14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 14:38–41

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو جانتا ہے جس چیز کو ہم چھپاتے ہیں ، اور جس کو ہم ظاہر کرتے ہیں اور نہیں ہے مخفی اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز زمین میں اور نہ آسمان میں ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) بخشے ، بیشک میرا پروردگار ! البتہ دعاؤں کو سننے والا ہے ۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! بنا دے مجھے نماز قائم کرنے والا ، اور میری اولاد میں سے بھی ، اے ہمارے پروردگار ! اور ہماری دعا قبول فرما۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بخش دے مجھے اور میرے والدین کو ، اور مومنوں کو کہ جس دن حساب قائم ہوگا ۔

(ربط آیات) گذشتہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی جس میں انہوں نے قریش مکہ پر ہونے والے خصوصی انعامات کا ذکر کیا تھا ، خود مکہ مکرمہ کے حق میں آپ کی دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے پر امن شہر بنا دے ، پھر اپنے لیے اور اپنے متعلقین کے لیے شرک سے بچنے کی دعا کی کیونکہ اصنام پہلے ہی بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن چکے تھے ، پھر عرض کیا کہ میں اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے گھر کے قریب بےآب وگیاہ سرزمین میں چھوڑ رہا ہوں تاکہ نماز قائم کریں کیونکہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے ، پھر یہ بھی دعا کی کہ اے اللہ ! لوگوں کے دلوں کو میری اولاد کی طرف مائل کردے اور ان کو پھلوں سے روزی عطا کر تاکہ یہ خدا کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں ، ظاہر ہے کہ جب دل اس طرح مائل ہوں گے تو آمدورفت میں اضافہ ہو کر وسائل رزق میں توسیع ہوگی ، چناچہ آج سے تقریبا پانچ ہزار سال پہلے مانگی گئی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اب مکہ مکرمہ کی طرف مخلوق خدا کا سارا سال تنتا بندھا رہتا ہے اور موسم حج میں تو بےانتہا رش ہوجاتا ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی قبولیت کا صلہ ہے کہ اس سرزمین میں اچھے سے اچھا پھل اور ہر چیز دستیاب ہے ۔ (اللہ کا علم محیط) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کی (آیت) ” ربنا انک تعلم ما نخفی وما نعلن “۔ اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو جانتا ہے جس چیز کو ہم مخفی رکھتے ہیں اور جس کو ہم ظاہر کرتے ہیں ارض وسما میں کوئی چیز تیری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہے ، تو ہماری نیت ارادے اور عزائم کو بھی جانتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس اخلاص اور نفاق کو بھی جانتا ہے جو دلوں کی گہرائیوں میں پنہاں ہوتے ہیں اور جو لوگ ریاکاری کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سے بھی واقف ہے ۔ اس دعا کے ذریعے ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حضور نہایت عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ چونکہ آگے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کا ذکر بھی آرہا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی دعا میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی طرف خاص اشارہ پایا جاتا ہے ، سورة بقرہ اور دیگر سورتوں میں آپ کی واضح دعا بھی موجود ہے (آیت) ” ربنا وابعث فیھم رسولا منھم “۔ یعنی اے اللہ ! ہماری اولاد میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما ، تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کے چھپانے اور ظاہر کرنے میں آپ کا اشارہ حضور ﷺ کی بعثت کے متعلق ہی تھا ، بہرحال آگے پھر وضاحت کی (آیت) ” وما یخفی علی اللہ من شیء فی الارض ولا فی السمآء “۔ خدا تعالیٰ پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کائنات کے کسی گوشے میں موجود ہو ، وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ ّ (عطائے اولاد پر شکریہ) آگے ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی ، (آیت) ” الحمد للہ الذی وھب لی علی الکبر اسمعیل واسحق “۔ اس خدا تعالیٰ کا شکر ہے جس نے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) جیسے فرزند عطا فرمائے امام بیضاوی (رح) کی روایت کے مطابق جب ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر ننانوے 99 برس کی ہوئی تو اسماعیل (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی ، یہ آپ کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ ؓ کے بطن سے تھے جو کہ شاہ مصر نے آپ کو خادمہ کے طور پر دی تھی ، پھر جب آپ کی عمر مبارک 112 سال ہوئی تو پہلی بیوی حضرت سارہ ؓ کے بطن سے اسحاق (علیہ السلام) پیدا ہوئے ، یہ آپ کی چچا زاد تھی اور اس نے آپ کے ساتھ عراق سے ہجرت بھی کی تھی ، آپ کو ساری عمر اولاد کی خواہش رہی مگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا کہ اس نے جوانی کے بعد بڑھاپے میں بیٹا عطا فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی یہ بھی خاص مہربانی تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دونوں بیٹے یعنی اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہوئے اور پھر انہی کی نسل سے انبیاء کا سلسلہ آگے بھی چلا ۔ اس ضمن میں بائیبل کی روایت قدرے مختلف ہے ، اس کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کا پہلا بیٹا 83 سال کی عمر میں اور دوسر بیٹا سو سال کی عمر میں پیدا ہوا جب کہ آپ مایوسی کی عمر کو پہنچ چکے تھے ، پھر اللہ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بشارت بھی دی فرمایا (آیت) ” ومن ورآء اسحاق یعقوب “۔ (ھود) یعنی تم اپنی زندگی میں پوتے کو بھی پالو گے چناچہ آپکی زندگی میں ہی حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی پیدا ہوئے ، وہ بھی اللہ کے عظیم رسول تھے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے 175 برس عمر پائی ، آپ نے یہ بھی کہا (آیت) ” ان ربی لسمیع الدعآء “۔ بیشک میرا پروردگار البتہ دعا کو سننے والا ہے ، اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کو شرف قبولیت بخشا (آیت) ” رب ھب لی من الصلحین “۔ (الصفت) اے پیغمبر ﷺ ! مجھے نیک اولاد عطا فرما ، اللہ نے اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) جیسی نیک اور صالح اولاد عطا فرمائی جس پر آپ نے پروردگار کا شکریہ ادا کیا ۔ (اقامت صلوۃ کی دعا) ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے اقامت صلوۃ کی دعا بھی کی (آیت) ” رب اجعلنی مقیم الصلوۃ “۔ اے پیغمبر ﷺ ! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے (آیت) ” ومن ذریتی “۔ اور میری اولاد میں سے بھی ایسے لوگ پیدا فرما جو نماز کو قائم کریں اقامت صلوۃ بہت بڑی حقیقت ہے جس کے ذریعے تعلق باللہ درست ہوتا ہے ، تو آپ نے اپنے اور اپنی اولاد کے حق میں یہی دعا کی کہ ہمیں مکمل شرائط اور اخلاص کے ساتھ نماز ادا کرنے والے بنا دے اگر نماز درست ہوگئی تو ہر چیز درست ہو جائیگی اور اگر نماز ہی درست نہ ہوئی ، تو نہ دین درست ہوگا اور نہ دنیا انسان الحاد اور بدعملی کا شکار ہی رہے گا ۔ ہمارے بزرگوں میں سے حضرت مولانا انور شاہ صاحب کاش میری (رح) ایک دفعہ دیوبند سے مولانا رشیداحمد گنگوہی (رح) کی خدمت میں بارہ چودہ کوس کا سفر پیدل طے کر کے پہنچے ، حضرت گنگوہی (رح) نے آمد کا مقصد پوچھا تو عرض کیا کہ میرے حق میں دعا کریں کہ میں نماز ٹھیک طریقے پر ادا کرسکوں میرا یہاں آنے کا اور کوئی مقصد نہیں ، اس پر حضرت گنگوہی (رح) نے عجیب جملہ ارشاد فرمایا ، کہنے لگے اگر نماز ٹھیک طریقے پر آگئی تو سب کچھ آگیا پھر باقی کیا رہ گیا ، فرمایا یہی بات تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے جس کام کی جڑ بنیاد صحیح ہوگئی اس کے سارے معاملات صحیح ہوگئے ، اللہ کے ساتھ تعلق بھی درست ہوجائے گا اور دنیا کے سارے معاملات بھی ٹھیک ہوجائیں گے ، سیاست ہو یا معیشت ، حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد نماز کی درستگی کے ساتھ ہی سب کچھ درست ہوجائے گا ، تو ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی یہی دعا کی کہ مولا کریم ! مجھے اور میری اولاد کو نمازی بنا دے ۔ ابو داؤد شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب آدمی نماز پڑھ کر فارغ ہوتا ہے تو اس کی نماز کا صرف دسواں حصہ قبول ہوتا ہے جبکہ تو حصے ضائع ہوجاتے ہیں ، بعض لوگوں کا نواں حصہ ، بعض کا اٹھواں حصہ اور بعض کی نصف نماز قبول ہوتی ہے جس کی آدمی نماز قبول ہوجائے تو وہ بڑی شان والا آدمی ہوتا ہے اور جس کی پوری کی پوری نماز قبول ہوجائے وہ مقربین الہی میں شمار ہوتا ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی قبولیت کا دارو مدار اخلاص ، صلاحیت اور نیکی پر ہے نماز میں جس قدر ان چیزوں کا حصہ ہوگا ، اسی قدر نماز کی قبولیت بھی ہوگی ، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں عرض کیا (آیت) ” ربنا وتقبل دعاء “۔ اے پیغمبر ﷺ ! ہماری اس دعا کو قبول فرما لے پھر آخر میں عرض کیا (آیت) ” ربنا اغفرلی “۔ اے پیغمبر ﷺ ! مجھے معاف فرما دے ، مجھے بخش دے ، جو کوتاہی اور لغزش ہوئی ہے اس سے درگزر فرما نہ صرف مجھے معاف کر دے (آیت) ” ولوالدی “۔ بلکہ میرے والدین کو معاف فرما دے (آیت) ” وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ اور جس دن حساب قائم ہو ، تمام مومنوں کو بھی بخش دے ، سب کی خطاؤں کو معاف فرما دینا ۔ (مشرک کے لیے دعائے مغفرت) یہاں پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد تو کفر پر تھے اور اسی پر ان کا خاتمہ ہوا تو ایسی حالت میں ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لیے مغفرت کی دعا کیسے کی جب کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ (آیت) ” ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “۔ (النسآئ) وہ مشرک کو نہیں بخشے گا اس کے علاوہ جسے چاہے معاف کر دے ، مفسرین کرام نے اس کی مختلف توجہیات کی ہیں بعض فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لیے دعا ابتدائی دور میں کی تھی ، پھر جب ان کو علم ہوگیا کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہی ہے تو آپ نے اپنے والد سے بیزاری کا اعلان کردیا ، سورة توبہ میں موجود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی باپ کے لیے دعا ایک وعدہ کی بنا پر تھی (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ “۔ پھر جب آپ پر واضح ہوگیا کہ ان کا باپ دشمن خدا ہے تو آپ نے بیزاری کا اعلان کردیا غرضیکہ جب تک کسی کے کفر پر خاتمے کا یقین نہ ہوجائے اس کے لیے بخشش کی دعا کی جاسکتی ہے اور دعا کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ اے اللہ ! اس کو مغفرت کا اہل بنا دے یعنی اسے توبہ کی توفیق عطا کر دے ، ملت ابراہیمیہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ مومنین کے لیے دعائے مغفرت کرنی چاہئے خواہ وہ فاسق اور گنہگار ہی کیوں نہ ہو۔ بعض نے یہ توجیہہ بھی کی کہ جس شخص آذر کے حق میں اللہ نے مشرک ہونے کا ذکر کیا ہے ، وہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا بلکہ چچا تھا اور آپ کے والد کا نام تارخ تھا شیعہ حضرات کا یہ مسلک درست نہیں ہے سورة انعام میں صاف موجود ہے (آیت) ” واذ قال ابرھیم لابیہ ازر “۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا ، دراصل آزر اور تارخ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بڑے مندر کے پروہت تھے اس لیے ان کا لقب آزر تھا اور نام تارخ ہی تھا ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایک نومسلم جس کے والدین کفر وشرک پر ہوں وہ بھی (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی “۔ کہہ کر اپنے والدین کے حق میں دعائے مغفرت کرسکتا ہے ، امام بیضاوی (رح) صاحب کشاف زمخشری اور صاحب تفسیر حسینی نے اس کی یہ توجیہہ کی ہے کہ اسے شخص کے والدین سے مراد اس کے حقیقی والدین نہیں ہوں گے جن کا خاتمہ کفر اور شرک پر ہوا ، بلکہ اس سے مراد اس کے اولین والدین حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا ہوں گے لہذا اس اصول کے تحت کوئی مسلمان اپنے غیر مسلم والدین ہونے کے باوجود دعائے مغفرت کرسکتا ہے اور اس سے مراد اولین والدین ہوں گے ، نہ کہ وہ والدین جن کے گھر میں اس کی پیدائش ہوئی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر بھی اسی اصول کا اطلاق کیا جاسکتا ہے ان کی والدہ کے متعلق تو یہ تفصیلات معلوم نہیں ، تاہم ان کے والد کے کفر وشرک میں کوئی شبہ نہیں ، تو ان کی دعائے مغفرت کی بھی یہی توجہیہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے اولین والدین حضرت آدم اور حوا کے حق میں دعا کی ۔ عرض کیا ، اے ہمارے پروردگار ! مجھے میرے والدین اور تمام ایمان والوں کی معاف کر دے جس دن قیامت برپا ہوگی اور حساب کتاب قائم ہوگا ، اس دعا میں ملت ابراہمیہ کا پورا تذکرہ آگیا ہے اس کے بنیادی اصولوں اور خصوصی نعمتوں کا تذکرہ ہوگیا ہے پہلے عام نعمتوں کا ذکر تھا ، پھر خصوصی انعامات کا ذکر ہوا ، اور محاسبہ اعمال کی بات ہوئی ، اب سورة کے آخر میں قرآن کی دعوت کو عام کرنے کا بیان ہوگا ۔
