16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:115–119

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

بیشک حرام قرار دیا ہے تم پر (اللہ نے) مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا غیر کا نام پکارا گیا ہو پس جو شخص مجبور ہوا (اس حال میں کہ) وہ سرکشی کرنے والا نہیں ہے اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہے پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور مہربان ہے ۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور نہ کہو اس چیز کو کہ بیان کرتی ہیں تمہاری زبانیں جھوٹ ، یہ حلال ہے اور حرام ، تاکہ افتراء باندھو تم اللہ پر جھوٹ ، بیشک وہ لوگ جو افتراء باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ ، وہ نہیں فلاح پائیں گے ۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

فائدہ ہے تھوڑا سا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ، ہم نے حرام قراررہی وہ چیز جو ہم نے بیان کی ہے آپ پر اس سے پہلے اور ہم نے ان پر زیادتی نہیں کی ، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر زیادتی کرتے تھے ۔

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر بیشک تیرا پروردگار ان لوگوں کے لیے جنہوں نے برائی کی نادانی کے ساتھ پھر توبہ کی ہے اس کے بعد اور اصلاح کی ہے انہوں نے تو بیشک تیرا پروردگار اس کے بعد البتہ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے ۔

(چاروں چیزیں) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوچکا ہے کہ حلال اور طیب چیزیں کھاؤ ، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے چار قطعی حرام چیزوں کا ذکر فرمایا ہے ، حلت و حرمت کا یہ قانون اس سے پہلے سورة بقرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی بیان ہوچکا ہے ، یہ بڑا اہم مسئلہ ہے جس کی پابندی اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے ان محرمات میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ماکولات میں شمار ہیں اور لوگوں کا اکثر وبیشتر ان اشیاء سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ، یہ مسئلہ بیان کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اکثر مشرک مذکورہ محرمات کو برا نہیں سمجھتے تھے اور ان کو بلا دریغ استعمال کرتے تھے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قطعی حرمت کا حکم لگایا ہے ۔ (1) (مردار) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انما حرم علیکم المیتۃ “۔ بیشک اللہ نے تم پر مردار حرام قرار دیا ہے ، اگر کسی حلال جانور کو شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق ذبح نہ کیا جائے ، تو اگرچہ وہ ذبح کیا گیا ہے مگر وہ مردار کے حکم میں ہی آئے گا ، اگر کوئی جانور بھیڑ بکری وغیرہ خود بخود مر گئی تو ظاہر ہے کہ وہ تو مردار ہی ہوگی ، اور اللہ کے اس حکم کے مطابق اس کا کھانا قطعی حرام ہوگا ، سورة مائدہ میں مردار کی بعض دوسری صورتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے یعنی وہ جانور بھی حرام ہے جو گلا گھٹ کر مرجائے ، یا چوٹ لگنے سے مرجائے یا کسی اونچی جگہ سے گر کر ہلاک ہوجائے ، یا جسے درندے پھاڑ کھائیں یا جو کسی استھان پر ذبح کیا گیا ہو ، اگر کوئی جانور عمدا اللہ کا نام لیے بغیر ذبح کردیا جائے تو وہ بھی مردار کی تعریف میں آئے گا ، سکھ جھٹکا کرتے ہیں ، یا انگریز جانور کی پیشانی میں گولی مار کر ہلاک کردیتے ہیں یہ دونوں طریقے حرام ہیں ، کوئی مسلمان ایسے جانور کا گوشت نہیں کھا سکتا ، اسی طرح اگر کسی زندہ جانور کے جسم سے کوئی حصہ کاٹ لیاجائے تو وہ بھی حرام ہوگا ، زمانہ جاہلیت میں جب کسی پر مجبوری کی حالت ہوتی تھی ، کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا تو اونٹ کی کوہان کاٹ کر کھالیتے تھے زخم بعد ٹھیک ہوجاتا تھا ، اسی طرح اگر کسی دنبے کی چکی کاٹ لی جائے تو وہ حرام کے حکم میں آئے گی حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” ما ابین من الحی فھو میت “۔ جو عضو زندہ جانور سے کاٹ کر الگ کرلیا جائے وہ مردار تصور ہوگا ، مفسرین کرام مردار کی حرمت کی یہ حکمت بیان کرتے کہ جسم میں سستی پیدا ہوتی ہے اور مردار کھانے میں لطف ونشاط کا عنصر مفقود ہوتا ہے ۔ انسان میں اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں ، لہذا اس کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ (2) (خون) فرمایا ایک تو مردار حرام ہے اور دوسرا ” والدم “۔ یعنی بہنے والا خون بھی حرام ہے جانور کو ذبح کرتے وقت جو خون بہہ جاتا ہے ، یہ ناپاک اور حرام ہے ، چونکہ خوراک انسانی اخلاق پر اثر انداز ہوتی ہے اس لیے خون کے استعمال سے انسان میں درندگی کی صفت پیدا ہوتی ہے ، خونخوار درندے ، شیر ، چیتا وغیرہ کی طرح انسان بھی درندگی پر اتر آتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے خون حرام قرار دیا ہے ، البتہ اضطراری حالت کا ذکر آیت کے اگلے حصہ میں آرہا ہے ، اگر کسی شخص کے جسم میں خون کی مقدار اس قدر کم ہوجائے کہ اس کی زندگی کا بچاؤ مشکل ہوجائے تو ایسی حالت میں فقہائے کرام نے ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں منتقل کرنے کی اجازت دی ہے ، عام حالات یا معمولی تکلیف میں انتقال خون درست نہیں ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے فرمایا ہے کہ طہارت ، سماحت ، اخبات اور عدالت جیسے پاکیزہ اخلاق کی نشونما میں خوراک کو بڑا دخل حاصل ہے ، انسان جس قسم کی خوراک استعمال کرے گا اس کے اخلاق پر اسی قسم کے اثرات مرتب ہوں گے ۔ (3) (خنزیر کا گوشت) تیسری حرام چیز فرمایا (آیت) ” ولحم الخنزیر “ خنزیر کا گوشت ہے درحقیقت خنزیر کی ہر چیز بال ، کھال ، ہڈیاں ، خون وغیرہ حرام ہیں تاہم چونکہ بعض اقوام میں عام طور پر اس کا گوشت کھایا جاتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے گوشت کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام انبیاء کی شرائع میں خنزیر حرام ہی رہا ہے مگر یہ سب عیسائیوں کی بدبختی ہے جو اسے بھیڑ بکری کی طرح استعمال کرتے ہیں ، جب مسیح (علیہ السلام) دنیا میں دوبارہ نزول فرمائیں گے تو وہ اپنی قوم سے سخت ناراض ہوں گے کہ جس جانور کو سارے نبیوں کی شریعت میں حرام قرار دیا گیا ، اسے آپ کی قوم نے خوب کھایا چناچہ اس کی تذلیل کی خاطر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خنزیر کو قتل کریں گے ، مولانا عبید اللہ سندھی (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس جانور میں دو ایسی قبیح خصلتیں پائی جاتی ہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہیں ، ایک یہ کہ یہ جانور گندگی کھاتا ہے لہذا اس کا گوشت کھانے والے شخص کے دل و دماغ میں بھی گندگی کے اثرات پیدا ہوں گے ، دوسری بری خصلت یہ ہے کہ یہ ایسا بےغیرت جانور ہے کہ کئی کئی نر ایک مادہ سے بیک وقت جفتی کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خنزیر خور قوموں میں انتہائی درجے کی بےغیرتی پائی جاتی ہے ، جس کا مشاہدہ دنیا میں کیا جا رہا ہے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے خنزیر کا گوشت بھی حرام قرار دیا ہے ۔ (4) (نذر لغیر اللہ) چوتھی حرام چیز نذر لغیر اللہ ہے (آیت) ” وما اھل لغیر اللہ بہ “ جو جانور اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے تقرب اور خوشنودی کے لیے مشہور کیا گیا ہو ، وہ بھی حرام ہے اگر کوئی جانور یا دیگر کوئی چیز لات ، منات یا عزی وغیرہ کی نذر کی گئی تو وہ حرام ہوگئی ، اسی طرح شیخ سدھو کی گائے یا داتا کا بکرا اسی تعریف میں آتا ہے اھلال کا معنی ہی آواز بلند کرنا یاتشہیر کرنا ہوتا ہے ، مقصد یہ کہ اگر کوئی چیز غیر اللہ کے نام پر منسوب کی گئی تو حرام ہوجائے گی ۔ البتہ ایصال ثواب مختلف چیز ہے کوئی شخص اس نیت سے اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے کہ اس کا ثواب فلاں بزرگ یا فلاں شخص کو ایصال کرنا مقصود ہے تو اس میں کوئی جھگڑا نہیں ، پیران پیر کی گیارھویں کا بھی صحیح تصور یہی ہے ، اور اگر عقیدہ یہ ہو کہ پیران پیر یا کسی دوسرے بزرگ کے لیے قربانی نہیں کریں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا اور جان ومال میں نقصان کا خطرہ ہوگا تو یہی چیز نذر لغیر اللہ ہے ، غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کیا جائے یا چاول پکائے جائیں یا مٹھائی تقسیم کی جائے تو اگرچہ بظاہر تو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی مگر محققین فرماتے ہیں کہ ایسی چیز میں روحانی نجاست پائی جاتی ہے ، ایسا مال کھانے والوں کی روح ناپاک ہوجاتی ہے اور ان کا باطن مسخ ہوجاتا ہے ، ان میں اچھے جذبات کی بجائے غلیظ جذبات جنم لیتے ہیں ، اس نجاست اور برے اخلاق کو صاحب روحانیت لوگ بخوبی محسوس کرتے ہیں ۔ یہاں پر ایک اور مسئلہ بھی توجہ طلب ہے جس شخص کا عقیدہ گندا ہے اگر وہ اللہ کا نام لے کر بھی ذبح کرے گا تب بھی اس کا ذبیحہ مردار کی طرح حرام ہی ہوگا ، ذبیحہ ان کا پاک ہوتا ہے جن کا عقیدہ صحیح ہو ، البتہ اہل کتاب کو یہ رعایت دی گئی کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کریں تو وہ جائز ہوگا کیونکہ وہ اپنی نسبت آسمانی کتاب کی طرف کرتے ہیں ۔ البتہ کسی بت پرست مجوسی یا مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں ہوگا ، خواہ وہ ہزار دفعہ اللہ کا نام لیکر ذبح کرے بہرحال اللہ نے ان چار چیزوں کا ذکر کیا ہے کہ یہ حرام ہیں ان کے قریب نہ جاؤ ۔ (بحالت اضطراری) اس قطعی حکم کے بعد استثنائی صورت بھی بیان کردی ہے (آیت) ” فمن اضطر “ جو کوئی اضطراری حالت میں ہو ، اس کے پاس حرام اشیاء کے عالوہ کھانے پینے کی کوئی چیز موجود نہ ہو اور اس کی زندگی کو خطرہ پیدا ہوجائے تو اسے ایسی اشیاء استعمال کرنے کی وقتی طور پر اجازت ہے ، بشرطیکہ ” غیر باغ “ مضطرب شخص سرکشی کرنے والا نہ ہو ، باغ سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص جان بچانے کے لیے نہیں بلکہ لطف اندوز ہونے کے لیے حرام چیز استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں کوئی حرام چیز مباح نہیں ہوگی ، بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نافرمانی کے کام کے دوران کسی شخص پر اضطراری حالت وارد ہوجائے تو اس کے لیے حرام چیز مباح نہیں ہوگی ، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چوری یا ڈاکے کی نیت سے سفر کر رہا ہے تو اسے سفر میں روزہ افطار کرنے اور نماز میں قصر کی اجازت نہیں ہوگی کیونکہ وہ برے مقصد کے لیے جا رہا ہے ، البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایسا شخص گنہگار تو ضرور ہے مگر افطار اور قصر کا حق اسے بہرحال حاصل ہے ۔ فرمایا حرام کی اباحت کے لیے دوسری شرط یہ ہے ” ولا عاد “ کہ مضطرب شخص حد سے بڑھنے والا نہ ہو ، مثلا اگر پاؤبھر حرام کھا کر جان بچا سکتا ہے تو آدھ سیر کھانے کی کوشش نہ کرے زیادہ کھانے کی اجازت نہیں ہے ، البتہ اضطراری حالت میں اگر اس اباحت سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور اس کی جان چلی جاتی ہے تو وہ آدمی گنہگار ہوگا کہ اس نے اللہ کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور اگر ایسی حالت میں حرام کھالیا ہے تو اللہ نے اس کی اجازت دی (آیت) ” فان اللہ غفور رحیم “۔ وہ نہایت بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر کوئی مواخذہ نہیں کرے گا ۔ (حلت و حرمت کا قانون) آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے (آیت) ” ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلال وھذا حرام “۔ کسی چیز کو اپنی زبانوں سے حلال اور حرام قرار نہ دو حلت و حرمت تمہارے اختیار میں نہیں بلکہ ” الحلال ما احل اللہ والحرام ما حرم اللہ “ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ حرام قرار دیا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، اگر میں اللہ کی توحید اور آپ کی رسالت پر ایمان رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں تو کیا مجھے نجات حاصل ہوجائے گی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں ، بیشک تم جنتی ہو ۔ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یہ خدا تعالیٰ کی صفت مخصوصہ ہے اور اس میں کوئی شریک نہیں ، حلت و حرمت کا اختیار نہ کسی بادشاہ کو ہے ، نہ صدر کو اور نہ کسی پارلیمنٹ کو ، شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں تحلیل وتحریم ایک تکوین نافذ کا نام ہے یعنی خدا تعالیٰ کے ہر چیز کے مالک ہونے کی وجہ سے یہ ایک قطعی حکم ہے کہ یہ کام کرو گے تو مؤاخذہ ہوگا اور فلاں چیز ترک کرو گے تو ماخوذ ہو گے بعض اوقات اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حلت و حرمت کا کام تو نبی کی طرف بھی منسوب ہے (آیت) ” ویحل لھم الطیبت ویحرم علیھم الخبئث “۔ (الاعراف) کہ وہ پاک چیزیں حلال کرتا ہے اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے ، اس کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نبی اپنی طرف سے کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم نہیں لگاتا ، بلکہ نبی کا بیان کرنا اس بات کی قطعی دلیل ہوتا ہے کہ اللہ نے اس چیز کو حلال و حرام قرار دیا ہے ، اسی طرح مجتہد حضرات بھی بعض چیزوں پر حلت و حرمت کا حکم لگاتے ہیں ، یہ بھی ان کی اپنی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ وہ قرآن وسنت میں غور کرکے بیان کرتے ہیں کہ بات اس طرح سمجھ میں آرہی ہے کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام اور اس کی یہ دلیل ہے سو اللہ نے فرمایا کہ اپنی زبانوں سے یوں مت کہو کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے جب اللہ نے کسی چیز کو حرام نہیں کیا تو تم کیسے یہ حکم لگاتے ہو ، مشرکوں نے بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کئی قسم کے محرمات بنا رکھے تھے آج بھی مختلف علاقوں میں لوگ نذر ونیاز کی بعض چیزوں کو بعض مردوں یا بعض عورتوں کے لیے حرام ٹھہراتے ہیں حالانکہ اللہ نے تو ان کو حلال قرار دیا ہے ، جو شخص ایسا کرے گا وہ مشرک ٹھہرے گا ۔ فرمایا اپنی زبانوں سے حلال یا حرام قرار نہ دو (آیت) ” لتفتروا علی اللہ الکذب “۔ کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والی بات ہے ، فرمایا (آیت) ” ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے ، مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کو خود حلال یہ حرام ٹھہرانے کی بجائے شریعت کا حکم تلاش کرو کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے اور اللہ کے نبی نے نے کس طرح بیان فرمایا ہے پھر مجتہدین اور علمائے کرام کی تحقیق کیا ہے ، خود ساختہ حکم لگانے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” متاع قلیل “۔ یہ چند روزہ زندگی میں فائدہ اٹھانے والی بات ہے (آیت) ” ولھم عذاب الیم “۔ آگے ان کے لیے دردناک عذاب بھی موجود ہے مقصد یہ ہے کہ حلت و حرمت کے سلسلہ میں اللہ کی حدوں کو نہ توڑو ورنہ عذاب الیم کا شکار ہوجاؤ گے ۔ (وقتی محرمات) مزید فرمایا (آیت) ” وعلی الذین ھادوا حرمنا ما قصصنا علیک من قیل “۔ یہودیوں پر اللہ نے وہ چیزیں حرام قرار دیدیں جن کا ذکر ہم نے آپ کے ساتھ پہلے کیا ہے یہودیوں کے وقتی محرمات کا تذکرہ سورة مائدہ اور سورة انعام میں بھی موجود ہے کہ ان کی سرکشی کی وجہ سے اللہ نے ان کے لیے ناخن والے جانور اور چربی حرام قرار دے دی تھی ، سورة انعام میں (آیت) ” حرمنا کل ذی ظفر “۔ کے الفاظ ہیں کہ ہم نے ناخن والے جانور جن کا پنجہ پھٹا ہوا ہوتا ہے ، حرام قرار دے دیے ” وحرمنا علیھم شحومھما “۔ اور ان کی چربی بھی ان پر حرام کردی تھی اور یہ سب کچھ انکی سرکشی کی سزا کے طور پر کیا تھا ، البتہ ہڈیوں یا آنتوں کے ساتھ لگی ہوئی چربی حلال تھی ، گوشت میں سے چربی کا ذرہ ذرہ علیحدہ کرنا پڑتا تھا ، فرمایا یہ سخت حکم دے کر (آیت) ” وما ظلمنھم “۔ ہم نے ان پر کوئی زیادیت نہیں کی (آیت) ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “۔ بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر زیادتی کرنے والے تھے ، انہوں نے اللہ کی حدود کو توڑا تو اللہ نے ان کے لیے بعض چیزیں حرام قرار دے دیں ، حدیث شریف میں آتا ہے ” لا تشددوآانفسکم “ اپنے نفسوں پر تشدد نہ کیا کرو ، لوگ خود ہی بعض رسومات جاری کرلیتے ہیں اور پھر ان کی پابندی بھی خود ہی ضروری قرار دیتے ہیں اس طرح وہ کسی کام کے لیے اپنے آپ کو پابند کرلیتے ہیں ، پھر جب اس پر عمل پیرا نہیں ہوسکتے تو مشکل میں پڑجاتے ہیں ، فرمایا اگر ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ بھی تم پر سختی کریگا ، رسومات کی پابندی کرکے اپنے لیے مشکلات پیدا کروگے ، ۔ (رحمت الہی) فرمایا (آیت) ” ثم ان ربک للذین عملوا السوء بجھالۃ “۔ پھر بیشک تیرا پروردگار ان لوگوں کے لیے جنہوں نے نادانی کے ساتھ برائی کا ارتکاب کیا ، عقل و شعور پر پردہ پڑگیا اور کوئی غلط قدم اٹھا بیٹھے (آیت) ” ثم تابوا من بعد ذلک “۔ پھر اس کے بعد توبہ کرلی ، غلطی کا احساس ہوگیا ” واصلحوا “ اور اپنی اصلاح بھی کرلی یعنی اگر کسی کا حق تلف کیا تھا تو وہ ادا کردیا اور آئندہ کے لیے محتاط ہوگئے تو فرمایا (آیت) ” ان ربک من بعدھا لغفور رحیم “۔ بیشک تیرا پروردگار اس کے بعد بہت بخشش کرنے والا اور نہایت مہربان ہے اگر کوئی شخص سچے دل سے تائب ہوجاتا ہے اور اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی بخشش اور رحمت کے دروازے اس پر کھول دیتا ہے اس کی تمام سابقہ خطائیں معاف ہوجاتی ہیں ۔
Ayahs 16:120–123

