Ayahs 15:61–70(ربط آیات)
پہلے اللہ نے شیطان کا اتباع کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا اور پھر متقی لوگوں کے انعامات کا ذکر کیا ، پھر اللہ کی دونوں شانوں یعنی رحمت اور غضب کی بات ہوئی ، ابراہیم (علیہ السلام) کے مہمانوں کے واقعہ میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں ، ایک طرف ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہے انہیں نئی نسل کے قیام کے لیے ایک عظیم بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے اور دوسری طرف ایک پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات ہو رہی ہے ۔
کل کے درس میں اللہ کے فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر بیٹے کی خوشخبری سنانے کا ذکر تھا اور ساتھ انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ قوم لوط پر عذاب لانے کے لیے آئے ہیں اور یہ بھی کہ وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر والوں کو بچا لیں گے ، البتہ آپ کی بیوی پوری قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لوط (علیہ السلام) کے پاس آنے کا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو مہمان سمجھ کر ان کی عزت افزائی کرنا چاہی مگر قوم اپنے شنیع فعل پر مصر ہوئی ، ان آیات میں واقعاتی لحاظ سے کچھ تقدیم وتاخیر پائی جاتی ہے ، واقعہ کے تسلسل کے لحاظ سے آیت 61 کے بعد آیات 67 تا 70 کی تشریح ہوگی اور اس کے بعد آیت 62 تا 66 کا بیان ہوگا ، انشاء اللہ ۔
(فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوشخبری دینے کے بعد اللہ کے یہ دس فرشتے جن میں جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) بھی شامل تھے ، حضرت لوط (علیہ السلام) کی جائے قیام سدوم بستی کی طرف چل دیے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فلما جآء ال لوط المرسلون ، قال انکم قوم منکرون “۔ جب اللہ کے بھیجے ہوئے یعنی فرشتے لوط (علیہ السلام) کے گھر آئے تو لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تم لوگ کچھ اوپرے سے معلوم ہوتے ہو یہ نوجوان اور حسین و جمیل لڑکوں کی شکل میں تھے ، لوط (علیہ السلام) نے انہیں انسان ہی سمجھا ، کیونکہ غیب دان تو نہیں تھے ، غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے لوط (علیہ السلام) کو ان کے مہمان ہونے میں کوئی شک بھی نہیں تھا کیونکہ بستی میں پہنچ کر فرشتوں نے آپ ہی کے گھر کا پتہ پوچھا تھا ، لہذا ان کی مہمانداری کا حق ادا کرنا بھی ضروری تھا ، مہمان نوازی ویسے بھی ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے اور اسی لیے خود ابراہیم نے بھی ان مہمانوں کی خاطر مدارت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ، انہوں نے ان کے لیے فورا تلے ہوئے بچھڑے کا گوشت پیش کردیا تھا ، مگر انہوں نے نہ کھانا تھا ، لہذا نہ کھایا ، حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے ” من لم یکرم ضیفنا فلیس منا “۔ جو شخص مہمان کی مہمان نوازی نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے چناچہ شریعت نے مہمان نوازی کے حقوق بھی بیان فرمائے ہیں کہ اجنبی کی مہمان نوازی تین دن تک کی جاسکتی ہے ، اس میں ایک دن رات کا پرتکلف کھانا بھی شامل ہے ، اگر کوئی میزبان کسی مہمان کو تین دن سے زیادہ ٹھہرائے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ ہوگا ، اگر خدمت کرسکتا ہے تو کرے ، ورنہ اس پر کوئی ملامت نہیں ہوگی ، البتہ خاص دوست احباب یا رشتہ دار وغیرہ تین دن سے زیادہ بھی قیام کرسکتے ہیں بہرحال مہمان کی عزت افزائی ضروری ہے ۔
حضرت لوط (علیہ السلام) اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے ، لہذا ان کے نزدیک ایسے خوش وضع مہمانوں کی خاطر مدارت سے ان کی عزت وناموس کی حفاظت زیادہ ضروری تھی ، چناچہ اس سلسلہ میں آپ کی جو تشویش لاحق ہوئی اس کا ذکر سورة ہود میں بیان ہوچکا ہے (آیت) ” سیء بھم وضاق بھم ذرعا وقال ھذا یوم عصیب “۔ آپ بہت پریشان ہوئے اور فرمایا آج بڑا مشکل دن آگیا ہے آپ کو فکر اس بات کی تھی کہ قوم کے لوگوں سے مہمانوں کی حفاطت کیسے کریں گے ؟ یاد رہے کہ بحرمیت کے کنارے جہاں یہ قوم آباد تھی وہاں ان کی پانچ چھ بڑی بڑی بستیاں تھیں ، جن میں سدوم سب سے نمایاں تھی امام ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ اس قوم کی کل آبادی چار لاکھ سے زیادہ تھی لوط (علیہ السلام) کو اسی قوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ، یہیں آپ نے شادی کی ، آپ کے ہاں بچیاں بھی پیدا ہوئیں جو آپ پر ایمان لائیں مگر آپ کی بیوی آپ پر ایمان نہ لائی اور منافقہ کی طرح آپ کے ساتھ ہی رہی حقیقت میں وہ اپنی قوم کے مذہب پر ہی تھی ۔
(اہل بستی کی اخلاقی پستی)
ادھر لوط (علیہ السلام) تو پریشان ہو رہے تھے اور ادھر جب اہل بستی کو اس قسم کے مہمانوں کی آمد کی خبر ہوئی (آیت) ” وجآء اھل المدینۃ یستبشرون شہر کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے آئے ، خلاف وضع فطری فعل کے عادی لوگوں کو خوشی ہو رہی تھی کہ وہ اپنے مذموم فعل کی تکمیل کرسکیں گے ، اس بیماری کے موجود بھی دراصل یہی لوگ تھے ، سورة اعراف میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” ما سبقکم بھا من احد من العلمین “۔ پوری دنیا میں ان سے پہلے یہ قباحت کسی قوم میں نہیں پائی جاتی تھی ، ان لوگوں کی شرم وحیا بالکل ختم ہو کر ان کی فطرت ہی مسخ ہوچکی تھی ، ان کی اخلاقی پستی کا حال اللہ نے سورة العنکبوت میں اس طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” وتاتون فی نادیکم المنکر “۔ اپنی مجلسوں میں بہت بری باتیں کرتے تھے مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ ان کی ایک یہ بھی بری خصلت تھی کہ کوئی مہمان آجاتا ہے تو اس کی عزت افزائی کی بجائے اس کا سامان چھین لیتے اور اگر وہ فریاد کرتا تو مار مار کر بستی سے نکال دیتے ، ایک دفعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بڑی بیوی سارہ نے خادم کو بھیجا کہ وہ لوط (علیہ السلام) کی خبر لائے ، وہاں پہنچا تو دیکھا کہ سدومی لوگ کسی دوسرے مسافر کو پیٹ رہے ہیں ، جب اس خادم نے مداخلت کی تو اس کو بھی پتھر مار مار کر زخمی کردیا ، بہرحال یہ قوم بےحیائی میں انتہا کو پہنچ چکی تھی مہمانوں کو دیکھ کر وہ لوط (علیہ السلام) کے گھر پر جمع ہونے لگے بائیبل میں تو صراحتا مذکور ہے کہ ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ شہوت رانی کے لیے ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو ۔
(لوط (علیہ السلام) کی طرف سے دفاع)
