Ayahs 16:35–36(ربط آیات)
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے وحی الہی کا ذکر کیا ، پھر اپنی وحدانیت کا تذکرہ کیا (آیت) ” الھکم الہ واحد “۔ اور اس کے دلائل بیان فرمائے ، اس کے بعد ان لوگوں کی دو بڑی بیماریوں کا ذکر کیا جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہیں لاتے ایک تو وہ آخرت کے منکر ہیں اور دوسرے تکبر کرتے ہیں ، پھر اللہ نے مشرکوں اور متقیوں کے انجام سے آگاہ فرمایا شرک کی تردید اس سورة کا خاص موضوع ہے جو گذشتہ آیات میں بھی بیان ہوا ہے ، اس درس میں بھی آرہا ہے اور آگے مثالوں کے ذریعے بھی اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی ، بہرحال آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے حق میں مشرکین کی ایک نہایت ہی بھونڈی دلیل کا رد فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کا ذکر بھی کیا ہے ۔
(شرک پرانی بیماری ہے)
شرک ایک ایسی بیماری ہے جو تمام پرانی قوموں میں راسخ رہی ہے ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر اللہ کے ہر نبی کی قوم میں شرک پایا گیا اور ہر نبی نے سب سے پہلے اسی بیماری کی طرف توجہ فرمائی ، قوم سے یہی فرمایا (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “۔ (ہود) اے میری قوم کے لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تم نے مٹی اور پتھر کے جتنے معبود بنا رکھے ہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ، نہ یہ کچھ دے سکتے ہیں اور نہ چھین سکتے ہیں ، ان کی پوجا کرکے تم اپنے لیے تباہی کا سامان پیدا کر رہے ہو ، یہ تو خدا تعالیٰ کی کھلی بغاوت اور سرکشی ہے مختلف اقوام میں اور بھی مختلف بیماریاں تھیں ، کسی میں تکبر کی بیماری تھی ، کوئی ناپ تول میں ڈنڈی مارتے تھے ، کسی قوم میں معاملات کی خرابی تھی کسی میں ظلم حد سے بڑھا ہوا تھا اور کوئی قوم حد درجے کی بداخلاقی میں مبتلا تھی تاہم تمام اقوام میں شرک ایک ایسی بیماری تھی جو سب کی قدر مشترک تھی ، اس لیے اللہ کے نبیوں نے سب سے پہلے اسی بیماری کو ختم کرنے کی کوشش کی ،
(مشرکین کی دلیل)
اس بیماری کی سنیگنی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب بھی اللہ کے نبیوں نے اس بیماری کا قلع قمع کرنا چاہا تو مشرکین نے اس کے حق میں دلائل دینے شروع کردیے اور برحق ثابت کرنے کی کوشش کی ، آج کے درس میں اللہ نے یہی مضمون بیان فرمایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقال الذین اشرکوا “۔ اور کہا شرک کرنے والوں نے یعنی جب اللہ کے نبیوں نے شرک سے منع کیا تو کیا تو کہنے لگے (آیت) ” لو شآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء نحن “۔ اگر اللہ چاہتا تو ہم نہ عبادت کرتے اللہ کے سوا کسی کی (آیت) ” ولا ابآؤنا “۔ اور نہ ہی ہمارے باپ دادا ایسا کام کرتے (آیت) ” ولا حرمنا من دونہ من شیئ “۔ اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ، اس کے حکم کے سوا یہ ہے وہ دلیل جو مشرکین شرک کے حق میں پیش کرتے تھے ، گویا اپنے شرکیہ افعال کو خدا تعالیٰ کی مشیت کے ساتھ منسلک کرکے خود بری الذمہ ہو رہے ہیں مطلب یہ کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہمارے یہ شرکیہ کام پسند نہ ہوتے تو وہ فورا ہمیں روک دیتا ، ہماری زبانوں کو بند کردیتا یا ہمارے ہاتھ پاؤں کی طاقت کو ہی سلب کرلیتا تاکہ ہم ایسا کام نہ کرسکتے ، اگر اس نے ہمیں ان کاموں سے نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان امور پر راضی ہے ، لہذا ہم انہیں انجام دینے میں حق بجانب ہیں ، یہ تو بالکل ویسی بات ہے کہ کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اس کا اعتراف کرنے اور توبہ کرنے کی بجائے اسے تقدیر پر ڈال دیتا ہے کہ تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا ، لہذا ہوگیا ، اس میں میرا کیا قصور ہے ؟
