Ayahs 13:1–2تفسیر :
(نام اور کوائف)
اس سورة کا نام سورة الرعد ہے ، رعد بادل کی گرج کو کہا جاتا ہے چونکہ اس سورة میں بادلوں اور انکی گرج کا ذکر ہے ، اس لیے اس سورة کو رعد کے نام موسوم کیا گیا ہے ، گذشتہ سورة یوسف کی طرح یہ سورة بھی مکی ہے جو کہ مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی ، یہ وہی دور ہے جب حضور ﷺ اور آپ کے پیروکار سخت مصائب کا شکار ہو رہے تھے ، اس سورة کی تینتالیس آیات ، 855 کلمات اور 3056 حروف ہیں ، یہ زیادہ لمبی سورة نہیں بلکہ چھ رکوع کی درمیانی سورة ہے ۔
(مضامین سورة )
سورۃ یوسف اور سورة رعد کے زمانہ نزول کی طرح ان کے مضامین بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں مکی سورتوں میں عام طور پر بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قیامت وغیرہ کا ذکر آتا ہے ، قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بھی مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ، توحید کے ساتھ ساتھ شرک کی تمام اقسام کی تردید کی گئی ہے اور ایمان کی جزئیات کو بیان کیا گیا ہے ، تو اس سورة رعد میں بھی بالعموم انہی چیزوں کا ذکر ہوگا اور ساتھ ساتھ ضمنی باتیں بھی آئیں گی ، مکی سورتوں میں اصلاح عقیدہ کے موضوع کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کی فکر پاک نہیں ہو سکتی اور نہ ہی عبادات ، معاملات اور اخلاق درست ہو سکتے ہیں ، اس سورة کا ایک خصوصی موضوع حق و باطل کی کشمکش ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال کے ذریعہ واضح فرمایا ہے ۔
(محکمات متشابہات اور مقطعات)
قرآن پاک میں تین قسم کی آیات آتی ہیں ، محکمات وہ آیات ہیں جن کا مطلب واضح اور حقیقت روشن ہو ، ایسی آیات پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے دوسری قسم متشابہات کی ہے ان آیات کا معنی تو سمجھ میں آتا ہے مگر ان کی حقیقت انسانی سمجھ سے باہر ہوتی ہے ، جیسے اگلی آیت ، 2 میں ہے (آیت) ” ثم استوی علی العرش “ پھر اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا ، اس حصہ آیت کا معنی تو معلوم ہے مگر یہ حقیقت انسانی سمجھ میں نہیں آسکتی کہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کیا ہے یہ متشابہات میں سے ہے ، ایسی آیات کے متعلق سورة آل عمران میں حکم دیا گیا ہے کہ ان کو محکم آیات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرو ۔
آیات یا الفاظ کی تیسری قسم مقطعات کی ہے ایسے الفاظ کا مطلب تو معلوم نہیں ہوتا ۔ مگر ان پر ایمان لانا ضروری ہوتا ہے ، امام جلال الدین سیوطی (رح) اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں 1 (جلالین ص 4) اللہ اعلم بمرادہ بذلک “ یعنی اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان الفاظ سے کیا مراد ہے ، ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم عقیدہ رکھیں کہ ان الفاظ سے اللہ نے جو بھی مراد لی ہے وہ برحق ہے ، اور ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ ہماری عقل ناقص اور ذہن کمزور ہے ، اس لیے ہم ہر چیز کی حقیقت کو معلوم نہیں کرسکتے بعض چیزوں کا انکشاف اس دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا ، ان کا علم آخرت میں چل کر ہوگا ۔ اس کی مثال کے طور پر محدثین کرام فرماتے ہیں ، کہ تقدیر کا مسئلہ ایسا ہے کہ اس کی حقیقت جنت میں جا کر کھلے گی ، اسی طرح حروف مقطعات کے معانی ہیں ، جنہیں ہم نہیں جانتے اور یہ اللہ تعالیٰ کو ہی معلوم ہیں ، ہمیں صرف ان ایمان رکھنا چاہئے کہ یہ برحق ہیں ، ایسی چیزوں کو زیادہ کریدنے کی اجازت نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے انسان گمراہ ہو سکتا ہے ، لہذا تفسیر میں یہ طریقہ بہتر سمجھا جاتا ہے کہ انسان ایسی چیزوں میں زیادہ کرید نہ کرے ۔
(بحث برائے تقریب فہم)
بعض مفسرین اور متکلمین متشابہات اور مقطعات میں محض اس لیے بحث کرتے ہیں کہ انسانوں کے اذہان قرآن کریم کے قریب رہیں اور لوگ اللہ کی کتاب سے دور نہ ہوجائیں ، وگرنہ حقیقت یہی ہے کہ خود حضور ﷺ نے بھی حروف مقطعات کے متعلق کوئی بحث نہیں کی ہے ، حافظ ابن حجر (رح) فتح الباری میں ذکر کرتے ہیں کہ ان حروف میں نہ تو آنحضرت ﷺ نے اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے کلام کیا ہے بلکہ آپ ان حروف کو اسی طرح پڑھتے رہے جس طرح یہ نازل ہوئے ہیں ، البتہ حافظ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کو من وعن تسلیم کرلو اور ان کی حقیقت دریافت کرنے کی کوشش نہ کرو ، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے آخری دور میں جب عجم کے اکثر لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان حروف کے متعلق کرید کی تو ان کے بعض معانی حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہوئے مگر یہ محض تقریب فہم کے لیے ہے ، یقین سے پھر بھی کچھ نہیں کہا جاسکتا جب حضرت علی ؓ سے تقدیر کے مسئلہ میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ” سر اللہ فلاتفتحوا “ یہ اللہ تعالیٰ کے راز ہیں ، ان میں تحقیق نہ کرو ، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ، بلکہ الٹا خرابی پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔
(المر کی بحث)
بعض مفسرین اور محدثین الم کے متعلق فرماتے ہیں ، کہ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اجتماع کی مختلف صورتیں بیان ہوئی ہیں اور ان حروف مقطعات کا اشارہ رحمت خداوندی کے اکٹھا ہونے کے مقام کی طرف ہے ، بعض ان حروف سے بلندی کا جھنڈا مراد لیتے ہیں ، اور یہ اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا ، جو قرآن کریم کی تعلیمات کو اپنالے گا ، بعض فرماتے ہیں کہ علوم الہیہ یا معارف ربانی کی چمک ان حقائق سے ہے جو اس سورة میں بیان کیے گئے ہیں اور الم سے وہ حقائق مراد ہیں ، علی مہائمی (رح) نے اپنی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ اس سورة میں اللہ نے ہدایت اور رشد کی پوشیدہ باتیں اور لطائف و اسرار کو بیان کیا ہے اور ان حروف سے یہی چیز مراد ہے ۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ” الم “ میں ا سے مراد الاء بمعنی انعامات ل سے لطف اور م سے لازوال ملک مراد ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام نعمتیں ، بےانتہا لطف اور لازوال بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ” الم “ مخفف ہے ” انا اللہ اعلم واری “ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں میں جانتا ہوں اور دیکھتا ہوں ، بعض یہ فرماتے ہیں کہ ” الم “ سے وہ اسرار لطیفہ مراد ہیں جو رشد پر مبنی ہیں اور شک کو زائل کرتے ہیں ، امام رازی (رح) نے بعض بزرگوں سے یہ بھی نقل کیا ہے ” انا اللہ العلک الرحمن “ یعنی اللہ فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں جو بادشاہ اور رحمان ہوں ، بہرحال مختلف مفسرین نے یہ مختلف معانی بیان کیے ہیں اور قرآن کریم انہی مطالب ومعانی کا مظہر ہے ۔