جب لوط (علیہ السلام) نے قوم کی یہ حالت دیکھی (آیت) ” قال ان ھؤلاء ضیفی “۔ فرمایا ظالموں ! یہ تو میرے مہمان ہیں ان پر دست درازی کرکے (آیت) ” فلا تفضحون “۔ تم مجھے رسوا نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” فاتقوا اللہ “ اللہ سے ڈر جاؤ (آیت) ” ولا تخزون “ ‘ اور مجھے حقیر نہ بناؤ ، اگر میرے مہمانوں کے ساتھ زیادتی ہوئی تو میری کیا عزت رہ جائیگی قوم نے اس بات سے کوئی اثر قبول نہ کیا بلکہ ” قالوا “ کہنے لگے (آیت) ” اولم ننھک عن العلمین “۔ کیا ہم نے تمہیں جہاں بھر کی حمایت سے نہیں روکا تھا ؟ جب بھی لوط (علیہ السلام) ان کی بری حرکات سے منع کرتے ، انہیں ظلم وتعدی کرنے سے روکتے ، تو وہ کہتے کہ تم اجنبی لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دیتے ہو ، بیرونی لوگوں سے ساز باز کرتے ہو اور پھر ان کی مدد کرتے ہو ، لہذا ہم نے آپ کو کئی بار منع کیا ہے کہ آپ بلاوجہ لوگوں کی حمایت نہ کیا کریں سورة اعراف میں ہے کہ جب لوط (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کو ہم جنسی جیسے فعل بد سے منع کرتے ، تو وہ کہتے ، انہیں اپنی بستی سے نکال دو (آیت) ” انھم اناس یتطھرون “۔ یہ بڑے پاکباز لوگ بنے پھرتے ہیں کسی پاک بستی میں چلے جائیں ، بہرحال قوم نے لوط (علیہ السلام) کی کوئی بات نہ مانی اور مہمانوں پر قابو پانے کے لیے دیواریں پھلانگنا اور دروازے توڑنا شروع کردیے سورة قمر میں (آیت) ” ولقد راودوہ عن ضیفہ فطمسنا اعینھم فذوقوا عذابی ونذر “۔ اور جب انہوں نے مہمانوں کو لینا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں مٹا دیں اور کہا کہ اب میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو ، بہرحال لوط (علیہ السلام) اپنے مہمانوں کا ہر ممکن دفاع کر رہے تھے لوگوں کو زبان سے سمجھا رہے تھے ، مگر مہمان بالکل خاموش بیٹھے تھے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ (آیت) ” انکم قوم منکرون “ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ لوط (علیہ السلام) نے مہمانوں کو مخاطب کرکے کہا کہ تم عجیب لوگ ہو میں ان بدمعاشوں سے تمہارا دفاع کررہا ہوں مگر تم میری کوئی مدد نہیں کرتے ۔
(فرشتوں کی مداخلت)
جب لوط (علیہ السلام) مہمانوں کا دفاع کرتے کرتے ، بہت ہی تنگ ہوگئے ، آپ کی پریشانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا تو پھر مہمانوں نے مداخلت کی ، لوط (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں ہم فرشتے ہیں اور بدمعاشوں سے خود ہی نپٹ لیں گے چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) نے ذرہ سا پر ہلایا تو جیسا کہ پہلے عرض کیا ، اللہ نے فرمایا (آیت) ” فطمسنا اعینھم “۔ (قمر) ان کی آنکھیں اندھی ہوگئیں ۔ مگر اس کے باوجود وہ دیواریں پھلانگنے کی کوشش کرتے رہے ، یہ لوگ ممسوخ الفطرت ہوچکے تھے ، یہود ونصاری کی فطرت تو معکوس ہوچکی ہے ، مگر قوم لوط کی فطرت بالکل ہی مسخ ہوچکی تھی ۔
بہرحال اب فرشتے کھل کر سامنے آگئے (آیت) ” قالو بل جئنک بما کانوا فیہ یمترون “۔ کہنے لگے اے لوط (علیہ السلام) ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس کے متعلق یہ لوگ جھگڑا کرتے تھے ، یہ لوگ خدا کے عذاب کا انکار کرتے تھے اور آپ سے جھگڑتے تھے اب ہم ان کے لیے عذاب لے کر آئے ہیں (آیت) ” واتینک بالحق “۔ اور ہم آپ کے پاس سچی بات لائے ہیں ، (آیت) ” وانا لصدقون “۔ اور بیشک ہم سچے ہیں ، فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں ، یہ لوگ آپ تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے ، ہم تک کیسے پہنچیں گے ۔
(بستی سے خروج کا حکم)
اب قوم پر عذاب کا وقت قریب آرہا تھا ، فرشتوں نے اللہ کے حکم سے لوط (علیہ السلام) سے کہا (آیت) ” فاسر باھلک بقطع من اللیل “۔ آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے کچھ حصے میں نکل جائیں (آیت) ” واتبع ادبارھم “۔ اور آپ ان کے پیچھے رہیں یعنی اپنے گھر والوں کو اپنے آگے آگے چلائیں ، (آیت) ” ولا یلتفت منکم احد “۔ اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے (آیت) ” وامضوا حیث تؤمرون “۔ اور جاؤ جہاں تمہیں حکم دیا جا رہا ہے ، بائیبل میں ذکر ہے کہ آپکو زمر نامی بستی میں چلے جانے کا حکم ہوا تھا ، آجکل تو اس بستی کا نام ونشان تک باقی نہیں ، تاہم لوگ کہتے ہیں کہ یہ بستی بحرمیت کے جنوب میں واقع تھی بائیبل کی روایت میں ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جب سدوم سے نکلے تو ان کے اہل خانہ میں سے ان کی بیوی بھی شامل تھی ، مگر اس نے حکم خداوندی کے خلاف پیچھے پلٹ کر دیکھ لیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی وقت پتھر میں تبدیل کردیا ، یہ ورایت قابل اعتماد نہیں ہے ، البتہ بعض کہتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کے ساتھ روانہ ہی نہیں ہوئی تھی بلکہ قوم کے ساتھ بستی میں ہی رہ گئی تھی آپ کے ساتھ صرف بچیاں تھیں ان کے علاوہ کوئی فرد ہو تو اس کا ذکر نہیں ملتا ، پیچھے پلٹ کر نہ دیکھنے میں یہ حکمت تھی کہ قوم پر عذاب آرہا تھا اور دیکھنے والا بھی کہیں اس کی زد میں نہ آجائے۔
(عذاب کا فیصلہ)
اللہ نے فرمایا (آیت) ” وقضینا الیہ ذالک الامر “۔ ہم نے لوط (علیہ السلام) کے سامنے اس بات کا فیصلہ کردیا تھا ، اور آپ کو اس سے آگاہ کردیا تھا (آیت) ” ان دابر ھؤلاء مقطوع مصبحین “۔ کہ ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائیگی اس حال میں کہ یہ صبح میں ہونگے ، جب لوط (علیہ السلام) کے راتوں رات بستی سے نکل جانے کے بعد اگلی صبح طلوع ہوگئی تو پوری قوم کو نیست ونابود کردیا جائے گا ، واقعہ کا باقی حصہ اور عذاب کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے ۔
Ayahs 15:71–79(ربط آیات)
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ لوط مہمانوں کے بارے میں قوم سے لجاجت کر رہے تھے کہ خدا کے لیے مجھے رسوا نہ کرو میرے مہمانوں کی بےآبروئی نہ کرو ، مگر لوگوں نے کہا کہ تم خواہ مخواہ اجنبی لوگوں کو اپنے گھر میں ٹھہراتے ہو ، ہم تمہیں منع کرچکے ہیں کہ جہان والوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کیا کرو ، غرضیکہ بدمعاش قوم نے اپنے قبیح فعل کے جواز کے لیے الٹا حضرت لوط (علیہ السلام) کو بدنام کرنے کی کوشش کی ،
(لوط (علیہ السلام) کی پیش کش)
اب لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو دوسرے طریقین سے سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ ناپاک کام نہ کرو ، اس کی بجائے (آیت) ” قال ھؤلاء بنتی “۔ یہ میری بیٹیاں ہیں (آیت) ” ان کنتم فعلین “۔ اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو ، مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنی نفسانی خواہش کی تکمیل کرنا چاہتے ہو تو میری بیٹیاں حاضر ہیں ، مگر ان مہمانوں کو نظر بد سے نہ دیکھو ۔
امام شاہ والی اللہ محدث دہلی (رح) فرماتے ہیں کہ لوط (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی بیٹیوں کی پیش کش نکاح کے لیے تھی ، نہ کہ کسی ناجائز شہوت رانی کے لیے کیونکہ اللہ کا نبی کسی کو گناہ کی دعوت نہیں دے سکتا ، دوسری بات جسے عام مفسرین تسلیم کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ لوط (علیہ السلام) کی ” میری بیٹیوں “ سے مراد قوم کی بیٹیاں تھیں کیونکہ قوم کی ساری عورتیں پیغمبر کی بیٹیاں اور پیغمبر بمنزلہ باپ ہوتا ہے ، بہرحال اللہ کے نبی نے اپنی قوم کو جائز کام کی دعوت دی ، قوم ہم جنسی جیسا غیر فطری کام کرنا چاہتی تھی ، حالانکہ یہ فعل تو جانوروں میں بھی نہیں پایا جاتا چہ جائیکہ انسان جیسی اعلی وارفع مخلوق اس فعل کا ارتکاب کرے ، حضرت مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ تمام جانوروں میں سے صرف بندروں میں یہ قبیح خصلت پائی جاتی ہے ، ان کے علاوہ کسی جانور میں نہیں پائی جاتی ۔
