14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 14:10–12

قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِی اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَدْعُوْكُمْ لِیَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ قَالُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ؕ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 14:10 in the Quran reader

کہا ان کے رسولوں نے ، کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا وہ تم کو بلاتا ہے تاکہ معاف کرے تمہارے کچھ گناہ اور مہلت دے تم کو ایک مقررہ وقت تک تو کہا ان (کافر) لوگوں نے نہیں ہو تم مگر انسان ہمارے جیسے ، تم چاہتے ہو کہ ہمیں روک دو اس چیز سے کہ ہمارے آباؤ و اجداد عبادت کرتے تھے پس لاؤ ہمارے پاس کوئی کھلی دلیل ۔

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِیَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 14:11 in the Quran reader

کہا ان کے لیے ان کے رسولوں نے ، نہیں ہیں ہم مگر انسان تمہارے جیسے لیکن اللہ تعالیٰ احسان فرماتا ہے جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے ، اور نہیں ہے ہمارے اختیار میں کہ لائیں ہم تمہارے پاس کوئی سند مگر اللہ کے حکم سے ، اور اللہ کی ذات پر ہی چاہیے کہ بھروسہ رکھیں ایمان والے ۔

وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَیْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۠ Open ayah 14:12 in the Quran reader

اور کیا ہے ہمارے لیے کہ ہم نہ بھروسہ رکھیں اللہ پر حالانکہ اس نے ہمیں ہدایت دی ہمارے راستوں کی ، اور ہم ضرور صبر کریں گے اس چیز پر کہ تم ہمیں تکلیفیں پہنچاتے ہو ، اور اللہ کی ذات پر ہی چاہئے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے ۔