(شاہ ولی اللہ (رح) کی توجیہہ)
امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی تین کتابوں الفور الکبیر ، الخیر الکثیر اور ہوامع میں اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے ، فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کشفی طریقے سے سمجھایا ہے کہ ” الم “ سے ان غیوب کی طرف اشارہ ہے جو مقدس عالم یعنی عالم بالا سے عالم ۔۔۔۔۔۔ میں آکر بنی آدم میں پائے جانے والے قبائح ساتھ آکر ٹکراتے ہیں ، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جس مقام سے قرآن پاک نازل ہوتا ہے وہ حظیرۃ القدس کا مقدس جہان ہے جو ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک ہے اور عالم متدنس یہ مادی جہان ہے جہاں ہر قسم کی آلودگی ، شرور فتن ، بدعقیدگی ، بدوضعی ، بداخلاقی ، کفر شرک ، نفاق ، الحاد اور گندگی پائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایمان ، تقوی ، نیکی اور طہارت بھی ملی جلی ہوئی ہے ، تو عالم بالا سے آنے والے علوم ومعارف کا تصادم اس مادی جہان کی برائیوں سے مسلسل ہوتا رہتا ہے چونکہ اس سورة میں اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے تو ” الم “ سے اسی کی طرف اشارہ ہے کہ حق و باطل ہمیشہ ٹکراتا رہتا ہے جس سے حق واضع ہوتا ہے اور باطل مٹتا ہے ۔
(الکتاب)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تلک ایت الکتب “۔ یہ آیات ہیں الکتاب کی تفسیر میں مولانا شاہ اشرف علی تھانویرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ الکتاب سے عظیم کتاب مراد ہے قرآن کریم ہی وہ عظیم کتاب ہے جو صحیح معنوں میں کتاب کہلانے کی مستحق ہے اس کے علاوہ باقی تمام کتابیں مجازا کتاب کہلاتی ہیں حقیقی کتاب یہی ہے یہ خدا تعالیٰ کی علم اور صفت کا ظہور ہے ۔
امام سیبویہ (رح) دوسری صدی ہجری کے امام ہیں ، ایک موقع پر استاد کے سامنے عبارت پڑھتے ہوئے تلفظ کی غلطی کی تو استاد صاحب نے فرمایا کہ تم دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہو مگر تمہارا تلفظ بھی درست نہیں امام صاحب یہ سن کر سخت افسردہ ہوئے اور اٹھ کر چلے گئے ، انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ عربی قواعد کی تعلیم حاصل کیے بغیر آگے نہیں بڑھوں گا ، چناچہ انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ علم نحو کی تحقیق و جستجو میں گزار دیا جب آپ نے اس علم میں کمال حاصل کرلیا تو استاد کے پاس آئے ، بہرحال امام صاحب نے علم نحو کی تحقیق میں دو ضخیم جلدوں میں الکتاب نامی کتاب لکھی ۔ اگرچہ یہ کتاب آجکل نہیں پڑھائی جاتی مگر اس سے اخذ ضرور کیا جاتا ہے اس کتاب کو بھی اس کی عظمت کی بنا پر ” الکتاب “ کہا جاتا ہے تاہم سب سے عظیم الشان کتاب قرآن حکیم ہے اور اس کے متعلق یہاں ارشاد ہے کہ یہ الکتاب کی آئتیں ہیں ۔
(قرآن برحق)
فرمایا یہ بڑی کتاب کی آئتیں ہیں ۔ (آیت) ” والذی انزل الیک من ربک الحق “ اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی طرف سے اتارا گیا ہے ‘ وہ برحق ہے ، حق کا معنی ثابت چیز ہوتا ہے جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو ، قرآن پاک کو حق کہا گیا ہے ، جس کے تمام علوم ومعارف واقع کے مطابق ثابت ہیں اور اس میں کوئی غلط یا مشکوک چیز شامل نہیں ہے ، پھر اسی کتاب کے ضمن میں دین کے جو اصول شریعت اور ملت ہیں ‘ وہ بھی بلاشبہ حق ہیں ، (آیت) ” ولکن اکثر الناس لا یؤمنون “ ۔ مگر اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ، تاریخ عالم گواہ ہے کہ ہر زمانے اور ہر دور میں اکثریت غلط عقیدے پر ہی رہی ہے ۔ لوگ صحیح عقیدے اور صحیح بات کو تسلیم کرنے کی بجائے خاندانی قومی اور ملکی رسم و رواج کے پیچھے چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ سچی کتاب کے اصول و احکام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہوتے ، سابقہ سورة میں بھی یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ لوگوں کی اکثریت بےدین ہو رہی ہے بہرحال یہ قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہوگیا ۔
(آسمان کی حقیقت)
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کو دلائل کے ذریعے سمجھایا ہے اور ساتھ ساتھ قیامت کو بھی برحق قرار دیا ہے ، ہر دو مسائل کا ذکر اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ سے ہوتا ہے ۔ (آیت) ” اللہ الذی خلق السموت بغیر عمد ترونھا “۔ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جن کو تم دیکھ رہے ہو ، یعنی نیلگوں آسمان تمہیں صاف نظر آرہا ہے عربی میں اس کے لیے خضراء یعنی سبزی مائل کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ کی تعریف میں فرمایا ” ما اظلت الخضرآء ولا اقلت الغبرآء علی ذی لھجۃ اصدق من ابی ذر “۔ یعنی سبزی مائل آسمان اور گرد و غبار والی زمین کے درمیان حضرت ابوذر غفاری ؓ سے سچا آدمی کوئی نہیں ہے ، یہ زہد وتقوی میں عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کے مشابہ ہیں ، بہرحال آسمان کے لیے خضراء کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے ، اگرچہ اس کی رنگت نیلگوں ہے ۔
بعض لوگ آسمان کی حقیقت کے قائل نہیں بلکہ اسے محض حد نگاہ سے تعبیر کرتے ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ آسمانی کر ات کی وضع قطع بھی زمین جیسی ہی ہے ، دیگر آسمانی کروں کی طرح زمین بھی ایک کرہ ہے اور فضا میں معلق ہے ، تیز ترین راکٹ کے ذریعے جو لوگ زمین سے بہت دور فضا میں چلے جاتے ہیں انہیں زمین بھی چاند ، سورج اور دیگر سیاروں کی طرح ایک گول مٹول سیارہ ہی نظر آتی ہے مگر انہیں چاند روشن اور زمین تاریک نظر آتی ہے کیونکہ چاند کے عناصر زمین کی نسبت لطیف ہیں ، بہرحال شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ آسمان محض ایک حدنگاہ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے ، سورة بقرہ میں اللہ کا ارشاد موجود ہے کہ اس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (آیت) ” والسمآء بنآء “ اور آسمان کو چھت بنایا ، ظاہر ہے کہ چھت ایک ٹھوس چیز ہوتی ہے جو دیواروں اور ستونوں پر کھڑی کی جاتی ہے ، مگر آسمان کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ چھت ضرور ہے مگر بغیر دیواروں اور ستونوں کے ہے بلکہ اللہ نے اسے اپنی کمال قدرت کے سامنے کھڑا کیا ہے ۔
