Ayahs 12:69–75ربط آیات
حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا ذکر ہورہا ہے۔ دوسری دفعہ مصر جانے کے لیے انہوں نے باپ کو آمادہ کرلیا کہ وہ سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو بھی ہمراہ لے جائیں گے کیونکہ اس کی عدم موجودگی میں عزیز مصر انہیں اناج نہیں دیگا۔ چناچہ باپ سے عہد و پیمان کیے کہ وہ بن یامین کو بھی ضرور واپس لائیں گے ‘ چلتے وقت یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو بعض حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی نصیحت بھی کی کہ مصر میں داخل ہوتے وقت کسی ایک دروازے سے سب کے سب اکھٹے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ مقصد یہ تھا کہ اکٹھا داخل ہونے کی صورت میں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے یا کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اب آج کے درس میں برادران یوسف کے مصر میں داخلے اور وہاں پیش آنے والے بعض واقعات کا ذکر ہے۔
بن یامین سے تعارف
ولما دخلوا علی یوسف جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دوبارہ مصر پہنچے اوی الیہ اخاہ تو آپ نے اپنے بھائی بن یامین کو اپنے پاس پناہ میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ برادران یوسف جب دوسری مرتبہ مصر پہنچے تو انہوں نے بتایا کہ ہم آپ کی نصیحت کے مطابق چھوٹے بھائی کو بھی ساتھ لائے ہیں تاکہ دوبارہ اناج حاصل کرسکیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے پہلے سے بھی بڑھ کر ان کی عزت افزائی کی۔ پھر آپ نے ایک وسیع دعوت طعام کا انتظا م کیا جس میں سارے بھائیوں کو مدعو کیا اور دو دو بھائیوں کو ایک ساتھ مل کر کھانا کھانے کے لئے کہا۔ چناچہ دس بھائی تو جوڑا جوڑا بیٹھ گئے ، مگر بن یامین اکیلا رہ گیا۔ اس کو پریشان دیکھ کر یوسف (علیہ السلام) نے اسنے اپنے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کے لئے کہا اور اس طرح بن یامین کو بادشاہ کے ساتھ کھانا کھانے کا موقع مل گیا جو کہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب برادران یوسف آپ کے پاس داخل ہوئے تو آپ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی پھر آپ نے اپنے بھائی سے اس کا نام پوچھا تو اس نے بن یامین بتایا۔ آپ نے فرمایا اس نام کا معنی کیا ہے تو بن یامین نے کہا کہ اس کا معنی ہے ” گم کردہ کا فرزند “ (ولد المثکل) کہنے لگا کہ جی میری ولادت ہوئی تو میری والدہ فوت ہوگئی تھی ، مگ ہوگئی تھی ، اس لئے میرا یہ نام رکھا گیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ میں تمہارا گمشدہ بھائی تمہارے حق میں ہو جائوں۔ تو چھوٹا بھائی کہنے لگا اے بادشاہ آپ جیسا بھائی کس کو مل سکتا ہے ، جس بھائی کو ہم نے گم پایا ہے وہ تو یعقوب اور راحیل نے جنا تھا مگر آپ تو ان کے فرزند نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ جیسا بھائی تو کسی خوش بخت کا ہو سکات ہے۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) پر گریہ طاری ہوگیا ، آپ نے بن یامین کو سینے سے لگا لیا ، قال انی اخوک میں ہی تمہارا بھائی ہوں اور پھر اس کو تسلی بھی دی فلا تبتئس بما کانوا یعملون پس تم نہ غم کھائو ان باتوں پر جو تمہارے دوسرے بھائی کرتے تھے۔ انہوں نے میرے ساتھ یا تمہارے ساتھ جو بھی سلوک کیا اس کو دل سے نکال دو ۔ بھائیوں نے جس طرح یوسف (علیہ السلام) کو سخت تکالیف پہنچائیں اسی طرح وہ بن یامین کی بھی تحقیر کرتے تھے ، اس کو طعن کرتے اور طرح طرح کی اذیت پہنچاتے تھے ، تو یوسف (علیہ السلام) نے اس کو تسلی دی اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ اپنے بھائیوں کے سامنے میرا تعارف نہ کرانا کیونکہ ابھی اس بات کا وقت نہیں آیا۔ جب وقت آئے گا تو میں خود اپنے آپ کو ظاہر کر دوں گا۔
برادرانہ تعلقات
بھائیوں کا رشتہ بڑا اہم رشتہ ہے۔ یہ ایک دوسرے کے لئے عزت اور قوت بازو بنتے ہیں۔ فارسی والے کہتے ہیں۔؎
ہر کہ برادر نہ دارد قوت بازو نہ دارد
جس کا بھائی نہیں ہوتا وہ قوت بازو سے خلای ہوتا ہے۔ اسی طرح مقولہ ہے۔ ہر کہ مادر نہ دارد ، شفقت نہ دارد جس کی ماں نہیں وہ شفقت سے محروم ہوتا ہے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا فرمان بھی ہے المرء کثیر باخیہ آدمی بھائیوں کے ساتھ ہی زیادہ ہوا کرتا ہے۔ اس کے باوجود سوتیلے پن کی وجہ سے علاقئی بھائیوں میں حسد ، بغض اور عداوت بھی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو تکلیف بھی پہنچاتے ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے بیٹوں کی چھوٹے بھائیوں سے عداوت اسی بنا پر تھی اور پھر بعض اوقات بڑے بھائی چھوٹوں کے ساتھ بدسلوکی بھی کرتے ہیں ، ان کی حق تلفی کرتے ہیں۔ ان کو اذیت پہنچایت ہیں اور تحقیر آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لئے فارسیو الے کہتے ہیں ” مگ باش ، برادر خورد نہ باش “ یعنی کتا بن جا مگر چھوٹا بھائی نہ بن کیونکہ بعض اوقات محض چھوٹا ہونے کی وجہ سے تکالیف برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ عربوں میں بھی یہ بیماری موجود تھی کہ بڑا بھائی باپ کی ساری جائیداد پر قابض ہو کر چھوٹے بھائیوں کو محروم کردیتا تھا۔
بہرحال بھائی بھئای کا تعلق ایک لحاظ سے تو بڑا قیمتی ہے مگر بعض اوقات یہی تعلق حسد اور بغض کو جنم دیتا ہے۔ اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر سورة مائدہ میں فرمایا ہے ، وہ بھی تو حقیقی بھائی تھے مگر ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ یہاں بھی یوسف (علیہ السلام) کے تمام بھئای باپ میں شریک ہیں مگر ماں مختلف ہونے کی بناء پر چھوٹے بھائیوں سے سخت بدسلوکی سے پیش آئے۔ مکہ کے مشرکین کا بھی یہی حال تھا۔ حضور ﷺ ان کے بھائی برادری والے اور قریبی رشتہ دار تھے ، کوئی چچا تھے ، کوئی چچا زاد تھے مگر انہوں نے آپ کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے اپنے چھوٹے بھائی بن یامین کو تسلی دی کہ غمگین نہ ہو ، میں ہی تیرا گمشدہ بھائی یوسف ہوں۔
پیمانے کی گمشدگی
