ہیں ، بعض بدبخت تو ایسے ہیں جو جنوں اور شیطانوں کی عبادت کرتے ہیں ، شیاطین تو کجا ملاء اعلی کے فرشتے بھی فنا ہونے والے ہیں ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سوا تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بھی اس دنیا سے جا چکے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اپنے وقت پر اس منزل سے گزرنا ہے ، تو فرمایا کہ ایسی ہستیوں کو معبود بنانا اور ان سے حاجات طلب کرنا کتنی پستی کی بات ہے ، انسان خود انسانوں کے آگے سربسجود ہو رہے ہیں ، حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کے درجے پر پہنچا دیا ہے ، اولیاء اللہ کو مشکل کشا سمجھا جا رہا ہے ، مافوق الاسباب ان کو پکارا جا رہا ہے ، حالانکہ ان کی اپنی زندگی بھی مستعار ہے ، ذاتی نہیں ، وہ خدا کے عاجز بندے ہیں اور ان پر موت طاری ہوچکی ہے ، ایسی ہستیوں کو معبود بنانا کہاں کا انصاف ہے ، فرمایا جن کی یہ پوجا کر رہے ہیں ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” وما یشعرون ایان یبعثون “۔ انہیں تو یہ بھی علم نہیں کہ وہ دوبارہ کب اٹھائے جائیں گے یہ تو خدائے عزوجل ہی کے علم میں ہے بعث بعدالموت کب ہوگی ، ان میں سے بعض ایسی ہستیاں ہیں جنھیں دوبارہ جی اٹھنے کا بالکل تصور اور شعور ہی نہیں ہے ، ان میں سے بعض تو پتھر اور مٹی کے بت ہیں جو نہ کبھی زندہ تھے اور نہ وہ دوبارہ زندہ ہونگے ۔ البتہ دنیا میں بعض انسان ایسے بھی گزرے ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت سے بیگانہ رہے ، ان کو دوبارہ زندگی کا کوئی تصور ہی نہ تھا مگر لوگ ان کی بھی پوجا کرتے رہے ، البتہ اللہ کے برگزیدہ نبی اور اس کے اطاعت گزار بندوں کو قیامت اور دوبارہ بعث کا شعور ہے ، فرشتوں کو بھی معلوم ہے مگر بعث کے وقت سے کوئی بھی باخبر نہیں ہے ، یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے کہ کب قیامت برپا ہوگی اور وہ کب سب کو دوبارہ زندہ کرے گا ، تو فرمایا اللہ کے سوا ہر چیز اموات ہے جنھیں بعث بعد الموت کا بھی شعور نہیں ہے ۔
Ayahs 16:22–25

اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:22 in the Quran reader

تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے پس وہ لوگ جو نہیں ایمان لاتے آخرت پر ، ان کے دل انکار کرنے والے ہیں اور وہ تکبر کرتے ہیں ۔

لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ Open ayah 16:23 in the Quran reader

ضرور برضرور (یہ بات برحق ہے) بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جس چیز کو یہ چھپاتے ہیں اور جس چیز کو ظاہر کرتے ہیں ، بیشک وہ (اللہ تعالی) نہیں پسند کرتا تکبر کرنے والوں کو۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ مَّا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 16:24 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ۔

لِیَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ۠ Open ayah 16:25 in the Quran reader

(اس کا نتیجہ یہ ہوگا) تاکہ اٹھائیں یہ لوگ اپنے بوجھوں کو پورے پورے قیامت کے دن ، اور ان لوگوں کے بوجھ سے بھی جن کو یہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے ، آگاہ رہو ، بری ہے وہ چیز جس (بوجھ) کو یہ اٹھا رہے ہیں ۔

