15. Surah Al-Hijr

الحجرThe Rock · 99 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 15:1–5

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 15:1 in the Quran reader

الر یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور قرآن کی جو کھول کر بیان کرنے والا ہے ۔

رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 15:2 in the Quran reader

بسا اوقات آرزو کریں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، کاش کہ وہ مسلمان ہوتے ۔

ذَرْهُمْ یَاْكُلُوْا وَ یَتَمَتَّعُوْا وَ یُلْهِهِمُ الْاَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 15:3 in the Quran reader

چھوڑ دیں ان کو کھا لیں اور فائدہ اٹھالیں اور غفلت میں ڈالے ان کو آرزو ، پس عنقریب وہ جان لیں گے ۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ Open ayah 15:4 in the Quran reader

اور نہیں ہلاک کیا ہم نے کسی بستی کو مگر اس کے لیے ایک نوشتہ تھا مقرر لکھا ہوا ۔

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ Open ayah 15:5 in the Quran reader

نہیں سبقت کرتی کسی امت سے اس کی اجل (یعنی موت کا وقت) اور نہ وہ کسی سے ہٹتے ہیں ۔

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة الحجر ہے ، حجر ایک وادی کا نام ہے جو مکہ اور شام کے درمیان تبوک کے قریب واقع ہے ، ہزاروں سال پہلے ثمود جیسی متمدن قوم اس وادی میں آباد تھی یہاں پر ان کے سترہ سو بڑے بڑے شہر اور قصبات تھے ، اس سورة کا نام اسی وادی کے نام سے الحجر موسوم ہے ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی جس کی وجہ سے ان پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہوئے ، یہ سورة مبارکہ مکی دور میں نازل ہوئی ، اس کی 99 آیات اور چھ رکوع ہیں ، یہ سورة 654 الفاظ اور 2770 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) سابقہ مکی سورتوں کی مانند اس سورة مبارکہ میں بھی اسلام کے بنیادی عقائد قرآن پاک کی حقانیت ، معاد ، رسالت اور توحید ہی کا ذکر ہے ، گذشتہ سورة میں رسالت کا بیان تفصیل کے ساتھ آیا تھا جب کہ اس سورة میں مجرمین کی مہلت کے مسئلہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، گذشتہ سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا تو اس سورة میں حضرت شعیب اور لوط (علیہما السلام) کی قوم کی نافرمانی کا ذکر ہے ، البتہ ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر اس سورة میں بھی آیا ہے ، توحید کے عقلی اور نقلی دلائل اس سورة میں بھی بیان ہوئے ہیں اور دلائل قیامت اور محاسبے کا عمل حسب سابق بیان ہوا ہے ، بہرحال اس سورة میں بھی زیادہ تر بنیادی عقائد ہی بیان کیے گئے ہیں ۔ گذشتہ سورة کی طرح اس سورة کا بھی ایک اہم مضمون حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے لیے تسلی کا مضمون ہے ، اللہ نے اہل ایمان کو فرمایا کہ آپ مجرمین کو ریشہ دوانیوں سے گھبرائیں نہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دے رہا ہے مگر بالآخر اس کی گرفت میں آجائیں گے ۔ (حروف مقطعات) اس سورة مبارکہ کا آغاز بھی حروف مقطعات الر سے ہو رہا ہے ۔ جیسا کہ سورة ابراہیم کی ابتداء میں بھی عرض کیا تھا مفسرین نے ان حروف کے مختلف معانی بیان کیے ہیں تاکہ لوگوں کے اذہان قرآن پاک سے مانوس رہیں ، بعض مفسرین فرماتے ہیں ” ا “ سے انا ، ل سے اللہ اور ” ر “ سے رؤیت مراد ہے اور تینوں حروف کو ملانے سے انا اللہ اری بنتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری تمام حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہوں ، گویا یہ جزائے عمل کی طرف اشارہ ہے کہ اے میرے بندو ! تمہارا کوئی عمل میری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ، میں ایک ایک عمل کا حساب لوں گا اور پھر اس کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ کروں گا ۔ بعض فرماتے ہیں کہ ” ا “ سے اللہ ” ل “ سے جبرائیل اور ” را “ سے رسول مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے حقائق اللہ رب العزت نے جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے اپنے رسول مقبول ﷺ پر نازل فرمائے ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ذوقی طریقے سے میرے ذہن میں ڈالا ہے کہ ان حروف سے مقامات انبیاء کی طرف اشارہ ہے ، عالم غیب کے حقائق الہیہ اسی مادی جہان میں آکر متعین ہوتے ہیں اور نافرمان لوگوں کے باطل عقائد اور برے اعمال کے ساتھ ٹکراتے رہتے ہیں ، پھر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی کوشش سے باطل باتیں مٹتی رہتی ہیں اور حق ظاہر ہوتا رہتا ہے ، یہ گویا مقامات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف اشارہ ہے ، تاہم جیسا کہ صاحب جلالین فرماتے ہیں (1) (جلالین ص 4) زیادہ سلامتی والا طریقہ یہ ہے ” اللہ اعلم بمرادہ “۔ ان کی حقیقی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اللہ کی جو بھی مراد ہے وہ برحق ہے ، ہر چیز کی حقیقت کو جاننا ہمارے لیے ضروری نہیں ۔ (قرآن کی حقانیت ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تلک ایت الکتب “۔ یہ آیتیں ہیں کتاب کی اور کتاب سے مراد ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے : وقران مبین “۔ کہ وہ قرآن ہے جو کھول کر بیان کرنے والا ہے ، صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی حقدار صرف یہی کتاب قرآن پاک ہے جو پڑھ کر سنائی جا رہی ہے اور جس کی یہ آیات نازل ہوئی ہیں ، یہی وہ کتاب ہے جس میں پوری انسانیت کی فلاح اور نجات کا پروگرام موجود ہے ، جہاں تک قرآن کے مبین ہونے کا تعلق ہے تو اس کی یہ صفت خود قرآن میں بتکرار بیان ہوئی ہے ، قرآن اپنے مطالب کبھی خود براہ راست کھولتا ہے ، اگر کسی ایک مقام پر کسی معاملہ میں اجمال پایا جاتا ہے تو دوسرے مقام پر اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا جاتا ہے ، قرآن پاک کی وضاحت کا دوسرا ذریعہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی زبان مبارک ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کا پابند کیا ہے (آیت) ” لتبین للناس “ تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے کھول کر بیان کردیں ، چناچہ قرآن پاک کی تفسیر وتشریح احادیث صحیحہ میں موجود ہے ، اگر کوئی بات نبی کی زبان سے بھی واضح نہ ہوئی ہو یعنی اس کے بعض جزوی مسائل کی تشریح مطلوب ہو تو خود اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” لعلمہ الذین یستنبطونہ “۔ (النسائ) تو اسے استباط اور اجتہاد کرنے والے آئمہ کے سپرد کر دو ، وہ تحقیق کر کے مسئلہ کا حل بتا دیں گے ، امام ابوبکر جصاص (رح) چوتھی صدی کے عظیم المرتبت حنفی امام گزرے ہیں جنہوں نے تفسیر الاحکام “ جیسی عمدہ تفسیر لکھی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی تبیین کبھی براہ راست قرآن سے ہوتی ہے کبھی نبی کی زبان سے اور کبھی مجتہد اور علماء قرآنی اصولوں کے مطابق تشریح کرتے ہیں یہ سارے طریقے قرآن کی وضاحت میں داخل ہیں ، بہرحال اس سورة کی پہلی آیت میں قرآن پاکی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا گیا ہے ۔ (کفار کی آرزو) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجرمین کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” ربما “ بسا اوقات (آیت) ” یود الذین کفروا “ کافر لوگ آرزو کریں گے (آیت) ” لوکانوا مسلمین “۔ کاش کہ وہ مسلمان ہوتے یہ اس وقت کی بات اللہ نے بیان کی ہے جب کافر لوگ عذاب میں مبتلا ہوچکے ہوں گے مگر بعض لمحات ایسے بھی آئیں گے جب وہ تمنا کرسکیں گے ، کہ کاش وہ بھی ایمان لے آتے تو یہ روز بد دیکھنا نصیب نہ ہوتا ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حساب کتاب کے مرحلے سے گزرنے کے بعد بعض ایمان والے بھی اپنے گناہوں کی پاداش میں کچھ عرصہ کے لیے جہنم میں جائیں گے تو اس وقت کافر ان کو طعنہ دیں گے کہ تم نے تو دنیا میں ایمان کو قبول کیا ، اب ہمارے ساتھ جہنم میں کیوں پڑے ہو ، پھر وہ سزا بھگتنے کے بعد آہستہ آہستہ جہنم سے نکلتے جائیں گے تو اس وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اگر ہم بھی دنیا میں ایمان لے آتے تو آج ان کے ساتھ ہی دوزخ سے نکل جاتے ، مگر اس وقت کا پچھتانا کچھ کام نہ آئے گا کیونکہ عمل کا وقت ختم ہو کر جزا کا وقت آچکا ہوگا ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ کفار کی یہ حسرت صرف آخرت کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ عام ہے اور اس کا اطلاق اس دنیا پر بھی ہو سکتا ہے چناچہ بدر اور بعض دوسرے مواقع پر جب مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور کفار کو ذلت وناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ، تو انہوں نے اس وقت آرزو کی کہ کاش ہم بھی مسلمان ہوتے تو آج ذلیل و خوار نہ ہوتے تاہم زیادہ قرین قیاس یہی بات ہے کہ کافر لوگ آخرت میں یہ آرزو کریں گے ۔ (کفار کے لیے مہلت) اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو ارشاد فرمایا (آیت) ” ذرھم “ آپ ان کو چھوڑ دیں (آیت) ” یاکلوا ویتمتعو “۔ یہ کھالیں اور فائدہ اٹھالیں ، فرمایا آپ ان کی طرف سے زیادہ تشویش میں نہ پڑیں بلکہ انہیں دنیا کی ترغیبات سے مستفید ہونے دیں ، انہیں مہلت دیں کہ یہ فائدہ اٹھا لیں ، سورة محمد میں کفار کے متعلق آتا ہے (آیت) ” یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لھم “۔ کہ یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جیسے مویشی کھاتے ہیں مگر بالاخر ان کا ٹھکانا جہنم ہے (آیت) ” ویلھھم الامل “۔ اور غفلت میں ڈالے ان کو ان کی آرزو ، اس دنیا میں تو یہ بلاتمیز حلال و حرام چوپایوں کی طرح کھاتے رہتے ہیں اور دنیا کی لوازمات سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں انہیں کوئی فکر نہیں مگر (آیت) ” فسوسف یعلمون “۔ انہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ انکی غفلت ، لاپرواہی اور عیش و عشرت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا ” الکافر یا کل فی سبعۃ امعاء “۔ یعنی کافر آدمی سات آنتوں میں کھانا کھاتا ہے وہ خوب پیٹ بھرتا ہے کیونکہ اسے آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی ، اس کے برخلاف ” والمؤمن یا کل فی معی واحد “۔ مومن آدمی صرف ایک آنت میں کھاتا ہے یعنی وہ صرف اتنا کھانا کھاتا ہے جس سے اس کی روح اور جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے اور اس میں اتنی قوت موجود رہے جس سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دیگر فرائض انجام دے سکے اسی لیے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دیں ، کھانے دیں اور فائدہ اٹھانے دیں ، انہیں جلد ہی نتیجے کا پتہ چل جائے گا ۔ (حضور ﷺ کی تشویش) حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ دو چیزوں کے متعلق میں اپنی امت کے لوگوں پر خوف رکھتا ہوں یعنی اتباع الھوی وطول الامل ان میں سے ایک خواہشات کی پیروی ہے اور دوسری لمبی لمبی آرزوئیں ہیں اتباع ہوی کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدا کے قانون کو چھوڑ کر شیطان کے پیچھے چلتا رہے ، اسی لیے اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “۔ (البقرہ) لوگو ! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ، کیونکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، حق کے مقابلے میں رسم و رواج اختیار کرنا خواہشات اور شیطان کی پیروی کی مترادف ہے ، اگر سنت کا خیال نہیں رکھو گے ، خدا تعالیٰ کے حکم اور شریعت کی پرواہ نہیں کرو گے ، خوشی اور غمی کے موقع پر قوم ، خاندان اور برادری کے کہنے پر چلو گے ، تو یہی خواہشات کی پیروی ہے ، فرمایا ، مجھے دوسرا خطرہ لمبی لمبی آرزؤوں کا ہے ، انسان بیشمار منصوبے بناتے ہیں کہ یہ کریں گے ، پھر وہ کریں گے ، اتنا فائدہ ہوگا ، اتنی شہرت ہوگی ، انسان اسی بات میں لگا رہتا ہے آخرت کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا ، حتی کہ اسے موت آجاتی ہے اور اس کی ساری آرزوئیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ، حضور ﷺ کا یہ فرمان ہے اتباع ہوا ایسی چیز ہے ” یصد عن الحق “ ، جو حق بات سے روکتی ہے ” واما طول الامل فینسی الاخرۃ “۔ اور لمبی آرزو وہ ہے جو آخرت کو فراموش کرا دیتی ہے ، انسان کو آخرت کی فکر کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا ، جتنی لمبی آرزو ہوگی اتنی ہی آخرت سے غفلت ہوگی ، (مقررہ وقت پر ہلاکت) فرمایا کہ کافر لوگ جو کچھ کرتے ہیں انہیں کرنے دیں اس وقت انہیں مہلت مل رہی ہے مگر ہر فرد اور قوم کے لیے ہم نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے (آیت) ” وما اھلکنا من قریۃ الا ولھا کتاب معلوم “۔ ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کی ہلاکت کا مقررہ وقت لکھ دیا گیا تھا ، ہم نافرمان قوموں کو مہلت دیتے رہے ، پھر جب ان کا مقررہ وقت آگیا تو وہ گرفت میں آئے اور ہلاک ہوگئے ، فرمایا یہاں پر ایک یہ قانون بھی ہے (آیت) ” ما تسبق من امۃ اجلھا وما یستاخرون “۔ کسی امت کی موت آگے پیچھے نہیں ہوتی ، مگر عین وقت مقررہ پر وارد ہوجاتی ہے ، چناچہ اس سورة میں اللہ نے کئی قوموں کے حالات بیان کیے ہیں جن کو مہلت دی گئی اور پھر جب ان کی ہلاکت کا وقت آگیا تو لحظہ بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوا ، بلکہ عین وقت پر ان کا کام تمام کردیا گیا ۔ اس میں حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہوگیا کہ کفار کے جوش وجذبے اور ان کے غلبے کو دیکھ کر گھبرانا نہیں چاہئے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور آخرت میں ان کا انجام بہت برا ہوگا ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور دنیا کے لوازمات سے فائدہ اٹھانے دیں ، ایک مقررہ وقت آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ کی گرفت آئے گی اور یہ مجرم لوگ پکڑے جائیں گے اگر دنیا میں مصلحت خداوندی کے مطابق سزا سے بچ بھی گئے تو اگلے جہان میں یقینی طور پر سزا میں مبتلا ہوں گے ۔
Ayahs 15:6–15

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ Open ayah 15:6 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے اے وہ شخص کہ اتارا گیا ہے جس پر ذکر ، بیشک تو البتہ دیوانہ ہے ۔

لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓئِكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 15:7 in the Quran reader

کیوں نہیں لاتا تو ہمارے پاس فرشتوں کو ، اگر تو سچا ہے ۔

مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓئِكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ Open ayah 15:8 in the Quran reader

(فرمایا) نہیں اتارتے ہم فرشتوں کو مگر حق کے ساتھ ، اور نہیں ہوں گے وہ مہلت یافتہ لوگوں میں سے ۔

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 15:9 in the Quran reader

بیشک ہم نے اتارا ہے ذکر کو اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:10 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول پہلے گروہوں میں ۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 15:11 in the Quran reader

اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس کے ساتھ ٹھٹا کرتے تھے ۔

كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 15:12 in the Quran reader

اسی طرح ہم چلاتے ہیں اس کو مجرموں کے دلوں میں ۔

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ قَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 15:13 in the Quran reader

نہیں ایمان لاتے اس پر اور تحقیق گزر چکا ہے دستور پہلے لوگوں کا ۔

وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ Open ayah 15:14 in the Quran reader

اگر ہم کھول دیں ان پر دروازہ آسمان سے اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگ جائیں ۔

لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ۠ Open ayah 15:15 in the Quran reader

تو کہیں گے بیشک ہماری آنکھوں کی نظر بندی کردی گئی ہے ، بلکہ ایسے لوگ ہیں جن پر سحر کردیا گیا ہے ۔

