13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 13:17–18

اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ Open ayah 13:17 in the Quran reader

اتارا اس نے آسمان کی طرف سے پانی ، پس بہہ پڑیں وادیاں اپنے اندازے کے اٹھایا سیلاب نے جھاگ پھولا ہوا اور اس میں سے جس کو وہ گرم کرتے ہیں آگ میں واسطے تلاش کرنے زیور کے یا سامان کے جس کے اوپر بھی جھاگ ہوتا اسی طرح ، اسی اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے حق اور باطل کو بہرحال وہ جھاگ ، پس وہ چلا جاتا ہے خشک ہو کر ، اور جو چیز فائدہ پہنچاتی ہے لوگوں کو وہ ٹھہر جاتی ہے زمین میں ، اسی طریقے سے اللہ بیان کرتا ہے مثالیں ۔

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ Open ayah 13:18 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے جنہوں نے قبول کیا اپنے رب کی بات کو ، ان کے لیے بھلائی ہے ، اور وہ لوگ جو نہیں قبول کرتے اس کو ، اگر ان کے لیے ہو جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اور اس جیسا اور بھی اس کے ساتھ اور (پھر وہ فدیہ دیں اس کے ساتھ) پھر بھی قبول نہ کیا جائے گا ، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہے برا حساب اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے ، اور بہت برا ٹھکانا ہے ۔