Ayahs 14:42–46

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور نہ خیال کرو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہ وہ غافل ہے ان کاموں سے جو ظالم لوگ کرتے ہیں بیشک وہ انکو مہلت دیتا ہے اس دن کے لیے کہ جس دن اوپر اٹھی رہیں گی آنکھیں ۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

دوڑنے والے ہوں گے اور سر اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے ، نہیں پلٹیں گی ان کی طرف ان کی نگاہیں اور دل ان کے اڑ رہے ہوں گے ۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور آپ ڈرا دیں لوگوں کو اس دن سے کہ آئیگا ان کے پاس عذاب پس کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ، اے پیغمبر ﷺ ! ہمیں مہلت دے دے تھوڑی مدت کے لیے تاکہ ہم قبول کریں تیری دعوت کو اور ہم پیروی کریں رسولوں کی (ادھر سے جواب آئیگا) کیا نہیں تھے تم قسمیں اٹھاتے اس سے پہلے کہ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ۔

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور ٹھہرے تم ان لوگوں کے گھروں میں جنہوں نے ظلم کیا اپنی جانوں پر ، اور واضح ہوگیا تمہارے لیے کہ ہم نے کیسا سلوک کیا ان کے ساتھ ، اور بیان کیں ہم نے تمہارے سامنے مثالیں ۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور تحقیق ان لوگوں نے تدبیر کی اپنی تدبیر ، اور اللہ کے پاس تھی ان کی تدبیر ، اگرچہ ان کی تدبیر ایسی تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں اپنی جگہ سے ۔

(ربط آیات) پہلے قرآن کریم کی حقانیت اور قیامت کا ذکر ہوا ، پھر رسالت اور توحید کا بیان آیا ، اللہ کی نعمتوں کا ذکر ہوا جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل بنتی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے قریش مکہ وعرب پر ہونے والی خاص نعمتوں کا تذکرہ کیا اور اس ضمن میں شرک اور ان کی بدعقیدگی کا ذکر کیا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں کا ذکر کیا جن میں توحید کی ترغیب اور شرک سے بیزاری کا سبق ملتا ہے ، ادھر انعامات الہی کے حصول پر اس کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور کفر وشرک سے بڑھ کر کوئی ناشکری نہیں ، لہذا اس سے بچنا چاہئے ، پھر اللہ نے قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا اور پھر اس ضمن میں دعائے ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ ! ! مجھے میرے والدین اور سب مومنوں کو معاف کر دے ، کل بیان کیا تھا کہ یہاں پر والدین سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی والدین نہیں ہیں بلکہ ان کے اولین ماں باپ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا مراد ہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور امام زہری (رح) کی قرات کے مطابق ” والدی “ کو ولدی ، پڑھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے ، کہ مولا کریم مجھے اور میرے دونوں بیٹوں کو بخش دے ، وہ آپ کی آخری عمر کی اولاد حضرت اسماعیل اور اسحاق (علیہما السلام) ہیں ، اب اس قرات میں یہ اعتراض باقی نہیں رہتا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے مشرک والدین کے لیے کیوں دعا کی ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے محاسبہ اعمال کی منزل کا ذکر کیا ہے ۔ (ظالموں کے لیے مہلت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون “۔ اللہ تعالیٰ کو ان کاموں سے غافل نہ سمجھو جو ظالم لوگ کرتے ہیں ، ظالم لوگ کون ہیں ؟ اس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” ان الانسان لظلوم کفار “۔ بیشک اکثر انسان ظالم اور ناشکر گزار ہیں ، جو منعم حقیقی اور مالک حقیقی کی توحید ہیں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ، ان کافر ، مشرک اور معاصی کے مرتکب لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کارگزاری سے غافل ہے ، بلکہ وہ علیم کل ہے اور سب کچھ اس کے سامنے ہو رہا ہے ، البتہ اس کا قانون یہ ہے (آیت) ” انما یؤخرھم لیوم تشخص فیہ الابصار “۔ وہ ان کو مہلت دیتا ہے اس دن کے لیے جب آنکھیں پتھرا جائیں گی یعنی اوپر اٹھی رہیں گی ، وہ سرکشوں کو فوری طور پر گرفت نہیں کرتا ، یہ مضمون سورة اعراف میں بھی گزر چکا ہے کہ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں (آیت) ” سنستدرجھم من حیث لا یعلمون “۔ ہم انہیں بتدریج ایسے طریقے سے پکڑیں گے جہاں سے انہیں علم ہی نہ وہ (آیت) ” واملی لھم “ میں انہیں مہلت دیتا ہوں (آیت) ” ان کیدی متین “۔ میری تدبیر بڑی مضبوط ہے لوگ قدرت کے قانون امہال و تدریج سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اور گرفت کے موخر ہونے کی وجہ سے مغرور ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی غلط کام نہیں کر رہے ہیں ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ انہیں اس دن تک کے لیے مہلت دیتا ہے جب ان کی آنکھیں پتھرا جائیں گی اور ” مھطعین “۔ وہ دوڑنے والے ہونگے (آیت) ” مقنعی رء وسھم “۔ اپنے سروں کو اوپر اٹھائے ہوں گے ، اس حالت میں (آیت) ” لا یرتد الیھم طرفھم “۔ ان کی نگاہیں ان کی طرف واپس نہیں پلٹیں گی یعنی اوپر ہی لگی رہیں گی اور نیچے کی طرف آہی نہیں سکیں گی ، اتنی تکلیف دہ حالت ہوگی ، اس کے علاوہ (آیت) ” وافدتھم ھوآئ “۔ دہشت کے مارے ان کے دل اڑے جا رہے ہوں گے ، یہ قیامت والے دن کے مناظر ہیں ، سورة فرقان میں ہے (آیت) ” ویوم تشقق السمآء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلا “۔ اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے نیچے اترتے ہوئے نظر آئیں گے ، سورة النبا میں ” (آیت) ” وفتحت السمآء فکانت ابوابا “۔ اس دن آسمان کو کھول دیا جائیگا ، اور اس میں دروازے دروازے بن جائیں گے ، جہاں تک قیامت کے دن لوگوں کے دوڑنے کا ذکر ہے تو سورة القمر میں ہے (آیت) ” مھطعین الی الداع “۔ بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے جائیں گے ، سورة المعارج میں ہے (آیت) ” یوم یخرجون من الاجداث سراعا “۔ اس دن قبروں سے نکل کر تیزی کے ساتھ دوڑیں گے (آیت) ” کانھم الی نصب یوفضون “۔ گویا کہ وہ شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیں ، بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ظالموں کو اسی دن کے لیے مؤخر کیا گیا ہے یعنی اس وقت تک مہلت دیدی گئی ہے ۔ (دنیا میں واپسی کی خواہش) آگے اللہ نے حکم دیا (آیت) ” وانذر الناس یوم یاتیھم العذاب “۔ لوگوں کو اس دن سے ڈرا دیں کہ جس دن ان کے پاس عذاب آجائے گا ، اس وقت یہ لوگ حیلے بہانے کریں گے مگر وہ کچھ مفید نہیں ہوں گے ، (آیت) ” فیقول الذین ظلموا “۔ پھر کہیں گے ظالم لوگ (آیت) ” ربنا اخرنا الی اجل قریب “۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں تھوڑی دیر کیلئے مہلت دے کر دنیا میں واپس بھیج دے (آیت) ” نجب دعوتک “۔ اب ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں گے (آیت) ” ونتبع الرسل “۔ اور رسولوں کا اتباع کریں گے ، سورة المنافقون میں ہے کہ جب کسی کو موت سامنے نظر آجاتی ہے (آیت) ” فیقول رب لولا اخرتنی الی اجل قریب “۔ پھر وہ کہتا ہے کہ پروردگار ! مجھے تھوڑی دیر کیلئے مہلت دے دے (آیت) ” فاصدق واکن من الصلحین “۔ اب میں صدقہ خیرات اور نیکی کے کام کروں گا اور نیکو کاروں میں ہوجاؤں گا ، مگر ادھر سے جواب آتا ہے (آیت) ” ولن یؤخر اللہ نفسا اذا جآء اجلھا “۔ جب وقت آجاتا ہے تو پھر ایک سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں دی جاتی اور فوری طور پر کام تمام کردیا جاتا ہے ۔ جہاں تک دعوت قبول کرنے کا تعلق ہے تو وہی دعوت ایمان ہے جو اللہ نے اپنے انبیاء کے ذریعے اپنے بندوں کو بھیجی ، جب یہ دعوت اس کے بندوں کو پہنچتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں (آیت) ” ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا ربکم فامنا “۔ (آل عمران) ہم نے ایمان کی دعوت دینے والے منادی کنندہ کو سن لیا اور اس کو قبول کرلیا ، اس کے بجائے ظالم لوگ کہیں گے کہ دنیا میں ہم دعوت کو قبول نہ کرسکے ، اب ہمیں ایک اور موقع دے کر دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ تیری دعوت کو قبول کرلیں اور تیرے رسولوں کی پیروی کرلیں ، اللہ نے بعض دوسرے مقامات پر بھی قیامت کے دن پیش آنے والے ایسے واقعات کا تذکرہ کیا ہے مثلا سورة الم سجدہ میں ہے کہ مجرم لوگ سرجھکائے اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے اور عرض کریں گے (آیت) ” ربنا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نعمل صالحا “۔ اے اللہ ہم نے سب کچھ دیکھ لیا اور سن لیا اب ہمیں واپس بھیج دے ، ہم نیک اعمال انجام دیں گے ، (خدا تعالیٰ کا جواب) ادھر سے اللہ تعالیٰ کا جواب آئے گا (آیت) ” اولم تکونوا اقسمتم من قبل “۔ کیا تم نے اس سے پہلے دنیا میں قسمیں نہیں اٹھائی تھیں (آیت) ” مالکم من زوال “۔ کہ تمہیں کبھی زوال نہیں آئے گا ، دنیا میں تم غرور میں مبتلا تھے اور کہتے تھے کہ ہم اسی طرح شان و شوکت کے ساتھ ہی رہیں گے ، ہمارے اقتدار کو کبھی زوال نہیں آسکتا (آیت) ” وما نحن بمعذبین “۔ ہمیں کون سزا دیگا ، سورة النحل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واقسموا باللہ جھد ایمانھم لا یبعث اللہ من یموت “۔ اللہ کی پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے تھے کہ مرنے والے کو اللہ دوبارہ نہیں اٹھائیگا اللہ فرمائے گا کیا تم وہی لوگ نہیں جو دنیا کی زندگی پر مغرور ومفتون تھے ، اور پھر جن لوگوں نے زبانی قسمیں نہیں اٹھائی تھیں ، ان کی حالت بتلا رہی تھی گویا کہ وہ اسی شان و شوکت کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مزید یہ بھی فرمائے گا کہ تم وہی لوگ ہو (آیت) ” وسکنتم فی مسکن الذین ظلموا انفسھم “۔ تم نے قوم عاد اور ثمود جیسی بڑی بڑی قوموں کی عالیشان عمارات میں رہائش اختیار کی (آیت) ” وتبین لکم “۔ اور تمہیں واضح ہوچکا تھا (آیت) ” کیف فعلنا بھم “۔ کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ، سابقہ اقوام کے انجام سے تمہیں عبرت حاصل کرنی چاہئے کہ قوم عاد ، ثمود ‘ قوم لوط ، قوم صالح اور قوم فرعون کے ساتھ ہم نے کیا معاملہ کیا ، یہ لوگ بڑی بڑی تہذیبوں کے وارث تھے ، بڑے کاریگر اور انجنیئر تھے مگر جب ہماری گرفت آئی تو ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا ، آج تم انہیں کے بنائے ہوئے عالیشان محلات میں رہ کر بھی ان سے عبرت نہیں پکڑتے فرمایا (آیت) ” وضربنا لکم الامثال “۔ ہم نے تمہارے سامنے ان لوگوں کو بطور مثال پیش کردیا ہے ، یہ نافرمان قومیں تھیں جنہیں اللہ نے نیست ونابود کردیا تھا کردیا ہے ، پھر تم کس بات پر مغرور ہو ، اگر تم بھی نافرمانی اور ظلم سے باز نہ آئے تو تمہارا حشر بھی ویسا ہی ہو سکتا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرما دی ۔ (کفار کی مخفی تدبیریں) فرمایا (آیت) ” وقد مکروا مکرھم “۔ انہوں نے مخفی تدبریں کر کے دیکھ لیا (آیت) ” وعنداللہ مکرھم “۔ اور ان کی تدبیریں تو اللہ کے پاس تھیں وہ جو کچھ بھی مخفی طور پر تدبیر کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا پنجابی زبان میں مکر کا معنی فریب اور دھوکہ ہوتا ہے جب کہ عربی زبان میں یہ لفظ پوشیدہ تدبیر کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر بھی ہوتا ہے ، جیسے فرمایا (آیت) ” ویمکرون ویمکر اللہ “۔ وہ بھی مخفی تدبیر اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ایسی ہی تدبیر کرتا ہے ، ظالموں کی یہ مخفی تدبیریں اللہ کے انبیاء کی مخالفت میں اور قرآن پاک کے پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں اور آج بھی دنیا میں ہو رہی ہیں ۔ غیر مسلم اقوام نہیں چاہتیں کہ دنیا میں اللہ کا دین اور قرآن کا پروگرام غالب آئے پرانی اقوام میں سے فرعون ، نمرود ، اہل تبوک اور اہل حجر نے کیا کیا تدبیریں اختیار کیں ؟ یمن کے باشندوں اور مصریوں نے اللہ کے دین کے خلاف کیسے کیسے پروگرام بنائے ، جسمانی اور ذہنی تکالیف پہنچائیں اور لوگوں کو دین کے راستے سے روکنے کے لیے بڑے بڑے لالچ دیے اور مال صرف کیا ۔ آج بھی دنیا میں یہی کچھ ہو رہا ہے ، یہود ، نصاری ، ہنود ، دہریے ، قرآن پاک کے خلاف طرح طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں کہیں ہسپتال کھول کر لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے ، اور کہیں سکول وکالج جاری کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے ، عورتوں اور ایڈ کی پیش کش کر کے اہل ایمان کو دین سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، کیا یہ بہت بڑا سانحہ نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس سرزمین میں تیس چالیس لاکھ لوگوں کو عیسائی بنایا گیا ہے ، یہ سب ان کی مخفی تدابیر کا نتیجہ ہے مگر مسلمان اس سے بالکل غافل پڑے ہیں اور اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لے رہے ہیں ۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے مغربی ممالک میں مستشرقین کے نام پر اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں مغربی باشندوں کو مشرقی علوم کی تربیت دی جاتی ہے ، ان کی یونیورسٹیوں میں قرآن ، حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے ، انہیں ڈگریاں دی جاتی ہیں اور پھر انہی سے اسلام کے خلاف کتابیں اور مضامین لکھائے جاتے ہیں تاکہ لوگ دین اسلام سے محروم ہوجائیں ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ دین کا فتوی علمائے حقہ سے لینے کی بجائے یہودی اور عیسائی ماہرین علوم شرقیہ کی طرف رجوع کرنے لگیں اور اس طرح اسلام کا پروگرام تہ وبالا ہوجائے ۔ ّ (مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ) کتنے افسوس کا مقام ہے کہ آج ہندو ، عیسائی اور یہودی تو اپنے مذہب پر کاربند ہیں مگر مسلمان اپنے سچے دین سے غافل ہیں ہندوؤں نے اپنے مبلغ مغربی ممالک میں بھیج رکھے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے امریکن ہندومت قبول کرچکے ہیں مگر مسلمان اپنے حال میں مست ہیں ۔ انہیں اپنے دین کی کوئی فکر نہیں ، اگر تبلیغ کے نام پر کوئی بیرون ملک جاتا ہے تو وہ انہی کے رنگ میں رنگ کر رہ جاتا ہے ، اور اپنی بات کو بھول جاتا ہے ، امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے وضائف پانے والے مسلمان کتنے ہیں جو اپنا ایمان سلامت لے کر واپس آتے ہیں مسلمانوں کے پاس وسائل موجود ہیں مگر صلاحیت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان آج ساری دنیا میں انحطاط کا شکار ہیں ، یہ سب کافروں کی باریک تدبیروں کا نتیجہ ہے ۔ فرمایا ان کافر کی تدبیریں اتنی بڑی بڑی تھیں (آیت) ” ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال “۔ کہ ان کی وجہ سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائینگے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بقاء کی خاطر انہیں ناکام کیا ، پہاڑون کو سرکا دینے والی محض تدابیر بھی کارگر نہ ہو سکیں ، انگریزوں نے قرآن پاک کے متن میں تغیر وتبدل کی کوشش کی مگر ناکام ہوئے ، انہیں بعد میں پتہ چلا کہ قرآن ایک معجزہ ہے اور اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے ، ایک اندازے کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی ایک ارب کی آبادی میں کم وبیش ایک کروڑ حافظ قرآن موجود ہیں اگرچہ مسلمان قومی اور اخلاقی لحاظ سے تنزل کا شکار ہیں مگر پھر بھی قرآن کو کوئی نہیں ہٹا سکتا حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ تو وہ کتاب ہے جس کو نہ پانی دھو سکتا ہے اور نہ آگ جلا سکتی ہے ، یہ مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ ہے ، آج ساری دنیا میں انجیل کا ایک بھی حافظ موجود نہیں مگر قرآن کے حافظ آپ کو چپے چپے میں ملیں گے ، لہذا اغیار کی مخفی تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں ۔
Ayahs 14:47–51

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

آپ نہ خیال کریں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہ وہ وعدے کی خلاف ورزی کرے گا جو اپنے رسولوں کے ساتھ کیا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ غالب ہے اور انتقام لینے والا ہے ۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن تبدیل کی جائے گی زمین اس زمین کے علاوہ دوسری زمین کے ساتھ اور (اسی طرح تبدیل کیے جائیں گے) آسمان (دوسرے آسمانوں کے ساتھ) اور لوگ ظاہر ہوں گے اللہ کے سامنے جو اکیلا اور زبردست ہے ۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور دیکھے گا تو مجرموں کو اس دن کہ جکڑے ہوئے ہوں گے زنجیروں میں ۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک کے مادے سے ہوں گے اور ڈھانپے گی ان کے چہروں کو آگ ۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ بدلہ دے اللہ تعالیٰ ہر نفس کو جو اس نے کمایا ، بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں کافروں کی مکاری اور چالبازی کا ذکر تھا کہ حق کے مقابلے میں وہ کس قسم کی تدبیریں اختیار کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں مشرکوں اور کافروں کی بری حالت کا ذکر کیا کہ کس طرح وہ قیامت والے دن ذلیل و خوار ہوں گے ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیرکاروں کو تسلی دی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کفار کو مہلت ملتی رہتی ہے ، وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں تو اس سے دھوکہ نہیں چاہیے اور نہ بددل ہونا چاہئے اللہ تعالیٰ نے ان حالات کا ذکر کیا ہے جو ان بدبختوں کو آخرت میں پیش آنے والے ہیں ۔ (اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ “۔ آپ یہ نہ گمان کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی کرے گا ، اور اس کا وعدہ یہ ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے مشن کو ضرور غالب کرے گا اور دین حق کے مخالفین بالآخر مغلوب ہونگے سورة المجادلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی “۔ اللہ نے یہ بات لکھ دی ہے کہ مجھے اور میرے رسولوں کو ضرور غلبہ حاصل ہوگا ، یعنی دنیا میں انہی کے مشن کو کامیابی حاصل ہوگی اللہ تعالیٰ صحیح بات کو غالب کرتا ہے چاہے بظاہر کتنی ہی کمزوری نظر آئے اور کتنی ہی آزمائشوں سے گزرنا پڑے ، سورة المؤمن میں بھی اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” انا لننصررسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد “۔ بیشک ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی ضرور مدد کرتے ہیں دنیا میں بھی اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی جو قیامت کا دن ہوگا ، بہرحال اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں کے مشن کو ضرور غالب کرے گا ، لہذا کافروں کی ظاہری حالت حالت سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے اور یہ کبھی گمان نہیں کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرے گا (آیت) ” ان اللہ عزیز “۔ بیشک اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک اور غالب ہے وہ (آیت) ” ذوانتقام “۔ یعنی انتقام لینے والا بھی ہے وہ مہلت دیتا ہے ، مگر مجرموں کو چھوڑتا نہیں ، وہ ان سے ضرور انتقام لے گا کیونکہ وہ حق کی مخالفت کرتے ہیں ، اگر دنیا میں پوری زندگی بھی ان کو گرفت نہ ہو تو آخرت میں تو ضرور ہی پکڑے جائیں گے اور انہیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنا ہوگی ۔ (زمین وآسمان کی تبدیلی) فرمایا یہ مجرم خدا تعالیٰ کے انتقام کا کب شکار ہوں گے (آیت) ” یوم تبدل الارض غیر الارض “۔ جس دن تبدیل کردی جائے گی زمین دوسری زمین کے ساتھ (آیت) ” والسموت “۔ اور یہ آسمان بھی تبدیل کردیے جائیں گے ، گویا قیامت کے دن یہ زمین وآسمان نہیں ہوں گے بلکہ ان کی جگہ دوسرے لائے جائیں گے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی یہ تبدیلی دو صورتوں میں ہوگی ، یعنی ان کی صفت بھی تبدیل کردی جائے گی ، اور حقیقت بھی ، صفت کی تبدیلی کے متعلق سورة الانشقاق میں آتا ہے ، (آیت) ” واذا الارض مدت “۔ اور زمین کو اس طرح پھیلا دیا جائے گا جیسے کھال کر کھینچا جاتا ہے اس اور کی تمام سلوٹیں نکل جاتی ہیں ، اسی طرح جب زمین کو پھیلا دیا جائے گا تو اس پر نہ کوئی غار رہے گا اور نہ پہاڑ بلکہ سب ہموار ہوجائیں گے یہ تو صفت کی تبدیلی ہوگی ، اور حقیقت کی تبدیلی اس طرح ہوگی کہ پہلے صور پھونکے جانے پر تو اس کی اونچ نیچ ختم ہو جائیگی اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا اور حساب کتاب کی منزل آئے گی تو اس زمین کی جگہ بالکل دوسری زمین لائی جائے گی اور محاسبہ اعمال کی ساری کاروائی اسی نئی زمین پر کی جائیگی حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ نئی زمین میدے یا چاندی کی طرف سفید ہوگی ، یہ زمین کی حقیقت کی تبدیلی ہوگی ، جس موجودہ زمین پر انسان گناہ کا ارتکاب کیا کرتے تھے ، اس کو یکسر بدل دیا جائے گا ، البتہ محاسبہ اعمال کے وقت اللہ تعالیٰ اس زمین کے جس خطے کو چاہے گا گواہی کے لیے حاضر کر دے گا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ، حضور ﷺ جب یہ زمین تبدیل کی جائیگی تو اس وقت انسان کہاں ہوں گے تو آپ نے فرمایا ” علی الصراط جدون الجسر “ اس وقت سارے لوگ پل صراط کے ایک تاریک کنارے پر کھڑے ہوں گے ، اسی طرح موجودہ آسمان بھی تبدیل کردیے جائیں گے ، نہ یہ آسمان باقی رہیں گے اور نہ یہ کرے ، بلکہ یہ سارا نظام ہی تبدیل کردیا جائے گا موجودہ تمام چیزیں درہم برہم ہوجائیں گی ، (اللہ کے حضور پیشی) فرمایا جب زمین وآسمان تبدیل ہوجائیں گے تو اس وقت (آیت) ” وبرزوا للہ الواحد القھار “۔ تمام لوگ اس اللہ تعالیٰ کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے جو اکیلا بھی ہے ، اور قہار بھی یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے فرمایا اس وقت حق کے منکرین ، توحید کو مٹانے والے ، کفر وشرک کے پروگرام کو غالب بنانے ، شرکیہ رسوم قائم کرنے والے اور انبیاء کی بات کو ٹھکرانے والے لوگوں کا حال یہ ہوگا (آیت) ” وتری المجرمین یومئذ “۔ تو اس دن ان مجرموں کو دیکھے گا (آیت) ” مقرنین فی الاصفاد “۔ کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے ، سورة الحاقہ میں ہے (آیت) ” ثم فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا “۔ ستر ستر گز لمبی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے جنہیں فرشتے گھسیٹ کرلے جائیں گے ، سورة یس میں ہے (آیت) ” فی اعناقھم اغللا “ ان کے گلے میں طوق پڑے ہوں گے وہ اس وقت اس قدر ذلیل ورسوا ہوں گے یہی محاسبے اور انتقام کی منزل ہوگی ۔ فرمایا سرابیلھم من قطران “۔ ان کے کرتے گندھک آمیز مادے سے بنائے گئے ہوں گے ، ان کی قمیضوں کا خام مال تارکول ، گندا بروزہ یا گندھک وغیرہ کا ہوگا جو فورا آگ پکڑے لیے گا ، عربی میں قطران اس مرکب وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو اونٹوں کی خارش زدہ جگہوں پر لگایا جاتا ہے تاکہ متاثرہ جگہ سے زہریلا مادہ گل سڑ جانے اور جسم میں تندرست گوشت آنے لگے ، بہرحال اس دن مجرمین کے کپڑے اس قسم کے ہوں گے جو خود آگ کو دعوت دیں گے اور فورا بھڑک اٹھیں گے ایک حدیث میں آتا ہے کہ اس نوحہ کرنے والی عورت کو بھی گندھک کا کرتہ پہنایا جائے گا ” اذا لم تتب قیل موتھا “۔ جو مرنے سے پہلے اس قبیح فعل سے توبہ نہیں کرلیتی ۔ اس قسم کے بارود امیز کپڑوں کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” وتغشی وجوھھم النار “۔ آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لیگی ، چہرہ چونکہ جسم کا افضل عضو ہے اس لیے اس کا بطور خاصل ذکر کیا گیا ہے ، وگرنہ تو سارا جسم ہی بھڑک اٹھے گا ، دوسری جگہ دل کا ذکر آتا ہے کہ دوزخ کی آگ سب سے پہلے دل پر اثر انداز ہوگی اور ظاہری اعضاء میں سے اس کا پہلا شکار چہرہ ہوگا ، اور یہ اس لیے (آیت) ” لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت “۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دے ، چونکہ مجرمین نے دنیا میں کفر ، شرک ، الحاد ، انکار معاد ، انکار توحید ، انبیاء کی مخالفت اور کفر کے پروگرام کی حمایت جیسے اعمال کمائے لہذا ان اعمال کا بدلہ انہیں دوزخ کی آگ کی صورت میں ہی ملے گا (آیت) ” ان اللہ سریع الحساب “۔ بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے اگر وہ دنیا میں چند دن مہلت بھی دے دے تو ہو سکتا ہے مگر بالآخر وہ پکڑ لے گا اور ایک ایک عمل کا حساب لے گا کیونکہ وہ جلد حساب لینے والا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پہلے ایمان والوں کو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں ، اپنا کام کرتے جاؤ کیونکہ ہمیشہ فتح حق کی ہوتی ہے ، ہوسکتا ہے کہ دنیا میں کافروں کو مہلت مل جائے مگر آگے وہ دن یقینا آنے والا ہے جس دن مجرموں کا یہ حال ہوگا جس کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے وہ لوگ آتشین لباس میں ملبوس ہوں گے جو فورا آگ پکڑ لے گا اور ان کا چہرہ فورا جھلس جائے گا یہ ان کے کئے کا بدلہ ہوگا ۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ پیغام ہے لوگوں کے لیے تاکہ ان کو ڈرایا جائے اس کے ساتھ اور تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک وہ ایک ہی معبود ہے اور تاکہ نصیحت حاصل کریں عقلمند لوگ۔

