14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 14:28–31

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنہوں نے تبدیل کیا اللہ کی نعمت کو کفر کے ساتھ ، اور اتار اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر ۔

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

جہنم میں ، جس میں داخل ہوں گے وہ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے ۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور ٹھہرائے انہوں نے اللہ کے لیے شریک تاکہ گمراہ کریں وہ اس کے راستے سے (اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے کہ فائدہ اٹھا لو پس بیشک تمہارا لوٹنا دوزخ کی طرف ہے ۔

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے میرے بندوں سے جو ایمان لائے کہ وہ قائم کریں نماز اور خرچ کریں اس میں سے جو ہم نے ان کو رزق دیا ہے پوشیدہ طور پر اور ظاہر طور پر پہلے اس کے کہ آجائے ایسا دن کہ جس میں نہ سوداگری ہوگی اور نہ دوستی ۔

(ربط آیات) سب سے پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان ہوئی پھر قیامت کا ذکر آیا ، اس کے بعد رسالت کا تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا پھر اللہ نے ایمان اور کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ بیان فرمائی اور کفر وشرک کے کلمے کو ناپاک اور بدذائقہ درخت کے ساتھ تشبیہ دی ، پھر اللہ نے اہل ایمان کے ثابت قدم رہنے کی بات کی کہ اللہ تعالیٰ اسی پاک کلمے کے ساتھ اہل ایمان کو اس دنیا میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور مرنے کے بعد قبر میں اور پھر حشر میں بھی ثابت قدمی عطا فرمائے گا ، اب آج کی آیات میں اللہ نے کفر اور شرک کرنے والوں کا شکوہ بیان کیا ہے اور ان کے شرک کی تردید کی ہے ، ساتھ ساتھ ایمان والوں کو ترغیب بھی دی ہے کہ وہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے رہیں ، ان میں دو اصولوں کا خاص طور پر ذکر ہے جن پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔ (کفران نعمت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم ترالی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا “ ۔ اے مخاطب ! کیا تو نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا یعنی تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا ، جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری کے ساتھ تبدیل کردیا ، ان کے لیے لازم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرتے مگر انہوں نے ناشکری اور ناقدر دانی کا شیوہ اختیار کیا ، پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ (آیت) ” واحلوا قومھم دارا البوار “۔ اپنی قوم اور برادری کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم میں اتار دیا ، وہ خود تو راہ راست سے ہٹ چکے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بھی بنے اور انہیں بھی اپنے ساتھ جہنم میں لے گئے ، اس سوال کے جواب میں کہ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے کفران نعمت کیا ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے قریش مکہ مراد ہیں ، جو قرآن پاک کے اولین مخاطبین ہیں ، یہی لوگ قرآن پاک کی مخالفت اور کفر وشرک کی حمایت میں پیش پیش تھے ، پھر ان کے بعد سارے عرب تھے جو کفر وشرک کے پروگرام کو ہی غالب کرنا چاہتے تھے ، حضرت علی ؓ نے بھی اس سے قریش مکہ ہی مراد لیے ہیں ۔ (انعامات الہی) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بیشمار نعمتیں نازل فرمائی ہیں اگلی آیت میں آرہا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کوئی انہیں شمار کرنے پر بھی قدرت نہیں رکھتا ، چہ جائیکہ ہر ایک کی تفصیل معلوم ہو ، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی نعمت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور جس کی لوگوں نے قدر نہیں کی ، مفسرین کرام نے اس کی بہت سی توجہیات کی ہیں ، بعض فرماتے ہیں کہ اس نعمت سے اللہ کا عظیم المرتب رسول مراد ہے ، اس کا ذکر اگلی سورة میں آئے گا وہاں نعمت کے ساتھ رسول کی تصریح موجود ہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے مگر قریش مکہ نے ان دونوں نعمتوں کی قدر نہ کی ، اللہ کی ایک اور بڑی نعمت یہ تھی کہ اس نے قریش مکہ کو خانہ کعبہ اور حرم کا متولی بنایا ، سورة قریش میں اس کی تصریح موجود ہے (آیت) ” لایلف قریش “۔ اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ کو پورے عرب میں ان کی عزت ووقار کی وجہ سے مانوس کردیا تھا ، لوگ ان کی عزت واحترام کرتے تھے ، چناچہ موسم گرما یا سرما میں جب بھی قریش تجارتی سفر پر جاتے تھے تو لوگ ان سے مانوس تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عزت بیت اللہ شریف کا متولی ہونے کی بنا پر ہی عطا کی تھی ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا تھا (آیت) ” فلیعبدوا رب ھذا البیت “۔ اس گھر کے رب کی عبادت کرو جس کی وجہ سے اس نے تمہیں عزت بخشی ہے ، بہرحال یہ بھی اللہ کی عظیم نعمت تھی مگر قریش نے اس کی بھی قدر نہ کی ، انہوں نے کفر اور شرک کا راستہ اختیار کیا جو کہ حد درجے کی نمک حرامی اور ناشکری تھی ، امام جعفر صادق (رح) کے قول سے ملتا ہے کہ دنیا کی مادی نعمتیں تو ہر مومن اور کافر کو میسر ہیں مگر اہل ایمان کے حق میں اللہ کی دو عظیم نعمتیں ہیں ، ایک اللہ کا قرآن ہے اور دوسرا نبی کریم ﷺ کا وجود مبارک ہے ، قریش نے ان دونوں نعمتوں کی قدر نہ کی ۔ حضرت علی ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس نعمت سے مراد ایمان اور توحید لیا ہے مگر ان لوگوں نے اس سے انکار کیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی جہنم میں گئے اور دوسروں کو بھی وہیں اتارا شیخ ابن عربی (رح) صاحب فتوحات مکیہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس نعمت سے مراد وہ صلاحیت بھی ہوسکتی ہے جو اللہ نے ہر فرد بشر کو عطا کی ہے (آیت) ” فطرۃ اللہ التی فطرالناس علیھا “۔ یہ اللہ کی فطرت سلیمہ ہے جس پر اس نے سب لوگوں کو پیدا فرمایا ” کل مولود یولد علی الفطرۃ “۔ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر ہی پیدا ہوتا ہے ، یہ بھی اللہ کا بڑا انعام ہے ، مگر دنیا میں آکر لوگ اس فطرت کو خراب کرلیتے ہیں اور اس نعمت کی ناقدری کے مرتکب ہوتے ہیں ، یہ ایسا انعام ہے جو ہر انسان کو بلا استثناء حاصل ہے ” ان الامانۃ نزلت فی جزرقلوب الرجال “۔ خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیت ہر شخص کے دل میں رکھ دی ہے ، اگر اس کو صحیح طریقے سے استعمال کرے تو ایمان پر قائم رہ سکتا ہے اور کامیابی حاصل کرسکتا ہے ، اکثر لوگ اس صلاحیت کو خراب کرلیتے ہیں اور پھر کوئی یہودیت کی طرف چلا جاتا ہے ، کوئی نصرانیت کی طرف ، کوئی کافر بن جاتا ہے اور کوئی مشرک ، اس صلاحیت کو بگاڑنے کی وجہ سے انسان جہنم کا شکار بنتے ہیں ، بہرحال یہ شکوہ ہے کہ دیکھو ! اللہ نے انسانوں کو کیسی کیسی نعمتیں عطا کیں ، انسان کا اپنا وجود بہت بڑی نعمت ہے اور اس کو تمام مادی نعمتوں کے علاوہ روحانی ترقی کے تمام اسباب بھی مہیا کیے مگر انہوں نے کچھ قدر نہ کی ۔ (قوم کی جہنم رسیدگی) فرمایا اے مخاطب ! کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت کو ناشکری کے ساتھ تبدیل کردیا (آیت) ” واحلوا قومھم دارالبوار “۔ اور انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں یعنی جہنم میں اتار دیا (آیت) ” جھنم یصلونھا “۔ یہ جہنم ہی تو ہے جس میں داخل ہوں گے کفر وشرک کے نتیجے میں خود بھی جہنم رسید ہوئے اور اپنی قوم کو بھی ساتھ ہی لے گئے ، چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قریش کے بڑے بڑے سرداروں ابوجہل اور ابو لہب نے قوم کو کس طرح ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا ، بدر کے مقام پر ان کے ساتھ کیا ہوا ، بڑے بڑے آئمۃ الکفر اپنی قوم سمیت جہنم رسید ہوئے احد اور دوسرے مقامات پر جتنے کافر مرے ، سب جہنم میں گئے ، ان کے لیڈر تو اپنے وقار کے لیے مخالفت کرتے تھے مگر ان کے پیروکار جو بلاسوچے سمجھے ان کی اتباع کرتے رہے وہ بھی ان کے ساتھ ہی اپنے انجام کو پہنچے موجودہ دور میں غیر ملکی مشنریاں بھی یہی کام انجام دے رہی ہیں ، یہودی ہوں یا عیسائی ، ہندو ہوں یا آغاخانی سب مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں یہ لوگ نہ صرف خود گمراہ ہیں بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ جہنم میں لے جانا چاہتے ہیں (آیت) ” وبئس القرار “۔ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے ، وہاں پہنچ کر کسی کو چین حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ وہاں ہر آن دکھ ہی دکھ ہوں گے ۔ (شرک ذریعہ گمراہی ہے) فرمایا (آیت) ” وجعلوا للہ ان دادا “۔ اور ٹھہرائے انہوں نے اللہ کے لیے شریک مذ مدمقابل کو کہتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کا کوئی مدمقابل نہیں ذات میں نہ صفات میں اور نہ عبادت میں ، مگر انہوں نے انسانوں اور جنوں کو خدا کو شریک بنایا کسی نے شجر وحجر کی پوجا شروع کردی اور کسی نے ستاروں اور سیاروں میں کرشمہ مان لیا ، یہ سب شرکیہ باتیں ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیضلوا عن سبیلہ “ تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں سورة بقرہ میں اللہ کا یہ ارشاد بھی گزر چکا ہے (آیت) ” فلا تجعلوا اللہ ان دادا وانتم تعلمون “۔ اللہ کے مدمقابل نہ بناؤ ، حالانکہ تم جانتے ہو ۔ اللہ نے ان کی اس قباحت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ” تمتعوا “ مزا اڑا لو ، چند دن تک اس زندگی میں فائدہ اٹھالو (آیت) ” فان مصیرکم الی النار “۔ کیونکہ بالاخر تمہارا لوٹنا دوزخ ہی کی طرف ہے ، یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی ڈاکٹر مریض سے کہے کہ تو بدپرہیزی کرے ، تیری موت آنے ہی والی ہے ، اللہ نے فرمایا کہ تم دنیا میں عیش و آرام کرلو ، کفر ، شرک ، اور ناشکری کا ارتکاب کرلو ، تم اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو ، اسی سورة کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے (آیت) ” ولئن کفرتم ان عذابی لشدید “۔ اگر تم نے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کیا تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، یہ چند دن کی مہلت ہے اس سے فائدہ اٹھا لو ، پھر تمہیں عذاب الہی سے دو چار ہونا پڑے گا ، اللہ تعالیٰ کا قانون امہال و تدریج ہے کہ وہ مہلت دیتا رہتا ہے ، سورة اعراف میں اس کا فرمان ہے (آیت) ” واملی لھم ان کیدی متین “۔ میں ایسے لوگوں کو مہلت دیتا رہتا ہوں ، میری گرفت بڑی مضبوط ہے ، جب چاہتا ہوں ، ان کو پکڑ لیتا ہوں ، مہلت دینا خدا تعالیٰ کی مصلحت ہے وگرنہ وہ فورا گرفت کرنے پر بھی قادر ہے ۔ (اقامت صلوۃ) کفار ومشرکین کے لیے ترہیب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ترغیب کا ذکر بھی کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں (آیت) ” لعبادی الذین امنوا “۔ میرے ان بندوں سے جو ایمان لائے ، میرے وہ بندے جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا ، کتاب الہی ، قیامت اور رسالت کی گواہی دی ، فرمایا میرے ان بندوں سے کہہ دو ، کہ تمہارے ایمان کے کچھ تقاضے بھی ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے ان تقاضوں کی تکمیل سے ہی تمہیں مکمل فلاح نصیب ہوگی ، ان میں سے دو چیزوں کا اللہ نے بطور خاص ذکر کیا ہے (آیت) ” یقیموالصلوۃ “۔ پہلی بات یہ ہے کہ نماز کو قائم رکھیں ، نماز ایک بہت بڑی چیز ہے (آیت) ” وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین “۔ (البقرہ) یہ منافق صفت لوگوں پر بڑی بوجھل ہوتی ہے ، البتہ خشوع کرنے والے لوگوں پر آسان ہوتی ہے ، وہ اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ، یہ انسان کی طرف سے اپنے پروردگار کی وفاداری اور غلامی کا ثبوت ہے 1 (حجۃ اللہ البالغہ ص 73 ج 1) ام العبادات المقربۃ “۔ خدا کا قرب دلانے والی عبادتوں کی یہ جڑ اور بنیاد ہے ، یہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم رکھنے والی عبادت ہے ، اسی لیے اللہ نے اسے ہر بالغ مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہے ، اس سے کوئی بھی مستثنی نہیں ، حضور کا فرمان (آیت) ” صل قآئما “۔ نماز کھڑے ہو کر پڑھو (آیت) ” فان لم تستطع فقاعدا “۔ اگر کھڑے ہو کر پڑھنے کی استطاعت نہیں ، تو بیٹھ کر پڑھ لو ، اگر ایسا بھی نہیں کرسکتے تو لیٹ کر پڑھو مگر چھوڑنا نہیں کیونکہ یہ تعلق باللہ کی درستگی کا ذریعہ ہے ، حضرت عمر ؓ نے 2 (موطا امام مالک ص 5) اپنے گورنروں کو مراسلہ بھیجا تھا جس میں یہ بھی لکھا کہ جس نے نماز کی حفاظت کی اس نے سارے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو برباد کیا ، اس نے ساری چیزوں کو برباد کیا ، نماز وہی مقبول بارگاہ ہوگی جو سمجھ کر اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جائے ، وگرنہ اللہ کی وعید یہ بھی ہے (آیت) ” فویل للمصلین ، الذین ھم عن صلاتھم ساھون “۔ (الماعون) ہلاکت ، تباہی اور بربادی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے بیخبر ہیں ، جنہیں اس کی حقیقت کا ہی علم نہیں اور جو ریاکاری کی خاطر نمازیں پڑھتے ہیں لہذا نماز کو سمجھ کر پڑھنا چاہئے کہ یہ کیا چیز ہے اور کیوں ضروری ہے ۔ (انفاق فی سبیل اللہ) فرمایا میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ نماز ادا کریں (آیت) ” وینفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ “۔ اور جو ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے پوشیدہ طور پر خرچ کریں اور ظاہری طور پر بھی ، ساتھ یہ بھی سمجھا دیا ہے کہ یہ روزی ہماری عطا کردہ ہے ، تم گھر سے نہیں لائے ہم نے وسائل مہیا کیے اور پھر تمہیں ان اشیاء کا مجازی طور پر مالک بنایا کہ تم اس میں تصرف کرسکتے ہو ، ہم نے سارے مال کا مطالبہ نہیں کیا ، بلکہ اس کا کچھ حصہ ہماری راہ میں خرچ کرو ، زکوۃ ہے تو چالیسواں حصہ دو ، عشر ہے تو دسواں یا بیسواں حصہ ادا کرو ، پھر صدقہ فطر ادا کرو ، قربانی دو ، خویش و اقارب کا حق ادا کرو ، غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری کرو ، سورة محمد میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارا سارا مال طلب نہیں کرتا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا تو اسے حق حاصل تھا مگر تم بخل میں مبتلا ہوجاتے اور پھر تباہی و بربادی آتی ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد مال کا کچھ حصہ نکالنے کا حکم دیا ہے ، اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو فضیلت حاصل ہوگی ، فرض سے سبکدوشی ہوگی اور اگر روک رکھو گے تو تمہارے لیے شرکا باعث ہوگا ، فرض واجب اور سنت ادا نہیں کیا تو پکڑے جاؤ گے اور اگر مستحب سے محروم رہے تو فضیلت سے محرومی ہوگی ، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کل مال کا چوتھا حصہ خرچ کرنے کا حکم دیا تھا ، جب کہ ہماری امت کے لیے چالیسواں ، بیسواں اور دسواں حصہ مقرر فرمایا ، البتہ کانوں کی پیداوار میں سے پانچواں حصہ خرچ کرنا ضروری ہے ، اگر انسان بخل کا مظاہرہ کریگا تو اس کے لیے وبال جان ہوگا ، نماز تعلق باللہ کی درستگی کا ذریعہ ہے جب کہ انفاق فی سبیل اللہ مخلوق کے ساتھ تعلق کی درستگی کا پیش خیمہ ہے ، امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ زکوۃ کا فلسفہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے بخل کا مادہ نکل جاتا ہے اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبات فروغ پاتے ہیں فرمایا میرے ایمان دار بندوں کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور ہمارے دیے ہوئے مال میں سے ہمارے راستے میں خرچ کریں ۔ (برمحل اور بروقت خرچ) انفاق فی سبیل اللہ کے مختلف محلات اور مختلف اوقات ہیں ، بعض اوقات ظاہری خرچ کرنا بہتر ہوتا ہے ، جب کہ دوسروں کو ترغیب دلانا مقصود ہو ، اور جب رضا الہی اور فضیلت مقصود ہو تو پوشیدہ طور پر خرچ کرنا افضل ہے ، سورة بقرہ میں ارشاد ہے (آیت) ” ان تبدوا الصدقت فنعماھی “۔ اگر ظاہر طور پر خرچ کرو تو یہ اچھی بات ہے (آیت) ” وان تخفوھا وتؤتوھا الفقرآء فھو خیرلکم “۔ اور اگر پوشیدہ طور پر محتاجوں کو دوگے تو یہ مزید بہتر ہوگا۔ ریاکاری سے بچ جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کے ہاں مقبولیت بھی زیادہ ہوگی ۔ فرمایا ہمارے دیے ہوئے رزق سے خرچ کریں (آیت) ” من ۔۔۔۔۔۔ ان یاتی یوم لا بیع فیہ “۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی سوداگری نہیں ہوگی ، اس دنیا میں انسان کاروبار کرتا ہے اور تجارت کرتا ہے تاکہ فائدہ اٹھا سکے ، مگر قیامت کا دن ایک ایسا دن ہوگا جس میں اس قسم کی کوئی سودے بازی نہیں ہو سکے گی ، اگر کوئی چاہے کہ وہاں جا کر اس دنیا کی فوت شدہ نمازیں خریدے ، روزوں کی تجارت کرلے یا کوئی دیگر نیکی خرید لے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا ، جو کچھ کمانا اور خریدنا ہے ، وہ اسی دنیا میں ممکن ہے یہیں کی کمائی ہوئی نیکی وہاں کام آئے گی ، اسی لیے فرمایا کہ اس دن سے پہلے خرچ کرلو جس دن کوئی خرید وفروخت نہیں ہوگی ، ولا خلل “۔ اور نہ ہی اس دن کوئی دوستی کام آئے گی ، اس دنیا میں بعض کام دوستی کی بنا پر بھی حل ہوجاتے ہیں ، سفارش کام آجاتی ہے کہیں جتھہ کام نکالتا ہے ، دوست دوست کی مدد کرتا ہے مگر قیامت کے دن یہ بھی ناممکن ہوگا ، ہر شخص کو اپنے اعمال کی کود جوابدہی کرنا ہوگی سورة الزخرف میں ہے (آیت) ” الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو الا المتقین “۔ آج کے دوست وہاں دشمن بن جائیں گے البتہ وہ متقی لوگ جن کی دوستی تقوی اور ایمان پر قائم تھی ، وہ وہاں بھی قائم رہی گی اور ان کی کوشش اور سفارش بھی وہاں کام آئے گی ، وہ ایک دوسرے کی نجات کے لیے پوری کوشش کریں گے اس کے علاوہ دنیا کی تمام دوستیاں ختم ہوجائیں گی ، لہذا اللہ نے اہل ایمان سے فرمایا کہ وہ دو باتوں میں ایمان کے تقاضے ضرور پورے کریں ایک نماز قائم کریں اور دوسرا ہمارے عطا کردہ مال میں سے ہمارے حکم کے مطابق خرچ کریں ، چناچہ جہاں پر اللہ نے جماعت المسلمین کا ذکر فرمایا ہے ، وہاں ارشاد ہے (آیت) ” فان تابوا واقامو الصلوۃ واتوا الزکوۃ فاخوانکم فی الدین “۔ (التوبۃ) اگر کافر ، مشرک ، منافق ، بےدین توبہ ، کرلیں ، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوۃ کی ادائیگی شروع کردیں تو وہ تمہارے بھائی ہیں گویا نماز اور زکوۃ جماعتی نشانی ہے جو یہ کام کرتا ہے ، وہ ہماری جماعت کا آدمی ہے اور جو نہیں کرتا وہ جماعت المسلمین کا ممبر نہیں ہے ، یہی جماعتی خصوصیت اور یہی مسلمان کی پہچان ہے ، ایک بدنی عبادت ہے اور دوسری مالی ، اللہ نے ان دونوں کا یہاں بطور خاص ذکر فرمایا ہے ۔
Ayahs 14:32–34

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

اللہ جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور اتارا ہے آسمان کی طرف سے پانی ، پس نکالا ہے اس کے لیے پھلوں سے رزق تمہارے لیے اور اس نے مسخر کیا ہے تمہارے لیے کشتیوں کو تاکہ چلیں وہ دریا میں اس کے حکم سے اور مسخر کیا ہے تمہارے لیے نہروں کو ۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

اور مسخر کیا ہے اس نے تمہارے لیے سورج اور چاند کو جو مسلسل چلتے ہیں ، اور اس نے مسخر کیا ہے تمہارے لیے رات اور دن کو ۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

