Ayahs 15:26–35(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل بیان ہوئے ، پہلے بیرونی دلائل کا ذکر ہوا جن میں آسمانوں کی تخلیق ، اس میں ستاروں اور سیاروں کو چلانا ، پھر زمین کو پھیلانا اور اس میں طرح طرح کی چیزیں پیدا کرنا ، پھر زمین وآسمان کے درمیان فضاؤں میں ہواؤں کو چلانا ، بادلوں کو اٹھانا ، باران رحمت کا نزول ، انسانوں ، جانوروں اور نباتات کے لیے پانی کی بہم رسانی اور اس کے نتیجے میں خوراک کا مہیا کرنا وغیرہ بیرونی دلائل تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے قیامت کا ذکر بھی فرمایا (آیت) ” ان ربک ھو یحشرھم “۔ تیرا پروردگار ان سب کو اس دن اکٹھا کریگا وہ انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قدرت رکھتا ہے ، پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزائے عمل واقع ہوگی ، کہ یہ انسان کی پیدائش کے ساتھ لازم ہے ۔
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس میں اپنی قدرت اور وحدانیت کے اندرونی دلائل ذکر کیے ہیں ، بیرونی دنیا کے علاوہ اللہ نے انسان کے اندر بھی غور وفکر کرنے والوں کے لیے بہت سے دلائل رکھے ہیں ، چناچہ قرآن میں دوسری جگہ موجود ہے (آیت) ” وفی انفسکم ، افلا تبصرون “۔ (الذریت) تمہارے نفسوں کے اندر بھی اللہ نے بہت سے دلائل رکھے ہیں ، کیا تم دیکھتے نہیں ؟ اسی طرح حشر اموات بھی خود انسان کے اندرونی دلائل میں سے ایک دلیل ہے ۔
(مسئلہ تخلیق انسان)
اللہ نے انسان کو پیدا کرکے اور اس کو وجود عطا کرکے بہت بڑا احسان فرمایا کہ اس سے نوع انسانی قائم ہوئی ہے انسان میں اگرچہ نافرمانی کا مادہ بھی پایا جاتا ہے ، مگر اللہ نے اس میں کمالات بھی بہت زیادہ پیدا کیے ہیں ، اگر انسان ان سے کام لے تو ہر کمال خدا تعالیٰ کی معرفت کی دلیل بن سکتا ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” ولقد خلقنا الانسان “۔ اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو (آیت) ” من صلصال من حما مسنون “۔ بجنے والے متغیر ، سڑے ہوئے گارے سے ، صلصال اس خشک مٹی کو کہتے ہیں کہ جب اسے آگ پر پکایا جائے تو ٹھوکر لگانے سے بجنے لگتی ہے سورة الرحمن میں ہے (آیت) ” خلق الانسان من صلصال کا لفخار “۔ انسان کو پیدا کی خشک مٹی سے پکی ہوئی مٹی سے ہوئی ہے تو اس میں حرارت کا جزو بھی یقینا موجود ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تمام روئے زمین کی مٹی اکھٹی کرکے لاؤ پھر اس کو گوندھا گیا ، اس کا گارا بنایا گیا ، اور پھر اس سے انسان کا مجسمہ تیار ہوا ۔
(انسانی وجود کے عناصر)
عام مشہور ہے کہ انسان عناصر اربعہ یعنی مٹی ، آگ ، ہوا اور پانی کا مجموعہ ہے ، یہ نظریہ یونانیوں کے ہاں مانا جاتا تھا جسے بعض دوسروں نے بھی تسلیم کیا تاہم بعض لوگ انسان کو پانچ ، سات یا اس سے بھی زیادہ عناصر کا مجموعہ سمجھتے تھے ، موجودہ سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان بیرونی دنیا میں پائے جانے والے لاتعداد عناصر کا مرکب ہے ، باہر کی دنیا میں جتنے عناصر موجود ہیں انسانی وجود ان سب کا خلاصہ اور نچوڑ ہے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کی مشینری بڑی پیچیدہ بنائی ہے اس کی باریک باریک رگیں اور دماغ کے پیچ وخم میں اپنی قدرت کے بیشمار کمالات اور حکمتیں رکھی ہیں اور پھر یہ ہے کہ روئے زمین کی مٹی کہیں نرم ہے کہیں سخت کہیں سفید ہے ، کہیں سیاہ اور کہیں سرخ ، اسی طرح یہ خواص انسان بھی پائے جاتے ہیں ، بعض لوگ نرم مزاج ہوتے ہیں اور بعض سخت مزاج بعض رنگت میں کالے ، گورے اور سرخ ہوتے ہیں یہ مختلف خطوں کی مٹی کی تاثیر ہے ۔
بہرحال اللہ نے انسان کی تخلیق کے سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو صلصال یعنی کھنکھنانے والی ، حما ، یعنی بدلی ہوئی اور مسنون یعنی گلی سڑی مٹی سے پیدا کیا ، اس بات کی تفصیل تو نہیں تھی کہ آدم (علیہ السلام) کا مجسمہ تیار ہو کر کتنی دیر تک پڑا رہا اور پھر خشک ہوا ، البتہ فرشتے اور ابلیس اس مجسمے کو دیکھ رہے تھے ، ابلیس کے متعلق آتا ہے کہ اس نے دیکھا کہ یہ مجسمہ اندر سے خالی ہے اور اس میں وسوسے ڈالنے کی گنجائش موجود ہے ، ادھر فرشتے بھی اس عجیب و غریب مجسمے کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ کیسی مخلوق ہے ، کافی عرصہ کے بعد اس مجسمے میں روح ڈالی گئی ، بہرحال فرمایا کہ ہم نے کھنکھنانے والے ، متغیر اور سڑے ہوئے گارے سے انسان کو تخلیق کیا ، اس مٹی میں اللہ نے وہ کمال رکھا جو کسی دوسرے مادے میں نہیں پایا جاتا ، اس میں خدا تعالیٰ کی ذاتی تجلیات کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جو کسی دوسری مخلوق جنات ملائکہ وغیرہ میں بھی نہیں رکھی اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں انسان کو برتری عطا فرمائی ہے ،
(فرشتوں کی تخلیق)