(خلاصہ مضامین) یہ سورة ابراہیم کی آخری آیت ہے مکی سورة ہونے کی بناء پر اس میں بھی زیادہ تر اسلام کے چار بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، پہلی بات قرآن کی صداقت وحقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ہے ، اس سورة میں قرآن پاک کی ضرورت اور اس پر اعتراض کرنے والوں کا خاص طور رد کیا گیا ہے ، اس کی غرض وغایت اس کے ابتدائی حصے میں ہی بیان کی گئی ہے ، (آیت) ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “۔ کہ آپ اس قرآن کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، اور بداعمالی سب اندھیرے ہیں جن کی وجہ سے انسان کی روح اور عقل تاریک ہوجاتی ہے ، اور انسان بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں اس کے برخلاف ایمان ، توحید ، اخلاص اور نیکی روشنی ہے ، جس کی دعوت یہ قرآن حکیم دیتا ہے ۔ اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ معاد بھی اس سورة میں بیان ہوا ہے ، قیامت پر ایمان ، اس کا وقوع ، بعث بعد الموت اور جزائے عمل اس عقیدہ کی جزئیات ہیں ، اس سورة میں ان موضوعات پر بھی بحث کی گئی ہے اور معترضین کے اعتراضات کے شافی جوابات دیے گئے ہیں ۔ اس کے بعد تیسرا بنیادی عقیدہ رسالت ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں بعض انبیاء کے تذکرہ میں ان کی اقوام کی نافرمانی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کی طرف اشارہ کیا ہے ، آخر میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بھی آگیا ہے ۔ اسلام کا چوتھا اور اہم ترین بنیادی عقیدہ توحید پر ایمان ہے توحید تمام مسائل کی جڑ اور بنیاد ہے ، اللہ تعالیٰ نے عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے یہ مسئلہ سمجھایا ہے ، پھر ابراہیم کی دعاؤں کا ذکر ہے جن میں ملت حنیفہ کے اصول ہیں اور آخر میں اللہ نے محاسبہ اعمال کا ذکر کیا ہے ، یہ تمام باتیں بنیادی عقائد سے تعلق رکھتی ہیں ، اس کے علاوہ اللہ نے بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادات کا ذکر بھی اس سورة مبارکہ میں کیا ہے (آیت) ” قل لعبادی الذین امنوا یقیموا الصلوۃ وینفقوا مما رزقنھم “۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں مذکورہ چار بنیادی باتوں کا ذکر کیا ہے ، اکثر سورتوں کے آخر میں ان کا خلاصہ بیان ہوتا ہے اس سورة کے آخر میں بھی اللہ تعالیٰ نے خلاصے کے طور پر چار باتوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ (1) (پیغام خداوندی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھذا بلغ للناس “۔ یہ پیغام ہے لوگوں کے لیے اس سے مراد اس سورة مبارکہ کے مندرجات بھی ہوسکتے ہیں اور پورا قرآن پاک بھی ہو سکتا ہے یعنی جو کچھ اس سورة یعنی پورے قرآن حکیم میں ہے وہ لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام ہے مفسرین کرام بلاغ کے دو معانی بیان کرتے ہیں ، پہلا معنی تو کفایت ہے اور مطلب یہ ہے کہ سورة مبارکہ یا قرآن پاک میں جو کچھ بھی ہے وہ انسان کی نصیحت حاصل کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے کافی ہے ، اس کے علاوہ کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہتی ، اور دوسرا معنی جیسا کہ میں نے ترجمے میں عرض کیا پیغام ہے تمام لوگوں کے لیے ظاہر ہے کہ اگر یہ پیغام ہے تو پھر اس کو پہنچانے والے بھی ہونے چاہئیں تاکہ اس کی تعلیمات تمام متعلقین تک پہنچ سکیں ، قرآن پاک اللہ نے اپنے نبی پر براہ راست نازل فرمایا اور پھر اہل ایمان کو پابند کیا ہے کہ وہ اس پیغام کو آگے پہنچائیں ۔ اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان خود اس پر عمل پیرا ہو ، اس کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو ، اس کی صحت پر یقین ہو کیونکہ خود قرآن پاک کا بیان ہے کہ اس کلام الہی پر یقین نہیں رکھو گے ، (آیت) ” فبای حدیث بعدہ یؤمنون “۔ (المرسلات) تو پھر اس کے بعد کون سی چیز آنیوالی ہے جس پر ایمان لاؤ گے غرضیکہ انسان کو یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کا آخری اور جامع کلام ہے اور حدیث رسول مقبول ﷺ اس کی شرح ہے اس کا متن وحی جلی ہے اور اس کی تشریح وحی خفی ہے ، مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ ” تمام احادیث صحیحہ قرآن کی شرح میں ، اور یہی بات شاہ ولی اللہ (رح) امام شافعی (رح) اور امام ابن تیمیہ (رح) نے اپنے فتاوی میں لکھی ہے ، الغرض ! اس یقین ایمان اور عمل کے ساتھ اگر اس پیغام کو پہنچانا ہی اپنی ذمہ داری کی تکمیل ہے ۔ تو میں نے عرض کیا کہ بلاغ کا لفظ عام ہے اور اس پیغام کو لے جانے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر یقین ہو کر یہی پروگرام صحیح ہے چناچہ سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے (آیت) ” ذلک الکتب لاریب فیہ “۔ یہ وہ کتاب ہے جو شک وشبہ سے پاک ہے ، پھر اس کی تعلیمات اور پروگرام پر عمل پیرا ہونے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولیک ھم المفلحون “۔ یہی لوگ ہیں کہ جن کو فلاح نصیب ہوگی ، اور جو قوم قرآن پاک کے پروگرام کو قبول نہیں کرے گی ، وہ کبھی فلاح نہیں پاسکتی ، اگر اس کتاب کے پیروکار اس پر عمل کرتے ہوئے بغیر شک وتردد کے اسے آگے لے جائیں گے تو اس کا یقینا اثر ہوگا ، اور اگر اس کی تعلیمات کا علم ہی نہ ہو یا اس پر یقین ہی نہ ہو ، اس کی شرح اور اپنے اعمال سے ناواقفیت ہو اور اس کے عقائد اور فکر کا علم نہ ہو ، تو یہ قرآن موثر نہیں ہو سکتا ، بلاغ کے لفظ سے یہ ساری بات سمجھ میں آتی ہے ، اور اگر قرآن کے ماننے والوں کے پاس کوئی سلطنت اور ملک ہی نہ ہو جہاں اس کے پروگرام کو عملی طور پر نافذ کرسکیں تو وہ اس کی دعوت دوسروں کو کیسے دے سکتے ہیں ، دوسرے لوگ اس کی حقانیت کو جبھی سمجھیں گے جب کہ وہ دنیا کے کسی خطے میں اس پر عمل ہوتا اور اس کے متبعین کو فیض یاب ہوتا دیکھیں گے ۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب میں روس گیا تو میں نے سٹالن اور اس کے حواریوں کے سامنے اسلام کی حقانیت پر تقریر کی ، انہوں نے کہا کہ یہ تو واقعی بڑا اچھا پروگرام ہے مگر یہ بتائیں کہ اس پروگرام پر عمل کہاں ہو رہا ہے اور اس کے ثمرات کیا مرتب ہو رہے ہیں کہتے ہیں کہ اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں تھا ، کیونکہ دنیا کی پچاس سے زیادہ مسلم ریاستوں میں سے کسی ایک میں بھی اسلام کے پروگرام پر عمل نہیں ہو رہا ہے ، اسلام کی ترویج کے لیے اور اس کی تبلیغ کے لیے انفرادی طور پر تو کوشش طور پر تو کوشش ہو رہی ہے اور یہ بھی مبارک بات ہے کہ تبلیغی جماعتوں کے گشت دنیا بھر میں ہو رہے ہیں مگر یہ اجتماعی فریضہ کہاں ادا ہو رہا ہے وہ کون سا ملک ہے جس نے قرآنی پروگرام کو اپنے ملک میں نافذ کیا ہو اللہ تعالیٰ نے حدود وتعزیر کے قوانین نازل فرمائے ہیں مگر کہاں ہیں وہ لوگ جو ان کو اپنے سینوں ، معاشرے اور ملک میں جگہ دیں ، جب یہ بات نہیں ہے تو ہم ابلاغ کا فریضہ ادا نہیں کر رہے ہیں اور قرآن کے پیغام حق ہونے کا حق ادا نہیں کر رہے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اسلام