(ہم جنسی کی سزا)
فقہائے کرام نے زنا اور ہم جنسی کے تقابل میں بحث کی ہے قرآن پاک میں دونوں افعال کو فحش کہا گیا ہے ، دونوں ہی طریقے شہوت رانی کا ذریعہ ہیں مگر فرق یہ ہے کہ زنا می یہ تعلق مخالف جنس سے قائم کیا جاتا ہے جو کہ فطری امر ہے اور قانون توڑنے کی بناء پر فحش بنتا ہے مگر ہم جنسی تو ہے ہی خلاف فطرت کام ، لہذا اس کو بھی فحش سے تعبیر کیا گیا ہے ، اس بارے میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے کہ آیا زنا کی طرح لواطت کے جرم میں بھی حد جاری ہوگی یا نہیں ، زنا کی حد یہ ہے کہ شادی شدہ جوڑے کو سنگسار کیا جاتا ہے اور غیر شادی شدہ کو کوڑے لگتے ہیں ، چناچہ بعض آئمہ اس فعل کو زنا کے مساوی قرار دیکر اس کے متعلقین پر بھی حد جاری کرنے کے حق میں ہیں البتہ امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دوسرے آئمہ فرماتے ہیں کہ ہم جنسی زنا کی تعریف میں نہیں آتی بلکہ یہ قابل تعزیر جرم ہے جس کی سزا قید وبند سے لے کر سزائے موت تک ہو سکتی ہے تاہم امام ابن کثیر (رح) نے بیان کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) سزائے موت کے قائل ہیں فرماتے ہیں کہ ایسے مجرم کو کسی بلند مینار پر چڑھا کر نیچے پھینک دیا جائے یا کسی دیوار کے نیچے کھڑا کر کے اوپر دیوار گرا دی جائے ، گویا اس فحش عمل پر عبرتناک سزا ملنی چاہئے ، جبھی تو لوط (علیہ السلام) قوم سے کہتے تھے (آیت) ” انی لعملکم من القالین “۔ (الشعرائ) اے لوگو ! میں تمہارے عمل سے سخت نفرین ہوں ۔
چونکہ قضائے شہوت بنی نوع انسان پر مسلط کی گئی ہے لہذا اس کو فروکر نے کے لیے ہماری شریت کا حکم یہ ہے کہ شہوت رانی جائز نہیں (آیت) ” الا علی ازوجھم او ماملکت ایمانھم “۔ (المومنون) سوائے اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے ساتھ پہلے زمانے میں لونڈی کا رواج عام تھا اور اب ڈیڑھ دو صدی سے بالکل ختم ہوچکا ہے لہذا اب قضائے شہوت کا جائز طریقہ صرف منکوحہ بیوی ہی رہ گیا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” ومن ابتغی ورآء ذلک فاولیئک ھم العدون “۔ (المومنون) جو کوئی اس کے علاوہ دوسرا راستہ تلاش کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا ہوگا ۔
اسی اصول کی بناء پر شہوت رانی کے دوسرے طریقے بھی ناجائز ہیں مثلا مشت زنی کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے ، اپنی منکوحہ بیوی سے مکروہ مقام پر وطی کرنے کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے ” من اتی امراۃ فی دبرھا اوجآء کاھنا فقد کفر بما نزل علی محمد ﷺ “ جو کوئی کو بیوی سے خلاف وضع فطری فعل کرے گا یا کاہن کے پاس جائے گا ، تو اس نے گویا شریعت محمدی کا انکار کردیا ، اب چونکہ قضائے حاجت کی ایک ہی صورت یعنی نکاح باقی رہ گئی ہے ، اس لیے شریعت نے نکاح کو آسان تر بنایا ہے ، نکاح کے معاملہ میں جتنی آسانی ہوگی اتنا ہی بہتر ہے ، اس میں جہیز اور زیور کی پابندیاں عائد کرنا سخت ناجائز ہے ، بہرحال لوط (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں سے کہا کہ قضائے حاجت کے لیے قوم کی لڑکیاں موجود ہیں ، ان سے نکاح کرو اور غلط طریقہ اختیار نہ کرو ، کہ یہ خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے ۔
(قوم کا اصرار)
آگے اللہ تعالیٰ نے جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا ہے (آیت) ” لعمرک “ آپ کی عمر یعنی آپ کی جان کی قسم (آیت) ” انھم لفی سکرتھم یعمھون “۔ بیشک وہ لوگ اپنی بدمستی میں مدہوش ، سرگردان اور اندھے ہو و ہے تھے ، ان پر اس فعل بد کا اس قدر غلبہ تھا کہ وہ کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ تھے کہنے لگے (آیت) ” مالنا فی بنتک من حق وانک لتعلم ما نرید “۔ ( ۔۔۔۔۔ تیری بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں ، بلکہ تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ) ، یعنی ہم تو تمہارے مہمانوں کو حاصل کر کے انہی سے قضائے حاجت کریں گے ۔
(مسئلہ قسم)
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی قسم اٹھائی ہے حالانکہ کسی مخلوق کے لیے غیر اللہ کی قسم اٹھانا بالکل ناجائز ہے قسم صرف اللہ کے نام اور اس کی صفات کے ساتھ ہی اٹھائی جاسکتی ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے ، وہ جس کی چاہے قسم اٹھائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قسم اٹھانے کی بہت سی مثالیں قرآن پاک میں موجود ہیں ، جیسے (آیت) ” والتین والزیتون “۔ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی ” (آیت) ” لا اقسم بھذا البلد “۔ شہر مکہ کی قسم ہے ، مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم پر مخلوق والی قسم کا اطلاق نہیں ہوتا ، مخلوق کے کسی چیز کی قسم اٹھانے سے اس چیز کی حد درجہ تعظیم مراد ہوتی ہے ، اور یہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لیے روا نہیں ، اگر کوئی ایسا کریگا تو حضور ﷺ نے فرمایا ” من اقسم لغیر اللہ فقد اشرک “۔ جس نے غیر اللہ کے نام کی قسم اٹھائی ، اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، اور اگر کوئی شخص قسم سے متعلقہ چیز کی خدا جیسی تعظیم نہیں بھی کرتا تو پھر بھی یہ شرک والی شکل و صورت تو ہے ، لہذا اس سے بچنا چاہئے حضور ﷺ نے فرمایا ، صرف اللہ کے نام کی قسم اٹھاؤ ، ورنہ خاموش رہو ، کسی طاغوت ، نبی ، ولی ، جن ، فرشتہ ماں ، باپ یا کسی عزیز کی قسم اٹھانا جائز نہیں ہے ، اور جہاں تک اللہ تعالیٰ کے خود کسی مخلوق کی قسم اٹھانے کا تعلق ہے تو اس سے مراد اس چیز کو محض بطور گواہ پیش کرنا ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کی جان سے زیادہ عزیز کسی جان کو پیدا نہیں کیا ، لہذا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات کی قسم اٹھا کر بات کی ہے ۔
(قوم پر عذاب)
الغرض ! قوم نے لوط (علیہ السلام) کی کسی نصیحت پر کان نہ دھرا بلکہ اپنی ضد پر اڑے رہے ، لہذا خدا تعالیٰ کی گرفت کا وقت قریب آچکا تھا ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاخذتھم الصیحۃ مشرقین “۔ پس پکڑا ان کو چیخ نے سورج نکلتے وقت ، اللہ نے کئی قسم کی سزائیں نازل فرمائیں جن کا ذکر مختلف مقامات پر آتا ہے ، سخت خوفناک آواز کے علاوہ ان پر پتھر بھی برسائے گئے اور جس خطہ ارضی میں وہ قوم آباد تھی اللہ نے اس پورے خطہ کو الٹ دیا ، فرمایا (آیت) ” فجعلنا عالیھا سافلھا “۔ ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو نیچے اور نیچے والے حصے کو اوپر کردیا ، (آیت) ” وامطرنا علیھم حجارۃ من سجیل “۔ اور ان پر کھنگر قسم کے پتھروں کی بارش کی ، تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے تین سزاؤں کا ذکر کیا ہے ایک تو زبردست چیخ آئی جس سے ان پر دہشت طاری ہوئی کہ ان کے دل پھٹ گئے ، اللہ نے انکی ساری بستیوں کو آسمان کے قریب تک اٹھا کر الٹ دیا ، اور پھر ان پر پتھر بھی برسائے ، ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جسے ہلاک کرنا مقصود تھا ، اس طرح چار لاکھ سے زیادہ آبادی کی یہ بستیاں آنا فانا صفحہ ہستی سے مٹ گئیں ۔