حلت و حرمت کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے ، مشرکین نے بعض چیزیں از خود اپنے آپ حرام ٹھہرا رکھی تھیں حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ، انہوں نے بعض جانوروں کو بحرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام کا نام دے کر عام لوگوں کے لیے ان کا گوشت حرام قرار دے لیا تھا ، چناچہ جس مادہ کا دودھ نذر کے طور پر وقف کردیتے اسے کوئی عام مرد وزن نہیں پی سکتا تھا بلکہ وہ صرف گدی نشینوں کے لیے حلال ہوتا تھا ، اس طرح جس اونٹ یا بیل کو معبودان باطلہ کی نذر کردیتے تھے ، نہ اس پر سواری کرتے تھے اور نہ کسی دیگر کام میں لاتے تھے ، اسی طرح جو جانور مقررہ تعداد میں بچے دے دیتا تھا اسے کھلا چھوڑ دیتے تھے ، نہ اس کا دودھ پیتے نہ گوشت کھاتے اور نہ سواری کے لیے استعمال کرتے ، انہوں نے بعض چیزیں عورتوں پر اور بعض مردوں پر حرام کر رکھی تھیں ، اس کا جواز بھی وہ یہی پیش کرتے تھے کہ اگر اللہ کی ۔۔۔۔۔ نہ ہوتی تو ہم کوئی چیز حرام نہ کرتے ، چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روکا ، لہذا ہم ٹھیک کر رہے ہیں۔
سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تمام اقسام پر بحث کی ہے اور ان کی تردید فرمائی ہے ، یہ مضمون اسی قسم کی آیت میں وہاں بھی بیان ہوچکا ہے (آیت) ” سیقول الذین اشرکوا لوشآء اللہ ما اشرکنا ولا ابآؤنا ولا حرمنا من شیء فرمایا مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم اور ہمارے آباؤ و اجداد شرک کا ارتکاب نہ کرتے اور نہ ہی ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ، اللہ نے اس کو جواب یہ دیا کہ پہلے لوگوں نے بھی اسی قسم کی بیہودہ دلیل پیش کی حتی کہ انہیں ہماری سزا کا مزا چکھنا پڑا ، فرمایا ، اس حرمت کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ تو محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور اٹکل پچو باتیں کر رہے ہیں ، یہ تو حرمت کی بات تھی ، ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب مشرکین بیت اللہ شریف کا برہنہ طواف کرتے تھے اور اس کے لیے بھی انہوں نے خدا کی مشیت کو بہانہ بنا رکھا تھا ، مگر اللہ نے فرمایا کہ وہ کبھی بےحیائی اور برائی کا حکم نہیں دیتا تم تو شیطان کا اتباع کرکے اس فعل کو خدا کی طرف منسوب کر رہے ہو ،
بہرحال شرک کے ارتکاب اور حلت و حرمت کے معاملہ میں مشرکوں نے نہایت ہی بیہودہ دلیل پیش کی جس کا اللہ نے رد فرمایا ہے ، یہاں پر اللہ نے اجمالی طور پر ذکر کیا ہے ، آگے عام قانون کی صورت میں بھی حلت و حرمت کا مسئلہ آئے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس باطل دلیل کے جواب میں فرمایا (آیت) ” کذلک فعل الذین من قبلھم “۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا ، گویا یہ کوئی نئی بات ہے ، اس سے حضور ﷺ کو تسلی دلانا مقصود ہے کہ آپ مشرکین کے قبیح افعال سے گھبرائیں نہیں ، اس قسم کے واقعات آپ کے ساتھ ہی پیش نہیں آرہے ہیں بلکہ پہلی اقوام بھی اس طرح کرتی اور کہتی رہی ہیں ، وہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ برا کام ہوتا تو اللہ تعالیٰ روک دیتا ، لہذا ہم جو کچھ کر رہے ہیں ، ٹھیک کر رہے ہیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ کتنی نادانی کی بات ہے ، بھلا یہ تو سوچو کہ ہر فرقے کے نزدیک بعض کام برے ہیں جن سے وہ انکار نہیں کرسکتے ، مگر لوگ انہیں انجام دے رہے ہیں ، اگر مشرکین کے فلسفے کو تسلیم کرلیا جائے تو دنیا میں کوئی بھی برائی نہیں رہتی کیونکہ ہر برائی انجام دی جا رہی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہاتھ پکڑ کر روکتا نہیں ، لہذا ہر برے سے برے کام میں بھی مشیت الہی شامل ہے معلوم ہوا کہ برا کام بہرحال برا ہے اور خدا تعالیٰ کے جبرا نہ روکنے سے کوئی برائی اچھائی میں تبدیل نہیں ہوجاتی ۔
(انسان کی فعل مختاری)
حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی سے جبرا کوئی کام نہیں کراتا کیونکہ یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے ، اسی سورة کے پہلے روکوع میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تک تو سیدھا راستہ ہی پہنچتا ہے ، مگر کچھ ٹیڑھے راستے بھی موجود ہیں ، (آیت) ” ولوشآء اللہ لھدکم اجمعین “۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو سیدھی راہ پر لگا دیتا ، مگر وہ کسی کو مجبور نہیں کرتا ، اس نے انسان کو پیدا کیا ، عقل ، شعور اور قوی عطا کرکے کچھ اختیارات بھی دیے ہیں جن کو بروئے کار لا کر انسان اچھے یا برے اعمال انجام دیتا ہے ، اگرچہ خالق سب کا خدا تعالیٰ ہے مگر کا سب خود انسان ہے اسے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر اچھے یا برے کام کرنے کی اجازت ہے سورة الکہف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ کہہ دیں ، حق تمہارے پروردگر کی طرف سے ہے (آیت) ” فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکفر “۔ اب یہ تمہاری مرضی ہے جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے ، یہ اس کی اپنی صوابدید پر ہے ، اس پر جبر نہیں ہے ، ہاں یہ ہے کہ کوئی جونسا راستہ اختیار کرے گا ، اسی کے مطابق جزایا سزا کا مستحق ہوگا ، اللہ نے صاف بتلا دیا (آیت) ” انا اعتدنا للظلمین نارا “۔ ہم نے ظالموں کے لیے جہنم بھی تیار کر رکھا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ کسی کو اچھائی یا برائی پر مجبور نہیں کرتا ، نہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر غلط راستے پر جانے سے روکتا ہے (آیت) ” فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا “۔ (الروم) اللہ نے ہر انسان کو اپنی فطرت پر پیدا کیا ہے ” ان الامانۃ نزلت فی جزر قلوب الرجال “۔ اللہ تعالیٰ نے امانت یعنی صلاحیت اور استعداد ہر شخص کے دل میں رکھ دی ہے کسی کو اس سے محروم نہیں رکھا ، اس امانت کی تفصیل دنیا میں آکر کتاب وسنت سے معلوم کی جاسکتی ہے ، اب اگر کوئی شخص اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے خراب کرلیتا ہے تو اسکا نتیجہ اس کے حق میں سخت برا نکلے گا ، غرضیکہ فرمایا کہ مشرکین کی یہ دلیل ناقابل قبول ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک کا ارتکاب نہ کرتے ، اللہ تعالیٰ نے اسے شرک کرنے پر مجبور کیا ہے ، اور نہ ہی انہیں جبرا اس سے روکا ہے انہوں نے اللہ کے عطا کردہ اختیارات کو برائے کار لاتے ہوئے جو راستہ اختیار کیا ہے ، وہ جہنم کا راستہ ہے اور اپنے شرک کی پاداش میں مشرک لوگ وہی پہنچیں گے ۔
(رسولوں کی ذمہ داری)
جہاں تک اللہ کے رسولوں کی ذمہ داری ہے ، فرمایا (آیت) ” فھل علی الرسل الا البلغ المبین “۔ ان کا کام کھول کر بیان کردینا ہے ، رسولوں کا کام کسی کو جبرا منوانا نہیں ، اگر لوگ رسول کی بات کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں یا اس کی مخالفت پر اتر آئیں تو یہ ان کا عناد ہوگا اور مشرکین اسی بیماری میں مبتلا رہے ہیں ، اللہ نے اپنے رسول بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر برائی سے روکنے کے سامان بہم پہنچا دیے ہیں اور اگر اب بھی کوئی کفر اور شرک سے باز نہیں آتا بلکہ اس بات کا انتظار کر رکھا ہے کہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کڑ روک دے تو یہ اس کی خام خیالی ہے ، اسے اس کارکردگی کا بھگتان کرنا ہوگا ۔
اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا “۔ ہم نے ہر امت اور قوم میں اپنا رسول بھیجا جس نے ہمارا پیغام اپنی امت تک پہنچایا ، اور وہ پیغام یہ تھا (آیت) ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو اور طاغوت سے بچ جاؤ ، اللہ نے کفر وشرک سے روکنے کا یہی تو سامان پیدا کیا کہ اللہ کے ہر نبی نے اسی بات کی دعوت دی کہ عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے ، کفر اور شرک مہلک بیماری ہے ، اس سے بچ جاؤ ، اگر اب بھی کوئی شخص اس سے اجتناب نہیں کرتا تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے ، اللہ کے نبی کام پہنچا دینا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ، تو گویا اللہ نے قانون اور شریعت کے ذریعے لوگوں سے منع کیا ہے کسی کی قوت سلب کرکے اسے مجبور نہیں کیا ۔
(طاغوت کیا ہے ؟ )
طاغوت طغیان کے مادے سے ہے جس کا معنی سرکش اور بغاوت ہوتا ہے ، یہ لفظ شیطان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور بت کے لیے بھی ، عام مفسرین فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا جن باطل قوتوں کی پرستش کی جائے وہ طاغوت ہیں ، مشہور مؤرخ ابن ہشام نے اپنی ” سیرت “ میں طاغوت کی تعریف یہ کی ہے ” کل ما اضل عن الحق فھو طاغوت “۔ جو چیز بھی حق کے راستے سے گمراہ کرے وہ طاغوت ہے ، شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) طاغوت کا ترجمہ ہڑبھنگا کرتے ہیں ، فرماتے ہیں ہڑبھنگا اس شخص کو کہا جاتا ہے جو بلاسند سرداری کا ناحق دعوی کرے ، یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو حقیر لفظوں سے یاد کیا ، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مہین کہا ، حق کو ٹھکرانے والے طاغوت کی فہرست میں آتے ہیں ، ہر ظالم خواہ وہ فرعون ہو ، نمرود ہو ، طاغوت کی فہرست میں آتے ہیں ، ہر ظالم خواہ وہ فرعون ہو ، نمرود ہو ، چنگیز ہو یا ہلاکو سب طاغوت ہیں ، اکثر وبیشتر ملوک طاغوت ہیں مارشل لاء کا قانون بھی طاغوتی قانون