(ربط آیات) رسالت کا بیان (آیت) ” ولقد ارسلنا سے شروع ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ اپنی قوم کو تاریخی واقعات اور اللہ کے انعامات یاد دلائیں پھر اسی ضمن میں فرمایا کہ اے لوگو ! اگر تم اللہ کے احسانات کا شکریہ ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں مزید عطا کرے گا اور اگر ناقدری اور ناشکری کرو گے تو اس کا عذاب بھی بڑا سخت ہے ، آپ نے قوم کو یہ بات بھی سمجھائی کہ اگر سارے روئے زمین والے مل کر بھی خدا تعالیٰ کا انکار کردیں تو اللہ تعالیٰ کی سلطنت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ خدا تعالیٰ غنی اور حمید ہے ، پھر آپ نے قوم کو یہ بھی یاد دلایا کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے پاس پہلی قوم کی خبریں آئیں ، انہوں نے ناشکر گزاری کی تو ان کا کیا حشر ہوا ، قوم نوح ، عاد اور ثمود کے بعد آنے والے لوگوں کا بھی یہی حال ہوا جن کی تفصیلات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ، ان اقوام کے پاس ان کے رسول آئے مگر ان لوگوں نے صاف کہہ دیا کہ ہم اس چیز کا صریحا انکار کرتے ہیں ، جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اب آج کی آیات میں ان رسولوں کا جواب آرہا ہے ۔ ّ (دعوت الی اللہ) (آیت) ” قالت رسلھم کہا ان کے رسولوں نے جو نبی جس قوم کی طرف آیا ہے اس نے منکر قوم سے کہا (آیت) ” افی اللہ شک “ کیا تم اللہ کے بارے میں شک کرتے ہو ، کیا تمہیں اللہ کی ذات اور اس کی توحید کے متعلق کوئی تردد ہے اور خدا کی ذات وہ ہے جو کہ (آیت) ” فاطر السموت والارض “۔ جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ، فاطر اور بدیع ہم معنی الفاظ ہیں یعنی وہ ذات جو بغیر کسی نمونے آلے اور مادے کے کسی چیز کو ایجاد کر دے ، کائنات کو مجموعی طور پر اللہ نے ہی پیدا کیا اور اس تخلیق کے لیے نہ تو پہلے کوئی نمونہ موجود تھا اور انہ اس کے لیے کسی آلے اور مادے کی ضرورت تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت کے ساتھ اس کائنات کو پیدا فرمایا تو اللہ کے رسولوں نے کہا کہ کیا تم اس خدا تعالیٰ کے بارے میں شک کرتے ہو جو ہر چیز کا موجد ہے (آیت) ” یاعوکم لیغفرلکم من ذنوبکم “ وہ تمہیں اپنی طرف سے اس لیے بلاتا ہے کہ تمہارے کچھ گناہ معاف کردے روز مرہ زندگی میں انسان سے غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور اگر انسان اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا رہتا ہے تو وہ اس کی کوتاہیوں سے درگزر کرتا رہتا ہے اور اگر بندہ اپنے پروردگار کی طرف بالکل توجہ نہ کرے تو اس کے گناہ جمع ہو کر اس کے لیے وبال جان بن جاتے ہیں۔ (آیت) ” من ذنوبکم سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ معاف نہیں کرتا بلکہ بعض کو معاف فرما دیتا ہے ہر انسان سے دو قسم کے گناہ سرزد ہوتے ہیں ایک قسم کا تعلق حقوق اللہ سے ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے معاف کردیتا ہے بشرطیکہ بندہ اس کے دروازے پر آکر معافی طلب کرلے ، گناہوں کی دوسری قسم حقوق العباد سے متعلق ہے جس کے متعلق خود اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جب تک متعلقہ بندہ ان گناہوں کو معاف نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ بھی ان کو معاف نہیں کریگا ، بعض مقامات پر مطلق گناہوں کی معافی کا ذکر بھی آتا ہے مگر ان سے بھی وہی گناہ مراد ہیں جن کا تعلق اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے بہرحال فرمایا کہ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے کچھ گناہ معاف کر دے ، (آیت) ” ویؤخرکم الی اجل مسمی “۔ اور پھر تمہیں مہلت دے ایک مقررہ مدت تک اللہ تعالیٰ کے علم میں تمہاری جتنی عمر مقرر ہے ، اسے گزارنے کے لیے تمہیں مہلت دے تاکہ گناہوں کی معافی کے بعد تم اچھی زندگی بسر کرسکو ، اسی مضمون کو سورة یونس میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے استغفار کرلو گے اور اس کی طرف رجوع کرو گے ۔ (آیت) ” یمتعکم متاعا حسنا الی اجل مسمی “۔ تو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھی زندگی بسر کر ائیگا ، دوسرے مقام پر (آیت) ” حیوۃ طیبۃ “۔ کے الفاظ بھی آتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ انہیں پاکیزہ زندگی نصیب کرے گا ، اور پاکیزہ زندگی وہ ہے جس کا تعلق ایمان نیکی اور اطاعت کے ساتھ ہے اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعے کہلوایا ک کہ تم اللہ کی طرف آجاؤ وہ تمہارے گناہ معاف کر کے ایک مقررہ وقت تک پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا ۔ (بشری رسالت کا انکار) اللہ کے نبیوں کی اس دعوت کے جواب میں ” قالوا “ کافر اور نافرمان لوگوں نے کہا (آیت) ” ان انتم الا بشر مثلنا “۔ نہیں ہو تم مگر ہمارے جیسے انسان ، ان لوگوں نے نبیوں کی بشریت کے پیش نظر ان کی رسالت کا انکار کردیا ، قرآن کریم میں اس بات کوئی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے کافر کہتے تھے کہ تم بھی تو ہمارے جیسے آدمی ہو تمہیں کون سے سرخاب کے پر لگ گئے ہیں جو تم رسول بن بیٹھے ہو ، اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بناتا ، اس پر وحی نازل کرتا تو وہ کوئی بڑا آدمی ہوتا ، تم جیسے غریب آدمی کو کیسے رسول بنالیا ہے جس کے پاس نہ مال و دولت ہے نہ نوکر چاکر ہیں ، نہ باغات ہیں ، نہ فوج اور جتھہ ہے ، ہم تمہاری بات کو کیسے تسلیم کرلیں کہ تم اللہ کے رسول ہو کہنے لگے (آیت) ” تریدون ان تصدون عما کان یعبد ابآؤنا “۔ تم ہمیں ان چیزوں سے روک دینا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے آباؤاجداد کرتے آئے ہیں ، ہم تو اسی دین کی پیروی کریں گے جس پر ہمارے باپ دادا تھے ، تم ان سے زیادہ عقلمند نہیں ہو جو ان کے طریقے سے ہٹانا چاہتے ہو ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے بھی یہی کہا تھا کہ تم ہمیں ہمارے معبودوں سے دور رکھنا چاہتے ہو ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تو خاص طور پر کہا تھا (آیت) ” لا تذرن الھتکم “۔ (نوح) لوگو ! نوح (علیہ السلام) کے کہنے پر اپنے معبودوں کو نہ چھوڑ بیٹھنا ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مخاطبین نے بھی یہی کہا تھا ، (آیت) ” قالوا حرقوہ وانصروا الھتکم “۔ (الانبیائ) کہ ان کو زندہ جلا دو اپنے معبودوں پر جمے رہو ان کو ترک نہ کرنا۔ کہنے لگے اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو (آیت) ” فاتونا بسلطن مبین تو ہمارے پاس اپنی رسالت کی کوئی کھلی سند لے آؤ ، اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہماری مرضی کی کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرو تب ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کریں گے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، ہر نبی کے ہاتھ پر بیشمار معجزات ظاہر فرمائے مگر کافر لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے انہیں تسلیم نہ کرتے تھے بلکہ ان کے مطالبات اس قسم کے ہوتے تھے کہ ہمارے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور وہاں سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آؤ ، یا فرشتے آکر آپ کی رسالت کی گواہی دیں ، یا خود خدا تعالیٰ سامنے آکر کہے کہ ہاں ! میں نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے کھلی سند سے وہ اس قسم کی نشانیاں مراد لیتے تھے کہ ان کے بغیر ہم آپ کو رسول نہیں مانیں گے ۔ ّ (بشری رسالت کی تصدیق) اس سوال کے جواب میں (آیت) ” قالت لھم رسلھم “ ان کے رسولوں نے انہیں کہا ، جہاں تک انسان ہونے کا تعلق ہے (آیت) ” ان نحن الا بشر مثلکم “۔ نہیں ہیں ہم مگر تمہارے جیسے انسان تمام انبیاء ، اور رسل انسان ہوتے ہیں ، البتہ رسول ، انسانوں کے علاوہ فرشتے بھی ہوتے ہیں ، لیکن نبی ہمیشہ انسان ہی ہوتے ہیں ، علم عقائد والے نبی کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں ” ھوانسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما اوحی الیہ “۔ نبی ایک انسان ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس چیز کی تبلیغ کے لیے مبعوث فرماتا ہے جس کو وہ وحی سے نازل کرتا ہے ۔ جہان تک ماہیت انسانیہ کا تعلق ہے اس میں انسان ہونے کی حیثیت سے سب لوگ برابر ہیں ، سب کے سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ، لیکن جہاں تک درجے اور مرتبے کا تعلق ہے ، اس میں عظیم تفاوت ہے ، نبی انسان ہوتے ہیں مگر صاحب کمال ، انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اللہ کے کامل ترین انسان ہوتے ہیں جو ہر قسم کے گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور امت کے لیے بطور نمونہ باقی امت انہی کے نقش قدم پر چل کر کمال کو پہنچتی ہے اور پھر اولیاء اللہ میں بعض وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں تو کامل ہوتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ وہ دوسروں کو بھی کامل بنا سکیں اور بعض خود بھی کامل ہوتے ہیں ، اور دوسروں کو بھی کامل بنانے والے ہوتے ہیں ان میں بھی فرق ہوتا ہے ۔ بعض کاملین دو آدمیوں کو کامل بناتے ہیں اور بعض ایک جماعت کو کامل بناتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو سب سے زیادہ صلاحیت عطا فرمائی اور آپ نے ایک جہان کو کامل بنایا ، پھر جو لوگ گمراہ ہوتے ہیں وہ ناقص کہلاتے ہیں ، ان میں بھی دو گروہ ہوتے ہیں بعض آدمی وہ ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں گمراہ ہوجاتے ہیں ، وہ ضال کہلاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ فلاں شخص راہ راست سے ہٹا ہوا ہے اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں ، اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ، وہ مضل کہلاتے ہیں ، بہرحال نبیوں کا کمال بہت بلند درجے کا ہوتا ہے مگر وہ بھی نسل انسانی سے ہی تعلق رکھتے ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور خصوصا حضور ﷺ کے لیے منکم اور ” من انفسکم “ کے الفاظ استعمال کیے ہیں یعنی آپ تمہاری ہی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، رسولوں نے فرمایا کہ ہم تمہاری طرح ہی انسان ہیں ، (آیت) ” ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ “۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرماتا ہے اسے نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرما لیتا ہے ، اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اس سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جاتا ، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے جو انبیاء کو حاصل ہوتا ہے ، باقی رہ گیا من مانی نشانی ظاہر کرنا تو اس کے متعلق رسولوں نے کہا (آیت) ” وما کان لنا ان ناتیکم بسلطن الا باذن اللہ “۔ اور ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم کوئی کھلی سند یا نشانی پیش کریں مگر اللہ کے حکم سے جب اللہ کی مشیت ہوتی ہے کوئی معجزہ ظاہر ہوجاتا ہے ہر مطالبے پر نشانی پیش کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے کسی کو ایسے مطالبات نہیں کرنے چاہئیں بلکہ (آیت) ” وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون “۔ مومنوں کو چاہئے کہ اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھیں ۔ (توکل بر خدا) اب اگلی آیت میں اللہ کے نبیوں نے اپنی جماعت کے صبر ، توکل اور استقامت کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “۔ اور کیا ہے ہمارے لیے کہ ہم نہ توکل کریں اللہ تعالیٰ کی ذات پر (آیت) ” وقد ھدنا سبلنا “۔ حالانکہ اس نے ہمارے لیے ہدایت کے راستے واضح کیے ہیں توکل کا معنی یہ ہے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے نتیجہ کا اعتماد صرف خدا تعالیٰ پر رکھا جائے ، اس کے علاوہ کسی پر بھروسہ نہ ہو ، اگر کوئی شخص اسباب پر بھروسہ رکھے گا ، تو مشرک ہوجائے گا کیونکہ اس نے اسباب کو موثر حقیقی سمجھ لیا اللہ تعالیٰ نے ایک خاص درجے تک اسباب میں اثر رکھا ہے جیسے غذا استعمال کرنے سے بھوک مٹتی ہے اور دوائی پینے سے صحت حاصل ہوئی ہے مگر ان کے متعلق یہی گمان رکھنا چاہے کہ اگر اللہ اثر پیدا کرے گا تو غذا کے استعمال سے بھوک مٹے گی ، اگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو غذا کھانے کے باوجود ہضم نہ ہوتی اور انسان الٹا تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ، بعض لوگوں کو جوع الکلب کی بیماری ہوتی ہے ۔ اور زیادہ سے زیادہ کھانے کے باوجود ان کی بھوک نہیں مٹتی ، لہذا غذا ایک سبب ہے مگر اس میں اثر ڈالنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اسی طرح بیماری میں دوا استعمال کی جاتی ہے مگر شفا اسی وقت ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ اس دوا میں فائدہ ڈال دے تو گویا یا دوا موثر بالذات نہیں ہے بلکہ یہ اس وقت مفید ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ اس میں اثر پیدا کرتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ کیا ہے ہمارے لیے کہ ہم اللہ کی ذات پر توکل نہ کریں ۔ (اسباب کی تین قسمیں) فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اسباب تین قسم کے ہوتے ہیں ، پہلی قسم اسباب مقطوعہ اور یہ ایک حد تک قطعی ہوتے ہیں ، ان کو ہر حالت میں اختیار کرنا ضروری ہے ، اور ترک کرنا حرام ہے مثلا کھانے اور پینے میں بقائے حیات مضمر ہے اگر کوئی شخص توکل کرتے ہوئے کھانا پینا چھوڑ کر بھوکوں مر جائے تو یہ توکل نہیں ہوگا ، بلکہ ایسا شخص حرام موت مرے گا ، یہ اسباب مقطوعہ ہیں جن کو ترک کرنا حرام ہے ، البتہ عقیدہ یہی ہونا چاہئے کہ خوراک اور پانی وغیرہ موثر بالذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی ان میں تاثیر پیدا کرتا ہے ۔ دوسری قسم کے اسباب مظنونہ کہلاتے ہیں ، اگرچہ گمان غالب ہوتا ہے کہ ان اسباب میں تاثیر ہوگی مگر یہ بالکل ضروری بھی نہیں ہوتا ، اس کی مثال بیماری میں استعمال کی جانے والی دوائیں ہیں ، بعض اوقات ان کے استعمال سے شفا حاصل ہوجاتی ہے اور بعض اوقات نہیں ہوتی ایک ہی بیماری میں ایک دوائی کسی شخص کے لیے موثر ہوتی ہے اور دوسرے کے لیے نہیں ہوتی ، لہذا دوا استعمال کرنے کے بعد بھروسہ اللہ کی ذات پر ہی ہونا چاہیئے اگر کوئی شخص ان اسباب کو ترک کرکے محض خدا پر بھروسہ رکھے تو یہ کمال درجے کا توکل ہوگا ۔ حدیث شریف میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر آیا ہے جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے یہ ایسے ہی کمال درجے کے متوکل لوگ ہوتے ہیں کہ وہ اسباب مظنونہ کو اختیار نہیں کرتے ،۔ اسباب کی تیسری قسم اسباب موہومہ کہلاتی ہے ، یہ صرف وہم ہوتا ہے کہ ان اسباب کے اختیار کرنے سے ہو سکتا ہے کہ مقصد حاصل ہوجائے ان میں جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈا وغیرہ آتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ان اسباب کو ترک کر دے تو یہ ادنی درجے کا توکل سمجھا جائے گا ، بہرحال یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ کسی سبب میں تاثیر پیدا کردے یا اسے موقوف کر دے ۔ باقی رہی یہ بات کہ اللہ نے ہمارے لیے ہدایت کے راستے واضح کیے ہیں ، یہاں سبلنا ، جمع کا صیغہ آیا ہے یعنی ہدایت کے بہت سے راستے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کے مختلف شعبوں میں ہدایت کے راستوں کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ، سب سے پہلے دین کے معاملے میں اللہ نے راہنمائی فرمائی ہے اور توحید کی طرف دعوت دی ہے ، کفر ، شرک ، نفاق تردد ، شک اور بداعتقادی کو واضح کیا ہے تجارت ، معیشت اور سیاست کے راستے واضح کیے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی میں ان راستوں پر چل سکیں ، اخلاقیات ، صلح وجنگ ، لین دین ، آپس کے معاملات ، ایک دوسرے کے حقوق ، غرضیکہ تمام شعبوں میں ہدایت کے راستے واضح کیے ہیں ، لہذا ہمارے لیے کیا ہے کہ ہم اس ذات پر توکل نہ کریں ۔ (صبر کی دولت) اللہ کے رسولوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ بھی کہا (آیت) ” ولنصبرن علی ما اذیتمونا “۔ اور ہم ضرور صبر کریں گے اس پر جو تم ہمیں تکالیف پہنچاتے ہو نبی کے متعلق کہنا کہ اسے ہم پر کوئی فوقیت حاصل نہیں یہ تو ہمارے جیسا انسان ہے یہ بیوی بچے رکھتا ہے ، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ، کاروبار کرتا ہے ، یہ نعوذ باللہ مفتری اور کذاب ہے اس کے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ، یہ جادوگر ہے ، وغیرہ وغیرہ سب تکلیف وہ باتیں ہیں جن سے اللہ کے نبیوں کو ذہنی طور پر بڑی کوفت ہوتی تھی ، مگر انہوں نے ان سب باتوں پر صبر کیا جو کہ بہت بڑی حقیقت ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان تمام ترتکالیف کے باوجود (آیت) ” وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون “۔ بھروسہ رکھنے والوں کو چاہیے کہ اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھیں ، تعلیم وتبلیغ کے مشن کو جاری رکھیں اور ان مصائب پر دل برداشتہ نہ ہوں ، ہر مومن کا یہی عقیدہ ہونا چاہیئے کہ موثر حقیقی صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور بھروسہ کرنے کے لائق صرف وہی ہے ۔
Ayahs 14:13–17