(ربط آیات) ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی بعثت اور وحی الہی کے نزول کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اپنے انعامات اور نشانات قدرت کا ذکر کای جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرک لوگ جن ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں وہ تو کوئی چیز پیدا کرنے پر قادر نہیں ، بلکہ پیدا شدہ ہیں ۔ اللہ نے ان کو اموات کے لفظ سے تعبیر کیا ، کہ یا تو وہ مٹی اور پتھر کے بےجان بت ہیں ، یا فی الحال وفات پاچکے ہیں ، اور یا بہرحال مرنے والے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی باقی رہنے والا نہیں ، ان کی اپنی زندگی بھی ذاتی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہے تو جو ہستی خود اپنی ذات کی مالک نہیں وہ معبود کیسے بن سکتی ہے ، انہوں نے تو یہ بھی علم نہیں کہ وہ دوبارہ کب اٹھائے جائیں گے ۔ (مسئلہ الوہیت) اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ الوہیت بیان فرمایا ہے اور ضمنا تکبر کرنے والوں کا انجام ذکر کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ تمہارا معبود برحق ایک ہی معبود ہے ، اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک بنانا انتہائی درجے کی بےادبی اور گستاخی ہے ، یہ مسئلہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے سمجھایا ہے ، چناچہ سورة الانعام میں ارشاد ہوا (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے ، اس کی اولاد اور بیوی کیسے ہوسکتی ہے (آیت) ” وخلق کل شیئ “۔ اس نے تو خود ہر چیز پیدا کی ہے (آیت) ” وھو بکل شیء علیم “۔ اور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے یہ صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم “ یہی اللہ تمہارا رب ہے جس کی یہ صفات ہیں (آیت) ” لا الہ الا ھو “۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کر ئی نہیں (آیت) ” خالق کل شیء فاعبدوہ “۔ وہی ہر چیز کا خالق ہے ، لہذا اسی کی عبادت کرو (آیت) ” وھو علی کل شیء وکیل “۔ اور ہر چیز کا کارساز بھی وہی ہے ۔ غرضیکہ سمجھانا یہ مقصود ہے کہ اللہ وہی ہو سکتا ہے جو رب ہو ، خالق ہو ، علیم کل اور مختار مطلق ہو ، اگر یہ صفات اللہ کے سوا کسی دوسری ذات میں ناپید ہیں تو عبادت کے لائق بھی اس کے سوا کوئی نہیں مخلوق میں سے کوئی بھی کسی کا کام نہیں بنا سکتا ، نہ کسی کی فریاد رسی کرکے اس کی حاجت روائی کرسکتا ہے کو ن کہ نافع اور صنار صرف وحدہ لاشریک ذات ہی ہے ، اس کے باوجود ایسی ہستیوں کو پکارنا اور ان سے داد رسی چاہنا جن کا کچھ اختیار ہی نہیں ہے کتنی حماقت کی بات ہے غرضیکہ ہر قسم کی عبادت قولی ، فعلی یا اعتقادی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو کوئی کسی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک بنائے گا وہ مشرک ٹھہرے گا اور خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا ۔ (لفظ الہ کی تحقیق) امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ لفظ ” الہ “ لفظ ” اللہ “ کی اصل ہے فرماتے ہیں کہ لغوی اعتبار سے الہ کا اطلاق ہر معبود پر کیا جاسکتا ہے مگر شرائع الہیہ ، کتب سماویہ اور انبیاء کی تعلیمات میں یہ لفظ صرف معبود برحق کے ساتھ مختص کیا گیا ہے ، لہذا اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی ذات پر نہیں ہوسکتا ۔ بعض فرماتے ہیں کہ الہ کا اشتقاق (ROOT روٹ) الوہیت سے ہے جس کا معنی عبادت ہے ، تو اس لحاظ سے الہ وہی ذات ہوگی جس کی عبادت کی جاسکے اور وہ ذات صرف خدا تعالیٰ ہی کی ہے بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ الہ کا مادہ اشتقاق الہ ہے جس کا معنی حیرانگی ہے چونکہ تمام عقول اللہ تعالیٰ کی معرفت میں حیران ہوجاتی ہیں اس لیے اس لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا گیا ہے بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا مادہ ولہ ہے جس کا معنی سکون پکڑنا ہوتا ہے ، عربی میں کہتے ہیں (آیت) ” الھت الی “ ، فلان یعنی میں نے فلاں کی طرف سکون پکڑا چونکہ انسانی ارواح قلوب اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ سکون پکڑتے ہیں اور مطمئن ہوتے ہیں ، اس لیے الہ کا اطلاق خدا تعالیٰ کی ذات پر کیا گیا ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ الہ کا معنی گھبرا جانا اور الہ کا معنی پناہ دینا ہوتا ہے ، انسان گھبرا کر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور وہی ان کو پناہ دیتا ہے ، لہذا اس کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر اطلاق کیا گیا ہے ، جب اونٹ کا بچہ اپنی ماں پر بہت زیادہ فریفتہ ہوتا ہے تو عربی محاورہ میں کہتے ہیں ” الہ الفصیل بامہ “۔ چونکہ بندے اپنی مشکلات اور شدائد میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اسی پر فریفتہ ہوئے ہیں اس لیے الہ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ لھا کا لفظ حجاب کے معنی میں بھی آتا ہے ، چونکہ خدا تعالیٰ ہر چیز سے بلندو برتر ہے اس کے سامنے پردے پڑے ہوئے ہیں اور کوئی شخص اس کو دیکھ نہیں سکتا اس لحاظ سے بھی یہ لفظ اللہ تعالیٰ پر صادق آتا ہے ۔ (فکر آخرت) فرمایا تمہارا معبود برحق ایک ہی ہے (آیت) ” فالذین لا یؤمنون بالاخرۃ “۔ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے (آیت) ” قلوبھم منکرۃ “ ان کے دل انکار کرنے والے ہیں ، (آیت) ” وھم مستکبروں “۔ اور وہ تکبر کرنے والے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی الوہیت کو ماننا اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرکے صرف اسی کی عبادت کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو فکر آخرت رکھتے ہیں ، اور جو لوگ فکر آخرت ہی کے منکر ہیں ، وقوع قیامت اور جزائے عمل پر ان کا یقین ہی نہیں ہے ، وہ خدا تعالیٰ کو الہ کیسے مانیں گے اور اس کی عبادت کیونکر کریں گے ، ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی عبادت سے تکبر کرنے والے اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ (تکبر کی بیماری) تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، ایک فکر آخرت کا انکار اور دوسری تکبر کی بیماری ، فرمایا جب خدا کا نبی یا اس کا ماننے والا اللہ تعالیٰ کی الوہیت بیان کرتا ہے تو یہ لوگ اللہ کی وحدانیت کو تکبر اور خود پسندی کی وجہ سے تسلیم نہیں کرتے اکثر لوگ تکبر ہی کی وجہ سے ہدایت سے محروم رہتے ہیں ، حضور ﷺ نے ایک موقع پر تکبر کی مذمت بیان فرمائی تو ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ﷺ اگر کوئی شخص اچھا لباس پہنتا ہے اور اچھی سواری استعمال کرتا ہے تو کیا یہ تکبر میں شامل ہے ؟ فرمایا نہیں بلکہ یہ تو جمال ہے ” اللہ جمیل ویحب الجمال “ یعنی اللہ تعالیٰ خود جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے البتہ تکبر کی تعریف یہ ہے بطر الحق وغمط الناس “ کہ حق بات کو ٹھکرا دیا جائے اور لوگوں کی تحقیر کی جائے ، کسی کو اس کی غربت کی وجہ سے یا اس کے خاندان کی وجہ سے یا جسمانی کمزوری کی بنا پر حقیر جاننا تکبر میں شامل ہے کسی معمولی آدمی کی سچی بات کو ٹھکرا دینا بھی تکبر کی نشانی ہے دنیا میں اکثر مشرکین نے اللہ کے نبیوں کی معمولی حیثیت کے پیش نظر ہی ان کا انکار کیا ، کہتے تھے کہ تو تو ہمارے جیسا کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا انسان ہے ، تیرے پاس نوکر چاکر اور کوٹھی اور باغات نہیں ہیں ، تو ہمیں کیسے تبلیغ کرتا ہے ، کوئی بڑا آدمی ہم سے بات کرتا تو ہم توجہ بھی دیتے مگر تجھ جیسے معمولی حیثیت کے آدمی کی بات کو کیسے تسلیم کرلیں وہ لوگ اسی تکبر کی بیماری میں مبتلا تھے ، اور یہ بیماری اس زمانے میں بھی موجود ہے ، آج بھی کوئی جاگیردار کسی مزارع کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ، کوئی کارخانے دار کسی مزدور کی رائے کو اہمیت نہیں دیتا اور کوئی افسر اپنے ماتحت کی رائے کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا یہ سارا تکبر ہی کا شاخسانہ ہے ۔ تکبر ابلیسی بیماری ہے اور ہدایت سے اکثر حرمان اسی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے ، بزرگان دین جب لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں تو ان کو عبادت اور ریاضت کراتے ہیں ، ان کو اذکار سکھاتے ہیں اور ان کو رذائل سے پاک کرتے ہیں ، تکبر ایک قبیح چیز ہے کہ انسان کی تمام بداخلاقیوں میں سے سب سے آخر میں اس سے خلاصی ہوتی ہے بزرگان دین کا مقولہ ہے کہ ایک سوئی کے ذریعے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے مگر اس کے مقابلے میں دل سے تکبر کو نکالنا مشکل کام ہے ۔ فرمایا ” لاجرم “ یہ لازمی امر ہے (آیت) ” ان اللہ یعلم ما یسروں وما یعلنون “۔ بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو خوب جانتا ہے وہ ہر شخص کے غرور ونیاز مندی اور اس کے اخلاص کو جانتا ہے اور یہ بھی کہ (آیت) ” انہ لا یحب المستکبرین “۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، کوئی متکبر آدمی خدا کا محبوب نہیں بن سکتا ، اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے اور وہ اپنے عاجز بندے ہی کو پسند کرتا ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے ” لایبغی بعضکم علی بعض “ تم ایک دوسرے پر سرکشی اختیار نہ کرو بلکہ ” تواضعوا “ ایک دوسرے سے تواضع ، ہمدردی اور غمگساری کے ساتھ پیش آؤ ، تکبر بجائے خود مبغوض چیز ہے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مبغوض بنانتا ہے لہذا اس سے بچنا چاہئے کہ یہ بہت بری بیماری ہے ۔ (وحی الہی کا انکار) ان متکبرین کی ایک یہ خصلت بھی بیان کی گئی ہے (آیت) ” واذا قیل لھم ماذا انزل ربکم “۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز نازل فرمائی ہے ، یعنی جب ان سے قرآن کریم ، وحی الہی اور شرائع الہیہ کے متعلق دریافت کیا جاتا ہے ، (آیت) ” قالوا اساطیرالاولین “۔ تو کہتے ہیں کہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ، مشرک اور جاہل لوگ ہمیشہ یہی بات کرتے ہیں ، یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور سائنسدان یہودی اور عیسائی بھی قرآن حکیم کے متعلق یہی کچھ کہتے ہیں ، ان کی طبیعتوں میں تکبر بھرا ہوا ہے اور وہ اسلام کو ایک رسمی مذہب خیال کرتے ہیں ، دنیا کی ناپائیدار اور حقیر تعلیم حاصل کرکے اپنے آپ کو بڑا صاحب کمال سمجھتے ہیں اور قرآن پاک اور نبی آخر الزمان کو اللہ کا کلام اور اس کا آخری نبی ماننے کے لیے تیار نہیں ، وہ بھی اللہ کے پاک کلام کو قصے کہانیوں پر محمول کرتے ہیں ، بعض مشرک کہتے تھے کہ محمد ﷺ تمہیں عاد اور ثمود کی کہانیاں سناتے ہیں ، آؤ ہم تمہیں رستم واسفند یار کے کارنامے سناتے ہیں ، جو محمد ﷺ کی کہانیوں سے بڑھ کر دلچسپ ہیں ، بہرحال وہ لوگ قرآن پاک اور وحی الہی کا انکار کرتے تھے اور اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمایا ہے ۔ (دوہرا بوجھ) فرمایا اس انکار کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” لیحملوا اوزارھم کاملۃ یوم القیمۃ “۔ تاکہ اٹھائیں یہ لوگ اپنا بوجھ پورا پورا قیامت کے دن جب محاسبے کا وقت آئے گا تو منکرین پر ان کے گناہوں کا پورا پورا بوجھ لادا جائے گا ، وہ نہ صرف اپنی کارستانی کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ (آیت) ” ومن اوزار الذین یضلونھم بغیر علم “۔ بلکہ ان لوگوں کو بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کو انہوں نے گمراہ کیا بلاتحقیق ، اس طرح گویا ان پر دوہرا بوجھ یعنی عذاب ڈالا جائے گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو امام یا پیشوا برائی کا کوئی راستہ مقرر کرتا ہے اس کو اپنے گناہ کا بدلہ بھی ملے گا اور ان تمام لوگوں کے گناہ میں سے بھی حصہ ملے گا جو اس باطل راستے پر چل نکلے ، حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اس دنیا میں ہونے والے ہر قتل ناحق کا ایک گناہ آدم (علیہ السلام) کے اس بیٹے کے نامہ اعمال میں بھی لکھا جاتا ہے ، جس نے سب سے پہلے قتل ناحق کی بنیاد رکھی ، نیکی کے متعلق بھی یہی اصول ہے ، ہر نیکی والے کی نیکی کا ایک اجر نیکی کا راستہ بتانے والے کو بھی ملے گا ، چونکہ دنیا میں نیکی کا راستہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے ایجاد کیا ، لہذا یہاں پر ہونے والی ہر نیکی کا ایک ایک اجر امت کے نبی کو بھی حاصل ہوتا ہے لہذا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اجر وثواب کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا ۔ اس آخری امت میں نیکی کے موجد حضور ﷺ ہیں ، اور وہ قیامت تک ہونے والے کار خیر میں برابر کے حصہ دار ہیں ۔ فرمایا ان لوگوں نے بلاسوچے سمجھے قرآن پاک کا انکار کردیا ہے حالانکہ خود قرآن انہیں غور وفکر کی دعوت دے رہا ہے (آیت) ” افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا “۔ (محمد) یہ لوگ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر قفل پڑگئے ہیں سورة ص میں ہے کہ ہم نے یہ مبارک کتاب آپ کی طرف نازل کی ہے (آیت) ” لیدبروا ایتہ “۔ تاکہ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں جن لوگوں نے اس کلام کو سمجھنے کی کوشش کی انہیں پتہ چل گیا کہ پوری دنیا کی تاریکیوں میں روشنی کا یہی ایک مینار ہے مگر انہوں نے انکار کرکے دوہرا بوجھ ٹھا لیا ہے فرمایا الا خبردار (آیت) ” سآء مایزرون “۔ بہت برا بوجھ ہے جس کو یہ لوگ اٹھا رہے ہیں ، اس کا احساس جزائے عمل کی منزل کے وقت ہوگا کہ انہوں نے کتنا برا بوجھ اٹھایا ، خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، اعاذنا اللہ منھا “۔ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے ۔
Ayahs 16:26–29

قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 16:26 in the Quran reader

تحقیق چالبازی کی ان لوگوں نے جو تم سے پہلے گزرے ہیں پس اللہ نے قصد کیا ان کی عمارت کا پس اس کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا پس گر پڑی ان پر چھت اوپر سے ، اور لایا اللہ تعالیٰ ان کے پاس عذاب جہاں سے ان کو خبر بھی نہ تھی ۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 16:27 in the Quran reader

پھر قیامت والے دن اللہ انکو رسوا کریگا اور کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑا کرتے تھے ، کہیں گے وہ لوگ جن کو علم دیا گیا ہے کہ بیشک رسوائی آج کے دن اور برائی کفر کرنے والوں پر ہے ۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۪ فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:28 in the Quran reader

وہ کہ جن کو وفات دیتے ہیں فرشتے اس حال میں کہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں ، پس وہ ظاہر کرتے ہیں اس وقت اطاعت کو ، اور کہتے ہیں کہ نہیں تھے ہم برائی کرتے ، کیوں نہیں ، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے تھے ۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 16:29 in the Quran reader

پس داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں ، ہمیشہ رہنے والے ہو گے تم ان میں پس بہت برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا ۔

(ربط آیات) اللہ تعالیٰ نے پہلے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر غیروں کو الہ ماننے والوں کی تردید فرمائی ، اللہ نے واضح فرمایا کہ خالق ، رب ، علیم کل ، قادر مطلق ، نافع اور ضار اس کے سوا کوئی نہیں ، لہذا عبادت کے لائق بھی کوئی نہیں ہو سکتا معبود برحق وہی اکیلا ہے اور اس بات میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اس کے بعد اللہ نے منکرین توحید کے باطل عقیدے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ایک تو انہیں آخرت کے محاسبے کا یقین نہیں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ تکبر کرتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ کفر شرک ، اور نافرمانی پر مصر ہیں ، جب ان کے سامنے اللہ کا کلام یا رسولوں کی بات پیش کی جاتی ہے تو کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں ، وہ اپنے تکبر کی بنا پر اللہ کے نبیوں کی بات کو معمولی سمجھ کر ٹھکرا دیتے ہیں ، اللہ نے فرمایا کہ قیامت والے دن وہ دوہرا بوجھ اٹھائیں گے ، انہیں اپنے گناہوں کا بار بھی اٹھانا ہوگا اور ان لوگوں کے گناہوں کو بھی جن کو انہوں نے گمراہ کیا ، فرمایا یہ بہت برا بوجھ ہوگا جو وہ اٹھائیں گے ۔ (مخالفین کی چال بازیاں) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے زمانے کے منکرین قرآن اور نبی اور اسلام کے مخالفین خصوصا مشرکین مکہ کو تنبیہ فرمائی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی سمجھایا ہے کہ جس طرح آج تم مخالفت کر رہے ہو اسی طرح پہلے لوگوں نے بھی اللہ کے نبیوں کی مخالفت کی تو وہ دنیا وآخرت میں ذلیل و خوار ہو کر جہنم رسید ہوئے ، اسی طرح اگر تم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ کے دین اور پیغمبر خدا کی مخالفت ترک نہیں کرو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا ۔ مشرکین مکہ نے دین اسلام کے خلاف بڑی سازشیں کیں اور نبی آخر الزمان کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے بڑی بڑی تدبیریں کیں جن کا ذکر قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ہوا ہے ، حضور ﷺ کے خلاف باطل پراپیگنڈا مشرکین مکہ کا ایک اہم ہتھیار تھا ، کبھی شاعر کہتے کبھی کاہن کا لقب دیتے ، کبھی آپ کو ساحر کا خطاب دیتے اور کبھی نعوذ باللہ مجنون قرار دیتے تاکہ لوگ آپ کی طرف راغب نہ ہوں ، اس کے علاوہ مٹھی بھر مسلمانوں پر تشدد بھی کیا جاتا ، طرح طرح کی تکالیف پہنچائی جاتی ، ذہنی طور پر پریشان کیا جاتا تاکہ وہ اسلام کا دامن چھوڑ دیں ، باہر سے آنے والوں کو راستے میں ہی روک دیتے اور انہیں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہونے دیتے ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ آپ کی قوم کے لوگ راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو ڈراتے دھمکاتے اور شعیب (علیہ السلام) کے پاس جانے سے روکتے تھے ، اسی طرح مشرکین مکہ نے اس قسم کا انتظام کر رکھا تھا کہ لوگ حضور ﷺ کی بات نہ سن سکیں ، وہ جانتے تھے کہ جسے ایک دفعہ آپ کی صحبت حاصل ہوگئی ، وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا ، گذشتہ سورة الحجر کے آخری حصے میں لفظ عضین کی تشریح میں عرض کیا گیا تھا کہ ان بدبختوں نے علاقے تقسیم کر رکھے تھے کہ فلاں راستے سے تم روکو اور فلاں درے پر ہم بیٹھیں گے ، تاکہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکیں ، چناچہ دو صحابیوں کا ذکر آتا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ملنے کی کوشش کی تو انہیں سخت تکلیف اٹھانا پڑی ، مکہ پہنچ کر انہوں نے کسی معمولی حیثیت کے آدمی سے حضور ﷺ کے متعلق دریافت کیا تو وہیں پٹائی شروع ہوگئی ، حضرت عمرو ابن عبسہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ جس زمانے میں وہ مکہ پہنچے تو اس وقت ” جرآء علیہ قومہ “ آپ کی قوم آپ کے سخت مخالفت تھی ، لہذا حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ابھی حالات سازگار نہیں ہیں ، تم اپنے اسلام کا برملا اظہار نہ کرو اور اپنے علاقے میں واپس چلے جاؤ ، پھر جب تمہیں خبر پہنچے کہ اللہ نے اہل ایمان کو غلبہ عطا فرما دیا ہے تو ہمارے پاس آجانا انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنے علاقے میں واپس چلے گئے ، پھر جب اہل اسلام حضور ﷺ کی معیت میں مدینہ طیبہ پہنچ گئے ، وہاں آپ کے قدم جم گئے اور کفار مکہ کو بدر کے میدان میں شکت فاش کا سامنے کرنا پڑا تو وہ لوگ مدینے پہنچ کر اپنے مسلمان بھائیوں میں شامل ہوگئے ، بہرحال یہاں پر اسی بات کو بیان کیا جا رہا ہے کہ پرانے مشرکوں نے بھی بڑی بڑی تدابیر اختیار کیں اور آج کے مشرک بھی انہیں کے نقش قدم پر چل کر دین اسلام کی مخالفت کر رہے ہیں اللہ کی توحید کو مٹانا چاہتے ہیں اور نبی کے مشن کو ناکام بنانے پر کمر بستہ ہیں مگر تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مشن پر قائم رہو ان کی رسوائی کا وقت آنے والا ہے ۔ (نمرود اور فرعون کی کارگزاری) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قد مکر الذین من قبلھم “ بیشک چالبازی کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، انہوں نے خدا کے دین کے خلاف بڑی سازشیں کی ، غلط پراپیگنڈا کیا ، راستوں میں بیٹھے حتی کہ جنگ وجدل تک نبوت پہنچی ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں نمرود اور فرعون کی مثالیں بیان فرمائیں کہ انہوں نے اللہ کے جلیل القدر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے خلاف کیسی کیسی تدبیریں کیں جب ابراہیم (علیہ السلام) خدا کا نام لیتے تو نمرود کہتا کہ تمہارے خدا کا مقابلہ میں کروں گا ، چناچہ اس نے حکم دیا کہ ایک بہت بڑا مینار تیار کیا جائے جس پر چڑھ کر میں ابراہیم (علیہ السلام) کے خدا کا مقابلہ کروں گا ، چناچہ بائیبل کی تفسیری روایات ، عبداللہ بن عباس ؓ اور وہب ؓ کی روایات میں آتا ہے کہ نمرود نے اس مقصد کے لیے 7500 فٹ بلند مینار تعمیر کرایا تھا ، مگر اس کے اوپر چڑھ کر مقابلہ کرنے کا موقعہ نہ ملا ، اللہ تعالیٰ نے ایسی تیز آندھی بھیجی کہ مینار کی چوٹی تو ٹوٹ کر دور پانی میں جا گری اور باقی حصہ منہدم ہونے پر ہزاروں آدمی اس کے نیچے آکر کچلے گئے ، بعض کے دماغ خراب ہوگئے اور بعض کی زبان ہی بدل گئی ، وہ زبان سے کہنا کچھ چاہتے ، مگر ادا کچھ اور ہی ہوتا تھا ، فرعون نے بھی اپنے وزیر سے کہا تھا کہ میرے لیے ایک بلند وبالا مینار تعمیر کراؤ تاکہ میں اوپر چڑھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھ سکوں ، یہ سب پہلے لوگوں کی چالیں تھیں جو انہوں نے اللہ کے سچے دین کے خلاف اختیار کیں ۔ ادھر اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ بھی کام کر رہی تھی ، جب منکرین خدا اور رسول نے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرائیں تو فرمایا (آیت) ” فاتی اللہ بنیانھم من القواعد “۔ کہ اللہ نے ان کی عمارتوں کو بنیادوں سے اکھاڑ دیا (آیت) ” فخر علیھم السقف من فوقھم “۔ اور اوپر سے ان پر ان کی چھتیں ہی گر پڑیں ، اور ان کی تمام تدبیریں ناکام ہوگئیں ، یہ دراصل مکہ والوں کو تمثیل کے طور پر بات سمجھائی جارہی ہے کہ پرانی اقوام میں سے بھی جس کسی نے سرکشی کی اور خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرنا چاہا ، اللہ نے ان کی جڑ بنیاد کو ہی اکھاڑ کر ان کو نیست ونابود کردیا ۔ اور پھر (آیت) ” واتھم العذاب من حیث لایشعرون “۔ ان پر ایسی جگہ سے خدا کا عذاب آیا جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہیں تھا ، لہذا اگر تم بھی پرانے مشرکین کی روشن پر چلو گے تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا اور پھر ایسا ہی ہوا ، اللہ تعالیٰ نے چند سالوں میں مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا ، مکہ فتح ہوگیا اور وہاں سے مشرکین کا نام ونشان تک مٹ گیا ۔ (مسلسل سازشیں) خدا کے دین کے خلاف سازشیں ابتداء سے ہی ہوتی رہی ہیں پہلے زمانے کے لوگ بھی تدبیریں اختیار کرتے رہے اور پھر نبی آخر الزمان ﷺ کے مخالفین نے بھی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ، اور اس کے بعد بھی ہر دور میں اسلام کے خلاف بڑے بڑے منصوبے بنتے چلے آئے ہیں ، آج بھی یہودی ، عیسائی ، ہندو اور اشتراکی اسلامی اور اہل اسلام کے خلاف ہزاروں سکی میں بنا رہے ہیں ، کہیں سکولوں اور کالجوں کے ذریعے لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہیں ہسپتالوں کی آڑ میں اسلام مخالف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے ، انسانیت کے نام نہاد خیرخواہ یہ لوگ دراصل دین اسلام پر شب خون مارتے ہیں ، مفت لٹریچر تقسیم کرکے لوگوں کے دین پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ، امیر شکیب ارسلان (متوفی 1940 ئ) بڑے مجاہد آدمی تھے ترکی کے ہسپتالوں کے انچارج اور دین کے شیدائی تھے ، وہ لکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے یہودیوں اور عیسائیوں نے قرآن پاک اور پیغمبر اسلام کے خلاف چھ لاکھ کتابیں شائع کی ہیں کہ کسی طرح مسلمان اپنے دین سے بیگانہ ہوجائیں کہیں یہ سازش متشرقین کے ذریعے پروان چڑھائی جا رہی ہے ، مشرقی علوم کے نام نہاد مغربی لوگ قرآن پاک اور دین اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات جاری کرکے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، غرضیکہ کبھی مخالفت کرکے اور کبھی موافق بن کر ہر طریقے سے دین کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ، خاص طور پر انگریز تو اس حد تک منصوبہ بندی کرچکے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کا تعلق قرآن پاک سے منقطع نہیں ہوتا ، یہ ہمارے قابو میں نہیں آسکتے ، یہودیوں نے بھی برملا کہہ دیا کہ جب تک مسلمانوں کی عقیدت محمد ﷺ پر پختہ ہے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ، چناچہ ہر دو گروہ اپنے اپنے مشن کی کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں ، ادھر مسلمان ہیں جو ان سازشوں سے بیخبر سوئے ہوئے ہیں ، انہیں اس وقت پتہ چلتا ہے جب یہود ونصاری کی کوئی تدبیر کامیابی کے قریب پہنچ جاتی ہے اور وہ اپنی بدعملی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں ۔ باطل فرقوں میں مرزائیوں اور رافضیوں کا بھی یہی حال ہے ، وہ بھی دین حقہ کے خلاف مسلسل سازشیں کرتے رہتے ہیں ، مرزائیوں کی زد میں ہم ایک صدی سے آئے ہوئے ہیں ، اب تو قانونی طور پر ان کی حیثیت کمزور ہوچکی ہے ، وگرنہ اقتدار پر قابض اکثر لوگ انہی کی طرفداری کرتے آئے ہیں ، ان کا لڑیچر اب تک پھیلایا جارہا ہے اور وہ دنیا بھر میں اپنے باطل دین کے لیے سرگرم ہیں ، ادھر رافضیوں نے بھی اپنی پراپیگنڈا مہم تیز کررکھی ہے گویا رافضیت ہی اصل اسلام ہے ، ایرانی انقلاب مہم تیز کر رکھی ہے گویا رافضیت ہی اصل اسلام ہے ، ایرانی انقلاب کے بعد خمینیوں کی حمایت میں بڑا لٹریچر تقسیم ہو رہا ہے وہ اپنے آپ کے اسلام کے نمائندہ کے طور پر دنیا میں پیش کرتے ہیں ، حالانکہ وہ رافضی ہیں ۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ دشمنان دین کو پہلے بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ، ان کی عمارتوں کو جڑ وبنیاد سے اکھاڑ دیا گیا ، اور وہ خدا تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے مخالفین خدا ورسول کی طرف سے تھوڑے عرصہ کے لیے شور وشر ہوتا ہے بعض لوگ ان سے متاثر بھی ہوئے ہیں ، مگر ان کی سازش جلد ہی منظر عام پر آجاتی ہے اور ان کی تمام سکی میں جھاگ کی طرح ختم ہوجاتی ہیں ، اسلام اپنی ذاتی خصوصیت اور حقانیت کی بنا پر قائم ہے اور تاقیام قیامت قائم رہے گا۔ (ظالموں کی رسوائی) فرمایا دین کا دنیا میں تو یہ حال ہوا (آیت) ” ثم یوم القیمۃ یجزیھم “۔ پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل ورسوا کریگا ، اس دنیا میں مشرکین شرک کی حمایت میں زمین وآسمان کے قلابے ملاتے ہیں مگر قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا (آیت) ” ویقول این شرکآء ی الذین کنتم تشاقون فیھم “۔ بتاؤ آج میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کے بارے میں تم دنیا میں جھگڑا کیا کرتے تھے میرے نبیوں کی بات نہیں مانتے تھے اور شریکوں کی حمایت کیا کرتے تھے اب ان کو بلاؤ تاکہ تمہاری مدد کریں ۔ اس وقت (آیت) ” قال الذین اوتوا العلم “۔ اہل علم کہیں گے ، جن کو اللہ نے دنیا میں علم کی روشنی عطا فرمائی اور وہ کفر شرک سے بیزار ، وہ کہیں گے (آیت) ” ان الخزی الیوم والسوء علی الکفرین “۔ بیشک آج کے دن کی رسوائی اور برائی یعنی عذاب کفر کرنے والوں پر ہے انہوں نے دنیا میں اللہ کی توحید کا انکار کیا ، خدا کے شریک ٹھہرانے ، اللہ کے نبیوں کی مخالفت کی ، وہ دنیا میں بھی ناکام ہوئے اور آج قیامت کے دن بھی ان کے مقدر میں رسوائی اور ذلت ہے ۔ فرمایا کافروں کی حالت یہ ہے (آیت) ” الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم “۔ کہ اللہ کے فرشتوں نے ان کو اس حالت میں موت دی کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں جس کا ارتکاب کرکے وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کے مرتکب ہوئے حضور ﷺ دعا میں کہتے تھے ” اللھم انی اعوذ بک من شرالحیوۃ ومن شر المماۃ “۔ اے اللہ ! میں بری زندگی اور بری موت سے پناہ مانگتا ہوں ، بری زندگی یہ ہے کہ انسان عمر بھر بدعقیدگی میں مبتلا رہے اور بری موت یہ ہے کہ اسی بدعقیدگی پر خاتمہ ہو ، ایسا شخص توحید خداوندی سے خالی گیا ، لہذا اس سے بری موت کون سی ہو سکتی ہے ۔ ؟ فرمایا ، یہ لوگ دنیا میں اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے ، انہوں نے کفر اور شرک کا راستہ پکڑا ، حالانکہ اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان) یعنی شرک بہت بڑا ظلم ہے ، نیز فرمایا (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرہ) اور کافر وہی ہیں ظلم کرنے والے ، تو فرمایا کہ دنیا میں تو یہ کفر وشرک میں مبتلا رہے مگر قیامت کے دن اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے (آیت) ” فالقوا السلم “ اس وقت اپنی اطاعت اور کفر شرک سے بیزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے (آیت) ” ماکنا نعمل من سوئ “۔ ہم تو دنیا میں برائی کا ارتکاب نہیں کیا کرتے تھے ، اس وقت اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کریں گے ، مگر اللہ فرمائیگا ، تم جھوٹ بولتے ہو (آیت) ” بلی ان اللہ علیم بما کنتم تعملون “۔ کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم دنیا میں کیا کرتے تھے وہ علیم کل ہے اور تمہاری ایک ایک حرکت اور ایک ایک عمل سے واقف ہے وہ جانتا ہے کہ تم دنیا میں کفر اور شرک پر بضد رہے ، لہذا آج تمہارا انکار کچھ مفید نہیں ہو سکتا ، دوسری جگہ موجود ہے کہ جب وہ زبان سے انکار کریگا تو زمین ، انسان کے جوارح اور دوسری چیزیں اس کے خلاف گواہی دیں گی ، خطہ ارضی ، پہاڑ ، درخت بول کر کہیں گے کہ اس شخص نے فلاں مقام پر فلاں گناہ کیا ، ہاتھ اور پاؤں گواہ بن جائیں گے اور اس کی کوئی بات نہیں چل سکیں گی ، (جہنم میں داخلہ) پھر ارشاد ہوگا (آیت) ” فادخلوا ابواب جھنم “۔ جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ، اب تمہارے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں (آیت) ” خلدین فیھا “۔ تمہیں اس جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا ، پچھلی سورة میں گذر چکا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر گیٹ سے منقسمہ جرائم کے مطابق داخلے ہوں گے ، فرمایا (آیت) ” فلبئس مثوی المتکبرین “۔ تکبر کرنے والوں کا یہ بہت برا ٹھکانا ہے ، انہوں نے غرور وتکبر کی وجہ سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی بات کو تسلیم نہ کیا ، خدا کی وحدانیت کو معمولی چیز سمجھ کر ٹھکرا دیا ، تو فرمایا کہ تمہارے تکبر کی سزا یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس جہنم ایندھن بن جاؤ ۔
Ayahs 16:30–34

