Ayahs 12:1–3نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة یوسف ہے۔ اس پوری سورة میں صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، لہٰذا اس کا نام آپ کے نام پر سورة یوسف رکھا گیا ہے۔ پورے قران پاک میں دو سورتیں ایسی ہیں جن میں مکمل طور پر صرف ایک ایک نبی کا واقعہ بیان ہوا ہے ایک سورة یوسف ہے اور دوسری سورة نوح۔
سورۃ یوسف مکی دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1776 الفاظ اور 7996 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی حقائق توحید ، رسالت قیامت ، قرآن کریم کی حقانیت ، انبیاء کی تبلیغ ، قوموں کی نافرمانی اور پھر اس کے نتیجے میں سزا کا ذکر ہے۔ سابقہ سورة ہود کی طرح اس سورة میں بھی خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات مختصر کا بیان ہوگا۔ گزشتہ سورة میں متعدد انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے تھے جب کہ اس سورة میں ایک نبی اور رسول کا ذکر ہے۔ تاہم قرآن پاک کا اسلوب بیان یہ ہے کہ وہ کسی واقعہ کو تاریخی لحاظ سے مکلم طور پر بیان نہیں کرتا ہے ، بلکہ صرف وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جو سامعین کے لئے دنیا و آخرت میں مفید اور باعث عبرت ہو سکتا ہے۔
سورۃ ہود کی طرح مسئلہ توحید کو اس سورة میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گزشتہ سورة میں مختلف انبیاء کے صبر و برداشت کا ذکر ہوا تھا۔ جب کہ اس سورة میں صرف حضرت (علیہ السلام) کے صبر و استقامت کی بات ہوگی۔ آپ کی فضیلت اور کمالات کے ذکر کے علاوہ ضمناً بہت سے دیگر مسائل بھی آگئے ہیں ، جو عقیدے کی اصلاح اور دین و دنیا میں فلاح کے ضامن ہیں۔
حضور کا روشن مستقبل
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة یوسف کا موضعو دراصل حضور خاتم النبین ﷺ کے شاندار اور روشن مستقبل کی طرف اشارہ ہے یہ سورة مکی دور کے آخری حصے میں نازل ہوئی جب کہ حضور ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا تھا ، آپ پریشان تھے مگر اللہ نے یہ سورة نازل فرما کر آپ کی کامیابی اور مشرکین کی ناکامی کی پیش گوئی فرما دی بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے ” سر دلبراں گفت آید در حدیث دیگراں “ ینی دوسروں کی بات کر کے اپنوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کر کے حضور ﷺ کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے برادران بالآخر ناکام ہوئے اور آپ کو بلندی اور کامیابی عطا ہوئی ، اسی طرح حضور ﷺ کے بھائی بند بھی ذلیل و خاسر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت رفعت عطا فرمائی اور نظام خلافت عمل میں آیا۔
حروف مقطعات
اس سورة کی ابتداء حروف مقطعات آلرا سے ہوئی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان حروف میں تو الف کا اشارہ اللہ کی طرف ہے ۔ ل سے لطافت یا لطیف مراد ہے اور را کا اشارہ رحیم یا رافت کی طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم اور رأفت و رحمت کا نمونہ اس سورة میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ الف کا اشارہ اعلیٰ کی طرف ل سے لواء (جھنڈا) اور را سے رفعت مراد ہے ار اس طرح آلرا سے رفعت و بلندی کا وہ جھنڈا مراد ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ تھمایا تھا۔ البتہ امام شاہ ولی محدث دہلوی ذوقی یعنی الہامی طور پر بیان کرتے ہیں ہیں کہ آلرا سے عالم غیب کی وہ مقدس چیزیں مراد ہیں جو اس عالم مادی میں مسلسل آتی جاتی رہتی ہیں اور اس جہان سے ٹکراتی رہتی ہیں۔ اس سے مقامات انبیاء کی طرف کنایہ ملتا ہے اور انبیاء کا مقام یہ ہے کہ ان کا نافرمان لوگوں کے شر اور فتن سے ہمیشہ تصادم رہتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ا اپنے انبیاء کو رفعت اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو زندگی میں ایک جیسے حالات سے واسطہ پڑا اور آلر میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
حروف مقطعات کے بارے میں امام جلال الدین سیوطی اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ زیادہ اسلم (سلامتی والی) بات یہ ہے کہ ان حروف کے متعلق یہی اعتقاد رکھا جائے کہ اللہ اعلم بمراد بذالک ان کی حقیقی مراد اللہ ہی جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ برحق ہے ہر چیز ک جاننا ہمارے لئے ضروری نہیں اور نہ ہی انسان متام چیزوں کا علم حاصل کرسکتا ہے۔ بعض چیزوں پر بلا دلیل بھی ایمان لانا پڑتا ہے اور حروف مقطعات کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ عوام کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ ایسے معاملات میں زیادہ کرید نہ کیا کریں کیونکہ ایسا کرنے سے گمراہی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ حضرت عمر فاروق کے عہد میں ایک شخص ایسی باتوں میں کرید کرتا تھا آپ نے اس کو بلایا ، اس کے سامنے سورة یوسف کی پہلی دو آیات آلرا قف تلک ایت الکتب المبین انا انزلنہ قرء نا عربیاً لعلکم تعقلون پڑھ کر اس شخص کو زور سے ایک کوڑا مارا۔ آپ نے تین دفعہ ان آیات کی تلاوت کی اور ہر دفعہ ایک ایک کوڑا مارا۔ اس شخص نے عرض کیا کہ مقرا قصور بتائیں تاکہ میں آئندہ محتاط رہوں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم حروف مقطعات جیسی مخفی چیزوں کے متعلق چھان بین کرتے ہیں۔ میں تمہیں متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن پاک عربی زبان میں نازل ہوا ہے جو اہل عرب اور اس کے اولین مخاطبین کی مادری زبان ہے۔ اس کے باوجود اس کی جن باتوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔ انہیں کریدنے کی کوشش باوجود اس کی جن باتوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔ انہیں کریدنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ ایسا کرنا گمراہی کا باعث ہوگا۔
قرآن اور عربی زبان
بہرحال اس سورة کی ابتداء حروف مقطعات آلرا سے ہوئی ہے ارشاد ہتا ہے تلک ایت الکتب المبین یہ آیتیں
1 ؎ جلالین ص 4
ہیں کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنیوالے احکام قوانین نصائح اور دلائل کو قرآن پاک کھول کر بیان کرت اے۔ اس کی وجہ بھی خود ہی بتا دی ہے انا انزلنہ قرء ناً عربیاً بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں اتارا ہے لعلکم تعقلون تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے لئے عربی جیسی زبان کا انتخاب کیا جو تمام زبانوں سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے۔ عربوں سے پہلے قوم عاد اور ثمود کی زبان بھی عربی تھی۔ عربوں کے تین دور تسلیم کئے جاتے ہیں یعنی عرب بادیہ ، عرب عاربہ اور عرب مستعربہ۔ قرآن کی زبان عرب مستعربہ ہے جو حضرت اسماعیل علیہالسلام کے بنی جرہم کے ساتھ اختلاط سے …پیدا ہوئی۔ یہ زبان ترقی کرتے کرتے حضور ﷺ کے زمانہ تک ترقی کے انتہائی عرو ج پر پہنچ گئی۔ یہ زبان دوسری زبانوں کی نسبت مختصر مگر جامع ہے اور اس کا گرائمر بھی سائنٹیفک ہے۔ اللہ نے اس زبان کو دوسری زبانوں پر بڑی فوقیت عطا فرمائی ہے۔