(مسئلہ فراست)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان فی ذلک لایت للمتوسمین “۔ بیشک اس میں البتہ نشانیاں ہیں غور وفکر کرنے والے لوگوں کے لیے توسم کا معنی تاڑنا ، دیکھنا ، دھیان کرنا اور غور کرنا ہے ، اصل میں یہ لفظ کسی علامت کے مشاہدے کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اور یہاں پر فراست کے معنوں میں آیا ہے ، فراست ایک قسم کی دانائی اور زیرکی کا نام ہے جس کے ذریعے غور وفکر کرنے سے انسان کو بعض چیزیں معلوم ہوجاتی ہیں ، حدیث شریف میں آتا ہے ” اتقوا من فراسۃ المؤمن فانہ ینظر بنور اللہ “۔ ایک روایت میں ” بتوفیق اللہ کے الفاظ بھی آتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نور یا اس کی توفیق سے بعض چیزیں دیکھ لیتا ہے ۔
امیر عبدالرحمن ، امیر امان اللہ خان والی کابل کے دادا تھے ، بادشاہ وقت اور صاحب علم آدمی تھے ، آپ نے تاریخ کی کتاب بھی لکھی ہے ، ان کے متعلق حضرت شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ آپ کے نزدیک کشف اور فراست میں اسی قدر فرق ہے جس قدر ٹیلیفون اور ٹیلگرام (تار) میں جب ٹیلیفون پر بات ہوتی ہے تو اس میں صریح الفاظ کا تبادلہ ہوتا ہے ، جیسا کہ آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کی جاتی ہے ۔ البتہ ” ٹیلیگرام ایک ایسا ذریعہ مواصلات ہے جس میں ٹک ٹک کی صرف آواز ہوتی ہے اور پیغام وصول کرنے والے ان آوازوں کو الفاظ کا جامہ خود پہناتا ہے تو گویا صاحب فراست آدمی بعض اشارات سے بات کا مفہوم خود سمجھتا ہے ،
صاحب تفسیر حسینی لکھتے ہیں کہ مشائخ نقشبندیہ میں سے ایک اونچے درجے کے بزرگ خواجہ عبدالخالق مجلس میں بیٹھے معرفت کی باتیں کر رہے تھے کہ ایک نوجوان آدمی مجلس میں آیا جس کے درویشوں کا خرقہ پہن رکھا تھا اور کندھے پر مصلی تھا ، جب مجلس ختم ہوئی تو وہ درویش منش نوجوان خواجہ صاحب کے قریب ہوا ، اور پوچھا حضرت ! ” اتقوا فراسۃ المؤمن “ والی حدیث کا کیا مطلب ہے ؟ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ اس حدیث کی حقیقت یہ ہے کہ تم نے جو زنار پہن رکھا ہے ، اسے توڑ دو اور ایمان قبول کرلو ، اس پر پہلے تو اس شخص نے انکار کیا ، مگر جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے جسم کے ساتھ زنار بندھا ہوا ملا چناچہ اس شخص نے اقرار کیا کہ وہ مجوسی ہے اور خواجہ صاحب (رح) کی آزمائش کے لیے آیا تھا ، اس نے خواجہ صاحب (رح) کی اس فراست کو کرامت پر محمول کیا اور زنار توڑ کر حلقہ بگوش اسلام ہوگیا ، خواجہ صاحب نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ دیکھو ! اس نومسلم شخص نے ظاہری زنار تو توڑ دیا ہے آو ہم سب مل کر توبہ کریں اور باطنی زنار کو بھی توڑ دیں ، اس پر مجلس میں شور اٹھا اور سب نے توبہ کی ، مطلب یہ ہے کہ خواجہ صاحب نے اپنی فراست سے اس شخص کو پہچان لیا تھا کہ یہ مجوسی ہے ۔
(نشانات عبرت)
اللہ نے فرمایا کہ صاحب فراست لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو ان کے جرم کی کیسی عبرتناک سزا دی ، ہر فرد اور قوم کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس قسم کے جرائم ان میں بھی ہوں گے تو وہ بھی عذاب الہی سے نہیں بچ سکیں گے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وانھا لبسبیل مقیم “۔ اور بیشک یہ بستیاں البتہ آباد شاہراہ پر واقع ہیں ، یعنی عبرت کے نشانات ایسے راستے پر ہیں جہاں لوگوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے (آیت) ” ان فی ذلک لایۃ للمومنین “۔ اسی لیے ان میں مومنوں کے لیے بھی نشانی ہے ، جب وہاں سے گزرتے ہیں اور ان بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو انہیں بھی عبرت حاصل کرکے ایسی برائیوں سے بچنے کی کوششوں کرنی چاہئے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے باغیوں کو کیسی عبرت ناک سزا دیتا ہے ۔
فرمایا (آیت) ” وان کان اصحب الایکۃ الظلمین “۔ بیشک شان یہ ہے کہ ایکہ والے بھی بڑے ظالم لوگ تھے ، مدین اور ایکہ والے ایک ہی قوم کے افراد تھے ، مدین شہر تھا اور ایکہ اس کے نواح میں جنگل تھا ، بعض فرماتے ہیں کہ یہ دو مختلف قومیں تھیں اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف حضرت شعیب کو مبعوث فرمایا تھا ، فرمایا (آیت) ” فانتقمنا منھم “۔ پھر ہم نے ان سے ان کی سرکشی کا انتقام لیا ، لوط (علیہ السلام) کی قوم اور ایکہ والے (آیت) ” وانھما لبامام مبین “۔ دونوں بڑی شاہراہ پر واقع تھے عراق سے مصر جانے ولے لوب بھی اسی راستے سے ہو کر گزرتے تھے اور حجاز سے شام اور فلسطین مسافروں کو بھی اسی شاہراہ سے گزرنا ہوتا تھا اور وہ ان اجڑی ہوئی بستیوں کے کھنڈرات کو دیکھتے تھے مکہ کے لوگ بھی اسی راستے سے گزرتے تھے ، ا س لیے اللہ نے ان کو بھی یاد دلایا کہ وہ ان ویران بستیوں سے عبرت حاصل کریں ۔
جغرافیائی لحاظ سے بھر بحر میت کا علاقہ سطح سمندر سے کافی نشیب میں واقع ہے ، اس کے بعض خطوں کا پانی اس قدر زہریلا ہے کہ اس میں کوئی مینڈک ، مچھلی یا کیڑا مکوڑا زندہ نہیں رہ سکتا ، سفر تبوک کے دوران جب حضور ﷺ کا اس وادی سے گزر ہوا تو آپ نے سر پر چادر ڈال لی اور جلدی جلدی گزرنے کی کوشش کی ، فرمایا مجھے ڈر ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر آیا تھا کہیں ہم بھی اس میں گرفتار نہ ہوجائیں ، مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ جس خطہ کو اللہ تعالیٰ نے جائے عبرت قرار دیا ہے ، اسے جدید روشنی والوں نے تفریح گاہ بنا لیا ہے ، وہاں پر عجائب گھر قائم کردیا گیا ہے ساتھ ہوٹل بھی ہیں جہاں لوگ تفریح کے لیے آتے ہیں حالانکہ ایسے مقامات سے عبرت حاصل ہونی چاہئے تھی اور لوگوں کو معاصی سے باز آجانا چاہئے تھا۔
Ayahs 15:80–89(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ان کی سزا کا ذکر کیا اس کے بعد ایکہ والوں کا تذکرہ بھی ہوا ، ایکہ اور مدین والے قریب ہی راستے پر تھے تو اللہ نے ان کی سزا کا بھی اجمالی طور پر ذکر کیا ، ان کا تفصیلی بیان سورة اعراف اور سورة ہود میں آچکا ہے اور آگے بھی بعض سورتوں میں آئے گا ، یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت غضب کا نشانہ بنے آج کی ابتدائی آیات میں قوم ثمود ہی کا مختصر ذکر ہے ، جنہیں یہاں پر اصحاب حجر کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔
(اہل حجر کی تکذیب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین “۔ اور البتہ تحقیق جھٹلایا حجر والوں نے اللہ کے رسولوں کو ، اہل حجر صالح (علیہ السلام) کی قوم ثمود ہیں جو تبوک سے لے کر وادی قری تک پھیلے ہوئے تھے ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) نے تفسیر عزیزی میں لکھا ہے (1) (تفسیر عزیزی پ 30 ص 247) کہ اس خطہ میں اس قوم کے سترہ سو شہر ، قصبات اور دیہات آباد تھے یہ لوگ صنعت وحرفت میں بڑے ماہر تھے ، بڑے متمدن اور آسودہ حال لوگ تھے ، حجر انہی کے مراکز میں واقع ایک جگہ کا نام ہے جس کی نسبت سے انہیں حجر کہا گیا ہے ۔