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 14:13 in the Quran reader

اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا اپنے رسولوں سے کہ ہم ضرور نکال دیں گے تمہیں اپنی سرزمین سے ، یا تم پلٹ آؤ ہماری ملت میں پس وحی کی ان (رسولوں) کی طرف ان کے پروردگار نے کہ بیشک ہم ضرور ہلاک کریں گے ، ظلم کرنے والوں کو ۔

وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ Open ayah 14:14 in the Quran reader

اور ہم ضرور بسائیں گے تم کو زمین میں انکے بعد ، اور یہ بات اس شخص کے لیے جو خوف کھاتا ہے میرے روبرو کھڑا ہونے سے اور خوف کھاتا ہے میری وعید سے ۔

وَ اسْتَفْتَحُوْا وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 14:15 in the Quran reader

اور فیصلہ طلب کیا انہوں نے اور ناکام ہوا ہر متکبر اور عناد کرنے والا ۔

مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّمُ وَ یُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِیْدٍۙ Open ayah 14:16 in the Quran reader

اس کے آگے جہنم ہے اور پلایا جائے گا اس کو پیپ والا پانی ۔

یَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا یَكَادُ یُسِیْغُهٗ وَ یَاْتِیْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَیِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِیْظٌ Open ayah 14:17 in the Quran reader

اس کو گھونٹ گھونٹ کر کے اتارے گا ، اور قریب نہیں کہ ان کو حلق سے اتار سکے ، اور آئیگی اس کے پاس موت ہر طرف سے اور وہ مرنے والا نہیں ہوگا اور اس کے آگے سخت قسم کا عذاب ہوگا ۔