(ربط آیات) اس سورة مبا کہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کرنے کے بعد معاد کا ذکر فرمایا پھر رسالت کا بیان ہوا ، اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا اور شرک کا رد فرمایا توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے اور شرک کی مختلف صورتوں کو واضح کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ربوبیت اور خالقیت کی دلیل پیش کرکے الوہیت کا استدلال پیش کیا کہ الہ صرف وہی ہو سکتا ہے جو رب اور خالق ہے چونکہ یہ صفات اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی میں نہیں پائی جاتیں لہذا مستحق عبادت بھی صرف اللہ ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں اور مومنوں کی مثال اندھے اور بینا کی بیان فرمائی شرک کو ظلمات سے تعبیر کیا اور ایمان اور توحید کو نور فرمایا اور یہ بھی کہ یہ دونوں چیزیں برابر نہیں ہو سکتیں ، چونکہ مکی سورتوں میں زیادہ تر عقائد ہی کا بیان ہے لہذا اس سورة میں بھی توحید کا مسئلہ اللہ نے پورے طریقے سے واضح کردیا ہے ۔ (بارش اور ندی نالے) اب آج کے درس میں اس سورة کا مرکزی مضمون حق و باطل کی کشمکش بیان ہو رہا ہے ، اللہ نے یہ مسئلہ ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے کہ باطل کسی چیز پر آنے والی جھاگ کی مانند ہے جو وقتی طور پر تو بہت ابھری ہوئی نظر آتی ہے ، مگر جلد ہی مٹ جاتی ہے ، اور حق کو اس اصل چیز سے تشبیہ دی ہے جو جھاگ سے نیچے ہوتی ہے اور جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انزل من السمآء مآئ “۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا ، آسمان سے نہیں بلکہ آسمان کی طرف سے کہنا زیادہ مناسب ہے بارش برسنے کی ظاہری وجوہات تو یہ ہیں کہ سورج کی گرمی سے سمندروں کی سطح سے پانی بخارات بن کر بادلوں کی صورت میں اٹھتا ہے ، پھر ہوائیں ان بادلوں کو اس خطے کی طرف اڑالے جاتی ہیں جہاں بارش برسانا ہوتا ہے یاد رہے کہ بارش کا ذریعہ صرف بادل ہی نہیں بلکہ اس کے لیے عالم بالا کا حکم بھی ضروری ہے اسی لیے یہاں پر (آیت) ” من السمآء “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے آسمان و زمین کی درمیانی فضا بھی مراد ہے اور عالم بالا کا حکم الہی بھی اس میں شامل ہے ، اسی لیے فرمایا وہ آسمان کی طرف سے پانی اتارتا ہے ۔ فرمایا جب بارش ہوتی ہے (آیت) ” فسالت اودیۃ “ تو وادیاں بہ نکلتی ہیں ، اودیہ وادی کی جمع ہے مطلب یہ ہے کہ جب پہاروں پر یا سطح مرتفع پر بارش ہوتی ہے تو اس کا پانی ندی نالوں کی صورت میں بہ کر وادیوں میں پہنچ جاتا ہے (آیت) ” بقدرھا “ ان کے اندازے کے مطابق جس قدر ندی نالہ بڑا ہوگا اسی قدر پانی بھی اس کے ذریعے زیادہ آئے گا ۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ندی نالوں کا پانی ہوتا ہے ایسے پانی کی رنگت خواہ تبدیل ہوچکی ہو مگر یہ غسل اور کپڑے دھونے کے لیے بالکل درست ہوتا ہے ، اس پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے پرانے زمانے میں پانی کے ذریع ندی نالے یا کنوئیں تھے مگر جدید دور میں ان کی جگہ ٹیوب ویلوں ، ہینڈپمپوں اور واٹر سپلائی نے لے لی ہے تاہم پہاڑوں علاقوں میں آج کل بھی ندی نالوں اور چشموں سے استفادہ کیا جاتا ہے ، غرضیکہ یہ پانی دریا کے پانی کے طرح بالکل پاک ہوتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا کہ ہم لوگ سمندر میں سفر کے دوران میٹھا پانی زیادہ ساتھ نہیں لے جاسکتے ، اور اگر ہم اس محدود مقدار کے پانی سے وضو بھی کریں تو پینے کے لیے پنانی نہیں بچتا تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو اور غسل وغیرہ کرسکتے ہیں آپ 1 (ترمذی ص 11 ج 1) نے فرمایا ” ھو الطھور مآء ہ والحل میتتہ “۔ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا شکار یعنی مچھلی وغیرہ حلال ہے ، سمندر کا پانی اگرچہ سخت کڑوا ہے اور پینے کے قابل نہیں ہوتا اور پینے سے بیماری لاحق ہونے کا بھی خطرہ ہوتا ہے مگر یہ پانی بہرحال پاک ہے ۔ (سیلاب کی جھاگ) فرمایا جب بالائی علاقوں میں زیادہ بارش ہوتی ہے تو ندی نالے سیلاب کی صورت میں بہ نکلتے ہیں (آیت) ” فاحتمل السیل زبدا رابیا “۔ پس وہ سیلاب اٹھا لاتا ہے جھاگ پھولی ہوئی سیلاب کا پانی جن وادیوں سے گزرتا ہے ، وہاں کی مٹی ، تنکے اور کوڑا کرکٹ بھی شامل ہوجاتا ہے مٹی کی وجہ سے پانی گدلا ہوجاتا ہے اور اس پر جھاگ بھی آجاتی ہے زمین کا کوڑا کرکٹ بھی جھاگ کے ساتھ کے ساتھ مل کر پانی کی اوپر والی سطح پر نظر آتا ہے ، اور اس طرح پانی کی سطح ابھری ہوئی نظر آتی ہے ، رابیا ربی سے ہے ، ربو سانس کی بیماری کو کہتے ہیں جس سے سانس پھول جاتا ہے اور ربو زاید مال یعنی سود کو کہتے ہیں جو بغیر استحقاق کے حاصل کیا جاتا ہے زبدا جھاگ کو کہتے ہیں زبد عطیے کو بھی کہتے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک مشرک نے حضور ﷺ کی خدمت میں ہدیہ پیش تو آپ ﷺ نے فرمایا ” نھینا عن زبد المشرکین “ یعنی ہمیں مشرکین کا ہدیہ قبول کرنے سے منع کردیا گیا ہے ، البتہ جہاں دین کا فائدہ ہو وہاں ایسا ہدیہ قبول کرلینا چاہئے اقامت دین وملت اور مسلمانوں کے غلبے کی خاطر ایسا ہدیہ قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، البتہ اگر ایسے ہدیہ کی وجہ سے دین وملت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو یا مشرکین کی تعظیم ہوتی ہو یا ان کے غلبے کو تقویت حاصل ہو تو پھر ان کا ہدیہ قبول نہیں کیا جاتا ، اسی طرح زبد مکھن کو کہا جاتا ہے اور زبد اس جھاگ کو بھی کہتے ہیں جو سونا چاندی یا کوئی دوسری دھات پگھلانے سے اس پگھلے ہوئے پانی پر آجاتا ہے اور تھوڑی دیر بعد ختم ہوجاتا ہے ۔ (دھات کی جھاگ) سونا اور چاندی عموما زیورات بنانے کے لیے پگھلایا جاتا ہے چاندی تو جلدی پگھل جاتی ہے مگر سونے اور تانبے وغیرہ کے لیے بہت زیادہ ٹمریچر کی ضرورت ہوتی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغآء حلیۃ “۔ اور اس میں بھی جھاگ آتی ہے جس کو وہ آگ میں گرم کرتے ہیں زیور بنانے کے لیے حلیہ اس زیور کو کہا جاتا ہے جسے مرد وزن زینت کے لیے استعمال کرتے ہیں ، عورتوں کے لیے تو سونے چاندی کا زیور پہننا جائز ہے ، بشرطیکہ اس کی زکوۃ ادا کی گئی ہو۔ البتہ مردوں کے لیے صرف چاندی کی محدود اجازت ہے اور سونا بالکل ممنوع ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک خاتون اور اس کی بیٹی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ انہوں نے سونے کے موٹے موٹے کنگن پہن رکھے تھے حضور ﷺ نے دریافت کیا ، کیا ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ یہی کنگن آگ کے بن کر تمہارے ہاتھوں میں پڑے ہوں ؟ اس خاتون نے وہ کنگن فورا اتارے اور صدقہ کردیے ، بہرحال اگر زیور نصاب کو پہنچ جائے تو اس کی زکوۃ ادا کرنا ضروری ہے ، زکوۃ کی ادائیگی کے لیے زیور کا زیر استعمال آنا ضروری نہیں ہے ، زیور خواہ پہنا جائے ، صندوق میں پڑا رہے یا کسی بنک کے لاکر میں محفوظ ہو ، زکوۃ بہرحال ادا کرنا ہوگی جب کہ وہ نصاب کو پہنچ جائے ۔ ، فرمایا (آیت) ” ومتاع زبد مثلہ “ یا کوئی دوسرا سامان بنانے کے لیے کسی دھات کو پگھلایا جائے تو اس پر بھی جھاگ آجاتی ہے پلاٹینیم سونے سے بھی قیمتی دھات ہے اور اس سے بھی زیورات بنتے ہیں ، باقی دھاتوں میں لوہا سرفہرست ہے جس سے ہر قسم کی مشینری اور اس کے پرزہ جات بنتے ہیں موجودہ دور میں لوہا اور پٹرول بنیادی ضروریات میں شامل ہیں اور ان کے بغیر پوری دنیا کا نظام رسل و رسائل ٹھپ ہو سکتا ہے ، تمام گاڑیاں لوہے سے بنتی ہیں ، اور پٹرول سے چلتی ہیں ، عام شہری ضروریات کے لیے استعمال ہونے والی کاروں اور بسوں سے لے کر بحری اور ہوائی جہاز تک لوہے کے مرہون منت ہیں ، جنگی سازوسامان میں رائفل ، توپ ، ٹینک ہوئی جہاز ، میزائل اور راکٹ وغیرہ سب لوہے سے بنتے ہیں جسے پگھلانا پڑتا ہے ، دنیا میں لوہے اور پٹرول کے ذخائر کم ہو رہے ہیں تو قدرت ان کا متبادل بھی پیدا کر رہی ہے لوہے پیتل ، تانبے اور سلور وغیرہ کی بجائے اب پلاسٹک کے برتن اور دوسری ضروریات زندگی تیار ہو رہی ہیں ، تیل کا متبادل اللہ نے گیس پیدا کردی ہے جسے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ، اب سورج کی شعاؤں سے ایندھن کا کام لینے کے تجربات ہو رہے ہیں ۔ (حق و باطل میں کشمکش) غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے دو قسم کی جھاگ کا ذکر فرمایا ہے ، ایک جو سیلاب کی وجہ سے پانی کے اوپر آتی ہے اور دوسری جو دھات پگھلانے سے دھات کے پانی پر آتی ہے ، اللہ تعالیٰ اسی دھات سے بات سمجھانا چاہتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” کذلک یضرب اللہ الحق والباطل “ اسی طریقے سے اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو بیان فرماتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پانی اور جھاگ کو حق اور باطل کے ساتھ تشبیہ دی ہے فرمایا (آیت) ” فاما الزبد فیذھب جفآء “ جھاگ تو خشک ہو کر چلا جاتا ہے ، جب سیلاب آتا ہے یا دھات کو گرم کیا جاتا ہے تو کچھ وقت کے لیے اوپر جھاگ آتی ہے ، مگر آہستہ آہستہ خشک ہو کر ختم ہوجاتی ہے ۔ (آیت) ” واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض “۔ اور جو چیز لوگوں کے لیے مفید ہوتی ہے وہ نیچے زمین میں رہ جاتی ہے مطلب یہ ہے کہ جب سیلاب کا پانی مع اپنی جھاگ کے گزر جاتا ہے تو وہ اپنے پیچھے زمین میں زرخیز مٹی (بھل) چھوڑ جاتا ہے جس سے زمین زرخیز ہوجاتی ہے اور خوب اناج اور پھل اگاتی ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح سونا چاندی یا لوہا تانبہ وغیرہ پگھلانے سے جو اوپر جھاگ آتی ہے ، وہ تو کچھ لمحوں کے بعد خشک ہوجاتی ہے اور اصل جوہر نیچے رہ جاتا ہے جس سے زیورات اور روز مرہ زندگی کی ہزاروں ضروریات پوری ہوتی ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” کذلک یضرب اللہ الامثال “۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے ، آسمان سے بارش برسی جس کا پانی ندی نالوں میں بہہ نکلا ، اس کے اوپر جھاگ ، کوڑا کچرہ ، میل کچیل وغیرہ آئی جو کچھ دیر بعد ختم ہوگئی ۔ اسی طرح دھاتوں کے پگھلاتے وقت دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ بھی تھوڑی دیر بعد ختم ہوجاتی ہے ، اور دونوں صورتوں میں کار آمد اشیاء یعنی پانی ، زرخیز مٹی اور دھات وغیرہ نیچے رہ جاتی ہے ، اور یہی وہ اصل ہے ، جس سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ (حق باطل کی مثال) اگر حق و باطل کی مثال سمجھنی ہو تو یوں سمجھو کہ انسانوں کے دلوں پر وحی الہی کا اثر ان کی دلی استعداد کے مطابق ہوتا ہے جہاں صلاحیت زیادہ ہوگی وہاں اثر بھی کم ہی ہوگا ، حضور ﷺ نے اس بات کو اس طرح سمجھایا کہ عام طور پر زمین کے خطے تین قسم کے ہوتے ہیں ، بعض خطے نہایت اچھے ہوتے ہیں ، جب آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے تو ایسے خطے پانی کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں ، اور پھر اس زمین سے پھل ، اناج ، چارہ اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں جس سے مخلوق خدا مستفید ہوتی ہے ، فرمایا زمین کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے کہ اس میں روئیدگی کی صلاحیت تو نہیں ہوتی البتہ وہ اپنے اندر پانی کو جمع کرلینے کی استعداد رکھتی ہے ، ایسی زمین میں تالابوں ، حوضوں اور جھیلوں کی صورت میں پانی جمع ہوجاتا ہے جس سے انسان اور جانور سیراب ہوتے ہیں ، فرمایا زمین کی تیسری قسم ایسی ہے جو نہ تو خود پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ وہ پانی کو سٹور کرسکتی ہے کہ اس سے دوسرے لوگ ہی فائدہ اٹھاسکیں ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ آسمان سے جو وحی ، ہدایت اور شریعت نازل ہوتی ہے اس سے بھی تین قسم کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں اچھی صلاحیت والے لوگ وحی الہی کی تعلیمات کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں اور اس سے خوب مستفید ہوتے ہیں ، بعض دوسرے لوگ خود تو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے مگر وہ اس علم کو اپنے اندر جمع کرلیتے ہیں جس سے دوسرے لوگ مستفید ہوتے ہیں اور تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو بالکل نکمے ہوتے ہیں جو وحی الہی سے نہ تو خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے لیے وجہ استفادہ بنتے ہیں ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کی کشمکش کی یہ مثال بیان فرمائی ہے ، جب یہ آپس میں ٹکراتے ہیں تو باطل جھاگ کی مانند اوپر آجاتا ہے تھوڑی دیر کے لیے اس میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے مگر وہ آخر کار دب جاتا ہے اور کار آمد حق نیچے رہ جاتا ہے جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں ، وحی الہی کا حال بھی ایسا ہی ہے ، جب انسان کے دل میں حق اترتا ہے تو بعض اوقات وہم اور شکوک وشہبات بھی جوش مارتے ہیں مگر جھاگ کی طرح یہ بھی کچھ وقت کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اور انسان کے دل میں حق بات ٹھہر جاتی ہے ، مطلب یہ ہے کہ باطل کے وقتی جوش و خروش کو دیکھ کر گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد برحق ہے (آیت) ” ان الباطل کان زھوقا “۔ (بنی اسرائیل) باطل تو مٹ جانے والی چیز ہے ، کفر ، شرک ، نفاق ، بدعات ، معاصی کتنا بھی زور ماریں وہ بالآخر ختم ہوں گے اور ایمان ہی باقی رہے گا ، باطل کی عمر زیادہ سے زیادہ اس عارضی دنیا کی زندگی تک ہو سکتی ہے مگر ایمان نیکی ، توحید ، اپنی جگہ پر قائم رہے گی ، اور یہی چیزیں لوگوں کے لیے مفید ہوں گی ۔ (شاہ ولی اللہ (رح) کا فلسفہ) امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ عالم مقدس سے انبیاء پر نازل ہونے والا حق اس متدنس جہاں کے شرور وقبائح سے ٹکراتا رہتا ہے ، اس سورة کی ابتداء میں الم کی تشریح میں میں نے شاہ صاحب (رح) کی حکمت کے مطابق عرض کیا تھا کہ انبیاء کی تعلیمات جو عالم بالا سے نازل ہوتی ہیں ، وہ اس دنیا میں آکر انسانوں کے برے اخلاق ، شرک ، کفر ، معصیت وغیرہ سے ٹکراتی رہتی ہیں ، جس کے نتیجے میں باطل مٹتا رہتا ہے اور حق ظاہر ہوتا رہتا ہے باطل میں کتنا ہی جوش و خروش کیوں نہ ہو ، وہ حق کے مقابلے نہیں ٹھہر سکتا ، حق و باطل کی کشمکش کا یہی مطلب ہے ۔ (مسلمین اور مکذبین) فرمایا (آیت) ” للذین استجابوا لربھم الحسنی “۔ جنہوں نے اپنے رب کی بات کو قبول کیا ان کے لیے بھلائی ہے ، اچھا بدلہ ہے (آیت) ” والذین لم یستجیبوا لہ “۔ اور جنہوں نے اسے قبول نہیں کیا ‘ ان کی حالت یہ ہوگی کہ (آیت) ” لوان لھم ما فی الارض جمیعا “۔ اگر اس زمین کی ہر چیز ان کی ملکیت ہو (آیت) ” و مثلہ معہ “ اور اس کے ساتھ اس جیسی اور بھی ہو ، دوسری جگہ ہے کہ سونے چاندی اور روپے پیسے سے پوری زمین بھری ہوئی ہو اور اس سے ڈبل بھی ہو ، اور اگر وہ شخص جان خلاصی کے لیے پوری کی پوری زمین فدیہ دینا چاہے (آیت) ” لافتدوا بہ “ تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن فرمائے گا ، اے ابن آدم ! اگر یہ ساری زمین سونے سے بھری ہوئی ہو۔ تو کیا تم فدیہ دینے کے لیے تیار ہو ؟ وہ آدمی عرض کرے گا ، پروردگار ! ہاں میں تیار ہوں ، اللہ فرمائے گا ، تم جھوٹے ہو ، تم ابھی باپ کی پشت میں تھے جب میں نے تم سے مطالبہ کیا تھا (آیت) ” الا تشرک بی شیئا “۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ، مگر تم نے میرا حکم نہ مانا اب یہ ساری زمین اور اس سے دگنی بھی تمہارے لیے فدیہ نہیں بن سکتی ۔ (سؤالحساب) ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولیک لھم سوء الحساب “۔ یہ لوگ برے حساب والے ہیں ، ظاہر ہے کہ برے حساب کی وجہ سے تو گرفت ہی آئیگی ، بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہوگی ، حضور ﷺ کا فرمان 1 (بخاری ص 21 ج 1) ہے ” من نوقش فی الحساب ھلک “۔ جس شخص کے ساتھ حساب کتاب کے موقع پر جھگڑا ہوگا ، اس سے دریافت کیا جائے گا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ، فرمایا وہ شخص ہلاک ہوگیا ، وہ عذاب الہی سے نہیں بچ سکتا ، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے فلاں ! تو نے یہ یہ کام کیے اور وہ اقرار کرتا گیا تو اس کا حساب آسان ہوگا ، امید ہے کہ اسے معافی مل جائے گی ، اسی لیے حضور ﷺ نے دعا سکھائی ہے ” اللھم حاسبنی حسابا یسیرا “ اے اللہ مجھ سے آسان حساب لینا کہیں فرمایا گا ، ادخل الجنۃ بغیر حساب “۔ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلا جا ، اللہ تعالیٰ بڑی مہربانی فرمائے گا ، البتہ ایسے لوگ بہت تھوڑے ہوں گے جو ایک ہی قطار میں جنت میں داخل ہوجائیں گے ، اور جو لوگ باطل کے ساتھ ہی منسلک رہے ، حق بات کو تسلیم ہی نہ کیا فرمایا (آیت) ” وماوھم جھنم “ ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا (آیت) ” وبئس المھاد “۔ جو آرام پکڑنے کی بہت بری جگہ ہے ، وہاں آرام نہیں بلکہ دکھ ہی دکھ ہوگا ۔
Ayahs 13:19–24

