16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور وحی کی تیرے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کی طرف کہ بناؤ پہاڑوں میں گھر اور درختوں پر اور ان جگہوں پر جو چھپر باندھتے ہیں لوگ ۔

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

پھر کھاؤ ہر قسم کے پھل اور چلو اپنے راستوں پر ہموار کیے ہوئے نکلتا ہے ان کے پیٹوں سے ایک مشروب جس کی رنگت مختلف ہوتی ہے اس میں شفا ہے لوگوں کے لیے ، بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں ۔

(ربط آیات) شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید اور قیامت کے متعلق دلائل بیان فرمائے ، ان میں سے پہلے آسمان سے پانی نازل کرنے کا ذکر ہوا ، پھر مویشیوں ، انگوروں اور کھجوروں کا تذکرہ ہوا ، ان کے فوائد بیان کرکے اللہ نے انہیں بطور دلیل ذکر کیا کہ ان چیزوں میں غور وفکر کرکے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی قدرت اور حکمت کو سمجھ سکتے ہیں اب اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں کیسا کمال رکھا ہے جو انسان کے لیے نہایت لذیز اور مشفی مشروب مہیا کرتی ہیں اس سورة کا نام سورة النحل اسی مناسبت سے ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر ہے ۔ (مکھیوں کی طرف وحی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واوحی ربک الی النحل “ اور وحی کی آپ کے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کی طرف ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس وحی سے مراد رسالت اور نبوت والی وحی نہیں ہے کیونکہ وہ تو انبیاء اور رسولوں کے ساتھ مختص ہے البتہ اس وحی سے الہام مراد لیا جاسکتا ہے کیونکہ الہام عام ہے جو انبیاء اور غیر انبیاء سب کو ہو سکتا ہے ، اس الہام کی نوعیت باکل وہی ہے جس قسم کا الہام اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف کیا تھا ، وہاں بھی یہی الفاظ استعمال ہوتے ہیں (آیت) ” واوحینا الی ام موسیٰ “۔ (القصص) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف الہام کیا یعنی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس بچے کی جان کی خاطر اسے صندوق میں بند کرکے پانی میں بہا دیں ، ظاہر ہے کہ ام موسیٰ نبی تو نہیں تھیں ، لہذا ان کی وحی کی نوعیت بھی الہام والی تھی ، الہام کے ذریعے بعض اوقات اللہ تعالیٰ کوئی چیز دل میں ڈال دیتا ہے اور بعض اوقات کوئی فرشتہ انسانی صورت میں متشکل ہو کر آتا ہے اور کوئی بات کہہ دیتا ہے ، چناچہ حضرت مریم (علیہما السلام) کا الہام اسی نوعیت کا تھا (آیت) ” فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویا “۔ (مریم) ہم نے اس کی طرف فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ٹھیک آدمی کی شکل بن گیا ، الہام کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ کسی غیبی آواز (ہاتف) کے ذریعے کوئی اشارہ مل جائے ، تاہم شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ شہد کی مکھیوں یا ایسے ہی دوسرے جانوروں کے الہام کی صورت یہ ہے کہ ان کے ہاں خارجی دنیا سے کوئی فرشتہ نہیں آتا اور نہ ہی وہ اتنے عقل و شعور کے مالک ہوتے ہیں کہ بوقت ضرورت ان کے ذہن میں کوئی چیز ڈال دی جائے بلکہ ان کی طرف وحی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں کوئی چیز ڈال دی ہے جس کے مطابق وہ عمل کرتے ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ ان کو صورت نوعیہ کے اعتبار سے کوئی بات سمجھا دیتا ہے ، تو گویا شہد کی مکھیوں کی طرف وحی کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ان کی طبیعت اور مزاج میں یہ بات ڈال دی ہے جس کا ذکر اگلے جملے میں آرہا ہے ۔ (مکھیوں کا چھتہ) وہ بات یہ ہے (آیت) ” ان اتخذی من الجبال بیوتا “۔ کہ تم پہاڑوں میں اپنا گھر یعنی چھتہ بنا لو ، ” من “ سے مراد یہ ہے کہ ہر پہاڑ کی ہر غار میں نہیں بلکہ بعض پہاڑوں میں اپنا چھتہ قائم کرلو ، یہی چھتہ شہد کی مکھیوں کا گھر ہے جہاں ہو شہد کا ذخیرہ جمع کرتی ہیں جس میں سے خود بھی کھاتی ہیں اور بچوں کو بھی کھلاتی ہیں ، یہ گویا شہد کا ڈپو ہوتا ہے ، پھر جب قرب و جوار کے لوگوں کو کسی ایسے چھتے کا علم ہوجاتا ہے تو پھر وہاں سے سیروں نہیں بلکہ منوں کے حساب سے شہد برآمد ہوتا ہے ۔ فرمایا پہاڑوں میں اپنا گھر بنا لو (آیت) ” ومن الشجر “ یا مناسب درختوں پر چھتہ لگا لو ، بعض بڑے بڑے درختوں پر مکھیاں چھتہ بنا کر شہد اکھٹا کرتی ہیں ، وہ اپنی فطرت کے مطابق جہاں مناسب سمجھتی ہیں ، کسی اونچی یا نیچی شاخ پر گھر بنا لیتی ہیں ، اس کے علاوہ فرمایا (آیت) ” ومما یعرشون “۔ اور لوگوں کے تعمیر کردہ چھپروں میں چھتہ لگا لو ، چھپر سے مراد لکڑی کا وہ فریم ہے جو انگور وغیرہ کی بیل چڑھانے کے لیے کھڑ کیا جاتا ہے ، بعض اوقات کسی دیگر ضرورت کے لیے بھی عارضی طور پر چھپر تعمیر کیا جاتا ہے اور شہد کی مکھیاں ان جگہوں پر بھی اپنے چھتے بنا لیتی ہیں ، الغرض ! اللہ نے شہد کی مکھیوں کی فطرت میں یہ بات ڈال رکھی ہے کہ وہ پہاڑوں میں درختوں پر یا چھپروں کے اندر اپنا چھتہ تعمیر کرلیں ۔ (پھلوں سے استفادہ) دوسری بات اللہ نے مکھیوں کی فطرت میں یہ ڈال دی (آیت) ” ثم کلی من کل الثمرت “۔ پھر ہر قسم کے پھلوں میں سے کھاؤ اس سے مراد دنیا بھر کے تمام پھل نہیں بلکہ وہ پھل مراد ہیں جو شہد کی مکھیوں کے طبائع سے مطابقت رکھتے ہیں مثلا شہد کی مکھی اخروٹ یا بادام وغیرہ کا پھل توڑ کر تو نہیں کھا سکتی ، مگر وہ انگور ، کھجور ، ناشپاتی ، آم وغیرہ تو آسانی سے کھا سکتی ہے اور ” کل الثمرت “ سے ایسے ہی پھل مراد ہیں یہ بالکل اسی طرح کا طرز کلام ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ملکہ سبا کے متعلق فرمایا (آیت) ” واوتیت من کل شیئ “ کہ اس کو ہر چیز عطا کی گئی ، یہاں بھی ہر چیز سے دنیا بھر کی چھوٹی بڑی چیزیں نہیں بلکہ وہ چیزیں مراد ہیں جن کا تعلق امور ملکت سے ہو سکتا ہے مثلا فوج ‘ اسلحہ مال و دولت ، امیر وزیر ، کارندے وغیرہ ۔ یہاں پر اللہ نے شہد کی مکھیوں سے فرمایا کہ ہر قسم کے پھلوں میں سے کھاؤ (آیت) ” فاسلکی سبل ربک ذللا “ اور اپنے پروردگار کے ہموار کردہ راستوں پر چلتی رہو ۔ ذلل “ کا معنی آسان کرنا بھی آتا ہے مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی میں یہ خوبی ڈال دی ہے کہ وہ اپنے چھتے سے کتنی بھی دور چلی جائے ، یہ واپسی پر بھولتی نہیں کیونکہ اللہ نے اس کے لیے راستے ہموار اور آسان فرما دیے ہیں ، یہ آسانی کے ساتھ بغیر بھولے اپنے چھتے پر پہنچ جاتی ہے ، اب آگے اللہ نے مکھیوں کے ذریعہ شہد کی پیداوار کی وضاحت فرمائی ہے (آیت) ” یخرج من بطونھا شراب مختلف الوانہ “۔ ان مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے شہد سفیدی مائل بھی ہوتا ہے اور سرخی مائل بھی ، کبھی یہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور کبھی گلابی رنگ کا جس قسم کا ماحول اور جس قسم کی خوراک مکھیوں کو میسر آتی ہے اسی قسم کا شہد بھی ان کے پیٹوں سے برآمد ہوتا ہے ، اور پھر یہ شہد محض تفریح طبع کا سامان نہیں بلکہ (آیت) ” فیہ شفآء للناس “ اللہ نے اس میں لوگوں کے لیے شفا بھی رکھی ہے ، ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” علیکم بالشقائین العسل والقران “۔ یعنی شفا والی دو چیزوں کو لازم پکڑو ، ایک شہد ہے اور دوسری قرآن پاک سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے (آیت) ” وننزل من القران ما ھو شفآء ورحمۃ للمؤمنین “۔ ہم نے قرآن پاک کو نازل فرمایا ہے جس میں مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے ، مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم باطنی بیماریوں یعنی سینے کے تمام روگوں کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور بداخلاقی کی شفا ہے جب کہ شہد میں اللہ نے ظاہری امراض کی شفا رکھی ہے ، شہد چونکہ گرم تاثیر رکھتا ہے ، اس لیے یہ امراض باردہ یعنی بلغمی بیماریوں میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے ، ایک لحاظ سے یہ زہر کا تریاق (ANTISEPTIC انٹی بائیٹک) بھی ہے یونانی طب میں معجونوں اور گولیوں کی افادیت کو تادیر قائم رکھنے کے لیے شہد میں تیار کیا جاتا ہے ، جب کہ نئی میڈیکل سائنس میں اس کام کے لیے سپرٹ کا استعمال ہوتا ہے تاہم مفسرین فرماتے ہیں کہ شہد میں ہر بیماری کے لیے شفا نہیں بلکہ یہ شفاء نکرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کئی بیماریوں کے لیے شفا ہے ۔ ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں ” علیکم بالسنا والسنوت “ یعنی سنا اور سنوت کو لازم پکڑو ، سنا ایک قسم کی جڑی بوٹی ہے میں اللہ نے کئی بیماریوں کی شفا رکھی ہے اور سنوت سویا یا شہد کو کہتے ہیں فرمایا اس میں شفا ہے لیکن موت کی شفا کسی چیز میں نہیں وہ اپنے وقت پر آکر رہے گی ۔ ایک صحیح حدیث میں یہ واقعہ بھی آتا ہے کہ کسی شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے بھائی کے اسہال کی شکایت کی ، آپ نے فرمایا ، اس کو شہد پلاؤ اس شخص نے جا کر ایسا ہی کیا مگر مرض بڑھ گیا وہ پھر حاضر ہوا تو آپ نے دوبارہ فرمایا کہ اسے شہد پلاؤ ، دوبارہ پلانے سے اسہال میں مزید اضافہ ہوگیا ، جب حضور ﷺ کے پاس ذکر کیا گیا تو آپ نے تیسری مرتبہ شہد پلانے کے لیے کہا مگر پھر بھی افاقہ نہ ہوا ، جب وہ شخص چوتھی مرتبہ حاضر خدمت ہوا ، تو آپ نے فرمایا ، اللہ کا فرمان سچا ہے کہ شہد میں شفا ہے ، مگر تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ، بہرحال جب مریض کی چوتھی مرتبہ شہد پلایا گیا تو وہ ٹھیک ہوگیا جب تک گندہ مادہ پیٹ میں موجود رہا ، وہ نکلتا رہا اور جب ختم ہوگیا تو مریض کے اسہال بند ہوگئے ، اللہ نے شہد میں اس قسم کے مادے رکھے ہیں ۔ حضرت علی ؓ کے قول میں یوں بھی آتا ہے کہ کسی شخص نے بیماری کی شکایت کی تو فرمایا کہ کسی برتن میں قرآن کریم کی کوئی آیت لکھو پھر اس کو بارش کے پانی سے صاف کرو ، اس کے بعد اپنی بیوی کے حق میں مہر میں سے ایک درہم لو جب وہ اپنی خوشی خاطر سے دے دے تو اس درہم سے شہد خریدو پھر وہ شہد بارش کے مذکورہ پانی میں ملا کر پی لو اللہ تعالیٰ شفا دے گا ، اللہ نے بارش کے پانی کو (آیت) ” مآء طھورا “ یعنی پاکیزہ پانی فرمایا ہے اور شہد کے متعلق کہا ہے کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے تو حضرت علی ؓ نے ان دونوں چیزوں کے مرکب کو استعمال کرنے کی ہدایت کی ۔ (شہد کی پیداوار) شہد کی پیداوار کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ مکھیوں کے پیٹ سے مختلف رنگوں کے مشروف کی صورت میں نکلتی ہے باقی رہی یہ بات کہ شہد کی پیداوار کیسے ہوتی ہے ، اس میں سائنسدانوں کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کہ یہ لعاب کی شکل میں مکھی کے منہ سے نکلتا ہے ، اس کی مثال ریشم کے کیڑے کی ہے وہ بھی اپنے لعاب کے ذریعے ریشم پیدا کرتا ہے ، وہ اپنے منہ سے نکلنے والا مادہ اپنے گرد لیپٹتا رہتا ہے اور اس طرح ریشم کے لمبے تار کی ایک ڈوری سی بن جاتی ہے جسے بعد میں الگ کر کے ریشم حاصل کرلیا جاتا ہے اور اس سے نفیس ترین لباس تیار کیا جاتا ہے اسی طرح مکھی کے منہ سے نکلنے والے لعاب سے شہد کی صورت میں بہترین مشروب حاصل ہوتا ہے ، البتہ بعض فرماتے ہیں کہ شہد مکھی کے منہ کا لعاب نہیں بلکہ اس کا فضلہ ہوتا ہے ، افلاطون کا شاگرد اور سکندر کا استاد ارسطو یونان کا بہت بڑا حکیم گزرا ہے اس کا زمانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے تین سو سال قبل کا ہے اس نے ایک دفعہ تحقیق کرنے کی کوشش کی کہ شہد مکھی کا لعاب ہے یا فضلہ اس نے شیشے کا ایک بہت بڑا بکس بنوای اور اس میں مکھیوں کا چھتہ لگا کر مکھیوں کو شیشے کے صندوق میں بند کردیا تاکہ دیکھوں کہ شہد کس طرح پیدا ہوتا ہے کہتے ہیں کہ مکھیوں نے شہد پیدا کرنے پہلے شیشے کے اس صندوق کی ساری دیواروں پر موم لگا دی تاکہ باہر سے کچھ نظر نہ آسکے اور اس کے بعد انہوں نے شہد کی پیداوار شروع کی ، اور اس طرح ارسطو اپنی تحقیق مکمل نہ کرسکا ۔ شہد کی مکھی میں اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ یہ اپنے چھتے میں عجیب و غریب قسم کے چھوٹے چھوٹے شش گوشہ گھروندے یا خانے بناتی ہے ، لطف کی بات یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا انجینئر بھی ٹھیک ٹھیک شش گوشہ شکل جیومیٹری بکس کے بغیر نہیں بنا سکتا مگر مکھی کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ باریک باریک دیواروں پر چھ کونے والا ایسا گھروندا بناتی ہے کہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ، بہرحال شہد ایک پاکیزہ اور مرغوب چیز ہے جو انسانوں کی غذا اور دوائی میں استعمال ہوتی ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے (آیت) ” کان رسول اللہ ﷺ یحب الحلوآء والعسل “۔ یعنی حضور ﷺ میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے ۔ (مکھیوں کی فضیلت) شہد کی مکھی اگرچہ ایک چھوٹا سا جانور ہے مگر اللہ نے اس میں بڑی افادیت رکھی ہے ، اللہ نے اسے زہریلا ڈنگ عطا کیا ہے ، جس کے ذریعے وہ دشمن سے اپنی حفاظت کرتی ہے ، مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ شہد کی مکھی ایک چھوٹی سی چیز ہے مگر اللہ نے انسانون کے فائدے کے لیے اس کے ذریعے لذیز ترین چیز پیدا فرمائی ہے ، اس سے مولانا یہ دلیل قائم کرتے ہیں کہ کسی ادنی سے ادنی چیز کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہئے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے ۔ ” رب اغبر اشعث لو اقسم علی اللہ لا برہ “۔ یعنی غبار آلود بالوں والے کتنے آدمی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں حانث نہیں ہونے دیتا یعنی ان کی قسم پوری ہوجاتی ہے ، بعض روایات میں آتا ہے کہ دوزخیوں کو سزا دینے کے لیے موذی جانور سانپ ، بچھو ، مکھی وغیرہ دوزخ میں جائیں گے سوائے شہد کی مکھی کے کہ یہ دوزخ میں نہیں جائیں گی کیونکہ یہ لوگوں کے لیے نہایت ہی مفید شہد تیار کرتی ہے ۔ (مکھیوں کی تنظیم) اس چھوٹی سی مخلوق میں اللہ تعالیٰ نے تنظیم کا وہ مادہ رکھا ہے جو انسانوں کے لیے بھی درست عبرت ہے شہد کی مکھیوں کے بادشاہ کو یعسوب کہا جاتا ہے جو عام مکھیوں سے قدوکاٹھ میں بڑا ہوتا ہے ان مکھیوں میں اتنا نظم وضبط (DISCIPLINE ڈسپلن) ہوتا ہے کہ یہ بادشاہ کے حکم کی ذرہ بھر بھی خلاف ورزی نہیں کرتیں ، یہ فوج کی طرح منظم ہوتی ہیں اور ان کا بادشاہ جہاں جانے کا حکم دے وہاں پہنچ کر خوراک حاصل کرتی ہیں اور جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے ، اللہ نے ان کے لیے راستوں کو آسان بنا دیا ہے ، یہ دور ونزدیک جہاں بھی جائیں اپنے ڈپو پر واپس آجاتی ہیں ، اس مکھی کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ گندگی پر نہیں بیٹھتی ، اگر کوئی مکھی کسی دوسری مکھی کو گندگھی پر بیٹھی دیکھ لے تو فورا بادشاہ کے پاس شکایت ہوجاتی ہے اس کا باقاعدہ کیس پیش ہوتا ہے گواہی ہوتی ہے اور اگر جرم ثابت ہوجائے تو مجرمہ کو سزائے موت تک ہوجاتی ہے ، بادشاہ کی طرف سے اشارہ پا کر دوسری مکھیاں مجرمہ کو پکڑ کر دو ٹکڑے کردیتی ہیں ۔ (غور وفکر کا مقام) آخر میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون “۔ بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں ، سوچنے کی بات ہے کہ ایک معمولی مکھی سے اللہ نے کتنی عمدہ چیز پیدا فرمائی ہے ، ان مکھیوں میں کتنی تنظیم اور فرمانبرداری کا کتنا جذبہ موجود ہے ، وہ مقررہ اصولوں کی کس قدر پابندی کرتی ہے صرف پاک چیزیں کھاتی ہیں اور گندگی کے قریب بھی نہیں جاتیں ، وہ اپنا گھروندا کمال حکمت کے ساتھ بناتی ہیں جو صناعی کا بہترین شاہکار ہوتا ہے ، یہ ساری چیزیں بنی نوع انسان کو دعوت غور فکر دیتی ہیں اور انہیں بھی قوانین کی پابندی کا درس دیتی ہیں ، اگر انسان مکھیوں کی طرح اپنے اصولوں پر قائم ہوجائیں تو ان کی معاشرتی زندگی میں کبھی بگاڑ پیدا نہ ہو ، اس وقت انسان جس ظلم ، زیادتی ، اسراف حرام کاری ، بدکاری ، عیاشی اور فحاشی میں مبتلا ہیں ، اس سے نکل جائیں اور انہیں آرام و سکون کی زندگی میسر آجائے ، بہرحال شہد کی مکھیوں کے ہر فعل میں انسان کے لیے عبرت کا سامان ہے جو شخص غور وفکر کریگا وہ اللہ کی قدرت کو سمجھ جائے گا اور اس کی وحدانیت پر ایمان لے آئے گا ۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور اللہ وہ ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو ، پھر وہ وفات دیتا ہے تم کو ، اور تم میں سے بعض وہ ہیں کہ جن کو لوٹایا جاتا ہے رذیل عمر کی طرف تاکہ نہ جانے وہ علم کے بعد کبچھ بھی ، بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ، اور قدرت تامہ کا مالک ہے ۔

(ربط آیات) اللہ تعالیٰ نے پہلے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا ، اس کے بعد اپنی قدرت کی چند مثالیں بیان کیں جو اس کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہیں ، منجملہ ان کے آسان کی طرف سے پانی کا نزول اور اس کے ذریعے مختلف چیزوں کی پیدائش کا ذکر ہے پھر مویشیوں سے دودھ اور پھلوں سے پاکیزہ روزی کا ذکر ہوا شہد کی مکھیوں کے ذریعے نہایت مفید اور مرغوب شہد کا بیان ہوا جس میں اللہ نے بہت سی بیماریوں کے لیے شفا رکھی ہے ، فرمایا یہ اس کی قدرت کے بیرونی دلائل ہیں ، اور یہ کن لوگوں کے لیے مفید ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” لقوم یتفکرون “۔ غور وفکر کرنے والوں کے لیے (آیت) ” لقوم یعقلون “ عقل سے کام لینے والوں کے لیے (آیت) ” لقوم یؤمنون “ یقین رکھنے والوں کے لیے ، (آیت) ” اور لقوم یسمعون “ کان لگا کر سننے والوں کے لیے ، ۔ اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرونی حالات کو موضوع سخن بنایا ہے ، اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر ہی غور کرے تو اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے سورة الذریت میں موجود ہے (آیت) ” وفی انفسکم افلا تبصرون “۔ خود تمہارے نفسوں کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں ، کیا تم دیکھتے نہیں ؟ (زندگی اور موت) اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تخلیق انسانی کا ذکر کیا ہے (آیت) ” واللہ خلقکم “۔ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا یعنی انسان کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اللہ نے اسے تخلیق کی نعمت عطا کی ہے اور وہ اللہ کی مخلوق ہے ، پھر فرمایا کہ اللہ نے انسان کو پیدا فرما کر یونہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ (آیت) ” قد جعل اللہ لکل شیء قدرا “۔ (الطلاق) اس نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے کائنات کے لیے بحیثیت مجموعی فرمایا (آیت) ” ما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق واجل مسمی “۔ (الاحقاف) آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کے لیے وقت مقرر ہے ، جب وہ وقت آجائے گا ، تو کائنات کا پورا نظام ختم ہوجائے گا ، اسی طرح قوموں کے لیے بھی اللہ نے مختلف اوقات مقرر فرمائے ہیں ایک وقت میں انہیں عروج حاصل ہوتا ہے تو دوسرے وقت میں ان پر زوال آجاتا ہے ، اسی طرح ہر متنفس کے لیے وقت مقرر ہے ، اس کی زندگی ایک خاص مدت تک کارآمد رہتی ہے اور پھر انحطاط کا عمل شروع ہوجاتا ہے ، چناچہ فرمایا کہ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا ہے (آیت) ” ثم یتوفکم “۔ پھر وہ تم پر موت طاری کردیتا ہے ، جب تک اس کو منظور ہوتا ہے ، انسان کو زندہ رکھتا ہے اسے زندگی کے مختلف مراحل سے گزارتا ہے اور پھر موت سے ہمکنار کردیتا ہے ۔ (زندگی کا عروج وزوال) انسانی زندگی میں کئی عروج وزوال آتے ہیں انسان پیدا ہوتا ہے ، بچپن گزارکر جوانی کی عمر کو پہنچتا ہے ، پھر اس پر بڑھاپا طاری ہوجاتا ہے ، ان میں سے بعض کو زیادہ موقع نہیں ملتا اور وہ ابتدائی عمر میں فوت ہوجاتے ہیں بعض جوانی میں اور بعض بڑھاپے کی عمر میں موت سے ہمکنار ہونے میں اور پھر بعض اس سے بھی آگے طبعی مدت پوری کرکے فوت ہوتے ہیں ، اطبا کہتے ہیں کہ جسمانی ساخت کے اعتبار سے انسان کی طبعی عمر ایک سو بیس سال ہے ، اللہ نے انسان کے جسم کی مشینری کو اتنے عرصہ کے لیے کارآمد بنایا ہے بشرطیکہ اس کے قوی میں کوئی خرابی واقع نہ ہو ، حضرت حکیم بن حزام ؓ کو اللہ تعالیٰ نے اتنی ہی عمر عطا فرمائی ، پہلے زمانے میں لوگوں کی اوسط عمر زیادہ تھی مگر اب شاذو نادر ہی کوئی لمبی عمر پاتا ہے حضور ﷺ کا فرمان (1) مبارک ہے ” اعمار امتی مابین ستین الی سبعین وقل من یجوز ذلک “۔ یعنی میری امت کے لوگوں کی عمریں عموما ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہوں گی اور بہت کم ہوں گے جو اس سے آگے جائیں گے ، علماء اور محققین کہتے ہیں کہ ابتداء سے لے کر پنتیس (35) برس تک کی عمر کا ایک مرحلہ ہوتا ہے اس عرصہ میں انسان کے قوائے ظاہرہ اور باطنہ مکمل ہوتے ہیں اور ان میں کوئی منفی تغیر واقع نہیں ہوتا ، پھر چالیس سال کی عمر سے ساٹھ سال کی عمر تک دوسرا دور ہوتا ہے ، یہ درمیانہ عرصہ حیات ہے جو کہ انسان کا قیمتی سرمایہ ہے ، بچپن میں قوی نامکمل ہوتے ہیں اور انسان میں ناپختگی ہوتی ہے ، اسی لیے بچہ مکلف بھی نہیں ہوتا ، البتہ یہ درمیانی عرصہ ہی بہترین عرصہ ہوتا ہے جس میں انسان دین اور دنیا کا کام صحیح طور پر انجام دے سکتا ہے ، اگر اس عرصہ زندگی کو انسان اچھے کاموں میں استعمال کرے تو وہ ترقی کرتا ہے اور بھر پور زندگی گزارتا ہے ، انسان کی ابتدائی زندگی کو بھی اللہ نے ضعف پر محمول کیا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” اللہ الذی خلقکم من ضعف ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشیبۃ “۔ (الروم) اللہ کی ذات وہی ہے جس نے انسان کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر اس کے بعد قوت عطا کی ، پھر ضعف اور بڑھاپے کی حالت طاری کردی ، اسی لیے حضور ﷺ نے بڑھاپے کی عمر سے پناہ مانگی ہے جس کے الفاظ اس طرح آتے ہیں ۔ ” اللھم انی اعوذ بک من البخل والکسل ومن سوء العمر ومن ارذل العمر ومن فتنۃ المسیح الدجال ومن فتنۃ المحیا والممات ومن عذاب القبر “۔ اے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ پکڑتا ہوں بخل او سستی سے ، بری عمر اور رذیل عمر سے مسیح دجال کے فتنہ سے ، زندگی اور موت کے فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے ۔ (ارذل العمر) فرمایا انسانی زندگی کا دوسرا اور بہترین دور چالیس سے ساٹھ تک کا ہے اور اس کے بعد تیسرا دور بڑھاپے کا ہوتا ہے ، جو کہ پچھتر سال کی عمر تک چلتا ہے پھر جو کوئی اس عمر کو پہنچ جائے اس کا ارذل العمر شروع ہوجاتا ہے ، بعض فرماتے ہیں کہ یہ دوراسی (80) سال کی عمر کے بعد شروع ہوتا ہے ، اسی حصہ زندگی کے متعلق اللہ نے اس آیت میں فرمایا ہے (آیت) ” ومنکم من یرد الی ارذل العمر “۔ اور تم میں سے بعض وہ ہیں جن کو رذیل عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے ، اس عمر کو پہنچ کر انسان کے قوی مضمحل ہوجاتے ہیں اور وہ کوئی کام ٹھیک طریقے سے نہیں کرسکتا ، اس کے اعضاء میں ضعف پیدا ہوجاتا ہے کبھی معدہ خراب اور کبھی پیشاب کی تکلیف ، کبھی آنتوں میں تکلیف اور کبھی دانتوں میں خرابی ، سماعت اور بینائی تو اکثر جواب دے دیتی ہے اور انسان بیکار محض ہو کر رہ جاتا ہے ، اسی لیے حضور ﷺ نے ارذل العمر سے خدا کی پناہ مانگی ہے اصل کام کاج اور عبادت الہی کے لیے درمیانہ عرصہ حیات ہی بہترین ہے ، حضور ﷺ نے سات آدمیوں کے متعلق بشارت سنائی کہ ان کو عرش کے سایہ میں جگہ ملے گی ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہے جس نے جوانی کی عمر عبادت میں گزاری ، (پیری شعراء کی نظر میں) پیرانی سالی کے اس دور کو ہر آدمی محسوس کرتا ہے ، تاہم جب ایک شاعر اس مرحلے سے گزرتا ہے تو اس کے احساسات اشعار کی صورت میں اس کی زبان پر آجاتے ہیں جگر مراد آبادی برصغیر کا معروف شاعر ہے جسے فوت ہوئے ابھی بیس سال کا عرصہ ہوا ہے اس نے اپنی شعر میں کہا ہے ۔ زندی وخرا باقی درعہد شباب اولی ۔ یعنی خواہ رندی ہو یا خراباقی یہ جوانی کی عمر میں ہی ہو سکتی ہے مطلب یہ کہ بڑھاپے میں انسان کسی کام کا نہیں رہتا ۔ قدیم شعرا میں مومن خان مومن بھی صف اول کا شاعر تھا سنی مسلمان ، سید احمد شہید بریلوی (رح) کا مرید اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) کا شاگرد تھا ، وہ کہتا ہے ۔ عہد شباب ہے زندگانی کا مزا پیری میں کہاں ہے وہ نوجوانی کا مزا یہ بھی کئی دن میں فسانہ ہوگا باقی ہے جو باتوں میں کہانی کا مزا جگر مراد آبادی کا یہ شعر بھی ملاحظہ کریں ۔ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جئے جارہا ہوں صوفی شعراء میں عراقی بڑے مشہور ہیں ، انہوں نے بھی اس دور کا بڑے لطیف انداز میں ذکر کیا ہے ۔ افسوس کہ ایام جوانی بگذشت سرمایہ عیش جاودانی بگذشت خضتم بہ کنار جوئے چنداں کزجوئے من آب زندگانی بگذشت : افسوس جوانی کا زمانہ گذر گیا ، حقیقت میں صحیح زمانہ عیش وہی تھا میں ندی کے کنارے اتنا سویا کہ میری اپنی زندگی کی ندی کا پانی بھی ختم ہوگیا ۔ عربی شعراء میں سے ابوکبیر ہذلی اپنی بیٹی کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ۔ ازھیر ھل من شیبۃ من معدل ام لا سبیل الی الشباب الاول : اے بیٹی زھیر ! کیا بڑھاپے سے بدلنے کی بھی کوئی صورت ہوسکتی ہے ؟ کیا اس جوانی کے زمانے کی طرف پلٹنے والی کوئی بات ہو سکتی ہے ؟ ام لا سبیل الی الشباب وذکرہ اشھی الی من الرحیق السلسل : یعنی مجھے تو کوئی صورت نظر نہیں آتی ، میرے نزدیک تو اس کا ذکر بھی شراب مصفا سے زیادہ پیارا ہے ۔ سمت تکالیف الحیاۃ ومن یعش ثمانین حولا لا ابالک یسام میں اسی زندگی سے دلگیر ہوگیا ہوں ، تیرا باپ نہ رہے جو آدمی اسی سال کی عمر تک پہنچتا ہے ، وہ یقینا زندگی سے دلگیر ہوتا ہے ۔ رایت المنایا خبط عشوآء من لصب لمتہ ومن تخطی یعمر فیھرم : میں نے موتوں کو ایسا دیکھا ہے جیسے اندھی اونٹنی ٹامک ٹوٹیاں مارتی ہے جس کو مل گئی اس کو فنا کردیا ، اور جس سے خطا کرگئی ، اسکو عمر دے دی جاتی ہے وہ ہرم میں مبتلا ہوجاتا ہے اور ہرم ضعف اور انحطاط کی عمر کو کہا جاتا ہے ۔ کسی نے یہ بھی کہا ہے ۔ ان الثمانین وبلغ تھا قد احوجت سمعی الی ترجمان : تحقیق خدا تجھے اسی سال کی عمر تک پہنچائے اس نے مجھے تو ترجمان کی طرف محتاج کردیا ہے یعنی میرے قومی اس قدر مضمحل ہوچکے ہیں کہ اب میں ترجمان کے بغیر کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا ، نہ خود کسی کو بات سن سکتا ہوں اور نہ دوسرے کو اپنی بات سنا سکتا ہوں ۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ بچ اس سال کے بعد انسان کی زندگی ایسی ہوتی ہے گویا کہ وہ غلط راستے (WRONG SIDS رانگ سائڈ) پر جا رہا ہو ، وہ ہر وقت حادثات کے خطرہ سے دوچار رہتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ، گہے از دست وگ ہے از دل گہے زپامانم بسرعت می روی اے عمر می ترسم کہ اومانم : مطلب یہ کہ کبھی ہاتھ میں تکلیف ہوگئی ، کبھی دل اور کبھی پاؤں میں خرابی پیدا ہوگئی عمر تیزی سے گزر رہی ہے اور پھر ایسا ہوگا کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکیں گے اور وہ نکل جائے گی ، ” البیان والتبین “ والے نے بشار ابن برد کا شعر نقل کیا ہے ۔ والشیب شین لمن ارسی بساحتہ للہ دراسواد المۃ الخالی : بڑھاپا تو ایک عیب ہے جس کے صحن میں اتر جائے حقیقت میں زندگی کا بہترین دور وہی ہوتا ہے ، جب بال کالے ہوتے ہیں ، سعدی صاحب نے کہا ہے ، بلکہ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ شباب کو بچپن سے غنیمت سمجھو کہ یہ جلدی ختم ہوجائے گا اور جو کچھ کرنا ہے شباب میں ہی کرلو ، اس کو غنیمت سمجھو کہ یہ دور بھی ختم ہوجائے گا ، خیرے کن اے فلاں وغنیمت شمار عمر زاں پیشتر کہ بانگ برآید فلاں نہ ماند : نیکی کا کام کرلو اور زندگی کے ان لمحات کو غنیمت سمجھو ، ایک دن آواز آئے گی کہ فلاں آدمی اس دنیا میں نہیں رہا ۔ اسی طرح عمران ابن حطان کا شعر ہے ۔ فاعمل فانک منعی بواحدۃ حسب اللبیب بھذا الشیب من ناعی : جو کچھ عمل کرنا ہے کرلو کیونکہ ایک دفعہ آواز اٹھے گی کہ فلاں آدمی مر گیا ، اور اگر تم کسی ڈرانے والے کو تلاش کر رہے ہو ، تو یہ بالوں کی سفیدی کافی ڈرانے والی ہے یہی موت کی خبر دیتی ہے ، اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ قیامت کے دن چار چیزوں کے متعلق پوچھا جائے گا ، اور جب تک کوئی ان کا جواب نہیں دے گا ، اسے قدم نہیں اٹھانے دیا جائے گا ، وہ چیزیں ہیں انسان کا عالم شباب ، اس کی عمر مال اور علم ، (حافظہ کی کمزوری) بہرحال زندگی کا درمیانہ عرصہ ہی بہترین عرصہ ہے جس میں انسان کمال حاصل کرسکتا ہے ، علم وہنر سیکھ سکتا ہے ، اور عبادت و ریاضت کرسکتا ہے ملکی دفاع کے لیے اسی عمر کی ضرورت ہوتی ہے ، ہر محنت طلب کام اسی عمر کے حصہ میں کیا جاسکتا ہے ، تو اللہ نے فرمایا کہ ذرا غور کرو کہ تمہیں پیدا کیا پھر موت طاری ہوتی ہے ، اور درمیان میں ارذل العمر کا دور بھی آتا ہے جبکہ انسان کی حالت یہ ہوجاتی ہے ۔ (آیت) ” لکی لا یعلم بعد علم شیئا “۔ کہ علم ہونے کے باوجود کچھ نہیں جانتا ، حافظ خراب ہوجاتا ہے ، شباب کے عالم میں جو کچھ یاد تھا ، وہ بھول چکا ہے اور حالت یہ ہے کہ عالم ہونے کے باوجود بےعلم ہوگیا ہے ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس امت میں کامل لوگ پیدا ہونے کے بعد پھر ناقص لوگ پیدا ہونے لگیں گے واللہ اعلم ، بظاہر یہی حال نظر آتا ہے قرون اولی کے لوگوں کے حالات پڑھئے اور پھر اس زمانے کے ساتھ مقابلہ کیجئے ۔ انفرادیت اور اجتماعیت ، اخلاقیات اور عبادات ہر لحاظ سے روبہ تنزل ہیں البتہ شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی کتاب کے ساتھ تعلق رکھے گا ، اس کی درس و تدریس میں مصروف رہے گا ، اللہ تعالیٰ اس نسیان کے مذکورہ عارضہ سے محفوظ رکھے گا ، قرآن پاک کی برکت سے اس کی یاداشت قائم رہے گی ، فرمایا (آیت) ” ان اللہ علیم قدیر “۔ بیشک خدا تعالیٰ کی ذات سب کچھ جاننے والی اور قدرت تامہ کی مالک ہے تمام تغیرات اور تصرفات اسی کے اختیار اور قدرت میں ہیں ۔
Ayahs 16:71–74

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور اللہ نے فضیلت بخشی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی کے معاملے میں پس نہیں ہیں وہ لوگ جن کو فضیلت بخشی گئی ہے ، لوٹانے والے اپنی روزی کو ان پر جن کے مالک ہیں ان کے دائیں ہاتھ تاکہ وہ اس میں برابر ہوجائیں ، تو کیا اللہ کی نعمت کا یہ انکار کرتے ہیں ۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے بنائے ہیں تمہارے لیے تمہاری جانوں میں سے تمہارے جوڑے ، اور بنائے ہیں تمہارے لیے تمہارے جوڑوں میں سے بیٹے اور پوتے ، اور روزی بخشی ہے تمہیں پاک چیزوں سے کیا یہ لوگ باطل پر یقین رکھتے اور اللہ کی نعمت کے ساتھ انکار کرتے ہیں ۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور یہ لوگ عبادت کرتے ہیں اللہ کے سوا ان چیزوں کی کہ نہیں مالک ان کے لیے روزی کے آسمانوں سے اور زمین سے کسی چیز کے بھی ، اور نہ وہ طاقت رکھتے ہیں ۔