برادران یوسف کچھ دن آپ کے پاس ٹھہرے رہے اور مہمان نوازی کا لطف اٹھاتے رہے اور بالآخر ان کی واپسی کی تیاری ہوگئی اور ہر بھائی کو ایک ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دے دیا گیا۔ اگلی آیت میں اسی واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔ فلما جھزھم بجھازھم جب ان کا سامان ان کو تیار کر کے دیا جعل السقایۃ فی رحل اخیہ تو پانی پینے کا پیالہ اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ رحل کا لفظی معنی کا وہ ہوتا ہے اور مراد سامان ہے جو کجاوے میں رکھا جاتا ہے ۔ بہرحال غلہ بھرتے وقت پانی پینے کا پیالہ یا غلہ ماپنے کا پیمانہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا ثم اذن موذن پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا تھا العیر انکم لسرفون اے قافلے والو ! تم تو چور ہو۔
یہاں پر مئوذن کا لفظ آیا ہے جس کا معنی کالعان کرنے والا ہوتا ہے اور اذان کا معنی اعلان ہے۔ ہر اعلان پر اذان کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ مگر شرعی اصطلاح میں ” اذان “ مخصوص الفاظ کے ساتھ اور مخصوص مقصد یعنی نماز کے لئے منا دی کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو فرشتے نے حضور کے ایک صحای کو خواب میں بتلائے تھے اور کہا تھا کہ ناقوس وغیرہ بجانے کی بجائے نماز کا اعلان ان الفاظ کے ساتھ کرلیا کرو۔ پھر حضور ﷺ نے اس کیت صدیق بھی فرمائی ان رء یا حق ان شآء اللہ یعنی اللہ نے چاہا تو یہ خواب برحق ہے۔ آپ نے فرمایا یہ الفاظ بلند آواز والے حضرت بلال کو بتلائو تاکہ وہ ان الفاظ کے ساتھ نماز کی منادی کرے۔
جب برادران یوسف نے چوری کا یہ اعلان سنا تو ششدرہ رہ گئے قالوا و اقبلوا علیھم ان اعلان کرنے والوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ماذا تفقدون تم کیا چیز گم پاتے ہو ؟ قالوا نقد صواع الملک انہوں نے کہا ، ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں اور ساتھ پیمانہ تلاش کرنے والے کے لئے انعام کا اعلان بھی کیا ، کہنے لگے ولمن جآء بہ حمل بعیر جو کوئی وہ پیمانہ تلاش کر کے لائے گا اسے ایک اونٹ کا بوجھ بطور انعام دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی وانا بہ زعیم اور میں اس بات کا ذمہ دار ہوں کہ انعام ادا کرنے میں دیر نہیں کی جائیگی۔
چوری کا الزام
اس واقعہ میں مفسرین کرام یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ جعل السقایۃ کی ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کا پیالہ یا پیمانہ خود یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کے سامنے میں رکھ دیا اور پھر خود ہی بھائیوں پر چوری کا الزام لگایا یہ اتہام ہے اور کبیرہ گناہ میں شامل ہے۔ اگر آپ کا کوئی کارندہ یہ کام کرتا تو متلف بات ہوتی مگر یہ کام تو خود آپ نے کیا اور بھائیوں کو اس کا علم تک نہیں تو خدا کے برگزیدہ بنی سے یہ کام کیسے سرزد ہوا ؟ اس اشکال کی مفسرین کرام مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ انکم لسرقون الزام نہیں بلکہ استفہام ہے یعنی بھائیوں سے دریافت کیا کہ کیا تم چور ہو ؟ اور استفسار غلط بیانی کی زد میں نہیں آتا۔
بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ بھائیوں کے سامان میں برتن تو یوسف (علیہ السلام) نے رکھا تھا مگر اعلان کرنیوالے حکومت کے کارندے تھے جنہیں واقعی علم نہ تھا کہ برتن کیسے گم ہوا ہے اس لئے کارندوں کی طرف سے چوری کا الزام یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ مگر چونکہ اعلان کرنے والے حکومت کے حکم پر ایسا کر رہے تھے ، لہذٰا حکومت اس الزام میں بالواسطہ شریک ہے اور اسے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ چناچہ اس معاملہ میں اکثر مفسرین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ انکم لسرقون کے الفاظ چوری کا الزام نہیں بلکہ تو ریہ ہے ، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بات کرنے والا اپنی بات کا کوئی دور کا مطلب لیتا ہے جبکہ سننے والا اس کو عام فہم اور قریبی معنوں میں سمجھتا ہے۔ اس کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے یہ تعریض یا تو ریہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ ان فی التعریض لمندوحۃ یعنی بیشک تعریض میں انسان کے لئے بچائو کا سامان ہوتا ہے اور بعض مواقع پر توریہ کو اختیار کرنا جائز ہوتا ہے مثلاً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب آپ کی قوم نے آپ کو اپنے ساتھ میلے میں لے جانا چاہا تو آپ نے فرمایا ” انی سقیم “ (89- 37) میں بیمار ہوں۔ اس سے آپ کا مطلب کچھ اور تھا مگر قوم نے سمجھا کہ آپ کسی جسمانی بیماری میں مبتلا ہیں پھر جب آپ وطن سے ہجرت کر کے مصر پہنچے تو آپ نے اپنی زوجہ محترمہ کے لئے اختی یعنی بہن کا لفظ استعمال کیا۔ اس سے بھی سننے والوں نے حقیقی بہن سمجھا جب کہ آپ کی مراد مختلف تھی ، اس قسم کی بات کو تو ر یہ کہا جاتا ہے۔ یر صریح جھوٹ نہیں ہوتا اور اس کی اجازت ہے تو اس موقع پر انکم لسرقون کے الفاظ کو یوسف (علیہ السلام) کی طرف بھی منسوب کیا جائے تو یہ توریہ ہوگا کیونکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو سیر و تفریح کے بہانے باپ سے حاصل کیا اور پھر اسے قافلے والوں کے ہاتھ فروخت کردیا جو کہ صریح چوری ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی مراد وہ سابقہ چوریتھی جب کہ آپ کے بھائی اسے پیمانے کی چوری پر محمول کر رہے تھے۔
خود حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کے ہجرت کے واقعہ میں آتا ہے کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ محو سفر تھے کہا یک ایسا شخص ملا جو حضرت صدیق کو تو جانتا تھا مگر حضور ﷺ کا روشناس نہیں تھا۔ ان دنوں حالت یہ تھی کہ مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر سو اونٹ کا انعام مقرر کر رکھا تھا اور اس انعام کے لالچ میں لوگ چاروں طرف دوڑ رہے تھے۔ ایسی حالت میں اگر صدیق اکبر حضور ﷺ کا تعارف اس شخص سے کرا دیتے تو آپ کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ چناچہ جب اس نے حضرت صدیق سے دریافت کیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے تو آپ نے جواب دیا رجل یھدین السبیل ایک آدمی ہے جو میری راہنمائی کر رہا ہے۔ وہ شخص سمجھا کہ حضرت صدیق اکبر کے ساتھ کوئی راستہ بتانے والا یعنی بدرقہ ہے حالانکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ میرے ساتھ اللہ کا راستہ بتانے والا ہے بہرحال اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) کا بھائیوں سے یہ کہنا کہ تم چور ہو ، پیالے کے چور نہیں تھا بلکہ خود یوسف (علیہ السلام) کے چور ہونا مراد تھی اور ایسا کہنے پر کوئی الزام نہیں آسکتا کیونکہ تعریض تھی۔