ہے ، غرضیکہ حق سے گمراہ کرنے والا کوئی انسان ہو ، بت ہو یا شیطان ہو ، طاغوت کی تعریف میں آتا ہے ، خدا تعالیٰ کے قانون کو پس پشت ڈال کر من مانی کرنے والی ہر شخصیت طاغوت ہے ۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ طاغوتوں سے بھری پڑی ہے ، اکثر ملوک آج تک من مانی کرتے آئے ہیں ، انہوں نے حق و باطل میں تمیز کرنے کی بجائے اپنی مصلحت کو پیش نظر رکھا ، قوم اور ملک دولت لہو ولعب اور عیاشی وفحاشی پر خرچ کرتے آئے ہیں ، انہوں نے خدا کے قانون کے اجرا اور مخلوق خدا کے فائدے کے لیے کچھ نہیں کیا ، لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور یہ فلک بوس عمارتیں بنانے میں مصروف ہیں ، قوم کو تعلیم اور خوراک کی ضرورت ہے مگر یہ قوم کا پیسہ اپنی عیاشیوں پر خرچ کر رہے ہیں گمراہی عام ہے ، برہنگی کی وبا پھیل رہی ہے ، لہو ولعب سے فرصت نہیں ملتی ، یہ سب طاغوتی کام ہیں جو انجام دیے جا رہے ہیں ہاں ہماری تاریخ میں بعض اچھے لوگوں کا نام بھی محفوظ ہے ، مگر یہ خال خال لوگ ہیں جن کے دل میں خدا کا خوف اور مخلوق کی بھلائی کا جذبہ موجزن تھا خلفائے راشدین کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کا نام ہمیشہ سرفہرست رہے گا ، یہاں برصغیر میں اور نگ زیب عالمگیر (رح) ، سلطان محمود (رح) ، ناصر الدین التمش (رح) اور ٹیپو شیہد جیسی ہستیاں ہوئی ہیں ، جن کو بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے تاہم باقی کلہم طاغوتی کی فہرست میں ہی آتے ہیں کوئی بڑا طاغوت ہے اور کوئی چھوٹا ۔
(ہدایت اور گمراہی)
اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا جس نے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت اور طاغوت سے بچنے کی نصیحت کی ، اس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فمنھم من ھدی اللہ “ پس ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی جن میں انصاف اور حق طلبی تھی اور جو ضد اور عناد سے پاک تھے ، ان کو ہدایت نصیب ہوگئی (آیت) ” ومنھم من حقت علیہ الضللۃ “۔ اور ان میں سے بعض وہ تھے جن پر گمراہی ثابت ہوگئی ، حق طلبی اور انصاف سے عاری ، ضدی اور عنادی لوگ گمراہی میں غرق رہے ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم “۔ (البقرہ) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ، ان پر کفر کے زنگ چڑھ چکے ہیں ، جیسے سورة المطففین میں موجود ہے (آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم “۔ ان پر گمراہی ثابت ہوگئی اور وہ جہنم کا شکار بنے ۔
فرمایا (آیت) ” فسیروا فی الارض “۔ پس زمین پر چل پھر کر دیکھو تمہیں بہت سی چیزیں نظر آئیں گی ، تاریخ کے اوراق اور اجڑی بستیوں کے کھنڈرات عبرت کا سامان پیش کر رہے ہیں آپ کو جگہ جگہ ایسے کتبے نظر آئیں گے کہ یہاں فلاں قوم آباد تھی مگر خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے اس کے غضب کا شکار ہوگئی ، عادیوں اور ثمودیوں کی بستیاں ، الٹی بستی والوں کے نشانات آشوری ، مصری ، کلدانی ، اور بابلی تہذیبوں کے نشانات آپ کو دعوت دے رہے ہیں کہ آ کر دیکھو (آیت) ” فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا ، ان کی بستیاں تباہ وبرباد ہوئیں اور یہ سب لقمہ اجل بن گئے ،
Ayahs 16:37–40(ربط آیات)
مشرکین نے اپنے کفر اور شرک کے جواز میں یہ دلیل قائم کی تھی کہ اگر یہ برے افعال ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے روکتا کیوں نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ خیال کا رد فرمایا کہ اللہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو برائی سے نہیں روکتا نہ اس سے برائی کرنے کی طاقت ہی سلب کرلیتا ہے بلکہ اس نے برائی کی رکاوٹ کے لیے ایک نظام قائم کر رکھا ہے اس نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے جنہوں نے لوگوں کو حکم دیا (آیت) ” ان عبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ عبادت صرف اللہ کی کرو ، اور طاغوت کی پرستش سے بچ جاؤ ، گویا اللہ تعالیٰ نے قانون کے ذریعے لوگوں کو شرک سے روک دیا اس کے بعد لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ، بعض کو تو ہدایت نصیب ہوگئی ، انہوں نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیا اور طاغوت کی پرستش سے بچ گئے البتہ جس گروہ نے ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا اور کفر وشرک پر اڑے رہے ، ان پر گمراہی ثابت ہوگئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ذرا زمین میں چل پھر کر مشاہدہ کرو ، جگہ جگہ اجڑی بستیوں کے کھنڈرات اور تاریخ کے اوراق بتائیں گے کہ جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کفر وشرک کو ترک نہ کیا ، ان کا کیا حشر ہوا ، ان لوگوں پر اللہ کا سخت عذاب آیا ، ان کی بستیاں تباہ وبرباد ہوگئیں ، اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا وہ اس دنیا میں بھی ناکام ہوئے اور آخرت میں بھی وہ نامراد ہی رہیں گے ۔
