12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 12:105–108

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور بہت سی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں جن پر یہ لوگ گزرتے ہیں مگر ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان میں سے اللہ تعالیٰ پر ، مگر وہ شرک کرنے والے ہوتے ہیں

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بےفکر ہوگئے ہیں اس بات سے کہ آجائے ان پر ڈھانپ لینے والی اللہ کے عذاب سے یا آجائے ان کے پاس قیامت ہی اچانک اور ان کو خبر بھی نہ ہو

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے یہ میرا راستہ ہے ، بلاتا ہوں میں اللہ کی طرف میں بصیرت پر ہوں اور وہ لوگ بھی جو میری پیروی کرتے ہیں اور پاک ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اور نہیں ہوں میں شرک کرنے والوں میں سے

یوسف (علیہ السلام) کی تدفین یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کا ذکر کیا انہوں نے نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں درخواست کی کہ ان کی موت اسلام پر آئے وہ نیک لوگوں میں شامل ہوجائیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی وفات کے تقریباً ربع صدی بعد یہ دعا کی تھی جبکہ آپ کا دل اس دنیا سے اچاٹ ہو کر آخرت کی طرف زیادہ راغب ہوچکا تھا۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی تو تاریخی روایات کے مطابق آپ کو تابوت میں بند کر کے دریائے نیل کے بالائی علاقے میں دفن کردیا گیا مگر آپ کی وصیت یہ تھی کہ اگر بنی اسرائیل کو کسی وقت مصر سے نکلنا پڑے تو پھر وہ اس تابوت کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں اور انہیں ان کے آبائو اجداد کے قریب فلسطین میں دوبارہ دفن کردیا جائے۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کے ہمراہ مصر سے نکلے تو وہ یوسف (علیہ السلام) کا تابوت بھی ہمراہ لے گئے اور پھر اسے وہیں دفن کردیا۔ جہاں حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہم السلام) کی قبور ہیں۔ تصدیق رسالت گزشت درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے مفصل واقعات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کرتے ہیں اور آپ کی طرف سے ان واقعات کا بےکم وکاست بیان کردینا ہی آپ کی رسالت کی دلیل ہے حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) پڑھے لکھے تو نہیں تھے اور نہ آپ نے تاریخ کی کتابیں کسی سے پڑھی سنی تھیں ، اس کے باوجود ان واقعات کو ٹھیک ٹھیک بیان کردینا وحی الٰہی کے ذریعے ہی ممکن تھا اور یہی بات ثابت کرتی ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ حضور ﷺ کا روشن مستقبل یوسف (علیہ السلام) کے ان واقعات سے حضور ختام النبین ﷺ کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ دونوں انبیاء کے بعض واقعات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ مثلاً یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے آپ کے ساتھ زیادتی کی طرح طرح کی تکالیف پہنچئای مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عروج نصیب کیا۔ بالکل اسی طرح حضور ﷺ کے بھائی بندوں نے بھی آپ کے ساتھ سخت پہلو کی ، آپ کو تکلیفیں پہنچائیں۔ آپ کے مشن کو ناکام کرنے کی کوشش کی مگر اس تمام تر مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو بام عروج تک پہنچایا جس طرح یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آخر میں نادم ہوئے تھے۔ اسی طرح حضور ﷺ کے عزیز و اقارب کو بھی آپ کے سامنے نادم ہو کر پیش ہونا پڑا۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ با تسمجھا دی کہ آپ کفار و مشرکین کی ایذا رسانیوں سے بد دل نہ ہوں بلکہ آپ کا مستقبل حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرح روشن ہے اور آخر میں آپ ہی کامیاب و کامران ہوں گے۔ اللہ نے آپ کو اس بات پر بھی تسلی دی کہ دنیا کی اکثر آبادی ہمیشہ گمراہی میں مبتلا رہی ہے ، لہٰذا اگر یہ لوگ آپ کے کہنعے پر ایمان نہیں لاتے تو آپ بد دل نہ ہوں بلکہ اپنا کام جاری رکھیں ، جن کی قسمت میں اللہ نے ہدایت لکھ رکھی ہے۔ وہ ضرور ایمان لائیں گے اور باقی اہل ایمان کی تقویت کا باعث بنیں گے۔ نشانات قدرت سے اعراض آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار و مشرکین پر افسوس کا اظہار کیا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں دیکھ کر بھی ان سے سبق حاصل نہیں کرتے بلکہ ان نشانات سے اغراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وکابن من ایۃ فی السموت والارض اور آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یمرون علیھا لوگ ان پر سے گزر جاتے ہیں۔ وھم عنھا معرضون مگر وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں۔ آیت کا لفظ عام ہے اور یہ مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آیت کا اطلاق حکم پر بھی ہوتا ہے جیسے ” تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق (البقرۃ) یہ الل ہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں اور آیت کا معنی دلیل بھی ہوتا ہے۔ ” ان فی ذلک لایۃ للمومنین “ (العنکبوت) اس میں مومنوں کے لئے دلائل ہیں۔ پھر آیت کا معنی واضح نشانی بھی ہوتا ہے ، جسے دیکھ کر انسان کوئی چیز اچھی طرح سمجھ جاتا ہے۔ جیسے فرمایا کہ زمین و آسمان کی پیدئاش اور دن اور رات کے اختالمیں ” لایت لاولی الالباب “ (آل عمران) اہل عقل و خرد کے لئے نشانیاں ہیں۔ آیت کا معنی معجزہ بھی ہے اور اکثر منکرین انبیاء (علیہم السلام) سے معجزے طلب کرتے رہے۔ کہتے تھے لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “ (یونس) اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ بہرحال یہاں پر آیت کا معنی واضح نشانی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے کائنات میں بیشمار نشانیاں پھیلا رکھی ہیں ، لوگ ان کو دیکھتے ہیں مگر ان سے عبرت حاصل کئے بغیر گزر جاتے ہیں ، گویا ان نشانتا قدرت سے اعراض کرتے ہیں جس طرح لوگ احکام الٰہی کو سن کر ان ر عمل نہیں کرتے۔ اسی طرح وہ اللہ کی نشانیاں دیکھ کر بھی ان سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے اور ان نشانات سے ایسے گزر جاتے ہیں جیسے کچھ دیکھا ہی نہیں۔ راستے میں میل کا نشان لگا ہوتا ہے ، جسے دیکھ کر مسافر سمجھ جاتے ہیں کہ وہ اپنی منزل کے کس حصے میں ہیں۔ وہ اس چھوٹی سی نشانی سے تو فائدہ اٹھا لیتے ہیں مگر اتنے بڑے بڑے نشانات قدرت کو دیکھ کر بھی انہیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین نہیں آتا۔ زمین ، چاند ، سورج ، کر ات پہاڑ جنگل ، دریا اتنے بڑے بڑے نشانات ہیں کہ معمولی سمجھ بوجھ کا آدمی بھی انہیں دیکھ کر اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مگر مشرکین پر ان کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ وہ ان نشانات سے لاپرواہی کے ساتھ گزر جانے ہیں ، غرضیکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی تنزیلی اور تکوینی دونوں قسم کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔ ان کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے ان پر غور و فکر ہی نہیں کرتے۔ مشرکین کی کثرت آگے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ان کے اعراض کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہوں کیونکہ وما یومن اکثرھم باللہ ان میں سے اکثر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے الا وھم مشرکون مگر وہ شرک کرنے الے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے کے باوجود لوگوں کی اکثریت مشرک ہی رہتی ہے۔ زبان سے ایمان کا دعویٰ بھی کرت یہیں مگر ساتھ ساتھ شرک کا ارتکاب بھی کرتے جاتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود اور خلاق ہونے کو تو مشرک بھی مانتے ہیں۔ سوائے دہریوں کی قلیل تعداد کے تمام یہود و نصاریٰ ہنود اور قدیم وجدید مشرک اللہ کی ان دو صفات کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر اللہ کی تدبیر اور عبادت میں شرک کرنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا دوسرے بھی تدبیر کرتے ہیں۔ وہ بھی مدبر ہیں اور لوگوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں اور بگڑی بناتے ہیں۔ اسی طرح قولی ، فعلی اور عملی عبادت میں بھی دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں ، ان کی نذر و دنیا دیتے ہیں ، ان کی دہائی دیتے ہیں یا ان کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) میں انبیت یا تین خدائوں کا عقیدہ مان کر شرک بنے۔ مجوسی ، یزدان اور اہر من دو خدائوں کو مان کر شرک میں مبتلا ہوئے بعض مشرک جنات اور ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر مشرک ہوگئے اور اکثر لوگ غیر اللہ کی انتہائی تعظیم کر کے ، غیروں کی نذر و نیاز دے کر ، قبروں پر تعظیماً چڑھا دے چڑھا کر شرک کے مرتکب ہوئے۔ قبروں کو پختہ بنانا ، ان پر چادریں اور پھول چڑھانا ، ان پر گنبد بنانا اور ان پر روشنی کرنا بدعت اور ناجائز ہی تو ہے اور یہ بیماری برصغیر میں عام ہے۔ قبروں پر جائو تو فاتحہ پڑھو استغفار کرو ، مرنے والوں کے لئے بخشش کی دعا کرو۔ جو سنت طریقہ ہے۔ مگر یہاں تو مسئلہ ہی دوسرا بن گیا ہے۔ یہاں لوگ قبروں پر جاتے ہیں کہ صاحبان قبر کو راضی کرسکیں اور پھر وہ خوش ہو کر ہماری مرادیں پوری کردیں۔ قبروں کا عرق گلاب سے غسل ، رنگ برنگی روشنیاں اگر بستیوں کی خوشبوں اور پھولوں کی مہک آخر کس لئے کی جاتی ہے۔ ان پر سجدہ کیوں کیا جاتا ہے ؟ ان کو بوسہ کیوں دیا جاتا ہے ؟ اور ان پر ہاتھ لگا کر منہ پر کیوں پھیرا جاتا ہے ؟ یہ سب کچھ قبر والے کو راضی کر کے اپنی مطلب براری کے دھندے ہیں اور یہی شرک ہے اسی لئے فرمایا کہ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے باوجود ، اس کی وحدانیت کو زبان سے تسلیم کرنے کے باوجود مشرک ہی رہتے ہیں۔ پیرپرست لوگ بزرگوں میں کرشمہ مان کر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں کسی پیر اور مولوی نے اگر کسی چیز کو حلال کردیا تو اسے حلال تسلیم کرلیا اور حرام کہہ دیا تو اسے ترک کردیا۔ یہ تو وہی نصاریٰ والا عقیدہ ہے جس کے متعلق سورة توبہ میں آتا ہے ” اتخذوآ احبارھم و رھبانھم ارباباً من دون اللہ “ کہ انہوں نے اپنے پیروں اور علماء کو اللہ کے سوا رب بنا رکھا تھا حضور ﷺ نے اس کی تشریح میں یہی فرمایا کہ غیر اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام تسلیم کرلینے کا نام اللہ کے سوا دوسروں کو رب بنانا ہے بعض لوگ تعویذ گنڈے کے ذریعے شرک میں مبتلا ہوت یہیں ایسے تعویذ جن میں غیر اللہ سے مدد طلب کی گئی ہو۔ یا جبرائیل اور میکائیل وغیرہ کے لافاظ ہوں یا جنات سے مدد طلب کی گئی ہو۔ قطعی حرام اور شرک ہے۔ بعض عورتیں خاوندوں کو رام کرنے کے لئے شرکیہ جتن کرتی ہیں بعض لوگ نجوم کو موثر مان کر نجومیوں سے قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں۔ کاہنوں سے غیب کی خبریں پوچھتے ہیں۔ بعض چیزوں سے اچھا یا برا شگون لیتے ہیں شرک کی تمام شکلیں انسانی سوسائٹی میں رائج ہیں اور ان کو کار ثواب سمجھ کر ادا کیا جاتا ہے۔ ہاں ! اگر تعویز میں اللہ کا کلام ہو اور مشرکانہ بات نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مگر اکثر لوگ شرک میں ملوث پائے جاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ظلم عظیم سے تعبیر فرمایا ہے اور جس کی معانی نہیں ہے۔ حضرت امام حسن بصری اس آیت میں مذکورہ شرک کو شرک خفی پر محمول کرتے ہیں اپنے عمل میں ریاکاری یاد کھلاوا شرک خفی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ مگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بڑے بڑے عابد ، زاہد اور عامل اس قبیح بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اب نیکی کا کون سا عمل ہے جو بےریا ہو کسی کی ذاتی عبادت ہو تو لائوڈ سپیکر پر نشر کی جاتی ہے۔ کسی غریب کی امداد کا مسئلہ ہو تو اخباروں میں تصویریں چھپتی ہیں اور اللہ تعالیٰ حج کی توفیق دے دے تو اس کی وسیع تشہیر کی جاتی ہے۔ یہی تو شرک خفی ہے جس میں لوگوں کی اکثریت مبتلا ہے۔ عذاب الٰہی سے بےفکری کفار و مشرکین کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا افامنوا کیا یہ سب لوگ بےفکر اور نڈر ہوگئے ہیں اس بات سے ان تاتیھم غاشیۃ من عذاب اللہ کہ آجائے ان پر ڈھانپ لینے والی اللہ کے عذاب سے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دن کے وقت یا رات کو کوئی افتاد آپڑتی ہے۔ اچانک رات کے وقت زلزلہ آیا اور تباہ کردیا۔ بدر تہ کا زلزلہ رات تین بجے آیا تھا کئوٹہ کا زلزلہ بھی رات کے وقت آیا تھا جس میں ہزاروں انسان موت کی نیند سو گئے۔ تو فرمایا کیا یہ لوگ کسی آفت کا انتظار کر رہے ہیں او تاتیھم الساعۃ بغتۃ وھولا یشعرون یا ان پر اچانک قیامت ہی آجائے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ قیامت کا آنا دو صوتروں میں ہے پہلی شکل تو یہ 1 ؎ ہے من مات فقد قامت قیامتہ جو مر گیا اس کی تو قیامت برپا ہوگئی اور عقبیٰ کی منزل یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جونہی انسان موت کی آغوش میں گیا ، اس مادی دنیا کا خاتمہ ہوا تو عقبیٰ کی پہلی منزل شروع ہوگئی۔ پھر آگے برزخ کی منزل ہے۔ پھر حشر کی منزل آئے گی اور پھر حساب کتاب کی منزل سے ہوتا ہوا انسان یا تو ابدی راحت میں پہنچ جاتا ہعے یا پھر جہنم کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور پھر قیامت کی دوسری شکل اجتماعی قیامت ہے جب ہر چیز فنا ہو کر نئی زمین اور نیا آسمان پیدا ہوگا اور پھر آگے تمام منزلوں سے گزرنا پڑے گا۔ تو فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے منتظر ہیں کہ اس دنیا میں ان پر مصیبتوں کی پہاڑ ٹوٹ پڑیں یا قیامت کے انتظار میں ہیں کہ وہ برپا ہو کر اس دنیا کا سلسلہ مکمل طور پر ختم کر دے۔ اب جبکہ تمام تنزیلی اور تکوینی دلائل آ چکے ہیں تو اب ایمان لانے میں کون سی چیز مانع ہے۔ کیا کسی عذاب یا قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ آئے تو پھر ایمان لائیں۔ یاد رکھو ! جب وہ وقت آ گیا تو پھر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت تک انسان مکمل طور پر ناکام 1 ؎ مرقاۃ شرح مشکوۃ ص 234/ج 10 ہو چکا ہے۔ صراط مستقیم فرمایا ، اے پیغمبر ! قل ھذہ سبیلی آپ کہہ دیں یہ ہے میرا راستہ ادعوآ الی اللہ میں تو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ ایمان اور توحید خالص کی طرف بلات اہوں کہ اس کو صحیح شکل و صورت میں تسلیم کرلو کیونکہ فلاح اسی میں ہے۔ اگر کفر و شرک میں ملوث رہے تو فلاح حاصل نہیں ہوگی۔ فرمایا علی بصیرۃ انا ومن اتبغنی میں بھی بصیرت پر ہوں اور میرے پیروکار بھی ان کو اس معاملہ میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا۔ فرمایا میں اور میرے متبعین اسی بصیرت کی طرف دعوت دیتے ہیں جو خالص ایمان پر مبنی ہے اور اس میں کفر و شرک کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ بصارت آنکھ سے دیکھنے کو کہتے ہیں اور بصیرت سے مراد دل کی روشنی ہے۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا پختہ یقین ہوجائے تو یہی بصیرت ہے۔ سورة انعام میں موجود ہے ” قد جآء کم بصآئرمن ربکم تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بصیرت آ چکی ہے۔ جو کوئی راستے اختیار کرے گا۔ اس میں اسی کا فائدہ ہے اور جو اس سے اعراض کرے گا۔ اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے اسی بصیرت کا اعلان کروایا مگر آج شیطانی پراپیگنڈے نے اس بصیرت کو خراب کر کے رکھ دیا ہے۔ اسلام کے مالفین قرآن و سنت کے متعلق ایسا پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ اہل ایمان دین سے متعلق تردد کا شکار ہو کر اپنی بصیرت کھو بیٹھیں کبھی جدید تمدن کے نام پر اور کبھی مادی ترقی کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو دین سے بدظن کیا جاتا ہے جس کا نتیجہ نکلا ہے کہ اکثر مسلمان قرآن پاک کے قانون سے متزلزل ہوگئے ہیں۔ اگر انہیں وحی الٰہی کی قوانین پر یقین ہوتا تو دنیا میں اس طرح ذلیل نہ ہوتے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں تجارت کا مکمل ضابطہ بیان فرمایا ہے اور مکمل حقائق کو واضح کیا ہے ، مگر ہمیں یہ ضوابط پسند نہیں۔ ہم تجاتری قوانین کے لئے امریکہ ، روس اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک خدا کے بتلائے ہوئے صنعت و حرفت کے قانون بہتر نہیں ، بلکہ ہم اغیار کی طرف دیکھتے ہیں۔ اسلام کے تعلیمی نظریات بھی ہماری ضروریات پوری نہیں کرتے ، ہمارے سیاسی مسائل اور ہمارے معاشی مسائل بھی حل طلب ہیں مگر قرآن پاک سے راہنمئای حاصل کرنے کی بجائے باہر سے مشیر منگواتے ہیں۔ جو اپنے نظریات ہم پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے اندر قرآنی بصیرت کیسے آسکتی ہے ہم تو ہمیشہ دوسروں کے دست نگر رہیں گے۔ یہ تو خود ہمارا فرض تھا کہ ہم قرآن پاک سے بصیرت حاصل کرنے کے لئے وقت دیتے ، محنت کرتے اور مال صرف کرتے ۔ ہمارے اکابرین دین نے قرآن کو سینے سے لگایا تو ان کے دل روشن ہوگئے۔ آج کوئی جمہوریت کے گیت گا رہا ہے تو کوئی اشتراکیت کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اپنے پاس موجود حقیقی نظام کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ دین میں اجتہاد علمائے حق کا کام ہے مگر آج ایسے ایسے مجتہد سامنے آ رہے ہیں ، جو غلط نظریات کو قرآن پر چسپاں کر کے اپنی مطلب براری کرنا چاہتے ہیں ابھی پچھلے دنوں علامہ اقبال کے فرزند اور پنجاب ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ موجودہ دور کے علماء اجتہاد کے اہل نہیں ہیں اور یہ کام وکلاء کے سپرد ہونا چاہئے۔ سبحان اللہ ! اجتہاد کے اہل وہ لوگ ہیں جو نماز اور روزہ سے عاری ہیں ، جن کی شکل و صورت صحیح نہیں اور جو پاکی پلیدی کے احکام سے واقف نہیں ، وہ دین میں اجتہاد کے اہل ہیں۔ اگرچہ اس زمانہ میں روایتی علماء بیشک انحطاط میں ہیں مگر وکلاء کو اہل اور علماء کو نااہل کہنا کتنی غلط بات ہے۔ وکلا کی اکثریت تو جان بوجھ کر ظالم کی حمایت کرتی ہے۔ انہیں سچ اور جھوٹ کا علم وہتا ہے مگر ان کے پیشے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت میں اپنے مئوکل کو صحیح ثابت کریں۔ بھلا یہ کہاں کا انصاف ہے اور ایسے وکلاء سے کون سا اجتہاد درست ہوگا ؟ آپ اندازہ لگائیں کہ ہماری بصیرت کس قدر خراب ہوچکی ہے۔ تمام ادیان اور اقوام کے برخلا حقیقت تو صرف اہل ایمان کے پاس تھی مگر انہوں نے خود دوسروں کو اپنے اوپر مسلط کرلیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن و سنت کے تمام قوانین کو فرسودہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے اور جدید نظام کو اپنایا جا رہا ہے جو دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ فرمایا : آپ کہہ دیجیے کہ یہ میرا راستہ ہے۔ میں تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ میں اور میرے پیروکار بصیرت پر ہیں اور یاد رکھو ! وسبحن اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔ وما انا من المشرکین اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میں اور میرے پیروکار ہر قسم کے شرک سے بیزار ہیں اور اللہ کی ذات تمام شرکیہ باتوں سے منزہ ہے۔
Ayahs 12:109–111

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر مرد ، ہم وحیٰ کرتے ہیں ان کی طرف اور وہ بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے کیا یہ لوگ نہیں چلے زمین میں ، پس دیکھتے کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، اور البتہ آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو بچتے رہے ، کیا تم عقل نہیں رکھتے