سائنسدانوں کی تحقیق یہ ہے کہ تمام آسمانی کرے قانون کشش کے ذریعے اپنے اپنے مدار میں محو گردش ہیں اور یہ آپس میں ٹکراتے نہیں آخر قانون کشش بھی تو خدا تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے جس نے تمام کروں کو مربوط بنا رکھا ہے جب تک یہ قانون موجود ہے موجودہ نظام شمسی اسی طرح برقرار ہے ، پھر جب اس قانون کو ختم کردیا جائے گا تو سارا نظام درہم برہم ہو کر کر ات آپس میں ٹکرا جائیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی ، اس دن آسمان بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا ، مگر اس وقت تک یہ آسمان ایک حقیقت کے طور پر قائم ہے جس کے متعلق یہاں فرمایا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے بلند کیا ہے جسے ہر شخص بچشم خود ملاحظہ کررہا ہے ۔
(استوی علی العرش)
فرمایا اللہ نے بغیر ستونوں کے آسمانوں کو کھڑا کیا (آیت) ” ثم استوی علی العرش “۔ پھر وہ مستوی ہوا عرش پر یہ آیت اس لحاظ سے متشابہات میں سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت کسی کو معلوم نہیں چناچہ متکلمین اس کی توجہیہ تین طریقوں سے کرتے ہیں بعض حضرات اس کو مجازی معنوں میں لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا عرش پر قائم ہونا اس طرح نہیں جس طرح ہم چارپائی یا کرسی پر بیٹھتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام کائنات پر خدا تعالیٰ کا کنٹرول ہے عربی میں کہتے ہیں ” استوی بشر علی العراق من غیر دم مہراق “۔ یعنی بشر عراق کا بادشاہ بن گیا بغیر خون کا قطرہ بہائے تو یہاں پر استوی کا معنی اقتدار حاصل ہونا ہے یعنی اسے پورے عراق پر کنٹرول حاصل ہوگیا ،
بعض آئمہ کرام اور سلف صالحین استوی کا حقیقی معنی مراد لیتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ عرش پر مستوی ہے مگر ہم اس کی کیفیت سے نابلد ہیں ، ہم خدا کے بیٹھنے کو اس طرح محمول نہیں کرسکتے جس طرح ہم کسی چیز پر بیٹھتے ہیں ہم مادی دنیا میں رہتے ہیں ، ہم جہاں بھی مقیم ہوں ہمارے دائیں بائیں آگے پیچھے اوپر نیچے جہت ہوتی ہے ۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ مادی تصورات ، محسوسات اور جہت سے پاک ہے ، لہذا اس کے عرش پر مستوی ہونے کی کیفیت ہمارے ذہن میں نہیں آسکتی ، ہم اسی چیز پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ہم اس کے عرش پر بیٹھنے کی کیفیت کو متعین نہیں کرسکتے ۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس معاملہ کو آسمان طریقے سے پیش کرتے ہیں ، آپ فرماتے ہیں کہ ارض وسما ، ملائکہ روح اور تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اسی طرح عرش بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور عرش سے نیچے کی تمام اشیاء مخلوق میں داخل ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے ، شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عرش پر مستوی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تجلی جب عرش پر پڑتی ہے تو سارا عرش رنگین ہوجاتا ہے ، پھر اس تجلی کے اثرات نیچے تمام کائنات پر پڑتے ہیں اور پھر عرش کی طرح لوٹتے ہیں ، توعرش پر پڑنے والی تجلی کو تجلی اعظم کہا جاتا ہے اور اسی تجلی کے لیے ہم اپنی زبان میں اللہ کا لفظ بولتے ہیں اسی کے لیے رحمان کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں ، انسانی ذہن خدا تعالیٰ کی ذات اس سے بہت بلند ہے جو انسانی ذہن میں نہیں آسکتی ، شاہ صاحب (رح) فرماتین ہیں کہ اگر کوئی شخص حظیرہ القدس میں پہنچ جائے تو وہ تجلی اعظم کو نمایاں طور پر محسوس کرسکے گا کیونکہ یہ وہاں پر براہ راست پڑ رہی ہے مگر اس مادی دنیا میں رہتے ہوئے وہاں تک رسائی ممکن نہیں ، البتہ مرنے کے بعد آخرت میں جا کر انسان تجلی اعظم تک ترقی کرسکتا ہے اور اس کو واضح طور پر سمجھ سکتا ہے ۔
(تسخیر شمس وقمر)
فرمایا اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا (آیت) ” وسخر الشمس والقمر “ اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کرلیا ہے یعنی کام میں لگا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ (آیت) ” کل یجری لاجل مسمی “ ان میں سے ہر ایک مقررہ وقت کے لیے چلتا ہے سورج اور چاند اپنے اپنے راستے پر محو سفر ہیں سورج مکمل بارہ ماہ تک ایک ہی مدار میں چلتا ہے جب کہ چاند ہر ماہ اپنا مدار تبدیل کرتا رہتا ہے ، بہرحال اللہ نے ان کے لیے اپنی اپنی منازل مقرر کردی ہیں جس میں وہ چلتے رہتے ہیں اور انسان کی خدمت کرتے رہتے ہیں سورج انسانی ضروریات کے لیے روشنی اور حرارت بہم پہنچا رہا ہے اور اس کے اثرات سے اناج اور پھل پکتے ہیں چاند کی دہمی روشنی سے پھلوں میں رس پیدا ہوتا ہے سمندر کے پانیوں میں مدوجزر کا عمل پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کا اثر ہواؤں پر بھی ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پورے نظام شمسی کو ایک مقرر مدت تک کے لیے جاری فرما دیا ہے ، جب یہ نظام اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جائے گا تو سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور پھر دوسرا نظام شروع ہوجائیگا ۔
(بعث بعد الموت)
