Ayahs 13:36–37(ربط آیات)
مکی سورتوں میں زیادہ تر بنیادی حقائق کا ذکر ہے اور جزئیات کم ہیں ، اس سورة میں عقیدے کی اصلاح کا پہلو نمایاں ہے ، ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ۔ درمیان میں کافروں اور مشرکوں کی مذمت بیان ہوئی ، ان کے اوصاف اور ان کا انجام ذکر کیا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اور نیکی والے لوگوں کا تذکرہ ہوا ، ان کے اوصاف اور انکا انجام بھی بیان ہوا تیسرے رکوع میں یہ آیت کریمہ گزر چکی ہے ۔ (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی “۔ بھلا وہ شخص جو جانتا ہے کہ آپ کی طرف آپ کے رب سے حق نازل کیا گیا ہے وہ اندھے آدمی کی طرح ہو سکتا ہے ؟ بیشک عقلمند لوگ ہی نصیحت پکڑتے ہیں ، یہ بات اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کے حق میں بیان فرمائی گویا قرآن کریم کو منزل من اللہ تسلیم کرنے والا شخص نور ہدایت پر ہوگا اور اسے نہ تسلیم کرنے والا اندھے کے موافق ہوگا جو نور ایمان اور نور ہدایت سے خالی ہے ۔
(تنزیل کتاب پر خوشی)
اب آج کی آیت میں قرآن پاک سے متعلق ہی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والذین اتینھم الکتب “۔ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے (آیت) ” یفرحون بما انزل الیک “۔ وہ خوش ہوتے ہیں اس چیز پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے ، یہاں پر کتاب سے مراد خود قرآن حکیم بھی ہو سکتا ہے اور پہلی کتب سماویہ ‘ تورات ، انجیل ، وغیرہ بھی ہوسکتی ہیں ، اگر اس کا اطلاق قرآن مجید پر کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ تنزیل کتاب پر حاملین قرآن خوش ہوتے ہیں اور یہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی امت کے لوگ ہیں ان لوگوں کا خوش ہونا فطری امر ہے کہ انہیں قرآن پاک کی صورت میں دین ودنیا کی فلاح کی چابی حاصل ہوگئی ہے ، سورة یونس میں موجود ہے اللہ نے فرمایا اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے موعظت (آیت) ” وشفآء لما فی الصدور “۔ اور وہ چیز آگئی ہے جو دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے آگے فرمایا ، اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ تمہیں یہ چیز اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے حاصل ہوئی ہے (آیت) ” فبذلک فلیفرحوا “ پس اس کے ساتھ خوش ہوجاؤ (آیت) ” ھو خیرمما یجمعون “۔ یہ بہتر ہے اس چیز سے جو یہ دنیا کا مال اکٹھا کرتے ہیں ، مال و دولت تو فانی چیز ہے جب کہ قرآن حکیم باقی رہنے والی چیز ہے ، لہذا اس پر خوشی منانا اہل ایمان کے لیے قدرتی بات ہے ۔
(اہل کتاب کا کردار)
اور اگر کتاب سے تورات اور انجیل مراد ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ جن لوگوں کو اللہ نے پہلی کتابوں کا علم عطا فرمایا ہے وہ بھی خوش ہوتے ہیں ، نزول قرآن کے زمانے میں جتنی بھی سابقہ کتب موجود تھیں وہ سب کی سب بگڑ چکی تھیں ، خود ان کتابوں کے ماننے والوں نے اپنی خواہشات کی خاطر کتابوں میں ردوبدل کردیا تھا ، زرتشتیوں کی کتاب کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا تھا ، باقی صحائف کا بھی بہت برا حال ہوچکا تھا ، البتہ تورات اور انجیل ایسی کتابیں تھیں جن کا بیشتر حصہ اگرچہ تحریف ہوچکا تھا ، تاہم کچھ نہ کچھ اصلیت بھی باقی تھی اور ان کے ماننے والے یہود ونصاری بھی موجود تھے ، خود عیسائی علماء کا بیان ہے کہ گذشتہ صدی تک انجیل میں تین ہزار کے قریب تبدیلیاں آچکی تھیں ، بائیل کے ہر نئے ایڈیشن میں کوئی نہ کوئی نئی تبدیلی آتی ہے ، ابھی پچھلی صدی تک اس میں لفظ فارقلیط موجود تھا ، سریانی زبان کے اس لفظ کا عربی معنی احمد بنتا ہے ، جس کا مطلب ستودہ جہان ہے ، مگر موجودہ انجیل سے یہ لفظ حذف کرکے شفیع اور مددگار کا لفظ شامل کردیا گیا ہے ، اس کی تصدیق قرآن پاک نے بھی کی ہے ، سورة صف میں موجود ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اپنے سے پہلی کتاب تورات کا مصدق ہوں (آیت) ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “۔ اور میں خوشخبری دینے والا ہوں ایک عظیم الشان رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ نے میرے ذمہ دو فرائض لگانے ہیں ، ایک یہ ہے کہ میں تمام بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لیے بھیجا گیا ہوں اور دوسرا یہ کہ میں اپنے بعد والے نبی کی بشارت سنانے کے لیے آیا ہوں ۔
(حق پرست اہل کتاب)
جس طرح تورات وانجیل کا کچھ نہ کچھ حصہ خود اس کے اپنے پیروکاروں کی دست برد سے ابھی تک محفوظ ہے ، اسی طرح اہل کتاب میں سے کچھ نہ کچھ حق پرست بھی ہر زمانے میں موجود رہے ہیں اگرچہ ان کی غالب اکثریت ہمیشہ ضد اور عناد پر ہی اڑی رہی ہے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں مدینہ کے گرد و نواح میں یہودیوں کے دس بڑے بڑے عالم تھے ،
حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ دس آدمی اسلام قبول کرلیں تو آئندہ کوئی یہودی نظر نہیں آئے گا ، مگر ہوا یہ کہ ان دس میں سے صرف ایک شخص عبداللہ بن سلام ؓ کو اللہ نے ایمان کی توفیق بخشی ، باقی سب جانتے بوجھتے ضد پر اڑے رہے اور اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے سورة بقرہ میں اللہ نے ان کو خبردار کیا (آیت) ” ولا تکونوا اول کافر بہ “۔ کہ قرآن کے ساتھ سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بن جانا ، اگر تم نے قرآن کے ساتھ کفر کیا ، تو تمہارے بعد آنے والی نسلیں بھی تمہارے نقش قدم پر چلتے ہوئے انکار ہی کرتی چلی جائیں گی چناچہ ایسا ہی ہوا ، اولین اہل کتاب نے انکار کیا تو آج منکرین کی تعداد اربوں میں ہے ، آج دنیا میں اڑھائی ارب عیسائی موجود ہیں جو چودہ سو سال سے قرآن پاک کی متواتر مخالفت کرتے آرہے ہیں ، یہودی اگرچہ تعداد میں بہت کم یعنی دو کروڑ کے قریب ہوں گے ، مگر اسلام کو نقصان پہنچانے میں انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ان کے بڑوں نے قرآن کا انکار کیا ، اسلام کو قبول نہ کیا ، تو آج ان کی اولادیں بھی اسی روشن پر چل رہی ہیں مگر جیسا کہ سورة آل عمران میں موجود ہے (آیت) ” لیسوا سوآئ “ سب کے سب برابر نہیں ، مشہور مقولہ ہے کہ پانچوں انگلیاں ایک سی نہیں ہوتیں ، یہود ونصاری میں سے بھی بعض حق پرست ہمیشہ موجود رہے ہیں ، حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی بعض سعادت مند اہل کتاب موجود تھے جنہوں نے بالآکر ایمان قبول کرلیا ، عالموں میں سے عبداللہ بن سلام ؓ اور بعض دوسرے منصف مزاج لوگ ہیں ، بادشاہوں میں نجاشی والی حبشہ کا نام آتا ہے ، اس کے علاوہ 32 دیگر حق طلب عیسائی بھی موجود تھے ، اللہ نے ان کی تعریف بیان کی ہے نجران کے چالیس آدمیوں نے بھی ایمان قبول کیا ، تمیم داری ؓ کا مذہب بھی عیسائیت تھا ، بعد میں ایمان قبول کرلیا ، سلمان فارسی ؓ کا نام بھی اسی فہرست میں آتا ہے ، ایسے لوگ پہلے کتاب کا علم رکھتے تھے اور حق کے طالب تھے ، تو اللہ نے ان کو ہدایت نصیب فرمائی ، ایسے ہی لوگوں کے متعلق ارشاد ہے کہ وہ نزول قرآن پر خوش ہوتے ہیں ، ان کی خوشی کی وجہ یہ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ قرآن کریم پہلی کتابوں کا مصدق ہے ، ان میں پیدا کی گئی خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے ، بنیادی حقائق کی تصدیق کرتا ہے اور سارے نبیوں پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ۔