(ہدایت سے محرومی)
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اس کے ماننے والوں کو تسلی دی ہے کہ اگر آج آپ کے مخالفین بھی ضد اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ کی مخالفت کر رہے ہیں ، آپ کو تکالیف پہنچا رہے ہیں ، حق بات کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں تو آپ گھبرائیں نہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان تحرص علی ھدھم “۔ اگر آپ بہت طمع کریں اس بات کا کہ یہ لوگ ہدایت پاجائیں ، اللہ کے دین کو قبول کرلیں ، تو یاد رکھیں (آیت) ” فان اللہ لا یھدی من یضل “۔ تو بیشک اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا جس کو گمراہ کرتا ہے ، آپ کتنی بھی تمنا کریں کہ یہ لوگ ہدایت پاجائیں ، مگر جنہیں اللہ نے ان کی ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی بناء پر گمراہ کردیا ہے ، وہ راہ راست پر نہیں آسکتے ، لہذا آپ زیادہ فکر مند نہ ہوں ، حرص کا عام فہم معنی طمع اور لالچ ہوتا ہے جو کہ اخلاقی بیماری ہے اور یہ چیز ایک مومن آدمی میں پیدا نہیں ہو سکتی چہ جائیکہ یہ چیز اللہ کے نبی کی طرف منسوب کی جائے تو یہاں پر حرص کا لغوی معنی مراد نہیں بلکہ اس مقام پر حرص سے مراد خواہش اور تمنا ہے جو اپنی قوم کی ہدایت کے لیے نبی کے دل میں پیدا ہوتی تھی ۔
اللہ کے تمام نبیوں کا یہی حال رہا ہے ، اپنی قوم کو کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر انہیں سخت کوفت ہوتی تھی اور وہ ہر طریقے سے لوگوں کو اس بیماری سے پاک کرنا چاہتے تھے ، پھر پوری کوشش کے باوجود جب قوم نہیں مانتی تھی تو خود ان سے علیحدگی کا اعلان فرما دیتے تھے ، سورة الممتحنہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ پڑھ لیں ، جب آپ اور آپ کے مٹھی بھر ماننے والے قوم سے بالکل مایوس ہوگئے (آیت) ” اذ قالوا لقومھم “ تو اپنی قوم سے کہنے لگے (آیت) ” انا برء ؤا منکم ومما تعبدون من دون اللہ “۔ ہم تم سے اور تمہارے معبودان باطلہ سے متنفر ہیں (آیت) ” کفرنا بکم “۔ ہم تمہارے منکر ہیں ۔ (آیت) ” وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغضاء ابدا “۔ ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بعض کی دیوار حائل ہوچکی ہے (آیت) ” حتی تؤمنوا باللہ وحدہ “ یہاں تک کہ تم اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان لے آؤ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تمام تر خواہش اور تمنا کے باوجود کہ سارے لوگ ایمان لے آئیں ، اللہ نے سورة یوسف میں فرمایا ہے (آیت) ” وما اکثر الناس ولوحرصت بمؤمنین “۔ آپ کتنی بھی خواہش کریں مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور وہ ہدایت سے محروم ہی رہیں گے آگے اللہ نے اس محرومی کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” فان اللہ لایھدی من یضل “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا ان کو جن کو گمراہ کردیتا ہے ، اور گمراہ اسی کو کرتا ہے جو ضدی اور عنادی ہوتا ، اس بات کو اللہ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بیان فرمایا کہ جو شخص ظلم اور فسق پر اڑا رہتا ہے ، اس کے دل میں تعصب اور عناد راسخ ہوجاتا ہے اور پھر وہ ہدایت حاصل کرنے کی صلاحیت اور استعداد ہی خراب کر بیٹھتا ہے ، پھر ایسے لوگوں کو ایمان قبول کرنے کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی ، البتہ جس کے دل میں ہدایت کے لیے طلب پیدا ہوجائے ، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ضرور راہ راست واضح کردیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا (آیت) ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “۔ (النحل) بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ، مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بلاوجہ گمراہ نہیں کرتا بلکہ ان کی اپنی نفرت ، ہٹ دھرمی ، تعصب اور تکبر انہیں ہدایت سے محروم رکھتے ہیں ، یہود ونصاری کی مثال دیکھ لیں ان بدبختوں کو آج تک پتہ نہیں چلا کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں وہ اپنی ضد پر اڑے بیٹھے ہیں ، اور حضور ﷺ کی رسالت سے شدید ترین عداوت رکھتے ہیں کفر اور شرک میں مبتلا ہیں مگر اپنے آپ پر حق پرستی کا لیبل لگا رکھا ہے ، کہتے ہیں کہ ہم آسمانی کتابوں اور اللہ کے رسولوں کو ماننے والے ہیں مگر نہ اللہ کی آخری کتاب قرآن حکیم کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ پیغمبر آخرالزمان پر ایمان ہے بلکہ آپ سے شدید دشمنی ہے دنیا کی اڑھائی تین ارب کی آبادی عیسائیوں کی ہے ، یہ اپنی ضد سے اس وقت تک باز نہیں آئیں گے جب تک عیسیٰ (علیہ السلام) زمین پر نازل ہو کر ان کو ختم نہیں کردیتے ۔
فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ ضد اور عناد کی بناء پر گمراہ کردے ، آپ کتنی بھی خواہش کریں ، وہ راہ راست پر نہیں آئے گا ، آپ ان کے متعلق زیادہ فکر مند نہ ہوں ، یہ لوگ عذاب کے مستحق ہوں گے (آیت) ” ومالھم من نصرین “۔ اور پر ان کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا ، محاسبے کی منزل اور جزائے عمل کے وقت یہ لوگ بالکل اکیلے ہوں گے اور انہیں کسی طرح سے کوئی حمایت حاصل نہیں ہوگی ۔
(تسلی کا مضمون)
اس میں حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہے ، اللہ نے یہ مضمون قرآن پاک میں مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے جب بھی پیغمبر (علیہ السلام) قوم کی طرف سے دل برداشتہ ہوتے ، اللہ تعالیٰ کا پیغام آجاتا ، سورة الکہف میں جہاں جہاں اللہ نے کفار کے اس دعوے کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ (نعوذ باللہ) اولاد رکھتا ہے وہاں فرمایا (آیت) ” فلعلک باخع نفسک “ کیا آپ اپنا گلا گھونٹ کر ہلاک ہوجائیں گے کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے فرمایا آپ ان کو چھوڑ دیں کہ ان کی ہٹ دھرمی میں قصور انہی کا ہے آپ کا نہیں اور اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے (آیت) ” وانک لتھدی الی صراط مستقیم “۔ (الشوری) آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ ان کے سامنے راہ راست پیش کردیں اور گذشتہ درس میں یہ بھی گزر چکا ہے (آیت) ” فھل علی الرسل الا البلغ المبین “ رسولوں کا کام تو یہ ہے کہ وہ احکام الہی کھول کر بیان کردیں لوگوں کو آگاہ کردیں اور انہیں ان کے برے انجام سے ڈرا دیں ، لیکن کسی کو منزل مقصود تک پہنچا دینا نبی کے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، حضرت علی ؓ کا باپ ابو طالب جب بستر مرگ پر پڑا تھا تو حضور ﷺ کو بڑا صدمہ ہو رہا تھا کہ آپ کا چچا ایمان سے خالی جا رہا ہے آپ نے ہر چند کوشش کی کہ وہ مرنے سے قبل کلمہ توحید پڑھ لے مگر اس وقت بھی اس کا تکبر اس کے اڑے آیا اور کہنے لگا کہ اگر اس وقت میں نے کلمہ پڑھ لیا تو لوگ کیا کہیں گے کہ مرتے وقت اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ گیا ، لہذا میں اپنے بڑوں کے دین پر ہی مروں گا ، حضور ﷺ کی اس انتہائی خواہش کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء “۔ اے نبی ! آپ کسی کو اپنی خواہش پر ہدایت نہیں دے سکتے ، ہدایت تو اسے ملتی ہے جسے اللہ منزل مقصود تک پہنچانا چاہئے ۔ (آیت) ” وھو اعلم بالمھتدین “۔ (القصص) اور یہ اسی کے علم میں ہے کہ ہدایت کی استعداد رکھنے والے کون ہیں تو آیت زیر درس میں حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون ہے کہ نبی مومن ، یا مبلغ کا کام تو پیغام کو پہنچا دینا ہے ، وہ لوگوں کو راہ راست پر لانے کی حتی الامکان کوشش کریں اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ کسی کے انجام کے متعلق ان سے نہیں پوچھا جائے گا ، بلکہ اللہ خود ان سے نپٹ لے گا اور خود پوچھ لے گا کہ اس نے صحیح راستہ کیوں نہ اختیار کیا ، ہاں اگر اللہ کا نبی یا دوسرا مبلغ دین کو پہنچانے میں کوشش نہیں کرے گا تو پر ذمہ دار ہوگا اور ماخوذ ہوگا ۔
(اچھی اور بری حرص)
اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ حرص قابل توجہ ہے ، جیسا کہ پہلے عرض کیا ، حرص کا عام فہم معنی طمع اور لالچ ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز ہمارے پاس آجائے اور ہم زیادہ صاحب مال و آسائش بن جائیں خواہ دوسرے حقدار اس سے محروم ہی رہ جائیں ، ان معافی میں بخل کی طرح حرص بھی نہایت ہی قبیح چیز ہے ، تاہم اس مقام پر حرص کا لفظ ان معانی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ اس سے مراد خواہش اور تمنا ہے ، ظاہر ہے کہ کسی چیز کی خواہش معیوب نہیں اور اگر یہ نیکی کے کام کے لیے ہو تو اچھی چیز ہے ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ مسجد نبوی میں نماز باجماعت ادا ہو رہی تھی ، جب حضور ﷺ رکوع میں تھے تو ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور وہ جماعت میں شامل ہونے سے پہلے ہی رکوع میں چلا گیا اور پھر اسی حالت میں گھسٹتا ہوا جماعت کے ساتھ مل گیا ، اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کا رکوع جماعت سے نہ رہ جائے جب نماز ختم ہوئی تو حضور ﷺ نے اس شخص سے فرمایا ” زادک اللہ حرصا ولا تعد “ اللہ تیری اس حرص کو زیادہ کرے ، مگر دوبارہ ایسی حرکت نہ کرنا ، پہلے صف میں شریک ہوجاؤ ، پھر تکبیر کہو اور پھر رکوع میں جاؤ ، جماعت کے ساتھ جتنا حصہ مل جائے شامل ہوجاؤ اور باقی نماز بعد میں ادا کرلو ، شریعت نے دوڑ کر نماز میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی بلکہ اپنی طبعی چال سے چل کر آؤ ، اور جتنا حصہ ملے حاصل کرلو بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ﷺ ! آپ لوگوں کی ہدایت کے لیے کتنی بھی تمنا کریں ، مگر اللہ تعالیٰ گمراہ ہونے والوں کو ہدایت سے نہیں نوازتا ۔
(بعث بعد الموت کا انکار)
آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے تعصب کی ایک مثال بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” واقسموا باللہ جھد ایمانھم “۔ یہ اللہ کے نام کی سخت قسمیں اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں ” لا یبعث اللہ من یموت “ کہ جو مر چکے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ نہیں اٹھائے گا ، کہتے ہیں یہ مسلمانوں کے دھکوسلے ہیں کہ مرنے کے بعد لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے اور حساب کتاب ہوگا ، یہ سب جھوٹ ہے ، اس کی شان نزول میں امام ابن جریر (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ایک مسلمان نے کسی مشرک سے قرض لینا تھا ، وہ اس کے ہاں پہنچا تو باتوں باتوں میں قیامت کا ذکر بھی آگیا ، اس پر مشرک قسمیں اٹھا کر کہنے لگا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان مر کر مٹی ہوجائے اور پھر دوبارہ زندہ ہوجائے ، یہ ناممکن ہے اور مسلمانوں کا دعوی درست نہیں ہے ، اللہ نے ایسے ہی لوگوں کی تردید میں فرمایا ” بلی “ کیوں نہیں ، یہ حرف ایجاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ ضرور مرنے کے بعد اٹھائے گا (آیت) ” وعدا علیہ حقا “ وعدہ ہے اس کا سچا مگر بات یہ ہے (آیت) ” ولکن اکثر الناس لا یعلمون “۔ کہ اکثرلوگ بےعلم اور بےسمجھ ہیں جس کی وجہ سے بعث بعد الموت کا انکار کر رہے ہیں ، حالانکہ عقل بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ جب تک انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ ہو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے ، دنیا کی ہر حکومت مجرموں کو سزا دیتی ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو ملک میں اندھیر نگری مچ جائے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہوجائے ، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں بعض لوگ جرم کا ارتکاب کرنے کے باوجو کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ جاتے ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ تو کسی انفرادی مالک یا حکومت کی بات ہو سکتی ہے مگر پوری کائنات پر تمام عارضی حکومتوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کی ایک حکومت بھی ہے ، دنیا کی کسی حکومت کا مجرم لامحالہ اللہ تعالیٰ کی حکومت کا مجرم ہوتا ہے کوئی شخص اس دنیا کی کسی حکومت یا کسی عدالت کی آنکھوں میں دھول ڈال کر ، یا سفارش اور رشوت کی بنا پر سزا سے بچ سکتا ہے ، مگر اللہ احکم الحاکمین کی عدالت کو دھوکا نہیں دے سکتا ، ایک دن آنے والا ہے جس دن اس کا بھی میزان عدل قائم ہوگا ، اور اس عدالت میں کسی جرم کی پردہ پوشی نہیں ہو سکے گی ، اس لیے تو اللہ نے اس دن کا نام یوم الدین رکھا ہے اس دن ہر ایک کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا نہ کوئی نیکی کرنے والا محروم رہے گا اور نہ کوئی مجرم بچ سکے گا ، اس دن ہر ایک کی پوری پوری داد رسی ہوگی اور ہر ایک کو اس کا حق دلایا جائے گا ، لہذا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دن مقرر کرے جب سب کو اپنے دو بار میں حاضر کر کے ہر ایک کے ساتھ انصاف کرے ، تو اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بعث بعد الموت ضروری ہے ، جس کا اللہ نے وعدہ بھی کر رکھا ہے ۔