فرشتوں (1) (حجۃ اللہ البالغہ ص 23 ج 1) تخلیق انسان کی تخلیق سے کروڑوں سال پہلے ہوئی امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایک ایسا دور بھی آیا جب اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کے فرشتوں جبرائیل اور میکائل کو پیدا فرمایا ، ان فرشتوں کے مادہ تخلیق کی مثال شاہ صاحب (رح) (2) (حجۃ اللہ البالغہ ص 16 ج 1) نے اس آگ سے دی ہے جسے موسیٰ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر دیکھا تھا ، وہ ایک خاص نوری یاناری مادہ تھا جو درخت سے ظاہر ہو رہا تھا مگر درخت کو جلاتا نہیں تھا ، جوں جوں اس کی روشنی میں اضافہ ہوتا تھا ، درخت کی سرسبزی اور شادابی بھی بڑھتی جاتی تھی ، تو اس قسم کے حیرت انگیز مادے سے اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کے فرشتوں کی تخلیق کی ، پھر ملاء اعلی کے دوسرے طبقے کے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عالم مثال کے لطیف مادے سے پیدا کیا ، پھر باقی فرشتے پیدا کیے ، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ تمام فرشتوں کا تعلق ایک ہی طبقے سے نہیں بلکہ ملاء اعلی سے زمین تک ان کے (3) (الخیر الکثیر ص 46 ، ص 47) سات طبقے ہیں اور ہر طبقے کا مادہ تخلیق مختلف ہے ، بعض کا مادہ برف کے ٹکڑے کی مانند ہے جس سے دھواں سا نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے بہرحال فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی مصلحت کی خاطر پیدا فرمایا ، فرشتے ، جنات ، زمین اور آسمان وغیرہ تمام چیزیں پہلے پیدا کیں اور اس کے بعد انسان کو پیدا فرمایا ۔
(انسان کی برتری)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو باقی تمام مخلوقات پر برتری اور فضیلت عطا فرمائی ہے کیونکہ اس کے مادہ تخلیق میں جو لطافت اور کمال رکھا ہے اور جو خوبیاں اور صفات اس میں ودیعت کی ہے ، وہ کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتیں ، مٹی جیسی حقیر چیز کو دیکھیں اور پھر اس سے پیدا ہونیوالا اللہ کا شاہکار ملاحظہ کریں کہ انسان کو کیسی عظیم ہستی بنایا ہے ، اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد ہے (آیت) ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم “۔ (التین) ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور بہترین قدوقامت میں پیدا فرمایا ، اللہ کا یہ بھی ارشاد (آیت) ” ولقد کرمنا بنی آدم “۔ (بنی اسرائیل) ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ، انسان کو مجسمہ بنانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی طرف سے روح ڈالی ، انسان کا شرف و کمال اسی روح کی وجہ سے ہے روح نہایت ہی لطیف چیز ہے اور اسی کی بدولت انسان کی صفات اور کمالات قائم ہیں ،
(جنات کی تخلیق)
انسان کی تخلیق کے بیان کے ساتھ اللہ نے نافرمان عنصر یعنی جنات کی تخلیق کا ذکر بھی کیا ہے (آیت) ” والجان خلقنہ من قبل من انار السموم “۔ اور اس سے پہلے ہم نے جنوں کو آگ کی لو سے پیدا کیا بعض کہتے ہیں کہ جان سے مراد جنوں کا جدامجد ابلیس ہے ، اور بعض کہتے ہیں کہ وہ ان میں شامل نہیں بلکہ الگ ہے ، تاہم ابلیس کی ساری اولاد نافرمان ہے مگر جنات میں سے فرمانبردار بھی ہیں اور نافرمان بھی جیسا کہ سورة جن میں آتا ہے (آیت) ” وانا من الصلحون ومنا دون ذلک “ ۔ ان میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ، بہرحال جنات کو اللہ تعالیٰ نے نار سموم سے پیدا کیا ، سورة الرحمن میں ہے (آیت) ” وخلق الجان من مارج من نار “۔ جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا ،
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی تخلیق میں مٹی کا عنصر زیادہ ہے جب کہ جنات اور شیاطین کی تخلیق میں آگ کا عنصر غالب ہے ۔
(انسان کی تخلیق)
اب اللہ نے انسان کی تخلیق کا مفصل حال بیان فرمایا ہے (آیت) ” واذ قال ربک للملئکۃ “۔ اور جب کہا تیرے پروردگار نے فرشتوں سے یہ انسان کی پیدائش سے پہلے کا واقعہ ہے ، فرمایا (آیت) ” انی خالق بشرا “ میں بشر یعنی انسان کو پیدا کرنے والا ہوں ، انسان کو بشر اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی کھال نمایاں نظر آتی ہے ، یہ انسان کا خاصہ ہے کہ اس کی کھال واضح طور پر نظر آتی ہے ، جب کہ جانوروں اور پرندوں کی کھال پوشیدہ ہوتی ہے اور واضح طور پر نظر نہیں آتی ، فرمایا میں انسان کو پیدا کرنے والا ہوں (آیت) ” من صلصال من حما مسنون “۔ کھنکھنانے والے متغیر اور سڑے ہوئے مادے سے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو انسان کی پیدائش کے متعلق پہلے ہی آگاہ کردیا ،
(روح کا مسئلہ)
فرمایا (آیت) ” فاذا سویتہ “۔ پھر جب میں اس کو برابر کر دوں (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “ اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں ، برابر کرنے سے مراد ہے کہ جب میں آدم (علیہ السلام) کے تمام اعضا وقوی اپنے اپنے مقام پر رکھ دوں ، جہاں تک روح کا تعلق ہے ، یہ حادث یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ نے اپنی روح پھونک دی ، اس طرح حلول کا مسئلہ بن گیا کہ انسان خدا ہوگیا اور خدا آدم بن گیا ، بلکہ روح تو مخلوق ہے اور اس کا تعلق عالم امر اور عالم خلق دونوں سے ہے ، سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیں (آیت) ” قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “۔ کہ وہ میرے پروردگار کا ایک امر ہے اور تمہیں بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔
روح کا مسئلہ بڑا پیچیدہ اور مشکل ہے ، بڑے بڑے فلاسفروں اور علماء نے اس پر کلام کیا ہے ، امام رازی (رح) نے کتاب النفس لکھی ہے جس میں روح اور نفس کی جملہ معلومات جمع کی ہیں اور اس میں قدیم نظریات کا ذکر بھی کیا ہے ، امام غزالی (رح) نے بھی کتاب الروح کے نام سے کتاب لکھی ہے جس میں روح کی حقیقت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے ، امام ابن تیمیہ (رح) کے شاگرد امام ابن قیم (رح) نے بھی کتاب الروح جیسی کتاب پیش کی ، تاہم اس مسئلہ میں سب سے زیادہ کلام امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ روح کے بارے میں خواص تو بحث کرسکتے میں مگر عوام کے لیے یہی کافی ہے کہ روح امر ربی ہے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کا حوالہ پہلے دے دیا ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ روح کی نسبت اللہ کی طرف اس کی شرافت کی وجہ سے کی گئی ہے ، جیسے بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کو یہ نام ان کی شرافت کی وجہ سے دیے گیے ہیں ۔