اس زمانے میں بھی کہیں نہ کہیں حق پرست نکل آتے ہیں فرانس کے ایک بڑے سائنسدان نے اسلام قبول کیا ، یہ شخص الجزائریوں سے میل جول کے نتیجے میں مسلمان ہوا ، ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں مسٹر کو یلم بہت بڑا بیرسٹر تھا ، وہ اپنے خاندان کے اسی افراد سمیت مسلمان ہوا ، اس وقت دنیا میں انگریز انتہائی عروج پر تھا ، انہوں نے اس کے ساتھ بڑے جھگڑے کئے مگر وہ تنہا مقابلہ کرتا رہا ۔ اور ایمان پر قائم رہا ، یہودیوں میں سے جرمنی کے رہنے والے محمد اسد کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی ، وہ ابھی زندہ ہے ، محمد پکھتال مترجم قرآن ہے یہ شخص ترکوں کے آخری شیخ الاسلام کی مجلس میں سات سال تک بیٹھا رہا ، آخر اللہ نے کایا پلٹ دی اور وہ مسلمان ہوگیا ، ان کا ترجمہ ہم پڑھتے ہیں ، اس نے ترجمہ مکمل کرکے مصری علماء کے سامنے پیش کیا تاکہ اگر کوئی غلطی ہو تو دور ہو سکے اور اب یہ انگریزی ترجمہ ساری دنیا میں شائع ہو رہا ہے ، یہ شخص کچھ عرصہ تک ہندوستان کے صوبہ مدارس میں بھی رہا ، نواب حیدر آباد کے ہاں بھی رہا ، انگریزی اخبار کے ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا ، اب فوت ہوچکا ہے ، اہل کتاب کے علاوہ ہندوؤں ، سکھوں ، بدھوں اور جینیوں میں سے بھی بعض حق پرست ہوئے مگر کوئی اکا دکا ، یہود ونصاری کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر فرمایا ہے کہ ان میں سے کچھ مومن ہیں (آیت) ” واکثرھم الفسقون “۔ (آل عمران) مگر ان کی اکثریت فاسق ہے ۔
(قرآن کا عملی انکار)
فرمایا جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ خوش ہوتے ہیں اس چیز پر جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے (آیت) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “۔ اور فرقوں میں سے بعض وہ ہیں جو اس کے بعض حصے کا انکار کرتے ہیں ، قرآن پاک کے موافقین اور مخالفین عربوں میں بھی تھے اور یہود ونصاری میں بھی ، آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ قرآن پاک کی بہت سی باتوں کا عملی طور پر انکار کر رہے ہیں جب انگریز نے برصغیر میں عنان حکومت سنبھالی تو اس نے لوگوں سے دریافت کیا تھا کہ تم شریعت کا قانون چاہتے ہو یا رسم و رواج پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہو ، اس طرح بعض اضلاع کے لوگوں نے رسم و رواج کو شریعت پر ترجیح دی اور ان کے معاملات شریعت کی بجائے رسم و رواج کی بنیاد پر فیصلہ ہونے لگے ، ظاہر ہے کہ ان کو شرعی قانون اس لیے ناپسند تھا کہ وہ ان کی ذاتی خواہشات کے راستے میں حائل تھا ، ایسے ہی لوگ ہیں جو قرآن کے بعض حصے کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ دنیا میں ان کو ذلت ہوگی اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے ، جب تک قرآن پاک پر مکمل طور پر عمل نہیں ہوگا ، اس وقت تک مسلمانوں کو اس دنیا میں عزت نصیب نہیں ہو سکتی ۔
(شرک سے برات)
آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو خطاب کیا ہے قل آپ کہہ دیں (آیت) ” انما امرت ان اعبداللہ “۔ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں (آیت) ” ولا اشرک بہ “۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں ، مشرکین مکہ کہتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کی برا بھلا کہتا ہے ، اللہ نے فرمایا کہ آپ صاف کہہ دیں کہ یہ بےجان بت نے معنی ہیں میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں کسی دوسرے کو الہ تسلیم نہیں کرسکتا ۔
عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کو کہا جاتا ہے جو اس عقیدے سے اٹھے کہ جس ہستی کی عبادت کر رہا ہوں ، اس کو مافوق الاسباب تمام اشیاء پر کنٹرول حاصل ہے ، وہ علیم کل ، خالق اور مدبر ہے ، اس ذات کی تعظیم قول سے بھی ہوتی ہے ، فعل سے بھی اور عمل سے بھی ، چناچہ سورة انعام میں اللہ نے شرک کی تمام اقسام کی مذمت بیان کی ہے ، سورة کی ابتداء ہی ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں ، جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے (آیت) ” وجعل الظلمت والنور “۔ نیز اندھیروں اور روشنی کو بھی پیدا فرمایا ، یہ ان ثنوی فرقہ والوں کی تردید ہے ، جو اندھیروں اور روشنی کا علیحدہ علیحدہ خالق تسلیم کرتے ہیں ، ان کے نزدیک نیکی اور بدی کے خدا جدا جدا ہیں ، یزدان اور اہرمن دو خدا تسلیم کرنا خدا کی ذات میں شرک کرنا ہے ، اسی طرح خدا کی صفات میں شرک کرنے والے بھی بہت لوگ ہیں ، جو خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ ہیں دوسروں کو بھی شریک کرتے ہیں ، ایسے لوگ علیم کل ، قادر مطلق حاضر ناظر ، اور مختار مطلق غیر اللہ کو بھی مانتے ہیں ، وہ خدا کے ساتھ دوسروں کو بھی مدبر مانتے ہیں ، سمجھتے ہیں کہ فلاں بھی ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی ، کرسکتا ہے یا کم از کم ہماری سفارش ہی کرسکتا ہے ، ۔
نذر ونیاز میں شرک ، قبر پرستی ، چڑھاوے چڑھانا اور روشنی کرنا سب اسی قبیل سے ہیں کبھی گنڈے تعویز کے ذریعے غیر اللہ سے مدد مانگی جاتی ہے کبھی مکان کی بنیادوں میں خون گرایا جاتا ہے تاکہ جنات سے پناہ حاصل کی جائے ، بسوں پر ” یا علی مدد “ اور یا غوث الاعظم “ کے کتبے لکھے جاتے ہیں ، کبھی جبرائیل اور میکائیل کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے اور کبھی اولیاء اللہ سے حاجت روائی کی امید رکھی جاتی ہے یہ سب شرک کی مختلف صورتیں ہیں جو آج بھی مسلمانوں میں رائج ہیں اللہ کے سارے نبی اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے آئے ہیں ۔ (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالک من الہ غیرہ “۔ (ہود) اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے بھی یہی کہلوایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ۔