(ربط آیات) اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حقانیت ، اس کے کتاب ہدایت ہونے اور اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لانے کا ذکر کیا ، پھر منکرین قرآن کے انجام کو بیان فرمایا ، اس کے بعد (آیت) ” وما ارسلنا من رسول “۔ سے رسالت کا سلسلہ شروع ہوا ، پھر قوم موسیٰ ، نوح ، عاد ، اور ثمود کا ذکر ہوا اور انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ ان اقوام کے مکالمے کا بیان آیا پھر نبیوں کے طریق کار کا تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کس طرح خدا کی ذات پر بھروسہ کیا ، راہ حق پر گامزن رہے ، اور صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا۔ منکرین نے رسولوں کی بشریت پر بھی اعتراض کیا ، جس کے جواب میں رسولوں نے کہا کہ ہم نے کب کہا ہے کہ ہم انسان نہیں ہیں کبھی فرشتہ یا دیگر مخلوق ہونے کا دعوی نہیں کیا ، نیز یہ کہ تمہاری من مانی نشانیاں پیش کرنا ہمارے اختیار سے باہر ہے کسی بھی معجزے اور نشانی کا اظہار اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے ، البتہ تم ہمیں جو کچھ تکالیف پہنچا رہے ہو ہم اس پر ضرور صبر کریں گے کیونکہ اللہ نے ہمارے لیے ہدایت کے راستے واضح کیے ہیں اور ہم پر احسان فرمائے ہیں ہم تو صرف اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ۔ (کفار کی دھمکی) انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کی اقوام کے لوگوں کے درمیان سلسلہ کلام جاری ہے جب اللہ کے نبیوں نے اپنی بات کی وضاحت دلیل کے ساتھ کی تو انکی اقوام تشدد پر اتر آئیں ، وہ دلیل سے تو کوئی جواب نہ دے سکے ، البتہ دھمکی دی (آیت) ” وقال الذین کفروا لرسلھم “۔ اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا اپنے رسولوں سے یعنی اپنے اپنے زمانے میں اپنے اپنے رسولوں کو ایک ہی طرح کی دھمکی دی (آیت) ” لنخرجنکم من ارضنا “۔ ہم ضرور نکال دیں گے تمہیں اپنی سرزمین سے (آیت) ” اولتعودن فی ملتنا “۔ یا واپس پلٹ آؤ ہماری ملت یعنی دین میں ، مطلب یہ کہ یا تو ہمارا دین قبول کرلو ، اپنا دین چھوڑ دو ، ورنہ ہم تمہیں ملک بدر کردیں گے ۔ زمین سے نکالنے کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں پہلی صورت یہی ہے کہ کسی کو ملک بدر کردیا جائے ، دوسری صورت یہ ہے کہ اسے قید میں ڈال دیا جائے اور اس طرح اس سرزمین میں چلنے پھرنے سے روک دیا جائے ، تیسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ قتل کردیا جائے گویا اس سرزمین کی سطح سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دیا جائے ، اللہ کے اکثر نبیوں کے ساتھ ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا ، چناچہ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے یہی کہا (آیت) ” اخرجوھم من قریتکم انھم اناس یتطھرون “۔ (الاعراف) یہ لوگ بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں ، انہیں اپنی بستی سے نکال دو ، شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا (آیت) ” لنخرجنک یشعیب والذین امنوا معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا “۔ (الاعراف) اے شعیب (علیہ السلام) ! ہم آپ کو اور آپ کے ساتھی ایمانداروں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے ، یا ہماری ملت میں واپس آجاؤ غرضیکہ باطل پرستوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ حق بات سننے کی بجائے دھینگا مشتی اور تشدد پر اتر آتے ہیں ، مکہ کے مشرکین بھی ایسا ہی کرتے رہے ، اللہ نے قرآن میں بہت سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا ہے جن کو بلاوجہ تکلیفیں دی گئیں ، اور بعض کو جان سے مار دیا گیا ، نبی تو معصوم ہوتا ہے مگر کافر جان بوجھ کر ان کو تنگ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اپنے نئے دین کو چھوڑ کر ہمارے پرانے دین میں واپس آجاؤ ۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ اللہ کے نبی یہ پیش کش بھی کرتے تھے کہ اگر تمہیں ہماری بات پسند نہیں تو تم اپنے راستے پر کام کرتے رہو ، ہم اپنا کام جاری رکھیں گے ، پھر دیکھنا نتائج کس کے حق میں نکلتے ہیں ، مگر کافر لوگ یہ بات بھی نہیں مانتے تھے اور پیغمبروں کو مجبور کرتے تھے کہ وہ اپنا مشن ترک کردیں ، حضور خاتم النبیین ﷺ کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا ، آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ، مگر خدا تعالیٰ نے اسے ناکام بنا دیا ، پھر آپ کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کردیا گیا ، ہزار کوشش کے باوجود کفار مکہ نے آپ کی بات کو برداشت نہ کیا بہرحال اللہ نے فرمایا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے مخالفین ان کو دہمکیاں دیتے رہے ، کہ ہمارے دین میں واپس جاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے ۔ (ایک اشکال) اس آیت کریمہ میں (آیت) ” لتعودن “۔ کے لفظ سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے نبی ابتداء کفار کے دین پر ہوتے تھے اور پھر انہوں نے سچا دین اختیار کیا اور اس وجہ سے کفار انہیں پہلے دین پر واپس لانا چاہتے تھے ، مفسرین کرام اس کا جواب دیتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نبی کبھی ایک لحظہ بھر کے لیے بھی کفر وشرک کے دین پر نہیں ہوتے بلکہ وہ ابتداء سے ہی کفر اور شرک سے بیزار ہوتے ہیں ، جیسے فرمایا (آیت) ” ولقد اتینا ابراہیم رشدہ من قبل “۔ (الانبیائ) ہم نے براہیم کو ابتداء ہی سے ہدایت عطا فرمائی لفظ عود کا عام فہم معنی اگرچہ پلٹ آنا ہوتا ہے مگر یہ لفظ محض ہوجانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، سورة یسین میں موجود ہے کہ ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں ، (آیت) ” حتی عاد کالعرجون القدیم “۔ یہاں تک کہ وہ پرانی شاخ کی طرح بالکل باریک اور ٹیڑھا ہوجاتا ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ نبوت ملنے سے پہلے اللہ کا نبی اگرچہ ایمان پر ہوتا ہے مگر فریضہ تبلیغ ادا نہ کرنے کی وجہ سے کافر لوگ انہیں اپنے دین پر ہی سمجھتے ہوں گے ، لہذا انہوں نے اپنے زعم باطل کے مطابق کہہ دیا کہ تم پہلے بھی ہمارے دین پر تھے اب پھر اسی میں پلٹ آؤ ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ کافروں نے عود کا لفظ صرف انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے نہیں بلکہ ان کے پیروکاروں کے لیے بھی استعمال کیا ہے اور ان کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ نبی اور اس کے ماننے والے سارے کے سارے پرانے دین میں واپس آجائیں ، ان کی یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے ، کیونکہ نبی کے پیروکار تو بہرحال ابتدا باطل دین پر ہی تھے اور کافر لوگوں نے ان کی واپسی کے مطالبے کے ساتھ پیغمبروں کو بھی شامل کرلیا ، حالانکہ اللہ کے نبی کبھی بھی باطل دین میں نہیں ہے ، اس طرح آیت کا معنی یہ ہوگا کہ کافروں نے نبی کے پیروکاروں سے کہا کہ تم ہمارے دین میں واپس لوٹ آؤ ، اور پیغمبروں سے کہا کہ تم ہمارا دین اختیار کرلو ، (اللہ کی طرف سے تسلی) کافروں کی اس دھمکی کے جواب میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فاوحی الیھم ربھم “۔ کہ ان کے رب نے وحی کی ان (رسولوں) کی طرف اور ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ فکر نہ کرو کہ اگر یہ لوگ تمہیں تکالیف پہنچا رہے ہیں (آیت) ” لنھلکن الظلمین “ تو ہم بھی ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے کفر اور شرک سب سے بڑے ظلم ہیں ، اللہ کا ارشاد ہے (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “۔ (البقرہ) کافر لوگ ہی ظالم ہیں (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (لقمان) شرک بہت بڑا ظلم ہے منکرین رسول کفر وشرک کا ارتکاب کرکے ظالموں کی فہرست میں شامل ہوگئے تو اللہ نے فرمایا کہ ہم ان ظالموں کی فہرست میں شامل ہوگئے ، تو اللہ نے فرمایا کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے ، ظلم حقوق اللہ اور حقوق العباد میں بھی ہوتا ہے مگر عقیدے میں کفر وشرک کی موجودگی ظلم عظیم ہے ، اور ظلم کی دوسری صورت یہ بھی تھی کہ کافر لوگ اہل ایمان پر تشدد کرتے تھے اور انہیں زبردستی اپنے دین میں لانا چاہتے تھے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کلمہ حق بلند کیا تو کہنے لگے (آیت) ” حرقوہ “ اس کو جلا ڈالو ، یہ تمہارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے ، نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کو کہا کہ اے نوح ! اگر تم اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے ، (آیت) ” لتکونن من المرجومین “۔ (الشعرآئ) تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے لوط (علیہ السلام) سے بھی یہی کہا گیا کہ اگر باز نہ آؤ گے (آیت) ” لتکونن من المخرجین “۔ تو تمہیں نکال دیا جائیگا ۔ اللہ نے فرمایا ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کرینگے (آیت) ” ولنسکننکم الارض من بعدھم “۔ اور ان کے بعد ہم تمہیں اس سرزمین میں آباد کریں گے ، چناچہ اکثر وبیشتر ایسا ہوا ہے کہ عنادی لوگ ہلاک ہوئے اور ان کے بعد اللہ کے نبی مع اپنے متبعین کے وہاں پر آباد ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین دب گئے ، وہ یا تو ایمان لے آئے ، یامارے گئے ، یا ملک بدر ہوئے اور بالآخر حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اس سرزمین پر غالب آئے فرمایا (آیت) ” ذلک لمن خاف مقامی “۔ یہ چیز اس شخص کو حاصل ہوگی جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا ، جس شخص کو محاسبہ اعمال کا خوف ہے ظاہر ہے کہ وہ اعلی اخلاق وکردار کا مالک ہوگا ، اور وہی اس زمین میں خلافت کا حق دار ہوگا ، فرمایا وہ شخص بھی حقدار ہے (آیت) ” وخاف وعید جو میری وعید سے ڈرتا ہے ، ہم ایسے شخصوں کو زمین میں نیابت عطا کرتے ہیں اور ان کے مخالفین کو ہلاک کردیتے ہیں ، جب اس زمین پر تم آباد ہوجاؤ گے تو پھر تمہاری آزمائش بھی شروع ہوجائے گی (آیت) ” کیف تعملون “ کہ تم کس قسم کے کام انجام دیتے ہو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہی فرمایا تھا کہ وہ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرکے اس سرزمین میں تمہیں آباد کرے گا (آیت) ” فینظر کیف تعملون “۔ (الاعراف) پھر وہ آشکارا ا کردے گا کہ تم کیا کاروائی کرتے ہو ، بہرحال اللہ نے اپنے نبیوں کو تسلی دی کہ وہ ظالموں کو ہلاک کرکے ان کی جگہ اہل ایمان کو آباد کرے گا ۔ (فیصلے کا مطالبہ) آگے ارشاد فرمایا (آیت) ” واستفتحوا “۔ اور فیصلہ طلب کیا انہوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے مخالفین کا ذکر ہو رہا ہے تو فیصلہ کس نے طلب کیا ، انبیاء نے یا مخالفین نے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فیصلے کی ضمیر انبیاء کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور ان کے مخالفین کی طرف بھی ، مخالفین کی طرف اس طرح کہ جب بھی اللہ کے نبی انہیں خدا کا پیغام سناتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ سے فیصلہ طلب کرتے تھے (آیت) ” اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوائتنا بعذاب الیم “۔ (انفال) اے اللہ ! اگر یہ قرآن تیری سچی کتاب ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسایا ہم پر کوئی دردناک عذاب بھیج دے ہم تو اس کتاب کو ماننے کے لیے تیار نہیں جو ہمارے معبودوں کی مذمت کرتی ہے ، نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے یہی کہا تھا ، (آیت) ’ فاتنا بما تعدنا “۔ (ھود) جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو ، اس کو لے آؤ ، حضرت شعیب (علیہ السلام) سے بھی اسی قسم کا فیصلہ طلب کیا گیا ۔ (آیت) ” فاسقط علینا کسفا من السمآء “۔ (الشعرآئ) اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے ۔ (آیت) ” واستفتحوا “۔ کی ضمیر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرف لوٹانا بھی درست ہے ، اکثر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات میں ملتا ہے کہ ان کی پوری سعی کے باوجود جب قوم راہ راست پر نہ آئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے آخری فیصلہ طلب کیا چناچہ نوح (علیہ السلام) نے تنگ آکر رب العزت سے دعا کی (آیت) ” فافتح بینی وبینھم فتحا “۔ پروردگار میرے اور ان کے درمیان اب فیصلہ کردے (آیت) ” ونجنی ومن معی من المؤمنین “۔ (الشعرآئ) اور مجھے اور میرے ایماندار ساتھیوں کو نجات دے دے لوط (علیہ السلام) نے بھی یہی عرض کیا تھا ، کہ مولا کریم ! میں ان ظالموں سے تنگ آچکا ہوں ، اب تو اپنا فیصلہ دے دے ، (آیت) ” رب نجنی واھلی ممایعملون “۔ مجھے اور میرے لواحقین گو ان کے گندے کاموں سے نجات دے یہ بھی فیصلے کی درخواست تھی ، شعیب (علیہ السلام) نے بھی ان الفاظ کے ساتھ فیصلہ طلب کیا (آیت) ” ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفتحین “۔ (الاعراف) پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ، سورة یونس میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر بھی آتا ہے کہ انہوں نے بارگاہ رب العزت میں اس طرح دعا کی ، اے پروردگار ! تو نے فرعون اور اس کے حواریوں کو مال و دولت دیا ہے یہ تو نعمت ہے ، کیا یہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے عطا کیا ہے (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم “۔ پروردگار ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے اور پھر یہ عذاب الیم کا شکار بن جائیں ، بہرحال فیصلہ طلب کرنے والے انبیاء بھی ہوسکتے ہیں اور ان کے مخالفین بھی ، حضرت مولنا شیخ الہند (رح) نے اس درخواست کو انبیاء کی طرف منسوب کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ (منکرین کے لیے سزا) فرمایا ، انہوں نے فیصلہ طلب کیا (آیت) ” وخاب کل جبار عنید “۔ اور ہر ضدی آدمی ذلیل و خوار ہوا ، عناد رکھنے والے ظالم لوگوں کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہوتی بلکہ وہ تو سزا کے مستحق ہوتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” من ورآء ہ جھنم “۔ اس کے آگے جہنم ہے عنادی لوگ جب اگلے جہاں میں پہنچیں گے تو جہنم ان کے آگے پیش کردی جائے گی ، وراء کا لفظ ظرف ہے ، اور یہ آگے اور پیچھے دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے ، تاہم یہاں پر آگے کا معنی زیادہ موزوں ہے ، اس معنی کی مثالیں دوسرے مقامات پر بھی موجود ہیں جیسے (آیت) ” من ورائھم برزخ الی یوم یبعثون “ (المومنون) جب مرتے ہیں تو ان کے آگے برزخ ہوتا ہے ” من ورآء المرء مایعکم “۔ آدمی کے آگے وہی چیز ہوتی ہے جس کو وہ جانتا ہے ، فرمایا انسان کی زندگی دائمی نہیں ہے اور اس کے آگے جہنم ہے اس میں (آیت) ” ویسقی من مآء صدید “۔ پلایا جائے گا وہ شخص پیپ ملا ہوا پانی دوزخیوں کو زرد رنگ کا بدبو دار پانی پینے کے لیے دیا جائے گا جو جہنمیوں کے زخموں سے نکالے گا ، جب پیاس کی شدت محسوس ہوگی ” یتجرعہ “ تو اس پانی کو گھونٹ گھونٹ کرکے پئے گا (آیت) ” ولا یکاد لیسیغہ “۔ اور قریب نہیں کہ اس کو حلق سے نیچے اتار سکے ، سیاغت کا معنی خوشگواری کے ساتھ نگلنا ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ دوزخی آدمی اس پیپ ملے پانی کو آسانی کے ساتھ حلق سے نیچے نہیں اتار سکے گا ، یہ پانی اس قدر گرم ہوگا کہ منہ کے قریب آکر اسے جلا ڈالے گا ، سورة محمد میں موجود ہے کہ پانی اتنا گرم ہوگا جس سے فقطع امعآء ھم ان کی آنتیں کٹ کر نیچے گر پڑیں گی ، اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی جگہ پر آجائیں گی اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا ، اس طرح جہنمی اس پانی کی آسانی سے نہیں پی سکے گا یہ اس کو دی جانے سزا کا ذکر ہو رہا ہے ۔ ایسے شخص کے متعلق اللہ نے مزید فرمایا (آیت) ” ویاتیہ الموت من کل مکان “۔ اس کو ہر طرف سے موت آئے گی ، موت سے مراد اسباب موت ہیں ، یعنی ایسی کڑی سزائیں ملیں گی کہ ہر سزا موت کا پیشہ خیمہ ہوسکتی ہے مگر وہ شخص مریگا نہیں وہاں تو امر ربی ہوگا ، (آیت) ” کلمانضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (النسائ) جب جسم کی کھال آگ کی تپش سے جل جائے گی تو کی جگہ فورا دوسری کھال پہننادی جائے گی ، (آیت) ” وما ھو بمیت “۔ اور اس شخص کو موت نہیں آئیگی بلکہ وہ ہمیشہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہی رہے گا ، (آیت) ” ومن ورآئہ عذاب غلیظ اور اس کے آگے سخت قسم کا عذاب ہوگا جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ جواب ہے ان لوگوں کو جو اللہ کے نبیوں کو دہمکیاں دیتے تھے کہ تم ہمارے دین کو قبول کرلو ، ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے اللہ نے اپنے نبیوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا یہ انجام ہونے والا ہے ۔
Ayahs 14:18–20

