13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 13:8–11

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ وہ ہے جو جانتا ہے وہ جو اٹھاتی ہے ہر مادہ اور جو سکڑتے ہیں رحم اور جو بڑھتے ہیں اور ہر چیز اس کے نزدیک ایک خاص اندازے کے مطابق ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ جاننے والا ہے پوشیدہ باتوں کا اور ظاہری باتوں کا وہ بڑا ہے اور سب سے برتر ہے ،

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

برابر ہے تم میں سے جو پوشیدہ بات کرتا ہے اور جو پکار کر کرتا ہے وہ بات ، اور وہ جو چھپنے والا ہے رات کے وقت اور جو چلنے والا ہے دن کے وقت ،

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

اس کیلیے آگے پیچھے آنیوالے ہیں اس آدمی کے آگے بھی اور پیچھے بھی جو اس کی حفاظت کرتے ہیں اللہ کے حکم سے بیشک اللہ تعالیٰ نہیں تبدیل کرتا کسی قوم کی حالت یہاں تک کہ وہ تبدیل کریں جو کچھ انکے نفسوں میں ہے ، اور جب ارادہ کرے ، اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ برائی کا پس نہیں کوئی اس کو پھیرنے والا ، اور نہیں ہے اس کے لیے اس کے سوا کوئی کارساز ،