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ Open ayah 13:19 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بیشک جو چیز اتاری گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے وہ حق ہے ، کیا وہ اس کی طرح ہوگا جو اندھا ہے ؟ بیشک نصیحت پکڑتے ہیں عقل مند لوگ ،

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ Open ayah 13:20 in the Quran reader

وہ لوگ جو پورا کرتے ہیں اللہ کے عہد کو ، اور نہیں توڑتے پختہ عہد و پیمان کو ،

وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ Open ayah 13:21 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو جس کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے اور ڈرتے ہیں اپنے پروردگار سے اور خوف کھاتے ہیں برے حساب سے ،

وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ Open ayah 13:22 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی خوشنودی تلاش کرتے ہوئے اور انہوں نے قائم رکھی نماز ، اور خرچ کیا انہوں نے اس میں سے جو ہم نے ان کو روزی دی ہے پوشیدہ بھی اور ظاہر بھی ، اور مٹاتے ہیں وہ بھلائی کے ساتھ برائی کو ، یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا گھر ہے ،

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ Open ayah 13:23 in the Quran reader

وہ باغات ہیں رہنے کے ، داخل ہوں گے ان میں ، اور جو بھی نیک ہوگا ان کے آباواجداد ، ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں ، اور فرشتے داخل ہوں گے ان پر ہر دروازے سے ،

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ Open ayah 13:24 in the Quran reader

اور کہیں گے وہ سلامتی ہو تم پر اس وجہ سے کہ تم نے صبر کیا پس اچھا ہے آخرت کا گھر ۔