(دعوت الی اللہ)
فرمایا ، اے پیغمبر ! آپ یہ بھی کہہ دیں (آیت) ” الیہ ادعوا “ میں اسی ایک اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں ، نہ عبادت میں ، نہ صفت میں اور نہ حقوق میں ، سورة یوسف میں بھی گزر چکا ہے اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ یہ میرا راستہ ہے ۔ (آیت) ” ادعوا الی اللہ “ میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔ (آیت) ” علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی “۔ میں بھی بصیرت کی دعوت ہے ، کفر ، شرک اور برائی کی دعوت ظلمت ہے ، ایمان کی دعوت نور ہے جس سے انسان کے قلب میں بصیرت پیدا ہوتی ہے ، مجھے اور میرے پیروکاروں کو دین کی کسی بات میں شبہ نہیں ہے ۔
تمام انبیاء کی بات ہمیشہ واضح ہوتی ہے ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا ، لوگو ! میری دعوت کو خوب اچھی طرح سمجھ لو میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہے ، تمام شرکاء کو بھی جمع کرلو ، (آیت) ” ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ “۔ پھر تمہیں کسی بات میں شبہ نہیں رہنا چاہئے ، میں واضح طریقے پر بات کر رہا ہوں ، میں خدا تعالیٰ کی طرف دعوت دیتا ہوں (آیت) ” والیہ ماب “ اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے ، مجھے بہرحال اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔
(قرآن در عربی زبان)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وکذلک انزلنہ حکما عربیا “۔ اور اسی طریقے سے ہم نے اس قرآن کو ایک فیصلے کے طور پر اتارا ہے عربی زبان میں ، ” کذلک “ کی تشبیہ سابقہ کتب سماویہ کی طرف ہے کہ جس طرح ہم سابقہ ادوار میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام پر وحی بھیجتے رہے ہیں ، اسی طرح ہم نے آپ کی طرف قرآن نازل کیا ہے ، اور یہ عربی زبان میں ہے قرآن پاک میں یہ اصول بیان کردیا گیا ہے (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ (ابراہیم) ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سریانی یا عبرانی زبان بولتے تھے تو تورات عبرانی میں نازل ہوئی ، دیگر صحائف بھی ہر نبی کی قومی زبان میں نازل ہوئے ، پھر سب سے آخر میں اللہ نے اپنے آخری نبی کو عربوں میں پیدا کیا ، تو قرآن پاک بھی عربی زبان میں نازل ہوا ۔
عربی زبان کی ترقی نزول قرآن سے سولہ سترہ سو سال پہلے شروع ہوئی اور حضور ﷺ کے زمانہ تک یہ زبان انتہائی عروج پر پہنچ چکی تھی ، برصغیر میں اردو زبان کی ترویج خواجہ فریدالدین گنج شکر (رح) کے زمانے سے شروع ہوئی اور اب تک یہ ترقی کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے سائنس فلسفہ ، تاریخ ، معاشیات ، سیاسیات وغیرہ اس زبان میں منتقل ہوچکے ہیں ، انگریزی زبان کی ترقی انگریزوں کے دو سوسالہ عروج کی مرہون منت ہے ، اسی طرح حضور کے زمانہ مبارک تک عربی زبان کو بڑی ترقی حاصل ہوچکی تھی ، عربوں میں بڑے بڑے شعراء اور خطیب تھے ، بڑے بڑے نفیس اور باریک بین متکلم موجود تھے مگر عربوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ قرآن کی فصاحت وبلاغت کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں ، مسیلمہ کذاب نے قرآن کے مقابلے میں اول فول کلام پیش کرنے کی کوشش کی تھی مگر حضرت عمرو ابن العاص ؓ کا اگرچہ اس کے ساتھ دوستانہ تھا اور وہ ابھی اسلام بھی نہیں لائے تھے ، مگر کہنے لگے ، یہ تیرے بس کا روگ نہیں ، آپ نے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا ۔
امام شاہ ولی اللہ محدت دہلوی (رح) اور امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کا مقابلہ صرف زبان کے لحاظ سے نہیں بلکہ نظام کے لحاظ سے بھی ہے اگر قرآن کا چیلنج صرف زبان کے لحاظ سے ہوتا تو صرف عربوں کو خطاب ہوتا ، مگر اس کے مخاطب تو تمام بنی نوع انسان ہیں ، سورة اعراف میں اللہ کا ارشاد ہے کہ اے پیغمبر ! آپ تمام لوگوں سے کہہ دیں (آیت) ” انی رسول اللہ الیکم جمیعا “ میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، میں کسی خاص قوم ، یا خطے یا خاص زمانے کے لیے نہیں آیا بلکہ روئے زمین کے تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، اور یہ میری ڈیوٹی ہے ، کہ میں بھی خبردار کر دوں اور ان سب لوگوں کو متبہ کر دوں جہاں تک یہ قرآن پہنچے ، بہرحال اس کے اولین مخاطبین اہل عرب ہیں اور پھر وہ تمام لوگ جہاں تک یہ پیغام الہی پہنچے ۔
(وعید عامہ)
فرمایا (آیت) ” ولئن اتبعت اھوآء ھم بعد ما جآء ک من العلم “۔ اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو یاد رکھیں (آیت) ” مالک من اللہ من ولی ولا واق “۔ آپ کے لیے اللہ کے سامنے نہ کوئی حمائتی ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ، اس آیت کریمہ میں مخاطب اگرچہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے مگر اس سے مراد آپ کی قوم کو بات سمجھانا ہے کہ لوگو ! اچھی طرح سن لو کہ قانون اور ضابطہ آجانے کے بعد اس کی پیروی کی بجائے اگر خواہشات نفسانیہ پرچلو گے ، رسم و رواج کو اپناؤ گے یا برادری اور قبیلے کی بات پر عمل کرو گے تو پھر خدا کی گرفت میں آؤ گے اور اس سے بچ نہیں سکوگے علم کی عدم موجودگی میں تو انسان ایک حد تک مجبور ہوتا ہے مگر قرآن کے ذریعے علم آگیا تو اب کوئی حیلہ قابل قبول نہیں ہوگا ، اب صرف اور صرف قرآن کے پروگرام پر عمل کرنا ہوگا اسلام کی جگہ اب کوئی ازم قابل قبول نہیں ہوگا ، اگر اب بھی اسلام کے نظام کو نہیں اپناؤ گے تو پکڑے جاؤ گے ۔
Ayahs 13:38–40(ربط آیات)
پہلے شرک کا رد اور مشرکین کا انجام بیان ہوا ، قرآن کریم کی حقانیت کا ذکر کرکے اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ، اللہ نے خبردار کیا کہ وحی الہی کے آجانے کے بعد اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا ، تو وہ گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی حمائتی ہوگا ، قطعی علم آجا نے کے بعد رسم و رواج پر چلنا روا نہیں ہے بلکہ قطعی علم کا اتباع ضروری ہوجاتا ہے ،
