Ayahs 12:84–87ربط آیات
برادران یوسف کا مصر سے واپسی کا ذکر ہو رہا تھا۔ انہوں نے کنعان واپس پہنچ کر باپ کو چھوٹے بھائی کے چوری میں ملوث ہوجانے کا واقعہ سنایا اور اس ضمن میں اپنی صداقت کے لئے بعض شہادتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ، مگر یعقوب (علیہ السلام) نے ان پر اعتماد نہ کیا اور فرمایا کہ یہ ساری کہانی تمہارے اپنے نفسوں کی وضع کردہ ہے مگر اب میں صبر جمیل کے علاوہ کر بھی کیا سکتا ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ شاید وہ ان سب بچھڑے ہوئے افراد کو میرے پاس لے آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے۔ ہر بات اس کے علم میں ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
یعقوب (علیہ السلام) کی حالت زار
بیٹوں سے مذکورہ گفتگو کرنے کے بعد ولولی عنھم یعقوب (علیہ السلام) ان سے پھرے یعنی مزید بات چیت کرنے کی بجائے ان سے علیحدگی اختیار کرلی کیونکہ گمشدہ بیٹوں کے ذکر سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ تنہائی میں پہنچ کر بھی ان کو چین نہ آیا بلکہ بن یامین کی جدائی نے یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کو ایک دفعہ پھر تازہ کردیا وقال یاسفی علی یوسف اے افسوس میرے یوسف پر دراصل عربی زبان میں یاسفی کا معنی ہے ، اے میرے افسوس ! تم اس بات پر حاضر ہو۔ یعقوب (علیہ السلام) تو یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں ہمیشہ غمگین رہتے تھے۔ تاہم بن یامین کی موجودگی ان کے لئے کسی حد تک باعث تسکین ہوتی تھی ، پھر جب وہ بھی نظروں سے اوجھل ہوگیا تو یعقوب (علیہ السلام) کا زخم پھر سے تازہ ہوگیا۔
فرمایا : یعقوب (علیہ السلام) کی حالت اس غم کی وجہ سے یہ ہوچکی تھی وابیضت عنہ من الحزن کہ آپ کی آنکھیں غم کی وجہ سے سفید ہوچکی تھیں فھو کظیم اور آپ غم سے بھرے ہوئے تھے اور چالیس سال سے اس غم میں مبتلا تھے جب کسی شخص کی بینائی کمزور ہوجاتی ہے تو آہستہ آہستہ آنکھوں میں سفیدی آجاتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی بینائی کثرت گریہ کی وجہ سے بالکل کمزور ہوچکی تھی بلکہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس چالیس سال کے عرصہ میں سے چھ سال ایسے ہیں جن میں آپکی بینائی بالکل جاتی رہی تھی کظم کا معنی اپنے اندر غم کو دبا لینا یعنی غم سے پر ہوجانا ہوتا ہے ، گویا آپ غم کی وجہ سے گھٹے ہوئے تھے۔
امام رازی نے لکھا ہے کہ ایک موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے متعلق جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ کیا آپ ان کے متعلق کچھ جانتے ہیں تو انہوں نے کہا ہاں جانتا ہوں پھر آپ نے دریافت کیا کہ میرے ماں باپ پر میری جدائی کا کتنا غم ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے بتایا کہ ان کو تمہاری جدائی کا اس قدر غم ہے جتنا ان ستر عورتوں یا ستر مردوں کے غم کو اکٹھا ک دیا جائے جن کا کوئی آدمی گم ہوگیا ہو۔ گویا یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کی جدائی کا ایک عام جدائی کے غم سے ستر گنا زیادہ تھا۔
بیٹوں سے مکالمہ
بیٹوں نے باپ کی یہ حالت دیکھ کر انہیں تسلی دلانے کی کوشش کی ، کہین لگے قالوا تاللہ تفتوا تذکر یوسف اللہ کی قسم ، تم ہمیشہ یوسف کا ہی ذکر کرتے رہوگے حتی تکون حرضاً یہاں تک کہ تم گھل جائو اوتکون من الھلکین یا ہلاک ہونے والوں میں ہو جائو۔ حرض کا معنی برانگیختہ کرنا بھی ہوتا ہے اور جسم کا بگڑ جانا بھی مطلب یہ کہ کہیں تم گھل گھل کر ختم ہی نہ ہو جائو۔ اتنا عرصہ گزر چکا ہے اب اس بات کو چھوڑ دو اور غم نہ کیا کرو۔ اس کے جواب میں یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا قال انما اشکوابثی وحزنی الی اللہ میں اپنی تکلیف اور پریشانی کا شکوہ اللہ ہی سے کرتا ہوں اپنے اندرونی اندوہ اور غم کا اظہار اللہ رب العزت کے سامنے پیش کر رہا ہوں اور اس معاملے میں کسی مخلوق کے سامنے آہ و بکا نہیں کرتا۔ نیز فاعلم من اللہ مالا تعلمون میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ، لہٰذا مایوس نہیں ہوں جو یوسف (علیہ السلام) کو بھول جائوں۔ میرے سامنے بعض قرائن ایسے ہیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اس بات کو مخفی رکھا ہوا ہے اور یہ اس کی طرف سے ابتلا ہے کہ مجھے میرے بیٹے کے حالات سے مطلع نہیں کیا جا رہا اور ادھر یوسف (علیہ السلام) کی بھی آزمائش ہے کہ ان کو بھی میری طرف سے بیخبر رکھا گیا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ خواب میں یعقوب (علیہ السلام) کی ملاقات ملک الموت سے ہوئی تو آپ نے دریافت کیا کیا تو نے یوسف (علیہ السلام) کی روح قبض کی ہے ، تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ جس سے آپ کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہیں ادھر بچپن میں یوسف (علیہ السلام) کو جو خواب آیا تھا اس سے یہ امید بندھی تھی کہ اس خواب کا کوئی نتیجہ نکلنے والا ہے۔ اگرچہ یہ قطعی بات نہیں تھی تاہم یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کے متعلق یعقوب (علیہ السلام) کے سامنے کچھ قرائن موجود تھے۔ ہر حال بیٹوں کی بات کے جواب میں آپ نے فرمایا میں اپنے دکھ اور درد کا اظہار خدا تعالیٰ کے سامنے ہی کرتا ہوں اور ایسا کرنا دعا کرنے کے مترادف ہے اور یہ کوئی قابل ملامت بات نہیں۔ البتہ اگر میں اپنی تکلیف کا اظہار مخلوق کے ساتھ کروں تو ضرور قابل اعتراض بات ہوگی۔
کثرت غم پر اشکال
اس مقام پر فمسرین کرام ایک اشکال پیش کرتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) تو اللہ کے جلیل القادر پیغمبر اور عظیم المرتبت انسان تھے انہوں نے بیٹے کا غم اس حد تک سینے سے لگائے رکھا کہ آنکھوں کی بینائی ضائع ہوگئی حالانکہ ایک عام خدا پرست سالک بھی جب مقام فنا میں پہنچ جاتا ہے ۔ تو اس کا تعلق دنیا ک ہر چیز سے کٹ کر صرف خدا تعالیٰ کی ذات کے ساتھ رہ جاتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک انسان تھے اور ایک انسان کی محبت میں اپنے آپ کو اس قدر منہمک کرلینا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شان رفیعہ کے خلاف معلوم ہوتا ہے۔