مفسر قرآن صاحب روحانی المعانی نے امام بیہقی طبرانی اور حاکم کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا احبوا العرب لثلاثۃ عربوں سے تین وجوہات کی بنا پر محبت کرو پہلی بات یہ ہے لانی عربی کہ میں خود عرب قوم سے تعلق رکھتا ہوں۔ دوسری وجہ یہ ہے والقران عربی قرآن پاک بھی عربی زبان میں ہے اور تیسری بات یہ کہ ولسان اھل الجنۃ عربی جنتیوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل قرآن عربی زبان میں ہی ہے اور اگر عربی کے علاوہ قرآن کو کسی دوسری زبان میں منتقل کیا جائے گا تو وہ قرآن نہیں کہلا سکتا ۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے قرآن پاک کو اس کے اولین مخاطبین کی زبان عربی میں نازل فرمایا تکہ وہ اس کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اگر قرآن کسی دوسری زبان میں اہل عرب پر نازل ہوتا تو اسے نہ سمجھ سکنے کا اعتراض ہو سکتا تھا۔
قرآن کا ترجمہ قرآن نہیں
اس سے فقہائے کرام یہ بات بھی اخذ کرتے ہیں کہ قرآن عربی کا کسی دیگر زبان میں ترجمہ قرآن نہیں کہلا سکتا۔ قرآن عربی کے ان الفاظ کا نام ہے جو اپنے خاص معانی و مفہوم رکھتے ہیں۔ اللہ نے نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا ہے فاقرء وا ماتیسر من القرآن (الزمل) یعنی جتنا میسر ہو قرآن پاک میں سے پڑھو۔ لہٰذا نماز جبھی ہوگی جب کوئی شخص قرآن کے عربی الفاظ ادا کرے گا ، اگر کوئی شخص محض ترجمہ قرآن پڑھ کر نماز ادا کرنا چاہے تو نماز ادا نہ ہوگی۔ پرویزی قسم کے بعض گمراہ فرقے اس قسم کا حیلہ کرتے ہیں کہ قرآن عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے ہماری سمجھ سے بالا ہے لہٰذا اس کا ترجمہ پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب اصل متن قرآن کو نظر انداز کر کے محض ترجمے پر اکتفا کیا جائیگا تو قرآن پاک کی وحدت ختم ہو جائیگی ہر کوئی اپنی پسند کا ترجمہ کریگا اور اس کے پیروکار وہی ترجمہ عام تلاوت کے طور پر اور پھر نماز میں بھی پڑھنے لگیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جس طرح متن کی عدم موجودگی میں محض تراجم کی بنا پر انجیلیں ایک سے ایک سو بیس بن گئی ہیں ، اسی طرح قرآن پاک کا ہر ترجمہ ایک علیحدہ قرآن بن جائے گا۔ یہ تو تحریف کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ اس لئے جب لاہور میں پہلی دفعہ چراغ کمپنی نے قرآن پاک کا ترجمہ بغیر عربی متن کے شائع کیا تو مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ نے اس اشاعت پر حرمت کا فتویٰ لگایا تھا۔ آپ کا استدلال یہی تھا کہ اس طرح تو ہرنا شر الگ الگ قرآن شائع کرنے قرآن شائع کرنے لگے لگا اور پھر اس پر بندباندھنا مشکل ہوجائے گا۔ سارے تراجم ایک سے نہیں ہوتے۔ ان میں صحیح بھی ہوتے ہیں اور بعض غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ اگر اصل عربی عبارت ساتھ ہوگی تو ترجمے کی صحت اور اغلاط کا پتہ چل جائے گا۔
بعض لوگوں نے اپنے باطل عقائد کو تراجم قرآن کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی ہے جن میں مولوی احمد رضا خان بریلوی بھی شامل ہے قادیانیوں اور منکر حدیث عبداللہ چکڑالوی نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ پرویز نے بھی اپنے غلط مسلک کو ترجمہ قرآن کے ذریعے پیش کیا ہے۔ غرضیکہ قرآن پاک کا ترجمہ قرآن نہیں ہو سکتا ، لہٰذا نماز میں عربی کے علاوہ کوئی قرأت قابل قبول نہیں اور عربی متن کے بغیر قرآن پاک کا ترجمہ شائع کرنا بھی حرام ہے۔
احسن القصص
فرمایا نحن نقص علیک احسن القصص ہم آپ پر اچھی طرح بیان کرتے ہیں۔ قصص کے دو معنی آتے ہیں۔ اگر مصدر کا معنی لیا جائے تو قص ، یقص ، قصاً اور قصصا کا معنی بیان کرنا ہوتا ہے اور احسن القصص کا معنی عمدہ طریقے سیب یان کرنا ہوگا۔ قصص کا دوسرا معنی واقعہ یاسرگزشت بھی آتا ہے۔ اس لحاظ سے معنی ہوگا کہ ہم آپ پر بہت اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بلاشبہ ایک اچھی سرگزشت بھی ہے۔
اس واقعہ کو احسن القصص اس لئے کہا گیا ہے کہ اس میں بہت سے حقائق اور عجائبات موجود ہیں۔ صاحب روم المعانی نے کئی موٹی موٹی باتیں بیان کی ہیں۔ مثلاً اس واقعہ سے حاسد اور محسود کا انجام واضح ہوتا ہے۔ مالک اور مملوک کا معاملہ سمجھ میں آتا ہے اور پھر شاہد اور مشہود کا ذکر بھی ہے اس واقعہ میں حبس (قید خانہ) اور اطلاق (رہائی) کا مسئلہ بھی آیا ہے اور قحط سالی اور خوشحالی کا ذکر بھی ہے۔ اسی طرح ذنب و عضو یعنی گناہ اور معانی کا معاملہ پیش آیا ہے اور پھر فراق اور وسالہ کے لمحات بھی آئے ہیں۔ اس قصہ میں بیماری اور صحت اور سفر و حضر کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ اسی واقعہ میں عزت و ذلت اور قضا و قدر کے مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ الصبر مفتاح الخیر یعنی تمام خوبیوں اور کامیابیوں کی چابی صبر ہے۔ حدیث شریف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر کی بڑی تعریف کی گئی ہے۔ معاملات کی اصلاح کے لئے مناسب تدابیر اختیا کرنا عقلمندی کی نشانی ہے۔ یہ سب حقائق ار عجائبات اس ایک ہی واقعہ میں مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی توحید ، ایمان اور اخلاق پر بھی بحث کی گئی ہے اور انہیں نہایت مئوثر انداز میں سجھایا گیا ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو احسن القصص کا لقب دیا ہے۔
واقعہ یوسف (علیہ السلام) بطور دلیل رسالت
فرمایا ہم آپ پر بڑی اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں جو حقائق و معارف پر مشتمل ہے۔ بما اوحینا الیک ھذا القرآن کی اس وجہ سے کہ ہم نے اس قرآن کو آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ یعنی یہ متام بیان کردہ واقعات نہ تو آپ نے خود کسی تاریخی کتاب میں پڑھے ہیں اور نہ کسی سے سنے ہیں۔ یہ تمام واقعہ یکایک بیان کردینا آپ کی رسالت کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ وان کنت من قبلہ لمن الغفلین اس سے پہلے آپ ان حقائق سے بیخبر تھے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوا اور جس پر وحی نازل ہوتی ہے وہ اللہ کا سچا رسول ہوتا ہے۔ اس سچے واقعہ کی تفصیلات جان لینے کے بعد مخاطبین قرآن کو سمجھ جانا چاہئے تھا کہ حضور ﷺ کے سچے رسول ہیں جو تمام واقعات من و عن بیان کر رہے ہیں۔ یہاں پر غفلت سے مراد کسی چیز کی لاعلمی یا بیخبر ی ہے کہ نزول وحی سے پہلے آپ کو ان واقعات کا علم نہیں تھا۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم آپ پر ایک نہایت اچھا واقعہ بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 12:4–6ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا ” بہت کھول کر بیان کرنے والی کتاب “ کے طور پر تعارف کرایا۔ اپنے اولین مخاطبین کی سہولت کے لئے اسے عربی زبان میں نازل فرمایا۔ پھر حضور خاتم النبین ﷺ کو خطاب فرمایا کہ ہم آپ پر اس قرآن پاک کو اچھے طریقے سے بیان کرتے ہیں یا یہ کہ ہم اچھی سرگزشت بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ قرآن ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے اور آپ اس سے پہلے بیخبر تھے یعنی آپ کو اس کا علم نہیں تھا۔