سورة ہود میں ہے (آیت) ” والی ثمود اخاھم صلحا “۔ یعنی ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا اس کا مطلب ہے کہ اس قوم کی طرف ایک ہی رسول مبعوث ہوا جب کہ اس آیت کریمہ میں مرسلین جمع کا لفظ ہے یعنی بہت سے رسول مبعوث فرمائے اس ضمن میں امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس قوم کی طرف حقیقت میں حضرت صالح (علیہ السلام) کو ہی مبعوث کیا گیا مگر یہاں پر جمع کا صیغہ اس لیے آیا ہے کہ کسی ایک رسول کے جھٹلانے سے تمام رسولوں کا جھٹلانا صادق آتا ہے ، دین کی مرکزی تعلیم اور خاص طور پر عقیدہ توحید کے بارے میں اللہ کے سارے نبی متفق ہیں تو اس لحاظ سے اس قوم نے صرف صالح (علیہ السلام) کو ہی نہیں جھٹلایا بلکہ انبیاء کی پوری جماعت کی تکذیب کی ، اس قسم کی مثال حضرت ہود (علیہ السلام) کے متعلق بھی قرآن میں مذکور ہے ، وہ بھی اپنی قوم عاد کی طرف واحد رسول مبعوث ہوئے مگر سورة ہود میں اللہ نے ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” جحدوا بایت ربھم وعصوا رسلہ “۔ کہ انہوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار اور اپنے رسولوں کی نافرمانی کی یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال کرنے سے مراد یہی ہے کہ کسی ایک رسول کا انکار سارے رسولوں کے انکار کے مترادف ہے ۔
(نشانیوں سے اعراض)
فرمایا اہل حجر نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا (آیت) ” واتینھم ایتنا “۔ اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں دیں (آیت) ” فکانوا عنھا معرضین “۔ پس وہ ان نشانیوں سے اعراض کرنے والے تھے ، قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے خود مطالبہ کیا کہ پتھر میں سے اونٹنی کو نکال جو دس ماہ کی گابھن ہو اور ان کے سامنے بچہ جنے جب صالح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے نشانی پیش کردی تو قوم پھر بھی انکار کرگئی ، مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگ ! نشانیاں نہ طلب کیا کرو قوم ثمود کو ان کی مرضی کی نشانی دے دی گئی مگر انہوں نے اس نشانی یعنی اونٹنی سے تعرض کیا ، اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور ساری قوم ہلاک ہوگئی ، غرضیکہ اہل حجر کے متعلق فرمایا کہ یہ بھی معجزات سے اعراض کرنے والے لوگ تھے ۔
حجر والوں کی کارگزاری کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” وکانوا ینحتون من الجبال بیوتا امنین “۔ وہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر ان میں گھر بناتے تھے بےفکری سے ، اللہ تعالیٰ نے ایسا ہنر عطا کیا تھا کہ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر ان کے اندر ہی نہایت دیدہ ذیب مکان تیار کرلیتے تھے ، ان میں کھدائی کے ذریعے خوبصورت نقش بناتے یہ ایسے محفوظ مکان ہوتے تھے کہ کوئی چور ڈاکو ان میں نقب بھی نہیں لگا سکتا ، اس لیے ان کے باشندے بالکل بےفکری کے ساتھ رہتے تھے ان مکانات کے بچے کھچے نمونے آج بھی موجود ہیں جنہیں دیکھنے کیلیے دور دور سے سیاح آتے ہیں ۔
(پرانی تہذیبوں کے آثار)
اس قسم کی پرانی تہذیبوں کے آثار دنیا بھر میں ملتے ہیں یہاں جنوبی ہندوستان میں ایجنٹا اور آلورہ کی تہذیبوں کے نشانات ابھی تک موجود ہیں یہ لوگ بھی پہاڑوں کو تراش تراش کر مکان بناتے اور ان کی چھتوں اور دیواروں پر حیرت انگیز نقش ونگار بناتے ، ان کی دیواروں پر بنے ہوئے اس زمانے کی تہذیب و تمدن کے آثار اب بھی ملتے ہیں کسی جگہ شادی کی کسی تقریب کی تصاویر ہیں اور کہیں کوئی ماتمی مجلس دکھائی گئی ہے بعض مقامات پر عبادت کا طریقہ نظر آتا ہے ، اسی طرح ٹیکسلا کی بھی ایک تہذیب تھی یہ قوم زمین میں دب گئی جس کے آثار کو کھنڈرات میں سے نکالا گیا ہے ہڑپہ اور موہنجودھاڑو کی تہذیب کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے عراق میں آشوریوں کیتہذیب کے بہت سے آثار ملے ہیں مصر میں پانچ چھ ہزار سالہ عمارات ابھی تک موجود ہیں ۔ چار چار سو فٹ اونچے اہرام ہیں جو ٹنوں وزنی پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں جنہیں دیکھ کر لوگ ششدرہ رہ جاتے ہیں ۔
(عذاب کی آمد)
فرمایا جب ان لوگوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ کی نشانیوں سے اعراض کیا (آیت) ” فاخذتھم الصیحۃ مصبحین “ ان کو چیخ نے آلیا صبح کے وقت ، سورة اعراف اور ہود میں چیخ کے ساتھ زلزلے کا ذکر بھی ہے بہرحال جس طرح کل قوم لوط کے متعلق پڑھا تھا کہ ان پر سورج نکلتے وقت عذاب آیا ، اسی طرح قوم ثمود کو بھی عذاب نے صبح کے وقت ہی آن پکڑا اور پھر ان کی حالت یہ تھی (آیت) ” فما اغنی عنھم ماکانوا یکسبون “۔ پس نہ کام دیا ان کو اس چیز نے جو وہ کماتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ جب اس قوم پر عذاب آیا تو ان کی کاریگری ، صناعی ، اوزار اور ان کی عقل و دانش کچھ کام نہ آئے اور ساری قوم ہلاک ہوگئی ، پیچھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں اللہ نے اپنی صفت غفور اور رحیم کا ذکر فرمایا تھا اور پھر حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ اور اس واقعہ میں صفت غضب کا ذکر کیا ہے ۔
(حضور ﷺ کے لیے تسلی)
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما خلقنا السموت والارض وما بینھما الا بالحق “۔ نہیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، مگر حق کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ کوئی چیز بیکار محض نہیں بلکہ ہر چیز کی تخلیق اس کی حکمت پر مبنی ہے ۔ زمین ، جنگل ، پہاڑ ، دریا ، سمندر ، ستارے ، اور سیارے غرضیکہ ہر چیز کے ساتھ انسان کا مفاد وابستہ ہے ، اور ان تمام اشیاء کا خالق اور مالک بھی موجود ہے وہی ہر چیز کی تدبیر کر رہا ہے اور ہر چیز کو اپنے اپنے کام پر لگا رکھا ہے ۔
فرمایا جو خالق ان اشیاء کو پیدا کرنے پر قادر ہے ، وہ ان کو ختم کرنے کا بھی مجاز ہے ، لہذا یاد رکھو (آیت) ” وان الساعۃ لاتیۃ “۔ بیشک قیامت آنے والی ہے جس کائنات کا آغاز دیکھ رہے ہو اس کا انجام بھی ہوگا ، پھر محاسبے کی منزل آئیگی ہر چیز کے متعلق باز پرس ہوگی ، جو شخص آنکھ میں سلائی ڈالتا ہے یا انگلی کے ساتھ گارے کا ذرا سا حصہ لگاتا ہے اسے بھی حساب دینا ہوگا ۔