فرمایا (آیت) ” یدبرالامر “۔ اللہ تعالیٰ ہر معاملے کی خود تدبیر کرتا ہے مگر اکثر لوگ یہ صفت دوسروں میں تسلیم کرکے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ، وہ غیر اللہ کو بھی تدبیر کندہ مانتے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے ، پھر فرمایا (آیت) ” یفصل الایت “ اللہ تعالیٰ آیتوں کو کھول کر بیان کرتا ہے اور اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں رہنے دیتا اور یہ اس لیے کرتا ہے ، (آیت) ” لعلکم بلقآء ربکم توقنون “۔ تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات پر یقین رکھو ، مطلب یہ ہے کہ قیامت واقع ہوگی اور مرنے کے بعد اللہ کے ہاں حاضر ہونا ہے ، وہاں حساب کتاب کی منزل آئیگی اور ہر ایک کو اپنے کیے کا بھگتان کرنا ہوگا ، اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ہے کہ جب خدا قادر مطلق ہے ، اس نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا ہے ، تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تو کیا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات میں کھول کر بیان کردیا ہے کہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور بعث بعد الموت پر یقین رکھو۔
Ayahs 13:3–4(ربط آیات)
سورة رعد میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی عقائد توحید رسالت ، اور قیامت کا ذکر فرمایا ہے ، البتہ اس سورة کا ایک خصوصی موضوع حق و باطل کی کشمکش ہے ، پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا گیا ، اس کے بعد دلائل قدرت میں سے علویات کا ذکر ہوا اور اللہ نے آسمانوں کی تخلیق اور عرش کو بغیر ستونوں کے قائم کرنے کا ذکر کیا ، سورج اور چاند کی تسخیر کا ذکر کرکے اللہ نے پوری کائنات پر اپنے کنڑول اور تسلط کا اظہار فرمایا ، ان بڑی بڑی چیزوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت پر دلیل قائم کی اور سمجھایا کہ ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی ۔
اب آج کے درس میں آیات سفلیہ کو توحید کی دلیل بنایا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے زمین اور اس پر پیدا کی جانے والی بڑی بڑی چیزوں کا تذکرہ کرکے ان میں غوروفکر کی دعوت دی ہے تاکہ انسان دلائل قدرت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے کی بھی ترغیب دی ہے ، جو لوگ عقل کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے یا غور وفکر نہیں کرتے ان کے لیے دلائل قدرت کچھ مفید ثابت نہیں ہو سکتے ۔
(زمین کا پھیلاؤ )
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھو الذی مد الارض “ وہ وہی خدا تعالیٰ کی ذات ہے جس نے زمین کو پھیلایا ہے ، مد کا معنی پھیلانا یا ہموار کرنا ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ھوالذی “ کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہے کہ زمین کو پچھانے والا وہی ہے ، دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو زمین کی طرف ہے کہ زمین کو بچھانے والا وہی ہے ، دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو زمین کو معبود مانتے ہیں حالانکہ معبود تو وہ ذات ہے جس نے زمین کو انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے ، اللہ تعالیٰ نے زمین کی وضع ایسی بنائی ہے کہ انسان اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکے ، زمین انسانوں کے پاؤں تلے روندی جاتی ہے ، تو یہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے ؟ ایسا عقیدہ رکھنا تو نہایت ہی جہالت اور بےوقوفی کی بات ہے ۔
یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین اسی طرح پھیلی ہوئی ہے جس طرح زمین پر کوئی کپڑا یا چمڑا پھیلا دیا جاتا ہے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ زمین کے پھیلاؤ کا یہ مطلب نہیں ہے ، چھٹی صدی کے عظیم مفسر قرآن امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ زمین گیند کی طرح گول ہے ، یہ ایک بہت بڑا کرہ ہے جس کا قطر چوبیس ہزار میل ہے ، اب ظاہر ہے کہ اتنی بڑی چیز کی گولائی تو نظر نہیں آسکتی بلکہ جہاں بھی دیکھیں گے یہ پھیلی ہوئی ہموار ہی نظر آئے گی ، امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ زمین سمیت تمام کرے گول ہیں ۔ البتہ ان کی جسامت میں بڑا فرق ہے زمین اور سورج میں ایک اور تیرہ لاکھ کی نسبت ہے یعنی سورج زمین کی نسبت تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے اور دونوں کا درمیانی فاصلہ نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے ، جہاں تک چاند کا تعلق ہے ، یہ زمین سے قدرے چھوٹا ہے زمین اور چاند کا درمیانی فاصلہ پونے تین لاکھ میل سے پانچ لاکھ میل تک ہے ، یہ تمام آسمانی کرے ہماری زمین سے دوری کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں ، زمین سمیت تمام کروں کو اللہ نے فضا میں معلق کر رکھا ہے جو کہ اس کی قدرت تامہ کا شاہکار ہے ۔
(سلسلہ ہائے کوہ)
فرمایا اللہ کی ذات وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا (آیت) ” وجعل فیہا رواسی وانھرا “ اور اس زمین میں بوجھل پہاڑ اور پانی کی نہریں رکھی ہیں ، دنیا بھر میں اونچے اونچے پہاڑ پائے جاتے ہیں ، برصغیر پاک وہند کی شمالی سرحد پر سلسلہ کوہ ہمالیہ تین ہزار میل تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس میں مونٹ ایورسٹ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہے جو سطح سمندر سے انتیس ہزار فٹ بلند ہے ، پاکستانی سرحد کے ساتھ ملنے والا کوہ قراقرام اور بعض دوسرے پہاڑ پچیس ہزار (25000) فٹ بلند ہیں ، پہاڑوں کے چھوٹے بڑے سلسلے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ، پرانی ریاضی والے کہتے ہیں کہ سطح ارضی پر تیس ہزار فٹ بلند پہاڑ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک گز لمبی کسی چیز پر جو کے سترھویں حصے کی کیا حیثیت ہے ، اس طرح زمین کے پھیلاؤ اور وسعت کے مقابلہ میں بڑے سے بڑا پہاڑ بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا ، لہذا پہاڑوں کی موجودگی زمین کے پھیلاؤ پر کچھ اثر انداز نہیں ہوتی ، البتہ پہاڑی حصے کچھ ابھرے ہوئے نظر آئیں گے جب کہ باقی زمین ہموار ہی نظر آئے گی ، اسی لیے زمین کے لیے مد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر حقیقت میں زمین گیند کی طرح گول شکل کی ہے ۔
(پہاڑوں کے فائدے)