اس کے جواب میں مفسرین فرماتے ہیں کو غم کا لاحق ہونا امور طیبہ میں سے ہے اور اس سے خواص بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔ جب حضور ﷺ کے فرزند ابراہیم وفات پا رہے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور آپ فرما رہے تھے کہ آنکھیں آسنو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے انا بفراقک لمحزونون یآ برھیم ا اے ابراہیم ! بیشک ہم تیری جدائی میں غمزوہ ہیں۔ ایسے موقع پر دل میں غم پیدا ہوجانا تو فطری امر تاہم کپڑے پھاڑنا ، منہ نوچنا اور واویلا کرنا حرام ہے اور یعقوب (علیہ السلام) نے ایسا کوئی کام نہیں کیا بلکہ اپنے دکھ کا اظہار اللہ جل جلالہ کے سامنے ہی پیش کرتے رہے۔
امام مجدد کی توجیہہ
حضرت امام مجدد شیخ احمد سرہندی برصغیر پاک و ہند میں گیارہویں صدی کی عظیم شخصیت ہوئے ہیں یہ اس خطے کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کے اسی یا سو سال بعد اس سر زمین میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی پیدا ہوئے پھر مزید تقریباً ایک سو سال بعد حضرت مولانا محمد قاسم نانوی کا زمانہ آپ یہ عظیم شخصیتیں ہیں جن کی فکر اور حکمت بڑی بلند تھی اور انہوں نے بڑا کام کیا ہے مغلوں کے ابتدائی دور میں جب اس برصغیر میں سخت گمراہی پھیل رہی تھی ، بادشاہ اکبر نے یا دین ضع کرلیا تھا اور اس کے نور تن حواری جن میں ہندو اور مسلمان کی بھی شامل تھے ، محض اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔ خود اکبر کو باپ کے ” حکومت “ میں لڑائیوں سے فروخت نہ مل سکی لہٰذا وہ تعلیم بھی حاصل نہ کرسکا ، اس لئے اپنے غلط حواریوں کے مشوروں کی زد میں رہا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو مخلوق کی بہتری مطلوب ہوتی ہے تو بادشاہ وقت کے اچھے مشیر عطا کرتا ہے اور جب کسی قوم کی برائی مقصو ہوتی ہے تو پھر حکومت کے مشیر بھی غلط قسم کے لوگ ہوتے ہیں ، تو اکبر کی مشکل بھی یہی تھی کہ اسے ابوالفضل فیضی اور ملا مبارک جیسے غلط مشیر میسر آئے جنہوں نے اس غلط لائن پر چڑھایا عقیدہ غلط ہوگی اور شریعت کے احکام بھی خلط ملط ہونے لگے اور ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر امام مجدد کو پیدا فرمایا جنہوں نے ایناسلام کی حفاظت کے لئے شدید مجاہدہ کیا۔ آپ کو جہانگیر کے دربار میں طلب کیا گیا تو آپ نے اسلامی طریقہ پر جا کر اسلام علیکم کہا اور درباری طریقے کے مطابق بادشاہ کو سجد نہ کیا بادشاہناراض ہوگیا اور آپ کو تین سال یا بعض روایات کے مطابق سات سال تک گوالیار کی جیل میں قید و بند کی صعوتیں برداشت کرنا پڑیں۔ بہرحال امام مجدد نے یعقوب (علیہ السلام) کے غم واندوہ کے مسئلہ کو ایک دوسرے طریقے سے حل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کو غم وہ معیوب اور قابل اعتراض ہوتا ہے جو کسی دنیاوی چیز کے لئے ہو ، مگر یعقوب (علیہ السلام) کا غم امور آخرت کی چیز کے متعلق تھا اور ایسی جنت اس کی نعمتیں حوریں ، پھل وغیرہ امور آخرت میں شامل ہیں اور ان س محبت کرنا اور ان کے حصول کے لئے کام کرنا اچھی بات ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت اسی قسم کی تھی کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی محبت اسی قسم کی تھی کیونکہ یوسف (علیہ السلام) باپ کے لئے محض ایک بیٹے اور اچھے انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ امور آخرت میں سے ایک امر بھی تھے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں ملعون یعنی اللہ کی رحمت سے دور ہیں لا ذکر اللہ اوما والاہ اوعالم اومتعلم مگر چار چیزیں اس لعنت سے مستثنیٰ ہیں اور وہ ہیں (1) اللہ کا ذکر (2) ذکر سے متعلقہ دیگر امور (3) عالم دین اور (4) دین کا طالبعلم تو یوسف (علیہ السلام) میں اللہ تعالیٰ نے ایسی پاکیزہ سیرت اور کمال پیدا فرمایا تھا جو امور آخرت سے متعلق رکھنے والی چیز ہے۔ لہٰذا ان کی محبت میں سرشار ہونا اور ان کی جدائی میں مغموم ہونا بالکل روا تھا۔
امام مجددمثال کے طور پر فرماتے ہیں کہ انسانی ضروریات کی بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں۔ جن کے بغیر انسان سخت بےچین ہوجاتا ہے۔ مثلاً کمزور نظر والے شخص کی اگر عینک گم ہوجائے تو اسے سخت زحمت ہوگی تو یوسف (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بمنزلہ عینک کے تھے ، جب وہ گم ہوگئے تو آپ سخت غم واندوہ میں مبتلا ہوگئے حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دیکھو ! جنت بالکل خالی ہے ، وہاں کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے اور اس میں شجر کاری اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تہلیل کرنا ہے ۔ جب کوئی شخص اس دنیا میں خلوص دل سے سبحان اللہ الحمد للہ اللہ اکبر ! لا الہ الا اللہ کہتا ہے ۔ یہ اس کے لئے جنت میں ایک درخوات لگا دیں اس دنیا میں تو یہ حروف اور کلمات ہیں مگر آخرت میں یہ درختوں کی شکل میں ظاہر ہوں گے۔ آخرت کی نعمتیں محض وہاں کے درخت اور پھل ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات ، اس کے اسمائے پاک اور اس کی تجلیات بھی نعمتوں میں شامل ہیں جو تسبیح تہلیل کے آئینہ یا عینک میں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح یعقوب (علیہ السلام) کے فرزند حضرت یوسف (علیہ السلام) بھی اور آخرت میں سے ہیں اور آپ یعقوب کے لئے بمنزلہ عینک یا آئینہ تھے چونکہ آپ کی یہ عینک گم ہوگئی تھی اس لئے اس کے غم میں آپ پریشان رہتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے سے محبت محض دنیاوی امر نہیں تھا بلکہ امور آخرت میں سے تھا اور اس کی محبت میں غم واندوہ کا اظہار بالکل جائز تھا۔ لہٰذا اس وجہ سے آپ کی برگزیدہ حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔
مایوسی گنا ہ ہے
بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے امید کا دامن تھامے رکھا اور بیٹوں سے فرمایا ینبی اذھبوا فتحسبوا من یوسف واخیہ اے میرے بیٹو ! جائو یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو شاید کہ اللہ تعالیٰ سب کو واپس کر دے یعنی یوسف کے ساتھ اس کا بھائی بن یامین بھی جائے اور ساتھ یہ مسئلہ بھی سمجھا ہے وہ ولاتایلسوان روح اللہ اور اللہ کی حمت ہے مایوس ہو نہ ہو۔ روح کا معنی فیضان اور مہربانی ہے سورة واقعہ میں موجود ہے کہ اللہ کے مقربین کے لئے ” فروح و ریحان و جنت نعیم “ ہے تو فرمایا خدا تعالیٰ کی مہربانی سے مایوس نہ ہو کیونکہ انہ لایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون ، کیونکہ اللہ کی رحمت سے صرف کافر لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ ایماندار کبھی مایوس نہیں ہوتا بلکہ آخر دم تک پر امید رہتا ہے۔ چناچہ مصنف عبدلرزاق میں روایت موجود ہے کہ بڑے گناہوں میں سے عظیم ترین گناہ شرک ہے۔ ا س کے بعد خدا کے خوف سے بالکل بےنیاز ہوجانا بھی بہت بڑا گنا ہ ہے۔ انسان اس بات کو بھول جائے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور وہ مجرموں کو سزا بھی دیتا ہے اور تیسرا بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان خدا کی رحمت سے مایوس ہوجائے۔ یہ تو کافروں کا شیوہ ہے۔ لہٰذا مایوسی سخت گناہ ہے۔
Ayahs 12:88–93ربط آیات
جب یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کنعان جا کر اپنے باپ کو بن یامین کی گرفتاری کا حال سنایا تو ان کا پرانا غم پھر تازہ ہوگیا پہلے وہ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں پریشان تھے اب دوسرے بیٹے کی جدائی کی بات سنی تو دکھ دو چند ہوگیا مگر آپ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید نہیں ہوئے بلکہ بیٹوں سے کہا کہ جائو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو لے آئے۔ بن یامین بھی رہا ہوجائے اور یوسف (علیہ السلام) جس کا نام و نشان تک معلوم نہیں شاید وہ بھی مل جائے خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے اور اس سے کوئی بعید نہیں۔ فرمایا خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا کیونکہ یہ تو کافروں کا شیوہ ہے۔
باپ کے اس حکم پر یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے مصر کے تیسرے سفر کی تیاری کی۔ اس سفر کا ایک مقصد تو بنیامین اور یوسف (علیہ السلام) کی بازیابی تھا اور دوسرا قحط کے اس زمانے میں اناج کا حصول بھی تھا۔ اس سفر کے دوران بھائیوں کو اپنی سابقہ غلط کارروائی پر ندامت ہو رہی تھی اور وہ اعتراف کر رہے تھے کہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے۔ بہرحال برادران یوسف نے تھوڑی بہت پونجی جو میسر آئی ہمراہ لی اور تیسری مرتبہ مصر پہنچ گئے۔
یوسف (علیہ السلام) سے تیسری ملاقات
اب اس تیسرے سفر میں پیش آنے والے حالات کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ فلما دخلوا علیہ جب برادران یوسف مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے سلسلہ کلام اپنی عجز انکساری ، قحط سالی اور عزیز مصر کی خوشامد سے شروع کیا۔ ان کا خیال تھ کہ پہلے تکلیف بیان کر کے اناج کے حصول کی بات کریں گے اور اگر حاکم کو نرم دل پایا تو پھر بنیامین کی رہائی کی درخواست بھی کریں گے قالوا یایھا العزیز کہنے لگے ، اے عزیز ! ظاہر ہے کہ بھائیوں کو ابھی تک یوسف (علیہ السلام) سے تو تعارف نہیں ہوا تھا ، وہ اپنیخیال میں جس حاکم کو خطاب کر رہے تھے ، وہ بادشاہ کا مقرر کردہ عزیز مصر تھا کیونکہ زلیخا کے خاوند زیز مصر کی وفات کے بعد بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو اس عہد پر فائز کیا تھا اور گزشتہ دو مواقع پر برادران یوسف نے اسی کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے علاوہ غلہ بھی حاصل کیا تھا اور پھر اسی کے سامنے بنیامین پر چوری کا الزام لگا اور اسی نے اسے روک لینے کا حکم دیا تھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) بظاہر تو عزیز کے عہدے پر متمکن تھے مگر بادشاہ نے انہیں مزید اختیارات دے کر بالکل خود مختاربنا دیا تھا۔ بہرحال برادران یوسف نے آپ کو عزیز ہی کے لقب سے خطاب کیا اور عرض کیا مسنا و اھلنا الضر کہ ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو سخت تکلیف پہنچی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کا قحط اتنا شدید تھا کہ اس سے کوئی بھی چھوٹا بڑا متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ کنعان میں رہنے والا خاندان یعقوب بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا اور اس سے پہلے مصر سے دو دفعہ اناج لے جانے کے باوجود ان کی خوردنی ضروریات پوری نہیں ہو رہی تھیں ، لہٰذا انہوں نے سب سے پہلے اپنی تکلیف کا ذکر کیا ۔ سعدی صاحب نے قحط سالی میں شدت تکلیف کا ذکر اس طرح کیا ہے۔
چناں قحط سالے شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق
یعنی دمشق میں اس قدر شدید قحط پڑا کہ سارے دوست اپنے اپنے عشق کو بھی بھول گئے۔ مطلب یہ ہے کہ فاقوں کی وجہ سے تمام معمولات زندگی متاثر ہوئے اور کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر نہ رہی تحی کہ لوگ عبادت و ریاضت بھی بھول گئے ۔ فاقہ کے متعلق ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے کہ انسان کے لئے چند لقمے ضروری ہیں جن کے ساتھ اس کی کمر سیدھی ہو سکے۔ یعنی بھوک کی وجہ سے اتنا نڈھال نہ ہوجائے کہ کھڑا ہو کر عبادت بھی نہ کرسکے۔ ایک دفعہ مکہ والے بھی سخت قحط کا شکار ہوئے تھے۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اہل مکہ کی مسلسل نافرمانی اور ایذا رسانی کی بناء پر حضور ﷺ نے ان کے خلاف دعا کی تھی اللھم اجعل علیھم سنمین کسنی یوسف لے اللہ ان پر قحط کے ایسے سال ڈال دے جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں لوگوں پر ڈالے تھے چناچہ مکہ والوں پر بھی قحط نازل ہوا ، اور پھر وہ اس قدر عاجز آگئے کہ پرانے چمڑے ، بوسیدہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے عزیز مصر سے عرض کیا کہ ہم اور ہمارے گھر والے قحط کی وجہ سے سخت تکلیف میں ہیں۔