اس کے بعد اب رسالت کا بیان آرہا ہے نبی ﷺ پر مشرکین کے اعتراضات کا ضمنا جواب ہے قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں توحید کا ذکر آتا ہے ، اس کے ساتھ شرک کی تردید بھی ہوتی ہے ، اور جہاں وحی الہی کی بات ہوتی ہے ، ساتھ نبوت و رسالت کا تذکرہ بھی ہوتا ہے ، یہ بنیادی عقائد مکی سورتوں میں بکثرت موجود ہیں ، اور مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے ان پر روشنی ڈالی گئی ہے ، اگر ان عقاید میں سے کسی عقیدے میں بھی شک وشبہ یا تردد پیدا ہوجائے تو ایمان کی بنیاد ہی خراب ہوجاتی ہے اور انسان کے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں ، ان بنیادی عقائد میں سے آج رسالت کا بیان آرہا ہے ۔
(انبیاء کی ازدواجی حیثیت)
بعض کافر اور مشرک کہتے تھے کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں تو پھر انہیں ہر وقت عبادت اور زہد میں مشغول رہنا چاہیے اور ازدواجی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنی چاہئے ، برصغیر کے آریہ سماجی اور ہندو بھی معاذ اللہ نبی پر شہوت رانی کا الزام لگاتے ہیں کہ آپ کی متعدد بیویاں تھیں اسی قسم کا اعتراض یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے بھی ہوتا رہتا ہے ، آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد ارسلنا رسلا من قبلک “ البتہ تحقیق ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے احادیث سے کل تین سو پندرہ 315 رسولوں کا ذکر ملتا ہے ، اور انبیاء کی تعداد تو ایک لاکھ بیس ہزار یا سوا لاکھ کے قریب آتی ہے ، رسول وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ مستقل شریعت یا کتاب عطا کرتا ہے ، رسولوں کو اپنی اپنی شریعت اور کتاب کی تبلیغ کا حکم تھا ، البتہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سابقہ شرائع اور کتب ہی کی تعلیم وتبلیغ پر مامور ہوتے تھے ، تاہم اگر کوئی خاص بات ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی آگاہ کردیتے تھے نبی اسرائیل کے اکثر انبیاء کا فریضہ تورات کی تبلیغ تھا ۔
اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے (آیت) ” وجعلنا لھم ازواجا “۔ اور بنائیں ہم نے ان کے لیے بیویاں ، نکاح کرنا اور بیوی سے اشتغال رکھنا کمال کے منافی نہیں ہے ، بلکہ یہ تو لوازمات بشریت میں سے ہے ، فرمایا بیویوں کے علاوہ (آیت) ” وذریۃ “ اللہ نے نبیوں کی اولاد بھی بنائی ، بیوی بچوں کا ہونا کوئی عیب والی بات نہیں ہے ، نبیوں نے نکاح بھی کیے اور انکی اولادیں بھی ہوئیں ، اگر یہودو نصاری کو نبی آخر الزمان ﷺ کی بیویوں اور بچوں پر اعتراض ہے تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کیسے گوارا کرتے ہیں ، جو اہل کتاب کے بھی جد الانبیاء ہیں ، آپ کی پانچ یا سات بیویاں تھیں اور ان سے اولاد بھی تھی ، بلکہ خلاف توقع اللہ نے آپ کو بڑھاپے میں اولاد عطا فرمائی ، آپ کا پہلا بچہ چوراسی 84 سال کی عمر میں پیدا ہواجب کہ دوسرا سو سال کے قریب عمر میں ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق تو مشہور ہے کہ ان کی تین سو منکوحہ بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں ، آپ کی سلطنت بھی بےمثال تھی اور اس کے باوجود آپ صاحب کمال نبی تھے حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں ، بعض دوسرے انبیاء کی بھی کئی کئی بیویاں تھیں ، لہذا معترضین کا یہ اعتراض لغو اور بےبنیاد ہے کہ بیوی اور اولاد کا ہونا کمال کے منافی ہے ، بلکہ لغو اور بےبنیاد ہے کہ بیوی اور اولاد کا ہونا کمال کے منافی ہے ، بلکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک تو یہ ہے کہ مجرد آدمی کو وہ کمال حاصل نہیں ہو سکتا جو متاہل (شادی شدہ) آدمی کو حاصل ہوتا ہے ، اسی لیے اکثر صالحین صاحب اہل رہے ہیں ۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب حضور ﷺ دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ کے نکاح میں نوبیویاں موجود تھی جب کہ دو بیویاں حضرت خدیجہ ؓ اور زینب ؓ وفات پاچکی تھیں حضور ﷺ کی ازدواجی زندگی کا آغاز حضرت خدیجہ ؓ کے نکاح سے ہوا جو کہ اس سے ہوا ، جو کہ اس سے پہلے دو خاوندوں سے بیوہ تھیں اور ان کی عمر چالیس 40 سال تھی جب کہ آپ کی عمر اس وقت پچیس 25 سال تھی چناچہ آپ نے جوانی کا بہترین زمانہ (تقریبا پچیس سال) اسی بیوہ کے ساتھ گزارا ، اور سوائے حضرت ابراہیم ؓ کے ساری اولاد اسی سے پیدا ہوئی پھر اس بیوی کی وفات کے بعد جب آپ کی عمر مبارک باون (52) یا ترپن (53) سال ہوئی تو آپ نے دوسرا نکاح کیا ، ان حالات میں اللہ کے نبی پر شہوت رانی کا الزام لگانا نہایت ہی لغو ہے ، دیگر بیویوں سے نکاح اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا اور اس سے اسلام کی تعلیم کو گھر گھر پہنچانا مقصود تھا آپ ﷺ نے مختلف خاندانوں میں نکاح کئے اور ازواج کے ذریعے تعلیم پھیلائی ، سورة احزاب میں موجود ہے (آیت) ” واذکرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ “ اے ازواج مطہرات ! اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور حکمت جو تمہارے گھروں میں نازل کی ہے اس کا چرچا کرو ، آیات سے مراد قرآن پاک اور حکمت سے مرادسنت ہے گویا کہ قرآن وسنت کی تشہیر کا ایک ذریعہ حضور ﷺ کی بیویاں بھی تھیں اور آپ کے متعدد نکاحوں کا یہی مقصد تھا گر بیویاں زیادہ ہوں گی تو ذمہ داریاں بھی بڑھیں گی ، محنت اور مشقت زیادہ کرنی پڑے گی اور صبر بھی کرنا ہوگا ، لہذا اس میں اجر بھی زیادہ ہوگا ، غرضیکہ متعدد نکاح کمال کے منافی نہیں ،
(معجزات کا اظہار)
منکرین اپنی من مانی نشانیاں بھی بار بار طلب کرتے تھے ، اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” وما کان لرسول “ اور نہیں ہے کسی رسول کے اختیار میں یہ بات (آیت) ” ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ “ کہ وہ کوئی نشانی یا معجزہ لائے مگر اللہ کے حکم سے معجزے کا اظہار اللہ کے اختیار میں ہوتا ہے اور نبی اپنی مرضی سے جب چاہے کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا ، اسی طرح کرامت کا اظہار بھی کسی ولی کے اختیار میں نہیں ہوتا ، ولی کا درجہ تو نبی سے بہت کم ہوتا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے جو اختیار نبی کو نہیں وہ ولی اللہ کو حاصل ہو بعض لوگ کرامت کو اولیاء اللہ کا فعل مان کر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں غرضیکہ معجزے کا اظہار اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ، اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” لکل اجل کتاب “ ہر وعدے کے لیے ایک لکھا ہوا نوشتہ ہوتا ہے یعنی ہر چیز کے ظہور کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وقت مقرر ہوتا ہے اسی طرح معجزے کے اظہار کا بھی خاص وقت ہوتا ہے اور یہ ہر شخص کی خواہش پر ظاہر نہیں ہوتا ۔
(نسخ شرائع اور احکام)