سورة انبیاء میں زمین پر پہاڑ پیدا کرنے کی حکمت یہ باین کی گئی ہے (آیت) ” ان تمیدبھم “ تاکہزمین حرکت نہ کرسکے یا زمین مضطرب نہ ہو مفسرین نے تمید کے دو معنی بیان کیے ہیں ، پہلا معنی تو عام فہم ہے کہ زمین پر بوجھل پہاڑ رکھ دیے ہیں تاکہ اس کا توازن قائم رہے اور یہ مضطرب نہ ہو یعنی ڈولنے نہ پائے مگر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) ، 1 (تفھیمات الھیہ ص ۔۔۔۔۔ ج 2) مضطرب کو اس معنی میں لیتے ہیں کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو میدانی علاقوں کی انسانی زندگی مضطرب ہوتی کیونکہ وہ پہاڑوں سے پیدا ہونے والی ضروریات زندگی سے محروم رہ جاتے ، اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں میں انسانی زندگی کی بہت سی چیزیں پیدا کی ہیں ۔ مثلا ندی ، نالوں ، اور دریاؤں کے منبع جات پہاڑ ہیں ۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر سینکڑوں سالوں سے برف پڑی ہوئی ہے جو آہستہ آہستہ پگھل کر ندی نالوں کے لیے پانی مہیا کرتی ہے ، یہ پانی دریاؤں کے ذریعے میدانوں میں پہنچتا ہے اور پھر دریاؤں سے نہریں نکال کر میدانی زمین کو سیراب کیا جاتا ہے ۔
جس سے پھل سبزیاں اور اناج پیدا ہوتا ہے ، یہی پانی پہاڑوں کے اندر ہی اندر چلتا رہتا ہے اور کسی جگہ چشموں کی شکل میں ابل پڑتا ہے جس سے خود پہاڑی علاقوںٗ کے انسان ، جانور اور زمین سیراب ہوتی ہے پہاڑوں کی بعض جڑی بوٹیاں ہیں جو انسان صحت کے لیے بڑی مفید ثابت ہوتی ہیں ، تمام مع دنیات مثلا سونا ، چاندی ، لوہا سیسہ ، ابرق ، چونا ، اور پتھر پہاڑوں ہی کی پیداوار ہیں جو انسانی زندگی کے لیے نہایت مفید ہیں ، پہاڑوں میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے درخت عمارتی اور دوسری کارآمد لکڑی مہیا کرتے ہیں ، جو انسانی معاشرے کے لیے نہایت ضروری ہے اسی لیے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ تمید کا معنی یہ ہے پہاڑوں کی عدم موجودگی کی صورت میں انسانی زندگی مضطرب رہتی ۔
(مختلف الانواع پھل)
(آیت) ” ومن کل الثمرت “۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر قسم کے پھل بھی پیدا کیے ۔ (آیت) ” جعل فیھا زوجین اثنین “ زمین میں ان کا جوڑا جوڑا بنایا ، زوجین کا ایک معنی تو نر اور مادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پھلوں میں نر اور مادہ پھل پیدا کیے ہیں اور دو دو کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ایک پھل میٹھا ہے تو دوسرا پھیکا ہے ایک شریں ہے تو دوسرا ترش ہے یا ایک اعلی درجے کا ہے تو دوسرا ادنی درجے کا ، ہم روز مرہ زندگی میں ایسے پھلوں کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں ، مختلف قسم کے پھل ہیں جن کی شکلیں مختلف ہیں ، رنگ اور ذائقے مختلف ہیں ، کہیں پھیکا پھل کام دیتا ہے تو کہیں میٹھے کی ضرورت ہوتی ہے ، کہیں ترش چیز درکار ہوتی ہے تو کہیں کسیلا کام دیتا ہے گویا انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے مختلف الانواع پھل پیدا فرمائے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے ۔
(شب وروز کا تغیر)
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ (آیت) ” یغشی الیل النھار ڈھانک دیتا ہے رات کو دن پر ، شب وروز کا آگے پیچھے آنا خودبخود نہیں بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ، دن کو ختم کرکے اس پر رات کو اوڑھا دیتا ہے ، گویا دن پر رات کی چادر ڈال دیتا ہے ، سورة نور میں ہے (آیت) ” یقلب اللہ الیل والنھار “۔ اللہ تعالیٰ رات اور دن کو پلٹیاں دیتا ہے ، کہیں رات بڑی ہوتی ہے اور دن چھوٹا ہوتا ہے اور کہیں دن بڑا ہوتا ہے اور رات چھوٹی ہوتی ہے ، شب وروز کا یہ نظام اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کی حرکات سے پیدا کیا ہے ، سبع کلیم یعنی متمدن دنیا میں دن اور رات کو طوالت قریب قریب ہوتی ہے البتہ زمین کے کناروں کی طرف انتہائی شمال اور انتہائی جنوب میں دن اور رات کی طوالت میں بڑا فرق ہوتا ہے کہیں دو ماہ کی رات اور دوماہ کا دن ہوتا ہے اور کہیں دن اور رات کی طوالت چھ چھ ماہ تک ہوتی ہے مگر عام متمدن دنیا میں دن اور رات چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوجاتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت القوم یتفکرون “۔ بیشک ان تمام چیزوں میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں اگر انسان اس بات میں غور کرے کہ اللہ نے یہ چیزیں کیوں پیدا کی ہیں ، ان میں اختلاف کیوں رکھا ہے ، کیا خدا کے علاوہ کوئی اور ہستی بھی ہے جو یہ چیزیں پیدا کرنے پر قادر ہے تو انسان لامحالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ان تمام دلائل کو پیدا کرنے والا صرف خدا تعالیٰ ہے اور یہی بات خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو باور کراتی ہے ۔
(زمینی خطے)
آگے فرمایا (آیت) ” وفی الارض قطع متجورت “۔ اور زمین میں مختلف خطے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ساری زمین ایک جیسی نہیں بلکہ متفاوت ہے مگر ہر خطہ ایک دوسرے سے ملا ہوا ہے کسی علاقے کی زمین سیاہ ہے ، کسی کی سرخ کسی کی سفید ہے اور کسی خطے کی مٹیالی ، کوئی زمین سخت ہے اور کوئی نرم کوئی ریتلی ہے اور کوئی پتھریلی ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین کے مختلف خطوں سے مختلف الانواع مٹی لے کر اس سے آدم (علیہ السلام) کا مجسمہ بناؤ ، چناچہ ایسا ہی کیا گیا ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح انسان کی تخلیق مختلف قسم کی مٹی سے ہوئی اسی طرح ان کے اخلاق بھی مختلف ہیں ، مٹی کی طرح کوئی سخت مزاج ہے اور کوئی نرم مزاج بعض کلر والی زمین کی طرح نکمے ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کے طبائع زرخیز زمین کے طرح بڑے باصلاحیت ہوتے ہیں گویا زمین کا اختلاف نوع انسانی کے اختلاف سے ملتا جلتا ہے ، حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق تمام نسل انسانی میں مٹی کا اثر قیامت تک موجود رہے گا ، بعض انسان پاکیزہ اخلاق ہوں گے اور بعض خبیث طینت ، اسی طرح بعض لوگ خوش اخلاق ہوں گے اور بعض بداخلاق ، یہ تو اس زمین کا اثر ہے اور اس دنیا کے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا ، قیامت کے بعد جب ہی زمین پیدا ہوگی تو وہ میدے یا چاندی کی مانند سفید ہوگی اور اس کے کسی حصے میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا بلکہ ساری زمین یکساں نوعیت کی ہوگی ۔
اس زمین کے مختلف الانواع ہونے میں یہ حکمت بھی ہے کہ ہر حصے سے مختلف قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں کہیں سے پیڑول نکل رہا ہے تو کہیں سے کوئلہ اور لوہا برآمد ہو رہا ہے کہیں مر مر کا پتھر پایا جاتا ہے تو کہیں سیمنٹ اور چونا ملتا ہے کہیں سونا چاندی ہے اور کہیں جواہرات پائے جاتے ہیں ، یہ تمام چیزیں انسانی ضروریات کی ہیں اور ایک حصے کی چیزیں دوسرے حصے کے بھی کام آتی ہیں اگر ساری زمین ایک سی ہوتی تو ایسی مختلف ضروریات زندگی کی تکمیل کیسے ممکن ہوتی ؟