میں دونوں باتیں پائی جاتی ہیں ، اخلاقی تعلیم اور تعزیرات ، اگر کوئی اخلاقی تعلیمات سے مستفید نہیں ہوتا اور قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پھر اس کے لیے تعزیرات کا نظام ہے تاکہ معاشرے میں فساد برپا نہ ہو ، مگر تعزیرات کا نظام اجتماعیت اور حکومت کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا ، اور جو حکومتیں اس وقت موجود بھی ہیں ان کے کار پر دازان بھی اسلامی تعزیرات نافذ کرنے کی بجائے من مانی کاروائیاں کر رہے ہیں کافروں کی شاگردی اختیار کرتے ہیں ، ان سے سکی میں بنواتے ہیں اور پھر انہی کے مطابق دولت خرچ کرتے ہیں ، نتیجہ ظاہر ہے کہ نہ تو قرآنی پروگرام پر عمل ہوتا ہے اور نہ اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں ، چاہیے تو یہ تھا کہ مسلمان خود اپنی عقل کو استعمال کرتے ، سلف صالحین کی طرح ہر کام کے خود بانی مبانی بنتے دوسروں سے راہنمائی حاصل کرنے کی بجائے خود دنیا کے استاد بنتے تو انہیں عزت کا مقام حاصل ہوتا ، مگر انہوں نے قرآن کریم کے پروگرام کو نہ خود سمجھا ہے اور نہ اس پر عمل کیا ہے حالانکہ یہ تمام لوگوں کے لیے پیغام ہے اور اس کی تبلیغ کام خود اس کے پیروکاروں کو آگے بڑھ کر کرنا چاہئے تھا ، (2) (انذار بذریعہ قرآن) بہرحال اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے متعلق پہلی بات تو یہ فرمائی کہ یہ لوگوں کے لیے پیغام ہے اور دوسری بات یہ (آیت) ” ولینذروا بہ “۔ تاکہ اس کے ساتھ ڈرایا جائے ، لوگوں کو خبردار کیا جائے ، منذر انبیاء کی صفت ہے اور لوگوں کو محاسبہ عمل اور برے انجام سے خبردار کرنا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہے ، اس وقت جب کہ دنیا فسق وفجور سے بھری پڑی ہے ، انذار کی زیادہ ضرورت ہے ، لوگوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ اگر قرآن پاک میں مذکورہ اصولوں کو تسلیم نہیں کریں گے تو انجام بہت برا ہوگا ، انذار ایک عظیم مقصد ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بھی فرمایا (آیت) ” قم فانذر “ (المدثر) آپ اٹھیں اور لوگوں کو ان کے انجام بد سے خبردار کردیں ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ دنیا کی پانچ ارب آبادی میں سے سوا چار ارب کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا ہیں ، لہذا قرآن کے پیروکاروں کا فرض ہے کہ وہ اس پروگرام کو لے کر اٹھیں اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کریں اور ڈرائیں ۔ (3) (دعوت توحید) سورة ہذا کی آخری آیت میں اللہ نے تیسری بات یہ بیان کی ہے ، (آیت) ” ولیعلموا انما ھو الہ واحد “۔ تاکہ وہ جان لیں کہ بیشک وہ ایک ہی معبود ہے ، خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی پہچان نہایت ہی ضروری ہے یہ پورے دین کی جڑ اور بنیاد ہے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغام میں توحید کے بیشمار عقلی اور نقلی دلائل پیش کر کے توحید کی بات سمجھائی ہے امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یاد رکھو ! انسان کی سعادت دو باتوں میں ہے ایک انسان کی فکری قوت پاک ہو اور دوسرے اس کی عملی قوت کمال درجے کی ہو ، اگر انسان کو فکری یا نظری قوت میں کمال حاصل ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو صحیح طور پر پہچان لیا ہے اور یہی چیز انسان کے عروج اور سعادت کی انتہا ہے ، اور یہی چیز قرآن پاک پیش کرتا ہے ۔ جہاں تک انسان کی قوت عملی کا تعلق ہے تو یہ بھی کمال درجے کی ہو تاکہ وہ بدنی اور مالی عبادت انجام دے سکے ، اور ان دونوں چیزوں کا تذکرہ اس سورة مبارکہ میں ہوچکا ہے (آیت) ” لیقیموا الصلوۃ وینفقوامما رزقنھم “۔ وہ نماز قائم کریں کہ یہ بدنی عبادت ہے اور ہمارے دیے ہوئے مال میں سے انفاق فی سبیل اللہ کرکے مالی عبادت کا حق بھی ادا کریں ، بہرحال اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت کو پہچاننا ہی سعادت ہے جس کو یہ چیز حاصل نہیں ، وہ سعادت مند نہیں بلکہ شقی اور بدبخت ہے ۔ (4) (نصیحت برائے اہل عقل) چوتھی چیز کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولیذکر اولوا الالباب “۔ تاکہ عقلمند لوگ نصیحت حاصل کریں ، یہ بھی قوت عملی کا کمال ہے کہ لوگ اچھی بات سے نصیحت حاصل کریں اور تمام عبادات منجملہ بدنی اور مالی ، نماز ، روزہ ، زکوۃ حج ، تبلیغ ، اور جہاد وغیرہ انجام دیں اور یہی چیز قرآن پاک انسانوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے ، کہ انسانوں کی قوت فکری اور عملی دونوں درست ہوں تاکہ وہ اللہ کی وحدانیت کو پہچان سکیں ، یہ چاروں باتیں ہوگئیں ۔ (خلاصہ کلام) اب آپ اس سورة مبارکہ کے تمام مضامین پر نظر ڈالیں گے تو خلاصہ یہی نکلے گا جو اس آخری آیت کریمہ میں ذکر کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن پاک اللہ کا آخری پیغام ہے ، اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کردیا جائے کہ آگے محاسبے کی منزل آنے والی ہے ، نیز یہ بھی کہ لوگ اللہ کی وحدانیت پر یقین کرلیں کہ معبود برحق ایک ہی ہے ، جب وہ قرآنی دلائل ، شواہد اور انعامات الہی میں غور کریں گے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین آجائے گا ، اور پھر یہ بھی کہ اس نصیحت پر عمل کرنا عقل مندوں کا کام ہے ، اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں عقل مندوں کی یہ صفت بیان کی ہے (آیت) ” الذین یذکرون اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبھم “۔ جو کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں حضور ﷺ کا فرمان (1) (ترمذی ص 486) بھی ہے ” لایزال لسانک رطبا من ذکر اللہ “۔ تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الہی سے تر رہنی چاہئے ، اگر دلائل قدرت میں غور وفکر کرو گے تو روح اور قلب کا ذکر ہوگا اور زبان کا ذکر تو عام ہے اور ہر شخص کے لیے ضروری ہے ، حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں (2) (ابو داؤد ص 4 ج 1) ” کان رسول اللہ یذکر اللہ فی کل احیان “۔ حضور ﷺ ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے تھے کہ عقلمندوں کا یہی کام ہے ، دھوکہ ، فریب اور برائی عقلمندوں کا کام ہرگز نہیں ۔ یہ بات عقل معاش تو ہو سکتی ہے مگر عقل معاد نہیں ہو سکتی ، تو فرمایا صحیح معنوں میں عقلمند وہ لوگ ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، بدنی اور مالی عبادات انجام دیتے ہیں اور قرآن پاک کے پروگرام پر یقین رکھتے ہیں ، اللہ نے سورة کے آخر میں خلاصے کے طور پر چار باتیں فرمائی ہیں ۔