اس سورة مبارکہ میں کئی خاص باتیں بیان ہوئی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی غیب دان نہیں اور دوسری بات یہ کہ حقیقی کار ساز صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس سورة کی تیسری اہم بات حضور ﷺ کی رسالت ک تصدیق ہے۔ اللہ کے تمام نبیوں نے اپنے اپنے دور میں بڑی تکلیفیں برداشت کی ہیں۔ اس سورة کو احسن القصص کا لقب اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں بہت سے حقائق بیان ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کو کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ جب خدا تعالیٰ کسی پر فضل کرنا چاہے تو سارا جہان مل کر بھی ہر قسم کی تدابیر اختیار کرے مگر وہ خدا کے فضل سے محروم نہیں کرسکتے۔ دنیا کے تمام مقاصد صبر و استقامت کے ذریعے حاصل ہو سکتے ہیں۔ حسد اور عداوت خود حاسد کے لئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسا عظیم جوہر عطا کیا ہے جس سے فائدہ اٹھانا خود انسان کا کام ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ تمام حقائق و معارف اسی ایک سورة میں یکجا کردیئے ہیں۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ واقعہ یوسف (علیہ السلام) کو احسن القصص سے ملقب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کے افراد کو انسان کے ساتھ کمال درجے کی مشابہت ہے۔ مثلاً انسانی جسم میں قلب کمال درجے کا عضو ہے جسے خود حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ تشبیہہ دی جاتی ہے۔ انسانی جوہر روح کی مشابہت حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ہے۔ انسانی جوہر نفس حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بیوی راحیل کے ساتھ مشابہ ہے۔ اور انسانی جسم کے تمام قویٰ اور حواس حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی مثال ہیں بہرحال اس واقعہ میں بڑے بڑے حقائق اور بنیادی عقائد موجود ہیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب
ارشاد ہوتا ہے اذ قال یوسف لابیہ اس واقعہ کو دھیان میں لائو جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا۔ یویوسف (علیہ السلام) کے بچپن کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی ؟ اس بارے میں مختلف آرا ہیں تورات کے بیان کے مطابق اس وقت آپ کی عمر سترہ سال تھی جو کہ قرین قیاس نہیں۔ تو رات کے بہت سے بیانات تحریف کی زد میں آ کر یہودیوں کی کارگزاری پر نوحہ کناں ہیں تاہم عام مفسرین کرام نے خواب آنے کے وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر مبارک چھ ، آٹھ یا دس سال بتائی ہے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) سے کہا یابت اے میرے باپ انی رایت میں نے یہ خواب میں دیکھا ہے احد عشر کو کبا والشمس والقمر کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند ہیں رایتھم لی سجدین جو میرے سامنے سجدہ کر رہے ہیں چونکہ یہ یوسف (علیہ السلام) کی کم سنی کا واقعہ تھا ، اس لئے باپ نے بیٹے کو نصیحت آموز طریقے سے فرمایا قال یبنی لاتقصص رء یاک علی اخوتک اے بیٹے ! اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر نہ کرنا کیونکہ فیکیدوا لک کیداً وہ تجھے نقصان پہنچانے کی تدبیر کریں گے۔ باپ اپنے بیٹوں کی ذہنیت سے واقف تھے۔ انہیں یہ بھی واضح تھا کہ ان کے بیٹے مختلف مائوں سے ہیں اور ان کی آپ س میں رقابت بھی ہے اسی لئے انہوں نے بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے منع فرمایا اور اس کی وجہ یہ بیان کی ان الشیطن للانسان عدو مبین بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اگر تم نے یہ خواب بیان کردیا ، تو وہ تیرے بھائیوں کے دلوں میں برے وسوسے ڈال کر تمہاری رقابت کو مزید توقیت دینے کا باعث ہوگا۔ بائبل کے بیان کے مطابق خواب بیان کرنے پر یعقوب نے یوسف کو ڈانٹ پلائی تھی مگر یہ درست نہیں کیونکہ اگلی آیت میں آپ کی فضیلت اور بزیدگی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔
یوسف (علیہ السلام) کا خاندان
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی چاربیویاں تھیں آپ کی بیوی لیہ سے آپ کے چھ بیٹے تھے اور باقی تین بیویوں سے دو دو اس طرح آپ کے کل بارہ بیٹے تھے۔ راحیل کے بطن سے یوسف اور بن یامین تھے جب کہ باقی دو بیویوں بلہا اور زلفا سے بھی دو دو فرزندے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) اور بن یامین سب بھائیوں سے چھوٹے تھے۔ بعض فرماتے ہیں کہ جب بن یامین کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ راحیل وفات پا گئیں۔ بہرحال جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ عجیب و غریب خواب دیکھا تو اس وقت یعقوب (علیہ السلام) کی صرف ایک ہی بیوی لیہ موجودتھیں جسے یوسف (علیہ السلام) کی والدہ راحیل سے سخت رقابت رہی تھی جو اس وقت تک فوت ہوچکی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) بچپن سے ہی بڑے ہونہار دکھائی دیتے تھے اس لئے یعقوب (علیہ السلام) کو آپ سے پیار بھی بہت زیادہ تھا اور پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹوں میں سے اللہ تعالیٰ نے نبوت صرف یوسف (علیہ السلام) کو ہی عطا فرمائی ، بلکہ بعض بیٹے تو سخت گنہگار تھے جنہوں نے یوسف کے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو شکل و صورت بھی بےمثال عطا کی تھی۔ واقعہ معراج والی حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ جب میں تیرے آسمان پر گیا تو تو یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی ، فرمایا اذھوا اوتی شطر الحسن اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق میں سے آدھا حسن یوسف (علیہ السلام) کو اور باقی نصف ساری مخلوق پر تقسیم کیا تھا۔ اس واسطے بھی باپ کی شفقت اور مہربانی یوسف (علیہ السلام) پر زیادہ تھی۔
خواب کی اقسام
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ خواب کی ایک قسم انسان کے طبعی اخلاق پر منحصر ہوتی ہے انسان کے جسم میں جس قسم کے اخلاف ہوتے ہیں اسی قسم کے اس کو خواب بھی آتے ہیں۔ دوسری قسم کا خواب شیطان کے وسوسوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سے انسان کو غم اور پریشانی لاحق ہوتی ہے اس کو تخزین الشیطان کہتے ہیں اور تیسرا خواب رحمانی ہوتا ہے اور اللہ کے نبیوں کو آتا ہے ۔ رئویا الانبیآء وحی یعنی نبیوں کا خواب بھی وحی ہوتا ہے وحی کی مختلف صورتیں ہیں۔ بعض اوقات نبی کے قلب کا عالم بالا سے براہ راست تعلق ہوتا ہے اور فرشتہ وہیں پر نبی کے قلب کا عالم بالا سے براہ رسات تعلق ہوتا ہے اور فرشتہ وہی پر نبی کے قلب پر القا کردیتا ہے ۔ بعض اوقات فرشتہ کسی ظاہری شکل میں وحی لے کر آتا ہے اور بعض اوقات اللہ کے نبی کو خواب کے ذریعے بتلا دیا جاتا ہے۔ بہرحال دو قسم کے خواب باطل ہیں اور تیسرا برحق ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے لم یبق من النبوۃ الا المبشرات یعنی نبوت کے اوصاف میں سے سچے خوابوں کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ سچے خواب مبشرات کہلاتے ہیں اور کبھی یہ خود متعلقہ انسان دیکھتا ہے ار کبھی کوئی دوسرا مومن اس کے حق میں دیکھتا ہے ۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان 1 ؎ ہے اذا اقترب الزمان لم یکد یکذب رئویا المومن جب قیامت کا زمانہ قریب آجائے گا تو مومن کا خواب سچا ہوگا۔ بعض فرماتے ہیں کہ اقترب الزمان کا مطلب یہ ہے کہ جب ایسا موسم ہو کہ جس میں دن رات برابر ہوں تو اکثر خواب سچا ہوتا ہے۔ یا صبح کے وقت آنے والا خواب بھی عام طور پر سچا ہوتا ہے۔ باقی خواب کے لئے دن یا رات کی کوئی پابندی نہیں دن اور رات میں سے کوئی بھی خواب سچا ہو سکتا ہے۔ مومن کے خواب کے متعلق طبرانی کی روایت میں آتا ہے رئویا المئومن کلام یکلم عبداربہ یعنی مومن کا سچا خواب حقیقت میں ایسا کلام ہوتا ہے جو مومن بندہ اپنے رب سے کرتا ہے۔