(ربط آیات) جیسا کہ سورة ہذا کے تعارف میں بیان ہوچکا ہے ، اس میں بنیادی عقائد ہی کا ذکر ہے ، اللہ نے ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کو بیان کرنے کے بعد توحید کے دلائل ذکر کیے ، ان دلائل میں سے بعض کا تعلق عالم بالا سے اور بعض کا عالم زیریں سے ہے ، اس کے ساتھ ساتھ قیامت کا مسئلہ بھی سمجھایا گیا ہے اور درمیان میں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر بھی آگیا ہے اب آج کے درس میں بھی توحید ہی کے دلائل بیان کیے گئے ہیں جن پر غور کر کے انسان مسئلہ توحید کو پہچان سکتا ہے اور اپنے ایمان کو درست کرسکتا ہے ۔ (شکم مادر میں بچے کی کیفیت) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اللہ یعلم ما تحمل کل انثی “ اللہ ہی جانتا ہے جو کچھ اٹھاتی ہے ہر مادہ ، مادہ سے مراد عورت بھی ہوسکتی ہے اور ہر جانور کی مادہ بھی جس کے رحم میں بچہ پیدا ہوتا ہے ، سورة لقمان کی آخری آیت میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” ویعلم ما فی الارحام “۔ وہی جانتا ہے ، کہ شکم مادر میں کیا ہے ، مطلب یہ کہ پیدا ہونے والے بچے کی تفصیلات سے نہ تو بچے کی ماں واقف ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص جانتا ہے بلکہ اس کی اصل کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، موجودہ میڈیکل سائینس اس حد تک تو ترقی کرچکی ہے کہ یہ بتا سکے کہ ماں کے پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑکی مگر یہ کوئی نہیں بتائیگا کہ پیدا ہونے والا بچہ تام الخلقت ہوگا یا ناقص الخلقت اس کا رنگ کا لا ہوگا یا گورا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بڑا ہو کر سعادت مند ہوگا یا شقی یہ کس وقت پیدا ہوگا ، اس کی عمر کتنی ہوگی ، دولت مند ہوگا یا مفلس ، تعلیم یافتہ ہوگا یا نہیں ، فرمایا ان تمام چیزوں کو اللہ ہی جانتا ہے جو خالق اور مالک ہے اور یہی اس کی وحدانیت کی دلیل ہے ۔ فرمایا (آیت) ” وما تغیض الارحام وما تزداد “۔ رحم مادر کے سکڑنے اور پھیلنے کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ، رحم میں موجود مادے کی مقدار کبھی کم ہوتی ہے اور کبھی زیادہ ، اس کی مصلحت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے کیونکہ (آیت) ” وکل شیء عندہ بمقدار “۔ ہر چیز اس کے نزدیک ایک اندازے کے مطابق ہوتی ہے ، بعض اوقات رحم میں صرف ایک بچہ ہوتا ہے جب کہ بعض اوقات دو یا زیادہ بھی ہوتے ہیں ، اور بعض اوقات رحم بالکل خالی ہوتا ہے ، عام طور پر صحت مند بچے کے لیے مدت حمل نو ماہ ہوتی ہے مگر بعض اوقات بچہ چھ ماہ پر بھی پیدا ہوجاتا ہے ، بعض حمل قبل از وقت بھی گر جاتے ہیں یہ بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بچہ رحم مادر میں مدت حمل نہیں پوری کرسکا بعض اوقات مدت حمل نو ماہ سے زیادہ بھی ہوجاتی ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) تجربات کی بناء پر فرماتے ہیں کہ مدت حمل کے چار سال تک طویل ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں امام شافعی (رح) بھی زیادہ سے زیادہ مدت حمل چار سال تک بتاتے ہیں جب کہ امام مالک (رح) پانچ سال تک کے قائل ہیں ، امام ضحاک (رح) تین یا چار سال تک شکم مادر میں رہے اور پیدائش کے وقت ان کے دانت بھی نکلے ہوئے تھے ، بہرحال مدت حمل کے کم وبیش ہونے کی حکمت کو بھی اللہ ہی بہتر جانتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ ایک عورت کے ہاں بیک حمل کتنے بچے پیدا ہوسکتے ہیں تو اس کی کوئی انتہا نہیں ، بعض فرماتے ہیں کہ بیک وقت چار بچے ہو سکتے ہیں اور بعض چھ یا زیادہ کی تعداد بھی متعین کرتے ہیں ، تاہم تجربات اس سے زیادہ کے بھی ہوئے ہیں کسی زمانے میں ہندوستان میں قاضی قدوہ گزرے ہیں ، ان کے متعلق قاضی ثناء اللہ پانی پتی تفسیر مظہری میں انکشاف کرتے ہیں کہ ان کی بیوی کے ہاں ایک حمل میں سو بچے پیدا ہوئے اللہ کی قدرت وہ سارے کے سارے اپنی طبعی عمر تک زندہ رہے اور حسب معمول مختلف کام کاج کرتے رہے ، بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے اور اس کی مصلحت کے مطابق ہوتا ہے غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ شکم مادر کی کیفیت کو اللہ ہی جانتا ہے ، اور اس کے نزدیک ہر چیز کا ایک اندازہ ہے ۔ (عالم الغیب والشہادت) آگے ارشاد ہے (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “ وہی اللہ پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو جاننے والا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں کیونکہ اس کا ارشاد ہے ، (آیت) ” وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ “۔ (یونس) کائنات میں ذرے کے برابر بھی کوئی چیز تیرے رب سے غائب نہیں ہے ، اس کی نظر تو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ہر چیز پر ہے ، مگر یہاں پر غائب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان کی نسبت سے غائب ہیں اور لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں ۔ بعض چیزیں ملائکہ کی نسبت سے بھی غائب ہیں اور بعض ان کے سامنے ہیں ، بعض چیزوں کا احساس انسان کو حواس کے ذریعہ ہوتا ہے اور بعض چیزیں ، وراء المحسوسات ہیں یعنی وہ عقل و حواس سے باہر ہیں ۔ تو بہرحال وہ تمام چیزیں جو انسانوں کی نسبت سے غائب ہیں اور جو چیزیں سامنے ہیں ، ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ، عالم الغیب والشہادۃ کا یہی معنی ہے ۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات ” الکبیر “ ہے یعنی وہ بہت بڑی ہستی ہے ، اس کی وسعت کو کوئی نہیں جان سکتا اور نہ کوئی اس کے علم اور قدرت کا احاطہ کرسکتا ہے ، خداوند تعالیٰ ” المتعال “ یعنی بہت بلندو برتر ہے ، اس کو ہر قسم کا تصرف حاصل ہے وہ ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان ہے ، وہ قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا مالک ہے ، لہذا جو چاہے سو کرے ، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔ فرمایا (آیت) ” سوآء منکم من اسر القول ومن جھر بہ “ جو کوئی تم میں سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کرتا ہے یا ظاہرا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے لیے سب برابر ہے ، وہ ظاہر اور باطن سب کو جانتا ہے وہ تو (آیت) ” علیم بذات الصدور “۔ ہے جو سینوں کے رازوں سے بھی واقف ہے ، فرمایا اللہ تعالیٰ کے لیے وہ بھی برابر ہے (آیت) ” ومن ھو مستخف باللیل “ جو رات کے وقت چھپنے والا ہے ۔ بعض لوگوں کا کاروبار رات کے وقت شروع ہوتا ہے چور اور بدکار لوگ اپنا کام رات کے وقت انجام دیتے ہیں تاکہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہ سکیں ، یہ رات کے وقت چھپنے والے لوگ ہیں (آیت) ” وسارب بالنھار “ اور دن کے وقت چلنے والے بھی اللہ کے ہاں برابر ہیں جو لوگ دن کے وقت کاروبار کرتے ہیں گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں ، وہ بھی اللہ کے علم میں ہیں ، گویا اس کی نظروں سے رات اور دن میں کوئی بھی غائب نہیں ، وہ سب کو جانتا ہے ، انسان کسی بھی حالت میں ہوں ، اللہ کے نزدیک برابر ہیں ، وہ ان پر نظر رکھتا ہے اور ان کا ضرور محاسبہ کریگا ، یہ اللہ تعالیٰ کی صفت اور خصوصیت ہے ۔ (اللہ کا حفاظتی نظام) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ “ ہر شخص کے لیے آگے بیچھے آنے والے مقرر ہیں ، اس کے آگے بھی اور پیچھے بھی ، اس سے مراد اللہ کے فرشتے ہیں جو اس نے ہر آدمی کے لیے بطور نگران مقرر کر رکھے ہیں ۔ (آیت) ” یحفظونہ من امر اللہ “۔ وہ اللہ کے حکم کے مطابق اس شخص کی حفاظت کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی دو طرح کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے ، ایک تو ہر شخص کے اعمال کی حفاظت کا کام ہے اور اس کے لیے اللہ نے کراما کاتبین دو فرشتے لگا رکھے ہیں ، دائیں طرف والا نیک اعمال لکھتا ہے اور بائیں طرف والا برے اعمال محفوظ کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ، سورة ق میں موجود ہے (آیت) ” مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید “۔ جو بھی کلمہ انسان کی زبان سے اچھا یا برا نکلتا ہے ، فرشتے فورا لکھ لیتے ہیں ، یہ فرشتے دن اور رات کے لیے الگ ہوتے ہیں ، دن کے فرشتے عصر کے وقت تبدیل ہوجاتے ہیں اور رات کے فرشتے صبح کی نماز کے وقت چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ دن کے فرشتے ڈیوٹی سنبھال لیتے ہیں ، اسی لیے عصر اور فجر کی دو نمازیں بڑی اہم ہیں کہ ان اوقات میں فرشتے ہر انسان کے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہیں ، بہرحال یہ سلسلہ انسان کے ساتھ عمر بھر قائم رہتا ہے ، پھر جب وہ فوت ہوجاتا ہے تو اس کا مکمل نامہ اعمال اس کے گلے میں لٹکا دیا جاتا ہے جو قیامت کے دن کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا ، اسی طرح گویا ہر انسان کی پوری زندی کا ریکارڈ محفوظ ہوجاتا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ہر عمل کو احاطہ تحریر میں لانے کے علاوہ ان کی شکل و صورت بھی بنائی جاتی ہے ، جب فرشتے بعض اعمال کی شکل بنانے سے عاجز آجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس عمل کو اسی طرح لکھ دو ، اس کی شکل و صورت میں خود بنا لوں گا ۔ انسان کے اعمال کے حفاظتی فرشتوں کے علاوہ ہر انسان کے ساتھ بعض ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اسے موذی جانوروں ، جنات اور شیاطین کے شر اور ہر قسم کے حوادثات سے محفوظ رکھتے ہیں یہ حفاظت اس وقت تک ہوتی رہتی ہے ، جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے ، پھر جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو حفاظت اٹھا لی جاتی ہے اور فورا کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک مکمل حفاظتی نظام قائم کر رکھا ہے جس کے ذریعے ہر شخص کی جان اور اس کے اعمال کی حفاظت کی جاتی ہے اور یہ فریضہ آگے پیچھے یعنی یکے بعد دیگرے آنے والے فرشتے انجام دیتے ہیں ۔ امام ابن جریر (رح) ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اور امام شاہ ولی اللہ (رح) نے کنانہ عددی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ ہر انسان کی حفاظت کے لیے کتنے فرشتے مقرر ہیں آپ نے فرمایا کہ دو فرشتے تو دائیں بائیں اعمال کی نگرانی کے لیے مقرر ہیں اور دو آگے پیچھے حفاظت کے لیے ہیں ، فو فرشتے ہر انسان کی آنکھوں پر مقرر ہیں اور دو ہونٹوں پر ایک فرشتہ منہ پر مقرر ہے کہ کوئی خطرناک چیز منہ پر نہ چلی جائے اور ایک فرشتہ پیشانی پر مقرر ہے اس طرح ہر انسان کے ساتھ کل دس فرشتے بنتے ہیں ، لیکن امام ابن جریر (رح) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ جو فرشتے اس کے اعمال اور اس کے جسم کی حفاظت کے لیے مقرر ہیں ان کی کل تعداد تین سو ساٹھ ہے واللہ اعلم “ یہ روایت ابو یعلی کے حوالے سے بیان کی جاتی ہے جس کے درجے کا کچھ علم نہیں ، بہرحال فرشتوں کی تعداد جو بھی ہو ، اعمال کے حفاظت کنندگان تو نص قرآنی سے ثابت ہیں اور انسان کے جسم کی حفاظت کرنے والوں سے متعلق ان احادیث سے پتہ چلتا ہے یہ سارا حفاظتی نظام اس لیے ہے تاکہ انسانی ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو ، اور پھر جب محاسبے کی منزل آئے گی تو انسان کا ہر قول فعل اور عمل بالکل محفوظ حالت میں پیش کردیا جائے گا ، اور کسی قسم کا اشتباہ نہیں رہنے دیا جائے گا ۔ (اجتماعی حالت کی تبدیلی) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان اللہ لایغیر ما بقوم “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں تبدیل کرتا کسی قوم کی حالت کو (آیت) ” حتی یغیروا ما بانفسھم “۔ یہاں تک کہ وہ تبدیل کریں اس چیز کو جو ان کے نفسوں میں ہے ، یہ سنت اللہ ہے کہ جب تک کوئی قوم خود اسباب مہیا نہیں کرتی ، اس کی حالت تبدیل نہیں کی جاتی ، اگر کسی قوم کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطا کی ہے تو وہ اس وقت تک نہیں چھینتی جب تک قوم اپنے عمل کے ذریعے اس کے چھن جانے کے حالات پیدا نہیں کردیتی ، اسی طرح جب کوئی قوم تکلیف میں ہوتی ہے اور وہ اچھائی چاہتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس قوم کو بہتری کی طرف نہیں لاتے جب تک قوم اپنے اعمال وکردار کے ذریعے ثابت نہیں کردیتی کہ وہ مطلوبہ بھلائی کی اہل بن چکی ہے ، گویا ہر قوم اور فرد کے نتائج اس کے مہیا کردہ اسباب پر مرتب ہوتے ہیں جو قوم خود تو بہتری کی کوشش نہیں کرتی ، ایسے اقدام نہیں کرتی جو اسے ترقی کی طرف لے جائیں تو پھر خالی دعاؤں سے تو اللہ تعالیٰ ان کی مراد پوری نہیں کرتا ، جب تک وہ خود اس کے لیے تگ ودو نہ کریں ۔ مسلمانوں کی اجتماعی حالت تاتاریوں کے زمانہ سے زوال پذیر ہے اور آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود یہ قوم کسی ٹھکانے پر لگتی نظر نہیں آتی اس وقت مسلمانوں کا پورا نظام بگڑ چکا ہے ، فواحش خواہشات اور خود غرضی کا دور دوراہ ہے جسے مسلمان ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ، ہر شخص آرام طلب ہوچکا ہے ، محنت سے جی چراتا ہے عباسیوں کو اسی آرام طلبی اور حب مال وجاہ نے تباہ کیا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں انفرادی طور پر تو بڑے اچھے لوگ بھی موجود ہیں اور ہمیشہ رہیں گے مگر ان کی اجتماعی حالت ٹھیک نہیں ہے ، صفین کے واقعہ تک اور پھر کچھ عرصہ بعد تک بھی مسلمان اجتماعی حیثیت سے قابل رشک تھے مگر بعد میں خود غرضی کی وجہ سے ان کی حالت کافروں سے بھی بدتر ہوگئی ہے پورے یورپ اور امریکہ میں کوئی بھکاری نظر نہیں آتا ، مگر ہمارے ایشائی ممالک میں ہر گلی کوچے اور بازار میں بھکاری آپ کا پیچھا کرتے ہیں ، انگریزوں میں فحاشی اور عیاشی ضرور ہے ، مگر بھکاری کوئی نہیں ، کیونکہ وہ ہر بیکار آدمی کو گزارہ الاؤنس دیتے ہیں مادی ترقی کا جذبہ بھی مسلمانوں کی نسبت کافروں میں بہت زیادہ ہے جاپانی اپنے ملک کی خاطر بم لے کر چمنیوں میں کود گئے وہ لوگ محنت کے عادی ہیں ، وقت کو ضائع نہیں کرتے جب کہ ان کے مقابلے میں مسلمان کھیل کود کے دلدادہ ہیں ، فضول رسومات ، لڑائی جھگڑا ، بداخلاقی مسلمانوں کے مشاگل ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ ذلت میں مبتلا اور اغیار کے دست نگر ہیں ، اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جب تک مسلمان خود اس حالت کو بدلنے کو کوشش نہیں کریں گے ، اللہ تعالیٰ بھی اس قبیح حالت کو تبدیل نہیں کرے گا ۔ فرمایا (آیت) ” واذا اراد اللہ بقوم سوء ا “۔ اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے اور اس کے لیے خود قوم ایسے اسباب پیدا کرلیتی ہے ، تو فرمایا (آیت) ” فلا مردلہ “ تو اس برائی کو پھر کوئی ٹال نہیں سکتا ، پھر وہ ذلت کے گڑھے میں ہی گرتے ہیں ، (آیت) ” وما لھم من دونہ من وال “۔ پھر ان کے لیے خدا تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار اور کا رساز بھی نہیں ہوتا ، وہ لاکھ شرکیہ عقائد کو اپنائیں ، غیر اللہ سے مدد مانگیں ، مگر ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوگی اور کوئی بھی ان کی مدد نہیں کرسکے گا ۔
Ayahs 13:12–14