(قیامت کی ضرورت)
فرمایا وقوع قیامت اور بعث بعد الموت اس لیے بھی ضروری ہے (آیت) ” لیبین لھم الذی یختلفون فیہ “۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے وہ بات ظاہر کردے جس میں وہ اختلاف کرتے تھے وہ لوگ اسی بات میں اختلاف کرتے تھے اور قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ کوئی قیامت نہیں آئے گی ، اللہ کا نبی سچ نہیں کہتا اور ہمارے معبود بالکل برحق ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے متنازعہ مسائل کو حل کرنے اور ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے کے لیے وقوع قیامت ضروری ہے ، پھر فرمایا قیامت کا آنا اس لیے بھی ضروری ہے ، (آیت) ” ولیعلم الذین کفروا “۔ تاکہ کافر جان لیں ، ان پر واضح ہوجائے (آیت) ” انھم کانوا کذبین “۔ کہ وہ جھوٹے تھے ، قیامت برپا کرکے اللہ تعالیٰ عملی طور پر ثابت کر دے گا کہ کافر جھوٹے ہیں جو قیامت کا انکار کر رہے ہیں۔ اس مضمون کو سورة التغابن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ کافر لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ دو بار نہیں اٹھائے جائیں گے ، اس کے جواب میں اللہ نے اپنے پیغمبر کو فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی “۔ آپ کہہ دیں میرے رب کی قسم لتبعثن “۔ تم ضرور دوبارہ اٹھائے جاؤ گے (آیت) ” ثم لتنبؤن بما عملتم “۔ پھر تمہیں بتلا دیا جائے گا جو عمل تم کرتے تھے ، اس وقت ان کا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا وگرنہ عقل کی بات یہ ہے کہ انصاف کا ایک دن ہونا چاہئے جب ہر ایک کو پورا پورا انصاف ملے ۔
بخاری شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ انسان مجھے جھٹلاتا ہے اور گالی دیتا ہے حالانکہ اس کے لیے یہ بات ہرگز مناسب نہیں ، فرمایا خدا تعالیٰ کو گالی دنیا یوں ہے کہ وہ کہتا ہے (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “۔ (الکہف) یعنی اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے ، حالانکہ خدا تعالیٰ کا نہ کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ مجازی ‘ وہ تو کہتا ہے ” انا الاحد الصمد “ کہ میں یگانہ اور بےنیاز ہوں ، میری نہ بیوی ہے اور نہ بچے جہاں تک عقل کا تعلق ہے ، یہ بھی دوبارہ اٹھائے جانے کو تسلیم کرتی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان کو پہلی دفعہ پیدا کرنا تو آسان ہو مگر دوسری دفعہ پیدا کرنا مشکل ہوجائے ، عقلی انداز سے دیکھا جائے تو پہلی پیدائش زیادہ مشکل تھی جب کہ نہ کوئی مادہ تھا ، نہ نمونہ اور نہ آلہ ، جب ایک دفعہ تخلیق معرض وجود میں آگئی تو اب اس کا اعادہ کرنا کیسے مشکل ہو سکتا ہے اور دوسری بات اللہ تعالیٰ کو جھٹلانا اس طرح ہے کہ وہ کہتا ہے ، اللہ دوبارہ نہیں اٹھائیگا حالانکہ میرا یہ پکا وعدہ ہے کہ سب کو دوبارہ اٹھاؤں گا اور پھر حساب کتاب کی منزل بھی آئے گی ۔
(خدا کا اٹل فیصلہ)
فرمایا (آیت) ” انما قولنا لشیء “۔ بیشک کسی چیز کے متعلق ہماری بات بالکل فیصلہ کن اور اٹل ہوتی ہے (آیت) ” اذا اردنہ “ جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں نہ کسی وقت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ مادے اور آلے کی ، بلکہ جب بھی ہماری مشیت ہوتی ہے (آیت) ” ان نقول لہ کن “۔ تو ہم اس چیز کو کہتے ہیں ، ہوجاؤ (آیت) ” فیکون “ پس وہ فورا ہوجاتی ہے ، ہم کسی بھی کام کو کر گزرنے پر قادر ہیں اور ایسا کرنے میں ہمیں کوئی دشواری پیش نہیں آتی ، جس طرح ہم ہر چیز کو کر گزرنے پر قادر ہیں ، اسی طرح قیامت برپا کرنے اور لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہیں ، ہمیں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آتی ، اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے قیامت بھی برپا کرے گا اور لوگوں کو زندہ کرکے اپنے سامنے کھڑا بھی کرے گا یہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان پر ہر چیز ظاہر کرے گا ، اور پھر ان کا جھوٹ کھل جائے گا ۔