اس آیت کریمہ میں گم شدہ چیز کو صاع کا نام دیا گیا ہے۔ صواع اور صاع ایک ہی چیز ہے۔ اس میں سقایہ کا لفظ بھی آیا ہے جس کا معنی پینے کا پیالہ ہوت ہے اور صاع چار سیر کا ایک پیمانہ ہوتا ہے جس ہے غلہ وغیرہ ماپتے ہیں۔ درصال گمشدہ چیز چاندی کا بنا ہوا ایک برتن تھا ہو سکتا ہے کہ اس میں پانی بھی پیتے ہوں اس لئے اسے ساقیہ کہا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس برتن کے ساتھ لوگوں کو غلہ ماپ کردیتے ہو اور اس لحاظ سے یہ صواع یا صاع کہلات اہو بعض کہتے ہیں کہ قحط کے دنوں میں یہ بتن ایک معیاری پیمانہ تھا جس کے ساتھ اناج ماپ کردیا جاتا تھا اور یہی برتن برادران یوسف کے سامان میں رکھ دیا گیا اور پھر اس کی گمشدگی کا اعلان بھی کیا گیا۔
برادران یوسف کا انکار
بہرحال جب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں پر چوری کا الزام لگایا گیا قالوا تا اللہ تو وہ کہنے لگے ، اللہ کی قسم لقد علمتم ما جئنا لنفسد فی الارض تم جانتے ہو کہ ہم زمین میں فساد کرنے کے لئے نہیں آئے وما کنا سرقین اور ہم چور بھی نہیں ہیں۔ چوری کو فساد فی الرض کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے شریعت میں خلل واقع ہتا ہے۔ تمام آسانی ادیان میں چوری واجب التعزیر ہے اور تمام سابقہ شرائع میں اس کی سزا مقرر ریہ ہے۔ بعض شریعتوں میں جرمانے کی سزا مقرر تھی اور بعض میں قید کرنے کی۔ البتہ حضر ت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت اور ہماری شریعت میں چور کے لئے ہاتھ کاٹنے کی سزا مقرر ہے یہ فساد فی الارض اور کبیرہ گناہ ہے۔ چوری کا ارتکاب تو مسلمانوں کی شان کے بالکل خلاف ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے مشرقی ممالک خصوصا اسلامی ممالک میں چوری کی وباء عام ہے۔ اس کے علاوہ قتل و غارت اغواء اور بدکاری جیسی بیماریاں غیر مسلموں کی نسبت مسلمانوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ بھکاری بھی مسلمانوں میں زیادہ ہیں۔ یورپ کے کئی چھوٹے چھوٹے ملک ہیں ، مگر کوئی شخص بھیک مانگتا نظر نہیں آتا۔ حکومت کا مناسب انتظام ہے۔ اگر بیمار ہوگیا تو مفت علاج کی سہولت میسر ہے اور کسی وجہ سے بیکار ہے تو حکومت بیکاری الائونس دیتی ہے۔ لہٰذا بھیک مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ، ہمارے ہاں گلی کوچے شہر اور بازار بھکاریوں سے بھرے پڑے ہیں۔ کسی پبلک مقام پر چلے جائیں کہیں سفر کرنا ہو خریدای کرنا ہو ، ہر جگہ بھکاری آپ کا استقبال کریں گے حالانکہ ہمارے دین میں گداگری حرام ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ چوری ، ڈکیتی ، قتل ، اغواء ، دھوکہ وغیرہ جیسے ناجائز پیشوں میں گداگری بھی شامل ہے۔
چوری کی سزا
بہرحال برادران یوسف نے کہا کہ ہم چور نہیں ہیں اور نہ زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد قالوا حکمت کے کارندوں نے کہا فما جزآء ہ ان کنتم کذبین اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کی سزا کیا ہوگی یعنی اگر گمشدہ پیمانہ تمہارے سامان سے برآمد ہوگیا تو پھر تمہارے لئے کیا تاوان ہوگا قالو برادرن یوسف کہنے لگے جزآئہ من وجد فی رحلہ فھو جزاء ہ جس کے سامان سے پیمانہ برآمد ہو ، وہ اس کا بدلہ ہوگا۔ یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں چور کی سزا یہ تھی کہ اسے مالک کا ایک سال کے لئے غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ ایسا شخص سال بھر مال مسروقہ کے مالک کی خدمت کرتا تھا تو پھر اس کی جان چھوٹتی تھی یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو یقین تھا کہ انہوں نے تو چوری نہیں کی۔ لہٰذا انہوں نے کنعان کا قانون بتلا دیا کہ وہاں پر چور کو ایک سال تک غلامی کرنا پڑتی ہے۔ کہنے لگے کذلک جزی الظلمین ہم تو ظلم کرنے والوں کو یہی بدلہ یعنی سزا دیتے ہیں۔
بہرحال اس طریقے سے یوسف (علیہ السلام) کو ایک بہانہ میسر آ گیا کہ وہ اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس روک سکیں۔
Ayahs 12:76–79ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ پانی پینے کا پیالہ بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا اور پھر ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو تم چور ہو۔ برادران یوسف نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ہم زمین میں فساد برپا کرنے کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی ہم چور ہیں۔ پھر بادشاہ کے کارندوں نے کہا کہ اگر چوری ثابت ہوجائے تو چور کی سزا کیا ہے تو بھائیوں نے کہا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق چور کو ایک سال تک مسروقہ مال کے مالک کی غلامی کرنا پڑتی ہے۔ اب آج کے درس میں بھائیوں کے سامان کی تلاشی اور پیالہ برآمد ہونے کا ذکر آ رہا ہے۔
سامان کی تلاشی
ارشاد ہوتا ہے فبدآء باوعیتبھم قبل عآء اخیہ پس یوسف (علیہ السلام) نے سب بھائیوں کے سامان کی تلاشی شروع کی اپنے بھائی کے سامان سے پہلے۔ وعا کا معنی ظرف یا برتن ہوتا ہے ، تاہم اس کا اطلاق ہر اس بوری توڑے یا تھیلہ وغیرہ پر بھی ہوتا ہے جس میں کوئی چیز رکھ کر اسے بند کردیا جائے تو اس سے مراد وہ بوریاں ہیں کہ جن میں غلہ بند کر کے برادران یوسف کو دیا گیا تھا۔ اب گمشدہ پیمانے کی بازیابی کے لئے غلے کی بوریاں کھول کر تلاشی لی گئی اور یوسف نے بن یامین کے علاوہ باقی بھائیوں کی تلاشی پہلے شروع کی۔ جب ا سب کے سامان کی تلاشی لی جا چکی اور گمشدہ پیانہ برآمد نہ ہوگیا تو برادران یوسف مجبور ہوگئے اس سی پہلے وہ خود چور کی سزا بھی بتا چکے تھے اور اب بن یامین میں چور ثابت ہوچکا تھا۔