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی اللہ تعالیٰ ہے جو دکھاتا ہے تمہیں بجلی خوف اور طمع کے لیے اور وہ اٹھاتا ہے بادل بوجھل ۔

وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ Open ayah 13:13 in the Quran reader

اور تسبیح پڑھتا ہے رعد اس کی تعریف کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے ، اور چھوڑتا ہے کڑک کو پس پہنچاتا ہے اس کے ساتھ جس کو چاہے ، اور یہ لوگ جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے معاملے میں حالانکہ وہ بہت سخت طاقت والا ہے ۔

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 13:14 in the Quran reader

اسی کی دعوت برحق ہے اور وہ جو لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا نہیں جواب دے سکتے ، وہ جو لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا ، نہیں جواب دے سکتے ، مگر جس طرح کوئی پھیلانے والا ہو اپنے ہاتھ کو پانی کی طرف تاکہ پہنچ جائے پانی اس کے منہ تک ، اور نہیں ہے وہ پہنچنے والا اس تک اور نہیں ہے پکار کافروں کی مگر گمراہی میں ۔

(ربط آیات) یہ آیات بھی پہلی آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں ، گذشتہ درس میں انسان کی پیدائش کے ضمن میں رحموں کا گھٹنا بڑھنا اور مدت حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان تھا ، اللہ کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے جس کے مطابق وہ تمام امور کے فیصلے کرتا ہے کوئی شخص کسی چیز کو چھپائے یا ظاہر کرے ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ رات کی تاریکی میں چھپنے والے اور دن کے وقت چلنے پھرنے والے ہر نفس سے واقف ہے ، اس نے انسان کی جان اور اعمال کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو یکے بعد دیگرے آکر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں پھر جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے ، انسان کی حفاظت ہوتی رہتی ہے ، گذشتہ درس میں ایک دستور الہی کا ذکر بھی کیا گیا فرمایا کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو بدلنے کے لیے تگ ودو نہ کرے ، اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب وہ کسی کو اسکی شامت اعمال کی وجہ سے ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا ، اور خدا کے سوا کسی کو کوئی کارساز اور مددگار نہیں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کا ارشاد ہے کہ گرفت آئیگی جس میں سارے کے سارے مبتلا ہوں گے ، (آیت) ” انھلک فینا صلحون “۔ تو کیا ہم ہلاک کردیے جائیں گے جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی موجود ہوں گے ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جب برائی زیادہ ہو جائیگی تو نیک وبد سب ہلاکت کا شکار ہوں گے ۔ حضور نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” ان الناس اذا راوظالما فلا یاخذوا یدیہ “۔ جب لوگ دیکھ رہے ہوں کہ ظالم ظلم کر رہا ہے اور پھر اس کے ہاتھ پکڑ کر ظلم کو نہ روکیں ، تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو سزا میں مبتلا کردے ، بعض روایات میں آتا ہے کہ ایسے لوگ دعائیں کریں گے مگر وہ مستجاب نہیں ہوں گی گویا عام برائی کے دور میں نیک وبدسب کے سب گرفتار بلا ہوں گے یہ الگ بات ہے کہ نیک لوگوں کو آخرت میں ان کی نیت کے مطابق نجات حاصل ہوجائے گی ۔ (خوف اور امید کا اتصال) اب آج کے درس میں بھی دلائل توحید ہی کا ذکر ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی یریکم البرق “۔ خدا کی ذات وہ ہے جو تم کو برق یعنی بجلی دکھلاتا ہے ، برق کا معنی چمکنا ہوتا ہے اور اسے بجلی پر محمول کیا جاتا ہے کیونکہ وہ چمکتی ہے ، فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں بجلی دکھاتا ہے ، (آیت) ” خوفا وطمعا “۔ خوف اور امید دلانے کے لیے ، جب بادل گرجتا ہے اور بجلی چمکتی ہے تو اس سے نقصان کا خوف بھی آتا ہے اور اس سے خوشحالی کی امید بھی ہوتی ہے کہ بارش برسے گی ، سبزیاں اناج اور پھل پیدا ہوں گے جس سے انسان اور جانور مستفید ہوں گے ، اللہ تعالیٰ انسانوں کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتا ہے کہ ایمان کا صحیح مقام خوف اور امید کے درمیان ہی ہے ، انسان نہ تو اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوجائے اور نہ ہی اس کی رحمت سے مایوس ہو ، ان دونوں کے اتصال میں ہی کامیابی ہے ۔ (گرج اور چمک) فرمایا وہی اللہ ہے جو تمہیں خوف اور طمع کے لیے بجلی دکھاتا ہے (آیت) ” وینشئی السحاب الثقال “۔ اور اٹھاتا ہے بادل جو بڑے بوجھل ہوتے ہیں یہ بادل پانی سے بھرپور ہوتے ہیں اور ہوائیں انہیں اس طرف لیے جاتی ہیں جہاں بارش برسانا مقصود ہوتا ہے ، بارش کی کمی یا زیادتی ‘ مفید یامضر اللہ تعالیٰ کے ارادے ، مشیت اور تصرف کے ساتھ ہوتی ہے ، گویا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہیں ، نیز فرمایا (آیت) ” ویسبح الرعد بحمدہ “۔ اور رعد فرشتہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتا ہے اس کی تعریف کے ساتھ (آیت) ” والملئکۃ من خیفتہ “۔ اور دوسرے فرشتے بھی خدا تعالیٰ کے خوف سے اس کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں ، رعد لغوی طور پر گرج کو بھی کہا جاتا ہے مگر اس مقام پر حضور ﷺ نے فرمایا (آیت) ” الرعد ملک مؤکل “۔ رعد ایک فرشتہ ہے ، جو بادلوں پر مقرر ہے ، اس کے ہاتھ میں کوڑا ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ بادلوں کو ہانکتا ہے ہے ، کوڑا مارنے سے چمک پیدا ہوتی ہے سائنسدان بھی یہی کہتے ہیں کہ بادلوں میں مثبت (POSITIVE) پازیٹو ، اور منفی (NEGATIVE) نیگٹیو ، عناصر ہوتے ہیں جن کے ٹکرانے سے آواز پیدا ہوتی ہے ۔ جب بجلی چمکتی ہے اور بادل گرجتے ہیں تو اس موقع کے لیے حضور ﷺ نے یہ دعا بھی سکھلائی 1 (ان کثیر ص 505 ، ج 2 وترمذی ص 498 وادب المفرد للبخاری ص 105 وعمل الیوم والیلۃ ص 121) ہے ۔ اللھم لا تقتلنا بغضبک ولا تھلکنا بعذابک وعافنا قبل ذلک سبحن من یسبح الرعد بحمدہ والملکۃ من خیفتہ “۔ اے اللہ ! اپنے غضب سے ہمیں قتل نہ کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک نہ کر اور اس سے پہلے ہمیں عافیت عطا فرما ، پاک ہے وہ ذات کہ رعد اس کی تسبیح بیان کرتا ہے اس کی تعریف کے ساتھ اور فرشتے بھی اس کے خوف سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ۔ فرمایا اللہ کی ذات وہ ہے (آیت) ” ویرسل الصواعق “۔ جو کڑک کو بھیجتا ہے ، جس کسی کو نقصان پہنچانا مطلوب ہوتا ہے تو اس پر بجلی بھیجی جاتی ہے جو اللہ کی منشاء کے مطابق تھوڑا یا زیادہ نقصان پہنچاتی ہے ، بعض اوقات یہ بجلی پہاڑوں ، درختوں یا جانوروں پر گرتی ہے تو اس کے حسب حال نقصان ہوتا ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بعض اوقات بجلی اس طرح پڑتی ہے کہ آدمی کے کپڑے اتار کردرخت کی شاخ پر رکھ دیتی ہے اور اس آدمی کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا ۔ (خدائی طاقت) بجلی تو بڑی طاقت والی چیز ہے اور ہر چیز کو جلا کر رکھ دیتی ہے اگر کوئی چیز اس کی زد میں آنے کے بعد بھی بچ جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کسی سپر طاقت کے مشیت ، ارادے اور حکم سے ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے ، جہاں کسی کو ہلاک کرنا ہوتا ہے ، بجلی ہلاک کردیتی ہے ، اور بچانا مقصود ہو تو بال بیکا نہیں ہوتا فرمایا (آیت) ” فیصیب بھا من یشآئ “ پس پہنچاتا ہے اسکے ساتھ جس کو چاہتا ہے ، نقصان اسی کا ہوتا ہے جس کے متعلق اللہ چاہتا ہے ، (آیت) ” وھم یجادلوں فی اللہ “ اور وہ لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑا کرتے ہیں طرح طرح کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وھو شدید المحال “۔ حالانکہ وہ بڑی سخت قوت والا ہے لفظ محال کے کئی معنی آتے ہیں مثلا عذاب دنیا ، گرفت کرنا ، اور قوت ، یہاں پر قوت اور طاقت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا ہے ، اس کے سامنے طاقتیں ہیچ ہیں ، یہ لفظ م کی زیر کے ساتھ محال بھی آتا ہے ، جس کا معنی ناممکن ہے اگر یہ میم کی پیش کے ساتھ محال ہو تو معنی ہوگا باطل ، جھوٹ یا خلاف واقعہ ، تاہم اس مقام پر محال ہے جس سے قوت اور طاقت مراد ہے ۔ بجلیاں ، گرج اور چمک اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مظاہر ہیں ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قیام مدینہ کے دوران قبیلہ عامر کے دو بڑے آدمی عام ابن طفیل اور اربد ابن ربیعہ حضور ﷺ کے قتل کے ارادہ بد سے آئے ، عامر نے اربد سے کہا کہ تم میرے ساتھ رہنا ، میں محمد ﷺ سے بات چیت کروں گا ، جب میں ان کو اس بات چیت میں الجھا دوں تو تم ان پر تلوار سے حملہ کردینا ، چناچہ دونوں ساتھی حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے ، عامر حضور ﷺ سے مخاطب ہوا کہ اے محمد ﷺ ! اگر میں آپ کا اتباع کرلوں تو آپ میرے لیے کیا حصہ رکھیں گے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم ایمان لے آؤ تو تمہیں بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جو دوسرے مسلمانوں کو حاصل ہیں اور تم پر بھی وہی ذمہ داریاں عاید ہوں گی ، جو دوسروں مسلمانوں پر عاید ہوتی ہیں ، عامر کہنے لگا ، کیا ایسا نہ کریں کہ دیہات میں میری حکومت ہو اور شہروں پر آپ حکومت کریں ، آپ نے فرمایا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے نیابت اور حکومت عطا کرتا ہے ، پھر عامر کہنے لگا کہ میں آپ سے کچھ اور ضروری بات کرنا چاہتا ہوں آپ ذرا اٹھ کر ادھر آئیں ، حضور ﷺ اٹھ کر ایک طرف آئے ، عامر کا دوسرا ساتھ اربد موقع کی تلاش میں تھا اس نے میان سے تلوار نکالنا چاہی ، مگر اس کا ہاتھ وہیں جام ہو کر رہ گیا اور وہ تلوار نکال نہ سکا ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپکو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے (آیت) ” واللہ یعصمک من الناس “۔ (المائدہ) اللہ تعالیٰ ہی آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا پھر یہ دونوں ساتھی واپس جا رہے تھے کہ اربد پر بغیر بادل کے بجلی گری اور وہ وہیں ہلاک ہوگیا ، عامر کو راستہ چلتے طاعون کی گلٹی نکلی ، راستے میں قبیلہ سلول کی عورت کا خیمہ تھا ، وہاں پناہ حاصل کی اپنی جہالت کی بنا پر گلٹی کو ٹٹول کر کہا غدۃ غدۃ البعیر یہ تو اونٹ کی گلٹی جیسی گلٹی ہے اور میں سلولیہ کے خیمے میں مر رہا ہوں ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ، وہ گھوڑے پر سوار ہوگیا اور تلوار سونت لی ، گھوڑے کو دوڑانا شروع کیا اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ اور ملک الموت کو گالیاں دینے لگا ، ملک الموت کو کہتا ہے کہ اگر میرے سامنے آجاؤ تو فورا تمہارا کام کر دوں ، پھر وہ گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے ہی ہلاک ہوگیا ، بہرحال یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قوت بہت شدید ہے ، لوگ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اس کی طاقت کو تسلیم نہیں کرتے جس کی وجہ سے کفر اور شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر ہلاک ہوتے ہیں لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کو تسلیم کریں ، اسی کی عبادت کریں اور اسی کو کار ساز اور متصرف سمجھیں ۔ (دعوت حق) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “۔ اس کی دعوت برحق ہے دعوت حق سے مراد وہ دعوت ہے جو ایمان اور توحید کی طرف دی جائے سب سے پہلے یہ دعوت حضور ﷺ نے اہم مکہ کو دی اور فرمایا ” قولو لا الہ الا اللہ “ لوگو ! کہہ دو ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اگر تم نے یہ بات تسلیم کرلی ، تفلحو “۔ تو فلاح پاجاؤ گے ۔ صرف اللہ کی عبادت ہی حق کی دعوت ہے اور اس کے برخلاف اغیار کی عبادت سراسر باطل ، کفر ، شرک ، تباہی اور بربادی ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ اپنی تمام حوائج و ضروریات میں اسی ایک اللہ کو پکارنا برحق ہے کیونکہ اس کے سوا نہ کوئی مشکل کشا ہے اور نہ حاجت روا نہ کسی کے ہاتھ میں شفا ہے اور نہ موت وحیات ، ترقی وتنزل ، خیر اور شر سب اسی کے ہاتھ میں ہے ، لہذا پکارنا بھی صرف اسی کو روا ہے فرمایا (آیت) ” والذین یدعون من دونہ “۔ جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں اغیار کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں فرمایا (آیت) ” لا یستجیبون لھم بشیئ “۔ وہ پکارنے والوں کو کوئی جواب نہیں دے سکتے ، اللہ کے سوا مافوق الاسباب کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا ، نہ کسی کی کوئی مشکل حل کرسکتا ہے ، جس طرح پکارنے والا مخلوق ہے ، اسی طرح جنات ، فرشتے ، پیغمبر ، اولیاء سب مخلوق ہیں ، قادر مطلق ، علیم کل ، اور مختار کل صرف اللہ کی ذات ہے ، وہی پکارنے کے لائق ذات ہے ، اس کے علاوہ دوسروں کو پکارنے والے کی مثال ایسی ہے (آیت) ” الا کباسط کفیہ الی المآء لیبلغ فاہ “۔ جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے تاکہ وہ اس کے منہ میں چلا جائے (آیت) ” وما ھو ببالغہ “۔ مگر وہ اس تک پہنچنے والا نہیں ہے ، مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص لاکھ آوازیں دے پانی کی طرف ہاتھ بھی بڑھائے اور چاہے کہ پانی خود بخود اس کے منہ میں چلا جائے ، فرمایا ایسا نہیں ہوگا جس طرح یہ ناممکن ہے اسی طرح غیر اللہ کو پکارنا بھی بےسود ہے ، اس کی حاجت کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ پانی کی طرف ہاتھ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پانی کو مٹھی میں پکڑنے کی کوشش کرے جس طرح پانی مٹھی میں بند نہیں ہوسکتا اسی طرح غیر اللہ سے حاجت روائی کا منتظر رہنا امر محال ہے ، تاہم پہلا معنی زیادہ راجح ہے ، بہرحال حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف ذات خداوندی سے ممکن ہے جو اس کی مستحق اور متصرف ہے فرمایا (آیت) ” وما دعآء الکفرین الا فی ضلل “۔ اور کافروں کی پکار گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہے مطلب یہ کہ غیر اللہ کو مافوق الاسباب پکارنا نری گمراہی ہے جن کو کچھ اختیار ہی نہیں ، ان کو پکارنا حماقت محض ہے ، قرآن کریم میں اس مضمون کو مختلف انداز سے بالوضاحت بیان کیا گیا ہے :
Ayahs 13:15–16