خواب کی حقیقت
باقی رہی یہ بات کہ شریعت میں خواب کا اعتبار کیا ہے تو بنیادی بات یہ ہے کہ خواب کوئی بےحقیقت چیز نہیں بلکہ شریعت میں اس کو تسلیم کیا گیا ہے۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ انسان کی قوت متخیلہ میں تمام چیزوں کی تصویریں جمع رہتی ہیں۔ جب انسان سو جاتا ہے اور اس کے ظاہری حواس معطل ہوجاتے ہیں تو باطنی حواس کا تعلق عالم مثال یا عالم ملکوت کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ پھر سچے خوابوں کا تعلق عالم بالا سے ہوتا ہے جب کہ جھوٹے خوابوں کا متعلق اس عالم سے نہیں ہوتا فرماتے ہیں کہ خواب دیکھنے کی کیفیت اس طرح پیش آتی ہے کہ انسان کی قوت متخیلہ میں جو چیزیں جمع ہیں وہ وہاں سے اتر کر جس مشترک کی تختی پر آجاتی ہیں جس مشترک فلم کی طرح گردش کرتی ہے اور اس پر موجود تصویروں میں سے جو تصویر سامنے آجاتی ہے ، وہی خواب میں نظر آتا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ جب انسان کو
1 ؎ مشکوۃ المصا بیح ص 394/ج 1
جاتا ہے تو اس کی روح یا نفس کا تعلق عالم مثال سے قائم ہوجاتا ہے جس طرح انسان میں ایک قوت متخیلہ ہے اسی طرح مجموعہ عالم میں ایک خیالی قوت پائی جاتی ہے ار اس میں ہر قسم کی چیزوں مثلاً ملائکہ ، جنات ، موت ، مصیبت ، خوشی ، غمی وغیرہ کے عکس پائے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی چیز متشکل ہو کر خواب میں نظر آسکتی ہے ۔ غرضیکہ رو ح کا تعلق عالم مثال سے ہونے کی بنا پر یہ حقیقتیں نظر آتی ہیں۔
خواب کی تعبیر
سند کے لحاظ سے اگرچہ یہ قوی روایت نہیں ہے تاہم مفسرین کرام حضور ﷺ کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ اگر خواب میں عورت نظر آئے تو یہ بہتری کی علامت ہوتی ہے۔ خواب میں اونٹ کا نظر آنا جنگ یا سفر کی علامت ہے۔ دودھ فطرت سلیم کی نشانی ہے اور سبزہ نظر آنا جنت کی طرف اشارہ ہے۔ کشتی سے مراد نجات ہے اور کھجور سے فراخی رزق مراد ہوتی ہے۔ صحیح حدیث میں حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے انی احب القید و اکرہ الغل یعنی میں طوق کو ناپسند اور بیڑی یا ہتھکڑی کو پسند کرتا ہوں۔ گلے میں طوق تذلیل کی نشانی ہے جب کہ ہتھکڑی دین میں پختگی کی علامت ہے۔ حضور کے الفاظ میں القید ثبات فی الدین ۔ آپ (علیہ السلام) کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میری تلوار ذوالفقار ٹوٹ گئی ہے۔ اس میں جنگ احد کی طرف اشارہ تھا۔ میں نے دیکھا کہ گائے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ یہ بھی مصیبت کی علامت تھی کہ حضرت امیر حمزہ جیسے جلیل القدر صحابہ شہید ہوں گے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی شکستہ تلوار کو دوبارہ ہلایا تو وہ ٹھیک ہوگئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ آگے چل کر حالات درست ہوجائیں گے۔ چناچہ واقعتہً ایسا ہی ہوا۔ آگے اسی سورة میں شاہ مصر کا خواب بیان ہو رہا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں او سات دبلی ، نیز سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک ، دبلی گائیں اور خشک خوشے قحط سالی کی نشان ہے اور موٹی گائیں اور سبز خوشے خوشحالی کی علامت ثابت ہوئے۔
حضو ر (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد ہے کہ جو آدمی پریشان کن خواب دیکھے اسے چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تین دفعہ تھوک دے اور اللہ کی شیطان رجیم سے پناہ مانگے یعنی یوں کہے۔ اتعوذ باللہ من الشیطن الرجیم یا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کہے لاحول ولا قوۃ الا باللہ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ جب سوتے میں برا خوب دیکھے تو فریاد وہ شخص اپنا پہلو بدل لے ، اس کو نقصان نہیں ہوگا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی پریشان کن خواب دیکھے اسے لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔ فرمایا اگر اچھا خواب دیکھے تو پھر بھی اس کا ذک نہ کرے سوائے دو قسم کے آدمیوں کے ایک حبیباً یعنی دوست ٓدمی جو اس کا اچھا محمل بنائے گا اور دوسرا لبیباً یادانا آدمی ہو ، اس کے سامنے ذکر کرسکتے ہو کسی بیوقوف آدمی سے ذکر کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے اور وہ شخص پریشان ہو سکتا ہے۔ فرمایا خواب کا معاملہ عجیب و غریب ہوتا ہے یہ رئویا اس وقت تک ہوتا ہے جب تک اس کی تعبیر نہ دے دی جائے۔ جب تعبیر دے دی جائے تو پھر یہ واقعہ بن جاتا ہے۔ فرمایا جب تک اس کی تعبیر نہ ید جائے علی رجل طآئر یہ پرندے کے پائوں پر ہوتا ہے۔
خواب کی تعبیر بتانا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ بعض آدمیوں میں فطرتاً بڑی صلاحیت ہوتی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق میں اللہ نے یہ خصوصیت رکھی تھی۔ اس کے بعد امام ابن سیرین کا نام آتا ہے برصغیر میں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی خواب کی تعبیر بتاتے تھے ہمارے بزرگوں میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی کا نام آتا ہے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خاں صفدر کو بھی اس سلسلہ میں کمال حاصل ہے۔ خواب اور اس کی تعبیر کے درمیان کبھی تھوڑا فرق ہوتا ہے اور کبھی زیادہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر چالیس سال کے بعد واقع ہوئی۔ بہرحال خواب ایک حقیقت ہے ، اسی لئے محدثین کرام نے اپنی اپین کتابوں میں کتاب الرئویا کے نام سے باب باندھے ہیں۔
یوسف (علیہ السلام) کی برگزیدگی
بہرحال حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان کرنے سے اس لئے منع فرما دیا کہ وہ تمہیں نقصان پہنچانے کی تدبیر کرینگے۔ فرمایا : وکذلک یجتبیک ربک اسی طرح تیرا پروردگار برگزیدہ کرے گا تجھے بچپن کا خواب کوئی معموی بات تو نہیں تھی۔ جس کے ذریعے اللہ نے آپ کو بہت بڑی برگزیدگی عطا فرمائی اور زندگی کے اگلے میدان میں بھی اسی طرح اعلیٰ مقام عطاء کرنے کی پیش گوئی فرمائی فرمایا ویعلمک من تاویل الاحدیث اور اللہ تعالیٰ سکھلائے گا تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی تاویل الاحادیث سے مراد خواب کی تعبیر کا علم بھی ہو سکتا ہے اور عام معاملات کو ٹھیک طریقے سے نپٹانے کا کام بھی کس چیز کے مخفی گوشوں کو سمجھنا ، باریک باتوں کی تہ تک پہنچنا اور ان کے موقع و محل کو جاننے کے بعد اس کے متعلق ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنا ، سب تاویل الاحدیث میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ کمال علم عطا کیا تھا۔