بھائیوں کا ردعمل
اس موقع پر بھائیوں کا فوری ردعمل یہ تھا قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل کہنے لگے اگر بن یامین نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کا ارتکاب کرچکا ہے دراصل بڑے بھائی کا سارا بوجھ چھوٹے بھائیوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینا چاہتے تھے مگر وہ یہ بات بھول گئے کہ اس سی پہلے وہ ” وما کنا سرقین “ کہہ کر سب کی بریت کرچکے تھے مگر اب نہ صرف بن یامین کی چوری کی تصدیق کی بلکہ اس کے بےگناہ بھائی یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا مزید الزام لگا دیا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ بھائیوں نے بن یامین کو ڈانٹ پلائی اور کہنے لگے۔ راحیل کے بیٹو ! تمہاری وجہ سے ہم پر بھی مصیبت ائٓی ہے۔ بنیامین بھی اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) سے متعارف ہونے کے بعد حوصلہ مند ہوچکے تھے۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) سے متعارف ہونے کے بعد حوصلہ مند ہوچکے تھے۔ چناچہ انہوں نے فواً بھائیوں کو جواباً کہا کہ تم غلط کہتے ہو۔ ہماری وجہ سے تم پر مصیبت نہیں آئی بلکہ تم نے ہمیشہ ہمیں اذیت پہنچائی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر جنگل میں گم کردیا ، باپ کو سخت اذیت پہنچائی اور یرے ساتھ بھی ہمیشہ بدسلوکی کرتے رہے ، لہٰذا تم گنہگار ہو بھائیوں نے کہا کہ چور تو ہے کیونکہ پیمانہ تیرے سامان سے نکلا ہے۔ بن یامین نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ مجھے کیا علم ہے کہ میرے سامان میں یہ پیالہ کس نے رکھا ہے۔ شاید یہ اسی تلخص نے رکھ دیا ہو جس نے پہلے موقع پر تمہارے سامان میں تمہاری پونجی رکھ دی تھی اور پھر واپس جا کر باپ سے بڑے فخر کے ساتھ کہا تھا ” ھذہ بضاعتنا ردت الینا “ یہ ہے ہماری پونجی جو ہمیں واپس دی گئی ہے۔ اس وقت تو تم نے اپنے آپ کو چور ثابت نہیں کیا۔ اب مجھے اور میرے بھائی دونوں کو چور ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہو۔ اب بھائی لاجواب ہوگئے کیو کہ وہ ایک بات جلد بازی میں بغیر سوچے سمجھے کہہ چکے تھے۔
یوسف (علیہ السلام) پر الزام
بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) پر چوری کا الزام لگایا ، اس کے متعلق مفسرین مختلف روایات بیان کترے ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) چوری کے کسی معاملے میں کبھی ملوث نہیں ہوئے اور بھائیوں کی الزام تراشی حض اپنے آپ کو پاک قرار دینے کا ایک ذریعہ تھا البتہ دوسری رائے یہ ہے کہ بچپن میں یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی اس قسم کا واقعہ پیش آیا تھا جس طرح کا واقعہ یامین کے ساتھ مصر میں پیش آیا اور جس کی بناء پر اس پر …… چوری کا الزام لگایا گیا۔ اپنی والدہ کی وفات کے بعد یوسف (علیہ السلام) اپنی پھوپھی کی کفایت میں چلے گئے اس دوران میں پھوپھی آپ سے بہت مانوس ہوگئی ۔ پھر جب کچھ عرصہ بعد اپ نے یوسف (علیہ السلام) کو واپس بلاناچاہا تو پھوپھی کی محبت آڑے آئی وہ آپ کو جدا نہیں کرنا چاہتی تھی مگر یعقوب (علیہ السلام) اس پر مصر تھے۔ اس پر پھوپھی نے یہ تدبیر بتائی کہ پنا ایک ٹپکا یوسف (علیہ السلام) کی کمر سے باندھ دیا۔ پھر خود ہی ٹپکے کی گمشدگی کا اعلان کر کے ادھر ادھر تلاش شروع کردی اور بالآخر اسے یوسف (علیہ السلام) کی کمر سے برآمرد کرلیا۔ اس وقت کے قانون کے مطابق سارق کو مال مسروقہ کے مالک کے پاس ایک سال تک رہ کر خدمت کرنا ہوتی تھی ، لہٰذا اس بہانے سے پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پاس روک لیا۔ یہ تھا وہ سرقہ جس کا انکشاف برادران یوسف نے مصر میں جا کر کیا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو اپنے پاس روک رکھنے کے لئے جو تدبیر اختیار کی تھی۔ بن یامین کو اس سے قبل از وقت آگاہ کردیا تھا اور بنیامین نے اس تدبیر سے اتفاق کا اظہار کیا تھا۔ اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی نے آپ کے ساتھ جو کارروائی کی تھی وہ بھی آپ کی رضا مندی سے کی تھی۔ ان دونوں واقعات کو ظاہراً تو چوری پر محمول کیا جاسکتا ہے اور ان پر قانون بھی جاری ہو سکتا ہے مگر حقیقت میں دونوں واقعات چوری کے ارتکاب نہ تھے اور نہ دونوں پر چوری کی سزا عائد ہوتی تھی۔
یہاں پر غلامی کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دونوں واقعات میں یوسف (علیہ السلام) کی پھوپھی نے یوسف (علیہ السلام) اور خود یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو غلام بنایا حالانکہ انفرادی طور پر کسی آزاد کو غلام بنانا قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ قدیم زمانے میں جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنایا جاتا تھا اور اس بات کا فیصلہ بھی حکومت وقت کرت تھی ، کسی فرد واحد کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں تھی ، مگر ان دونوں بھائیوں کو غلام کیسے بنا لیا گیا ؟ اس ضمن میں بھی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دونوں واقعات میں نہ تو چوری کا ارتکاب ہوا اور نہ ہی کسی کو غلام بنایا گیا بلکہ یہ تو محبت کی نہ تور چوری کا ارتکاب ہوا اور نہ ہی کسی کو غلام بنایا گیا بکلہ یہ تو محبت کی وجہ سے اپنے پاس روک لینے کے بہانے تھے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے کبھی چوری نہ کی تھی اور آپ کے بھائیوں کا الزام محض اپنی پاکدامنی کی تائید میں تھا۔
یوسف (علیہ السلام) کے تاثرات