(باغات اور کھیتیاں)
فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین میں مختلف خطے پیدا کیے ہیں (آیت) ” وجنت من اعناب “۔ اور انگوروں کے باغات بھی اللہ نے پیدا کیے ہیں منجملہ کھجور ‘ انار کے آم اور انگور بھی بہشتی پھل ہے ، (آیت) ” وزرع “ اور اللہ نے کھیتیاں بھی پیدا کی ہیں ، جن میں اناج ، پھل اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جو انسانی اور حیوانی زندگی کے لیے لازمی ہیں ، (آیت) ” ونخیل “ اور اللہ نے کھجوریں بھی پیدا فرمائی ہیں ، کھجور کا درخت بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے اس کی سینکڑوں قسمیں ہیں جن کے مختلف ذائقے ہیں ، ان کی شکلیں اور جسامت بھی مختلف ہے ۔ کوئی لمبی ہے اور چھوٹی ، کوئی سیاہ ہے اور کوئی سرخ ، کوئی گٹھلی والی ، اور کوئی بغیر گٹھلی کے ، کوئی جلدی استعمال کرنے والی ہوتی ہے اور کوئی لمبے عرصہ تک کارآمد رہتی ہے ، کھجور کے درخت بھی کوئی چھوٹے ہوتے ہیں اور کوئی بہت لمبے ، بعض درخت صدیوں تک قائم رہتے ہیں اور پھل بھی دیتے رہتے ہیں ، جب کہ اس کی بعض اقسام کم عمر بھی ہوتی ہیں ۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ کھجور کے درخت کو مومن انسان کے ساتھ بہت حد تک مشابہت ہے ، جس طرح مومن انسان کے ساتھ بہت حد تک مشابہت ہے جس طرح مومن ہمیشہ سرسبز رہتا ہے اسی طرح کھجور کا درخت بھی سدا بہار ہے جس طرح اس درخت سے لوگ ہر وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اسی طرح مومن کے اعمال واخلاق بھی انسانوں کے کام آتے ہیں کیونکہ مومن کا دل نور ایمان سے منور اور اس کا عقیدہ پاک ہوتا ہے ، جس طرح کھجور کا درخت اوپر کی طرف فضا میں پھیلتا ہے اسی طرح مومن کے اعمال واخلاق بھی پھیلتے ہیں جس طرح کھجور کے درخت کی چوٹی بہت بلند ہوتی ہے ، اسی طرح مومن کے اخلاق بھی بہت بلند ہوتے ہیں ۔
(مختلف الاقسام درخت)
اللہ نے کھجور کے درخت کے تذکرے میں فرمایا (آیت) ” صنوان وغیر صنوان “۔ کہ بعض درخت ایک جڑ سے دو تنے والے ہوتے جب کہ بعض کا ایک جڑ پر ایک ہی تنا ہوتا ہے ، اس قسم کے درخت کھجور کے بھی ہوتے ہیں اور بعض دوسرے بھی ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر ؓ کی حضرت عباس ؓ سے کسی بات پر تلخ کلامی ہوگئی ، حضور کو پتہ چلا تو فرمایا اے عمر ؓ ! کیا تم نہیں جانتے ” انما العم صنوابیہ “ کہ چچا باپ کی شاخ ہوتا ہے یعنی جس طرح کسی درخت کی ایک جڑ سے دو تنے پیدا ہوتے ہیں ، اسی طرح ایک دادا کی اولاد میں باپ اور چچا دو تنے یا دو شاخیں ہوتی ہیں ، فرمایا عباس ؓ میرے چچا اور واجب الاحترام ہیں ، یاد رہے کہ حضور ﷺ کے چار چچا تھے ، جنہوں نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا ، ان میں سے حضرت عباس ؓ اور حضرت حمزہ ؓ نور ایمان سے مشرف ہوئے جب کہ ابولہب اور ابو طالب آپ کا ہمدرد تھا ۔ اس کے ایمان نہ لانے کا حضور کو بڑا افسوس تھا مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ آپ کے اختیار میں نہیں بلکہ میرے اختیار میں ہے ، میں بہتر جانتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں ، ہدایت دیتا ہوں ۔
فرمایا مختلف قسم کے درخت ہوتے ہیں (آیت) ” یسقی بمآء واحد “ جنہیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ونفضل بعضھا علی بعض فی الاکل “۔ اور ہم فضیلت دیتے ہیں بعض کو بعض پر کھانے میں ، بعض نہایت ہی خوش ذائقہ ہوتے ہیں ، جبکہ بعض پھیکے ، ترش یا بدذائقہ ، حالانکہ پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے ، امام رازی (رح) ، امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت میں نیچر یوں کا رد ہے جن کا دعوے ہے کہ ہر کام نیچر کے تحت خود بخود ہورہا ہے ، اگر ایسا ہوتا تو ایک ہی کھیت میں ایک ہی پانی سے سیراب ہونے والا کوئی خربوزہ میٹھا اور کوئی پھیکا نہ ہوتا بلکہ فطرت کے قانون کے مطابق سب کا رنگ اور ذائقہ ایک ہی ہوتا ، مگر ایسا نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پھلوں کو پیدا کرنا نیچر کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ کا شاہکار ہے جس نے بعض درختوں اور پھلوں کو بعض دوسروں پر فضیلت بخشی ہے ۔
فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون “۔ بیشک ان تمام چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں ، زمین کے مختلف خطے ، باغات ، کھیتیاں اور کھجوروں کے درخت نشانات قدرت میں سے ہیں ” ففی کل شیء دلیل انہ واحد “۔ ان میں سے ہر چیز میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات واحدہ لاشریک ہے ، مگر یہ دلائل ان لوگوں کو نظر آتے ہیں جو صاحب عقل ہیں ، اور غور وفکر سے کام لیتے ہیں ، جو لوگ عقل کو استعمال نہیں کرتے ، ” الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ (انفال) یہ بہرے گونگے اور بےعقل ہیں ، نیز فرمایا (آیت) ” اولئک کالانعام بل ھم اضل “ یہ تو جانوروں سے بھی بدتر ہیں ان کو دلائل قدرت نظر آتے ہیں مگر فلاح نہیں پائیں گے
Ayahs 13:5–7(ربط آیات)
اس سورة کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ پر مشتمل بعض دلائل توحید بیان فرمائے ہیں ، زمین اور اس میں پیدا ہونے والے مختلف قسم کے درختوں اور پھلوں کا ذکر فرمایا ، سارے ایک پانی سے سیراب ہونے والے پھلوں کے ذائقے اور رنگ مختلف ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا کام ہے ، فرمایا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں اور غوروفکر کرتے ہیں ، جو ایسا نہیں کرتے ان کو یہ واضح دلائل بھی کچھ مفید نہیں ہوتے ، وہ اپنی جہالت اور نادانی میں ہی پڑے رہتے ہیں ، اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا ہے اور ساتھ ساتھ کافروں کیضد اور ہٹ دھرمی پر حضور ﷺ کو تسلی بھی دی ہے ۔