اناج کی درخواست
ان تمہیدی الفاظ کے بعد عرض کیا وجئنا ببضاعۃ مزاجۃ ہم ایک ناقص پونجی ہمراہ لائے ہیں۔ بضاعۃ راس المال کو کہتے ہیں جس کے ساتھ کوئی چیز خریدی جاتی ہے اور مزجیٰ سے مراد ناقص اور گھٹیا ہے۔ دراصل ازجی کا معنی ہوتا ہے دھکیل دینا دفع کردینا یعنی کوئی ایسی چیز پیش کرنا جسے کوئی قبول نہ کرے اور کہے کہ اسے لے جائو۔ یہ کسی کام کی نہیں ہے۔ چناچہ برادران یوسف نے کہا کہ ہم تو گھٹیا سی پونجی لائے ہیں۔ آپ اسے قبول کرلیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ وہ پونجی چند کھوٹے سکوں ، پھلوں اور صنوبر کے دانوں پر مشتمل تھی۔ کچھ چمڑا تھا اور بھیڑوں کی کچھ اون تھی جس کے بدلے میں وہ اناج حاصل کرنا چاہتے تھے تو بجائے اس کے کہ عزیز اس پونجی کو از خود ٹھکرا دے ، انہوں نے اس پونجی کی حقارت کو پہلے ہی تسلیم کرلیا کہ یہ پونجی اس قابل تو نہیں ہے فاون لنا الکیل مگر ہمیں اس کے بدلے غلہ پورا پورا دے دیں۔ کیل کا معنی ماپ ہوتا ہے۔ تاہم مراد غلہ ہی ہے کہ ہمیں ماپ کر دے دیں۔ وتصدق علینا اور ہم پر صدقہ بھی کریں۔ ہمیں یہ غلہ خیرات سمجھ کر ہی دے دیں کیونکہ ہم اسے خریدنے کی طاقت تو نہیں رکھتے۔ ان اللہ یجزی المتصدقین بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔ احسان کرنے والوں کو اللہ اس دنیا میں بھی کچھ نہ کچھ بدلہ عطا کرتا ہے اور اگر صدقہ کرنے والا مومن ہے تو آں خرت میں تو اس کے لئے بہت بڑا اجر وثواب ہے۔
صدقے کا مفہوم
یہاں پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) تو اللہ کے جلیل القدر نبی تھے اور نبی اور اس کے گھرانے کے لئے صدقے کا مال جائز نہیں ہوتا حضور ﷺ کا ارشاد بھی موجود ہے ان الصدقۃ لاتحل لمحمد ولا لال محمد یعنی صدقہ محمد اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے۔ آل محمد میں آل علی ، آل عقیل ، آل عباس آل جعفر ، آل نوفل اور آل حارث آتے ہیں۔ ان سب کے لئے بھی صدقہ جائز نہیں تھا تو یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹو نے صدقے کا سوال کیسے کردیا ؟ اس کے جواب میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ صدقے کی حرمت صرف حضور خاتم النبین ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ مگر دوسرے حضرت فرماتے ہیں کہ صدقہ ہر نبی اور اس کے گھر والوں کے لئے ناجائز رہا ہے اور آخری امت میں بھی ناجائز ہے۔ چناچہ زکواۃ ، صدقہ فطر اور نذر کے مستحق صرف غربا و مساکین ہوتے ہیں اور اسے کوئی صاحب نصاب آدمی وصول نہی کرسکتا اور نہ ہی یہ نبی اور اس کے خاندان کے لئے ادا ہوتا ہے۔ تاہم جس صدقے کی بات برادران یوسف نے کی ، اس سے حقیقی صدقہ مراد نہیں …… بلکہ اس سے مراد احسان ہے کہ اے عزیز ! ہمارے پاس پونجی تو نہیں ہے اور بھوک کی وجہ سے تکلیف بھی بہت ہے ، لہٰذا آپ ہم پر احسان کرتے ہوئے غلہ عنایت کردیں۔ اس قسم کے حسان کی مثال حدیث شریف میں بھی ملتی ہے جب کوئی شخص شرعی مسافت پر ہو تو وہ چار رکعت کی بجائے صرف دو رکعت فرض ادا کرے گا۔ اس کے متعلق الفاظ یہ ہیں صدقۃ تصدیق اللہ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک صدقہ ہے تم پر لہٰذا اس کے صدقہ کو قول کیا کرو۔ یہاں پر دو رکعت کی تخفیف کو صدقہ سے تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب احسان ہے۔ اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بھی ان پر احسان کر نیکی درخواست کی اور اس صدقہ سے حقیقی صدقہ مراد نہیں ہے۔
پردہ اٹھ گیا
جب بھائیوں نے اس قدر عاجزی اور خاندان کی تکلیف کا اظہار کیا تو یوسف (علیہ السلام) کا پیمانہصبر لبریز ہوگیا۔ ادھر آپ کو قلبی شہادت بھی مل رہی تھی کہ ابتلا کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ لہٰذا انہوں نے دل میں فیصلہ کیا کہ اب ان کے اور ان کے بھائیوں کے درمیان پردہ اٹھ جانا چاہئے قال ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ کیا تمہیں خبر ہے کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا اذ انتم جھلون جب کہ تم نادان تھے۔ آپ اس قدر بلند اخلاق واقع ہوئے کہ اتنی تکالیف برداشت کرنے کے باوجود بھائیوں کو براہ راست الزام نہیں دیا ، بلکہ فرمایا کہ یہ کارروائی تم سے نادانی میں ہوگئی تھی۔
پہلے تو بھائیوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کا بھائی عزیز مصر کے عہدے پر فائز ہو سکتا ہے مگر جب آپ کی زبان سے اپنے متعلق دو ٹوک بات سنی قالوآء انک لانت یوسف تو کہنے لگے ، کیا سچ مچ آپ ہی یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ یہ تو بڑی تعجب کی بات معلوم ہوتی ہے۔ قال انا یوسف وھذا اخی فرمایا ، ہاں ! میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی بنیامین ہے ۔ جس کو میں نے چوری کے الزام میں محبوس کر رکھا تھا۔ فرمایا قدمن اللہ علینا اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ہے۔ ہماری جدائی کو دور کر کے آپس میں ملا دیا ہے تنگی کو دور کر کے راحت بخشی ہے اور غلامی سے نکال کر عزت کے مقام پر بٹھایا ہے۔ فرمایا ہم دونوں نے بڑی مصیبتیں جھیلی ہیں۔ تم نے ہمارے ساتھ بڑی زیادتی کی مگر بنیامین نے بھی بڑا صبر کیا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جب یوسف اور بنیامین کی ملاقات ہوئی تو اس وقت بنیامین کے دس بیٹے تھے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کے ذہن میں بھائیوں کی طرف سے کی جانے والی تمام زیادتیاں تھیں ، مگر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے۔