آل یعقوب پر اممام نعمت
فرمایا ویتم نعمتہ علیک اور اے یوسف (علیہ السلام) ! اللہ تعالیٰ اپنی نعمت تجھ پر پوری کریگا ، یعنی آپ کو اونچے مقام پر فائز کریگا چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت جیسے عظیم منصب پر فائز کیا اور پھر دنیوی اعتیار سے بھی مصر کی حکمرانی عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو جاہ و اقتدار نصیب کیا اس کی تفصیل آگے اسی سورة میں آ رہی ہیں فرمایا نہ صرف تم پر اتمام نعمت کریگا بلکہ علی آل یعقوب یعقوب (علیہ السلام) کے پورے خاندان کو بھی اس نعمت میں شامل کرے گا۔ کما اتمھا علی ابویک من قبل ابراہیم و اسحاق جس طرح کہ اس نے اس سے پہلے تمہار آبائو اجداد حضرات ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اس نعمت کو پورا کیا یعنی جس طرح ان کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اس طرح تم کو بھی یہ نعمت دے گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر یوس (علیہ السلام) کے دادا اسحاق (علیہ السلام) اور پر دادا ابراہیم (علیہ السلام) کا نام تو لیا گیا ہے مگر باپ یعقوب (علیہ السلام) کا نام نہیں لیا گیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنا نام کسر نفسی کی بناء پر نہیں لیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کسی شخص نے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کو یا خیر الیریۃ کے لقب سے پکارا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ خیر البریہ یعنی تمام مخلوق میں بہترین شخصیت تو ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے۔ آپ نے بھی کسر نفسی کی بنا پر اپنا نام نہیں لیا۔ اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) نے اپنا نام نہیں لیا حالانکہ وہ اللہ کے عظیم الشان رسول تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کے سامنے عرض کیا۔ حضور ! بہتر لوگ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم۔ یعنی یوسف ابن یعوقب ابن اسحاق ابن ابراہیم اللہ نے سب کو نبوت عطا فرمائی ، سارے ہی بہتر لوگ ہیں ۔ پھر صحابہ نے عرض کیا کہ ہم ان کے متعلق دریافت نہیں کرتے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، تو پھر کیا تم عربوں کے متعلق پوچھتے ہو ؟ عرض کیا ، ہاں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا خیارک فی الجاھلیۃ خیارکم فی الاسلام تم میں سے جو لوگ جاہلیت کے زمانہ میں اچھے لوگ تھے وہ اسلام میں بھی اچھے ہوں گے ، اگر انہوں نے دین میں سمجھ حاصل کرلی۔ غرضیکہ یہ کمال درجے کی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے خاندان کو عطا فرمائی۔ اللہ نے اس خاندان کو پوری دنیا میں بزرگی عطا فرمائی۔ پھر یہ بھی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اللہ نے چار ہزار انبیاء معبوث فرمائے آپ کو اتنا بڑا اعزاز بخشا پھر خاندان ابراہیم کی دوسری شاخ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں اپنی آخری نبوت و رسالت بھی عطا فرمائی یعنی حضور ﷺ کو اپنا آخری نبی مبعوث فرمایا ان ربک علیکم حکیم تیرا پروردگار سب کچھ جاننے والا اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ ہر چیز اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اب اگلی آیات میں اس خواب کی تعبیر میں برادران یوسف کے حسد کا ذکر اور پھر یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانے کے منصوبے کا بیان آ رہا ہے۔
Ayahs 12:7–10ربط آیات
اس سے پہلے خواب کا ذکر ہوچکا ہے جو یوسف (علیہ السلام) نیبچپن میں دیکھا تھا۔ جب اس کا ذکر اپنے باپ کے پاس کیا تو انہوں نے منع کیا کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ وہ حسد کریں گے اور تمہیں ضرور پہنچائیں گے اس کے ساتھ باپ نے اپنے فرزند کو تسلی بھی دی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی بتلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر کا علم بھی شامل ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرے گا۔ جیسا کہ اس نے تمہارے آبائو اجداد ابراہیم اور اسحاق (علیہما السلام) پر اپنی نعمتوں کا اہتمام کیا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔
واقعہ یوسف میں نشانیاں
ارشاد ہتا ہے لقد کان … فی یوسف واخوتہ ایت للسآئلین البتہ تحقیق یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے بھائیوں کے واقعہ میں کئی نشانیاں ہیں سوال کرنے والوں کے لئے۔ ان میں سب سے پہلی نشانی حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت کی صداقت ہے آپ نے یہ واقعہ نہ کہیں پڑھا اور نہ کسی سے سنا مگر وحی الٰہی کے ذریعے اس کو صحیح صحیح بیان فرما دیا۔ یہ بات اللہ نے سورة کی ابتداء میں بھی فرمائی ہے ” بمآ اوحینا الیک ھذا القرآن “ یہ واقعہ ہم آپ پر اچھی طرح بیان کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اس قرآن کو آپ پر وحی کے ذریعے نازل کیا ہے تو گویا اس واقعہ میں ایک تو حضور کی رسالت کی نشانی ہے اور دوسری خود قرآن پاک کی صداقت کی نشانی ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی بہت سی نشانیاں اور دلائل ہیں۔ آیات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ دیکھو حاسد کس طرح ناکام ہوتا ہے اور صبر و استقلال کا انجام کتنا اچھا ہوتا ہے۔ بھائیوں نے حسد کیا تو وہ نامراد ہوئے جب کہ یوسف (علیہ السلام) نے صبر کیا تو کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی جاہ و اقتدار عطا کیا اور آخرت کی کامیابی تو یقینی ہے۔ اس واقعہ میں یہ بھی ایک نشانی ہے کہ جس شخص کا تعلق اللہ تعالیٰ سے درست ہوتا ہے اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں اور جس کا تعلق اللہ سے صحیح نہیں ہوتا ، اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
سائلین کون تھے