(قیامت کا انکار)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان تعجب “ اگر آپ تعجب کریں اس بات پر کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید ، بعث بعد الموت اور محاسبہ اعمال پر ایمان کیوں نہیں لاتے ” فعجب قولھم “ تو ان کی یہ بات زیادہ تعجب انگیز ہے (آیت) ” ء اذا کنا تربا “۔ کیا جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے ہمارے اجسام ذرات بن کر خاک میں مل جائیں گے (آیت) ” ء انا لفی خلق جدید “۔ تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ کفار کی یہ منطق سورة الم سجدۃ میں اس طرح بیان ہوئی ہے (آیت) ” ء اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید “۔ جب ہمارے اجزاء زمین میں رل مل جائیں گے تو کیا ہم پھر سے دوبارہ پیدا ہوجائیں گے ، سورة النزعت میں کفار کا یہ بیان بھی مذکور ہے (آیت) ” ء اذا کنا عظام نخرۃ “ کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر زندہ ہوجائیں گے ؟ گویا ان لوگوں کا بعث بعد الموت پر یقین نہیں تھا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا انکار نہایت ہی تعجب انگیز اور افسوسناک ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے اس عظیم کائنات کو بغیر مادے ، سابقہ نمونے اور آلے کے پیدا فرمایا تو انسان جیسی چھوٹی سی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کون سی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشکل بات ہے وہ تو پہلے بھی انسان کو پیدا کرچکا ہے تو اب اس کو دوبارہ کیوں نہیں کھڑا کرسکے گا ؟ بہرحال وہ لوگ قیامت کے وقوع اور دوبارہ زندگی پر تعجب کرتے تھے ۔
کفار کی دوسری تعجب انگیز بات یہ تھی کہ وہ کہتے تھے (آیت) ” اجعل الالھۃ الھا واحد ، ان ھذا لشیء عجاب “۔ کیا تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود کی پوجا کی جائے ، یہ تو بڑی عجیب بات ہے ، ہمارے آباؤ اجداد نے ہر کام کے لیے علیحدہ علیحدہ معبود بنا رکھے ہیں جو اپنے اپنے دائرہ اختیار میں لوگوں کی بگڑی بناتے ہیں ان کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں ، بھلا انتے سارے کام صرف ایک معبود کیسے انجام دے سکتا ہے یہ تو ناممکن بات نظر آتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی دونوں باتوں کی نفی فرمائی ہے اس کی قدرت میں وقوع قیامت اور محاسبہ اعمال بھی ہے اور کائنات کے تمام امور اللہ وحدہ لاشریک ہی انجام دینے پر قادر ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔
ّ (منکرین کے لیے سزا)
فرمایا (آیت) ” اولئک الذین کفروا بربھم “۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا ، اس کی قدرت کا یقین نہ کیا اور اس کی صفت ہی کو نہ پہچانا وہ کہتے تھے کہ مرنے کے بعد کون زندہ ہوگا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” بلی وعدا علیہ حقا “۔ (النحل) ہمارا وعدہ بالکل سچا ہے اور ہم ایسا ضرور کریں گے مگر افسوس کہ آخر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں ان لوگوں کی سزا بھی سن لیں (آیت) ” واولئک الاغلال فی اعناقھم “۔ قیامت والے دن ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے جو کہ ذلت کی نشانی ہے جن لوگوں نے اس دنیا میں باطل کو سینے سے لگائے رکھا قیامت والے دن یہی چیز ان کے گلے کا طوق بن جائے گی ، سورة یس میں ہے (آیت) ” انا جعلنا فی اعناقھم اغللا فھی الی الاذقان فھم مقمحون “۔ ان کے گلے میں طوق ہوں گے جن کیوجہ سے ان کی گردنیں اوپر کو اٹھی ہوں گی ، اور پھر مجرموں کو کھینچنے کے لیے بڑی بڑی زنجیریں ہوں گی سورة الحاقۃ میں ہے (آیت) ” فی سلسلۃ ذرعھا سبعون ذراعا “۔ ستر ستر گز زنجیریں ہونگی جن سے باندھ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی شخص خواب میں بیڑی یاہتھکڑی لگی دیکھے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ شخص دین میں ثابت قدم ہے ، اور یہ اس کے حق میں اچھی علامت ہے اور اگر کوئی گردن میں طوق پڑا ہو ادیکھے تو یہ ذلت کی نشانی ہے ، غرضیکہ مشرکین کی شرکیہ باتیں ، باطل رسم و رواج اور کفریہ کلمات ہی قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بن جائیں گے ، بخیل کے متعلق بھی سورة آل عمران میں آتا ہے (آیت) ” سیطوقون مابخلوا بہ “۔ بخل کی وجہ سے ان کے گلے میں طوق ڈال دیا جائے گا ، وہ سانپ بن کر بخیل کو ڈسے گا ، کیونکہ اس نے دنیا میں مال کا حق ادا نہیں کیا ، زکوۃ نہیں دی یا معاشرے کے کمزور لوگوں کا خیال نہیں رکھا فرمایا (آیت) ” واولئک اصحب النار “۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ، وہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے (آیت) ” ھم فیھا خلدون “۔ وہ اس دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، وہاں سے خلاصی کی کوئی صورت نہیں ہوگی کیونکہ کفر اور شرک کی سزادائمی ہے ، البتہ اعمال کی خرابی کی سزا وقتی ہوگی ، جو کہ تطہیر قلب کے لیے دی جائے گی ۔
(بھلائی سے پہلے برائی)
آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منکرین کی ایک اور خرابی کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” ویستعجلونک بالسیئۃ قبل الحسنۃ “۔ یہ لوگ آپ سے بھلائی سے پہلے برائی کو چاہتے ہیں ، بھلائی تو ایمان قبول کرنے اور نیکی اختیار کرنے سے آتی ہے ، مگر یہ تو انہوں نے کیا نہیں وہ اپنے کفر اور شرک پر اڑے ہوئے ہیں اور خود اپنی زبان سے عذاب طلب کرتے ہیں سورة انفال میں ان کا یہ بیان موجود ہے (آیت) ” الھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئتنا بعذاب الیم “۔ اے اللہ ! اگر محمد ﷺ کی بات سچی ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا دے یا کوئی اور دردناک عذاب نازل کردے “۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے (آیت) ” اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا “۔ یا ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرا دے ہم تو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ، اللہ نے فرمایا کہ دیکھو یہ کتنے بیوقوف لوگ ہیں جو اپنے مونہوں سے سزا کے طالب ہیں اور جب یہ سزا آجاتی ہے تو پھر ٹالی نہیں جاتی ، فرمایا (آیت) ” وقد خلت من قبلھم المثلت “۔ اور اس سے پہلے اس قسم کی سزاؤں کی مثالیں گزر چکی ہیں ، اللہ نے نافرمانوں کی طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کیا مگر یہ لوگ ان مثالوں کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے بلکہ کفر وشرک پر اصرار کرکے ویسی ہی سزاؤں کا دوبارہ مطالبہ کر رہے جو کہ سخت نادانی کی بات ہے ۔
(معافی اور سزا)