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اِ۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ Open ayah 14:18 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا ہے اپنے رب کے ساتھ ، ان کے اعمال مثل راکھ کے ہیں کہ سخت ہوگئی ہے اس کے ساتھ ہوا شدید آندھی کے دن ، نہیں قادر ہوں گے وہ اس چیز میں سے کسی شے پر بھی جس کو انہوں نے کمایا اور یہ گمراہی ہے دور کی ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ ، اگر وہ چاہے تو تم کو لے جائے اور لائے وہ نئی مخلوق ۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

اور نہیں ہے یہ اللہ تعالیٰ پر کوئی دشوار۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں ذکر ہوچکا ہے کہ کافر لوگ اللہ کے نبیوں کو دہمکی دیتے تھے کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ ورنہ ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال دیں گے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ہم ظالموں کو ضرور ہلاک کریں گے اور ان کے بعد اس زمین میں تمہیں آباد کریں گے فرمایا یہ سعادت اس شخص کو حاصل ہوگی جو محاسبہ اعمال کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے اور اس کی وعید سے خوف کھاتا ہے ، پھر فرمایا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا ان کی قوموں نے اللہ سے فیصلہ طلب کیا جس کے نتیجے میں ہر منکر اور ضدی آدمی ہلاک ہوا ، ایسے لوگوں کو جہنم میں پیپ ملا پانی پینے کو ملیگا جسے وہ گھونٹ گھونٹ کرکے نگلنے کی کوشش کریں گے مگر اس کا نگلنا مشکل ہوگا جہنمی لوگوں کو اسباب موت ہر طرف سے گھیریں گے مگر انہیں موت نہیں آئے گی ، بلکہ وہ موت وحیات کی کشمکش میں عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ (کفار کے اعمال کی امثال) انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو تسلی دینے اور کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کا حال ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم “۔ اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کرنے والے لوگوں کے اعمال کی مثال (آیت) ” کرماداشتدت بہ الریح “۔ راکھ کی ہے جو ہوا کے ساتھ سخت ہوگئی ہو ، مطلب یہ ہے کہ کفار کے اعمال راکھ کے ڈھیر کے مانند ہیں کہ جب تیز ہوا چلے تو سارا ڈھیر اڑ جائے اور ان کے پاس کچھ نہ رہے ، کفر سے مراد اللہ کی ذات ، صفات ، اس کی وحدانیت نبوت و رسالت ، قیامت ، ملائکہ اور تقدیر کا انکار ہے ، اعمال سے مراد اگر کفریہ اور شرکیہ اعمال ہیں تو ظاہر ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی کیا وقعت ہے ، وہ جتنے بھی اعمال کرتے ہیں ان کے لیے وبال جان بن جائیں گے ، البتہ کافروں کے بعد نیک اعمال بھی ہو سکتے ہیں ، بعض کافر لوگ بھی صدقہ خیرات کرتے ہیں ، انسانی ہمدردی کے جملہ امور انجام دیتے ہیں سکول اور ہسپتال بناتے ہیں ، تو کیا ان کے یہ اعمال بھی اکارت جائیں گے ؟ فرمایا (آیت) ” فی یوم عاصف “۔ آندھی کے دن یعنی جب قیامت کی آندھی آئیگی تو یہ سب اعمال راکھ کی مانند اڑجائیں گے ، (آیت) ” لایقدرون مما کسبوا علی شی ئ “۔ اس دن اپنی کمائی کی کسی چیز پر قادر نہیں ہوں گے ، اور ان کے رفاہ عامہ کے کام بھی ضائع ہوجائیں گے ۔ (ایمان شرط قبولیت ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اعمال کی قبولیت ایمان پر موقوف ہے اگر ایمان نہیں ہے تو بڑے سے بڑا عمل بھی کام نہیں آئے گا قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے کہ پسندیدہ لوگ وہ ہیں (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ جو ایمان لائے اور پھر نیک اعمال انجام دیے جب تک ایمان نہیں ہوگا ، اعمال کی کچھ قدر نہیں ہوگی ، سورة الانبیاء میں ہے (آیت) ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلاکفران لسعیہ “۔ جس شخص نے نیک اعمال انجام دے بشرطیکہ وہ مومن ہے تو اس کی محنت کی ناقدری نہیں کی جائے گی اس سے بھی معلوم ہوا کہ قبولیت اعمال کے لیے ایمان کا ہونا شرط ہے ، اگر انسان کا ایمان درست نہیں ، فکر پاک نہیں ، عقیدہ صحیح نہیں تو اچھے سے اچھا عمل بھی فائدہ نہیں دے گا ، جس طرح نماز کے لیے طہارت شرط ہے اسی طرح اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کافر لوگ اپنے رعم میں جو بھی اچھے کام کرتے ہیں ، ان کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے اور پھر آخرت میں ان کے لیے کچھ نہیں ہوتا ، دنیا میں ہی ان کی شہرت ہوجاتی ہے ، مال و دولت حاصل ہوجاتا ہے ، اقتدار مل جاتا ہے اولاد حاصل ہوتی ہے مگر آخرت سے خالی ہوتے ہیں ، جب تک ایمان درست نہیں ہوگا ، اعمال میں ثقل نہیں ہوگا اور وہ قیامت کی آندھی میں راکھ کی طرح اڑجائیں گے ، بےوزن اور ہلکے اعمال کے متعلق سورة القارعہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” واما من خفت موازینۃ فامہ ھاویۃ “ ان کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا ۔ آج کی دنیا میں بھی ایمان سے خالی کافر ، مشرک ، یہودی ، عیسائی ، کیمونسٹ ، دہریے ہنود اور سکھ ہیں جو رفاعہ عامہ کے بڑے بڑے کام انجام دیتے ہیں برطانیہ ، امریکہ اور روس نے یونیورسٹیاں اور ہسپتال قائم کر رکھے ہیں ، دنیا میں جہاں کہیں تباہی آتی ہے ، قحط واقع ہوتا ہے ، سیلاب اور زلزلہ آتا ہے تو فورا مدد کو پہنچتے ہیں اور انہیں ان کاموں پر بڑا فخر ہے ، پرانے زمانے میں بھی بڑی بڑی تہذیبیں گزری ہیں جنہوں نے بڑے بڑے کام کیے ، ٹیکسلا کے مقام پر گندھارا تہذیب آج سے تین ہزار سال پہلے بڑے عروج پر تھی ، ان کی عمارات ، برتن صنعت وحرفت آج بھی لوگوں کو حیرت میں ڈال رہی ہے منجوڈھارو اور ہڑپہ میں ملنے والی چھ ہزار سالہ پرانی تہذیب کے عجیب و غریب نشانات ملے ہیں ، پرانی قوموں میں قوم عاد ، اور ثمود کے پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے مکانات آج بھی دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ، بہار کی پرانی عمارتیں ، چین اور جاپان کے بڑے بڑے معبد ، مصریوں کے اہرام وغیرہ ان قوموں کی عظمت کے نشان ہیں ، آج کے زمانے میں بھی لوگ بڑی بڑی عمارتوں کھیل کے میدانوں ، ناچ گھروں اور آرٹ گیلریوں پر فخر کرتے ہیں ، مگر اللہ نے فرمایا کہ ایمان کی عدم موجودگی میں ان کے تمام کام راکھ کے ڈھیر کی طرح اڑ جائیں گے اور وہ لوگ خالی ہاتھ رہ جائیں گے ، میو کا قائم کردہ ہسپتال ، دیال سنگھ کالج اور لائبریری ، گلاب دیوی اور گنگا رام کا ہسپتال ، ان کے ہزاروں اوقاف اور رفاعہ عامہ کے کام قیامت والے دن بےسود ثابت ہوں گے آج دنیا میں ان کا نام لیا جارہا ہے ، ان کو شہرت حاصل ہے مگر یہ اسی دنیا تک محدود ہے آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ ایمان سے خالی گئے ۔ (دور کی گمراہی) فرمایا (آیت) ” ذلک ھو الضلل البعید “۔ یہ سب کچھ دور کی گمراہی ہے ، کافر لوگ باطل زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ انسانی ہمدردی کے کام کر رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ بہک کر دور جا پڑے ہیں ، وہ اپنے آپ کو کتنا بھی مہذب ، شائستہ اور ترقی یافتہ سمجھیں حقیقت میں وہ جہنم کے کندہ ناتراش ہیں ، صدر ہو یا وزیر ، تاجر ہو یا صناع سائنسدان ہو یا فلاسفر ، اگر ایمان سے خالی ہے تو کچھ بھی نہیں ، چونکہ انہیں ایمان کی قدروقیمت نہیں ، اس لیے وہ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ، (مخلوق کی تبدیلی) فرمایا ، اے مخاطب ! (آیت) ” الم تران اللہ خلق السموت والارض بالحق “۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو حق کی ساتھ پیدا کیا ہے ، اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق ان چیزوں کو ایسا ہی پیدا کیا ہے جیسا ان کو ہونا چاہئے تھا ، تو جس طرح ان چیزوں کا آغاز ہوا ہے ، اسی طرح ان کا انجام بھی ہوگا ، اور پھر جزائے عمل واقع ہوگی ورنہ حکمت ہی باطل ہو جائیگی ، اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے قانون کی پابندی پر مامور کیا ہے ، ملکیت کی ترقی اور بہیمیت کی کمزوری اس قانون پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہوگی نبیوں کی بات برحق ہے اور بہتر انجام کے لیے ایمان لازمی ہے ، فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا خالق ہے ، اسی طرح وہ علیم کل اور قادر مطلق بھی ہے ، اگر تم اس کے قانون کی خلاف ورزی کرو گے ، مقصد تخلیق کا حق ادا نہیں کروگے تو اللہ تعالیٰ کو تمہاری کچھ پرواہ نہیں (آیت) ” ان یشایذھبکم “۔ اگر وہ چاہے تو تمہیں لے جائے (آیت) ” ویات بخلق جدید “۔ اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق لے آئے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سابقہ اقوام کی مثالیں بیان کی ہیں کہ وہ کیسے کیسے متمدن سلطنتوں کے مالک ، جسیم اور طاقتور تھے مگر نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیا ، اللہ تعالیٰ نے سورة الحآقۃ میں قوم عاد کا ذکر کرکے فرمایا (آیت) ” فھل تری لھم من باقیۃ “۔ کیا ان میں سے فرد واحد بھی باقی بچا ؟ سب نابود ہوگئے ، اللہ نے ان کو چن چن کر ہلاک کیا آج بھی اگر اللہ چاہے ، تو تمام کافروں مشرکوں ، یہود ونصاری دہریوں اور بےدینوں کو ہلاک کر دے ، مگر یہ اس کی حکمت اور مصلحت ہے کہ وہ مہلت دیتا رہتا ہے (آیت) ” ان ربک لبالمرصاد “۔ (الفجر) تیرا رب تو گھات میں رہتا ہے ، وہ حظیرۃ القدس سے نگرانی کر رہا ہے جب چاہے گا نافرمانوں کی رسی کھینچ لے گا ، اسی لیے فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو تم کو اس دنیا سے ہٹا دے اور تمہاری جگہ کوئی نئی مخلوق لے آئے ۔ فرمایا (آیت) ” وما ذلک علی اللہ بعزیز “۔ اور ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ دشوار نہیں ، وہ ہر کام کرنے پر قادر ہے ، اس میں اہل ایمان کے لیے عبرت ہے کہ اگر وہ دین پر قائم نہ رہے ، تو ان کا حشر بھی سابقہ قوموں سے مختلف نہیں ہوگا ، جو وعید سابقہ اقوام پر آئی وہ ان پر بھی آسکتی ہے ، اللہ کا فرمان ہے کہ اگر تم اس کے احکام پر عمل نہیں کروگے تو اس کو حق حاصل ہے کہ (آیت) ” ویستبدل قوما غیرکم “۔ (التوبۃ) تمہیں ملیامیٹ کرکے تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم لے آئے جو تم جیسے بدعمل نہ ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو کھڑا کر دے گا ، جو تمہاری طرح ناہجار مفسد شرارتی ، مادہ پرست ، جاہ طلب اور خود غرض نہیں ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تسلی کے لیے نازل فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ اہل ایمان کے لیے عبرت کا مقام بھی ہے ، کہ اگر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کریں گے ، کفر ، شرک ، نفاق اور الحاد کا راستہ اختیار کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی ختم کر کے دوسروں کو ان کی جگہ پر لانے پر قادر ہے ، کافروں کو زعم تھا کہ انہوں نے دنیا میں بڑے اچھے اچھے کام کیے ، دنیا میں ان کی پوزیشن بھی اچھی خاصی تھی مگر ان کے سارے اعمال راکھ کا ڈھیر ثابت ہوئے ، اگر کسی کو اس دنیا میں مہلت مل رہی ہے ، تو اسے مغرور نہیں ہونا چاہئے کیونکہ خدا تعالیٰ جب چاہے گا رسی کھینچ لے گا اور ایسا کرنا اس کے لیے کچھ دشوار نہیں ۔
Ayah 14:21