جب یوسف (علیہ السلام) پر آپ کے بھائیوں نے چوری کا الزام عائد کردیا فاسرھا یوسف فی نفسہ تو یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں چھپائے رکھا ولم یبدھا لھم اور اسے اپنے بھائیوں پر ظاہر نہ کیا کہ اس الزام کی اصل حقیقت کیا ہے بلکہ صرف اتنا کہا قال انتم شرمکاناً کہ تم بہت برے درجے پر ہو جو بیگناہوں کو چور بتلا رہے ہو اور خود اپنی کرتوتوں پر پردہ ڈال رہے ہو۔ یوسف (علیہ السلام) کے بچپن میں ایک تو ٹپکے والا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آپ پر الزام ایک مرغی کی وجہ سے آیا تھا ج آپ نے گھر سے اجازت لیے بغیر کسی محتاج کو دے دی تھی۔ بہرحال ٹپکے کا مسئلہ تھا یا مرغی کا ، اس پر تھوڑے بہت مال کی چوری کا ہی الزام تھا۔ اور ادھر بن یامین کے خلاف بھی پیالے کی گمشدگی کا معاملہ تھا اور اس کا تعلق بھی مال ہی سے تھا۔ اس کے برخلاف یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا حال یہ تھا کہ انہوں نے جیتے جاگتے ایک آزاد انسان کو چند ٹکوں کے عوض فروخت کردیا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ” وشروہ بثمن نجس دراھم معدودۃ “ کیا معمولی سے مال میں تصرف کرلینا زیادہ جرم ہے یا باپ کے محبوب ایک آزاد شخص کو معمولی قیمت پر فروخت کردینا زیادہ قبیح ہے ؟ تم تو چوروں سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہو جو ایک عظیم باپ کی اذیت کا باعث بنے۔ یوسف (علیہ السلام) نے مزید فرمایا واللہ اعلم بما تصفون اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تم بیان کر رہے ہو یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے جھوٹ اور سچ ہر چیز سے واقف ہے۔
تدبیر خداوندی
ادھر جب بن یامین کے سامان سے شاہی پیمانہ برآمد ہو کر آپ کو روک لینے کا انتظام ہوگیا تو اللہ نے فرمایا کذلک کدنا لیوسف اسی طریقے سے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے تدبیر کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس تدبیر کو اپنی طرف منسوب کیا ہے کہ ہم نے آپ کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ اس طریقے سے تم اپنے بھائی کو اپنے پاس روک سکتے ہو ، کیونکہ صورت حال یہ تھی ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک بادشاہ مصر کے قانون (LAW لائ) کے مطابق یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو نہیں روک سکتے تھے۔ کیونکہ مصری قانون کے مطابق چور کو کوڑے لگائے جاسکتے تھے یا جرمانے کی سزا دی جاسکتی ، اسے روکا نہیں جاسکتا تھا ، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ بندوبست کردیا کہ خود برادران یوسف نے کنعانی قانون کے مطابق سال بھر تک روک لینے کی سزا کا ذکر کردیا تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تدبیر کی۔ اور پھر یہ ہے کہ تدبیر مطلقاً بھی ہوتی ہے اور تدبیر برائی کے لئے بھی ہوتی ہے۔ کید کا معنی تدبیر بھی ہے اور مکر بھی جیسے سورة طارق میں فرمایا انھم یکیدون کیداً واکید کیداً “ وہ بھی تدبیر کرتے ہیں اور میں بھی تدبیر کرتا ہوں۔ تو فرمایا بن یامین کو ملکی قانون کے مطابق روکا نہیں جاسکتا تھا الا ان یشآء اللہ مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ جب اللہ کی مشیت ہوئی تو اس نے اس تدبیر کے ذریعے بن یامین کو روک لینے کا بندوبست کردیا۔
علم کی فضیلت
اللہ نے فرمایا نرفع درجت من نشآء ہم بلند کرتے ہیں درجات جس کے چاہتے ہیں وفوق کل ذی علم علیم اور ہر اہل علم کے اوپر ایک دوسرا علم والا ہوتا ہے اور اس کی انتہا یہ ہے کہ تمام علم والوں کے اوپر علیم کل ہے جو واحد ذات خداوندی ہے ساری مخلوق کا علم محدود ہے جب کہ علیم کل کا علم لا محدود ہے۔ کمال حاصل کرنے کا ذریعہ علم ہے اور اسی کے ذریعہ انسان خدا تک رسائی حاصل کرتا ہے پوری انسانیت علم ہی کی روشنی میں ترقی کرتی ہے اور حقیقی علم وہ ہے جو وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ علم کی اصل تین چیزیں ہیں۔ آیات محکمہ ، سنت قائمہ اور فریضہ عادلہ ، آیات محکمہ سے مراد قرآن پاک ، سنت قائمہ حضور خاتم النبین ﷺ کا طریقہ ہے اور فریضہ عادلہ وہ قضا یا فیصلہ (Judgment ججمنٹ) جس کے ذریعہ متنازعہ امور کو نپٹا یا جاتا ہے۔ یہتین علوم اصلی ہیں اور باقی تمام علوم خواہ وہ کسی شعبے سے تعلق رکھتے ہو ، زائد ہیں اور درجہ دوم میں آتے ہیں۔ مخلوق میں سے کسی کا علم ذاتی نہیں بلکہ ا س کے پاس عارضی ہے۔ ذاتی علم فقط ذات خاوندی کا ہے جس کے تقاضے سے وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔
حیلہ سازی کی شرعی حیثیت
یوسف (علیہ السلام) نے جو تدبیر اختیار کی وہ حصول مقصد کے لئے ایک حیلہ تھا۔ شریعت نے بعض حیلوں کو جائز قرار دیا ہے اور بعض کو ناجائز اور حرام کل میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی حیلہ سازی کا ذکر کیا تھا اور یوسف (علیہ السلام) کا حیلہ بھی ایسا ہی تھا اسے توریہ یا تعریض بھی کہتے ہیں جو حیلہ صریح جھوٹ یا حرام کام سے بچنے کے لئے اختیار کیا جائے ، وہ جائز ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی قسم کا حیلہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو بھی سکھایا تھا۔ آپ اپنی بیوی سے کسی وجہ سے ناراض ہو کر قسم اٹھا بیٹھے کہ اسے سو کوڑے ماروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل فرمائی کہ یہ عورت تو بےقصور ہے ، اس کی غلطی اتنی سنگین نہیں کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں ادھر ایوب (علیہ السلام) نے قسم بھی اٹھا رکھی تھی ، اگر وہ پوری نہ کرتے تو گنہگار ہوتے۔ چناچہ ایوب (علیہ السلام) کو حانث ہونے سے بچانے کے لئے خود اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر بتلائی اور فرمایا ” وخذبیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “ سوتنکوں کا ایک گٹھا لیں اور بیوی کو ایک ہی دفعہ مار دیں۔ اس سے کوڑوں کی قسم پوری ہوجائے گی اور آپ حانث نہیں ہونگے۔ مطلب یہ کہ یہ ایک حیلہ تھا۔ جس کے ذریعے ایک بیگناہ کو سز اسے بچانا مطلوب تھا۔