(ربط آیات) شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، بعض اوقات برائی جوش میں مارتی ہے مگر بالآخر وہ مٹ جاتی ہے اور باقی حق ہی رہتا ہے ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک ، دین اور شریعت کو ماننے والوں اور اس کا انکار کرنے والوں کا انجام بیان کیا گیا ہے ، نیز قرآن پاک کی تعلیمات سے مستفید ہونے والوں کے اوصاف بھی بیان کیے گئے ہیں ۔ (عالم اور نابینا کی مثال) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق “۔ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ آپ کے رب کی طرف سے نازل کردہ چیز برحق ہے (آیت) ” کمن ھو اعمی “۔ اس شخص کی طرح سے جو اندھا ہے کسی چیز کو جان لینا ہی کافی نہیں بلکہ اس پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ، مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ علم رکھتا ہے کہ قرآن پاک برحق ہے مگر خود اس پر ایمان نہیں لاتا تو اس کا محض علم کچھ مفید نہیں ہوگا ۔ اس مقام پر علم سے مراد اعتقاد بھی ہے یعنی جس شخص کا عقیدہ اور ایمان یہ ہے کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ برحق کتاب ہے ، وہ قرآن پاک کے منکر کی طرح تو نہیں ہو سکتا جس کو اندھے سے تعبیر کیا گیا ہے مثلا (آیت) ” فاعلم انہ لا الہ الا اللہ “۔ خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں یعنی خدا تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کا محض علم ہونا مفید نہیں کیونکہ یہ علم تو یہود ونصاری کو بھی تھا مگر وہ اس کو مانتے نہیں تھے ، لہذا ان کا صرف جاننا مفید نہیں ہے ، اور جس شخص کے پاس نہ تو علم ہے کہ قرآن پاک برحق ہے اور نہ وہ اس کی حقانیت پر اعتقاد رکھتا ہے ، اسے قرآن پاک کی غرض وغایت کا ہی علم ویقین نہیں ، وہ نابینا آدمی کی طرح ہے جسے کچھ نہیں آتا ایسا آدمی تو حق و باطل ، نور اور ظلمت ، صحیح اور غلط میں امتیاز ہی نہیں کرسکتا ، گویا ایماندار آدمی بینا کی طرح ہے اور مشرک ، کافر اور منافق نابینا کی طرح اور ان دونوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ، فرمایا (آیت) ” انما یتذکر اولوالالباب “۔ بیشک صاحب عقل لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، بےعقل اور نادان لوگ نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے ، ان کے متعلق تو سورة انفال میں موجود ہے ۔ (آیت) ” الصم البکم الذین لا یعقلون “۔ وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل کو صحیح طور پر استعمال ہی نہیں کرتے ۔ (عقلمندوں کے اوصاف (1) ایفائے عہد) آگے اللہ تعالیٰ نے عقلمندوں کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں کہ وہ کون لوگ ہیں (آیت) ” الذین یوفون بعھد اللہ “۔ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں (آیت) ” ولا ینقضون المیثاق “ اور پختہ عہد و پیمان کو نہیں توڑتے ، جب کوئی شخص کلمہ توحید زبان سے ادا کرتا ہے ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ تو وہ دو چیزوں کا عہد کرتا ہے ، ایک یہ کہ میں اللہ کی وحدانیت پر ہمیشہ قائم رہوں گا اور دوسری یہ کہ میں اس دین اور شریعت کا پابند رہوں گا جو اللہ نے خاتم النبین ﷺ پر نازل فرمائی ہے ، یہ تو توحید و رسالت کا عہد ہوگیا ، اور بعض فرماتے ہیں کہ اس عہد میں تمام قسم کے عہد آجاتے ہیں جو ایک انسان اپنے خالق کے ساتھ کرتا ہے یا ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے ایک جماعت کا دوسری جماعت سے اور ایک سلطنت کا دوسری سلطنت سے عہد بشرطیکہ وہ خلاف شرع نہ ہو ، پورا کرنا لازمی ہوگا سورة مائدہ میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اے ایمان والو ! (آیت) ” اوفوا بالعقود “۔ عہد و پیمان کو پورا کرو ، سورة بنی اسرائیل میں ہے کہ لوگو ! عہد کو پورا کیا کرو ، کیونکہ (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “۔ اس کے متعلق قیامت والے دن سوال کیا جائے گا ، میثاق کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایک تو میثاق الست ہے جو اس جہان میں آنے سے پہلے اللہ نے تمام انسانوں کی روحوں سے لیا تھا ، اس کا ذکر سورة اعراف میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام ذریت آدم کو ان کی پشت سے نکالا اور فرمایا (آیت) ” الست بربکم “ بتلاؤ میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ” قالوا بلی “ تو سب نے کہا کہ پروردگار ! کیوں نہیں ؟ تو ہی ہمارا رب ہے پھر اس پختہ عہد کی یاددہانی کے لیے اللہ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا اور کتابیں نازل فرمائیں تاکہ کل قیامت کو یہ بہانہ نہ کرسکو کہ ہمیں یاد دلانے والا کوئی نہیں آیا تھا ، حالانکہ ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو یہ عہد یاد دلایا ہے غرضیکہ میثاق الست اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا ہے کیونکہ ہر شخص کی روح اس کا قرار کرچکی ہے اور یہی وہ عہد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نہ توڑنے کا حکم دیا ہے اگرچہ اس دنیا میں آکر عام آدمی اس عہد کو بھول جاتے ہیں تاہم ایسے سلیم الفطرت لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو روحانیت کے اعتبار سے بیدار ہوتے ہیں ، تابعین اور تابعین کے زمانے کے بعض حضرات کا بیان ملتا ہے جنہوں نے کہا کہ ہمیں تو وہ عہد بالکل تازہ بتازہ محسوس ہوتا ہے اور ہمیں یاد ہے کہ عالم ارواح میں ہم نے یہ عہد کیا تھا ۔ اسی لیے فرمایا کہ عقل مند آدمی وہ ہیں جو عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو توڑتے نہیں خواہ وہ عہد الست ہو یا کوئی اور عہد ۔ آج کی دنیا میں بدعہدی عام ہوچکی ہے ، افراد ہوں یا جماعتیں یا حکومتیں وعدے کی پابندی نہ صرف ختم ہوچکی ہے بلکہ اس کے اعلانیہ اظہار کی بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا ، انگریزوں کے وزیر جنگ نے جنگ عظیم کے موقع پر برملا کہا تھا کہ ترکوں کے ساتھ عہد محض وقت گزارنے کے لیے کیا گیا تھا ، اس کو پورا کرنا مقصودنہ تھا ، آج بھی امریکہ ہو یا روس ، فرانس ہو یا جرمنی وہ کسی نہ کسی حیلے بہانے سے عہد کو ٹالتے رہتے ہیں ، ہمارا پڑوسی ملک بھارت کشمیریوں سے کیے گئے عہد استصواب رائے کو نہایت ڈھٹائی کے ساتھ ٹالتا جا رہا ہے ، یہود ونصاری کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی عہد کو پورا نہیں کیا ، البتہ مسلمان جب تک ایک زندہ قوم تھی ، ان کو عروج حاصل تھا تو یہ عہد پر بھی قائم ہوتے تھے ، مگر جب سے انحطاط پذیر ہوئے ہیں ، ان کی حالت بھی دیگر اقوام کی طرح ہی ہوگئی ہے ، بہرحال عہد کی پاسداری کرنا سچے مسلمانوں اور عقلمندوں کا کام ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے کہ ایک عقل معاد ہوتی ہے اور دوسری عقل معاش ، معاش کی عقل تو اس دنیا تک محودو ہے یہاں پر بڑے بڑے اہل عقل وہنر ، دانشور ‘ بیرسٹر اور پی ایچ ڈی حضرات موجود ہیں ، مگر عقل معاد سے خالیٰ ہیں (آیت) ” یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا ، وھم عن الاخرۃ ھم غفلون “۔ (الروم) ان کا علم دنیا تک محدود ہے اور یہ آخرت سے غافل ہیں ، مگر یہاں پر تو آخرت کو سمجھنے والی عقل کی ضرورت ہے اور صحیح عقلمند وہی ہے جو آخرت کی منزل کو سمجھتا ہے اور جسے آخرت کا احساس ہوگا وہ عہد کی پابندی کرے گا اور اسے قطع نہیں کریگا۔ (2) (باہمی ملاپ) اللہ تعالیٰ نے عقلمندوں کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے سب سے پہلے اللہ نے ایمان اور نیکی کو ملانے کا حکم دیا ہے قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے گویا نیکی ایمان کے ساتھ بالکل جڑ ہوئی ہے ، نہ تو نیکی کے بغیر ایمان کا کچھ فائدہ ہے اور نہ صرف نیکی کسی کام کی ہے ، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ن کی کرے ، باہمی ملاپ میں قرابتداری اور صلہ رحمی بھی آتی ہے ، اللہ نے قرابتداروں کا حق ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور قطع رحمی سے منع فرمایا ہے ، اس کو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں کیونکہ صالح انسان وہی ہوگا جو اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے حقوق بھی ادا کرتا ہے ، جس طرح ایمان کے ساتھ نیکی کو ملانا ضروری ہے اسی طرح حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا ملانا بھی لازمی ہے ۔ قرابت داروں کے حقوق کے علاوہ ہر چھوٹے بڑے کا حق ہے ، اپنے پڑوسی کا حق ہے ، دوہم سفروں کا آپس میں حق قائم ہوتا ہے اس کی رعایت ضروری ہے اپنے پیر کا حق ہے ، استاد کا حق ہے ، افسر اور ماتحت کا حق ہے ، مالک اور مزدور کے درمیان حقوق کی تقسیم ہے اور امام اور مقتدی کا بھی آپس میں حق ہے تو عقلمند وہ لوگ ہیں جو ان تمام حقوق کو ملاتے ہیں اور ان میں اختلاف نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے (آیت) ” انما المؤمنون اخوۃ “۔ (الحجرات) تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا وہ اخوت اور بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ ہی رہیں مسلمان خواہ کسی ملک میں رہتا ہو اور کوئی زبان بولتا ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ، ہم سب ایمان کے رشتے میں پروئے ہیں ، کلمہ طیبہ ہی جامع ایمان ہے ۔ (3) ۔ (خشیت الہی) وعقلمندوں کی تیسری صفت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” ویخشون ربھم “۔ وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خشیت وہ چیز ہے جو علم کے ساتھ حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اچھائی اور برائی میں امتیاز کرلیتا ہے اور پھر وہ برائی کے کام سے ڈر جاتا ہے تو یہی خشیت الہی ہے سورة فاطر میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا “۔ علم والے لوگ ہی اللہ کا خوف رکھتے ہیں فرمایا (آیت) ” ویخافون سوء الحساب “۔ یہ وہی لوگ ہیں جو حساب کی خرابی سے ڈرتے ہیں ، وہ خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے خوف کھاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا حساب آسان ہوجائے یہی سیدھے راستے پر چلنے والے لوگ ہیں ۔ (4) ۔ (صبر) اہل عقل وخرد کی چوتھی صفت اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” والذین صبروا ابتغآء وجہ ربھم “۔ اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اپنے رب کی خوشنودی کی تلاش کے لیے جنہوں نے دنیا کے مصائب وآلام جھیلنے اور ناگوار باتوں پر صبر کیا ، صبراطاعت پر بھی ہوتا ہے ، معصیت سے بچنے کے لیے بھی اور تکلیف کو برداشت کرنے پر بھی ، صبر ملت ابراہیمی کے اہم اصولوں میں سے ایک ہے ، قرآن پاک میں اس کی بہت سی تفصیلات موجود ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “۔ (الزمر) صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر ملے گا ، گرمی کے دنوں میں روزہ رکھنے صبر کی بات ہے صبر کے بغیر انسان گرمی اور سردی میں وضو نہیں کرسکتا ، نماز نہیں پڑھ سکتا ، حج وعمرہ ادا نہیں کرسکتا ، صبر نفس کو برائی سے روکتا ہے اور اطاعت پر آمادہ کرتا ہے تو فرمایا عقلمند لوگوں کی چوتھی صفت صبر ہے ۔ ایم مومن کا سب سے بڑا مقصد یہ ہوتا ہے کہ رضائے الہی حاصل ہوجائے ، ہمارے تمام نیک کاموں اور تمام عبادت کا مقصد اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ، (آیت) ” ورضوان من اللہ اکبر “۔ (التوبۃ) اللہ تعالیٰ کی تھوڑی سی رضا بھی حاصل ہوجائے تو وہ ہر چیز سے بڑی ہوگی ہمارے بزرگ حاجی امداد اللہ (رح) مہاجر مکی فرماتے ہیں 1 (شمائم امدادیہ ص 72) ہیں کہ لوگ لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں ، مگر میری دعا بالکل مختصر ہوتی ہے ” اللہم انی اسئلک رضاک والجنۃ واعوذ بک من سخطک والنار “۔ اے اللہ میں تجھ سے تیری رضا کا طالب ہوں اور جنت کا سوال کرتا ہوں ، غرضیکہ جس کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگئی ، اس کو سب کچھ مل گیا اور جو کوئی خدا کے غضب سے بچ گیا ، وہ تمام برائیوں سے بچ گیا ، اسی لیے فرمایا کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صبر کیا ، صبر بہت بڑی حقیقت اور ملت ابراہیمی کا اہم اصول ہے ۔ (5) (اقامت صلوۃ) فرمایا عقلمندوں کی پانچویں صفت یہ ہے (آیت) ” واقاموا الصلوۃ “۔ کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ، نماز بھی بہت بڑی حقیقت ہے ۔ حساب کتاب کے موقع پر سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا ، نماز ہی کے ذریعے انسان کا تعلق باللہ قائم رہتا ہے ، نماز مومن کی پہچان ہے ، مومن اور کافر کے درمیان نماز ہی خط امتیاز ہے ، نمازی ہونا بھی مومن اور اہل عقل کی صفت ہے ۔ (6) (انفاق فی سبیل اللہ) فرمایا ان کی چھٹی صفت یہ ہے (آیت) ” وانفقوا مما رزقنھم “۔ اہل عقل وہ ہیں جنہوں نے خرچ کیا اس چیز میں سے جو ہم نے انہیں روزی دی ہے ، انسان جو بھی خرچ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیز سے ہی کرتا ہے کسی کی کوئی ذاتی ملکیت نہیں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس نے اپنی محنت ، ہنر اور عقل سے کوئی چیز کمائی ہے تو وہ نادان ہے یہ تو سب حیلے ہیں ، یہ تو انسان کو اللہ کے حکم سے تصرف حاصل ہوا ہے ، تو عقلمند وہ ہیں جو خرچ کرتے ہیں مگر نیکی کے کاموں پر نہ کہ شیطانی راستوں پر ، انفاق فی سبیل اللہ میں کھیل تماشہ ، گانا بجانا ، شراب نوشی ، جوا ، بازی ، شرکیہ امور اور رسومات باطلہ نہیں آتیں یہ تو سب ناجائز مدات ہیں ہاں قابل خرچ وہ ہے جو خدا کی رضا کے لیے ہو اور اس میں تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق بھی شامل ہوں جن پر خرچ کرنا عقلمندوں کی صفت ہے ۔ اور ان کے خرچ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خرچ کرتے ہیں (آیت) ” سرا وعلانیۃ “۔ پوشیدہ طور پر بھی اور علی الاعلان بھی ، اگر پوشیدہ طور پر کوئی چیز مستحقین تک پہنچا دی جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ اس میں ریاکاری نہیں ہوگی ، اور اگر کھلے طور پر خرچ کرنے سے دوسروں کو ترغیب دینا مقصود ہوتا ایسا کرنا بھی درست ہے تاہم زیادہ اجر پوشیدہ طور پر خرچ کرنے کا ہے ۔ (7) (برائی کا ازالہ نیکی سے) فرمایا ان کی ساتویں صفت یہ ہے (آیت) ” ویدرء ون بالحسنۃ السیئۃ “۔ کہ وہ برائی کو نیکی کے ذریعے دور کرتے ہیں اگر کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے تو اس کے جواب میں کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں تاکہ برائی کا ازالہ ہوجائے حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ سے فرمایا تھا کہ غلطی کو نیکی کے ساتھ مٹاؤ ، جب نیکی کرو گے تو برائی خودبخود مٹ جائے گی ، اگر کوئی آدمی تمہارے ساتھ بداخلاقی سے پیش آتا ہے ، گالی دیتا ہے یا کوئی اذیت پہنچاتا ہے تو اس کے جواب میں تم بھی غلط کام نہ کرو بلکہ تم برائی کا جواب نیکی سے دو گے تو برائی ختم ہوجائے گی اور اگر ایک گولی کے جواب میں دو گولیاں چلیں ایک گالی کا جواب دو گالیوں سے ملے اور ایک گھونسے کی بجائے دو برسیں تو پھر برائی مٹے گی نہیں بلکہ مزید پھیلے گی ھاں البتہ بعض مواقع پر برائی اور ظلم کا بدلہ لینے کی بھی اجازت ہے اور بعض اوقات معاف کردینا بہتر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کے محلات بیان کردیے ہیں ، تو فرمایا اہل عقل وہ ہیں جو برائی کا ازالہ نیکی سے کرتے ہیں ۔ (جنت میں گھر) فرمایا جن لوگوں میں مذکورہ سات اوصاف پائے جائیں گے (آیت) ” اولئک لھم عقبی الدار “۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا گھر ہے اور وہ گھر کیا ہے (آیت) ” جنت عدن “۔ وہ رہائش کے قابل باغات ہیں ، جنت کے کئی طبقات ہیں جیسے جنت الفردوس جنت النعیم اور جنت عدن وغیرہ ، تو جنت عدن وہ باغات ہیں ، جو صرف درختوں اور پودوں کے باغات ہی نہ ہوں بلکہ رہنے کے لیے ان میں محلات بھی موجود ہوں ۔ فرمایا (آیت) ” یدخلونھا “ مذکورہ صفات کے حاملین ان باغوں میں داخل ہوں گے ، اور وہ وہاں اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ (آیت) ” ومن صلح من ابآئھم وازواجھم وذریتھم “۔ ان کے آباؤ واجدادا اور اولادوں میں سے نیک لوگ بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گے ، ایک مومن کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ ان کے متعلقین اگرچہ عمل میں ان سے کم تر ہوں گے مگر ان کی وجہ سے وہ بھی ان کے ساتھ جنت کے اعلی مقام میں ہوں گے ، جنت عدن کا مقیم جب اپنے اعزہ و اقارب کے متعلق اللہ کے حضور تشویش ظاہر کرے گا اور پوچھے گا کہ وہ کس درجے میں ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی اسی کے ساتھ ملا دے گا ، تاکہ اس جنتی کو کوئی ذہنی کوفت بھی نہ ہو ، دوسری جگہ پر ہے (آیت) ” واتبعتھم ذریتھم بایمان “۔ (الطور) اگر ایمان اور نیکی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی اولادوں کو بھی ان کے ساتھ ملا دیگا ۔ (فرشتوں کا سلام) فرمایا (آیت) ” والملئکۃ یدخلون علیھم من کل باب “۔ اور ان پر ہر دروازے سے فرشتے داخل ہونگے مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر داخلہ نہیں مل سکتا کیونکہ بعض اوقات کوئی اپنے اہل و عیال میں مشغول ہوتا ہے تو ایسے میں مخل ہونا درست نہیں ہوتا ، فرشتے داخل ہو کر کہیں گے (آیت) ” سلم علیکم “۔ تم پر سلامتی ہو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے (آیت) ” بما صبرتم “۔ اس وجہ سے کہ تم نے اس دنیا میں صبر کیا (آیت) ” فنعم عقبی الدار “۔ آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے جو صبر کی بدولت حاصل ہوا ، فرشتے مبارکباد دیں گے جس سے اہل ایمان کی خوشی میں اضافہ ہوگا ۔ یہ نیک لوگوں کا انجام بیان ہوا ، اب اگلی آیت میں برے لوگوں کا حال بیان ہوگا ۔
Ayahs 13:25–26