اللہ نے فرمایا ہے کہ واقعہ یوسف (علیہ السلام) میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ وہ سوال کرنے والے کون لوگ تھے ؟ اس کے متعلق شاہ عبدالقادر محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ یہودیوں کے کہنے پر قریش مکہ نے یہ سوال کیا تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بابل سے چل کر شام و فلسطین میں ٹھہر گئے تھے مگر بنی اسرائیل کا مصر کے ساتھ سلسلہ کیسے قائم ہوا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل کی کثیر تعداد نے مصر سے خروج کیا تھا اور پھر وہ بحر قلزم کو عبو کر کے صحرائے سینا میں پہنچ گئے تھے اسی سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف نازل فرما کر حقیقت حال کو واضح فرما دیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں بطور غلام فروخت ہوئے پھر اللہ نے آپ کو وہیں پر حکومت دی اور آپ وہاں پر ہی آباد ہوگئے۔ پھر آپ کا خاندان بھی وہیں آ گیا اور چار پانچ سو سال کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) کا دور آیا تو بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ تک پہنچ چکی تھی جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ مصر کو چھوڑ دیا۔ مطلب یہ کہ مصر میں بنی اسرائیل کے درود کی ابتدا حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ہوئی تھی۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ سائلین سے وہ لوگ مراد ہیں جو حضور ﷺ سے دریافت کرتے تھے کہ آپ کا اور اسلام کا مستقبل کیا ہوگا۔ اللہ نی اس کے جواب میں یہ سورة نازل فرمائی۔ نزول سورة کے زمانہ میں اہل ایمان نہایت پریشانی کے عالم میں تھے۔ مشرکین عرب و مکہ کی مخالفت حد سے بڑھ چکی تھی ، تو ان حالات میں بعض مسلمانوں نے حضور سے یہ سوال کیا تھا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف نازل فرما کر مسلمانوں کو تسلی دی کہ جس طرح اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کا مستقبل تابناک بنایا اسی طرح تمہارا مستقبل بھی شاندار ہے اللہ تعالیٰ تمہیں بھی عروج دیگا جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مجرم تھے ، پھر نادم ہوئے اور توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ بھی قبول فرما لی اس طرح مکہ کے مشرکین بھی بالآخر نادم ہوں گے اور توبہ کریں گے۔ بہرحال سورة یوسف کے باین کردہ واقعہ سے حضور ﷺ اور اہل ایمان کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔ وقتی طور پر تکلیفیں آتی رہتی ہیں اور ہر نبی کو پیش آئیں مگر آخر کار کامیابی بھی انہی کے حصے میں آئی۔
برادران یوسف کا صلاح مشورہ
بائیبل ، تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں میں اس واقعہ کی بہت سی تفصیلات بیان کی گئی ہیں مگر وہ ساری کی ساری صحیح نہیں ہیں۔ قصے کہانیوں کی کتابوں میں بہت سی غلط باتیں بھی جمع کردی گئی ہیں۔ مگر قرآن پاک صرف وہی حقائق بیان کرتا ہے جن سے انسانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ، لوگوں کے سامنے ایک اچھا نمونہ آتا ہے اور وہ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آنے الے واقعات کی ابتداء اسی طرح ہوتی ہے اذا قالوا جب برادران یوسف نے کہا ، یعنی آپس میں مشورہ کیا۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور بن یامین سب بھائیوں سے چھوٹے تھے اور ایک ماں سے تھے جب کہ باقی بھئای تین مائوں سے تھے ، ایک کے چھ بیٹے تھے اور باقی دو کے دو دو تھے۔ یوسف (علیہ السلام) اور بن یامین کی ماں فوت ہوچکی تھی ، اس لئے باپ کو ان چھوٹے بچوں سے زیادہ پیار تھا جو بڑے بھائیوں پر گراں گزرتا تھا۔ تو بڑے بھائیوں نے مشورہ کیا اور کہنے لگے لیوسف واخوہ احب الی ابینا منا کہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کا بھائی بن یامین ہمارے باپ کو زیادہ محبوب ہیں۔ ونحن عصبۃ حالانکہ ہم ایک طاقتور جتھا ہیں۔ عصبہ اس پارٹی یا گروہ کو کہا جاتا ہے جس کے افراد کی تعداد دس سے پندرہ تک ہو۔ برادران یوسف کی تعداد بھی دس تھی تو انہوں نے کہا کہ ہم دس بھائی بڑے طاقتور ہیں ، باپ کے کام بھی آ سکیت ہیں مگر یہ دو چھوٹے بھائی ابھی کسی کام کاج کے قابل نہیں مگر ہمارے باپ کو یہ ہم سے زیادہ عزیز ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارا باپ ہمارے طرف توجہ نہیں کرتا بلکہ انہی دو کو سب کچھ سمجھتا ہے ان ابانا لفی ضلل مبین ہمارا باپ تو صریح غلطی پر ہے۔ یاد رہے کہ یہاں پر ضلال سے مراد گمراہی یا کفر نہیں ہے کیونکہ مشورہ کرنے والے لوگ کافر نہیں بلکہ پیغمبر زادے ہیں اور جانتے تھے کہ ان کا اپ اللہ کا نبی ہے۔ البتہ ان کا خیال تھا کہ ہمارا باپ چھوٹے بچوں سے زیادہ پیار کر کے اجتہادی غلطی کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اجتہاد میں ایک عام امتی کے علاوہ نبی سے بھی خطا ہو سکتی ہے۔ بیٹوں کا خیال یہ ھتا کہ بڑے ہونے کی حیثیت سے ہم باپ کے لئے زیادہ کارآمد ہیں اور چھوٹے بچے ابھی اس کے لئے زیادہ مفید نہیں ، لہٰذا اسے ہماری طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے اسی لئے انہوں نے کہا کہ ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے۔
قتل یا گمشدگی
بہرحال مشورہ انہوں نے یہ کیا اقتلو یوسف کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو او اطرحوہ ارضاً یا پھینک دو اس کو کسی سر زمین میں یعنی کہیں دور دراز کسی کنوئیں یا گڑھے میں پھینک دو تاکہ یہ باپ کی نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گایخل لکم وجہ ابیکم تمہارے باپ کی توجہ اور شفقت تمہارے واسطے خالی ہوجائے گی۔ یوسف کی عدم موجودگی میں باپ تمہیں پیار کرنے لگے گا اور اس کی ساری توجہ تمہاری طرف مبذول ہوجائے گی۔ غرضیکہ یوسف (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانے کے لئے ان کے سامنے دو تجویزیں تھیں کہ اسے قتل کر دو یا کسی گہرے کنوئیں یا کھڈ وغیرہ میں ڈال دو ۔ وتکونوا من بعدہ قوماً صلحین اور ہو جائو تم اس کے بعد اچھے اور نیک لوگ۔ بھائیوں کے دل میں یہ شیطانی فلسفہ آ رہا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ سے توبہ کرلینا اور نیکوکاروں میں شامل ہوجانا مگر اس وقت یہ کام کرنا ضروری ہے۔ آج بھی بعض لوگ گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بعد میں توبہ کرلیں گے۔ بنیادی طور پر یہ فلسفہ ہی غلط ہے ہمیشہ گناہ سے بچنا چاہئے کیونکہ کسی کو علم نہیں کہ گناہ کے ارتکاب کے بعد توبہ کا موقع بھی ملے گا یا نہیں یہ محض شیطانی تسویل ہے۔ قال قائل منھم ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا لاتقتلوا یوسف یوسف (علیہ السلام) کو قتل نہ کرو۔ بےگناہ بچے کا خون اپنے سر پر نہ لو ، یہ بہت بڑا ظلم ہے بلکہ والقوہ فی غیبت الجب ڈال دو اس کو کسی گہرے کنوئیں میں کسی گمنام گڑھے میں پھینک دو یلتقطہ یعض السیارۃ اس کو کوئی قافلہ اٹھا لے گا یعنی اس راستے پر آنے جانے والے قافلوں میں سے کسی کی نظر پڑگئی تو کنوئیں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائے گا اور اس طرح یوسف اپنے باپ کی نظروں سے ہمیشہ کے لئے غائب ہوجائے گا۔ کہنے لگا ، ایسے ہی کرو ان کنتم فعلین اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو یہ تدبیر اختیار کرو۔ بہرحال اس قسم کا مشورہ طے پا جانے کے بعد برادران یوسف نے اپنے بھائی کو لے جا کر ایک کنوئیں میں ڈال دیا اور پھر آگے سارے واقعات پیش آئے جن کا ذکر آگے آئے گا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضور ﷺ میں مماثلت