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یمحوا اللہ مایشآء “۔ مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ جو چاہے (آیت) ” ویثبت “ اور باقی رکھتا ہے جس کو چاہے (آیت) ” وعندہ ام الکتب “ اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب کائنات کے تمام امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں اور اس کے باوجود تقدیر کی الٹ پلٹ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، وہ کسی چیز کو مٹانا چاہے یا کسی چیز کو باقی رکھنا چاہے تو اس کی مشیت میں کسی کو مجاز دخل نہیں ، مسند احمد کی روایت میں آتا ہے بعض گناہوں کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہوجاتا ہے اور تقدیر کو دعا کے سوا کوئی چیز نہیں بدل سکتی ، اور عمر میں زیادتی کرنے والی بجز نیکی کے کوئی چیز نہیں ، نسائی اور ابن ماجہ شریف میں یہ حدیث بھی آتی ہے کہ صلہ رحمی عمر بڑھاتی ہے ، عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ ہے اللہ تعالیٰ اس پر تریسٹھ بار توجہ فرماتا ہے ، پھر جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے ، ام الکتاب اسی کے پاس ہے ۔
مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے تھے کہ اگر یہ پیغمبر سچا ہے اور اس کی کتاب سچی ہے تو پھر پہلے احکام منسوخ کیوں ہوجاتے ہیں ، کیا خدا کو علم نہیں ہوتا کہ کون حکم بہتر ہے ، پہلے وہ ایک شریعت نازل کرتا ہے ، پھر اس کی جگہ دوسری لے آتا ہے یہ آیت اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ، وہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور احکام وشرائع کا نسخ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مصلحت پر ہوتا ہے ہر چیز کو ایک خاص وقت تک مناسبت ہوتی ہے ، اس وقت تک وہ چیز قائم رہتی ہے ، پھر اس کو تبدیل کردیا جاتا ہے مختلف شرائع میں حلت و حرمت کے احکام بدلتے رہے ہیں اور ایسا زمان ومکان کی مناسبت سے ہوتا تھا اس کی مثال سورة آل عمران میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے کہ اے لوگو ! میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں (آیت) ” ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم “۔ اور اللہ کے حکم سے تم سے بعض حرام قرار دی گئی چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں ، گویا نسخ احکام کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر کسی مریض کو ایک وقت میں کوئی دوائی دیتا ہے جب کہ دوسرے وقت میں وہ دوائی تبدیل کرکے اس کی جگہ کوئی اور تجویز کردیتا ہے ، ایسا کرنا مریض کے مزاج اور بیماری کی کیفیت پر موقوف ہوتا ہے ، اب اگر کوئی کہے کہ ڈاکٹر نے پہلی دوائی تبدیل کیوں کی ہے تو اس کی نادانی ہوگئی اس طرح نسخ شرائع کا معاملہ بھی انسانی سوسائٹی کے احوال کے ساتھ متعلق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں تغیر وتبدل کرتا رہتا ہے ، ہر چیز کی حکمت اور مصلحت اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور وہی مختلف شرائع اور احکام جاری فرماتا ہے ۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مذکور محو اور اثابت سے مراد تقدیر کی تمام چیزیں ہیں اللہ تعالیٰ جس تقدیر کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے باقی رکھے ، البتہ فرماتے ہیں کہ تقدیر کی چار چیزوں کے مٹنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا اور وہ ہیں عمر ، روزی ، سعادت اور شقاوت ، حدیث میں آتا ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے اور استقرار حمل سے چار ماہ کے بعد ایک خاص منزل آتی ہے جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ پیدا ہونے والے انسان کے متعلق لکھ لو کہ اس کی عمر یہ ہوگی ، اس کو روزی اس قدر نصیب ہوگی ، اور یہ سعادت مند ہوگا یا شقی ، تو گویا ان چار چیزوں میں تغیر وتبدل نہیں ہوتا ، بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ تقدیر دو قسم کی ہوتی ہے ، یعنی معلق اور مبرم ، تقدیر معلق میں تغیر وتبدل ہوجاتا ہے جب کہ مبرم یعنی قطعی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔
(شاہ ولی اللہ کا فلسفہ)
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی مشہور کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ تقدیر کے پانچ درجے ہوتے ہیں ، پہلا درجہ ازلی ہوتا ہے اور اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوتا ، دوسرا درجہ فرشتوں یعنی جبرائیل میکائیل وغیرہ کی پیدائش کا دور ہے جو انسان کی پیدائش سے اربوں سال پہلے پیش آیا ، نوع انسانی کی مصلحت ان فرشتوں پر موقوف ہے ، شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تقدیر کا تیسرا درجہ وہ ہے جب احکام وشرائع میں تغیر وتبدل ہوتا ہے ، یہ تغیرات ہزاروں سال کے بعد آتے ہیں چوتھا درجہ وہ ہے جب انسان کے اس مادی جہان میں آنے سے پہلے اس کی تقدیر لکھ دی جاتی ہے اور پانچواں درجہ وہ ہے جب انسان اس مادی جہان میں آجاتا ہے اور اپنی طبعی عمر گزارتا ہے ، بہرحال یہ پانچ درجات ہیں اور ہر ایک کا الگ الگ حکم ہے بعض تقدیریں بدل جاتی ہیں اور بعض قائم رہتی ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہوتا ہے ، انسان کی دعا کی وجہ سے اس کی مصیبتیں مٹ جاتی ہیں ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان کی دعا اور مصیبت آپس میں الجھتی ہیں اور انسان کی دعا مصیبت کو انسان کی طرف آنے سے روکتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، بعض تغیرات نیکیوں کی وجہ سے واقع ہوتے ہیں اور گناہ مٹتے رہتے ہیں ، حضور ﷺ کا فرمان ہے ” ان العبد لیحرم الرزق بالذنب “۔ گناہ کی وجہ سے بندہ روزی سے محروم کردیا جاتا ہے کوئی ایسا گناہ کرتا ہے جس سے ملنے والی روزی موقوف ہوجاتی ہے ، یہ سارے تغیرات ازلی درجہ کے بعد والے درجات میں واقع ہوتے ہیں ۔ ازلی درجہ اللہ کے علم والا درجہ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اسی کو مبرم سمجھ لیں ۔
(غلبہ اسلام کی پیشن گوئی)
آگے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی دی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان مانرینک بعض الذی نعدھم “۔ اور اگر ہم دکھادیں آپ کو وہ چیزیں جن کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ وعدہ آپ کی زندگی میں ہی پورا ہوجائے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے مشرکین کو آپ کی زندگی میں مغلوب کردیا ، سورة قمر میں ہے (آیت) ” سیھزم الجمع ویولون الدبر “۔ آج یہ مشرکین بڑے جتھے اور طاقت کے مالک ہیں ، مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے ، اللہ کے نبی اور اس کے پیروکاروں کے جانی دشمن ہیں مگر ایک وقت عنقریب آنے والا ہے جب یہ پشت پھیر کر بھاگیں گے ، یہ وعدہ اللہ نے حضور کی زندگی میں بدر کے موقع پر ہی پورا کردیا ، مشرکین کی جمعیت تتربتر ہوگئی اور وہ مغلوب ہوگئے ۔
