14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 14:22–23

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور کہے گا شیطان جب کہ فیصلہ کردیا جائیگا معاملے کا بیشک اللہ نے وعدہ کیا تھا تمہارے ساتھ سچا وعدہ اور میں نے وعدہ کیا تھا تمہارے ساتھ ، پس میں نے اس کی خلاف ورزی کی اور نہیں تھا میرے لیے تمہارے اوپر کوئی غلبہ مگر یہ کہ میں نے تم کو دعوت دی تو تم نے میری بات قبول کرلی ، پس نہ ملامت کرو مجھ کو اور ملامت کرو اپنی جانوں کو میں نہیں فریاد رسی کرنے والا تمہاری اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو ، بیشک میں نے انکار کیا اس چیز کا کہ تم نے مجھے شریک بنایا اس سے پہلے بیشک ظالموں کے لیے عذاب الیم ہے ۔

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے بہشتوں میں بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں اپنے رب کے حکم سے ان کی ملاقات ان (بہشتوں) میں سلام سے ہوگا ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں تابع اور متبوع کا ذکر تھا ، جن لوگوں نے کفر ، شرک اور معاصی میں ایک دوسرے کا اتباع کیا عقل سے کام نہ لیا اور آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے کے پیچھے چلتے رہے ، اللہ نے ان کا حال بیان کیا جو قیامت کے دن پیش آنے والا ہے اس وقت پیچھے چلنے والے کمزور لوگ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، تم جس طرح کہتے رہے ، ہم کرتے رہے ، لہذا آج اللہ کے عذاب میں کچھ تخفیف کرا کے دو ، مگر متبوعین صاف جواب دیں گے کہ ہم تو خود کفر وشرک اور گمراہی میں غرق تھے تمہیں راہ راست پر کیے لاتے ، اب ہم سب برابر کے مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں ہم بیقراری کا اظہار کریں یا صبر کریں ، اب یہاں سے رہائی ممکن نہیں ، یہ اللہ تعالیٰ نے تابع اور متبوع کا مکالمہ اور ان کی پریشانی کا حال بیان کیا ہے ۔ (جہنمی اور شیطان آمنے سامنے) اب اسی سلسلے میں اللہ نے شیطان کا حال بیان کیا ہے جو تمام گمراہوں کا سردار اور تمام انسانوں کا ازلی دشمن ہے (آیت) ” وقال الشیطن لما قضی الامر “۔ اور کہے گا شیطان جب معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا ، یہاں پر قال ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جب کہ یہ بات آئندہ قیامت کے دن پیش آنے والی ہے ، قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ قطعی طور پر پیش آنے والی چیز کیلئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے ، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس بیان میں کسی قسم کا شک نہیں ، یہ ضرور ہو کر رہے گا ، قیامت پر با ہونے کے بعد جب تمام انسانوں کا حساب کتاب ہو کر جزائے عمل واقع ہوجائے گی ، نیک لوگ جنت میں اور کفر اور شرک کرنے والے دوزخ میں پہنچ جائیں گے تو اس وقت یہ واقعہ پیش آئے گا ، دنیا میں شیطان کی پیروی کرنے والے لوگ شیطان کو گلے سے پکڑ کر ملامت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تیرے بہکانے کی وجہ سے برے مقام میں پہنچے ہیں ، اب ہمیں یہاں سے بچ نکلنے یا عذاب میں تخفیف کے لیے کوئی تدبیر بتا ، تو اس وقت شیطان ان کو یہ جواب دے گا ، جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں آرہا ہے ۔ بعض مفسرین (آیت) ” لما قضی الامر “۔ سے اللہ تعالیٰ کا وہ آخری فیصلہ مراد لیتے ہیں کہ جس کے ذریعے جنت اور دوزخ والوں کا بالکل آخری فیصلہ کر دیاجائے گا ، حساب کے نتیجے میں بعض لوگ جنت میں چلے جائیں گے اور بعض دوزخ میں بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کا عقیدہ صحیح اور ایمان پختہ تھا ، مگر انہوں نے اعمال میں کوتاہی کی تھی یا مخلوق کے حقوق تلف کیے تھے ، ایسے لوگ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے پھر ان کی سفارش کا ذکر بھی صحیح احادیث میں ملتا ہے کہ انبیاء ، شہداء ، اور صالحین اور سب سے بڑھ کر حضور ﷺ لوگوں کی سفارش کریں گے تو انہیں دوزخ سے نکال لیا جائے گا ، بعض کو سزا بھگتنے کے بعد رہائی مل جائے گی ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس آدمی کا حال بھی بتلایا جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا ، بڑے عرصے کے بعد وہ آہستہ آہستہ بتدریج جنت کے دروازے میں داخل ہو سکے گا ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اب دوزخ میں وہی لوگ رہ جائیں گے جن کو قرآن نے روک دیا ہے وہ قطعی طور پر بدعقیدہ لوگ ہوں گے اور انہیں وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا ایسے موقع پر ابدی جہنمی شیطان کو کہیں گے کہ تو نے ہمیں بہکایا تھا اب تو ہی ہمیں یہاں سے خلاصی کی کوئی تدبیر بتا تو اس وقت ان دوزخیوں کے سامنے یہ تقریر کرے گا ، ۔ (امام شعبی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد امام شعبی (رح) عظیم المرتبت ، امام محدث اور فقیہہ تھے آپ نے پانچ سو صحابہ کی زیارت کی ہے اور اس لحاظ سے تابعین میں شمار ہوتے ہیں ، آپ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد ہیں اور کوفے میں قیام تھا ، آپ کے علم وورع کی بنا پر حکومت وقت نے آپ کو عہدہ قضاء پر فائز کرنا چاہا ، مگر آپ اس ذمہ داری سے بچنا چاہتے تھے کیونکہ آپ کو حضور ﷺ کا یہ قول یاد تھا کہ جس کو قاضی بنایا گیا وہ بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا آج تو جج کی بڑی قدرومنزلت ہے اور یہ خوب عیش کرتے ہیں مگر پتہ تو اس وقت چلے گا ، جب خدا کی عدالت میں فیصلے ہوں گے امام شعبی (رح) کی طرح امام ابوحنیفہ (رح) کو بھی قضا کی پیش کش کی گئی مگر آپ نے قبول نہ کی کیونکہ آپ کو خطرہ تھا کہ وقت کے حکمران کوئی غلط کام نہ کروا لیں ، امام مالک (رح) کو بھی اسی لیے سزا بھگتنا پڑی کہ وہ حکومت وقت کی