اور دی ہیں اس نے تمہیں تمام ان چیزوں میں سے جو تم نے اس سے مانگی ہیں اور اگر تم شمار کرو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ، تو اس کو پورے طریقے سے شمار نہیں کرسکتے بیشک انسان بہت بےانصافی کرنے والا اور ناشکر گزار ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا اثبات اور کفر وشرک کا رد فرمایا تھا ، اس سلسلہ میں کلمہ توحید کی مثال پاکیزہ درخت کے ساتھ اور کلمہ کفر وشرک کی مثال ایک گندے درخت کے ساتھ بیان فرمائی فرمایا کہ دنیا وآخرت میں ایمان والوں کی ثابت قدمی کلمہ توحید کے ساتھ منسلک ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منکرین نے اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کی جس کی وجہ سے کود بھی جہنم میں پہنچے اور دوسروں کو بھی ساتھ لے گئے ، خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، فرمایا ، یہ لوگ چند دن تک فائدہ اٹھالیں ، بالآخر ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ایمان کے تقاضے میں دو باتوں کو پورا کرتے رہیں ، نماز ادا کریں اور انفاق فی سبیل اللہ بھی کرتے رہیں تاکہ اپنے لیے اس دن سے پہلے کوئی سامان پیدا کرلیں ، جس دن نہ کوئی سوداگری ہوگی ، اور نہ کوئی دوستی کام آئیگی ، گویا ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اشقیا اور سعدا دونوں کا ذکر فرمایا ہے ، اشقیا وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ، اور سعدا وہ ہیں جو ایمان لانے کے بعد نماز قائم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ۔ (خدا تعالیٰ کی پہچان) اب اس درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کے دلائل ذکر فرمائے ہیں ان دلائل کو قرآن کریم کے مختلف مقامات پر بتکرار بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ باتیں لوگوں کے اذہان میں بیٹھ جائیں اور وہ ان سے نصیحت حاصل کریں جو شخص خدا تعالیٰ کو پہچان کر اس کی وحدانیت کر تسلیم کریگا وہ سعدا میں شامل ہو کر فلاح پا جائے گا ، ورنہ ناشکرگزاروں کے ٹولے میں شامل ہو کر جہنم میں کا شکار بنے گا ، حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل ؓ کو گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا کہ نجران کے نصاری کو سب سے پہلے توحید و رسالت کی دعوت دینا واذا عرفوا اللہ “۔ اور جب وہ اللہ تعالیٰ کو صحیح طریقے سے پہچان لیں تو پھر انہیں کہنا کہ اللہ نے دن میں پانچ نمازیں ، ایک ماہ کے روزے اور اگر استطاعت ہو تو زکوۃ اور حج بھی فرض کیا ہے ، دین اسلام میں خدا کی پہچان سب سے پہلا مرحلہ ہے جب تک صحیح پہچان نہیں ہوگی ، انسان اپنے دل میں توحید کو جگہ نہیں دے سکے گا اور نہ ہی کوئی عبادت مقبول ہوگئی ، (آیت) ” ما قدروا اللہ حق قدرہ “۔ انہوں نے خدا تعالیٰ کو کما حقہ پہچانا ہی نہیں ، اگر پہچان صحیح ہوجاتی تو پھر نہ شرک میں مبتلا ہوتے اور نہ رسالت کا انکار کرتے ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حجابات میں سے تیسرا حجاب سوء معرفت ہے ، لوگوں کی اکثریت ایس حجاب میں مبتلا ہے ، یعنی لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی صحیح پہچان نہیں ہوتی ، وہ یا تو اللہ تعالیٰ کو مخلوق کے مشابہ قرار دے کر عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا خدا تعالیٰ کی صفات مخلوق میں مان کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ، توحید کو وہی سمجھے گا ، جسے اللہ کی صحیح پہچان ہوگی جب توحید کو سمجھ لے گا تو فکر پاک ہوجائے گی اور اس کی عبادت بھی ٹھکانے لگے گی ، اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کو اس کی ذات سے پہچاننا چاہے تو یہ ممکن نہیں کیونکہ وہاں تک کسی مخلوق کی رسائی نہیں ، اللہ تعالیٰ وراء الوراء ہے ، اس کی صفات کو بھی انسان براہ راست نہیں پہچان سکتا ، اس کی پہچان اس کی مخلوق پر غور کرنے سے ہوتی ہے جب اللہ کی صفت سمجھ میں آجائے تو پھر انسان اللہ ذات کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے ۔ (آسمان و زمین کی تخلیق) اپنی پہچان ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (آیت) ” اللہ الذی خلق السموت والارض “۔ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے پیدا کیے ہیں آسمان اور زمین ، تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ (آیت) ” اللہ خالق کل شیئ “۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے آسمان اور زمین ہمیں نظر آتے ہیں اور ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہے آسمانی چیزوں سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں اور زمین پر چلتے پھرتے اور اس سے ضروریات زندگی حاصل کرتے ہیں ، ان کو پیدا کرنا خدا کام اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کو ابداع اور فاطر کے لفظ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ یا ” فاطر السموت والاض “۔ دونوں کا معنی ایک ہے کہ آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا فقط اللہ ہے ۔ اللہ کی ان صفات میں ابداع یعنی ایجاد کرنا پہلے نمبر پر ہے اس نے آسمان اور زمین کو بغیر کسی مادے ، آلے اور نمونے کے پیدا فرمایا پھر دوسری صفت خلق ہے ، اس نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے اور جنات کو آگ کے مادے سے پیدا کیا ، آگے تیسرے نمبر پر صفت تدبیر ہے (آیت) ” یدبرالامر من السمآء الی الارض “۔ (الم سجدہ) عالم بالا سے لے کر عالم زیریں تک تمام چیزوں کی تدبیر وہ خود کرتا ہے اللہ کی یہ تینوں صفات آگے پیچھے آتی ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ نے اسی حصہ آیت میں اپنی صفت ابداع کا ذکر کیا ہے جس کے ذریعے اس کی پہچان ممکن ہوتی ہے ۔ (بارش اور اس کے فوائد) اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کی یہ دلیل بھی دی ہے (آیت) ” وانزل من السمآء مآء “۔ اس نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا سماء بلندی اور فضا کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے ، سمندروں سے بخارات اٹھتے ہیں ، ہوائیں انہیں فضا میں چلاتی ہیں اور بادلوں میں پانی کے قطرات منجمند ہو کر زمین پر برسنے لگتے ہیں بارش کے پورے نظام میں محض بخارات سے اٹھنے والی مون سون ہواؤں ہی کا دخل نہیں بلکہ اس میں عالم بالا کا حکم بھی شامل ہوتا ہے تب جا کر بارش برستی ہے ۔ فرمایا آسمان کی طرف سے پانی نازل کیا (آیت) ” فاخرج بہ من الثمرت رزقا لکم “۔ پھر اس پانی کے ذریعے پھل اگائے جو تمہارے لیے روزی کا سامان ہے ، اللہ تعالیٰ پانی ہی کے ذریعے زمین میں نشونما پیدا کرتا ہے اور پھر اناج اور پھل پیدا ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر موسم کے لیے حسب ضرورت مختلف رنگ ، ذائقے ، اور تاثیر کے پھل پیدا کرتا ہے کسی پھل کی تاثیر سرد ہوتی ہے کسی کی گرم ، کسی کی خشک اور کسی کی مرطوب ، انسانی غذا کے طور پر یہ اللہ تعالیی کا بہت بڑا انعام ہے لوگ ہر موسم میں بےدریغ پھل استعمال کرتے ہیں مگر جیسا کہ آگے آرہا ہے اس مالک ارض وسما کا شکریہ ادا نہیں کرتے ۔ (دیگر انعامات الہیہ) پانی کی اور بھی بہت سی حکمت بیان کی گئی ہے پچھلی سورة میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ پہاڑوں پر بارش برسا کر پانی کو ندی نالوں کی صورت میں بہاتا ہے ، جس سے دور دور تک آبپاشی ہوتی ہے اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسانوں اور حیوانوں کی غذائی ضرورت پوری کرتا ہے ، اسی طرح زمین بھی بڑی ضروری چیز ہے ، اگر زمین نہ ہو تو انسانوں اور حیوانوں کے قدم کہاں ٹکیں ، انکی خوراک کا انتظام کہاں سے ہو ، مع دنیات کہاں سے حاصل ہوں ، اسی طرح آسمان کے بغیر چاند ، ستارے اور سورج کہاں چلیں ، ان سے روشنی اور حرارت کیسے حاصل ہو ، اللہ تعالیٰ نے انسان کی بنیادی ضرویات کو فری رکھا ہے ، ذی روح مخلوق کو سب سے زیادہ ہوا کی ضرورت ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بالکل مفت عطا کیا ہے ، اس کے بعد انسانی ضروریات میں پانی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ نے وافر مقدار میں پیدا فرمایا ہے اس کے ذرائع میں بارش ، ندی نالے اور کنوئیں وغیرہ ہیں جہاں سے یہ بآسانی دستیاب ہے اس کے بعد خوراک لازمی چیز ہے جس کے لیے محنت کی ضرورت ہے ، یہ خدا تعالیٰ کی عام نعمتیں ہیں جو اس نے انسان پر کی ہیں حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا پروردگار ! تیری ادنی سے ادنی نعمت کون سی ہے ، فرمایا ، سانس لو ، جب آپ نے سانس لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ میری ادنی سی نعمت ہے جو مدار حیات ہے ، ہر سانس کے ذریعے انسان کو خدا تعالیٰ کے دو انعامات حاصل ہوتے ہیں ، ہر چوبیس گھنٹے میں انسان چوبیس ہزار سانس لیتا ہے تو اندازہ لگائیے کہ صرف سانس کے ذریعے انسان کو کتنے انعامات حاصل ہوتے ہیں مگر اس کے مقابلے میں انسان کی طرف سے شکریہ کی ادائیگی صفر کے برابر ہے ۔ (کشتیوں کی تسخیر) تیسری دلیل یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” وسخرلکم الفلک “۔ اور تمہارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا (آیت) ” لتجری فی البحر بامرہ “۔ تاکہ وہ اس کے حکم سے دریاؤں میں چلیں ، پانی پرچھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر بڑے بڑے جہازوں تک کا تیرنا اللہ تعالیٰ کے خاص قانون کے مطابق ہے ، اگر قدرت کا یہ قانون موجود نہ ہوتا تو کوئی چیز پانی میں نہ تیر سکتی ، آبی شاہراہوں کے ذریعے انسانوں کے علاوہ لاکھوں ٹن وزنی اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں ، بڑے بڑے مال بردار جہاز ایک ایک ماہ تک ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک محو سفر رہتے ہیں ، ابھی چند سال کی بات ہے کہ فیصل آباد کے ایک شخص نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ، کہنے لگا ہم پچھتر ہزار ٹن لوہا بذریعہ بحری جہاز لے کر جا رہے تھے ، خدا کی قدرت سمندر میں زبردست طوفان آیا جس میں جہاز پھنس گیا اور اس کے بچ نکلنے کی کوئی امید باقی نہ رہی بعض انگریز ملازمین نے شراب پی کر سمندر میں چھلانگ لگا دی جب کہ میں نے ایک چھوٹی کشتی کے ذریعہ جان بچائی ، جہاز ڈوب گیا ، میں ہسپتال میں بیہوشی کی حالت میں پڑا رہا اور کئی روز بعد ہوش آیا غرضیکہ پانی بڑی زبردست طاقت ہے مگر قانون خداوندی کے تحت اس پر جہاز اور کشتیاں تیرتی رہتی ہیں اور بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق ڈوب بھی جاتی ہیں ، فرمایا (آیت) ” وسخرلکم الانھار “۔ اور تمہارے لیے ندی ، نالوں اور نہروں کو بھی مسخر کردیا ، اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق ندی نالوں کو زمین کے اندر چلاتا ہے جن سے وہ لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں ، جہاں بارش نہیں ہوتی ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کے دلائل توحید میں سے ہے ۔ (تسخیر شمس وقمر) آگے فرمایا (آیت) ” وسخرلکم الشمس والقمر “۔ اور تمہارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کردیا (آیت) ” دآئبین “۔ جو دستور کے مطابق چل رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو راستے مقرر کردیے ہیں ، ان پر بلا کم وکاست رواں دواں ہیں اور اس میں منٹ سیکنڈ تک کا فرق بھی نہیں آتا ، تسخیر کا ایک معنی تو کسی چیز کا کسی کے قابو میں آنا ہوتا ہے جیسے جانور نوکر غلام وغیرہ انسان کے قبضے میں ہوتے ہیں اور وہ ان سے حسب منشا کام لیتے ہیں ، مگر تسخیر کا دوسرا معنی فائدہ اٹھانا بھی ہے شمس وقمر کی تسخیر کا یہی معنی ہے ، اللہ نے انہیں انسان کے فائدے کے لیے کام پر لگا دیا ہے ، سورج انسانوں کی روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے ، جب کہ چاند کے ذریعے دہیمی روشنی اور پھلوں میں رس پیدا ہوتا ہے اسی طرح ستارے ، سیارے اور ہوائیں بھی انسان کی خدمت پر مامور ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ ہم نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے (آیت) ” دآئبین “۔ کا مطلب یہ ہے کہ سورج اور چاند مسلسل حرکت کر رہے ہیں ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اور امام حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ ان سیاروں کی دو حرکتیں ہیں ، سورج کی یومیہ حرکت مشرق سے مغرب کی طرف ہوتی ہے ، اور پھر ’ لیلی ‘ حرکت مغرب سے مشرق کی طرف ہوتی ہے ، شمس وقمر کسی مکان یا احاطہ میں جا کر چھپ نہیں جاتے بلکہ یہ مسلسل چلتے رہتے ہیں ، ان کا طلوع و غروب باعتبار ایک افق کے ہوتا ہے ، لیکن ان کی حرکت بند نہیں ہوتی ، ان مختلف منزلوں کی تبدیلی سے موسم بدلتے ہیں اور یہ بھی انسانی ضرورت میں سے ایک اہم ضرورت ہے ، اگر سارا سال ایک ہی موسم رہے تو ایک ہی قسم کے اناج یا پھل پیدا ہوں گے جس سے انسانی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ فرمایا (آیت) ” وسخرلکم الیل والنھار “۔ اور مسخر کیے تمہارے لیے رات اور دن ، رات دن کی ادلا بدلی بھی انسانی صحت کے لیے نہایت ضروری ہے دن لوگوں کو کام کاج فراہم کرتا ہے جب کہ رات کو سکون حاصل ہوتا ہے اور پھر انسان تازہ دم ہو کر اگلے دن دوبارہ کام میں لگ جاتا ہے غرضیکہ اللہ نے رات اور دن کو بھی انسانی خدمت پر مامور کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان چند نعمتوں کا ذکر کرکے اپنی پہچان کی دلیل قائم کی ہے ۔ (مطلوبہ نعمت کی عطائیگی) پھر اللہ نے بطور قانون فرمایا (آیت) ” واتکم من کل ما سالتموہ “۔ اور دیا تم کو جو کچھ تم نے مانگا ، انسان کی طلب کبھی زبان قال سے ہوتی ہے کہ انسان زبان سے بول کر کسی چیز کا مطالبہ کرتا ہے ، اور کبھی یہ طلب زبان حال سے ہوتی ہے یعنی انسان کی حالت جس چیز کا تقاضا کرتی ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بغیر مانگے ہی عطا کردیتا ہے ، یہ عطا کرنے کا قانون اللہ نے بیان کردیا ہے اس مقام پر من تبعیضیہ ہے یعنی تم نے جو کچھ مانگا ، وہ سارا نہیں بلکہ اس میں سے کچھ دے دیا ، دعا کے بارے میں یہی حکمت ہے کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ، اس کی عبادت کے مترادف ہے ، اس سے مانگنا چاہیے وہ کسی کی دعا رد نہیں کرتا ، البتہ یہ ہے کہ انسان کی مصلحت کے مطابق کبھی مطلوبہ چیز فورا عطا کردیتا ہے اور اگر مصلحت میں مفید نہیں ہوتی تو اس کے بدلے میں کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے ، اگر ایسا بھی نہ ہو تو دعا کو آخرت کے لیے ذخیرہ بنا لیتا ہے ، وہ اس مانگنے والے کے لیے آخرت میں مفید ہوگی ، چونکہ انسان کا علم محدود ہے اس لیے بعض اوقات وہ ایسی چیز طلب کرلیتا ہے جو اس کے لیے مضر ہوتی ہے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سی چیز مفید اور کون سی مضر ہے لہذا وہ اس کے مطابق ہی عطا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے ۔ (شماری نعمت پر عدم قدرت) آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا “۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ، ہر نعمت مخلوق ہے اور ہر مخلوق محدود ہوتی ہے ، جو کہ شمار کی جاسکتی ہے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ میری نعمتیں شمار نہیں کی جا سکتیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا کہنا باعتبار انسان کے ہے کیونکہ بوجہ ضعف وہ ان نعمتوں کا احاطہ نہیں کرسکتا ، سورة النسآء میں موجود ہے (آیت) ” وخلق الانسان ضعیفا “۔ انسان کو بالطبع کمزور پیدا کیا گیا ہے ، لہذا اس کا محدود چیزوں پر حاوی ہونا ، بھی ضروری نہیں ہے ، اسی لیے فرمایا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو شمار بھی نہیں کرسکتے ، جب شمار نہیں کرسکتے تو حق شکریہ کیسے ادا ہو سکتا ہے ؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن ہر انسان کے تین دفتر پیش ہوں گے ، ایک میں نیکیاں ، دوسرے میں گناہ اور تیسرے میں نعمتیں درج ہوں گی ، پھر نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو کر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریگی ، پروردگار ! مجھے اس شخص کی نیکیوں میں سے بدلہ دیا جائے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس کی نیکیوں میں سے اپنا حق وصول کرلو ، جب وہ ایک نعمت اپنا حق لینا شروع کریگی تو اس آدمی کی تمام نیکیاں ختم ہو کر صرف گناہ باقی رہ جائیں گے ، وہ پھر عرض کریگی ” وعزتک ما استوفیت “۔ تیری عزت کی قسم مجھے پورا حق ابھی تک نہیں ملا اگر اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم نہیں فرمانا چاہے گا تو کہے گا کہ اے بندے ! تیری نیکیاں تو ایک نعمت ہی کھا گئی ، اب تیرے پاس کچھ نہیں بچا جب ایک نعمت کا پورا حق ادا نہیں ہوسکا تو باقیوں کا کیسے ہوگا ، اور اللہ اس شخص پر رحم کرنا چاہے گا تو کہے گا ، جاؤ ! ہم نے تمہاری نیکیاں دگنی چوگنی کردی ہیں اور تمہاری غلطیاں معاف کردیں اور وہ شخص بچ جائے گا ، بصورت دیگر اسے ایک نعمت ہی پکڑ کر بیٹھ جائے گی اور وہ شخص جان نہیں چھڑا سکے گا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں مگر انسان اس کی ایک ادنی سے ادنی نعمت کا شکر بھی ادا نہیں کرسکتا ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے منہ میں جانے والے ایک لقمہ میں اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات پوشیدہ ہیں ، ذرا غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر محنت کروا کے اور بارش کا انتظام کرکے گندم کو کس طرح پیدا کیا ، پھر اس کے آٹا بننے تک اسے کتنے مراحل سے گزرنا پڑا گندم کے اگنے ، پکنے ، برداشت کرنے پیسنے اور روٹی پکنے تک کتنے ہاتھوں اور مشینوں نے کام کیا ، تب جا کر انسان کو ایک لقمہ نصیب ہوا ، اگر کسی کل کا ایک پرزہ بھی خراب ہوجائے تو سارا کام ادھورا رہ جاتا ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے گندم کے دانے کو تمام مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزارنے کے بعد انسان کے منہ تک ایک لقمہ پہنچایا ، یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں ہیں جو واقعی شمار سے باہر ہیں ، یہ تو ایک لقمے جیسی نعمت کی بات ہے ، اس کے علاوہ انسان کو لاکھوں کروڑوں نعمتیں میسر ہیں جن کو نہ شمار کرسکتا ہے اور نہ ان کا حق ادا کرسکتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہ کرسکو گے ۔ (انسانی کمزوریاں) فرمایا (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “۔ بیشک انسان البتہ بہت ہی بےانصاف اور ناشکر گزار ہے ، شب وروز خدا تعالیٰ کے انعامات میں غرق ہے مگر اس مالک کا شکر ادا نہیں کرتا ، اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے سورة سبا میں فرمایا (آیت) ” قلیل من عبادی الشکور “۔ میرے شکر گزار بندے تھوڑے ہیں ، جب کہ ناشکر گزار بہت زیادہ میں ۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کرائی ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے یہ تمام نعمتیں مہیا کی ہیں ، اگر انسان ان میں غور وفکر کرے تو اسے معرفت الہی حاصل ہو سکتی ہے ، اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان تمام نعمتوں کو مہیا کرنے والا صرف اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے جب یہ بات سمجھ میں آجائے تو توحید کا مسئلہ خود بخود سمجھ میں آجاتا ہے یہ تو اللہ نے عام نعمتوں کا ذکر کیا ہے آگے خصوصی نعمتوں کا ذکر بھی آرہا ہے ۔
Ayahs 14:35–37

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

اور (اس بات کا خیال کرو) جب کہ کہا ابراہیم (علیہ السلام) نے اے پروردگار ! بنا دے اس شہر کو امن والا ، اور دور رکھ مجھ کو اور میری اولاد کو اس بات سے کہ ہم بتوں کی عبادت کریں ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

اے پروردگار ! بیشک انہوں نے گمراہ کیا ہے بہت سے لوگوں کو پس جس نے میری پیروی کی بیشک وہ مجھ سے ہے ، اور جس نے میری نافرمانی کی ، پس بیشک تو بخشش کرنے والا مہربان ہے ۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک میں نے بسایا ہے اپنی اولاد میں سے ایسی وادی میں جو کھیتی باڑی والی نہیں ہے تیرے محترم گھر کے پاس ، اے ہمارے پروردگار ! تاکہ یہ نماز قائم کریں ، پس بنا دے لوگوں کے دلوں کو کہ مائل ہوں ان کی طرف ، اور روزی دے ان کو پھلوں سے شاید یہ شکر ادا کریں ۔

(ربط آیات) پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عام نعمتوں کا ذکر تھا جن میں سے ہر نعمت اللہ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، اب اللہ نے خاص نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ، اس ضمن میں قریش مکہ کو یہ بات سمجھائی ہے کہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا پیشوا اور جد امجد مانتے ہو ، انہوں نے جس خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس کی بنیاد تو حید پر تھی مگر تم کفر اور شرک میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ان دعاؤں کا ذکر کیا ہے جن سے کفر وشرک سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی وجہ سے سرزمین مکہ پر جو خصوصی انعامات فرمائے تھے ، ان کا ذکر بھی کیا ہے توحید کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ کفار ومشرکین کو تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کریں اور خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں ۔ (شہرامن) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذ قال ابرھیم “ اس وقت کو دھیان میں لاؤ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی (آیت) ” رب اجعل ھذا البلد امنا “۔ اے پروردگار ! اس شہر کو امن والا بنا دے ، شہر سے مراد شہر مکہ سے جسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے آباد کیا تھا ، دراصل آپ نے خانہ کعبہ کی عمارت از سر نو تعمیر کی اور پھر اپنی بیوی ہاجرہ اور بچے اسماعیل (علیہ السلام) کو وہاں چھوڑ گئے اس وقت یہ ایک بےآب وگیاہ وادی تھی مگر اللہ تعالیٰ کا فرمان تھا کہ اس جگہ پر عظیم الشان اور فضیلت والا شہر آباد ہوگا ، چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اس شہر کے مامون ہونے کی دعا کی ، اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا جس کا ذکر قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر بھی آتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر احسان جتلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے اردگرد امن ومان نام کی کوئی چیز نہ تھی (آیت) ” یتخطف الناس میں حولھم “۔ لوگوں کو اچک لیا جاتا ، سوائے حرمت والے مہینوں کے کوئی آدمی سفر نہیں کرسکتا تھا ، سال کے آٹھ مہینے تک لوگ افراتفری کے عالم میں گزارتے ، پھر باقی چار ماہ میں تجارت وغیرہ اور دوسرے سفر کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا کہ حرم مکہ کو بالکل پر امن بنا دیا ، یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت کا نتیجہ تھا کہ اللہ نے شہر مکہ کو امن والا شہر بنا دیا ، اس کا ذکر سورة والتین میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے جن چار چیزوں کی قسم اٹھائی ہے ان میں (آیت) ” ھذا البلد الامین “۔ یہ امن والا شہر بھی شامل ہے ۔ ّ (شرک سے بیزاری) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شہر مکہ کو مامون بنانے کی دعا کی اور شرک سے پناہ بھی مانگی (آیت) ” واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام “۔ اے پروردگار مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی پوجا سے دور رکھ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے نبی تو کفر وشرک بلکہ ہر گناہ سے پاک ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کسی معصیت میں مبتلا نہیں ہوتے تو اس صورت میں ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے بت پرستی میں ملوث نہ ہونے کی دعا کا کیا مطلب ہے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے انبیاء جس قدر بلند مرتبت ہوتے ہیں اسی قدر وہ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہوتے ہیں اور اسی بناء پر وہ خدا تعالیٰ کی کبریائی کے سامنے ہمیشہ عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے رہتے ہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی اللہ کے حضور نیاز مندی کی ایک علامت ہے ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ بت دو قسم کے ہوتے ہیں جو بت کسی خاص شکل و صورت پر بنایا گیا ہو اسے صنم کہتے ہیں اور جو بغیر شکل کے ان گھڑا ہو وہ وثن کہلاتا ہے ، عربوں میں بھی دو قسم کے بت پائے جاتے تھے جن کی وہ پوجا کرتے تھے حدیث شریف میں صلیب کو بھی وثن کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ، جب عدی ؓ بن حاتم طائی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے گلے میں صلیب لٹکا رکھی تھی ، آپ نے فرمایا الق ھذا الوثن “ اس بت کو اتار پھینکو غرضیکہ صنم یا وثن وہ بت ہوتا ہے جس کے متعلق زعم ہو کہ یہ نفع نقصان کا مالک ہے یا کسی کی حاجت براری اور مشکل کشائی کرسکتا ہے ، اس قسم کے بت خانہ کعبہ میں اور اس کے اردگرد رکھے ہوئے تھے ، صفا اور مروہ پہاڑیوں پر بھی بت موجود تھے اور مکہ کے لوگ ان کی پرستش کرتے تھے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں یہ دعا کی کہ انہیں اور ان کی اولاد کو اصنام سے پاک رکھا جائے ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دعائے ابراہیم میں (آیت) ” من ذریتی “ کے الفاظ آئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دعا پوری نسل ابراہیمی کے لیے نہیں تھی بلکہ اس میں سے بعض کے لیے تھی چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابوجہل وغیرہ آپ کی نسل میں آپ کی اولاد ہونے کے باوجود شرک پر اڑے رہے اور اسی پر ان کی موت آئی البتہ آپ کی صلبی اولاد یعنی آپ کے براہ راست بیٹے مکمل طور پر شرک سے مبرا رہے ، دعا کی قبولیت کا یہی مطلب ہے ۔ (گمراہی اور معافی) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بتوں کی کارگزاری کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مزید عرض کیا (آیت) ” رب انھن اضللن کثیرا من الناس “۔ اے پروردگار ! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے یہاں پر پھر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بت تو پتھر اور مٹی کے بےجان بت ہوتے ہیں ، وہ کسی کو گمراہ کیسے کرسکتے ہیں ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ وہ خود تو گمراہ نہیں کرسکتے البتہ تسببن الاضلل “۔ گمراہی کا سبب ضرور بنتے ہیں ، انہی بتوں کی پوجا کرکے لوگ گمراہی کے گڑھے میں گرے لہذا اسے بتوں کی گمراہی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آگے یہ بھی عرض کیا ، پروردگار ! (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی “۔ جس نے میری پیروی کی ، وہ مجھ سے ہے یعنی میری جماعت کا آدمی ہے اور جو آپ کے گروہ میں شامل ہوگیا وہ حنیف ہوگیا اور اس نے اللہ کی توحید کو تسلیم کرلیا ، ایسا شخص کفر اور شرک سے بیزار ہوگیا ، فرمایا (آیت) ” ومن عصانی “ اور جس نے میری نافرمانی کی (آیت) ” فانک غفور رحیم “۔ تو تو بخشنے والا مہربان ہے ، اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عاجزی ، نرمی اور رافت کا ذکر کیا گیا ہے ، آپ پر یہ بات خوب واضح ہے کہ کافر اور مشرک جس کا خاتمہ اسی باطل عقیدے پر ہوا ہو ، اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں ، سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ایسا شخص کبھی جنت میں داخل نہیں ہو سکتا (آیت) ” حتی یلج الجمل فی سم الخیاط “۔ حتی کہ ایک اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے مگر مشرک جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ، اللہ نے یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے (آیت) ” انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوہ النار “۔ (المائدہ) جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا تاہم ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا کہ مولا کریم ! تیرا فیصلہ تو یہی ہے کہ تو مشرک کو معاف نہیں کرے گا مگر تو غفور اور رحیم بھی ہے تیرے اختیار سے کوئی چیز باہر نہیں اگر تو معاف کر دے تو غفور اور رحیم ہے ایسا کرسکتا ہے ۔ (اولاد ابراہیم کی آباد کاری) ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا (آیت) ” ربنا انی اسکنت من ذریتی “۔ اے پروردگار ! میں نے بسایا ہے اپنی اولاد میں سے یہاں پر ” من تبعیضیہ “ ہے یعنی ساری اولاد نہیں بلکہ اس میں سے بعض کو آباد کیا ہے آپ کے بیٹوں میں سے اسحاق (علیہ السلام) تو شام اور فلسطین کے علاقے میں ہی رہے ۔ البتہ حضرت ہاجرہ اور ان کے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کو مکہ مکرمہ کی بےآب وگیاہ زمین میں آباد کیا ، اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا ، جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی سارہ کے ہمراہ مصر پہنچے تو شاہ مصر نے حضرت ہاجرہ کو بطور خادمہ دے دیا پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے نکاح کرلیا تو ان سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیدا ہوئے ، اس پر آپ کی پہلی بیوی سارہ کو رشک ہوا اور اس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو کہیں دور چھوڑ آئیں ، چناچہ ان حالات میں ابراہیم (علیہ السلام) نے ان دونوں کو اس سرزمین عرب میں آباد کیا غرضیکہ جس طرح آدم (علیہ السلام) کا دانہ کھانے کی وجہ سے زمین پر نزول ہوا ، اسی طرح حضرت سارہ کا رشک سرزمین مکہ کی آبادی کا سبب بن گیا ۔ فرمایا میں نے بسایا ہے اپنی اولاد میں سے (آیت) ” بواد غیر ذی زرع “۔ کھیتی باڑی کے ناقابل وادی میں ، یہ خطہ بحر احمر سے اڑتالیس میل کے فاصلے پر گرم خشک ، پتھریلا اور بےآب وگیاہ علاقہ ہے جہاں پر بارش کے علاوہ سیرابی کی کوئی صورت نہیں ، یہاں پر بظاہر کشش کا کوئی سامان موجود نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے محترم گھر کے لیے اسی خطہ کو منتخب کیا ، اب اسی بیت اللہ شریف کی کشش کا یہ عالم ہے کہ اطراف عالم سے لوگ کھنچ کھنچ کر یہاں پہنچ جاتے ہیں سخت گرمی ہو یا سردی ، بارش ہو رہی ہو یا آندھی چل رہی ہو ، چوبیس گھنٹے میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آت جب کہ اس گھر کا طواف نہ ہورہا ہو ، یہ عاشقان الہی کی بستی ہے ، ایک دفعہ جا کر تسلی نہیں ہوتی اور ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہاں کی حاضری کا بار بار موقع ملتا رہے ۔ (خطہ عرب میں سبزہ ذکر) حدیث 1 (مسلم ص 326 ج 1) میں آتا ہے کہ قیامت کے قریبی زمانہ میں تصیر ارض العرب مروجا وانھرا “۔ عرب کی سرزمین سبزہ زار اور باغات میں تبدیل ہو جائیگی ، آج سے کچھ عرصہ پہلے تک اس پیشن گوئی کے پورا ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے مگر اب وہاں پر سبزہ اور باغات کی ابتداء ہوچکی ہے ، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے علاوہ مکہ اور مدینہ کی شاہراؤں پر بھی درخت لگائے جا رہے ہیں عرفات کے پورے میدان میں درختوں کی لمبی لمبی قطاریں اب نظر آرہی ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی پیشن گوئی پوری ہورہی ہے ۔ سبزہ زار اور عام استعمال کے لیے میٹھے پانی کی اشد ضرورت ہے وہاں پر زیر زمین پانی تو موجود نہیں ، قریبی سمندر کا پانی سخت کڑوا ہے جسے صاف کرنے پر بہت زیادہ خرچ آتا ہے ، لہذا سعودی حکومت اب قابل استعمال پانی کی بہم رسانی کے لیے دوسرے ذرائع تلاش کر رہی ہے اس منصوبے میں دور دراز کے دریاؤں سے پانی کی سپلائی یا پھر بحر منجمند سے بڑے بڑے تودوں کی ترسیل شامل ہے ۔ (محترم گھر) فرمایا میں نے بسایا اپنی اولاد میں سے بےآباد زمین میں (آیت) ” عند بیتک المحرم “۔ تیرے محترم گھر کے پاس حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے جس دن سے زمین کو پیدا کیا ہے ، اسی دن سے اس خطہ ارض کو عزت والا مقام عطا کیا ہے ، یہاں پر لڑائی جھگڑا قطعی حرام ہے فتح مکہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اجازت دی تھی کہ اگر کافر مقابلہ کریں تو ان کے خلاف ہتھیار اٹھا سکتے ہیں ، وگرنہ اس کے بعد قیامت تک کے لیے یہ سرزمین واجب الاحترام ہی رہے گی ، فرمایا میں نے اپنی اولاد کو یہاں اس لیے آباد کیا ہے (آیت) ” ربنا لیقیموا الصلوۃ “۔ اے پروردگار تاکہ وہ نماز قائم رکھیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں اپنی اولاد کے لیے نماز جیسی اہم ترین عبادت کا ذکر کیا ، نماز کا قیام ایک عظیم مقصد ہے جسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خود اختیار کرتے ہیں اور دوسروں کو تلقین کرتے آئے ہیں ، نماز کے بغیر انسان کا تعلق اپنے پروردگار کے ساتھ درست نہیں رہ سکتا ، نماز کوئی پرائیویٹ معاملہ نہیں کہ جس نے چاہا ادا کرلی اور جس کے دل نے نہ مانا اس نے چھوڑ دی بلکہ یہ تو اہم ترین عبادت ہے جس کی دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کیلئے کی ۔ (دلوں کی کشش) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا ، اے پروردگار ! (آیت) ” فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم “۔ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے ، آپ نے بعض لوگوں کے لیے دعا کی جو مستجاب ہوئی اور اب دنیا کے تمام انسان تو اس سرزمین کی طرف نہیں آتے ، البتہ کچھ اہل ایمان نہایت ذوق وشوق کے ساتھ اللہ کے اس گھر کی زیارت کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کرتے ہیں یہاں پر تجارت بھی کرتے ہیں اور دل کی پیاس بھی بجھاتے ہیں ، ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بستی کے باشندوں کے لیے یہ دعا بھی کی کہ اے پروردگار ! (آیت) ” وارزقھم من الثمرت “۔ ان کو پھلوں سے رزق عطا فرما ، اللہ تعالیٰ آپ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی ، اس بےآب وگیاہ زمین میں کہیں کہیں کھجور کے نخلستان یا ریگستان کے کسی حصہ میں تربوز تو ہوسکتا ہے عام پھلوں کا سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ، مگر اللہ نے ایسا انتظام کردیا ہے کہ دنیا بھر کے بہترین پھل تروتازہ حالت میں اس سرزمین میں پہنچ رہے ہیں مولانا مناظر احسن گیلانی (رح) نے اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے کہ انہیں عرفات کے میدان میں لیموں کی ضرورت محسوس ہوئی تو اللہ نے وہاں بھی مہیا کردیا ، وگرنہ عام حالات میں وہاں لیموں بچنے کے لیے کون جاتا ہے ؟ الغرض ! اب مملکت سعودی عربیہ میں ہر موسم میں ہر قسم کا پھل بافراط میسر ہے ۔ فرمایا ان کو پھلوں سے روزی عطا فرما (آیت) ” لعلھم یشکرون “۔ تاکہ یہ تیرا شکریہ ادا کریں اسی سورة میں پہلے گزر چکا ہے (آیت) ” لئن شکرتم لازیدنکم “۔ اگر تم شکریہ ادا کرو گے تو میں مزید عطا کروں گا مگر عام طور پر (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “۔ انسان بےانصاف اور ناشکر گزار ہی ہوتے ہیں کفر اور شرک سے بڑھ کر کون سی ناشکری ہو سکتی ہے ، مگر آج بھی انسانوں کی اکثریت اسی میں مبتلا ہے ، بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے حق میں یہی دعا کی کہ وہ اپنے پروردگار کے شکر گزار بندے بن جائیں ۔