اس قسم کا حیلہ خود حضور ﷺ نے ایک موقع پر بتایا تھا۔ آپ نے ایک عامل کو کھجوریں لانے کے لئے خیبر بھیجا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے اعلیٰ درجے کی ھجوریں حضور ﷺ کی خدمت میں پش کیں۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا خیبر میں ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں اس شخص نے جواب دیا کہ ایسا تو نہیں ہے بلکہ وہاں ادنیٰ قسم کی کھجوریں بھی ہوتی ہیں مگر ہم یہ کرتے ہیں کہ ادنیٰ قسم کی دو یا تین صاع کھجوروں کے بدلے اعلیٰ قسم کی ایک صاع حاصل کرلیتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا بڑے افسوس کی بات ہے ذلک عین الربو یہ تو عین سود ہے۔ کیونکہ کسی ایک جنس کا تبادلہ اسی جنس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر ہی ہو سکتا ہے ہاں اگر اجناس مختلف ہوں تو پھر کمی بیشی جائز ہے ، مثلاً گندم کے عوض جو یا باجرہ یا کھجور کے عوض کشمکش کم و بیش وزن سے لے سکتے ہو مگر ہم جنس چیز میں ایسی کمی بیشی جائز نہیں ہے ایسی اشیاء کے تبادلہ کی نسبت ایک اور چار بھی ہو سکتی ہے مگر جو کام تم نے کیا ہے۔ یہ جائز نہیں ہے وہ شخص پریشان ہوگیا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ حرام سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیع الجمع بالدراھم تمام کھجوروں کو درہم و دینار کے بدلے میں بیچ دو اور پھر اس پونجی کے ساتھ اعلیٰ قسم کی کھجوریں خرید لو۔ اگر نقد رقم میسر نہ ہو تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک جنس کے بدلے دوسری جنس حسب منشاء بھائو سے خرید لو اور پھر اس جنس سے اپنی مطلوبہ قسم کی شئے لے لو یہ بھی درست ہے۔ گویا آپ نے حرام سے بچنے کا ایک حیلہ بتا دیا۔
حرام حیلہ
البتہ حرام اور ناجائز حیلہ وہ ہے جو کسی فرض یا واجب کو ساقط کرنے کے لئے اختیار کیا جائے۔ مثلاً خاوند پر کسی مال کی زکوۃ قریب الادا ہے۔ یعنی کچھ عرصہ بعد اس مال پر سال پورا ہو کر زکوۃ واجب الادا ہوجائے گی تو فرض کی اس ادائیگی سے بچنے کے لئے خاوند وہ مال اپنی بیوی کو ہبہ کردیتا ہے۔ پھر بیوی وہ مال سال کا بیشتر حصہ اپنے پاس رکھ کر پھر خاوند کو ہبہ کردیتی ہے۔ اس طرح اس مال پر نہ کسی کے پاس سال پورا ہوتا ہے اور نہ وہ زکوۃ ادا کرتا ہے ، تو ایسا حیلہ قطعی حرام ہوگا۔ بعض لوگ ایسا کرتے ہیں کہ ان کے پاس رقم موجود ہے جس پر سال پورا ہونے والا ہے تو وہ سال پورا ہونے سے پہلے اس رقم سے کوئی ایسی چیز خرید لیتے ہیں جس سے زکواۃ سے بچ جائیں حالانکہ انہیں اتنی جلدی وہ چیز خریدنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ یہ بھی غلط ہے تو بہرحال حیلہ وہ جائز ہے جو گناہ سے بچنے کے لئے اختیار کیا جائے جیسے ابراہی ، یوسف اور ایوب کے حیلوں کا ذکر ہوچکا ہے اور جس حیلے سے فرض یا واجب کو ساقط کرنا مقصود وہ حرام ہے۔
برادران یوسف کی عاجزی
مفسرین کرام بین کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی پڑے جوان اور طاقتور تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے بنیامین کو روک لینے پر اصرار کیا تو بھائیوں نے بڑا جوش و خروش دکھایا اور بن یامین کو زبردستی چھڑانے کی دھمکی بھی دی۔ اس پر یوسف (علیہ السلام) نے ایک بڑے طاقتور بھائی کو ایک ہی ٹھوکر سے گرا دیا اور ان کو پتہچل گیا کہ یہاں پر ان کی طاقت بھی کام نہیں آسکتی۔ جب اس طرف سے ناکام ہوگئے تو عاجزی پر اتر آئے اور یوسف (علیہ السلام) کی منت سماجت کی قالوا یایھا العزیز کہنے لگے۔ اے عزیز ! بھائیوں کا یہ خطاب عہدے کے لحاظ سے تھا۔ کیونکہ جس عزیز مصر کے گھر میں پرورش پائی تھی اس کی وفات کے بعد یوسف (علیہ السلام) اسی عہدے پر متمکن ہوئے تھے۔ البتہ بادشاہ مصر نے آپ کو عزیز سے کہیں زیادہ اختیارات دے کر خود مختار بنا دیا تھا۔ بہرحال بھائیوں نے آپ کو عزیز کے خطاب سے ہی مخاطب کیا ، کہنے لگے ، اے عزیز ! ان لہ ابا شیخاً کبیراً بنیامین کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، خدا کے لئے فخذ احدنا مکانہ اس کی بجائے ہم میں سے کسی ایک کو روک لے اور اسے چھوڑ دے ورنہ باپ کو بڑی پریشانی ہوگی۔ انا نرئک من المحسنین ہم آپ کو نیکی والے دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے پہلے ہی ہم پر بڑے احسان کئے ہیں۔ ہماری مہمان نوازی کی ، شاہی مہمان بنایا اور مفت اناج دیا ، آپ بڑے محسن ہیں ، اب ہماری یہ درخواست بھی قبول کرلیں کہ بن یامین کو ہمارے ساتھ ہی جانے دیں اور اس کے بدلے میں ہم میں سے کوئی ایک آدمی روک لیں۔ اس کے جواب میں یوسف (علیہ السلام) نے کہا قال معاذ اللہ پناہ بخدا یعنی میں خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے ان ناخذ الا من وجدنا متاعنا عندہ کہ ہم اس شخص کے سوا دوسرے کو روک لیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے۔ ہم تو اپنے ملزم ہی کو وکیں گے ، اس کے بدلے میں کسی بیگناہ کو سزا نہیں دے سکتے ، کیونکہ ملت ابراہیمی کا اصول یہی ہے۔ ” الا تزروازر ۃ وزراخری ” (النجم) جو کرے وہ بھرے ، ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالا جاتا۔ فرمایا اگر ہم بےقصور لو پکڑ لیں گے ” انا اذا لظلمون “ تو ہم زیادتی کرنے والوں میں ہوجائیں گے لہٰذا ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ ملزم کو چھوڑ کر ایک بےگناہ کو غلام بنا لیں۔ اس جواب پر سارے بھائی لاجواب ہو کر خاموش ہوگئے۔
اس واقعہ کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ چالیس سال کے اس طویل عرصہ میں یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کی حالت کو کبھی بھی پیش نظر نہیں رکھا۔ اس کی وجوہات آگے ذکر ہوں گی۔ انشاء اللہ
Ayahs 12:80–83ربط آیات
گزشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ شاہی پیمانہ بن یامین کے سامان سے برآد ہوا اور ان کے اپنے بھائیوں کے مطابق چور کو ایک سال تک غلام بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لہٰذا یوسف (علیہ السلام) نے بن یامین کو واپس کنعان جانے سے روک دیا۔ برادران یوسف نے ہر چند بن یامین کو رہا کرانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں طاقت استعمال کرنے کی دھمکی بھی دی مگر وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ پھر انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور منت سماجت پر اتر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارا باپ بوڑھا اور نابینا ہوچکا ہے اور وہ اپنے چھوٹے بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے قابل نہیں ، لہٰذا آپ ہم میں سے کسی ایک کو بن یامین کے بدلے میں روک لیں اور اس کو جانے کی اجازت دے دیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کا یہ مطالبہ بھی مسترد کردیا اور کہا کہ پناہ بخدا میں ایک بےگناہ شخص کو کیسے پکڑ لوں ؟ ہم تو اسی آدمی کو رفتار کریں گے جس کے ہاں سے ہمارا پیمانہ برآمد ہوا آپ نے اس بات کے لئے بڑے محتاط الفاظ استعمال کئے اور بن یامین کو چور نہیں کہا اور فی الحقیقت وہ چور نہیں تھے۔ فرمایا ہم قانون کے مطابق اس شخص کو ماخوذ کریں گے جس سے ہمارا پیمانہ ملا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے واقعہ کا اگلا حصہ بیان فرمایا ہے۔
