14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 14:1–3

الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِۙ Open ayah 14:1 in the Quran reader

الر۔ قف یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے اتارا ہے آپ کی طرف تاکہ آپ نکالیں لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف ان کے رب کے حکم سے عزیز اور حمید کے راستے کی طرف ۔

اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ وَیْلٌ لِّلْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدِۙ Open ayah 14:2 in the Quran reader

وہ اللہ جس کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور ہلاکت ہے کفر کرنے والوں کے لیے سخت عذاب سے ۔

اِ۟لَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ اُولٰٓئِكَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 14:3 in the Quran reader

وہ لوگ جو پسند کرتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں ، اور وہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور تلاش کرتے ہیں (اس راستے میں) کجی ، یہی لوگ ہیں جو گمراہی میں دور پڑے ہوئے ہیں ۔

(نام اور کوائف) اس سورة کا نام سورة ابراہیم ہے ، سورة کے چھٹے رکوع میں خانہ کعبہ کی تعمیر پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور ملت ابراہیمیہ کا ذکر ہے اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام رکھا گیا ہے ، سابقہ سورة کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، اس کی باون آیات اور سات رکوع ہیں ، یہ سورة 831 الفاظ اور 3434 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) جس طرح اس سورة کا سابقہ سورة سے زمانہ نزول ملتا ہے اسی طرح ان دونوں سورتوں کے مضامین بھی ملتے جلتے ہیں ، اس سورة میں بھی دین کے بنیادی عقائد ، توحید ، تردید شرک ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ، وصداقت کا ذکر ہے نبوت و رسالت کے متعلق معترضین کے جوابات دیے گئے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے کلمہ حق و باطل کو ایک مثال کے ذریعہ واضح کیا ہے ، تذکرہ انبیاء میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خصوصی ذکر ہے ، جب کہ باقی انبیاء کا ذکر اجمالی طور پر آیا ہے ، اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة کا ایک خاص موضوع مقصد بعثت انبیاء بھی ہے چناچہ اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی بنیادی عقائد کی تعلیم وتبلیغ کے لیے انبیاء کو مبعوث فرمایا ، خصوصا اللہ کی وحدانیت کا مسئلہ اور ایمانیات کی تلقین ہمیشہ سے ملت ابراہیمیہ کا مقصد اور دین اسلام کی غرض وغایت اور منتہائے مقصود رہا ہے ، اس کے علاوہ انفاق فی سبیل اللہ ، نماز اور بعض دوسری چیزوں کا ذکر ضمنا اس سورة میں آئے گا ۔ اس سورة مبارکہ میں انبیاء کی تاریخ کا ایک حصہ بھی ذکر کیا گیا ہے اگلے درس میں آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “۔ اور انہیں تاریخی واقعات یاد دلائیں ، ایام اللہ سے وہ دن مراد ہیں ، جب اللہ تعالیٰ نے بعض اقوام پر نعمتیں نازل فرمائیں اور بعض کو سزا میں مبتلا کیا ، ان کو اصطلاحا ایام تنعیم اور ایام تعذیب بھی کہا جاتا ہے ، ایسے واقعات کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اور اسکی ناشکری کا ذکر کیا گیا ہے ، اس ضمن میں انبیاء کرام ﷺ کے طریقہ تعلیم وتربیت اور ان کی تبلیغ کو بھی بیان کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ مسلمانوں کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ کافروں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرتے وقت انہیں کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ، (حروف مقطعات) سابقہ سورة کی طرح اس سورة کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے ہوتی ہے الٓر ، مفسرین نے تقریب فہم کے لیے حروف مقطعات کے بہت سے ممکنہ معانی بیان کیے ہیں ، بعض فرماتے ہیں کہ الر سے خود قرآن ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے ، بعض مفسرین تینوں حروف کے مختلف معانی بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ” الف “ سے انا ، ل سے اللہ اور ر سے رویت مراد ہے ، اور پورا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں اور تمہاری تمام حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہوں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ” الر “ سورة کے موضوع کی طرف اشارہ ہے یعنی وہ غیبی حقائق جو انبیاء کے ذریعے عالم بالا سے اس جہان میں متعین ہوتے ہی ، ان کا تصادم انسانوں سے سرزد ہونے والے شرور ونسیہ (گندے شرور) سے ہوتا رہتا ہے جس کے نتیجے میں حق بات واضح ہوتی رہتی ہے ، تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ” الر “ دراصل مقامات انبیاء کی طرف اشارہ ہے اور یہ بات مجھے ذوقی یعنی الہامی طریقے سے معلوم ہوئی ہے کیونکہ اسے عقلی دلیل سے ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔ حروف مقطعات قرآن پاک کی 29 سورتوں کی ابتداء میں آئے ہیں بعض فرماتے ہیں کہ ہر حرف مفرد اللہ تعالیٰ کے کسی اسم کی طرف اشارہ کرتا ہے ” الف “ سے اللہ کا اسم ذات اللہ ہو سکتا ہے ” ل “ سے لطیف اور را سے رحمان یا رحیم مراد لیا جاسکتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ ” الر “ اس سورة کا نام ہے ، گویا اس سورة کے دو نام ہیں ابراہیم اور ” الر “ قرآن پاک کی بعض سورتوں کے متعدد نام بھی آتے ہیں ، سورة فاتحہ کے پندرہ نام عرض کیے تھے ، دسویں صدی کے حافظ الحدیث امام جلال الدین سیوطی (رح) حروف کی مراد کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، تاہم جو کچھ اس نے مراد لی ہے وہ برحق ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حروف ابتلائے عباد یعنی بندوں کے امتحان کی خاطر نازل فرمائے ہیں ، اسی لیے جب حضور ﷺ یہ حروف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے سامنے پڑھتے پڑھاتے تھے تو کسی نے بھی ان کے معانی میں کرید کرنے کی کوشش نہیں کی ، یعنی کسی نے ان کا مطلب یا مراد دریافت نہیں کی ، بلکہ جس طرح حضور ﷺ نے پڑھایا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے پڑھ لیا اور خاموش ہوگئے ، حضرت علی ؓ کے زمانے میں جب عجمی لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان حروف کے معانی دریافت کیے ، چناچہ ان کے متعلق بعض باتیں حضرت علی ؓ نے اور بعض حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بھی بیان کیں تاکہ لوگوں کے اذہان قرآن کریم کے ساتھ مانوس رہیں ، حافظ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے ان حروف کے متعلق کرید نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر ایمان لانا ہی ضروری ہے اگر کوئی کرید کرے گا تو کسی غلطی میں مبتلا ہو سکتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد امام شعبی (رح) جنہیں پانچ سو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی ملاقات کا شرف حاصل ہوا ان سے حروف مقطعات کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا ، یہ اللہ کا راز ہے ، اس کے پیچھے نہ پڑو ، کیونکہ ایسا کرنے سے گمراہی میں پڑنے کا خطرہ ہے صرف ” امنا وصدقنا “ کہو کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کی کہ اللہ تعالیٰ نے ان حروف سے جو بھی مراد لی ہے وہ برحق ہے ۔ (ظلمت سے نور کی طرف) حروف مقطعات کے بعد سورة کی ابتداء قرآن کریم کی صداقت وحقانیت اور اس کی غرض وغایت سے ہوتی ہے (آیت) ” کتب انزلنہ الیک “ یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے آپ کی طرف ، لفظ کتاب کو نکرہ لایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ، اور حقیقت میں کتاب کہلانے کی مستحق یہی کتاب ہے ، اس کے مقابلے میں کوئی دوسری کتاب کتاب کہلانے کی حقدار نہیں ہے سورة القصص میں قرآن پاک اور تورات دونوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھو اھدی منھما “۔ اگر تم اس قرآن کریم کا انکار کرتے ہو تو پھر کوئی ایسی کتاب لے آؤ ، جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت دہندہ ہو ، اپنے زمانے میں تورات بھی عظیم کتاب تھی اور اس میں قانون ، شریعت اور عقائد کے تمام احکام تھے ، مگر اس کی جامعیت قرآن سے کم تھی ، بہر حال قرآن پاک ایک ایسی عظیم کتاب ہے کہ تمام مخلوق مل کر بھی اس کی کسی ایک آیت پر بھی حاوی نہیں ہو سکتی ، امام شاہ ولی اللہ (رح) محدث دہلوی اپنی کتاب فیوض رحمۃ اللہ علیہالحرمین 1 (فیوض الحرمین مترجم ص 42) میں فرماتے ہیں کہ جب میں قرآن پاک کی کسی آیت کے متعلق مراقبہ کرتا ہوں تو مجھے اس کے نیچے حقائق ومعارف کے لا انتہا سمندر نظر آتے ہیں اور پاک نفوس کو ایسی باتیں نظر آنا بعید از قیاس نہیں ۔ قرآن پاک (آیت) ” انزل بعلم اللہ “ اللہ کے علم سے نازل ہوا ہے اور خدا تعالیٰ کی یہ صفت لامحدود ہے لہذا ” لا تنقضی عجآئباتہ “۔ قرآن پاک کے عجائبات لامتناہی ہیں ان میں جتنا بھی غور کریں ، یہ عجائبات ختم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے جائیں گے ۔ فرمایا یہ ایک عظیم کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے اور اس کی غرض وغایت یہ ہے (آیت) ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “ تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں ، یہ حضور ﷺ سے خطاب ہو رہا ہے ، اس میں رسالت کا بیان آگیا ، کہ جس طرح یہ کتاب عظیم الشان ہے ، اسی طرح جس رسول پر نازل کی گئی ہے ، وہ بھی عظیم الشان رسول ہے ، یہاں پر ظلمات سے مراد کفر ، بدعت ، شرک ، نفاق اور جملہ معاصی اور برائیاں ہیں ، گناہوں کی وجہ سے انسان کے دل اور روح پر تاریکی چھا جاتی ہے اور انسان کی روحانیت ختم ہوجاتی ہے ، اس کے مقابلے میں سنت ایک روشنی ہے ، جس سے روح وقلب اور دل و دماغ روشن ہوتے ہیں ، قرآن پاک کو بصائر بھی کہا گیا ہے ۔ ” ھذا بصآئر من ربکم “۔ (اعراف) یہ تمہارے رب کی طرف سے بصیرت ہے ، بصیرت ایسی چیز ہے جو دل کو روشن کرتی ہے ، دل میں اطمینان اور یقین پیدا ہوتا ہے ، تو قرآن کریم کی آیات بصیرت کی باتیں ہیں جو انسان کو ہر قسم کے اندھیروں سے نکال کر ایمان ، اخلاص ، نیکی اور اطاعت کی روشنی کی طرف لاتی ہیں ۔ یہ قرآن لوگوں کو رسومات باطلہ اور بدعات سے موڑ کر سنت کی طرف لاتا ہے دل کی تاریکیاں اگرچہ ظاہری آنکھ سے نظر نہیں آتیں مگر ان کی وجہ سے انسان کا فہم اور شعور ختم ہوجاتا ہے اور انسان نیکی اور بدی میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا ، برخلاف اس کے ایمان دار قرآن کو برحق سمجھتا ہے اور اللہ کا وعدہ یہ ہے (آیت) ” ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا “۔ (الانفال) اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ ہر جگہ تمہارے لیے فیصلہ کن بات بناتا رہے گا ، تمہیں صحیح اور غلط کی تمیز آجائے گی اور تم تاریکی میں نہیں رہو گے ، فرقان قرآن پاک کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے جس کا معنی حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے قرآن کے ذریعے انسان ظلمت اور نور میں امتیاز پیدا کرتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ اس کی غرض وغایت ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں ، فرمایا روشنی کی طرف لانا کسی انسان کا ذاتی فعل نہیں بلکہ (آیت) ” باذن ربھم “ ان کے پروردگار کے حکم سے ہے جس انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی ، وہ حق کو پا لے گا اور آپ اسے روشنی کی طرف لے آئیں گے ، اور جو ضدی اور عنادی آدمی ہوگا ، وہ اس نور سے استفادہ حاصل نہیں کرسکے گا ، اور یہ نور کیا ہے (آیت) ” الی صراط العزیز الحمید “۔ کمال قدرت کے مالک اور تعریفوں والے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ ہے وہ ایسی کمال تعریفوں کا مالک ہے کہ اگر کوئی اس کی تعریف نہ بھی کرے تو اس کی خوبیوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، وہ بہرحال اپنی جگہ موجود ہیں ، غرضیکہ اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان کے پروردگار کے حکم سے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، آگے اللہ تعالیٰ کی یہ تعریف بھی بیان کی گئی ہے (آیت) ” اللہ الذی لہ ما فی السموت وما فی الارض “ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے کہ اسی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ہر چیز کا خالق اور مالک وہی ہے ، حقیقت میں کوئی دوسری ہستی کسی چیز کی مالک نہیں ، جو کوئی عارضی طور پر کسی چیز کا مالک بنتا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے بنانے سے بنتا ہے ، انسان تو اپنے وجود اور دیگر لوازمات کا بھی خود مالک نہیں ہے ، ہر چیز کا مالک و متصرف اللہ وحدہ لاشریک ہے ، یہ اس کی تعریف بھی ہوگئی ۔ (کافروں کا انجام) ان تمام حقائق کے باوجود جو لوگ کفر کرتے ہیں ، اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرما دیا ہے (آیت) ” وویل للکفرین من عذاب شدید “۔ تباہی و بربادی ہے کفر کرنے والوں کے لیے سخت عذاب سے ۔ قرآن پاک کے پروگرام کو تسلیم نہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی سخت سزا کا مزہ چکھیں گے ۔ فرمایا (آیت) ” الذین یستحبون الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ “۔ جو لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں یعنی ان کی تمام تگ ودو اسی زندگی کے لیے ہے جیسے فرمایا (آیت) ” یعلمون ظاھر ا من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون “۔ (الروم) وہ لوگ دنیا کی باریک ترین باتیں بھی جانتے ہیں مگر آخرت سے کلی طور پر غافل ہیں ، دنیا کے اعتبار سے بڑے عقلمند ہیں مگر آخرت کے لحاظ سے بالکل بےبہرہ ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے ، اسی دنیا میں ہے آگے کچھ نہیں ، اسی لیے وہ اپنے پروردگار سے عرض کرتے ہیں (آیت) ” ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “۔ ہمیں جو کچھ دنیا ہے قیامت سے پہلے پہلے اسی دنیا میں عطا کردے اللہ تعالیٰ نے عاد اور ثمود کے متعلق فرمایا ہے کہ بڑے بڑے کاریگر ، انجینر ، صناع اور ماہرین تھے ، دنیا کے اعتبار سے بڑی بصیرت رکھتے تھے ، عقل معاش کے لحاظ سے بڑے ترقی یافتہ تھے مگر عقل معاد کی نسبت سے بالکل کر رہے تھے حضور ﷺ نے دنیا کی تحقیر میں یہ دعا بھی سکھلائی ۔ 1 (ترمذی ص 504) ہے اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا “۔ اے اللہ ! صرف دنیا کو ہی ہمارا منتہائے مقصود نہ بنا ، اہل ایمان تو ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں (آیت) ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار “۔ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی ، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ، یہ بات قابل ذکر ہے کہ مطلقا دنیا کی پسندیدگی بری نہیں ہے مال ، دولت ، اولاد ، آسائش زندگی وغیرہ ایک فطری چیز ہے مگر اس کی طلب اور اس سے محبت اگر آخرت پر غالب آجائے تو پھر تباہ کن ثابت ہوگی ، سورة العادیات میں موجود ہے (آیت) ” وانہ لحب الخیر لشدید “ انسان میں مال کی محبت ضرور ہے ، مگر جب وہ آخرت کو فراموش کر کے حقوق وفرائض کو فراموش کر دے گا تو پھر یہی مال اس کے لیے وبال جان بن جائیگا ، کافروں کا یہی وطیرہ ہے ، خاص طور پر مغربی تمدن میں تو اس کی انتہا ہوچکی ہے شیطان نے دنیا کے لوازمات کو اس قدر مزین کر کے دکھایا ہے کہ اکثر لوگ اسی میں منہمک ہو کر رہ گئے ہیں اور آخرت کو بالکل بھول چکے ہیں ، دنیا کی زندگی سے محبت کا یہی مطلب ہے اور اسی کی مذمت کی گئی ہے ۔ (دین کے راستے میں رکاوٹ) فرمایا کافروں کی ایک صفت تو یہ ہے کہ وہ دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دوسری یہ کہ (آیت) ” ویصدون عن سبیل اللہ “ وہ خدا کے راستے سے روکتے ہیں ، دوسری جگہ فرمایا کہ خود تو دین سے دور ہوتے ہیں دوسروں کو بھی روکتے ہیں یہود ونصاری کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو ان کے دین سے روک دیا جائے ، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہمیشہ بڑے بڑے جال بچھائے ہیں ، کبھی طاقت استعمال کرکے ، کبھی سازش کرکے اور کبھی مکر و فریب کے ذریعے لوگوں کو اللہ کے راستے سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی ہے ، عیسائی مشنریاں سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوں اور رفاہی اداروں کا جال پھیلاتی ہیں اور اس قسم کا پر اپگینڈا کرتی ہی کہ مسلمانوں کے دلوں میں دین سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل دین سے بیزار ہوجائے یہ لوگ مال و دولت اور عورت کے لالچ میں دین سے بیگانہ کرتے ہیں اور کبھی وسیع لٹریچر کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں ، شکیب ارسلان نے لکھا ہے کہ یورپی ممالک میں اسلام کے خلاف چھ لاکھ کتابیں شائع ہو کر تقسیم ہوچکی ہیں ، نزول قرآن کے زمانے میں یہ کام مکہ والے کرتے تھے کبھی رعب کے ذریعے اور کبھی لالچ کے ذریعے لوگوں کو اسلام سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے ، آج کی دنیا میں روس ، امریکہ اور انگریز اس کام کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں ، غرضیکہ تمام کافروں کی یہ خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو اسلام کے راستے سے روک دیا جائے ، (کجی کی تلاش) اللہ تعالیٰ نے کافروں کی تیسری صفت یہ بیان کی ہے (آیت) ” ویبغونھا عوجا “۔ یہ لوگ اللہ کے راستے میں کجی تلاش کرتے ہیں ، اسلام کو توڑ مروڑ کر اس طرح پیش کرتے ہیں جس سے لوگوں کو اسلام کا راستہ ٹیڑھا نظر آئے اور وہ اسے چھوڑ دیں کافر ، مشرک ، منافق ، یہود ، ہنود اور عیسائی سب ایسا ہی کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” اولئک فی ضلل بعید “۔ یہ لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ایمان والوں کے لیے تسلی کو پہلو بھی ہے کہ یہ لوگ شب وروز انہی سازشوں میں لگے رہتے ہیں ، لہذا ان سے قبول حق کی توقع نہیں رکھنی چاہئے ، یہ اسی طرح گمراہی میں پڑے رہیں گے حتی کہ اس دنیا کا دور ختم ہوجائے گا اور پھر انہیں اس گمراہی کا بدلہ مل کر رہے گا ۔
Ayahs 14:4–6