فرمایا (آیت) ” اونتوفینک “ یا ہم آپ کو وفات دے دیں گے اگر اسلام کا مجموعی غلبہ آپ کی زندگی میں نہ ہوا تو آپ کے بعد یہ وعدہ پورا ہوجائے گا ، چناچہ اسلام کا مجموعی غلبہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوا ، صفین کے واقعہ تک مسلمان نصف دینا پر غالب آچکے تھے اور ان کے سامنے سر اٹھانے والی کوئی طاقت نہیں تھی ، یہ کیفیت تقریبا ساڑھے چھ سو سال تک قائم رہی ، پھر مسلمانوں کا تنزل شروع ہوگیا ، تاتاریوں کے حملے نے مسلمانوں کا من حیث القوم درہم برہم کردیا ، اس وقت کا پھسلا ہوا قدم آج تک نہیں سنبھل سکا ، ہوسکتا ہے کہ نزول مسیح کے وقت سابقہ پوزیشن پھر بحال ہوجائے ، ورنہ اس وقت تو حالات سخت مخدوش ہیں اور بہتری میں کوئی رمق نظر نہیں آتی خلافت راشدہ کے زمانے میں اللہ نے مسلمانوں کی کیفیت اس طرح بیان فرمائی (آیت) ” ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا “۔ (النور) اللہ تعالیٰ ان کے پسندیدہ دین کو پختہ اور مضبوط کر دے گا اور ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جس نے کفران نعمت کیا وہ گرفت میں آئے گا یہ ساری باتیں حضور کے بعد واقع ہوئیں ، خلفائے راشدین کے زمانہ کو خلافت علی منہاج النبوۃ کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے نبوت کے کام کو مکمل کیا اس میں چاروں خلفاء کا زمانہ شامل ہے ، البتہ چوتھے خلیفہ کے زمانے میں آپس کے اختلاف کی وجہ سے اجتماعی حرکت میں فرق پڑگیا ، تاہم اسلام کا غلبہ صدیوں تک قائم رہا ۔
حضور ﷺ کی زندگی میں جب بدر کا معرکہ ہوا تو بڑے بڑے ائمہ کفر جہنم واصل ہوئے ، ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر قریبی کنوئیں میں پھینک دیا گیا اور حضور ﷺ نے انکو مخاطب کر کے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو فتح ونصرت کا وعدہ کیا تھا ، اس کو ہم نے سچا پا لیا اے مشرکین کے گروہ ! تم سے اللہ نے جو مغلوب کرنے کا وعدہ کیا تھا کیا تم نے بھی اس کو سچ پایا ہے یا نہیں ؟ کسی کہنے والے نے کہا ، حضور ! آپ ان مردار لاشوں سے خطاب فرما رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، یہ مردار اس وقت تم سے زیادہ سنتے ہیں لیکن جواب نہیں دے سکتے ۔
تو فرمایا ہم آپ کو دکھا دیں گے وہ چیزیں جن کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں ‘ یا آپ کو وفات دے دینگے (آیت) ” فانما علیک البلغ “۔ پس آپ کے ذمے پہنچا دینا ہے ، آپ ان لوگوں کر دین اور شریعت کے احکام پہنچا دیں ، آپ کا فریضہ یہی ہے (آیت) ” وعلینا الحساب “۔ اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے ہم ایک ایک عمل کا حساب لیں گے ، گرفت کریں گے اور پھر ان کے اعمال کی ان کو سزا بھی دینگے آپ اپنا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہیں اور نتیجہ ہم پر چھوڑ دیں ۔
Ayahs 13:41–43(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا پھر مسئلہ توحید اور قیامت کا ذکر آیا اور اب آخر میں اس سورة کا اختتام رسالت کے بیان پر ہو رہا ہے مشرکین مکہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر جو مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے اور پیغمبر خدا کی رسالت اور نبوت کی تصدیق کی گئی ہے ، درمیان میں محو اور اثبات کا ذکر بھی ہوا ، شرائع کی منسوخی اور نئے احکام کا اجرا قضا وقدر میں تغیر وتبدل کسی چیز کو مٹا دینا اور کسی کو باقی رکھنا ، یہ سب اللہ کی قدرت تامہ کے تحت بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی بھی دی ، فرمایا ہم نے جن چیزوں کا آپ سے وعدہ کر رکھا ہے وہ یا تو آپ کی حین حیات میں ہی آپ کو دکھا دیں گے ، یا ان کا ظہور آپ کی اس دنیا سے رخصتی کے بعد ہوگا ، بہرحال اللہ کا وعدہ حرف بحرف پورا ہوا ۔
(کفار کے پے درپے ناکامی)
آج کی آیات مسلمانوں اور ان کے پیغمبر سے کئے گئے اس وعدے ہی سے متعلق ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے پے درپے شکست اور اہل ایمان کی کامیابی کا ذکر کیا ہے مشرکین سمجھتے تھے کہ یہ نیا دین ہے تھوڑے عرصہ میں ہی ہم اسے ختم کر کے اس کے ماننے والوں کو مغلوب کرلیں گے مگر اللہ تعالیٰ کا پروگرام اس دین کو غالب کرنے کا تھا اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “۔ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں اس میں مشرکین کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم مٹھی بھر اہل ایمان کو ختم کردیں گے اور خود غالب آجائیں گے مگر یہ لوگ اپنے گردوپیش کے حالات کی طرف دیکھ رہے ہیں یعنی ان کے قبضے سے عرب کے مختلف خطے نکلتے جا رہے ہیں اور وہاں پر اہل اسلام غالب آرہے ہیں ، چناچہ 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوگیا تو وہ سرزمین بھی مشرکین کے قبضہ سے نکل گئی اور دارلکفر داراسلام میں تبدیل ہوگیا ، اس سے پہلے مسلمانوں کو مدینہ پر غلبہ حاصل ہوا اور یہودیوں کو وہاں سے نکال دیا گیا ، پھر وہ خیبر کے مقام پر جمع ہوگئے اور بالآخر انہیں وہاں سے بھی نکلنا پڑا اور وہ سارا علاقہ اہل ایمان کے تسلط میں آگیا ، مدینہ کے گردوپیش کی صفائی کے ساتھ ساتھ نجران اور یمن والے لوگ خود بخود ایمان لے آئے ، کفار ومشرکین کی شکست اور اسلام کا غلبہ حضور ﷺ کی وفات تک مسلسل جاری رہا اور پھر آپ کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی دین پھیلتا چلا گیا حتی کہ پورے ملک عرب پر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوگیا ، دوسرے مقام پر اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا کہ ہم کافروں کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکالتے چلے جا رہے تھے (آیت) ” افھم الغلبون “ کیا اب بھی انہیں امید ہے کہ وہ ایمان والوں پر غالب آجائیں گے ؟ بہرحال اکثر مفسرین کرام نے اس آیت کی یہی تفسیر بیان کی ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے تسلی کا مضمون ہے ۔
(عبداللہ ابن عباس ؓ کی توجیہہ)