(فرشتوں کو سجدے کا حکم)
فرمایا جب میں آدم کو برابر کردوں اور اس میں اپنی طرف سے روح ڈال دوں (آیت) ” فقعوالہ سجدین “۔ تو تم اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجانا چناچہ ایسا ہی ہوا ، جب اللہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈال دی (آیت) ” فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون “۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اس ضمن میں متکلمین اور علماء سارے ہی کہتے ہیں کہ عالم بالا اور عالم زیریں کے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حکم ملاء اعلی کے فرشتوں کو نہیں تھا بلکہ ملائکہ عنصرین کو تھا جن کی تخلیق عناصر سے ہوئی تھی ، ابلیس اور شیاطین بھی منجملہ ان میں سے ہیں ، اس لیے ان کو بھی سجدے کا حکم ہوا تھا ، سورة اعراف میں موجود ہے کہ جب ابلیس نے سجدہ نہ کیا تو اللہ نے فرمایا (آیت) ” مامنعک الا تسجد اذ امرتک “۔ تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم دیا تھا ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا تھا ، اسی طرح ابلیس کو بھی حکم تھا ، مگر اس نے انکار کردیا ۔
(سجدہ تعظیمی )
اللہ تعالیٰ نے جس سجدے کا حکم فرشتوں اور ابلیس کو دیا تھا وہ سجدہ تعظیمی تھا سجدہ عبادت اللہ کے سوا کسی کے لیے روا نہیں ، اگر کوئی کریگا تو اس پر کفر لازم آئے گا ، یہ سجدہ تعظیم و تکریم ایسا ہی ہے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کے سامنے کیا تھا ، قدیم زمانے میں لوگ سجدہ تعظیمی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کے سامنے بھی کرتے تھے ، اس کو سجدہ تحیہ یعنی ملاقات کا سجدہ بھی کہتے ہیں اور یہ پہلی امتوں میں ممنوع نہیں تھا مگر اس آخری امت کے لیے سجدہ تعظیمی بھی حرام ہے خواہ یہ کسی بادشاہ پیر ، استاد ، یا قبر کے سامنے کیا جائے ، البتہ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ فرق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی انسان یا قبر کو سجدہ تعظیمی کرتا ہے ، تو وہ حرام ہے ، سجدہ کرنے والے پر کفر کا فتوی نہیں لگ سکتا ، اور اگر کوئی شخص کسی مخلوق کے سامنے عبادت کا سجدہ بجا لاتا ہے تو یہ صریح کفر ہوگا کیونکہ عبادت کا سجدہ ہر امت میں حرام ہے ۔
بعض فرماتے ہیں کہ سجدہ آدم (علیہ السلام) کے سامنے نہیں ہوا تھا بلکہ سجدہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی تھا ، اور آدم (علیہ السلام) بمنزلہ قبلہ کے تھے ، جس طرح ہم بیت اللہ شریف کو قبلہ اور جہت مان کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوتے ہیں ، اسی طرح فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کو قبلہ مان کر اللہ کو سجدہ کیا تھا ، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کی تحقیق یہ ہے کہ خانہ کعبہ مرکز عالم ہے ، اس کی سمت پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات بہت زیادہ پڑتی ہیں ، تو ہمارا سجدہ دراصل اس تجلی الہی کو ہوتا ہے ، اسی طرح آدم (علیہ السلام) بھی منزلہ قبلہ تھے جن کی طرف فرشتوں نے سجدہ کیا ،
بعض فرماتے ہیں کہ جب آدم (علیہ السلام) کے لیے سجدے کا حکم ہوا تو اس وقت ان کے قلب مبارک پر اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات پڑ رہی تھیں اس لیے آدم (علیہ السلام) کی سمت میں فرشتوں کو سجدہ کا حکم ہوا ، بعض فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی محض تعظیم کرائی تھی اور فرشتوں نے اس حکم کی بجا آوری کی ۔
(ابلیس کا انکار)
بہرحال تمام فرشتوں نے سجدہ کی (آیت) ” الا ابلیس “ ماسوائے ابلیس کے (آیت) ” ابی ان یکون مع السجدین “ اس نے انکار کیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو قال اللہ نے فرمایا (آیت) ” یابلیس مالک الا تکون مع السجدین “۔ اے ابلیس ! تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ کیوں نہ ہوا ” قال “ کہنے لگا (آیت) ” ثم اکن لا سجد لبشر خلقتہ من صلصال من حما مسنون “۔ میں اس بشر کو سجدہ نہیں کرسکتا جسے تو نے کھنکھنا نے والے متغیر گارے سے پیدا کیا ہے گویا ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر اپنی برتری ظاہر کی سورة اعراف میں ہے (آیت) ” قال انا خیر منہ “ میں اس سے بہتر ہوں (آیت) ” خلقتنی من نار وخلقتہ من طین “۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے تخلیق کیا ہے اور آگ مٹی سے فائق ہے ، لہذا میں مٹی جیسی ادنی چیز کے سامنے سجدہ نہیں کرسکتا بشار ابن برد شاعر نے کہا ہے ۔
ابلیس افضل من ابیکم ادم
فتبینوا یا معشرالاشرار۔
النار عنصرہ وادم طینۃ
والطین لا یسموسموا النار :
ابلیس تمہارے جد امجد آدم (علیہ السلام) سے زیادہ فوقیت رکھتا ہے کیونکہ ابلیس کا عنصر آگ ہے اور آدم کا مٹی ، اور آگ کو مٹی پر فوقیت حاصل ہے یہ ابلیس کا تکبر اور حسد تھا کہ اس نے آدم (علیہ السلام) پر اپنی برتری ظاہر کی تکبر بہت بری بیماری ہے ، اسی لیے بزرگان دین جب کسی کی تربیت کرتے ہیں تو تکبر سب سے آخر میں نکلتا ہے یہ سب سے خطرناک اخلاق ہے تو شیطان نے اکٹر کی وجہ سے کہا میں آدم (علیہ السلام) سے افضل ہوں ۔