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ١ؕ فَیُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 14:4 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ بیان کرے ان کے لیے پھر گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اور راستہ دکھاتا ہے جس کو چاہے ، اور وہ غالب اور حکمت والا ہے ۔

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ وَ ذَكِّرْهُمْ بِاَیّٰىمِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 14:5 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ ، (پھر ان سے کہا) کہ نکالو اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور یاد دلاؤ ان کو اللہ کے دن ، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر کرنے والا اور شکر گزار ہے ۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ اَنْجٰىكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ وَ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 14:6 in the Quran reader

اور (وہ بات قابل ذکر ہے) جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہ یاد کرو اللہ کی نعمت کو تم پر ، جب کہ اس نے تمہیں نجات دی فرعون والوں سے وہ پہنچاتے تھے تم کو برا عذاب ، اور ذبح کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو اور زندہ چھوڑتے تھے تمہاری عورتوں کو ، اور اس میں آزمائش تھی تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی ۔

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی صداقت اور اس سے نزول کی حکمت بیان فرمائی ، اس کتاب کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے کہ اس کتاب کے ذریعے پیغمبر خدا لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، بداخلاقی ، اور بداعمالی اندھیرے ہیں ، اس کے مقابلے میں توحید ، اخلاق ، نیکی اور اطاعت بمنزلہ روشنی کے ہیں ، پھر اللہ نے قرآن کے پروگرام کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی اور ان کے لیے عذاب کی وعید سنائی ، فرمایا یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اور دین میں کجی تلاش کرتے ہیں ، بیہودہ اعتراضات کرتے ہیں لہذا گمراہی میں دور پڑے ہوئے ہیں ۔ (رسول در زبان قوم) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے مکی سورتوں میں یہی بنیادی مسائل توحید ، رسالت ، معاد ، کفر ، شرک کی تردید وغیرہ بیان ہوئے ہیں ، جس طرح قیامت پر ایمان لانا ضروری ہے ، اسی طرح تمام انبیاء اور رسل کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے ، وحی الہی ، ملائکہ تقدیر بھی ایمانیات میں داخل ہیں ، تاہم ان آیات میں رسالت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “۔ ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول مگر اپنی قوم کی زبان میں گفتگو کرنے والا ، اللہ نے اسی کی زبان میں اسے تعلیم دی (آیت) ” لیبین لھم “۔ تاکہ ان لوگوں کے لیے وہ تمام چیزیں بیان کر دے جو ان کے لیے ضروری ہیں ، اگر وحی کسی غیر زبان میں ہوتی تو لوگوں کا اس سے استفادہ کرنا مشکل ہوجاتا ، لہذا اللہ نے ہر نبی کی قومی زبان میں وحی نازل کی ، احکام وشرائع دیے اور اسی زبان میں آگے تبلیغ کی تلقین کی ، موسیٰ (علیہ السلام) عبرانی زبان بولتے تھے ، لہذا تورات عبرانی زبان میں نازل ہوئی ، عیسیٰ (علیہ السلام) کی قومی زبان سریانی تھی تو انجیل بھی اسی زبان میں آئی حضور خاتم النبین ﷺ کو اللہ نے عربوں اور خاص طور پر قوم قریش میں مبعوث فرمایا ، آپ اسی زبان میں گفتگو کرتے تھے اور قرآن کریم قریش کی عربی زبان میں نازل ہوا۔ دوسرے مقام پر اس کی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر یہ غیر زبان میں نازل ہوتا تو لوگ اعتراض کرتے کہ ہم اسے سمجھنے سے قاصر ہیں ، مگر اللہ نے اس اعتراض کی گنجائش نہیں رکھی ، چناچہ ہر نبی نے اپنی قومی زبان میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا ، دوسرے مقام پر یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتا جب تک ان تمام باتوں کو واضح نہیں کردیا جاتا جن سے بچنا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور رسول کو اس کی قومی زبان میں مبعوث فرمایا ، جزائے عمل کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو شرائع اور احکام ٹھیک طریقے سے پہنچا دیے جائیں اور ان کی اچھی طرح وضاحت کردی جائے تاکہ کسی کے پاس عدم تبلیغ کا کوئی بہانہ نہ رہے ۔ (جزائے عمل کے اسباب) امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کے اعمال کی جزا چار اسباب کی بناء پر ہوتی ہے ، پہلا سبب یہ ہے کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس کے لیے جزائے عمل ضرور واقع ہو ، شاہ صاحب فرماتے ہیں فطرتی طور پر اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور بہمیت کے دو مادے رکھے ہیں جو ہمیشہ اس میں موجود رہیں گے حتی کہ جنت میں پہنچ کر بھی یہ مادے انسان سے علیحدہ نہیں ہوں گے ان کی تفصیل یہ ہے کہ انسانی نفس یا نسمہ کا جو رخ عالم بالا کی طرف ہے وہ ملکیت کہلاتا ہے اور جو رخ مادی جہان کی طرف ہے ، اسے بہمیت کہا جاتا ہے ملکیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان میں کمال والی باتیں پیدا ہوں جب کہ بیمیت چاہتی ہے کہ انسان من مرضی کرتا رہے ، ان دونوں مادوں کی آپس میں کشمکش ہوتی رہتی ہے انسان کا فرض ہے کہ وہ بہیمیت پر اس حد تک کنٹرول کرے کہ اسے ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھنے دے اگر بہیمیت نے اس حد کو پار کرلیا تو پھر خرابی پیدا ہو جائیگی ملکیت کمزور ہو جائیگی اور انسان حظیرۃ القدس ، جنت یا بلند مقام تک نہیں پہنچ سکے گا ، غرضیکہ ملکیت چاہتی ہے کہ اسے تقویت حاصل ہو اور بہمیت کی اصلاح ہوتی رہے اس کشمکش کے نتیجہ میں جو بھی قوت غالب آتی ہے ، اس کے مطابق جزا کا عمل ضروری ہے ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں جزائے عمل کے اسباب میں سے دوسرا سبب یہ ہے کہ اگر انسان اچھے اعمال انجام دیتا ہے تو فرشتے اس کے حق میں دعا کرتے ہیں اور اگر برے اعمال کرتا ہے تو فرشتے بددعا کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں ، تو فرشتوں کی دعا یا بدعا ضرور نتیجہ خیز ہوگی اور جزائے عمل بھی ضرورواقع ہوگا ۔ جزائے عمل کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ہر دور میں اپنے پیغمبر بھیجے ہیں اور شریعت نازل فرمائی ہے جس کی پابندی ضروری ہے ، اس شریعت یا قانون کی پابندی یا عدم پابندی کا نتیجہ برآمد ہونا بھی ضروری ہے ، ورنہ نزول شریعت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ تو اس سبب سے بھی جزائے عمل کا واقع ہونا ضروری ہے ۔ انبیاء کی بعثت جزائے عمل کا چوتھا سبب ہے ، ہر نبی اللہ کے احکام امت تک پہنچا دیتا ہے اور ان کو اچھی طرح واضح کردیتا ہے اور دین و شریعت میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں رہنے دیتا ، اس کے بعد اللہ کا واضح فرمایا ہے (آیت) ” لیھلک من ھلک عن ابینۃ ویحی من حی عن ابینۃ “۔ (انفال) اب جس شخص کو زندہ رہنا ہے وہ کھلی دلیل کے ساتھ زندہ رہے اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ کھلی دلیل کے ساتھ ہلاک ہو تو گویا انبیاء کی بعثت اور احکام وشرائع کی وضاحت کا تقاضا بھی ہے کہ انسان کے لیے جزائے عمل واقع ہو۔ (قومی وبین الاقوامی نبی) ایک بات تو واضح ہوگئی کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنی قوم کی زبان عربی میں تکلم فرماتے ہیں ، اور قرآن پاک بھی عربی زبان میں نازل ہوا تاکہ آپ کے اولین مخاطبین دین متین کو اچھی طرح سمجھ سکیں مگر دوسری طرف اللہ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے (آیت) ” قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “۔ (الاعراف) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، یہ دنیا جہاں کے لوگوں کو خطاب ہے اس سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ عربوں کی طرف مبعوث ہوئے اور وہی زبان بولتے تھے ، تو آپ کی رسالت تمام انسانوں کی طرف کیسے ثابت ہوئی ، اس اشکال کو امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی کتاب تفہیمات الہیہ میں رفع کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت دو حیثیت سے ہے اولا آپ کو قریش کی طرف بھیجا گیا ہے ، اور آپ کے ساتھ انہی کی سعادت وابستہ کی گئی ہے ، اس لحاظ سے آپ قومی نبی ہیں ، اس کے بعد اللہ نے قریش کو آلہ اور جارحہ بنا کر اپنا پیغام تمام اقوام عالم کو پہنچایا ہے ، تو اس لحاظ سے آپ بین الاقوامی نبی ہیں سورة بقرہ میں موجود ہے ، (آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر شہید کا معنی معلم اور استاد ہے اور مطلب یہ ہے کہ نبی تمہارا معلم ہے اور تم باقی اہل جہان کے لیے بمنزلہ استاد اور معلم ہو چناچہ اللہ تعالیٰ نے دین اسلام عربوں ہی کے ذریعہ ساری دنیا میں پھیلایا ، تاہم اولا حضور ﷺ کو عربوں کی طرف ہی مبعوث کیا گیا تھا ، حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے ” الناس تبع لقریش فی الخیر والشر “۔ نیکی اور بدی میں سارے لوگ قریش ہی کے تابع ہیں ، جاہلیت کے زمانے میں بھی قریش کو باقی عربوں پر فوقیت حاصل تھی اور اسلام آنے کے بعد بھی تمام اقوام کے مقابلے میں قریش ہی کو برتری حاصل ہوئی ، بہرحال قریش کے واسطہ سے آپ بین الاقوامی نبی ہیں ۔ (مسلمانوں کا عروج زوال) امت مسلہ کی خلافت کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب تک قریش میں دو باصلاحیت آدمی بھی موجود ہیں ، خلافت کا سلسلہ انہیں میں رہیگا چناچہ تاریخ گواہ ہے کہ ابتدائے زمانہ سے لے کر ساڑھے چھ سو سال تک خلافت قریش میں ہی رہی ، پھر جب مسلمانوں میں کمزوری آگئی تو خلافت سلجوقیوں کو منتقل ہوگئی پھر ترکوں کے پاس چلی گئی اور پھر آخر میں یہ سلسلہ ہی ختم ہوگیا ، اس وقت دنیا میں مسلمانوں کو چھوٹی چھوٹی باون ریاستیں ہیں مگر سب اغیار کی دست نگر ہیں غیر مسلم اقوام نے مسلمانوں کی اجتماعیت سے خائف ہو کر خلافت کا ہمہ گیر تصور ہی ختم کردیا ہے ، اب مسلمانوں کو اس طرح تقسیم کردیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کو نہ پہنچ سکیں ، اب ان کی اپنی کوئی سیاست نہیں ، نیم غلامانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ، پوری دنیا میں کفار کو غلبہ حاصل ہے ان میں یا تو مذہبی کافر عیسائی ہیں یا پھر دہرئیے کافر اشتراکی ہیں ، آدھی دنیا پر ایک طاقت چھائی ہوئی ہے جب کہ باقی نصف دنیا دوسری طاقت کے تسلط میں ہے ۔ فرمایا ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ ان کو ہر چیز کی وضاحت کر دے پیغمبر کی طرف سے حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد (آیت) ” فیضل اللہ من یشآئ “۔ گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ، جو کفر ، شرک اور نفاق پر اصرار کرتا ہے اس کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی ، بلکہ وہ گمراہی میں پڑا رہتا ہے (آیت) ” ویھدی من یشآء “۔ اور ہدایت دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے جو ایمان کو قبول کرلیتا ہے اسے ہدایت نصیب ہوجاتی ہے ۔ (آیت) ” وھو العزیز الحکیم “۔ اور خدا تعالیٰ کمال قدرت کا مالک بھی ہے اور کمال حکمت کا مالک بھی ، اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کے متعلق بنیادی اصول بیان کردیا ہے ۔ (موسی (علیہ السلام) کی بعثت) رسالت کا بحیثیت مجموعی ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بطور مثال بیان فرمایا ہے (آیت) ” ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا “ اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ نشانیوں سے مراد معجزات ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو عصا اور یدبیضا وغیرہ نو معجزات عطا فرمائے تھے جن کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور قبطی دو قوموں کی طرف مبعوث فرمایا تھا ، قبطیوں نے تو آپ کی رسالت کو تسلیم نہ کیا جس کی پاداش میں وہ تباہ وبرباد ہوئے بنی اسرائیل آپ پر ایمان لائے تو اللہ نے انہیں فرعونیوں کے ظلم وستم سے نجات دے کر ان پر طرح طرح کے انعام بھی فرمائے ، اور یہ سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا رہا ، بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبی مبعوث فرما کر حکم دیا (آیت) ” ان اخرج قومک من الظلمت الی النور “۔ کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، ہر نبی کا یہی کام ہوتا ہے ، سورة کی ابتدائی آیت میں خود حضور خاتم النبین ﷺ کو بھی یہی حکم ہوا کہ ہم نے یہ کتاب آپ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ نے یہی حکم دیا کہ قوم کو کفر ، شرک اور معاصی کے اندھیروں سے نکال کر ایمان اور توحید کی روشنی میں لے آئیں ۔ ّ (تذکیر بایام اللہ) اور ساتھ یہ بھی حکم دیا (آیت) ” وذکرھم بایم اللہ “۔ آپ ان کو اللہ کے دن یاد دلائیں ، ایام اللہ سے وہ تاریخی واقعات مراد ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بعض قوموں پر انعام فرمائے اور بعض کو سزائیں دیں ، بعض قومیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو تسلیم کرکے اور ان پر عمل پیرا ہو کر کامیاب ہوئیں اور بعض انکار کر کے طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوئیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ علوم قرآن پانچ اقسام سے ہیں ، پہلی قسم علم احکام ہے جس کے ذریعے فرائض ، سنت ، واجبات ، حلال ، حرام ، اور مباح وغیرہ کا پتہ چلتا ہے ، دوسری قسم علم مناظرہ ہے جس کے ذریعہ چار فرقوں یعنی کافر ومشرک ، یہود نصاری اور منافقین سے بحث مباحثہ کیا جاتا ہے ، اس علم کے ذریعہ ان فرقوں کا رد مطلوب ہوتا ہے ، علوم قرآن کی تیسری قسم علم تذکیربما بعد الموت ہے ، موت اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کا تذکرہ اس حصہ علوم میں کیا گیا ہے تاکہ لوگ ان واقعات سے عبرت حاصل کریں اور محاسبہ اعمال کے لیے تیاری کریں ، علوم قرآن کی چوتھی قسم تذکیر بالاء اللہ ہے اس حصہ میں اللہ نے اپنی نشانیوں کا تذکرہ کر کے انسان کو یاددہانی کرائی ہے کہ وہ ان میں غور وفکر کرے ، عجائبات قدرت کا مشاہدہ کرے اور پھر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے قرآن کے علوم کی پانچویں قسم تذکری بایام اللہ ہے جس کا ذکر اس آیت مبارکہ میں کیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوام پر گزرنے والے واقعات بیان کر کے انسان کو عبرت دلائی ہے تاکہ وہ اپنی کمزوریوں پر نظر رکھے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے ، اللہ نے قوم عاد ، ثمود ، قوم لوط ، قوم نوح وغیرہ کے حالات مختلف مقامات پر ذکر کیے ہیں ، صرف قوم فرعون کا واقعہ قرآن پاک میں چھیالیس مرتبہ سے زیادہ ذکر ہوا ہے کیونکہ محض علم کے لیے کسی واقعہ کو ایک ہی دفعہ بیان کردینا کافی نہیں بلکہ بار بار یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے ، تاکہ متعلقہ بات لوگوں کے اذہان میں اچھی طرح جم جائے اور وہ نصیحت حاصل کرسکیں ۔ فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور “۔ بیشک ان تاریخی واقعات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو صبر کرتے ہیں ، مصائب میں صبر اور برداشت سے کام لیتے ہیں ، اپنے آپ پر کنٹرول کرتے ہیں اور جب کوئی نعمت میسر آتی ہے ، تو اس کی قدر کرتے ہیں ، اس کو برمحل صرف کرتے ہیں ، اور پھر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہوتے ہیں ۔ (فرعونوں سے نجات) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے میں ہی فرمایا (آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ اذکروا نعمۃ اللہ علیکم “۔ جب کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہ اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی ، اللہ کا احسان یہ تھا (آیت) ” اذانجکم من ال فرعون “۔ کہ اس نے تمہیں نجات دی فرعون والوں سے ، اور فرعونیوں کی کارگزاری یہ تھی (آیت) ” یسومونکم سوء العذاب “۔ وہ تم کو پہنچاتے تھے برا عذاب تمہیں غلامی میں مبتلا کر رکھا تھا جو کہ بدترین عذاب ہے ، غلامی ایک غیر فطری چیز ہے غلام بےضمیر ہوتا ہے اور اس کی کوئی رائے نہیں ہوتی ، غلامی اور آزادی کا مسئلہ اللہ تعالیٰ نے آمدہ سورة النحل میں بیان فرمایا ہے ۔ فرعونیوں کے عذاب کی تفصیل یہ ہے (آیت) ” ویذبحون ابنآء کم “۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرتے تھے ، تفسیر روایات میں آتا ہے کہ فرعون نے نوے ہزار بنی اسرائیل بچے قتل کروائے ، مگر اللہ کی حکمت میں جو بات ہونے والی تھی وہ ہو کر رہی اور اتنا عظیم ظلم بھی اسے روک نہ سکا ، فرمایا لڑکوں کو قتل کرتے تھے (آیت) ” ویستحیون نسآء کم “ اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے تاکہ لونڈیاں بن کر ان کی خدمت کریں انہیں خطرہ صرف مردوں سے تھا کہ ان کی سلطنت نہ چھین لیں ، چناچہ فرعون کی پویس تعاقب میں رہتی تھی اور بچہ پیدا ہوتے ہی والدین کے سامنے ذبح کردیا جاتا تھا ۔ فرمایا وفی ذلکم بلآء من ربکم عظیم “۔ اس میں تمہارے لیے بہت بڑی آزمائش تھی سورة اعراف میں ہے بنی اسرائیل نے بڑا صبر کیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس ظالم دشمن کو صفحہ ہستی سے ناپید کردیا اور زمین میں اقتدار بھی بنی اسرائیل کو عطا فرمایا یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ یہ بات قوم کو یاد دلائیں تاکہ وہ اس نعمت کی قدر کریں ۔ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، جب یہ نعمت حاصل ہوجائے تو پھر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے وہی کام کرنے چاہئیں جو آزاد لوگوں کے شایان شان میں ، جھگڑا ، فساد لڑائی ، فرقہ واریت غلامی کے اثرات ہیں جب کہ آزاد قوموں کو اخلاق وکردار بہت بلند ہوتا ہے آزاد لوگوں میں مساوات اور عدل و انصاف کا دوردورہ ہونا چاہئے نیکی اور طہارت ہونی چاہئے ، رسومات باطلہ کو ختم کردینا چاہئے ہم میں انگریز کی غلامی کے اثرات ابھی تک موجود ہیں ، نامعلوم یہ کب ختم ہوں گے ، جب تک غلامی کے اثرات ختم نہیں ہوتے ، قوم عزت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی ، حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آزادی کی قدر ہی نہیں کی ، ورنہ ہمیں اقوام عالم میں بلند مقام حاصل ہوتا ۔
Ayahs 14:7–9