غلط کاروایوں پر تنقید کرتے تھے ، امام شعبی (رح) کو بھی ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑا یہ سب لوگ دین کے معاملہ میں بڑے محتاط تھے ، ان میں تقوی اور پرہیز گاری تھی جبھی تو کروڑوں آدمی ان حضرات کے متبعین میں سے ہیں غرضیکہ امام شعبی (رح) نے قضا سے بچنے کے لیے کئی حیلے کیے ، ایک موقع پر ہاتھی آگیا تو بچے دیکھنے کے لیے اس کے گرد جمع ہوگئے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امام صاحب بھی بچوں میں شامل ہوگئے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ کوئی اعلی مرتبے کے آدمی نہیں ہیں ، لہذا یہ عہدہ قضا کے قابل نہیں ایک دفعہ کبوتر اڑانے والے بچوں کا تماشہ دیکھنے چلے گئے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ کوئی لا ابالی قسم کے آدمی ہیں ، مقصد یہ تھا کہ لوگ مجھ سے بدظن ہوجائیں اور قضاء کے عہدے پر فائز نہ ہوسکوں ، آپ اتنے محتاط تھے ، یہ واقعات امام سرخسی (رح) نے اپنی کتاب سیر الکبیر میں نقل کیے ہیں ۔ الغرض ! امام شعبی (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے دو شخصوں کو بہت مبغوض دیکھا جن میں سے ایک جنوں میں سے ہے اور دوسرا انسانوں میں سے جنوں میں سے شیطان ہے کہ اللہ نے اسے سجدے کا حکم دیا تو اس نے انکار کردیا ، اور انسانوں میں سے فرعون ہے جس نے کہا تھا (آیت) ” انا ربکم الاعلی “۔ (النزعت) کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ۔ (شیطان کی تقریر) بہرحال جب اہل دوزخ شیطان کو گھیریں گے اور اس کی ملامت کریں گے کہ ہماری رہائی کی کوئی صورت پیدا کر تو اس وقت شیطان یہ جواب دے گا (آیت) ” ان اللہ وعدکم وعد الحق “۔ بیشک اللہ نے تم سے وعدہ کیا تھا سچا وعدہ کہ اگر ایمان لاؤ گے ، نیکی اختیار کرو گے تو تمہیں رحمت کے مقام تک پہنچاؤں گا ، اللہ نے تمہیں حکم دیا تھا کہ اس کی وحدانیت کو تسلیم کرو ، اس کے نبیوں اور کتابوں پر ایمان لاؤ قیامت کو برحق مانو تو میں تمہیں عزت کا مقام عطا کروں گا ، اللہ نے تو تم سے بالکل سچا وعدہ کیا تھا (آیت) ” ووعدتکم فاخلفتکم “۔ اور میں نے بھی تم سے وعدہ کیا تھا پس میں نے اس کی خلاف ورزی کی یعنی میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا ، سورة نساء میں شیطان کا یہ قول موجود ہے (آیت) ” ولاضلنھم ولا منینھم ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام “۔ میں اولاد آدم کو ضرور گمراہ کروں گا ، ان کی جھوٹی ، آرزوئیں دلاؤں گا اور انہیں جانوروں کے کان کاٹنے کا حکم دونگا اگلی آیت میں ہے (آیت) ” یعدھم ویمنیھم شیطان انہیں جھوٹے وعدے اور جھوٹی آزوئیں دلاتا ہے (آیت) ” وما یعدھم الشیطن الا غرورا “۔ مگر شیطان کے وعدے تو نرا دھوکا ہیں سورة انعام میں ہے (آیت) ” وزین لھم الشیطن ما کانوا یعملون “۔ شیطان ان کے برے اعمال کو مزین کر کے دکھاتا ہے ، کھیل تماشہ ، لہو ولعب اور بری رسومات کو خوش کن بنا کر پیش کرتا ہے اور آخر کار لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ بہرحال شیطان ان دوزخ والوں سے کہے گا کہ میں نے تم سے جو بھی جھوٹا وعدہ کیا تھا ، اس کو ایفا نہ کیا اور حقیقت یہ ہے (آیت) ” وما کان لی علیکم من سلطن “۔ اور میرا تم پر کوئی غلبہ تو نہیں تھا میں نے تم سے کوئی چیز زبردستی تو نہیں منوائی تھی ، بات صرف اتنی تھی کہ (آیت) ” الا ان دعوتکم “ کہ میں نے تمہیں دعوت دی تم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ (آیت) ” فاستجبتم لی “ پس تم نے میری دعوت قبول کرلی ، میں نے تمہیں جس طرف لگایا تم اسی طرف چلے گئے تم نے اللہ کے سچے وعدے کا کوئی خیال نہ کیا بائیبل کے بیان کے مطابق شیطان نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ میرے جھوٹے وعدے پر تم نے یقین کرلیا اور ابراہیم خلیل اللہ اور موسیٰ کلیم اللہ کی زبان پر یقین نہ کیا اب صورت حال یہ ہے (آیت) ” فلا تلومونی “۔ کہ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اس وقت تم نے خود بےعقلی کا ثبوت دیا ، میرے جھوٹے وعدے اور جھوٹی آرزوں پر یقین کرلیا اور اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کی زبان پر یقین نہ کیا ، لہذا تم اپنے انجام کے خود ذمہ دار ہو ۔ (ملامت کے قابل کون) شیطان کہے گا کہ مجھے ملامت نہ کرو (آیت) ” ولوموا انفسکم “۔ بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو ، تم نے اتنا بھی نہ سوچا کہ ایک جھوٹے ، غلط کار اور بدترین دشمن کی بات پر یقین کر رہے ہو اور خدا تعالیٰ اور اس کے انبیاء کے وعدوں پر تمہیں اعتماد نہیں ، اب مجھے کیوں ملامت کرتے ہو ، میں تو خود مبتلائے عذاب ہوں (آیت) ” ما انا بمصرخکم “۔ اور تمہاری فریاد رسی نہیں کرسکتا (آیت) ” وما انتم بمصرخی “۔ اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو ، اگر میں تمہیں پکاروں کہ میرے عذاب میں تخفیف کا بندوبست کر دو تو جس طرح تم آج میری مدد نہیں کرسکتے اسی طرح میں بھی بےبس ہوں ۔ شیطان مزید کہے گا (آیت) ” انی کفرت بما اشرکتمون من قبل “۔ میں تو انکار کرتا ہوں اس چیز کا کہ تم نے مجھے اس کے ساتھ شریک بنایا اس سے پہلے تم نے خدا کی بات کونہ مانا اور مجھے اس کے ساتھ شریک ٹھہرا کر میری بات کے پیچھے لگ گئے ، میرے ہی کہنے پر تم کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا ہوئے ، میں نے تو تمہیں صرف دعوت دی تھی ، مگر تم نے بلا سوچے سمجھے اور بغیر غور وفکر کیے مجھے اللہ کا شریک بنا لیا ، میں ان سب چیزوں کا انکار کرتا ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے (آیت) ” ان الظلمین لھم عذاب الیم “۔ ظلم کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا ، شیطان نے صاف کہہ دیا کہ کفر اور شرک سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں اور اب اس کا بھگتان عذاب کی صورت میں کرنا ہوگا ۔ (اہل ایمان کی کامیابی) کفر اور شرک کے مقابلے میں ایمان اور اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر بھی ہو رہا ہے کیونکہ قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں ترہیب کی بات ہوتی ہے ساتھ ترغیب کا ذکر بھی کہا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے : (آیت) ” وادخل الذین امنوا وعملوا الصلحت جنت “۔ اور داخل کیے جائیں گے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیے جنت میں ، نیک اعمال میں نماز ، روزہ ، زکوۃ ، اور حج بنیادی عبادات شامل ہیں اور باقی تمام نیک امور انہی کے تابع ہیں وہ باغات یا بہشت ایسے ہوں گے (آیت) ” تجری من تحتھا الانھر “۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی ، یہ باغات ہر وقت سرسبزوشاداب اور پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے ، ان میں نہ کوئی گندگی ہوگی اور نہ آلودگی انسان ذہن کے مطابق اللہ نے جنت کی روحانی ، مادی اور جسمانی راحتوں کا ذکر کیا ہے جو وہاں میسر ہوں گی ، اور پھر یہ ہے کہ یہ نعمتیں عارضی نہیں ہونگی اور نہ اہل جنت کو کچھ عرصہ کے بعد وہاں سے نکال لیا جائے گا ، بلکہ (آیت) ” خلدین فیھا باذن ربھم “۔ اپنے پروردگار کے حکم سے جنتی وہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے ، وہاں سے نکالے جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، دنیا میں کتنی بڑی سے بڑی نعمت میسر ہو مگر اس کے چھن جانے کا خطرہ ہر وقت سر پر سوار رہتا ہے ، وگرنہ موت تو انسان کے سر پر ہر وقت کھڑی ہے تو تمام دنیاوی نعمتوں کو یکسر ختم کردینے والی ہے مگر جنت کی نعمتیں ایسی ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گی یہاں پر تو نہریں خشک ہوجاتی ہیں پھل موسم میں لگتے ہیں مگر جنت کی نہریں بھی سدا بہار اور اس کے پھل بھی سارا سال قائم رہیں گے ، جونہی ایک پھل توڑ کر استعمال کیا جائے گا ، اس کی جگہ فورا دوسرا پھل آجائے گا ۔ (سلامتی کی دعائیں) ان بہشتوں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ ان میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو سلام کے ساتھ ملیں گے (آیت) ” تحیتھم فیھا سلام “۔ کا یہی مطلب ہے کہ ہر طرف سلامتی کا چرچا ہوگا اور فرشتے بھی اہل جنت کو سلام کریں گے ، ادھر پروردگار کی طرف سے بھی پیغام سلام ہی آئے گا ۔ (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “۔ (یس) اے میرے بندو ! تم پر سلامتی ہو ، شاہ عبدالقادر (رح) یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ سلام ایک دعا ہے ، اسی لیے ملاقات کے وقت سلام مسنون قرار دیا گیا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے ” افشوا السلام بینکم علی من عرفتہ ومن لم تعرفہ “۔ آپس میں سلام کو پھیلاؤ خواہ کسی کو جانتے ہو یا نہیں جانتے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو ، سلام میں پہل کرنے والے کا اجر بھی زیادہ ہے ، مطلب یہی ہے کہ تمہیں دینی ودنیاوی ، مادی ، اور روحانی اعتبار سے سلامتی نصیب ہو ، شاہ صاحب فرماتے ہیں ، کہ جنت میں سلام کا مطلب مبارک باد ہے تمام جنتی ایک دوسرے کو اس کامیابی پر مبارکباد پیش کریں گے ۔
Ayahs 14:24–26

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کیسے اللہ نے بیان کی ہے مثال پاک کلمے کی جیسا کہ ایک پاکیزہ درخت ہوتا ہے اس کی جڑ بہت مضبوط اور اس کی شاخیں فضائے آسمانی میں ہوتی ہیں ۔

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

وہ لیتا ہے اپنے پھل ہر وقت اپنے رب کے حکم سے اور بیان کرتا ہے اللہ تعالیٰ مثالیں لوگوں کے لیے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور مثال گندے کلمے کی جیسا کہ ایک گندا درخت ہوتا ہے جس کو اکھاڑ دیا گیا ہے زمین کے اوپر سے نہیں اس کے لیے ٹھہراؤ ۔

(ربط آیات) اس سے پہلے رسالت اور قیامت کے متعلق ذکر تھا اور اب توحید کا بیان آرہا ہے ، آج کی آیات کریمہ میں اللہ کی وحدانیت کی بنیاد ذکر کی جارہی ہے جبکہ اس کے دلائل اگلی آیات میں آرہے ہیں جیسا کہ گذشتہ دروس میں بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں دین کے بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، جن میں توحید ، رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کے عقائد شامل ہیں ، ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے معترضین کا رد اچھے طریقے سے کیا ہے ۔ (کلمہ طیبہ کی مثال) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے ، بعض اوقات مثال کے ذریعے کسی چیز کی کما حقہ وضاحت ہو کر وہ چیز انسانی ذہن کے قریب تر آجاتی ہے ، اسی لیے اللہ نے قرآن میں بہت سے مسائل کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا ہے ، اس درس میں کلمہ طیبہ کی مثال ایک پاک درخت سے اور کلمہ خبیثہ کی مثال گندے درخت کے ساتھ دی گئی ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم ترکیف ضرب اللہ مثلا “۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مثال بیان فرمائی ہے ، ضرب کا لغوی معنی مارنا اور سفر کرنا ہوتا ہے اور یہ بیان کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے ، اس مقام پر بیان کرنے والا معنی ہی موزوں ہے (آیت) ” الم تر “ کی ترکیب کسی بات کی طرف خصوصی توجہ دلانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر بھی یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے کہ اے مخاطب ! کیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مثال بیان فرمائی ہے (آیت) ” کلمۃ طیبۃ کشجرطیبۃ “۔ پاک کلمے کی مثال پاک درخت کی سی ہے اور اس درخت کی خصوصیات یہ ہیں (آیت) ” اصلھا ثابت “۔ اس کی جڑ مضبوط ہے (آیت) ” وفرعھا فی السمآء “ اور اس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہیں ، یہ ایسا سبز و شاداب اور بار آور درخت ہے (آیت) ” تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا “۔ کہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا رہتا ہے ۔ اس مقام پر پاک کلمے سے مراد کلمہ توحید ہے جو کہ تمام شرائع الہیہ کی بنیاد ہے ، اللہ نے اس کی مثال ایک درخت کے ساتھ دی ہے ، درخت بھی مختلف الانواع ہوتے ہیں ، کوئی خوبصورت اور شیریں پھل والے جب کہ بعض دوسرے بدصورت اور ذائقہ میں کڑوے ، درخت اور دیگر نباتات کی اللہ نے اتنی قسمیں پیدا کی ہیں جو انسانی شمار سے باہر ہیں ، علم نباتات (BOTONY باٹنی) کے ماہرین نباتات کی دس لاکھ قسمیں بتاتے ہیں یہ سب انسان کی مصلحت کے لیے ہیں ، بعض درخت چھوٹے قد کے اور بعض بہت لمبے ہوتے ہیں ، بعض کے تنے باریک اور بعض کے بہت موٹے ہوجاتے ہیں ، بعض درختوں کی چھاؤں بہت کم ہوتی ہے اور بعض بڑے گھنے اور دور دور تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں ، ان کے پھل بھی مختلف ہوتے ہیں ، بعض نہایت شیریں اور ذائقہ دار جبکہ بعض دوسرے کڑوے کسیلے اور بدبودار ، فلسفے والے بھی مخلوق کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ، یعنی جمادات ، نباتات اور حیوانات بہرحال اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ کلمے یعنی کلمہ توحید کو نباتات میں سے پاکیزہ درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ (درخت اور مسلم مرد) حضور ﷺ کا یہ معمول تھا کہ بعض اوقات کسی بات کو سمجھانے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرماتے تھے ، چناچہ ایک مجلس میں آپ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمایا ” ان من شجرۃ کر جل مسلم حد ثونی ماھی “۔ درختوں میں سے ایک درخت مسلم مرد کی مانند ہے ، میرے صحابہ ! بتاؤ وہ کون سا درخت ہے ؟ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ اس مجلس میں بڑے بڑے اکابر صحابہ موجود تھے جن میں حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ بھی شامل تھے ۔ مگر کسی نے لب کشائی کی جرات نہ کی حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے سوال کا جواب میرے ذہن میں آچکا تھا ، مگر اکابر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کی موجودگی میں اپنی کم سنی کی بدولت میں نے جواب دینے کی ہمت نہ کی بالآخر حضور ﷺ نے خود ہی جواب دیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے جسے مرد مسلم کے ساتھ مشابہت ہے حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بعد میں اپنے والد گرامی سے اس جواب کے متعلق ذکر کیا کہ یہ میرے ذہن میں آچکا تھا مگر آپ کی موجودگی میں خاموش رہا ، تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر تم یہ جواب مجلس میں دے دیتے تو یہ میرے لیے نہایت خوشی کا مقام ہوتا اور مجھے تمہاری ذہانت پر فخر ہوتا ۔ (پاکیزہ درخت کی خصوصیات) امام بغوی (رح) ، امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ جس پاک کلمہ کی مثال اس مقام پر دی گئی ہے ، وہ کلمہ توحید ہے ، اور جس درخت کے ساتھ مثال دی گئی ہے ، وہ کھجور کا درخت ہے ، فرماتے ہیں کہ ایک پاک درخت کی تین خصوصیات ہوسکتی ہیں یعنی اس کی جڑ مضبوط ہو ، تنا قائم ہو اور شاخیں پھیلی ہوئی ہوں ، یہ تینوں خصوصیات کھجور کے درخت میں پائی جاتی ہیں ، کھجور کے درخت کی جڑ بہت مضبوط اور زمین کے اندر دور دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے ، صحرائی علاقوں میں جہاں پانی نایاب ہوتا ہے کھجور کی جڑ دور دور سے مادہ حیات جذب کرتی ہے ، ظاہر ہے کہ درختوں کو غذا تو زمین سے جڑ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے جب کہ تازہ ہوا پتوں کے ذریعے ملتی ہے ، چناچہ درختوں کی یہ خصوصیت ہے کہ رات کے وقت اپنا گندا بخار باہر نکالتے ہیں جب کہ دن کے وقت گندی ہوا پتوں کے ذریعے اپنے اندر جذب کرتے ہیں اسی لیے دن کے وقت درختوں کی ٹھنڈی ہوا انسانی صحت کے لیے مفید اور رات کو درختوں کے نیچے سونا مضر ہوتا ہے ۔ (کلمہ طیبہ کی خصوصیات) جس طرح پاکیزہ درخت کی تین خصوصیات ہیں ، اسی طرح پاکیزہ کلمہ بھی تین صفات کا حامل ہے ، پہلی بات یہ ہے کہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ “ کے لیے تصدیق قلبی کا ہونا ضروری ہے ، یہ تصدیق درخت کی جڑ کی مانند ہے ، جس طرح جڑ کے بغیر درخت قائم نہیں رہ سکتا ، اسی طرح تصدیق قلبی کے بغیر کلمے کا کچھ اعتبار نہیں ، مومن اور منافق میں یہی فرق ہے ، کہ منافق زبانی اقرار کے باوجود دل سے تصدیق نہیں کرتا ، لہذا وہ ایماندار نہیں ہوتا ، دوسری صفت یہ ہے کہ انسان زبان سے اس کا اقرار کرے ، امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک کوئی شخص زبان سے کلمہ توحید کا اقرار نہیں کرتا اسے مسلمان نہیں سمجھا جاتا ، نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاتا ہے ، اور نہ اس پر اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں ، تو گویا اجرائے احکام کے لیے اقرار باللسان ضروری ہے جس طرح درخت کے لیے تنا ضروری ہے ، اسی طرح زبانی اقراء کے ساتھ کلمہ توحید کو ثبات حاصل ہوتا ہے ، زبانی اقرار کے ساتھ ہی کوئی شخص صاحب ایمان سمجھا جاتا ہے اس سے رشتے ناطے کیے جاتے ہیں اور مسلمانوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ، حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب کوئی کافر یا مشرک زبان سے ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا کلمہ ادا کر دے تو اس کی عزت وآبرو ، جان ومال محفوظ ہوجاتا ہے ، اور اس سے لڑائی ختم ہوجاتی ہے ، گویا زبانی اقرار درخت کے تنے کی مانند ہے کلمہ توحید کے لیے تیسری صفت عمل بالارکان ہے ، یعنی انسان تصدیق قلبی اور اقرار باللسان کے بعد کلمہ توحید کے احکام پر عمل بھی کرے ، ہر ایماندار پر لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اعضاء وجوارح کے ذریعے اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کی طرف سے جاری ہونیوالے تمام احکام پر کما حقہ عمل کرے اس کی مثال درخت کی شاخوں کی مانند ہے جو فضا میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ، اسی طرح انسان کا عمل بھی دور دور تک ہر شعبہ زندگی میں پھیلا ہوا ہوتا ہے ، یہ پاکیزہ درخت اور کلمہ طیبہ کی مثال کا ذکر ہوگیا ۔ (مرد مسلمان اور کھجور کا درخت) مفسرین فرماتے ہیں کہ کھجور کے درخت کو ایک مرد مسلمان سے اس لحاظ سے بھی متشابہت ہے کہ جس طرح کھجور کا درخت سدا بہار ہوتا ہے نہ اس کے پتے گرتے ہیں اور نہ شاخیں خشک ہوتی ہیں ، اسی طرح مرد مومن بھی ہمیشہ ایمان اور نیکی کے ساتھ متلبس ہوتا ہے ، اس کے دل میں نور ایمان اور نور توحید ہوتا ہے اور زبان سے اس کا اقرار ہوتا ہے ، اس کے اعضاوجوارح ہمیشہ اعمال صالحہ انجام دیتے رہتے ہیں اور ایسا شخص ہر آن بنی نوع انسان کے لیے مفید ہوتا ہے ۔ اس درخت کے ساتھ مرد مومن کی مشابہت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس طرح انسان کا سرکٹ جانے سے کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی طرح اگر کھجور کے درخت کا اوپر کا حصہ کاٹ دیا جائے تو وہ بھی خشک ہوجاتا ہے ، اسکی چوٹی دوبارہ پیدا نہیں ہوتی ، اسی طرح یہ بھی مقولہ ہے کہ اگر آدمی کے سرکے اوپر سے پانی گزر جائے تو جس طرح وہ زندہ نہیں رہ سکتا ، اسی طرح سیلاب میں اگر کھجور کے درخت کا سر ڈوب جائے تو وہ بھی مر جاتا ہے ، غرضیکہ کھجور کے درخت اور مرد مسلمان میں یہ بھی مشابہت پائی جاتی ہے ۔ (سدا بار آور کھجور) کھجور کے درخت کے بار آور ہونے کے متعلق (آیت) ” کل حین “ کے الفاظ آئے ہیں حین کا اطلاق مطلق وقت پر ہوتا ہے ، مگر امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر حین سے مراد چھ ماہ ہیں کہ جن کے دوران کھجور میں تازہ پھل آجاتا ہے ، کھجوریں دیر تک ذخیرہ کی جاسکتی ہیں اور دیگر پھلوں کی طرح یہ جلدی گل سڑ کر خراب نہیں ہوتیں ابھی سابقہ فصل کی کھجوریں گھروں اور منڈیوں میں موجود ہوتی ہیں ، جب کہ تازہ پھل بھی اترنا شروع ہوجاتا ہے ، اس لیے اسے سدا بار آور درخت بھی کہا جاتا ہے مومن آدمی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، وہ ہر وقت اعمال صالحہ انجام دیتا رہتا ہے جس سے دوسرے لوگ بھی مستفید ہوتے ہیں ، ایسا آدمی تینوں شرائط پوری کرتا ہے ، اس کے ایمان کی جڑ مضبوط ہوتی ہے یعنی وہ دل سے تصدیق کرتا ہے ، زبان سے اقرار کرتا ہے اور اعمال صالحہ بھی انجام دیتا رہتا ہے ۔ (شاہ ولی اللہ کی توجیہہ) امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مومن آدمی کا کلمہ توحید تمام شرائع الہیہ کی بنیاد ہے اور شرائع الہیہ کا منبع عالم ملکوت میں ہے اس کی شاخیں اور پھل اس جہان میں ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اس کے برخلاف کفر وشرک کا کلمہ ناپاک ہے ، عالم ملکوت میں اس کا کوئی استقرار نہیں ہوتا اگرچہ دنیا میں کسی وقت تھوڑا بہت پھیلاؤ ہوجاتا ہے تو پاک کلمہ سے کلمہ توحید مراد ہے ، اگر انسان زبان سے خدا کی تسبیح تنزیہہ ، تحمید اور تکبیر بیان کرتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتا ہے یا نصیحت کی کوئی بات کرتا ہے تو وہ سب کچھ کلمہ توحید کے ضمن میں آئے گا جس طرح درخت کی بنیاد اس کی جڑ ہوتی ہے اسی طرح تمام شرائع کی بنیاد عالم ملکوت میں قائم ہے جو ہر مومن کے دل میں راسخ ہے اور اس کا عمل دور دور تک پھیلا ہوتا ہے ، درخت کی شاخوں کے پھیلاؤ کے لیے (آیت) ” فی السمآء “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے عربی زبان میں السماء آسمان کے علاوہ چھت اور ہر اس بلند چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو سر پر سایہ فگن ہو چونکہ پاکیزہ اخلاق دور دور تک پھیل جاتے ہیں اس لیے اس کا اطلاق السماء پر بھی کیا گیا ہے اس کی جڑ تصدیق قلبی ، اس کا تنا زبانی اقرار اور اس کی شاخیں عمل بالارکان ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” ویضرب اللہ الامثال للناس “۔ اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتا ہے لوگوں کے لیے (آیت) ” لعلھم یتذکرون “۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ، مثال بیان کرنے سے بعض اوقات بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے ، لہذا اللہ نے جگہ جگہ مثالیں بیان فرمائی ہیں ۔ (کلمہ خبیثہ کی مثال) فرمایا (آیت) ” ومثل کلمۃ خبیثۃ کشجرۃ خبیثۃ “۔ اور گندے کلمے کی مثال گندے درخت کی ہے (آیت) ” اجتثت من فوق الارض “۔ جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ دیا گیا ہو ، اس درخت کی جڑ بھی مضبوط نہیں اور یہ بدبودار اور کڑوا بھی ہے ، مفسرین کرام نے خبیث درخت سے مختلف درخت مراد لیے ہیں ، تاہم زیادہ مشہور یہ ہے کہ اس سے اندر رائن یعنی تنبہ کا پودا مراد ہے ، اس کی بیل زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہے ، جڑ بالکل کمزور جو ذرا سا کھینچنے سے اکھڑ جائے اور مزا کڑوا ، پہلے پارے میں گزر چکا ہے (آیت) ” خلق لکم ما فی الارض جمیعا “۔ اللہ نے زمین کی ہر چیز تمہارے فائدے کے لیے پیدا گی ہے ، چناچہ بعض کڑوی ، کسیلی اور زہریلی چیزیں بھی کارآمدبنائی جاسکتی ہیں ، اقبال نے جبھی تو کہا ہے ، میں وہ ہوں کہ زہر سے بھی شہدا اور تریاق بنا لیتا ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کمال عطا فرمایا ہے کہ وہ مضر چیزوں سے بھی مفید چیزیں بنا لیتے ہیں ، چناچہ طبیب لوگ تنبے جیسی کڑوی چیز سے اچار ، مربہ اور اسہال لانے والی دوائی تیار کرلیتے ہیں ، تاہم بنیادی طور پر یہ پودا ناپختہ ، بدبودار اور اس کا پھل کڑوا ہے ، کفر وشرک والا گندا کلمہ بھی اس پودے کی طرح بےبنیاد ، بدبودار اور بدذائقہ ہوتا ہے ، فرمایا یہ خبیث پودا ایسا ہے (آیت) ” مالھا من قرار “۔ جس کو ثبات حاصل نہیں ہے حق کو ثبات حاصل ہوتا ہے اور اس کے نتائج تمام جہان والوں پر واضح ہوتے ہیں ، اس کے برخلاف کفر اور شرک وقتی طور پر دنیا میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے ، اس کی تہ میں بڑا شور وشر اور ہنگامہ ہوتا ہے ، مگر یہ ناپائیدار ہوتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی ، جب اگلا جہان آئے گا تو اس کی حقیقت معلوم ہوگی ، الغرض ! اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کی مثال پاک درخت سے دی ہے جب کہ کفر وشرک کو بدبودار اور بدذائقہ درخت کے مشابہ قرار دیا ہے ، دونوں کا فرق واضح کردیا ہے تاکہ لوگ ا سے نصیحت پکڑیں ۔
Ayah 14:27

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھتا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ساتھ دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ، اور گمراہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو ، اور کرتا ہے اللہ تعالیٰ جو چاہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں رسالت ، قیامت اور جزائے عمل کا ذکر تھا ، اب توحید کا ذکر ہو رہا ہے ۔ گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی کہ توحید کے پاک کلمے کی مثال پاکیزہ درخت کی ہے جس کی جڑ مضبوط ، تنا ثابت اور شاخیں فضا میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں ، ایسا درخت سدا بار آور ہوتا ہے ، اسی طرح کلمہ توحید کی جڑ عالم ملکوت میں ہے اور اس کلمے کو دنیا میں اپنا کر لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مومن کے دل میں اس کلمے کی تصدیق قلبی بہت گہری ہوتی ہے ، زبان سے اس کا اقرار بھی بڑا سچا ہوتا ہے ، اور اعضاوجوارح کے ساتھ وہ ہمیشہ صداقت کا ثبوت پیش کرتا ہے ، اس کے اعمال واخلاق ظاہر ہوتے رہتے ہیں ۔ فرمایا برخلاف اس کے کلمہ کفر کی مثال گندے درخت کی ہے جس کا پھل بدبودار اور کڑوا ہو ، مفسرین اس ضمن میں تنبے کا ذکر کرتے ہیں ، اس پودے کی جڑیں زمین میں مضبوط نہیں ہوتیں ، بلکہ زمین کے اوپر ہی ہوتی ہیں اور ذرا سی جنبش سے اکھڑ جاتی ہیں ، ایسے کلمے کو عالم ملکوت میں کوئی استقرار نہیں ہوتا ، امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ بعض اوقات دنیا میں اس کا بڑا پھیلاؤ ہوتا ہے تھوڑی دیر کے لیے ابھرتا ہے مگر جلد ہی ناپید ہوجاتا ہے ۔ (ثابت قدمی کا وعدہ) یہ مثال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومن آدمیوں کی ثابت قدمی کا ذکر فرمایا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت “۔ اللہ تعالیٰ مضبوط رکھتا ہے ان لوگوں کو جو ایمان لائے مضبوط بات کے ساتھ (آیت) ” فی الحیوۃ الدنیا “۔ دنیا کی زندگی میں (آیت) ” وفی الاخرۃ “۔ اور آخرت میں بھی مضبوط بات سے مراد کلمہ توحید و رسالت ہے ، چونکہ اہل ایمان کی اس کلمے کے ساتھ تصدیق ہوتی ہے اور اس پر راسخ ہوتے ہیں ، لہذا ان کے ایمان اور توحید کی بدولت اللہ تعالیٰ انہیں اس دنیا میں ثابت قدم رکھتا ہے اور گمراہی کی ہر منزل سے بچاتا ہے ، ایسے لوگ کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی سے بچے رہتے ہیں ، بشرطیکہ ان کا اعتقاد صحیح ہو ، اگر دل میں شک ، تردد یا نفاق ہوگا ، تو انسان ثابت قدم نہیں رہ سکتا ، اور شرور اور فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ، پھر آخرت کا حال یہ ہے (آیت) ” یھدیھم ربھم بایمانھم “۔ (یونس) اللہ تعالیٰ ایمان کی بدولت ان کی راہنمائی فرمائیگا اور وہ جنت میں پہنچ جائیں گے ،۔ ّ (قبر کی منزل) مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر آخرت سے مراد قبر کی منزل ہے جس وقت کوئی انسان اس جہان کی مادی زندگی پوری کرلیتا ہے تو حشر سے پہلے برزخ کا جہان آتا ہے ، یہ قبر کی زندگی ہے (آیت) ” ومن ورآئھم برزخ الی یوم یبعثون “۔ (المومنون) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے درمیان برزخ یعنی قبر کی زندگی ہے حشر میں تو دوسرے حالات پیش آئیں گے ، یہ درمیانی منزل ہے غرضیکہ انسانی زندگی میں ایک تسلسل ہے ، اس زندگی کے بعد برزخ اور برزخ کے بعد حشر کا سلسلہ ہے ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اس کلمہ توحید کی بدولت مومن آدمی کو اللہ تعالیٰ قبر میں ثابت قدم رکھتا ہے اور وہ صحیح جواب دیتا ہے قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عثمان ؓ جب قبرستان جاتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہوجاتی ، جب لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو فرمایا ” ان القبر اول منزل من منازل الاخرۃ “۔ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے اگر آدمی اس امتحان سے بچ گیا تو آگے بھی بچتا چلا جائے گا اور اگر یہاں پھنس گیا تو اگلی منزلیں اور زیادہ مشکل ہوں گے ، آپ نے فرمایا یہی وجہ ہے کہ جب میں قبر کا حال سنتا ہوں یا اسے دیکھتا ہوں تو مجھے بےاختیار رونا آجاتا ہے ۔ (قبر کا حال) صحیحین کی روایت میں ہے کہ جب قبر میں کسی مرد مومن سے سوال کیا جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ثابت قدم رکھتا ہے اور وہ صحیح جواب دے پاتا ہے اور اسے آرام و سکون حاصل ہوتا ہے قبر کا عذاب اور راحت دونوں برحق ہیں ، امام ابوحنیفہ (رح) کا علم عقائد پر ایک چھوٹا سا رسالہ فقہ اکبر ہے جس میں صاف موجود ہے کہ کافروں اور بعض گنہگار مسلمانوں کے لیے عذاب قبر برحق ہے ، قبر میں روح کا جسم کی طرف اعادہ بھی برحق ہے ، اور منکر نکیر کا سوال بھی برحق ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب مرنے والے کو اس کے ساتھی دفن کرکے قبر سے پیچھے ہٹتے ہیں تو مردہ ان کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتا ہے اس وقت منکر اور نکیر نامی دو فرشتے قبر میں آتے ہیں اور اس کو بٹھا دیتے ہیں ، اگر مرنے والا مومن آدمی ہے تو فرشتوں کی ہیئت بہت اچھی ہوتی ہے ، ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ مومن آدمی کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عصر کے بعد سورج غروب ہونے کے قریب ہو ، چناچہ جب فرشتے اس سے سوال کرنا چاہتے ہیں تو وہ شخص کہتا ہے ” دعونی اصلی “ مجھے وقت دو کہ میں نماز عصر ادا کرلوں ، اسے کوئی دہشت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ اس کا دل مضبوط رکھتا ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زندگی کے دور انفرادی بھی ہوتے ہیں اور اجتماعی بھی ، جب انسان ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو انفرادی حیثیت میں ہوتا ہے ، اس کا بچپن کا دور بھی انفرادی ہوتا ہے ، پھر جوں جوں بڑا ہوتا ہے تو اس کا میلان اجتماعیت کی طرف ہوجاتا ہے وہ سوسائٹی کا رکن بنتا ہے کوئی عہدہ قبول کرتا ، ذمہ داریاں سنبھالتا ہے ، اور اجتماعی کام انجام دیتا ہے ، گویا عالم شباب میں انسان اجتماعیت میں آجاتا ہے پھر جب انسان مرجاتا ہے تو ایک لحاظ سے برزخ میں پھر انفرادی زندگی ہی گزارتا ہے ، فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے قبر میں جو چیز مفید ہو سکتی ہے وہ عقیدے کی درستگی ہے ، دنیا میں اس کی فکر پاک ہو ، ایمان صحیح ہو ، توحید خالص ہو ، اور کفر ، شرک اور نفاق سے بچا ہوا ہو ۔ (قبر کے سوال و جواب) بہرحال جب ایماندار آدمی کو قبر میں دفن کرکے چلے جاتے ہیں تو دو فرشتے قبر میں داخل ہوتے ہیں اس کو اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں ” من ربک “ تیرا رب کون ہے ؟ تو مومن آدمی جواب دیتا ہے ” ربی اللہ “ میرا رب اللہ ہے ، پھر فرشتے پوچھتے ہیں ” مادینک “ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے دینی الاسلام “۔ میرا دین اسلام ہے ، پھر تیسرا سوال ہوتا ہے ” من نبیک “ تیرا نبی کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے نبی محمد ﷺ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے ” ماتقول فی ھذالرجل الذی بعث فیکم “۔ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو جسے تمہارے درمیان مبعوث کیا گیا ، مومن آدمی جواب دیتا ہے ” ھو رسول اللہ “ وہ اللہ کے رسول ہیں میں ان پر ایمان لایا ہوں ، اس پر فرشتے کہتے ہیں کہ تم کامیاب ہے ، پھر آگے اور بھی بہت سی باتیں ہوتی ہیں جو احادیث میں مذکور ہیں ، پھر اس کے لیے جہنم کی طرف سے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر تو ایمان نہ لاتا تو تیرا ٹھکانا یہ ہوتا ، پھر اس دروازے کو بند کرکے جنت کے طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے جس کی خوشبو مرنے والا محسوس کرتا ہے ، فرشتے کہتے ہیں تیرا ٹھکانا یہ ہے یہاں تک کہ تجھے اس مقام سے اٹھایا جائے ، یعنی قیامت تک تو یہیں رہے گا ، اور اس کے بعد جنت میں داخل ہوگا ، بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ فرشتے اس شخص سے کہتے ہیں ” نم کنوم العروس “۔ دلہن کی طرح سو جاؤ اور آرام سے رہو۔ (قبر کا عذاب) اس کے برخلاف جب کافر ، منافق اور عقیدہ آدمی کو دفن کیا جاتا ہے تو اسکے پاس دو فرشتے آتے ہیں ” اسودان “ سیاہ رنگ کے جن کی آنکھیں ” خضرتان “ نیلگوں ہوتی ہیں اور انہیں دیکھ کر دہشت طاری ہوتی ہے جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے تو وہ جواب دیتا ہے ھاہ ھاہ لا ادری افسوس مجھے کچھ علم نہیں ، پھر فرشتے سوال کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے تو وہ وہی جواب دیتا ہے ھاہ ھاہ لا ادری “ مجھے کچھ علم نہیں نبوت کے متعلق تیسرے سوال کا جواب بھی یہی دیتا ہے صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ یہ جواب سن کر فرشتے لوہے کا گزر اس شخص کو مارتے ہیں جس کی آواز کو جنوں اور انسانوں کے سوا اردگرد کی تمام مخلوق سنتی ہے بعض نافرمانوں پر ننانویں سانپ مسلط کردیے جاتے ہیں جو اس کو دیتے رہتے ہیں وہ سانپ اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک سانپ اس دنیا میں ایک پھونک مار دے تو دنیا میں کوئی نباتات پیدا نہ ہو ، بعض لوگوں پر بچھو مسلط کردیے جاتے ہیں جو ان کو کاٹتے ہیں ، ان پر آزمائش بھی آتی ہے کہ قبر کو حکم ہوتا ہے ، سمٹ جا ، پھر جب وہ سمٹتی ہے تو مردے کے جسم کی پسلیاں ایک دوسرے کے اندر دھنس جاتی ہیں ، بعض اوقات یہ کیفیت اہل ایمان پر بھی طاری ہوجاتی ہے ، حضور ﷺ کے صحابی سعد ابن معاذ ؓ غزوہ خندق میں زخمی ہو کر شہید ہوئے ، ان کی بڑی فضیلت آئی ہے حدیث میں آتا ہے کہ ان کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شامل ہوئے تھے ، جب آپ کو دفن کیا گیا تو حضور ﷺ قبر پر دیر تک تسبیح وتکبیر بیان کرتے رہے ، آپ نے فرمایا کہ اس عبد صالح پر بھی ضغط (قبر کی تنگی) آیا تھا پھر اللہ نے اس کو اٹھا دیا ، یہ ابتلا تھی ، (فتنہ قبر) حضور ﷺ کا فرمان ” انکم تبتلون فی قبورکم “ بیشک تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا فرمایا قبر کی آزمائش اتنی بڑی ہوگی جیسے ” کفتنۃ الدجال “ جیسے دجال کا فتنہ ہے تخلیق آدم سے لے کر صور اسرافیل تک اتنا بڑا فتنہ نہیں ہوگا جتنا دجال کا فتنہ ہوگا ، اسی لیے حضور ﷺ نے تعلیم دی ہے ” تعوذوا باللہ من عذاب القبر “ ۔ یعنی عذاب قبر سے اللہ کی ذات کے ساتھ پناہ چاہو ، آپ نے یہ دعا بھی سکھائی ہے ” اعوذ باللہ من عذاب القبر ومن فتنۃ مسیح الدجال ومن فتنۃ المحیا والممات ومن الماثم والمغرم “۔ غرضیکہ صحیح عقیدے والے لوگ اس امتحان میں پورے اترتے ہیں اور صحیح جواب دیتے ہیں ، اور غلط عقیدے والے لوگ صحیح جواب نہ دے کر ناکام ہوجاتے ہیں ، ان کے لیے اگلی منزل مزید دشوار ہوجاتی ہے بہرحال عذاب قبر برحق ہے ، مگر اس کی کیفیت کو اس دنیا میں کوئی نہیں جان سکتا ، امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آنکھ نہیں جو ان حالات کو دیکھ سکے کیونکہ یہ عالم ملکوت سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں ، یہ چیزیں اس وقت سمجھ میں آئیں گی جب خود وہاں انسان پہنچیں گے ۔ انگریزوں اور بعض دوسرے محققین نے قبر کی کیفیت معلوم کرنے کی بڑی کوشش کی ہے مگر انہیں ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ، پارہ ایک نہایت ہی حساس چیز ہے ، تھرمامیٹر میں پارہ ہی ہوتا ہے جو ذرا سی حرارت پر اوپر کو چڑھنے لگتا ہے ، بعض پرانے زمانے کے منکرین نے تازہ مردے کی آنکھوں میں پارہ ڈال کر دفن کیا اور پھر دوسرے یا تیسرے دن اکھاڑ کر دیکھا تو پارہ اسی طرح موجود تھا ، اس پر کسی چیز کا کوئی اثر نہیں تھا ، اس سے انہیں نے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قبر میں مردے کے ساتھ کوئی معاملہ پیش نہیں آتا ، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں کسی کو کوئی مار نہیں پڑتی ، وہاں کوئی سانپ بچھو وغیرہ مشاہدہ میں نہیں آئے وہاں کسی کی پسلیوں کو آپس میں گڈمڈ نہیں دیکھا گیا ظاہر ہے کہ یہ لوگ ان آنکھوں سے وہاں کی دنیا کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں جو کہ ممکن نہیں ، اس کا حال قبر میں جا کر ہی معلوم ہو سکے گا ۔ (روح اور جسم کا تعلق) بعض گمراہ فرقے کہتے ہیں کہ قبر میں روح اور جسم کا کوئی تعلق باقی نہیں رہتا ، حالانکہ تمام محدثین ، متکلمین اور مفسرین اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ قبر میں عذاب یاراحت روح اور جسم دونوں کو ہوتا ہے جب تک جسم سلامت رہتا ہے روح کا تعلق ا سے قائم رہتا ہے اور تکلیف و آرام کا احساس دونوں کو ہوتا ہے جسم کے گل سڑ جانے کے بعد بھی حضور ﷺ کا صحیح حدیث میں فرمان موجود ہے کہ انسانی جسم کی دمچی کی ہڈی کا کوئی نہ کوئی حصہ ضرور باقی رہتا ہے جس کے ساتھ روح کا تعلق قائم رہتا ہے اور پھر مرنے والے کو عذاب یا راحت کا احساس بھی ہوتا رہتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اور بعض دوسرے بزرگان کا قول ہے کہ روح کا تعلق انسان کے نسمے کے ساتھ ہوتا ہے نسمہ مادی روح ہوتی ہے یہ جسم سے لطیف اور روح سے کثیف ہوتا ہے نسمہ سماوی روح کی سواری ہوتا ہے ، انسان کا ظاہر ایک خول اور اندر نسمہ ہے جب موت واقع ہوتی ہے تو نسمہ بالکل نمایاں ہوجاتا ہے ، نسمے سے روح کبھی جدا نہیں ہوتی وہ ایک لحاظ مادی چیز بھی ہے کیونکہ نسمہ مادی عناصر سے پیدا ہوتا ہے اور روح عالم بالا سے تعلق رکھنے والی چیز ہے تاہم فقہاء اور محدثین کہتے ہیں کہ جسم خواہ سارا فنا ہوجائے مگر اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور باقی رہتا ہے جس کے ساتھ روح کا تعلق قائم ہوتا ہے اور انسان کو جزا یا سزا کا احساس ہوتا رہتا ہے ۔ عذاب قبر کا انکار کرنے والے معتزلہ وغیرہ اہل بدعت میں شمار ہوتے ہیں موجودہ زمانے کے نیچری بھی اسی قماش سے ہیں اور بن دیکھی چیزون کا انکار کرتے ہیں ، مگر جیسا کہ عرض کیا اس جہان کی کیفیت کو اس دنیا کی زندگی میں معلوم نہیں کیا جاسکتا ، ، اس مسئلہ پر علمائے کرام نے بڑا کلام کیا ہے ، امام غزالی (رح) نے احیاء العلوم میں اور امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اس پر بڑی بحث کی ہے ۔ بہرحال ثابت قدمی سے مراد قبر میں ثابت قدمی ہے ، اور قبر کا جہان برزخ میں داخل ہے علیین اور قبر دونوں برزخ کا حصہ ہیں قبر میں روح کا تعلق قائم رہتا ہے اہل سنت کے نزدیک قبر میں جزا اور سزا کا احساس بھی ہوتا ہے محقق ، امام ابن ھمام (رح) نے شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ شفاعت اور عذاب قبر کا منکر گمراہ ہے ، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ۔ (ظالموں کی گمراہی) فرمایا پختہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو پختہ بات یعنی کلمہ ایمان اور توحید کے ساتھ دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت یعنی برزخ میں بھی اس کے بعد جب حشر کا موقع آئے گا تو فرمایا (آیت) ” ویضل اللہ الظلمین “۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ، یہ لفظ خود بتلا رہا ہے کہ جو شخص ظلم پر مصر ہوتا ہے شرکیہ رسوم کو ترک نہیں کرتا ، کسی کے سمجھانے سے بھی نہیں سمجھتا ، ایسے لوگوں کو اللہ گمراہی میں ہی مبتلا رکھتا ہے ، راہ راست اس شخص کو میسر آئے گا جو کفر ، شرک ، نفاق اور معاصی کو ترک کرے گا ، ایسے شخص ہدایت کے طالب ہوتے ہیں (آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی واتھم تقوھم “۔ (محمد) ان کی ہدایت میں مزید اضافہ کیا جاتا ہے ، سورة بقرہ میں فرمایا (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “ کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں ، سورة لقمان میں ہے (آیت) ” ان شرک لظلم عظیم “۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے تو اس قسم کے لوگوں کو کبھی ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی بلکہ وہ گمراہ ہی رہیں گے ۔ فرمایا (آیت) ” ویفعل اللہ مایشآئ “۔ اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اس کا ہر کام اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتا ہے ، وہ حکیم ہے ، اپنی حکمت کے مطابق جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہی میں رکھے ، اور پھر اس کے نتیجے میں جس کو چاہے راحت دے اور جس کو چاہے سزا میں مبتلا کر دے ۔