(شیطان راندہ ودرگاہ)
قال : اللہ نے فرمایا (آیت) ” فاخرج منھا “ یہاں سے نکل جاؤ ، (آیت) ” فانک رجیم “۔ بیشک تم مردود ہو ، تم میں تکبر پیدا ہوگیا ہے ۔ سورة بقرہ میں ہے (آیت) ” ابی واستکبر وکان من الکفرین “۔ اس نے انکار اور تکبر کیا تو کافروں میں ہوگیا ، حضرت شمس الدین یحیٰ منیری (رح) کے مکتوبات میں ہے کہ ابلیس نے ساتھ لاکھ سال عبادت کی مگر اللہ کے ایک حکم کی سرتابی کی وجہ سے ساری عبادت رائیگاں چلی گئی ، فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” وان علیک اللعنۃ الی یوم الدین “۔ تم پر قیامت تک لعنت ہی برستی رہیگی ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت آنے پر لعنت سے نکل جائیگا بلکہ قیامت برپا ہونے کے بعد تو جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے اور پھر اس کا عذاب تو مزید بڑھ جائے گا ، کافروں کے متعلق سورة بقرہ میں اللہ کا واضح حکم ہے (آیت) ” ان الذین کفروا وما توا وھم کفار اولیک علیھم لعنۃ اللہ والملئکۃ والناس اجمعین ، خلدین فیھا لا یخفف عنھم العذاب ولا ھم ینظرون “۔ جو شخص کفر کی حالت میں مرگیا ، اس پر اللہ ، اس کے فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ان کے عذاب میں نہ تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائیگی ، بہرحال فرمایا کہ اے ابلیس ! تم پر قیامت تک لعنت پڑتی رہیگی اور پھر آخرت کا عذاب تو دائمی ہوگا۔
Ayahs 15:36–44(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا ، ایک معمولی چیز یعنی سڑے ہوئے بدبودار گارے والی مٹی سے انسان کو پیدا کیا اور اسے کمال درجے کی حیثیت اور شان عطا فرمائی ، اس میں روح ڈالی ، فرشتوں سے اس کو سجدہ کرایا ، ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور اپنی برتری جتلانے کی کوشش کی کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے سجدہ بجا لاؤں ، اس نے تکبر میں آکر اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرتابی کی ، تو اللہ نے اسے مردود ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ قیامت تک تجھ پر لعنت ہی برستی رہے گی ،
(مہلت کی درخواست)
اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کی ، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے ” قال “ شیطان نے کہا (آیت) ” رب فانظرنی “ اے پیغمبر ﷺ ! مجھے مہلت دے (آیت) ” الی یوم یبعثون “۔ اس دن تک کے لیے جب سب لوگ دوبارہ جی اٹھیں گے انظار مہلت دینے کو کہتے ہیں ، اس کی مثال حدیث شریف میں ملتی ہے ، حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ” من انظر معسرا او تجاوز عنہ فاظلہ اللہ فی یوم لاظل الا ظلہ “۔ جو آدمی کسی تنگ دست کو مہلت دے یا قرضہ معاف ہی کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دیگا ، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ، تو بہرحال ابلیس نے بھی قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تو اللہ رب العزت نے فرمایا (آیت) ” قال فانک من المنظرین “۔ پس بیشک تو مہلت دے ہوؤں میں سے ہے گویا اللہ تعالیٰ نے شیطان کی درخواست قبول کرلی ،
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان جیسے بدترین کافر کی دعا فورا قبول کرلی جس کا یہ مطلب نہیں ہے جس کی دعا قبول کرلی جائے وہ لازما مقبول ہستی ہوتا ہے ، یعنی دعا کی قبولیت دعا کرنے والے کی مقبولیت کی شرط نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی بدترین مخلوق کی دعا بھی قبول کرے ، اس کا انحصار اس کی حکمت اور مصلحت پر ہے مومن کی دعا کی قبولیت تو اس کی سعادت کی بات ہے مگر ہو سکتا ہے کہ دنیوی مفاد کے لیے دعا کسی نافرمان کی بھی قبول کرے ، وہ مالک الملک اور مختار کل ہے ، اس کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں مگر یہ اس کی سعادت کی علامت نہیں سمجھی جائے گی ،
یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ شیطان نے دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک اپنی زندگی کی مہلت طلب کی جس سے اس کی مراد یہ تھی کہ یوم البعث تک تو اسے ویسے ہی زندگی حاصل ہوجائے گی اور اس دن سب کو پھر جی اٹھنا ہے ، اس طرح وہ موت کی کٹھن گھاٹیوں سے بچ جائے گا مگر اللہ نے فرمایا کہ تمہیں مہلت دیدی ہے مگر وہ یوم البعث تک نہیں بلکہ (آیت) ” الی یوم الوقت المعلوم “۔ معلوم وقت کے دن تک یعنی اس دن تک جس دن قیامت برپا ہوگی گویا اسے قیامت کے اعلان کے ساتھ ہی باقی ماندہ مخلوق کی طرح موت سے ہمکنار ہونا پڑیگا ، قیامت سے متعلق قرآن وحدیث میں تصریح موجود ہے کہ دو دفعہ صور پھونکا جائے ، جب پہلا صور پھونکا جائے گا تو ہر چیز فنا ہوجائے گی ہر زندہ ہستی پر موت طاری ہوگی اور کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی ، پھر چالیس سال کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے شیطان کو رعایت پہلے صور تک دی تاکہ موت اس پر بھی طاری ہو ، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت شیطان سخت پریشان ہوگا ، فرشتے اس کو گھیریں گے اسے بڑی تلخی ہوگی اور وہ بہت تڑپے گا ، پھر دوسرے صور پر وہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور جزائے عمل کے لیے پیش ہوگا۔
(گمراہ کرنیکا عزم)