(ربط آیات) سورة ہذا کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر کفر کرنے والوں کا آخرت میں آرزو کرنا مذکور ہوا کہ وہ کہیں گے کاش کہ وہ مسلمان ہوتے تو اس دن کی ذلت سے بچ جاتے پھر اس مہلت کا ذکر ہوا جو کافر مشرک اور معصیت شعار لوگوں کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے ، فرمایا ان کو چھوڑ دیں اور کھانے پینے دیں ، یہ دنیا میں فائدہ اٹھاتے رہیں اور آرزوئیں ان کو غفلت میں ڈالتی رہیں ، بالآخر ان کو پتہ چل جائے گا کہ حق کیا تھا اور باطل کیا ، اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر قوم اور جماعت کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے ، خدا تعالیٰ مجرموں کو مہلت دیتا ہے مگر انہیں سزا دیے بغیر چھوڑتا نہیں ۔ (دیوانگی کا الزام) اب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی بعض حرکات کا شکوہ کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ” وقالوا “۔ انہوں نے کہا (آیت) ” یایھا الذی نزل علیہ الذکر “۔ اے وہ شخص کہ جس پر ذکر اتارا گیا ہے کفار ومشرکین کا یہ خطاب حضور ﷺ سے ہے کہ آپ ہی پر ذکر یعنی قرآن پاک اتارا گیا ، قرآن پاک کے بہت سے ناموں میں سے ذکر بھی ایک نام ہے جس کا معنی نصیحت ہے تو نافرمان اور سرکش لوگ کہتے تھے (آیت) ” انک لمجنون “ کہ تو تو دیوانہ ہے (العیاذ باللہ) وہ لوگ اپنے تعصب عناد ، نادانی اور حماقت کی بناء پر آپ سے استہزاء کرتے تھے کہ آپ تو دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہیں ، مثلا آپ کہتے ہیں کہ خدا ایک ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے ، بھلا یہ بھی کوئی عقلمندی کی بات ہے ؟ (آیت) ” اجعل الالھۃ الھاواحد ان ھذا لشیء عجاب “۔ کیا ہم سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک الہ کو مان لیں ، یہ تو عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے ، یا آپ کہتے ہیں کہ قیامت برپا ہوگی ، محاسبے کا عمل آئیگا ، اور پھر جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا ، بھلا یہ بھی کوئی قابل یقین بات ہے کہ مرنے کے بعد پھر سارے جی اٹھیں گے ؟ یہ تو پاگلوں جیسی باتیں ہیں ہم ان کو نہیں مانتے ۔ (نزول ملائکہ کی فرمائش) کہنے لگے اگر آپ نبوت کا دعوی کرتے ہیں (آیت) ” لوماتاتینا بالملئکۃ “۔ تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتے (آیت) ” ان کنت من الصدقین “۔ اگر آپ سچے ہیں اللہ کے فرشتے ہمارے سامنے آکر گواہی دیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو پھر ہم مانیں گے ، کہ اللہ نے واقعی آپ کو ہماری طرف مبعوث فرمایا ہے ، اور آپ پر قرآن بھی نازل کیا ہے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” مانزل الملئکۃ الا بالحق “۔ ہم نہیں فرشتوں کو اتارتے مگر حق کے ساتھ ، جب اللہ کی حکمت اور مصلحت ہوتی ہے ، تو فرشتے نازل ہوتے ہیں ، اللہ نے فرمایا کہ جب فرشتے اتریں گے (آیت) ” وما کانوا اذا منظرین “۔ تو پھر انہیں مہلت بھی نہیں ملے گی ، فوری گرفت ہوگی اور عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے ،۔ (حفاظت قرآن کا ذمہ) اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کریم میں تردد کرتے ہیں اور اسے خدا کا کلام نہیں مانتے مگر حقیقت یہ ہے (آیت) ” انا نحن نزلنا الذکر “۔ ہم ہی نے اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے (آیت) ” وانا لہ لحفظون “۔ اور بیشک ہم ہی البتہ اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ، مطلب یہ کہ منکرین اس خدائی پروگرام کو مٹانے کی جتنی بھی کوشش کرلیں ، ہم خود اس کے محافظ ہیں ، اس قرآن کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا اور یہ اپنی اصلی حالت میں قیامت تک محفوظ رہے گا ، مشرکین نے جنگ وجدل کے ذریعے قرآن کو ختم کرنے کی کوشش کی جب کہ یہودیوں نے سازشوں کے ذریعے اہل ایمان اور ان کی کتاب کو مٹانا چاہا ، مگر اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھا لیا ۔ حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” انزلت الیک الکتب “۔ میں نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل فرمائی ہے ، جسے نہ آگ جلا سکتی ہے اور نہ پانی دھو سکتا ہے ، اللہ نے سورة العنکبوت میں یہ بھی فرمایا ہے (آیت) ” بل ھو ایت بینت فی صدور الذین اوتوالعلم “۔ یہ تو ایسی واضح آیات ہیں جو اللہ نے اہل علم کے سینوں میں جمع کردی ہیں لہذا اسے کون مٹا سکتا ہے ؟ مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) لکھتے ہیں کہ اللہ نے اس کتاب کی حفاظت کا ایسا انتظام کردیا ہے جس سے متعصب اور مغرور مخالفین کے سر بھی نیچے ہوگئے ہیں اور انہوں نے اس کی حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے ۔ میور ایک انگریز پادری تھا ، ہندوستان میں یوپی کا گورنر بھی رہا شدید متعصب عیسائی تھا ، اس کا مقولہ ہے کہ دو چیزیں انسانیت کی دشمن ہیں ایک محمد ﷺ کا قرآن اور دوسری محمد ﷺ کی تلوار ، اس کے باوجود وہ کہتا ہے کہ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے دنیا بھر میں ایک بھی کتاب ایسی نہیں جو قرآن کی طرح بارہ صدیوں تک تحریف سے پاک رہی ہو ، بعض دوسرے یورپی محققین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جس طرح مسلمان قرآن پاک کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں اسی طرح ہم بھی اسے بعینہ محمد ﷺ کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سمجھتے ہیں یہود ونصاری اگرچہ قرآن کو خدا کا کلام نہیں مانتے مگر حضور ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ وہ بھی ماننے پر مجبور ہیں ۔ (حفاظت قرآن کا قدرتی نظام) تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے میں علماء کا ایک عظیم گروہ موجود رہا ہے جس نے قرآن پاک کے علوم ومطالب اور اس کے لامنتہا عجائبات کی ہمیشہ حفاظت کی ہے ، یہ حضرات ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کو یاد کرتے رہے ہیں اور آئندہ نسلوں تک پہنچاتے رہے ہیں ، قرآن پاک کا رسم الخط بھی اس کی حفاظت کا ذمہ دار رہا ہے ، پرانے کوفی رسم الخط ‘ نستعلیق ، نسخ اور دیگر خطوں میں قرآن پاک ہمیشہ محفوظ رہا ہے ، حفاظ نے اس کو حرف بحرف زبانی یاد کرکے اور قاری حضرات نے اس کی صحت لفظی کے لحاظ سے حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے ، بعض لوگوں نے اس کی جزئیات کو شمار کرکے اس کی حفاظت کی ہے ، کسی نے قرآن کے رکوع شمار کیے تو کسی نے آیات کسی نے اس کے الفاظ کو گنا ہے اور کسی نے حروف کو شمار کرلیا ہے ، نزول قرآن کے زمانہ سے لے کر آج تک کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں لاکھوں کی تعداد میں حفاظ موجود نہ ہوں ، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ آٹھ دس سال کا پاکستانی یا ہندوستانی بچہ ‘ افریقی یا ملائی ، جس کی اپنی مادری زبان بھی عربی نہیں اور وہ خود اپنی زبان میں چھوٹی سی کتاب بھی یاد نہیں رکھ سکتا ، مگر قرآن پاک اسے حرف بحرف زبانی یاد ہے ، کوئی بڑے سے بڑا عالم بھی اگر تلاوت میں غلطی کرتا ہے تو وہ بچہ فورا ٹوک دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی حفاظت کا ایسا اچھا نظام قائم کر رکھا ہے ۔ (قبول اسلام کا ایک واقعہ ) صاحب ” معارف القرآن “ مفتی محمد شفیع (رح) نے امام قرطبی کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے ، اس واقعہ کا راوی خلیفہ مامون الرشید عباسی کا بڑا قاضی اکثم تھا ، خلیفہ کے دربار میں بڑے بڑے فقہا ، عالم اور ماہرین جمع ہو کر مختلف مسائل پر بحث کیا کرتے تھے ، ایک دفعہ ایسی ہی ایک بحث چل رہی تھی کہ ایک نہایت ہی وجیہہ شخص محفل میں شامل ہوا اور اس نے نہایت فصیح وبلیغ زبان اور عالمانہ انداز میں بحث میں حصہ لیا ، اختتام مجلس پر خلیفہ نے اس شخص سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ یہودی مذہب رکھتا ہے ، خلیفہ مامون الرشید نے کہا کہ اگت تم مسلمان ہوتے تو ہم تمہاری بہت قدرومنزلت کرتے ، اس شخص نے کہا کہ وہ اپنا مذہب چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور چلا گیا ، کوئی ایک سال بعد دربار میں پھر اسی قسم کی مجلس برپا تھی کہ وہ شخص پھر داخل ہوا اور بحث میں پورا پورا حصہ لیا ، جب مجلس برخاست ہوئی تو مامون الرشید نے اسے دریافت کیا کہ کیا تم وہی شخص نہیں جو گذشتہ سال بھی یہاں آئے تھے ؟ اس نے کہا میں وہی شخص ہوں ، اس وقت میں یہودی تھا مگر اب مسلمان ہوچکا ہوں ، خلیفہ نے پوچھا کہ تم نے اسلام کیسے قبول کرلیا حالانکہ تم اپنا پہلا مذہب چھوڑنے پر تیار نہیں تھے ، اس شخص نے جواب دیا کہ آپ کی گذشتہ سال کی پیش کش پر میں نے بڑا غور وفکر کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھے مختلف مذاہب پر تحقیق کرنے کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے ، اس مقصد کے لیے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ میں نے نہایت عمدہ خط میں تورات کا ایک نسخہ لکھا اور اس میں کہیں کہیں تغیر وتبدل کردیا ، وہ نسخہ میں نے یہودی علماء کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے خوشی سے قبول کرلیا ، پھر میں نے انجیل کی بڑی خوش خط کتابت کرکے عیسائیوں کے سامنے پیش کی ، تو انہوں نے اسے شکریہ کے ساتھ قبول کرلیا ، میرا تیسرا نشانہ قرآن پاک تھا میں نے اس کو بھی بہت اچھے خط میں تحریر کیا اور حسب معمول اس میں تحریف بھی کردی ، پھر جب میں نے اسے مسلمان علماء کی خدمت میں پیش کیا تو کسی نے بھی بلاتحقیق اسے قبول نہ کیا ، انہوں نے حفاظ سے اس کی تصدیق چاہی مگر جب معلوم ہوا کہ اس میں ردوبدل کیا گیا ہے تو نسخہ واپس کردیا کہ یہ ہمارے کام کا نہیں ہے وہ شخص کہنے لگا کہ اس بات پر مجھے یقین آگیا کہ قرآن پاک ہی ایک واحد کتاب ہے جو ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے اور یہی اس کی صداقت کی دلیل ہے ، اس پر میں نے اسلام قبول کرلیا ۔ (لفظی اور معنوی حفاظت) جب حج کے لیے مکہ مکرمہ گئے تو قاضی اکثم نے یہ واقعہ امام سفیان ابن عیینہ (رح) کے سامنے ذکر کیا ، آپ امام ابوحنیفہ (رح) کے تلمیذ اور امام بخاری (رح) کے استاد ہیں اور اپنے زمانے کے امام ، محدث اور فقیہہ ہیں اس پر امام سفیان ابن عیینہ نے فرمایا کہ یہ واقعہ ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ اللہ نے تورات وغیرہ کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” بما استحفظوا من کتب اللہ “۔ (المائدہ) کہ ان لوگوں کو کتاب الہی کا محافظ بنایا گیا تھا ، مگر وہ اس کی حفاظت میں ناکام رہے ، پھر اللہ پاک کے متعلق فرمایا (آیت) ” انا نحن نزلنا لذکر وانا لہ لحفظون “۔ کہ اسے ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ، لہذا قرآن کریم ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف سے بالکل پاک ہے اگر کوئی بدبخت اس کے معانی میں غلط بیانی کی جسارت کرتا بھی ہے تو اللہ تعالیٰ اہل علم کو کھڑا کردیتا ہے جو فورا اس غلطی کی نشاندہی کردیتے ہیں ، سرسیدا حمد خاں ، پرویز ، نیاز فتح پوری ، اور غلام احمد قادیانی وغیرہ نے غلط سلط معانی کیے تو علمائے حق نے ان کے دجل و فریب کو چاک کردیا اہل بدعت اور رافضی وغیرہ جو بھی خرابی کرتے ہیں ، اہل علم اس کو ظاہر کردیتے ہیں ، حضور کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دور میں ایسے لوگوں کو کھڑا کردیتا ہے جو قرآن پاک کی حفاظت کے ذمہ دار ہوتے ہیں ، یہودیوں نے قرآن میں تحریف کرنے کی بڑی کوشش کی اور افریقہ کے نو مسلموں کو تحریف شدہ نسخے بھیجے مگر اللہ نے مصر میں کرنل ناصر کو کھڑا کردیا جس نے اس سازش کو چاک کیا ، لاکھوں کی تعداد میں غلطی سے پاک نسخے تیار کرائے اور انہیں پورے افریقہ میں تقسیم کرایا ۔ (رسولوں کے ساتھ استہزاء ) آگے تسلی کا مضمون آرہا ہے ۔ (آیت) ” ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین “۔ اور تحقیق ہم نے بھیجے آپ سے پہلے رسول پہلے گروہوں میں (آیت) ” وما یاتیھم من رسول الا کانوا بیہ یستھزء ون “۔ اور نہیں آتا تھا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس سے ٹھٹا کرتے تھے ، کہتے لاؤ ہمارے سامنے فرشتوں کو اتارو ، تم تو دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہو ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین “۔ اسی طرح ہم چلاتے ہیں اسے مجرموں کے دلوں میں یعنی مجرم لوگ (آیت) ” لایؤمنون بہ “۔ اس رسول پر ایمان نہیں لاتے بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں ، (آیت) ” وقد خلت سنۃ الاولین “۔ اور پہلے لوگوں سے یہی دستور چلا آرہا ہے کہ وہ اپنے رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے رہے ہیں اور اللہ کی کتاب کا انکار کرتے رہے ہیں فرمایا ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو آپ کو پیش آرہی ہے بلکہ پہلے رسولوں کے ساتھ بھی اسی قسم کے معاملات پیش آتے رہے ہیں ، مجرم لوگ پہلے رسولوں کا بھی انکار کرتے رہے اور ان کو مجنون ، شاعر اور کاہن کا خطاب دیتے رہے ، بہرحال یہ حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہوگیا ۔ (کفار کا مسلسل انکار) کفار کے اس مطالبے کے جواب میں کہ آسمان سے فرشتے کیوں نہیں نازل ہوتے ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولو فتحنا علیھم باب من السمآء اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ بھی کھول دیں (آیت) ” فظلوا فیہ یعرجون “ کہ یہ اس میں سیڑھی کے ذریعے چڑھتے رہیں ، تو پھر بھی یہ متعصب اور ضدی لوگ ” لقالوا “ یہی کہیں گے (آیت) ” انما سکرت ابصارنا “۔ کہ ہماری نظر بندی کر دیگئی ہے ، (آیت) ” بل نحن قوم مسحوروں “۔ بلکہ ہم ایسے لوگ ہیں جن پر سحر کردیا گیا ہے مطلب یہ کہ لوگ آسمان پر چڑھ کو بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئیں گے اور قرآن اور نبی برحق کا انکار ہی کرتے رہیں گے ، اللہ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ ان کے اعتراضات کی طرف توجہ نہ دیں بلکہ اپنا کام کرتے رہیں ، یہ تو اپنی مطولبہ نشانیاں دیکھ کر بھی یہی کہتے ہیں (آیت) ” سحر مستمر “۔ (القمر) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے پہلے بھی لوگ ایسا جادو کیا کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں شق القمر کا معجزہ دیکھ کر انہوں نے یہی کہا تھا ، فرمایا ایسے لوگ ہدایت سے محروم رہیں گے ، آپ ان پر زیادہ افسوس نہ کریں ، اپنا حق تبلیغ ادا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں منصف مزاج لوگ ہدایت حاصل کرلیں گے ۔
Ayahs 15:16–21

وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ زَیَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِیْنَۙ Open ayah 15:16 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق بنائے ہم نے آسمان میں برج اور مزین کیا ہم نے ان کو دیکھنے والوں کے لیے ۔

وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 15:17 in the Quran reader

اور ہم نے حفاظت کی ہے ان کی ہر شیطان مردود سے ۔

اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 15:18 in the Quran reader

مگر وہ جو چوری چھپے سنتا ہے ، پس پیچھا کرتا ہے اس کا ایک روشن شہاب ۔

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ Open ayah 15:19 in the Quran reader

اور زمین کو پھیلایا ہم نے اور رکھے ہیں ہم نے اس میں بوجھل پہاڑ اور اگائی ہم نے ہر چیز اس میں ایک اندازے سے ۔

وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ بِرٰزِقِیْنَ Open ayah 15:20 in the Quran reader

اور بنائے ہیں ہم نے تمہارے لیے اس (زمین) میں معیشت کے سامان اور ان کے لیے بھی کہ نہیں ہو تم ان کو روزی پہنچانے والے ۔

وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 15:21 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی چیز مگر ہمارے ہی پاس ہیں اس کے خزانے اور نہیں اتارتے ہم اس کو مگر ایک معین اندازے پر ۔

(ربط آیات) کافر اور مشرک قرآن حکیم کی حقانیت پر شبہ کرتے تھے اور صاحب قرآن کو کہتے تھے کہ تو دیوانہ ہے ، اور اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو نازل کر تاکہ وہ تیری اور قرآن پاک کی صداقت کی گواہی اللہ نے مشرکین کے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حق کے ساتھ اتارتا ہے اور جب اتارتا ہے تو پھر نافرمانوں کو مہلت نہیں ملتی بلکہ ان کا کام تمام کردیا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کے حق میں گواہی دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کو ہم نے ہی اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا حفاظت کے سامان ہم خود پیدا کریں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نشانیاں طلب کرنے کے جواب میں فرمایا ہے کہ تمہارے اردگرد قدرت کی بیشمار نشانیاں بکھری پڑی ہیں ، اگر نیت صاف ہو تو ایمان لانے کے لیے یہی کافی ہیں ، اور اگر ضد اور عناد پر ہی قائم رہنا ہے تو پھر کوئی بھی نشانی کارگر نہیں ہوسکتی ،۔ (آسمانی برج) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد جعلنا فی السمآء بروجا “۔ البتہ تحقیق ہم نے آسمانوں میں برج بنائے ہیں ، پرانی ریاضی اور ماہرین فلکیات بارہ برجوں کا تصور پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چاند اور سورج ہر ماہ جدا جدا برج میں ہوتے ہیں ، ہر برج یامحل کی تاثیر مختلف ہوتی ہے جس سے موسموں کا تغیر وتبدل واقع ہوتا ہے ، بارہ برجوں کا تصور یونانیوں سے آیا ہے انہوں نے یہ تصور ایرانیوں سے اور ایرانیوں نے بائلیوں یعنی آشوریوں سے اخذ کیا تھا تاہم بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ برجوں سے مراد مطلق ستارے یا بڑے بڑے سیارے ہیں ، جہاں سے فرشتے اللہ کے حکم سے نیچے اترتے ہیں ، وہاں پر دروازے بنے ہوئے ہیں جہاں سے فرشتے آتے جاتے ہیں ، اور پھر برجوں ، سیاروں یا ستاروں کو اللہ نے اس طریقے سے تریب دیا ہے (آیت) ” وزینھا للنظرین “۔ کہ دیکھنے والوں کے لیے بڑے پررونق معلوم ہوتے ہیں ، دن کے وقت تو سورج کی حکومت ہوتی ہے اور رات کو چاند روشن ہوتا ہے اور جب چاند بھی موجود نہ ہو تو اس وقت ستارے خوب روشن ہوتے ہیں جن کا منظر بڑا خوش کن ہوتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ ہم نے ستاروں کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کردیا ہے ، اندھیری راتوں میں ستاروں کا نظارہ بڑا خوبصورت ہوتا ہے ۔ (شیاطین کے لیے شہاب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وحفظنھا من کل شیطن رجیم “۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی شیطان مردود سے ان کو اوپر جانے سے روک دیا گیا ہے (آیت) ” الا من استرق السمع “۔ مگر وہ جو چوری چھپے سن کر بھاگنا چاہتا ہے ، (آیت) ” فاتبعہ شھاب مبین “۔ پھر اس کے پیچھے روشن انگارا آتا ہے ، اسے شہاب ثاقب کہتے ہیں جو کسی ستارے سے ٹوٹ کر شیطان کا پیچھا کرتا ہے ، سائندانوں کی تحقیق کے مطابق اوپر اٹھنے والے بخارات میں حرارت ہوتی ہے ، پھر جب ان میں آگ لگتی ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ٹوٹا ہوا ستارہ ہو اس نظریے کی نفی نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن پاک نے اس قسم کے امکان کی نفی نہیں کی اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح سورج میں ایک بہت بڑا لاوہ ہے جو جلتا رہتا ہے ، روشنی اور حرارت دیتا ہے ، اس طرح ستاروں کے اندر کوئی ایسا مادہ ہو جو پھٹ جاتا ہو اور وہ ٹوٹا ہوا ستارہ نظر آتا ہو ، بہرحال قدیم زمانے سے یہی کچھ مشاہدے میں آرہا ہے اس ضمن میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جنات کی تخلیق سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے تک شیاطین کے لیے آسمان پر جانے میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں تھی ، لہذا وہ اوپر جا کر فرشتوں کی کچھ کچھ باتیں سن لیتے ، پھر وہ اسے واپس آکر اپنے چیلوں کاہنوں وغیرہ کے کانوں میں پھونکتے جو اس میں سو جھوٹ ملا کر آگے چلا دیتے ، پھر جب حضور ﷺ کا زمانہ آیا اور قرآن کا نزول شروع ہوا تو شیاطین کے اوپر جانے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ، اب اگر یہ اوپر جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ کے فرشتے ان پر شہاب پھینکتے ہیں ، پھر ان شیاطین میں سے کچھ زخمی ہوجاتے ہیں اور بعض ہلا ک ہوتے ہیں ، سورة جن میں ہے کہ جنات نے کہا کہ ہم اوپر جاتے ہیں ، (آیت) ” ملئت حرسا شدیدا وشھبا “۔ تو سخت پہرے لگ جاتے ہیں اور آگے سے شہاب پڑتے ہیں ، بعض جدید ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ اوپر فضا میں کائناتی شعائیں (COSMIC RAYS کا سمک ریز ) ہیں جو ہر اوپر والی چیز کو جلا ڈالتی ہیں اسی لیے فضا میں بھیجی جانے والی خلائی گاڑیوں کی حفاظت کا خصوصی انتظام کرنا پڑتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے شیاطین کو بھگانے کے لیے شہاب مقرر کر رکھے ہیں ، بہرحال یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین آجاتا ہے ، انصاف پسند آدمی ایسے دلائل سے بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں ۔ (زمین کے فوائد) یہ تو عالم علوی کا حال تھا ، آگے اللہ نے عالم سفلی کا حال بھی بیان کیا ہے (آیت) ” والارض مددنھا “۔ اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا ہے ، اگرچہ زمین بظاہر چپٹی نظر آتی ہے ، مگر حقیقت میں بالکل گیند کی طرح گول ایک بہت بڑا کرہ ہے ، چونکہ اس کا حجم بہت بڑا ہے اس لیے ہر حصے سے پھیلی ہوئی نظر آتی ہے اور اس کی گولائی محسوس نہیں ہوتی ، فرمایا ہم نے زمین کو پھیلا دیا ہے (آیت) ” والقینا فیھا رواسی “۔ اور اس میں بوجھل پہاڑ رکھ دیے ہیں راسیہ جمے ہوئے پہاڑ کو کہتے ہیں ان پہاڑوں کو بھی اللہ نے بےسود نہیں پیدا کیا بلکہ ان کے ساتھ بھی انسانی زندگی کے بہت سے مفادات وابستہ ہیں ، اگر پہاڑ نہ ہوں تو انسان ان سے پیدا ہونے والے ، پھلوں ، جڑی بوٹیوں اور مع دنیات سے محروم ہوجائیں ، تو پہاڑ بھی اللہ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا فرمائے ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” وانبتنا فیھا من کل شیء موزون “۔ اور ہم نے اس زمین میں ہر چیز ایک اندازے کے مطابق اگائی ہے ، انسان کمال قدرت کا مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نباتات کی ہر قسم کو موزوں پیدا فرمایا ہے ، اناج کا دانہ ہو یا ٹہنیاں اور پتے ، چھوٹی سی بیل ہو یا تناور درخت ، ہر چیز میں موزنیت پائی جاتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر اگنے والی چیز میں مختلف قسم کے رنگ ، خوشبو اور تاثیر رکھی ہے جو انسان کی بیشمار ضرورتیں پوری کرتے ہیں ، ان کو دیکھ کر دل ونگاہ خوش ہوجاتے ہیں ، ذرا غور فرمائین کہ جس قسم کا بیج بوئیں گے ، ہزار دفعہ بھی اگائیں تو اسی قسم کا پودا ، درخت اور پھل پیدا ہوں گے اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ، وہی رنگ وہی ذائقہ اور وہی شکل و صورت ہوگی ، مگر حیرت کا مقام ہے کہ اتنے بڑے بڑے نشانات قدرت دیکھ کر بھی لوگ کفر وشرک کو چھوڑ کر اللہ کی وحدانیت کے قائل نہیں ہوتے ، یہ ان کی ناشکر گزاری کی علامت ہے ۔ (معیشت کے سامان) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وجعلنا لکم فیھا معایش “ اور ہم نے تمہارے لیے زمین میں معیشت کے سامان پیدا کیے ہیں ہم نے تمہاری زندگی کے لیے اسباب فراہم کیے ہیں ان اسباب کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ انسان انہیں شمار بھی نہیں کرسکتے ، فرمایا ہم نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہاری روزی کا سامان بھی مہیا کیا ہے ، اور ان کو بھی پیدا کیا ہے (آیت) ” ومن لستم لہ برزقین “۔ جن کی روزی کے ذمہ دار تم نہیں ہو ، اللہ نے تمہاری خدمت کے لیے کتنے غلام اور نوکر چاکر پیدا کیے مگر ان کا روزی رساں بھی میں ہوں تم نہیں ہو ، پھر اللہ ن کتنے چوپائے ، پرندے ، درندے ، مچھلیاں ، کیڑے مکوڑے اور لادتعداد مخلوق پیدا کی ہے اور ان کے لیے معیشت کے سامان بھی خود ہی پیدا کیے ہیں ، اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اللہ نے کسی دوسری مخلوق کی روزی تمہارے ذمے نہیں لگائی ، بلکہ ہر جاندار کا روزی رساں وہ خود ہے ، تو فرمایا یہ باتیں اہل خرد کے لیے بڑے بڑے دلائل ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آنا چاہئے ، نہ کہ من مانی نشانیاں طلب کی جائیں اللہ نے تو پہلے ہی بیشمار نشانیاں پھیلا رکھی ہیں جنہیں تم ہر وقت دیکھتے ہو ، مگر ان میں غور وفکر نہیں کرتے ۔ (قدرت کے خزانے) آگے فرمایا (آیت) ” وان من شیء الا عندنا خزآئنہ “۔ اور ایسی کوئی چیز نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں ، اناج کی کوئی قسم لے لیں ، پھولوں اور پھلوں پر نگاہ ڈال لیں ، پانی ، ہوا ، جمادات ، نباتات ، اور مع دنیات کو دیکھ لیں ، ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ہی انہیں تقسیم کر رہے ہیں ، انسانی دل و دماغ شکل و صورت ، حسن ، علم اور صحت ہر چیز اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں سے عطا کر رکھی ہے اور اس کے خزانے اتنے وسیع ہیں کہ ان میں کوئی کمی نہیں آسکتی فرمایا (آیت) ” وما ننزلہ الا بقدر معلوم “۔ ہم یہ تمام نعمتیں ایک معین اندازے کے مطابق نازل فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی حکمت کو دوسری کوئی مخلوق نہیں سمجھ سکتی ، وہ اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے مطابق جہاں جس چیز کی جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی مہیا فرما دیتا ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کسی کی شکل و صورت کیسی بنانی ہے ، کسی کو حسن و جمال اور علم وصحت کتنی دینی ہے ، یہ سب چیزیں اس کے علم وقدرت میں ہیں ، اور وہ اسی کے مطابق انہیں نازل فرماتا ہے ۔
Ayahs 15:22–25

وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَسْقَیْنٰكُمُوْهُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِیْنَ Open ayah 15:22 in the Quran reader

اور بھیجیں ہم نے ہوائیں بوجھل ، پس اتارا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی پس ہم نے پلایا وہ پانی تم کو اور نہیں تھے تم اس کو خزانہ کرنے والے ۔

وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ Open ayah 15:23 in the Quran reader

اور بیشک البتہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں ۔

وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ Open ayah 15:24 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھنے والے ہیں تم میں سے اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں ان لوگوں کو جو پیچھے رہنے والے ہیں ۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 15:25 in the Quran reader

اور بیشک تیرا پروردگار ان کو اکٹھا کرے گا بیشک وہ حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔

(ربط آیات) سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا ، اور اس کی حفاظت کا قانون بتلایا ، پھر منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی پھر اللہ نے اپنی وحدانیت اور قیامت کے دلائل ذکر کیے ، پہلے علوی دلائل بیان کیے یعنی آسمانی برج اور ان کی حفاظت کا ذکر کیا ، پھر سفلی دلائل میں زمین کا پھیلانا ، اس میں پہاڑوں کو پیدا کرنا اور ہر چیز کو موزوں طریقے سے رکھنا بیان ہوا ، اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہر چیز کے خزانے اسی کے پاس ہیں ، پانی صحت ، علم اور مادی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ ہر چیز کو معلوم مقدار کے مطابق نازل فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور کمال قدرت کے علوی اور سفلی دلائل کے بعد تیسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” وارسلنا الریح لواقح “۔ اور ہم نے بوجھل ہوائیں چلائیں ، شاہ عبدالقادر (رح) اس کا ترجمہ رس بھری ہوائیں “ کرتے ہیں یعنی وہ ہوائیں جو پانی سے بھرپور ہوتی ہیں لقحہ حاملہ یا دودھ دینے والی مادہ کو کہا جاتا ہے ، تلقیح کا معنی پیوند کاری بھی ہوتا ہے ، اس سے بھی چیز بوجھل ہوجاتی ہے ، اور آگے دوسری چیز نکلتی ہے آجکل کی میڈیکل سائنس میں اسے ٹیکہ لگانا ۔ (ANOCULATION انسولیشن) کہتے ہیں ، اس عمل کے ذریعے انسانی جسم میں خاص قسم کے جراثیم پہنچائے جاتے ہیں جس سے بیماری کو ابھارنا مقصود ہوتا ہے تاکہ اس کا واضح طور پر علاج کیا جاسکے یا خود انسانی طبیعت کو اس قابل بنایا جاسکے کہ وہ بیماری کا مقابلہ کرسکے ۔ بہرحال یہ بوجھل ہوائیں سمندر سے اٹھنے والے بخارات کو اٹھاتی ہیں اور پھر قدرت کو جہاں بارش برسانا مقصود ہوتا ہے وہاں لے جاتی ہیں بارش برستی ہیں جس سے انسان ، ، حیوان ، کیڑے مکوڑے اور نباتات سیراب ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ایسا خود کار انتظام کر رکھا ہے جس سے پانی جیسی بنیادی ضرورت ہر ایک تک فری پہنچتی ہے اللہ نے اس نظام کو اس حکمت کے ساتھ قائم کیا ہے کہ بارش حسب ضرورت کبھی کبھی ہوتی ہے اگر ہر وقت بارش برستی رہے تو دنیا کا سارا کاروبار ہی ٹھپ ہوجائے اور زمین اس قابل ہی نہ ہو سکے کہ اس میں کاشت کی جاسکے اور وہ بارآور ہوسکے ، اللہ تعالیٰ کی ایک اور حکمت یہ ہے کہ اس نے سمندری پانی کو کھاری بنایا ہے اس میں ایسی تیزابیت پائی جاتی ہے کہ پانی میں پہنچنے والی غلاظت اور اس میں مرنے والے جانور اس طرح گل سڑ جاتے ہیں کہ ان کا تعفن باقی نہیں رہتا ۔ پانی کی بہم رسانی کا اللہ نے یہ عجیب نظام قائم کیا ہے کہ سمندروں کے کھاری پانی سے بخارات اٹھتے ہیں ، ہوائیں انہیں اٹھا کر مختلف سمتوں میں پھیل جاتی ہیں اور پھر ان سے مختلف مقامات پر بارش ہوتی ہے مگر کڑوے سمندر کے بخارات جب پھر پانی میں تبدیل ہوتے ہیں تو وہ پانی میٹھا ہوتا ہے جو حیوانات اور نباتات کے استعمال کے قابل ہوتا ہے ، یہی پانی اونچے پہاڑوں پر برستا ہے تو ندی نالوں کی صورت میں میدانی علاقوں میں پہنچ کر پیاسی زمین کو سیراب کرتا ہے جس سے کھیتی باڑی ہوتی ہے ، انسان اور جانور سیراب ہوتے ہیں اور کچھ پانی برف کی صورت میں جم جاتا ہے ، پھر موسم گرما میں برف پگھلتی ہے جس سے چشمے ، ندی نالے اور پھر دریا سارا سال جاری رہتے ہیں اور اس طرح سال بھر کی ضروریات پوری ہوتی رہتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کچھ پانی کو زمین کی گہرائی میں اتار دیتا ہے جسے کنوؤں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے نکال کر انسان ضروریات اور کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بوجھل ہوائیں چلائیں (آیت) ” فانزلنا من السمآء مآئ “۔ اور آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا ، آسمان کا اطلاق فضا پر بھی ہوتا ہے بادل فضا میں ہی گھومتے پھرتے ہیں جن سے بارش ہوتی ہے ، اگرچہ بادل ہی بظاہر ذریعہ بارش ہیں مگر اس کے لیے عالم بالا کا حکم بھی ضروری ہے ، جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو بارش نہیں ہوتی ، ہوا ، روشنی ، خوراک ، لباس ، مکان کی طرح پانی بھی انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے جو بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ ہی نازل فرماتا ہے فرمایا (آیت) ” فاسقینکموہ “۔ ہم نے یہ پانی تمہیں پلایا اور تمہارے ساتھ دیگر جانداروں اور نباتات کو بھی سیراب کیا ، پانی مدار حیات ہے ، اس کی اصل قدر صحرائی علاقوں کے باشندوں کو ہوتی ہے ، جہاں سینکڑوں میلوں تک اس کا نام ونشان نہیں ملتا ، فرمایا پانی ایک ایسی چیز ہے کہ بنیادی ضرورت ہونے کے باوجود (آیت) ” وما انتم بخزنین “۔ تم اس کو ذخیرہ (STORE سٹور) نہیں کرسکتے تم چند دن کے لیے تو پانی جمع کرسکتے ہو مگر سالوں تک اس کی بہم رسانی کے لیے تمہارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے ، جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ اللہ نے چشموں ، جھیلوں ، ندی نالوں ، دریاؤں اور برف کے تودوں کی صورت میں ایسا مربوط نظام قائم کردیا ، کہ انسان ، حیوان اور نباتات سال بھر کی ضروریات پوری کرتے رہتے ہیں اور اللہ کے یہ خزانے ختم نہیں ہوتے موجودہ دور میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے ڈیم بنائے گئے ہیں مگر پھر بھی سال میں کئی مواقع ایسے آتے ہیں کہ ضرورت کے مطابق پانی میسر نہیں آتا جس کا اثر نہ صرف کھیتی باڑی پر پڑتا ہے بلکہ ہمارے ملک کی بجلی کی پیداوار میں بھی کمی آجاتی ہے ، اور پھر لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے ۔ میڈیکل سائنس والے بتاتے ہیں کہ انسان کی رگوں میں گردش کرنے والے خون پر زندگی کا دارومدار ہے اور اس خون میں اسی فیصد پانی اور بیس فیصد باقی غذائی اجزا ہوتے ہیں ، اگر پانی جیسی عظیم نعمت نہ ہو تو نہ کوئی انسان زندہ رہ سکے ، نہ کوئی جانور اور نہ ہی نباتات پیدا ہو سکتے ، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” وجعلنا من المآء کل شیء حی “۔ (الانبیائ) ہم نے ہر چیز کی زندگی کا انحصار پانی پر رکھا ہے ، اور پانی بھی ایسا کہ جو گندا یا بدبودار نہیں بلکہ (آیت) ” وانزلنا من السمآء ماء طھورا “۔ (الفرقان) ہم نے پاکیزہ پانی نازل فرمایا ہے جو خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے ، چناچہ غلاظت کو دور کرنے کے لیے بھی پانی ہی کی ضرورت ہوتی ہے ، غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرما کر تمہیں سیراب کیا ہے اب تمہارا یعنی تمام حکومتوں کا بھی فرض ہے کہ لوگوں کے لیے پانی کی فری سپلائی کا بندوبست کریں ، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ تیسری دلیل بیان فرمائی ہے ۔ (زندگی اور موت کا نظام) اب اپنی وحدانیت کی چوتھی دلیل اللہ نے یہ بیان فرمائی (آیت) ” وانا لنحن نحی ونمیت “۔ اور بیشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی موت طاری کرتے ہیں گویا موت وحیات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے یہ کسی انسان جن ، فرشتہ یا دیوی دیوتا کے اختیار میں نہیں ہے ، اس کی حکومت بالغہ کے مطابق جب تک کسی کی زندگی مقصود ہوتی ہے ، اسے زندہ رکھتا ہے اور پھر موت سے ہمکنار کردیتا ہے ، اسی طرح جب تک چاہے گا کائنات کو مجموعی طور پر زندہ رکھے گا اور جب چاہے گا قیامت برپا کر کے ہر چیز کو فنا کر دے گا ، غرضیکہ جس طرح پیدائش اس کے اختیار میں ہے اسی طرح موت بھی اس کے ہاتھ میں ہے اس کی مرضی کے خلاف نہ کوئی پیدا کرسکتا ہے اور نہ کسی کو مار سکتا ہے ، پھر فرمایا (آیت) ” ونحن الوارثون “۔ اور ہر چیز کے وارث بھی ہم ہی ہیں ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو اس کی چھوڑی ہوئی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے یہاں پر اولاد والی وراثت مراد نہیں بلکہ ہر انفرادی موت اور پھر قیامت کو مجموعی موت کے بعد ہر چیز کا وارث اللہ ہی ہے سب کی کمائی اسی کے قبضہ قدرت میں ہوتی ہے ۔ (متقدمین اور متاخرین) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد علمنا المستقدمین منکم “۔ اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں تم میں سے آگے بڑھنے والوں کو (آیت) ” ولقد علمنا المستاخرین “۔ اور البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو بھی مفسرین کرام نے متقدمین اور متاخرین کی تفسیر مختلف طریقے سے بیان فرمائی ہے ، امام ابن جریر طبری (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ متقدمین سے پہلی امتوں کے لوگ مراد ہیں اور متاخرین سے حضور ﷺ کی امت یعنی آخری امت کے لوگ مراد ہیں ، فرمایا ہم تمام اولین اور آخرین کے حالات کو اچھی طرح جانتے ہیں ، خدا تعالیٰ کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے ، بعض فرماتے ہیں کہ متقدمین سے وہ لوگ مراد ہیں جو نیکی میں آگے بڑھنے والے ہیں ، اسی لیے اللہ نے حکم دیا ہے (آیت) ” فاستبقوالخیرت “۔ (المائدہ) نیکی کے کاموں میں آگے بڑھو ، اور متاخرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں ہے متقدمین سے مراد نماز اور جہاد کی صفوں میں آگے بڑھنے والے لوگ ہیں بعض لوگ سستی کرتے ہیں نماز کی اگلی صفوں میں پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ پچھلی صفوں میں ہی بیٹھ جاتے ہیں ، حضور ﷺ کی صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان کہنے کا کتنا اجر ہے اور اگلی صفوں میں نماز پڑھنے کی کتنی فضیلت ہے تو لوگ اگلی صفوں میں شامل ہونے کے لیے قرعہ اندازی کرنے لگیں ، حضرت کعب احبار (رح) تابعین میں سے ہیں ، امام قرطبی (رح) نے ان سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کی امت میں بعض ایسے مقبول بندے بھی ہوں گے کہ ان سے پچھلی صف میں نماز ادا کرنے والے لوگوں کی بھی بخشش ہوجائے گی ، اگر کوئی مقبول الہی بندہ اگلی صف میں نماز ادا کرتا ہے تو پیچھے والوں کے سب کے گناہ معاف ہوجائیں گے ، تاہم فضیلت اگلی صف کو ہی حاصل ہے اور اگلی صف والے کی وجہ سے ہی پیچھلی صف والوں کے گناہوں کی معافی کا ذکر آیا ہے لہذا حتی الامکان اگلی صفوں میں پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ّ (عورتوں اور مردوں کی صفیں) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کے زمانے میں ایک خوبصورت عورت نماز باجماعت کے لیے مسجد میں آتی تھی اس لیے بعض آدمیوں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اگلی صف میں چلے جائیں تاکہ ان کی نگاہ عورت پر نہ پڑے ، اور بعض منافق صفت آدمی ایسے بھی تھے کہ وہ پچھلی صفوں میں رہنا پسند کرتے تھے تاکہ انہیں تاک جھانک کا موقع مل سکے ، تو اللہ نے فرمایا کہ ہم جانتے ہیں آگے بڑھنے والوں کو اور پیچھے رہنے والوں کو ، ان کی نیت اور ارادہ بھی ہمارے علم میں ہے اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ مردوں میں سب سے اچھی اگلی صفیں ہیں اور عورتوں میں اچھی صفیں پچھلی ہیں ، مرد وزن اختلاط سے جتنے دور رہیں گے اتنے ہی فتنے سے محفوظ رہیں گے اس سے یہ مراد بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ ہم نیکی میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے والوں کو جانتے ہیں ، یا میدان کار زار میں آگے بڑھ کر حصہ لینے والوں کو بھی جانتے ہیں اور پیچھے رہنے والوں سے بھی واقف ہیں ، اللہ تعالیٰ ہر ایک کے حالات ، نیت اور عزم کو جانتا ہے ۔ (قیامت اور جزائے عمل) دلائل توحید کے بعد اللہ نے فرمایا (آیت) ” وان ربک ھو یحشرھم “۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ ان سب کو اکٹھا کرے گا ، اور سب کو جزائے عمل کے مرحلے سے گزرنا پڑے گا ، اور سب کو اپنے اپنے کیے کی جزا یا سزا بھگتنا ہوگی ، فرمایا (آیت) ” انہ حکیم علیم “۔ وہ اللہ تعالیٰ کمال حکمت کا مالک ہے اس کی ہر بات حکیمانہ ہے اور اسی کے مطابق وہ فیصلے کرتا ہے ، وہ علیم بھی ہے کہ ہر شخص کے مخفی عزائم کو بھی جانتا ہے قیامت کے دن ہر ایک کو اس کی نیت اور ارادے اور عمل کے مطابق جزا دے گا ۔