13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 13:27–30

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ Open ayah 13:27 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ کیوں نہیں اتاری جاتی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے (اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے بیشک اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع رکھتا ہے ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ Open ayah 13:28 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے ذکر سے آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکرکے ساتھ ہی دل مطمئن ہوتے ہیں ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ Open ayah 13:29 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے خوشخبری ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ۔

كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ Open ayah 13:30 in the Quran reader

اسی طریقے سے ہم نے بھیجا ہے آپ کو رسول بنا کر ایک امت میں تحقیق گزر چکی ہیں اس سے پہلے بہت سی امتیں تاکہ آپ تلاوت کریں اور ان پر وہ چیز جو ہم نے وحی کی ہے آپ کی طرف اور یہ لوگ انکار کرتے ہیں رحمان کا ، آپ کہہ دیجئے وہ میرا رب ہے نہیں کوئی معبود اس کے سوا اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف رجوع ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی نصیحت سے مستفید نہ ہونے والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ یہ لوگ عہد کو توڑتے ہیں جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہوگا ، اگر ایسے نافرمان لوگوں کو دنیا میں وافر روزی نصیب ہو تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ رزق کی وسعت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہوتی ہے ، دنیا کا مال واسباب خدا کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے ، یہ کسی شخص کے پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، تاہم وہ ہر شخص کی صلاحیت کے مطابق ہی کوئی فیصلہ کرتا ہے ، اس کی حکمت کو کوئی مخلوق نہیں جان سکتی ، (نشانی کا مطالبہ) آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا شکوہ بیان کیا ہے ۔ کہ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی بنا پر فضول مطالبات کرتے تھے حالانکہ ان پر حقیقت واضح ہوچکی تھی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویقول الذین کفروا “۔ اور کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ، کفر کا لغوی معنی انکار ہی ہے ، اور اصطلاحا توحید ‘ ایمانیات ، کتاب ، انبیائ ، کتب سماویہ ، قیامت اور ملائکہ کا انکار مراد ہے ، یہ لوگ کہتے ہیں (آیت) ” لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “۔ کیوں نہیں اتاری جاتی اس (پیغمبر) پر نشانی اس کے رب کی طرف سے ، اس نشانی سے وہ نشانی مراد ہے جو کافر لوگ خود اپنے مونہوں سے طلب کرتے تھے نشانیاں تو ہزاروں اللہ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر فرمائیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے پیغمبر ! قل آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ان اللہ یضل من یشآئ “۔ بیشک اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے (آیت) ” ویھدی الیہ من اناب “ اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع رکھتا ہے ، ہدایت اور گمراہی دونوں چیزوں کے اسباب ہیں ، جو شخص ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کرتا ہے ، وہ راہ راست سے محروم رہتا ہے ، سورة نساء میں ہے ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “ اللہ تعالیٰ نے انکے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے جس کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے اور کفر پر جمے ہوئے ہیں ، سورة بقرہ کی ابتداء میں بھی ہے (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے ، ہدایت کے لیے طلب کا ہونا ضروری ہے جو شخص ہدایت کی خواہش رکھے گا ، اسے حاصل ہوگی اور جو عناد اور ضد رکھے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی بلکہ وہ گمراہی میں ہی بھٹکتا رہے گا ۔ مکہ کے مشرکین حضور ﷺ سے من مانی نشانیاں طلب کرتے رہتے تھے ، کہتے تھے مکہ کے ان پہاڑوں کو یہاں سے چلا دے تاکہ ہم یہاں پر کھیتی باڑی کرسکیں کبھی کہتے ان پہاڑوں کو سونے کا بنا دے اس قسم کی بہیودہ فرمائشیں کرتے مگر تسلیم نہیں کرتے تھے شق القمر کا معجزہ انہوں نے خود طلب کیا ، پھر جب اللہ نے اسے ظاہر کردیا تو کہنے لگے (آیت) ” سحرمستمر “۔ (القمر) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ، پہلے بھی ہوتا تھا ، اب بھی ہوتا ہے ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کی ذہنیت کا ذکر کیا ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ ، اللہ کی طرف رجوع نہیں رکھتے لہذا انہیں ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی ، ہدایت اس شخص کو حاصل ہوگی جو اللہ تعالیٰ سے اس کا طلبگار ہوگا ۔ (اطمینان قلب) کفار کے تذکرے کے بعد اب اہل ایمان کا ذکر آرہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الذین امنوا “ وہ لوگ جو ایمان لائے (آیت) ” وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ “ اور مطمئن ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے ذکر سے ، ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ جو بھی ایماندار آدمی اللہ کا ذکر کریگا اس کے دل میں سکون پیدا ہوگا ، ساتھ یہ بھی فرمایا ” الا “ آگاہ رہو اور سن لو ، (آیت) ” بذکر اللہ تطمئن القلوب “ اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوسکتا ہے ، اطمینان قلب کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب اللہ کا نام لیا جائے یا اس کا کلام پڑھا جائے یا کوئی شخص منقول ذکر کو اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو اس کے دل میں خاص قسم کا انس پیدا ہوتا ہے اور وحشت دور ہوتی ہے ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے جس سے وہ خاص قسم کا لطف محسوس کرتا ہے ، برخلاف اس کے دنیا کے آرام و آسائش کے تمام لوازمات بھی اکٹھے کرلیے جائیں تو جسم کو آرام تو مل سکتا ہے مگر سکون قلب حاصل نہیں ہوسکتا ، دنیا کا عیش و آرام تو ایسی چیز ہے کہ اس سے کوئی انسان کبھی بھی سیر نہیں ہوتا بلکہ اس کا معاملہ (آیت) ” ھل من مزید “۔ والا ہوجاتا ہے ، کہ ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری سہولت کے لیے ہاتھ پیر مارتا ہے ، اس کی حرص بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور وہ اطمینان قلب سے محروم رہتا ہے ، بڑے بڑے دولت مند حتی کہ سلطنتوں کے مالک بھی ذکر الہی سے دوری کی وجہ سے بےچین ہی رہتے ہیں ، اس کے برخلاف اپنے دلوں کو ذکر الہی سے منور کرنے والے مزدور پیشہ لوگوں کو بھی سکون قلب حاصل ہوجاتا ہے ان کی ساری وحشت دور ہوجاتی ہے ، غرضیکہ اطمینان قلب کا واحد ذریعہ ذکر الہی ہے ۔ (ذکر الہی کے طریقے) ذکر کی مختلف صورتیں ہیں ، عام طور پر ذکر زبانی ہوتا ہے انسان نماز پڑھتا ہے ، قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے ، یا دیگر ذکر و اذکار کرتا ہے ، جنہیں زبان کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے ، امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نشانیوں اور نعمتوں میں غور وفکر کرتا ہے کہ اللہ نے انہیں کیسی حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے ، تو یہ بھی اللہ کے ذکر کے مترادف ہے ، اس کے علاوہ ایک ذکر ذکر قلبی بھی ہے ، بزرگان دین اس کا طریقہ بھی بتلاتے ہیں کہ انسان دل کے ساتھ کس طرح اللہ کا ذکر کرے متاخرین بزرگان دین جن میں حضرت مجدد الف ثانی (رح) ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) یا بعض دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر بہت سے لطائف رکھے ہوئے ہیں ، جب وہ لطائف کثرت ریاضت سے بیدار ہوجاتے ہیں تو پھر وہ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور یہ ملکہ مرشد برحق سے سیکھنے پر حاصل ہوتا ہے اس کے علاوہ نفس کے ساتھ بھی ذکر ہوتا ہے ، بزرگان دین ایسا طریقہ بھی سکھاتے ہیں کہ انسان کے جسم کے اندر جانے والی اور باہر آنے والی ہر سانس اللہ کا ذکر کرتی ہے ، تاہم آسان ترین ذکر لسانی ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر دن کے لیے کسی مومن کا ذکر الہی میں حصہ اس سے کم نہیں ہونا چاہئے کہ وہ ” سبحان اللہ “۔ الحمد للہ “ ۔ لا الہ الا اللہ ۔ اللہ اکبر ۔ سو سو مرتبہ کہے ، بعض بزرگان دین اس کے ساتھ ساتھ ایک سو مرتبہ استغفار اور ایک سو مرتبہ درود شریف پڑھنے تلقین بھی کرتے ہیں ، مشائخ چشت کے طریقے پر بیعت ہونے والے عوام کو یہ عمل ہر روز صبح وشام کرنا ہوتا ہے ، اس کے علاوہ اذکار کے تمام کلمات جو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہیں یا جو سلف صالحین سے منقول ہیں ، وہ سب اطمینان قلب کا باعث ہیں ۔ حصن حصین کی روات میں آتا ہے ” کل مطیع ذاکر اللہ “ یعنی اللہ کا ہر اطاعت گزار اس کا ذاکر ہے ، یعنی اگر وہ زبان سے ذکر نہیں بھی کرتا مگر اس کی طرف سے خدا کی اطاعت کا ہر کام اس کی طرف سے ذکر ہی سمجھا جائے گا ، تاہم زبانی ذکر ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے ” (آیت) ” ولذکر اللہ اکبر “۔ اللہ کا ذکر ہر چیز سے بڑا ہے ، جب انسان اللہ کا اسم پاک اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو اس پر خدا تعالیٰ کی تجلی نازل ہوتی ہے جس سے اسے سکون قلب حاصل ہوتا ہے ، آپ بزرگوں کی سوانح حیات پڑھ کر دیکھ لیں ، یہ اللہ والے دنیا کے سازوسامان سے بےنیاز مگر سکون قلب کی دولت سے مالا مال رہے ہیں ، انہیں کوئی پریشانی اور بےچینی نہیں ہوئی کیونکہ اللہ کے ذکر سے بڑھ کر سکون والی اور کوئی چیز نہیں مفسرین فرماتے ہیں کہ بعض بزرگ زیادہ تر ذکر الہی میں ہی منہمک رہتے ہیں ، وہ دنیا کے لوازمات کی طرف محض اس لیے راغب نہیں ہوتے کہ اس دوران خدا تعالیٰ کی تجلی کا نزول نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سے محروم رہ جائیں گے ، لہذا وہ خدا کی تجلی کے حصول کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں ، تاکہ ان کے سکون قلب کی دولت میں کسی وقت بھی کمی نہ آنے پائے ، بہرحال سکون قلب کے لیے ذکر کا طریقہ بھی صحیح ہونا ضروری ہے ، اگر کوئی بدعتی یا غیر مشروع طریقہ اختیار کیا گیا تو اس سے چین نصیب نہیں ہوگا کیونکہ بہتر نتیجہ صحیح راستہ اختیار کرنے سے ہی حاصل ہوگا ۔ (ایک اشکال) اس مقام پر بعض مفسرین نے اس اشکال کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس آیت کی رو سے تو ذکر الہی اطمینان قلب کا باعث ہوتا ہے جب کہ سورة انفال کی آیت (آیت) ” اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذکر الہی سے دل ڈر جاتے ہیں یعنی خوف طاری ہوجاتا ہے ، بظاہر یہ دونوں آیات منفارض معلوم ہوتی ہیں مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ دونوں کیفیتوں کے مراجع مختلف ہیں ، مطلب یہ ہے کہ جن آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا ذکر ہے ان کی تلاوت سے مومنوں کے دلوں میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور جن آیات میں اللہ کی وعید اور اس کے عذاب کا ذکر ہے ان کی تلاوت سے اہل ایمان کے دل ڈر جاتے ہیں گویا جس وقت خدا تعالیٰ کے عدل کا تذکرہ ہوتا ہے تو مومنوں کے دل خوف سے کانپ اٹھتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کا ذکر ہوتا ہے تو اہل ایمان کو اطمینان قلب حاصل ہوجاتا ہے لہذا ان آیات میں درحقیقت کوئی تعارض نہیں ہے ، صاحب تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں کہ خوف اور امید اکٹھے بھی ہو سکتے ہیں ، انسان کے دل میں یاد الہی سے جو انس پیدا ہوتا ہے اس میں خوف اور رجی دونوں چیزیں شامل ہوتی ہیں ، دونوں کی یکجائیگی کے متعلق حدیث میں مثال موجود ہے ایک نوجوان زندگی کے آخری لمحات پر تھا حضور ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور دریافت کیا کہ تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نوجوان نے عرض کیا حضور ﷺ اخاف ذنوبی “ میں اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور گناہوں کی وجہ سے خوفزدہ ہوں ” وارجوا اللہ “ اور میں خدا تعالیٰ سے اس کی رحمت کی امید بھی رکھتا ہوں ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص میں خوف اور رجی اکھٹے ہوگئے وہ یقینا کامیاب ہوگا فرمایا ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز عطا کرے گا جس کی وہ امید رکھتا ہے اور اس چیز سے بچا لے گا جس سے وہ ڈرتا ہے گویا ایک کامل الا ایمان آدمی میں یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوتی ہیں ، خدا کے عدل سے ڈر بھی ہوتا ہے اور اس کی رحمت سے امید بھی ہوتی ہے قرآن پاک میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی یہ صفت بیان کی گئی ہے ” یدعوننا رغبا ورھبا “۔ (انبیائ) وہ ہمیں پکارتے ہیں ہماری نعمتوں میں رغبت رکھتے ہوئے اور ہمارے جلال سے ڈرتے ہوئے : (اہل ایمان کے لیے بشارت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے ، امام مجدد (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان کے بعد اچھے کاموں میں بنیادی طور پر عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوۃ ، اور حج ہیں ، حدیث شریف میں آتا ہے جو آدمی ایمان لانے کے بعد ان عبادات کو انجام دے گا اللہ اس کو جنت میں پہنچا دیگا ، اگرچہ وہ گھر میں ہی بیٹھا رہے بشرطیکہ اس کا خاتمہ انہی اعمال پر ہو۔ اس کے علاوہ صالحات میں ہر قسم کی بدنی ، مالی ، قولی اور فعلی نیکیاں شامل ہیں ، تو فرمایا ایمان لانے کے بعد جن لوگوں نے اچھے اعمال انجام دیئے (آیت) ” طوبی لھم “ ان کے لیے خوشخبری ہے (آیت) ” وحسن ماب “۔ اور اچھا ٹھکانا ہے ، طوبوی کا معنی خوشخبری کے علاوہ پاکیزگی بھی آتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ طوبی جنت کے ایک درخت کا نام ہے جو اتنا لمبا چوڑا ہوگا کہ تمام جنتیوں پر چھایا ہوا ہوگا ، بعض تفسیری روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس درخت کا تنا حضور ﷺ کے گھر میں ہوگا اور اس کی شاخیں تمام بہشتوں میں سارے اہل ایمان پر سایہ فگن ہوں گی ، بہرحال طوبی کا عام فہم معنی بشارت ہے ، درخت ہونا بھی کوئی اجنبی بات نہیں کیونکہ قرآن پاک میں سدرۃ المنتہی کا ذکر بھی موجود ہے ، یہ بھی عجیب و غریب قسم کا درخت ہے جسے انسانی زندگی کے ساتھ خاص لگاؤ ہے ان چیزوں کا راز اس دنیا میں تو نہیں کھل سکتا ، جب انسان اگلے جہان میں پہنچیں گے تو سب پردے اٹھ جائیں گے اور یہ ساری چیزیں واضح ہوجائیں گی ۔ (تلاوت قرآن پاک) آگے کفار کی من مانی نشانیوں کے مطالبہ کے تسلسل میں ہی ذکر ہو رہا ہے کہ نہ تو نبوت و رسالت دنیا میں کوئی نئی چیز ہے اور نہ ہی منکرین کا انکار عجوبہ چیز ہے ، بلکہ یہ سلسلہ تو ابتداء سے ایسے ہی چلا آرہا ہے (آیت) ” کذلک ارسلنک فی امۃ “۔ اسی طرح ہم نے آپ کو بھیجا ہے ، اس آخری امت میں پہلی امتوں کی طرف بھی انسانوں میں سے ہی رسول بنا کر بھیجے گئے ، انہوں نے بھی خدا کا پیغام اس کا حکم اور شریعت لوگوں کے سامنے پیش کی مگر منکرین اسی طرح ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے رہے ، یہ کوئی نیا سلسلہ نہیں بلکہ آپ کی بعثت اور لوگوں کا انکار پرانے سلسلے کی ہی آخری کڑی ہے ، فرمایا (آیت) ” قد خلت من قبلھا امم “۔ اس سے پہلے بھی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں ، اور سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح ہم نے آپ کو اس لیے رسول بنا کر بھیجا ہے (آیت) ” لتتلوا علیھم الذی اوحینا الیک “۔ تاکہ آپ پڑھ کر سنا دیں ان کو وہ چیز جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ، کتاب الہی کی تلاوت انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا پہلا کام ہوتا ہے ، سورة العنکبوت میں بھی موجود ہے (آیت) ” اتل ما اوحی الیک من الکتاب “۔ جو کچھ ہم نے کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کی ہے ، آپ اسے پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں ، یہ پہلا کام ہے ، اس کے بعد باقاعدہ تعلیم دینا ، حکمت سکھانا ، لوگوں کا تزکیہ کرنا ، یہ سب فرائض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور کتاب الہی کے موضوعات ہیں ، چناچہ جب کوئی وحی نازل ہوتی تو حضور ﷺ تو مشہور کاتبان وحی میں سے کسی شخص کو بلا کر آیات الہی لکھوا دیتے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ نزول وحی کے بعد آپ گھر سے باہر تشریف لاتے اور جو آدمی ملتا اسے اللہ کا کلام سنا دیتے ، کلام الہی کو پڑھ کر سنانے میں دو مقصد حاصل ہوتے ہیں ایک تو مطلوبہ بات دوسروں تک پہنچ جاتی ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ اطمینان قلب حاصل ہو اور اجروثواب بھی ملے ، قرآن پاک کی زیادہ سے زیادہ تلاوت میں یہی راز پنہان ہے کہ ہمارا تعلق قرآن پاک سے قائم رہے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے حکم کے مطابق آپ تو ان کو قرآن پڑھ کر سناتے ہیں مگر کفار ومشرکین کے حالت یہ ہے (آیت) ” وھم یکفرون بالرحمن “۔ کہ وہ رحمان کا انکار کردیتے ہیں ۔ ّ (اسمائے پاک) مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کو تسلیم نہیں کرتے تھے ان کے نزدیک تو رحمان اہل یمامہ مسلیمہ کذاب تھا مگر قرآن پاک نے صاف صاف بتلایا ہے کہ رحمان اللہ تعالیٰ کی اسی طرح صفت ہے جس طرح اس کا اسم پاک اللہ ہے ، بسم اللہ الرحمن الرحیم “ میں اسم ذات اللہ کے ساتھ اس کی صفات رحمان اور رحیم دونوں کا ذکر موجود ہے ، سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے (آیت) ” قل ادعوا اللہ اوادعوا الرحمن “۔ آپ کہہ دیں کہ اے لوگو ! جس نام سے بھی پکارو ! (آیت) ” فلہ الاسمآء الحسنی “۔ اس کے سارے کے سارے نام بھلے ہیں ، یہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانویں نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا اور ان کو پڑھتا رہے گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا ، غرضیکہ مشرکین رحمان کے نام سے بدکتے تھے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بجائے بسمک اللھم کہتے تھے بعض مشرکین کہتے کہ یہ نبی ہمیں تو ایک اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے اور خود ساتھ رحمان کا ذکر بھی کرتا ہے یہ سب جہالت کی باتیں تھیں ، مشرکین کے لغو اعتراضات تھے حالانکہ رحمان اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے اور یہ اس کا صفاتی نام ہے ، فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ” ھو ربی “ وہ میرا پروردگار ہے ” لا الہ الا ھو “ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کو جس نام سے بھی پکارا جائے وہ راضی ہوتا ہے اور پھر قرآن نے یہ مسئلہ بھی بیان کردیا ہے (آیت) ” ان الذین یلحدون فی ایتنا لا یخفون علینا “۔ (حم سجدہ) اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک میں جو شخص الحاد کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو بھی پہچانتا ہے الحاد کا مطلب یہ ہے کہ اسمائے پاک کا غلط مطلب لیا جائے ، جیسے پرویز کہتا ہے کہ اللہ سے مراد ذات نہیں بلکہ قانون مراد ہے حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اس کے نیچے ایک حقیقت پوشیدہ ہے اور اس لفظ کا ذکر کرنے سے وہ حقیقت ذہن میں آتی ہے ، اسی طرح لفظ رحمان بھی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے مگر مشرک لوگ اس نام کو تسلیم نہیں کرتے غرضیکہ اللہ کا معنی قانون نہیں بلکہ اس نام سے اللہ کی ذات کا اظہار ہوتا ہے ، کسی ذات کا تشخص نام کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے ، انسان بھی ناموں سے ہی پہچانے جاتے ہیں ، اسی طرح اللہ کا ذاتی نام ہے اگر لفظ اللہ کا ذکر کیا جائے تو اس سے ذات مراد ہوگی اور لفظ رحمان سے یاد کیا جائے تو اس سے اللہ کی صفت رحمت مراد ہوتی ہے فرمایا وہ میرا رب ہے اور اس کے سوال کوئی معبود نہیں ۔ (آیت) ” علی توکلت “ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں (آیت) ” والیہ متاب “ اور ہر وقت میرا اسی کی طرف رجوع ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو ، تمہارا رجوع خود بخود اس کی طرف ہوجائیگا خدا کی رحمت ہر وقت متوجہ رہتی ہے لہذا اس سے مایوس نہیں ہونا چاہئے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” انیبوا الی ربکم واسلموا لہ “۔ (الزمر) رجوع کے لیے انصاف شرط ہے ، ضد ، ہٹ دھرمی اور عناد مشرکوں کا شیوہ اور محرومی کی علامت ہے ۔
Ayah 13:31

وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 13:31 in the Quran reader

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے ساتھ پہاڑوں کو چلایا جاتا یہ اس کے ساتھ زمین کے ٹکڑے کیے جاتے یا اسکے ساتھ مردوں سے کلام کیا جاتا (تو پھر بھی یہ لوگ نہ مانتے ) بلکہ معاملہ سب کا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے کیا مایوس نہیں ہوئے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہدایت دے دے سب لوگوں کو اور برابر کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا پہنچتی رہے گی ان کو اس وجہ سے جو انہوں نے کیا ، کھٹکھٹانے والی چیز یا اترے گی وہ ان کے گھروں سے قریب یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آجائے بیشک اللہ تعالیٰ نہیں خلاف کرتا وعدے کا ۔