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ Open ayah 14:7 in the Quran reader

اور جب خبردار کیا تمہارے پروردگار نے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور زیادہ دوں گا تمہیں ، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو بیشک میرا عذاب بہت سخت ہے ۔

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 14:8 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے ، اگر تم کفر کرو گے ، تم اور جو بھی زمین میں ہیں اور سب کے سب ، تو بیشک اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تعریفوں والا ہے ۔

اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فِیْۤ اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 14:9 in the Quran reader

کیا نہیں آئی خبر تمہارے پاس اب لوگوں کی جو تم سے پہلے گزرے ہیں ، قوم نوح ، عاد اور ثمود ، اور وہ لوگ جو ان کے بعد آئے ، نہیں جانتا ان کو کوئی بھی سوائے اللہ تعالیٰ کے ، آئے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر پس لوٹائے انہوں نے ان کے ہاتھ ان کے مونہوں میں اور کہنے لگے بیشک ہم انکار کرتے ہیں اس چیز کا جس کو تم لے کر آئے ہو اور بیشک البتہ ہم شک میں ہیں اس چیز سے جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ، تردد انگیز شک میں ۔

(ربط آیات) اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کریم کی حقانیت کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا پہلے فرمایا کہ ہر نبی اور رسول اپنی قوم کی زبان میں مبعوث ہوتا ہے اور اسی زبان میں قوم کو خطاب کرتا ہے تاکہ کسی کا کوئی اشتباہ باقی نہ رہے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بطور خاص ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنا کر بھیجا اور انہوں نے لوگوں سے خطاب کرکے کہا کہ مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤں اور وہ تاریخی واقعات یاد دلاؤں جو باعث عبرت ونصیحت ہیں ، اللہ نے صبر اور شکر کرنے والوں کا ذکر کیا ، پھر بنی اسرائیل پر کیے گئے انعامات کا تذکرہ کیا کہ انہیں فرعون کی غلامی سے نجات دے کر صاحب اقتدار بنایا اور شریعت عطا فرمائی ۔ (مقام شکر) آج کی آیات بھی سابقہ آیات سے بسلسلہ شکر ہی مربوط ہیں ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا (آیت) ” واذ تاذن ربکم “۔ اور جب تمہارے پروردگار نے خبردار کیا (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “ اگر تم میرے انعامات کا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا ، گزشتہ آیت میں تھا کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں اور اب فرمایا کہ انعام پا کر اگر شکر گزاری کرو گے تو میں اس انعام میں مزید اضافہ کر دوں گا ، یہاں پر لام تاکیدی ہے اور ن ثقیلہ ہے یہ دونوں حروف عربی زبان میں تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یقین دلایا کہ شکر ادا کرنے کی صورت میں تمہیں ضرور برضرور زیادہ دونگا ، اس کسی قسم کا شک یا تردد نہیں ہونا چاہئیے ، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں جسمانی روحانی ، دنیوی ، اخروی ، اندرونی ، اور بیرونی ہر قسم کی نعمتیں شامل ہیں ، انسان کا ایک ایک بال خدا تعالیٰ کی نعمتوں میں گھرا ہوا ہے مگر ان میں سے کسی نعمت کا کما حقہ شکریہ ادا کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ، مگر اللہ تعالیٰ کا یہ مزید انعام ہے کہ وہ انسان کے تھوڑے سے شکریہ پر راضی ہوجاتا ہے ، وگرنہ اس کے انعامات کے متعلق تو خود اس کا اپنا ارشاد ہے کہ (آیت) ” وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا “ (ابراہیم) اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار ہی نہیں کرسکتے چہ جائیکہ ان سب کا شکر ادا کرسکو ، بہرحال اللہ تعالیٰ تھوڑی سی شکر گزاری پر بھی خوش ہوجاتا ہے اور انسان کو مزید انعام واکرام سے نوازتا ہے ، (انسان پر انعامات الہیہ) سعدی صاحب (رح) نے اپنی کتاب گلستان کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ہر ایک سانس کے ذریعے انسان کو اللہ کی دو نعمتیں میسر آتی ہیں جب انسان سانس کو باہر نکالتا ہے تو اس کے ذریعے جسم کے غلیظ بخارات خارج ہو کر انسان کے لیے آرام و راحت کا سبب بنتے ہیں اور جب سانس انسانی جسم کے اندر جاتا ہے تو باہر کی نسیم طیب (آکسیجن) اس کے جسم میں داخل ہو کر ممدحیات بنتی ہے ، امام ابن قیم (رح) فرماتے ہیں کہ ہر انسان چوبیس گھنٹے میں کم وبیش چوبیس ہزار سانس لیتا ہے ، انسان تو ایک سانس کا شکریہ بھی ادا نہیں کرسکتا چہ جائیکہ باقی لاکھوں اور کروڑوں انعامات الہیہ کی شکر گزاری کرے ، انسان کے ایک ایک بال میں بیشمار انعامات ہیں ، ایک گلاس پانی جو انسان پیتا ہے اس میں اللہ کی کروڑوں نعمتیں شامل ہیں جس کے نتیجے میں یہ پانی انسان کے لبوں تک پہنچتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ رحیم وکریم ہے ، وہ تھوڑے سے شکریہ پر بھی راضی ہوجاتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے ” ان العبد اذا یا کل الاکل اویشرب شربا “۔ جب کوئی بندہ کھانا کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے اور پھر ” الحمد للہ “ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرا بندہ میری نعمت کا شکر ادا کر رہا ہے ، مگر کروڑوں انسان ہیں جو ہر وقت اللہ کی نعمتوں سے مستفید ہوتے رہتے ہیں مگر اس ذات کا شکر ادا نہیں کرتے ، انسان کی صحت کو ہی دیکھ لیں ، عافیت اور سلامتی کو دیکھیں یہ عظیم نعمتیں ہیں جن کی انسان قدر نہیں کرتا ، ان کی قدر اس وقت معلوم ہوتی ہے جب ان میں سے کوئی چیز زائل ہوجائے ۔ حدیث شریف ۔ 1 (ترمذی ص 346) میں آتا ہے جس شخص کی آنکھیں ضائع ہوجائیں اور وہ اس پر صبر کرے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس کی دو عزت والی چیزیں اٹھا لیں ، اس نے صبر کیا ، اب میں اسے جنت میں پہنچائے بغیر کسی چیز پر راضی نہ ہوں گا ، شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کا شکر ادا کرتا رہے اور ناشکری کا کوئی کلمہ اپنی زبان پر نہ لائے ، حضور ﷺ نے دعا ۔ 2 ( ترمذی ص 517 وابن ماجہ ص 272 وابن کثیر 167 ج 3) سکھلائی ہے ” الحمد للہ علی کل حال واعوذ باللہ من حال اھل نار “۔ ہر حالت میں اللہ رب العزت کا شکر ہے اور میں اہل دوزخ کے حال سے پناہ چاہتا ہوں ، غرضیکہ انسان کی سلامتی ، سماعت اور قوت شامہ وغیرہ ایسی نعمتیں ہیں کہ انسان کسی ایک کا بھی شکریہ ادا نہیں کرسکتا ، انسان کی عافیت کے متعلق مسند احمد کی روایت میں آتا ہے ” ما اوتی نعمۃ بعد الایمان مثل العافیۃ “۔ ایمان کے بعد کسی کو عافیت جیسی عظیم نعمت میسر نہیں ، مگر کوئی شخص اس کی قدر نہیں کرتا ، جسمانی اور مادی نعمتوں کے علاوہ اللہ نے انسان کو علم جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص کو سورة اخلاص یاد تھی حضور ﷺ نے اس سے فرمایا ، تم اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو ، اگر تمہارے پاس مال و دولت نہیں تو کوئی بات نہیں تمہیں تو سورة اخلاص جیسی عظیم نعمت حاصل ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے ” نعم الالہ علی العباد کثیر واجلھم نجابۃ الاولاد “۔ یعنی لوگوں کو اللہ کی بہت سی نعمتیں میسر ہیں اور ان میں سے بڑی نعمت یہ ہے کہ کسی کو فرمانبردار اولاد نصیب ہوجائے ، غرضیکہ ہر غریب و امیر کو لاتعداد نعمتیں حاصل ہیں اور ہر شخص پر ان کا شکر ادا کرنا واجب ہے ۔ غرضیکہ علم ، دولت ، صحت ، اولاد اور پھر قدرتی انعام میں ہوا روشنی پانی گرمی اور سردی ، بارش ایسی نعمتیں ہیں جو اللہ نے بالکل فری عطا کر رکھی ہیں ، اللہ تعالیٰ کا انتظام یہ ہے کہ جن چیزوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے ان کو فری رکھا گیا ہے ، کھانے کے لیے توتگ ودو کرنا پڑتی ہے مگر یہ چیزیں ایسی ہیں جو مفت حاصل ہوجاتی ہیں مگر پھر بھی انسان شکر ادا نہیں کرتے ، انسان اپنے اعمال سے پانی کے ایک قطرے کی قیمت ادا نہیں کرسکتا ۔ (نعمت کا صحیح استعمال) بہرحال انسان کا فرض ہے کہ اسے نعمت میسر آئے تو زبان سے اللہ کا شکریہ ادا کرے اور شکریے کی ایک دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ نے جو نعمت جس مقصد کے لیے عطا کی ہے اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے ، اگر کوئی شخص نعمت کو برمحل استعمال نہیں کرنا تو یہ ناشکری کے مترادف ہوگا ، اللہ نے کانوں جیسی نعمت دی ہے ، تو ان سے اچھی باتیں سنو ، مواعظ حسنہ کی سماعت کرو ، تلاوت قرآن پاک سنو ، اگر ان کانوں سے بیہودہ گانے اور لچر باتیں سنو گے تو یہ ناشکری ہوگی ، ظاہری قواء اور جوارح ہاتھ ، پاؤں ، آنکھیں اور دماغ ہیں ، ان کا صحیح استعمال کرو گے ، تو شکر ادا ہوگا اور غلط استعمال کرو گے تو ناشکری ہوگی ، خدا نے قوت دی ہے حکومت دی ہے تو مخلوق خدا کی خدمت بجا لاؤ نہ کہ لوگوں پر ظلم کرو ، ناتوانوں کو تنگ کرو اور ضعیفوں کے مال غصب کرو ، اللہ نے مال دیا ہے تو بخل نہ کرو ، اس کی زکوۃ ادا کرو ، مستحقین کی اعانت کرو ، عدل و انصاف کو قائم کرو ، اللہ نے علم دیا ہے تو اس کو دوسروں تک پھیلاؤ یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں اور ان کا صحیح استعمال کرنے سے ان میں اضافہ ہوگا اور غلط استعمال آخرت میں وبال جان بن جائے گا ۔ (شکر بمقابلہ ناشکری) اللہ نے فرمایا کہ اگر میرا شکر ادا کرو گے تو مزید دوں گا (آیت) ” ولئن کفرتم “ اور اگر ناشکر گزاری کرو گے (آیت) ” ان عذابی لشدید “۔ تو میری گرفت بھی بہت سخت ہے ، یہاں پر کفر سے مراد کفران نعمت ہے کیونکہ یہ شکر کے مقابلے میں آیا ہے ، عام طور پر کفر ایمان کے مقابلے میں آتا ہے جس کا مطلب اللہ کی وحدانیت رسولوں کی رسالت ، معاد ، اور تقدیر وغیرہ کا انکار ہوتا ہے ، تاہم یہاں پر کفران نعمت مراد ہے یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر ناقابل اعتبار نہیں کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا ، اس وقت حضور کے پاس کھجور کا ایک دانہ تھا آپ نے وہی عطا فرما دیا ، اس شخص نے اسے قبول نہ کیا کہ ایسی معمولی چیز سے اس کی ضرورت پوری نہیں ہوگی ۔ اس شخص نے گویا کفران نعمت کیا ، اتنے میں ایک دوسرا سائل حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے اسے بھی کھجور کا ایک دانہ عطا فرمایا ، اس نے الحمد للہ کہہ کر وہ دانہ حضور ﷺ کے دست مبارک سے لے لیا ، آپ بڑے خوش ہوئے اور اپنے ایک آدمی کو بھیجا کہ ام سلمہ ؓ کے پاس جو چالیس درہم رکھے ہیں وہ اس سائل کو دے دیں ، کیونکہ یہ شخص شکر گزار ہے مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے شکر ادا کیا اس کو مزید مل گیا ، اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا ، اس وقت آپ کے پاس اور تو کچھ نہیں تھا ، آپ نے پانی دم کر کے دیدیا وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اس پانی سے کون سی ضرورت پوری کریں گے کوئی روپیہ پیسہ ‘ غلہ وغیرہ مل جاتا تو ہمارا کچھ وقت گزر جاتا ، اتنے میں حضرت ابو موسیٰ اور آپ کے خاندان کے کچھ لوگ حاضر خدمت ہوئے اور انہوں نے بھی سوال کیا ، آپ نے فرمایا کہ فلاں لوگوں نے تو یہ پانی قبول نہ کیا تم ہی لے لو ، انہوں نے بصد شکریہ وہ پانی قبول کیا ، اس کو پیا اور جسم پر چھڑکا کہ یہ حضور کے دست مبارک سے عطا کردہ متبرک پانی ہے پیچھے خیمے میں حضرت ام سلمہ ؓ تشریف فرما تھیں ، انہوں نے کہا کہ اس پانی میں سے کچھ حصہ میرے لیے بھی رہنے دیا جائے ، بہرحال حضور ﷺ نے یہ پانی قبول کرنے والوں کو خیر و برکت کی خوشخبری بھی سنائی ، روزہ مرہ مشاہدہ میں آتا ہے ، ہم ہزاروں نعمتیں ہر وقت استعمال کرتے ہیں مگر الحمد للہ کہنے والے کتنے لوگ ہیں ؟ سورة سبا میں ، اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” وقلیل من عبادی الشکور “۔ (سبا) میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں اور اکثر لوگ ناشکر گزار ہی ہیں ، نہ تو زبان سے شکر ادا کرتے ہیں اور نہ عملی طور پر حق شکر ادا کرتے ہیں ، آگے اسی سورة میں آرہا ہے (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “۔ بیشک اکثر انسان بہت ظالم اور ناشکر گزار ہیں ۔ (ناشکری کی سزا) اللہ نے فرمایا اگر شکر ادا کرو گے تو میں مزید دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میری سزا بھی بڑی سخت ہے ، اللہ تعالیٰ کی سزا کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں ، بعض اوقات لوگوں پر سخت حاکم مقرر کردیتا ہے جو انہیں ہر وقت سزا میں مبتلا رکھتے ہیں آج مسلمان ساری دنیا میں ناشکر گزاری کی سزا بھگت رہے ہیں ، روس جیسی ظالم طاقت کا مسلمانوں کے علاقوں پر قابض ہونا سزا ہی تو ہے بلخ ، بخاری ، تاشقند اور کابل وغیرہ اسلامی ریاستیں تھیں جنہیں روس پامال کر رہا ہے ۔ 1 (اب 1991 ء سے روسی ریاستیں آزاد ہیں) مسلمانوں نے نہ تو مال و دولت کی قدر کی اور نہ ہی سلطنت کی ، یہ صرف چودھراہٹ کے لیے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہے افغانستان میں ظاہر شاہ نے کیا کیا تیس پنتیس سال برباد کردیے اس کے بعد آنے والے بھی ایک دوسرے کی ٹانگیں ہی کھینچتے رہے ، نہ خدا کا قانون جاری کیا اور نہ ہی مخلوق خدا کی خدمت کی ، اس کے نتیجے میں روس مسلط ہوگیا ، اور لاکھوں افغانی خانہ جنگی میں شہید ہوچکے ہیں ، یہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری نہیں تو اور کیا ہے ؟ ہمیں پاکستان پر بڑا فخر تھا کہ 13 کروڑ مسلمانوں کی سب سے بڑی ریاست ہے اغیار سمجھتے تھے کہ اتنی بڑی جمعیت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ، لہذا انہوں نے اس کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ، اب اس کا نام بھی ہندوانہ ہے بنگلہ دیش ، اسلامی جمہوریہ کا نام ہی ختم ہوچکا ہے ناشکری کا یہی نتیجہ ہوتا ہے ، اللہ نے دستور کے طور پر بتلا دیا کہ اگر شکر گزاری کروگے تو مزید دوں گا اور اگر ناقدری کرو گے تو سخت عذاب میں مبتلا کروں گا ، نہ دین رہے گا اور نہ دنیا ، بےآبرو ہو کر رہ جاؤ گے ۔ (خدا تعالیٰ کی بےنیازی) فرمایا (آیت) ” وقال موسیٰ “ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا (آیت) ” ان تکفروا انتم ومن فی الارض جمیعا “۔ اگر تم اور سارے اہل زمین مل کر بھی کفر کرو گے تو خدا تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے (آیت) ” فان اللہ لغنی حمید “۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے اور تعریفوں والا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے روئے زمین کے رہنے والے انسانو ! اگر تم میں سے اول آخر ، جن ، انسان سب مل کر ایک متقی آدمی کے دل کی طرح بن جائیں ، تو میری سلطنت میں ایک تنکا ، برابر بھی اضافہ نہیں کرسکتے ، اور اگر سب کے سب ایک بدترین آدمی کے دل کی طرح بن جاؤ ، تو میری سلطنت میں ایک تنکا بھر بھی بگاڑ پیدا نہیں کرسکتے ، خدا تعالیٰ تو ہر حالت میں بےنیاز اور تعریفوں والا ہے ، اگر ناشکری کرو گے تو خود ہی تباہی کے مستحق بنو گے ، تمہاری سلطنت ، سوسائٹی ، اجتماعیت ، تجارت ، سیاست ، معیشت ، غرضیکہ ہر چیز میں تباہی آئے گی اور اس کا نتیجہ تمہیں بھگتنا پڑے گا ۔ (سابقہ اقوام کا حشر) اگلی آیت میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے کلام پر مشتمل سمجھنی چاہئے آپ نے یاد دہانی کے لیے قوم سے فرمایا (آیت) ” الم یاتکم نبؤا الذین من قبلکم “۔ کیا تمہارے پاس نہیں آئی خبر ان لوگوں کی جو تم سے پہلے گزرے ہیں ، انہوں نے خدا کی نعمتوں کی ناقدری کی تو ان کا کیا حشر ہوا فرمایا وہ لوگ کون ہیں (آیت) ” قوم نوح وعاد وثمود “۔ وہ قوم نوح ، عاد اور ثمود کے لوگ تھے ، قوم نوح کا حال سورة ہود میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے ، اللہ نے اپنے نبی کے ذریعے ایمان اور توحید کا پیغام بھیجا ، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان تھا ، مگر قوم نے اس کی ناقدری کی تو اس کے نتیجے میں غرق ہوگئے ، قوم عاد کے لوگوں کو اللہ نے بڑی جسمانی طاقت عطا کر رکھی تھی مگر یہ قوم کفر ، شرک ، سرکشی اور تکبر میں مبتلا تھی ، قوم ثمود کے سترہ سو شہر اور بستیاں تھیں ، یہ بڑے صناع اور کاریگر تھے ، ان کے باغات تھے ، انڈسٹری تھی ، ان کے پہاڑوں کو کاٹ کر بنائے گئے مکانات لوگ آج بھی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں ، ان اقوام کی تباہی کے حالات بھی سورة اعراف ، سورة یونس اور سورة ہود میں گزر چکے ہیں اللہ نے قوم عاد کو نرم ترین چیز ہوا کے ذریعہ تباہ کیا اور قوم ثمود کو چیخ اور زلزلے نے دبوچ لیا ، ان لوگوں نے بھی اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کی اور برے انجام کو پہنچے ، فرمایا ان کے علاوہ (آیت) ” والذین من بعدھم “۔ اور وہ لوگ اور اقوام بھی جو مذکورہ بالا قوم نوح ، عاد اور ثمود کے بعد آئے (آیت) ” لا یعلمھم الا اللہ “۔ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ تھے ، ان کی شخصیت کیسی تھی اور ان کے مراتب کیسے تھے یہ پوری تفصیل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، بعض اقوام کے اجمالی حالات کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے مگر تفصیلی حالات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، چناچہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ یہ آیت پڑھ کر فرماتے تھے ” کذبت نسابون “۔ نسب نامے بیان کرنے والے جھوٹے ہیں ، بعض لوگ اپنا نسب نامہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ تواتر کے ساتھ ملاتے ہیں مگر ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ درمیان میں بعض اقوام ایسی گزر چکی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا حضور ﷺ بھی اپنا نسب نامہ عدنان سے آگے نہیں لے جاتے تھے ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ عدنان سے لے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک کم از کم تیس قرن یا تیس نسلوں کا فاصلہ ہے جن کے تفصیلی حالات کوئی نہیں جانتا ، لہذا اگر کوئی شخص اپنا نسب نامہ ٹھیک ٹھیک آدم (علیہ السلام) تک پہنچانے کا دعوی کرتا ہے تو اس کی بات میں صداقت نہیں ہوگی ، امام مالک (رح) اس بات کو مکروہ خیال کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنا نسب نامہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک پہنچائے کیونکہ اللہ نے پوری تفصیلات کسی کو نہیں بتائیں اور نہ ہی تاریخ نے ان واقعات کو پوری طرح محفوظ کیا ہے ، بہرحال فرمایا ، کیا ان اقوام کے حالات آپ تک نہیں پہنچے کہ ان کا کیا حشر ہوا ؟ (انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سے سلوک) فرمایا (آیت) ” جآء تھم رسلھم بالبینت “۔ پس آئے ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر (آیت) ” فردوا ایدیھم فی افواھھم “۔ پس لوٹائے انہوں نے ان کے ہاتھ ان کے مونہوں میں اس فعل کو کئی صورتوں پر محمول کیا جاسکتا ہے ، اس کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نافرمان لوگوں نے اپنے نبیوں کے ہاتھ انہی کے منہ میں ٹھونس دیے تاکہ وہ خاموش رہیں اور فریضہ تبلیغ ادا نہ کرسکیں۔ جب کسی کی زیادہ تحقیر مقصود ہوتی ہے تو پھر اسی قسم کا عمل کیا جاتا ہے کہ کسی کا ہاتھ پکڑ کر اس کے منہ پر رکھ دیا جائے کہ خاموش رہو ، ہم تماہری بات نہیں سننا چاہتے ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں نے خود اپنے ہاتھ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے منہ پر رکھ کر ان کو خاموش کرانے کی کوشش کی ہو ایک تیسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان لوگوں نے خود اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں ڈال لیے اور ایسا کرنا دو وجوہ سے ہو سکتا ہے بعض اوقات نہایت غصے کی حالت میں کوئی شخص اپنے ہاتھ اپنے ہی منہ میں ڈال کر چباتا ہے ، منافقوں اور کافروں کے متعلق آتا ہے (آیت) ” واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ “۔ (آل عمران) وہ اپنی انگلیاں غصے کی وجہ سے چباتے تھے کہ مسلمان کیوں کامیاب ہو رہے ہیں ، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان افسوس اور حسرت کی بنا پر اپنے منہ میں انگلی ڈال لیتا ہے یہ بھی درست ہے اور امام شاہ ولی اللہ اسی معنی کو ترجیح دیتے ہیں ، تاہم اس مقام پر مذکورہ سارے معنے ہی درست ہیں ۔ (خدائی پروگرام کا انکار) بالآخر ان نافرمان قوموں نے خدائی پروگرام کا صریحا انکار کردیا (آیت) ” وقالوا “۔ اور کہنے لگے (آیت) ” انا کفرنا بما ارسلتم بہ “۔ ہم اس چیز کا انکار کرتے ہیں جو تمہیں دے کر بھیجا گیا ہے ، تمہارا عقیدہ ، شریعت اور لائحہ عمل ہمیں ہرگز منظور نہیں ، ہم نے تمہاری توحید کو مانتے ہیں نہ رسالت کو اور نہ معاد کو (آیت) ” وانا لفی شک مما تدعوننا الیہ مریب “۔ جس چیز کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ، ہمیں اس میں ترددانگیز شک ہے ، ہمیں تمہاری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا جن پرانی اقوام کا ذکر اللہ نے اس آیت میں کیا ہے انہوں نے اپنے اپنے انبیاء کو اس قسم کا جواب دیا کہ ان کے پورے پروگرام کا ہی انکار کردیا ، تاکہ اللہ کے نبی انہیں اس پروگرام کی طرف بار بار دعوت دینا بند کردیں ، یہ ان اقوام کے لوگوں کی بات بیان ہوئی ہے ، اب اگلی آیات میں اللہ کے نبیوں کا ذکر ہو رہا ہے ۔