فرمایا (آیت) ” وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم “۔ بیشک تیرا پروردگار البتہ بخشش کرنے والا ہے لوگوں کے لیے باوجود ان کے ظلم اور زیادتی کے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش کا ذریعہ پیدا ہوجاتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” نبی عبادی انی انا الغفور الرحیم ، وان عذابی ھو العذاب الالیم “۔ (الحجر) میرے بندوں کو مطلع کرو کہ میں بخشش کرنے والا اور مہربان ہوں ‘ اور میری سزا بھی بڑی سخت ہے ، یہاں بھی فرمایا کہ ایک طرف تو تیرا رب زیادتی کرنے کے باوجود لوگوں کو معاف کرنے والا ہے اور دوسری طرف (آیت) ” وان ربک لشدید العقاب “۔ خدا تعالیٰ سخت سزا دینے والا بھی ہے ، انسان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی ان دونوں صفات کی طرف ہونی چاہئے ، اگر کسی کو مہلت ملے تو اسے مغرور نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ کی گرفت بھی بڑی سخت ہے ، حضرت سعید ابن مسیب (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی معافی اور درگزر نہ ہوتا تو انسانوں کے لیے زندگی قطعی خوشگوار نہ ہوتی بلکہ نہایت تلخ ہوتی ، فرمایا اگر خدا کی گرفت نہ ہوتی تو لوگ بھروسہ کرکے ہی بیٹھ جاتے گویا معافی اور سزا کا قانون ساتھ ساتھ چلتا ہے ، اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں ۔ ” الایمان بین الخوف والرجآء “ یعنی انسان کا ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے ، انسان کو اللہ کی پکڑ کا ڈر بھی ہو اور اس کی بخشش کی امید بھی ۔
امام ابن کثیر (رح) نے اپنی تفسیر میں حافظ ابن عساکر (رح) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ ایک بزرگ ابو حسان حسن ابن عثمان (رح) نے خواب میں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جلوہ فرما ہیں اور حضور ﷺ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ایک آدمی کی سفارش فرما رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا ” الم یکفک “ کیا آپ کے لیے سورة رعد کی یہ آیت کافی نہیں ہے ۔ (آیت) ” وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم “۔ یعنی تیرا پروردگار لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود بخشنے والا ہے ، بشرطیکہ فکر پاک ہو۔
(معجزے کی فرمائش)
کفار کی ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا (آیت) ” ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “۔ کافر لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتاری جاتی اس پیغمبر پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے ، اس نشانی سے وہ نشانی مراد ہے جو کافر خود اپنے منہ سے طلب کرتے تھے ، ورنہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہاتھ پر بیشمار نشانیاں ظاہر فرمائی ہیں مگر ضدی لوگ محض اپنی من مانی نشانی پر اڑے ہوئے ہیں ، کہتے ہیں کہ مکہ میں باغ لگ جائیں ، ان میں نہریں جاری ہوں آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے ہمارے سامنے کتاب لائیں فرشتے آکر آپ کی رسالت کی گواہی دیں یا خدا خود سامنے کتاب لائیں فرشتے آکر آپ کی رسالت کی گواہی دیں یا خدا خود سامنے آکر کھڑا ہوجائے (العیاذ باللہ) کوئی منصف مزاج آدمی ایسی بات نہیں کرسکتا مگر یہ ایسی جاہل قوم تھی کہ من مرضی کی نشانی پانے کے باوجود انکار کردیتے تھے ، انہوں نے شق القمر کا معجزہ خود طلب کیا ، مگر جب ظاہر ہوگیا تو کہنے لگے (آیت) ” سحر مستمر “ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے یعنی محمد نے جادو کردیا ہے ، تو فرمایا کافر کہتے ہیں کہ نبی پر کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی ، اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ نشانیوں کا ظاہر کرنا نبی کا کام نہیں بلکہ یہ تو اللہ کا کام ہے ، وہ جب چاہے اپنی مصلحت کے مطابق کوئی معجزہ ظاہر کردے کوئی نبی اپنی مرضی سے معجزہ ظاہر نہیں کرسکتا ۔
(ہر قوم کے لیے ہادی)
اللہ نے فرمایا ، اے نبی ﷺ (آیت) ” انما انت منذر “۔ آپ تو ڈر سنانے والے ہیں ، آپ لوگوں کو شدید محاسبے اور عذاب سے ڈرائیں کہ آگے ایک منزل آنے والی ہے ، اس کے لیے تیاری کریں ہر نبی کو اللہ نے مبشر اور منذر بنا کر بھیجا ہے (آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین “۔ (النسائ) انبیاء کے علاوہ ان کے پیروکار بھی منذر ہوتے ہیں ، جو لوگ بھی اہل حق ہوتے ہیں ، وہ لوگ کو کفر ، شرک ، اور معاصی کے انجام سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ، فرمایا آپ تو ڈر سنانے والے ہیں (آیت) ” ولکل قوم ھاد “۔ اور ہر قوم کا ہادی ہوتا ہے ۔ یہ سنت اللہ ہمیشہ جاری رہی ہے کہ اللہ نے ہر قوم میں ہادی بھیجے ہیں اللہ نے اپنے آخری نبی کو بھی ہادی بنا کر بھیجا ہے آپ کا کام ہدایت کا راستہ دکھانا اور ڈر سنانا ہے ، لوگوں کی فرمائشیں پوری کرنا آپ کے فرائض میں شامل نہیں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سابقہ انبیاء خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوتے تھے جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” ورسولا الی بنی اسرآئیل “۔ (آل عمران) یعنی آپ کو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ، مگر حضور ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف نبوت عامہ عطا کی گئی ، آپ ہر قوم کے ہادی اور راہنما ہیں سورة اعراف میں بھی موجود ہے (آیت) ” قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “۔ اے نبی (علیہ السلام) آپ کہہ دیں کہ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں آپ کے علاوہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی نبوت عامہ سے سرفراز فرمایا (آیت) ” انی جاعلک للناس امام “۔ (البقرہ) حضور ﷺ تمام قوموں کی طرف رسول ہیں ، آپ نے فرمایا ” بعثت الی الاسود والاحمر “۔ مجھے تمام کالے اور سرخ لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے اس میں ہر قوم اور ہر ملک چین ، جاپان ، روس ، امریکہ ، افریقہ ، اور ایشائی ممالک شامل ہیں ، سورة انعام میں ہے کہ آپ کو اس لیے مبعوث کیا گیا ہے (آیت) ” لتنذر ام القری ومن حولھا “۔ تاکہ آپ اہل مکہ اور گردوپیش کے لوگوں کو ڈرائیں ، اور فرمایا یہ قرآن آپ کی طرف اس لیے نازل کیا گیا ہے (آیت) ” لانذرکم بہ ومن بلغ “۔ تاکہ آپ انکو بھی ڈرائیں اور ان کو بھی جہاں تک یہ قرآن پہنچے ، تمام جہاں والے آپ کے مخاطب ہیں ، آپ کو تسلیم کیے بغیر کسی کے لیے ہدایت کا دروازہ نہیں کھلے گا ، بہرحال اللہ نے ہر قوم کے لیے ہادی بھیجے ۔