حضرت ابن عباس ؓ مختلف تفسیر بیان کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ اس مقام پر اطراف طرف یعنی کنارے کی جمع نہیں بلکہ طرف کی جمع ہے اور اس کا معنی عمدہ گھوڑا یا کوئی دوسری نفیس چیز ہوتا ہے ، آپ کی توجیہہ کے مطابق اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین سے اچھے لوگوں کو اٹھا رہے ہیں یعنی باکمال اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تغیرات اللہ تعالیٰ کے حکم سے واقع ہو رہے ہیں جب اللہ کے پسندیدہ بندے اس دنیا میں باقی نہیں رہتے تو یہ کفار ومشرکین کس خیال میں پڑے ہوئے ہیں کیا یہ لوگ حق وصداقت کی مخالفت کرکے کفر کے پروگرام کو غالب کرسکیں گے ؟ ہرگز نہیں ان کو غور کرنا چاہیے کہ جب اچھے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے تو پھر یہ کفار ومشرکین کس گنتی میں ہیں ، یہ لوگ دنیا میں کیسے باقی رہ سکتے ہیں اور کفر کا پروگرام کیسے مسلط کرسکتے ہیں ؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ زمانے میں ایسا تغیر آئے گا کہ اچھے لوگ ختم ہوجائیں گے اور ردی لوگ باقی رہ جائیں گے ، وہ لوگ نفسانی خواہشات کی پیروی کریں گے جس کی وجہ سے تمام نظام مختل ہوجائیں گے اور نتیجتا تباہی و بربادی آئے گی ، بہرحال فرمایا کہ جب علماء حکما ، عارف ، سالک ، عابد اور زاہد لوگ باقی نہیں رہیں گے تو کافر ومشرک بھی نہیں رہیں گے ، لہذا انہیں اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہنا چاہئے کہ وہ ایمان والوں پر غالب آجائیں گے ،
بہرحال اس آیت کریمہ سے مراد کفار ومشرکین کے لیے زمین کی تنگی ہو یا صاحب فضیلت لوگوں کا دنیا سے اٹھ جانا ، یہ سارا تغیر وتبدل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے (آیت) ” واللہ یحکم “ اللہ تعالیٰ ہی ہر معاملے کا حکم اور فیصلہ کرتا ہے (آیت) ” لا معقب لحکمہ “ اس کے حکم کو پیچھے ہٹانے والا کوئی نہیں ، اس کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے ، جب اس نے غلبہ اسلام کا فیصلہ کر رکھا ہے تو اب منکرین اس فیصلے میں کیسے حائل ہو سکتے ہیں انہیں یہ فیصلہ طوعا وکرہا قبول کرنا ہوگا ۔
(مسلمانوں کا تنزل)
کبھی وہ وقت تھا کہ کافروں کے قدموں تلے سے زمین کو نکال کر اللہ نے مسلمانوں کو عروج عطا کیا ، اور آج کے دور میں اس کا الٹ ہو رہا ہے ، اللہ کی زمین مسلمانوں کے تسلط سے نکل کر دہریوں ، کافروں ، مشرکوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے تسلط میں جا رہی ہے ، یہ برصغیر پورے کا پورا دارالاسلام تھا کابل سے لے کر برہما تک اور نگ زیب عالمگیر کی حکومت تھی ، لاہور کی شاہی مسجد اور حیدر آباد دکن کی مکہ مسجد اسی کے کارنامے ہیں ، مگر اس کے بعد اس کے جانشین سخت نالایق ثابت ہوئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پورا برصغیر انگریزوں کے قبضے میں چلا گیا اور دو سو سال کی جدوجہد کے بعد جب برطانیہ کی غلامی کا جواء اترا تو اس سرزمین کا بیشتر حصہ ہندوؤں کے تسلط میں چلا گیا اور ایک تھوڑے سے حصے کو پاکستان کا نام دیا گیا مگر اس قوم کی نفس پرستی اور حب مال وجاہ کی وجہ سے پاکستان بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ، پوری دنیا میں مسلمانوں کی تاریخ ایسے ہی سانحات سے بھری پڑی ہے ، بلخ ، بخارا ، ختن ، تاشقند وغیرہ مسلمانوں کے قبضے سے نکل گئے ، سنکیانگ صوبے میں سات کروڑ مسلمان آباد تھے مگر آج وہاں ایک کروڑ بھی نظر نہیں آتے ، بخارا میں میں چالیس ہزار مساجد اور چار ہزار سے زیادہ مدارس تھے ، مگر آج وہاں دو ہزار مسجدیں بھی موجود نہیں ، البانیہ مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا ملک تھا جو اشتراکیوں کے قبضہ میں چلا گیا ، چیکو سلاواکیہ کے مسلمان بھی نہایت تنگی میں گزر اوقات کر رہے ہیں ، ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل چکی ہے ، اور وہ بےیارو مددگار مظلومانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ، فلسطین کا سانحہ آپ کے سامنے ہے مسلمانوں کا تاریخی خطہ اور انبیاء کی سرزمین یہودیوں کے قبضہ میں جا چکی ہے ، شکیب ارسلان نے لکھا ہے کہ ہم سال ہا سال تک مسلمان حکومتوں سے اپیل کرتے رہے کہ اس مقدس سرزمین کی طرف توجہ دو یہودی اس خطے میں دھڑا دھڑ غیر منقولہ جائیدادیں خرید رہے ہیں اور ان کی یہ سکیم خطرناک ثابت ہو سکتی ہے مگر کسی نے توجہ نہ دی یہودیوں نے مسلمانوں سے ستے داموں زمینیں اور مکانات خرید لیے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فلسطین پر مسلمانوں کی گرفت کمزور ہوتی گئی اور یہودیوں کے پاؤں جمتے گئے اور بالآخر وہ یہاں پر ایک خالص یہودی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے آج فلسطینی مہاجر دنیا میں مارے مارے پھر رہے ہیں ، ان کا کوئی پرسان حال نہیں ، بیت المقدس ان کے قبضے سے نکل چکا ہے ، بچے بوڑھے اور عورتیں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ، اس شیطانی منصوبے میں برطانیہ ، فرانس ، امریکہ اور روس چاروں طاقتیں شامل ہیں جنہوں نے فلسطین کے اصل باشندوں کو بےوطن کرکے طاغوتی طاقت کو وہاں مسلط کردیا ہے بہرحال اب مسلمانوں کا معاملہ الٹا ہوگیا ہے ، کبھی ان کا تسلط اغیار پر قائم ہوتا تھا ، مگر اب اغیار ان پر مسلط ہو رہے ہیں ۔
(حب مال وجاہ)
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کو حب مال وجاہ ، ذاتی اقتدار اور چوہدراہٹ نے تباہ کیا ہے ملوکیت کی ساری لعنت مال کی محبت کا نتیجہ ہے جب تک لوگ ذاتی خواہشات کی تکمیل کرتے رہیں گے ، ملی مفاد پس پشت ڈالا جاتا رہیے گا ، مسلمان من حیث القوم تنزل میں رہیں گے ، مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ مفاد پرست لوگ قومی دولت کو باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، ایوب کے زمانے میں ناچنے اور گانے والوں ، فلم ایکٹروں اور ایکٹریسوں کو بڑی بڑی جاگیروں سے نوازا گیا ، بنگال کی بلبل چوہدری کو پچاس ہزار روپے کا انعام ملا ، نام نہاد ملکہ ترنم کو مربعے الاٹ ہوئے ، یہ کانسا کارنامہ ہے جس کی پذیرائی ہوتی ہے قوم کا سرمایہ کھیل کود اور لہو ولہب میں صرف کیا جاتا ہے کبھی فلک بوس عمارتوں پر کروڑوں روپیہ خرچ کردیا جاتا ہے جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا ، لاہور میں تعمیر ہونے والا مینار پاکستان ستر لاکھ روپے میں بنا مسٹر جناح کے مقبرے پر سات کروڑ روپیہ خرچ ہوا ان عمارات سے قوم کی کون سی ضرورت پوری ہوئی ہے اس میں فضول خرچی ، نمود ونمائش اور ذہنی عیاشی کے سوا کیا رکھا ہے ۔