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ناامید ہوگئے اللہ کے رسول اور گمان کیا ان لوگوں نے کہ تحقیق وہ جھٹلائے گئے ہیں ، تو آگئی ان کے پاس ہماری مدد ، پس ہم نے بچایا ان کو جن کو ہم چاہتے ہیں۔ اور نہیں لوٹایا جاتا ہمارا عذاب ان لوگوں سے جو مجرم ہیں

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

البتہ تحقیق ان کے واقعات میں عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو عقل والے ہیں نہیں ہے یہ قرآن ایسی بات جو گھڑی گئی ہو ، لیکن یہ تصدیق ہے اس کی جو اس کے سامنے ہے اور یہ تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت کی تصدیق فرمائی کہ یہ واقعہ آپ نے نہ تو کسی سے سنا ہے اور نہ کسی کتاب میں پڑھا ہے بلکہ ہم نے وحی کے ذریعے آپ کو بتلایا ہے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ آپ اپنی دعوت الی اللہ کے لئے کسی سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتے بلکہ آپ یہ خدمت بےلوث انجام دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی تنزیلی اور تکوینی دونوں قسم کی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں مگر یہ لوگ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ بھلا ان کے ایمان لانے میں کون سی چیز مانع ہے کیا یہ عذاب کا اتنظار کر رہے ہیں یا قیامت کے برپا ہوجانے کے منتظر ہیں۔ پھر نبی علیہ اسللام سے خطاب کر کے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ میرا راستہ تو ایمان اور توحید کا راستہ ہے۔ میں اور میرے پیروکار بصیرت پر ہیں اور میں اسی راستے کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اس دعوت کو قبول کرلو گے تو بچ جائو گے ورنہ خدا تعالیٰ ک گرفت میں آجائو گے۔ پھر اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی مکرم کے لئے تسلی کا مضمون بیان فرمایا کہ تمام دلائل کے واضح ہوجانے کے بعد بھی اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قبول نہیں کرتے اور آپ کو نبی برحق تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ یہ معاملہ صرف آپ ہی کے ساتھ پیش نہیں آیا بلکہ پہلے لوگ بھی اپنے انبیاء کی دعوت کا اس طرح انکار کرتے رہے ہیں۔ انبیاء از نوع انسانی اب آج کی آیات میں نبی ﷺ کی حیثیت کو مزید واضح کیا گیا ہے وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً اور نہیں بھیجے ہم نے اس سے پہلے رسول مگر مراد اللہ کا ارشاد ہے کہ بنی نوع انسان کی طرف ہمیشہ انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کسی جن یا فرشتے کو لوگوں کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا کیونکہ بحیثیت انسان ان کا اسوہ بھی انسان ہی بن سکتے ہیں کوئی جنس غیر جنس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی طرف انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ وہ ان کی تعلیمات سے پور اپورا فائدہ اٹھا سکیں اور ان کے اعمال کو بطور نمونہ اختیار کر کے خود بھی احکام الٰہی پر کار بند ہو سکیں۔ مگر یہ لوگ پھر بھی انکار ہی کئے جا رہے ہیں۔ نوحی الیھم ہم پہلے انبیاء کی طرف بھیاسی طرح وحی کرتے رہے ہیں جس طرح آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ ہمارا پیغام رسانی کا طریقہ بھی ہمیشہ یکساں رہا ہے اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام انبیاء من اھل القریٰ بستیوں کے رہنے ولاوں میں سے مبعوث ہوتے رہے ہیں تو اللہ نے یہاں پر تین باتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی بات یہ کہ نبی ہمیشہ مرد ہوتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان پر وحی نازل ہوتی ہے اور تیسری بات یہ کہ انبیاء ہمیشہ بڑی بستیوں یعنی شہری علاقوں سے ہوتے رہے ہیں۔ مرد و زن میں تفریق جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے ، اللہ نے مردوں کو بنایا ہے اور آج تک کسی عورت کو نبوت عطا نہیں کی کیونکہ عورت اپنے مخصوص فطری تقاضوں کی بناء پر مصنب نبوت کے مناسب حالل نہیں ہے عورتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت بخشی ہے مگر نبوت کا منصب انہیں بھی عطا نہیں کیا بلکہ آپ کو صدیقیت کے مرتبے تک رکھا گیا ہے۔ سورة مائدہ میں موجود ہے ک ہمسیح (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے وامۃ صدیقۃ اور آپ کی والدہ حضرت مریم صدیقہ تھیں۔ چناچہ دور جدید میں عورت اور مرد کے مساوی حقوق کا مطالبہ درست نہیں ہے کیونکہ اللہ نے مرد و زن میں فطرتاً امتیاز رکھا ہے ، لہٰذا نہ تو ان کے فرئاض برابر ہیں اور نہ ہی حقوق مساوی ہیں البتہ نوع انسانی میں عورت اور مرد دونوں صفتیں شامل ہیں اور دونوں ہی اپنے اپنے دائرہ کار میں احکام الٰہی کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ نے بعض کام مردوں کے ساتھ خاص کئے ہیں جن کی ذمہ داری عورتوں پر نہیں ڈالی گئی کیونکہ عورتیں ایسے امور کی اہل ہی نہیں ہیں۔ علم کلام والے نبی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں ھو انسان بعثہ اللہ لتبلیغ ما اوحاہ اللہ الیہ یعنی نبی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اس چیز کی تبلیغ کے لئے مبعوث فرماتا ہے جو اس کی طرف وحی کی جاتی ہے مطلب یہ ہے کہ تبلیغ و ارشاد کا فریضہ اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر مردوں کے سپرد کیا ہے اور عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اجتماعی نوعیت کے تمام امور مثلاً جہاد ، جارت اور تبلیغ وغیرہ مردوں کی ذمہ داری میں ہیں۔ عورتوں کے لئے حکم یہ ہے ” وقرن فی بیوتکن “ کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں۔ زمانہ جاہلیت کی طرح بےپردہ نہ گھومتی پھریں۔ البتہ واذکرن مایتلی فی بیوتکن (الاحزاب) گھروں میں بیٹھ کر اللہ کی نازل کردہ حکمت کا تذکرہ کریں۔ عورتوں کی تعلیم و تربیت عورتیں کرسکتی ہیں مگر محدود پیمانے پر باہر جا کر کام کرنا مردوں کی ذمہ داری ہے اگر عوتریں بھی مردوں کے شانہ بشانہ نکلیں گی تو معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوں گی۔ بہت سے امور کے لئے اندرون و بیرون ملک سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ اکیلے رہنا پڑتا ہے ، اس لئے ایسے کام اللہ نے مردں پر ڈالے ہیں۔ باہر جا کر کام کرنا تو دور کی بات ہے ، عورت تو خاوند یا محرم کے بغیر سفر بھی نہیں کرسکتی۔ چونکہ منصب نبوت ایک اہم اور مشکل کام ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ منصب عورتوں کو عطا نہیں فرمایا اور دوسری بات اللہ نے یہ فرمائی کہ ہم انبیاء کی طرف وحی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وحی غیر نبی پر تو نہیں آتی بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں کے پاس ہی جبرئایل (علیہ السلام) کو بھیج کر وحی نازل کرتا ہے ۔ چونکہ انبیاء صرف مرد ہوتے ہیں ، اس لئے وحی بھی انہی پر نازل ہوتی ہے۔ دیہاتی اور شہری تمدن تیسری چیز اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ نبی اور رسول بستیوں میں رہنے والے تھے۔ قریہ کا اطلاق اگرچہ چھوٹی اور بڑی سب بستیوں پر ہوتا ہے۔ تاہم اس مقام پر قریٰ سے مراد بڑی بستیاں یعنی شہر میں دیہات وغیرہ کے لئے بادیہ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے مگر اللہ نے بادیہ سے کوئی نبی نہیں اٹھایا کیونکہ بادیہ کے لوگ تہذیب سے قدرے دور ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف شہر کے لوگوں کی تہذیب و تمدن بہتر ہوتی ہے کیونکہ انہیں تعلیم و تربیت کے بہتر مواقع اور اچھی مجالس حاصل ہوتی ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے من سکن البادیۃ جفا جس نے بادیہ میں سکونت اختیار کی اس نے زیادتی کی کیونکہ وہ بہتر تمدن سے محروم رہا۔ منافقوں کی مذمت کے بیان میں بھی اللہ نے فرمایا ہے ” الاعراب اشد کفرا ونفاتاً (التوبۃ) دیہاتی لوگ کفر اور نفاق میں بڑے سخت ہوتے ہیں۔ غرضیکہ شہری ماحول کو پسند کیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں مکہ اور طائف کے لئے قریتین کا لفظ آیا ہے کہ یہ دونوں بڑی بستیاں یعنی شہر شمار ہوتے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ نبی اکثر شہروں سے ہوتے ہیں مگر لوگ ہمیشہ انکار کرتے رہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ نیک و بد کا انجام آگے فرمایا افلم یسیروا فی الارض کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم وہ چل پھر کر دیکھ لیتے کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ پرانی تہذیبوں کے کھنڈرات ملاحظہ کریں گے تو انہیں پتہ چلے گا کہ نافرمان قوموں کا کیا حال ہوا۔ جب گزشتہ اقوام نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہوئیں تو اس دور کے نافرمان لوگ کیسے بچ سکتے ہیں۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے۔ ولدار الاخرۃ خیر للذین اتقوا اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو بچتے رہے ۔ جنہوں نے کفر و شرک سے اعراض کیا ، معاصی سے بچتے رہے اور دنیا میں نہایت محتاط طریقے سے زندگی بسر کی ، آخرت کی بھلائی انہی کے لئے ہے افلا تعقلون کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے کہ اگر آج اس دنیا میں نافرمان لوگ کامیا نہیں تو کل کو آخرت میں کیسے کامیاب ہوں گے ؟ قیامت کو بھی ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ انبیاء کی مایوسی اگلی آیت بھی تسلی ہی کے باب میں آ رہی ہے ۔ اللہ کے نبی طویل عرص ہتک تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے ، اس کام میں بڑی بڑی تکالیف برداشت کیں مگر قوم کی طرف سے مسلسل نافرمانی ہوتی رہی۔ حتی اذا ستیئس الرسل حتی کہ جب رسول ناامید ہوگئے۔ وظنوآ انھم قذکذبوا اور انہوں نے گمان کیا کہ تحقیق وہ جھٹلائے گئے ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول اس بات سے مایوس ہوگئے کہ اب نافرمانوں کو اس دنیا میں سزا نہیں ملے گی مگر بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ نبیوں کی طرف مایوسی کی نسبت کرنا درست نہیں ہے کیونکہ وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے۔ اگر اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے مایوس ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے جو نافرمانوں کے لئے سزا کا وعدہ فرمایا تھا یا اہل ایمان کی نصرت کا وعدہ کیا تھا ، وہ غلط ثابت ہوا اور انبیاء کی بات کی تکذیب ہوئی فرماتے ہیں کہ ایسی بات نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے کذبوا کا معنی خطا کیا ہے۔ یعنی نبیوں نے از خود سمجھ لیا تھا کہ شاید ان کی زندگی میں ہی فلاں لوگوں کو سزا مل جائیگی ، ایسا سمجھنے میں انہوں نے خطا کی کیونکہ عذاب کا آنا مصلحت الٰہی کے تابع ہے۔ امام ابوبکر جصاص امام ابن کثیر اور بعض دوسرے مفسرین لکھتے ہیں کہ ابو حمزہ جذری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے احباب کی دعوت کی جس میں حضرت سعید ابن جبیر کو بھی مدعو کیا گیا۔ کہتے ہیں کہ باقی سب احباب دعوت میں شریک ہوگئے مگر حضرت سعید نہ ائٓے تو میں خود ان کو جا کر لایا۔ دوران مجلس ایک نوجوان نے سعید بن جبیر سے کہا کہ جب میں آیت ” اذا استیئس الرسل پر پہنچتا ہوں تو مجھے یہ بات بڑی سخت معلوم ہوتی ہے کہ بھلا اللہ کے نبی کیسے مایوس ہو سکت یہیں اور پھر ساتھ یہ بھی وظنعا انھم قد کذبوا انہوں نے گمان کیا کہ اللہ کی طرف سے نافرمانوں کو سزا نہ دے کر یہ انبیاء کی مدد نہ کر کے ان کی تکذیب کی گئی ہے تو اس نوجوان نے کہا کہ مجھے تو یہ الفاظ پڑھنے سے سخت ڈر لگتا ہے اور صدمہ ہوتا ہے۔ بھلا آپ اس کو کس طرح پڑھتے ہیں ؟ تو اس کے جواب میں تابعین کے زمانے کے مفسر قرآن حضرت سعید ابن جبیر نے فرمایا کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ” یہاں تک کہ اللہ کے رسول مایوس ہوگئے لوگوں کے ایمان سے نہ کہ خدا کی نصرت سے “ اللہ کے نبیوں نے بڑی محنت کی ، بڑا لمبا عرصہ ان پر گزارا۔ حتی کہ نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو برس تک حق تبلیغ ادا کیا مگر قوم کے ایمان لانے کی طرف سے مایوس ہوگئے۔ اللہ نے بڑی مہلت دی مگر وہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں وظنوا سے مراد انبیاء کا گمان نہیں بلکہ گمان کردن قوم ایشاں “ یعنی ابنیاء (علیہ السلام) کی قوم نے یہ گمان کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی ہے کیونکہ عذاب آنے کا جو وعدہ ان سے کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا مرسل الیہم میں دونوں قسم کے لوگ آسکتے ہیں۔ یعنی کافر بھی ایمان دار بھی۔ اگر اس سے کافر مراد لئے جائیں تو ظاہر ہے کہ وہ تو کہیں گے کہ کوئی عذاب نہیں آیا اور ان کے ساتھ جھوٹ بولا گیا کہ کوئی ایسا ویسا عذاب آنے والا ہے اور اگر تکذیب کی نسبت ایمانداروں کی طرف کی جائے تو اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح جھٹلائے گئے۔ تو ظاہری طور پر جب اللہ کی طرف سے لمبی مہلت دی گئی اور نافرمانوں پر عذاب نہ آیا تو مومنوں نے گمان کیا کہ شاید وہ جھٹلائے گئے ہیں۔ بہرحال تکذیب کی نسبت کافروں یا مومنوں کی طرف تو ہو سکتی ہے مگر اللہ کے بنیوں کی طرف نہیں ہو سکتی کہ وہ جھٹلائے گئے ہیں۔ البتہ مایوسی کا مرجع نبیوں کی طرف ہو سکتا ہے کہ ان کی قوم کے لوگ ایمان نہیں لاتے مگر پھر بھی اللہ کی رحمت اور اس کی مدد سے مایوسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ نصرت الٰہی بہرحال جب اس قسم کے حالات پیدا ہوگئے کہ طویل مہلت کی وجہ سے مایوسی کے آثار پیدا ہونے لگے اور تکذیب کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اللہ نے فرمایا جآء ھم نصرناً ان کے پاس مہاری مدد آن پہنچی فنجی من نشآء پھر ہم نے نجات دی جس کو چاہا ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب لوٹایا نہیں جاتا۔ اگرچہ منکرین کو مہلت دی گئی۔ مگر بالآخر ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ہلاک کردیئے گئے۔ یہ حضور ﷺ کے لئے تسلی کا مضمون بیان ہو رہا ہے کہ پہلے رسولوں پر بھی بڑی آزمائش آئی حتی کہ نبی اور اہل ایمان پکار اٹھے ” مثی نصر اللہ “ اللہ کی مدد کب آئے گی ، ہم تو بہت انتظار کرچکے اور بڑی تکالیف برداشت کرچکے تو ادھر سے آواز آئی الا ان نصر اللہ قریب فکر نہ کرو ، اللہ کی نصرت قریب ہی ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہوتی ہے وہ نافرمانوں کو مہلت دیتا رہتا ہے بعض باتوں کو انسان نہیں جانتے مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ پھر جب اس کی مصلحت کے مطابق وقت پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد پنچ جاتی ہے اور منکرین و مکذبین کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ سامان عبرت پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کے روشن مستقبل کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان واقعات کو بیان کرنے کا دوسرا بڑا مقصد یہ ہے کہ لوگ ان واقعات کو جان کر عبرت حاصل کریں۔ اگلی آیت کریمہ میں یہی بات بیان کی گئی ہے لقد کان فی فصصھم عبرۃ ولی الالباب بیشک ان کے واقعات میں عبرت ہے عقل رکھنے والوں کے لئے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھائیوں نے حسد کیا ، آپ کے خلاف بغض اور عناد رکھا ، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے برخلاف یوسف (علیہ السلام) نے صبر و استقامت کا ثبوت دیا۔ تمام مصائب کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیاب کیا اور ان کے حاسد بھائی ان کے پاس ذلیل ہو کر آئے معلوم ہا کہ ایمان اور توحید والے ہی آخر کار کامیاب وہتے ہیں۔ پھر ان واقعات سے پاکیزگی اور طہارت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ عفت و عصمت کا نمونہ پیش ہوتا ہے صبر و ثبات کا سبق ملتا ہے اور تبلیغ دین کا طرقیہ معلوم ہوتا ہے ۔ غرضیکہ یوسف (علیہ السلام) کا پورا واقعہ عقل مند لوگوں کے لئے باعث عبرت اور نصیحت ہے۔ قصصھم جمع کا صیغہ ہے اور اس کا مرجع باقی سابقہ انبیاء بھی ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ سورتوں میں تاریخ ابنیاء کے سلسلے میں حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت لوط (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہوچکے ہیں۔ ان تمام واقعات میں اہل خرد کے لئے عبرت کا مکمل سامان موجود ہے۔ قرآن پاک کی حقانیت اب آخر میں قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ما کان حدیثاً یفتریٰ یہ قرآن کریم کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں ہے ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو تصدیق کرنے والی ہے اس کو جو اس کے سامنے ہے۔ قرآن سے پہلے تورات ، انجیل ، زبورا اور صحائف نازل ہوچکے ہیں۔ ان تمام کتب سماویہ کی قرآن پاک تصدیق کرتا ہے کہ اللہ نے ان کو لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل فرمایا اور پھر قرآن یہ بھی بتلاتا ہے کہ ان کتب کے حاملین نے ان میں کیا کیا خرابیاں پیدا کیں اور ان میں کس کس لفظی اور معنوی تحریف کی ۔ تصدیق میں یہ دونوں باتیں آجاتی ہیں۔ اس قرآن کریم کی دوسری صفت یہ ہے و تفصیل کل شیء اس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے۔ ہر چیز سے وہ چیزیں مراد ہیں کہ جو انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے ضروری ہیں ۔ سورة النحل میں ہے ونزلنا علیک الکتب تبیاناً لکل شیء ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو ہر چیز کو واضح طور پر بیان کرتی ہے اور کسی چیز میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ یہاں پر بھی ہر چیز سے وہ چیز مراد ہے جو بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے ضروری ہے ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس کی تفسیر کے مطابق تبیاناً لکل شیء من الحلال والحرام یعنی حلال حرام ، جائز ناجائز یا صحیح اور غلط کے متعلق یہ کتاب الٰہی ہر چیز کو واضح کرتی ہے اور اس میں کوئی اشتباہ نہیں رہنے دیتی اور اگر کوئی شخص ہر چیز سے دنیا کی ہر چیز مراد لیتا ہے تو وہ درست نہیں ہوگا۔ کیونکہ قرآن پاک صابن بنانے ، مشینری جوڑنے یا پرزے بنانے کی تفصیلات تو نہیں بتائے گا۔ بلکہ وہ تو ایسے اصول بتائے گا جن کے ذریعے عقیدے ، عمل اور اخلاق کی اصلاح ہو ، قرآن بتائے گا کہ کون سے کام کرنے چاہئیں اور جن کاموں سے بچنا چاہئے کون سے کام کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں اور کون سے ناکامی کا باعث بنیں گے۔ ہدایت اور رحمت فرمایا اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے وھدی اور اس میں ہدایت بھی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرتی ہے مگر اس کے لئے محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سورة بقرہ میں دو چیزوں کا ذکر آتا ہے۔ ” من البینت والھدی “ ایک بینات ہے اور دوسری ہدایت بینہ واضح چیز کو کہا جاتا ہے جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے جیسے صبر ، شکر وغیرہ مگر ہدایت کے لئے استاد کے پاس جانا پڑتا ہے ہدایت میں شریعت کی باریک باتیں ہوتی ہیں اور 1 ؎ انما العلم بالتعلم یعنی علم سیکھنے سے آتا ہے ۔ ایسی چیزوں کے لئے زانوئے ادب طے کرنا پڑتا ہے۔ تو فرمایا کہ قرآن حکیم میں ہدایت کا سامان بھی موجود ہے۔ اور تیسری چیز فرمایا و رحمۃ اس میں رحمت بھی ہے ظاہر ہے کہ رحمت کا نزول اس وقت ہوتا ہے جب کوئی انسان ہدایت کا صحیح طریقہ اختیار کر کے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ۔ پھر اللہ کی رحمت بندے کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ قرآن پاک ہدایت اور رحمت ہے لقوم یومنون ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔ ہدایت کو اختیار کرتے ہیں۔ صحیح راستے پر چلتے ہیں۔ اللہ کی رحمت ایسے ہی لوگوں کے حصوں میں آتی ہے۔