تقویٰ اور صبر
یوسف (علیہ السلام) نے مزید فرمایا انہ من یتق ویصیر بیشک جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ فان اللہ لایضیع اجر المسحنین تو اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ تقویٰ کی پہلی منزل یہ ہے کہ انسان کفر ، شرک اور نفاق سے بچ جائے۔ پھر کبائر سے اجتناب کرے اور پھر درجہ بدرجہ صغائر سے بھی بچ جائے ۔ تقویٰ بہت بڑی حقیقت ہے جس کے متعلق سورة انفال میں ہے ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً اگر تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں فیصلہ کن حالات پیدا کرتا رہے گا اور تمہیں کسی مرحلہ پر بھی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔ شیخ عبدالقادر جیلانی آیت کریمہ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان کی تفسیر میں لکھتے 1 ؎ ہیں کہ عدل اور احسان اجزائے تقویٰ میں سے ہیں اس طرح صبر بھی بہت بڑی حقیقت ہے۔ ملت ابراہیمی کے بعض مسلمہ اصول ہیں جنہیں قرآن کی اصطلاح میں بینات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں صبر ، شکر ، ذکر ، تعظیم شعائر اللہ ، نماز اور تقویٰ جیسی حقیقتیں شامل ہیں جو انسان کی کامیابی کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ انہی حقائق کے ذریعے انسان حظیرۃ القدس کا ممبر بن سکتا ہے اور اللہ کے پاکس مقام میں داخل ہو سکتا ہے۔
صبر کے مختلف مقا ات ہیں۔ اس کے تین مادے ہیں۔ صبر مصیبت میں بھی ہوتا ہے اور اطاعت میں بھی خواہشات نفسانیہ
1 ؎ غنیۃ الطالبین ص 143
پر قابو پانے کے لئے بھی صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے صبر یوسف کی بہت تعریف فرمائی ہے۔ جب آپ کی جیل سے رہائی کا پیغام پہنچا تو آپ نے اس وقت تک باہر آنے سے انکار کردیا۔ جب تک آپ پر لگائے گئے الزام کی حیثیت واضح نہ ہوجائے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی صبر کے متعلق یہ جملہ لکھتے ہیں ” جس پر تکلیف پڑے اور وہ شرع سے باہر نہ ہو ، اور گھبرائے نہیں تو آخر بلا سے زیادہ عطا ہے۔ “ یعنی صابر آدمی کو اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف سے زیادہ اجر عطا فرمائے گا امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی تقویٰ کو ” محافظت برحدود شرع “ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی شریعت کی حدود کو قائم رکھنا ہی تقویٰ ہے۔
غلطی کا اعتراف
جب بھائیوں پر واضح ہوگیا کہ عزیز مصر ان کا بھئای یوسف ہے جس کے ساتھ وہ بڑی ہی بدسلوکی کرتے رہے ہیں۔ توغلطی کا اعتراف اور حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہنے لگے قالوا تا اللہ لقد اترک اللہ علینا اللہ کی قسم ، بیشک اللہ نے تمہیں پسند کیا ہے ہمارے مقابلے میں اثر کا معنی ترجیح دینا۔ فضیلت دینا یا پسند کرنا ہوتا ہے تو بھائیوں نے اقرار کیا کہ اے ہمارے بھائی ، تمہیں اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی ہے وان کنا لخطین اور بیشک ہم ہی خطا کار ہیں اور غلطی کے اقرار کا نام ہی توبہ ہے تو برادران یوسف اپنی زیادتی سے تائب ہوگئے ، حدیث شریف میں آتا ہے کل بنی ادم خطاء وخیر الخطائین التوابون یعنی ہر انسان خطا کار ہے مگر بہتر خطا کار وہ ہیں جو توبہ کرلیتے ہیں ۔ غرضیکہ بھائیوں نے یوسف اور بنیامین کے ساتھ اپنی بدسلوکی اور اذیت رسانی کا اقرار کیا کہنے لگے کہ ہم تو انہیں ختم کرنا چاہتے تھے مگر اللہ نے انہیں زندہ رکھا اور ہم تو انہیں ذلیل کرنا چاہتے تھے مگر اللہ نے ان کو عزت بخشی ۔
عام معافی کا اعلان
بھائیوں کی زبان سے اعتراف حقیقت سن کر یوسف (علیہ السلام) کا کریمانہ اخلقا جوش میں آ گیا۔ قال لاتثریب علیکم الیوم فرمایا ، آج کے دن تم پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ بغض اللہ لکم اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے جو کچھ ہونا تھا ہوچکا ، اب ہم تمہیں طعن ملامت نہیں کریں گے۔ تثریب کا مادہ ثرب ہے جس کا لغوی معنی چربی اور مراد ایسی بات ہوتی ہے جس کے ذریعے دوسرے کی عزت و آبرو خراب ہو ، یہی چیز ملامت کہلاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر تم میں سے کسی کی لونڈی برائی کا ارتکاب کرے اور پھر اس پر اصرار کرے تو اب اس کو زبانی ملامت نہ کرو۔ حدیث کے الفاظ میں ولایثربھا بلکہ ایک رسی کے عوض بیچ ڈالو۔ گویا معمولی سے معمولی قیمت پر بھی بک سکے تو بیچ دو کیونکہ یہ رکھنے کے قابل نہیں۔ تو یہاں بھی ثرب کا معنی ملامت کرنا آتا ہے۔
بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی معافی کا عام اعلان کردیا اسی قسم کا واقعہ فتح مکہ کے دن بھی پیش آیا تھا۔ اس دن وہ تمام لوگ آپ کے سامنے کھڑے تھے جو تیرہ سال تک آپ کو اذیت پہنچاتے رہے۔ پھر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ آپ نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا ، ” تم کیا خیال کرتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں۔ “ سب نے کہا ” آپ ہمارے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک شریف بھائی اپنے بھائیوں کے ساتھ کرتا ہے۔ ” فرمایا میں آج تمہارے ساتھ بھی وہی بات کرتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کی تھی لاتثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم تم پر آج کے دن کوئی ملامت نہیں جائو اللہ تمہیں معاف کرے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی کہ اللہ تمہیں معاف کرے وھو ارحم الرحمین اور وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔
باپ کے لئے قمیص کا تحفہ
