16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:75–76

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے مثال بیان کی ہے ، ایک غلام کی جو مملوک ہے اور نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور وہ شخص جسے ہم نے روزی دی ہے اپنی طرف سے اچھی روزی پس وہ خرچ کرتا ہے اس میں سے پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ، بلکہ اکثر ان میں سے ایسے ہیں جو نہیں جانتے ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور اللہ نے بیان کی مثال دو شخصوں کی ایک ان میں سے گونگا ہے جو نہیں قدرت رکھتا کسی چیز پر اور وہ بوجھ ہے اپنے آقا پر ، جدھر بھی ، وہ اس کو متوجہ کرتا ہے ، وہ نہیں لاتا بہتری کی بات ، کیا برابر ہے وہ اور وہ شخص جو حکم دیتا ہے عدل کا او وہ سیدھے راستے پر ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں شرک اور مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا ، اللہ تعالیٰ نے غلط مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کرکے مخلوق کی صفات اللہ میں ثابت کرنا نہایت ہی بری بات ہے ، اللہ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی کہ عام آدمی کی اس تک رسائی نہیں ہے اور اسے کسی وسیلہ کی ضرورت ہے بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تعلق براہ راست اس کے بندے سے ہے اللہ نے اپنے لیے اس قسم کی مثالیں بیان کرنے سے منع فرما دیا ، اب آج کی آیات بھی شرک کی تردی میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے خود دو مثالیں بیان کرکے اپنی وحدانیت کا مسئلہ واضح فرمایا ہے ، پہلی مثال ایک آزاد اور ایک غلام شخص کی ہے ، جب کہ دوسری مثال دو ایسے شخصوں کی ہے کہ ان میں سے ایک بہرہ ہے جو بالکل نکما ہے جب کہ دوسرا آدمی عدل و انصاف کا دلدادہ ہے اور صراط مستقیم پر ہے ، ان دو مثالوں کو اللہ نے مشرک اور موحد کے تقابل میں بیان کرکے توحید کا مسئلہ سمجھایا ہے ۔ (غلام اور آزاد کی مثال) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ضرب اللہ مثلا لا عبدامملوکا “۔ اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک غلام کی جو کسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے گذشتہ درس میں مشرکین کی غلط مثالوں کا ذکر ہوا تھا ، اب اللہ نے خود اعلی درجے کی مثال بیان کی ہے کہ ایک غلام اور آزاد شخص کی مثال مشرک اور مؤحد کی ہے ، ضرب کے مختلف معانی آتے ہیں ، یعنی مارنا سفر کرنا اور بیان کرنا ، تو یہاں پر یہ لفظ بیان کرنے کے معانی میں آیا ہے ، عبد کا لفظ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام فرشتوں اور اچھے لوگوں پر بھی بولا جاتا ہے بلکہ سورة بنی سرائیل میں اس لفظ کا اطلاق نافرمان اور مغرور لوگوں پر بھی کیا گیا ہے ، بنی اسرائیل کے متعلق فرمایا کہ تمہاری نافرمانی کی وجہ سے (آیت) ” بعثنا علیکم عبادا لنا اولی باس شدید “۔ ہم نے تم پر اپنے سخت لڑائی لڑنے والے بندے مسلط کردیے ، تاہم عبد کا عام فہم معنی غلام ہوتا ہے ، یہاں پر عبد کے ساتھ مملوک نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ ہی کا مملوک ہوتا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے ، مملوک اپنے مجازی مالک کے تصرف میں ہوتا ہے اس سے خدمت لے یا اسے فروخت کردے ۔ (آیت) ” لا یقدر علی شیء “۔ ایسا شخص خود اپنا کچھ اختیار نہیں رکھتا ، یہاں پر یقدر کا معنی جسمانی طاقت نہیں کیونکہ یہ طاقت تو غلام اور آزاد میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے لہذا یہاں یقدر سے مراد اختیار یا قدرت رکھنا ہے کہ غلام آدمی کا اپنا کچھ اختیار نہیں ہوتا ، بلکہ اس کا ہر فعل اس کے آقا کی منشاء پر موقوف ہوتا ہے ، حتی کہ غلام اپنی کمائی کا بھی مالک نہیں ہوتا ، بلکہ اس کی آمدنی مالک کی آدمی تصور ہوتی ہے ، اور وہی اس کا متصرف ہوتا ہے ایک غلام آدمی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر سفر بھی نہیں کرسکتا اور نہ وہ نکاح کرسکتا ہے اگر کوئی مالک اپنی لونڈی کو خود نکاح کی اجازت دے دے تو پھر اس کے اختیارات اس حد تک کم ہوجاتے ہیں کہ وہ اس سے خدمت تو لے سکتا ہے مگر قضائے شہوت نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا حق وہ لونڈی کے خاوند کو دے چکا ہے ، اگر کوئی غلام بھاگ جائے تو حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس کی عبادت بھی مقبول نہیں جب تک وہ اپنے مالک کے پاس واپس نہ آجائے ، بہرحال فرمایا کہ ایک شخص ہے جو کسی دوسرے کا غلام ہے اور وہ کچھ اختیار نہیں رکھتا ، اور دوسری طرف ایسا شخص ہے (آیت) ” ومن رزقنہ منا رزقا حسنا “۔ جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھی روزی عطا کی ہے اچھی روزی سے مراد پاک اور حلال روزی ہے جو جائز طریقے سے کمائی گئی ہو اور جو حرام یا مشکوک نہ ہو ، یہ شخص آزاد ہے اور اللہ نے اسے رزق بھی وافر عطا فرمایا ہے (آیت) ” فھو ینفق منہ سرا وجھرا “۔ جسے وہ پوشیدہ طور پر بھی خرچ کرتا ہے ، اور ظاہری طور پر بھی ، فرمایا (آیت) ” ھل یستون “۔ کیا یہ دو آدمی یعنی غلام اور آزاد برابر ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا ہرگز نہیں (آیت) ” الحمد للہ “ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں (آیت) ” بل اکثرھم لا یعلمون “ بلکہ ان میں سے اکثر بےسمجھ ہیں جو ایک عام فہم مثال کو بھی نہیں سمجھ سکتے کہ جب غلام اور آزاد انسان ہونے کے باوجود برابر نہیں ہو سکتے تو اللہ کی ہمسری کون کرسکتا ہے جو ہر چیز کا مالک اور خالق ہے اور کائنات کی ہر چیز اسی کی مملوک اور مخلوق ہے ، لہذا اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اللہ کا ہم صفت بنا کر اس کا شریک ٹھہرانا کس قدر حماقت کی بات ہے ، خاص طور پر بےجان شجر وحجر اور قبر کو اللہ کے ساتھ کیسے شریک ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ (رزق حلال) اس آیت کریمہ میں لفظ رزق توجہ طلب ہے ، یہ لفظ عام ہے اور اس سے رزق حلال بھی ہوسکتا ہے اور حرام بھی ، مگر ایک مومن آدمی ہمیشہ رزق حلال کی تلاش میں رہتا ہے ، سورة البقرہ میں اللہ کا ارشاد ہے اسے لوگو ! (آیت) ” کلوا مما فی الارض حللا طیبا ولا تتبعوا خطوت الشیطن “۔ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر مت چلو ، اسی لیے رزق حلال کی تلاش کو فرائض کے بعد ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے (آیت) ” رزقا حسنا “۔ کے الفاظ گذشتہ رکوع میں بھی آچکے ہیں ، وہاں فرمایا تھا کہ تم کھجوروں اور انگور سے نشہ آور اشیاء اور رزق حسن یعنی لذیز اور خوشگوار چیز بناتے ہو ، تاہم یہاں پر رزق حسن سے وہ پاک روزی مراد ہے جس کے استعمال سے اچھے اخلاق پیدا ہوں عبادت کی قبولیت بھی حلال روزی پر موقوف ہے ، صدقہ و خیرات بھی وہی مقبول ہوگا جو حلال مال سے کیا جائے گا خود اپنی ذات پر پاک روزی استعمال کرے گا تو اس کا اچھا اثر ہوگا ، تمام پاکیزہ اخلاق پاکیزہ روزی سے پیدا ہوتے ہیں اور حرام روزی سے خبیث اخلاق جنم لیتے ہیں جو انسان کے لیے باعث وبال ہوں گے اور اسے خدا کے غضب کا نشانہ بننا پڑے گا ۔ (باطنی اور ظاہری خرچ) اس آیت کریمہ میں مذکور انفاق فی سبیل اللہ کا مسئلہ بھی اہمیت کا حامل ہے ، خرچ کے ظاہری اور باطنی دونوں طریقے درست ہیں اور ان کا انحصار حالات وواقعات پر ہوتا ہے ، اگر دوسرے کو ترغیب دلانا مقصود ہو تو ظاہری طور پر خرچ کرنا احسن ہوتا ہے کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں رہتا ، حضور ﷺ خرچ کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتہ نہیں ہوتا کہ کیا خرچ کیا ہے پوشیدہ خرچ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ لگاؤ کا عنصر غالب ہوتا ہے اور ظاہرا خرچ کرنے میں انسانی سوسائٹی کا لحاظ ہوتا ہے بہرحال اپنے اپنے مقام پر خرچ کے دونوں طریقے درست ہیں ۔ (گونگا غلام اور عادل آزاد) اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک گونگے غلام اور ایک عادل آزاد شخص کی مثال بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وضرب اللہ مثلا رجلین “ اور اللہ نے مثال بیان کی دو آدمیوں کی (آیت) ” احدھما ابکم لا یقدر علی شیئ “۔ ان میں سے ایک گونگا ہے جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا حتی کہ وہ اپنے دل کی بات بھی دوسرے سے نہیں کہہ سکتا ، اس قدر ناکارہ اور بےسود ہونے کی بناء پر (آیت) ” وھو کل علی مولہ “ وہ اپنے صاحب پر بوجھ بن چکا ہے ، اس کا مالک اس سے کوئی خدمت تو لے نہیں سکتا بلکہ اس کی طرف سے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے ۔ (آیت) ” اینما یوجھہ لایات بخیر “۔ اس کا آقا جس کام کی طرف بھی ایسے غلام کو متوجہ کرتا ہے ، وہ کوئی بہتر چیز نہیں لاتا یعنی کچھ کام نہیں کرتا ، بلکہ اسے خراب کرکے آتا ہے اور مالک کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے فرمایا اس کے مقابلے میں دوسرا شخص وہ ہے (آیت) ” ومن یامر بالعدل “۔ جو عدل و انصاف کا حکم دیتا ہے ، وہ آزاد ہے بااختیار ہے خود بھی عامل بالعدل ہے اور دوسروں کو بھی عدل کی وصیت کرتا ہے فرمایا (آیت) ” ھل یستوی ھو “۔ کیا ایسا شخص اس کے برابر ہے جو غلام بھی ہے اور گونگا بھی ، اور کوئی قدرت بھی نہیں رکھتا ، مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں آدمی ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ، بعینہ کوئی بت یا استھان ، جن پر فرشتہ یا کوئی انسان جسے کچھ اختیار حاصل نہیں ، وہ اللہ مالک الملک ، بااختیار ، نافع اور صار ، قادر مطلق اور متصرف کے برابر ہو سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں ، اگر اللہ کے برابر مخلوق میں سے کوئی بھی نہیں ہوسکتا تو پھر غیر اللہ کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ ان کے نام کی نذر ونیاز کیوں دیتے ہو ؟ مافوق الاسباب ان کو کیوں پکارتے ہو ؟ اپنی حاجات ان کے سامنے کیوں پیش کرتے ہو ؟ اگر دو اشخاص کی مثال سمجھ آسکتی ہے تو پھر خالق اور مخلوق کا تفاوت بھی ذہن میں آنا چاہئے اور ہر ایک کو اس کے مرتبے کے برابر حیثیت دینی چاہئے نہ تو خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کو انسانوں یا دیگر مخلوق میں ثابت کرنا چاہئے اور نہ انسانوں کی صفات اللہ کی طرف منسوب کرنی چاہئیں ۔ (غلامی کی تاریخی) غلامی کی تاریخ بہت پرانی ہے یہ انسانی سوسائٹی میں سزا کے طور پر رائج ہوئی ، جنگ کے دوران دشمن کے جو لوگ گرفتار ہوتے تھے ان میں سے مردوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈی بنا لیا جاتا ، غلامی کی یہ لعنت انیسویں صدی میں آکر دنیا سے ختم ہوئی ہے مشینی دور سے پہلے ہر چھوٹا بڑا کام افرادی قوت سے لیا جاتا تھا اور اس کا سستا ترین ذریعہ غلام تھے جو مالک کی بلامعاوضہ خدمت کرتے تھے مشینی دور میں اکثر کام مشینوں کے ذریعے ہونے لگے اور اس طرح افرادی خدمت کے کام میں کمی واقع ہوگئی ، اور غلامی کا رواج بھی آہستہ آہستہ ختم ہوگیا ، نزول قرآن کے زمانے میں اگرچہ غلامی کو کلیتا ختم نہیں کیا گیا ، بلکہ اسے برداشت کیا گیا اور غلاموں کے حقوق بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ، مختلف حیلوں بہانوں سے غلامی کا رواج ختم کرنے کی ترغیب دی گئی ، غلامی کو غیر فطری قرار دیا گیا ، اور مختلف جرائم کے کفارے کے طور غلام کی آزادی کا حکم دیا گیا ، ان کو مکاتب بنانے کی ترغیب دی گئی اور اس طرح غلامی کے خاتمے کی بنیاد دین اسلام نے رکھ دی ، اس زمانے میں غلاموں سے سخت ترین کام لینے کے علاوہ ان سے سخت بدسلوکی بھی کی جاتی تھی ، حتی کہ بعض لوگ محض تفریح طبع کے لیے غلاموں کو سرعام قتل کردیتے تھے اور اس طرح غلاموں کو انسانیت سے قریب بھی جگہ نہیں دیتے تھے ۔ (غلاموں سے حسن سلوک) اسلام میں غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کو بھی بڑی اہمیت حاصل ہے ایک موقع پر ابو مسعود انصاری ؓ اپنے غلام کو پیٹ رہے تھے ، حضور ﷺ کا گزر ہوا تو فرمایا ” للہ اقدر علیک من ھذا “۔ یعنی جو قدرت تم کو اس وقت اس غلام پر حاصل ہے ، اس سے زیادہ اللہ کو تم پر قدرت حاصل ہے آپ کی اس تنبیہ پر ابو مسعود ؓ نے غلام کی پٹائی بند کردی ، اور پھر اسے بالکل آزاد کردیا ، ایک اور شخص اپنے غلام کو تھپڑ مار دیا حضور ﷺ سخت ناراض ہوئے تو اس شخص نے فورا اپنے غلام کو آزاد کردیا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو جہنم کی آگ کی لپیٹ تم پر پڑتی ، فرمایا اللہ نے کسی وجہ سے یہ غلام تمہارے ماتحت کردیے ہیں ، آخر یہ بھی انسان ہیں ، تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو ، جو خود کھاتے ہو ، ان کو بھی کھلایا کرو ، اور جو خود پہنتے ہو ان کو بھی پہناؤ ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہ لو اگر ان کے سپرد کوئی مشکل کام لگاؤ ، تو پھر ان کے ساتھ تعاون بھی کرو ، کام میں ان کا ہاتھ بٹاؤ ، بہرحال اسلام نے غلامی کو صرف برداشت کیا ، کیونکہ یہ بین الاقوامی رواج تھا ، انسان فطری طور پر آزاد ہے ، اگر ساری دنیا کے انسان مل کر غلاموں کو آزاد کردیں ، تو اس میں اسلام کا کیا نقصان ہوگا ، بلکہ اسلام تو اس لعنت کو ختم کرنا چاہتا ہے ، اور اس کی ابتداء بھی یہیں سے ہوئی ۔ (قومی غلامی) شخصی غلامی تو اب پوری دنیا سے ختم ہوچکی ہے البتہ قومی غلامی کا جوا اترتے نظر نہیں آتا ، معاشی اور فوجی لحاظ سے مضبوط اقوام کی طرف سے کمزور قوموں کو غلام بنائے رکھنے کی مثالیں آج بھی دنیا میں موجود ہیں ، انگریزوں نے دو سو سال تک دنیا کی مختلف اقوام کو غلام بنائے رکھا ، طاقتور ملک ہمیشہ کمزوروں کو غلام سمجھتے ہیں اور ان پر فوجی دباؤ کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں ، اس کے علاوہ معاشی طور پر خوشحال ملک اپنے مالی وسائل کی بناء پر بدحال لوگوں کو اپنی غلامی میں جکڑ لیتے ہیں ، اس وقت پوری دنیا امریکہ اور روس کی معاشی غلامی کا شکار ہے ، غریب ممالک کی تمام اقتصادی پالیسیاں امیر ملکوں کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور وہ اس قدر بےبس ہوتے ہیں کہ امیر ملکوں کے بغیر ایک قدم آگے نہیں چل سکتے ، ایسے ملک اپنی تہذیب بھی کھو بیٹھتے ہیں اور تہذیبی لحاظ سے بھی امیر ملکوں کے غلام ہوجاتے ہیں ، ان کا لباس وضع قطع ، طور واطوار حتی کہ ان کی سوچ بھی اسی غلامی کا شکار ہوجاتی ہے جو کسی قوم کے لیے انتہائی بدقسمتی کی بات ہے اسی بات کو ڈاکٹر اقبال نے اپنے الفاظ میں یوں کہا تھا ۔ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر : انگریز نے ہم پر جس قسم کی غلامی مسلط کی اس کے نتیجے میں ہمارے لوگوں کے خیالات بہت ہی گھٹیا ہوگئے ہیں ان کی اپنی کوئی پالیسی تہذیب اور عمل نہیں رہا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آقاؤں کی طرف ہی دیکھتے رہتے ہیں کہ ان کی خوشنودی کیسے حاصل ہو ۔ (خلاصہ کلام) بہرحال اللہ تعالیٰ نے آزادی اور غلامی کا مسئلہ مثال کے ذریعے سمجھا دیا ہے ، ایک طرف ایک غلام اور گونگا بہرہ آدمی ہے جو کچھ اختیار نہیں رکھتا ہر کام خراب کرکے آتا ہے اور اپنے آقا پر بوجھ ہے ، دوسری طرف ایک آزاد ہے جو خود مختار ہے ، خود بھی عدل و انصاف پر قائم ہے اور اسی کا حکم بھی دیتا ہے ، حقیقت یہ ہے (آیت) ” وھو علی صراط مستقیم “ کہ سیدھے راستے پر بھی یہی شخص ہے ، پھر بھلا ایک غلام اور آزاد شخص کیسے برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہی حال ایک مشرک اور موحد کا ہے مشرک آدمی کسی قبر پر جائے گا ، کوئی رسم اختیار کرے گا ، اپنا دین خراب کرے گا ، جہاں جائے گا ، خرابی ہی لے کر آئے گا ، اس کے برکلاف موحد آدمی اپنے ایمان پر مضبوط رہے گا ، ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی نصرت واعانت کا طلبگار ہوگا ، اس کے بنائے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن ہوگا ، تو فرمایا مشرک اور مؤحد بھی برابر نہیں ہو سکتے ، ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
Ayahs 16:77–79

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں پوشیدہ چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور نہیں ہے معاملہ قیامت کا مگر جیسا کہ ایک نگاہ کا پٹنا یا اس سے بھی زیادہ قریب بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے نکالا ہے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے تم نہیں جانتے تھے کچھ بھی ، اور بنائے اس نے تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور دل ، تاکہ تم شکر ادا کرو۔

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا پرندوں کی طرف جو مسخر کیے ہوئے ہیں آسمان کی فضا میں نہیں روکتا ان کو اللہ کے سوا کوئی بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔

(ربط آیات) گذشتہ دروس میں اللہ نے شرک کی تردید میں بعض دلائل اور مثالیں بیان فرمائیں ایک مثال یہ بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام بھی ہے اور گونگا بھی ، وہ بالکل نکما ہے ، جو بھی کام اس کے سپرد کیا جائے وہ کوئی اچھا نتیجہ پیش نہیں کرتا اور اس طرح آپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، دوسری طرف ایک آزاد اور مومن آدمی ہے ، اور خود بھی عدل و انصاف پر قائم ہے اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کرتا ہے ، یہ شخص اللہ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر ہے تو اللہ نے ان دو شخصوں کا حال بیان کرکے فرمایا کہ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ یہی مثال ایک مشرک اور موحد کی ہے ، جس طرح مذکورہ دو شخص برابر نہیں ، اسی طرح مشرک اور توحید پرست برابر نہیں ، ان دونوں میں فرق ہے ۔ (استعداد عمل اور جزا) مومن اور مشرک میں تفاوت دراصل ہر آدمی کی استعداد اور عمل میں تفاوت کی وجہ سے ہے ، بظاہر تو سارے انسان برابر نظر آتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے سب کو اعضائے ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ہے مگر ہر انسان کے ہر عضو کی استعداد مختلف ہے جس کے مطابق وہ عمل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ مرتب ہوتا ہے ، انسان ظاہری آنکھ سے دوسرے کے ظاہر کو تو دیکھ سکتا ہے مگر اس کے دل کی کیفیت کو نہیں جان سکتا۔ نگاہ بانگاہ امیزہ دادی دل را از دل جدا کردی ۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کو آنکھوں کے ساتھ تو مشابہت دیدی ہے مگر دل کو دل سے جدا کردیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا حال معلوم نہیں کرسکتے غرضیکہ ہر انسان کی استعداد عمل اور پھر اس سے اخذ ہونے والے نتیجہ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہی اپنے علم کے مطابق ہر شخص کو بدلہ دے گا مخلوق میں سے کوئی ذات ایسی نہیں جو کسی کے تفصیلی حالات سے واقف ہو آج کی پہلی آیت کریمہ میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے ۔ (عالم الغیب والشہادۃ) اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں ، جو چیزیں بھی انسانوں جنوں اور فرشتوں سے پوشیدہ ہیں ، ان کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے پوری مخلوق میں سے کوئی بھی ان کے علم کا دعوی نہیں کرسکتا دراصل ایسے مواقع پر غیب کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر انسانوں یا دوسری مخلوق کی نسبت سے کیا جاتا ہے یعنی جو چیزیں مخلوق سے پردہ غیب میں ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے ، اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی نگاہ میں ہے ، سورة یونس میں موجود ہے ، (آیت) ” وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض والا فی السمآء “۔ تیرے پروردگار سے تو کائنات کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے تو عالم الغیب والشہادۃ کا یہی مطلب ہے کہ مخلوق کی نسبت سے جو چیزیں بھی ظاہر ہیں یا پوشیدہ ، محسوسات میں سے ہیں غیر محسوسات میں سے ، ہر چیز خدا تعالیٰ کے علم میں ہے ، اس سے کوئی چیز مخفی نہیں ۔ سورة الملک میں اس بات کو دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے (آیت) ” الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر “۔ کیا کائنات کو وہی نہیں جانے گا جس نے اسے پیدا کیا حالانکہ وہ لطیف (باریک بین) بھی ہے اور ہر چیز کی خبر بھی رکھتا ہے ۔ عالم الغیب والشہادۃ ہونا اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں سے ہے اگر کوئی شخص مخلوق میں سے کسی میں یہ صفت تسلیم کرے گا تو وہ مشرک بن جائے گا جس طرح اللہ کے سوا قادر مطلق کوئی نہیں ، اسی طرح اس کے سوا عالم الغیب بھی کوئی نہیں ، ہر انسان کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اس کی روح اور اسکے روح اور اس کے لطائف ہیں ، اس کا نفسہ ناطقہ ہے ، ان ظاہری اور باطنی قوی کی استعداد کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ، ہر شخص کے علم سے بھی وہی واقف ہے ، لہذا وہ اپنے اسی علم اور مخلوق کے عمل کی بناء پر ہر ایک کو بدلہ بھی جدا جدا دے گا ۔ (قیامت کی اچانک آمد) اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ہی کے تسلسل میں یہ بھی فرمایا کہ وقوع قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے (آیت) ” وما امر الساعۃ الا کلمح البصر “۔ اور قیامت کا معاملہ تو ایسا ہے کہ یہ آنکھ جھپکنے میں واقع ہو جائیگی بلکہ (آیت) ” اوھو اقرب “۔ آنکھ کا پلٹنا تو دور کی بات ہے ، قیامت اس سے بھی پہلے برپا ہو جائیگی ، (آیت) ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے حضور ﷺ نے وقوع قیامت کے متعلق کئی ایک باتیں بتلائی ہیں ، مثلا یہ کہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے کسی نے کھانے کا لقمہ اٹھایا ہوگا اور ابھی وہ منہ تک نہیں لے جائیگا کہ قیامت کا بگل بج جائے گا سورة الاعراف میں موجود ہے (آیت) ” لا تاتیکم الا بغتۃ “۔ یہ اچانک ہی تمہارے پاس آجائے گی ، اس کے لیے (آیت) ” الی اجل مسمی “۔ کے الفاظ قرآن پاک میں بار بار آتے ہیں کہ وہ اپنے مقررہ وقت پر ضرور واقع ہوجائے گی اور پھر اس کے بعد جزائے عمل کا وقت آئے گا (آیت) ” یوم تبلی السرآئر “۔ (الطارق) اس دن پوشیدہ چیزیں ظاہر ہوجائیں گی اور محاسبے کا عمل شروع ہوجائے گا ، ہر انسان کو اپنی استعداد اور عمل کے مطابق بدلہ ملے گا جو کہ ہر ایک کے لیے جدا جدا ہوگا ، آج کوئی نبی ، ولی ، جن فرشتہ ، یا کوئی اور مقرب اس کیفیت کے متعلق کچھ نہیں جانتا ۔ یہ حال انسان کی انفرادی زندگی کا بھی ہے ، اس کے وقت کا علم بھی کسی کے پاس نہیں اور یہ بھی اچانک آجاتی ہے ، حادثات بھی پیش آجاتے ہیں ، بیماری میں بھی صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ، اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے کہ جب وہ وقت مقررہ آجاتا ہے ، (آیت) ” لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ تو پھر ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوتا بلکہ عین وقت پر موت آجاتی ہے ، ہر فرد کی موت قیامت صغری کہلاتی ہے اور کائنات کی مجموعی موت کو قیامت کبری کا نام دیا گیا ہے حضور ﷺ کا ارشاد (1) (مرقاۃ شرح مشکوۃ ص 234 ج 10) ” من مات فقد قامت قیامتہ “۔ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو برپا ہوگئی کیونکہ وہ جزائے عمل کی منزل میں داخل ہوگیا ، موت کے بعد قبر کی منزل ہے عالم برزخ ہے پھر وقوع قیامت اور محاسبے کا پورا عمل واقع ہونے والا ہے ، یہ ساری منزلیں آخرت کی منزل کی کڑیاں ہیں ۔ (قبر کی منزل) انفرادی موت کے بعد انسان کی سب سے پہلے قبر کی منزل آتی ہے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ عقبی کی منزلوں میں سے قبر پہلی منزل ہے اور اس کا معاملہ بہت خطرناک ہے ، اگر قبر کی منزل آسان ہوگئی تو انشاء اللہ آگے کی منزلوں میں بھی آسانی ہوگی ، اور یہیں مشکل پیش آگئی تو اگلی منزلیں مزید مشکل ہوجائیں گی ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ قبرستان میں پہنچ کر بہت روتے حتی کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہوجاتی ، دوستوں نے پوچھا حضرت ! آپ قبور کی زیارت پر بہت گریہ کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ تو آپ نے یہی بات فرمائی کہ آخرت کی منزلوں میں سے قبر پہلی منزل ہے اگر یہ آسان ہوگئی تو اگلی منزلیں بھی آسان ہوتی جائیں گی وگرنہ معاملہ مشکل ہے ۔ (انسان کے ذرائع علم) آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش اور پھر اس پر کیے گئے انعامات کا ذکر کرکے اسے شکریہ ادا کرنے کی تلقین کی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واللہ اخرجکم من بطون امھتکم “۔ اللہ کی ذات وہ ہے کہ جس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ، یعنی تمہیں پیدا کیا ، اور اس وقت تمہاری حالت یہ تھی (آیت) ” لا تعلمون شیئا “۔ کہ تمہیں کسی چیز کا علم نہیں تھا تم اس دنیا میں بالکل اجنبی تھے مگر اللہ تمہارے لیے ذرائع علم پیدا کیے اور وہ اس طرح (آیت) ” وجعل لکم السمع والابصار والافدۃ “۔ کہ تمہارے لیے کان ، آنکھیں اور دل پیدا کیے ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو کان عطا کیے ہیں تاکہ اگر کسی ایک میں خرابی واقع ہوجائے تو دوسرے سے کام چلایا جاسکے ، کان اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اگر یہ نہ ہوتے تو انسان نہ کچھ سن سکتا نہ سیکھ سکتا اور نہ بول سکتا ، ظاہر ہے کہ چھوٹا بچہ اپنے ماحول سے سن کر ہی باتیں کرنا سیکھتا ہے ، اگر وہ کوئی بات سنے گا نہیں تو اسے بات کرنی کیسے آئے گی ، اسی لیے جو بچے پیدائشی گونگے ہوتے ہیں وہ دراصل کانوں کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں حالانکہ ان کی زبان بالکل ٹھیک ہوتی ہے مگر ہو نہ سننے کی وجہ سے بات سیکھتے ہی نہیں لہذا وہ گونگے بھی ہوتے ہیں بہرے بھی ۔ اسی طرح آنکھیں بھی بہت بڑی نعمت ہیں ، آنکھ کی قدر نابینا سے پوچھئے جس کے لیے سارا جہاں گھپ اندھیر ہے ، آنکھ نہیں تو کچھ بھی نہیں بیچارہ پڑھنے لکھنے سے محروم ہوجاتا ہے ، کسی چیز کی حقیقت کو نظر سے نہیں دیکھ سکتا ، جس کی بناء پر اسے اشیاء کا مکمل علم حاصل نہیں ہو سکتا پھر انسان کا دل اس کے جسم کا مرکز ہے ، اس کے ساتھ دماغ شامل ہو کر ہر کام میں غور وفکر کرتا ہے ، غور وفکر دماغ کے ذریعے ہوتا ہے اور عملی اقدام دل کی وساطت سے ہوتا ہے ، غوروفکر کے معاملہ میں اللہ کے آخری پیغام قرآن پاک کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اسی لیے تو سورة محمد میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “۔ یہ لوگ قرآن پاک میں غور وفکر کیوں نہیں کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں ، غرضیکہ انسان کا دل بھی اس کے لیے بہت بڑی نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان تین اہم ترین چیزوں یعنی کان ، آنکھ اور دل کا ذکر کے انسان کو یاد دلایا ہے کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے ، ہم نے یہ نعمتیں عطا کرکے تمہیں علم کے ذرائع مہیا کردیے کہ انکو بروئے کار لا کر علم جیسی عظیم نعمت حاصل کرو (آیت) ” لعلکم تشکرون “ اور میرا شکر ادا کرو ، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ کانوں سے قرآن پاک اور دین کی باتیں سنی جائیں ، نہ کہ فحش گانے سماعت کیے جائیں ، آنکھوں سے قرآن پاک کی تلاوت کی جائے ، اچھی کتابیں پڑھی جائیں ، شعائر اللہ کی زیارت کی جائے نہ کہ ٹیلیویژن پر فحش مناظر دیکھے جائیں ، آنکھ کی حفاظت پر اللہ اور اس کے رسول نے بڑی تاکید فرمائی ہے ، شرم وحیا کے تقاضے آنکھ کے ذریعے ہی پورے کیے جاتے ہیں اسی طرح انسان کا دل ہے جو نیکی پر بھی مائل ہو سکتا ہے اور برائی پر بھی ، یہ مظلوم کی مدد کے لیے بھی کھڑا کرسکتا ہے اور کسی کی حق تلفی کے لیے بھی آمادہ کرسکتا ہے دل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور وفکر کرکے اس کی وحدانیت کو سمجھنا چاہئے ، تو یہ تینوں نعمتیں ، اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائیں تاکہ اس کا شکریہ ادا کرو ۔ (فلسفہ معاش) بعض لوگ معاش کے مسئلہ کو بہانا بنا کر اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ ہم روز گار کے مسئلہ میں ہی الجھے رہتے ہیں ، اس لیے ہم کوئی نیکی کا کام نہیں کرسکتے ، عبادت اور ریاضت کی طرف توجہ نہیں دے سکتے اور نہ ہماری علمی یا دماغی اصلاح ہو سکتی ہے اللہ نے معاش کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے (آیت) ” اولم یروا الی الطیر مسخرت فی جو السمآء “۔ کیا ان لوگوں نے پرندوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو اللہ نے فضا میں مسخر کیا ہوا ہے ، وہ جدھر چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور کشش ثقل انہیں گرا نہیں دیتی ، البتہ جب وہ خود چاہتے ہیں تو زمین پر اتر جاتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ما یمسکھن الا اللہ “۔ فضا میں اللہ کے سوا انہیں تھامنے والا کون ہے ، سورة الملک میں (آیت) ” الا الرحمن “ کے الفاظ آتے ہیں یعنی انہیں کھلی فضاؤں میں تھامنے والا صرف رحمان ہی ہے ، پرندے اپنے پروں کو پھیلاتے اور سکیڑتے ہوئے دور دور تک چلے جاتے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے اڑان کے راستے آسان کردیے ہیں اور یہ سینکڑوں میل کا سفر بآسانی طے کرلیتے ہیں ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ پرندے صبح سویرے خالی پیٹ اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں ، اگر تم پرندوں جتنا توکل بھی کرتے تو اللہ تعالیٰ تمہیں بھی ویسے ہی روزی پہنچاتا جس طرح ان پرندوں کو پہنچاتا ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ انسان پرندوں جیسا توکل بھی نہیں رکھتا ، اگر انسان اللہ کے احکام کے مطابق اپنے فرائض کو بجا لائے اور روزی کے جائز ذرائع استعمال کرے تو اللہ اسے مایوس نہیں کرے گا اسباب رزق بھی اللہ تعالیٰ ہی پیدا فرماتا ہے ، لہذا ان اسباب کو اختیار کرنے کے بعد اسباب کی بجائے بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی کرنا چاہئے کیونکہ وہ چاہے گا تو اسباب میں اثر پیدا ہوگا ، ورنہ نہیں ، اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی یہ مثال بیان کرکے توحید خداوندی کا درس دیا ہے ، فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یؤمنون “ اس قسم کی مثالوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور معاد پر یقین رکھتے ہیں ، اور جو لوگ ایمان سے خالی ہیں ان کے لیے یہ مثالیں کچھ فائدہ نہیں دیتیں ، نہ وہ اللہ کو صحیح طور پر پہچانتے ہیں اور نہ اسکی اطاعت گزاری کرتے ہیں ، برخلاف اس کے جانور ، پرندے ، چرندے کیڑے مکوڑے شجر وحجر سب اللہ کے اطاعت گزار ہیں اور اس کے حکم سے سرمو انحراف نہیں کرتے ، مگر انسانوں میں ایک گروہ ایسا ہے جو اللہ کا نافرمان ہے ۔ بلکہ اکثریت ناشکر گزاروں کی ہے اور بہت کم لوگ ہیں جو اس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔
Ayahs 16:80–83

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور اللہ نے بنائی ہے تمہارے لیے تمہارے گھروں میں سے سکونت کی جگہ اور بنائے ہیں تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے گھر ، جن کو تم ہلکا خیال کرتے ہو کوچ والے دن اور قیام والے تن اور ان کی اون پشم اور بالوں سے طرح طرح کا سامان اور فائدہ اٹھانے کی چیز ایک وقت تک ۔

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور اللہ نے اپنی تخلیق میں سے تمہارے لیے سایہ بنایا ہے اور تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ہیں اور اس نے تمہارے لیے قمیصیں بنائی ہیں جو بچاتی ہیں تمہیں گرمی سے اور قمیصیں جو بچاتی ہیں تمہیں لڑائی سے اسی طرح اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اپنی نعمت تم پر ، تاکہ تم فرمانبردار ہوجاؤ ۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

پس اگر روگردانی کی ان لوگوں نے پس بیشک آپ پر کھول کر بیان کردینا ہے ۔

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

پہچانتے ہیں یہ اللہ کی نعمت کو ، پھر انکار کرتے ہیں اس کا ، اور اکثر ان میں کفر کرنے والے (نافرمان) ہیں ۔

(ربط آیات) شرک اور مشرکین کے رد کے بعد اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل کی طرف اشارہ کیا ، پھر فرمایا کہ انسانوں کے تمام مخفی حالات سے صرف اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے جو کائنات کی تمام مخفی چیزوں کو جانتا ہے قیامت کو بھی اپنے وقت پر وہی برپا کرے تا ، انسان قیامت کے وقت کے متعلق کچھ نہیں جانتے اور وہ اچانک ہی آئے گی ، انسان کی انفرادی موت بھی اچانک ہی واقع ہوجاتی ہے کوئی شخص اس کے وقت اور مقام کو نہیں جانتا گویا قیامت صغری اور قیامت کبری میں اس لحاظ سے مناسبت ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کا ذکر کیا پہلے انسان کے جسم میں موجود بڑی بڑی نعمتوں کو یا ددلایا ، پھر پرندوں کو ہوا میں تھامنے کا بیان ہوا کہ یہ بھی اللہ ہی کی قدرت کا شاہکار ہے ، فرمایا یہ ایمان والوں کے لیے نشانات قدرت ہیں جن میں غور کرکے وہ اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت بالغہ کو سمجھ سکتے ہیں ۔ (گھر ذریعہ سکون) اب آج کے درس میں بھی اللہ نے انسان پر کیے گئے بعض انعامات کا ذکر کرکے انہیں اپنی قدرت اور وحدانیت کی دلیل بنایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واللہ جعل لکم من بیوتکم سکنا “۔ اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکونت کی جگہ بنایا ہے سکنا کے مسکون اور سکون دونوں مادے ہیں ، اگر یہ مسکون کے مادہ سے ہو تو مطلب ہے کہ ایسی جگہ جہاں تم سکونت یعنی رہائش اختیار کرتے ہو اور سکون کے مادہ سے ہو تو مطلب ہوگا سکون یعنی آرام پکڑنے کی جگہ ، سورة الانعام میں رات کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” جعل الیل سکنا “۔ اس نے تمہارے لیے رات کو آرام و سکون کا ذریعہ بنایا ہے ، ظاہر ہے کہ تمام جاندار دن بھر روزی کی تلاش میں مشقت کرکے تھک ہار جاتے ہیں تو پھر انہیں اپنی تحلیل شدہ قوتوں کو بحال کرنے کے لیے آرام کی ضرورت ہوتی ہے ، جو انہیں رات کے سناٹے میں حاصل ہوجاتا ہے اور وہ اگلے دن کی مشقت کے پھر تیار ہوجاتے ہیں ۔ عربی زبان میں کہتے ہیں ” کلما علاک واظلک “۔ جو چیز تمہارے اوپر سایہ افگن ہوتی ہے اسے سماء کہتے ہیں اور اس کا اطلاق چھت پر بھی ہوتا ہے کہ یہ بھی انسان کے سروں سے اوپر ہوتی ہے ، پھر فرمایا ” کلما اقلک “ جو چیز تمہیں اٹھاتی ہے ، وہ زمین ہے ، اس پر قدم رکھ کر انسان چلتا پھرتا ہے ، گویا زمین اسے اٹھائے ہوئے ہے ، اور جو چیز انسان کو اردگرد سے پردے کی صورت میں گھیرتی ہے وہ جدار یعنی دیوار ہے یہ تینوں چیزیں یعنی زمین چھت اور دیواریں مل جائیں تو مکان معرض وجود میں آجاتا ہے جس کا ذکر اللہ نے اس آیت کریمہ میں بطور احسان فرمایا ہے ۔ (انسان کی بنیادی ضروریات) حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ خوراک پانی ، لباس ” اوبیتا یسکنوہ “ اور سکون پکڑنے کی جگہ مکان ، انسان کی بنیادی ضروریات ہیں جو ہر انسان کو بلالحاظ مذہب وملت اور رنگ ونسل حاصل ہونی چاہئے موجودہ زمانے میں ان میں دو مزید چیزیں شامل کردیں گئی ہی یعنی تعلیم جس کے ذریعے انسان اپنے فرائض کو پہچان سکے اور صحت ، ان چھ بنیادی ضروریات کو یونیسکو (UNESCO) بھی تسلیم کرتی ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ومسلمۃ “۔ یعنی ہر مرد وزن پر اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے جس کے ذریعے وہ اپنے فرائض ادا کرسکے چونکہ فرائض کی ادائیگی صحت و تندرستی کے بغیر نہیں ہو سکتی ، لہذا یہ بھی بنیادی ضرورت شمار کی گئی ہے ، چناچہ آج کی دنیا میں بھی کامیاب حکومت وہی تصور ہوتی ہے ، جو اپنے باشندوں کو بنیادوں ضروریات مہیا کرے ، ملک میں کوئی بھوکا پیاسا نہ ہو ، ہر نیک وبد کے لیے خوراک اور پانی لازمی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا مکان اور لباس بھی ضروری ہے اگرچہ وہ ادنی قسم کا ہی ہو شادی شدہ جوڑے کے لیے تو مکان کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے ، حدیث میں اس کی تصریح ہے کہ اگر کوئی مکان کا بندوبست نہیں کرسکتا تو اس کی شادی بھی ممکن نہیں ، کم از کم اتنا مکان تو ہونا چاہئے جس میں وہ اپنے اہل و عیال سمیت گزارہ کرسکے ، بہرحال اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مکان جیسی بنیادی ضرورت کا ذکر کیا ہے عام طور مکان مٹی گارے اور اینٹ پتھر کے ہوتے ہیں تاہم یہ خیموں کی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ قدیم زمانے میں ہوتے تھے ، اور جس کا ذکر آگے آرہا ہے ، بہرحال گرمی ، سردی اور بارش وغیرہ سے بچاؤ کے لیے مکان ضروری ہے ، جسے اللہ نے یہاں پر انعام کے طور ذکر فرمایا ہے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ لفظ ” سکنا “ سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ گھر کا مقصد آرام حاصل کرنا ہے اور گھر وہی اچھا ہوگا جس میں آکر انسان کو آرام و راحت حاصل ہو ، اگر انسان کو گھر میں داخل ہو کر سکون نصیب نہیں ہوتا تو اس کی عالیشان بلڈنگ بھی بیکار محض ہے جو کہ مکان کے مقصد کو پورا نہیں کرتی ، مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ دنیاوی لحاظ سے سعادت مند شخص وہ ہے جسے اچھا گھر ، اچھی بیوی ، اور اچھی سواری میسر ہو ، اگر یہ تینوں چیزیں ناموافق ہوں یعنی مکان میں گرمی سردی اور بارش سے بچاؤ کا انتظام نہ ہو ، بیوی مرضی کے خلاف ہو ، اور سواری بھی تنگ کرتی ہو ، تو ایسا شخص دنیاوی لحاظ سے شقی ہوگا ، بہرحال مکان سکونت اور آرام کے لیے ہے اور انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے ۔ (چمڑے کے خیمے) نزول قرآن کے زمانے میں گھر کے طور پر چمڑے کے خیمے عام استعمال ہوتے تھے ، اکثر لوگ خانہ بدوش زندگی بسر کرتے تھے ، جہاں خوراک اور پانی میسر آیا وہاں خیمے لگا کر رہائش اختیار کرلی ، یہ ذخیرہ ختم ہوگیا تو آگے چل دیے عام مکان کا ذکر کرنے کے بعد آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے خاص طور پر خیموں کے گھروں کا ذکر فرمایا کہ اس کا تم پر یہ بھی احسان ہے (آیت) ” وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا “۔ اس نے تمہارے لیے مویشیوں کی کھالوں سے گھر بنائے اور یہ ایسے گھر ہیں (آیت) ” تستخفونھا “ کہ تم انہیں ہدکا خیال کرتے ہو (آیت) ” یوم ظعنکم “۔ سفر کے دن (آیت) ” ویوم اقامتکم “۔ اور اپنے قیام کے دن ، ظاہر ہے کہ اینٹ پتھر کا مکان تو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا ، البتہ کپڑے ، پلاسٹک یا کھال کا خیمہ تو آسانی سے ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لے جایا جاسکتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ خیمے کا گھر تم دوران سفر بھی ہلکا خیال کرتے ہو کہ بآسانی جانور پر لادا جاسکتا ہے اور دوسری جگہ آسانی سے قائم بھی کیا جاسکتا ہے ۔ گویا اقامت بھی آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہے مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ہم چالیس آدمی ایک موقع پر حضور ﷺ کے ساتھ چمڑے کے خیمے میں مقیم تھے اور آپ نے وہاں ایک خوشخبری بھی سنائی ، ترمذی شریف کی روایت (1) (ترمذی ص 292 ، ج 1) میں آتا ہے کہ گرم موسم میں سفر کے دوران افضل صدقہ ” ظل فسطاط یعنی سایہ مہیا کرنا ہے اور کسی نے غازیوں اور مجاہدین کے لیے خیمہ کا بندوبست کردیا تو یہ اس کے لیے بہترین صدقہ ہوگا ، پرانے زمانے میں خیموں کو بڑی اہمیت حاصل تھی ، آج کے دور میں بھی فوج نقل وحمل کے دروان خیموں سے کام لیا جاتا ہے اس کے علاوہ ایام حج میں منی اور عرفات کے میدانوں میں خیموں میں ہی قیام کیا جاتا ہے ، اور ہمیشہ کیا جاتا رہے گا ہر سال دنیا بھر میں خیمہ بستی کا یہ سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے ، جہاں تک خیموں کی ساخت کا تعلق ہے اللہ نے فرمایا کہ چمڑے کے علاوہ (آیت) ” ومن اصوافھا “۔ یہ جانوروں کی اون سے بھی تیار ہوتے ہیں ، بھیڑوں کی اون اس مقصد کے لیے نہایت کارآمد ہے (آیت) ” واوبارھا “۔ یہ جانوروں کی پشم سے بھی تیار ہوتے ہیں اونٹوں کا پشم خیمے بنانے کے کام آتا ہے (آیت) ” واشعارھا “ اور ان کے بالوں سے بھی ، بکری کے بال بھی خیمہ بنانے کے کام آتے ہیں ، فرمایا ” اثاثا “ ان سے تم طرح طرح کے سامان تیار کرتے ہو ، پہننے ، اوڑھنے اور بچھانے کے لیے کپڑے جانوروں کے بالوں اور اون وغیرہ سے ہی تیار ہوتے تھے (آیت) ” ومتاعا الی حین “ ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے مدت مقررہ تک تمہارے لیے فائدے کا سامان رکھا ہے ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ۔ (سایہ کی نعمت) آگے اللہ نے ایک اور نعمت کا ذکر کیا ہے (آیت) ” واللہ جعل لکم مما خلق ظللا “۔ اللہ نے اپنی تخلیق کردہ اشیاء میں سے تمہارے لیے سائے بھی بنائے ، دھوپ اور گرمی میں سایہ بہت بڑی نعمت ہے کہیں درختوں کا سایہ ، کہیں پہاڑوں کا اور کہیں عمارات کا سایہ مہیا فرمایا ، اگر یہ نہ ہوتا تو انسان اور جانور بڑی مشقت میں مبتلا ہوتے ، خاص طور پر بادلوں کا سایہ تو بہت ہی خوشگوار ہوتا ہے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل پر خدا تعالیٰ نے بادلوں کے سایہ کا خصوصی انتظام فرمایا تھا ، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ دو لعنت والی چیزوں سے بچو ان میں سے ایک سایہ ہے اور دوسرا شارع عام ، فرمایا ان دو جگہوں پر بول وبراز کرنا باعث لعنت ہے کیونکہ سایہ لوگوں کے آرام کرنے کی جگہ ہے اور اگر وہاں گندگی ہوگی تو ان کے آرام میں خلل واقع ہوگا ، اسی طرح عام راستے پر بھی گندگی ہوگی تو مسافروں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا ، لہذا ان دو جگہوں پر بول وبراز کرکے لعنت کے مستحق نہ بنو تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں میں سے سایہ بھی ایک نعمت ہے ۔ (آیت) ” وجعل لکم من الجبال اکنانا “۔ اور تمہارے لیے پہاڑوں میں غار بنائے ، غار میں انسانوں کو بارش یا دھوپ سے محفوظ رکھتے ہیں دشمن کا خوف ہو تو غاروں میں پناہ لی جاتی ہے ، تو اللہ نے پہاڑوں کی غاروں کو بھی اپنی نشانی اور انسان کے لیے نعمت قرار دیا ۔ (بچاؤ کی قمیصیں ) آگے ایک اور نعمت کا تذکرہ فرمایا (آیت) ” وجعل لکم سرابیل “ اور تمہارے لیے قمیصیں بنائیں (آیت) ” تقیکم الحر “ جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں ، ظاہر ہے کہ قمیص انسان کو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتی ہے مگر یہاں پر سردی کا ذکر نہیں کیا ، اس کی وجہ مفسرین یہ بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کے اولین مخاطبین صحرائے عرب کے لوگ تھے ، جہاں گرمی ہی پڑتی ہے ، وہ لوگ سردی سے چنداں مانوس نہیں تھے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صرف گرمی کا ذکر فرمایا ہے کہ اللہ نے ایسی قمیصیں بنائیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں ، مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة کے ابتدائی حصے میں مویشیوں کے تذکرہ میں دفء کا ذکر کیا ہے کہ ان میں تمہارے لیے گرمائش کا سامان ہے ، ظاہر ہے کہ سردی کے موسم میں کمبل ، شال اونی لباس کی ضرورت ہوتی ہے جو جانوروں کے پشم اور بالوں سے تیار ہوتے ہیں ، چونکہ وہاں پر سردی سے بچاؤ کا ذکر ہوچکا ہے اس لیے یہاں پر صرف گرمی سے بچاؤ کا بیان آیا ہے ۔ فرمایا اس کے علاوہ (آیت) ” وسرابیل تقیکم باسکم “ ہم نے ایسی قمیصیں بھی بنائی ہیں تو تمہیں جنگ میں بچاتی ہیں ، اس قمیص سے مراد لوہے کی زرہ بکتر ہے جو لوگ دشمن کے وار سے محفوظ رہنے کے لیے پہنتے تھے موجودہ زمانے میں بکتر بند گاڑیاں ایجاد ہوچکی ہیں جو اپنے سواروں کو دشمن کی گولہ باری سے محفوظ رکھتی ہیں سر پر خود پہننے میں بھی یہی مصلحت ہے کہ انسان کسی ممکنہ چوٹ سے بچ سکے خود حضور ﷺ نے زرہ کا استعمال کیا ہے ، چناچہ احد کے روز آپ نے اوپر نیچے دو زرہیں پہن رکھی تھیں ۔ اس قسم کے حفاظتی اقدام عالم اسباب کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں اختیار کرنا چاہئے اس کے باوجود تکلیف و راحت تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے جنگ احد میں ان تمام حفاظتی تدابیر کے باوجود مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ۔ (انعامات الہی کا شکریہ) فرمایا (آیت) ” کذلک یتم نعمتہ علیکم “۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے (آیت) ” لعلکم تسلمون “۔ تاکہ تم فرمانبردار بن جاؤ ، مکان ، لباس ، خوراک ، سایہ وغیرہ اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں اسی طرح بارش بھی اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر بہت بڑا احسان ہ تو لوگوں کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کا شکریہ ادا کریں ، اور اس کی فرمانبرداری کریں (آیت) ” فان تولوا “ اور پھر بھی اگر یہ لوگ روگردانی کریں پوری طرح سمجھانے کے باوجود راہ راست پر نہ آئیں ، تو اے پیغمبر (علیہ السلام) (آیت) ” فانما علیک البلغ المبین “۔ آپ کے ذمے تو کھول کر بیان کردینا ہے حق و باطل کو واضح کردینا ہے اگر یہ آپ کی بات کو نہیں مانیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹ لے گا ، فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” یعرفون نعمۃ اللہ “۔ کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو خوب پہچانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا فقط وحدہ لاشریک ہے ، اس کے باوجود (آیت) ” ثم ینکرونھا “۔ ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہی یعنی ان کا شکریہ ادا نہیں کرتے اور یہ ایسے لوگ ہیں (آیت) ” اکثرھم الکفرون “۔ کہ انکی اکثریت کفر کرنے والوں پر مشتمل ہے ، ان میں سے بعض تو حقیقی کافر ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ہی کا انکار کرتا ہے ہیں اور انہیں نے طرح طرح کے شریک بنا رکھے ہیں اور رسومات باطلہ پر ہی اڑے ہوئے ہیں ، اور بعض وہ ہیں جو حقیقی کافر تو نہیں مگر انعامات الہیہ کی ناشکری کرکے کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہ چیز بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے ۔
Ayahs 16:84–87

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم کھڑا کریں گے ہر امت سے گواہ پھر نہیں اجازت دی جائے گی ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ، اور نہ ان کو منانے کا موقع دیا جائے گا ۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے ، عذاب کو ، پس نہیں تخفیف کی جائیگی ان سے اور نہ ان کو ڈھیل دی جائے گی ۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب دیکھیں گے وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا ہے اپنے شریکوں کو تو کہیں گے ، اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے شریک جن کو ہم پکارتے تھے تیرے سوا پس ڈالیں گے وہ ان کو طرف بات اور کہیں گے ، بیشک تم البتہ جھوٹے ہو ۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور ڈالیں گے اس دن اللہ کے سامنے اطاعت اور گم ہوجائیں گی ان سے وہ باتیں جن کو وہ افتراء کیا کرتے تھے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کے رد میں بہت سے دلائل اور نشانات قدرت بیان فرمائے اور مشرکوں کی ناشکری کا ذکر کیا ، اب آج کے درس میں کفار ومشرکین کو عذاب کی وعید سنائی گئی ہے کہ جب محاسبے کی منزل آئیگی تو انہیں سخت عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا ، جس میں تخفیف بھی نہیں ہوگی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نبعث من کل امۃ شھیدا “۔ اور جس دن ہم ہر امت سے گواہ کھڑا کریں گے ، اس مقام پر گواہ سے مراد اللہ کے نبی ہیں اور گواہی سے مراد تبلیغ رسالت کو گواہی ہے ، ہر نبی اپنی امت کے متعلق اللہ کے حضور ﷺ گواہی دے گا کہ اس نے اللہ کا پیغام اپنی امت کے لوگوں تک پہنچا دیا ، مگر انہوں نے اسے تسلیم نہ کیا ، ظاہر ہے کہ اس وقت کتنا خوفناک منظر ہوگا ، اگلی آیات میں یہ بھی آرہا ہے (آیت) ” وجئنابک شھیدا علی ھوء لاء “۔ اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ کو اس آخری امت پر بطور گواہ پیش کیا جائے گا ، ہر شخص کے حق میں یا خلاف گواہی نہ صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوگی بلکہ بعض دیگر چیزیں بھی گواہ کے طور پر پیش ہوں گی ، مثلا کراما کاتبین فرشتے گواہی دیں گے جو ہر شخص کا انفرادی ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں ، ہر شخص کی حفاظت پر مامور اللہ کے فرشتے بھی بندے کے حق میں یا اس کے خلاف شہادت دیں گے ، اس کے علاوہ ہر شخص کے اپنے اعضاء وجوارح اس کے حق میں گواہ بنا جائیں گے سورة یس میں موجود ہے (آیت) ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون “۔ اس دن ہم ان کے مونہوں کو سر بمہر کردیں گے اور انکا کارکردگی کے متعلق ان کے ہاتھ اور پاؤں بول کر گواہی دیں گے ۔ حدیث شریف میں شجر وحجر کی گواہی کا ذکر بھی آتا ہے جب کوئی شخص نماز کے لیے اذان یا اقامت کہتا (1) (مسلم ص 167 ج 1) ہے تو شیطان چھتیس (36) میل تک دور بھاگ جاتا ہے اور اذان و اقامت کے اختتام پر پھر واپس آجاتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص محض اللہ کی رضا کے لیے اذان کہتا ہے ، (2) (بخاری ص 86 ج 1) اس کی آواز سننے والی ہر چیز قیامت کے روز اس کے حق میں اللہ کے حضور گواہی دے گی ، اس میں شجر ، حجر ، عمارات مینار غرضیکہ ہر چیز کی گواہی آجاتی ہے ۔ (کفار کی بےبسی) بہرحال فرمایا کہ اللہ کے نبی تبلیغ رسالت کے متعلق قیامت کو گواہی دیں گے کہ ہم نے اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیا (آیت) ” ثم لایؤذن للذین کفروا “۔ پھر کفر کرنے والوں کو اجازت نہیں دی جائیگی کہ وہ کوئی حیل وحجت کرسکیں (آیت) ” ولا ھم یستعتبون “۔ اور نہ ہی ان کے منانے کا موقع دیا جائیگا ، یعنی ان کو اس وقت توبہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی سابقہ کارکردگی پر تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکیں ، اس وقت عمل کا وقت ختم ہو کر جزائے عمل شروع ہوچکا ہوگا ، لہذا وہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی بھی نہیں مانگ سکیں گے ، اگر دنیا کی زندگی میں تائب ہو کر اللہ کو راضی کرلیتے ، اس کو منا لیتے تو جزائے عمل کے وقت مفید ہو سکتا تھا ، مگر اس وقت وہ موقع گزر چکا ہوگا ، اور کفار کوئی حیلہ بہانہ نہیں کرسکیں گے ، قرآن پاک میں متعدد مقامات پر یہ ذکر ملتا ہے کہ قیامت کے دن کفار اللہ کے حضور عرض کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے تو وہ اس کی اطاعت بجا لائیں گے مثلا سورة انعام میں ہے کہ جب انہیں دوزخ پر پیش کیا جائے گا ۔ (آیت) ” فقالوا یلیتنا نرد ولا نکذب بایت ربنا ونکون من المؤمنین “۔ اس وقت وہ کہیں گے کاش کہ ہمیں دنیا میں واپس لوٹا دیا جائے تو ہم اپنے پروردگار کی آیتوں کو نہیں جھٹلائیں گے اور مومن بن جائیں گے سورة السجدہ میں ہے کہ مجرم لوگ کہیں گے (آیت) ” ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا “۔ پروردگار ! ہم نے اپنی آنکھوں سے تیرے عذاب کو دیکھ لیا ، تیرے احکام کو سن لیا ، اب ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے ، ہم نیک اعمال انجام دیں گے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں ، اگر ان کو دوبارہ بھی موقع دے دیا جائے تو پھر بھی یہ غلط کام ہی کریں گے کیونکہ ان کی سرشت میں غلط بات ہی داخل ہوچکی ہے ۔ فرمایا (آیت) ” واذا را الذین ظلموا العذاب “۔ جب ظالم لوگ عذاب کو دیکھیں گے ، (آیت) ” فلا یخفف عنھم “۔ تو اس میں تخفیف نہیں کی جائے گی (آیت) ” ولا ھم ینظرون “ اور نہ ان کو ڈھیل دی جائیگی ، یہاں پر عذاب کے مشاہدے کے لیے ظالم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ظاہر ہے کہ کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین ، اس کی توحید ، قیامت ، رسل ، کتب اور ملائکہ کا انکار کرتا ہے وہ بہت بڑے ظلم کا مرتکب ہوتا ہے ، اسی لیے اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرہ) کافر لوگ ہی ظالم ہیں ، اور مشرک کے متعلق فرمایا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان) شرک بہت بڑا ظلم ہے اور مشرک بہت بڑا ظالم ہے ، کفر و شرک کے بعد ظلم کی تعریف میں کبائر اور صغائر معاصی آتے ہیں ، صغائر تو نیکی کرنے سے خود بخود معاف ہوتے رہتے ہیں مگر کبائر بغیر سچی توبہ کے معاف نہیں ہوتے ، تو فرمایا کہ ظالم لوگوں کو جب عذاب میں مبتلا کیا جائے گا تو پھر نہ تو اس میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی ، سورة بقرہ میں بھی موجود ہے کہ جو لوگ کفر کی حالت میں مر گئے ، ان پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور عام لوگوں کی لعنت ہوگی ، وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے (آیت) ” لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون “۔ انکے عذاب میں نہ تو تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی ، دوسری جگہ ہے کہ یہ لوگ خود تمنا کریں گے کہ ایک دن کے لیے ہم سے عذاب میں تخفیف کردی جائے تاکہ ہم تھوڑی دیر کے لیے سکون حاصل کرسکیں مگر اس وقت ان کی کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی ۔ (شرکاء کا انکار) فرمایا (آیت) ” واذا رالذین اشرکوا شرکآء ھم “۔ اور جب مشرک لوگ اپنے شرکاء کو دیکھیں گے ، قیامت کے دن اپنے باطل معبودوں سے ملاقات ہوگی ، (آیت) ” قالوا ربنا ھؤلآء شرکآء نا “۔ تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ! یہ ہیں ہمارے وہ شریک (آیت) ” الذین کنا ندعوا من دونک “۔ جن کو ہم تیرے سوا پکارتے تھے ، وہ شریک جن کو ہم مصیبت میں پکارتے تھے ، جن کے نام کی نذر ونیاز دیتے تھے اور جن کی ہم عبادت کرتے تھے ، یہ رہے ہمارے وہ معبود (آیت) ” فالقوا الیھم القول “۔ تو ادھر سے ان پر بات ڈالی جائے گی یعنی وہ معبودان جواب دیں گے (آیت) ” انکم لکذبون “۔ کہ بیشک تم جھوٹے ہو ، معبودیت سے انکار کرنے والے ہر قسم کے معبود ہوں گے ، جیسا کہ سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے کہ خود شیطان بھی انکار کر دے گا ، جب لوگ قیامت کے دن اس کا گھیراؤ کریں گے کہ تو دنیا میں ہمیں بہکاتا رہا ، لہذا آج ہم سے عذاب دور کرنے کا کوئی بندوبست کر تو وہ جواب دیگا (آیت) ” وما کان لی علیکم من سلطن الا ان دعوتکم فاستجبتم لی “۔ (ابراہیم) میرا تم پر کوئی غلبہ تو نہیں تھا یعنی میں نے تم سے کوئی بات زبردستی تو نہیں منوائی تھی ، میں نے تمہیں کفر ، شرک ، اور برائی کی محض دعوت دی تھی جسے تم نے بلا سوچے سمجھے قبول کرلیا ، لہذا اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو تم اپنے فعل کے خود ذمہ دار ہو ۔ بعض فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں ماننے والے اور ان کی پوجا کرنے والے دیوی دیوتاؤں کو معبود ماننے والے ، ان کی نیاز دینے والے اور عبادت کرنے والے جب اللہ کے حضور ﷺ فرشتوں کو بطور معبود پیش کریں گے تو وہ بھی جواب دیں گے ” سبحنک “ اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے ، ہم تو تجھے ہی کارساز سمجھتے رہے ، بھلا ہم انہیں کیسے کہہ سکتے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر ہمیں اپنا معبود بنا لو ، یہ لوگ جھوٹے ہیں ، غرضیکہ تمام انبیاء صلحا اور نیک لوگ انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا کہ ہمیں اپنا معبود بنا لو ، مسیح (علیہ السلام) کے متعلق سورة مائدہ میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے ، اللہ تعالیٰ دریافت کریں گے کہ کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ، تو مسیح (علیہ السلام) عرض کریں گے ، پروردگار ! مجھے یہ کیسے حق پہنچتا ہے کہ میں کوئی ایسی بات کروں جس کا تو نے مجھے حکم نہیں دیا ، میں نے تو ان سے یہی کہا (آیت) ” ان اعبدواللہ ربی وربکم “ صرف اللہ کی عبادت کرو جو تمہارا بھی رب ہے اور میرا بھی رب ہے جو لوگ قبروں کے ساتھ شرکیہ معاملات کرتے ہیں ، وہ قبروں والے بھی بیزاری کا اعلان کردیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ اے شرک کرنے والو (آیت) ” انکم لکذبون “۔ تم اپنے دعوے میں جھوٹے ہو ، ہم نے تمہیں اپنی پرستش کے لیے کوئی حکم نہیں دیا تھا ، غرضیکہ سب انکار کردیں گے ۔ (جنتی اور دوزخی کا مکالمہ) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حساب کتاب کی منزل کے بعد جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیے گے تو آپس میں کروڑوں میل کے بعد کے باوجود وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور آپس میں مکالمہ بھی کریں گے چناچہ سورة الصفت میں موجود ہے کہ ایک مومن آدمی کسی کافر واقفکار کو دیکھنا چاہے گا (آیت) ” فراہ فی سوآء الجحیم “۔ تو وہ اسے جہنم میں پڑا پائیگا ، پھر مومن اس سے کہے گا کہ اگر میں بھی تیری بات پر چلتا تو آج تیرے ساتھ جہنم میں ہوتا ، اللہ نے مجھ پر بڑا احسان فرمایا کہ مجھے کفر وشرک سے محفوظ رکھا جس کی بنا پر میں آج راحت کے مقام میں ہوں اور تم تکلیف میں ہو ، اسی طرح جب ملائکہ ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا حضرت عزیز (علیہ السلام) کی پرستش کرنیوالے ان کو جنت میں دیکھیں گے تو کہیں گے ، پروردگار ! یہ ہیں ہمارے معبود ، مگر آگے سے جواب آئیگا ، (آیت) ” انکم لکذبون “۔ تم جھوٹے ہو ، ہم نے تو تمہیں اپنی عبادت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ، تم نے خود شیطان کا اتباع کیا اور آج اس کا بھگتان کر رہے ہو ۔ (بعد از مرگ واویلا) جب کفار ومشرکین ہر طرف سے مایوس ہوجائیں گے تو پھر خالص اللہ کی طرف رجوع کریں گے (آیت) ” والقوالی اللہ یومئذ السلم “ آج کے دن اللہ کے سامنے اطاعت کی بات ڈالیں گے یعنی اس کی فرمانبردار کا دم بھریں گے کہ اب ہم تمہاری ہر بات ماننے کو تیار ہیں ، مگر اس وقت اس جذبے کا اظہار کسی کام نہ آئے گا عمل کا وقت ختم ہوچکا ہوگا ، اور پھر اس وقت (آیت) ” وضل عنھم ماکانوا یفترون وہ سب باتیں ان سے گم ہوجائیں گی جن کو وہ افتراء کیا کرتے تھے ، جو بھی شرکیہ یا کفریہ عقائد رکھتے تھے اور ان پر عمل کرتے تھے یا جن شرکیہ رسومات کو عمر بھر سینے سے لگائے رکھا ، وہ سب ختم ہوجائیں گی ، کوئی چیز ان کی مدد کو نہیں پہنچے گی ، اس وقت اطاعت کا اظہار ” بعد از مرگ واویلا “ کے مترادف ہوگا ۔