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس نہ بیان کرو تم مثالیں اللہ کے لیے ، بیشک اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔

(ربط آیات) اللہ نے اپنی قدرت کی وہ نشانیاں بیان کیں جو اس نے انسان کے اندر اور بیرونی دنیا میں پیدا فرمائی ہیں پھر اسی مضمون کو شرک کی تردید میں بطور دلیل پیش کیا ، گذشتہ آیات میں بھی اللہ نے اپنے انعامات کا تذکرہ کیا تھا اور آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، اللہ نے مشرکین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اس کے انعامات کی ناقدری کرتے ہیں حالانکہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے تھا ، انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ۔ (رزق میں تفاوت) اب اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ احسان بھی یاد دلایا ہے (آیت) ” واللہ فضل بعضکم علی بعض فی الرزق “۔ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے فضیلت بخشی ہے تم میں سے بعض کو بعض پر روزی کے معاملہ میں ، اللہ نے تمام مخلوق کے لیے روزی کے یکساں دروازے کشادہ نہیں کیے بلکہ بعض کو زیادہ روزی دی ہے اور بعض کو کم ، اس کمی بیشی کی حکمت اور مصلحت کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو خود روزی رساں ہے اور یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں ، دوسری جگہ تصریح موجود ہے (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر مایشآء “۔ (الشوری) اگر اللہ تعالیٰ سب لوگوں کے لیے روزی کے یکساں دروازے کشادہ کردیتا تو وہ زمین میں بغاوت کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق روزی نازل فرماتا ہے کسی کو زیادہ مال دے دیا اور کسی کو کم ، کسی کو افسر بنا دیا ، اور کسی کو ماتحت ، حدیث شریف میں آدم (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کی تمام روحوں کو متمثل کرکے ان کے سامنے پیش کیا تو ان میں تفاوت نظر آتا تھا ، آدم (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا ، پروردگار ! لولا سویت بین عبادک “ تو نے اپنے بندوں کے درمیان برابری کیوں نہیں رکھی ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر میں سب کو یکساں کردیتا تو کوئی شخص میرا شکریہ ادا نہ کرتا ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ذہنی قوی اور جسمانی ، ظاہری اور باطنی طاقتیں ایک جیسی نہیں رکھیں ، اس لیے ان کے علم وعمل میں بھی فرق ہے اور پھر ان کی روزی کا سلسلہ بھی کم وبیش رکھا ہے کوئی امیر اور امیر تر ہے اور اسی طرح کوئی غریب اور غریب تر ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب اپنے سے زیادہ نعمت والے کا خیال آئے تو اس کی طرف نہ دیکھو بلکہ اپنے کم تر کی طرف دیکھو (آیت) ” الاتزدروا نعمۃ اللہ “ تاکہ تم اللہ کی عطا کردہ نعمت کو حقیر نہ سمجھو ، اللہ نے تمہیں بھی بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ، تم مال اور اولاد میں ان سے بہتر ہو ، گویا تم سے کمترلوگ بھی موجود ہیں ، لہذا اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور خدا کی نعمت کو حقیر نہ سمجھو اللہ نے انسانوں کے درمیان جو تفاوت رکھا ہے وہ بالکل فطری ہے جس طرح استعداد اور محنت میں فرق ہے اسی طرح روزی بھی برابر نہیں ۔ (حقوق کی ادائیگی) یاد رکھنا چاہئے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے روزی زیادہ بخشی ہے اس کے ذمے حقوق بھی زیادہ ہیں ، چناچہ ہم سورة الروم میں پڑھتے ہیں فات ذالقربی حقہ والمسکین وابن السبیل “۔ قرابتداروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو ، اگر اللہ نے مال دیا ہے تو پھر یہ حقوق بھی پورے کرو ، ورنہ ماخوذ ہوگے ، مال میں مختلف قسم کے حقوق میں ، کوئی فرض ، کوئی واجب اور کوئی نفل ، اگر کسی مالدار کے اقربا محتاج ہیں تو اس کے ذمے واجب ہے کہ وہ ان کی اعانت کرے ، تاکہ وہ بھوکے ننگے نہ رہیں عام انسانی سوسائٹی کا بھی یہی قانون ہے ، اگر دولت مند نادار کی مدد نہیں کرے گا تو اللہ کے ہاں جوابدہ ہوگا ، بہرحال جو صاحب حیثیت ہے اس کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے اور اسے اپنے مال کا حساب دنیا ہوگا کہ اس نے یہ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (مختلف نظام ہائے معیشت) آج کل غیرفطری مساوات کا نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ سب برابر ہیں ، اس معاملہ میں استرا کی ممالک پیش پیش ہیں ، حالانکہ تفاوت کی مٹانا غیر فطری بات ہے ، گذشتہ پچاس سال کے تجربہ اشتراکی نظام کو بھی ناکام ثابت کردیا ہے وہاں بھی تشدد کے سوا کچھ نہیں ، سرمایہ دارانہ نظام معیشت بھی ایک لعنت سے کم نہیں ، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء کی تعلیم سے دوری کی وجہ سے ہو رہا ہے اللہ نے مال کے حصول اور خرچ دونوں کے لیے قانون مقرر کیے ہیں ، حلال و حرام کا امتیاز روا رکھا اور کسب اور خرچ پر بعض پابندیاں عاید کی ہیں ، کسی کو من مانے طریقے سے کمائی کرنے کی اجازت نہیں بلکہ فرمایا (1) (کنز العمال ص 12 ، 13 ، 14 ، ج 4) فاتقوا اللہ واجملوا فی الطلب “۔ اللہ سے ڈرو اور حلال روزی تلاش کرو فرمایا ” اطلبوا الرزق فی خیآئل الارض “ ، زمین کے کونے کونے میں جہاں بھی ممکن ہو روزی تلاش کرو ، زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ، پہاڑوں ، دریاؤں اور سمندر میں رزق حلال کی تلاش کے لیے نکل جاؤ ، زمین اور پہاڑوں سے مع دنیات نکلتی ہیں دریاؤں اور سمندروں سے مچھلی کا شکارا اور قیمتی ہوتی حاصل ہوتے ہیں ، زمین کے اوپر کھیتی باڑی ، صنعت وحرفت اور طرح طرح کے کاروبار ہوتے ہیں یہ سب روزی کے ذریعے ہیں ، حلال رزق میں حرام کی ملاوٹ نہ کرو ، اور پھر عیاشی ، فحاشی ، اسراف ، بلڈنگ سازی کی بجائے معاشرے کے کمزور لوگوں کا سہارا بنو ، اللہ نے انسان کو مکلف بنایا ہے ، اس پر پابندیاں عاید کی ہیں ، اگر اپنے تمام معاملات دائرہ قانون کے اندر رہ کر نپٹاؤ گے تو کامیاب ہوجاؤ گے ، حظیرۃ القدس کے ممبر بن جاؤ گے ۔ (فطری اور غیر فطری مساوات) اللہ نے فرمایا ، جن لوگوں کو ہم نے زیادہ روزی دی ہے ، مال وزر کی فراوانی ہے ، ان کا معاملہ ایسا ہے (آیت) ” فما الذین فضلوا “ پس وہ لوگ جن کو دوسروں پر فضیلت دی گئی ہے ۔ (آیت) ” برآدی رزقھم علی ما ملکت ایمانھم فھم فیہ سوآئ “۔ وہ نہیں چاہتے کہ اپنا مال اپنے غلاموں میں تقسیم کردیں تاکہ وہ بھی ان کے برابر ہوجائیں ، مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی نہیں چاہتا کہ اس کے غریب خدام بھی اس کے برابر حیثیت کے مالدار ہوجائیں ، کوئی کارخانہ دار اپنے مزدور کو اپنا ہم پلہ نہیں دیکھنا چاہتا ، کوئی زمیندار اور جاگیردار اپنے مزارع کو اپنے برابر بیٹھا نہیں دیکھ سکتا اور نہ کوئی حاکم برادشت کرتا ہے کہ اس کے سارے ماتحت اس کی حیثیت میں برابر ہوجائیں ، ظاہر ہے کہ ہر کس وناکس ایک جیسے ہوجائیں ، تو ایک دوسرے کے کام کون کریگا اور دنیا کا نظام کیسے چل سکے گا۔ ؟ گویا اس طرح کی تقسیم غیر فطری ہوگی ، اللہ نے اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہر شخص کی استعداد ، قوت اور علم میں تفاوت رکھا ہے تاکہ نبی نوع انسان ایک دوسرے کے کام آسکیں ، فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تفاوت قائم کر کے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے (آیت) ” افبنعمۃ اللہ یجحدون “ تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں ، ہر انسان کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس کی مہربانی سے اسے نعمت حاصل ہوگئی ہے پھر اگلی آیت میں اللہ نے اس چیز کو شرک کے خلاف دلیل بنایا ہے کہ انسان تو اپنے ہم جنس انسانوں کو بھی اپنے برابر آتا نہیں دیکھ سکتے ، چہ جائیکہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر شریک ٹھہرایا جائے ۔ فرمایا اللہ کی عطا کردہ نعمت کی قدر دانی کرو ، اس نے یہ حکم نہیں دیا کہ تم اپنا سارا مال تقسیم کرکے اپنے سے کم تر لوگوں کے برابر ہوجاؤ بلکہ فرمایا ہے کہ اپنے مال میں سے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حقوق ادا کرو اور بیشک اپنا تفاوت قائم رکھو ، یہ تم پر اللہ کا انعام ہے نظام سرمایہ داری میں یہی قباحت ہے کہ وہ مالی حقوق ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے انسانی سوسائٹی مصائب کا شکار ہو رہی ہے غریب اور کمزور لوگ مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ، مذہب سے بیزاری اور اشتراکیت کی طرف رغبت اسی چیز کا نتیجہ ہے ، اگر ہر شخص کو اس کا جائز حق مل جائے تو اسے بغاوت کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ آج حالت یہ ہے کہ غریب کے لیے حفظان صحت کا کوئی انتظام نہیں ، انہیں روزگار کی ضرورت ہے وہ بھی عزت نفس چاہتے ہیں مگر جب وہ ان چیزوں سے محروم رہتے ہیں تو کبھی اشتراکیت کے سائے میں پناہ تلاش کرتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے مذہب کی طرف رجوع کرتے ہیں دین کا اصول تو یہ ہے کہ خود تکلیف اٹھا کر بھی دوسروں کو اپنے دین کرنے کی کوشش کرو مگر یہاں اپنے بھی دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں ، ساری مصیبت حقوق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہے تمام سوسائٹی بگڑ چکی ہے ، کمزوروں کو سہارا دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ، اشتراکی مساوات بالکل غیر فطری ہے جبکہ حقیقی مساوات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعلیم میں ہے ۔ (نوعی اور شخصی بقائ) اللہ تعالیٰ نے انسان کی نوعی اور شخصی بقاء کا انتظام کرکے انسان پر بہت بڑا احسان فرمایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واللہ جعل لکم من انفسکم ازواجا “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ جس نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویاں بنائی ہیں (آیت) ” وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدۃ “۔ اور پھر ان بیویوں میں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا فرمائے ، اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی بقا کا یہ انتظام فرما دیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں اور پھر ان میں سے ان کی اولادوں کو پیدا کیا ہے ، اس طرح نسل انسانی قیامت تک چلتی رہی گی ’ حفد کا معنی خادم غلام یا سسرال والے بھی ہوتا ہے ، تاہم عام مفسرین نے اس کا معنی پوتے کیا ہے کہ نسل انسانی کی بقاء کی یہی صورت ہے ہر فرد فانی ہے اور اپنی مقررہ عمر پوری کرکے مر جاتا ہے تاہم اگر اس کی اولاد ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں ہوں گا تو اس دنیا میں میری اولاد تو موجود ہوگی اس کی تسلی کے لیے یہی بات کافی ہوتی ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر ہوتا رہیگا ، نیک اولاد اپنے آباؤ اجداد کے لیے دعائیں بھی کرتی ہے اور یہ بھی اس کی بقا کی ایک صورت ہوتی ہے اسی لیے اولاد کی خواہش کو برا نہیں کہا گیا ، بلکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بھی نیک اولاد کے لیے دعائیں کرتے رہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین “۔ (صفت) یا اللہ ! مجھے نیک اولاد عطا فرما ، حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بھی خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی (آیت) ” رب لا تذرنی فردا وانت خیرالوارثین “۔ (الانبیائ) بہرحال نیک اولاد بات دادا کے نام کو زندہ رکھتی ہے ، یہ تو نوعی بقاء کا سلسلہ تھا اب آگے فرمایا (آیت) ” ورزقکم من الطیب “۔ اور تمہیں پاک چیزوں کی روزی عطا فرمائی ، ہر انسان خوراک کا محتاج ہے ، اللہ تعالیٰ نے اناج اور پھل پیدا کر کے انسان کی شخصی بقا کا انتظام بھی کردیا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، خوراک ایک ایسی چیز ہے جس پر انسانی اور حیوانی زندگی کا دارومدار ہے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ کے پاک نبی بھی اس سے مستثنی نہیں ۔ اللہ کا ارشاد ہے (آیت) ” وما جعلنھم جسدا لا یاکلون الطعام “۔ (الانبیائ) ہم نے انبیاء کے جسم ایسے نہیں بنائے کہ انہیں کھانے پینے کی ضرورت نہ ہو ، غرضیکہ ایک زمانے تک انسان کی شخصی بقا کا انحصار رزق پر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کا پیدا کردہ ہے ، فرمایا جب اللہ نے انسان پر اتنے احسانات کیے ہیں (آیت) ” افبالباطل یؤمنون “ تو اس کے باوجود یہ لوگ باطل پر یقین رکھتے ہیں (آیت) ” وبنعمت اللہ ھم یکفرون “ اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟ کتنے افسوس کا مقام ہے ۔ (شرک کی تردید) فرمایا نسل انسانی کی شخصی اور نوعی بقا کا انتظام تو میں نے فرمایا ہے مگر ان لوگوں کی حالت یہ ہے (آیت) ” ویعبدون من دون اللہ مالایملک لھم رزقا من السموت والارض شیئا “۔ وہ اللہ کے سوا ان کی پوجا کرتے ہیں جو ان کے لیے زمین وآسمان سے کسی روزی کے مالک نہیں ہیں روزی رساں تو اللہ تعالیٰ ہے ، مگر یہ لوگ لات ، مناۃ ، عزی ، جن ، فرشتہ حجر ، شجر اور قبر کی پرستش کر رہے ہیں ، حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی روزی کا سامان ہے اور نہ یہ کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں اس کے باوجود یہ لوگ اپنی مشکلات ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ، مافوق الاسباب انہیں کو پکارتے ہیں اور انہی کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ولا یستطیعون “۔ ان کے پاس نہ اختیار ہے اور نہ طاقت ، نہ یہ بارش برسا سکتے ہیں ، نہ زمین میں روئیدگی پید کرسکتے ہیں کہ اناج ، پھل اور سبزیاں پیدا ہوں ، نہ ان کا زمین میں تصرف ہے اور فضا میں کوئی دخل ہے ، یہ کسی چیز کے مالک بھی نہیں نافع اور ضار بھی نہیں تو پھر کتنے ظلم کی بات ہے کہ ان کی خدا کا شریک ٹھہرا کر ان کی عبادت کی جائے ، ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا تھا (آیت) ” ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ الرزق “۔ (العنکبوت) اے لوگو ! تم اللہ کے سوا جن دوسروں کی عبادت کرتے ہو ان کا رزق پر کوئی اختیار نہیں ہے ، لہذا اللہ ہی کے پاس رزق تلاش کرو ، تمام اسباب رزق اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ، لہذا ہمیشہ اسی کی طرف رجوع کیا کرو ، اس نے اپنے اختیارات کسی مخلوق کو تقسیم نہیں کیے جب کہ مشرکین عرب کا دعوی یہ تھا ، کہ اللہ تعالیٰ نے خود بعض ہستیوں کو اختیارات تفویض کرکے انہیں اپنا شریک بنا لیا ہے چناچہ وہ حج کے دوران تلبیہ میں ” لبیک لا شریک لک “ کے بعد یہ اضافہ کرتے تھے ” الا شریکا ھو لک تملکہ وما ملک “ (صحیح مسلم) کہتے تھے اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے کے کہ جسے تو نے خود اختیارات دے کر اپنا شریک بنا لیا ہے ، بعض مشرک غیر اللہ کی عبادت کا یہ جواز پیش کرتے تھے کہ ہماری دعا قبول نہیں ہوتی ، چونکہ یہ اللہ کے مقبول بندے ہیں ، اس لیے ان کی عبادت کے ساتھ مل کر ہماری عبادت بھی قبول ہوجاتی ہے بعض یہ بھی کہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی ذات بڑی بلند وبالا ہے ۔ ہماری وہاں تک رسائی نہیں ہو سکتی ، لہذا ہم ان کے واسطہ سے خدا تک رسائی حاصل کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے تمام باطل عقائد کی تردید فرمائی ہے ۔ ّ (اللہ سے براہ راست تعلق) اللہ اور بندوں کے درمیان براہ راست تعلق کے متعلق شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت کا نام تدلی ہے جب ماں کے پیٹ میں انسانی ڈھانچہ تیار ہوجاتا ہے تو پھر اس میں روح الہی داخل کی جاتی ہے اور اس طرح ہر انسان کے قلب پر اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس پڑنے لگتا ہے اللہ اور بندے کے درمیان یہی براہ راست تعلق ہے زندگی میں تو انسان کو اس کا شعور نہیں ہوتا ، مگر جب انسان مر جاتا ہے ، اس کی روح اور نسمہ جسم سے باہر نکل آتا ہے تو اس وقت تجلی اعظم کی کشش انسان کو عالم بالا کی طرف کھینچتی ہے جب کہ اس کے برے اعمال اسے نیچے کی طرف کھینچتے ہیں اور پھر انسان کو سخت تکلیف ہوتی ہے ، اس وقت انسان کو خدا تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق کا احساس ہوتا ہے ۔ غرضیکہ بندے کا بندے کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی مرضی اور ارادے سے جو چاہے کرتا ہے ، وہاں کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہے ، بعض اوقات اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض کام فرشتوں کے ذریعے کراتا ہے ، لہذا براہ راست تعلق تو ثابت نہ ہوا ، اس ضمن میں عرض ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے کوئی اختیار نہیں دیا بلکہ وہ تو اس کے حکم سے ہر کام کرتے ہیں کیونکہ وہ مامور من اللہ ہوتے ہیں پیچھے گزر چکا ہے ، (آیت) ” ویفعلون مایؤمرون “۔ وہ تو وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے ، انہیں از خود کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی ، بارش برسانے یا پھل اگانے کا کوئی اختیار نہیں ، لہذا جو کوئی اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کو مافوق الاسباب پکارلے گا اور اس سے امید وابستہ کرے گا ، وہ مشرک ٹھہرے گا ، فرمایا ، تم ایسی مثالیں بیان کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے کسی حاکم پر قیاس کرکے کہتے ہو کہ جس طرح بادشاہ تک اس کے وزیر ، مشیر یا مصاحب کے بغیر رسائی نہیں ہوتی ، اسی طرح اللہ تک بھی اس کے مقرب کے بغیر پہنچ ممکن نہیں ، تو یہ تمہاری خام خیالی ہے ، (آیت) ” فلا تضربوا اللہ الامثال “۔ اللہ کے لیے ایسی مثالیں مت بیان کرو ، کیونکہ اس کا فرمان تو ہے ” (آیت) ” امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوئ “ (النحل) مصیبت زدہ کی پکار کو کون سنتا ہے اور اس کی تکلیف کو کون رفع کرتا ہے ؟ (آیت) ” ء الہ مع اللہ “ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ، نہیں بلکہ وہی براہ راست پکار کو سنتا ہے ، اور تکلیف کو رفع بھی وہی کرتا ہے ، کوئی نبی ، ولی ، جن فرشتہ اللہ کے درمیان واسطہ نہیں ہے ، نہ اس نے کسی کو کوئی اختیار دے رکھا ہے ، لہذا اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے لیے ایسی مشرکانہ مثالیں مت بیان کرو ، (آیت) ” ان اللہ یعلم وانتم لا تعلمون “۔ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ، لہذا اس کی حکمت میں دخل اندازی کی کوشش مت کرو۔