اب جب کہ حقیقت حال واضح ہوگئی۔ یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کے تمام رازوں سے پردے اٹھ گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے فرمایا اذھبوا بقمیصی ھذا میرا یہ کرتہ لے جائو۔ اس پورے واقعہ میں یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کو خصا اہمیت حاصل رہی ہے۔ سب سے پہلے کرتے کا ذکر اس وقت آتا ہے ۔ جب بھائیوں نے اسے خون آلود حالت میں باپ کے سامنے پیش کیا ” وجآء وعلی قمیصہ بدم کذب “ جھوٹے خون سے آلودہ قمیص باپ …… کے پاس لے آئے اور کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ پھر قمیص کا ذکر وہاں آتا ہے جب زلیخا نے اسے پیچھے سے پکڑ کر پھاڑ دیا تھا ” فلما راقمیصہ قدمن دبر “ ‘ کے الفاظ پہلے گزر چکے ہیں ان دونوں مواقع پر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ بری خبر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مگر اب تیسری دفعہ یہی کرتہ ایک اچھی خبر لے کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس جا رہا ہے۔
اس کرتے کے متعلق مفسرین کرام نے مختلف باتیں کی ہیں بعض فرماتے ہیں کہ یہ ایک خاص کرتہ تھا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو برہنہ کر کے آگ میں پھینکا گیا تھا تو جبرائیل (علیہ السلام) نے یہی کرتہ آپ کو پہنایا تھا۔ اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ حشر کے میدان میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم کو لباس پہنایا جائیگا کیونکہ کافروں نے برہنہ کر کے آگ میں پھینکا تھا۔ بہرحال تفسیری روایات میں آتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ کرتہ اسحاق (علیہ السلام) کے پاس آیا ، پھر یعقوب (علیہ السلام) کی تحیول میں گیا جنہوں نے اس کو تعویز میں بند کر کے یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں ڈال دیا جب بھائیوں نے آپ کا کرتہ اتار کر آپ کنوئیں میں پھینک دیا تو کنوئیں میں جبرائیل (علیہ السلام) نے یہی کرتہ تعویذ سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دیا تھا۔ یہ تفسیری روایات ہیں۔ ان کے متعلق یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
پورے خاندان کو دعوت
اس سلسلہ میں حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی ہستی اور ان کے جملہ احوال امور آخرت سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے جسم کے ساتھ لگنے والا ہر کرتہ وہی کام کریگا جو امر واقع میں ہوا فرماتے ہیں کہ اس کام کے لئے کسی خاص کرتے کا ہنا ضروری نہیں ہے۔
غضریکہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے فرمایا کہ میرا یہ کرتہ لے جائو فالقوہ علی وجہ ابی اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا یات بصیراً وہ بینا ہو کر آئے گا۔ باپ کی بینئای کا لوٹ آنا بامر الٰہی معجزہ تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کی جدائی میں رو رو کر پہلے عرصہ تک نظر کمزوری رہی اور پھر آخری چھ سال تک بالکل نابینا رہے۔ آپ ان کی بینائی کا ذریعہ اللہ نے یہ پیدا فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ان کے چہرے پر ڈال دیا جائے تو وہ بینا ہو کر آجائیں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ امور مملکت میں انہماک کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کا خود باپ کے پاس جانا ممکن نہیں تھا ، اس لئے انہوں نے باپ کی خدمت میں کرتہ بھیجا اور کہا کہ وہ بینا ہو کر آجائیں گے۔ نیز بھائیوں سے یہ بھی کہا واتونی باھلکم اجمعین سارے گھر والوں کو میرے پاس لے آئو یہاں پر باپ کا ذکر نہیں کیا کیونکہ ان کے متعلق تو پہلے ہی فرما دیا کہ وہ بنیا ہو کر خود ہی آجائیں گے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ جب باپ کو میرے متعلق علم ہوگا تو ملاقات کے لئے فوراً چل پڑیں گے۔ چناچہ باقی گھر والوں کو لانے کے لئے بھی کہہ دیا کیونکہ اب ابتلاء کا دور خت ہوچکا تھا۔
Ayahs 12:94–98ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے تیسرے چکر میں برادران یوسف نے (علیہ السلام) کے روبرو نہایت عز و انکساری کا اظہار کیا اور اس بات کا اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ان پر فضیلت بخشی ہے اور غلطی پر وہی تھے ۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کریمانہ اخلقا کی بنا پر اعلان کیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری غلطیوں کو معاف فرمائے۔ نیز فرمایا کہ میں تو بوجوہ فوری طور پو الد کے پاس نہیں جاسکتا تم میری یہ قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دینا۔ وہ بینا ہو کر میرے پسا چلے آئیں گے اور تم باقی خاندان کو بھی لے کر مصر میں آ جائو۔
ان حالات میں برادران یوسف کا قافلہ کنعان کی رف واپس روانہ ہوا جب یہ لوگ مصر کی طرف آ رہے تھے تو نہایت پریشانی کے عالم میں تھے۔ بن یامین کے مصر میں رہ جانے کی وجہ سے باپ سے سخت شرمندہ تھے ار اب باپ نے اس ہدایت کے ساتھ مصر بھیجا تھا کہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے نا امیدن ہ ہو بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کرو اور ساتھ ساتھ یوسف (علیہ السلام) کی تلاش بھی کرو ، شاید وہ زندہ ہو اور پھر تم سب اکٹھے میرے پاس آ جائو اس کا م کے علاوہ بھائیوں کو غلے کی بھی ضرورت تھی اور ان کے پاس پونجی بھی بالکل معمولی تھی۔ اس لئے غلے ک حصول کے سلسلے میں بھی گومگو کی کی کیفیت میں مبتلا تھے کہ اس مرتبہ ملتا ہے یا نہیں بہرحال ان ناگفتہ بہ حالات میں مصر کی طرف آئے تھے۔
قریب سرحد حرماں جگر ٹھہر جائو
سنا ہے قافلہ غم کا ادھر سے گزرے گا
مگر اب حالات یکسر بدل چکے چالیس سال سے گمشدہ بھائی …… یوسف مل چکا تھا اور خوشی کی بات یہ تھی کہ اب وہ کوئی معملوی آدمی نہیں تھا بلکہ عزیز مصر کی حیثیت میں پورے مصر اور اردگرد کے علاقوں کو غلہ تقسیم کر رہا تھا ، اور اب اسی کے حکم سے اہل خانہ کو لینے کے لئے جا رہے تھے اور ساتھ ہی اس نے باپ کی بینائی لوٹ آنے کی خوشخبری بھی سنا دی تھی۔ چناچہ یہ قافلہ نہایت خوشی خوشی کنعان کی طرف جا رہا تھا۔