دوسری تباہ کن چیز ذاتی چوہدراہٹ ہے ، عراق اور ایران کے درمیان یہی وجہ متنازعہ ہے ، تین چار سال کی جنگ میں دو مسلمان ملکوں کے دو لاکھ آدمی لقمہ اجل بن چکے ہیں ، جب کہ مالی نقصان کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ، دونوں فریق مسلمان کہلاتے ہیں ، شیعہ ہوں یاسنی نام تو اسلام ہی کا لیتے ہیں مگر باہم برسرپیکار ہیں ، یہی ہماری نالائقی کی علامت ہے ہم میں اسلام کی انقلابی روح باقی نہیں رہی ، ہم ذاتی خواہشات کے غلام بن چکے ہیں ، اور معمولی ذاتی مفاد کی خاطر بڑے بڑے ملی مفاد قربان کردیتے ہیں ، بہرحال اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کے لیے تسلی کا مضمون بھی ہے اور تغیر وتبدل سے کافروں پر دلیل بھی قائم کی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے زعم میں مسلمانوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ عبث ہے کیونکہ اللہ کے فیصلے کو کوئی نہیں بدل سکتا (آیت) ” وھو سریع الحساب “۔ اور وہ اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، جب وہ پکڑے گا تو پھر اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکے گا ،
(خدائی تدبیر کی کامیابی)
آگے ارشاد فرمایا (آیت) ” وقد مکر الذین من قبلھم “۔ اور تحقیق مخفی تدبیر کی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے ، عربی میں مکر مخفی چال کو کہا جاتا ہے ، اس کے برخلاف اردو اور پنجابی میں یہ لفظ دھوکہ اور فریب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ، فرمایا حق کو مٹانے کے لیے پہلے لوگوں نے بھی مخفی چال چلی اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ (آیت) ” فللہ المکر جمیعا “۔ ساری کی ساری مخفی تدبیر اللہ ہی کے قبضے میں ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے دشمن کی کسی تدبیر کو کامیاب نہیں ہونے دیگا ، وجہ یہ ہے (آیت) ” یعلم ما تکسب کل نفس “۔ وہ جانتا ہے ہر اس چیز کو جو کوئی نفس کماتا گویا ہر شخص کا ہر کام اس کی نگاہوں میں ہے جب خدا تعالیٰ ہر ایک کے ہر کام سے واقف ہے تو اس کی مخفی تدبیروں سے بھی واقف ہے ، مخفی تدبیر جبھی کامیاب ہو سکتی ہے ، جب کوئی دوسرا اس کے لیے لاعلم ہو مگر اللہ تعالیٰ تو ذرے ذرے سے واقف ہے لہذا اس کے سامنے کسی کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی ، اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق جزا اور سزا دے گا فرمایا (آیت) ” وسیعکم الکفر لمن عقبی الدار “۔ اور کافر لوگ عنقریب جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کے لیے ہے جلدی ہی انہیں پتہ چل جائے گا کہ آخرت کا آرام و آسائش کافروں کے حصے میں آتا ہے یا ایمان والوں کے حصے میں یہ معاملہ تو گذشتہ آیات میں ہی حل ہوچکا ہے ، اللہ نے فرمایا کہ جنہوں نے خدا کی رضا کے لیے صبر کیا ، نماز قائم کی اور خفیہ اور اعلانیہ مال خرچ کیا اور برائی کو نیکی کے ذریعے دور کرتے رہے (آیت) ” لھم عقبی الدار “۔ آخرت کا گھر تو ایسے لوگوں کے لیے ہوگا ، یہ تو ایمانداروں کی صفات ہیں اور وہی آخرت کے حقدار ہیں ، اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” تلک عقبی الذین اتقوا “ آخرت کا گھر ان کے لیے ہے جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا (آیت) ” وعقبی الکفرین النار “ اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہوگا ۔
(رسالت کا انکار)
فرمایا (آیت) ” ویقول الذین کفروا “ کہتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا (آیت) ” لست مرسلا “ آپ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہیں ، ان لوگوں نے حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کیا کہنے لگے یہ شخص رسول کیسے ہو سکتا ہے جو (آیت) ” یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “۔ (الفرقان) جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چل پھر کر سودا سلف خریدتا اور کاروبار کرتا ہے کبھی کہتے کہ ہم اس کو رسول تسلیم نہیں کرتے کیونکر یہ ہماری مطلوبہ نشانیاں پیش نہیں کرتا ، کوئی کہتا ، یہ خزانوں کا مالک نہیں ہے ، اس کے پاس نوکر چاکر ، باڈی گارڈ اور فوج نہیں ہے ، مکہ والے کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو رسول بناتا تو مکہ اور طائف کے کسی آسودہ حال شخص کو یہ منصب عطا کرتا وہاں بڑے بڑے سردار موجود ہیں ، ان کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ نے دنیاوی لحاظ سے کمزور آدمی کو اپنا رسول کیسے منتخب کرلیا کوئی آپ کو شاعر کہتا ، کوئی کاہن اور جادوگر ، اور اس طرح آپ کی رسالت کا انکار کردیا ۔
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا قل آپ کہہ دیجئے (آیت) ” کفی باللہ شھیدا بینی وبینکم “ میرے اور تمہارے درمیان خدا تعالیٰ ہی گواہ کافی ہے ، اگر تم انکار کرتے ہو تو کرتے رہو ۔ خود اللہ تعالیٰ جو مجھے مبعوث کرنے والا ہیں ، وہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، اس کے علاوہ بھی اگر گواہی چاہتے ہو تو (آیت) ” ومن عندہ علم الکتب “ میرا گواہ وہ بھی ہے جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔
کتاب سے مراد سابقہ کتب تورات ، انجیل وغیرہ مراد ہیں ، اور جو شخص ان کتابوں کا صحیح علم رکھتا ہے ، وہ بھی گواہی دے گا کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں کیونکہ سابقہ کتب میں میری تمام نشانیاں موجود ہیں ، جنہیں دیکھ کر صاحب علم لوگ میری صداقت کی گواہی دیں گے چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جو یہودی عالم تھے انہوں نے پہلی نشست میں حضور علیہ اسلام کو اپنی کتاب کے علم سے پہچان لیا اور آپ پر ایمان لے آئے ، آپ کہتے تھے کہ مجھے اپنے بیٹے کے حق میں اتنا یقین نہیں ہے جتنا حضور ﷺ کی رسالت ونبوت پر یقین ہے ۔
بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے اور مفہوم یہ ہے کہ اے کفار ومشرکین تم بیشک انکار کرتے رہو مگر کائنات کا خالق تو گواہ ہے جس کے پاس لوح محفوظ کا علم ہے ، لوح محفوظ میں درج ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں میرے لیے وہی گواہی کافی ہے ، لہذا تمہاری گواہی کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ، دوسری جگہ بھی موجود ہے (آیت) ” قل ای شیء اکبر شہادۃ “ (الانعام) آپ کہہ دیں اللہ سے بڑھ کر کس کی گواہی ہو سکتی ہے اللہ نے اپنے نبی سے یہ بھی کہلوایا (آیت) ” قل اللہ شھید بینی وبینکم “ (الانعام) آپ کہہ دیں کے میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ ہے ، اس سب سے بڑی گواہی کے بعد اگر تم پھر بھی انکار کرتے ہو تو اس سے میری رسالت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، اس انکار کا مواخذہ تم سے آخرت میں ہوگا ۔