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ Open ayah 13:25 in the Quran reader

اور جو لوگ توڑتے ہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کو بعد اس کے مضبوط کرنے کے ، اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو کہ اللہ نے حکم دیا ہے ، اس کو جوڑنے کا ، اور فساد کرتے ہیں زمین میں یہ لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے اور ان کے لیے برا گھر ہے ۔

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ Open ayah 13:26 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کشادہ کرتا ہے روزی جس کے لیے چاہے اور تنگ کرتا ہے (جس کے لیے چاہے) اور خوش ہوگئے ہیں یہ لوگ دنیا کی زندگی پر ، حالانکہ نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں مگر ایک حقیر سامان ۔

(ربط آیات) مسئلہ توحید اور شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ، ایک وہ جو قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں یہ عقل معاد رکھنے والے لوگ ہیں ، گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے تھے کہ یہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، ان کو توڑتے نہیں ۔ یہ لوگ برے حساب سے اپنے پروردگار سے خوف کھاتے ہیں اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اللہ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا ازالہ بھلائی کے ساتھ کرتے ہیں ، پھر اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا کہ ان کے لیے قابل رہائش باغات ہوں گے اور اگر ان کے آباؤواجداد ، بیویاں اور اولادیں بھی صاحب صلاحیت ہوں گی ، تو وہ ان کے ساتھ ہی رہیں گے ، ایسے لوگوں کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ فرشتے ہر دروازے سے داخل ہو کر ان کو سلام کریں گے اور پھر انہیں صبر کرنے کی وجہ سے اچھے انجام کی خوشخبری دیں گے ۔ اب آج کے درس میں ان لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے جو قرآنی تعلیمات سے مستفید نہیں ہوتے درحقیقت یہ لوگ عقلمند نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں اور ان کے انجام کا ذکر بھی کیا ہے قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں ایمانداروں کا ذکر ہوتا ہے ، اس کے ساتھ نافرمانوں کا حال بھی بیان ہوتا ہے جہاں محسنین کی بات ہوتی ہے وہاں فساق وفجار کا تذکرہ بھی ہوتا ہے ، اس طرح گویا ترغیب وترہیب ساتھ ساتھ چلتی ہیں گذشتہ درس میں قرآن پاک سے مستفید ہونے والوں کا ذکر تھا ، اب نافرمانوں کا انجام بیان ہو رہا ہے ۔ (عہد شکنی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ “۔ اور جو لوگ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو پختہ کرنے کے بعد ، اس میں عہد ازل سے لے کر سارے عہد آجاتے ہیں اللہ تعالیٰ اور بنی نوع انسان کے درمیان عہد یہ ہے کہ بندے اس کو توحید کو مانیں ، اوامر کی پابندی کریں ، نواہی سے باز رہیں ، اطاعت کرتے رہیں ، اور برائیوں سے بچتے رہیں ، مومن کبھی عہد کو نہیں توڑتا ، البتہ منافق کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے ” اذا عہد غدر “ جب وہ عہد کرتا ہے تو اس کو پورا نہیں کرتا ، عہد کو توڑنے والے لوگ عقلمند نہیں ہوتے ۔ آگے فرمایا (آیت) ” ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل “۔ اور جو قطع کرتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ تمام نبیوں پر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے مگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے ، یہود ونصاری اسی بیماری کے مریض ہیں جو بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں ، اور بعض کا انکار کردیتے ہیں ، ان کا یہ بیان قرآن پاک میں موجود ہے (آیت) ” نؤمن ببعض ونکفر ببعض “۔ (النسآئ) یہ تو کفر ہے اور بےعقلی کی بات ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرابتداروں کو باہمی جوڑنے کا حکم دیا ہے مگر یہ لوگ قطع رحمی کرتے ہیں ، یہ دوسری صفت ہوگئی ۔ (فساد فی الارض) فرمایا ایسے بےعقل لوگوں کی تیسری صفت یہ ہے (آیت) ” ویفسدون فی الارض “۔ یہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ، امام شافعی (رح) کے پیروکار امام بیضاوی (رح) پانچویں صدی کے بڑے امام گزرے ہیں ، ان کی تفسیر مختصر تفاسیر میں سب سے اہم تفسیر ہے ، بعد والے ان کی تفسیر سے استفادہ کرتے ہیں تو امام بیضاوی فساد فی الارض کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ عربی زبان فساد کی ضد اصلاح ہے جب کوئی چیز اعتدال پر ہوتی ہے تو وہ درست حالت پر ہوتی ہے مگر جب وہ اعتدال سے باہر نکل جاتی ہے تو اس میں فساد پیدا ہوجاتا ہے ۔ فساد فی الارض کا مفہوم بڑا وسیع ہے ، مثلا کفر ، شرک اور نفاق فساد فی الارض ہے ، اس کے برعکس ایمان اور توحید درستگی اور اصلاح ہے ، یہ فطرت کے عین مطابق ہے اور اس سے تمام چیزیں اعتدال پر آتی ہیں ، کافروں کے ساتھ دوستانہ کرنا ، ان کو مسلمانوں کے راز پہنچانا ، فتنہ برپا کرنا ، غلط رسومات کو رواج دینا ، دین کے خلاف بات کرنا ، شرعی قوانین کو توڑنا ، قتل و غارت گری کرنا ، معصیت کے حق میں پراپیگنڈا کرنا ، فحاشی پھیلانا ، اخلاق سوز باتیں کرنا ، بدعقیدہ ہونا ، خلاف سنت کام کرنا ، بدعت جاری کرنا ، زنا ، بدکاری ، چوری ، ڈاکہ ، خیانت ، آبروریزی کرنا ، سب فساد فی الارض میں شامل ہے ۔ (آیت) ” واللہ لا یحب الفساد “ اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ سب کچھ وہ لوگ کرتے ہیں جو عقل سے محروم ہیں ، ان کے برعکس جو لوگ اہل عقل اور اہل ایمان ہیں وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں زکوۃ اور صدقات ادا کرتے ہیں ان میں غریب پروری اور بنی نوع انسان سے ہمدردی کا مادہ ہوتا ہے ، وہ تعلق باللہ قائم کرتے ہیں اور عہد کے پابند ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے ، اور فساد فی الارض کرنے والے ناپسندیدہ لوگ ہیں ۔ (لعنت کا طوق) فرمایا (آیت) ” اولئک لھم اللعنۃ “۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے لعنت ہے لعنت کا لغوی معنی ہے بعد عن الرحمۃ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ، جس طرح شیطان مردود اور خدا کی رحمت سے محروم ہے اسی طرح تمام کافر بھی اللہ کی رحمت سے دور ہیں ، فساد فی الارض کرنے والا ہمیشہ لعنت میں گرفتار رہے گا ، وہ اللہ کی رحمت سے کچھ حصہ نہیں پاسکتا ، یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا میں بھی خدا تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہیں گے ، اور قیامت کے دن بھی ان کے گلے میں طوق پڑا ہوگا ۔ سورة ہود میں اللہ نے نافرمان قوموں کا حال بیان کرکے فرمایا (آیت) ” واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ ویوم القیمۃ “۔ اس دنیا میں بھی ان پر لعنت بھیجی جاتی ہے اور آخرت میں بھی وہ اسی میں پھنسے رہیں گے (آیت) ” ولھم سوء الدار “۔ اور ان کے لیے بہت برا گھر ہے برے گھر کا ذکر گزشتہ آیا ت میں ہوچکا ہے کہ ایسے لوگ جہنم کا شکار بنیں گے ، بہرحال قرآن پاک سے مستفید ہونے والے اور اس سے نصیحت حاصل نہ کرنے والے دونوں گروہوں کا ذکر ہوچکا ہے ، ان کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ان کا انجام بھی بیان کردیا گیا ہے ۔ (رزق کی کشادگی اور تنگی) نافرمان لوگوں کی دنیوی خوشحالی اور آرام و آسائش دیکھ کر بعض اذہان میں شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر یہ واقعی خدا تعالیٰ کے باغی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں عیش و آرام کیسے عطا کر رکھا ہے ، ایسے ہی شبہات کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کی آیات میں رفع فرمایا ہے ارشاد فرمایا (آیت) ” اللہ یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر “۔ اللہ تعالیٰ ہی جس کی روزی چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، آسودگی اور تنگ دستی انسانوں کے فہم عقل اور پلان کے مطابق نہیں ہوتی ، یہ کسی انسان کا اپنا کمال نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حکمت مشیت اور مصلحت کے تابع ہوتی ہیں ، وہ اپنی حکمت کے مطابق کشادگی یا تنگی کا فیصلہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر مایشآئ “۔ (الشوری) اگر اللہ تعالیٰ رزق کے دروازے سب کے لیے یکساں کشادہ کردیتا تو سب کے سب نافرمان ہوتے ، لہذا وہ اپنے اندازے کے مطابق جو کچھ چاہتا ہے نازل فرماتا ہے کسی کو زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم بعض اوقات نافرمانوں کو بھی رزق میں بڑی وسعت عطا کرتا ہے لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ تمام برے لوگ آسائش میں ہوں ، بہت سے کافر بھی تنگی میں وقت گزارتے ہیں ، کفر اور افلاس اگر دونوں چیزیں یکجا ہوجائیں تو بہت ہی بری بات ہوگی مگر بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں لیکن بہت سے نافرمان ، بداخلاق اور بدعقیدہ لوگ آرام و آسائش میں بھی ہیں ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت پر موقوف ہے فضیلت کا معیار دنیا کا مال و دولت نہیں بلکہ نیکی ، تقوی اور ایمان ہے ، لہذا کسی منکر کی خوشحالی دیکھ کر یہ نہ سمجھو کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ ہے ۔ (دنیا کا حقیر سامان) فرمایا (آیت) ” وفرحوا بالحیوۃ الدنیا “ یہ لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے ہیں ، فریفتہ ہوگئے ہیں ، حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ (آیت) ” وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع “۔ نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں مگر حقیر سامان ، اس دنیا کا سارا سازوسامان ایک بالکل معمولی سی چیز ہے ، ترمذی شریف کی روایت 1 (ترمذی ص 337) میں آتا ہے ” لوکانت الدنیا تعدل عنداللہ جناح بعوضۃ ما سقی کافرا منھا شربۃ “۔ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدر و قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر اور منکر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا ، مگر اللہ کے نزدیک دنیا ایک حقیر چیز ہے ، مسلم شریف کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت ایسی ہے ” کما جعل احدکم اصبعہ فی الیم “۔ جیسے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو کر نکال لے ” فلینظربم یرجع “۔ پھر دیکھ لے کہ پانی کی کتنی مقدار اس میں لگ کر آئی ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” والاخرۃ خیروابقی “۔ (الاعلی) آخرت ہی پائیدار اور بہتر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی ، ترمذی شریف ہی کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ مربجدی اسک میت “ چھوٹے کانوں والے بکری کے مردہ بچے پر سے گزرے آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے فرمایا تم میں سے کون ہے جو اس مردہ بچے کو ایک درہم میں خریدتا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے عرض کیا حضور ﷺ یہ تو حقیر سا مرا ہوا بچہ ہے ” لا نحب انہ لنا بشیئ “ ہم تو اسے کسی قیمت پر بھی خریدنے کے لیے تیار نہیں آپ ﷺ نے فرمایا بخدا ! اللہ کے نزدیک پوری دنیا کی قیمت اس مردہ بچے سے بھی زیادہ حقیر ہے مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اس دنیا کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ، ہر کوئی اس کے پیچھے دوڑ رہا ہے ، اس کے حقیر سامان کو سمیٹ سمیٹ کر رکھ رہا ہے اسی کو پائیدار سمجھ لیا ہے اور اپنے فرائض منصبی سے غافل ہوگیا ہے ۔ دنیا کے آرام و آسائش ، محلات ، کاروں اور دیگر لوازمات میں ہی الجھ کر رہ گیا ہے ، مگر اصل منزل تو آخرت کی منزل ہے جو پائیدار بھی ہے اور جس کو دوام بھی حاصل ہے ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کا تقابل بھی کردیا ہے اور دونوں کی حیثیت کو بھی واضح کردیا ہے اب یہ بندوں کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس چیز کو پسند کرتے ہیں ۔