بہرحال جب شیطان کو مہلت مل گئی ” قال “ تو کہنے لگا (آیت) ” رب بما اغویتنی “۔ اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ ٹھہرایا ہے ، اب میں یہ کرونگا (آیت) ” لازینن لھم فی الارض “۔ ان لوگوں کے لیے میں زمین میں مزین کروں گا یعنی اس سطح ارضی پر ہونے والی تمام برائیوں اور بےحیائیوں کو لوگوں کے لیے خوشنما کرکے دکھاؤں گا تاکہ انہیں کی طرف مائل ہوجائیں اور تیرے راستے سے ہٹ جائیں گویا کہ (آیت) ” ولا غوینھم اجمعین “۔ ضرور سب کو گمراہ کرکے چھوڑوں گا ، مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ شیطان نے یوں کہا تھا کہ اے اللہ ! جب تک انسانوں کی روحیں ان کے جسموں میں موجود ہیں ، میں انھیں گمراہ کرتا رہوں گا ، اور ان کی گمراہی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا ، میں ان کو گمراہ کرنے کے لیے تمام وسائل برائے کار لاؤں گا ، سورة اعراف میں ہے میں تیری عبادت کے راستے سے آکر بھی گمراہ کروں گا ، میں ان کے آگے سے بھی آؤں گا اور پیچھے سے بھی ان کی دائیں طرف سے بھی آؤں گا اور بائیں طرف سے بھی میں ان کو دنیا کے معاملا ت کے اعتبار سے بھی گمراہ کروں گا اور آخرت کے اعتقاد کے راستے سے آکر بھی گمراہ کروں گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب انسان نیکی کے راستے پر چلنا شروع کرتا ہے تو شیطان راستے میں آکر بیٹھ جاتا ہے ، جب کوئی شخص نماز پڑھتا ہے ، زکوۃ دیتا ہے ، روزہ رکھتا جہاد یا حج کے لیے نکلتا ہے تو شیطان اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالنا شروع کردیتا ہے اس نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ مخلوق خدا کو کفر ، شرک ، بدعات ، رسوم باطلہ ، عیاشی ، فحاشی اور بےحیائی کے کاموں کو مزین کرکے دکھائے گا اور اللہ کے بندوں کو گمراہ کر نیکی کوشش کرے گا اللہ نے بھی فرمایا کہ مجھے میری عزت و جلال کی قسم جب تک میرے بندے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی طلب کرتے رہیں گے ، میں انہیں معاف کرتا رہوں گا ،
(مخلصین کی حفاظت)
لوگوں کو گمراہ کرنے کے عزم کے ساتھ شیطان نے کچھ استثناء بھی کی ہے ، کہا میں سب کو گمراہ کروں گا (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ سوائے تیرے مخلص بندوں کے ، یعنی تیرے برگزیدہ اور منتخب بندوں پر میرا داؤ نہیں چل سکے گا ، باقی سب کو اپنے دام میں پھنسا لوں گا ، قال اللہ نے فرمایا (آیت) ” ھذا صراط علی مستقیم “۔ یہی مجھ تک سیدھا راستہ ہے اللہ نے مزید فرمایا (آیت) ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “۔ بیشک میرے بندے ایسے ہیں کہ تجھے ان پر غلبہ حاصل نہیں ہو سکے گا ، یعنی تم انہیں گمراہ نہیں کرسکو گے (آیت) ” الا من اتبعک من الغوین “۔ سوائے ان گمراہوں میں سے جنہوں نے تیری پیروی اختیار کرلی ایسے لوگوں کو تو گمراہ کرسکے گا ، وگرنہ میرے مخلص بندے تیرے دام میں نہیں پھنسیں گے ۔
مفسرین کرام اس بات میں کلام کرتے ہیں کہ شیطان نے تو یہ کہا کہ تیرے مخلص بندے میرے قابو میں نہیں آئیں گے مگر حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا اللہ کے برگزیدہ بندے ہونے کے باوجود شیطان کے وسوسے میں آگئے ، اسی طرح بعض دوسرے انبیاء اور بزرگ ہستیوں کے متعلق بھی اس قسم کے واقعات ملتے ہیں ، خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جب ایک لغزش ہوگئی تو انہوں نے یہی کہا تھا (آیت) ” ھذا من عمل الشیطن “۔ (القصص) یہ تو شیطان کا عمل ہوا ہے گویا شیطان نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی پھسلا دیا ، تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے مخلص بندوں کے استثناء کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان سے کوئی ایسا گناہ سرزد نہیں کرا سکے گا ، جس سے بندے تو یہ نہ کرسکیں یا جن کی معافی کی گنجائش نہ ہو ، اگر شیطان وسوسہ اندازی کرے گا تو اللہ کے بندے معافی مانگ لیں گے اور انہیں معافی مل جائے گی ، غرضیکہ شیطان مخلص بندوں سے کوئی ناقابل معافی گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتا ، اور اس سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اللہ کے مخلص بندوں پر شیطان کی معمولی معمولی باتیں بھی اثر انداز نہ ہوں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ کا ذکر ایک قلعہ کی مانند ہے جس کی وجہ سے مومن شیطان کے وساوس سے محفوظ رہ سکتا ہے ، سورة اعاف میں یہ بھی موجود ہے (آیت) ” ولا تجد اکثرھم شکرین “۔ کہ اے اللہ ! تو اپنے اکثر بندوں کو شکر گزار پائے گا تو گویا لوگوں کی اکثریت ناشکر گزار ہی ہوگی ، چناچہ یہی ہوا (آیت) ” ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ “۔ ابلیس نے اپنا گمان سچ کر دکھایا اور لوگوں کی اکثریت نے شیطان کی پیروی کی ، چناچہ دنیا بھر میں نافرمانوں کی اکثریت ہی رہی ہے ، اور آج بھی یہی حال ہے کہ فرمانبردار تھوڑے ہیں ۔
(گمراہوں کی جہنم رسیدگی)
فرمایا جو بھی تیرا اتباع کرکے گمراہ ہوجائے گا (آیت) ” وان جھنم لموعدھم اجمعین “۔ ایسے تمام لوگوں کے وعدے کام مقام جہنم ہے اور جہنم کی تعریف یہ ہے (آیت) ” لھا سبعۃ ابواب “۔ اس کے سات دروازے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سات گیٹ سات طبقات کے لحاظ سے ہیں جہنم کے کل سات طبقے ہیں اور ہر طبقے کا الگ الگ دروازہ ہے ، ہر طبقے کے لوگ اپنے مخصوص دروازے سے جہنم میں داخل ہوں گے جہنم کے ان سات طبقات کا ذکر قرآن پاک میں بھی آتا ہے یعنی جہنم ، سعیر ، لظی ، حطمہ ، سقر ، جحیم ، اور ہاویہ ۔