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) تھے پیشوا اور اطاعت کرنے والے اللہ تعالیٰ کے لیے ، ایک طرف لگنے والے ، اور نہیں تھے وہ شرک کرنے والوں میں سے ۔

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

وہ اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والے تھے اللہ نے ان کو برگزیدہ بنایا اور ہدایت دی سیدھے راستے کی طرف ۔

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور دی ہم نے ان کو دنیا میں بھلائی اور بیشک وہ آخرت میں البتہ نیک لوگوں میں سے ہیں ۔

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے وحی کی طرف کہ آپ پیروی کریں ابراہیم کی ملت کی جو ایک طرف لگنے والے تھے ، اور نہیں تھے شرک کرنے والوں میں سے ۔

ربط آیات : اس سورة میں شرک کی مختلف قسمیں بیان ہوچکی ہیں ، منکرین کی طرف سے توحید و رسالت اور قیامت کے انکار کا ذکر بھی ہوچکا ہے ، مشرکین کی طرف سے حلال و حرام میں داخل اندازی کا تذکرہ بھی ہوگیا ہے ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے ان آیات کا ربط گذشتہ سے پیوستہ درس کے ساتھ ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ نے ایک خوشحال اور امن والی بستی کا ذکر فرمایا تھا جس کے باشندوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان پر بھوک اور خوف کو مسلط کردیا ، اس بستی سے مراد مکہ مکرمہ کی بستی ہے جس کی ابتدا ابراہیم (علیہ السلام) نے خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کرکے کردی تھی اور یہی چیز ان دونوں دروس میں قدر مشترک ہے ، آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل بیان فرماتے ہوئے واضح فرمایا ہے کہ آپ اللہ کے ایماندار بندے اور بیحد شکر گزار تھے نیز آپ شرک سے سخت متنفر تھے ، اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے دعوے کی سختی سے تردید فرمائی ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں ، فرمایا ملت ابراہیمی کے حقیقی وارث حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے پیروکار ہیں ، لہذا آپ کو بھی ملت ابراہیمی کے اتباع کا ہی حکم دیا گیا ہے ۔ (امامت ابراہیمی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان ابرھیم کان امۃ “۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا اور امام تھے قرآن پاک میں لفظ امت کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے امت کا عام فہم معنی جماعت ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” ولو شآء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ “۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت یا گروہ بنا دیتا ، یا جیسے فرمایا (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ (آل عمران “۔ تم ایک بہترین جماعت ہو جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو ، امت کا ایک اور معنی مدت بھی ہوتا ہے جیسے سورة یوسف میں جیل سے رہائی پانے والے بادشاہ کے مصاحب کے متعلق آتا ہے (آیت) ” وادکر بعد امۃ “ کہ اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس سے کوئی بات کی تھی امت کا معنی اطاعت اور ملت بھی آتا ہے تاہم اس آیت کریمہ میں امت کا لفظ امام اور پیشوا کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) لوگوں کے امام تھے ، سورة بقرۃ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے (آیت) ” انی جاعلک للناس امام “ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا کہ جس کا اتباع ضروری ہوگا ، ویسے امت کا لفظ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اس لحاظ سے بھی صادق آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں وہ تمام کمالات جمع فرما دیے تھے جو ایک پوری جماعت میں بحیثیت مجموعی ہو سکتے ہیں ، وہ مالک ہے چاہے تو ایک شخص میں جہان بھر کی خوبیاں جمع کر دے جیسا کہ مقولہ ہے ” ’ لیس علی اللہ بمستنکران تجمع العالم فی واحد “۔ تاہم اس مقام پر مقتداء پیشوا اور معلم مراد ہے ۔ امام ابن کثیر (رح) نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول نقل کیا ہے ” ان معاذا کانت امۃ قانتا للہ “۔ یعنی حضرت معاذ ؓ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ایک مکمل امت تھے کسی شخص نے آپ کے حق میں لفظ امت کے استعمال پر اعتراض کیا تو ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ امت کا ایک معنی معلم الخیر بھی ہوتا ہے ، حضرت معاذ بڑے پائے کے نیکی کی بات بتلانے والے معلم تھے ، اس لیے ان کے حق میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے آپ کی ذات وہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے قرآن سیکھنا ہو وہ ان چار آدمیوں سے سیکھے یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ ، معاذ بن جبل ؓ ، ابی بن کعب ؓ ، اور سالم ؓ تو گویا آپ معلم الخیر تھے اور ظاہر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے بڑھ کر نیکی کی بات بتلانے والا کون ہوگا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) ایک امت یعنی امام ، پیشوا ، مقتدا اور معلم الخیر تھے ۔ (اطاعت اور حنیفیت) فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا تھے (آیت) ” قانتا للہ “ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے بھی تھے ، قنوت کا معنی اطاعت اور خشوع و خضوع بھی ہوتا ہے ، جیسے سورة الزمر میں ہے (آیت) ” امن ھو قانت انآء الیل سجدا وقائما “۔ بھلا جو شخص رات کی گھڑیوں میں سجدے اور قیام کے ذریعے اطاعت کا حق ادا کرتا ہے کیا وہ ناشکر گزاروں اور نافرمانوں کی طرح ہو سکتا ہے ؟ مطلب یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے مکمل اطاعت گزار تھے اور ساتھ ساتھ حنیفا حنیف بھی تھے ، یعنی ہر طرف سے کٹ کر ، ہر باطل دین سے ہٹ کر صرف اور صرف خدا کے سچے دین کی طرف لگنے والے تھے ، لغوی طور پر حنف کا معنی چلتے وقت پاؤں کا اندر کی طرف مائل ہونا ہے اور حنیف اس اونٹ کو کہتے ہیں جو پاؤں جھکا کر چلتا ہو یعنی ایک طرف کو مائل ہو تو ابراہیم (علیہ السلام) اس لحاظ سے حنیف ہیں کہ وہ ہر طرف سے ہٹ کر صرف ایک طرف لگنے والے تھے ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی کتاب الفوز الکبیر میں مزید وضاحت فرمائی ہے فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے والا ہو ، نماز پڑھتے وقت اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کرتا ہو ، بیت اللہ شریف کا حج کرتا ہو ، ختنہ کرتا ہو اور غسل جنابت کرتا ہو ، وہ حنیف ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) میں یہ ساری خوبیاں موجود تھیں ، آپ پکے موحد تھے خود خانہ کعبہ تعمیر کیا ، خود اس کا حج کیا ، اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ، ختنہ کیا اور غسل جنابت تو آپ کے بعد عربوں میں زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھا جو کہ ملت ابراہیمی کا ایک جزو ہے تو اس لحاظ سے ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے ، پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام مومنوں کو بھی حنیفیت کا درس دیا ہے جیسا کہ سورة الحج میں ہے (آیت) ” حنفآء للہ غیر مشرکین بہ “ تم سب کے سب حنیف یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بن جاؤ ، اور مشرک نہ بنو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشرک نہ ہونے کے متعلق اللہ نے قرآن میں بار بار ذکر کیا ہے (آیت) ” وما کان من المشرکین “۔ (الانعام ، النحل) آپ مشرکوں میں سے نہیں تھے ۔ (ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت) ابراہیم (علیہ السلام) تو اس قدر خدا پرست تھے ، لہذا مشرکوں کو شرم آنی چاہیے جو تمام ترشرک کے باوجود اپنی نسبت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں کہ ہم ان کے دین پر ہیں ، ان کا حال تو یہ ہے کہ حلال و حرام خود اپنی طرف سے ٹھہرا لیتے ہیں ، خدا تعالیٰ کی صفات ، عبادت اور نذر ونیاز میں اس کا شریک ٹھہراتے ہیں ، غیر اللہ کو مافوق الاسباب پکارتے ہیں ، شرکیہ رسوم ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ابراہیمی کہ لانا چاہتے ہیں کتنے افسوس کی بات ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو حنیف تھے ، ہر طرف سے کٹ کر صرف خدا تعالیٰ کی طرف لگے ہوئے تھے (آیت) ” ولم یک من المشرکین “۔ اور مشرکوں میں سے قطعا نہیں تھے بلکہ کفر ار شرک سے سخت بیزار تھے آپ نے کفر اور شرک کی تردید میں بڑے دلائل پیش کیے ہیں اور توحید پرستی کے عملی دلائل بہم پہنچائے ہیں ، قیام عراق کے دوران بادشاہ اور تمام لوگ آپ کے مخالف تھے حتی کہ سگا باپ اور پورا قبیلہ بھی آپ کے خلاف تھے ، بابل جیسے وسیع و عریض شہر میں آپ کا ایک بھی حامی نہیں تھا ، آپ تن تنہا کفر اور شرک کا مقابلہ کرتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے مگر مشرک لوگ اپنی نسبت ان کی طرف کرکے حقائق کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ (شکر نعمت) فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے (آیت) ” شاکرا لانعمہ “۔ آپ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے والے تھے ، ادھر مشرکین کا حال گیارہویں رکوع میں گذر چکا ہے (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا “۔ کہ وہ اللہ کی نعمتوں کو پہچانتے تھے مگر ان کا انکار اور ناقدری کرتے تھے جیسا کہ گذشتہ رکوع میں بیان ہوچکا ہے ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام یہ تھا (آیت) ” ولقد جآء ھم رسول منھم “۔ کہ ان کے پاس انہی میں سے اللہ کا عظیم الشان رسول آیا ” فکذبوہ “ مگر ان بدبختوں نے اسے بھی جھٹلا دیا ، ایمان نہ لائے اور اس طرح اللہ کی ایک عظیم نعمت کی ناقدردانی کی کفران نعمت کے متعلق سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے (آیت) ” الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنہوں نے اللہ کی نعمت کی سخت ناقدری کی ، یہ نعمت اللہ کا رسول ہی تھا جسے جھٹلا دیا گیا ، ان کے برخلاف ابراہیم (علیہ السلام) تو انعامات الہیہ کے حد درجہ قدر دان تھے اور اس کا شکر ادا کرنے والے تھے ، امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ابراہیم اللہ کی طرف سے عطا کردہ روزی کے اس قدر قدر دان اور شکر گزار تھے کہ مہمان کے بغیر کا کھانا نہیں کھاتے تھے کہ کہیں اللہ کی نعمت کی ناقدری نہ ہوجائے ، مہمان نوازی کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ مسافر کے انتظار میں رہتے حتی کہ جب فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر آئے اور آپ کے پاس انسان شکل میں حاضر ہوئے (آیت) ” فما لبث ان جآء بعجل حنیذ “ (ھود) تو آپ فورا بچھڑا تل کرلے آئے تاکہ مہمانوں کی خدمت کرسکیں ۔ قرآن پاک نے آپ کی یہ صفت بھی بیان کی ہے (آیت) ” وابراھیم الذی وفی “۔ (النجم) ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنا عہد پورا فرمایا جب ابتلاء کا وقت آیا ، آپ کو آگ میں پھینک دینے کی تیاری ہوگئی تو آپ کو ذرا بھی تردد یا وہم نہیں ہوا بلکہ خداوندی پر راضی رہے ، سورة الصفت میں ہے (آیت) ” اذ جآء ربہ بقلب سلیم “۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس قلب سلیم لے کر حاضر ہوئے آپ ابو الانبیاء اور امام الانبیاء ہیں ، آپ حنیفیت کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے امام ہیں ، فرمایا ” اجتبہ “ اللہ تعالیٰ نے آپ کو برگزیدہ بنایا (آیت) ” وھدہ الی صراط مستیقم “۔ اور آپ کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی ، یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں جو اس نے ابراہیم (علیہ السلام) پر کیے اور پھر آپ نے بھی ان احسانات کا پورا پورا شکریہ ادا کیا ، اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا اور ایک لحظہ بھر کے لیے بھی اس کی یاد سے غافل نہیں ہوئے ، (دنیا کی بھلائی) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” واتینہ فی الدنیا حسنۃ “۔ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دنیا میں بھلائی عطا فرمائی ، روزی میں فراخی عطا کی ۔ صاحب وجاہت اور کمال درجے کی اولاد دی ، تمام حق پرست آپ کی عزت کرتے تھے ، اللہ نے آپ کو نیکی اور شہرت عطا فرمائی ، آپ کی اولاد میں سلسلہ نبوت قائم کیا ، چناچہ قیامت تک کے لیے آپ کے حق میں دعائیں ہونے لگیں ، ہم آخری امت کے لوگ بھی جب نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفے ﷺ کی ذات اقدس پر درود پڑھتے ہیں ” اللھم صل علی محمد وعلی ال محمد “۔ تو ساتھ یہ بھی کہتے ہیں ” کما صلیت علی ابرھیم وعلی ال ابرھیم “۔ اے مولا کریم تو حضور ﷺ اور آپ کی آل پر اپنی رحمتوں کا نزول فرما جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی آل کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا یہود ونصاری ، غلط کار ہونے کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا احترام کرتے ہیں ، یہی دنیا کی بھلائی ہے ، پھر واضح کیا کہ دنیا میں بھلائی حاصل ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ آخرت سے محروم رہ جائیں گے بلکہ (آیت) ” وانہ فی الاخرۃ لمن الصلحین “۔ آپ آخرت میں بھی نیکو کار لوگوں میں شامل ہوں گے ، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ کو مقتداء اور پیشوا بنایا ، دین قیم اور صراط مستقیم پر چلایا اور سب لوگوں کو اسی راستے پر چلنے کا حکم دیا تو آخرت میں بھی آپ اگلی صفوں میں نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل کا بیان بھی ہوگیا ۔ (ملت ابراہیمی کا اتباع) پھر فرمایا (آیت) ” ثم اوحینا الیک “۔ پھر ہم نے آپ کی طرف وحی نازل فرمائی یعنی حضور خاتم النبیین ﷺ کو خطاب فرمایا (آیت) ” ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا “۔ کہ آپ ملت ابراہیمی کی پیروی اختیار کریں ، آپ کی ملت وہی دین حق اور دین اسلام ہے جو ابتداء سے چلا آرہا ہے ، دین تمام نبیوں کا ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ، ملت بھی تقریبا سب کی ایک ہی ہے ، دین اور ملت سے مراد موٹے موٹے اصول ہیں جو ہمیشہ یکساں رہے ہیں البتہ مختلف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شرائع میں مکان وزمان کی مناسبت سے بعض تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ، یہ چھوٹے چھوٹے مسائل اور جزئیات ہوتی ہیں جو مصلحت کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں ، البتہ ملت اور دین تبدیل نہیں ہوتا ، اسی لیے فرمایا کہ آپ بھی ملت ابراہیمی کا اتباع کریں ، وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو حنیف یعنی ہر طرف سے کٹ کر اور ہر دین سے بیزار ہو کر صرف ایک اللہ کی طرف اور اس کے دین کی طرف رجوع کرنے والے تھے (آیت) ” وما کان من المشرکین “۔ اور آپ مشرکوں میں سے نہیں تھے ، اللہ نے شرک کی دوبارہ تاکیدا تردید کردی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق سرمو بھی احتمال نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے کبھی کسی قسم کے شرک کی حمایت کی ہو ، وہ تو پکے مؤحد تھے لہذا مشرکوں کو آپ کا نام لیتے ہوئے اور آپ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہوئے کچھ تو شرم آنی چاہئے ۔
Ayahs 16:124–125