اس سورة کی ابتداء میں گزر چکا ہے کہ جب حضور ﷺ اپنے مخاطبین کو قیامت کی ہولناکیوں اور حساب کتاب کی منزل سے ڈراتے تو لوگ کہتے (آیت) ” انک لمجنون “۔ آپ تو دیوانوں جیسی باتیں کرتے ہیں ، بھلا کسی مردے کو زندہ ہوتے کسی نے دیکھا ہے ؟ کوئی قیامت اور جزائے عمل نہیں ہے ایسے ہی توہین آمیز کلمات سے حضور ﷺ اور آپکے صحابہ کو سخت کوفت ہوتی ہے ایسے ہی مواقع پر تسلی کے لیے اللہ نے فرمایا اے پیغمبر ﷺ ! آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ فاصفح الصفح الجمیل “۔ درگزر کریں ، اچھی طرح درگزر کرنا ، جب قیامت برپا ہوگی تو یہ لوگ یقینا پکڑے جائیں گے اور پھر اپنے انجام کو بھی پہنچیں گے ، لہذا آپ درگزر کریں ، (آیت) ” ان ربک ھو الخلق العلیم “۔ آپ کا پروردگار بہت بڑا پیدا کرنے والا ہے اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ، اس نے کائنات کا عظیم سلسلہ پیدا کیا ہے ، اس میں انسان جیسی اشرف مخلوق پیدا کی ہے ، پھر ان کی آزمائش بھی لی ہے ، لہذا آپ خاطر جمع رکھیں اور ان لوگوں کی کارگزاریوں پر بددل نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے رہیں ۔
(سبع مثانی کا نزول)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر ہونے والے ایک عظیم احسان کا ذکر کیا (آیت) ” ولقد اتینک سبعا من المثانی والقران العظیم “۔ البتہ تحقیق ہم نے آپ کو سات دہرائی جانے والی آیتیں اور قرآن عظیم عطا فرمایا ہے ، اللہ نے اس عظیم نعمت کا نزول آپ کے قلب مبارک پر کیا ، سبع مثانی کے متعلق بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس سے سات لمبی سورتیں مراد ہیں ، یعنی سورة بقرۃ سے لیکر سورة یونس تک ، مگر صحیح تفسیر یہ ہے کہ اس سے سورة فاتحہ کی سات آیات مراد ہیں اور یہی آیتیں نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہیں ، امام بخاری (رح) نے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہی ثابت کیا ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ سبع مثانی بھی سورة فاتحہ ہے اور قرآن عظیم بھی یہی سورة ہے ، قرآن پاک میں سب سے زیادہ فضیلت والی سورة یہی ہے اور یہ پورے قرآن کا لب لباب ہے اس لیے اسے قرآن عظیم بھی کہا گیا ہے ، دوسری روایت میں آتا ہے کہ قرآن پاک میں سب سے زیادہ فضیلت والی آیت آیت الکرسی اور سب سے فضیلت والی سورة سورة فاتحہ ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اس لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جس کو قرآن کریم آتا ہے اسے اپنے آپ کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے کیونکہ اللہ نے اسے عظیم نعمت عطا کی ہے ، دنیا کا مال ومتاع اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا لہذا ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے ۔
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے (1) (مسلم ص 251 ج 1) ” رکعتی الفجر خیر من الدنیا وما فیھا “۔ یعنی نماز فجر سے پہلے دو سنتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں ، دنیا کا مال واسباب تو عارضی ہے مگر ٹھیک طور پر ادا کی گئی یہ سنتیں اگر مقبول ہوگئیں تو ان کا اجر کبھی ختم نہیں ہوگا ، لہذا یہ دنیا اور مافیہا سے بہتر ہیں ، خود قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم کتاب شفا اور کتاب ہدایت ہے (آیت) ” خیرممایجمعون “ جو چیز یہ لوگ جمع کرتے ہیں قرآن پاک اس سے بہتر ہے ۔
(مال و دولت سے بےرغبتی)
ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ﷺ ! (آیت) ” لا تمدن عینیک الی ما متعنا بہ ازواجا منھم “۔ ہم نے طرح طرح کے لوگوں کو جو سامان دیا ہے آپ اپنی آنکھوں کو اس کی طرف نہ پھیلائیں ، مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ملنے والے مال ومتاع کی طرف آپ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کہ یہ عارضی چیزیں ہیں ، اس کے مقابلے میں اللہ نے جو چیز آپ کو عطا کی ہے اس کے مقابلے کی کوئی چیز نہیں ، بعض مفسرین نے ازواجا سے مختلف لوگوں کی بجائے مختلف اشیاء مراد لی ہیں یعنی جتنی بھی چیزیں ہم نے دنیا میں لوگوں کو دی ہیں وہ سب قرآن پاک کے مقابلے میں حقیر اور فانی ہیں جب کہ کلام الہی اور سورة فاتحہ ابدی چیز ہے ، فرمایا (آیت) ” ولا تحزن علیھم “ آپ ان پر زیادہ غمگین بھی نہ ہوں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے ، یہ آپ کی ذمہ داری نہیں بلکہ آپ اپنا حق تبلیغ ادا کرتے رہیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “۔ (البقرہ) آپ سے اہل دوزخ کے متعلق باز پرس نہیں ہوگی کہ یہ وہاں کیوں گئے بلکہ یہ تو خود ان سے پوچھا جائے گا (آیت) ” ما سلککم فی سقر “۔ (المدثر) کہ تم جہنم میں کس وجہ سے پہنچے آپ کا فرض یہ ہے (آیت) ” انما علیک البلغ “۔ (الرعد) کہ آپ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں ، کوئی ایمان قبول کرتا ہے یا نہیں ، یہ معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔
(اہل ایمان کے لیے شفقت)
فرمایا (آیت) ” واخفض جناحک للمؤمنین “۔ آپ اپنے بازو ایمان والوں کے لیے جھکا دیں جس نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلیا ہے آپ کی نبوت پر ایمان لایا ہے اور معاد پر یقین کیا ہے آپ اس کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آئیں تاکہ ان کو تسلی رہے ۔ (آیت) ” وقل “۔ آپ ان کو یہ بھی سمجھا دیں (آیت) ” انی انا النذیر المبین “۔ میں تو کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ، میں تو تمہیں خطرناک انجام سے آگاہ کرنے والا ہوں ، اگر کفر ، شرک ، معصیت ، اور ناشکر گزاری کا راستہ اختیار کرو گے تو میں تمہیں برے انجام سے خبردار کر رہا ہوں ، جس طرح قرآن مبین ہے یعنی ہر چیز کو واضح کرتا ہے ، اسی طرح اللہ کے نبی بھی نذیر مبین ہیں کہ کسی چیز کو تشنہ نہیں رہنے دیتے بلکہ ہر چیز کی وضاحت کردیتے ہیں ، پرانے زمانے میں عربوں میں نذیر العریان کی اصطلاح پائی جاتی تھی یعنی سخت خطرے کے وقت کوئی شخص اپنا تہبند اتار کر جھنڈے کے طور پر لہراتا تھا اور خطرے سے آگاہ کرتا تھا ، وہ نذیر عریان سمجھا جاتا تھا ، اسی طرح اللہ کا نبی بھی لوگوں کو شدید خطرے سے آگاہ کرنے والا ہے کہ آنے والے وقت سے ڈر جاؤ اور اللہ کے احکام کو تسلیم کرلو ۔
Ayahs 15:90–99(ربط آیات)
پہلے اللہ تعالیٰ کی دونوں شانوں یعنی اس کے غفور اور رحیم ہونے اور غضبناک ہونے کی شان کا ذکر ہوا پھر اللہ نے دونوں قسم کے لوگوں کی مثالیں بیان فرمائی جن پر اللہ کا انعام ہوا اور جن پر غضب نازل ہوا پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے متبعین کے لیے تسلی کا مضمون نازل ہوا ، مشرکین آپ کے اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ نہایت غلط قسم کا سلوک کرتے تھے جس کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہوتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی ، اور ساتھ یہ بھی اشارہ کردیا کہ نافرمان لوگ بالآخر ناکام ہوں گے ، اس ضمن میں قوم لوط کی ناہنجاری کا ذکر فرمایا ، اہل حجر کی بات کی کہ کس طرح انہوں نے اللہ کے سچے نبی اور سچے دین کی مخالفت کی ، اہل ایمان کو اذیت پہنچائی تو اللہ نے انکو سزا میں مبتلا کیا ، مطلب یہ کہ جس طرح سابقہ انبیاء کے مخالفین تباہ وبرباد ہوئے اسی طرح آپ کے مخالفین بھی اللہ کے غضب سے بچ نہ سکیں گے ۔
(کتب الہیہ کی تقسیم)