خوشبوئے یوسف
تفسیری روایات میں آتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خوشخبری پہنچانے والے قافلے کے لئے دو سو سواریوں کا انتظام کیا ، ظاہر ہے کہ ان کے بھائیوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی اس قافلے میں شامل ہوں گے آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قافلے کی روانگی کا حال اس طرح بیان کیا ہے۔ ولما فصلت العیر اور جب وہ قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو اس کی کیفیت عجیب و غریب تھی اور میر کے الفاظ میں ۔
یا رب وہ وقت کیا ہوگا جب مصر سے چل کر
کنعان کی طرف قافلے شب گیر کریں گے
بہرحال جب یہ قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ادھر کنعان میں یہ ہوا۔ قال ابوھم ان کے باپ نے کہا انی لا جدریح یوسف لولا ان تفندون اے لوگو ! میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ، اگرچہ تم مجھے بوڑھا بےعقل ہی کیوں نہ کہو۔ مصر اور کنعان کے درمیان اڑھائی سو میل کا فاصلہ ہے جس کو طے کرنے کے لئے آٹھ دس دن درکار ہوتے تھے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ قافلہ ابھی مصر سے روانہ ہی ہوا تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس کرلی۔ حضرت حسن بصری کا قول ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو خشوبو آجانا معجزان ہطور پر ہوا کیونکہ جب یوسف (علیہ السلام) کنعان کے قریب صرف تین یا نو میل کے فاصلے پر کنوئیں میں پڑے تھے تو اس وقت تو یعقوب (علیہ السلام) کو کچھ معلوم نہ ہوسکا نہ خوشبو آئی نہ کوئی قرینہ ظاہر ہوا اور آپ نے چالیس سال کا عرصہ غم واندوہ میں گزار دیا مگر اب جب کہ اللہ کی مہربانی شامل حال ہوئی ، ابتلا کا زمانہ گزر گیا تو اللہ تعالیٰ نے اڑھئای سو میل سے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو باپ تک پہنچا دی۔ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی رحمت کا جھونکا آتا ہے تو ہر چیز روشن ہوجاتی ہے اور اس کو منظور نہ ہو تو کچھ نہیں ہوتا ۔ بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے کنعان کے لوگوں کو یوسف (علیہ السلام) کی خوشخبری سنا دی۔ آپ نے یہاں اپنے لئے منفد کا لفظ استعمال کیا ہے۔ نفد اس فساد کو کہتے ہیں جو عقل میں پیدا ہوجائے۔ فرمایا تم تو یوں کہو گے کہ اس بوڑھے بےعقل کا دماغ چل گیا ہے۔ یہ سیٹھیا گیا ہے مگر میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ضرور محسوس کر رہا ہوں۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ منفد کا لفظ صرف مرد کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ اس کی عقل خراب ہوگئی۔ اس کا اطلاق عورت پر نہیں ہوتا کیونکہ قدرت نے عورتوں میں تو عقل کا مادہ ویسے ہی کم رکھا ہے ۔ حضور ﷺ نے عرتوں کو ناقصات عقل و دین فرمایا ہے۔
جب یعقوب (علیہ السلام) کے گھر والوں یا اردگرد کے دیگر لوگوں نے آپ کے منہ سے یہ بات سنی تو کہنے لگے قالوا تا اللہ اللہ کی قسم انک لفی ضللک القدیم بیشک تم تو پرانی غلطی میں مبتلا ہو تم پر وہی یوسف حضور ﷺ کا پرانا خبط سوار ہے۔ بھلا اب چالیس سال کے بعد یوسف کہاں سے آئیگا ، نہ معلوم وہ اس دنیا میں موجود بھی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو دنیا کے کس خطے میں کس حالت میں ہے ۔ گم یہ خوشبو تو مبنی برحقیقت تھی اور یہ معجزہ تھا کہ اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو یعقوب (علیہ السلام) کے دماغ تک پہنچا دی۔ یہاں پر ضلال کا معنی گمراہی نہیں ہے اگرچہ یہ گمراہی پر بھی بولا جاتا ہے۔ اس لفظ کا اطلاق بہک جانے ، تاریکی میں پڑجانے اور ناکام ہوجانے پر بھی ہتا ہے تاہم یہاں پر مطلب یہی ہے کہ تم پرانی غلطی میں مبتلا ہو کر بار بار یوسف کا نام لے رہو۔
یعقوب (علیہ السلام) بینا ہو گئے
جب یہ قافلہ کنعان پہنچا تو ان میں سے ایک شخص نے سب سے پہلے جا کر یعقوب (علیہ السلام) کو خوشخبری سنانا چاہی۔ تفسیر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آپ کا بیٹا یہود تھا جو یوسف (علیہ السلام) کے لئے نسبتاً زیادہ نرم گوشہ رکھتا تھا ، اسی نے بھائیوں کو مشورہ دیا تھا کہ یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ کسی کنوئیں میں پھینک دو ۔ تمہارا مقصد حل ہوجائیگا۔ روایات میں آتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا خون آلود کرتہ باپ کو پیش کرنے والا بھی یہی تھا ، تو اب جب کہ باپ کو خوشخبری سنانے کا وقت آیا تو سب سے پہلے اسی نے حاضر ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس واقعہ کے متعلق ارشاد ہے فلما ان جآء البشیر پھر جب خوشخبری دینے والا یعقوب (علیہ السلام) کے باس آیا القہ علی وجھہ تو اس نے وہ کرت ہیعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈال دیا فارتک بصیراً پس پلٹ کر وہ دیکھنے والے ہوگئے یعنی ان کا اندھا پن زائل ہ کر آنکھیں روشن ہوگئیں۔ پھر بیٹے نے خوشخبری بھی سنائی کہ جس بیٹے کے فراق میں آپ چالیس سال تک گریہ کرتے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف زندہ ہے بلکہ مصر کا بادشاہ ہے اور یہ اسی کا کرتہ ہے جس کی وجہ سے آپ کی بینائی لوٹ آئی ہے۔ اس موقع پر یعقوب (علیہ السلام) نے حاضرین مجلس سے مخاطب ہو کر فرمایا قال الم اقل لکم کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا انی اعلم من اللہ مالا تعلمن کہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے میرا دل نہیں مانتا تھا کہ یوسف ہلاک ہوچکا ہے۔ اس کے بچپن کا خواب بھی میرے پیش نظر تھا اور قرینہ سے معلوم ہتا تھا کہ وہ ابھی پورا ہونے والا ہے ، اسی لئے میں تمہیں کہتا تھا کہ جائو جا کر یوسف کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اب میرا خیال درست ثابت ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نہ صرف زندہ ہے بلکہ اللہ نے اسے دنیا میں حکومت بھی عطا کی ہے۔