بعض فرماتے ہیں کہ جہنم کے دروازے جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے ہوں گے ، مثلا کفر اور شرک کرنے والے ایک گیٹ سے داخل ہوں گے ، زناکار اور اس سے متعلقین دوسرے دروازے سے ظلم کرنے والوں کا دروازہ علیحدہ ہوگا ، حقوق ضائع کرنے والوں اور سرکش لوگوں کے داخلے مختلف دروازوں سے ہوں گے ، گویا کل جرائم کو سات گروپوں میں تقسیم کر کے ان کے لیے ایک ایک دروازہ مختص کردیا جائے گا ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حشر کے میدان میں مختلف گروہ یا جماعتیں بن جائیں گی ، مثلا سو نمبر کی نیکی والے ایک صف میں کھڑے ہوجائیں اور ننانوے نمبر والے دوسری صف میں ، اسی طرح جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے بھی الگ الگ صف بندی ہوگی اور اس طرح لوگ جنت یا جہنم میں داخل ہوں گے ، تاہم فرمایا کہ دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں (آیت) ” لکل باب منھم جزء مقسوم “۔ ان میں سے ہر دروازے کے لیے انسانوں کا ایک تقسیم شدہ حصہ ہے جو اس میں سے داخل ہوگا ،
جہنم کے ساتھ دروازے ہیں تو جنت کے آٹھ ہیں ، حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے کہ جنت میں بھی لوگ اعمال کے لحاظ سے داخل ہوں گے ، مثلا ایک دروازے سے صرف روزہ دار داخل ہوں گے ، علی ہذا القیاس ، اور آٹھواں دروازہ محض صحیح عقیدے والے لوگوں کے لیے مخصوص ہوگا ، ایسے لوگ جن کے پاس عمل تو کوئی نہیں ہوگا ، مگر عقیدہ بالکل درست ہوگا ، ان کے ایمان اور توحید کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل وکرم سے اس دروازے میں داخل کریگا جس شخص کا عقیدہ فاسد ہوگا وہ کبھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا ،
یہ جزائے عمل کا ذکر بھی ہوگیا شیطان کے اغوا اور اس کی پیروی کرنے والوں کی بات ہوئی ، اب اگلی آیات میں اللہ نے اپنے نیک بندوں یعنی متقین اور ان کو ملنے والے انعامات کا ذکر فرمایا ہے ۔
Ayahs 15:45–60(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی نعمت کا ذکر کیا اور اس سلسلے میں شیطان کے اغواء اور اس کی طرف سے اللہ کے حکم کی سرتابی کا ذکر کیا اس کے نتیجے میں اللہ نے اسے مردود ٹھہرایا ، پھر اس نے مہلت طلب کی تو اللہ نے قیامت تک کے لیے مہلت بھی دے دی شیطان نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا رہے گا ، البتہ مخلص بندوں پر اس کا وار کارگر نہیں ہوسکے گا ، اللہ نے فرمایا یہ اخلاص ہی میرا سیدھا راستہ ہے ، میرے بندوں پر تیرا غلبہ نہیں ہوگا ، البتہ گمراہ لوگ تیری پیروی کرکے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لیں گے جو ان کے وعدے کی جگہ ہے ، پھر فرمایا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں اور ہر دروازے سے نافرمانوں کا منقسمہ حصہ داخل ہوگا ۔
(متقین کے لیے بہشت)
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے بہشت اور وہاں ملنے والے انعامات کا ذکر کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان المتقین فی جنت وعیون “۔ بیشک متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے ، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ متقی وہ لوگ ہیں جو کفر ، شرک ، کبائر فواحش سے بچتے ہیں اور پھر بتدریج مشتبہ اور مشکوک چیزوں اور گناہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی اجتناب کرتے ہیں ، ایسے لوگ کمال درجے کے متقی ہوتے ہیں تو تقوی کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان بدعقیدگی ، کبائر ، کفر ، شرک اور نفاق سے بچ جائے سورة توبہ میں اللہ نے ایمان والوں کی سات صفات بیان کی ہیں جن میں ساتویں صفت ہے (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ یعنی وہ اللہ کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرتے ہیں اور یہی تقوی ہے ، امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی کتاب ” الطاف القدس “ میں لکھتے ہیں ۔ (1) (الطاف القدس مترجم ص 93) ” تقوی محافظت برحدود شرع است “ یعنی شریعت کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرنے اور ان پر قائم رہنے کا نام تقوی ہے ، تو فرمایا متقی لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے جب وہ وہاں پہنچیں گے تو حکم ہوگا (آیت) ” ادخلوھا بسلم امنین “۔ داخل ہوجاؤ اس بہشت میں سلامتی اور پورے اطمینان کے ساتھ ، یہاں تمہیں ہر قسم کی سلامتی حاصل ہوگی ، دکھ اور تکلیف سے پاک ہو گے ، اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوگی ۔
(کدورت سے پاک)
اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے متعلق ایک اور بات بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” ونزعنا ما فی صدورھم من غل “۔ ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں کھوٹ ، کینہ یا وعداوت وغیرہ ہوگی ، کوئی شخص دل میں اس قسم کی بات لے کر جنت میں داخل نہیں ہوگا ، اس مقام میں کدورت کو کوئی دخل نہیں ہوگا ، وہاں ہر ایک کا سینہ صاف ہوگا اور تمام جنتی ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے اگر دنیا میں کسی کو کسی دوسرے جنتی کے خلاف شکر رنجی بھی تھی تو وہاں پہنچ کر صفائی ہوچکی ہوگی ، بعض روایات میں آتا ہے کہ پلصراط سے گزر جانے کے بعد لوگوں کو پھر روک دیا جائے گا ، اور کہا جائے گا کہ اگر کسی جنتی نے کسی سے کوئی بدلہ لینا ہے تو ابھی لے لے کیونکہ جنت میں داخلے سے پہلے ہر قسم کا بغض ، عداوت اور دشمنی کو سینوں سے نکال لیا جائے گا ،