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) اور حضور خاتم النبین (علیہ الصلوۃ والسلام) کے واقعات میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے خلاف قتل یا کہیں پھینک دینے کا مشورہ ہوا تو حضور ﷺ کے خلاف قتل یا کہیں پھینک دینے کا مشورہ ہوا تو حضور ﷺ کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ مشرکین نے دار الندوہ میں یہی مشورہ کیا تھا کہ حضور ﷺ کو قتل کردیا یا قید میں ڈال دیا جائے یا پھر جلا وطن کردیا جائے پھر جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائی یہودا نے آپ کے قتل کے خلاف رائے دی تھی اسی طرح کفار میں سے بھی بعض آدمیوں نے حضور ﷺ کے فوری قتل کی مخالفت کی تھی۔ مگر ان کی بات نہ مانی گئی اور آپ کے قتل ہی کا منصوبہ پاس ہوا۔ وہ لوگ حضور ﷺ کے مکان کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور اسی وقت حملہ آور ہونا چاہتے تھے مگر ایک شخصنے کہا کہ اس وقت حملہ نہ کرو بلکہ صبح تک انتظار کرو ، جب حضور نماز فجر کے لئے باہر نکلیں گے تو یکبارگی حملہ کردینا اس ہمدرد دشمن کا خیال تھا کہ وقفہ ملنے سے ہو سکتا ہے کہ ان کی رائے بدل جائے یا اللہ کوئی اور سبیل پیدا کر دے۔ بہرحال وہ لوگ صبح تک انتظار کرتے رہے مگر حضور ﷺ مٹی کی مٹھی پھینکتے ہوئے ان کے پاس سے گزر گئے اور انہیں خبر تک نہ ہوئی اور اس طرح کفار کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ یوسف (علیہ السلام) اور حضور ﷺ کے واقعات میں یہ بھی مماثلت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو قتل کے منصوبے سے بچا لیا۔ دوسری بڑی مماثلت یہ ہے کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) کا مستقبل روشن ہوا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں حکومت عطا فرمائی اور اذیت پہنچانے والے بھائیوں کو سرنگوں کیا ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بھی غلبہ عطا کیا اور جن مشرکین کی اذیت ناکیوں کی وجہ سے آپ کو مکہ چھوڑنا پڑا تھا ، وہی لوگ فتح مکہ کے دن سرنگوں ہوگئے جس طرح یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو عاف کردیا تھا ، اسی طرح حضور ﷺ نے بھی اپنے بھائی بندوں کو معاف کردیا اور پھر ان میں سے بہت سے ایمان لے آئے۔
محبت کی وجوہات
مفسرین کرام نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو چھوٹے بیٹوں سے کیوں زیادہ محبت تھی حالانکہ سب کے ساتھ یکساں معاملہ ہونا چاہئے تھا تو فرماتے ہیں کہ اس کی بعض وجوہات تھیں۔ مثلاً یہ ک جب بن یامین پیدا ہوئے تو ان کی والدہ فوت ہوگئی اور یہ دونوں بھائی کم سنی میں والدہ کی محبت سے محروم ہوگئے جس کی وجہ سے باپ کو ان کی طرف توجہ دینی پڑتی تھی اس کے علاوہ یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) میں ایسے آثار نظر آئے تھے جو باقی بیٹوں سے نمایاں تھے جیسے خواب والا واقعہ ، تو اس لحاظ سے آپ سمجھتے تھے کہ میرا یہ بیٹا بڑا لائق اور ہونہار ہے ، لہٰذا آپ اس کی طرف زیادہ توجہ کرتے تھے۔ اس قسم کی مثال حضرت دائود (علیہ السلام) کے حالات میں بھی ملتی ہے۔ آپ کے کل انیس بیٹے تھے جن میں سے سلیمان (علیہ السلام) سب سے چھوٹے تھے چونکہ آپ کے باقی بیٹے لائق نہیں تھے اس لئے صرف تیرہ سال کی عمر میں آپ کی نیابت بھی سلیمان (علیہ السلام) کے حصے میں آئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بےپناہ ذہانت اور عقل عطا فرمائی تھی اس لئے دائود (علیہ السلام) کی توجہ آپ کی طرف زیادہ تھی اور یہ کوئی گناہ کی بات بھی نہیں ہے۔
مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اپنی کم سنی کے باوجود باقی بھائیوں کی نسبت باپ کی خدمت بھی زیادہ کرتے ہوں۔ کیونکہ بڑے بھائی تو اکثر کام کاج اور شکار کے لئے باہر جاتے تھے اور یہ دونوں بھائی ہی بوقت ضرورت آپ کی خدمت بجا لاتے تھے۔ بعض اوقات باپ کی حسب منشا معمولی کام بھی اس کے لئے بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے اور بڑے سے بڑا کام بھی اگر بد دلی سے کیا جائے تو اس کی زیادہ قدر نہیں ہوتی۔ مطلب یہ کہ یعقوب (علیہ السلام) کی چھوٹے بچوں سے زیادہ محبت بلا وجہ نہیں تھی۔
اب اگلی آیات میں باپ اور بیٹوں کے درمیان اس مکالے کا ذکر آ رہا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے تھے۔
Ayahs 12:11–14ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں سوال کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کا ان کے چھوٹے بیٹوں کے ساتھ محبت کا ذکر ہوا اور بھائیوں کے حسد اور رشک کو بھی بیان کیا گیا۔ پھر بھائیوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ کسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانا چاہئے تاکہ باپ کی توجہ ان کی طرف مبذول ہو سکے۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس کو قتل کردیا جائے یا کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ کام کاج کرنے والے ہم ہیں جب کہ ہمارا باپ ان چھوٹے بیٹوں سے زیادہ محبت کرتا ہے جو ابھی تک کوئی کام بھی نہیں کرسکتے۔ ان بھائیوں میں سے ایک نے یہ مشورہ دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل نہ کرو بلکہ کسی کنوئیں میں پھینک دو ، یہاں سے گزرنے والے قافلوں میں سے کوئی اسے اٹھا کرلے جائیگا اور اس طرح یہ بات کی نظروں سے اوجھل ہوجائیگا اور تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا اب آج کے درس میں برادران یوسف کی اپنے باپ سے اس باتچیت کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے منصوبہ کی تکمیل کے لئے کی۔
باپ سے درخواست
ارشاد ہوتا ہے قالوا بھائیوں نے کہا یابانا مالک لا تامنا عل یوسف اے ہمارے باپ ! کیا بات ہے کہ آپ ہمیں امین خیال نہیں کرتے یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ جنگل میں سیرو سیاحت اور شکار وغیرہ کے لئے جایا کرے وانا لہ لنصحون حالانکہ ہم تو اس کے حق میں بڑے خیر خواہ ہیں۔ ہم یوسف کے حق میں مخلص ہیں ، اس کا بڑا خیال رکھنے والے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ بھی ہماری طرح توانا اور مضبوط ہو۔ لہٰذا ارسلہ معنا عداً آپ اسے کل ہمارے ساتھ بھیجیں تاکہ یرتسع وہ کھاپی لے اور تفریح طبع کرلے۔
رقع کا معنی دراصل جانوروں کا گھاس وغیرہ چرنا ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کا ارشاد 1 ؎ ہے اذا مررتم بریاض الجنۃ فارتعوا یعنی جب تم جنت کے باغوں میں سے گزر تو چرچگ لیا کرو۔ صحابہ نے عرض کیا ، حضور ! جنت کے باغ کون سے ہیں ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا وہ اللہ کی مسجدیں ہیں اور وہاں سے چرنا چگنا یہ ہے کہ وہاں پر اللہ کا ذکر کیا جائے ، تسبیح و تہلیل کی جائے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا الہ الا اللہ ، اللہ اکبر جیسے پاکیزہ کلمات زبان سے ادا کئے جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت میں تمہیں فراوانی کے ساتھ کھانے کو پھل میسر ہوں گے۔ گویا یہ مسجدیں جنت کے باغ ہیں اور ان میں خلوص کے ساتھ عبادت کرنا ان کے پھل کھانے کے مترادف ہے۔ غرضیکہ رتع کا معنی کھانا پینا یا چرنا چگنا آتا ہے۔
جھیلوں کی حیثیت
برادران یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ہمراہ لے جانے کی دو وجوہات بیان کیں پہلی بات یہ تھی کہ یہ ہمارے ساتھ جنگل میں جا کر وہاں کے پھل وغیرہ با افراط کھا پی لے گا اور دوسری باتیہ کہ ویلعب وانا لہ لحفظون کھیل کود لے گا بیشک ہم اس کی البتہ حفاظت کرنے والے ہیں۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نبی یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے کھیل کود کا ذکر کیا گیا مگر انہوں نے اس کو برداشت کیا حالانکہ کھیل کود تو ایک لغو چیز ہے اللہ کا نبی ایسی چیز کی اجازت کیسے دے سکتا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عام طور پر تو کھیل بیہودہ ہی ہوتے ہیں مگر بعض کھیلوں کو جائز بھی قرار دیا گیا ہے۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ ہر قسم کا کھیل باطل ہے مگر اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی جائز ہے ، گویا یہ حق کھیلوں میں سے ہے۔ اسی طرح گھوڑے