بھائیوں کی مشاورت
ارشاد ہوتا ہے فلما استیلسوا منہ جب وہ یعنی برادران یوسف اس سے مایوس ہوگئے۔ منہ کی ضمیر اگر یوسف (علیہ السلام) کی طرف منسوب کی جائے تو مطلب ہوگا کہ بھائی یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے مایوس ہوگئے کہ وہ ہماری بات نہیں مانتے اور اگر منہ کی ضمیر بن یامین کی طرف ہو تو یہ بھی درست ہے کہ بھائی بن یامین کو ہمراہ لے جانے سے مایوس ہوگئے تو پھر انہوں نے کیا کیا ؟ خلصوا الگ ہوئے یعنی تنہائی میں چلے گئے نجیاً مشورہ کرنے یک لئے جب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے ان کی دال نہ گلی تو باہمی مشاورت کے لئے تنہائی میں اکٹھے ہوئے تاکہ آئندہ کے لئے کوئی پروگرام بنا سکیں۔ چناچہ اس مجلس مشاورت میں قال کبیرھم ان میں سے بڑے نے کہا۔ عمر کے لحاظ سے تو بڑا روحیل تھا مگر عقل و دانش کے لحاظ سے یہود ا زیادہ سمجھدار تھا۔ وہ یوسف (علیہ السلام) کے لئے نرم گوشہ رکھتا تھا اور پہلے واقعہ میں اسی نے کہا تھا لاتقتلوا یوسف یعنی یوسف (علیہ السلام) کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کنوئیں یا گڑھے میں پھینک دو ، وہ تمہاری اور باپ کی نظروں سے اوجھل ہوجائے گا اور تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا۔ بہرحال ان دونوں میں سے روحیل یا یہودا نے دوسرے بھائیوں کو یاد دلایا الم تعلموا کیا تمہیں معلوم نہیں ان اباکم قد اخذ علیکم موثقاً من اللہ کہ تمہارے باپ نے تم سے اللہ کا پختہ عہد لیا تھا اور تم نے قسم اٹھا کر وعدہ کیا تھا کہ تم بن یامین کو ضرور واپس لائو گے الا یہ کہ تم مغلوب ہو جائو یا ہلاک ہی ہو جائو۔ ایک تو تم باپ سے کئے گئے اس عہدے جھوٹے پڑ رہے ہو ، اور دوسرے اس بات کے بھی قصور وار ہو ومن قبل ماقرطتم فی یوسف جو اس سے پہلے تم نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کوتاہی کی۔ وہ گناہ بھی تمہارے سر پر ہے کہ تم نے یوسف (علیہ السلام) کو گم کردیا۔ اب ان دو وجوہات کی بناء پر میرے لئے واپس کنعان جانا ممکن نہیں کہ باپ کو کیا منہ دکھائوں گا۔
بڑے بھائی کا فیصلہ
چنانچہ اس نے فیصلہ کیا فکن ابرح الارض کہ میں اس سر زمین سے نہیں ٹلوں گا ، یعنی میں یہیں مصر میں ہی قیام کروں گا حتی یاذن لی ابی یہاں تک کہ میرا باپ اس بات کی اجازت دے کہ میں واپس آ جائوں او یحکم اللہ لی یا اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ ایسے اسباب پیدا کر دے کہ میں بھائی کو رہا کرا سکوں تو پھر بھی واپس چلا جائوں گا اور اگر کوئی صورت بھی نہ ہو تو اللہ تعالیٰ میری موت کا فیصلہ ہی کر دے تاکہ یہ معاملہ میرے سر سے ویسے ہی ختم ہوجائے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ میں واپس کنعان نہیں جائوں گا اور کوئی بھی فیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ وھو خیرا الحکمین سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا وہی ہے ۔
باپ کے سامنے سرگزشت
بہرحال بڑے بھائی نے اپنے متعلق تو یہ فیصلہ کیا اور دوسرے بھائیوں کو مشورہ دیا۔ ارجعوا الی ابیکم تم اپنے باپ کے پاس واپس چلے جائو فقولوا اور اس سے کہو یابانا ان ابنک سرق اے ہمارے باپ ! تیرے بیٹے نے چوری کی ہے۔ جس بیٹے سے تو بڑا پیار کرتا تھا اور ہمارے ساتھ بھیجنے کے لئے تیار نہ تھا ، اس نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ شاہی پیمانہ اس کے مال سے برآمد ہوا ہے اور شاہ مصر نے اسے روک لیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور مفسر قرآن حضرت ضحاک کی روایت میں اس آیت کو اس طرح بھی پڑھا گیا ہے ان ابنک سرق یعنی تیرے بیٹے پر چوری کا الزام لگایا گیا ہے اگرچہ حقیقت کچھ مختلف ہے۔ مطلب یہ کہ اس قرأت کے مطابق بن یامین پر چوری کا صرف الزام ہے کیونکہ ظاہری طور پر گمشدہ پیمانہ اس کے سامان سے برآمد ہوا ہے مگر اس کا چور ہونا ضروری نہیں وما شھدنا الا بما علمنا اور ہم تو صرف اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جو ہمارے علم میں ہے۔ وما کنا للغیب حفظین اور ہم تو غیب کی حفاظت کرنے الے نہیں ہیں۔ کیونکہ انما الغیب للہ “ (یونس) غیب تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص ہے اور اصل حقیقت کو وہی جانتا ہے ہم تو غیب دان نہیں ہیں جو مخفی بات کو بھی جان سکیں ، اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اس بھائی کو ساتھ ہی نہ لاتے ہمیں کیا علم تھا کہ اس کے سامان سے شاہی پیمانہ برآمد ہوگا۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم چور کو غلام بنانے کے قانون کا ذکر ہی نہ کرتے اور نہ ہمارا بھائی روک لیا جاتا مگر اپنی ہی کہی ہوئی بات کی زد میں آگئے اور بھائی کو پکڑا بیٹھے۔ بہرحال غیب تو اللہ ہی جانتا ہے اور ہم تو اسی بات کی گواہی دیتے ہیں جو کچھ ہم نے دیکھا ہے۔
پھر اس کی سرگزشت کے ثبوت کے طور پر بھائیوں کو باپ کے روبرو یہ پیش کش کرنے کو بھی کہا وسئل القریۃ التی کنا فیھا اے باپ ! آپ ان بستی والوں سے بھی دریافت کرلیں جس میں ہم ٹھہرے تھے ! یعنی آپ اہل مصر سے ہماری اس بات کی گواہی بھی لے لیں کہ ہم کوئی جھوٹ تو نہیں کہہ رہے ہیں۔ آپ کوئی معتبر آدمی بھیج کر دریافت کرسکتے ہیں کہ وہاں چوری کا مذکورہ واقعہ پیش آیا ہے یا نہیں اور کیا بن یامین کو شاہ مصر نے واقعی ماخوذ کیا ہے یا نہیں۔ آپ خود توم عذور ہیں ، مصر کا سفر اختیار نہیں کرسکتے اور اگر کسی دوسرے آدمی کو بھی تصدیق کے لئے نہ بھیجنا چاہیں تو دوسری صورت یہ ہے والعسیر التی اقبلنا فیھا ان قافلے والوں سے دریات کرلیں جن کے ساتھ ہم واپس آئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ برادران یوسف نے جس قافلے کے ہمراہ مصر کا سفر اختیار کیا ، وہ قافلے والے بھی تو واپس آگئے ہیں اور وہ لوگ کنعان کے قرب و جوار کے رہنے والے ہیں ، آپ ان سے ہماری بات کی تصدیق کرسکتے ہیں اور یقین جانیں وانا لصدقون کہ ہم بالکل سچے ہیں۔ ہم نے جو کچھ آپ کے سامنے بیان کیا ہے ، بالکل سچ ہے۔