(ربط آیات) یہ آیت بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہے ، کافر اور مشرک لوگ من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ ضدی اور عنادی لوگ ہیں ، انہیں حقیقت کی طلب نہیں ہے ، اس لیے انہیں راہ راست نصیب نہیں ہو سکتا ، صراط مستقیم کے حقدار وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور ہدایت کے طالب ہوتے ہیں ، گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اطمینان قلب کا نسخہ بھی بتلا دیا کہ یہ ذکر الہی ہی ہے جو دلوں کے سکون کا باعث بن سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے انجام کا ذکر بھی فرمایا ، حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی نازل فرمایا کہ کفار ومشرکین کی طرف سے مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے ، اسی طرح آپ سے پہلے بھی بہت سی امتیں گزر چکی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف بھی ہادی بھیجے مگر وہ لوگ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے مخالفت پر اڑے رہے اللہ نے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کی طرف سے مخالفت کی پروا کیے بغیر اللہ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں اور اپنا تبلیغی مشن جاری رکھیں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں ۔ (شان نزول) آج کا درس مشرکین کے اعتراضات کے جواب میں ہی ہے وہ لوگ طرح طرح کے مطالبات کرتے تھے ، مثلا یہ کہ آپ اس قرآن کے ذریعے مکہ کے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیں یہاں پر زمین ہموار ہوجائے اور ہم یہاں کھیتی باڑی کرسکیں ، وہ یہاں پر نہریں جاری کرنے کا مطالبہ بھی کرتے تھے نیز یہ بھی مطالبہ کرتے کہ آپ اس قرآن کے ذریعہ زمین کے ٹکڑے کردیں یا ہمارے فوت شدہ آباؤ اجداد کو زندہ کردیں تاکہ ہم ان کے ساتھ بات چیت کرسکیں مشرکین ایمان لانے کے لیے اس قسم کی شرائط اور بیہودہ اعتراضات پیش کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس میں مشرکین کی غلط فرمائشوں کا رد فرمایا ہے اور ان کو جواب دیا ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب قرآن کریم اس قسم کی فرمائشوں کی تکمیل کے لیے نازل نہیں کی بلکہ اس کتاب کو اللہ نے ذریعہ ہدایت بنا کر بیجھا ہے تاکہ لوگ اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر کامیابی کی منزل حاصل کرسکیں ۔ (قرآن ذریعہ ہدایت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولوان قرانا “۔ اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ (آیت) ” سیرت بہ الجبال “۔ اس کے ذریعے پہاڑوں کو چلایا جاتا (آیت) ” اوقطعت بہ الارض “۔ یا اس کے ذریعے زمین کے ٹکڑے کردیے جاتے (آیت) ” اوکلم بہ الموتی “۔ یا مردوں سے باتیں کی جاتیں ، مگر اللہ نے اپنی کتابیں اس مقصد کے لیے نازل نہیں فرمائیں ، اللہ تعالیٰ نے تمام کتب سماویہ اور صحائف کو لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے ، یہ قرآن پاک بھی اللہ کی آخری کتاب ہے اور دیگر کتب کی طرح منبع رشد وہدایت ہے مگر اس سے چھومنتر کا کام نہٰں لیا جاسکتا کہ اس کو دم کرکے لوگوں کی فرمائشیں پوری کی جائیں یہ کتاب تو گمراہی کو دور کرکے نیکی اور ہدایت کی طرف بلانے والی چیز ہے ، اس کے ذریعے کفر وشرک مٹتا اور ایمان آتا ہے ۔ ظلم وجور کی جگہ عدل و انصاف لیتا ہے ، نجاست کی بجائے پاکیزگی ، اور بداخلاقی کی جگہ اخلاق حسنہ پیدا ہوتے ہیں ، نزول قرآن کا مقصد خود قرآن کی زبان سے یہ ہے (آیت) ” کتب انزلنہ الیک مبرک لیدبروا ایتہ ولیتذکر اولوا الالباب “۔ ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف اس لیے نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں ، اس پر عمل پیرا ہوں اور دانا لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں ، سورة ابراہیم کی ابتداء میں ہی قرآن کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے (آیت) ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “۔ تاکہ اس کے ذریعے آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ، کفر ، شرک ، بدعات معاصی وغیرہ سب ظلمات ہیں ، ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے قرآن پاکو اپنانا ہوگا ، اس کے بغیر ایمان اور توحید کی روشنی نصیب نہیں ہو سکتی ۔ (قرآن کا مفہوم) اس مقام پر قرآن کریم سے مراد قرآن پاک بھی ہے اور مطلق کتاب بھی ، قرآن کے لغوی معنی پڑھی جانے والی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ چاروں کتب اور صحائف پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ، انسائیکلوپیڈیا میں بھی قرآن کے متعلق یہی لکھا ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ، اور یہی اس کے برحق ہونے کی علامت ہے ، حدیث شریف میں قرآن کا اطلاق زبور پر بھی کیا گیا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) پر قرآن کا پڑھنا آسان کردیا تھا ، آپ (علیہ السلام) اپنے خادم کو حکم دیتے کہ گھوڑے کو اصطبل سے نکال کر اس پر زین ڈالو ، یہ حکم دے کر آپ زبور کی تلاوت شروع کردیتے اور جب تک خادم گھوڑے کو سواری کے لیے تیار کرتا ، آپ پوری زبور کی تلاوت کرلیتے ، قرآن کریم کے متعلق بھی آتا ہے کہ بعض حضرات پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہوتی ہے جو تھوڑے وقت میں بہت زیادہ تلاوت کرلیتے ہیں ، بعض بیچارے زیادہ وقت میں بھی تھوڑی سی تلاوت کر پاتے ہیں ، بہرحال یہ اللہ کی دین اور اس کی مہربانی ہے کہ وہ اپنے کلام کی تلاوت میں آسانی پیدا کردیتا ہے ۔ الغرض ! اس مقام پر اگر قرآن سے مراد مطلق کتاب لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر کسی کتاب سے پہاڑوں کو چلانے ، زمین کو ٹکڑے کرنے یا مردوں سے ہم کلام ہونے کا کام لیا جاسکتا تو قرآن پاک سے تو بطریق اولی ایسا ہو سکتا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے کوئی بھی کتاب یا صحیفہ اس مقصد کے لیے نازل نہیں فرمایا کہ اس سے لوگوں کی فرمائشیں پوری کی جائیں بلکہ اللہ کی کتابیں تو منبع رشدوہدایت ہیں ، جو ان کی طرف رجوع کرے گا اسے راہ راست میسر آجائے گا جس پر چل کر اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچ جائے گا ۔ (قرآن کی برکات) فرمایا ، یہ قرآن اللہ نے تمہاری خواہشات کی تکمیل کے لیے نازل نہیں فرمایا (آیت) ” بل للہ لامر جمیعا “۔ بلکہ معاملہ سارے کا سارا اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اگر وہ چاہے تو پہاڑوں کو چلا سکتا ہے مگر اس مالک الملک نے یہ کتاب نازل فرما کر پہاڑوں کی طرح کفر وشرک پر جمے ہوئے لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر انوار تجلیات کی وادیوں میں پہنچا دیا ہے اور انکے دلوں میں جمی ہوئی برائیوں کو اکھاڑ کر رکھ دیا ہے اور وہاں پر نور ایمان اور معرفت کے چشمے جاری کردیے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرح منجمد رسومات باطلہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور مردہ قوموں اور مردہ دلوں کو ابدی زندگی عطا کردی ہے قرآن کریم تو اس مقصد کے لیے نازل کیا گیا ہے ، اللہ نے سورة یونس میں قرآن پاک کا ایک مقصد یہ بھی بتایا ہے (آیت) ” قد جآء تکم موعظۃ من ربکم وشفآء لما فی الصدور “۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور تمام روحانی بیماریوں کے لیے شفا ہے انسان کی تمام عقلی اور روحانی ضروریات اسی قرآن پاک کے ذریعے پوری ہوتی ہیں ۔ (اجتماعی ہدایت) شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب کافر ومشرک طرح طرح کی فرمائشیں پیش کرتے تو بعض مسلمانوں کے دلوں میں بھی خیال پیدا ہوتا کہ اگر ان کی خواہش پوری کردی جائے تو شاید یہ ایمان لے آئیں مگر اللہ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی کہ دل میں ایسا خیال نہ لائیں ، یہ ضدی اور ہٹ دھرم لوگ ہیں ، اگر ان کی فرمائش پوری کر بھی دی جائے تو یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے ، سورة انعام میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” قل انما الایت عنداللہ وما یشعرکم ، انھا اذا جآء ت لا یؤمنون “۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ تمام نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں ، وہ جسے چاہے ظاہر کر دے ، مگر تمہیں کیا معلوم ! ایمان والو ! اگر ان کے پاس نشانیاں بھی آجائیں تو یہ ایمان نہیں لائیں گے ، یہ ضدی اور عنادی لوگ ہیں ، اور اپنی ہٹ دھرمی سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ۔ فرمایا (آیت) ” افلم یایئس الذین امنوا “۔ کیا اہل ایمان اس بات سے مایوس نہیں ہوئے (آیت) ” ان لویشآء اللہ “ کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے (آیت) ” لھدی الناس جمیعا “۔ تو سب کے سب لوگوں کو ہدایت دے دے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ چاہے تو تمام انسانوں کو جبرا ہدایت کے راستے پر ڈال دے مگر یہ چیز اسکی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ نے ایمان کا معاملہ خود انسان کی صوابدید پر چھوڑ رکھا ہے اس نے حق و باطل میں امتیاز بتلا کر فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف) چاہے تو ایمان قبول کرے اور چاہے تو کفر پر اڑا رہے ، وہ جو بھی راستہ اختیار کریگا ، اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا ، البتہ کسی سے زبردستی کوئی چیز منوانا اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے وہ تو انسان کو ہر طریقے سے آزماتا ہے (آیت) ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ “ (الانبیائ) وہ برائی کے ساتھ بھی آزماتا ہے اور نیکی کے ساتھ بھی ، پھر جو اس کے معیار پر پورا اترتا ہے ، کامیابی کا حقدار وہی ہوتا ہے ، الغرض ! اجتماعی ہدایت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہے ہدایت کا حصول ہر شخص کی اپنی صلاحیت اور طلب پر منحصر ہے ۔ (یائیس کے مختلف معانی) یایئس کا عام فہم معنی تو مایوسی ہے ، تاہم شاہ عبدالقادر (رح) اس لفظ کا ترجمہ ” خاطر جمع کر ان “ کرتے ہیں مطلب یہ کہ کیا ان اہل ایمان کے لیے خاطر جمع نہیں ہوئی ، کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا ، اہل ایمان کو مشرکین سے ایمان کی توقع نہیں رکھنی چاہئے ۔ اہل لغت کہتے ہیں کہ قبیلہ نخع کی زبان میں یایئس کا معنی جاننا بھی وہتا ہے اور جملے کا مفہوم یہ ہے کہ کیا اہل ایمان نے اس بات کو نہیں جانا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو سب کو راہ راست پر لے آئے مگر یہ اس کی حکمت کے منافی بات ہے ، اس لفظ کو اردو زبان میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ، اور یاس کو مایوسی کے معنوں پر محمول کیا جاتا ہے ، اصغر شاعر کہتا ہے ۔ یاس ایک جنون ہوشیاری امید فریب زندگی کا : جنوں ہوشیاری یہ ہے کہ انسان کو قطعی طور پر یقین ہوجائے کہ ایسا نہیں ہوگا ، یاس زندگی کا ایک جنون ہے اور امید محض دھوکہ ہے انسان ساری زندگی امید کے دھوکے میں مبتلا رہتا ہے مگر بسا اوقات اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، بہرحال ہدایت کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگاجو اپنی مرضی سے اختیار کریگا ، اللہ تعالیٰ کو ہدایت پر مجبور نہیں کرتا ۔ (کفار کے لیے دائمی مشکلات) فرمائشیں کرنے والے ازلی منکرین کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولا یزال الذین کفروا “ اور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (آیت) ” تصیبھم بما صنعوا قارعۃ “۔ پہنچے گی ان کو ان کے کیے کی وجہ س کھٹکھٹانے والی چیز گویا ایسے لوگوں کو امن و سکون نصیب نہیں ہوگا ، بلکہ مشکلات میں گھرے رہیں گے ، یا تو جنگ وجدل میں مصروف رہیں گے ، یابیرونی حوادثات کا شکار ہوں گے ، (آیت) ” اوتحل قریا من دارھم “ یا وہ کھٹکھٹانے والی چیز ان کے گھروں کے قریب اترے گی یا ان پر پڑیگی جس کی وجہ سے وہ ہر وقت خوف میں مبتلا رہیں گے ، گویا ان کو ہر وقت کسی نہ کسی مصیبت کا کھٹکا لگا رہے گا ، چناچہ مشرکین عرب ہمیشہ لڑائی کے خوف میں مبتلا رہے ، یہاں تک کہ مکہ فتح ہوگیا ، ان کے گھروں میں کے قریب مصیبت اترنے کی مثال 6 ھ؁ کا واقعہ حدیبیہ ہے حضور ﷺ پندرہ سوجانبازوں کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر اترے جس کی وجہ سے مکہ والوں میں ہلچل مچ گئی اور آخر کار یہ معاملہ ایک معاہدے کے تحت طے ہوا الغرض ! تحل اگر مخاطب کا صیغہ ہو تو معنی ہوگا کہ آپ اتریں اور اگر غائب کا صیغہ تسلیم کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ان کے گھروں کے قریب کوئی آفت یامصیبت اترے ۔ جب کسی علاقے میں آفت نازل ہوتی ہے تو یہ قریبی علاقے والوں کے لیے باعث عبرت ہوتی ہے ، آج ہمارے قریب مشرقی پنجاب میں سکھوں پر مصیبت پڑی ہوئی ہے تو اس سے ہمیں بھی عبرت پکڑنی چاہئے ، ذرا 35 سال پہلے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں ، ان ظالم سکھوں نے مسلمانوں پر کتنے ظلم کیے ، اللہ کے گھروں کی بےحرمتی کی ، مسجدوں کو اصطبل اور بیت الخلا بنایا ، مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ، مگر آج ان کے گوردوارے کا حال بھی ملاحظہ کرلیں ، ان کے مقدس مقام کی بےحرمتی ہوئی گولی چلی اور سینکڑوں سکھ مارے گئے تاریخ اپنے واقعات کو دہراتی ہے اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئے ، ادھر گذشتہ پانچ سال سے روس ہماری سرحدوں پر دستک دے رہا ہے ، افغانوں پر مظالم ڈھا رہا ہے مگر ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے ، ہمیں اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ ہمارے قریب نازل ہونے والی آفت کہیں ہم پر بھی نہ آپڑے جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کسی کا لحاظ نہیں کرتی 1917 ء میں روس میں جو انقلاب آیا تھا اس میں دوکروڑ انسان ہلاک ہوئے بڑے بڑے باعزت آدمیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر تین تین میل تک گھسیٹا گیا ، اپنے قریب مصیبت دیکھ کر انسان کو تنبیہ ہونی چاہئے اور اپنی کمزوریوں کو دور کرنا چاہئے ظلم و زیادتی سے تائب ہوجانا چاہئے ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جو دشمن کو حملہ کرنے کی دعوت دے اندرونی طور پر طوفان اور زلزلے بھی آسکتے ہیں ، یہ بھی انسانوں کو جھنجوڑتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے اللہ سے معافی مانگ لیں ۔ (مسلمانوں کے لیے عبرت) بنیادی طور پر تو یہ کافروں کا حال بیان کیا گیا ہے مگر یہ مسلمانوں کے لیے بھی مقام عبرت ہے ، ابتدائی دور میں مصیبت کفار کے گھروں کے قریب اترتی رہی جس میں ان کے لیے تنبیہ تھی مگر آخر کار یہ مصیبت خود ان پر بھی آن پڑی ، اسی لیے فرمایا کہ انسان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے ، (آیت) ” حتی یاتی وعداللہ “۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ آجائے ، ابتدائی دور میں مسلمانوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ وہ اسلام کو غالب کرے گا ، چناچہ اللہ نے وہ وعدہ پورہ کردیا ، خلافت راشدہ قائم ہوئی اور آدھی دنیا پر مسلمانوں کو کنٹرول حاصل ہوگیا ، اور باقی آدھی دنیا ساڑھے چھ سو سال تک مغلوب رہی ، کسی میں دم مارنے کی ہمت نہ تھی پھر جب مسلمانوں میں انحطاط پیدا ہوا ، کافروں نے سر اٹھایا اور مسلمان مغلوب ہوتے چلے گئے ، وعدے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جب یہ دنیا ختم ہوگی تو دوسری دنیا قائم ہوگی ، اللہ نے یہ بھی وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا ، پھر جزائے عمل کی منزل آئیگی اور ہر ایک کے متعلق فیصلہ کردیا جائے گا موت کا وعدہ انسان کے لیے انفرادی طور پر آتا ہے اور پھر اجتماعی طور پر فنا کا وعدہ اس وقت پورا ہوگا ، جب قیامت برپا ہوجائے گی کائنات کی تمام چیزیں ختم ہوجائیں گی اور پھر نئی دنیا اور نیا نظام قائم ہوگا ، ایسے ہی وعدے کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” وعدا علینا “۔ (انبیائ) ہمارا وعدہ برحق ہے (آیت) ” انا کنا فعلین “۔ ہم اس نظام کو تبدیل کرکے دوسرا نظام ضرور لائیں گے ، (آیت) ” ان اللہ لا یخلف المیعاد “۔ بیشک اللہ تعالیٰ وعدے کے خلاف نہیں کرتے اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا ۔
Ayahs 13:32–35

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 13:32 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ٹھٹا کیا گیا رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے پس میں نے مہلت دی ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا پھر میں نے پکڑا ان کو ، پس کیسی تھی سزا ۔

اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 13:33 in the Quran reader

بھلا وہ ذات جو قائم ہے ہر ایک نفس پر جو اس نے کمایا ہے ، اور ٹھہرائے ہیں ان لوگوں نے اللہ کے شریک آپ کہہ دیجئے ، ان کے نام لو۔ کیا تم بتلاتے ہو اس کو وہ جو نہیں جانتا وہ زمین ہیں ، یا سرسری بات ، بلکہ مزین کیا گیا ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا ان کا مکر ، اور روکے گئے ہیں وہ راستے سے اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پس نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا ۔

لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 13:34 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں ، اور آخرت کا عذاب بہت سخت ہے اور نہیں ہوگا ان کے لیے اللہ سے کوئی بھی بچانے والا ۔

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ Open ayah 13:35 in the Quran reader

مثال (اور حال) اس جنت کا جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقیوں کے ساتھ ، جاری ہیں اس کے سامنے نہریں اور پھل اس کے ہمیشہ رہنے والے ہیں اور اس کا سایہ بھی ، یہ ہے انجام ان لوگوں کا جو ڈرتے رہے اور انجام کفر کرنے والوں کا جہنم کی آگ ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں مشرکین کی تردید کے متعلق دو باتیں بیان ہوچکی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ کفار ومشرکین اللہ کے نبی سے من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے اور یہ مطالبہ کسی اشتباہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے ہوتا تھا ، ان کا منصوبہ یہ ہوتا تھا کہ اپنی خواہش کی نشانیاں طلب کی جائیں اور جب آپ پیش نہ کرسکیں تو آپ کا تمسخر اڑایا جائے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹا کیا گیا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے ، اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی اور پھر بالآخر انہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا ، فرمایا آپ کے مخالفین کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کی دہی ہوئی مہلت سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں ، ورنہ سابقہ اقوام کی طرح وہ بھی ہلاک ہوجائیں گے ، اب اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ ان لوگوں کی بےعقلی کا حال ملاحظہ کریں کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ایسی ہے جو ہر چیز پر قائم اور نگران ہے ، وہ قادر مطلق ہے ، ہر قسم کا تصرف اسی کو حاصل ہے مگر یہ لوگ اس ذات کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کو شریک بنا رہے ہیں ، حالانکہ ان شرکاء کا نہ کوئی اختیار ہے اور نہ وہ کسی چیز پر تصرف رکھتے ہیں ، نہ وہ کسی کی حاجت کو جانتے ہیں ، نہ ان کے پاس علم ہے ، بلکہ وہ تو عاجز مخلوق ہیں ، اور ظاہر ہے کہ انکو خدا کا شریک بنانا کتنی بیوقوفی اور حماقت ہے ۔ (استہزائے رسل) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد استھزیء برسل من قبلک “۔ البتہ تحقیق ٹھٹا کیا گیا بہت سے رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے فرمایا یہ تو پرانے جاہلوں اور کافروں کا دستور ہے کہ وہ اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو تمسخر کا نشانہ بناتے رہے ہیں ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر آپ تسلی رکھیں کہ یہ لوگ اپنا کام کرتے رہیں گے ، مگر ان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ، ٹھٹے کا مسئلہ تو یہ ہے کہ کسی مسلمان کا تمسخر اڑانا کبیرہ گناہ اور حرام ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ” ولا تمار اخاک ولا تمازح “ اپنے بھائی کے ساتھ جھگڑا نہ کرو اور نہ اس کے ساتھ استہزاء کرو ، فرمایا ایسا وعدہ بھی نہ کرو جسے پورا نہ کرسکو ، مگر یہ خرابیاں معاشرہ میں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں ، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ، تو وہ کہنے لگے ، کیا تو ہمارے ساتھ ٹھٹا کرتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” اعوذباللہ ان اکون من الجھلین “۔ (البقرہ) خدا کی پناہ ! کہ میں جاہلوں میں سے بن جاؤں کیونکہ ٹھٹا کرنا تو جاہلوں کا کام ہے ، میں تو اللہ کا نبی ہوں اور اس کا حکم پہنچا رہا ہوں ۔ غرضیکہ عام مسلمانوں کے ساتھ ٹھٹا کرنا جس سے اس کی تحقیر مقصود ہو ، حرام ہے اور اللہ کے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرنا تو کفر ہے نبی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا حرام ہے اور کبیرہ گناہ ہے اللہ نے آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا (آیت) ” فاملیت للذین کفروا “ پھر میں نے کفر کرنے والوں کو مہلت دی (آیت) ” ثم اخذتھم “ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا ، مہلت مل جانے سے انسان کو مغرور نہیں ہوجانا چاہئے کہ وہ دندناتا پھرے ، اللہ کا قانون یہ ہے کہ وہ مجرمین کو پہلے مہلت دیتا ہے ، پھر جب وہ اپنی نافرمانیوں سے باز نہیں آتے تو ان کو پکڑ لیتا ہے ، فرمایا ، میں نے استہزاء کرنے والوں کو پکڑ لیا (آیت) ” فکیف کان عقاب “۔ پھر دیکھو ! میری گرفت کیسی تھی میں نے ان کو کیسی سزا دی ، نزول قرآن کے زمانے کے لوگوں کو تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے قانون امہال میں ہو ، وہ جب چاہے گا پکڑ لیگا اور پھر عبرت ناک سزا دیگا ۔ (خدا کے شریک) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن ھو قائم علی کل نفس “۔ بھلا وہ ذات جو قائم یعنی نگران ہے ہر نفس پر (آیت) ” بما کسبت “ جو اس نے کمایا ہے قائم کا معنی خود قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، قرآن پاک میں ” حصید اور ” وکیل “ کے الفاظ میں آئے ہیں کائنات کی تمام چیزوں کی حفاظت کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ، وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے ، اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ہے سورة فجر (آیت) ” ان ربک لبالمرصاد “۔ بیشک تیرے پروردگار گھات میں ہے جس طرح شکاری اپنے شکار کے گھات میں رہتا ہے اور جب اسے غافل پاتا ہے تو پکڑ لیتا ہے ، اسی طرح خدا تعالیٰ کی گھات اور نگرانی بھی باریک ، قائم اور دائم ہے ، بہرحال فرمایا کہ ہر نفس جو بھی کام کرتا ہے اس پر خدا کی نگرانی اور حفاظت قائم ہے ، وہ علیم کل ، قادر مطلق اور مختار کل ہے ، وہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے ، فرمایا ایسی ہستی کو چھوڑ کر (آیت) ” جعلو اللہ شرکآء “۔ ان کفار ومشرکین نے اللہ کے شریک بنا لیے ہیں ، اللہ نے ان لوگوں کی حماقت کی طرف اشارہ کیا ہے ، نیز فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں ” سموھم “ ان شریکوں کے نام تولو ، بھلا بتلاؤ تو سہی کہ وہ کون ہیں جنہیں تم نے خدا کی صفت میں شریک کر رکھا ہے ، پھر یہ بھی بتاؤ کہ ان شریکوں کو کیا اختیار حاصل ہے اور وہ لوگوں کے نفع نقصان کے کہاں تک مالک ہیں ، یہ کتنی بےوقوفی کی بات ہے کہ لوگوں نے ایسی ہستیوں کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے جو نہ قائم ہیں نہ دائم ہیں ، نہ علیم کل ہیں ، نہ قادرمطلق اور نہ حاضر وناظر وہ تو عاجز مخلوق اور محتاج ہیں ، وہ خدا کے شریک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” ام تنبئونہ بما لایعلم فی الارض “۔ کیا تم اس اللہ تعالیٰ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ، مطلب یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کے شریک بنا رکھا ہے ان کو شراکت تو ثابت نہیں ، اگر ایسا ہوتا تو خدا کے علم میں ہوتا ، تو گویا تم ایسی چیز کے متعلق بتلانا چاہتے ہو جو خدا کے علم میں نہیں ہے ، اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک سرے سے موجود ہی نہیں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ تم ایسی ہستی کو خدا کا شریک بناتے ہو جس کو زمین میں موجود ہرچیز کا علم ہی نہیں ، وہ جانتا ہی نہیں کہ کون کس حال میں ہے ، اس کی کیا حاجت ہے اور وہ کس طرح پوری کرنی ہے ، تو کیا تم ایسی ہستیوں کو خدا کے شریک بناتے ہو جن کا علم ہی محدود اور قلیل ہے ، بھلا ایسی ہستی خدا کا شریک ہو سکتی ہے ؟ یہ تو نہایت ہی حماقت کی بات ہے ۔ (بےحقیقت باتیں) فرمایا کیا تم اللہ تعالیٰ کو وہ چیز بتلاتے ہو جس کو وہ زمین میں نہیں جانتا (آیت) ” ام بظاھر من القول “۔ یا سرسری سی بات بنا رہے ہو ۔ شاہ عبدالقادر (رح) اپنے ترجمے میں ظاہر کا معنی ایسی بات کرتے ہیں جس کے تحت کوئی حقیقت نہ ہو ، یہ شریک بنانے والی بات محض اوپری سی ہے جس میں کوئی صداقت نہیں کسی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں شریک بنایا جائے یا تدبیر میں ، یہ ایک لغوبات ہے اور اسی کو ” بظاھر من القول “۔ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ عربی زبان میں ظاہر کا لفظ زائل یا باطل ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، اگر یہ مطلب لیا جائے تو جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ یا تم ایسی بات کرتے ہو جو باطل محض ہے ، عربی ادب میں یہ لفظ مختلف اشعار میں استعمال ہوا ہے مثلا : اعیرتنا البانھا ولحومھا وذلک عار یا ابن ریطۃ ظاھر تم نے ہمیں طعن دیا ہے کہ ہم اونٹوں کو دکھ بھال میں ہی لگے رہتے ہیں اور لڑائی لڑنا نہیں جانتے ، یہ عار باطل ہے ، جب ہم اسکی حقیقت بیان کریں گے تو تمہارا طعن باطل ہوگا ۔ وعیرھا الواشون انی احبھا وتلک شکاۃ ظاھر عنک عارھا : لوگوں نے اس کو بھڑکایا کہ میرا اس کے ساتھ تعلق ہے ، یہ ایسی شکایت ہے جس کا عار دلانا باطل ہے ۔ بہرحال ظاہر کا معنی اوپر بات ہو یا باطل چیز ہو ، دونوں معانی درست ہیں ، آپ دیکھ لیں شرکیہ رسم و رواج میں پھنسے ہوئے لوگ محض سرسری اور اوپری باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ، بعض لوگ برادری یا ملکی رواج میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، کسی نے کوئی بات پکڑلی اور کسی نے کوئی ، ان میں بنیادی حقیقت کچھ نہیں ہوتی ، محض ایک دوسرے سے سنی سنائی بات پر عمل کرنے لگتے ہیں ، کسی نے کہہ دیا کہ میں نے درخت کے ساتھ دھاگاباندھا تھا تو میری مراد پوری ہوگئی ، کسی نے کہا کہ فلاں قبر پر چادر چڑھانے سے بچہ پیدا ہوگیا ، اور کسی نے کہا کہ فلاں پیر کی نذر ماننے سے بیماری دور ہوگئی ، ایسی باتوں کی بنیاد نہ عقل پر ہوتی ہے اور نہ فطرت پر ، لوگ محض بےبنیاد باتوں کے پیچھے چل نکلتے ہیں ۔ حدیث شریف میں زید ابن عمر وابن نفیل کا واقعہ ملتا ہے کہ وہ کعبے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے اور لوگوں کو شرک میں مبتلا دیکھ کر کہتے ، خدا کے بندو ! تم جو کچھ کر رہے ہو ، غلط ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ کفر کرنے والے بےعقل ہیں ، ان کے شرکیہ افعال عقل اور فطرت کے خلاف ہیں ، اس کے برخلاف ایمان اور توحید کی بنیاد پختہ دلائل پر ہے جو کہ عقل اور فطرت سلیمہ کے مطابق ہیں رسم و رواج اور بدعات علاقائی چیزیں ہیں ہر ملک ، ہر خطے اور ہر علاقے کے اپنے اپنے رسم و رواج ہوتے ہیں اسی طرح میدانی علاقوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بدعات اور پہاڑی علاقوں کی بدعات میں بھی تفاوت ہوتا ہے ، یہ چیزیں کتاب وسنت کے خلاف اور محض شیطان کا جھانسہ ہوتی ہیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ انہی امور کو عبادت اور کار ثواب سمجھتے ہیں ۔ (تزئین اعمال) ایسے ہی اعمال کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” بل زین للذین کفروا مکرھم “۔ بلکہ کفار کے مکروفریب ان کے لیے مزین کیے گئے ہیں ، دوسرے مقام پر کفار کے اعمال کا ذکر بھی ہے کہ ان کے لیے مزین کیے گئے ہیں ان کے تمام قبیح اعمال کو شیطان مزین کر کے دکھاتا ہے کہ تم بہت اچھے کام کر رہے ہو ، قبروں پر انجام دیے جانے والے تمام شرکیہ اعمال کو کار ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے ، عرس ، میلاد ، قولی ، وغیرہ نہایت عقیدت واحترام سے منائے جاتے ہیں ، گویا کہ آخرت کا دارومدار انہیں چیزوں پر ہے ، اللہ نے فرمایا کہ شیطان کافروں کو ان کے قبیح کام مزین کر کے دکھاتا ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں انجام دیتا رہتا ہے حتی کہ اس کا آخری وقت آجاتا ہے اور وہ ان کفریہ اور شرکیہ امور پر ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” وصدوا عن السبیل “۔ اور ایسے لوگ راہ راست سے روک دیے گئے ہیں ، ظاہر ہے کہ جو غلط کام کو اچھا سمجھ کر کرنے لگے اس کے نزدیک حق و باطل کا امتیاز اٹھ جائے تو وہ سیدھے راستے پر کیسے آسکتا ہے ؟ گویا اس کے قبیح اعمال باطل عقائد ، بدعات اور باطل رسم و رواج کو ترک کرکے حقیقت ، ایمان اور توحید کو اپنانا ہوگا ، اگر اس میں کامیاب ہوگیا ، تو راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور حقیقی منزل قریب آجائیگی ، برخلاف اس کے جو شخص غلط رسم و رواج اور بدعات پر کمر بستہ رہے گا ، وہ گمراہی میں پڑا رہے گا ، اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے گمراہ ہوجاتا ہے اس کے راہ راست پر آنے کی امید ختم ہوجاتی ہے اسی لیے فرمایا (آیت) ” ومن یضلل اللہ فمالہ من ھادہ “۔ جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ، اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اللہ تعالیٰ انسان کو قوت ، توانائی ، عقل ، فہم اور ادراک عطا کرکے اختیار دے دیتا ہے کہ وہ حق اور باطل میں سے جونسا راستہ چاہے اختیار کرے ، اس کے بعد جو شخص راہ راست کی بجائے غلط راستے پر چل نکلتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” نولہ ما تولی “۔ (النسائ) ہم اس کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں ، جس طرف وہ جانا چاہتا ہے ، اور پھر اس کا تنیجہ یہ ہوتا ہے ، (آیت) ” ونصلہ جھنم “ ہم اسے جہنم میں داخل کردیتے ہیں (آیت) ” وسآء ت مصیرا “۔ جو کہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے ، غرضیکہ جو کوئی شخص رسول کی مخالفت کرتا ہے اور ایمان والوں کے راستے سے علیحدہ ہوجاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جدھر جانا چاہتے ہو ، چلے جاؤ ہم تمہیں نہیں روکیں گے ، ایسا شخص غلط راستے پر چل کر بالآخر جہنم کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا “۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں بھی سخت عذاب ہے ، تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے مشرکین عرب کو اسی دنیا میں سزا دی ، آٹھ نو سال تک اہل ایمان سے برسر پیکار رہے ، لڑتے مرتے رہے ، شکست کھاتے رہے ، تباہ وبرباد ہوئے اور آخر کار سارا ملک کفر وشرک سے پاک ہوگیا ، جب مکہ فتح ہوگیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اب یہ دارالسلام بن گیا ہے ، جنگ کے علاوہ بھی یہ لوگ کبھی وبائی امراض میں مبتلا ہوئے ، کبھی قحط پڑگیا ، طوفان آگیا ، زلزلے آئے اور نہایت خوف کی زندگی گذارتے رہے ، فرمایا یہ تو ان کی زندگی کا حال ہے (آیت) ” ولعذاب الاخرۃ اشق “۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی شدید ہے ۔ (آیت) ” وما لھم من اللہ من واق “۔ اور پھر انہیں اللہ کے سامنے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا ۔ اس دنیا میں تو ناجائز ذرائع اختیار کرکے بچتے رہے ، کبھی قانون کی نظروں سے غائب ہوگئے ، کبھی وکیل نے کوئی اہم نکتہ پیش کرکے بچا لیا ، کبھی جج نے رعایت دے دی اور کبھی سفارش اور رشوت چل گئی ، مگر اللہ کی عدالت میں ایسا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوگا ، اور وہ سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ (متقین کے لیے انعامات) قرآن پاک کے اسلوب بیان کے مطابق کفار کی سزا کے بعد اب متقین کے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے ۔ (آیت) ” مثل الجنۃ التی وعدالمتقون “۔ اس جنت کی مثال جس کا وعدہ متقیوں سے کیا گیا ہے ، مثال سے مراد بعض اوقات تعریف بھی ہوتی ہے ، یعنی وہ جنت جو ڈرنے اور بچنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے اس کی تعریف یہ ہے ، اور متقین وہ ہیں جو پہلے نمبر پر کفر ، شرک اور نفاق سے بچتے ہیں ، پھر کبائر سے اور درجہ بدرجہ صغائر سے بھی بچتے ہیں ۔ اور جیسا کہ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ تقوی کی انتہا پر ہے ” محافظت برحدود شرع “ یعنی شریعت کی قائم کردہ حدود کی حفاظت کرنا ، کسی بھی معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کرنا ، سورة توبہ میں مومنون کی ساتویں صفت یہی بیان کی گئی ہے (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ کہ وہ اللہ کی حدوں کی حفاظت کرتے ہیں ، ان سے تجاوز نہیں کرتے اور ان کے خلاف نہیں چلتے ، فرمایا جس جنت کا متقیوں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے (آیت) ” تجری من تحتھا الانھر “۔ اس کے سامنے نہریں بہتی ہیں ، وہ ایسے باغات ہوں گے (آیت) ” اکلھا دآئم “۔ کہ ان کے پھل دائمی ہوں گے جو کبھی ختم نہیں ہوں گے ، جونہی جنتی کے دل میں کوئی پھل کھانے کی خواہش پیدا ہوگی ، پھل فورا اس کے قریب آجائے گا ، سورة واقعہ میں موجود ہے کہ وہاں پر کثیر تعداد میں پھل ہوں گے (آیت) ” لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ “۔ نہ ان کو ختم کیا جائے گا اور نہ روکا جائیگا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب مومن کسی درخت سے پھل حاصل کرلے گا ، تو اس درخت پر اسی وقت پہلے کی جگہ دوسرا پھل پیدا ہوجائے گا ، غرضیکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا انعام ہوگا جو کبھی منقطع نہیں ہوگا ۔ فرمایا ایک تو پھل دائمی ہوں گے (آیت) ” وظلھا “۔ اور اس جنت کا سایہ بھی دائمی ہوگا ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جنت کی کیفیت یہ ہوگی کہ وہاں پر نہ تو دھوپ ہوگی اور نہ ابر ، وہاں کا موسم نہایت خوشگوار ہوگا ، جس میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوگی ، سورة دہر میں اللہ نے جنتوں کی کیفیت اس طرح بیان کی ہے کہ وہ تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے (آیت) ” لا یرون فیھا شمسا ولا زمھریرا “ وہ وہاں پر نہ دھوپ دیکھیں گے اور نہ سردی بلکہ نہایت ہی معتدل موسم ہوگا ، گرمی اور سردی کا کوئی احساس نہیں ہوگا ، لہذا کہہ سکتے ہیں کہ وہ سائے میں ہمیشہ رہیں گے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سائے کا مطلب یہ ہے کہ بعض اہل ایمان جن پر تجلیات الہی کا نزول ، اسمائے مبارکہ اور صفات الہی کا ظہور ہو رہا ہوگا ، بعض اوقات ان کا سائے میں رہنے کو جی چاہے گا ، تو ان کو وہاں سایہ محسوس ہوگا ، حالانکہ وہاں ایسی کوئی چیز نہیں ہوگی ۔ فرمایا (آیت) ” تلک عقبی الذین اتقوا “۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہوگا جو ڈرتے رہے اور منکرات سے بچتے رہے ، فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” وعقبی الکفرین النار “۔ اور کافروں کا انجام جہنم کی آگ ہوگا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی ۔