اب اللہ نے اس بات کو ایک مثال یا تشبیہ کے طور پر سمجھایا ہے (آیت) ” کما انزلنا علی المقتسمین “۔ جیسا کہ ہم نے اتارا (عذاب) تقسیم کرنے والوں پر مقتسیم تقسیم کے مادے سے بھی ہو سکتا ہے اور قسم کے مادے سے بھی اور ا س مقام پر دونوں معنی درست ہیں البتہ تقسیم والا معنی زیادہ معروف ہے (آیت) ” الذین جعلوا القرآن عضین “۔ وہ تقسیم کرنے والے جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ، اگر قرآن سے اللہ کی یہی کتاب مراد لی جائے جیسا کہ متبادر ہے تو تقسیم کرنے والے مشرکین مکہ ہیں جنہوں نے قرآن کو تقسیم کردیا تھا یعنی وہ کتاب الہی کے ساتھ غلط باتیں منسوب کرتے تھے ، کوئی کہتا یہ شاعری ہے ، کوئی اسے سحر بتاتا اور کوئی اسے (آیت) ” اساطیر الاولین “۔ (الانفال) پرانے لوگوں کی قصے کہانیاں کہتا ، بعض لوگوں نے قرآن کو تمسخر کے طور پر اس طرح تقسیم کر رکھا تھا کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا کہ سورة بقرہ کو میں سنبھال لوں گا تم ذرا سورة الفیل سے نپٹ لو ، کوئی کہتا مائدہ میرے ذمے رہنے دو اور انعام فلاں کے ذمے لگا دو ، علی ہذا القیاس انہوں نے قرآن پاک کی سورتوں کو مذاق کے طور پر تقسیم کردیا تھا ، تقسیم کی ایک صورت یہ بھی اللہ نے سورة مائدہ میں ذکر کی ہے کہ بعض اوقات مشرکین اپنے مقدمات حضور ﷺ کی خدمت میں فیصلہ کے لیے بھیج دیتے اور ساتھ ہی فریق مقدمہ کو کہہ دیتے کہ اگر فیصلہ تمہاری مرضی کے مطابق ہوا تو قبول کرلینا ورنہ چھوڑ دینا ، ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” لھم فی الدنیا خزی ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم “۔ (المائدہ) یعنی ایسا شخص دنیا میں بھی ذلیل ہوگا اور آخرت میں بھی اس کے لیے عذاب عظیم ہوگا ، بڑے بڑے صنادید قریش تھے جنہیں اللہ نے اسی دنیا میں ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ مشرکین نے آپس میں درے اور راستے تقسیم کر رکھے تھے تاکہ حضور ﷺ کے پاس جانے والے لوگوں کو راستے میں ہی روک دیا جائے ، آپ کے خلاف پراپیگنڈا کرتے ، آپ کو نعوذ باللہ ساحر اور دیوانہ کہہ کر لوگوں کو آپ کی ملاقات سے روکتے ، ایک دفعہ عربوں کا مشہور شاعر اعشی حضور کی خدمت میں حاضری کے لیے مکہ آیا یہ شخص سناجۃ العرب یعنی عربوں کا باجہ کہلاتا تھا ، اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات ضرب المثل بن جاتی تھی ، قریش مکہ کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر اس نے حضور ﷺ کی شان میں کوئی قصیدہ کہ دیا تو پھر آپ کا راستہ روکنا ناممکن ہوجائے گا لہذا انہوں نے تدبیر کی کہ کس طرح اغشی حضور ﷺ سے ملاقات نہ کرسکے ، چناچہ انہوں نے اناج سے لدا ہوا ایک سو اونٹ اسے رشوت میں اس لیے پیش کیا کہ وہ حضور ﷺ سے ملاقات نہ کرے ، وہ شخص اونٹ لے کر اپنے وطن یمن چلا گیا اور آپ سے ملاقات نہ کی ۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے آئمۃ الکفر کو دنیا میں ہی سزا دی چناچہ بعض جنگ بدر میں مارے گئے کوئی آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہو کر جہنم واصل ہوا کسی کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا جس کا زہر سارے جسم میں سرایت کر گیا اور وہ شخص ہلاک ہوگیا ، بہرحال جن لوگوں نے قرآن پاک کو ٹکڑے ٹکڑے کیا ، اللہ نے ان پر طرح طرح کا عذاب نازل فرمایا ۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس مقام پر قرآن سے مراد اللہ کی آخری کتاب نہیں بلکہ اس سے مراد پہلی کتابیں تورات انجیل وغیرہ ہیں اور ان کو تقسیم کرنے والے ان کے حاملین یہود اور نصاری ہیں ، ان لوگوں نے اپنی مذہبی کتابوں کو اس طرح تقسیم کردیا کہ ان کے کسی حکم کو مان لیا اور کسی کا انکار کردیا جیسا کہ سورة بقرہ میں موجود ہے (آیت) ” افتؤمنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض “۔ کیا تم کتاب کے کچھ حصے کو مانتے ہو اور کچھ کا انکار کرتے ہو ، ایسے لوگوں کے عذاب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار ذکر کیا ہے کہیں فرمایا کہ بندر اور خنزیر بنا دیے گئے ، کہیں فرمایا کہ چالیس سال تک صحرا میں بھٹکتے رہے ، کبھی یہ باہمی عداوت وپیکار میں مبتلا ہوئے اور کبھی ان کو دوسری اقوام نے پامال کیا ۔
اگر مقتسم قسم کے مادے سے ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ جس طرح ہم نے قسمیں اٹھانے والے لوگوں پر عذاب نازل فرمایا ایسے لوگوں کا ذکر بھی اللہ نے مختلف سورتوں میں کیا ہے ، اصحاب حجر یعنی قوم ثمود کے لوگ بھی قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ ہم صالح (علیہ السلام) کو زندہ نہیں چھوڑیں گے سورة النحل میں موجود ہے (آیت) ” قالو تقاسموا باللہ لنبیتنہ واھلہ “۔ شہر کے نوفسادی آدمیوں نے کہا کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح (علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے یعنی ان سب کو ہلاک کردیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے خود انہیں تباہ وبرباد کرکے رکھ دیا ، تو اللہ نے فرمایا کہ جس طرح ہم نے قسمیں اٹھانے والوں پر عذاب نازل کیا ، اسی طرح ان لوگوں پر نازل کریں گے جو خاتم النبیین ﷺ کی مخالفت کر رہے ہیں ۔
(لازمی باز پرس)
قرآن پاک کو مختلف طریقوں سے تقسیم کرنے والے ہوں یا دین حق کی قسمیں اٹھا کر مخالفت کرنے والے اللہ نے فرمایا (آیت) ” فوربک “ تیرے پروردگار کی قسم (آیت) ” لنسئلنھم اجمعین “۔ ہم ان سب سے ضرور باز پرس کرینگے ، (آیت) ” عما کانوا یعملون “ اس بارے میں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ، اس مقام پر تو منکرین ومکذبین سے سوال جواب کا ذکر ہے مگر بعض مقامات پر بغیر باز پرس ہی جہنم رسیدگی کی وعید سنائی گئی ہے جیسے سورة الرحمن میں ہے (آیت) ” فیومئذ لا یسئل عن ذنبہ انس ولا جآن “۔ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائیگا بلکہ (آیت) ” یعرف المجرمون بسیمھم فیؤخذ بالنواصی والاقدام “۔ مجرم لوگ اپنے چہروں سے ہی پہچانے جائیں گے اور انہیں سر کے بالوں اور پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹ کرلے جایا جائے گا ۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دونوں باتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے حشر کے میدان میں کئی واقعات پیش آئیں گے بعض مواقع پر انسان سے شدید باز پرس ہوگی اور بعض مواقع پر بغیر پوچھے مجرمین کو پکڑ کرلے جایا جائیگا امام ابوبکر رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر سوال کرنے سے مراد محض باز پرس نہیں بلکہ سخت ڈانٹ ڈپٹ مراد ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی شخص کو قدم نہیں اٹھانے دیا جائے گا جب تک وہ ان سوالوں کا جواب نہ دے لے کہ اس نے عمر کے شباب کے حصے کو کہاں خرچ کیا دنیا میں مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا وغیرہ ، اسی طرح یہاں پر بھی فرمایا ہے کہ ان سب سے ہم ضرور سوال کریں گے ان تمام کاموں کے متعلق جو وہ دنیا میں انجام دیتے رہے ۔
(حضور ﷺ کے لیے تسلی)