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور ظاہر ہوں گے یہ لوگ سب کے سب اللہ کے سامنے پس کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جنہوں نے تکبر کیا ، بیشک ہم تھے تمہارے تابع پس کیا ہو تم بچانے والے ہم سے اللہ کے عذاب میں سے کچھ وہ کہیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تم کو ہدایت کرتے برابر ہے ہمارے اوپر کہ ہم بےقراری کا اظہار کریں یا ہم صبر کریں ، نہیں ہے لیے خلاصی کی کوئی صورت ۔

(ربط آیات) رسالت کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین توحید رسالت کا انجام بھی بیان فرمایا اور یہ بھی کہ جو کفر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور جن کا عقیدہ پاک نہیں ، ان کے اچھے اعمال بھی ضائع ہوجاتے ہیں ، قیامت کے دن ایسے اعمال راکھ کے ڈھیر کی مانند ہوں گے جنہیں آندھی اڑا لے جائے ، فرمایا اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے ، جب تک ایمان درست نہیں ہوگا عقیدہ خالص نہیں ہوگا ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین نہیں ہوگا ، اس وقت تک اعمال بےسود ہونگے ایسے لوگوں نے کارخانہ قدرت کو سمجھا ہی نہیں ، وہ اس بات کو نہیں پاسکے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق پیدا کیا ہے اور جزائے عمل واقع ہو کر رہے گی ، (خدا کے حضور پیشی) اب آج کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کی اس حالت کا ذکر کیا ہے جو قیامت کے دن پیش آئے گی اور جس میں انہیں ندامت اور شرمندگی اٹھانا پڑے گی ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وبرزوا للہ جمیعا “۔ اور ظاہر ہوں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے دربار میں پیشی ہوگی ’ برز “ کا لغوی معنی ظاہر ہونا ہے اور اس کے مقابلہ میں کمون آتا ہے جس کا معنی چھپ جانا ہے بروز اور کمون فلسفے کی اصطلاح بھی ہے جب پانی ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کی برودت ظاہر اور حرارت مخفی ہوتی ہے اور جب اسے گرم کیا جائے تو برودت چھپ جاتی اور حرارت ظاہر ہوجاتی ہے ، مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کا ظاہر ہوجانا بروز کہلاتا ہے ، اسی طریقے سے ہر انسان کے اندر بھی بروز اور کمون ہے ، آج کی دنیا میں مادیت ، اور بہیمیت ظاہر ہے اور نوع انسانی پر غالب ہے اس کے مقابلے میں ملکیت دبی ہوئی ہے ، امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ جہاں تبدیل ہوجائے گا تو پھر بہیمیت غائب ہو کر ملکیت نمایاں ہوجائے گی اس وقت لوگوں کو بڑی تکلیف ہوگی ، کیونکہ انہوں نے دنیا میں ملکیت کو طاقتور نہیں بنایا ۔ (مخفی کاموں کا ظہور) مفسرین کرام اس مسئلہ کو مختلف طریقوں سے سمجھاتے ہیں ، امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ کافر ، نافرمان اور اصحاب معاصی لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اس دنیا میں جو کام چھپ کر کرتے ہیں ، وہ کبھی ظاہر نہیں ہوں گے ، بلکہ ہمیشہ مخفی ہی رہیں گے ، ظاہر ہے کہ برائی کے اکثر کام چھپ کر ہی کیے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ جب ساری مخلوق خدا کے سامنے پیش ہوگی تو ان غلط کاروں پر اس وقت واضح ہوگا کہ آج پوشیدہ طور پر انجام دیے گئے کام چھپ نہیں سکیں گے ، بلکہ سارے کے سارے ظاہر ہوجائیں گے ، سورة الطارق میں آتا ہے (آیت) ” یوم تبلی السرآئر “۔ اس دن تمام راز آشکارہ ہوجائیں گے ، یہی بروز ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ بروز دو قسم سے ہے ، پہلا بروز اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی موت واقع ہوتی ہے ، یہ قیامت صغری ہے ۔ 1 (من مات فقد قامت قیامتہ “۔ جو شخص مرگیا اس کی قیامت تو واقع ہوگئی ، اور اس موقع پر زندگی بھر کی تمام پوشیدہ باتیں ظاہر ہوجاتی ہیں اور مرنے والے کی زندگی کا پورا نقشہ اس کے سامنے آجاتا ہے بروز کا دوسرا موقع وہ ہوگا جب قیامت برپا ہوجائے گی ، اور میدان محشر میں محاسبے کی منزل آئیگی ، اس وقت بھی تمام پوشیدہ باتیں ظاہر ہوجائیں گی ، اکثر حکماء یہی بیان کرتے ہیں کہ ملکیت اور کمال والی باتیں آج چھپی ہوئی ہیں مگر میدان محشر میں یہ سب نمایاں ہوجائیں گی ، اور یہاں کی مادیت اور بہیمیت والی باتیں وہاں چھپ جائیں گی ، اس دن سب کے سب لوگ اللہ کے دربار میں حاضر ہوں گے اور منکرین خجالت اور شرمندگی میں غلطان ہوں گے ۔ (تابع اور متبوع) یہاں پر اللہ تعالیٰ نے میدان حشر کے حوالے سے وہاں پر جمع ہونے والے تابع اور متبوع کے درمیان ہونے والے مکالمے کا ذکر فرمایا ہے ، آج دنیا میں تابع اور متبوع کی بیشمار مثالیں دیکھنے میں آرہی ہیں کوئی کسی لیڈر کا تابع ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کا کسی شخص نے کسی مولوی کو اپنا متبوع بنا رکھا ہے تو کوئی کسی پیر کا تابع ہے اس مسئلے کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر بیان فرمایا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس دنیا میں کسی کے پیچھے بلا سوچے سمجھے اندھا دھند چلنے والے قیامت کے دن کچھ فائدہ حاصل نہیں کرسکیں گے ، بلکہ اس دن انہیں اس فعل پر حسرت اور ندامت ہوگی ، سورة بقرہ میں ہے کہ قیامت کے دن تابع اور متبوع کے تمام اسباب ٹوٹ جائیں گے وہ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اس وقت تابع متبوعین سے کہیں گے کہ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم تم سے اسی طرح بیزار ہوجاتے جس طرح آج تم نے برات کا اظہار کرو یا ، سورة احزاب میں ہے کہ تابع کہیں گے (آیت) ” ربنا انا اطعنا سادتنا وکبرآء نا “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کا کہا مانا تو انہوں نے ہمیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیا ، اب ان کو دگنا عذاب دیا جائیگا کیونکہ تمہارے بڑوں نے تمہیں بہکایا اور تم نے آگے دوسروں کو گمراہ کیا ، اس لیے تمہارے لیے بھی ڈبل سزا ہے ۔ غرضیکہ تابع اور متبوع آپس میں جھگڑیں گے ، آنکھیں بند کرکے کسی کا اتباع کرنا بڑی خطرناک بات ہے ، زندگی بھر سوچا ہی نہ کہ یہ ہمیں کدھر لے جا رہا ہے ، وہ تو اپنی چوہدراہٹ ، خود غرضی اور مقصد براری کے لیے لوگوں کو پیچھے پیچھے چلا رہے تھے مگر تابعین اپنے اعمال کو ضائع کرتے رہے ، اللہ تعالیٰ نے عقل جیسا عظیم جوہر عطا کیا تھا ، ہدایت کے جملہ اسباب مہیا کیے تھے مگر انہوں نے ان سے کوئی کام نہ لیا اور اندھا دھند اتباع کرتے رہے جس کے نتیجے میں شرمندگی اٹھانا پڑی ۔ (عذاب میں تخفیف کی تدبیر) ایسے ہی تابعین اور متبوعین کے متعلق فرمایا کہ جب وہ سب کے سب اللہ کی بارگار میں پیش ہوں گے (آیت) ” فقال الضعفؤا للذین استکبروا “۔ تو کہیں گے کمزور لوگ متکبرین یعنی اپنے بڑوں سے ۔ (آیت) ” انا کنا لکم تبعا “ ہم دنیا میں تمہارے تابع تھے ، تمہارے کہنے پر چلتے تھے ، تمہاری ہاں میں ہاں ملاتے تھے ، تم نے جونسی رسم ادا کرنے کو کہا ہم کرتے رہے اور جو افعال تم انجام دیتے تھے ، وہ ہم بھی انجام دیتے رہے (آیت) ” فھل انتم مغنون عنا من عذاب اللہ من شیئ “ ۔ تو کیا آج تم ہم پر سے اللہ کے عذاب میں سے کچھ ٹال سکتے ہو یعنی آج ہمیں عذاب الہی سے تخفیف دلا سکتے ہو ؟ قالوا “۔ وہ لوگ جواب دیں گے ۔ (آیت) ” لوھدنا اللہ لھدینکم اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت کے راستے پر ڈال دیتے ، مگر ہم تو خود زندگی پھر گمراہ رہے تمہیں سیدھا راستہ کیے دکھاتے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ متبوعین کا یہ کہنا کہ اگر اللہ ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی اس راستے پر ڈال دیتے ، خدا پر الزام دینے کے مترادف ہے وہ سمجھیں گے کہ ایسا کہنے سے بچ جائیں گے کہ ہمیں تو اللہ نے ہدایت ہی نہیں دی ، ہم کیا کرسکتے تھے ؟ فرمایا اس قسم کا عذر مشرکین بھی کریں گے اور کہیں گے (آیت) ” لو شاء اللہ ما اشرکنا “۔ (الانعام) اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ، سورة النحل میں مشرکین کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں (آیت) ” لوشآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء “ اگر اللہ چاہتا تو ہم اس کے سوال کسی چیز کی عبادت نہ کرتے فرمایا اس طرح کے حیلے بہانے سے کفار ومشرکین اپنی بےگناہی کا جواز پیدا کر نیکی کوشش کریں گے ، مگر رب العزت کی عدالت میں کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا ، بعض فرماتے ہیں ، کہ (آیت) ” لوھدنا اللہ “۔ سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ افسوس کا اظہار کریں گے کہ ہماری ضد اور عناد کی وجہ سے ہمیں ہدایت کی توفیق ہی نہ مل سکی ، اگر ہم کو توفیق نصیب ہوتی تو ہم تمہاری راہنمائی بھی ہدایت کی طرف کرتے ، ہم تو خود بھٹکے ہوئے تھے ، تمہیں سیدھے راستے پر کیسے لے آتے ، ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ، اور سارے ہی عذاب میں مبتلا ہوں گے ، (بےقراری یا صبر) متبوعین یہ بھی کہیں گے (آیت) ” سوآء علینا اجزعنا ام صبرنا “۔ برابر ہے ہمارے لیے ، اب ہم بےقراری کا اظہار کریں یا صبر کریں ہم اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے ، ایک روایت میں آتا ہے کہ کافر اور نافرمان لوگ آپس میں مشورہ کرکے کہیں گے کہ چلو بےصبری اور جزع فزع کریں ، چیخ و پکار کریں ، شاید ہمارے عذاب میں کچھ کمی واقع ہوجائے ، چناچہ وہ لوگ پانچ سو سال تک گریہ وزاری کرتے رہیں گے مگر جواب نہیں آئے گا ، پھر مشورہ کریں گے اور کہیں گے کہ اچھا صبر کرکے دیکھتے ہیں ، پھر وہ خاموش ہوجائیں گے اور مزید پانچ سو سال گزر جائیں گے مگر کوئی جواب نہیں آئے گا ، امام زہری (رح) اور بعض دوسرے بزرگان دین کا مقولہ ہے کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد یہ جواب آئے گا کہ تم اسی میں ذلیل ہو کر رہو (آیت) ” ولا تکلموا “۔ اور کوئی بات نہ کرو کہ تمہاری بات نہیں سنی جائے گی ۔ غرضیکہ وہ کہیں گے کہ بےصبری کا اظہار کریں یا صبر کریں (آیت) ” مالنا من محیص “۔ ہمارے لیے خلاصی کی کوئی صورت نہ ہوگی ، ہمارا رونا پیٹنا اور گڑ گڑانا کسی کام نہیں آئے گا اور ہم عذاب سے کسی صورت میں بھی رہائی حاصل نہ کرسکیں گے ، اب ہمارا یہی انجام ہے تابع اور متبوع کا یہ مکالمہ اللہ نے ذکر کیا ہے ، پہلے تابع اپنے متبوعین سے مدد کے لیے کہیں گے مگر ان کی طرف سے جواب دے دیا جائے گا پھر متبوعین عاجز آکر کہیں گے کہ جس بلا میں ہم گرفتار ہوچکے ہیں ، اس سے چھٹکارا کسی طور ممکن نہیں خواہ ہم چیخ و پکار کریں یا صبر کا دامن تھامے رکھیں ۔