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

بیشک مقرر کی گئی ہفتے کے دن کی تعظیم ان لوگوں پر جنہوں نے اس میں اختلاف کیا اور بیشک تیرا پروردگار البتہ فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے ۔

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

آپ دعوت دیں اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور جھگڑا کریں ان سے اس بات کے ساتھ جو بہتر ہے ، بیشک تیرا پروردگار بہتر جانتا ہے اس کو جو اس کے راستے سے بہک گیا اور وہ بہتر جانتا ہے ہدایت والوں کو ۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فضائل و کمالات بیان فرمائے ، ان کی ملت کا ذکر کیا اور ان کی پیروی کا حکم دیا خود حضور ﷺ بھی ملت ابراہیمی کو پیروی کا حکم دیتے تھے ، مشرکین عرب اگرچہ نسلی طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے مگر وہ آپ کا طریقہ چھوڑ چکے تھے ، ابراہیم (علیہ السلام) تو حنیف اور مؤحد تھے اور شرک سے قطعی طور پر بیزار تھے ، مگر عرب کے لوگ شرک میں ملوث ہوچکے تھے ، ان کی اکثریت کفریہ اور شرکیہ رسوم ہی میں پھنس کر رہ گئی تھی اور اصل دین بھول چکی تھی عرب میں کوئی جگہ بت پرستی سے خالی نہ تھی حتی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا تعمیر کردہ خانہ کعبہ بھی بت پرستی کا گڑھ بن چکا تھا ، اللہ نے فرمایا کہ ان شرکیہ اور کفریہ افعال کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرنا کتنی زیادتی اور مشرکوں کے لیے باعث شرم ہے ۔ (ہفتے کے دن کی تعظیم) بعض اہل کتاب اعتراض کرتے تھے کہ اگر حضور ﷺ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر ہیں تو پھر ہفتے کے دن کی تعظیم اور اس دن خاص عبادت کیوں نہیں کرتے ، اللہ نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا (آیت) ” انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ “۔ بیشک ہفتے کے دن کی خصوصیت (تعظیم اور خاص عبادت) ان لوگوں کے لیے مقرر کی گئی تھی جنہوں نے اس دن کے بارے میں اختلاف کیا تھا ، ہفتے کے دن کی خصوصیت کا ذکر سورة بقرۃ اور سورة مائدہ میں بھی موجود ہے مگر اس دن کو یہ حیثیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں حاصل نہیں ہوئی تھی ، بلکہ اس کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور بعد والے انبیاء کے زمانہ میں نافذ ہوا تھا کیونکہ اسی دور میں لوگوں نے اس خاص دن کے متعلق اختلاف کیا تھا ، اس اختلاف کی حقیقت کا تذکرہ حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ میں ملتا ہے ، تفسیری روایات میں بھی آتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے لیے جمعہ کا خصوصی دن مقرر فرمایا ہے ، لہذا اس دن کاروبار ترک کرکے محض اللہ کی عبادت کیا کرو ، مگر یہودیوں نے اس دن کی فضیلت کو تسلیم کرنے میں اختلاف کیا ، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس دن کو خاص دن تسلیم کریں گے تعطیل منائیں گے اور کاروبار چھوڑ کر صرف اللہ کی عبادت کریں گے جس دن اللہ تعالیٰ کائنات کو پیدا کرنے کے بعد فارغ ہوا تھا ، اور وہ ہفتے کا دن بنتا ہے ، اس کی تفصیل تورات میں موجود ہے اور قرآن میں بھی اشارۃ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو چھ دن میں مکمل کیا اور پھر آدم (علیہ السلام) کی تخلیق جمعہ کے دن آخری وقت میں ہوئی ، کائنات کی تخلیق کا سلسلہ تو چھ دن میں مکمل ہوگیا ، اور ہفتہ کا دن خالی تو انہوں نے اس دن کو اختیار کرلیا ، گویا انہوں نے جمعہ کے دن میں اختلاف کیا ، اسی طرح نصاری پر بھی جمعہ کا دن پیش کیا گیا کہ اس دن اللہ کی خاص عبادت کیا کریں مگر انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہ کی اور کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہود کی عید ہمارے بعد ہو ، لہذا انہوں نے یہودیوں کے ہفتہ سے بعد والا دن اتوار اختیار کرلیا کہ ہم اس دن چھٹی کرکے اللہ تعالیٰ کی خصوصی عبادت کیا کریں گے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی سعادت ہمارے حصے میں رکھی تھی جب کہ یہود ونصاری اس سے محروم رہے ، آپ کا ارشاد مبارک ہے ” نحن الاخرون والاولون یوم القیمۃ بعد ان اوتوالکتب من قبلنا “۔ ہم سب سے آخر میں آنے والے ہیں مگر قیامت والے دن سب سے اول ہوں گے ، یہود ہم سے ایک دن بعد اور نصاری ان کے ایک دن بعد یعنی علی الترتیب ہفتہ اور اتوار کو پیش ہوں گے ، اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن کو تمام ایام پر فضیلت بخشی ہے اور اسے سیدالایام کا خطاب دیا ہے کہ یہ ان تمام دنوں کا سردار ہے ۔ صاحب تفسیر حسینی لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو دیکھا جو ہفتے کے دن سامان اٹھائے کاروبار کے لیے جا رہا تھا آپ نے اسے روک لیا اور حکم دیا کہ اس کی گردن اتار دو کیونکہ اس نے ہفتہ کے دن کی تعظیم نہ کرکے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ہے چناچہ اس شخص کو قتل کردیا گیا اور اس کی لاش کھلے عام پھینک دی گئی جیسے چالیس دن تک درندے اور پرندے نوچ نوچ کر کھاتے رہے اس دن کی تعظیم کا اتنا سخت حکم تھا پھر داؤد (علیہ السلام) کے زمانے میں لوگوں نے اس دن کی تحقیر کی ان کو ہفتے کے دن شکار سے منع کیا گیا تھا مگر وہ اس دن براہ راست تو مچھلی کا شکار نہیں کرتے تھے ، البتہ انہیں حوض میں بند کردیتے اور اتوار کو علی الصبح پکڑ لیتے تھے ، اس طرح وہ حیلہ سازی سے اللہ کے حکم کی نافرمانی اور ہفتہ کے دن کی ناقدری کرتے تھے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کا قہر نازل ہوا ، اور ان لوگوں کی شکلیں بندروں اور خنزیروں میں تبدیل ہوگئیں اور پھر صفحہ ہستی سے بالکل ہی ناپید کردیے گئے ، اللہ نے اتنی سخت سزا دی ۔ (جمعہ کے دن آسانی) اللہ تعالیٰ نے امت آخر الزمان کے لیے جمعہ کا دن مقرر فرمایا ہے مگر زیادہ سختی نہیں کی بلکہ اہل ایمان کے لیے آسانی پیدا فرمائی ہے ، اس دن کے متعلق سورة جمعہ میں موجود ہے ۔ اے ایمان والو ! (آیت) ” اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروالبیع “۔ جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو فوری طور پر نماز کے لیے حاضر ہوجاؤ اور کاروبار ترک کر دو ، اس حکم میں دو چیزیں ہیں ایک ذکر الہی یعنی خطبہ سننا اور دوسرا نماز پڑھنا ، فرمایا (آیت) ” فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ “۔ پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو زمین میں پھیل کر روزی تلاش کرو ، سارا دن تعطیل منانے کی ضرورت نہیں بلکہ نماز کے بعد اپنے کاروبار ، کھیتی باڑی ، تجارت ، ملازمت ، مزدوری ، جہاں بھی تم کام کرتے ہو جاسکتے ہو ، صرف نماز جمعہ کا حکم موکد ہے اگر کوئی شخص بلاعذر تین جمعے مسلسل ترک کر دے تو وہ منافقوں میں شمار ہوگا ، دل پر مہر لگ جائے گی ، بہرحال اللہ نے ہمارے لیے بڑی آسانی فرما دی ہے کہ سید الایام بھی عطا فرمایا اور زیادہ سختی بھی نہیں فرمائی ہفتے کے دن کی سختی ان لوگوں پر تھی جنہوں نے جمعہ کا دن تو قبول نہ کیا اور اس کی بجائے ہفتہ کو پسند کیا اور پھر اس پر پورے نہ اترے فرمایا (آیت) ” وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون “۔ بیشک تیرا پروردگار قیامت والے دن ان کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کریگا جن میں یہ اختلاف کرتے تھے ان کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ کی آخری عدالت میں ہی ہوگا ، (فریضہ تبلیغ (1) حکمت) ابراہیم (علیہ السلام) کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کی بات کی ہے اور تبلیغ کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ادع الی سبیل ربک “۔ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین طریقے تجویز کیے ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے تاہم ہر نبی دعوت الی اللہ کا داعی ہوتا ہے کہ یہ امر اس کے فرائض منصبی میں داخل ہے خود حضور خاتم النبیین کے متعلق قرآن پاک نے فرمایا کہ آپ ” داعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا “۔ (الاحزاب) ہیں ، آپ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والے اور روشن چراغ ہیں ، اللہ نے عام اہل ایمان کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” ومن احسن قولاممن دعا الی اللہ “۔ (حم سجدہ) اس شخص سے اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کے راستے کی دعوت دیتا ہے خود بھی ایمان رکھتا ہے اور عامل بالاحکام بھی ہے ۔ مومن ، عامل اور داعی ہونا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا طریق کار ہے ، بہرحال اللہ نے دعوت کے تین طریقے بیان فرمائے ہیں جن میں سے پہلا طریقہ فرمایا ” بالحکمۃ “ حکمت اور دانائی کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیں امام مالک (رح) نے سنت کو حکمت سے تعبیر کیا ہے گویا حضور ﷺ کی تمام صحیح ، یقینی اور قطعی باتیں حکمت میں داخل ہیں ، ان کے ذریعے شکوک و شبہات دور ہوتے ہیں اور دل میں یقین پیدا ہوتا ہے ، سورة البقرہ میں ہے (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ جس کو حکمت دے دی گئی ، سمجھ عطا کردی گئی ، اسے گویا کہ بہت بڑی بھلائی مل گئی ، جب حکیم اور دانا لوگوں کے سامنے حقائق بیان کیے جائیں تو وہ فورا سمجھ جاتے ہیں اور یقین کرلیتے ہیں اسی لیے حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا ” اللھم ارنا الحقآئق کما ھی “۔ اے اللہ ! ہمیں چیزوں کی حقیقت سمجھا دے ، جیسا کہ وہ واقع میں ہیں ، یہ پہلے درجے کے لوگ ہوتے ہیں جو حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت اور استعداد رکھتے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگوں کے سامنے کوئی چیز پیش کی جائے تو فورا سمجھ جاتے ہیں ، پھر دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو پہلے درجے کی عقل وفہم نہیں رکھتے ، بات سمجھانے کے لیے ان کے سامنے کوئی مثال ، اچھا کلام یا کوئی اچھا شعر پیش کیا جائے جس سے ان کی طبیعت متاثر ہو تو پھر وہ بات کو سمجھتے ہیں ۔ (2) (موعظت حسنہ) (آیت) ” والموعظۃ الحسنۃ “۔ اور اچھی نصیحت کے ساتھ ، ایسے لوگوں کے لیے موعظت حسنہ کا طریقہ کارآمد ہوتا ہے ” ان من البیان لسحرا “۔ اچھا بیان جادو اثر ہوتا ہے ، اچھے اشعار بھی بعض اوقات بڑے موثر ثابت ہوتے ہیں ہمارے دور کے لوگوں میں مولانا ابو الکلام (رح) کو اپنی تحریر وتقریر پر کمال حاصل تھا ، آپ کوئی چیز پیش کرنے کے بعد اس کے مناسب حال شعر نقل کرتے ہیں تو ساری بات ذہن میں اتر جاتی ہے ، مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاری (رح) کو بھی اللہ نے کمال ملکہ عطا فرمایا تھا ، آپ اپنے مواعظ وتقاریر میں ایسے برمحل اشعار پیش کرتے تھے کہ ایک ان پڑھ آدمی بھی لطف اندوز ہوئے بغیر نہ رہتا تھا گویا عمدہ الفاظ اور اعلی بیان کے ذریعے کسی چیز کو پیش کرنا موعظت حسنہ یا اچھی نصیحت کہلاتا ہے ، ایسا وعظ ونصیحت جس میں طعن وتشنیع اور گالی گلوچ نہ ہو ، ضرور اثر کرتا ہے ” الفتح الربانی “ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کے ہفتہ وار مواعظ ہیں جن میں اللہ نے کمال درجے کا اثر رکھا ہے ، عربی زبان میں یہ نصائح دل میں اترتے چلے جاتے ہیں لوگ ذوق وشوق کے ساتھ سنتے ہیں ۔ خود قرآن پاک کا ایک نام موعظۃ بھی ہے کہ اسے پڑھ کر لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ، اس سے عقیدے اور اخلاق کی اصلاح ہوتی ہے عمدہ طریقے سے نصیحت کی مثال خود قرآن نے بھی بیان کی ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا تو ساتھ فرمایا (آیت) ” فقولا لہ قولا لینا “۔ (طہ) اس سے نرم لہجہ میں بات کرنا تاکہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے ، غرضیکہ نصیحت کرتے وقت ہمیشہ نرم بات کرنی چاہئے تاکہ مخاطب کے لیے موثر ثابت ہو ، حضور ﷺ ایک موقع پر خطہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور دوران خطبہ ہی کہنے لگا کہ حضرت ! آپ مجھے وہ بات سکھائین جس سے میں ناواقف ہوں اور اللہ نے آپ کو اس سے واقف کیا ہے ، آپ نے لوہے کی منگوائی اس پر تشریف فرما ہوئے ، اس شخص کو بات سمجھائی اور اس کے بعد اپنا پہلا خطبہ جاری رکھا ، اسی طرح ایک دیہاتی حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا ” انی سآئلک فصدق علینا “ حضرت ! میں ایک سائل ہوں ، دیہاتی آدمی ہوں ، آدب وآداب کی پاسداری نہیں ۔ لہذا سختی سے سوال کروں گا ، آپ ناراض نہ ہونا بلکہ میرے سوالوں کا جواب دینا ، آپ نے فرمایا پوچھ کیا پوچھتا ہے ، اس نے سوالات کیے اور آپ نے نہایت نرمی سے جواب دیے ایک اور موقع پر آپ ﷺ اونٹنی پر سوار جا رہے ہیں کہ ایک شخص آگے بڑھ کر اونٹنی کی مہار پکڑ لیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ آگے پھرجائیں ، پہلے میری راہنمائی کردیں ، اس شخص نے سوال کیا حضور ﷺ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو جمع کر کے فرمایا کہ یہ شخص سوال پیش کررہا ہے تم بھی سنو ، پھر اس شخص نے اپنا سوال دہرایا اور آپ نے اس کا جواب دیا ، سائل کی تسلی ہوگئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو بھی اطمینان حاصل ہوا آپ نے اس شخص سے فرمایا ” خل “ یعنی اب مہار چھوڑ دے اور ہمیں جانے دے چناچہ آپ آگے تشریف لے گئے ۔ ایک دفعہ حضور ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے ہمراہ نماز ادا کر رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور نماز کے دوران ہی گفتگو شروع کردی ، لوگوں نے خاموش رہنے کا اشارہ بھی کیا مگر وہ شخص غصے میں بولتا رہا ، پھر جب نماز ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے اسے قریب بٹھا کر سمجھایا کہ نماز اللہ کے ذکر اور اس کی تسبیح وتہلیل کے لیے ادا کی جاتی ہے ، اس میں قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے ، اس لیے نماز کے دوران کلام نہیں کرنا چاہئے ، آپ نے اچھے طریقے سے اس کی اصلاح فرما دی تو وہ شخص کہنے لگا ، خدا کی قسم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آج تک ایسا شفیق معلم نہیں دیکھا ، آپ نے نہ تو مجھے ڈانٹ ڈپٹ کی ، نہ مارا پیٹا اور نہ ہی کسی قسم کی زجر وملامت کی بلکہ نہایت اچھے طریقے سے بات سمجھا دی ، غرضیکہ تبلیغ کا دوسرا طریقہ اچھی نصیحت ہے جو عمدہ پیرائے میں کی گئی ہو اور جو مخاطب کے دل و دماغ پر اثر کرے ، فرمایا دوسرے درجے کے لوگوں کو اچھے طریقے سے نصیحت کریں ۔ (3) (مباحث بطریق احسن) فرمایا تبلیغ دین کا تیسرا طریقہ یہ ہے (آیت) ” وجادلھم بالتی ھی احسن “۔ اور اگر مخاطب سے بحث مباحثہ کی ضرورت پیش آجائے سوال و جواب کا موقع ہو ، اعتراض کا جواب دینا مطلوب ہو تو سختی اور تندخوئی کی بجائے نرمی اور حکمت عملی سے ہر سوال کا جواب دیں گالی گلوچ کی نبوت نہیں آنی چاہئے کسی کے ساتھ جھگڑنے کی ضرورت نہیں ، اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے ہر اعتراض کو خندہ پیشائی سے سنیں اور اس کا اچھے طریقے سے جواب دیں ، اگر اچھے طریقے سے معاملہ کو سلجھائیں گے تو اس کا مثبت اثر ہوگا ، برخلاف اس کے ہمارے ہاں ہر فرقہ کے پیروکار دوسرے فرقہ والوں کو مغلوب کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں اور پھر اس سلسلہ میں اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے گالی گلوچ اور طعن وتشنیع تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو کہ کسی طرح بھی احسن طریقہ نہیں ، اس سے نہ تو مقرر کو کچھ حاصل ہوتا ہے اور نہ لوگوں کے پلے کچھ پڑتا ہے یہ طریقہ تبلیغ ہرگز اسلامی طریقہ نہیں ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے اہل کتاب بڑے جھگڑالو قسم کے لوگ ہیں مگر ان کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولا تجادلوا اھل الکتب الا بالتی ھی احسن “۔ (العنکبوت) ان کے ساتھ بھی بحث ومناظرہ کی ضرورت پیش آئے تو اچھے طریقے سے مجادلہ کریں تقریر وتحریر میں دوسرے کے خلاف گندی زبان وقلم کا استعمال قطعا پسندیدہ امر نہیں ، اللہ کے نزدیک دوسرے کی تذلیل کرنا بہت بری بات ہے لہذا مباحث میں شریت کی حدود سے تجاوز نہ کرو ، ایسا کرو ایسا کرو گے تو فائدے کی بجائے نقصان ہی ہوگا ۔ تین قسم کے لوگوں کے لیے اللہ نے تین طریقے بتلا دیے ہیں کہ ان اصولوں کی روشنی میں فریضہ تبلیغ ادا کرو ، تمام انبیاء نے یہی طریقہ اختیار کیے ، مخالفین نے انبیاء کے حق میں سخت ترین الفاظ استعمال کیے ، جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچائی مگر انہوں نے ہمیشہ اعلی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے نرم گفتاری کو اپنا شعار بنایا ، نوح (علیہ السلام) کی قوم آپ کے خلاف سخت ترین الفاظ استعمال کرتی تھی ، کہتے تھے تیری بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی ، قوم نے کہا ہم تمہیں کھلی گمراہی میں مبتلا پاتے ہیں مگر اللہ کے سچے نبی نے جواب میں صرف اتنا فرمایا (آیت) ” یقوم لیس بی ضللۃ “۔ اے میری قوم ! میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ تمام جہانوں کے پروردگار کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور تمہیں ان کا حکم سنا رہا ہوں ، سورة سبا میں حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں کہ میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں (آیت) ” ان تقوموا للہ مثنی وفرادی ثم تتفکروا “۔ کہ تم خدا کے لیے دو دو ہو کر یا فردا فردا کھڑے ہو کر غور کرو تو اسی نتیجے پر پہنچو گے ” مابصاحبکم من جنۃ “ کہ تمہارے صاحب یعنی محمد ﷺ میں دیوانگی والی کوئی بات نہیں ہے ، تو علم و حکمت کے دریا بہا رہا ہے ، اس کے ایک ایک کلمے میں ہزاروں حکمتیں پوشیدہ ہیں ، غرضیکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام نے تبلیغ دین کے لیے ہمیشہ نرم خوئی کو اختیار کیا اور یہی طریقہ اللہ نے عام لوگوں کو بھی سکھلایا ہے ، ہمارے دور کے مولاناشاہ اشرف علی تھانوی (رح) اس طریقہ تبلیغ کے مجسم نمونہ تھے ، ان کے مواعظ حسنہ سے کمال حکمت اور ایمان کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں ، جب کوئی آپ کو کسی دوسرے فرقے کے ساتھ مناظرے کی دعوت دیتا تو آپ انکار کردیتے تھے ، فرماتے تھے کہ اگر مخالف نے کوئی صحیح بات کہہ دی تو میں فورا مان جاؤں گا اور تم کہو گے کہ میں تمہاری تحقیر کر ادی ہے لہذا میں مناظرہ بازی کے چکر میں نہیں پڑونگا ، ہمارے مدارس میں علم مناظرہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ حق بات کو دلائل کے ساتھ واضح کردیا جائے اگر کوئی مخالف فریق حق بات کہتا ہے تو اس کو تسلیم کرنے میں تامل نہ کرو اور جو غلط بات کہتا ہے اس کا احسن طریقے سے جواب دو مگر اب حالت یہ ہوچکی ہے کہ کوئی کسی کی حق بات بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا ، مخالفت برائے مخالفت کا بھوت سر پر سوار ہے اور یہی چیز اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے آج ہم اسلام کا نام لے کر اسی کے اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک بھی نہیں ہے ۔ فرمایا کسی کے ساتھ مناظرہ ، مباحثہ یا جھگڑا کرو تو بہتر طریقے سے (آیت) ” ان ربک ھو اعلم بمن ضل عن سبیلہ “۔ بیشک تیرا پروردگار اس شخص کو جانتا ہے جو راستے سے بہکا ہوا ہے (آیت) ” وھو اعلم بالمھتدین “۔ اور وہ ہدایت والوں کو بھی خوب جانتا ہے ، ہدایت اور گمراہی ، اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے سب لوگوں کے درمیان فیصلہ بھی اسی نے کرنا ہے لہذا تم کبھی غلط راستہ اختیار نہ کرو۔