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے خطاب فرمایا ہے (آیت) ” فاصدع بما تؤمر “۔ پس آپ واضح طور پر پہنا دیں جو کچھ آپ کو حکم دیا گیا ہے صدع دراصل اس برتن کو کہتے ہیں جو ٹوٹ جائے اور اس کے دوبارہ جڑنے کا امکان نہ ہو ، تو یہاں پر مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ کی توحید کا واضح طور پر دو ٹوک اعلان کردیں اور اس میں کسی قسم کی رورعایت نہ رکھیں (آیت) ” واعرض عن المشرکین “ اور مشرکوں سے اعراض کریں ، آپ انکی پروا نہ کریں کہ وہ کیا کرتے ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” انا کفینک المستھزئین “۔ ہم آپ کو کفایت کریں گے ٹھٹا کرنے والوں کے شر سے یعنی ان کے شر کے اثرات آپ تک نہیں پہنچنے دیں گے سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے ، (آیت) ” فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم “۔ اللہ تعالیٰ ہی آپ کی کفایت کریگا کیونکہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے آپ ٹھٹا کرنے والوں کی بالکل پرواہ نہ کریں۔
اور استہزاء کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ (آیت) ” الذین یجعلون مع اللہ الھا اخر “۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی معبود بنا رکھا ہے ۔ کوئی ان کا سفارشی ہے ، کوئی معبود ، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ، فرمایا (آیت) ” فسوف یعلمون “۔ وہ عنقریب جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا نہ کوئی ہذ ہے نہ شریک اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے فرمایا (آیت) ” ولقد نعلم انک یضیق صدرک بمایقولون “۔ البتہ تحقیق ہم جانتے ہیں کہ آپ کا سینہ ان باتوں سے تنگ ہوتا ہے جو یہ مشرکین کرتے ہیں ، یہ لوگ کفر شرک کی باتیں کرتے ہیں ، آپ پر طعن اور استہزاء کرتے ہیں ، آپ کی شان میں بےادبی کے مرتکب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے آپ کے قلب مبارک کو بہت اذیت پہنچتی ہے ، آپ کو رنج ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے تسلی دی ہے کہ آپ زیادہ فکر نہ کریں ، جب آپ لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے اور وہ اسے شدت سے رد کردیتے تو پھر بھی آپ کی طبع پر بہت گراں گزرتا آپ بنی نوع انسان کے لیے سب سے زیادہ خیرخواہ تھے اور لوگوں کو بےلوث ایمان اور فلاح کی دعوت دیتے تھے (آیت) ” یایھا الناس قولوا لا الہ اللہ تفلحوا “۔ لوگو ! کہہ دو ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، فلاح پاجاؤ گے ، یہ تو تمہارے ہی فائدے کی بات ہے مگر اتنی خیر خواہی کا جواب جب شروفساد سے ملتا تو حضور ﷺ کا دل بڑا تنگ ہوتا ، اسی لیے تو اللہ نے فرمایا (آیت) ” فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا “۔ (الکہف) اے پیغمبر ﷺ ! اگر یہ لوگ اس کلام الہی پر ایمان نہ لائیں تو شائد آپ گلا گھونٹ کر ہلاک ہوجائیں ۔
فرمایا اس قدر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، آپ کا فرض یہ ہے (آیت) ” بلغ ما انزل الیک من ربک “۔ (المائدۃ)
جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے آپ اسے بلاکم وکاست آگے پہنچا دیں کیونکہ (آیت) ” فانما علیک البلغ وعلینا الحساب “۔ (الرعد) خدا کا پیغام پہنچا دینا اور لوگوں کو سمجھا دینا آپ کا کام ہے ، اور ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے (آیت) ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “۔ (البقرہ) اہل دوزخ کے متعلق آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیوں دوزخ میں گئے ، بلکہ اپنی کارکردگی کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے اور اس بارے میں انہی سے سوال ہوگا آپ صرف اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے چلے جائیں ۔ بہرحال مشرکین کی بدسلوکی پر حضور ﷺ کے دل کی تنگی قدرتی بات تھی ہر نبی امت کا خیر خواہ ہوتا ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم عاد سے یہی کہا تھا (آیت) ” ابلغکم رسلت ربی وانا لکم ناصح امین “۔ (الاعراف) میں تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور میں تمہارا خیر خواہ اور امانتدار بھی ہوں ، اس میں میرا ذاتی کوئی مفاد نہیں بلکہ تمہاری خیر خواہی مقصود ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی قوم کو اس طرح خطاب فرمایا اے میری قوم ! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے (آیت) ” ونصحت لکم “ اور تمہاری خیر خواہی کردی ہے ، (آیت) ” فکیف اسی علی قوم کافرین “۔ (الاعراف) اب میں تمہاری ہلاکت پر کیسے افسوس کا اظہار کروں ۔ ؟
(تسبیح وتحمید)
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ان کے قلب وصدر کی تنگی کا علاج بھی بتایا ہے آپ پریشان نہ ہوں (آیت) ” فسبح بحمد ربک بلکہ اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کریں ، اس کی پاکی اور حمد بیان کریں (آیت) ” وکن من السجدین “۔ اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں یعنی آپ کثرت سے نماز پڑھیں ، چناچہ ترمذی اور ابوداؤد کی روایت میں آتا ہے کہ جب کبھی حضور ﷺ کو سخت پریشانی لاحق ہوتی تو آپ فورا نماز کی طرف رجوع کرتے ، پریشانی کا علاج نماز ہے کیونکہ اس کے ذریعہ تعلق باللہ قائم ہوتا ہے اور جس قدر تعلق باللہ مضبوط ہوگا اسی قدر مصائب کم ہوجائیں گے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوگی اور دل میں تسکین پیدا ہوگی کہ دل کا سکون اللہ کے ذکر میں ہی ہے تو فرمایا آپ اللہ کی تسبیح یعنی پاکی بیان کریں اس کی تعریف کریں اور نماز کی کثرت رکھیں ،
(آخر دم تک عبادت)
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے دوسری بات یہ فرمائی ہے (آیت) ” واعبد ربک “۔ اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیں مسلسل بندگی میں لگے رہیں (آیت) ” حتی یاتیک الیقین “۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آجائے عربی زبان میں یقین کا اطلاق موت پر بھی ہوتا ہے اور اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ آپ آخر دم تک اللہ کی عبادت میں مشغول رہیں ، موت ایک یقینی امر ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد بھی ہے (آیت) ” کل نفس ذائقۃ الموت “۔ (آل عمران) ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس سے اللہ کا نبی بھی مستثنی نہیں ہے ، ہر جاندار کو اس کھٹن گھاٹی سے گزرنا ہے ، متبی شاعر کہتا ہے کہ ہر چیز میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر موت ایک ایسی چیز ہے جس میں کسی کو اختلاف نہیں ، اس پر سب کو یقین ہے ” الموت اصدق والحیوۃ غرور “۔ موت یقینی چیز ہے اور زندگی محض دھوکا ہے انسان کے گلے میں زندگی کا جو دھاگا لٹک رہا ہے یہ بالکل کمزور ہے اور کسی وقت بھی ٹوٹ سکتا ہے ، لہذا فرمایا کہ زندگی کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے رہیں یہ تسلی کا مضمون بھی ہوگیا ۔
سورة کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا مضمون تھا پھر توحید اور اس کے دلائل بیان ہوئے اس کے بعد خدا تعالیٰ کی شان رحمت اور شان غضب کا ذکر ہوا پھر نافرمان قوموں کی سزا کی طرف اشارہ کیا اور آخر میں تسلی کے مضمون پر اس سورة کو ختم کیا ہے ۔