مصنب انبیاء
تفسیر روایات میں آتا ہے کہ جب خوشخبری دینے والے نے یعقوب (علیہ السلام) کو بتایا کہ آپ کا بیٹا تو بادشاہ ہے تو آپ نے فرمایا ، میں بادشاہی کو کیا کروں گا ، مجھے یہ بتائو کہ وہ کس دین پر ہے۔ جب آپ کو بتایا گیا کہ یوسف دین اسلام پر ہے تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا الحمد للہ اب یہ نعمت مکمل ہوگئی معلوم ہوا کہ ابنیاء کا مشن فکر ایمان ہے اور اسی چیز کو وہ دنیا میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں 11 ؎ کہ انبیاء کا اصل منصب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کو دین سے روشناس کرائیں البتہ بعض غلط رسومات کی بیخ کنی بھی منصب انبیاء میں شالم ہے رفع التظالم من بین الناس یعنی لوگوں کے درمیان سے ظلم کو ختم کرنا بھی انبیاء کا مشن ہے اور پھر غلط رسومات اور ظلم کو مٹانے کے لئے اجتماعیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اس مقصد کے لئے انبشیاء کو خلافت کا نظام بھی قائم کرنا پڑتا ہے تاکہ مادی قوت حاصل ہو اور اس کے ذریعے مذکورہ مقاصد بھی حاصل کئے جاسکیں ، تاہم انبیاء کا بنیادی منصب دین سے روشناس ہی ہے۔
معانی کی درخواست
یوسف (علیہ السلام) کی خوشخبری سنانے کے بعد آپ کے بیٹوں نے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا اور باپ کے سامنے معافی کی درخواست پیش کی قالوا یا بانا استغفر لنا ذنوبنا کہنے لگے ، اے ہمارے باپ ! معاف کر دے ہمارے لئے ہمارے گناہ انا کنا
1 ؎ حجتہ اللہ البالغہ ص 337
خطئین بیشک ہم ہی خطا کار تھے۔ پہلے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے بھائیوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ اللہ نے آپ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور ہم ہی گنہگار ہیں تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ تم نے یہ کام نادانی کی حالت میں کیا ہے۔ اب باپ کے پاس بھی اپنے جرم کا اقرار کیا اور کہا کہ ہم کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں جو ہمارے لئے کسی طور بھی مناسب نہیں تھا ، لہٰذا باپ سے درخواست کی کہ ہم کم معاف کردیں۔
بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کسی شخص کے ذمے گناہ اس وقت تک ہی ہوتا ہے جب تک وہ اس پر مصر رہے اور اس کے بعد ان العید اذا اعترف وتاب تاب اللہ علیہ جب کوئی بندہ اعتراف معصیت کر کے توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ یقینا اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اب برادران یوسف نے بھی اپنی غلطی کا اقرا رکر کے توبہ کرلی اور اب وہ انابت کی طرف آگئے جو کہ بہت بڑی بات ہے۔
قال بیٹوں کی معافی کی درخواست کے جواب میں یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا سوف استغفرلکم ربی میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش طلب کروں گا۔ آپ نے فوراً بیٹوں کے لئے بخشش کی دعا نہیں کی بلکہ وعدہ کیا کہ عنقریب ایسا کروں گا مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کی دو وجوہات تھیں پہلی وجہ یہ تھی کہ یعقوب (علیہ السلام) سمجھتے تھے کہ زیادتی صرف انہی کے ساتھ نہیں ہوئی بلکہ یوسف (علیہ السلام) کو بھی سخت تکالیف پہنچئای گئی ہیں اور حقوق العباد کا تقاضا یہ ہے کہ جب تک صاحب حق خود معاف نہ کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے معاف نہیں کرتا۔ لہٰذا یعقوب (علیہ السلام) اس معاملہ میں یوسف (علیہ السلام) کا عندیہ بھی معلوم کرنا چاہتے تھے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) بھی اپنی بیماری کے آخری ایام میں منبر پر تشریف لائے شدت درد کی وجہ سے آپ نے سر پر رومال باندھ رکھا تھا۔ اس حالت میں آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ اے لوگو ! جس کسی نے مجھ سے کچھ لینا ہے وہ اسی دنیا میں وصول کرے تاکہ یہ حق یہیں خت مہو جائے اور آگے چل کر اس کی جواب دہی نہ کرنا پڑے۔ آپ نے دوسرے لوگوں سے بھی فرمایا کہ اگر کسی نے کسی کا حق دینا ہے تو ابھی ادا کر دو کسی کی بےآبروئی میں جا کر اللہ تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں کیرگا جب تک کہ بندہ اپنا حق معاف نہیں کریگا۔
قبولیت دعا کا وقت
حضرت عبداللہ بن معسود کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کی دعا کو موخر کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ بخشش کی دعا جمعہ کی رات کو کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ متبرک رات ہوتی ہے۔ ایک روایت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے تاخیر جمعرات تک نہیں بلکہ سحری کے وقت تک کی تھی حضرت عمر صبح کے وقت نماز کے لئے جا رہے تھے کہ کسی گھر سے دعا کی آواز آئی ، اے پروردگا ! تو نے پکارا تو میں نے تیری آواز پر لبیک کہی تو نے حکم دیا تو میں نے حتی الامکان اس کی تعمیل کی وھذا السخرفاعفرلی یہ سحری کا متبرک وقت ہے ، اے اللہ ! مجھے معاف کر دے ۔ حضرت عمر نے پتہ کیا تو دعا کی یہ آواز حضرت عبداللہ بن مسعود کے گھر سے آ رہی تھی آپ نے ان سے دریافت کیا یہ دعا تم مانگ رہے تھے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ کہ سحری کا وقت بڑا بابرکت اور قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ رات کے آخری حصے میں خاص قسم کی روحانیت پھیلی ہوئی ہے اور ادھر سے آوازیں آ رہی ہوتی ہیں کہ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کروں۔
بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کے حق میں بخشش کی دعا کو مئوخر کرتے ہوئے فرمایا کہ میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش کی دعا کروں گا انہ ھو الغفور الرحیم بیشک وہ خدا تعالیٰ بہت زیادہ بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے۔