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩ Open ayah 13:15 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے خوشی سے یا ناخوشی سے ، اور ان کے سائے بھی صبح اور پچھلے پہر ۔

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ Open ayah 13:16 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے ، کون ہے جو رب سے آسمانوں کا اور زمین کا آپ کہہ دیجئے ، وہ اللہ ہی ہے ، آپ کہہ دیجئے (ان سے) کیا تم نے بنایا ہے ، اس کے سوا دوسروں کو کارساز ، جو نہیں مالک اپنے نفسوں کے لیے نفع کے اور نہ نقصان کے ، آپ کہہ دیجئے کیا برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا یا کیا برابر ہیں اندھیرے اور روشنی ، کیا ٹھہرائے ہیں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک کہ انہوں نے پیدا کیا ہے ، اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق کی طرح پس مشابہ ہوگئی ہے ان پر مخلوق آپ کہہ دیجئے ، اللہ ہی ہے پیدا کرنے والا ہر ایک چیز کا ، اور وہ اکیلا ہے اور سب کو دبا کر رکھنے والا ہے ۔

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں اللہ نے شرک اور مشرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان کیے تھے ، آج کی آیات میں بھی سابقہ مضمون کے تسلسل میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کی حقانیت ، وصداقت ، نبوت و رسالت اور قیامت کا ذکر ہی زیادہ تر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا پکارنا ہی برحق ہے ، جو لوگ دوسروں کو بھی پکارتے ہیں ، وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے ، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص دریا یا کنویں پر کھڑا ہو کر پکارے کہ پانی اس کے منہ میں خود بخود چلا جائے یا وہ پانی کو اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہے ، فرمایا جس طرح یہ دونوں چیزیں ممکن نہیں اسی طرح غیر اللہ کو مافوق الاسباب پکارنا بھی بےسود ہے ، وہ ان کو کسی بات کا جواب نہیں دے سکتے ۔ (ہر چیز سجدہ کرتی ہے ) سورة حج اور بعض دیگر سورتوں میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ انسانوں میں دو گروہ پائے جاتے ہیں ، ایک وہ جو اپنے اختیار اور ارادے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ، اور دوسرا گروہ وہ ہے جو اپنے اختیار اور ارادے سے توحید الہی کو نہیں مانتے اور ان پر عذاب الہی ثابت ہوچکا ہے ، اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ انسانوں کے علاوہ باقی تمام چیزیں بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہیں ۔ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض “۔ اور اللہ ہی کے لیے سجدہ ریز ہوتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے آسمانی مخلوق اللہ کے فرشتے ہیں اور فضا میں دوسری چیزیں بھی ہیں ، اسی طرح زمین پر مختلف قسم کی چیزیں ہیں جن میں انسان ، جانور ، درخت ، پہاڑ وغیرہ ہیں ، یہ سب اپنے پروردگار کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں (آیت) ” طوعا وکرھا “۔ خوشی سے یا ناخوشی سے ، خوشی سے مراد یہ ہے کہ اپنے اختیار اور ارادے سے سجدہ کرتے ہیں جو ایماندار ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچان کر بخوشی اسکے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور جو نافرمان مشرک اور کافر ہیں وہ اپنی خوشی سے نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانتے ہیں اور نہ اسکے سامنے سجدہ کرتے ہیں ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے تکوینی اصول کے مطابق سجدہ کرنے پر مجبور ہیں ، اگر وہ خود نہیں جھکتے تو ان کا سایہ تو بہرحال صبح وشام اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے ، یہ ناخوشی کا سجدہ ہے ، اسی طرح انسان موت کے قانون میں بھی جکڑا ہوا ہے ، اگرچہ وہ اس پر ناخوش ہے ، مگر موت ہر صورت میں آکر رہے گی ، تو فرمایا اللہ کے لیے ہر چیز سجدہ ریز ہوتی ہے خوشی سے یا مجبور سے ۔ سجدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور نیاز مندی کا نام ہے اور یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس وقت ابن آدم کو سجدے کا حکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا (آیت) ” فلہ جنۃ “ پس اس کے بدلے میں اسے جنت ملے گی ، مگر افسوس ہے میری حالت پر کہ مجھے سجدے کا حکم دیا گیا ، تو میں نے سجدہ نہ کیا ” فلی نار “ پس میرے لیے دوزخ ہے ، محدثین فرماتے ہیں کہ شیطان کا واویلا کرنا بربنائے حسد ہے ، وگرنہ وہ اس طرح نادم نہیں ہوتا جس طرح کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف کرکے تائب ہوجاتا ہے ۔ بہرحال انسان کے لیے وہی سجدہ کارگر ہوگا ، جو اس نے اپنے ارادے اور اختیار سے کیا ہوگا ۔ اور جو کوئی مجبورا سجدہ ریز ہوگا ۔ جیسے سایہ کا سجدہ ، یا اللہ کے تکوینی اصولوں کے مطابق غیرارادی سجدہ ہرگز مفید نہیں ہوگا ۔ فرمایا (آیت) ” وظللھم بالغدو والاصال “۔ اور ان کے سائے بھی سجدہ ریز ہوتے ہیں صبح بھی اور پچھلے پہر کو بھی ، جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اگر انسان اللہ کو سجدہ نہ بھی کرے اور اکٹر جائے تو اس کا سایہ تو بہرحال زمین پر ہی سجدہ ریز ہوتا ہے ، اس مضمون کو سورة نحل میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” اولم یروا الی ما خلق اللہ من شیء یتفیؤ ظللہ عن الیمین والشمآئل سجدا للہ وھم دخرون “۔ کیا ان لوگوں نے مخلوق خدا میں ایسی چیزیں نہیں دیکھیں ، جن کے سائے دائیں اور بائیں سے لوٹتے رہتے ہیں اور خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدے میں پڑے رہتے ہیں ، اگلی آیت میں یہ بھی فرمایا کہ تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشے بھی ، اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے ۔ یہاں پر صبح کے وقت کو مفرد استعمال کیا گیا ہے اور پچھلے پہر کو جمع اگلی آیت میں بھی نور کو واحد اور ظلمت کو جمع کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے گویا صبح کو روشنی سے اور پچھلے پہر کو اندھیرے سے تعبیر کیا گیا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ روشنی ایک ہی ہے اور اندھیرے بہت سے ہیں ، نور ایمان ایک روشنی ہے جب کہ اندھیرے مختلف ہیں جیسے روحانی اندھیرے اور مادی اندھیرے ، اندھیرا کفر کا بھی ہوتا ہے ، اور شرک کا بھی ، نفاق کا اندھیرا بھی ہے اور ریاکاری کا بھی ، اندھیرا قبر کا بھی ہوگا اور پل صراط کا بھی اور پھر انسان کے دل و دماغ میں بھی اندھیرے ہوتے ہیں ۔ حدیث شریف میں 1 (بخاری ص 331 ج 1) ” الظلم ظلمت یوم القیمۃ “ قیامت والے دن اندھیرا کئی قسم کی شکلوں میں نظر آئے گا ۔ (سجدہ تلاوت) قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ ان مقامات میں سے ہے جن کو پڑھنے سے سجدہ لازم آتا ہے ، اسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں اور یہ قرآن کریم کے چودہ مقامات پر آتا ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ سجدہ واجب ہے جب کہ امام مالک (رح) کے نزدیک گیارہ سجدے واجب ہیں جب کہ باقی تین غیر مؤکدہ ہیں ، البتہ باقی ائمہ اور محدثین سجدہ تلاوت کو سنت کا درجہ دیتے ہیں ، واجب نہیں سمجھتے ، آیت سجدہ کو پڑھنے اور سننے والے سب پر سجدہ واجب ہوجاتا ہے ، ان آیات میں یا تو سجدہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے یا سجدے کا حکم دیا گیا ہے اور یا سجدہ نہ کرنے والوں کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے ، لہذا امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک زیادہ قومی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سجدہ واجب ہے ۔ جس وقت آیت سجدہ تلاوت کی جائے تو وہ پڑھنے والا ہے یا سننے والا اگر سجدہ کی شرائط پوری کرتا ہے تو فورا سجدہ کرلے اور اگر اس کے لیے تیار نہیں تو بعد میں جب بھی موقع ملے ، سجدہ کرے ، حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مجلس میں سورة نجم کی آخری آیت تلاوت فرمائی اور اسی مجلس میں سجدہ کیا ، آپ کے ساتھ تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ ادا کیا ، اس کے علاوہ کچھ کافر اور مشرک بھی مجلس میں موجود تھے وہ بھی سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے ، صرف ایک بوڑھا کافر ایسا تھا جس نے سجدہ تو نہ کیا ، البتہ تھوڑی سی مٹی لے کر اپنی پیشانی پر لگالی یہ شخص ابی ابن خلف ابن خلف تھا ، حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو بدر کی جنگ میں بحالت کفر مرتے ہوئے دیکھا ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے یہ نکتہ اٹھایا ہے ۔ 2 (حجۃ اللہ البالغہ ص 14 ج 2) کہ حضور ﷺ نے تو حکم الہی کے مطابق سجدہ کیا اور مسلمانوں نے آپ کے اتباع میں ایسا کیا ، مگر مشرکوں نے کیسے سجدہ کردیا ؟ اس کے جواب میں شاہ صاحب ؓ فرماتے ہیں کہ جس وقت حضور ﷺ تلاوت فرما رہے تھے اس وقت خدا تعالیٰ کی قہری تجلی نازل ہو رہی تھی جس کی وجہ سے کافر اور مشرک بھی سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ (مسائل سجدہ تلاوت) سجدہ تلاوت کے لیے بھی وہی شرائط ہیں جو نماز کے سجدہ کے لیے ہیں یعنی انسان باطہارت ہو ، اس کے کپڑے اور جسم پاک ہو اور وہ قبلہ روہ ہو کر سجدہ کرے ، اس سجدہ کی دو تکبیریں ہوتی ہیں ، اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ میں جائے ، تسبیح پڑھے اور پھر اکبر کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہو ، اس میں رفع یدین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کوئی آدمی کسی ایک مجلس میں متعدد بار بھی آیت سجدہ پڑے گا ، یا سنے گا تو سجدہ ایک ہی واجب ہوگا ، البتہ اگر مقام تبدیل ہوجائے تو ہر مقام پر پڑھنے یا سننے پر ایک سجدہ لازم آئے گا ، جیسا کہ پہلے عرض کیا نماز کی طرح سجدہ تلاوت کے لیے بھی باوضو ہونا ضروری ہے مگر مولانا مودودی کا یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ سجدہ تلاوت بغیر وضوء کے بھی ہوسکتا ہے۔ ایک ضروری مسئلہ یہ بھی ہے کہ سجدہ تلاوت صرف اس وقت لازم آئے گا ، جب قرآن پاک کے اصل الفاظ پڑھے یا سنے گا ، اگر کوئی شخص آیت سجدہ کا محض ترجمہ پڑھے یا سنے گا تو اس پر سجدہ واجب نہیں ہوگا سورة مزمل میں (آیت) ” فاقرء وا ماتیسر من القران “ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ قرآن کو اس کے الفاظ میں پڑھنا ضروری ہے اسی لیے نماز میں بھی اصل قرآن پڑھنا ضروری ہے کی دوسری زبان میں محض ترجمہ پڑھنے سے نماز ادا نہیں ہوگی ۔ البتہ بعض مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ سجدہ تلاوت کے لیے مجلس میں موجود آدمی کا آیت سجدہ پڑھنا ضروری ہے ، اگر کسی نے گرامو فون ، ٹیپ ریکارڈر ، ریڈیو یا ٹیلیوثرن پر سجدہ کی آیت سنی ہے تو اس پر سجدہ نہیں آئے گا ، مگر صحیح بات یہی ہے کہ اگر الفاظ قرآن کسی انسان نے پڑھے ہیں اور وہی سننے میں بھی آئے تو ذریعہ سماعت کوئی بھی ہو ، اس پر سجدہ کرلینا ہی بہتر ہے ۔ (آسمان و زمین کا رب) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل من رب السموت والارض “۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ کون ہے رب آسمان کا اور زمین کا ، رب کا معنی پرورش کرنے والا ہے ، عربی میں اس کو کہتے ہیں تربیۃ الشیء حالا فحالا “ یعنی کسی چیز کو بتدریج حدکمال تک پہنچایا ، انسان حیوان یا پودا کوئی بھی ہو اسے حد کمال تک پہنچنے کے لیے ایک زمانہ صرف ہوتا ہے ، اور یہ کام آہستہ آہستہ کون کرتا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” قل اللہ “ اے پیغمبر ! آپ اس کا جواب یہ دیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کی تربیت کرکے اسے حد کمال تک پہنچاتا ہے ، اور اگر حقیقت یہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں تو (آیت) ” قل افاتخذتم من دونہ اولیاء “۔ آپ کہہ دیجئے ، کیا تم نے اس کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ جب پرورش کرنے والا اور حد کمال تک پہنچانے والا فقط اللہ ہے تو تم مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لیے دوسروں کے آگے دست سوال کیوں دراز کرتے ہو ؟ آگے خلق کی دلیل بھی آرہی ہے کہ اللہ کے سوا خالق بھی کوئی نہیں اور کار ساز بھی کوئی نہیں تو پھر اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ، مافوق الاسباب اسی کو پکارو اور اسی سے حاجت روائی کے لیے درخواست کرو ، یہ شرک کی تردید ہو رہی ہے فرمایا اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارو گے ، انکی حد درجہ تعظیم کرو گے ، ان کے نام کی نذر ونیاز دو گے تو یاد رکھو کہ وہ تمہاری حاجت براری کیا کریں گے (آیت) ” لایملکون لانفسھم نفعا ولا ضرا “۔ وہ تو اپنی جان کے نفع ونقصان کے مالک بھی نہیں ہیں ۔ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے (آیت) ” قل انی لا املک لکم ضرا ولا رشدا “۔ (الجن) آپ کہہ دیں کہ میں تمہارے کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں ، اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں اپنے نبی (علیہ السلام) سے یہ بھی فرمایا ہے (آیت) ” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا الا ما شآء اللہ “۔ آپ کہہ دیں کہ میں تو اپنی جان کے لیے بھی کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے النافع اور الضار اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور وہی اس کا مالک ہے اس کے سوا کسی کے نفع نقصان پر کوئی قادر نہیں ۔ (مشرک اور موحد کا تقابل) ارشاد ہوتا ہے ” قل ھل یستوی الاعمی والبصیر “۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کیا برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا ؟ (آیت) ” ام ھل تستوی الظلمت والنور “۔ یا کیا برابر ہیں اندھیرے اور روشنی ، کوئی عقلمند آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ بینا اور نابینا برابر ہیں یا روشنی اور اندھیرا برابر ہیں ، یہ دراصل مشرک اور موحد کی مثال ہے مشرک دل کا اندھا ہے جسے توحید کی روشنی نظر نہیں آتی اور وہ شرک کی نجاست میں ہی پڑا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” انما المشرکون نجس “۔ (التوبہ) بیشک مشرک ناپاک ہیں ، سورة حج میں ہے (آیت) ” فاجتنبوالرجس من الاوثان “۔ بت پرستی کی گندگی اور نجاست سے بچو ، قلبی طہارت تو نور ایمان سے حاصل ہوتی ہے اور دین کی سمجھ آتی ہے اور مستقبل کے بارے میں بھی عقیدہ پاک ہوجاتا ہے تو فرمایا نہ تو اندھا اور بینا برابر ہیں اور نہ ہی اندھیرے اور روشنی ، لہذا مشرک اور مؤحد بھی برابر نہیں ہو سکتے ، مشرک کی بخشش کا کوئی جانس نہیں جبکہ موحد اللہ کی ابدی رحمت میں ہوگا ۔ (شرک کی تردید) آگے اللہ نے شرک کی تردید ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے ۔ (آیت) ” ام جعلوا للہ شرکاء “ کیا انہوں نے اللہ کے لیے شریک ٹھہرا لیے (آیت) ” خلقوا کخلقہ “۔ اور ان شرکاء نے بھی اسی طرح مخلوق پیدا کی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ہے (آیت) ” فتشابہ الخلق علیھم “ اور اس پیدائش کا ان پر شبہ پڑگیا ، یعنی پتہ ہی نہیں چلتا کہ خدا کی مخلوق کون سی ہے اور شرکاء کی کون سی ہے ، فرمایا ایسی کوئی بات نہیں ہے ، ان شرکاء نے کسی مخلوق کو پیدا نہیں کیا ، بلکہ (آیت) ” قل اللہ خالق کل شیء “۔ آپ کہہ دیں کہ ہر چیز کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہے اور باقی سب مخلوق ہے مخلوق میں نہ تو ربوبیت کا کرشمہ مانا جاتا ہے اور نہ وہ کارساز بن سکتی ہے ، مشرکین کا دوسروں کو کارساز بنانا تو خلاف واقعہ اور صریح شرک ہے قرآن کریم میں دوسری جگہ موجود ہے (آیت) ” ارونی ماذا خلقوا من الارض “ (فاطر) مجھے دکھاؤ تو سہی تمہارے شرکاء نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ، کوئی انسان ، جانور ، پہاڑ ‘ درخت ، اناج کیڑے مکوڑے حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کا پیدا کردہ ہے اور ان میں کسی شریک کیا کوئی حصہ نہیں ۔ بعض مشرکین ایک کے بجائے کئی کئی خدا تسلیم کرتے ہیں ، مثلا ہندوؤں کے نزدیک پیدا کرنے برہما جی مہاراج ہے ، جب کہ قائم کرنیوالا وشنو جی مہاراج اور فنا کرنے والا شیوجی مہاراج ہے ۔ ادھر عیسائیوں نے بھی باپ بیٹا اور روح القدس میں تین خدا تسلیم کرلیے ہیں ، مجوسیوں نے اہرمن اور یزدان دو خداؤں کو مانا مگر اللہ نے فرمایا کہ خدا نہ دو ہیں نہ تین اور نہ زیادہ بلکہ (آیت) ” وھو الواحدالقھار “۔ وہ اکیلا اور ہر چیز کو دبا کر رکھنے والا ہے ، (آیت) ” الحی القیوم “ یعنی زندہ اور تھامنے والا بھی وہی ہے (آیت) ” یحی ویمیت “۔ یعنی زندہ کرنے والا اور مارنے والا بھی وہی ہے (آیت) ” الا لہ الخلق والامر “۔ تمام پیدائش بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے اور جو خالق ہے الہ بھی وہی ہے وہ قادر مطلق اور علیم کل ہے ، وہ ہمہ بین ، ہمہ دان اور ہمہ تو ان ہے ، حاجت روا اور مشکل کشا ہے ، جو کوئی یہ صفات غیر اللہ میں مانے گا وہ مشرک ٹھہرے گا ، غرضیکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی جڑ کاٹ دی ہے ۔ فرمایا وہ اکیلا بھی ہے اور قہار بھی ہے ، اس کی یگانگت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کا وجود ذاتی ہے اور کسی کا عطا کردہ نہیں جب باقی تمام اشیاء اس کی عطاکردہ ہیں ، جب ہر چیز اسی کی عطاکردہ ہے تو ہر چیز پر کنٹرول بھی اسی کا ہے (آیت) ” ھو القاھر فوق عبادہ “ (الانعام) قہر کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو دبا کر رکھنا اس کے دباؤ سے کوئی چیز باہر نہیں ، وہم مہلت بھی دیتا ہے مگر جب چاہتا ہے رسی کھینچ لیتا ہے ، اس کے تسلط سے کوئی چیز باہر نہیں ، لہذا انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اختیار اور ارادے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کریں اور اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوں ، اسی کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھیں اور اپنی حاجات میں اسی کے سامنے درست سوال دراز کریں ۔