پھر جنت میں نہ صرف یہ کہ کدورت کو نکال دیا جائے گا بلکہ تمام جنتی ” اخوانا “ ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کا سا سلوک کریں گے ، اور ان کی حالت یہ ہوگی (آیت) ” علی سرر متقبلین “۔ تختوں پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ، رحمت کے اس مقام میں نفرت کی بجائے محبت اور دشمنی کی بجائے دوستی ہوگی ، وہاں پر کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں ہوگی اس کے علاوہ (آیت) ” لا یمسھم فیھا نصب “۔ وہاں پر انہیں کوئی تھکاوٹ یا تکلیف نہیں پہنچے گی (آیت) ” وما ھم منھا بمخرجین “۔ اور وہ وہاں سے نکالے بھی نہیں جائیں گے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائیگا کہ یہاں پر تمہیں کوئی بیماری لاحق نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ تندرست اور جوان رہو گے ، دنیا میں ملنے والی ہر نعمت اور آسائش کے متعلق کھٹکا رہتا ہے کہ یہ چھن نہ جائے یا انسان خود اس سے مستفید ہونے کے قابل نہ رہے ، مگر جنت میں جا کر ایسا کوئی خدشہ نہ ہوگا ، وہاں پر نہ تو کوئی نعمت چھن جانے کا خوف ہوگا اور نہ کسی جنتی کے نکالنے جانے کا خطرہ ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے انعامات کا ذکر کرکے ترہیب کے بعد ترغیب کا ذکر بھی کردیا ، گذشتہ درس میں منکرین کے لیے عذاب کی بات تھی اور اب اللہ کی رحمت کا ذکر بھی ہوگیا ۔
(خوف اور امید)
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مکی زندگی کے دوران ایک موقع پر حضور ﷺ بیت اللہ شریف کے طرف آرہے تھے کہ جب باب ابی شیبہ کے قریب پہنچے تو وہاں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی ایک جماعت موجود تھی جو کسی بات پر ہنس رہے تھے ، حضور ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے کہ میں تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آگے جہنم بھی ہے حضور ﷺ کی زبان سے یہ بات سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سخت پریشان ہوگئے پھر جب آپ حطیم میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی (آیت) ” نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم “۔ میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہوں ، اور ساتھ ساتھ یہ بھی فرما دیں (آیت) ” وان عذابی ھو العذاب الالیم “۔ کہ بیشک میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے مطلب یہ ہے کہ نہ تو اللہ کی بخشش اور رحمت سے بالکل مایوس ہی ہوجائیں کیونکہ وہ غفور اور رحیم ہے اور نہ ہی بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ اس کا عذاب بھی بڑا شدید ہے ، مطلب یہ ہے کہ انسان کا ایمان خوف اور امید کے درمیان ہونا چاہئے اسے اللہ کی رحمت کی امید بھی ہو اور اس کی سزا کا خوب بھی ۔
(ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے خوشخبری)
اب اللہ تعالیٰ نے اپنی دو شانوں یعنی رحمت اور غضب کو سمجھانے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کا ذکر کیا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ونبئھم عن ضیف ابرھیم “۔ میرے بندوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے متعلق بتلا دیں (آیت) ” اذ دخلوا علیہ فقالو اسلما “۔ جب وہ مہمان ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا ، ۔۔۔۔۔۔ اس مقام پر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے سلام کے جواب کا ذکر نہیں ہے ، البتہ سورة الذریت میں ہے (آیت) ” اذ دخلوا علیہ فقالوا سلما قال سلم “۔ یعنی جب فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے ۔۔۔۔۔ پاس آئے تو انہوں نے سلام کیا ، تو اس کے جواب میں ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی سلام کہا ، آگے یہ بھی آتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) مہمانوں کی خاطر مدارت کے لیے فورا چلے گئے (آیت) ” فجآء بعجل سمین “۔ اور بچھڑا کا تلا ہوا گوشت لے آئے پھر جب دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں ، (آیت) ” قال انا منکم وجلون “۔ تو کہنے لگے میں تم سے خطرہ محسوس کر رہا ہوں ، اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو نقصان پہنچانا مطلوب ہوتا تھا ، دشمن چور یا ڈاکو اس کا کھانا نہیں کھاتے تھے اسی بنا پر ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی خوف محسوس ہوا تو (آیت) ” قالوا لا تو جل “۔ مہمان کہنے لگے ، خوف نہ کھاؤ (آیت) ” انا نبشرک بغلم علیم “۔ ہم تمہیں علم والے بچے کی خوشخبری دیتے ہیں ، یہ خوشخبری حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے متعلق تھی جو حضرت سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے ، اس سے پہلے حضرت ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق سورة الصفت میں ہے (آیت) ” فبشرنہ بغلم حلیم “۔ ہم نے آپ کو بردبار بیٹے کی خوشخبری دی ، آپ کے حلم کا واقعہ تو تاریخ میں موجود ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنے آپ کو قربانی کے لیے پیش کردیا ، بہرحال حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) دونون ہی اللہ کے جلیل القدر نبی تھے بہرحال مہمانوں نے اپنا تعارف خود کرا دیا کہ ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ، وہ اللہ کے فرشتے ہیں اور آپ کو خوشخبری دینے کے لئے آئے ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان فرشتوں کی تعداد دس تھی جن میں جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) بھی شامل تھے ۔
