16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 16:57–60

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں یہ لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں ، پاک ہے اس کی ذات ، اور اپنے لیے وہ کچھ جو وہ چاہتے ہیں ۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

اور جب خوشخبری دی جائے ان میں سے کسی کو بیٹی کی تو ہوجاتا ہے اس کا چہرہ سیاہ اور وہ غم میں بھرا ہوا ہوتا ہے ۔

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

جھپتا ہے قوم سے اس بری خبر کی وجہ سے (اور خیال کرتا ہے کہ) روک رکھے اس کو ذلت پر ، یا داب دے اس کو مٹی میں سنو ! برا ہے وہ جو یہ فیصلہ کرتے ہیں ۔

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، یہ بری مثال ہے اور اللہ کی مثال بلند رہے اور وہ زبردست اور حکمت کا مالک ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو خدا ماننے والے مجوسیوں یا ثنوی فرقے والے مشرکوں کا رد فرمایا ، پھر مطلق شرک کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی کہ وہ اپنی کمائی میں سے غیر اللہ کے تقرب کے لیے ان کے نام کی نذر ونیاز دیتے ہیں ، فرمایا نعمتیں تو ساری کی ساری خدا تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں تو اس میں سے دوسروں کا حصہ نکالنے کا کیا مطلب ؟ تکلیف تو اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے مگر نذر ونیاز اغیار کی دی جاتی ہے ، فرمایا یہ لوگ اس چند روزہ زندگی سے فائدہ اٹھالیں ، آگے چل کر انہیں پتہ چل جائے گا جو یہ افتراء کیا کرتے تھے ۔ (خدا کے لیے بیٹیاں) اب اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی ایک اور قسم کا رد فرمایا ہے فرمایا (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “۔ اور ٹھہراتے ہیں یہ لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں ، پھر ان کو دیویاں مان کر ان کی پوجا کرتے ہیں اور حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں ، دیویوں کا تصور عربوں کے علاوہ دیگر اقوام میں بھی پایا جاتا تھا ، مثلا ہندوؤں میں کلکتے والی کالی دیوی مشہور ہے جس کے نام پر کلکتہ میں مندر بھی بنا ہوا ہے ، یہاں پر انسانوں ، خاص طور پر چھوٹے بچوں کو کالی دیوی کی بھینٹ (قربانی) چڑھایا جاتا ہے تاکہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور وہ لوگوں پر قہر کا باعث نہ بنے ، اسی طرح یونانی زہرہ ستارے کو دیوی مانتے تھے ، اور اس کے نام پر مندر بھی بنا رکھا تھا ، ان کا عقیدہ تھا ۔ بعتاب زفس قارورتان ذی لخیر وذی لشر الھون : یعنی زہرہ دیوی کی دہلیز پر قسمت کی دو شیشیاں رکھی ہیں ان میں سے ایک بوتل میں خیر ہے اور دوسری میں شر ہے گویا یہ دیوی خیر وشر کی مالکہ ہے ، پرانے آشوریوں میں بھی اس قسم کا تصور پایا جاتا تھا ، عرب کے بعض قبائل بنو خزاعہ وغیرہ فرشتوں کی خدا کی بیٹیاں مانتے تھے اور کہتے تھے کہ جننیاں (مادہ جن) ان کی مائیں ہیں ، اسی باطل عقیدے کے متعلق اللہ نے سورة الصفت میں فرمایا ہے (آیت) ” وجعلوابینہ وبین الجنۃ نسبا “۔ ان بدبختوں نے اللہ تعالیٰ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری قائم کر رکھی ہے ، گویا جنات خدا تعالیٰ کے سسرال ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ فرمایا ، دیکھو ، یہ کتنا باطل عقیدہ ہے حقیقت میں سبحنہ ‘ خدا تعالیٰ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے ، خدا کی طرف اولاد کی نسبت کرنا نہایت ہی گستاخی اور بےادبی کی بات ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی شان رفیع کے بالکل خلاف ہے کہ اس کی کوئی بیوی اور اولاد ہو ، تو فرمایا اللہ تعالیٰ کے لیے تو بیٹیوں کا تصور رکھتے ہیں (آیت) ” ولھم ما یشتھون “۔ اور اپنے لیے وہ کچھ چاہتے ہیں جو انہیں پسند ہے یعنی خدا کی بیٹیوں کے میں اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں جو کہ ویسے بھی عقل کے خلاف ہے فارسی کا مقولہ ہے ” آنچہ برخود نہ پسندی “ بردیگرنہ پسندی ‘ یعنی جو چیز خود پسند نہیں کرتے ، وہ دوسروں کے لیے کیسے گوارا کرتے ہو ؟ اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بعض عرب قبائل کے اس غم وغصہ کا ذکر کیا ہے جس کا اظہار وہ اپنی بیٹی کی پیدائش پر کیا کرتے تھے (آیت) ” واذا بشر احدھم بالانثی “۔ اور جب انہیں بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری دی جاتی ہے یعنی کسی شخص کے گھر بیٹی ہوتی اور اس بات کی اطلاع اسے دوران مجلس دی جاتی ، تو پھر اس کی حالت یہ ہوتی (آیت) ” ظل وجھہ مسودا “۔ اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ، یہ خبر اس پر بجلی بن کر گرتی کہ وہ ایک بیٹی کا باپ بنا گیا ہے (آیت) ” وھو کظیم “۔ اور وہ غم سے نڈھال ہوجاتا ، اللہ نے فرمایا کہ بیٹی کی پیدائش پر ان مشرکین کی یہ حالت ہوجاتی ہے مگر انہی بیٹیوں کی نسبت اللہ کی طرف کرنے میں ذرا شرم نہیں کھاتے ، اور پھر وہ اپنی اس بدنامی کے مزعومہ داغ کو دھونے کے لیے طرح طرح کے حیلے بہانے کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” یتواری من القوم من سوء مابشربہ “۔ پھر وہ اس بری خبر کی وجہ سے قوم سے چھپتا پھرتا ہے کسی کو اپنا منہ نہیں دکھانا چاہتا کہ لوگ کہیں گے اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے اس شرم کے بارے میں وہ اپنی بستی اور گھر بار بھی چھوڑ بیٹھتے ، چناچہ امام جاخط نے ” البیان والتبیین “ میں ایک عورت کے چند اشعار لکھے ہیں جن میں اسی قبیح صورت حال کو بیان کیا گیا ہے بچی کی پیدائش پر جب اس کا خاوند گھر بار ہی چھوڑ بیٹھتا ہے ، تو وہ اسے اس طرح خطاب کرتی ہے ۔ مالا بی ھمزۃ لا یاتینا یبیت فی بیت التی تلینا ۔ اے ابوہمزہ ! تجھے کیا ہوگیا ہے کہ تو ہمارے پاس نہیں ۔ آتا بلکہ پڑوسیوں کے گھر میں رہتا ہے ۔ غضبان الا نلد البنینا تاللہ ماذاک بایدینا : تو اس بات سے ناراض ہے کہ ہم بچے نہیں جنتیں حالانکہ خدا کی قسم یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں ہے ۔ نحن کزرع لما قد زرعوافینا : ہم عورتیں تو کھیتی کی مثال ہیں کہ جیسا بیج پڑتا ہے ویسی ہی پیدا وار ہوتی ہے ۔ (بیٹی سے گلوخلاصی) وہ بدنصیب جو بیٹی کی پیدائش پر پریشان ہوجاتا ہے ، اس سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے منصوبے بناتا ہے اپنے دل میں سوچتا ہے (آیت) ” ایمس کہ علی ھون “۔ کیا میں ذلت برداشت کرتے ہوئے بیٹی کو روک رکھوں (آیت) ” ام یدسہ فی التراب “۔ یا اسے مٹی میں داب دوں ، وہ بیوقوف لوگ بیٹی کو اس لیے باعث ذلت سمجھتے تھے کہ بڑی ہوگی تو اس کی شادی ہوگی اور پھر لوگ کہیں گے کہ یہ فلاں کا داماد ہے وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ بھی تو کسی عورت ہی کا جنا ہوا ہے اگر عورت نہ ہوتی تو اس کی اپنی پیدائش کب ممکن ہوتی ، وہ لوگ محض خودساختہ جاہلانہ غیرت کو سینے سے لگائے بیٹھے تھے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے فرمایا (آیت) ” الا سآء مایحکمون “۔ دیکھو یہ کتنا برا فیصلہ کرتے ہیں ، بہرحال سارے عرب بچیوں کے ساتھ یہ وحشیانہ سلوک نہیں کرتے تھے بلکہ چند قبائل بنوخزاعہ ، بنی کنانہ ، مضر اور بنو تمیم تھے جو عام طور پر بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ۔ (زندہ درگور) اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ جب بچی چھٹے سال میں پہنچتی تو اس کو خوب نہلا دھلا کر اور نئے کپڑے پہنا کر باہر جنگل میں لے جاتے اور پھر اس مقصد کے لیے پہلے سے کھودے گئے گڑھے میں پھینک کر اوپر مٹی ڈال دیتے بعض بدبخت پانی میں ڈبوکر ہلاک کردیتے یا کسی پہاڑی سے نیچے گرا دیتے بہرحال نومولود بچیوں کا یہ قتل عربوں میں رائج تھا ، اس کی سینگنی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة التکویر میں کیا ہے (آیت) ” واذا الموء دۃ سئلت بای ذنب قتلت “۔ قیامت والے دن زندہ درگور ہونے والی بچی سے پوچھا جائے گا بتا ، تجھے کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا ، ان بےنصیبوں کو اس وقت پتہ چلے گا ، جب انہیں اس ظلم کا ازالہ کرنا پڑے گا ، حضور ﷺ کے صحابی حضرت قیس ؓ نے آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں ، بہت پریشان رہتا ہوں ، وجہ یہ ہے کہ میں جاہلیت کے دور میں آٹھ بچیوں کو زندہ درگور کرچکا ہوں مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ میں کتنے بڑے ظلم کا مرتکب ہوا ہوں ، آپ ﷺ نے تسلی دیتے ہوے فرمایا کہ اسلام پہلے سے کئے گئے گناہوں کو منہدم کردیتا ہے ، اب تمہارے کرنے کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سابقہ گناہوں کی معافی طلب کرو ، نیز ہر زندہ درگور کردہ بچی کے عوض ایک غلام آزاد کرو ، اس شخص نے عرض کیا حضور ! میرے پاس غلام نہیں ہیں جو آزاد کرسکوں ، البتہ میرے پاس جانور ہیں ، آپ نے فرمایا ہر بچہ کے بدلہ ایک اونٹ ہدی کر دو ، شاید کہ بارگاہ رب العزت میں کچھ کفارہ بن جائے ، تاہم عام قانون یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے کردہ گناہوں پر گرفت نہیں ہوگی ، امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ جب سے اسلام لایا ہوں ، سخت پریشانی میں مبتلا ہوں حتی کہ راتوں کو نیند بھی اچاٹ ہوگئی ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں میرے ہاں بچی پیدا ہوئی جس کا میں نے بہت برا منایا ، تاہم میں نے اس کو زندہ رہنے دیا پھر جب وہ چھٹے سال میں داخل ہوئی ، تو میں نے اس کی ماں سے کہا کہ اسے نہلاؤ ، اچھے کپڑے پہناؤ سرمہ لگاؤ ، اور خوب زینت کا سامان کرو ، پھر جب وہ تیار ہوگئی تو میں لے کر جنگل کی طرف چل دیا ، میں اسے ایک گہرے گڑھے پر لے گیا جو میں نے اس مقصد کے لیے پہلے ہی کھود رکھا تھا میں نے بچی سے کہا کہ ذرا اس کنوئیں میں جھانک کر تو دیکھو جونہی اس نے ادھر توجہ کی میں نے پیچھے سے دھکا دے کر اسے کنوئیں میں گرا دیا وہ بڑی چیخی چلائی اور ابا ابا کہہ کر پکارتی رہی مگر میں نے اوپر سے مٹی ڈال کر اسے زندہ گاڑھ دیا ، مجھے یہ حرکت بہت پریشان کر رہی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اسلام لانے سے پہلے کے گناہوں کے متعلق اب سوائے استغفار کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا ، یا پھر صدقہ خیرات کرو ، غلام آزاد کرو یا جانوروں کی ہدی پیش کرو تاکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی دور ہو ۔ (رحمدلی کی مثال) حضرت علی ؓ کے زمانہ میں عرب کے دو مشہور شاعر فرزدق اور جریر ہوئے ، دونوں مسلمان تھے مگر خاندانی عصبیت کی وجہ سے ایک دوسرے کے مدمقابل تھے اور ایک دوسرے کی ہجو بیان کیا کرتے تھے ، ان میں سے فررزدق کے متعلق آتا ہے کہ اس کا دادا صعصعۃ ؓ عنہحضور ﷺ کا صحابی تھا ، زمانہ جاہلیت میں اس میں یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ جہاں کہیں اسے پتہ چلتا کہ فلاں شخص کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے اور وہ اسے زندہ درگور کرنا چاہتا ہے تو وہ اس شخص کے پاس جاتا ، اسے بچی کے عوض دو اونٹ اور کچھ مال دے کر بچی کو حاصل کرکے اس کی جان بچا لیتا کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں اس نے تین سو ساٹھ بچیوں کی جان بچائی ، اللہ نے اس زمانہ جاہلیت میں بھی اس شخص کے دل میں ایسی شفقت پیدا کردی تھی مگر بچیوں کو قتل کرنے والوں کی بھی کمی نہیں تھی جو بچی کی پیدائش کو بدنامی کا باعث سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی واقعات کے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ فرمایا ہے کہ جب انہیں بچی کی پیدائش کی خبر ملتی تو ان کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور سوچنے لگتے کہ ایسی بچیوں کو زندہ رکھ کر بدنامی مول لی جائے یا اسے زندہ درگور کردیا جائے ۔ (جہیز کی لعنت) مفسرین کرام (آیت) ” ام یدسہ فی التراب “۔ کے دو مطلب بیان کرتے ہیں ایک مطلب تو پہلے بیان ہوچکا ہے کہ وہ لوگ اپنی نام نہاد و غیرت کی بنا پر بچیوں کو قتل کردیتے تھے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ معاشی بدحالی کی وجہ سے اپنی اولادوں کو قتل کردیتے تھے ، کہتے تھے کہ ان کو کما کر کون کھلائے گا اللہ نے ایسے ہی باطل خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ولا تقتلوا اولادکم من املاق “۔ (سورۃ انعام) یعنی اپنی اولاد کو فقر کے ڈر سے قتل نہ کرو جو خدا تعالیٰ تمہیں روزی دے رہا ہے وہ ان کے لیے بھی بندوبست کریگا ، اسی طرح پنجاب میں بچیوں کے نکاح میں جہیز کا مسئلہ درد سر بنا ہوا ہے ، والدین جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کا نکاح نہیں کرسکتے اور اسی انتظار میں بچیوں کو روک لیا جاتا ہے ، بعض والدین بچیوں کو خالی ہاتھ رخصت کرنے میں اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور اب بعض لڑکے والے لمبے چوڑے جہیز کا مطالبہ کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے کتنی ہی لڑکیوں کی عمر برباد ہوجاتی ہے ، اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے تاکہ بچے بچیوں کے نکاح سنت کے مطابق سادگی سے انجام پائیں اور لوگوں کو جہیز کی لعنت سے نجات حاصل ہوجائے ، (عورت نصف انسانیت ہے) عورت کو ذلیل اور حقیر سمجھنا سخت جہالت کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے جنسی تفریق پیدا کردی ہے ، کسی کو مرد بنایا ہے اور کسی کو عورت ، کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ عورت کو محض عورت ہونے کی بنا پر حقیر سمجھے کسی کو لڑکا دے یا لڑکی ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، کسی مخلوق کے بس میں نہیں ہے ، یہ اللہ کی مصلحت کے مطابق ہوتا ہے جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ، تاہم عورت نصف انسانیت ہے ، متمدن دنیا میں عورت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مرد کی ، اگر مرد کو اللہ نے عورت پر فوقیت عطا فرمائی ہے تو اسے خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے ، نہ کہ عورت کو ذلیل سمجھے ، اللہ عورت کے لیے بھی خاص احکام مقرر فرمائے ہیں اور اس کو خاص فرائض سونپے ہیں ، قانون کی نظر میں وہ بھی مرد کی طرح باعزت ہے ، اس کو بھی آرام و راحت کی ضرورت ہے جس طرح مرد کو نسل انسانی کی بقا کے لیے عورت اور مرد دونوں کی ضرورت ہے ، لہذا بچی کی پیدائش پر بھی اسی طرح خوش ہونا چاہئے جس طرح بچے کی ولادت پر ۔ فرمایا (آیت) ” للذین لا یؤمنون بالاخرۃ مثل السوء “۔ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کی بری مثال ہے جبھی تو وہ حقیر و ذلیل کام کرتے ہیں (آیت) ” وللہ المثل الاعلیٰ “۔ اور اللہ ہی کی مثال بلندو برتر ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے ، نہ اس کی بیوی ہے نہ بچے ، وہ غنی ، صمد اور بےنیاز ہے (آیت) ” وھو العزیز الحکیم “۔ وہ کمال قدرت اور حکمت کا مالک ہے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنانا چاہئے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں ٹھہرانا باطل عقیدہ ہے ، ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا ذہنی پس منظر بیان فرمایا ہے ۔
Ayahs 16:61–65

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ مؤاخذہ کرتا لوگوں سے ان کے ظلم کی وجہ سے تو نہ چھوڑتا اس (زمین) پر کوئی چلنے پھرنے والا ، لیکن اللہ مہلت دیتا ہے ان کو مقررہ وقت تک پس جب آجائیگا ان کا مقررہ وقت تو نہیں پیچھے ہوں گے ایک گھڑی بھر (اس سے) اور نہ آگے ۔

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور ٹھہراتے ہیں یہ لوگ اللہ کے لیے وہ چیز جس کو یہ خود ناپسند کرتے ہیں اور بیان کرتی ہیں ان کی زبانیں جھوٹ کہ ان کے لیے بھلائی ہے ضرور برضرور بیشک ان کے لیے (دوزخ کی) آگ ہے اور وہ آگے بڑھائے گئے ہیں ۔

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

اللہ کی قسم بیشک ہم نے بھیجا امتوں کی طرف آپ سے پہلے رسولوں کو پس مزین کیا ان کے لیے شیطان نے ان کے (غلط) اعمال کو ، پس وہی آج کے دن ان کا رفیق ہے اور ایسے لوگوں کے لیے عذاب الیم ہے ۔

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور نہیں اتاری ہم نے آپ پر کتاب مگر اس لیے تاکہ آپ بیان کریں ان کے لیے دوہ چیز جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں ۔

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور اللہ کی ذات وہ ہے جس نے اتارا آسمان کی طرف سے پانی پس زندہ کیا اس کے ساتھ زمین کو اس کے خشک ہونے کے بعد بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں ۔

(ربط آیات) گذشتہ رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دلائل توحید بیان فرمائے اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ دو خدا نہ بناؤ بلکہ معبود برحق تو صرف ایک ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں کی مختلف کارگزاریوں کا ذکر فرمایا ، منجملہ ان کے ایک یہ بھی تھی کہ خدا تعالیٰ کی بیٹیوں کا تصور رکھتے تھے جو کہ اس کی شان میں گستاخی اور سخت بےادبی ہے ، فرمایا کہ اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو مگر خدا تعالیٰ کی نسبت اپنی ناپسندیدہ مخلوق بیٹیوں کی طرف کرتے ہو ، ان کی حالت یہ تھی کہ اگر کسی شخص کو اس کی بیٹی کی ولادت کی خبر دی جاتی تو غم وغصہ اور ندامت کی وجہ سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا اور پھر وہ سوچنے لگتا کہ اس بیٹی کو ذلت برداشت کرتے ہوئے زندہ رہنے دوں یا پھر فورا ہی زندہ درگور کر دوں ۔ (ظالموں کی گرفت) اب آج کی آیات میں بھی اللہ نے مشرکین ہی کا رد فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا ذکر فرمایا ہے ، اللہ کی مہربانی کی وجہ سے اکثر وبیشتر مجرمین کو اس دنیا میں مہلت دی جاتی ہے ، وگرنہ اس کی گرفت تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بھی آسکتی ہے ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم “۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ان کامؤاخذہ کرتا (آیت) ” ما ترک علیھا من دآبۃ “۔ تو روئے زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہ چھوڑتا ، اس حصہ آیت میں الناس کا لفظ عام ہے جیسا کہ اگلے لفظ دآبہ سے ظاہر ہوتا ہے ، اور مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پر آئے تو انسانوں کے گناہوں کا اثر جانوروں پر بھی پڑے اور وہ انسانوں کے ساتھ ہی ہلاک ہوجائیں ، باقی رہا ظلم کہ اس کی حدود وقیود کیا ہیں ، تو یہ لفظ بھی عام ہے اور ہر چھوٹی سے چھوٹی خطا سے لے کر بڑے سے بڑے گناہ پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ، مثلا اگر کسی شخص نے مسجد میں داخل ہوتے وقت دائیں کی بجائے بایاں پاؤں پہلے رکھ لیا تو یہ بھی ظلم میں شمار ہوتا ہے ، البتہ بعض مفسرین نے خاص کیا ہے جیسے (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان) شرک بہت بڑا ظلم ہے اور کفر کے متعلق بھی فرمایا (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرہ) کافر ہی ظلم کرنے والے ہیں تو گویا اگر اللہ تعالیٰ مؤاخذہ کرنا چاہے تو ادنی سے ادنی یا بڑے سے بڑے گناہ پر کرسکتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روئے زمین پر نہ کوئی انسان نظر آئے اور نہ چرند پرند اور کیڑے مکوڑے ، اللہ سب کو ہی ملیامیٹ کر دے مگر یہ چیز اس کے قانون امہال وتدرس کے خلاف ہے وہ بسا اوقات دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے (آیت) ” سنستدرجھم من حیث لا یعلمون “۔ (القلم) وہ ایسے ذرائع سے مہلت دیتا ہے جو لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے اور پھر جب وہ مہلت ختم ہوجاتی ہے تو اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے ، جسے کوئی روک نہیں سکتا ۔ (ظلم کا اثر) حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آپ کے سامنے کسی شخص نے اس بات کا ذکر کیا کہ ظالم آدمی صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے ، اس پر آپ نے فرمایا نہیں بلکہ ظلم کا اثر دوسروں پر بھی پڑتا ہے ۔ فرمایا ” ان الخبارۃ یموت ھزلا من الظلم “۔ یعنی جنگلی مرغ (سرخاب) ظلم کی وجہ سے اپنے گھونسلے میں لاغر ہو کر مر جاتا ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے بھی منقول ہے کہ کیڑا اپنی بل میں ظلم کی وجہ سے مرجاتا ہے ، گویا ظلم کا اثر دوسری چیزوں پر بھی پڑتا ہے ، بخاری ، مسلم اور مؤطا امام مالک (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ جب کوئی ظالم ، فاسق اور مجرم آدمی مر جاتا ہے تو جانور ، درخت حتی کہ ہر چیز خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے کہ وہ ظالم کی نحوست سے چھوٹ گئی ، ظلم بہرحال برا ہے خواہ وہ عقیدے میں کفر وشرک کی شکل میں ہو یا اعمال میں جو روجفا کی صورت میں ۔ (مقررہ وقت تک مہلت) فرمایا اگر اللہ تعالیٰ ظالموں کا مؤاخذہ کرتا تو فورا پکڑ لیتا مگر اس کا قانون یہ ہے (آیت) ” والکن یؤخرھم الی اجل مسمی “۔ بلکہ وہ لوگوں کو مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر فرد ، ہر قوم ، ہر بستی اور ہر ملک کے لیے اپنی حکمت کے مطابق ایک وقت مقرر کر رکھا ہے ، (آیت) ” فاذا جآء اجلھم “ پھر جب مہلت گزرنے کے بعد مقررہ وقت آجاتا ہے (آیت) ” لا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “۔ تو پھر وہ ایک گھڑی بھر بھی نہ اس وقت سے پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے بلکہ عین وقت پر اللہ تعالیٰ کا حکم آجاتا ہے اور وہ لوگ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں ، یہ تو اللہ کا عام قانون ہے کہ وہ مہلت دیتا رہتا ہے مگر بعض اوقات وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق جلدی بھی گرفت کرلیتا ہے کیونکہ اس کی منشا میں کسی کو دخل کی مجال نہیں ۔ (برائی سے بھلائی کی توقع) فرمایا دیکھو ! ان لوگوں کی حالت یہ ہے (آیت) ” ویجعلون للہ ما یکرھون “۔ اور ٹھہراتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لیے وہ چیز جس کو خود ناپسند کرتے ہیں یہ لوگ اپنے لیے تو بیٹیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں ٹھہراتے ہیں خود تو اپنی ملکیت میں کسی کو شریک کرنا پسند نہیں کرتے مگر اللہ تعالیٰ کے لیے شریک ٹھہراتے ہیں اپنے حق میں ذراہ بھر بھی کوتاہی یا استخفاف کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے فرشتوں اور نبیوں کی گستاخی کرتے ہیں اور خود رب العزت کی بارگاہ میں بےادبی کا ارتکاب کرتے ہیں ، فرمایا ان تمام زیادتیوں کے باوجود (آیت) ” وتصف السنتھم الکذب “۔ ان کی زبانیں جھوٹ بولتی ہیں (آیت) ” ان لھم الحسنی “۔ کہ بھلا انہی کا ہوگا ، اپنی تمام تر خرابیوں ، نافرمانیوں اور کفر وشرک کے باوجود ان کا دعوی یہ ہے کہ بھلائی انہی کا حق ہے جو ضرور انہیں حاصل ہوگا ، مشرک لوگ تو صاف کہتے تھے کہ اول تو قیامت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے اور اگر بالفرض قیامت واقع ہوگئی تو وہاں پر بھی ہمیں ہی کامیابی حاصل ہوگی ، ہماری کسی سہولت میں کمی نہیں آئے گی ، فرمایا یہ لوگ کیسی جھوٹی بات کر رہے ہیں ، عقیدے کی ہر نجاست میں ملوث ہیں اور اعمال میں ہر بدکرداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر توقع اچھائی کی کر رہے ہیں ، (دوزخ کی آگ) فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” لا جرم ان لھم النار “۔ ان کے لیے تو ضرور برضرور دوزخ کی آگ ہے ، (آیت) ” وانھم مفرطون “۔ اور بیشک وہ آگے بڑھائے گئے ہیں ، یعنی دوزخ کی آگ پر پیش کئے گئے ہیں یہاں پر ” مفرطون “ را کی زبر کے ساتھ مفعول کا صیغہ ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ لوگ آگے بڑھائے گئے ہیں اور اگر ” مفرطون “ را کی زیر کے ساتھ ہو تو یہ فاعل کا صیغہ بنتا ہے اور معنی یہ ہوگا کہ یہ لوگ زیادتی کرنے والے ہیں یہ معنی بھی درست ہے کہ یہ لوگ ، کفر شرک اور معاصی کا ارتکاب کرکے زیادتی کے مرتکب ہوئے فرط کا معنی فراموش کردینا بھی ہوتا ہے اگر ان معانی پر محمول کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ایسے ناہنجاروں کو دوزخ میں ڈال کر فراموش کردیا جائے گا ، فرط کا معنی پیش رو بھی آتا ہے جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” انا فرطکم علی الحوض “۔ میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا ، یعنی میں تم سے پہلے وہاں موجود ہوں گا ، قبرستان میں جا کر کی جانے والی دعا جو حضور ﷺ نے سکھائی ہے اس میں یہ الفاظ آتے ہیں ، ” انتم لنا فرط “ تم ہمارے پیش رو ہو ” وانا بکم للاحقون “ اور ہم بھی تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ” یغفرا اللہ لنا ولکم “۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری غلطیاں معاف فرمائے ، بہرحال فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی توقع رکھتے ہیں جب کہ یہ دوزخیوں کے پیش رو ہوں گے یا انہیں دوزخ کی طرف آگے بڑھایا جائے گا ، (تزئین اعمال) آگے اللہ تعالیٰ نے تاکیدا فرمایا ہے (آیت) ” تاللہ لقد ارسلناالی امم من قبلک “ اللہ کی قسم ، بیشک ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کو مختلف قوموں کی طرف بھیجا ، انہوں نے لوگوں کو انذار کیا مگر (آیت) ” فزین لھم الشیطن اعمالھم “ شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کرکے دکھایا ، تمام انبیاء کے دور میں یہی کچھ ہوا کہ شیطان نے کفر شرک ، بدعت ، اور معاصی والے اعمال خوبصورت کرکے دکھائے ، ان کی خوبیاں بیان کیں اور کہا کہ ایسا کرنے میں ہی عزت اور اجروثواب ہے ، تو لوگ شیطان کے پیچھے لگ گئے اور خدا کے احکام کی نافرمانی کرتے رہے اللہ نے فرمایا (آیت) ” وھو ولیھم الیوم “ اور آج بھی شیطان ہی ان کا دوست ، رفیق اور ساتھی ہے اور وہ انہیں ہر بری چیز مزین کرکے دکھا رہا ہے آج بھی لوگ اسی کے جال میں پھنس کر رسولوں کی بات کا انکار کر رہے ہیں اور رسومات باطلہ پر کاربند ہیں ۔ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہے (آیت) ” ولھم عذاب الیم “۔ کہ آخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا گیا ہے ، اللہ نے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیے ہیں اور اب انہیں عذر پیش کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سب کچھ سمجھا دیا ہے مگر یہ خود عذاب کے مستحق بن رہے ہیں ۔ (تبیین کتاب کا فریضہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما انزلنا علیک الکتب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ “۔ اور نہیں اتاری ہم نے آپ پر کتاب مگر اس لیے تاکہ آپ کھول کر بیان کردیں وہ چیز جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں ، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت اور معاد میں اختلاف کرتے ہیں ، آپ کی بات کو تسلیم نہیں کرتے ، لہذا آپ انہیں اچھی طرح سمجھا دیں نبی کے یہ فرائض میں داخل ہے کہ وہ کتاب الہی کی مراد کو لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کر دے تاکہ کسی کو کوئی اشتباہ باقی نہ رہے مختلف قسم کے حوادثات ، ماجریات اور حالات انسان کو پیش آتے رہتے ہیں ، اللہ نے بعض کا مدار انسانی عقل پر رکھا ہے اور بعض چیزوں کو اہل علم کے سپرد کیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے اچھی طرح وضاحت کردیں ، چونکہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی سب سے زیادہ علم عطا کرتا ہے اس لیے یہ ان کے فرض منصبی میں داخل ہے کہ وہ ہر چیز کو خوب کھول کر بیان کردیں ، اللہ تعالیٰ نے سورة ہود کی ابتداء میں فرمایا ہے کہ اس کتاب یعنی قرآن پاک کی آیات کو محکم کیا گیا ہے (آیت) ” ثم فصلت من لدن حکیم خبیر “ پھر خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے وضاحت ہے قرآن پاک میں اساسی تعلیم ہے ، اللہ نے تمام مطلوبہ اصول مہیا کردیے ہیں جن کی توضیح اللہ کا نبی اپنے قول اور عمل کے ذریعے کرتا ہے ، تو فرمایا کہ یہ لوگ عقیدے میں اختلاف کرتے ہو یا اعمال میں ، ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ اس کو کھول کر بیان کردیں ۔ اسی وضاحت کے ضمن میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا تھا کہ لوگو ! میری بات کو اچھی طرح سن لو اور سمجھ لو (آیت) ” ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ “۔ (یونس) پھر تمہارے معاملے میں کوئی پیچیدگی باقی نہیں رہنی چاہئے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو تو ان کی قوم نے صاف صاف کہہ دیا (آیت) ” قالوا یشعیب ما نفقہ کثیرا مما تقول “ (ھود) اے شعیب ! تمہاری بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ، حالانکہ اللہ کے نبی نے ہرچیز کی وضاحت کردی تھی اور وہ لوگ محض اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے انکی بات کو قبول نہیں کرتے تھے ، قرآن پاک سے متعلق نبی آخر الزمان کی تمام تلبیین وتشریح آپ کی سنت اور احادیث کے ذخیرے میں محفوظ ہے ، بعض گمراہ فرقے چکڑالوی اور پرویزی وغیرہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے قرآن میں ہے ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ان سے کوئی پوچھے کہ جس تبین کا ذکر اللہ نے بار بار کیا ہے ، وہ کہاں ہے ؟ حقیقت یہ ہے قرآن پاک کے الفاظ کی تشریح حضور ﷺ کی سنت میں ہے ، تمام صحیح احادیث قرآن پاک کی شرح ہیں ۔ پوری امت کے سلف سے لیکر خلف تک اس پر عمل کرتے آئے ہیں لوگوں میں کوتاہیاں ضرور پیدا ہوئی ہیں مگر وہ سنت تو محفوظ ہے جس پر اللہ کا نبی ، خلفائے راشدین اور آپ کے متبعین چلتے آئے ہیں یہی سنت ہے اور اس کے بغیر قرآن کی تبیین ممکن نہیں ۔ (ہدایت اور رحمت) فرمایا کہ آپ پر نازل کردہ کتاب (آیت) ” وھدی “ سراسر ہدایت ہے ہدایت سے مراد یہ ہے کہ انسان کو زندگی کے جس موڑ پر بھی راہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے ، اللہ کی کتاب اس کے لیے راہنمائی بہم پہنچاتی ہے ، البتہ اس ہدایت اور راہنمائی کو تلاش کرنا خود انسان کا کام ہے ، اگر کوئی شخص قرآن پاک کی تعلیم ہی حاصل نہیں کریگا اور اس میں غور وفکر ہی نہیں کریگا تو اس کو ہدایت کیسے نصیب ہو سکتی ہے ، اللہ نے سورة بقرہ میں فرمایا ہے (آیت) ” ما انزلنا من البینت والھدی “۔ ہم نے بنیات اور ہدایت دو چیزوں کو اتارا ہے بینات وہ چیزیں ہیں جو بالکل واضح ہیں اور آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں اور ہدایت ایسی چیز ہے جو استاد کے بغیر سمجھ میں نہیں آتی ، سورة صف میں بھی ہے (آیت) ” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی “۔ اللہ کی ذات وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ مبعوث فرمایا تو یہ ہدایت اللہ کے رسول یا اس کے متبعین اور مبلیغین سے سیکھنا پڑتی ہے ، اس کے لیے محنت کی ضرورت ہے اور وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے تب جا کر ہدایت نصیب ہوتی ہے ۔ فرمایا ایک تو ہم نے ہدایت نازل فرمائی اور دوسری چیز (آیت) ” ورحمۃ “ رحمت ہے جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب پر اس کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق عمل پیرا ہوجاتا ہے تو پھر اس کے نتیجہ میں اللہ کی رحمت اور مہربانی شامل حال ہوجاتی ہے ، انسان کو اطمینان قلب حاصل ہوجاتا ہے اور اسے نیکی کی مزید توفیق حاصل ہوتی ہے ، سورة بقرہ کی ابتداء میں بھی ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون “۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ، فرمایا یہ سارے انعامات ان لوگوں کے حصے میں آتے ہیں (آیت) ” لقوم یؤمنون “ جو ایمان رکھتے ہیں اور جن لوگوں کا ایمان ہی مکمل نہیں ، وہ صدق قلب سے یقین ہی نہیں کرتے ، ان کے لیے نہ ہدایت ہے اور نہ رحمت ، وہ محروم ہی رہیں گے ، (مادی حیات کا سامان) اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت اور رحمت کا ذکر کے انسان کی روحانی زندگی کا سامان مہیا کیا اور اب آگے مادی زندگی کے لوازمات کا تذکرہ فرمایا (آیت) ” واللہ انزل من السمآء مآئ “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا ، اس کا فائدہ یہ ہوا (آیت) ” فاحیابہ الارض بعد موتھا “۔ کہ زمین کی موت یعنی اس کے خشک ہوجانے کے بعد پانی کے ذریعے اس کو دوبارہ زندگی عطا فرمائی ظاہر ہے کہ خشک زمین میں کوئی پیداوار نہیں ہوتی ، پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش برساتا ہے تو زمین میں ہریالی پیدا ہوتی ہے ، اس میں اناج اور پھل کاشت ہوتے ہیں جو انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں ، نہ صرف انسان بلکہ تمام جانور چرند اور پرند حتی کہ کیڑے مکوڑوں کی زندگی کا انحصار بھی پانی پر ہے پانی ہی کے ذریعے ان کے لیے چارہ ، سبزیاں اور جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں ، جو ان کی خوراک بنتی ہیں ، تو گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کی روحانی زندگی کے لیے اپنی کتاب نازل فرمائی جس میں ہدایت اور رحمت ہے اور مادی زندگی کے لیے پانی اتار کر یہ ضرورت بھی پوری فرما دی ۔ زمین کے مختلف خطوں میں پانی کے مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں کوئی خطہ ارضی پانی کو اچھی طرح جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہاں خوب پیداوار ہوجاتی ہے اور کسی جگہ سے پانی گزر جاتا ہے وہ زمین پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی لہذا پیداوار بھی نہیں دیتی ، ہدایت کا سلسلہ بھی ایسا ہی ہے یہ انسان کے قلب پر پڑتی ہے ، پھر جو قلوب اس کے طالب ہوتے ہیں اور اس کو اپنے اندر سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس سے سرشار ہوجاتے ہیں ، اور بعض سخت دلوں پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا ، لہذا وہ اسی طرح محروم رہتے ہیں ، جس طرح کوئی چٹان پانی کے اثرات کو قبول نہیں کرتی اور وہ ادھر ادھر بہ جاتا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یسمعون “۔ بیشک اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں جو لوگ بات کو سن کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں ، اللہ ان کی روحانی اور مادی دونوں ضروریات پوری فرماتا ہے ، اور جو لوگ اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے انہیں نہ ہدایت نصیب ہوتی ہے اور نہ اللہ کی رحمت ،
Ayahs 16:66–67

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں البتہ عبرت ہے ، پلاتے ہیں تم کو اس سے جو ان کے پیٹ میں ہے ، گوبر اور خون کے درمیان ہے دودھ خالص ، خوشگوار پینے والوں کے لیے ۔

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجوروں کے پھلوں اور انگور سے بناتے ہو تم نشہ اور اچھی روزی بیشک اس میں البتہ نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے باطل عقائد کا رد فرمایا اور ان کے برے انجام کا ذکر کیا ، رسالت کے ضمن میں فرمایا کہ رسول کی امت کے برے اعمال کو شیطان نے انہیں مزین کرکے دکھایا وہ اپنے شرکیہ عقائد اور باطل رسومات پر ہی جمے رہے اور رسولوں کی بات کو نہ مانا پھر آخری دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان پر کتاب یعنی قرآن نازل فرمائی تاکہ آپ اس کی اچھی طرح وضاحت کردیں اور وہ تمام چیزیں واضح ہوجائیں جن میں لوگ اختلاف کرتے ہیں ، پھر فرمایا کہ یہ کتاب ہدایت اور رحمت ہے مگر اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر پر یہ کتاب نازل فرما کر انسان کی روحانی زندگی کا سامان کردیا اور آسمان کی طرف سے بارش برسا کر ان کی مادی زندگی کا بندوبست کردیا ، فرمایا یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لیے جو کان لگا کر سنتے ہیں ۔ (مویشیوں میں سامان عبرت) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مویشیوں اور بعض پھلوں کا ذکر کرکے ان کے فوائد کو بیان کیا ہے اور یہ بات سمجھائی ہے کہ اس میں دراصل اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کے دلائل ہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان لکم فی الانعام لعبرۃ “۔ اے لوگو ! بیشک تمہارے لیے مویشیوں میں سامان عبرت بہمیۃ الانعام کا ذکر سورة انعام میں تفصیل کے ساتھ ہوچکا ہے ، ان سے مراد آٹھ قسم کے وہ نر اور مادہ جوڑے مراد ہیں جو انسانوں کے قریب رہتے ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، دراصل اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو انسان کی خدمت پر مامور کر رکھا ہے چناچہ انسان انکی ہڈیاں گوشت دودھ ، کھال اور اون استعمال کرتے ہیں ، یہ آٹھ جوڑے ، اونٹ (نر اور مادہ) گائے بھینس (نر اور مادہ) بھیڑ (نر اور مادہ) بکری ( نر اور مادہ) ہیں ، اگرچہ یہ طاقت میں انسان سے بہت زیادہ ہیں ، مگر اللہ نے ان کی سرشت میں یہ چیز ڈال دی ہے کہ وہ انسان کا حکم مانیں اور اس کی خدمت کریں ، پھر بھی جب کسی جانور کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا انسان بلاوجہ تنگ کرتے ہیں تو وہ انہیں ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑتے ، اس سلسلہ میں اونٹ کی دشمنی تو ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے ، بہرحال فرمایا ان مویشیوں میں تمہارے لیے عبرت کا سامان ہے عبرت کا معنی ہوتا ہے کسی معلوم چیز سے کسی نامعلوم چیز کو دریافت کرنا یعنی مشاہدہ میں آنے والی چیزوں کو دیکھ کر مشاہدہ میں نہ آنے والی چیزوں پر یقین کرنا ، مذکورہ مویشی ہمیں نظر آ رہے ہیں ، ان سے اللہ تعالیٰ کی حکمت ، قدرت اور اس کی توحید کو سمجھنا ہی عبرت ہے ۔ (دودھ کی نعمت) آگے اللہ تعالیٰ نے دودھ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” نسقیکم مما فی بطونہ “۔ ہم پلاتے ہیں تم کو اس چیز سے جو ان مویشیوں کے پیٹ میں ہے ، یہاں پر من تبعیضیہ ہے یعنی بعض جانوروں میں سے پلاتے ہیں ، سب کا ضروری نہیں اور کیا پلاتے ہیں ” لبنا خالصا “ خالص اور صاف ستھرا دودھ جب یہ مویشی کے تھنوں سے برآمد ہوتا ہے تو بالکل خالص ہوتا ہے اس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوتی ، اور بالکل پاکیزہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی نجاست نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ نے تو اس دودھ کو خالص اور پاکیزہ بنایا ہے جب یہ انسانوں کے ہاتھوں میں آتا ہے تو یہ خالص نہیں رہتا بلکہ اس میں پانی یا دوسری چیزوں کی ملاوٹ ہوجاتی ہے اور اس کی پاکیزگی میں بھی فرق آتا ہے کہ بعض اوقات اس میں ظاہری یا باطنی نجاست شامل ہوجاتی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو ناپاک چیزوں میں (آیت) ” بین فرث ودم “۔ یعنی گوبر اور خون کے درمیان پیدا فرمایا ہے جانور کے پیٹ میں ایک طرف گوبر کا ذخیرہ ہے جو خوراک کا فضلہ ، بدبودار اور نجس ہے اور دوسری طرف خون ہے جو بجائے خود حرام اور ناپاک ہے ، مگر انہی کے درمیان میں سے اللہ تعالیٰ نے دودھ جیسی نہایت ہی خالص اور صاف ستھری چیز کو پیدا فرمایا ہے تاکہ انسان اس کی لذت اور غذائیت سے مستفید ہوں ۔ فرمایا یہ دودھ نہ صرف خالص اور پاکیزہ ہے بلکہ ” سآئغا “۔ خوشگوار بھی ہے ، اس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور یہ آسانی سے حلق میں بھی اتر جاتا ہے یعنی اس کے استعمال کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی یہ لفظ سورة ابراہیم میں آچکا ہے ، جہاں دوزخیوں کو پیب ملا دیے جانے کا ذکر ہے وہاں فرمایا (آیت) ” ولا یکاد یسیغہ “۔ وہ اسے حلق سے نیچے نہیں اتار سکیں گے ، اس قدر بدبودار اور کڑوا ہوگا ، مگر یہاں پر دودھ کے متعلق فرمایا کہ یہ خوشگوار ہے جو آسانی کے ساتھ حلق سے اتارا جاسکتا اور ایک بہت بڑی نعمت ہے (آیت) ” للشربین “ پینے والوں کے لیے یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ ، حکمت بالغہ ، اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ، فرمایا ان مویشیوں میں تمہارے لیے عبرت کا سامان ہے تمہیں غور کرنا چاہئے کہ اس نے اپنی ربوبیت کا کس طریقے سے اظہار فرمایا ہے ، اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ ” بطونہ “ غور طلب ہے اور اس میں مفسرین کرام نے بحث کی ہے ، اس میں ہ کی ضمیر انعام یعنی جانوروں کی طرف لوٹتی ہے جو کہ جمع کا صیغہ ہے مگر یہاں پر ضمیر مفرد لائی گئی ہے ۔ اس ضمن میں لغت کے امام کہتے ہیں کہ اگرچہ لفظ انعام جمع کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے مگر لفظ تو بہرحال مفرد ہی ہے ، جیسے بعض حضرات لفظ اخلاق کو بھی مفرد شمار کرتے ہیں اگرچہ اس کا معنی جمع والا ہے ، اسی طرح اخبار عام لفظ ہے ، اگرچہ یہ خبر کی جمع ہے ، مگر یہ استعمال واحد ہوتا ہے اور اس کی جمع اخبارات آتی ہے ، لہذا لفظ مفرد ہونے کی بناء پر انعام کی ضمیر بھی واحد ہی لائی گئی ہے ، امام بیضاوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ ہ کی ضمیر انعام کی طرف نہیں بلکہ یہ محذوف لفظ مذکور کی طرف راجع ہے جو کہ واضح طور پر مفرد لفظ ہے ، اس لحاظ سے بھی ضمیر کا مفرد آنا درست ہے پہلے سے مذکور چیز بھی انعام ہی اور وہ بھی مفرد لفظ ہے ، ضمیر کے مفرد آنے میں کوئی اشکال نہیں ، ویسے سورة مومن میں انعام ہی سے متعلق مؤنث اور مفرد ضمیر ھا بھی لائی گئی ہے (آیت) ” لترکبوا منھا ومنھا تاکلون “۔ دودھ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس شخص کو اللہ دودھ عطا فرمائے اسے یوں دعا کرنی چاہئے (1) (ترمذی ص 498) اللھم زدنا منہ “ اے اللہ اس نعمت میں مزید اضافہ فرما اس کے علاوہ اگر کوئی دوسری نعمت حاصل ہو تو کہنا چاہئے ” اللھم اطعمنا خیرا منہ “۔ اے اللہ ! ہمیں اس سے بہتر نعمت عطا کر مگر دودھ چونکہ بہترین نعمت ہے ، اس لیے اس میں اضافہ کی درخواست کی جاتی ہے حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد مبارک ہے کہ اکل وشرب کی تمام اشیاء میں سے دودھ ہی ایک ایسی چیز ہے جو کھانے اور پینے دونوں کے کام آتی ہے یہ ایک بہترین اور لذیذ مشروب بھی ہے اور غذائیت کے اعتبار سے بہترین غذا بھی ہے اللہ تعالیٰ نے دودھ میں غذائیت کے تمام اجزاء نمکیات ، لحمیات ، پانی ، چربی ، روغن شامل کردیے ہیں جو انسان کی جسمانی ساخت اور توانائی کے لیے ضروری ہیں اسی لیے دو سال تک بچہ صرف دودھ پر گزارا کرتا ہے ، دودھ کے علاوہ اگر کوئی دوسری چیز نہ بھی ملے تو یہی اس کی نشونما کے لیے کافی ہوتا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد موجود ہے کہ دودھ سے بہتر کوئی نعمت نہیں ہے لہذا اس میں اضافہ کی دعا کی گئی ہے پھر یہ ہے کہ دودھ جنت کی نعمتوں میں بھی سرفہرست ہے ، جہاں اللہ نے پانی شہد ، شراب طہور کی نہروں کا ذکر کیا ہے وہاں دودھ کی نہروں کا تذکرہ بھی موجود ہے ۔ دودھ کی طہارت کے متعلق فقہائے کرام بحث کرتے ہیں امام ابوبکر جصاص (رح) نے بھی ” احکام القرآن “ میں لکھا ہے کہ اللہ نے دودھ کو اس قدر قوی طہارت عطا کی ہے کہ مردہ جانور کے تھنوں میں موجود دودھ بھی پاک ہی ہوگا اگرچہ مرنے کے بعد جانور خود ناپاک ہوچکا ہے بزرگان دین میں ابو طالب مکی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے اعمال کو بھی دودھ پر قیاس کیا جاسکتا ہے ، جس طرح دودھ میں گوبر یا خون کی ملاوٹ سے دودھ ناپاک ہوجاتا ہے ، اسی طرح اگر انسانی اعمال میں ریا اور ہوی کی ملاوٹ ہوگئی تو وہ بھی قابل قبول نہیں ہوں گے ، ریاکاری بھی اعمال کو ضائع کردیتی ہے اور خواہشات نفسانیہ اور بدعات بھی اعمال کے قاطع ہیں ، لہذا انسان کے اعمال کو ان دو چیزوں سے پاک ہونا چاہئے ۔ (دودھ کا کارخانہ) دودھ کی فراہمی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جانور کے جسم میں عجیب و غریب کارخانہ قائم کر رکھا ہے ، جانور کی خوردہ غذا اس کے معدے میں جاتی ہے ، پھر اس غذا کے تمام لطیف اجزاء باریک باریک رگوں کے ذریعے کھینچ کر جگر میں آجاتے ہیں ، جگر ان کو خون میں تبدیل کرتا ہے جو کہ پورے جسم میں گردش کرتا ہے ، چونکہ اس خون میں انسانی ساخت کے تمام اجزا شامل ہوتے ہیں اس لیے یہ خون جس جس ساخت میں پہنچتا ہے وہ اپنی مطلوبہ غذا حاصل کرلیتا ہے اور باقی دوسری ساختوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے ، اسی اصول کے مطابق جب خون جانور کے تھنوں کے قریب پہنچتا ہے تو وہ اس سے دودھ پیدا کرنے والے اجزاء حاصل کرکے انہیں دودھ میں تبدیل کردیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے جسم میں بہت بڑی فیکٹری لگا رکھی ہے ، جہاں اللہ کے لاکھوں فرشتے کام کر رہے ہیں اور ہر جاندار کی ضروریات کی چیزیں تیار کرتے رہتے ہیں بہرحال اللہ نے دودھ کو اپنی قدرت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ یہ رنگت ، ذائقے اور غذائیت کے لحاظ سے بہترین چیز ہے اور انسانوں کے لیے عبرت کا سامان بھی ہے ۔ (مشروب اور اچھی روزی) دودھ کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے کارآمدہ پھلوں کا ذکر فرمایا ہے اور انہیں اپنی قدرت تامہ اور وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب “۔ کھجوروں کے پھل اور انگوروں سے (آیت) ” تتخذون منہ سکرا “۔ تم نشے والی چیز بناتے ہو (آیت) ” ورزقا حسنا “۔ اور اچھی روزی بھی تیار کرتے ہو۔ کھجور اور انگور ایسی چیزیں ہیں جن سے شراب بھی بن سکتی ہے اور اچار ، مربے ، چٹنی اور غذائیت کی دوسری چیزیں بھی تیار ہوتی ہیں یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے شراب جیسی حرام چیز کا ذکر کیسے فرمایا ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ہے جب کہ ابھی شراب کی حرمت کا حکم نازل نہیں ہوتا تھا ، تاہم اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر شراب کا ذکر اس انداز میں کیا ہے کہ اس کو (آیت) ” رزقا حسنا “ (حلال اور پاکیزہ روزی) سے بالکل علیحدہ کردیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمہارے لیے کھجور اور انگور پیدا فرما دیے ہیں ، اب تم اپنی صوابدید کے مطابق خواہ ناپسندیدہ نشہ آور چیز شراب تیار کرلو یا اسے مشروب اور سرکے کی صورت میں حلال طور پر استعمال کرلو ۔ اس بات میں کلام نہیں کہ حرمت شراب کے سلسلہ میں جن مراحل سے گزرنے کے بعد قطعی حرمت کا حکم آیا ، ان میں یہ آیت پہلا مرحلہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں لطیف پیرایہ میں اس کی ناپسندیدگی کا ذکر کردیا ہے اس کے بعد دوسرے مرحلے میں سورة بقرہ کی آیت (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر “ نازل ہوئی لوگ حضور ﷺ سے اس کی حرمت وحلت کے متعلق دریافت کرتے تھے تو اللہ نے فرمایا کہ شراب اور جوئے میں نقصانات بھی ہیں اور فوائد بھی مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ، اس طرح گویا شراب کی قباحت سے لوگوں کو آگاہ کیا گیا ہے ، پھر تیسرا مرحلہ وہ آیا جب شراب کے نشے میں مخمور ایک صحابی نے امامت کرائی تو قرآن پاک غلط پڑھ دیا ، اس پر اللہ تعالیٰ کا حکم آیا (آیت) ” لا تقربوالصلوۃ وانتم سکری “۔ (النسآئ) یعنی نشے کی حالت میں نمازے کے قریب نہ جاؤ لوگ پھر بھی گاہے بگاہے شراب استعمال کرتے رہے اور بالآخر چوتھے مرحلے میں جا کر حرمت کا قطعی حکم آیا (آیت) ” انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “۔ (المائدہ) بہرحال اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر بطور احسان یاد دلایا ہے کہ اس نے تمہارے لئے کھجور اور انگور پیدا کیے جس سے تم شراب بھی کشید کرتے ہو اور طیب روزی کے طور بھی مستفید ہوتے ہیں ۔ (لفظ سکر کی تحقیق) امام ابو عبیدہ (رح) اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ” سکر “ سے مراد نشے والی چیز نہیں بلکہ ” خوراک “ مراد ہے ، امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ لفظ خوراک یا غذا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، وہ اس کی مثال بیان کرتے ہیں کہ کسی نے کہا ہے ” جعلت اعراض الکرام سکر “ تو نے شرفا کی عزتوں کو خوراک بنا لیا ہے کثیر شاعر نے بھی کہا ہے ” لعزۃ من اعراضنا مستحلق “۔ خوشگوار ہو غری کے لیے کہ اس نے تمہاری آبروؤں کو کھالیا ہے یعنی ہماری غیبت کر کے ہماری عزتوں کو کھالیا ہے ، خدا کرے کہ اس سے بچ جائیں ” ھنیئا مریئا غیر دآئن مخابر “۔ بالکل خوشگوار ہو اور بدہضمی نہ ہو ، تو گویا سکر کا معنی خوراک بھی ہوتا ہے اس کے علاوہ امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد امام شعبی (رح) جنہوں نے پانچ سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی زیارت کی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ سکر سے مراد پینے کی چیز ہے نہ کہ نشہ آور چیز حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ حبشی زبان میں سرکے کو سکر کہا جاتا ہے جو کہ حلال چیز ہے ، بہرحال مفسرین کرام نے سکر کا معنی خوراک بھی کیا ہے اور محض مشروب بھی اور سرکہ بھی ، اگر معانی کو پیش نظر رکھا جائے تو نشہ آور چیز والا اشکال رفع ہوجاتا ہے ، شراب ہماری شریعت میں بہرحال حرام ہے اور اسکا کشید کرنا ، بیچنا ، خریدنا اور پینا پلانا سب حرام ہے ، فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون “۔ بیشک اس میں صاحب عقل لوگوں کے لیے نشانی ہے ، شراب کو خامر العقل اسی لیے کہا گیا ہے کہ یہ عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے شرابی آدمی تو اس کے نشے میں ہی مخمور رہے گا ، البتہ جو اس کے قریب نہی جاتا ، اس کی عقل وخرد قائم رہے گی اور وہی اس نشانی سے مستفید ہو سکے گا ، ایسا شخص اللہ کی قدرت تامہ کو خوب سمجھ جائے گا اور پھر اسے وحدانیت خداوندی اور معاد پر یقین آجائے گا ، بہرحال مذکورہ اشیاء قدرت الہی کے نمونے ہیں جو روز مرہ ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں اور ہم ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