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْ١ؕ قَالُوْا خَیْرًا١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ١ؕ وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:30 in the Quran reader

اور کہا گیا ان لوگوں سے جو بچتے ہیں کہ کیا چیز اتاری ہے تمہارے پروردگار نے ، تو انہوں نے کہا کہ (جو کچھ بھی اس نے اتارا ہے) وہ سراسر خیر ہی ہے ، ان لوگوں کے لیے جنہوں نے بھلائی کی اس دنیا میں بھلائی ہی ہے ، اور آخرت کا گھر بہتر ہے اور بہت اچھا گھر ہے ان لوگوں کا جو متقی ہیں ۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 16:31 in the Quran reader

وہ باغات ہیں رہنے کے لیے داخل ہوں گے وہ ان میں بہتی ہیں ان کے سامنے نہریں ان کے لیے ہوگا ان (باغوں) میں جو وہ چاہیں گے اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ بدلہ دیتا ہے متقیوں کو ۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ طَیِّبِیْنَ١ۙ یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُ١ۙ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:32 in the Quran reader

وہ کہ جب وفات دیتے ہیں ان کو فرشتے (اس حال میں کہ وہ) پاک ہوتے ہیں ، اور (فرشتے) کہتے ہیں سلام ہو تم پر داخل ہوجاؤ جنت میں اس کے بدلے میں جو کام تم کیا کرتے تھے ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:33 in the Quran reader

یہ (نافرمان لوگ) نہیں انتظار کرتے مگر اس بات کا کہ آجائیں ان کے پاس فرشتے یا پہنچ آئے ان کے پاس تیرے پروردگار کا خاص حکم ، اسی طریقے سے کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 16:34 in the Quran reader

پس پہنچیں ان کو وہ برائیاں جو انہوں نے کی تھی ، اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے جس کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے ۔