(ابراہیم کی حیرانگی)
فرشتوں کی زبان سے خوشخبری کی بات سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” قال ابشرتمونی علی ان مسنی الکبر “۔ کیا تم مجھے ایسے وقت میں خوشخبری دے رہے ہو ، جب کہ مجھ پر بڑھاپا طاری ہوچکا ہے (آیت) ” فبم تبشرون “۔ تم مجھے کیسی خوشخبری سناتے ہو ، مترجم مفسر قرآن شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ عالم اسباب میں انبیاء بھی اسباب کی بات ہی کرتے ہیں ، آپ کی عمر مبارک سو سال ہوچکی تھی اور بیوی بھی بانجھ تھی تو ان حالات میں بیٹے کی خوشخبری پر ان کی حیرانگی فطری امر تھا تاہم فرشتوں نے کہا (آیت) ” قالو بشرنک بالحق “۔ ہم آپ کو بالکل ٹھیک ٹھیک خوشخبری دے رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے (آیت) ” فلا تکن من القنطین “۔ لہذا آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں ” قال “ فرمایا مایوسی کی کوئی بات نہیں کیونکہ (آیت) ” ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضالون “ اپنے پروردگار کی رحمت سے ناامید تو گمراہ لوگ ہوتے ہیں ، اللہ کے نبی کبھی مایوس نہیں ہوتے ، مگر ظاہری اسباب کی بنا پر حیرانگی ہوئی ہے کہ اس عمر میں یہ کیسے ممکن ہوگا ۔
عالم اسباب میں رہ کر اسباب پر نگاہ تمام انبیاء (علیہ السلام) کا شیوہ رہا ہے ، جنگ احد کے موقع پر حضور ﷺ اوپر نیچے دو زرہیں پہن کر تشریف لائے جس سے امت کی تعلیم مقصود تھی کہ عالم اسباب میں اسباب ہی اختیار کرنے کا حکم ہے ، اگرچہ فتح وشکست تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، ان اسباب کو اختیار کرنے کے باوجود حضور ﷺ کو بڑی تکلیف پہنچی آپ گڑھے میں گر گئے ، سرمبارک اور دانت زخمی ہوگئے ، سورة یوسف میں موجود ہے کہ اللہ نے یعقوب (علیہ السلام) کی زبان سے بھی یہی کہلوایا تھا (آیت) ” انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ اللہ کی رحمت سے تو کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں ، اور بےفکر ہوجانا بھی کفر کی بات ہے ، اصل ایمان بین الخوف والرجاء یعنی خوف اور امید کے درمیان ہے ، اپنے انبیاء کے متعلق بھی اللہ نے یہی فرمایا ہے (آیت) ” یدعوننا خوفا وطمعا “۔ وہ ہمیں خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں ، ۔
(قوم لوط پر عذاب)
ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ تو پتہ چل گیا کہ ان کے مہمان اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور انہوں نے آپ کو اہل علم بیٹے کی خوشخبری بھی دی مگر پھر بھی ان کی آمد کے متعلق آپ مطمئن نہیں تھے آپ کا قلب صافی گواہی دے رہا تھا کہ ان فرشتوں کے آنے کا کوئی اور مقصد بھی ہے ، چناچہ (آیت) ” قال فما خطبکم ایھا المرسلون “۔ کہا اے بھیجے ہوئے لوگو ! تمہارے آنے کا اصل مقصد کیا ہے خطب کا لغوی معنی کام یا حالت ہوتا ہے اور مراد یہ تھی تم کس کام کے لیے آئے ہو ، (آیت) ” قالوا انا ارسلنا الی قوم مجرمین “۔ کہنے لگے ہمیں مجرم قوم کی طرح بھیجا گیا ہے ، تاکہ ان کو ان کے برے عمل کی سزا دی جاسکے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کی تباہی کا حال تو ذکر نہیں کیا ، البتہ کنایہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس بدبخت قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے آئے تھے ، یہاں پر لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کا ذکر ہے کہ آپ کی بیوی کے سوا باقیوں کو عذاب الہی سے بچا لیا جائے گا ،
فرمایا ہم مجرم کو سز دینے کے لیے آئے ہیں (آیت) ” الا ال لوط “۔ سوائے لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کے (آیت) ” انا لمنجوھم اجمعین “۔ تحقیق ہم بچانے والے ہیں ان سب کو (آیت) ” الا امراتہ “ سوائے ان کی بیوی کے (آیت) ” قدرنا “ ہم نے اندازہ کرلیا ہے ، ٹھہرا لیا ہے یا ہم جانتے ہیں (آیت) ” انھا لمن الغبرین “۔ کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی وہ مجرم قوم کے ساتھ ہی بستی میں رہ جائے گی اور عذاب کا شکار ہوگی جب کہ باقی اہل خانہ آپ کے ساتھ بستی سے نکل جائیں گے اور عذاب الہی سے بچ جائیں گے ، سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں کہ ہم نے لوط (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کو بستی سے نکل جائیں اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں ، چناچہ اہل خانہ میں سے آپ کی بیوی ہی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر اس کا حشر بھی نافرمان قوم کے ساتھ ہی ہوا اللہ نے فرمایا ہم نے ان کی پوری بستی کو الٹ دیا اور اوپر سے پتھروں کی بارش بھی کی جس سے وہ تباہ وبرباد ہوگئے ، یہی مضمون اگلے رکوع میں بھی آ رہا ہے ، سورة تحریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے کافروں کی مثال بیان فرماتے ہوئے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا ذکر کیا ہے کہ وہ دونوں دو صالح بندوں کے گھروں میں تھیں مگر انہوں نے خیانت اور نافرمانی کی تو باقی قوم کے ساتھ ہی جہنم واصل ہوئیں ،
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کا اظہار فرمایا ہے ، اللہ نے اپنی رحمت سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ اولاد نصیب فرمائی جس کا عظیم سلسلہ آگے چلا ، یہ اس کی مہربانی کی شان تھی اور ادھر ایک مجرم قوم کو صفحہ ہستی سے ناپید کردیا اور یہ اس کی غضب کی شان ہے ۔