1 ؎ ترمذی ص 505
دوڑانا ورزش کرنا اور تیر اندازی کرنا بھی العاب حق پر مشتمل ہیں۔ باقی سب کھیل باطل ہیں۔ بیوی کے ساتھ دل لگی اس لئے جائز ہے کہ یہ حسن اخلاق میں داخل ہے اور گھوڑا سواری اور تیر اندازی دشمن سے مقابلے کے لئے بطور مشق ہے لہٰذا یہ بھی درست ہے۔
کھیلوں کی قباحت
ہمارے ہاں فضول کھیل رائج ہیں جن پر بےدریغ روپیہ خرچ کیا جاتا ہے۔ وقت کا ضیاع اس کے علاوہ ہے۔ کھیلوں کی وزارتیں بنتی ہیں اور پھر مختلف کھیلوں کی ٹی میں غیر ممالک میں جا کر بین الاقوامی میچوں میں حصہ لیتی ہیں ، یہ سراسر اسراف ہے جس کا قومی لحاظ سے کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا۔ اولمپک گیمز یونانیوں کے جاری کردہ ہیں۔ ان کھیلوں میں مرد اور عورتیں سب شامل ہوتے ہیں۔ ہا کی ، فٹ بال ، ٹینس اور پھر سب سیب ڑھ کر کرکٹ نے قوم کو بیکار کر کے رکھ دیا ہے ۔ نہ صرف بین الاقوامی اور قومی میچوں میں لوگ ہفتہ بھر کے لئے بیکار بیٹھ جاتے ہیں بلکہ ہر گلی ، بازار اور میدان میں نئی پود دن رات اسی کام میں مصروف نظر آتی ہے جو کہ سراسر قومی نقصان ہے اس کے علاوہ مردوں اور عورتوں کی مشترکہ گیموں میں عریانی اور فحاشی کو تقویت ملتی ہے۔ نیم برہنہ کھلاڑی عورتوں کو تمام مرد بھی دیکھتے ہیں جس کی وجہ سے اخلاقی طور پر بھی قوم تباہ ہو رہی ہے۔ یہ سب باطل ہے اور اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ کافروں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے بھی ایسے کھیلوں کو اپنا لیا ہے۔ حکومتیں سرپرستی کر رہی ہیں۔ حالانکہ جہاد میں کام آنے والے کھیل کے سوا کوئی کھیل جائز نہیں ہے۔
یورپ اور امریکہ کی اندھا دھند تقلید ہمارے لئے کسی طور مفید نہیں ہم سمجھتے ہیں ک غیر ممالک نے بڑی ترلی کرلی ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس عریانی ، فحاشی اور عیاشی کے پس پردہ چوری ، بدکاری ، ڈکیتی اور قتل کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ جہاں تک اخلاق اور تہذیب کا تعلق ہے۔ ا ن ممالک میں معکوس ترقی ہوئی ہے۔ زنا کی فراوانی کی وجہ سے نسل ہی بگڑ چکی ہے اور دین کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔
بہر حال اللہ کے نبی یعقوب علیہالسلام نے اپنے فرزندوں کو کھیل کود کی اجازتدیدی کیونکہوہتیراندازی جیسے جائز کھیل میں دلچسپی رکھتے تھے ، ورنہ کسی باطل کھیل کے لئے اللہ کا نبی اجازت نہیں دے سکتا۔ وہ تو اسی بات کی اجازت دے گا۔ جو دین اور عاقبت کے لئے مفید ہوگی۔
یعقوب (علیہ السلام) کی تشویش
جب بیٹوں نے کھانے پینے اور کھیل کود کے لئے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی درخواست پیش کی قال انی لیحزننی ان تذھبوا بہ تو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ، بیشک یہ بات مجھے غم میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جائو واخاف ان یا کلہ الذنب اور مجھے خطرہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے وانتم عنہ غفلون اور تم اس سے غافل ہو یعنی تم کو پتہ ہی نہ چلے اور یوسف کو بھیڑیا کھا جائے مجھے اس بات کا ڈر ہے۔
اکثر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کے وطن کنعان میں بھیڑیے کثرت سے پائے جاتے تھے جو بھیڑ بکریوں کو نقصان پہنچاتے تھے اور موقع ملنے پر انسان پر بھی حملہ کردیتے تھے۔ یہ ایسا موذی جانور ہے کہ انسان کا چھوٹا بچہ اس کی زد میں آجائے تو چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف شیر سب سے طاقتور درندہ ہونے کے باوجود شریف جانور ہے جب تک اس سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے ، یہ حملہ آور نہیں ہوتا ، مگر بھیڑیا ہر موقع پر حملہ کردیتا ہے۔ قدرت نے اس جانور کو عجیب و غریب خصلت بخشی ہے۔ یہ اسی میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ اگر کسی جگہ پر ہزار بھیڑ بکریاں بھی ہوں تو سب کو نقصان پہنچاتا ہے اور پھر تیز گام ہونے کی وجہ سے بھاگ بھی جاتا ہے۔ بھیڑیا اکیلا شکار کے لئے نہیں نکلتا بلکہ یہ گروہ درگروہ نکلتے ہیں۔ زیادہ نہیں تو کم از کم جوڑی تو ضرور ہوتی ہے۔ عربوں کے ہاں مشہور ہے کہ بھیڑیا بڑا خریص جانور ہے ، جب سوتا ہے تو ایک آنکھ کھلی اور ایک بند رکھتا ہے۔ پھر جب آدھی نیند پوری کرلیتا ہے تو پہلی آنکھ بند کرلیتا ہے دوسری کھول لیتا ہے۔
اقتدار کی جنگ
حضور ﷺ نے اپنے ایک فرمان میں بھیڑیے کی مثال اس طرح دی ہے کہ کسی آدمی کا چودھراہٹ اور برتری کی طرف راغب ہونا دین کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے ، جس قدر بھوکا بھیڑیا ریوڑ کا نقصان کرتا ہے ، جب اسے بھیڑوں میں چھوڑ دیا جائے ، چودھراہٹ کے جنون نے انسانی سوسائٹی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی من مانی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسرے فریق کی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اس کا نتیجہ تکبر اور غرور کی صورت میں نکلتا ے۔ اخلاقی قدریں ختم ہوجاتی ہیں اور دین کا نام و نشان تک بای نہیں رہتا۔ ایران عراق جنگ محض چودراہٹ کی جنگ ہے جو سال ہا سال سے دو مسلمان ملکوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اس جنگ میں پانچ لاکھ آدمی ہلاک ہوچکے ہیں۔ زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے جس پر دونوں ملک اپنا اپنا حق جتلا رہے ہیں اور اس معمولی ٹکڑے کی خاطر کھربوں روپیہ برباد ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک پر شیطانی چودھراہٹ سوار ہے ، ورنہ یہ مسئلہ افہام و تفہیم کے ذریعے آسانی سے طے ہو سکتا ہے۔
بھائیوں کا اصرار
بیٹیوں کی درخواست پر جب باپ نے اپنے خدشہ کا اظہار کیا۔ قالوا لئن اکلہ الذنب کہنے لگے ، اگر یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا۔ ونحن عصبۃ تو ہم تو ایک مضبوط جماعت ہیں ، بڑے طاقتور اور مرد میدان ہیں انا اذا لخسرن ہم تو پھر نہایت نکمے اور عاجاز ٹھہرے اگر ہمارے ہوتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کو بھیڑیا کھا گیا تو ہماری جوانمردی کا کیا فائدہ ، ہم سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ الغرض بیٹوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ انہیں کوئی خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہئے۔ ادھر بھائی یوسف (علیہ السلام) کو بھی ورغلا رہے تھے اور انہیں سبز باغ دکھا کر ہمراہ جانے پر آمادہ کر رہے تھے اور باپ کو بھی یقین دلا رہے تھے کہ وہ بھائی کی حفاظت کا ذمہ لیتے ہیں ، آخر کار باپ مجبور ہوگیا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
واقعہ کا اگلا حصہ اب اگلی آیات میں بیان ہو رہا ہے۔