(ربط آیات) پہلے اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا حال بیان کیا کہ جب ان سے قرآن پاک سے متعلق پوچھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر کیا چیز اتاری ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو قصے کہانیاں ہیں وہ نہ صرف وحی الہی کا انکار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں اور اس کی تردید کرتے ہیں ، اللہ نے ان کا انجام بیان فرمایا کہ قیامت کے دن یہ لوگ نہ صرف اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائیں گے بلکہ ان لوگوں کے گناہوں کا بار بھی ان پر ہوگا جن کو انہوں نے دنیا میں گمراہ کیا ، پھر اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے دنیا میں اسلام کے خلاف بڑی منصوبہ بندی کی ، بڑی سکی میں بنائیں ، چال بازیاں کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو سکے ، پھر اللہ نے ان کو دنیا میں بھی سزا دی اور آخرت میں تو ان کے لیے عذاب لازمی ہے فرمایا یہ لوگ مرتے دم تک کفر شرک پر اڑے رہتے ہیں حتی کہ جب ان کی موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے اسی حالت میں ان کی جان قبض کرتے ہیں پھر اس وقت یہ توحید کا اقرار کرتے ہیں ، مگر اس وقت کا اقرار کچھ مفید نہیں ہوتا اور فرشتے انہیں جہنم کی وعید سنا دیتے ہیں ، فرمایا تکبر کرنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے ۔ (متقین سے سوال و جواب) نافرمانوں کا حال اور انجام بیان کرنے کے بعد اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقی لوگوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے ، قرآن پاک کا اسلوب ہے کہ جہاں مشرکین کا ذکر آتا ہے تو ساتھ متقین کا بیان بھی ہوتا ہے ، اور جہاں فجار کا حال بیان کیا جاتا ہے تو ساتھ ابرار کا ذکر بھی ہوتا ہے ، اور اس طرح ترہیب اور ترغیب ساتھ ساتھ چلتے ہیں اب یہاں پر بوقت اہل ایمان کا حال بیان کیا جا رہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقیل للذین اتقوا “۔ اور کہا جاتا ہے ان لوگوں سے جو ڈرتے ہیں ، اتقی کی تفسیر میں رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انسان سب سے پہلے کفر ، شرک اور نفاق سے بچے ، پھر ہر باطل عقیدے سے پرہیز ہے ، جو شخص ان سے نہیں بچتا ، وہ متقی نہیں ہو سکتا ، تو فرمایا کہ جب بچنے اور ڈرنے والوں سے کہا گیا (آیت) ” ماذا انزل ربکم “۔ کہ تمہارے پروردگار نے کیا چیز اتاری ہے (آیت) ” قالوا خیرا “ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا نازل کردہ کلام تو سراسر خیر اور باعث برکت ہے ، اور یہ بےپایاں رحمت کا حامل ہے ۔ حضرت اسامہ ؓ کی والدہ ام ایمنرضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور ﷺ کو گود لیا تھا پھر وہ آپ پر ایمان بھی لے آئیں حضور ﷺ کی وفات کے وقت تک وہ کافی عمر رسیدہ ہوچکی تھیں حضور ﷺ کی رحلت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور عمر فاروق ؓ ملاقات کے لیے ام ایمن ؓ کے پاس گئے تو وہ رونے لگیں ، انہوں نے سمجھا کہ ام ایمن ؓ حضور ﷺ کی جدائی کی وجہ سے رو رہی ہیں یا شائد آپ کے بعد انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے ، پھر جب انہوں نے رونے کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگیں کہ میں جانتی ہوں کہ اللہ کے نبی اس وقت بڑے آرام و راحت میں ہیں مجھے آپ کی طرف سے کوئی تشویش نہیں ، بلکہ رونے کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی ﷺ ہم میں موجود تھے تو وحی الہی کا سلسلہ بھی جاری تھا جو کہ اب منقطع ہوچکا ہے اور ہم اس کی برکات سے محروم ہوگئے ہیں اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی آبدیدہ ہوگئے کہ واقعی اللہ کی جانب سے جو چیز اپنے نبی پر نازل ہوتی تھی وہ سراسر خیر و برکت تھی اور اب ہم اس خیروبرکت سے محروم ہوچکے ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی جو سراسر خیر ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس سے ہدایت کی روشنی حاصل کریں اور اچھی اچھی باتیں سیکھیں ، انسان وحی الہی کے ہر وقت محتاج ہیں ، اسی لیے تو ہر نماز کی ہر رکعت میں (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “۔ کی درخواست کرتے ہیں ، یہ ایسی چیز ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرتی ہے اور ان کی بہتری کے سامان پیدا کرتی ہے ۔ (متقین کے لیے بہتر گھر) فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ “۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھا کام کیا ، یقینا ان کے لیے بھلائی ہے ، خدا تعالیٰ کے ہاں اچھے کام کا نتیجہ اچھاہی ہوگا ، جو دنیا میں نیک کام کرتے ہیں ، انہیں نیکی کی مزید توفیق ملتی ہے اور انہیں روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے ، فرمایا دنیا میں بھی انہیں نیکی کا بدلہ نیکی کی صورت میں ملتا ہے (آیت) ” ولدار الاخرۃ خیر “۔ اور آخرت کا گھر تو بہت بہتر ہے ، (آیت) ” ولنعم دارالمتقین “۔ اور متقیوں کے لیے آخرت کا گھر تو بہت ہی خوب ہے ، ” وفیھا ما تشتھیہ الانفس “۔ وہاں ان کے نفسوں کی پسندیدہ ہر چیز ہوگی ۔ اور وہ گھر کونسا ہے ؟ فرمایا (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا “۔ وہ رہائش کے باغات ہیں جن میں متقی لوگ داخل ہوں گے ، عام باغات تو محض جنگل کی طرح ہوتے ہیں جن میں پھول بوٹے اور درخت ہوں اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے کی سہولت موجود ہو ، مگر رہائشی باغات میں رہائش کی تمام سہولتیں موجود ہوتی ہیں اور انہیں زیادہ قرینے سے سجایا جاتا ہے ، تاکہ وہاں رہنے والوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ، تو فرمایا متقیوں کے لیے بہتر گھر رہائشی باغات میں ہوں گے (آیت) ” تجری من تحتہا الانھر “۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ، آسائش کی ہر چیز موجود ہوگی ، بلکہ (آیت) ” لھم فیھا مایشآء ون “۔ وہاں پر جسمانی اور روحانی راحت کی ہر وہ چیز ہوگی ، جو وہ چاہیں گے ، ان کا ہر پسندیدہ سامان وہاں موجود ہوگا ، اور یہ چیز ان کے ساتھ ہی خاص نہیں ہوگی ، بلکہ فرمایا (آیت) ” کذلک یجزی اللہ المتقین “۔ اللہ تعالیٰ عام تقوی اختیار کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ، جو بھی کفر ، شرک اور نفاق سے بچ جائیگا ۔ اللہ تعالیٰ اسے ایسے ہی انعامات عطا فرمائے گا ۔ (پاکیزہ موت) فرمایا یہ ان لوگوں کے لیے انعامات ہیں (آیت) ” الذین تتوفھم الملئکۃ “۔ کہ جب فرشتے ان کی جانیں قبض کرتے ہیں تو اس وقت وہ طیبین پاک صاف ہوتے ہیں ، یعنی زندگی کے آخری لمحات میں وہ کفر ، شرک ، نفاق ، اور بدعقیدگی سے پاک ہوتے ہیں نجاست تو شرک میں ہے ، اللہ نے خود فرمایا ہے (آیت) ” انما المشرکون نجس “۔ (التوبۃ) مشرک تو ناپاک ہیں اور یہ ناپاکی باطن کی ناپاکی ہے ان بدبختوں کی روح دل اور دماغ پلید ہے ، سورة حج میں فرمایا ہے (آیت) ” فاجتنبوالرجس من الاوثان “۔ بت پرستی کی گندگی سے بچو چناچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے دین کے طہارت کے اصول میں عقیدے کی طہارت کو اولیت حاصل ہے ، اگر روح پاک نہیں تو جسم ہزار بار دھونے اور خوشبو لگانے سے بھی پاک نہیں ہوگا ، بات واضح ہے کہ کتا اور خنزیر ناپاک ہیں ان کو کتنی بار بھی صابن کے ساتھ نہلاؤ ، یہ پاک نہیں ہوں گے ، مشرک کی نجاست بھی ایسی ہی ہے تو متقی بننے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے دل و دماغ ہر قسم کی نجاست سے پاک ہو ، اور جسے باطنی طہارت حاصل ہوگئی ، اس کے متعلق فرمایا (آیت) ” قدافلح من تزکی “۔ (الاعلی) جس نے تزکیہ حاصل کرلیا ، وہ کامیاب ہوگیا ، شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ سب سے پہلا تزکیہ کفر ، شرک اور بدعقیدگی کا تزکیہ ہے اسی پلیدی کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرک نجس ہیں (آیت) ” فلا یقربوالمسجد الحرام بعد عامھم ھذا “ (التوبۃ) وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب بھی نہ آئیں 9 ھ ؁ کے بعد کسی مشرک کو حج بیت اللہ کی اجازت نہ تھی ، بہرحال شرک ایک گندگی ہے جس سے انسان کا باطن پلید ہوتا ہے ۔ (جنت میں داخلہ) تو فرمایا کہ جب متقی لوگوں کی موت کا وقت آتا ہے (آیت) ” یقولون سلم علیکم “۔ فرشتے انہیں کہتے ہیں کہ تم پر سلام ہو اور ساتھ یہ خوشخبری بھی دیتے ہیں (آیت) ” ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون “۔ جنت میں داخل ہوجاؤ ، ان اعمال کی وجہ سے جو تم انجام دیتے رہے ، اعمال سے اگر اعمال قلوب مراد ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے مراد ایمان کا وہ راستہ ہے جو متقیوں نے اختیار کیا ، دوسرے مقام پر ہے (آیت) ” یھدیھم ربھم بایمانھم “۔ (یونس) اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو انکے ایمان کی وجہ سے جنت کے گھر تک پہنچائے گا اور اگر اعمال سے مراد اعضاء وجوارح کے اعمال ہیں تو یہ جنت میں داخلے کا ظاہری سبب ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کے ظاہری اعمال اس کی کامیابی کا حقیقی سبب نہیں ہیں ، بلکہ حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور رحمت ہے لہذا انسان کو چاہئے کہ اعمال انجام دینے کے بعد اللہ کی رحمت پر بھروسہ کرے ، ایک موقع پر حضور ﷺ سے دریافت (1) (مسلم ص 62 ج 1) کیا گیا ” ای الاعمال افضل “ حضرت ! سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا ” الایمان باللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ، ظاہر ہے کہ یہ قلب کا عمل ہے ، اور تصدیق قلب کے ساتھ ہی ہوتی ہے ، لہذا جنت میں داخلے کا اولین ذریعہ نور ایمان ہے ۔ (عذاب کا انتظار) آگے پھر نافرمانوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ “ کہ نہیں انتظار کر رہے ہیں مگر اس بات کا کہ آجائیں اس کے پاس فرشتے ، مطلب یہ ہے کہ نافرمان لوگ اپنے کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور مخالفت قرآن ورسول کا اظہار کرکے فرشتوں کو دعوت دے رہے ہیں ، اور فرشتوں کی آمد کا مطلب یہ ہے کہ غیب کے پردے اٹھ جائیں اور فرشتے اللہ کا عذاب لے کر پہنچ جائیں ، ظاہر ہے کہ جب یہ وقت آجائے گا تو پھر ان نافرمانوں کو مزید مہلت نہیں ملیگی اور وہ عذاب الہی کا شکار ہوجائیں گے فرمایا ان کو یا تو فرشتوں کا انتظار ہے (آیت) ” اویاتی امر ربک “۔ یا اس بات کا انتظار ہے کہ تیرے رب کا مخصوص حکم آجائے اور اس سے عذاب ہی مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف پیرائے میں منکرین خد اور سول کو وعید سنائی ہے کہ اللہ کے پیغمبر آچکے ہیں ، کتابیں آچکی ہیں ، ہدایت کے سارے سامان آ چکے ہیں ، اور اگر اب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو پھر اس کے سوا باقی کیا رہ گیا ہے کہ ان پر عذاب الہی نازل ہو اور وہ ہلاک ہوجائیں۔ فرمایا (آیت) ” کذلک فعل الذین من قبلھم “۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا ، وہ بھی کفر اور شرک پر اصرار کرتے تھے رسولوں سے ٹھٹا کرتے تھے ، کتاب الہی کو قصے کہانیاں بتاتے تھے اور آج کے یہ مشرک بھی انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ، فرمایا (آیت) ” وما ظلمھم اللہ “۔ ان لوگوں پر اللہ نے زیادتی نہیں کی تھی ، (آیت) ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “۔ بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں ہے ، ان لوگوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا یعنی اپنے آپ کو مستحق عذاب بنا لیا ۔ فرمایا (آیت) ” فاصابھم سیات ما عملوا “۔ پس پہنچیں ان کو وہ برائیاں جو انہوں نے کی تھیں یعنی ان کو اپنے اعمال ہی کی سزا ملی (آیت) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ اور گھیر لیا ان کو اس چیز نے جس کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے ، وہ لوگ عذاب الہی کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ، اپنے نبیوں سے کہتے تھے کہ لے آؤ ، وہ عذاب جس سے ہمیں ڈراتے ہو ، ہم جنت اور دوزخ کو کچھ نہیں جانتے ، یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ، تو فرمایا جس عذاب الہی کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ، وہ لوگ اسی عذاب میں مبتلا ہوگئے اس دنیا میں بھی سزا کے مستحق ٹھہرے ، اور آگے آخرت کا عذاب بھی ان کے لیے تیار ہے ، اللہ تعالیٰ نے پہلے لوگوں میں سے منکرین اور متقین کے حالات بیان کرکے ان کے انجام سے آگاہ کیا ہے ، اور مشرکین مکہ اور بعد میں آنے والوں کو بات سمجھائی ہے کہ کہیں تم بھی منکرین کے نقش قدم پر نہ چل نکلنا ، وگرنہ تمہارا بھی حشر وہی ہوگا ، جو ان کا ہوا ۔