باپ کی بےیقینی
ظاہر ہے کہ بڑے بھائی کی ہدایت کے مطابق باقی بھائیوں نے یہ ساری سرگزشت من و عن باپ کے گوش گزار کی ۔ اگرچہ ظاہری طور پر وہ سچ کہہ رہے تھے۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی ادھر یعقوب (علیہ السلام) کو بھی اپنے بیٹے کے چور ہونے کا یقین نہیں آ رہا تھا ، چناچہ قال آپ نے فرمایا بل سولت لکم انفسکم امراً بلکہ یہ تو تمہارے دلوں نے ایک بات بنائی ہے۔ آپ کا اپنے بیٹوں پر اعتبار اٹھ چکا تھا ۔ اس سے پہلے جب آپ کے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کو لے کر گئے تھے اور پھر واپس آ کر یہ کہکانی سنائی تھی کہ اسے بھیڑیا کھا گیا ہے تو اس وقت بھی یعقوب (علیہ السلام) نے یہی جملہ استعمال کیا تھا کہ یہ حقیقت نہیں بلکہ تمہارے اذہان کی وضع کردہ ایک کہانی ہے فرمایا میں تمہاری بات پر یقین نہیں کرسکتا کیونکہ عربی کا مقولہ ہے الکذوب لایصدق یعنی جھوٹے کی تصدیق نہیں کی جاتی جھوٹا آدمی اگر کسی وقت سچ بھی بولے تو اس پر یقین مشکل سے ہی آتا ہے۔ اسی لئے محدثین ایسے آدمی کی روایت پر اعتماد اور یقین نہیں کرتے جس نے زندگی میں کسی ایک موقع پر بھی جھوٹ بولا ہو۔ اس کے بعد اگر وہ ہزار دفعہ بھی سچ بولے تو بھی وہ ایک دفعہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے ناقابل اعتبار گردانا جاتا ہے۔ تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ تمہاری بات پر یقین تو نہیں آتا مگر میں تم کو سزا بھی نہیں دے سکتا۔ لہٰذا اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں فصبر جمیل کہ میں بر جمیل کو ہی اختیار کروں۔ صبر جمیل وہ صبر ہوتا ہے جس میں جزع فزع نہ کی جائے اور نہ مخلوق کے سامنے کوئی شکوہ کیا جائے تو بیٹوں کی سرگزشت کے جواب میں یعقوب (علیہ السلام) نے صبر کا دامن ھتام لیا۔
یوسف (علیہ السلام) کی باپ سے بےرغبتی
مفسرین کرام اس مقام پر ایک نکتہ پیش کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے باپ سے بچھڑے چالیس سال کا عرصہ گزر گیا اور اس دوران میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو بڑی جسمانی اور ذہنی تکلیف پہنچی مگر اسی عرصہ میں یوسف (علیہ السلام) نے کبھی باپ کی طرف رغبت نہیں کی اگرچہ باپ کو تو آپ کے متعلق علم نہیں تھا مگر آپ کو تو باپ کے وطن اور آپ کی تکالیف کا احساس تھا مگر آپ نے کبھی باپ کو اپنے متعلق اطلاع نہ دی ۔ بھائیوں نے آپ کے ساتھ بڑی زیادتی کی پھر بیگناہی کی حالت میں آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں مگر آپ نے کبھی باپ کے سامنے حرف شکایت پیش نہ کیا کسی آتے جاتے کے ہاتھ پیغام بھیج سکتے تھے ، کم از کم باپ کو یہی اطلاع دے دیتے کہ میں زندہ سلامت ہوں تاکہ اس کے غم واندوہ میں کچھ کمی آتی ۔ اس کے بعد آپ منصب شاہی پر فائز ہوئے تو باپ کو مطلع کرنا …… آپ کے لئے نہایت آسان تھا۔ پھر بھائیوں سے ملاقات بھی ہوگئی مگر آپ نے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کیا اور نہ باپ کی تسلی کے لئے کوئی پیغام دینا مناسب سمجھا ، آخر اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس ضمن امام قرطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یوسف (علیہ السلام) کو منع کردیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ظاہر نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک خاص وقت تک باپ اور بیٹے دونوں کی آزمائش مطلوب تھی۔ ادھر اللہ تعالیٰ یعقوب (علیہ السلام) کو بھی بذریعہ وحی آگاہ کرسکتا تھا کہ تمہارا بیٹا زندہ ہے اور فلاں مقام پر اس حالت میں ہے ، مگر اللہ نے نہیں بتایا کیونکہ یہ آپ کی آزمائش تھی۔ اس قسم کی آزمائش حضور خاتم النبین (علیہ السلام) پر بھی آئی تھی۔ جب ام المومنین پر منافقوں نے الزام تراشی کی تو آپ سخت پریشان ہوگئے۔ مہینہ بھر وحی کا سلسہ بھی منقطع رہا حتی کہ آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اشیر وا الی لوگو ! اس معاملے میں مجھے مشورہ دو کہ میں کیا کروں۔ لوگ میری اہلیہ پر اتہام لگاتے ہیں مگر مجھے تو کوئی بات نظر نہیں آتی۔ پھر مقررہ وقت گزرنے پر اللہ تعالیٰ نے ام المومنین کی بریت کا اعلان فرمایا تو آپ کو تسلی ہوئی تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس قسم کی ابتلا میں ڈال کر اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے۔ لہٰذا انہیں ایسی آزمائش میں ڈالتا ہے۔
امید کا دامن
غرضیکہ یعقوب (علیہ السلام) کو بیٹوں کی بات پر یقین تو نہ آیا مگر آپ نے صبر کو اختیار کیا اور ساتھ امید کا دامن پکڑتے ہوئے فرمایا عسی اللہ ان یاتینی بھم جمیعاً شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ یوسف (علیہ السلام) بچپن میں بچھڑ گئے۔ شمعون مصر کے پہلے سفر میں وہیں رہ گیا اور بن یامین دوسرے سفر میں رک گیا تو آپ کو قرآئن سے کچھ معلوم ہو رہا تھا کہ شاید بچھڑنے والے سارے کے سارے ہی یکبارگی مل جائیں ادھر یوسف (علیہ السلام) کا بچپن کا خواب بھی پیش نظر تھا۔ تو دل گواہی دیتا تھا کہ وہ زندہ سلامت کہیں نہ کہیں موجود ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو اکٹھا کر کے مجھے ملا دے۔
بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی سرگزشت سن کر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے حتی کہ یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے موقع پر انہوں نے کنعان کے قریب پانچ دس میل کے حلقہ میں بھی آپ کی تلاش کے لئے کوئی کوشش نہ کی بلکہ وہاں بھی صبر کیا۔ آپ نے بالآخر یہی فرمایا انہ ھو العلیم الحکیم بیشک اللہ تعالیٰ علیم ہے جو ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ حکیم بھی ہے کہ ہر واقع اس کی حکمت پر مبنی ہے اس کی حکمت کو وہی جاننا ہے ، کسی مخلوق کو علم نہیں ہوتا ۔ لہٰذا جو بھی معاملات پیش آ رہے ہیں وہ حکمت سے خالی نہیں اور تمام تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے صبر بہترین ذریعہ ہے۔